نقشہ
- معرب و مبنی کے اعتبار سے
- معرب اسماء
- مرفوع اسماء
- منصوب اسماء
- مجرور اسماء
- معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں
- مبنی اسماء
1 قاعدہ
اسماء منصوبہ:
اسماء منصوبہ وہ اسماء ہیں جو حالت نصب میں آتے ہیں اور ان کے آخر میں "فتحہ" (زبر) ہوتا ہے۔ یہاں ان کی تعریفات اور مثالیں دی گئی ہیں:
1. مفعول بہ :
تعریف: مفعول وہ اسم ہوتا ہے جس پر فعل واقع ہو اور وہ فعل کا اثر قبول کرے۔
مثال: أكلتُ التفاحةَ (میں نے سیب کھایا)
یہاں "التفاحةَ" مفعول بہ ہے کیونکہ یہ وہ چیز ہے جسے کھایا جا رہا ہے۔
2. مفعول مطلق:
- تعریف: فعل کا مصدر جس سے فعل کی نوعیت، مقدار یا تاکید ظاہر کی جاتی ہے۔
- مثال:
ضربتُ ضربًا شديدًا (میں نے سخت مارا)
یہاں "ضربًا" مفعول مطلق ہے، جو فعل "ضربتُ" (مارنا) کی شدت کو بیان کر رہا ہے۔
3. مفعول فیہ (ظرف زمان یا ظرف مکان):
- تعریف: وہ اسم جو وقت یا جگہ کا تعین کرے۔
- مثال: سافرتُ يومَ الجمعةِ (میں جمعہ کے دن سفر کیا) یہاں "يومَ" مفعول فیہ ہے، جو سفر کے وقت کو بیان کر رہا ہے۔
4. مفعول لہ (مفعول علت):
- تعریف: وہ اسم جو فعل کی علت بیان کرے، یعنی کام کیوں کیا گیا۔
- مثال: أدرسُ رغبةً في النجاحِ (میں کامیابی کی خواہش میں پڑھتا ہوں) یہاں "رغبةً" مفعول لہ ہے، جو پڑھائی کا مقصد (کامیابی) بتا رہا ہے۔
5. مفعول معہ:
- تعریف: وہ اسم جو کسی فعل کے ساتھ ہونے والے دوسرے کام یا شے کو بیان کرے۔
- مثال: سرتُ والنهرَ (میں اور نہر ساتھ چلتے رہے) یہاں "النهرَ" مفعول معہ ہے، جو نہر کے ساتھ چلنے کو ظاہر کر رہا ہے۔
6. حال:
- تعریف: وہ اسم جو کسی فعل کی حالت کو بیان کرے۔
- مثال: جاء الرجلُ ضاحكًا (آدمی ہنستے ہوئے آیا) یہاں "ضاحكًا" حال ہے، جو شخص کے آنے کی حالت کو ظاہر کر رہا ہے۔
7. تمیز:
- تعریف: وہ اسم جو جملے میں کسی مبہم چیز کی وضاحت کرتا ہے، خاص طور پر مقدار یا عدد۔
- مثال: اشتريتُ عشرين كتابًا (میں نے بیس کتابیں خریدیں) یہاں "كتابًا" تمیز ہے، جو "عشرين" (بیس) کی وضاحت کر رہا ہے۔
8. مستثنی:
- تعریف: وہ اسم جو جملے میں کسی چیز کے استثناء (باہر نکلنے) کو ظاہر کرے۔
- مثال: حضر الطلابُ إلا محمدًا (طلباء حاضر ہوئے سوائے محمد کے) یہاں "محمدًا" مستثنی ہے، جسے طلباء میں سے الگ کیا گیا ہے۔
9. حروف مشبہ بالفعل کا اسم:
- تعریف: وہ اسم جو "إنَّ" اور اس کے اخوات کے بعد آئے اور اسے نصب دیا جائے۔
- مثال: إنَّ اللهَ غفورٌ (بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے) یہاں "اللّٰهَ" حروف مشبہ بالفعل (إنَّ) کا اسم ہے، اور منصوب ہے۔
10. افعال ناقصہ کی خبر:
- تعریف:وہ خبر جو "كان" اور اس کے اخوات کے بعد آئے اور اسے نصب دیا جائے۔
- مثال: كان الرجلُ واقفًا (آدمی کھڑا تھا) یہاں "واقفًا" افعال ناقصہ کی خبر ہے، اور منصوب ہے۔
11. ما و لا المشبھتان بلیس کی خبر:
- تعریف: "ما" اور "لا" جو "ليس" کے معنی میں آئیں، ان کی خبر۔
- مثال: ما محمدٌ كاذبًا (محمد جھوٹا نہیں ہے) یہاں "كاذبًا" خبر ہے اور منصوب ہے۔
12. لائے نفی للجنس کا اسم:
- تعریف: وہ اسم جو "لا" نافية للجنس کے بعد آئے اور منصوب ہو۔
- مثال: لا رجلَ في البيتِ (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے) یہاں "رجلَ" لائے نفی للجنس کا اسم ہے اور منصوب ہے۔
13. منادی:
- تعریف: وہ اسم جسےحرف ندا کے ذریعے بلایا جائے اور حالت نصب میں ہو۔
- مثال: يَا صلاحَ الدّينِ (اے صلاح الدین)
یہاں "صلاحَ" منادی ہے اور منصوب ہے۔
یہ وہ اسماء ہیں جو حالت نصب میں آتے ہیں اور ہر ایک کی مخصوص تعریف اور مثال ہے۔
مفعول بہ دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۶
المَفْعُولُ بِهِ اسمٌ مَنْصُوبٌ وَقَعَ عليه فِعْلُ الفاعِلِ.
مفعول بہ وہ منصوب اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔
الامثله
شَدَّتِ التِّلْمِيذَةُ الحَبْلَ
طَوَتِ البِنْتُ الثَّوْبَ
أَكَلَ الذِّئْبُ الخَرُوفَ
يَرْبَحُ السَّابِقُ جَائِزَةً
يَصِيدُ الثَّعْلَبُ دَجَاجَةً
يَبِيعُ القَصَّابُ اللَّحْمَ
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۲
۔ فصل المفعول به
المفعول به هو اسم منصوب يدل على ما وقع عليه فعل الفاعل، من غير واسطة . ولم تغير لأجله صورة الفعل ، نحو: يطلب العاقل العلم ،العلم: مفعول به منصوب بالفتحة) وتكرم الدولة المتفوقين (المتفوقين مفعول به منصوب بالياء)
أنواع المفعول به
ويكون المفعول به
(۱) إما اسما ظاهراء نحو: يطلب العاقل العلم
(ب) أو ضميرا متصلا ، نحو: هداك الله (ك: ضمير منصوب متصل بالفعل)
(ج) أو ضميرا منفصلا، نحو: قوله تعالى :( إياك نعبد واياك نستعين) (ف اياک فی موضعين ضمير منصوب منفصل)
باقی عبارت پڑھیں (85)
(د) أو مصدرا مؤولا ، نحو: عرفت أنك مجتهد ( فالمصدر المؤول من أن واسمها وخبرها أي اجتهادک، هو المفعول به
لـ عرفت )
والناصب للمفعول به فعل، أو شبهه والأصل في ذلك الناصب أن يكون مذكورا۔
وقد يحذف جوازا ووجوبا. يجوز حذف الناصب قياسا لقرينة لفظية نحو: "زيدا" في جواب من قال: من ضربت ؟ أي : ضَرَبَتُ زيداً، أو قرينة معنوية . نحو: "مكة" لمن تأهب للحج، أي: تريد مكة. يجب حذف الناصب سماعا في الأمثال التي تجري على ما هي عليه بدون تغيير نحو قولهم : أحشفاً وسوء كيلة ، أي : أتبيع حشفا وتكيل سوء كيلة
ويجب حذفه سماعا فيما أشبه الأمثال في كثرة الاستعمال، نحو: أهلا وسهلا ، أي : أتيت أهلا ونزلت مكانا سهلا، ونحو قوله تعالى : انتهوا خيرا لكم أي: واعملوا خير الكم.
ويجب حذفه قياسا في أساليب معينة من الاختصاص، والإغراء، والتحذير، وستأتي تفاصيله في مبحث الأساليب.
حذف المفعول به
الأصل في المفعول به أن يكون مذكورا لكونه مقصودا لإتمام المعنى.
وقد يحذف جوازا
(۱) إذا دل عليه دليل، نحو: رعت الماشية : أي عشبا
(ب) أو كان معروفا، نحو: شرب سليم فسكر: أي شرب الخمر
(ج) ويحذف أيضاً طلبا للاختصار، نحو: يغفر الله لمن يشاء: أي يغفر الذنوب
تعدد المفعول به
المفعول به قد يكون واحدًا، وقد يكون متعددا حسب الأفعال المتعدية التي تنقسم إلى أربعة أنواع:
ا۔ نوع ينصب مفعولا واحدا، نحو: فهمت الدرس
۲۔ ونوع ينصب مفعولين أصلهما مبتدأ وخبر، وهو جميع أفعال القلوب وإفعال التصيير والتحويل مثال أفعال القلوب ظننت زيدًا عالما، ومثال إفعال التصيير جعل الطباخ العجين خبزا.
۳۔ ونوع ينصب مفعولين ليس أصلهما مبتدأ وخبرا نحو أعطيت زيدا درهما. ونوع ينصب ثلاثة مفاعيل، نحو: أعلم الأستاذ التلاميذ زيدا ناجحا.
المفعول به يكون صريحا وغير صريح
فالمفعول به الصريح: ما وصل إليه فعله مباشرة (أي بغير واسطة حرف الجر) وهذا هو المقصود بالمفعول به في الاصطلاح النحوي، نحو: فهمت الدرس
والمفعول به غير الصريح: ما وصل إليه فعله بواسطة حرف الجر، نحو: ذهبت بسليم (بسليم يعتبر مفعولا به في المعنى، لا في اللفظ والاصطلاح)
تقدم المفعول به على الفعل
الأصل في المفعول به التأخر عن الفعل والفاعل، وقد يقدم على الفاعل جواز ووجوبا كما تقدم في مبحث الفاعل.
وقد يقدم على الفعل والفاعل جوارًا، نحو قوله تعالى : (ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون) البقرة ۸۷ ( فريقا في الموضعين مقدم على الفعل والفاعل جوازا، لأنه لو كان كلاما غير إلهي لجاز فيه تأخير المفعول به، فيقال: كذبتم فريقا وتقتلون فريقا)
وقد يقدم عليهما وجوبا فيما يلي:
ا۔ إن كان اسماله الصدارة في جملته، كأن يكون اسم استفهام، أو اسم شرط - نحو: من قابلت ؟ أي رجل تكرم أكرم ... وكذلك إن كان مضافا إلى اسم له الصدارة، نحو: صديق من قابلت ؟ صاحب أي رجل تكرم أكرم.
۲۔ كذلك يجب تقديمه عليهما إن كان ضميرا منفصلا لأنه لو تأخر عن عامله لوجب اتصاله به نحو إياكم نخاطب، فلو تأخر المفعول به (إياكم) لا تصل بالفعل وصار الكلام: نخاطبكم، فيضيع الغرض البلاغي من التقديم وهو الحصر.
۳۔ وكذلك يجب تقديمه إذا كان عامله مقرونا بفاء الجزاء في جواب "أما الشرطية ، ولا يوجد اسم يفصل بين هذا العامل و"أما" فيجب تقديم المفعول به ليكون فاصلا: لأن الفعل خاصة المقرون بفاء الجزاء - لا يلي "أما" الشرطية، نحو قوله تعالى: (فأما اليتيم فلا تقهر وأما السائل فلا تنهر) اليتيم، مفعول به مقدم لـ فلا تقهر والسائل، مفعول به مقدم لـ فلا تنهر)
مفعول بہ
مفعول بہ وہ اسم ہوتا ہے جو حالت نصب میں ہوتا ہے اور جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے، بغیر کسی واسطے کے۔ اور فعل کی شکل اس کے لیے نہیں بدلی جاتی، جیسے:
- "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے) یہاں "العلم" مفعول بہ ہے جو حالت نصب میں ہے اور اس پر فتحہ کی علامت ہے۔
- "تکرم الدولة المتفوقین" (ریاست کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے) یہاں "المتفوقین" مفعول بہ ہے اور نصب کی علامت یاء ہے۔
مفعول بہ کی اقسام:
1. اسم ظاہر: ایسا اسم جو کھلے طور پر مفعول بہ ہو، جیسے: "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے)۔
2. ضمیر متصل: وہ ضمیر جو فعل کے ساتھ جڑا ہو، جیسے: "ھداك الله" (اللہ تمہیں ہدایت دے)۔
یہاں "ك" ضمیر مفعول بہ ہے جو فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
3. ضمیر منفصل: وہ ضمیر جو فعل سے الگ ہو، جیسے: "إياك نعبد" (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں)۔
یہاں "إياك" ضمیر مفعول بہ ہے۔
4. مصدر مؤول: - ایسا مصدر جو "أن" اور اس کے بعد اسم اور خبر پر مشتمل ہو، جیسے: "عرفت أنك مجتهد" (میں نے جانا کہ تم محنتی ہو)۔ یہاں "أنك مجتهد" پورا جملہ مفعول بہ کے طور پر ہے۔
مفعول بہ کے عامل:
مفعول بہ کو نصب دینے والا عموماً فعل ہوتا ہے، یا اس کے مشابہ کوئی کلمہ۔ اصل یہ ہے کہ فعل (یا عامل) کا ذکر کیا جائے، مگر بعض اوقات اس کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے، جوازاً یا وجوباً۔
جوازاً:
- اگر کوئی قرینہ ہو جو معنی واضح کر دے، جیسے: "زیدا" جواب میں جب پوچھا جائے: "من ضربت؟" (تم نے کس کو مارا؟)
مطلب: "ضربتُ زیداً" (میں نے زید کو مارا)۔
وجوباً:
- بعض مقامات میں سماعاً عامل کو حذف کرنا لازمی ہو جاتا ہے، جیسے: "أحشفا وسوء كيلة" (کیا تم خراب کھجور بیچتے ہو اور ناپ بھی غلط کرتے ہو؟)۔ یہاں مطلب ہے: "أتبيع حشفاً وتكيل سوء كيلة"۔
مفعول بہ کا حذف:
مفعول بہ کو عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ معنی کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں مفعول بہ کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے:
1. اگر کوئی دلیل ہو، جیسے:
"رعت الماشية" (مویشی نے چر لیا) یہاں مطلب ہے کہ اس نے "عشب" (گھاس) چر لیا۔
2. اگر وہ معروف ہو، جیسے:
"شرب سلیم فسكر" (سلیم نے پیا اور نشہ کر گیا) یہاں مراد ہے کہ اس نے شراب پی۔
3. اختصار کے لیے، جیسے:
"يغفر الله لمن يشاء" (اللہ جسے چاہے معاف کرے)۔ یہاں مراد ہے کہ اللہ گناہ معاف کرتا ہے۔
مفعول بہ کی تعداد:
مفعول بہ ایک یا زیادہ ہو سکتے ہیں، یہ فعل کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ فعل کی چار اقسام ہوتی ہیں:
1. ایک مفعول والا فعل: جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔
2.دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر شامل ہو: جیسے: "ظننت زیداً عالماً" (میں نے زید کو عالم سمجھا)۔
3. دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر نہ ہو: جیسے: "أعطيت زيداً درهماً" (میں نے زید کو ایک درہم دیا)۔
4. تین مفعول والا فعل: جیسے: "أعلم الأستاذ التلاميذ زيداً ناجحاً" (استاد نے طلباء کو بتایا کہ زید کامیاب ہے)۔
مفعول بہ کی اقسام (صریح اور غیر صریح):
- مفعول بہ صریح: وہ مفعول بہ جو براہ راست فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔
- مفعول بہ غیر صریح: وہ مفعول بہ جو حرفِ جر کے ذریعے فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "ذهبت بسليم" (میں سلیم کے ساتھ گیا)۔ یہاں "بسليم" معنوی مفعول بہ ہے۔
مفعول بہ کا فعل سے پہلے آنا:
عموماً مفعول بہ فعل اور فاعل کے بعد آتا ہے، لیکن بعض حالات میں اسے فعل اور فاعل سے پہلے لانا لازمی ہوتا ہے، جیسے کہ فاعل کی بحث میں پڑھ چکے ہیں اور اسی طرح مفعول بہ کو کبھی جوازا بھی مقدم کیا جاتا ہے جیسے: فریقا کذبتم و فریقا تقتلون (یہاں فریقا دونوں جگہ مفعول مقدم ہے جوازی طور پر )
مفعول بہ کو وجوبی طور پر مقدم کیا جاتا ہے :
1. اگر وہ سوالیہ یا شرطیہ کلمہ ہو: جیسے: "من قابلت؟" (تم نے کس سے ملاقات کی؟)۔
2. اگر مفعول بہ ضمیر منفصل ہو: جیسے: "إياكم نخاطب" (ہم تم سے مخاطب ہیں)۔
3. اگر فاءِ جزا والا عامل ہو: جیسے: "فأما اليتيم فلا تقهر" (تو یتیم پر ظلم نہ کرو)۔ یہاں "اليتيم" مفعول بہ ہے اور فعل سے پہلے لایا گیا ہے۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۵
مفعول بہ وہ اسم ہے جس پر فعل کا اثر ظاہر ہو۔ جیسے : قَتَلَ الْوَلَدُ الْحَيَّةَ لڑکے نے سانپ کو مار ڈالا، اس جملہ میں مارنے والا لڑکا ہے سو وہ فاعل ہے اور قتل سانپ کا ہوا ہے اس لئے وہ مفعول بہ ہے۔
مفعول به ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے : فَتَحَ الْوَلَدُ الْبَابَ لڑکے نے دروازہ کھولا اس مثال میں الْبَابَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے۔ اسی طرح :
رَأَيْتُ حَامِدًا میں نے حامد کو دیکھا
شَرِبَ الرَّجُلُ الْمَاءَ مرد نے پانی پیا
سألتِ المُدِيرَةُ زَيْنَبَ ہیڈ مسٹریس نے زینب سے پوچھا
سَأَلَ الْوَلَدُ أُمَّهُ لڑکے نے اپنی ماں سے سوال کیا
نوٹ : آخری مثال میں مفعول بہ اُم ہے اور ضمیر ، اسکا حصہ نہیں ہے اسی لئے نصب ام کی میم پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح
رَأَيْتُ بَيْنَكَ بَيْت + ك
باقی عبارت پڑھیں (7)
فَتَحَ الطَّالِبُ كِتابه كِتَابَ + ہ :
اسم ظاہر کی طرح ضمیر بھی مفعول واقع ہوتی ہے۔ جیسے :
رَأَيْتُ بلالًا وَ سَأَلْتُهُ میں نے بلال کو دیکھا اور اس سے پوچھا
اگر تنوین والے اسم کے بعد کوئی ایسا اسم آجائے جو ہمزہ وصل سے شروع ہو رہا ہے تو تنوین کے نون کو کسرہ کے ساتھ پڑھیں گے۔ جیسے : شَرِبَ حَامِدٌ الْمَاءَ اس کو شَرِبَ حَامِدُ نِ الْمَاء پڑھیں گے . اس لئے کہ تنوین کا نون ساکن ہے اور ( ہمزہ وصل گر جانے کے بعد ) ل بھی ساکن ہے،
اس کو التقاء الساكنين کہتے ہیں اور ساکن کے بعد ساکن کی ادائیگی دشوار ہے، اس لئے پہلے سکون کو کسرہ سے بدل دیا جاتا ہے۔ اسی طرح :
سَأَلَ بِلَالٌ ابْنَهُ کو سَأَلَ بلال ن ابنه اور
سَمِعَ فَيْصَلِّ الْأَذَانَ کو سَمِعَ فَيْصَلُ نَ الْأَذَانَ پڑھیں گے
المفصلالمفصل۔ سبق:۱۱
المفعول بہ
هو الذي يقع عليه فعل الفاعل في مثل قولك ضرب زيد عمراً وبلغت البلد. وهو الفارق بين المتعدي من الأفعال وغير المتعدي . ويكون واحداً فصاعداً إلى الثلاثة على ما سيأتيك بيانه في مكانه إن شاء الله تعالى. ويجيء منصوباً بعامل مضمر مستعمل إظهاره أو لازم : إضماره المنصوب بالمستعمل إظهاره هو قولك لمن أخذ يضرب القوم، أو قال أضرب شر الناس زيداً بإضمار أضرب ولمن قطع حديثه حديثك، ولمن صدرت عنه أفاعيل البخلاء: أكل هذا بخلا، بإضمار هات وتفعل. ومنه قولك لمن ركنت أنه يريد مكة ورب الكعبة. ولمن سدد سهما القرطاس والله وللمستهلين إذا كبروا الهلال والله، تضمر يريد ويصيب وأبصروا، ولرائي الرؤيا خيراً وما سر، وخيراً لنا وشراً لعدونا أي رأيت خيراً. ولمن يذكر رجلاً. أهل ذلك وأهله أي ذكرت أهله. ومنه قوله:
لن تراها ولو تأملت إلا ولها في مفارق الرأس طيباً
أي وترى لها. ومنه قوله كاليوم رجلاً، بإضمار لم أر. قال أوس:
حتى إذا الكلاب قال لها كاليوم مطلوباً ولا طلبا
قال سبيويه وهذه حجج سمعت من العرب. يقولون اللهم ضبعاً وذئباً. وإذا قيل لهم ما يعنون، قالوا اللهم اجعل فيها ضبعاً وذئباً. وسمع أبو الخطاب بعض العرب وقيل له لم افسدتم مكانكم؟ فقال الصبيان بأبي أي لم الصبيان. وقيل لبعضهم أما بمكان كذا وجد؟ فقال بلى وجاذا أي أعرف به وجاذا .
مفعول مطلق دیگر کتب میں6
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدئیۃ (جلد:۲) سبق:۳۱
المفعولُ المطلقُ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ مُوَافِقٌ للفِعْل فِي لَفْظِهِ وَیَجِیءُ بَعْدَ الفِعْلِ لِتَأْكِيدِهِ أَوْ لِبَيَانِ نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ.
مفعول مطلق وہ اسم ہے جو لفظوں میں فعل کے مطابق ہوتا ہے اور فعل کے ساتھ اس کی تاکید یا نوعیت یا عدد کے اظہار لئے آتا ہے۔
الأمثلة :
١) لَعِبَ حَسَنُ لَعباً
(٢) خَطَفَ الثَّعْلَبُ الدَّجَاجَةَ خَطْفًا
(۳)يَشْرَبُ الطِّفلُ اللَّبَنَ شُرْباً
(٤) يَثِبُ النَّمِرُ وُثُوبَ الْأَسَدِ
باقی عبارت پڑھیں (6)
(۵ ) مَرَّ الْقِطَارُ مَرَّ السَّحَابِ
(٦) جَرَى خَالِدٌ جَرْياً سَرِيعاً
(۷) أَكَلَ عَلَى أَكلَتَيْن .
(۸)تَدُورُ الْأَرْضُ دَوْرَةً فِي الْيَوْمِ .
(٩) ضَرَبَ الْخَادِمُ الْعَقْرَبَ ضَرْبَةً
النحو الواضح (ثانویہ)النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۴
ما يَتُوبُ عَنِ المَصْدَرِ فِي بِابِ المَفْعُول المطلق: مفعول مطلق کے باب میں جو مصدر کا نائب ہوتا ہے
يَنُوُبُ عَنِ الْمَصْدَرِ مُرَادِفَهُ وَصِفَتُهُ وَمَا يَدُلُّ عَلَى نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ أَوْ آلَتِهِ وَكُلُّ وَبَعْضُ مُضَافَتَيْنِ إِلَيْهِ . وَالْإِشَارَةُ إِلَيْهِ وَضَمِيْرُهُ فَيُنصَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَلَى أَنَّهُ نَائِبٌ عَنِ الْمَفْعُولِ الْمُطْلَقِ.
مصدر کے قائم مقام اس کے مرادف کو اس کی صفت کو اور یا جو اس نوع یا عدد پر دلالت کرے یا اس کے آلہ پر دلالت کرے اور کل بعض دونوں اس مصدر کی طرف مضاف ہوتے ہیں اور اس کی طرف اشارہ کرنا اور اس کی ضمیر کو قائم مقام بنایا جاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو مفعول مطلق کا نائب ہونے کی بناء پر نصب دیا جاتا ہے۔
الأمثلة
(۱) أَقْرَرْتُ بِذَنْبِي اعترافاً .
(۲) سَارَ القِطَارُ سَرِيعاً .
(۳) رَجَعَ الْجَيْشِ الْقَهْقَرَى .
باقی عبارت پڑھیں (6)
( ٤ ) حَلَفَ الرَّجُلُ ثَلَاثَاً
(٥) ضَرَبَ الْحُوذِي الْحِصَانَ سَوْطاً
(٦) جَدَّ الطَّالِبُ كلَّ الْجِد
(۷) أَحْسَنَ العَامِلُ بَعْضَ الإِحْسَانِ
(۸) أَكْرَمْتُ الضَّيْفَ ذلك الإكرام .
(۹) جَامَلْتُكَ مُجَامَلَةً لَا أُجَامِلُهَا أَحَداً .
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴
مفعول مطلق :
اس اسم مصدر کو کہتے ہیں جو اپنے کسی مشتق فعل کے بعد کلام میں تاکید ( زور ) یا عدد یا نوعیت بیان کرنے کے لئے لایا جائے ۔ دوسرے لفظوں میں مفعول مطلق اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے جو بعد میں مذکورہ بالا اغراض میں سے کسی ایک غرض کے لئے لایا جاتا ہے جیسے جَرَى مَحْمُودٌ جَرِّيَّا ( محمود دوڑا واقعی دوڑنا) وَثبَ الْقِطُّ وَثوبَ الاسد ( بلی شیر کی طرح جھپٹی ) اكل الولد اكلتين (لڑکے نے دو مرتبہ کھایا) اوپر کی تعریف اور مثالوں سے یہ امر واضح ہوا کہ مفعول مطلق کا استعمال تین معنوں میں ہوتا ہے
(۱) تاکید (۲) نوعیت (۳) عدد۔
پہلی مثال تاکید کی ہے۔ جری محمود میں مخاطب کے لئے اس شبہ کا امکان تھا کہ محمود دوڑا نہیں بلکہ تیز چل کر آیا ہے۔ جسے الجری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر جریا کے اضافہ سے اس شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقی دوڑنا متعین ہو جاتا ہے۔ تاکید کا ترجمہ عموماً ” بہت زیادہ، خوب، اچھی طرح ،واقعی وغیرہ کے الفاظ سے کیا جاتا ہے مگر جہاں اس کا موقع نہ ہو صرف فعل کے ترجمے پر اکتفا کیا جائے ہر جگہ بہت زیادہ خوب وغیرہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں دراصل مضمون جملہ کی تاکید ہوتی ہے۔
دوسری مثال نوعیت کی ہے۔ وثب القط سے صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ ” بلی جھپٹی مگر وثوب الاسد بڑھانے سے ایک نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بلی شیر کی طرح جھپٹی۔
تیسری مثال عدد کی ہے اس میں اکلتین بڑھانے سے جس نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے وہ یہ کہ کھانے کا کام دو مرتبہ ہوا۔
مفعول مطلق جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا کہ اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے لیکن کبھی خود مصدر مستعمل نہیں ہوتا ہے بلکہ کوئی دوسرا اس مصدر کا قائم مقام بن کر آتا ہے جس کو مفعول مطلق کا نام دے دیا جاتا ہے۔ قائم مقام ہونے کی وجہ سے وہ بھی منصوب ہی ہوتا ہے۔ ذیل میں اس کی صورتیں درج کی جاتی ہیں۔
باقی عبارت پڑھیں (9)
(۱) اس مصدر کا کوئی مترداف لفظ جیسے جَلَسَ محمود قعودًا
(۲) اس مصدر کی کوئی صفت جیسے جرى محمود سریعا (یعنی جرياً سريعًا)
(۳) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کی نوعیت پر دلالت کرے جیسے رجع الجيش القهقرى (يعني رجوع القهقرى)
(۴) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی عدد پر دلالت کرے جیسے ناکل فی اليوم مرتین (یعنی اکلتین)
(۵) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی آلہ پر دلالت کرے جیسے ضَرَبَ الولد الحصان سوطا (ضربا بالسوط)
(۶) لفظ ”کل“ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اقبل التلميذ على القراءة كُلَّ الإقبال
(۷) لفظ "بعض" جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اجتھد محمود بعض الاجتهاد
(۸) اسم اشارہ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اَحْسَنُتُ إِليه ذلك الإحسان
(۹) اسم ضمیر جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اكْرَمْتُهُ إِكْرَامًا لَا أُكْرِمُهُ أَحَدًا
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۳
فصل المفعول المطلق بها
المفعول المطلق: هو مصدر بمعنى فعل مذكور قبله، منصوب بذلك الفعل العامل، يؤتى به لتأكيد عامله فقط، أو بيان نوعه أو عدده مع تأكيده فيهما ، فأقسامه ثلاثة:
ا۔ مؤكد للعامل فقط نحو ضربت زيدا ضربا
۲۔ مؤكد مبين للنوع نحو: جَلَستُ جلوس القاري
۳۔ مؤكد مبين للعدد نحو: تدور الأرض دورة واحدة في اليوم، وضربت زيدا ضربتين، وضربات.
(۲) عامل المفعول المطلق:
يعمل في المفعول المطلق أحد ثلاثة عوامل:
باقی عبارت پڑھیں (54)
۱۔ الفعل التام المتصرف نحو: اجتهدت اجتهادا.
٢ الصفة المشتقة منه الدالة على الحدوث نحو : أخوك مجتهد اجتهادا عظيما.
۳۔ مصدره بشرط أن يكون مماثلا للمفعول المطلق لفظا ومعنى، نحو: عجبت من ضربك زيدا ضربا شديدا.
حذف عامل المفعول المطلق
يجوز حذف عامل المصدر المؤكد المبين للنوع أو للعدد بشرط وجود دليل مقالي أو حالي يدل على المحذوف.
فمثال حذف عامل المصدر المبين للنوع لدليل مقالي : جلوسا طويلا في جواب: هل جلس الزائر عندك، أي: جلس جلوسا طويلا، ومثال حذفه لدليل حالي قولهم للمتهيئ للسفر: سفرا حميدا ورجوعا سعيدا، أي: تسافر سفرا حميدا وترجع رجوعا سعيدا
ومثال حذف عامل المصدر المؤكد المبين للعدد لدليل مقالي: رجعتين ) . في جواب هل رجعت إلى بيتك اليوم، أي رجعت رجعتين ومثال حذفه لدليل حالي أن ترى خيل السباق وهي تدور في الملعب فتقول: دورتين أي: دارت دورتين.
والمصدر في الحالات السابقة منصوب بعاملة المحذوف جوازا، وليس نائبا عن ذلك الفعل المحذوف. من - أما المصدر المؤكد العامله، فالأصل عدم حذف عامله، لأن حذفه منافي ومعارض للغرض الذي لأجله يؤتي بالمصدر المؤكد العامله، وذلك تأكيد معنى عامله المذكور قبله بإبعاد الشك واحتمال المجاز عنه.
لكن العرب التزموا حذف عامله باطراد في بعض مواضع معينة، وأنا بواعنه المصدر المؤكد، فصار ذكر العامل معه ممنوعا، لأن المصدر نائب وعوض عن لفظه ومعناه، ولا يجتمع العوض والمعوض عنه
ونظراً إلى التزام العرب طريقة الحذف والإنابة معا باطراد في تلك المواضع ـ قال النحاة:
إن عامل المصدر المؤكد لا يحذف جوازا في الصحيح، وإنما يحذف وجوبا في المواضع التي التزم فيها العرب حذفه لحكمة مقصودة وأنا بواعنه المصدر المؤكد. والعامل المحذوف وجوبا هو الذي ينصب المصدر النائب عنه، أي: المصدر نائب عن عاملة المحذوف وجوبا و منصوب به معا
مواضع حذف عامل المصدر المؤكد العامله وجوبا:
يحذف عامل المصدر المؤكد لعامله وجوبا في خمسة مواضع:
ا۔ في المصدر الواقع بدلا عن فعله، وهو كثير الاستعمال، ويقع في الكلام الطلبي قياسا سواء كان أمرا نحو صبرا على حوادث الزمان (أي: اصبر صبرا) أو نهيا، نحو: صبرا لا جزعا (أي: اصبر صبرا ولا تجزع جزعا أو دعاء، نحو: سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) أو استفهاما للتوبيخ ، نحو: أجرأة على المعاصي (أي: أتجرؤ جرأة على المعاصي)
۲۔ في المصدر الواقع فعله خبرا عن اسم عين . بشرط أن يكون مكررا، نحو: زيد فهما فهما أو محصورا فيه ، نحو: مازيد إلا سيرا انما زيد سيرا أو معطوفا عليه ، نحو : الأسعار صعودا وهبوطا .
فإن لم يكن المخبر عنه اسم عين ، بل اسم معنى وجب رفعه على الخبرية، نحو أمرك عجب عجب، وكذلك إن لم يكرر ولم يحصر لم يجب الحذف، بل يجوز الحذف والذكر، نحو: زيد سيرا، وزيد يسير سيرا.
۳۔في المصدر الواقع بعد جملة لغرض التشبيه، وتكون تلك الجملة مشتملة على فاعله و على معناه، وليس فيها ما يصلح للعمل، نحو: لزيد صوت صوت حمار
۴۔ في المصدر المؤكد لمضمون الجملة قبله، سواء جيئ به لمجرد التأكيد وهو ما يسمى "مؤكدا لنفسه " نحو : نادى سليم جهرا أو لمنع احتمال المجاز، نحو: أنت ابني حقا
۵۔ في المصدر الواقع تفصيلا لمجمل قبله، نحو: لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا
فصل المفعول المطلق
مفعول مطلق: یہ ایک مصدر ہے جو ایک ذکر شدہ فعل کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہ اس فعل کے منصوب ہونے کی حالت میں آتا ہے جو اس کے عامل کا کام کرتا ہے۔ مفعول مطلق کو صرف عامل کی تصدیق یا اس کی نوعیت یا مقدار بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:
1. مؤكد للعامل فقط: جیسے: "ضربت زیدًا صَربًا" (میں نے زید کو مارا)۔
2. مؤكد مبين للنوع: جیسے: "جلستُ جلوس القاري" (میں نے پڑھنے والے کے طور پر بیٹھا)۔
3. مؤكد مبين للعدد: جیسے: "تدور الأرض دورة واحدة في اليوم" (زمین ایک بار دن میں گھومتی ہے) اور "ضربت زيدًا ضربتين" (میں نے زید کو دو بار مارا)۔
(۲) عامل المفعول المطلق:
مفعول مطلق میں تین عوامل میں سے کوئی ایک کام کرتا ہے:
1. فعل تام متصرف: جیسے: "اجتهدت اجتهادًا" (میں نے محنت کی)۔
2. صفة مشتقة منه: جو حدوث کی طرف اشارہ کرتی ہے: جیسے: "أخوك مجتهد اجتهادًا عظيمًا" (تمہارا بھائی بڑی محنت کر رہا ہے)۔
3. مصدره: بشرط کہ وہ لفظی اور معنوی طور پر مفعول مطلق کی مانند ہو، جیسے: "عجبت من ضربك زيدًا ضربًا شديدًا" (میں نے زید کو شدید مارنے پر حیرت کا اظہار کیا)۔
حذف عامل المفعول المطلق
مفعول مطلق کے عامل کو حذف کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب اس کی نوعیت یا تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی موجودہ یا قابل فہم دلیل ہو۔
1. دلیل مقالی کے ساتھ:
مثال: "جلوسًا طويلاً" کے جواب میں: "ھل جلس الزائر عندک؟" یعنی: "جلس جلوسًا طويلاً" (وہ بیٹھا تھا طویل بیٹھنے کے لیے)۔
2. دلیل حال کے ساتھ:
مثال: "سفرًا حميدًا ورجوعًا سعيدًا" (یہ سفر خوشگوار اور واپس آنا خوشی کا ہے) یعنی: "تسافرسفرًا حميدًا وترجع سعيدًا"۔
3. مفعول مطلق کی اقسام:
مفعول مطلق کے عناصر کو حذف کرنا جائز ہے، اور وہ خود کو مؤكد کرتا ہے، اور یہ اکثر زبان میں ہوا کرتا ہے۔
مفعول المطلق کی صورتوں میں عامل کا حذف
مفعول مطلق کے عامل کا حذف پانچ خاص مقامات پر ہوتا ہے:
1. مفعول مطلق جو فعل کے لیے بدل کے طور پر آتا ہے: جیسے: صبرا على حوادث الزمان "صبرا" (صبر کرو) اصبرصبرا ، یا سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) (تمہارے لیے دعا ہے کہ تمہیں پانی ملے) ۔
2. مفعول مطلق جو خبر کے طور پر آتا ہے شرط یہ ہے کہ وہ مکرر ہو، جیسے: "زيد فهما فهما" (یہ زید ہے، یہ سمجھنے کے لیے)۔
3. مفعول مطلق جو تشبیہ کے لیے آتا ہے: جیسے: "لزيد صوت صوت حمار" (زید کی آواز گدھے کی آواز کی طرح ہے)۔
4. مفعول مطلق جو جملہ کی تصدیق کے لیے آتا ہے: جیسے: "نادى سليم جهرا" (سلیم نے بلند آواز میں پکارا)۔
5. مفعول مطلق جو پہلے کے مجمل کو تفصیل دیتا ہے: جیسے: "لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا" (میں لڑوں گا، یا فتح حاصل کروں گا یا ہلاک ہوں گا)۔
نتیجہ:
مفعول مطلق عربی زبان میں فعل کی وضاحت اور شدت کو بیان کرنے کے لیے ایک اہم قاعدہ ہے، اور اس کی مختلف اقسام اور استعمالات ہیں جو زبان کی معنوی ساخت کو بڑھاتے ہیں۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۸
مفعول مطلق ، جب جملہ میں استعمال شدہ فعل کا مصدر اسی جملہ میں بغرضِ تاکید استعمال کیا جائے تو وہ مفعول مطلق کہلاتا ہے اور منصوب ہوتا ہے، جیسے: ضَرَبَنِي بِلال ضَرْبًا, بلال نے مجھے خوب پیٹا صرف ضَرَبَنِي بلال سے بھی یہ معنی ادا ہو جاتا ہے، لیکن یہ اس وقت بھی کہا جاسکتا ہے جب اتفاقا بلال کا ہاتھ آپ کو لگ جائے ، یا اس نے از راہ تفریح آپ کو ہلکی سی چپت لگادی ہو لیکن ضَرَبَنِي بِلال ضربا آپ اسی وقت استعمال کریں گے جب بلال نے سنجیدگی سے آپ کی اچھی خاصی پٹائی کی ہو۔
مفعول مطلق ذیل کے چار مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔
۱) تاکید کے اظہار کے لئے جیسا کہ سابقہ مثال میں ہے، مزید ایک مثال یہ ہے: ﴿وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوْسَى تَكْلِيْمًا [المائدة: ۱۶۴] اور اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے گفتگو فرمائی۔
(۲) تعداد کے اظہار کے لئے ، جیسے : طُبعَ الْكِتَابُ طبعتين کتاب دو مرتبہ شائع ہوئی نَسِيْتُ وَسَجَدْتُ سَجْدَةً وَاحِدَةٌ میں بھول گیا اور ایک ہی سجدہ کیا۔
۳) عمل کی نوعیت کے اظہار کے لئے ، جیسے: مَاتَ مَوْتَ الشُّهَدَاءِ وہ شہیدوں کی موت مرا اُكْتُبْ كِتَابَةً وَاضِحَةً صاف صاف لکھو(۱)۔
(۴) اپنے فعل کی نیابت کے لئے ، اس حالت میں فعل حذف ہو جائے گا اور صرف مصدر استعمال ہوگا، جیسے: صبرا : صبر کرو یہاں مصدر صبر افعل امر اصبر کا نائب ہے، شکر : شکریہ یہاں مصدر فعل مضارع أشكرُ کا نائب ہے۔
وہ الفاظ جو مصدر کی نیابت کرتے ہیں:
ذیل کے الفاظ مصدر کے قائم مقام ہو کر منصوب ہوتے ہیں اور مفعول مطلق کے حکم میں ہوتے ہیں:
باقی عبارت پڑھیں (27)
۱) كُلُّ ، بَعْضُ، أَيُّ، جب یہ تینوں لفظ مصدر کی طرف مضاف ہوں، جیسے:
أَعْرِفُهُ كُلَّ الْمَعْرِفَةِ میں اس کو پوری طرح جانتا ہوں۔
آخَذَنِي الْمُدِيرُ بَعْضَ الْمُؤَاخَذَةِ ہیڈ ماسٹر نے میری ہلکی سی گرفت کی۔
أَيَّ نَوْمٍ تَنَامُ؟ تم کیسی نیند سوتے ہو؟
وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُوْنَ﴾ [الشعراء: ۲۲۷] اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جان جائیں گے کہ وہ کونسا پلٹنا پلٹیں گے۔
(۲) عدد، جس کا مصدر اس کے معدود ( تمیز [1]) کے طور پر ساتھ ہو، جیسے:
طُبِعَ الْكِتَابُ ثَلاثَ طَبعَاتٍ . کتاب تین مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے:
فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ﴾ [النور: ۲] ان دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔
فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً﴾ [النور: ۴] انہیں اسی کوڑے لگاؤ۔
(۳) مصدر کی صفت ( جبکہ مصدر محذوف ہو جیسے : فَهِمْتُ الدَّرْسَ جَيِّدا میں اچھی طرح سبق سمجھ گیا اصل میں فَهِمْتُ الدَّرْسَ فَهُمَا جَيِّدًا تھا۔
(۴) اسم مصدر، یعنی وہ اسم جو مصدر کے ہم معنی ہو لیکن اس کے حروف مصدر سے کم ہوں، جیسے: کلام: بولنا اسم مصدر ہے اور تعلیم مصدر، سُبْحانَ پاکی بیان کرنا اسم مصدر ہے اور تسبیح مصدر۔
كَلَّمَنِي كَلامًا شَدِيدًا اس نے مجھ سے سخت کلامی کی۔
(۵) فعل مجرد کا مصدر جبکہ جملہ میں فعل مزید مستعمل ہو، جیسے: اشْتَرَيْتُ هَذِهِ السَّيَّارَةَ شِرَاءٌ مُبَاشِرًا میں نے یہ کار خود خریدی ہے یہاں شِراءً فعل مجرد شَرَى يَشْرِيْ کا مصدر ہے جبکہ اشْتَرَى يَشْتَرِي کا مصدر اشْتِرَاء ہے، قرآن مجید میں آیا ہے: ﴿وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمَّا ﴾ [الفجر: ۲۰] اور تم مال سے شدید لگاؤ رکھتے ہو یہاں حبا فعل مجرد حَب يَحِبُّ کا مصدر ہے، جبکہ فعل مزيد أَحَبَّ يُحِبُّ كا مصدر إِحبَابٌ ہے۔
فعل مجرد حــبّ يــحــبُّ بہت کم استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر حب بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور فعل مزيد أحَبَّ يُحِبُّ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر احباب بہت کم۔
ب: فعل مزید کا مصدر بشرطیکہ وہ جملہ میں استعمال شدہ فعل کا (مصدر) نہ ہو، جیسے: تَبَسَّمْتُ ابْتِسَامًا مسکرا دیا۔ یہاں اِبْتِسَامًا فعل اِبْتَسَم کا مصدر ہے، جو باب افْتَعَلَ سے ہے، جبکہ تَبَسَّمَ بَاب تَفَعَّلَ سے ہےاور دونوں ہم معنی ہیں، قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے: ﴿وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَيْتِيْلاً ﴾ [المزمل: ۸] اور سب سے کٹ کر اس سے لو لگا لو۔ یہاں تبتل باب تفعل سے ہے اور مصدر تَيْتيل باب فَعَّلَ سے۔
۶) اسم اشارہ جبکہ مصدر اس کا بدل ہو، جیسے: أَتَسْتَقْبِلُنِي هَذَا الْإِسْتِقْبَالَ! کیا تم میرا اتنا شاندار استقبال کرو گے! یہاں هذا مفعول مطلق ہے اور نصب کے مقام میں ہے، اور الاستقبال اس کا بدل ہے۔
۷) اسم ضمیر جو مصدر کی طرف لوٹے، جیسے: اجْتَهَدَتُ اجْتِهَادًا لَمْ يَجْتَهِدُهُ غَيْرِي میں نے وہ محنت کی کہ دوسرے کسی نے ویسی نہیں کی ہوگی۔ یہاں ضمیر غائب کا اجتهادا کی طرف لوٹ رہی ہے۔
(۸) مصدر کا مترادف لفظ جیسے : عِشتُ حَيَاةً سَعِيْدَةً میں نے خوشگوار زندگی بسر کی۔ یہاں حَيَاةً عِيْشَة کا مترادف ہے جو جملہ میں وارد فعل عاش کا مصدر ہے۔
مصدر کی کئی قسمیں ہیں:
ا۔ مصدر المرة، یہ مصدر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کام کتنی مرتبہ ہوا، ایک، دو یا تین بار یہ مجرد ابواب سے فَعْلَة کے وزن پر آتا ہے، جیسے: ضَرَبْتُهُ ضَرْبَةً وَضَرَبَنِي ضَرْبَتَيْنِ میں نے اسے ایک مارا اور اس نے مجھے دو ، طُبِعَ هَذَا الْكِتَابُ طَبَعَاتِ یہ کتاب کئی بار چھپ چکی ہے۔ طَبَعَاتُ طَبعَةٌ کی جمع ہے۔
مزید ابواب کے مصدر ان کے آخر میں ایک بڑھا کر بنائیے جائیں گے جیسے : تَكْبِيرٌ : تَكْبِيرَةً ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنا إطلال جھانکنا إطلالة ایک مرتبہ جھانکنا جیسے : نُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ ہم نماز جنازہ میں چار مرتبہ تکبیر کہتے ہیں۔ أَطْلَلْتُ مِنَ النَّافِدَةِ إطلالتنين میں نے کھڑکی سے دومرتبہ جها نکا۔
۲۔ مصدر کی ایک اور قسم مصدر الهيئة ہے، یہ فعلة کی وزن پر آئے گا، جیسے: جلسة : بیٹھنے کا طریقہ، مِشْيَةٌ: (۲) چال چلنے کا ڈھنگ۔ ہم کہتے ہیں : لا تَمْشِ مِشْيَةَ النِّسَاءِ عورتوں کی چال نہ چلو ۔ اجلس جلْسَة طَالِبِ علم طالب علم کی طرح بیٹھو۔
نوٹ: پہلا حرف مصدر المرۃ میں مفتوح ہوگا اور مصدر الهيئة میں مکسور ۔
۲: ابواب مزید سے مصدر الهيئة نہیں آتا ہے۔
۳۔ مصدر میمی بھی مصدر کی ایک قسم ہے، یہ مَفْعَلٌ ، مَفْعَلَةٌ، مَفْعِل اور مَفْعِلَةٌ کے اوزان پر آئے گا، جیسے : مَمَاتٌ : مرنا مَعْرِفَةً: جاننا، مَغْفِرَة: بخشنا۔
ابواب مزید سے یہ اسم مفعول کے وزن پر آئے گا، جیسے: مُمَزَّق : پھاڑنا ، مُخْرَج : نکالنا، مُنقَلَبُ : پلٹنا ، قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ﴿فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيْتَ وَ مَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ [ السبا: 19] پھر ہم نے انہیں قصہ پارینہ بنادیا اور انہیں تتر بتر کر دیا۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۱۰
المفعول المطلق هو المصدر سمي بذلك لأن الفعل يصدر عنه.
ويسميه سيبويه الحدث والحدثان وربما سماه الفعل. وينقسم إلى مبهم نحو ضربت ضرباً. وإلى مؤقت نحو ضربت ضربة وضربتين.
نائب المفعول المطلق وقد يقرن بالفعل غير مصدره مما هو بمعناه؛ وذلك على نوعين مصدر وغير المصدر. فالمصدر
على نوعين: ما يلاقي الفعل في اشتقاقه كقوله تعالى : " والله أنبتكم من الأرض نباتاً"، وقوله تعالى: " وتبتل إليه تبتيلاً". وما لا يلاقيه فيه كقولك قعدت جلوساً، وحبست منعاً. وغير المصدر كقولك ضربته أنواعاً من الضرب، وأي ضرب، وأيما ضرب ومنه رجع القهقري واشتمل الصماء، وقعد القرفصاء، لأنها أنواع من الرجوع والاشتمال والقعود، ومنه ضربته سوطاً.
أنواع المفعول المطلق الذي اضمر فعله
والمصادر المنصوبة بأفعال مضمرة على ثلاثة أنواع : ما يستعمل إظهار فعله وإضماره، وما لا يستعمل إظهار فعله، وما لا فعل له أصلاً. وثلاثتها تكون دعاء وغير دعاء فالنوع الأول كقولك للقادم من سفره خير مقدم ولمن يقرمط في عداته. مواعيد عرقوب وللغضبان غضب الخيل على اللجم. ومنه قولهم سقياً ورعياً وخيبة وجدعاً وعقراً وبؤساً وبعداً وسحقاً وحمداً وشكراً لا كفراً وعجباً وافعل ذلك وكرامة ومسرة ونعم ونعمة عين ونعام عين ولا أفعل ذلك ولا كيداً ولا هما ولا فعلن ذلك ورغماً وهواناً. ومنه إنما أنت سيراً سيراً وما أنت إلا قتلاً قتلاً وإلا سير البريد وإلا ضرب الناس وإلا شرب الإبل.
ومنه قوله تعالى: " فاما منّا بعد وإما فداء" ومنه مررت به فإذا له صوت صوت حمار، وإذا له صراخ صراخ الثكلي، وإذا له دق دقك بالمنحاز حب القلقل. ومنه ما يكون توكيداً إما لغيره كقولك هذا عبد الله حقا، والحق لا الباطل، وهذا زيد غير ما تقول، وهذا القول لا قولك، وأجدك لا تفعل كذا، أو لنفسه كقولك له على ألف درهم عرفاً، وقول الأحوص:
باقی عبارت پڑھیں (9)
إني لأمنحك الصدود وإنني قسماً إليك مع الصدود لأميل
ومنه قوله تعالى صنع الله، ووعد الله وكتاب الله عليكم، وصبغة الله، وقولهم الله أكبر دعوة الحق.
ومنه ما جاء مثنى وهو حنانيك ولبيك وسعديك ودواليك وهذا ذيك.
ومنه ما لا يتصرف نحو سبحان الله ومعاذ الله وعمرك الله وقعدك الله.
والنوع الثالث نحو ذفراً وبحراً وأفة وتفة وويحك وويسك وويلك وويبك.
وقد تجري اسماء غير مصادر ذلك المجرى وهي على ضربين: جواهر نحو قولهم ترباً وجندلاً وفاهاً لفيك، وصفات نحو قولهم هنيئاً مريئاً وعائذاً بك وأقائماً وقد قعد الناس وأقاعداً وقد سار الركب.
إضمار المفعول المطلق:
ومن إضمار المصدر قولك عبد الله أظنه منطلق، تجعل الهاء ضمير الظن كأنك قلت عبد الله أظن ظني منطلق. وما جاء في الدعوة المرفوعة واجعله الوارث منا محتمل عندي ان يوجه على هذا.
مفعول فیہ(ظرف زمان و مکان) دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۳
ظَرْفُ الزَّمَانِ: اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ الزَّمَنَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.
ظَرْفُ المَكَانِ:اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ المَكَانَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.
ظرف زمان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کا زمانہ واضح کرتا ہے۔
ظرف مکان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کی جگہ کا تعین کرتا ہے۔
الأمثلة :
(1) مَكَثَتُ بِالإِسْكَندَرِيَّةِ شَهرًا
باقی عبارت پڑھیں (9)
(۲) شَرِبَ الْمَرِيضُ الدَّوَاءِ صَبَاحاً
(٣) جَلَسْتُ مَعَ صَدِيقِي لَحْظَة
(٤) تُوقَدُ الْمَصَابِيحُ لَيْلًا
(۵) تَجْمَعُ النَّمْلَةُ قُوتَهَا صَيْفاً
(٦) وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ .
(٧) جَلَسَتِ الهَرَةُ تَحْتَ الْمَائِدَةِ
(۸) نَامَ الْكَلْبُ خَلْفَ الْبَابِ
(٩) يَثبُ اللَّصْ فَوْقَ السُّورِ .
(١٠) جَرَى عَلِّى مِيلًا
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۶
مفعول فيه (ظرف زمان و ظرف مكان)
مفعول فيه: وہ اسم منصوب ہے جس سے کسی فعل کے وقوع کا وقت یا جگہ معلوم ہو جیسے جَلَسْتُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ( میں درخت کے نیچے بیٹھا) اور سرت لیلا ( میں رات کے وقت چلا ) ان مثالوں میں "تحت اور لیلا مفعول فیہ ہیں۔
مفعول فیہ در حقیقت ظرف زمان اور ظرف مکان کا دوسرا نام ہے ظرف زمان سے مراد وقت اور زمانہ ہے اور ظرف مکان سے جگہ اور مقام ۔ پس ہر وہ وقت ( زمان ) اور ہر وہ جگہ (مکان) جس میں کسی فعل کے وقوع کا ذکر ہو نحو کی اصطلاح میں مفعول فیہ کہلاتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے پہلے حرف جار ( نہ ہو جیسے اوپر کی دوسری مثال میں لیلا مفعول فیہ ہے مگر سرت فی اللیل میں اللیل کو مفعول فیه نہیں کہتے۔
ظرف زمان: خواہ مختص و معین ہو، خواہ مبہم ہو اور غیر معین ہو دونوں صورتوں میں ظرفیت کی بناء پر مفعول فیہ بن سکتا ہے۔ جیسے سافرت يَوْمَ الْخَمِيسِ مگر ظرف مکان کے صرف وہی اسماء مفعول فیہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کا شمار ظروف مبہمہ میں ہوتا ہے جسے اسماء جہات سته ( فوق، تحت قدام، خلف، يمينا، شمالا) اور اسماء مساحت جیسے (فرسخا، میلا، بریدا) وغیرہ اسی طرح اسمائے ظروف مشتق جیسے ذَهَبُتُ مَذْهَبَ خالدٍ اور جَلَسْتُ مَجْلِسَ الاستاذ وغیرہ مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کا عامل خود اسی مادہ سے ہو جیسے مذکورہ دونوں مثالوں میں، اس کے برعکس مثلاً ذَهَبْتُ مَجْلِسَ الْأَسْنَادِ کہنا درست نہیں کیوں کہ مجلس کا عامل (ذهبت) اس مادہ سے نہیں ہے۔
رہے ظرف مکان کے وہ اسماء جن سے کوئی محدود مخصوص جگہ مراد ہو جیسے مسجد، مدرسہ، گھر، بازار، شہر وغیرہ ، تو ظرفیت کی بناء پر یہ منصوب نہیں ہو سکتے اور نہ ان کا نام مفعول فیہ رکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ ان کے پہلے حرف ظرفیت "فی" کا لانا ضروری ہوتا ہے۔ صليت في المسجد، اقمتُ في السوق، اور جلست فِی الدَّارِ وغیرہ اس کے برخلاف صليت المسجد، اقمت السوق اور جلست الدار صحیح نہیں ہے۔ ہاں البته دَخَلْتُ کے باب میں کثرت استعمال کی وجہ سے توسعا یہ بات جائز رکھی گئی کہ اس کا استعمال "فی" اور فی کے بغیر دونوں طرح صحیح ہے۔ جیسے دخلت فی المسجد و في الدار اور دخلت المسجد، والدار وغيره
ذیل میں چند اسمائے ظروف لکھے جاتے ہیں، ان کو زبانی یا لکھ کر جملوں میں استعمال کریں۔
باقی عبارت پڑھیں (4)
ليلا، نهارا، ساعةً، سنةً، شهرا، أسبوعا، دقيقةً، صباحا، مساء، فجرا، ضحی، غدوةً، عشيةً، بكرةً ، اصيلاً، ظهرا، عشاء، عصرا، ظهيرةً، أمس، غدًا، برهةً، هنيهة، زمنًا، حينًا، عاما، دهرًا، ابدا، دَائِماً، قَطُّ، عِوضُ، اول، قبل، بعدُ، تَحْتُ، خَلفُ ، امام، وراء، تلقاء، تجاه، ازاء، حذاء، يميناً، شمالاً۔
خط کشیدہ الفاظ جن کا شمار ظروف مبهمہ میں ہوتا ہے کسی اسم کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے اور منصوب پڑھے جاتے ہیں۔ مگر کبھی ان کا مضاف محذوف ہوتا ہے اور دل میں مقصود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ لِلَّهِ الأَمرُ مِنْ قبل ومن بعد لیکن اگر مضاف الیہ محذوف نہ ہو یا محذوف ہو مگر دل میں مقصود نہ ہو تو دونوں صورتوں میں معرب پڑھے جاتے ہیں اور منصوب ہوتے ہیں جیسے جَلَسْتُ فَوق الکرسی اور جئت اولا یا افعل هذا اولاً ، پہلی مثال میں مضاف الیہ محذوف نہیں ہے اور آخر کی دونوں مثالوں میں محذوف ہے مگر مقصود نہیں ہے
أمس کل گزشتہ کے معنی میں آتا ہے اور کسرہ پر مبنی ہوتا ہے مگر أمس پر اگر الف لام (ال) داخل کر دیا جائے تو مطلق زمانہ ماضی کے معنی میں ہو جاتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہے کہ بِالْأَمسِ كَانَ كذا و كذا
قط اور عوض ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں اور ہمیشہ نفی کے بعد آتے ہیں۔ قط زمانہ ماضی کے لئے اور عوض زمانہ مستقبل کے لئے آتا ہے۔ جیسے ما فَعَلْتُ هَذَا قَطُّ اور لا افْعَلُ هَذَا عِوَضُ ۔
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۴
فصل المفعول فيه
المفعول فيه: ( ويسمى الظرف) اسم يذكر البيان زمان الفعل أو مكانه على تقدير معنى في نحو : سافر ليلا ، ومشى ميلا.
والظرف قسمان ظرف زمان وظرف مكان، وكل منهما إما مبهم . أو محدود ويقال له : مختص أيضا فالمبهم من ظروف الزمان ما دل على قدر من الزمان غير معين نحو حين، ووقت ولحظة.
والمحدود (أو المختص) من ظروف الزمان مادل على وقت مقدر معين، نحو: يوم. وساعة، وشهر، وسنة.
وكلاهما يصلحان للنصب على الظرفية فتقول : صمت حينا، وسافرت يوم الاثنين.
والمبهم من ظروف المكان: ما دل على مكان غير معين البقعة أو هو ما ليس له صورة ولا حدود محصورة، كالجهات الست "أمام" ( ومثلها: قدام) و "وراء" (ومثلها: خلف) و يمين ويسار" ( ومثلها : شمال) و "فوق" و"تحت" وكأسماء المقادير المكانية نحو: ميل" و "فرسخ " و "كيلو متر"
والمحدود ( أو المختص ) من ظروف المكان ما دل على مكان معين البقعة، أو هو ما له صورة وحدود محصورة كـ "دار" و "مدرسة" و "معبد "
ولا ينصب من ظروف المكان إلا (۱) ما كان منها مبهما متضمنا معنى "في" نحو : سرت فرسخا، و (۲) ما كان مشتقا سواء أكان مبهما - أو محدودا، بشرط أن يكون عامله من لفظه مثال المبهم : خرج الماء مخرجه ومثال المحدود: جلست مجلس الرئيس.
باقی عبارت پڑھیں (60)
ما ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه :
ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه خمسة أشياء:
۱۔ المصدر الدال على تعيين زمان أو مكان، نحو: سافرت طلوع الشمس، وجلست قرب الخطيب.
۲۔ المضاف إلى الظرف مما دل على كلية، أو جزئية، نحو: مشيت كل الفرسخ، وأقابل بعض الأحيان، وأجلس معه معظم الأوقات.
۳۔ الصفة القائمة مقام الظرف الموصوف، نحو: سرت قليلا أي زمنا قليلا.
۴۔ اسم الإشارة، نحو سرت ذلك اليوم سيرا سريعا.
۵۔ العدد الذي يقع الظرف تمييزا له، أو مضافا إليه له، نحو: سرت أربعين فرسخا ومشيت ثلاثة أيام. والظروف كلها معربة، إلا ألفاظا محصورة منها جاءت مبنية، سيأتي تفصيلها في مبحث المبني.
عامل المفعول فيه:
يكون عامل المفعول فيه فعلا ، كالأمثلة المذكورة أو شبه فعل نحو: أنا صائم غدا.
تأخر المفعول فيه وتقدمه:
الأصل في المفعول فيه أن يتأخر عن عامله، وقد يتقدم جوارًا، نحو: يوم الخميس صمت - كما أنه يتقدم وجوبا إذا كان له صدر الكلام نحو أين تنام؟ متى تسافر ؟
ذكر عامل المفعول فيه وحذفه:
الأصل في عامله أن يكون مذكورا، وقد يحذف إذا دلت عليه قرينة، نحو: يوم السبت في جواب من قال:
أي يوم سافرت ؟
لحوق ما بالظرف: تلحق "ما" ببعض الظروف (مثل: عند، وحين، وقبل، وبعد، ودون) وتكون زائدة ولا تؤثر عليها، ولا تكفها عن العمل، أي: ان هذه الظروف تظل منصوبة، ويظل الاسم الذي يليها مضافا إليه مجرورا، مثل: طلبت منه أن يحضر دونما تأخير (دونما: دون ظرف منصوب و ما زائدة تأخير مضاف إليه مجرور بالكسرة ) .
إضافة ياء مشددة إلى أسماء الجهات: يجوز إضافة يـاء مشددة إلى أسماء الجهات الأربع، فتقول: شمالي، وجنوبي، وشرقي وغربي، مثل: تقع مدينة بومباي غربي الهند.
فصل المفعول فيه
مفعول فيه: یہ وہ اسم ہے جو فعل کے زمانے یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔ مفعول فيه کو ’’ظرف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: "سافر ليلا" (اس نے رات کو سفر کیا) اور "مشى ميلا" (اس نے ایک میل چلا)۔
اقسام:
ظرف دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے:
1. ظرف زمان: جو وقت کی وضاحت کرتا ہے۔
2. ظرف مکان: جو جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔
ہر ایک قسم میں مبہم (غیر متعین) اور محدود (متعین) ہوتا ہے:
- مبہم: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک غیر معین مدت کو ظاہر کرتی ہیں، جیسے: "حين" (کچھ وقت)، "وقت" (وقت)، اور "لحظة" (لمحہ)۔
- محدود: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک خاص وقت کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "يوم" (دن)، "ساعة" (گھنٹہ)، "شہر" (مہینہ)، "سنة" (سال)۔
دونوں قسمیں ظرفیت کے لئے نصب ہوتی ہیں، جیسے: "صمت حينا" (میں نے کچھ وقت روزہ رکھا) اور "سافرت يوم الاثنين" (میں نے پیر کے دن سفر کیا)۔
مبہم ظروف مکان وہ ہیں جو غیر متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "أمام" (آگے)، "وراء" (پیچھے)، "يمين" (دائیں) وغیرہ۔
محدود ظروف مکان وہ ہیں جو متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "دار" (گھر)، "مدرسة" (اسکول)، "معبد" (عبادت گاہ) وغیرہ۔
نصب کی شرائط:
مکان کے مبہم ظرف میں صرف وہی نصب کیا جا سکتا ہے جو:
1. مبہم ہو اور معنی "في" شامل کرتا ہو، جیسے: "سرت فرسخا" (میں نے ایک فرسخ چلا)۔
2. مشتق ہو چاہے وہ مبہم ہو یا محدود، بشرط کہ اس کا عامل موجود ہو، جیسے: "خرج الماء مخرجه" (پانی اپنے نکاس سے باہر آیا) یا "جلست مجلس الرئيس" (میں صدر کی جگہ بیٹھا)۔
مفعول فيه کی جگہ
مفعول فيه کی صورت میں پانچ چیزیں ہیں جو اس کے نصب ہونے کی حیثیت سے کام کر سکتی ہیں:
1. مصدر: جو وقت یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے، جیسے: "سافرت طلوع الشمس" (میں سورج طلوع ہونے پر سفر کیا)۔
2. مضاف: جو ظرف کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے: "مشيت كل الفرسخ" (میں نے پورا فرسخ چلا)۔
3. صفت: جو ظرف کے وصف کے طور پر کام کرتی ہے، جیسے: "سرت قليلا" (میں تھوڑی دیر چلا)۔
4. اسم الإشارة: جیسے: "سرت ذلك اليوم سيرا سريعا" (میں اس دن تیز چلا)۔
5. عدد: جو ظرف کے تميز کے طور پر آتا ہے، جیسے: "سرت أربعين فرسخا" (میں نے چالیس فرسخ چلا)۔
عامل المفعول فيه:
مفعول فيه کا عامل عموماً فعل ہوتا ہے، جیسے: "أنا صائم غدا" (میں کل روزہ رکھوں گا)۔
مفعول فيه کی ترتیب:
مفعول فيه کا اصل یہ ہے کہ یہ عامل سے پہلے آتا ہے، مگر یہ کبھی کبھی قریبی جگہ پر بھی آ سکتا ہے، جیسے: "يوم الخميس صمت" (میں نے جمعرات کو روزہ رکھا)۔ نیز، اگر یہ جملے کی ابتداء میں آتا ہے تو یہ واجب ہے، جیسے: "أين تنام؟" (تم کہاں سوتے ہو؟) یا "متى تسافر؟" (تم کب سفر کرتے ہو؟)۔
عامل کا ذکر یا حذف:
مفعول فيه کے عامل کا ذکر کرنا اصل ہے، مگر یہ حذف بھی ہو سکتا ہے اگر کوئی دلیل موجود ہو، جیسے: "يوم السبت" کے جواب میں: "أي يوم سافرت؟" (تم کس دن سفر کیا؟)۔
ما کا لحوق:
کچھ ظروف (جیسے: "عند"، "حين"، "قبل"، "بعد"، "دون") میں "ما" ملایا جاتا ہے جو اضافی ہوتی ہے اور اس پر اثر انداز نہیں ہوتی، یعنی یہ ظروف منصوب رہتی ہیں، اور جو نام اس کے ساتھ آتا ہے وہ بھی مضاف ہوتا ہے، جیسے: "طلبت منه أن يحضر دونما تأخير" (میں نے اس سے کہا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آئے)۔
یاء مشددة کا اضافہ:
چاروں سمتوں کے ناموں میں یاء مشددة کا اضافہ جائز ہے، جیسے: "شمالي" (شمالی)، "جنوبي" (جنوبی)، "شرقي" (مشریقی) اور "غربي" (مغربی)۔ جیسے: "تقع مدينة بومباي غربي الهند" (ممبئی کا شہر بھارت کے مغرب میں واقع ہے)۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۱۸
المفعول فيه
هو ظرفا الزمان والمكان وكلاهما منقسم إلى مبهم ومؤقت، ومستعمل إسماً وظرفاً، ومستعمل ظرفاً لا غير. فالمبهم نحو الحين والوقت والجهات الست والمؤقت نحو اليوم والليلة والسوق والدار.
والمستعمل إسماً وظرفاً ما جاز ان تعتقب عليه العوامل والمستعمل ظرفاً لا غير ما لزم النصب نحو قولك وسرنا ذات مرة وبكرة وسحر وسحيرا وضحى وعشاء وعشية وعتمة ومساء، إذا أردت سحراً بعينه وضحى يومك وعشيته وعشاءه عتمة ليلتك ومساءها. ومثله عند وسوى وسواء. ومما يختار فيه أن يلزم الظرفية صفة الأحيان، تقول سير عليه طويلاً وكثيراً وقليلاً وقديماً وحديثاً.
وقد يجعل المصدر حينا لسعة الكلام. فيقال كان ذلك مقدم الحاج، وخفوق النجم، وخلافة فلان، وصلاة العصر؛ ومنه سير عليه ترويحتين وانتظرنه نحر جزورين وقوله تعالى : " وإدبار النجوم".
وقد يذهب بالظرف عن أن يقدر فيه معنى في اتساعاً، فيجرى لذلك مجرى المفعول به، فيقال الذي سرته يوم الجمعة وقال:
ويوم شهدناه سليماً وعـــامـــراً قليل سوى الطعن النهال نوافله
ويضاف إليه كقولك يا سارق الليلة أهل الدار، وقوله تعالى: " بل مكر الليل والنهار. ولولا الإتساع لقلت سرت فيه وشهدنا فيه.
إضمار عامل المفعول فيه:
وينصب بعامل مضمر كقولك في جواب من يقول لك متى سرت؟ يوم الجمعة. وفي المثل السائر: أسائر اليوم وقد زال الظهر ؟ ومنه قولهم لمن ذكر أمراً قد تقادم زمانه حينئذ الآن، أي كان ذلك حينئذ. واسمع الآن.
ويضمر عامله على شريطة التفسير كما صنع في المفعول به تقول اليوم سرت فيه وأيوم الجمعة ينطلق فيه عبد الله، مقدراً أسرت اليوم وأينطلق عبد الله يوم الجمعة.
مفعول معہ دیگر کتب میں3
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴
مفعول معہ اس کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اس مفعول سے پہلے واؤ معیت لکھا جاتا ہے جیسے اِذْهَبُ وَالشَّارِعَ الْجَدِيدَ (نئی سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے جاؤ ) یعنی دائیں بائیں نہ مڑنا اور جیسے جاء زيد والكتب ( زید کتابوں کے ساتھ یا کتابیں لے کر آیا )
تیسیر النحوتیسیر النحو ۔ سبق:۱۶
فصل المفعول معه
المفعول معه : اسم منصوب يذكر بعد "واو" بمعنى " مع " وهي تدل على مصاحبة ذلك الاسم المنصوب لمعمول ما تقدمه من فعل وشبهه، نحو سرت والنيل (الواو واو المعدية، النيل: مفعول معه المنصوب بالفتحة، وواو المعية تدل على مصاحبة النيل لمعمول الفعل "سار" وهو الضمير المرفوع المتصل ت ) والرجل سائر النيل ( واو المعية تدل على مصاحبة النيل المعمول شبه الفعل "سائر" وهو الضمير المرفوع المستتر في سائر" تقديره هو )
شروط نصب المفعول معه :
يشترط في نصب ما بعد الواو على أنه مفعول معه ثلاثة شروط
۱۔ أن يكون الاسم الواقع بعد الواو فضلة، حيث يصح انعقاد الجملة بدونه.
۲۔ أن يكون ما قبله جملة فيها فعل، أو اسم فيه معنى الفعل وحروفه.
۳۔ أن تكون الواو التي تسبقه نصا في المعية.
باقی عبارت پڑھیں (43)
حالات الاسم الواقع بعد الواو
۱۔ يتعين نصب الاسم الواقع بعد الواو على المعية في موضعين:
(ا) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة المعنى نحو مشى التلميذ والطريق.
(ب) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة اللفظ ، نحو: سلمت عليك وأباك، وجئت وسليما
۲۔ يرجح النصب إذا كان العطف ضعيفا من جهة المعنى، نحو: لا تفرح بالبيع والخسارة .
۳۔ يرجح العطف متى أمكن بغير ضعف، نحو: سار الأمير والجيش.
۴۔ يتعين العطف إذا كان الفعل لا يقع إلا من متعدد، نحو: اختصم سعد وسعيد.
ناصب المفعول معه
يكون ناصب المفعول معه ما تقدمه
۱۔ من فعل
۲۔ أو شبه فعل ( وقد سبق مثالهما )
۳۔ وقد يكون منصوبا بفعل مضمر وجوبا من مادة (الكون) إذا وقع بعد ما، وكيف الاستفهاميتين، نحو: ما أنت وصديقك، وكيف أنت والامتحان والتقدير ما تكون و صديقك، وكيف تكون والامتحان
تقدم المفعول معه على العامل والمصاحب:
لا يجوز أن يتقدم المفعول معه على عامله، فلا يقال: والطريق مشى التلميذ، ولا على مصاحبه، فلا يقال: مشى والطريق التلميذ
فصل المفعول معه
مفعول معه: یہ ایک منصوب اسم ہے جو "واو" کے بعد آتا ہے جس کا معنی "مع" ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مذکورہ اسم (جو منصوب ہے) فعل یا فعل کے مشابہ کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً: سرت والنيل (میں نيل کے ساتھ چلتا ہوں) یہاں "النيل" (نيل) مفعول معه ہے جو "سار" (چلنا) فعل کے ساتھ موجود ہے۔
مفعول معه کی نصب کی شرائط:
مفعول معه کو نصب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:
1. فضلہ( زائد): الواو کے بعد آنے والا اسم فضلہ ہونا چاہئے، یعنی جملہ اس کے بغیر بھی مکمل ہو سکتا ہے۔
2. فعل کی موجودگی: اس سے پہلے ایک جملہ ہونا چاہئے جس میں فعل موجود ہو یا کوئی اسم جو فعل کے معنی میں ہو۔
3. واو کی معیت: ’’واو‘‘ جو اس سے پہلے آتا ہے،اس کو معیت کے لئے خاص ہونا چاہئے۔
الواو کے بعد آنے والے اسم کی حالتیں:
1. نصب کی تعیین: اسم جو ’’واو‘‘ کے بعد آتا ہے، دو صورتوں میں منصوب ہوگا:
- (الف) اگر کسی معنی کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "مشى التلميذ والطريق" (طالب علم نے چلتے ہوئے راستے پر چل دیا)۔
- (ب) اگر لفظ کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "سلمت عليك وأباك" (میں نے تمہیں اور تمہارے والد کو سلام کیا)۔
2. اگر عطف معنی کے لحاظ سے کمزور ہو تو نصب کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "لا تفرح بالبيع والخسارة" (فروخت اور نقصان پر خوش مت ہو)۔
3. جب عطف ممکن ہو اور کمزور نہ ہو تو عطف کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "سار الأمير والجيش" (شہزادہ اور فوج چلیں)۔
4. عطف کی تعین: جب فعل صرف متعدد کے لئے ہو تو عطف لازم ہے، جیسے: "اختصم سعد وسعيد" (سعد اور سعيد کے درمیان جھگڑا ہوا)۔
ناصب مفعول معه:
مفعول معه کا ناصب وہی چیز ہوتی ہے جو اس سے پہلے آتی ہے:
1. فعل
2. شبه فعل (اس کی مثالیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں)
3. فعل مضمر: یہ ہمیشہ "الكون" کے مادے سے آتا ہے جب "ما" یا "كيف" الاستفهامیتین کے بعد ہو، جیسے: "ما أنت وصديقك" (تم اور تمہارا دوست کیا ہو؟) اور "كيف أنت والامتحان" (تم امتحان کے ساتھ کیسے ہو؟)۔
مفعول معه کا عامل اور مصاحب پر مقدم:
مفعول معه کو عامل پر تقدم کرنا جائز نہیں ہے، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا: "والطريق مشى التلميذ" (راستہ طالب علم کے ساتھ چلا) اور نہ ہی یہ کہ: "مشى والطريق التلميذ" (طالب علم راستے کے ساتھ چلا)۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۱۹
المفعول معه
وهو المنصوب بعد الواو الكائنة بمعنى مع. وإنما ينصب إذا تضمن الكلام فعلاً كقولك ما صنعت وأباك، وما زلت أسير والنيل ومن أبيات الكتاب:
فكونوا أنتم وبني أبيكم مكان الكليتين من الطحال
ومنه قوله عزوجل: "فأجمعوا أمركم وشركاءكم"، أو ما هو بمعناه نحو قولك مالك وزيداً، وما شأنك وعمراً، لأن المعنى ما تصنع وما تلابس وكذلك حسبك وزيداً درهم، وقطك وكفيك مثله لأنها بمعنى كفاك. قال:
فما لك والتلدد حول نجد وقد غصت تهامة بالرجال
وقال:
إذا كانت الهيجاء انشقت العصا فحسبك والضحاك سيف مهند
وليس لك أن تجره حملاً على المكنى. فإذا جئت بالظاهر كان الجر الإختيار كقولك ما شأن عبد الله وأخيه يشستمه، وما شأن قيس والبر تسرقه، والنصب جائز .
باقی عبارت پڑھیں (9)
وأما في قولك ما أنت وعبد الله وكيف أنت وقصعة من ثريد، فالرفع قال:
وقال:
یا زبرقان أخا بني خلف ما أنت ويب أبيك والفخر
وقال:
وكنت هناك أنت كريم قيس فما القيسيب بعدك والفخار
إلا عند ناس من العرب ينصبونه على تأويل ما كنت أنت وعبد الله، وكيف تكون أنت وقصعة من ثريد. قال سيبويه لأن كنت وتكون تقعان ههنا كثيراً وقال:
فما أنا والسير في متلف يبرح بالذكر الضابط
وهذا الباب قياس عند بعضهم وعند آخرين مقصور على السماع.
مفعول لہ دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۲
المفعول لأجله: مفعول لاجلہ
المفعولُ لِأَجْلِهِ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ سَبَبَ الفِعْلِ وَعِلَّةَ حُصُولِهِ.
مفعولہ لہ وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے سبب اور اس کے حصول کی علت بیان کرے۔
الأمثلة :
1) يُسَافِرُ الطَّلَبَةُ إِلَى أوربا طَلَبَاً لِلْعِلم .
(٢) عَاقَبَ الْقَاضِي الْمُجْرِمَ تَأْدِيباً لَهُ .
(٣) قُمۡ احْتِرَاماً لِأُسْتَاذِكَ .
(٤) تَصَدَّقْتُ عَلَى الْفَقِيرِ أَمَلاً فِي الثَّوَابِ
(۵) صَفَحْتُ عَنِ السَّفِيهِ حِلْماً .
(٦) تَجَاوَزْتُ عَنْ هَفوةِ الصَّدِيقِ إِبْقَاء عَلى مَوَدَّتِهِ .
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۵
مفعول له.
مفعول لہ ایک ایسا اسم منصوب ہے جو فعل کے وقوع کا سبب وعلت بتاتا ہے۔ جیسے سَافَرَ مَحْمُودٌ طَلَبَا لِلْعِم ( محمود نے طلب علم کے لئے سفر کیا) تَصَدَّقُتُ على الْفُقَرَاءِ اَملا فِي الثّوَابِ ( میں نے محتاجوں میں ثواب کی امید میں صدقہ کیا )۔
علت بیان کرنے کے لئے عربی میں دو طریقے ہیں۔
ایک مفعول لہ جیسے اوپر کی مثال میں، دوسرے یہ کہ لام سبیہ کے ذریعے فعل کے وقوع کی علت بیان کی جائے جیسے سَافَرَتْ لِطَلَبِ الْعِلْمِ یا لِاَنْ اَطْلُبَ الْعِلْمَ یا لأَطْلُبَ الْعِلْمَ - جہاں مفعول لہ کا موقع نہ ہو وہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ اسی لام سببیہ کے ذریعے علت بیان کی جائے۔
مفعول لہ اسم مصدر ہوتا ہے اور منصوب ہوتا ہے۔ کسی اسم کو مفعول لہ بنانے کے لئے حسب ذیل امور کا لحاظ کیا جانا ضروری ہے۔
(1) سب سے پہلے یہ کہ وہ مصدر ہو۔
(۲) دوسرے یہ کہ وہ علت ہی بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہو۔
(۳) تیسرے یہ کہ فعل اور اس مصدر کے حدث ( وقوع) کا زمانہ ایک ہو۔
باقی عبارت پڑھیں (6)
(۴) چوتھے یہ کہ فعل اور اس مصدر کا فاعل ایک ہو۔
یہ چاروں شرطیں بیک وقت پائی جانی چاہئیں ورنہ ان شرطوں میں سے ایک بھی اگر مفقود ہو جائے تو وہ اسم مفعول لہ نہیں بن سکتا ایسی صورت میں لام سببیہ ہی علت بیان کرنے کے لئے لایا جاتا ہے جیسا کہ ہم ابھی اوپر بتا چکے ہیں حسب ذیل مثالوں پر غور کیجئے :
(۱) جئتك للكتب: یہاں پہلی شرط یعنی مصدریت مفقود ہے۔
(۲) جِئْتُكَ ركُوبًا : یہاں دوسری شرط ( یعنی تعلیل) مفقود ہے اگر چہ رکوبا مصدر ہے۔
(۳) جئْتُكَ لِلسَفَرِ غدًا: یہاں تیسری شرط یعنی اتحاد زمانہ مفقود ہے۔ اگر چہ مصدریت و تعلیل پائی جاتی ہے۔
(۴) جِئْتُكَ لأمركَ إِيَّایَ: یہاں چوتھی شرط ( یعنی اتحاد فاعل ) مفقود ہے کیونکہ جئتك كا فاعل (ت ) ضمیر متکلم ہے۔ اور مصدر کا فاعل (ک) ضمیر مخاطب ہے۔
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۵
فصل المفعول له
المفعول له : مصدر منصوب يذكر بعد الفعل لبيان سببه (أي يقع في جواب لم حدث الفعل؟ ) مثل : حضر علي إكراما لمحمد ( إكراما مفعول له منصوب بالفتحة )
شروط المفعول له :
يشترط لجواز نصب المفعول له ثلاثة شروط
۱۔ أن يكون مصدرا
۲۔ أن يكون علة
۳۔ أن يتحد مع عامله في الزمان والفاعل مع اختلافه عنه في اللفظ
باقی عبارت پڑھیں (27)
حالات المفعول له :
للمصدر المستوفي لشروط نصب المفعول له ثلاث حالات:
۱۔ أن يكون مجردا من "أل" والإضافة
۱۔ أن يكون مقرونا بـ"أل"
۲۔ أن يكون مضافا
۔ في الحالة الأولى يكثر نصبه، ويقل جره بحرف تعليل، نحو: نصحتك رغبة في مصلحتك، أو لرغبة في مصلحتك.
في الحالة الثانية يكثر جره بحرف تعليل، ويقل نصبه، نحو: نصحتك للرغبة في مصلحتك، ونصحتك الرغبة في مصلحتك.
في الحالة الثالثة يجوز النصب والجر على السواء، نحو: هربت خوف القتل، أو لخوف القتل.
فصل المفعول له
مفعول له: یہ ایک منصوب مصدر ہے جو فعل کے بعد آتا ہے تاکہ اس کے سبب کو بیان کرے (یعنی یہ جواب دیتا ہے کہ فعل کیوں ہوا؟)۔ مثال: حضر علي إكراما لمحمد (علی محمد کی خاطر حاضر ہوا)
یہاں "إكراما" (احترام کے لئے) مفعول له ہے جو فعل "حضر" (حاضر ہوا) کے سبب کو بیان کرتا ہے۔
مفعول له کی نصب کی شرائط:
مفعول له کو منصو ب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:
1. مصدر ہو: مفعول له ہمیشہ مصدر ہونا چاہئے۔
2. علت ہو: یہ فعل کی علت یا سبب کو بیان کرے۔
3. اپنے عامل کے ساتھ زمانہ اور فاعل میں ایک ہی ہونا چاہئے، اگر چہ لفظ میں مختلف ہو۔
مفعول له کی حالتیں:
مفعول له کی تین حالتیں ہیں جب یہ نصب کی شرائط کو پورا کرتا ہے:
1. مجرد: یہ "أل" یا اضافت سے خالی ہو۔
- اس حالت میں نصبی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے: ’’نصحتك رغبة في مصلحتك‘‘ (میں نے تمہیں تمہاری بھلائی کی خاطر نصیحت کی) یا ’’لرغبة في مصلحتك‘‘ (تمہاری بھلائی کی خاطر)۔
2. مقرون بـ "أل": - اس حالت میں حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور نصبی کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے:’’نصحتك للرغبة في مصلحتك‘‘ یا نصحتك الرغبة في مصلحتك
3. مضاف ہو: اس حالت میں نصب اور جر دونوں جائز ہے، جیسے: ھربت خوف القتلِ یا لخوف القتل (قتل کا خوف)۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۲۰
المفعول له
هو علة الإقدام على الفعل. وهو جواب لمه. وذلك قولك فعلت كذا مخافة الشر وإدخار فلان، وضربته تأديباً له، وقعدت عن الحرب جبنا، وفعلت ذلك أجل كذا؛ وفي التنزيل حذر الموت.
وفيه ثلاث شرائط أن يكون مصدراً، وفعلاً لفاعل الفعل المعلل، ومقارناً له في الوجود. فإن فقد شيء منها فاللام كقولك جنتك للسمن واللبن ولإكرامك الزائر، وخرجت اليوم لمخاصمتك زيداً أمس. ويكون معرفة ونكرة وقد جمعهما العجاج في قوله:
يركب كل عاقر جمهور مخافة وزعل المحبور
والهول من تھول الهبور
حال دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۸
الحال: حال
الحال: اسمٌ مَنْصوبٌ يُبَيِّنُ هيئةَ الفاعلِ أو المفعولِ به حينَ وقوعِ الفعلِ، ويُسَمَّى كُلٌّ مِنَ الفاعلِ أو المفعولِ به صاحِبَ الحالِ.
حال وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے واقع ہوتے وقت فاعل یا مفعول بہ کی ھیئت کو بیان کرتا ہے۔ اس وقت اس فاعل یا مفعول بہ کو صاحب الحال کہتے ہیں۔
الامثلة
(۱) عَادَ الجَيشُ ظافراً .
(٢) أقبل المظلوم باكياً
(۳) جَرَى الماء صافياً .
باقی عبارت پڑھیں (29)
(٤) بِعْتُ الْقُطْنَ محلوجًا.
(٥) لاَ تَشْرَب الماء كَدِراً .
(٦) لا تَلْبَسِ الثّوْبَ ممزقاً .
أنواع الحال:
تَجِيءُ الحالُ اسْمًا مُفْرَدًا وَجُمْلَةً اسْمِيَّةً وَجُمْلَةً فِعْلِيَّةً وَظَرْفًا وَجَارًّا وَمَجْرُورًا.
إِذَا وَقَعَتِ الحالُ جُمْلَةً فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ رَابِطٍ يَرْبِطُهَا بِصَاحِبِ الحالِ، وَهُوَ إِمَّا الواوُ فَقَطْ، وَإِمَّا الضَّمِيرُ فَقَطْ، وَإِمَّا هُمَا مَعًا.
حال کبھی اسم مفرد ہوتا ہے کبھی جملہ اسمیه، کبھی جمله فعلیه، کبھی ظرف اور کبھی جار مجرور ہو کر بھی آتا ہے۔
حال جب جملہ ہو تو اس میں ایک ملانے والا (رابط) ہونا چاہئے جو اسے ذوالحال کے ساتھ ملائے رکھے (مربوط) رکھے۔ یہ رابطہ بھی صرف واؤ ہو گا ، کبھی صرف ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوں گے۔
الامثلة
(۱) رَجَعَ القائدُ مَنْصُوراً .
(۲) رَكبنَا البحر هائجاً .
(۳) لا تأْكُلُوا الطعام حارًا .
(٤) حَضَرَ الضُّيُوفُ والمُضِيفُ غَائِبُ
(۵) اصطفت الجنود سيوفهُمْ مَشْهورة .
(۶) لَا تَأْكُلُوا الفاكهة وَهِيَ فِجَّةٌ .
(۷) غاب أخوك وقد حَضَرَ جميع الأصدقاء .
(۸) ذَهَبَ الجَانِي تَحْرُسُهُ الجُنُودُ
(۹) قَطَفَ الأَوْلَادُ الأَزْهَارَ ولما تَتَفَتَّحْ
(۱۰) رَاقَنِي الوَرْدُ وَسْطَ البُسْتَانِ
(۱۱) أَبْصَرْتُ الخطيب فوقَ المِنْبَرِ
(۱۲) طَلَعَ البَدْرُ بَيْنَ السَّحَابِ
(۱۳) تألم الطائرُ في القفصِ
(١٤) اشتريْتُ السَّلَّةَ من التِّينِ بِثَمن قليلٍ .
(١٥) بعت الثمرَ عَلَى شَجَرِهِ
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۷
حال
حال ایک ایسا اسم منصوب ہے جو (فعل کے وقوع کے وقت) فاعل اور مفعول بہ کی ہیئت کو واضح کرتا ہے۔ جیسے جَاءَ خَالِدٌ رَاكِبًا ( خالد سوار ہو کر آیا) اور لاتاكل الطَعَامَ حَارا (کھانا اس حال میں نہ کھا کہ وہ گرم ہو ) ان مثالوں میں را کبا اور حارا حال ہیں۔ فاعل یا مفعول بہ جس کا بھی حال بیان کیا جائے نحویین کی اصطلاح میں صاحب حال یا ذو الحال کہلاتا ہے اوپر کی مثال میں فاعل (خَالِدٌ) ذوالحال ہے۔ اور دوسری مثال میں مفعول به (الطعام) ذوالحال ہے۔
(۱) حال کوئی اسم مشتق اور نکرہ ہوا کرتا ہے اور ذوالحال معرفہ ہوتا ہے ۔ (۱)
(۲) حال بھی ( خبر کی طرح) کبھی مفرد کبھی جملہ اور کبھی شبہ جملہ ہوا کرتا ہے، جیسے جَاءَ فَرِيدٌ يَرْكَبُ فَرَسَهُ، رَأَيْتُ الْخَطِيبَ فَوْقَ الْمِنْبَرِ، بِعْتُ الثَّمَرَ عَلَى الشَّجَرَةِ
(۳) حال جب جملہ ہو تو حال ذو الحال کے درمیان کسی رابطہ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ رابطہ کبھی واؤ ہوتا ہے اور کبھی ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوتے ہیں۔ مثالیں علی الترتیب یہ ہیں۔
(1) رَكِبتُ السَّفِينَةَ وَالْهَوَاءُ عَلِيلٌ ( یہاں رابطہ صرف واؤ ہے)
(۲) جَاءَ الْمُذْنِبُ يَعْتَذِرُ عَنْ ذَنْبِهِ ( یہاں رابطہ صرف ضمیر ہے)
(۳) خَرَجَ الْأَوْلَادُ وَهُمْ فَرِحُونَ ( یہاں رابطہ واؤ اور ضمیر دونوں ہیں)
باقی عبارت پڑھیں (19)
(۴) حال جب جملہ فعلیہ ہو اور فعل اس میں مضارع مثبت ہو تو رابطہ صرف ضمیر ہوتی ہے۔ جیسے مثال نمبر ۲ میں ہے۔ اور اگر فعل ماضی مثبت ہو تو واؤ کے ساتھ قد بڑھا دیتے ہیں جیسے سَلَّمْتُ عَلَی أبِي وَقَدْ عَادَ مِنْ سَفَرِہٰ اور کبھی صرف قد ہی کافی سمجھا جاتا ہے مگر ماضی منفی میں قد بڑھانا صحیح نہیں ہے۔ اس میں رابطہ صرف واؤ ہوتا ہے۔ استيقظتُ مِنَ النَّوْمِ وَمَا طَلَعَت الشَّمسُ
فائده: جملہ خواہ اسمیہ ہو یا فعلیہ حال اس وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ کسی اسم معرفہ کے ساتھ آئے نکرہ کے بعد جملہ حال نہیں ہوتا بلکہ صفت بن جاتا ہے ۔ الجُمَل بَعْدَ النَكَراتِ صِفَاتِ وَبَعْدَ الْمُعَارَفِ احوالٌ
(۵) حال جب کوئی اسم مفرد ہو ( یعنی جملہ یا شبہ جملہ نہ ہو ) تو واحد، تثنیہ جمع اور تذکیر و تانیث میں وہ اپنے ذوالحال کے مطابق رہتا ہے اور ایسے ہی جبکہ حال کوئی جملہ ہو اور رابط اس میں ضمیر ہو تو مطابقت ضروری ہے، جیسے مثال نمبر 2 اور 3 میں ، لیکن اگر رابط ضمیر نہ ہو بلکہ صرف واؤ ہو تو مطابقت و عدم مطابقت کا سرے سے کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جیسے مثال نمبر (ا) اور حَضَرَ الصُّيُوفُ وَالْمُضِيْفُ غَائِبٌ وغيره -
حاشیہ : (۱) اصل قاعدے کی رو سے ذوالحال کو معرفہ اور حال کو اسم مشتق و نکرہ ہونا چاہئے مگر کبھی اس میں تخلف بھی ہوتا ہے تفصیلات یہ ہیں۔
(الف) اصل کے برعکس حسب ذیل صورتوں میں ذو الحال نکرہ لایا جا سکتا ہے
(۱) جب کہ ذوالحال کو حال سے مؤخر کر دیا جائے جیسے جَاءَ را کبا رجل
(۲) جب کہ ذوالحال سے پہلے کوئی حرف نفی آجائے اور معنی میں اس کا ایک عموم پیدا ہو جائے جیسے وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا مُنذِرُونَ
(۳) جب کہ ذوالحال کے اندر تخصیص کے معنی پیدا ہو جا ئیں جیسے وَلَمَّا جَاءَ هُمُ كِتَابٌ مِنْ عِندِ الله مُصَدِّقًا ( واضح رہے کہ مصدقاً بعض سلف سے منصوب ہی مروی ہے۔ اس صورت میں کتاب ذوالحال ہوگا اور یہ نکرہ ہے)
(ب) اصل قاعدہ کے برعکس حال حسب ذیل صورتوں میں معرفہ آسکتا ہے، مگر کلام عرب میں بہت ہی قلیل ہے۔
(۱) "ال" کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو اُدْخُلُوا الأَوَّلَ فَالاَوَّلَ ۔
(۲) اضافت کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو جیسے اِجتَهَدُ وَحۡدَكَ وغيره،
(ج) اس طرح اسم مشتق کے بجائے حسب ذیل صورتوں میں حال اسم جامد بھی ہو سکتا ہے۔
(۱) جب کہ وہ تشبیہ پر دلالت کرے جیسے کر عَلَىَّ اسدا ۔
(۲) جبکہ وہ ترتیب پر دلالت کرے جیسے اقرا الكتاب بابا بابا و ادْخُلُوا الْبَابَ رَجُلًا رَجُلاً
(۳) جب کہ وہ مفاعلہ (یعنی جانبین کی مشارکت بتائے جیسے بعته بدا بید ۔
(۴) جبکہ وہ نرخ (قیمت )بتائے ۔جیسے : اِشْتَرَيْتُ الثَوبَ ذِرَاعًا بِدرهَم
(۵) جبکہ وہ موصوف ہو جیسے إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۷
فصل الحال
الحال: وصف فضلة منصوب يبين هيئة الفاعل، أو المفعول به أو كليهما عند وقوع الفعل
(أى: أنه يقع في جواب كيف حدث الفعل ؟) نحو: جاءني زيد راكبا وضربت زيدا مشدودا ولقيت زيدا راكبين راكبا حال منصوبة بالفتحة يبين هيئة الفاعل، مشدودا حال منصوبة يبين هيئة المفعول، وراكبين حال منصوبة بياء مفتوح ما قبلها يبين هيئة الفاعل والمفعول كليهما )
صاحب الحال:
يسمى الفاعل أو المفعول الذي تبين الحال هيئته "صاحب الحال" والأصل فيه (كما في المبتدأ) أن يكون معرفة، لأنه محكوم عليه، والمحكوم عليه لا بد أن يكون معلوما، ولكنه كالمبتدأ أيضا يأتي نكرة حينما يصير معلوما بمسوغات ترجع إلى ثلاثة أمور:
۱۔ أن تكون النكرة عامة بتقدم نفي، أو استفهام، أو نحوهما عليها، نحو: ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً ، وهل جاءك أحد راكباً.
٢۔ أن تتخصص النكرة بوصف، أو إضافة أو نحوهما، نحو: جاء ني رجل فن زائراً ، زارني صديق حميم مسلما
باقی عبارت پڑھیں (76)
۳۔أن تتقدم الحال على صاحبها وهو نكرة محضة ، نحو: جاء ني مسرعا رجل.
عامل الحال:
عامل الحال: هو العامل في صاحبها من فعل، أو شبه أو ما في معناه نحو: طلعت الشمس مشرقة، فالعامل في الحال مشرقة هو الفعل "طلعت" وهو العامل في صاحبها الشمس )
أحوال الحال المفردة:
الأصل في الحال أن تكون صفة منتقلة، نكرة، مشتقة ، نحو: جاء زيد راكبا.
وقد تأتي الحال صفة ثابتة، نحو قوله تعالى: (خلق الانسان ضعيفا)
وقد تأتي الحال معرفة، لا نكرة، وذلك إذا صح تأويلها بنكرة، نحو: جاء أخوك وحده، أي: منفردا . قد تأتي الحال جامدة، لا مشتقة، وذلك على تأويلها غالبا بالمشتق، ويقع ذلك في خمس حالات.
أولا: في ما دل على تشبيه ، نحو: جرى سليم غزالا، أي مسرعاً كالغزال.
ثانيا: في ما دل على مفاعلة، نحو: بايعته يدا بيد، أي: متقابضين.
ثالثا : في ما دل على ترتيب، نحو : ادخلوا رجلا رجلا، أي: مرتبين.
رابعا: في ما دل على تفصيل، نحو: قرأت الكتاب باباً باباً، أي: مفصلا
خامسا: في ما دل على تسعير ، نحو: اشتريت الثوب ذراعا بدرهم، أي: مسعرا
أنواع الحال:
الحال تكون
ا. اسما ظاهرا مفردا كما سبقت أمثلته وتفاصيله.
أو جملة خبرية، اسمية كانت أو فعلية، نحو استيقظت والشمس طالعة (والشمس طالعة: جملة اسمية حال في محل نصبها) وسار الطفل يبكي (يبكي جملة فعلية حال في محل نصبها)
ويشترط في الجملة التي تقع حالا أن تشتمل على رابط يربطها بصاحب الحال وهذا الرابط قد يكون "الواو " فقط ( وتسمى واو الحال ) كما في المثال الأول ، أو الضمير فقط كما في المثال الثاني، أو الواو والضمير معا نحو: جاء زيد وهو راكب - وهذه الأحوال الثلاث من الرابط توجد في جملة الحال سواء أكانت اسمية أو فعلية، إلا في حالة واحدة، وهي أن تكون جملة الحال فعلية فعلها مضارع مثبت غير مقترن بـ قله فيكون الرابط فيها الضمير فقط، ولا يصح فيها استعمال الرابط "الواو" كما في المثال السابق: سار الطفل يبكي.
حذف عامل الحال:
يجوز حذف عامل الحال إذا دل عليه دليل، كقولك: "ماشياً لمن سألك: كيف جئت ؟ . ويجب حذف عامل الحال قياسا في مواضع، منها:
ا. في ما يتبين فيه زيادة أو نقص في المقدار بالتدريج، نحو: تصدق بدرهم فصاعدا واشتر الثوب بثلاثة دراهم فنازلا ، والتقدير: فاذهب بالعدد صاعدا أو نازلا.
۲۔ أن تكون مسوقة للتوبيخ نحو أقاعدا وقد قام الناس، أي: أتوجد قاعدا.
ويحذف عامل الحال سماعا في غير ذلك، نحو: هنيئا لك أي: ثبت لك الخير هنيئا.
تعدد الحال:
يجوز تعدد الحال وصاحبها مفرد، أو متعدد فمثال الأول، جاء زيد راكيا ضاحكا، (ف راكبا وضاحكة حالان من زيد وحده، والعامل فيهما جاء ) ومثال الثاني: لقيت هندا مصعدا منحدرة، (فـ مصعدا حال من الضمير المرفوع المتصل "ت"، ومنحدرة حال من "هند - والعامل فيهما لقي )
فصل الحال
حال: حال ایک وصف فضلہ منصوب ہوتا ہے جو فعل، فاعل، یا مفعول کی حالت کو بیان کرتا ہے جب فعل واقع ہوتا ہے۔ یہ سوال "فعل کس حالت میں ہوا؟" کا جواب دیتا ہے۔ مثال کے طور پر:
- جاءني زيد راكبا (زيد میرے پاس سوار ہو کر آیا) یہاں "راكبا" حال ہے جو بتا رہا ہے کہ زيد کیسے آیا۔
- وضربت زيدا مشدودا (میں نے زيد کو باندھ کر مارا) ہاں "مشدودا" حال ہے جو بتاتا ہے کہ زيد کی حالت کیا تھی جب اسے مارا گیا۔
- ولقيت زيدا راكبين (میں نے زيد کو سواروں کے ساتھ پایا) یہاں "راكبين" حال ہے جو دونوں (فاعل اور مفعول) کی حالت کو بیان کرتا ہے۔
صاحب الحال:
صاحب الحال وہ فاعل یا مفعول ہے جس کی حالت حال بیان کرتا ہے۔ اصل میں، جیسا کہ مبتدا میں ہوتا ہے، صاحب الحال کامعرفہ ضروری ہے، کیونکہ محکو م علیہ معلوم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ نکرہ بھی ہو سکتا ہے جب یہ کچھ مخصوص حالات کی بنا پر معلوم ہو جائے۔ ان حالات میں شامل ہیں:
1. نکرہ کا عمومی ہونا، جب اس سے پہلے نفی یا استفھام ہو یا ان دونوں جیسے ۔جیسے: "ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً" (مدرسے میں کوئی سست طالب علم نہیں ہے) ،ھل جاءک احد راکبا۔
2. نکرہ کا کسی وصف، اضافت یا دوسری صورت میں خاص ہونا، جیسے: "جاءني رجلٌ فن زائراً" (میرے پاس ایک آدمی آیا جو زائر تھا)۔
3. حال کا صاحب پر مقدم ہونا، اور وہ نکرہ محضہ ہو جیسے: "جاءني مسرعاً رجل" (میرے پاس تیز چلتا ہوا آدمی آیا)۔
عامل الحال:
’’عامل الحال‘‘ وہ فعل یا شبیہ فعل ہوتا ہے جو صاحب الحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً: -’’طلعت الشمس مشرقة‘‘ (سورج چمک رہا تھا) یہاں "مشرقة" حال ہے جو سورج کی حالت کو بیان کرتا ہے اور عامل "طلعت" ہے۔
احوال الحال المفردة:
اصل میں حال ایک نکرہ، مشتق اور منتقلی صفت ہوتی ہے، جیسے: "جاء زيد راكبا" (زيد سوار ہو کر آیا)۔
حال صفت ثابت بھی ہو سکتی ہے، جیسے: "خلق الانسان ضعيفا" (انسان کمزور پیدا ہوا)۔
حال کبھی کبھی معرفہ بھی ہوتی ہے، جیسے: "جاء أخوك وحده" (تمہارا بھائی اکیلا آیا)۔
حال کبھی کبھی جامد ہوتی ہے، اور وہ پانچ حالتوں میں ہو تی ہے جیسے:
1. تشبیہ میں، جیسے: "جرى سليم غزالا" (سلیم نے غزال کی طرح دوڑ لگائی)۔
2. مفاعلہ میں، جیسے: "بايعته يدا بيد" (میں نے اس سے ہاتھ ملایا)۔
3. ترتیب میں، جیسے: "ادخلوا رجلا رجلا" (آئیں، ایک ایک کر کے داخل ہوں)۔
4. تفصیل میں، جیسے: "قرأت الكتاب باباً باباً" (میں نے کتاب کو دروازے دروازے پڑھا)۔
5. تسعیر میں، جیسے: "اشتريت الثوب ذراعا بدرهم" (میں نے کپڑا ایک درہم میں خریدا)۔
انواع الحال:
حال مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہے:
1. اسم ظاهر: جیسے: "جاء زيد ضاحكاً" (زيد ہنستے ہوئے آیا)۔
2. جملہ خبریہ: چاہے وہ اسمّیہ ہو یا فعلیہ، جیسے:
- "استيقظت والشمس طالعة" (میں بیدار ہوا اور سورج چمک رہا تھا)
- "وسار الطفل يبكي" (اور بچہ روتا ہوا چلا گیا)
جملے میں حال کو صاحب حال کے ساتھ ایک رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، جو "واو" یا ضمیر کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
حذف عامل الحال:
اگر کوئی شواہد ہوں تو عامل الحال کو حذف کیا جا سکتا ہے، جیسے: - ماشياً(میں چلتا ہوا)
جب پوچھا جائے: کیف جئت ؟"(تم کیسے آئے)؟"
حذف عامل الحال بعض صورتوں میں لازمی ہو سکتا ہے، جیسے:
1. جب مقدار میں اضافہ یا کمی واضح ہو، جیسے: "تصدق بدرهم فصاعداً" (ایک درہم سے بڑھ کر صدقہ دو)۔
2. اگر یہ توبيخ کے لئے ہو، جیسے: "أقاعداً وقد قام الناس؟" ای توجد قائما (کیا تم بیٹھے ہو جبکہ لوگ کھڑے ہیں؟)۔
اور عامل حال کو سماعی طور پر بھی حذف کیا جاسکتا ہے ، جیسے: ھنیئا لک : ای ثبت لک الخیر ھنیئا
تعدد الحال:
صاحب الحال اگر مفرد ہو تو حال کا تعدد جائز ہے، جیسے: - جاء زيد راكبا ضاحكا (زيد ہنستے ہوئے سوار ہوا)
یہاں "راكبا" اور "ضاحكا" دونوں حال ہیں جو زيد کی حالت کو بیان کر رہے ہیں۔
اگر صاحب حال متعدد ہو تو بھی حال کا تعدد ہو سکتا ہے، جیسے: - لقيت هندا مصعدا منحدرة (میں نے ہند کو اوپر آتے ہوئے پایا)
یہاں "مصعدا" حال ہے جو ضمیر "ت" کی حالت کو بیان کر رہا ہے، اور "منحدرة" حال ہے جو "ہند" کی حالت کو بیان کر رہا ہے۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۲۱
الحال
شبه المفعول والظرف
شبه الحال بالمفعول من حيث أنها فضلة مثله جاءت بعد مضي الجملة. ولها بالظرف شبه خاص من حيث أنها مفعول فيها ومجيئها لبيان هيأة الفاعل أو المفعول وذلك قولك ضربت زيداً قائماً تجعله حالاً من أيهما شئت وقد تكون منهما ضربة على الجمع والتفريق كقولك لقيته راكبين. قال عنترة:
متى ما تلقني فردين ترجف روانف أليتيك وتستطارا
ولقيته مصعداً ومنحدراً. عوامل الحال والعامل فيها إما فعل وشبهه من الصفات أو معنى فعل كقولك فيهاب زيد مقيماً، وهذا عمرو منطلقاً، وما شأنك قائماً، وما لك واقفاً، وفي التنزيل: " وهذا بعلي شيخاً" ، و "فما لهم عن التذكرة معرضين"؛ وليت ولعل وكأن ينصبها أيضاً لما فيها من معنى الفعل، فالأول يعمل فيها متقدما ومتأخراً ولا يعمل فيها الثاني إلا متقدماً. وقد منعوا في مررت راكباً بزيد أن يجعل الراكب حالاً من المجرور.
وقد يقع المصدر حالاً كما تقع الصفة مصدراً في قولهم قم قائماً، وقوله: ولا خارجاً من فيّ زور كلام وذلك قتلته صبراً، ولقيته فجاءۃ وعياناً وكفاحاً، وكلمته مشافهة، وأتيته ركضاً وعدواً ومشياً، وأخذت عنه سمعاً، أي مصبوراً ومفاجئاً ومعايناً.
وكذلك البواقي وليس عند سيبويه بقياس وأنكر اتانا رجلة وسرعة، وأجازه المبرد في كل ما دل عليه الفعل. والأسم غير الصفة والمصدر بمنزلتها في هذا الباب، تقول هذا بسراً أطيب منه رطباً، وجاء البر قفيزين وصاعين، وكلمته فاه إلى في، وبايعته يداً بيد وبعت الشاء شاة ودرهما، وبينت له حسابه بابا بابا .
تنكير الحال ومن حقها أن تكون نكرة، وذو الحال معرفة. وأما ارسلها العراك ومررت به وحده، وجاوا قضهم بقضيضهم، وفعلته جهدك وطاقتك، فمصادر قد تكلم بها على نية وضعها في موضع مالا تعريف فيه، كما وضع فاه إلى فيّ موضع شفاهاً، وعنى معتركة منفرداً وقاطبة وجاهداً. ومن الأسماء المحذوّ بها حذو هذه المصادر قولهم مررت بهم الجماء الغفير.
باقی عبارت پڑھیں (9)
وتنكير ذي الحال قبيح إلا إذا قدمت عليه كقوله: لعزة موحشاً طلل قديم
الحال المؤكدة والحال المؤكدة هي التي تجيء على إثر جملة عقدها من اسمين لا عمل لهما لتوكيد خبرها وتقرير مؤداه ونفي الشك عنه، وذلك قولك زيد أبوك عطوفاً، وهو زيد معروفاً، وهو الحق بيناً، ألا تراك حققت بالعطوف الأبوة، وبالمعروف والبين أن الرجل زيد وأن الأمر حق، وفي التنزيل: " وهو الحق مصدقاً لما بين يديه" وكذلك أنا عبد الله آكلا كما يأكل العبيد فيه تقرير للعبودية وتحقيق لها. وتقول أنا فلان بطلاً شجاعاً وكريما جواداً فتحقق ما أنت متسم به وما هو ثابت لك في نفسك، ولو قلت زيد أبوك منطلقاً أو أخوك أحلت إلا إذا أردت التبني والصداقة. والعامل فيها أحق أو أثبت مضمراً.
الجملة الحالية:
والجملة تقع حالاً. ولا تخلو من أن تكون اسمية فعلية فإن كانت اسمية فالواو إلا ما شذّ من قولهم كلمته فوه إلى في، وما عسى ان يعثر عليه في الندرة. وأما لقيته عليه جبة وشي، فمعناه مستقرة عليه جبة وشي. وإن كانت فعلية لم تخل من أن يكون فعلها مضارعاً أو ماضياً. فإن كان مضارعاً لم يخل من أن يكون مثبتاً أو منفياً. فالمثبت بغير واو: وقد جاء في المنفي الأمران. وكذلك في الماضي. ولا بد معه من قد ظاهرة أو مقدرة.
ويجوز إخلاء هذه الجملة عن الراجع إلى ذي الحال إجراء لها مجرى الظرف لانعقاد الشبه بين الحال وبينه، تقول أتيتك وزيد قائم، ولقيتك الجيش قادم، وقال:
وقد أغتدي والطير وكناتها بمنجرد قيد الأوابد هيكل
إضمار عامل الحال:
ومن انتصاب الحال بعامل مضرم قولهم للمرتحل راشداً مهدياً ومصاحباً معاناً بإضمار إذهب وللقادم مأجوراً مبروراً أي رجعت. وإن أنشدت شعراً أو حدثت حديثاً قلت صادقاً، بإبضمار قال. وإذا رأيت من يتعرض لأمر قلت متعرضاً لعنن لم يعنه، أي دنا منه متعرضاً. ومنه أخذته بدرهم فصاعداً أو بدرهم فزائداً ، أي فذهب الثمن صاعداً أو زائداً. ومنه أتميميا مرة وقيسياً أخرى، كأنك قلت أتحول. ومنه قوله تعالى : " بلى قادرين " أي نجمعها قادرين.
تمیز دیگر کتب میں5
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۹
التمييز: تمیز
التَّمْيِيزُ: اِسْمٌ يُذْكَرُ لِبَيَانِ الْمُرَادِ مِنِ اسْمٍ سَابِقٍ يَصْلُحُ لأَنْ تُرَادَ بِهِ أَشْيَاءُ كَثِيرَةٌ.
الْمُمَيَّزُ قِسْمَانِ مَلْفُوظٌ وَمَلْحُوظٌ، فَالْأَوَّلُ مَا يُلْفَظُ بِهِ فِي الْجُمْلَةِ كَأَسْمَاءِ الْوَزْنِ، وَالْكَيْلِ، وَالْمِسَاحَةِ، وَالْعَدَدِ، وَالثَّانِي مَا يُفْهَمُ مِنَ الْجُمْلَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا.
تمیز وہ اسم ہے جو اسم سابق سے مطلوبہ معنی کی تعیین کیا کرتا ہے۔
ممیز کی دو قسمیں ہیں: ملفوظ اور ملحوظ ۔ ملفوظ وہ ہے جو جملہ میں مذکور ہو جیسے وزن ، پیمانہ ، پیمائش اور عدد کے اسماء اور ملحوظ وہ ہے جو ذکر ہوئے بغیر جملہ کے سیاق سے سمجھا جا سکے۔
الامثلة
باقی عبارت پڑھیں (60)
(۱) اِشْتَرَيْتُ رِطلاً بَلَحًا .
(۲) غَلتِ الأَرْضُ إِرْدَبًا قَمْحًا .
(۳) باعنِي التاجرُ ذراعًا حَرِيراً .
( ٤ ) في الحقْلِ عِشْرُونَ بَقَرَةٌ .
(۵ ) طَابَ المكانُ هواءً
(٦) فَاضَ القَلْبُ سُرُوراً
(۷) الْعِنَبُ من الذِّ أَنْوَاعِ الْفَاكِهَةِ طَعۡمًا .
(۸) القاهرة أكثرُ مِنَ الْإِسْكَنْدَريَّةِ سُكاناً .
؎
حكم التمييز
(۱) حُكْمُ تَمْیيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمَسَاحَةِ: وزن پیمانه اور پیمائش کی تمیز کا حکم
يَجُوزُ فِي تَمْيِيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمِسَاحَةِ أَنْ يُنْصَبَ، وَأَنْ يُجَرَّ بِالإِضَافَةِ أَوْ بِمِنْ.
وزن ، پیمانہ اور مساحت کی تمیز منصوب ہوسکتی ہے اور اضافت یا من کی وجہ سے مجرور بھی آسکتی ہے۔
الامثلة
(۱) شَرِبْتُ رِطْلًا لَبَنَا (أَو) رِطْلَ لَبَنِ (أَو) رِطلًا مِنْ لَبَنِ
(٢) أَوْ قَدْتُ قِنْطَارًا فَحْمًا (أَو) قِنْطَارَ فَحمٍ (أَو) قِنْطَارًا مِنْ فَعْمِ
(۳) عِنْدِي مِثْقَالَ ذَهبًا (أَو) مِثْقَالُ ذهبٍ(أَو) مِثْقَالُ مِنْ ذَهَبٍ
(۴) أكل الحِصَانُ حفنَة شَعِيرًا.(أَو) حَفْنَةَ شَعيرٍ(أَو) حَفْنَةٌ مِنْ شَعيرٍ
(٥) شَرِبْتُ كُوباً ماءً .(أَو) كوبَ ماءٍ(أَو) كوبًا مِنْ مَاءٍ
(۶) اشْتَرَيْتُ قَدَحًا سِمْسِمًا. (أَو) قدحَ سِمْسِمٍ(أَو) قدحًا من سِمْسِمٍ
(۷) بعتُهُ ذِرَاعًا حريراً (أَو) ذراعَ حريرٍ(أَو) ذراعًا من حريرٍ
(۸) لا أَمْلِكُ شِبرًا أَرْضًا(أَو) شِبرَ أَرْضٍ (أَو) شِبْرًا مِنْ أَرْضٍ
(۹) زَرَعتُ فَدَّانَا أَرزا (أَو) فَدَّانَ أَرُزٍ(أَو) فَدَّانًا مِنْ أَرُزٍ
(۲) حُكْمُ تَيزِ الْعَدَدِ: عدد کی تمیز کا حکم
تَميِيزُ العَدَدِ يَجِبُ جَرُّهُ جَمْعًا مَعَ الثَّلَاثَةِ وَالعَشْرَةِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَنَصْبُهُ مُفْرَدًا مَعَ أَحَدَ عَشَرَ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَجَرُّهُ مُفْرَدًا مَعَ الْمِائَةِ وَالأَلْفِ.
تمیز العدد کو تین سے دس تک کے عدد میں جمع مجرور ، گیارہ سے ننانوے تک کے ساتھ مفرد منصوب اور سو اور ہزار کے ساتھ مفرد مجرور لانا واجب ہے۔
الامثلة
(۱) غَرَسْتُ ثَلَاثَ شَجَرَاتٍ
(٢) أكَلْتُ أَرْبَعَ تُفاحاتٍ .
(۳) اِشْتَرَيْتُ خَمْسَةَ أَقْلَامٍ .
(٤) في الأسبوع سَبْعَةُ أَيَّامٍ .
(٥) فِي الْمَسْجِدِ عَشْرَةُ أَعْمِدَةٍ
(۱) رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ فَارَسًا .
(۲) فِي الشَّجَرَةِ تسعةَ عَشَرَ غُصْنًا.
(۳) فى الشهرِ ثلاثونَ يَوْمًا
( ٤ ) في الشجرة إِحْدَى وَأَرْبَعُون برتقالةً..
( ۵ ) فِي البُسْتَانِ تِسْعُ وتسمون نخلةً.
(۱) في القنطارِ مائةُ رطلٍ . .
(۲)رکب السفینۃُ مائتَا مسافرٍ
(۳) قطع القطارُ خمسمائةِ ميلٍ
( ٤ ) في الحديقةِ ألفُ شجرةٍ .
( ۵ ) مِساحةُ الدَّارِ الْفَا ذِرَاعٍ .
(۶) في ساحةِ القِتالِ ثلاثةُ آلافِ جُنْدِيٍّ.
(۳) حُكْمُ التَّمِیۡزِ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظاً: تمیز کا حکم جب ممیز ملحوظ ہو(غیر مذکور)
يُنْصَبُ التَّمْيِيزُ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظًا.
اگر ممیز ملحوظ ہو (مذکور نہ ہو) تو تمیز ہمیشہ منصوب ہو گی۔
الامثلة
(۱) حَسُنَ الغلامُ كلاماً .
(۲) اعْتَدَلَ الرَّجُلُ قامةً .
(۳) الْفِيلُ اكبرُ من الجملِ جسماً .
(٤) الحَرِيرُ أغلى من القطنِ قيمةً
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۸،۹
تمیز
تمیز ایک ایسا اسم ہے جو اپنے ماقبل کے اسم سے ابہام دور کرکے اس کے معنی مراد کو متعین کرتا ہے جیسے اشتریتُ رِطُلا زيتا اور عِنْدِي عَشَرَۃَ أَقلَامٍ
اسماء کیل، وزن، مساحت اور عدد سب کے سب اپنے اندر ابہام رکھتے ہیں مثلا رطل ایک وزن کا نام ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہ ایک رطل کیا چیز ہے تیل، گھی، شہد یا کچھ اور ؟ اسی طرح عشرہ ایک عدد کا نام ہے اس سے مراد دس قلم بھی ہو سکتے ہیں۔ اور دس کوئی دیگر چیز بھی، پس جو اسم بعد میں آکر ان کے معنی کی مراد کو متعین کرتا ہے نحویین کی اصطلاح میں اسے تمیز کہتے ہیں۔ جیسے زیتا اور اقلام او پر کی دونوں مثالوں میں ۔
تمیز کے مقابلہ میں جس اسم کے اندر ابہام پایا جاتا ہے اسے ”ممیز“ کہتے ہیں ممیز دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ممیز ملفوظ اور دوسرا ممیز ملحوظ ۔
(۱) ممیز ملفوظ وہی ہے جس کا ذکر جملہ کے اندر الفاظ میں موجود ہو جیسے اوپر کی مثالوں میں رطل اور عشرہ ۔
(۲) ممیز ملحوظ سے مراد یہ ہے کہ جملہ کے اندر ممیز الفاظ میں مذکور تو نہ ہومگر خود جملہ کا ابہام اس امر کا متقاضی ہو کہ اس کی تمیز لائی جائے۔ جیسے فُلانٌ أَكْثَرَ مِنی مالاً یہاں اگر مال نہ کہا جائے تو یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ فلاں شخص آپ سے کس چیز میں یا کس لحاظ سے زیادہ ہے۔
ممیز ملحوظ کی تمیز :
باقی عبارت پڑھیں (69)
ممیز جب ملحوظ ہوتا ہے تو تمیز ہمیشہ منصوب ہوتی ہے جیسے "مَحْمُودٌ اكْبَرُ مِنِّي سِنَّا، طَابَ الْمَكَانُ هَوَاءً، اِمْتَلا الِْاناءُ مَاءً، تَهَلَّلَ وَجُهُهُ بشْرًا
وزن کیل اور مساحت کی تمیز :
وزن کیل اور مساحت کی تمیز میں حسب ذیل صورتیں جائز ہیں:
(الف) یہ کہ منصوب ہو جیسے اشتریت ذراعا ثوبا
(ب) یه که مجرور باضافت ہو جیسے اشتریت ذراعَ ثوبٍ
(ج) یہ کہ مجرور بحرف جار "من" ہو جیسے اشتریت ذراعا من ثوب۔
عدد کی تمیز :
عدد کی تمیز حسب ذیل طریقے پر لائی جاتی ہے۔
(1) ثلثۃ سے عشر تک کی تمیز جمع اور مجرور لائی جاتی ہے۔ جیسے: ثلاثۃَ أقلامٍ ، و عشرۃَ رِجالٍ
(۲) اَحَدَ عَشَر سے تسعة و تسعون تک کی تمیز واحد اور منصوب ہوتی ہے۔ جیسے اَحَدَ عَشَرَ كوكبا وتسعة وتسعون رَجُلاً
(۳) مائة اور الف کی تمیز واحد اور مجرور آتی ہے جیسے مائة رجلٍ والف رَجُلٍ
عدد کا حکم:
عدد کی تمیز سب سے مشکل ہے اور اس سے زیادہ مشکل عدد کی تذکیر و تا نیث کاحکم ہے اس لئے اسے اچھی طرح یاد کر رکھنا چاہئے۔
(1) عدد کے الفاظ ثلٰثۃ سے تسعة تک تذکیر و تانیث میں معدود کے برعکس ہوتے ہیں ۔ خواہ عدد مفرد ہو خواہ مرکب ہو ۔ خواہ معطوف و معطوف علیہ ہو۔
(الف) مفرد کی مثال جیسے ثلاثۃ اقلامٍ اور ثلاث غرفاتٍ اسی طرح تسعۃ تک
(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثۃ عشر قلما اور ثلث عشر ۃغرفةً
(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ثلثۃ و عشرون قلما اور ثلث و عشرون غرفة
(۲) عشرۃ ( کی تذکیر و تانیث ) کا قاعدہ یہ ہے کہ مفرد ہو تو معدود کے برعکس ہوتا ہے اور مرکب ہو تو معدود کے موافق ہوتا ہے۔
(الف) مفرد کی مثال جیسے عشرۃ رجال اور عشر غرفات (معدود کے برعکس)۔
(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثة عشر قلما اور ثلث عشرة غرفة (معدود کے مطابق )۔
(۳) واحد اور اثنان تینوں صورتوں میں معدود کے مطابق رہتے ہیں۔
(الف) مفرد کی مثال ہے [ رجل واحد اور غرفة واحدة، رجلان اثنان اور غرفتان اثنتان] واضح رہے کہ واحد اور اثنان کی تمیز نہیں آتی۔
(ب) مرکب کی مثال جیسے [ احد عشر قلما اور احدى عشرة غرفة، اثنا عشر قلما اور اثنتا عشرة غرفة ]
(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ہے، [ احد و عشرون قلما اور احدى و عشرون غرفة ، اثنان وعشرون قلما و اثنتان و عشرون غرفة]
(۴) عشرہ کے سوا باقی تمام عقود ( دہائیاں) عشرون و ثلثون وغیرہ تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔
(۵) اسی طرح مائہ اور ألف بھی تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔
عدد کا اعراب:
احد عشر سے تسعة عشر تك باستثناء اثنا عشر فتحہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ باقی تمام اعداد بہ شمول اثنا عشر معرب ہیں۔ عامل کے مطابق ان کا اعراب پڑھا جاتا ہے۔
كنايات العدد:
کم، کائن اور کذا کے ذریعہ بھی عدد کا کنایہ کرتے ہیں۔ اس کے احکام حسب ذیل ہیں۔
(1) کم استفہامیہ کی تمیز مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے کہ کم تلميذا في صفك؟ تمہارے درجے میں کتنے طلباء ہیں؟۔ لیکن کم پر جب کوئی حرف جار داخل ہو جائے تو تمیز مجرور ہو جاتی ہے۔ بکم روبية ( کتنے روپے میں)؟ منذ كم يوم؟ ( کتنے دن سے)؟ اگر چہ اصل قاعدہ کی رو سے بکم روبيةً اور منذکم یوما منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں۔
(۲) کم خبریہ کی تمیز مفرد اور جمع دونوں لکھ سکتے ہیں۔ مگر ہر حال میں مجرور رہے گی جیسے کم کتبٍ قرأت یا کم کتابٍ قرأت
( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں) کبھی کم خبریہ کی تمیز پر من حرف جار بھی داخل کر دیتے ہیں۔ جیسے کم من كتاب قرأته
( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں)
(۳) کاین کی تمیز من حرف جار کے ساتھ ہمیشہ مجرور آتی ہے۔ جیسے کاین من طالب لا يجتهد في القرأة ( کتنے طالب علم پڑھنے میں محنت نہیں کرتے )
(۴) كذا کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے اَعْطَيْتُهُ كَذَا درھما ( میں نے اسے اتنے درہم دیئے)
فائدہ:
کم خبریہ اور کأین سے صرف کثیر اشیاء کی طرف کنایہ کیا جاتا ہے اور کذا سے قلیل و کثیر دونوں کی طرف۔
عدد وصفی و سنین (عدد صفی اور سال)
عدد وصفی جس سے اعداد کی ترکیب معلوم ہوتی ہے۔ اسم فاعل کے وزن پر حسب ذیل طریقے سے لکھتے ہیں ۔
الدرس الأول الدرس العاشر ،القصة الأولى القصۃ العاشرة
الدرس الحادي عشر الدرس التاسع عشر ،القصة الحادية عشرة القصة التاسعة عشرة
الدرس العشرون والثلاثون والتسعون الخ ، القصة العشرون والثلاثون والتسعون الخ
الدرس الحادي والعشرون والتاسع والتسعون ،القصة الحادية والعشرون والتاسعة والتسعون
الدرس المائة والدرس الألف ، القصة المائة والقصة الألف
بیچ کے اعداد اختصار کی غرض سے حذف کر دیئے گئے ہیں ان مثالوں پر غور کرنے سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
(1) تذکیر و تانیٹ اور تعریف و تنکیر میں عدد اپنے موصوف کے مطابق ہے۔
(۲) عدد مرکب ( یعنی ا سے ۱۹ تک ) اور عدد معطوف و معطوف علیه ( یعنی ۲۱، ۲۲، ۲۳ وغیرہ) میں صرف پہلاہی جز اسم فاعل کے وزن پر ہے دوسرا جزا اپنے حال پر باقی ہے۔
(۳) عدد مرکب میں ال صرف پہلے ہی جز پر ہے، مگر عدد معطوف و معطوف علیہ دونوں جز پر۔
(۴) العاشر کے سوا باقی دہائیوں پر صرف ”ال‘ ہی داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ انہیں اسم فاعل کے وزن پر نہیں ڈھالا جاسکتا اسی طرح تذکیر و تانیث میں بھی وہ یکساں رہتے ہیں۔
فائدہ:
اوپر کے نقشہ میں اسم فاعل کے وزن پر جو اعداد لکھے گئے ہیں ان کا ترجمہ پہلا، دوسرا، پانچواں وغیرہ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ تینوں، چاروں پانچوں وغیرہ سے معانی کو ادا کرنا چاہیں تو اس کے لئے عدد اسم فاعل کے وزن پر نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ اصلی صورت میں باقی رکھتے ہوئے صرف ”ال" داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ جیسے تینوں بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا قال الاخوان الثلاثہ لابیھم۔
سنین:
تاریخ و سنین حسب ذیل طریقہ پر لکھتے پڑھتے ہیں۔
(1) ولد فلان في التاسع عشر من شهر شوال سنة سبع و خمسين و.سبع مائة من الهجرة
(۲) توفي فلان في الخامس والعشرين من شهر ربيع الأول سنة احدى و ستين و ثلث مائة والف من الهجرة
(۳) استقلت الهند من ايدى الانكليز سنة سبع و اربعین و تسع مائة بعد الألف من الميلاد
نوٹ
عربی میں سنۃ چونکہ مونث ہے اس لئے اس کے بعد واحد اور اثنان مؤنث لکھے جاتے ہیں۔ جیسے اوپر کی دوسری مثال میں اور ثلث سے تسع تک مذکر
(۲) عرب مورخین حسب ذیل طریقہ پر تاریخیں لکھتے ہیں۔ پہلی تاریخ کے لئے للیلة خلت من شهر کهذا ۔ اسی طرح چودہ تاریخ تک جیسے لاربع عشرة خلون من شهر كذا ۔ پندرہویں تاریخ کولنصف شهر كذا اور سولہویں کو لاربع عشرة ليلة بقين من شهر كذا اى طرح اٹھائیسویں تک انتیسویں تاریخ کو لليلة بقيت من شهر كذا اور تیسویں کو لآخر يوم من شهر كذا لکھتے ہیں۔
(۳) اعداد دونوں طرف سے پڑھے جاتے ہیں مگر زیادہ فصیح یہ ہے کہ دائیں طرف سے پڑھا جائے جیسے ” ۱۵۹۷‘ سال کو سبع و تسعون و خمس مائة و الف سنۃ۔ اگرچہ الف و خمس مائة وسبع و تسعون سنة بھی لکھ پڑھ سکتے ہیں۔
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۸
فصل التمييز
التمييز هو اسم نكرة منصوب غالبا متضمن معنى "من" يذكر لرفع الإبهام الموجود في المميز، نحو: عندي عشرون قلما (فلو قلت: عندي عشرون، وسكت لم يتضح المراد، لأن كلمة عشرون يوجد فيها الإبهام، تصلح لأن يراد بها أشياء كثيرة، وعند ما جيء بالتمييز قلما رفع تلك الإبهام، وحدد المراد بها)وتسمى كلمة "عشرون" مميزا، وتسمى كلمة "قلما" تمييزا.
المميز نوعان:
(۱) مميز ملفوظ أي مذكور في الكلام، ويكون المميز الملفوظ:
اسم عدد، نحو: عندي عشرون كتابا
مادل على مقدار :
من وزن، نحو: عندي جرام ذهبا
باقی عبارت پڑھیں (192)
أوكيل، نحو: عندي صاح قمحا
أو مساحة، نحو: لي فرسخ أرضا
أو مقياس، نحو: عندي مترخزا
أو ما دل على ما يشبه المقدار من وزن، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا، ومن كيل، نحو: عندي حفنة قمحا، أو مساحة، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا أو مقياس، نحو: عندي مديدك خزا.
أو ما دل على مماثلة، نحو: لي مثلك صاحبا، أو على مغايرة نحو : ليس لي غير الله معينا.
وتمييز هذا المميز يسمى تمييز الذات" أو "تمييز المفرد"
(ب) مميز ملحوظ، أي لا يكون المميز ذاتا ملفوظا مذكورا في الكلام كما في النوع السابق، بل يكون أمرا معنويا ملحوظا غير مذكور في اللفظ، وذلك الأمر المعنوى الملحوظ هو "النسبة الموجودة في الجملة، فأحيانا يوجد الإبهام في هذه النسبة. ويؤتي بالتمييز لرفعه نحو ازداد المتعلم أدبا في هذه الجملة لا يوجد الإبهام والغموض في الذات، بل في نسبة الازدياد إلى المتعلم، وذلك الإبهام أنه لا يتضح المراد بالازدياد، أهو في علمه أم في أدبه أم في ماله، أم في جسمه، فإذا قلبك أدبا ارتفع الإبهام والغموض عن النسبة، واتضح المراد بأنه ازداد في الأدب)
وتمييز هذا المميز يسمى "تمييز النسبة" أو تمييز الجملة" وغالبا يكون هذا التمييز محولا
(۱) عن المبتدأ، نحو: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة، تمييز النسبة منصوب، يرفع الإبهام الموجود في نسبة الكثرة إلى المدرس، وأصل الجملة خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب)
(ب) عن الفاعل، نحو: طاب محمد نفسا (نفسا تمييز النسبة منصوب يرفع الإبهام الموجود في نسبة "طاب إلى"محمد" وأصل الجملة: طابت نفس محمد )
(ج) عن المفعول، نحو: غرست الأرض شجرا (شجراء تمييز النسبة منصوب، يرفع الإيهام الموجود في نسبة "غرست" إلى "الأرض" وأصل الجملة غرست شجر الأرض)
ناصب التمييز
الناصب لتمييز المفرد هو ذلك الاسم المبهم ( المميز) وإن كان جامدا، لأنه شبيه باسم الفاعل، ووجه الشبه أن الاسم المبهم ( المميز) يطلب التمييز حتى يكتمل المعنى ويتضح كما أن اسم الفاعل يطلب فاعله حتى يكتمل المعنى ويتضح، أي: كل منهما وان محتاج إلى شئ آخر لاكتمال المعنى.
والناصب لتمييز الجملة هو ما في الجملة من (فعل) كالامثلة السابقة، أو (شبهه) نحو: سعد كريم عنصرا.
التمييز وحكم إعرابه:
(ا) تمييز الملحوظ (أي تمييز النسبة ) يكون دائما منصوبا كما في الأمثلة السابقة.
(ب) تمييز الملفوظ: (أي تمييز الذات) يكون منصوبا، كما في الأمثلة السابقة، ويجوز جره بالإضافة، أو بـ "من" فيما عدا تمييز العدد، نحو: عندي جرام ذهبا و عندى جرام ذهب وعندي جرام من ذهب.
(ج) أما تمييز العدد فيكون منصوبا، أو مجرورا بالإضافة على الوجه التالي:
تمييز العدد من 3 إلى ١٠ يكون جمعا مجرورا بالإضافة، نحو: جاء أربعة رجال الرجال تمييز مجرور بإضافة "أربعة إليه، وعلامة الجر الكسرة )
تمييز العدد من ۱۱ إلى ۹۹ يكون مفردا منصوبا نحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا طالبا تمييز منصوب وعلامة نصبه الفتحة )
تمييز المائة والألف ومضاعفات كل منهما يكون مفردا مجرورا بالإضافة نحو: حضر الحفل مائة رجل، أو ألف رجل رجل تمييز مجرور بإضافة "مائة" أو "ألف إليه)
صور العدد :
يأتي العدد على صور مختلفة، فيكون مفردا من ١ إلى ١٠ أو مركبا مع العشرة من ١١ إلى ١٩، أو معطوفا عليه ومعطوفا من ٢١ إلى ٩٩ . وتسمى الأعداد ۲۰ ، ۳۰ ، ۴۰ ، ۶۰۰۵۰، ۷۰، ۹۰،۸۰ ألفاظ العقود.
العدد (المميز ) من حيث الإعراب والبناء
جميع الأعداد معربة، أي: ترفع أو تنصب أو تجر حسب موقعها في الجملة سوى الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون دائما مبنية على فتح الجزأين باستثناء العدد ١٢ (اثنا عشر، اثنتا عشرة) فيعرب الجزء الأول منه إعراب المثنى، ويبنى الجزء الثاني على الفتح نحو جاء أربعة رجال (أربعة : فاعل مرفوع بالضمة ورأيت أربعة رجال، (أربعة: مفعول به منصوب المفتحة) ونظرت إلى أربعة رجال (أربعة مجرور بحرف الجر، وعلامة جره الكسرة) ونحو: جاء أربعة وعشرون رجلا (أربعة: فاعل مرفوع بالضمة، وعشرون معطوف عليه مرفوع وعلامة رفعه الواو) ونحو: جاء عشرون رجلا (عشرون : فاعل مرفوع وعلامة رفعه الوار) ورأيت عشرين رجلا (عشرین مفعول به منصوب وعلامة نصبه الياء) ونظرت إلى عشرين رجلا (عشرين مجرور بحرف الجر وعلامة جره الياء) ونحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا، وفي الفصل ثلاث عشرة طالبة . ( ثلاثة عشر أو ثلاث عشرة كلاهما مبنیان على فتح الجزئين في محل رفع مبتدأ)
العدد من حيث التذكير والتأنيث
(۱) العددان ٢،١ يوافقان المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانا مفردين، أم مركبين، أم معطوفا عليهما.
وللعدد " ۱ " لفظان وهما: واحد ومؤنثه واحدة، وأحد ومؤنثه إحدى.
أما العدد " ۲" فألفاظه : اثنان واثنتان في حالة الرفع، واثنين واثنتين في حالتي النصب والجر، وتحذف النون إذا كان العدد ٢" مركبا مع العشرة.
أمثلة ما سبق بالقرية مدرسة واحدة بعض الشهور واحد وثلاثون يوما، رأي يوسف أحد عشر كوكبا، في الفصل إحدى عشرة بنتا، لي أخوان اثنان وأختان اثنتان، عمر أختي اثنتا عشرة سنة وعمري اثنتان وعشرون سنة، رأيت اثنين وثلاثين طالبا، واثنتين وثلاثين طالبة.
(ب) الأعداد من ۳ إلى ۹ تخالف المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانت مفردة أو مركبة أو معطوفا عليها وعند تحديد تذكير المعدود وتأنيثه ينظر دائما إلى مفرده، فمثلا ۳ مرفوعات تكتب: ثلاثة مرفوعات: لأن مفرد المعدود مذكر وهو مرفوع)
أمثلة ماسبق في الفصل أربعة طلاب، وفي الحافلة أربع طالبات ونجح ثلاثة عشر طالبا كما نجحت ثلاث عشرة طالبة، وفي المدرسة سبعة وثلاثون طالبا وسبع وثلاثون طالبة.
(ج) العدد ١٠ يخالف المعدود في التذكير والتأنيث إذا كان مفردا ويوافقه إذا كان مركبا. والأصل أن تكون "الشين" في
( عشر) مفتوحة، ويجوز تسكينها إذا اتصلت به التاء (عشرة)
العدد ١٠ يكون معربا إذا كان مفردا، ويكون دائما مبنيا على الفتح إذا كان مركبا.
أمثلة ما سبق: حضر عشرة طلاب ،حضرت عشر طالبات، مكثنا في دلهي أربعة عشر يوما وخمس عشرة ليلة.
(د) ألفاظ العقود ( من (۲۰) إلى (۹۰) ولفظ مائة وألف ومضاعفاتهما لا تختلف صيغها مع المعدود تذكيرا وتأنيثا سواء أكانت . مفردة أو معطوفة.
أمثلة ما سبق في الفصل عشرون طالبا وعشرون طالبة، وفي المدرسة مائتان وعشرون طالبا، ومائتان وعشرون طالبة.
تعريف العدد بـ "ال":
إذا أريد تعريف العدد بـ "ال"
فإن كان مفردا أدخلت "ال" على الاسم الذي يلي العدد (أي المضاف إليه) مثل جاء ستة الطلاب. وإن كان مركبا أدخلت "ال" على صدره (أي على جزئه الأول) مثل: قضينا الخمسة عشر يوما بدلهي.
وإن كان معطوفا عليه ومعطوفا أدخلت "ال" على الجزأين مثل: قرأت الخمسة والعشرين كتابا.
( وعند تعريف العدد بـ "ال" أيضا تطبق قواعد تذكير العدد وتأنيثه وإعرابه وبنائه السابقة)
صوغ العدد على وزن "فاعل" للدلالة على الترتيب:
إذا صيغ العدد على وزن فاعل، للدلالة على الترتيب فانه يطابق المعدود الموصوف في التذكير والتأنيث في جميع حالاته ويكون معربا فيما عدا الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون مبنية على فتح الجزأين.
أمثلة ما سبق: أذهب إلى الكلية في الساعة الثامنة والنصف وقرأت المقالة الرابعة في الباب الثالث من الكتاب ترتيب هذا الطالب الثالث والعشرون، و قرأت الصفحة الثالثة والعشرين، القرن التاسع عشر قرن الاختراعات، مضت الليلة الرابعة عشرة من الشهر التاسع عشر ميني على فتح الجزئين لفظا وفي محل رفع الصفة المرفوعة للقرن، وهكذا الرابعة عشرة
كنايات العدد:
هناك كلمات ليست أعدادا، ولكنها تدل : على معنى العدد، ولذا فهي تسمى كنايات للعدد، وأهمها: كم الاستفهامية، كم الخبرية، كذاء ،كأين ،بضع ، نيف (سنتاني امداد بنائها وإعرابها في مبحث الكنايات في باب المبني)
أما أحكام تمييزها فهي كما يلي:
(ا) كم الاستفهامية: يسأل بها عن عدد، وتحتاج إلى جواب، وتمييزها مفرد منصوب بـ كم" (وهو الاسم الي وقد سبق سبب عمله قبل قليل في "ناصب التمييز ) مثل : كم كتابا في المكتبة.
ويجوز جر تمييزها إذا دخلت عليه "من" وحينئذ تمتاز عن الخبرية بقرينة المقام نحو: كم من رجل لقيته ؟ . يجوز حذف تمييزها، نحو: كم مالك، أي: كم درهما مالك.
(ب) كم الخبرية: كم الخبرية تفيد الإخبار بكثرة العدد، ولا تحتاج إلى جواب وتمييزها يكون مفردا نكرة مجرورا، أو جمعا نكرة مجرورا بإضافة "كم" إليه، أو بحرف الجر من مثل : كم كتاب في المكتبة، أو كم من كتاب في المكتبة، أي كتب كثيرة في المكتبة.
(ج) كذا: تستعمل كذا" للدلالة على التكثير، وتأتي مفردة، أو مكررة أو معطوفة، ويكون تمييزها منصوبا مفردا أو جمعا مثل: حضر المبارأة كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا وكذا متفرجا أو متفرجين.
(د) كأين: اسم مركب من كاف التشبيه و "أي " المنونة، يجوز الوقف عليها بالنون وتستعمل مثل كم الخبرية للدلالة على التكثير، ويكون تمييزها مفردا مجرورا بـمن لفظا منصوب محلا مثل: كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم.
(ه) بضع:تستعمل كلمة "بضع للدلالة على العدد من۳ إلى ۹، وهي تأخذ أحكام هذه الأعداد في التذكير والتأنيث والتمييز مثل: قرأت بضع قصص وبضعة كتب (بضع في بضع لمحل بدون الثاء لأن المعدود "قصة" مؤنث، وعكسها في بضعة كتب، وتمييزه جمع مجرور بالإضافة)
(و) نيف:تستعمل للدلالة على العدد بين عقدين، أي بين العشرين والثلاثين مثلا، أو بين الثلاثين والأربعين الخ . وتستعمل بصيغة واحدة للمذكر والمؤنث، مثل: قرأت نيفا وثلاثين قصة، أو كتابا (تمييزه مفرد منصوب: قصة كتابا )
تنبيه مهم :
التمييز يوافق الحال في كونه اسما نكرة منصوبا رافعا للإبهام، ويخالفها في كونه جامدا مميزا للذات أو النسبة ، لا يتعدد ولا يتقدم على عامله ولا يكون جملة.
فصل التمييز
تمييز ایک اسم نکرہ ہے جو غالباً منصوب ہوتا ہے اور اس میں "من" کا معنی شامل ہوتا ہے۔ یہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ مُمیز (جو چیز بیان کی جارہی ہے) کیا ہے، جیسے: عندِي عِشرُونَ قَلَمًا (میرے پاس بیس قلم ہیں)
اگر میں کہوں: ’’عندِي عِشرُونَ‘‘ اور خاموش رہوں تو یہ واضح نہیں ہوگا کہ اس سے کیا مراد ہے کیونکہ "عشرون" میں ابہام موجود ہے۔ جب "قلمًا" ذکر کیا گیا تو اس نے اس ابہام کو ختم کیا اور وضاحت کی کہ مراد بیس قلم ہیں۔ "عشرون" کو ممیّز اور "قلمًا" کو تمییز کہا جاتا ہے۔
تمییز کی اقسام
ممیّز کی دو قسمیں ہیں:
1. ممیّز ملفوظ: - یہ وہ ہے جو گفتگو میں ذکر کیا گیا ہو، جیسے:
- عندِي عِشرُونَ كِتابًا (میرے پاس بیس کتابیں ہیں)
- ممیّز ملفوظ عموماً عدد، مقدار، وزن، یا کسی قسم کی وضاحت کے لئے ہوتا ہے۔
وزن، نحو: عندي جرام ذهبا
كيل، نحو: عندي صاح قمحا
مساحت، نحو: لي فرسخ أرضا
مقياس، نحو: عندي مترخزا
یا جو وزن کے مشابہ پر دلالت کرے، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا،
یا كيل کے، نحو: عندي حفنة قمحا،
یا مساحت کے، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا
یا مقياس کے ، نحو: عندي مديدك خزا.
یا جو ان کے مماثل پر دلالت کرے، نحو: لي مثلك صاحبا،
یامغایرت کے نحو : ليس لي غير الله معينا.
اس ممیز کی تمیز کو تمیز ذات یا تمیز مفرد کہا جاتا ہے
2. ممیّز ملحوظ:- یہ وہ ہے جو الفاظ میں ذکر نہیں ہوتا، بلکہ معنوی طور پر موجود ہوتا ہے، جیسے:
- ازدادَ المُتعلمُ أَدَبًا (طالب علم میں ادب بڑھ گیا ہے)
یہاں ابہام "ازداد" میں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "أَدَبًا" تو یہ وضاحت کرتا ہے کہ ادب میں اضافہ ہوا ہے۔
اور اس ممیز کی تمیز کو تمیز نسبت یا جملہ کہا جاتا ہے ۔
یہ تمییز منقول ہوتا ہے:
(1) مبتدا سے جیسے: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "المدرس" کی کثرت کی نسبت میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب تھا۔)
(2) فاعل سے جیسے: طاب محمد نفسا (نفسا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "طاب" کی نسبت "محمد" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: طابت نفس محمد تھا۔)
(3) مفعول سے جیسے: غرست الأرض شجرا (شجرا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "غرست" کی نسبت "الأرض" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: غرست شجر الأرض تھا۔)
ناصب تمییز
ناصب تمییز المفرد: وہ اسم مبہم (جس کی وضاحت کی جائے) ہوتا ہے، چاہے وہ جامد ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ اسم فاعل سے مشابہت رکھتا ہے۔ ان دونوں میں مشابہت یہ ہے کہ اسم مبہم (الممیز) کو تفسیر و وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو اور واضح ہو جائے، جیسے کہ اسم فاعل کو اپنے فاعل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو۔ یعنی، دونوں کو اپنے معنی کی تکمیل کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔
جملہ کے تمیز کا ناصب : جملے میں موجود فعل یا اس کے مشابہ الفاظ ہوتے ہیں، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔ مثال کے طور پر: سعد کریم عنصراً۔
تمییز اور اس کے اعراب کا حکم
تمییز الملحوظ ( تمییز نسبت): یہ ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، جیسا کہ پچھلی مثالوں میں دیکھا گیا۔
تمییز الملفوظ (تمییز ذات): یہ بھی منصوب ہوتا ہے، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔
اسے اضافت کے ذریعے یا "من" کے ساتھ بھی مجرور کیا جا سکتا ہے، سوائے عدد کے تمییز کے۔
مثالیں:
عندي جرام ذهبا (یہ منصوب ہے)
عندي جرام ذهبٍ (یہ مجرور ہے اضافت کی وجہ سے)
عندي جرام من ذهبٍ (یہ "من" کے ذریعے مجرور ہے)
عدد کی تمییز: یہ منصوب ہو تی ہے یا مجرور ہو تی ہے اضافت کی وجہ سے
3 سے 10 تک: تمییز جمع اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: جاء أربعة رجالٍ (رجالٍ: تمییز مجرور)
11 سے 99 تک: تمییز مفرد اور منصوب ہوتی ہے، جیسے: في الفصل ثلاثة عشر طالباً (طالباً: تمییز منصوب)
100، 1000 اور ان کے مضاعفات: تمییز مفرد اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: حضر الحفل مائةُ رجلٍ (رجلٍ: تمییز مجرور)
عدد کی مختلف صورتیں
مفرد (1 سے 10)
مُرکّب (11 سے 19)
معطوف (21 سے 99)
الفاظِ عقود (20، 30، 40... 90)
عدد کا اعراب اور بناء
تمام اعداد معرب ہوتے ہیں، یعنی جملے میں ان کے مقام کے مطابق ان کے اعراب تبدیل ہوتے ہیں۔
11 سے 19 کے اعداد ہمیشہ مبنی ہوتے ہیں اور دونوں اجزاء فتح پر ہوتے ہیں، سوائے 12 کے، جس کا پہلا جزو مثنیٰ کے مطابق معرب ہوتا ہے اور دوسرا جزو فتح پر مبنی ہوتا ہے۔
مثالیں:
جاء أربعةُ رجالٍ (أربعةُ: فاعل مرفوع)
رأيتُ أربعةَ رجالٍ (أربعةَ: مفعول منصوب)
نظرتُ إلى أربعةِ رجالٍ (أربعةِ: مجرور)
جاء أربعةٌ وعشرون رجلاً (أربعةٌ: فاعل، وعشرون: معطوف مرفوع)
جاء عشرون رجلاً (عشرون: فاعل مرفوع)
عدد کی تذکیر و تانیث
الف: عدد 1 اور 2 ہمیشہ معدود کے مطابق ہوتا ہے، جیسے:
مدرسةٌ واحدةٌ (واحد مؤنث ہے، اس لیے "واحدةٌ" آیا) رأيتُ أحدَ عشرَ كوكباً ، في الفصلِ إحدى عشرةَ بنتاً
ب: 3 سے 9 ہمیشہ معدود کی مخالف جنس میں آتا ہے:
في الفصلِ أربعةُ طلابٍ (أربعةُ: مؤنث عدد ہے، لیکن "طلاب" مذکر ہے)
في الحافلةِ أربعُ طالباتٍ (أربعُ: مذکر عدد، لیکن "طالبات" مؤنث ہے)
ج: عدد 10: اگر مفرد ہو تو معدود کے مخالف آتا ہے: حضر عشرةُ طلابٍ
اگر مرکب ہو تو معدود کے مطابق آتا ہے: مكثنا في دلهي أربعةَ عشرَ يوماً
د: عقود (20، 30...)، 100 اور 1000 معدود کے مطابق نہیں بدلتے، جیسے:
في الفصلِ عشرونَ طالباً، في المدرسةِ مائتان وعشرونَ طالبةً
عدد کی تعریف بـ "ال"
مفرد عدد ہو تو "ال" مضاف الیہ پر داخل ہوتا ہے: جاء ستةُ الطلابِ
مرکب عدد ہو تو "ال" پہلے جزو پر داخل ہوتا ہے: قضينا الخمسةَ عشرَ يوماً
معطوف عدد ہو تو "ال" دونوں اجزاء پر داخل ہوتا ہے: قرأتُ الخمسةَ والعشرينَ كتاباً
عدد کو "فاعل" کے وزن پر بنانے کا اصول
جب کسی عدد کو "فاعل" کے وزن پر ترتیب کے اظہار کے لیے بنایا جائے تو وہ معدود کے مطابق ہوتا ہے۔
11 سے 19 کے درمیان کے اعداد فتح پر مبنی ہوتے ہیں۔
مثالیں:اذهب إلى الكلية في الساعة الثامنةِ والنصفِ، قرأتُ المقالةَ الرابعةَ ، القرن التاسعَ عشرَ
کنایاتِ عدد
(الف) کمِ استفہامیہ: یہ تعداد کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا تمییز مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: کم کتابا في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں؟)۔
اگر اس کے تمییز پر "من" داخل ہو جائے تو اسے مجرور کرنا جائز ہوتا ہے، اور اس وقت یہ "کمِ خبریہ" سے سیاق و سباق کی مدد سے ممتاز ہوتی ہے، جیسے: كم من رجل لقيته؟ (تم نے کتنے آدمیوں سے ملاقات کی؟)۔
اس کا تمییز حذف کرنا بھی جائز ہوتا ہے، جیسے: كم مالك؟ یعنی كم درهما مالك؟ (تمہارے پاس کتنے درہم ہیں؟)۔
(ب) کمِ خبریہ: یہ تعداد کی کثرت پر خبر دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا تمییز مفرد نکرہ مجرور، یا جمع نکرہ مجرور بالاضافہ، یا "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے، جیسے:
كم كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں)۔
كم من كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں بہت سی کتابیں ہیں)۔
(ج) كذا: یہ کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مفرد، مکرر یا معطوف ہو سکتا ہے۔ اس کا تمییز مفرد یا جمع منصرف ہوتا ہے، جیسے:
حضر المباراة كذا متفرجا أو متفرجين۔ (میچ دیکھنے اتنے ناظرین آئے)۔
كذا كذا متفرجا أو متفرجين۔
كذا وكذا متفرجا أو متفرجين۔
(د) كأين: یہ "كافِ تشبیہ" اور "أي" پر مشتمل مرکب لفظ ہے، اور اس پر نون کے ساتھ وقف کیا جا سکتا ہے۔ یہ "كمِ خبریہ" کی طرح کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا تمییز "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے مگر محلًّا منصوب ہوتا ہے، جیسے:
كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم۔ (کتنے ہی علماء ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی راہ میں قربان کیں)۔
(هـ) بضع: یہ 3 سے 9 تک کی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ان اعداد کے تذکیر و تانیث کے احکام اختیار کرتا ہے، جیسے:
قرأت بضع قصصٍ۔ (میں نے چند کہانیاں پڑھیں)۔
قرأت بضعة كتبٍ۔ (میں نے چند کتابیں پڑھیں)۔
یہاں "بضع" بغیر تائے تانیث کے آیا کیونکہ "قصص" مؤنث ہے، جبکہ "بضعة" میں تائے تانیث آئی کیونکہ "كتب" مذکر ہے۔
(و) نيف: یہ عشرون - ثلاثون (20-30، 30-40 وغیرہ) دو کے درمیان کے عدد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال مذکر و مؤنث دونوں کے لیے ایک ہی طرح ہوتا ہے، جیسے:
قرأت نيفا وثلاثين قصة۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کہانیاں پڑھیں)۔
قرأت نيفا وثلاثين كتابا۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کتابیں پڑھیں)۔
اس کا تمییز ہمیشہ مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: قصة، كتابا۔
اہم نوٹ: تمییز اور حال دونوں نکرہ اور منصوب ہوتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ:
تمییز کسی ذات یا نسبت کی وضاحت کرتا ہے۔
حال کسی فاعل یا مفعول کی کیفیت بیان کرتا ہے۔
تمییز نہ تو متعدد ہوتا ہے اور نہ ہی عامل سے پہلے آ سکتا ہے اور نہ ہی جملہ ہوتا ہے۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۳۰
تمیز اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی مبہم شئ کی وضاحت کرے ، عدد کی تمیز مجرور یا منصوب ہوگی، جیسے ثَلَاثَةُ كُتُبِ، عِشْرُونَ كِتَابًا
تمیز وہ اسم ہے جو کسی مبہم لفظ کی وضاحت کرے، مثلاً ایک شخص کسی دوسرے سے مختلف پہلوؤں سے بہتر ہوسکتا ہے، اخلاق کے لحاظ سے، یہ لفظ اس بہتری کے پہلو کی وضاحت کرتا ہے
ا۔ تمییز یعنی وہ اسم جو سابقہ لفظ یا جملہ میں پائے جانے والے ابہام کی وضاحت کرے، جیسے :
(ا) شَرِبْتُ لِتْرًا حَلِيْبًا. میں نے ایک لیٹر دودھ پیا۔ لفظ لٹر ایک مقدار کو بتارہا ہے لیکن بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک یہ نہ بتا دیا جائے کہ وہ مشروب کیا ہے، جیسے پانی ، دودھ، شربت وغیرہ۔
(۲) إِبْرَاهِيمُ أَحْسَنُ مِني خَطا ابراہیم خوش خطی میں مجھ سے بہتر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جن میں کوئی کسی دوسرے سے بہتر ہو سکتا ہے، اس مثال میں لفظ خطا اس بہتری کے پہلو کو واضح کر رہا ہے تمیز منصوب ہوتی ہے۔
تمیز کی دو قسمیں ہیں:
ا: تمييز الذات، یہ ایسے الفاظ کے بعد آتی ہے، جو مقدار پر دلالت کریں۔ مقدار پر دلالت کرنے والے الفاظ چار قسم کے ہیں:
(۱) عدد، جیسے: ﴿يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا ﴾ [يوسف: ۴] ابا جان، میں نے گیارہ ستارے دیکھے۔ گیارہ سے ننانوے تک کے اعداد کی تمیز منصوب ہوگی، تین سے دس تک کی جمع اور مجرور، اور سو اور ہزار کی واحد مجرور
باقی عبارت پڑھیں (20)
۲) پیمائش (مساحت) جیسے اِشْتَرَيْتُ مِترًا حَرِیرا میں نے ایک میٹر ریشم خریدا۔
۳) ناپ، جیسے: أَعْطِنِي لِترَيْنِ حَلِيْبًا. مجھے دو لیٹر دودھ دو۔
۴) وزن، جیسے: عِنْدِي كيْلُوْ غِرَامٌ بُرتُقَالاً . میرے پاس ایک کیلو مالٹے ہیں۔
جو الفاظ مقدار پر دلالت کرنے والے اصل الفاظ کی جگہ استعمال ہوئے ہیں ، ان کی بھی تمیز آتی ہے، جیسے:
(۱) لفظ کم کتنا جو عدد کی جگہ استعمال ہوتا ہے جیسے : کم بنتا لَكَ؟ تمہاری کتنی بیٹیاں ہیں؟
(٢) مَا فِي السَّمَاءِ قَدْرُ رَاحَةٍ سَحَابًا آسمان میں ہتھیلی برابر بھی بادل نہیں۔ یہاں لفظ قَدْرُ رَاحَة ہتھیلی برابر پیمائش پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
۳) هَلْ عِندَكَ کیس دقیقا کیا تیرے پاس ایک تھیلی آٹا ہے؟ یہاں لفظ کیس تھیلی ناپ پردلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
۴) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴾ [الزلزال : تو جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔
یہاں لفظ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ایک ذرہ برابر وزن پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
ا: تمييز الذات حرف جر من کی وجہ سے مضاف الیہ ہو کر مجرور بھی ہوسکتی ہے، جیسے اشْتَرَيْتُ مِتْرًا مِنْ حَرِيْرٍ یا اشْتَرَيتُ مِثْرَ حَریر لیکن عدد کی تمیز اس سے مستثنی ہے۔
ب: تمييز النسبة. یہ اس ابہام کی وضاحت کرتی ہے جو گذشتہ پورے جملے سے متعلق ہو، جیسے: حَسُنَ هذَا الطَّالِبُ خُلُقًا يه طالب علم اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہے۔
تمییز فاعل یا مفعول بہ میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے، جیسے: حَسُنَ بِلالٌ خُلُقًا بلال اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہے کے بجائے حَسُنَ خُلُقُ بِلالٍ بلال کے اخلاق اچھے ہیں (فاعل)۔
اسی طرح: ﴿وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا ﴾ [القمر: ۱۲] اور ہم نے زمین کو چشمے بنا کر پھاڑ دیا۔ کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے وَفَجَّرْنَا عُيُونَ الْأَرْضِ اور ہم نے زمین کے چشمے پھاڑ نکالے (مفعول به)۔ یہ تمیز ہمیشہ منصوب ہوگی، مجرور نہیں ہوسکتی ۔
كم الاستفهامية کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوگی۔
كم الخبرية کی خبر مفرد یا جمع ہوگی، مجرور ہوگی اور اس سے پہلے من بھی ہو سکتا ہے، جیسے: كَمْ مِنْ كتاب عِنْدَكَ ! كمْ كِتَابٍ عِنْدَكَ، كَمْ كُتُبٍ عِندَكَ ! بہتر اسلوب یہ ہے: کَمْ كُتُبِ عِندَكَ ! گفتگو میں دونوں کَمْ کی ادائیگی کے وقت الگ الگ انداز ہوگا ، اور تحریر میں دونوں کی الگ الگ علامتیں (؟ !) ہوں گی۔
کم الخبرية کی مزید مثالیں یہ ہیں:
كُمْ نُجُوْمٍ فِي السَّمَاءِ! آسمان میں کتنے زیادہ ستارے ہیں !
كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ ﴾ [البقرة: ۲۴۹] کتنی چھوٹی جماعتیں اللہ کےحکم سے بڑی جماعتوں پر چھا گئیں۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۲۲
التمييز
ويقال له التبين والتفسير هو رفع الإبهام في جملة أو مفرد بالنص على أحد محتملاته فمثاله في الجملة طاب زيد نفساً، وتصبب الفرس عرقاً، وتفقاً شحماً وأبرحت جاراً، وامتلأ الإناء ماء، وفي التنزيل: " واشتعل الرأس شيباً" " و فجرنا الأرض عيونا"، " ومن أحسن قولا"، " ومن أصدق من الله حديثاً. ومثاله في المفرد عندي راقود خلا، ورطل زيتاً، ومنوان عسلاً، وقفيزان براً، وعشرون درهماً، وثلاثون ثوباً، وملأ الإناء عسلاً، وعلى التمرة مثلها زبداً وما في السماء. وضع كف سحاباً. وشبه المميز بالمفعول أن موقعه في هذه الأمثلة كموقعه في ضرب زيد عمراً وفي ضارب زيداً وضاربان زيداً وضاربون زيداً وضرب زيد عمراً.
عوامل التمييز ولا ينتصب المميز عن مفرد إلا عن نام. والذي يتم به أربعة أشياء التنوين ونون التثنية ونون الجمع والإضافة. وذلك على ضربين زائل ولازم
فالزائل التمام بالتنوين ونون التثنية لأنك تقول عندي رطل زيت، ومنوا سمن واللازم التمام بنون الجمع والإضافة لأنك لا تقول كلا عسل ولا مثل زبد ولا عشرو درهم.
وتمييز المفرد أكثره فيما كان مقداراً كيلاً كقفيزان أو وزناً كمنوان أن مساحة كموضع كف او عدد كعشرون أو مقياساً كملؤه ومثلها. وقد يقع فيما ليس إياها نحو قولهم ويحه رجلاً، والله دره فارسا وحسبك به ناصراً.
تقديم المميز وتأخيره عن عامله ولقد أبي سيبويه تقدم المميز على عامله وفرق أبو العباس بين النوعين فأجاز نفساً طاب زيد، ولم يجز لي سمنا منوان. وزعم أنه رأي المازني. وأنشد قول الشاعر :
أتهجر ليلي بالفراق حبيبها وما كان نفساً بالفراق تطيب
أصل التمييز:
واعلم أن هذه المميزات عن آخرها أشياء مزالة عن أصلها. ألا تراها إذا رجعت إلى المعنى متصفة بما هي منتصبة عنه ومنادية على أن الأصل عندي زيت رطل وسمن منوان، ودراهم عشرون عسل ملء الإناء، وزيد مثل التمرة، وسحاب موضع كف. وكذلك الأصل وصف النفس بالطيب والعرق بالتصبب والشيب بالإشتغال، وأن يقال طابت نفسه، وتصبب عرقه، واشتعل شيب رأسي. لأن الفعل في الحقيقة وصف في الفاعل السبب في هذه الإزالة قصدهم إلى ضرب من المبالغة والتأكيد.
مستثنی دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۷
المستثنى
(۱) المُسْتَغْنَى بالا: اِلا کے ذریعہ استثناء
يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَقَعُ بَعْدَ "إِلَّا" مُسْتَثْنًى. وَ يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَجِيءُ قَبْلَهَا وَيَشْتَمِلُ فِي المَعْنَى عَلَى مَا بَعْدَهَا مُسْتَثْنًى مِنْهُ.
المُسْتَثْنَى بـ"إِلَّا": اسمٌ يُذْكَرُ بَعْدَهَا مُخَالِفًا فِي الحُكْمِ لِمَا قَبْلَهَا.
جو اسم الا کے بعد واقع ہو وہ مستثنی کہلاتا ہے اور جو اسم الا سے پہلے آ جائے اور معنی کے لحاظ سے الا کے بعد والے اسم پر مشتمل ہو مستثنی منہ کہلاتا ہے۔
مستثنیٰ بالا وہ اسم ہے جو الا کے بعد ذکر ہو اور حکم میں ماقبل الا سے مخالف ہو۔
الامثلة
باقی عبارت پڑھیں (54)
(۱) حضرَ الأصدقاءُ إلا عليًّا
(۲) حَلَلْتُ مَسَائلِ الحسابِ إلا مسألةً
(۳) قَرَأْتُ الكِتابَ إِلا صَفْحتينِ
( ٤ ) انْقَضَى الصيفُ إِلا يَوْمَينِ .
حكم المستثنى بإلا: اِلا کے ذریعہ استثناء کا حکم
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مُثْبَتًا وَجَبَ نَصْبُ المُسْتَثْنَى بِإِلَّا.
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مَنْفِيًّا جَازَ فِي المُسْتَثْنَى بِإِلَّا أَنْ يُنْصَبَ عَلَى الاِسْتِثْنَاءِ، وَأَنْ يَتْبَعَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ فِي إِعْرَابِهِ.
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَحْذُوفًا، يُعْرَبُ المُسْتَثْنَى عَلَى حَسَبِ مَا يَقْتَضِيهِ مَوْضِعُهُ فِي التَّرْكِيبِ كَمَا لَوْ كَانَتْ إِلَّا غَيْرَ مَوْجُودَةٍ.
جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام مثبت ہو تو مستثنی بالا کو منصوب پڑھنا واجب ہے۔
جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام منفی ہو تو مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا بھی جائز ہے اور مستثنیٰ منہ جیسا اعراب لگانا بھی جائز ہے۔
جب مستثنی منہ محذوف ہو تو مستثنیٰ پر وہی اعراب آئے گا جو اس جگہ (موقع) پر الا کی غیر موجودگی میں آنا چاہئے تھا۔
الامثلة
(۱) أثمرتِ الأَشجَارُ إلا شجرةً
(۲) طار الحمام إلا واحدةً .
(۳) فر الجنود إلا القائدَ .
( ٤ ) لم تتفتح الأزهار إلا البنفسجَ ( أو البنفسجُ )
(۵ ) لم ينج المستحمون إلا أحمدَ ( أو أحمدُ )
(۶) ما سَلمت : على القادمين إلا الأولَ ( أو الأولُ )
(۷) لا یسدى النصيحةَ إلا المخلصون
(۸)ما صاحبْتُ إِلا الأخيارَ
(۹) لا تَسُودُ الشعوبُ إلا بالأخلاق .
(۲) المستثنى بغير وسوى: مستثنی سوی اور غیر کے ذریعہ
يُسْتَثْنَى بِـ"غَيْرِ" وَ"سِوَى"، فَيُجَرُّ الِاسْمُ الَّذِي بَعْدَهُمَا بِالإِضَافَةِ، وَيَثْبُتُ لَهُمَا مِنْ أَنْوَاعِ الإِعْرَابِ مَا ثَبَتَ لِلِاسْمِ الَّذِي بَعْدَ "إِلَّا".
غیر اور سوی کے ذریعے جو اسم مستثنی واقع ہو وہ اضافت کی وجہ سے مجرور ہوتا ہے اور خود غیر اور سوی پر اسی طرح کا اعراب آتا ہے جیسا کہ الا کے بعد واقع ہونے والے اسم پر آیا کرتا ہے۔
الامثلة
(۱) اتَّقَدَتِ المصابيحُ غير واحدٍ .
(٢) سَلَّمْتُ عَلَى القادمينَ غير سعيدٍ
(۳) ما عاد المريضَ عائدٌ غيرَ الطبيبِ ( أو غيرُُ الطبيبِ )
(۴) ما قَبلْتُ يَدَ أحدٍ غيرَ والدى .( أو غيرُ والدى )
(۵) لا يَنَالُ الْمَجْدَ غيرُ العاملينَ
(٦) لم يفترس الذئب غيرَ شاةٍ
(۷) لا تَعْتَمِد عَلَى غَيْرِ الله .
(۳) المستثنى بِخَلاً وَعَدَا وَحَاشَا: مستثنی خلا ، عدا اور حاشا کے ساتھ
يُسْتَثْنَى بِـ"خَلَا"، وَ"عَدَا"، وَ"حَاشَا"، فَيُنْصَبُ الِاسْمُ بَعْدَهَا مَفْعُولًا بِهِ عَلَى أَنَّهَا أَفْعَالٌ، أَوْ يُجَرُّ عَلَى أَنَّهَا أَحْرُفُ جَرٍّ، فَإِنْ سبَقَتْھا"مَا"، وَجَبَ النَّصْبُ.
خلا ، عدا اور حاشا کے ذریعے بھی مستثنی ہوتا ہے ان کے بعد آنے والے اسم کو مفعول به قرار دے کر منصوب بھی کر سکتے ہیں اور ان کو حروف جر مان کر ان اسماء کو مجرور بھی پڑھ سکتے ہیں البتہ خلا اور عدا سے پہلے ما آجائے تو پھر مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا واجب ہو جاتا ہے۔ (حاشا سے پہلے ما نہیں آسکتا۔)
الامثلة
(۱) قَطَفْتُ الأزهار خَلَا الوَرْدَ .( أو الوردِ )
(۲) دخلتُ غُرف البيتِ خَلَا غُرْفَةَ النوم .( أو غرفةِ النومِ )
(۳) زُرْتُ مَسَاجِدَ المدينة خَلاً واحداً( أو واحدٍ )
( ٤ ) ذَبح الجزار الفنم خلا شاة ( أو شاةٍ )
(٥) فَطَفْتُ الأَزْهَارَ ما خلا الوردَ .
(۶) دخلتُ غُرَفَ البيت ما خلا غُرْفَةَ النوم .
(۷) زُرْتُ مساجد المدينة ما خلا واحداً .
( ۸ ) ذَبح الجزار الفنم ما خلا شاةً .
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۳۲
ا - نَجَحَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا خَالِدًا. خالد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔
یہ استثناء ( الگ کرنا) کی ایک مثال ہے، استثناء کے تین ارکان ہیں :
(۱) مستثنی ، وہ چیز جس کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ خالدا ہے۔
(۲) مستثنی منہ، وہ چیز جس سے کسی چیز کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ الطلاب ہے۔
(۳) أداة الاستثناء ، گذشتہ مثال میں وہ إِلَّا ہے، مزید ادوات یہ ہیں : غَيْرَ اور سوی، یہ دونوں اسم ہیں، مَا عَدَا وَ مَا خَلا، یہ دونوں فعل ہیں۔
استثناء کی قسمیں:
۱) اگر مستثنی اور مستثنی منہ دونوں ایک ہی جنس کے ہوں تو استثناء متصل ہوگا ، جیسے گذشتہ مثال۔ ایک اور مثال یہ ہے: ُزرْتُ البَلادَ الْأَرُوْبيَّة كُلَّهَا إِلَّا الْيُوْنَانَ. میں نے یونان کے علاوہ سارے یورپی ممالک دیکھ لئے۔ یونان بھی ایک یورپی ملک ہے۔
(۲) اگر مستثنی مستثنی منہ کی جنس سے نہ ہو تو استثناء منقطع کہلائے گا، جیسے:
باقی عبارت پڑھیں (55)
وَصَلَ الضُّيُوْف إِلَّا أَمْتِعَتَهُمْ. سارے مہمان پہنچ گئے سوائے ان کے سامان کے۔ یہاں استثناء منقطع ہے اس لئے کہ سامان اور مہمان دونوں کے اجناس مختلف ہیں اور جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ مہمان پہنچ گئے لیکن ان کا سامان نہیں پہنچ پایا، قرآن مجید میں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بتوں کے متعلق فرمایا:
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ﴾ [الشعراء: ۷۷] تو وہ سب (بت) میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔
یہاں استثناء منقطع ہے، اس لئے کہ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ بتوں کے جنس سے نہیں ہے۔
ایک اور لحاظ سے استثناء مفرغ یا کام ہوگا۔ اگر مستثنی منہ مذکور ہوتو تام ہوگا جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں ہے اور اگر مذکور نہ ہو تو مفرغ، جیسے:
مَاجَاءَ إِلَّا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔
مَا رَأَيْتُ إِلَّا حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔
استثناء مفرغ میں جملہ ہمیشہ نفی، یا نہی، یا استفہام پرمشتمل ہوگا۔ استثناء پر مشتمل جملوں کی دو قسمیں ہیں:
(۱) مثبت جملہ جس کو مُوجَب کہتے ہیں ، جیسے:
افْتَحِ النَّوَافِذَ إِلَّا الْأَخِيْرَةَ. آخری کے علاوہ باقی ساری کھڑکیاں کھول دو۔
(۲) نہی نفی یا استفہام پر مشتمل جملہ، جسے غیر موجب کہتے ہیں، جیسے:
مَا غَابَ الطُّلابُ إِلَّا إِبْرَاهِيمَ إبْرَاهِيم. ابراہیم کے علاوہ باقی طلبہ غیر حاضر نہیں ہوئے۔(منفی)
لا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا الْجُدُدَ الْجُدُدُ نئے طلبہ کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔(نهي)
هَلْ يَرْسُبُ أَحَدٌ إِلَّا الْكَسْلَانَ الْكَسْلَانُ؟ کاہل کے علاوہ بھی کوئی نا کام ہوتا ہے؟(استفهام)
مستثنی کا اعراب : مستثنی إلا کے بعد
استثناء منقطع میں:
مستثنی ہمیشہ منصوب ہوگا، جیسے:
لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتَ. موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔
یہ منقطع ہے، کیوں کہ موت بیماری کی جنس سے نہیں ہے۔
استثناء متصل میں :
(۱) اگر موجب جملہ ہوتو مستثنی منصوب ہوگا ، جیسے:
يَغْفِرُ اللهُ الذُّنُوْبَ كُلَّهَا إِلَّا الشَّرْكَ. اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
(۲) اگر غیر موجب جملہ ہو تو مستثنی کے دو اعراب ہو سکتے ہیں، یا تو وہ منصوب ہوگا یا اس کا اعراب بھی مستثنی منہ کے اعراب کی طرح ہوگا، جیسے:
(نفی) مَا حَضَرَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی طالب علم نہیں آیا۔
مَا سَأَلْتُ الطُّلابَ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے نہیں پوچھا۔ مَا اتَّصَلْتُ بالطُّلابِ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٍ. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے رابطہ نہیں کیا۔
(نہی) لَا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔
لا تَسْأَلْ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا. حامد کے علاوہ کسی سے نہ پوچھو۔
لَا تَتَّصِلْ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ. حامد کے علاوہ کسی سے رابطہ نہ کرو۔
(استفهام) هَلْ غَابَ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ؟ کیا حامد کے علاوہ بھی کوئی غائب ہے؟
هَلْ رَأَيْتَ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی کو دیکھا؟
هل اتَّصَلْتَ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ ؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی سے رابطہ کیا ؟
استثناء مفرغ میں :
استثناء مفرغ میں مستثنی کا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ جملہ میں اس کے مقام کے لحاظ سے اس کا اعراب ہوگا ، جیسے: مَا رَسَبَ إِلَّا بَلَالٌ بلال کے علاوہ کوئی نا کام نہیں ہوا۔
یہاں مستثنی بلال فاعل ہے، اس کا اعراب جاننے کے لئے الا حذف کردیں تو اعراب سمجھ میں آجائے گا، جیسے گذشتہ مثال میں الا حذف کردیں تو مَا رَسَبَ بلال باقی رہے گا اور یہاں بلال فاعل ہے، یہ مستثنی کا اعراب جانے کا ایک طریقہ ہے جب کہ معنی اس سے مختلف ہوگا۔
اسی طرح مَا رَأَيْتُ إِلَّا بَلالا میں نے بلال کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ میں بلالا مفعول بہ ہےجیسا کہ مَا رَأَيْتُ بِلالا سے واضح ہے۔
اگر مستثنی کے بعد حرف جر کی وجہ سے مجرور ہو تو اس کا اعراب بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے:
مَا بَحَثتُ إِلَّا عَنْ خَالِدٍ. میں نے خالد کے علاوہ کسی کو تلاش نہیں کیا۔
مَا كَرَمْنَا إِلَّا بِالْجَامِعَةِ الْإِسْلامِيَّة. ہم نے جامعہ اسلامیہ کے علاوہ کہیں نہیں پڑھا۔
نوٹ :۔ إِلَّا کے بعد صرف ضمیر منفصل آئے گی ، اس کی چند مثالیں یہ ہیں: لا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ . ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے ۔
سَألَ الْمُدَرِّسُ الطلابَ كُلُّهُمْ إِلَّا إِيَّاكَ استاذ نے تمہارے علاوہ سب سے سوال کیا۔
مستثنی غیر اور سوی کے بعد
ان الفاظ کے بعد مستثنی مجرور ہو گا اس لئے کہ یہ اس کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے ہیں، مستثنی کا اصل اعراب ان دونوں کلمات پر ظاہر ہو گا، جیسے: نَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِد حامد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔ یہاں غَيْرَ منصوب ہے
جیسا کہ نَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا میں منصوب ہے۔
مَانَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِدٍ حامد کے علاوہ کوئی طالب علم کا میاب نہیں ہوا۔ یہاں غیر منصوب یا مرفوع دونوں ہو سکتا ہے جیسا کہ مَانَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ دونوں صحیح ہیں۔
مَانَجَحَ غَيْرُ حَامِدٍ یہاں غَيْرُ مرفوع ہےجیسا کہ مَانَجَحَ إِلَّا حَامِدٌ میں حَامِدٌ مرفوع ہے۔
مَا سَأَلْتُ غَيْرَ حَامِدٍ یہاں غیر منصوب ہےجیسا کہ مَا سَأَلْتُ إِلَّا حَامِدًا میں حَامِدًا منصوب ہے۔ سوی کا اعراب بھی بالکل غیر ہی کی طرح ہو گا سوائے اس کے کہ سوی کی ساری حرکتیں اس کے مقصور ہونے کی وجہ سے مقدر ہوں گی ۔
مستثنى مَا عَدَا اور مَا خَلا کے بعد
ان دو ادوات استثناء کے بعد مستثنی منصوب ہوگا جیسے :
اختَبَرْتُ الطُلاب مَا عَدَا ثَلاثَةٌ. میں نے تین کے علاوہ سارے طلبہ کا امتحان لیا۔
ایک شاعر کہتا ہے:
أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ اللہ تعالی کے علاوہ ہر چیز باطل ہے۔
یہاں بَاطِلُ پر اصل میں تنوین ہے جو شعر کے وزن کی رعایت کرتے ہوئے حذف کر دی گئی ہے،
۲ - الا کسی چیز پر تنبیہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے:
ألا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ ﴾ [البقرة: ١٢] خبر دار یہی لوگ اصل مفسدین ہیں اگر چہ کہ انہیں احساس نہیں ہے۔ اس کو حرف استفتاح اور تنبیہ کہتے ہیں۔
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۹
فصل المستثنى
المستثني: هو اسم منصوب يقع بعد أداة من أدوات الاستثناء، ليخالف ما قبلها في الحكم إثباتا ونفيا نحو: حضر الرجال إلا زيدا، وما حضر الطلاب إلا زيدا.
والكلام على الاستثناء ينحصر فيما يأتي: ۱۔ المستثنى منه ۲۔ والمستثنى ٣- وأدوات الاستثناء
فالمستثنى منه : هو الاسم الذي يقع قبل أداة الاستثناء ويثبت له الحكم إثباتا أو نفيا مثل: "الرجال"، و"الطلاب في المثالين المذكورين، وتارة يكون مذكورا وتارة يكون ملحوظا.
والمستثني: هو الاسم الذي يقع بعد أداة الاستثناء ويخالف المستثنى منه في الحكم الذي يثبت له إثباتا ونفيا، مثل "زيدا" في المثالين المذكورين.
وأدوات الاستثناء هي إلا وغير، وسوى، وعدا وخلا، وحاشاء وقد ألحقوا بها ليس" و "لا يكون" و "بيد".
باقی عبارت پڑھیں (79)
والمستثنى: ثلاثة أقسام :
متصل ومنقطع ومفرغ.
فالمتصل ماكان من جنس المستثنى منه، وأخرج عنه بأداة الاستثناء نحو: تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة.
والمنقطع: ما ليس من جنس المستثنى منه ، فلا حاجة إلى إخراجه عنه بأداة الاستثناء، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم
والمفرغ ما حذف فيه المستثنى منه، وفرغ العامل الذي قبل إلا" للعمل فيما بعدها(أي: المستثنى) وتكون إلا " كأنها لم تكن، ولا يكون ذلك إلا في كلام غير موجب نحو: ما جاء ني إلا زيد، وما رأيت إلا زيدا وما مررت إلا بزيد.
ولا يستعمل في المستثنى المفرغ أفعال الاستثناء
ثلاث حالات المستثنى بـ"إلا"
المستثنى بـ "إلا له ثلاث حالات:
ا۔ وجوب النصب
۲۔ جواز النصب والبدلية
۳۔ وجوب أن يكون حسب ما يقتضيه العامل الذي قبل "إلا"
الحالة الأولى: وجوب النصب
يجب نصب المستثنى بـ "إلا في ثلاثة مواضع:
أولا: إذا كان المستثنى متصلا واقعا بعد إلا في كلام تام موجب نحو: جاء القوم إلا زيدا
ثانيا: إذا تقدم المستثنى المتصل على المستثنى منه في كلام تام موجب أو غير موجب، مثال الموجب جاء إلا زيدا القوم ومثال غير الموجب ما جاء إلا سليما أحد
ثالثا: إذا كان المستثنى منقطعا، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم، ويستعمل في المستثنیٰ المنقطع "إلا" و "غير فقط
الحالة الثانية: جواز النصب والبدلية
يجوز في المستثنى المتصل الواقع بعد "إلا" نصبه على الاستثناء وجعله بدلا من المستثنى منه إذا وقع بعد المستثنى منه في كلام تام غير موجب، نحو: ما جاء القوم الا زيدا، على الاستثناء، أو إلا زيد على البدلية من القوم.
الحالة الثالثة تختص بالمستثنى المفرغ كما سبق في أمثلته .
وناصب المستثنى بـ "إلا هو العامل الذي قبلها
حكم المستثنى بـ "غير" و"سوى:
حكم المستثنى بـ"غير" و سوى أن يجر المستثنى بإضافتهما إليه وأما حكم "غير " و سوى " فمثل حكم المستثنى الواقع بعد "إلا" في جميع أحواله الثلاثة السابقة. نحو : جاء القوم غير سليم، ما جاء غير سليم أحد، جاء التلاميذ غير كتبهم، وما جاء القوم غير سليم بالنصب على الاستثناء، أو غير سليم بالرفع على البدلية وما جاء غير سليم، وما رأيت غير سليم، وما مررت بغير سليم ( برفع سليم ونصبه وجره، وذلك حسب العوامل في المستثنى المفرغ)
حكم المستثنى بـ"عدا" و"خلا" و"حاشا":
المستثنى بـ"عدا" و "خلا" و"حاشا" يجوز فيه النصب والجر فالنصب: على أنها أفعال ماضية، وفاعلها ضمير واحدمستتر فيها وجوبا على خلاف الأصل، يعود على المستثنى منه على سبيل الانفراد، وما بعدها مفعول به، والجر: على أنها أحرف جر شبيهة بالزائدة لا متعلق لها، نحو: جاء القوم خلا، أو عدا، أو حاشا سليما، وخلاء أو عدا أو حاشا سليم.
وإذا اقترنت بـ"خلا" و"عدا" (ما) المصدرية تعين كونهما فعلين، ووجب نصب ما بعدهما. وأما "حاشا" فلا تسبقها (ما) إلا نادرا.
حكم المستثنى بـ "ليس" و"لا يكون"
المستثنى بـ "ليس" و "لا يكون" يكون منصوبا على أنه خبر لها، واسمها ضمير مستتر وجوبا نحو الدروس تفيد التلاميذ ليس أو لا يكون المهمل.
حكم المستثنى بـ "بيد
المستثنى بـ"بيد لا يكون إلا مصدرا مسبوقا من "أن" واسمها وخبرها ويكون ذلك المصدر المسبوق في محل جر بإضافة بيد إليه وأما حكم "بيد" فهو ملازما النصب على الاستثناء، نحو: سليم غني بيد أنه بخيل.
فصل مستثنى
مستثنی: یہ ایک منصوب اسم ہے جو استثناء کی کسی ادات (جیسے "إلا") کے بعد آتا ہے تاکہ اس کا حکم اپنے سے پہلے کی چیز سے مختلف ہو۔ مثال کے طور پر: "حضر الرجال إلا زیدا" (مرد آئے سوا زید کے) یا "ما حضر الطلاب إلا زیدا" (طلبہ نہیں آئے سوا زید کے)۔
استثناء پر گفتگو درج ذیل نکات پر مرکوز ہوتی ہے:
1. مستثنی منه: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات سے پہلے ہوتا ہے اور اس کے لئے حکم ثابت یا نافذ ہوتا ہے۔ مثلاً: "الرجال" اور "الطلاب" مذکورہ مثالوں میں۔ کبھی یہ ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی یہ محض ذہن میں ہوتا ہے۔
2. مستثنی: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات کے بعد آتا ہے اور یہ مستثنی منه کے حکم سے مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ "زیدا" دونوں مثالوں میں۔
3. أدوات الاستثناء: یہ "إلا" ، "غير" ، "سوى" ، "عدا" ، "خلا" ، "حاشا" وغیرہ ہیں، اور ان میں "ليس" ، "لا يكون" ، اور "بيد" کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مستثنی کے اقسام
مستثنی کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. متصل: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں ہوتا ہے اور استثنا کی ادات کے ذریعے نکالا جاتا ہے، مثلاً: "تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة" (ہر دھات زنگ آلود ہوتی ہے سوائے سونے اور چاندی کے)۔
2. منقطع: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں نہیں ہوتا، اور اس کے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، مثلاً: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔
3. مفرغ: یہ وہ مستثنی ہے جس میں مستثنی منه حذف کر دیا جاتا ہے، اور "إلا" کی وجہ سے جو کام پہلے آیا ہے وہ اس کے بعد والے مستثنی پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسے: "ما جاءني إلا زيد" (کوئی نہیں آیا سوا زید کے)۔
مستثنی کے حالات
مستثنی کے ساتھ "إلا" کی تین حالتیں ہوتی ہیں:
1. وجوب النصب:
مستثنی کو "إلا" کے ساتھ نصب کرنا واجب ہے تین جگہوں پر:
- اگر مستثنی متصل ہو اور "إلا" کے بعد ایک مکمل مثبت جملے میں آئے، جیسے: "جاء القوم إلا زيدا" (قوم آئی سوائے زید کے)۔
- اگر متصل مستثنی مستثنی منه سے پہلے آ جائے، جیسے: "جاء إلا زيدا القوم" (قوم آئی سوائے زید کے)۔
- اگر مستثنی منقطع ہو، جیسے: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔
2. جواز النصب والبدلية:
متصل مستثنی جو "إلا" کے بعد آتا ہے، اسے نصب کرنا یا مستثنی منه کے بدل کے طور پر لانا جائز ہے اگر یہ مستثنی منه سے پہلے آ رہا ہو، جیسے: "ما جاء القوم إلا زيدا" (قوم نہیں آیا سوا زید کے) یا "إلا زید" (زید مستثنی منه کے طور پر)۔
3. مستثنی المفرغ: یہ پہلے بیان کردہ مثالوں کی طرح ہوتا ہے۔
اور مستثنی کونصب دینا الاّ کے ذریعہ
" 'إلا' کے ذریعے مستثنیٰ کو نصب دینے والا وہی عامل ہوتا ہے جو اس سے پہلے آتا ہے۔"
مستثنی ب "غير" اور "سوى" کے احکام
غير اور سوى کے ساتھ مستثنی کی حالت یہی ہوتی ہے کہ مستثنی کو ان کے ساتھ اضافت دےکر جردیا جاتا ہے۔ "غير" اور "سوى" کا حکم مستثنی کی حالتوں کی طرح ہوتا ہے جو "إلا" کے بعد آتا ہے، مثلاً: "جاء القوم غير سليم" (قوم آئے سوا سلیم کے)۔
مستثنی ب"عدا" اور "خلا" اور "حاشا" کے احکام
"عدا"، "خلا" اور "حاشا" کے ذریعے مستثنیٰ کا اعراب نصب اور جر دونوں طرح جائز ہے۔
نصب:اگر انہیں ماضی کے افعال مانا جائے تو یہ لازمًا مستتر ضمیر کو فاعل رکھتے ہیں، جو مستثنیٰ منه کی طرف لوٹتی ہے۔اس صورت میں، جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مفعول بہ کے طور پر منصوب ہوگا۔
مثال:جاء القومُ عدا زيدًا (یہاں "عدا" فعل ماضی ہے اور "زيدًا" مفعول بہ ہے) ، جاء الطلابُ خلا محمدًا ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدًا۔
جر:اگر انہیں حروفِ جر مانا جائے تو ان کا کوئی تعلق (متعلق) نہیں ہوتا اور جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مجرور ہوتا ہے۔
مثال:جاء القومُ عدا زيدٍ ،جاء الطلابُ خلا محمدٍ ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدٍ۔
"ما" کے ساتھ: اگر "عدا" اور "خلا" کے ساتھ "ما" المصدرية آجائے تو یہ لازمی طور پر افعال ہوں گے، اور ان کے بعد والا اسم منصوب ہوگا۔
"حاشا" کے ساتھ "ما" کا استعمال نادر ہوتا ہے۔
مستثنی ب "ليس" اور "لا يكون" کے احکام
ليس اور لا يكون کے ساتھ مستثنی کو نصب کیا جاتا ہے، جیسا کہ یہ ان کا خبر ہوتا ہے، اور ان کا اسم ضمیر مستتر ہوتا ہے، مثلاً: "الدروس تفيد التلاميذ ليس" (سبق طلبہ کے لئے مفید نہیں ہے)۔
مستثنی ب "بيد" کے احکام
"بيد" کے ذریعے مستثنیٰ ہمیشہ مصدر ہوتا ہے جو "أن" اور اس کے اسم و خبر کے بعد آتا ہے۔ یہ مصدر "بيد" کے اضافے کے باعث مجرور ہوتا ہے، جبکہ "بيد" خود ہمیشہ نصب میں رہتا ہے، جیسے: سليم غني بيد أنه بخيل (سلیم مالدار ہے، مگر وہ کنجوس ہے۔)
المفصلالمفصل۔ سبق:۲۳
الإستثناء
أنواع المستثنى:
المستثنى في إعرابه على خمسة أضرب أحدها منصوب أبداً وهو على ثلاثة أوجه: ما استثني بإلا من كلام موجب وذلك جاءني القوم إلا زيدا، وبعدا وخلا بعد كل كلام. وبعضهم يجر بخلا وقيل بهما، ولم يورد هذا القول سيبويه ولا المبرد. فأما ما عدا وما خلا فالنصب ليس إلا. وكذلك ليس ولا يكون. وذلك جاءني القوم أو ما جاءني عدا زيداً وخلا زيداً ومن عدا زيداً وما خلا زيداً. قال لبيد:
ألا كل شيء ما خلا الله باطل وكل نعيم لا محالة زائل
وليس زيداً ولا يكون زيداً. وهذه أفعال مضمر فاعلوها. وما قدم من المستثنى كقولك ما جاءني إلا أخاك أحد قال الكميت
وما لي إلا آل أحمد شيعة ومالي إلا مذهب الحق مذهب
وما كان استثناؤه منقطعاً كقولك ما جاءني إلا حماراً وهي اللغة الحجازية. ومنه قوله عز وجل: "لا عاصم اليوم من أمر الله إلا من رحم، وقولهم ما زاد إلا ما نقص وما نفع إلا ما ضر.
والثاني جائز فيه النصب والبدل وهو المستثنى من كلام تام غير موجب كقولك ما جاءني أحد إلا زيداً وإلا زيد.
باقی عبارت پڑھیں (29)
وكذلك إذا كان المستثنى منه منصوباً أو مجروراً. والاختيار البدل قال الله تعالى ما فعلوه إلا قليل منهم". وأما قوله عز وجل: "إلا أمرأتك" فيمن قرأ بالنصب فمستثنى من قوله تعالى: "فأسر بأهلك".
والثالث مجرور أبداً وهو ما استثنى بغير وحاشاً وسوى وسواه. والمبرد يجيز النصب بحاشا.
والرابع جائز فيه الجر والرفع وهو ما استثني بلا سيما وقول امرئ القيس:
ولا سيما يوم بدارة جلجل
يروى مجروراً ومرفوعاً وقد روي فيه النصب.
والخامس جار على إعرابه قبل دخول كلمة الإستثناء وذلك ما جاءني إلا زيد، وما رأيت إلا زيداً وما مررت إلا بزيد. والمشبه بالمفعول منها هو الأول والثاني في أحد وجهيه وشبهه به المجيئه فضلة وله شبه خاص بالمفعول معه لأن العامل فيه بتوسط حرف.
حكم غير:
وحكم غير في الإعراب حكم الاسم الواقع بعد إلا تنصبه في الموجب والمنقطع وعند التقديم وتجيز فيه البدل والنصب في غير الموجب. وقالوا إنما عمل فيه المتعدي لشبهه بالظرف لإبهامه.
الشبه في المعنى بين إلا وغير
واعلم أن إلا وغيراً يتقارضان ما لكل واحد منهما. فالذي لغير في أصله أن يكون وصفاً يمسه إعراب ما قبله، ومعناه المغايرة وخلاف المماثلة. ودلالته عليها من جهتين من جهة الذات ومن جهة الصفة. تقول مررت برجل غير زيد، قاصداً إلى أن مرورك كان بإنسان آخر أو بمن ليست صفته صفته، وفي قوله عز وجل" لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله، الرفع صفة للقاعدون والجر صفة للمؤمنين والنصب على الإستثناء. ثم دخل على إلا في الإستثناء وقد دخل عليه إلا في الوصفية. وفي التنزيل: "لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا".
أي غير الله. ومنه قوله:
وكل اخ مفارقة أخوه لعمر أبيك إلا الفرقدان
ولا يجوز اجراؤه مجرى غير إلا تابعاً، لو قلت: لو كان فيهما إلا الله كما تقول لو كان فيهما غير الله لم يجز. وشبهه سيبويه بأجمعون.
وتقول ما جاءني من أحد إلا عبد الله وما رأيت من أحد إلا زيداً ولا أحد فيها إلا عمرو فتحمل البدل على محل الجار والمجرور لا على اللفظ، وتقول ليس زيد بشيء إلا شيئا شيئاً لا يعبأ به.
قال طرفة:
أبني لبيني لستم بيد إلا يداً ليست لها عضد
وما زيد بشيء لا يعباً به بالرفع لا غير.
حكم تقديم المستثنى على صفة المستثنى منه وإن قدمت المستثنى على صفة المستثنى منه ففيه طريقان: أحدهما وهو اختيار سيبويه أن لا تكترث للصفة وتحمله على البدل. والثاني أن تنزل تقديمه على الصفة منزلة تقديمه على الموصوف، وذلك قولك ما أتاني أحد إلا أبوك خير من زيد، وما مررت بأحد إلا عمرو خير من زيد، أو تقول إلا أباك وإلا عمراً.
حکم تثنية المستثنى: وتقول في تثنية المستثنى ما أتاني إلا زيداً إلا عمراً أو إلا زيداً إلا عمرو ترفع الذي أسندت إليه
الفعل وتنصب الآخر. وليس لك أن ترفعه لأنك لا تقول تركوني إلا عمرو. وتقول ما أتاني إلا عمراً إلا بشراً أحد، منصوبين لأن التقدير ما أتاني إلا عمراً أحد إلا بشر، على إبدال بشر من أحد فلما قدمته نصبته.
الفعل المستثنى:
وإذا قلت ما مررت بأحد إلا زيد خير منه كان ما بعد إلا جملة ابتدائية واقعة صفة لأحد، وإلا لغو في اللفظ معطية في المعنى فائدتها جاعلة زيداً خيراً من جميع من مررت بهم.
وقد أوقع الفعل موقع الأسم المستثنى في قولهم نشدتك بالله إلا فعلت، والمعنى ما أطلب منك إلا فعلك؛ وكذلك أقسمت عليك الّا فعلت. وعن ابن عباس بالإيواء والنصر إلا جلستم. وفي حديث عمر : عزمت عليك لما ضربت كاتبك سوطاً بمعنى إلا ضربت.
حذف المستثنى:
والمستثنى يحذف تخفيفاً وذلك قولهم ليس إلا وليس غير.
منادی دیگر کتب میں3
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳)
المنادى: اسم يُذْكَرُ بَعْدَ "يَا" أو إِحْدَى أَخَوَاتِهَا طَلَبًا لإِقْبَالِ مَدْلُولِهِ.
يُنْصَبُ المُنَادَى إِذَا كَانَ مُضَافًا، أَوْ شَبِيهًا بِالْمُضَافِ، أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مَقْصُودَةٍ.
يُبْنَى المُنَادَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِهِ إِذَا كَانَ نَكِرَةً مَقْصُودَةً، أَوْ عَلْمًا مُفْرَدًا، وَالمُرَادُ بِالمُفْرَدِ هُنَا مَا لَيْسَ مُضَافًا وَلَا شَبِيهًا بِالمُضَافِ.
منادی وہ اسم ہے جسے یاء یا اس کے اخوات کے ذریعے متوجہ کیا جائے۔
منادی اگر مضاف ، شبه مضاف یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو منصوب ہوگا اور اگر نکرہ مقصودہ یا علم مفرد ہو تو علامت رفع پر مبنی ہو گا۔ یاد رہے کہ یہاں مفرد سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ شبہ مضاف۔
الامثلة
باقی عبارت پڑھیں (18)
(۱) يَا صَلاحَ الدينِ .
(۲) يَا حَارِسَ البُسْتَانِ .
(۳) يَا بَائِعَ التينِ
(۴) يَا مُسَافِرًا إِلَى لبْنَانَ .
(٥) يا لاهياً عن دَرْسِهِ
(٦) يا ضائعًا كتابه
(۷) يا مسرعًا في العجلة الندامة .
(۸) يا ظالمًا تَبَصر في العواقبِ.
(۹) يا شَامِتًا إِنَّ الدَهْرَ خَوَانٌ .
(١٠) يا رجالُ أَتقِنُوا أعمالكم .
(۱۱) يا فَتَيَانِ لا تَعبثا بالأزهار .
(۱۲) يا لاعبون استريحوا .
(۱۳) يا خليلُ .
(١٤) یا حَسَنَانِ .
(١٥) يا مُحَمَّدُونَ
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۰
فصل المنادى
المنادى هو الاسم الظاهر المطلوب إقباله بأحد أحرف النداء " نحو: يا عبد الله، ويا محمد.
وأحرف النداء سبعة وهي:
(۱) أي
(۲) الهمزة للمنادى القريب
(۳) أيا
(٤) هيا
باقی عبارت پڑھیں (171)
(٥) آ: للمنادي البعيد
(٦) يا لكل منادى
(۷) وا: للندية
ولا ينادى لفظ الجلالة "الله" و المستغاث به، وأي، وأية إلاب "يا" كما لا يقدر عند الحذف غيرها.
المنادى نوعان
منصوب، ومبني في محل نصب
ينصب المنادى إذا كان مضافا، أو شبيها بالمضاف أو نكرة غير مقصودة ويعتبر المنادى في هذه الحالات منصوبا بحرف النداء النائب عن ( فعل النداء) المحذوف وجوبا نحو : يا عبد الله اسمع عبد منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه مضاف واحد منصرف صحيح ويا طالبي العلم اجتهدوا (طالبي: منادى وعلامة نصبه الياء لأنه مضاف جمع مذكر سالم) ويا طالعا جبلا أقبل طالعا: منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه شبيه بالمضاف واحد منصرف صحيح) ويا رجلا خذ بيدي رجلا منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه نكرة غير مقصودة واحد منصرف صحيح ) يبنى المنادى على ما يرفع به قبل النداء إذا كان مفردا سواء أكان ذلك المفرد علما أو نكرة مقصودة بصيغة المفرد، أو المثنى، أو الجمع مثل: يا محمد اذهب (محمد: علم منادى مبني على الضم ، لأن علامة رفعه قبل النداء الفضة) ويا بائع خذ الثمن (بائع: منادى فكرة مقصودة مبني على الضم لأن علامة رفعه قبل النداء الضمة) وياشرطيان أقبلا (شرطيان منادى نكرة مقصودة مبني على الألف لأن علامة رفعه قبل النداء الألف لأنه مثنى) ويا مجتهدون اجتهدوا (مجتهدون: منادى نكرة مقصودة مبني على الواو، لأن علامة رفعه قبل النداء الواو، لأنه جمع مذكر سالم).
ويتصل بصيغة النداء ثلاث صيغ أخرى
وهي:
١ - الاستغاثة، ٢ - والندبة .. والترخيم
الاستغاثة:
الاستغاثة هي نداء شخص لاعانة غيره ليخلصه من شدة، أو يساعده على دفع مشقة، نحو: يا لزيد للمظلوم.
فالمطلوب منه الاعانة يسمى "مستغاثابة" والمطلوب له الاعانة يسمى "مستغاثاله" ولا يستعمل للاستغاثة من أحرف النداء إلا "يا وحدها ولا يجوز حذفها، ولا حذف المستغاث به، أما المستغاث له فحذفه جائز، نحو: یالزيد.
أوجه المستغاث به:
للمستغاث به ثلاثة أوجه:
۱۔أن يجر بلام مفتوحة غالبا، نحو: يا لزيد، للمظلوم، ويا للْكِرَامِ لِلْمُحْتَاجِينَ.
۲۔ أن يختم بألف زائدة نحو: يا قوما للمظلوم
۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من لام مفتوحة، وألف زائدة نحو: يا قوم للمظلوم.
يخالف المستغات به المنادى في أنه يصح أن يكون مقترنا بـ " أل " نحو: يا للأطباء للمصابين ولا يصح ذلك في المنادى، كما سبق في بيان الوجهين في نداء الاسم لمقترن بـ آل" في الهامش)
حكم المستغاث له ولامه:
إن ذكر المستغاث له في الكلام وجب جره باللام، وهذه اللام تكون مكسورة إذا كان المستغاث له اسما ظاهرا كالأمثلة السابقة، أو ياء المتكلم نحو: يا لزيد لي، وإذا كان ضميرا غير ياء المتكلم تكون مفتوحة، نحو: يا لمحمد لك، أو له.
ويجوز الجر بـ " من " إذا كان مستغاثا منه، لا مستغاثا له، نحو: يالقومي للمظلوم من الطغاة الجائرين.
حكم المتعجب منه :
يلحق بالمستغاث به المتعجب منه الذي ضمن معنى التعجب من ذاته أو صفته . فيجرى مجرى المستغاث به في كل أحكامه فتدخل عليه اللام، نحو قولك یاللماء. (اذا تعجبت من وجوده، أو من كثرته) و يا للدواهي(إذا تعجبت من عظمها)
٢ - الندبة
الندبة: هي نداء المتوجع عليه ، أو المتوجع منه أو المتوجع لله و أداتها " وا" أو "يا مثال الأول: وا أماه والثاني واكبداه، والثالث: وامصيبتاه.
ولا يجوز حذف المندوب ولا أداة الندیة:
يكون المندوب كالمنادى في الإعراب، فيبنى على الضم في نحو وايوسف، وينصب في نحو: وا أمير المومنين الخ
حالات المندوب:
للمندوب ثلاث حالات
۱۔ أن يختم بألف زائدة، نحو واكبدا.
٢۔ أن يختم بالألف الزائدة مع هاء السكت الساكنة عند الوقف نحو: وايوسفاه
۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من الألف الزائدة وهاء السكت، نحو: وايوسف، ووا أمير المؤمنين
۳۔ الترخيم
الترخيم: هو حذف آخر المنادى تخفيفا، فيقال له المنادى المرخم والترخيم يجوز في نوعين من الأسماء:
ا۔ الاسم المختوم بتاء التأنيث، سواء أكان علما أو غير علم، مثال العلم يا فاطم (أصله : يا فاطمة) ومثال غير العلم يا جاري (أصله : يا جارية)
۲۔ العلم المذكر أو المؤنث بشرط أن يكون غير مركب، زائدا على ثلاثة أحرف مثال العلم المذكر : يا جعف (أصله : يا جعفر ) ومثال العلم المؤنث : يا سلم (أصله: يا سلمی)
الترخيم: إما أن يحذف فيه حرف واحد، وهو الأكثر كما تقدم، أو حرفان وهو قليل نحو: يا عُثُم ( أصله : يا عثمان)
يمتنع ترخيم المستغاث به والمندوب والنكرة غير المختومة بالتاء، والمضاف والشبيه بالمضاف، والمبني قبل النداء، والمركب الإسنادي
لغتان في المنادي المرخم
يجوز في المرخم لغتان
۱۔ ترك آخره بعد الحذف على ما كان عليه من الحركة قبل الحذف كما سبق في الأمثلة، وهو الأشهر.
۲۔ تحريك آخره بعد الحذف بحركة الحرف المحذوف، فتقول: يا جعف بعد الترخيم في "يا جعفر و يا فاطم بعد الترخيم في "يا فاطمة"
فصل المنادی
منادی: وہ ظاہر اسم ہے جسے کسی حرف نداء (یعنی پکارنے کے حرف) کے ذریعے بلایا جاتا ہے تاکہ اس کی طرف توجہ دلائی جائے۔ جیسے: "يا عبد الله" (اے عبد الله) یا "يا محمد" (اے محمد)۔
حروف نداء (یعنی پکارنے کے حروف) سات ہیں:
1. أي (قریب سے نداء کے لیے)
2. الہمزة (قریب سے نداء کے لیے)
3. أيا (دور سے نداء کے لیے)
4. هيا (دور سے نداء کے لیے)
5. آ (دور سے نداء کے لیے)
6. يا (ہر قسم کے منادی کے لیے)
7. وا (ندبہ کے لیے)
لفظ "اللّٰه" کو نداء میں صرف "يا" کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور استغاثہ یا نداء میں "أي" اور "أية" کے لیے بھی یہی حرف استعمال ہوتا ہے۔
منادی کے اقسام
منادی دو قسم کا ہوتا ہے:
1. منصوب:
- اگر منادی مضاف ہو، یا شبیہ بالمضاف ہو، یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو اسے منصوب کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں منادی کو حرف نداء نصب کرتا ہے جو دراصل ایک محذوف فعل نداء کی جگہ آتا ہے۔ مثالیں:
- "يا عبد الله" (عبد اللہ منادی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے)
- "يا طالبي العلم" (طالب علم منادی ہیں اور جمع مذكر سالم ہونے کی وجہ سے نصب پر ہیں)
- "يا رجلا" (رجل نکرہ غیر مقصودہ ہے اور منصوب ہے)
2. مبنی:
- اگر منادی مفرد علم ہو یا نکرہ مقصودہ ہو، تو اسے رفع کے اصولوں کے مطابق مبنی کیا جاتا ہے۔ مثالیں:
- "يا محمد" (محمد علم ہے اور مبنی على الضم ہے)
- "يا بائع" (بائع نکرہ مقصودہ ہے اور مبنی على الضم ہے)
- "يا شرطيان" (شرطيان مثنیٰ ہے اور مبنی على الألف ہے)
- "يا مجتهدون" (مجتهدون جمع مذكر سالم ہے اور مبنی على الواو ہے)
منادی کے ساتھ تین اضافی صیغے
استغاثہ:
استغاثہ کسی شخص کا دوسرے کو پکارنا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے کسی سختی سے نجات دلائے یا کسی تکلیف کو دور کرنے میں مدد کرے، جیسے: "یا لَزَیدُ للمظلوم"۔
جس سے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث بہ" کہا جاتا ہے، اور جس کے لیے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث لہ" کہا جاتا ہے۔
استغاثہ کے لیے صرف "یا" حرف ندا استعمال ہوتا ہے اور اسے حذف کرنا جائز نہیں، نہ ہی مستغاث بہ کو حذف کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستغاث لہ کو حذف کرنا جائز ہے، جیسے: "یا لزید"۔
مستغاث بہ کے اوزان:
مستغاث بہ کے تین اوزان ہوتے ہیں:
لام مفتوحہ کے ساتھ جر:
جیسے: "یا لَزیدُ للمظلوم"، "یا للکِرَامِ للمحتاجین"۔
آخر میں زائدہ الف کے ساتھ:
جیسے: "یا قوما للمظلوم"۔
مندرجہ بالا اضافات کے بغیر، عام منادی کی طرح:
جیسے: "یا قوم للمظلوم"۔
فرق بین المنادی والمستغاث بہ:
منادی کے برعکس، مستغاث بہ میں "أل" کے ساتھ آنا جائز ہے، جیسے: "یا للأطباء للمصابین"۔
جبکہ منادی میں "أل" کے ساتھ ندا جائز نہیں۔
مستغاث لہ اور اس کی لام کا حکم:
اگر مستغاث لہ کو ذکر کیا جائے تو اسے لام کے ساتھ مجرور کرنا لازم ہے۔
اگر اسم ظاہر ہو یا ياء المتکلم ہو تو لام مکسورہ ہوگی، جیسے: "یا لزید لي"۔
اگر ضمیر ہو (سوائے ياء المتکلم کے) تو لام مفتوحہ ہوگی، جیسے: یا لمحمد لك" یا "یا لمحمد له"۔
اگر استغاثہ کسی سے نجات کے لیے ہو (کسی کے خلاف مدد مانگنا ہو) تو "من" کے ساتھ ذکر کیا جا سکتا ہے، جیسے:
"یا لقومی للمظلوم من الطغاة الجائرین"۔
متعجب منہ کا حکم:
وہ الفاظ جو کسی چیز کے وجود یا اس کی شدت پر تعجب کے لیے آتے ہیں، ان پر بھی استغاثہ کے احکام لاگو ہوتے ہیں، جیسے:
"یا للماءِ" (اگر پانی کے ہونے پر تعجب ہو یا اس کی کثرت پر)
"یا للدواهي" (اگر مصیبتوں کی شدت پر تعجب ہو)۔
۲۔ ندبہ:
ندبہ وہ ندا ہے جو کسی تکلیف پر افسوس، کسی کے لیے غم، یا اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے کی جاتی ہے۔
اس کی دو ادوات ہیں: "وا" اور "یا"۔
مثالیں:
جس پر افسوس ہو:
"وا أماه" (اے میری ماں!)
جس سے تکلیف محسوس ہو:
"واکبداه" (ہائے جگر!)
اللہ کے لیے ندبہ:
"وامصيبتاه" (ہائے مصیبت!)
ندبہ میں حذف جائز نہیں:
نہ تو مندوُب (جس پر ندبہ کیا جا رہا ہو) کو حذف کرنا جائز ہے، نہ ہی ادات ندبہ کو۔
مندوُب کی اعرابی حالت:
اگر مفرد نکرہ ہو تو مبنی بر ضم ہوگا: "وا يوسفُ"
اگر مضاف ہو تو منصوب ہوگا: "وا أميرَ المؤمنين"۔
مندوُب کی تین حالتیں:
آخر میں زائدہ الف: جیسے: "واکبدا"۔
زائدہ الف کے ساتھ ہاء السکت: جیسے: "وا يوسفاه"۔
بغیر کسی اضافے کے:
جیسے: "وا يوسف"، "وا أمير المؤمنين"۔
۳۔ ترخیم:
ترخیم ندا میں آخری حرف کو حذف کرنے کو کہتے ہیں تاکہ لفظ ہلکا ہو جائے۔
جس منادی میں ترخیم کیا جائے اسے "منادی مرخم" کہا جاتا ہے۔
ترخیم کے جواز کی صورتیں:
تاء تانیث پر ختم ہونے والے الفاظ (چاہے علم ہو یا عام اسم):
علم: "یا فاطم" (اصل: یا فاطمة)۔
عام اسم: "یا جاري" (اصل: یا جارية)۔
غیر مرکب علم (زیادہ تر تین حروف سے زیادہ):
مذکر: "یا جعف" (اصل: یا جعفر)۔
مؤنث: "یا سلم" (اصل: یا سلمی)۔
ترخیم کی دو صورتیں:
ایک حرف حذف کرنا (یہ زیادہ عام ہے)
جیسے: "یا فاطم" (یا فاطمة)۔
دو حروف حذف کرنا (یہ کم ہوتا ہے)
جیسے: "یا عثم" (یا عثمان)۔
ترخیم ممنوع ہے:
مندرجہ ذیل صورتوں میں ترخیم جائز نہیں:
مستغاث بہ
مندوب
نکرہ غیر مختوم بتاء
مضاف
شبیہ بالمضاف
مرکب اسنادی
وہ الفاظ جو قبل الندا مبنی ہوں
ترخیم میں دو زبانیں: حذف کے بعد آخری حرف کی حرکت برقرار رکھنا (یہ زیادہ مشہور ہے)، جیسے: "یا جعف" (یا جعفر)
"یا فاطم" (یا فاطمة)
حذف کے بعد آخری حرف کو حذف شدہ حرف کی حرکت دینا، جیسے:
"یا جعَفُ" (یا جعفرَ)
"یا فاطِمُ" (یا فاطمةَ)
المفصلالمفصل۔ سبق:۱۲
المنادى
ومن المنصوب باللازم إضماره المنادى لأنك إذا قلت يا عبد الله فكأنك قلت يا أريد أو أعنني عبد الله. ولكنه حذف لكثرة الإستعمال وصاريا بدلاً منه.
ولا يخلو من أن ينتصب لفظاً أو محلاً. فانتصابه لفظاً إذا كان مضافاً كعبد الله أو مضارعاً له كقولك يا خيراً من زيد و يا ضارباً زيداً ويا مضروباً غلامه ويا حسناً وجه الأخ ويا ثلاثة وثلاثين ، أو نكرة كقوله:
فيا راكباً إما عرضت فبلغا تداماي من نجران ألا تلاقيا
وانتصابه محلاً إذا كان مفرداً معرفة كقولك يا زيد و يا غلام ويا أيها الرجل أو داخلة عليه لام الإستغاثة أو لام التعجب كقوله:
يا لعطافنا ويا للرياح وأبي الحشرج الفتى النفاح
وقولهم يا للماء ويا للدواهي. أو مندوباً كقولك يا زيداه.
باقی عبارت پڑھیں (54)
حكم توابع المنادى:
توابع المنادى المضموم غير المبهم إذا أفردت حملت على لفظه ومحله كقولك يا زيد الطويل والطويل، ويا تميم أجمعون وأجمعين، ويا غلام بشر وبشراً، ويا عمرو الحارث والحارث، وقرئ والطير رفعا ونصباً إلا البدل، ونحو زيد وعمرو من المعطوفات فإن حكمهما حكم المنادي بعينه تقول يا زيد زيد ويا زيد وعمرو بالضم لا غير وكذلك يا زيد أو عمر ويا زيد لا عمرو أو إذا أضيفت كقولك يا زيد ذا الجمة وقوله:
أزيد أخا ورقاء كنت ثائراً فقد عرضت أحناء أمر فخاصم
و یا خالد نفیسه، و يا تميم كلهم و يا بشر صاحب عمرو، ويا غلام أبا عبد الله ويا زيد عبد الله . والوصف بابن وابنة كالوصف بغيرهما إذا لم يقعا بين علمين فإن وقعا أتبعت حركة الأول حركة الثاني كما فعلوا في ابن وامرئ تقول يا زيد ابن أخينا ويا هند ابنة عمنا ويا زيد بن عمرو ويا هند ابنة عاصم. وقالوا في غير النداء أيضاً إذا وصفوا هذا زيد بن أخينا وهند ابنة عمنا، وهذا زيد ابن عمرو، وهند ابنة عاصم، وكذلك النصب والجر. فإذا لم يصفوا فالتنوين لا غير وقد جوزوا في الوصف التنوين في ضرورة الشعر كقوله:
جارية من قيس بن ثعلبة
المنادي المبهم:
والمنادي المبهم شيئان أي واسم الإشارة. فأي يوصف بشيئين بما فيه الألف واللام مقحمة بينهما كلمة التنبيه وباسم الإشارة، كقولك يا أيها الرجل، ويا أيهذا. قال ذو الرمة:
ألا أيهذا الباخع الوجد نفسه لشيء تحته عن يديه المقادر
واسم الإشارة لا يوصف إلا بما فيه الألف واللام كقولك يا هذا الرجل ويا هؤلاء الرجال. وأنشد سيبويه الخزز بن لوذان.
یا صاح يا ذا الضامر العنس
ولعبيد ابن الأبرص:
يا ذا المخوفنا بمقتل شيخه حجر تمني صاحب الأحلام
وتقول في غير الصفة يا هذا زيد وزيداً ويا هذان زيد وعمرو وزيداً وعمراً وتقول يا هذا ذا الجمة على البدل.
حكم المنادي المعرف بأل:
ولا ينادي ما فيه الألف واللام إلا الله وحده لأنهما لا تفارقانه كما لا تفارقان النجم مع انهما خلف عن همزة إله. وقال:
من اجلك يا التي تيمت قلبي وأنت بخيلة بالوصل عني
حكم المنادي المكررة
وإذا كرر المنادي في حال الإضافة ففيه وجهان أحدهما أن ينصب الإسمان معاً كقول جرير :
یا تيم تيم عدي أبا لكم يلقينكم في سوءة عمر
وقول بعض ولده
یا زید زيد اليعملات الذبل تطاول الليل عليك فأنزل
والثاني أن يضم الأول:
حكم المنادي المضاف إلى ياء المتكلم
وقالوا في المضاف إلى ياء المتكلم يا غلامي و يا غلام و يا غلاماً وفي التنزيل" يا عباد فاتقون" وقرئ يا عبادي. ويقال يا رباً تجاوز عني. وفي الوقف يا رباه غلاماه والتاء في يا أبة ويا أمة تاء تأنيث عوضت عن الياء ألا تراهم يبدلونها هاء في الوقف وقالوا يا ابن أمي ويا ابن عمي ويا ابن أم ويا ابن عم ويا ابن أم ويا ابن عم. وقال أبو النجم:
يا ابنة عما لا تلومي واهجعي ألم يكن يبيض لو لم يصلع
جعلوا الأسمين كاسم واحد.
حكم المندوب:
ولا بد لك في المندوب من أن تلحق قبله يا أو وا وأنت في إلحاق الألف في آخره مخير فتقول وازيد. والهاء اللاحقة بعد الألف للوقف خاصة دون الدرج. ويلحق ذلك المضاف إليه فيقال وا أمير للمؤمنيناه. ولا يلحق الصفة عند الخليل فلا يقال وازيد الظريفاه ويلحقها عند يونس. ولا يندب إلا الأسم المعروف فلا يقال وارجلاه ولم يستقبح، وا من حفر بئر زمزماه لأنه بمنزلة واعبد المطلباه.
ويجوز حذف حرف النداء عما لا يوصف به أي. قال الله تعالى: " يوسف أعرض عن هذا وقال: " رب أرني أنظر إليك". وتقول أيها الرجل وأيتها المرأة، ومن لا يزال محسناً أحسن إلي. ولا يحذف عما يوصف به أي فلا يقال رجل ولا هذا. وقد شذّ قولهم أصبح ليل وفتد مخنوق، وأطرق كراً.
وجاري لا تستنكري عذيري
ولا عن المستغاث والمندوب وقد التزم حذفه في اللهم لوقوع الميم خلفاً عنه.
الاختصاص:
وفي كلامهم ما هو على طريقة النداء ويقصد به الإختصاص لا النداء، وذلك قولهم أما أنا فأفعل كذا أيها الرجل، ونحن نفعل كذا أيها القوم، اللهم اغفر لنا أيتها العصابة . جعلوا أياً مع صفته دليلاً على الإختصاص والتوضيح، ولم يعنوا بالرجل القوم والعصابة إلا انفسهم وما كنوا عنه بأنا ونحن والضمير في لنا. كأنه قيل أما أنا فأفعل كذا متخصصاً بذلك من بين الرجال، ونحن نفعل متخصصين من بين الأقوام، واغفر لنا مخصوصين من العصائب. ومما يجري هذا المجرى قولهم إنا معشر العرب نفعل كذا.
ونحن آل فلان كرماء. وإنا معشر الصعاليك لا قوة بنا على المروة. إلا أنهم سرغوا دخول اللام ههنا فقالوا نحن العرب أقرى الناس للضيف. وبك الله نرجو الفضل وسبحانك الله العظيم. ومنه قولهم الحمد الله الحميد. والملك لله أهل الملك. وأتاني زيد الفاسق الحبيث. وقرئ حمالة الحطب. ومررت به المسكين والبائس. وقد جاء نكرة في قول الهذلي:
ويأوي إلى نسوة عطل وشعثاً مراضيع مثل السعالي
وهذا الذي يقال فيه نصب على المدح والشتم والترحم.
الترخيم:
ومن خصائص النداء الترخيم إلا إذا اضطر الشاعر فرحم في غير النداء. وله شرائط إحداهها أن يكون الأسم علماً. والثانية أن يكون غير مضاف والثالثة أن لا يكون مندوبا ولا . مستغاثاً. والرابعة أن تزيد عدته على ثلاثة أحرف إلا ما كان في آخره تاء تأنيث فإن العلمية والزيادة على الثلاثة فيه غير مشروطتين. يقولون يا عاذل، ويا جاري، لا تستنكري ويا ثب اقبلي و يا شا ارجني، وأما قولهم يا صاح وأطرق كراً فمن الشواذ.
والترخيم حذف في التقدير وهو الكثير، أو يجعل ما بقي كأنه اسم برأسه فيعامل بما تعامل به سائر الأسماء. فيقال على الأول يا حار، ويا هرق، ويا لمو، ويا بنو في المسمى ببنون وعلى الثاني يا حار، ويا هرق ويا ثمى ويا بني.
ولا يخلو المرخم من أن يكون مفرداً أو مركباً فإن كان مفرداً فهو على وجهين أحدهما أن يحذف منه حرف واحد كما ذكرت لك.
والثاني أن يحذف منه حرفان، وهما على نوعين إما زيادتان في حكم زيادة واحدة كاللتين في أعجاز أسماء ومروان وعثمان وطائفي. وإما حرف صحيح ومدة قبله وذلك في نحو منصور وعمار ومسكين. وإن كان مركباً حذف آخر الأسمين بكماله فقيل يا بخت و یا عمرو ويا سيب ويا خمسة في بخت نصر وعمرويه وسيبويه والمسمى بخمسة عشر. وأما نحو تأبط شراً وبرق نحره فلا يرخم.
حذف المنادي.
وقد يحذف المنادي فيقال يا بؤس لزيد بمعنى يا قوم بؤس لزيد ومن أبيات الكتاب:
يا لعنة الله والأقوام كلهم والصالحون على سمعان من جار
وفي التنزيل " ألا يا اسجدوا
2 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
3 مفعول بہ
مفعول بہ کی تعریف:
مفعول بہ ایک اسم ہوتا ہے جس پر فاعل کا عمل (فعل) واقع ہوتا ہے۔ یہ وہ اسم ہے جو حالت نصب میں آتا ہے اور فاعل کے فعل کا براہ راست اثر قبول کرتا ہے۔ مفعول بہ کو کسی واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی؛ یعنی یہ براہ راست فعل کے ساتھ جڑتا ہے۔
مثال کے طور پر: قرأ علیٌ الکتابَ"علی نے کتاب پڑھی"
یہاں "الکتاب" مفعول بہ ہے، کیونکہ فاعل (علی) کا فعل (پڑھنا) اس پر براہ راست واقع ہوا ہے۔
مفعول بہ کا عمل:
مفعول بہ کا بنیادی عمل یہ ہے کہ وہ فعل کا اثر یا نتیجہ بیان کرتا ہے، یعنی فاعل نے کیا کام کس پر انجام دیا۔ مفعول بہ فعل کے ساتھ جڑا ہوتا ہے اور اس کے بغیر جملے کا مفہوم نامکمل رہتا ہے۔
مفعول بہ کے عمل کی وضاحت:
1. فعل کی تکمیل:
مفعول بہ جملے کے معنی کو مکمل کرتا ہے۔ فعل کا مقصد تبھی واضح ہوتا ہے جب مفعول بہ جملے میں شامل ہو۔
مثال: قرأ طالبٌ- "طالب علم نے پڑھا" (یہ جملہ نامکمل ہے)
- قرأ طالبٌ الکتابَ"طالب علم نے کتاب پڑھی" (مفعول بہ "کتاب" نے جملے کا مفہوم مکمل کیا)۔
2. نصب کی حالت:
مفعول بہ عموماً حالت نصب میں ہوتا ہے، یعنی اس پر زبر کی علامت (فتحة) لگتی ہے یا بعض حالات میں یاء کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، جیسے مثنی اور جمع کی صورت میں۔
3. تعدد:
مفعول بہ ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔ کچھ افعال صرف ایک مفعول بہ کو لیتے ہیں، جبکہ کچھ افعال دو یا تین مفعول بہ کو قبول کرتے ہیں، جیسے:
- "عَلَّمَ الأُسْتَاذُ الطَّالِبَ الدَّرْسَ (استاد نے طالب علم کو سبق سکھایا)"
یہاں دو مفعول بہ ہیں: "الطَّالِبَ" اور "الدَّرْسَ "۔
مفعول بہ کی اقسام:
1. مفعول بہ ظاہر :
وہ مفعول بہ جو جملے میں واضح طور پر موجود ہو، جیسے: - قرأ علیٌّ الکتابَ"علی نے کتاب پڑھی" یہاں "کتاب" مفعول بہ ظاہر ہے۔
2. ضمیر کی شکل میں مفعول بہ:
کبھی مفعول بہ ضمیر کی صورت میں ہوتا ہے، جیسے: - رأیتہ"میں نے اسے دیکھا" یہاں "ضمیر«ہ» مفعول بہ ہے، جو ضمیر کی صورت میں آیا ہے۔
مفعول بہ کی تقدیم و تاخیر:
عموماً مفعول بہ فعل اور فاعل کے بعد آتا ہے، لیکن بعض اوقات اسے زور دینے کے لیے یا کسی خاص معنی کو واضح کرنے کے لیے فعل یا فاعل سے پہلے بھی لایا جا سکتا ہے۔
خلاصہ:
مفعول بہ وہ اسم ہے جو فعل کا براہ راست اثر قبول کرتا ہے اور حالت نصب میں ہوتا ہے۔ یہ جملے کے مفہوم کو مکمل کرتا ہے اور فعل کی وضاحت کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
4 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۶
المَفْعُولُ بِهِ اسمٌ مَنْصُوبٌ وَقَعَ عليه فِعْلُ الفاعِلِ.
مفعول بہ وہ منصوب اسم ہے جس پر فاعل کا فعل واقع ہو۔
الامثله
شَدَّتِ التِّلْمِيذَةُ الحَبْلَ
طَوَتِ البِنْتُ الثَّوْبَ
أَكَلَ الذِّئْبُ الخَرُوفَ
يَرْبَحُ السَّابِقُ جَائِزَةً
يَصِيدُ الثَّعْلَبُ دَجَاجَةً
يَبِيعُ القَصَّابُ اللَّحْمَ
5 تیسیر النحو۔ سبق:۱۲
۔ فصل المفعول به
المفعول به هو اسم منصوب يدل على ما وقع عليه فعل الفاعل، من غير واسطة . ولم تغير لأجله صورة الفعل ، نحو: يطلب العاقل العلم ،العلم: مفعول به منصوب بالفتحة) وتكرم الدولة المتفوقين (المتفوقين مفعول به منصوب بالياء)
أنواع المفعول به
ويكون المفعول به
(۱) إما اسما ظاهراء نحو: يطلب العاقل العلم
(ب) أو ضميرا متصلا ، نحو: هداك الله (ك: ضمير منصوب متصل بالفعل)
(ج) أو ضميرا منفصلا، نحو: قوله تعالى :( إياك نعبد واياك نستعين) (ف اياک فی موضعين ضمير منصوب منفصل)
(د) أو مصدرا مؤولا ، نحو: عرفت أنك مجتهد ( فالمصدر المؤول من أن واسمها وخبرها أي اجتهادک، هو المفعول به
لـ عرفت )
والناصب للمفعول به فعل، أو شبهه والأصل في ذلك الناصب أن يكون مذكورا۔
وقد يحذف جوازا ووجوبا. يجوز حذف الناصب قياسا لقرينة لفظية نحو: "زيدا" في جواب من قال: من ضربت ؟ أي : ضَرَبَتُ زيداً، أو قرينة معنوية . نحو: "مكة" لمن تأهب للحج، أي: تريد مكة. يجب حذف الناصب سماعا في الأمثال التي تجري على ما هي عليه بدون تغيير نحو قولهم : أحشفاً وسوء كيلة ، أي : أتبيع حشفا وتكيل سوء كيلة
ويجب حذفه سماعا فيما أشبه الأمثال في كثرة الاستعمال، نحو: أهلا وسهلا ، أي : أتيت أهلا ونزلت مكانا سهلا، ونحو قوله تعالى : انتهوا خيرا لكم أي: واعملوا خير الكم.
ويجب حذفه قياسا في أساليب معينة من الاختصاص، والإغراء، والتحذير، وستأتي تفاصيله في مبحث الأساليب.
حذف المفعول به
الأصل في المفعول به أن يكون مذكورا لكونه مقصودا لإتمام المعنى.
وقد يحذف جوازا
(۱) إذا دل عليه دليل، نحو: رعت الماشية : أي عشبا
(ب) أو كان معروفا، نحو: شرب سليم فسكر: أي شرب الخمر
(ج) ويحذف أيضاً طلبا للاختصار، نحو: يغفر الله لمن يشاء: أي يغفر الذنوب
تعدد المفعول به
المفعول به قد يكون واحدًا، وقد يكون متعددا حسب الأفعال المتعدية التي تنقسم إلى أربعة أنواع:
ا۔ نوع ينصب مفعولا واحدا، نحو: فهمت الدرس
۲۔ ونوع ينصب مفعولين أصلهما مبتدأ وخبر، وهو جميع أفعال القلوب وإفعال التصيير والتحويل مثال أفعال القلوب ظننت زيدًا عالما، ومثال إفعال التصيير جعل الطباخ العجين خبزا.
۳۔ ونوع ينصب مفعولين ليس أصلهما مبتدأ وخبرا نحو أعطيت زيدا درهما. ونوع ينصب ثلاثة مفاعيل، نحو: أعلم الأستاذ التلاميذ زيدا ناجحا.
المفعول به يكون صريحا وغير صريح
فالمفعول به الصريح: ما وصل إليه فعله مباشرة (أي بغير واسطة حرف الجر) وهذا هو المقصود بالمفعول به في الاصطلاح النحوي، نحو: فهمت الدرس
والمفعول به غير الصريح: ما وصل إليه فعله بواسطة حرف الجر، نحو: ذهبت بسليم (بسليم يعتبر مفعولا به في المعنى، لا في اللفظ والاصطلاح)
تقدم المفعول به على الفعل
الأصل في المفعول به التأخر عن الفعل والفاعل، وقد يقدم على الفاعل جواز ووجوبا كما تقدم في مبحث الفاعل.
وقد يقدم على الفعل والفاعل جوارًا، نحو قوله تعالى : (ففريقا كذبتم وفريقا تقتلون) البقرة ۸۷ ( فريقا في الموضعين مقدم على الفعل والفاعل جوازا، لأنه لو كان كلاما غير إلهي لجاز فيه تأخير المفعول به، فيقال: كذبتم فريقا وتقتلون فريقا)
وقد يقدم عليهما وجوبا فيما يلي:
ا۔ إن كان اسماله الصدارة في جملته، كأن يكون اسم استفهام، أو اسم شرط - نحو: من قابلت ؟ أي رجل تكرم أكرم ... وكذلك إن كان مضافا إلى اسم له الصدارة، نحو: صديق من قابلت ؟ صاحب أي رجل تكرم أكرم.
۲۔ كذلك يجب تقديمه عليهما إن كان ضميرا منفصلا لأنه لو تأخر عن عامله لوجب اتصاله به نحو إياكم نخاطب، فلو تأخر المفعول به (إياكم) لا تصل بالفعل وصار الكلام: نخاطبكم، فيضيع الغرض البلاغي من التقديم وهو الحصر.
۳۔ وكذلك يجب تقديمه إذا كان عامله مقرونا بفاء الجزاء في جواب "أما الشرطية ، ولا يوجد اسم يفصل بين هذا العامل و"أما" فيجب تقديم المفعول به ليكون فاصلا: لأن الفعل خاصة المقرون بفاء الجزاء - لا يلي "أما" الشرطية، نحو قوله تعالى: (فأما اليتيم فلا تقهر وأما السائل فلا تنهر) اليتيم، مفعول به مقدم لـ فلا تقهر والسائل، مفعول به مقدم لـ فلا تنهر)
مفعول بہ
مفعول بہ وہ اسم ہوتا ہے جو حالت نصب میں ہوتا ہے اور جس پر فاعل کا فعل واقع ہوتا ہے، بغیر کسی واسطے کے۔ اور فعل کی شکل اس کے لیے نہیں بدلی جاتی، جیسے:
- "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے) یہاں "العلم" مفعول بہ ہے جو حالت نصب میں ہے اور اس پر فتحہ کی علامت ہے۔
- "تکرم الدولة المتفوقین" (ریاست کامیاب لوگوں کی عزت کرتی ہے) یہاں "المتفوقین" مفعول بہ ہے اور نصب کی علامت یاء ہے۔
مفعول بہ کی اقسام:
1. اسم ظاہر: ایسا اسم جو کھلے طور پر مفعول بہ ہو، جیسے: "یطلب العاقل العلم" (عقل مند علم کی طلب کرتا ہے)۔
2. ضمیر متصل: وہ ضمیر جو فعل کے ساتھ جڑا ہو، جیسے: "ھداك الله" (اللہ تمہیں ہدایت دے)۔
یہاں "ك" ضمیر مفعول بہ ہے جو فعل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
3. ضمیر منفصل: وہ ضمیر جو فعل سے الگ ہو، جیسے: "إياك نعبد" (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں)۔
یہاں "إياك" ضمیر مفعول بہ ہے۔
4. مصدر مؤول: - ایسا مصدر جو "أن" اور اس کے بعد اسم اور خبر پر مشتمل ہو، جیسے: "عرفت أنك مجتهد" (میں نے جانا کہ تم محنتی ہو)۔ یہاں "أنك مجتهد" پورا جملہ مفعول بہ کے طور پر ہے۔
مفعول بہ کے عامل:
مفعول بہ کو نصب دینے والا عموماً فعل ہوتا ہے، یا اس کے مشابہ کوئی کلمہ۔ اصل یہ ہے کہ فعل (یا عامل) کا ذکر کیا جائے، مگر بعض اوقات اس کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے، جوازاً یا وجوباً۔
جوازاً:
- اگر کوئی قرینہ ہو جو معنی واضح کر دے، جیسے: "زیدا" جواب میں جب پوچھا جائے: "من ضربت؟" (تم نے کس کو مارا؟)
مطلب: "ضربتُ زیداً" (میں نے زید کو مارا)۔
وجوباً:
- بعض مقامات میں سماعاً عامل کو حذف کرنا لازمی ہو جاتا ہے، جیسے: "أحشفا وسوء كيلة" (کیا تم خراب کھجور بیچتے ہو اور ناپ بھی غلط کرتے ہو؟)۔ یہاں مطلب ہے: "أتبيع حشفاً وتكيل سوء كيلة"۔
مفعول بہ کا حذف:
مفعول بہ کو عام طور پر ذکر کیا جاتا ہے، کیونکہ وہ معنی کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، بعض صورتوں میں مفعول بہ کو حذف بھی کیا جا سکتا ہے:
1. اگر کوئی دلیل ہو، جیسے:
"رعت الماشية" (مویشی نے چر لیا) یہاں مطلب ہے کہ اس نے "عشب" (گھاس) چر لیا۔
2. اگر وہ معروف ہو، جیسے:
"شرب سلیم فسكر" (سلیم نے پیا اور نشہ کر گیا) یہاں مراد ہے کہ اس نے شراب پی۔
3. اختصار کے لیے، جیسے:
"يغفر الله لمن يشاء" (اللہ جسے چاہے معاف کرے)۔ یہاں مراد ہے کہ اللہ گناہ معاف کرتا ہے۔
مفعول بہ کی تعداد:
مفعول بہ ایک یا زیادہ ہو سکتے ہیں، یہ فعل کی نوعیت پر منحصر ہوتا ہے۔ فعل کی چار اقسام ہوتی ہیں:
1. ایک مفعول والا فعل: جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔
2.دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر شامل ہو: جیسے: "ظننت زیداً عالماً" (میں نے زید کو عالم سمجھا)۔
3. دو مفعول والا فعل، جس میں مبتدا اور خبر نہ ہو: جیسے: "أعطيت زيداً درهماً" (میں نے زید کو ایک درہم دیا)۔
4. تین مفعول والا فعل: جیسے: "أعلم الأستاذ التلاميذ زيداً ناجحاً" (استاد نے طلباء کو بتایا کہ زید کامیاب ہے)۔
مفعول بہ کی اقسام (صریح اور غیر صریح):
- مفعول بہ صریح: وہ مفعول بہ جو براہ راست فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "فهمت الدرس" (میں نے سبق سمجھا)۔
- مفعول بہ غیر صریح: وہ مفعول بہ جو حرفِ جر کے ذریعے فعل کا اثر قبول کرتا ہے، جیسے: "ذهبت بسليم" (میں سلیم کے ساتھ گیا)۔ یہاں "بسليم" معنوی مفعول بہ ہے۔
مفعول بہ کا فعل سے پہلے آنا:
عموماً مفعول بہ فعل اور فاعل کے بعد آتا ہے، لیکن بعض حالات میں اسے فعل اور فاعل سے پہلے لانا لازمی ہوتا ہے، جیسے کہ فاعل کی بحث میں پڑھ چکے ہیں اور اسی طرح مفعول بہ کو کبھی جوازا بھی مقدم کیا جاتا ہے جیسے: فریقا کذبتم و فریقا تقتلون (یہاں فریقا دونوں جگہ مفعول مقدم ہے جوازی طور پر )
مفعول بہ کو وجوبی طور پر مقدم کیا جاتا ہے :
1. اگر وہ سوالیہ یا شرطیہ کلمہ ہو: جیسے: "من قابلت؟" (تم نے کس سے ملاقات کی؟)۔
2. اگر مفعول بہ ضمیر منفصل ہو: جیسے: "إياكم نخاطب" (ہم تم سے مخاطب ہیں)۔
3. اگر فاءِ جزا والا عامل ہو: جیسے: "فأما اليتيم فلا تقهر" (تو یتیم پر ظلم نہ کرو)۔ یہاں "اليتيم" مفعول بہ ہے اور فعل سے پہلے لایا گیا ہے۔
6 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۵
مفعول بہ وہ اسم ہے جس پر فعل کا اثر ظاہر ہو۔ جیسے : قَتَلَ الْوَلَدُ الْحَيَّةَ لڑکے نے سانپ کو مار ڈالا، اس جملہ میں مارنے والا لڑکا ہے سو وہ فاعل ہے اور قتل سانپ کا ہوا ہے اس لئے وہ مفعول بہ ہے۔
مفعول به ہمیشہ منصوب ہوتا ہے۔ جیسے : فَتَحَ الْوَلَدُ الْبَابَ لڑکے نے دروازہ کھولا اس مثال میں الْبَابَ مفعول بہ ہے اور منصوب ہے۔ اسی طرح :
رَأَيْتُ حَامِدًا میں نے حامد کو دیکھا
شَرِبَ الرَّجُلُ الْمَاءَ مرد نے پانی پیا
سألتِ المُدِيرَةُ زَيْنَبَ ہیڈ مسٹریس نے زینب سے پوچھا
سَأَلَ الْوَلَدُ أُمَّهُ لڑکے نے اپنی ماں سے سوال کیا
نوٹ : آخری مثال میں مفعول بہ اُم ہے اور ضمیر ، اسکا حصہ نہیں ہے اسی لئے نصب ام کی میم پر ظاہر ہوا۔ اسی طرح
رَأَيْتُ بَيْنَكَ بَيْت + ك
فَتَحَ الطَّالِبُ كِتابه كِتَابَ + ہ :
اسم ظاہر کی طرح ضمیر بھی مفعول واقع ہوتی ہے۔ جیسے :
رَأَيْتُ بلالًا وَ سَأَلْتُهُ میں نے بلال کو دیکھا اور اس سے پوچھا
اگر تنوین والے اسم کے بعد کوئی ایسا اسم آجائے جو ہمزہ وصل سے شروع ہو رہا ہے تو تنوین کے نون کو کسرہ کے ساتھ پڑھیں گے۔ جیسے : شَرِبَ حَامِدٌ الْمَاءَ اس کو شَرِبَ حَامِدُ نِ الْمَاء پڑھیں گے . اس لئے کہ تنوین کا نون ساکن ہے اور ( ہمزہ وصل گر جانے کے بعد ) ل بھی ساکن ہے،
اس کو التقاء الساكنين کہتے ہیں اور ساکن کے بعد ساکن کی ادائیگی دشوار ہے، اس لئے پہلے سکون کو کسرہ سے بدل دیا جاتا ہے۔ اسی طرح :
سَأَلَ بِلَالٌ ابْنَهُ کو سَأَلَ بلال ن ابنه اور
سَمِعَ فَيْصَلِّ الْأَذَانَ کو سَمِعَ فَيْصَلُ نَ الْأَذَانَ پڑھیں گے
7 المفصل۔ سبق:۱۱
المفعول بہ
هو الذي يقع عليه فعل الفاعل في مثل قولك ضرب زيد عمراً وبلغت البلد. وهو الفارق بين المتعدي من الأفعال وغير المتعدي . ويكون واحداً فصاعداً إلى الثلاثة على ما سيأتيك بيانه في مكانه إن شاء الله تعالى. ويجيء منصوباً بعامل مضمر مستعمل إظهاره أو لازم : إضماره المنصوب بالمستعمل إظهاره هو قولك لمن أخذ يضرب القوم، أو قال أضرب شر الناس زيداً بإضمار أضرب ولمن قطع حديثه حديثك، ولمن صدرت عنه أفاعيل البخلاء: أكل هذا بخلا، بإضمار هات وتفعل. ومنه قولك لمن ركنت أنه يريد مكة ورب الكعبة. ولمن سدد سهما القرطاس والله وللمستهلين إذا كبروا الهلال والله، تضمر يريد ويصيب وأبصروا، ولرائي الرؤيا خيراً وما سر، وخيراً لنا وشراً لعدونا أي رأيت خيراً. ولمن يذكر رجلاً. أهل ذلك وأهله أي ذكرت أهله. ومنه قوله:
لن تراها ولو تأملت إلا ولها في مفارق الرأس طيباً
أي وترى لها. ومنه قوله كاليوم رجلاً، بإضمار لم أر. قال أوس:
حتى إذا الكلاب قال لها كاليوم مطلوباً ولا طلبا
قال سبيويه وهذه حجج سمعت من العرب. يقولون اللهم ضبعاً وذئباً. وإذا قيل لهم ما يعنون، قالوا اللهم اجعل فيها ضبعاً وذئباً. وسمع أبو الخطاب بعض العرب وقيل له لم افسدتم مكانكم؟ فقال الصبيان بأبي أي لم الصبيان. وقيل لبعضهم أما بمكان كذا وجد؟ فقال بلى وجاذا أي أعرف به وجاذا .
8 تمارین
9 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۶
التَّمْرِين (۱)
اسْتَخْرِجْ مَفْعُولًا بِهِ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ:
۱. مَزَّقَ الغُلَامُ الوَرَقَ
۲. حَلَبَتِ الفَتَاةُ البَقَرَةَ
۳. أَيْقَظَ الرَّعْدُ النَّائِمَ
۴. أَكَلَ الحِمَارُ الفُولَ
۵. صَنَعَ النَّجَّارُ كُرْسِيًّا
۶. رَمَى الصَّيَّادُ الشَّبَكَةَ
۷. طَبَخَتِ المَرْأَةُ الطَّعَامَ
۸. أَبْصَرَ الرَّجُلُ الهِلَالَ
التَّمْرِين (۲)
ضَعِ الأَسْمَاءَ الآتِيَةَ في جُمَلٍ بحيثُ يَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا مَفْعُولًا بِهِ:
الثُّعْبَانَ - النَّافِذَةَ - الحِذَاءَ - كِتَابًا
الحَدِيقَةَ -البَلَحَ - الفَرَسَ - المَاءَ
التَّمْرِين (۳)
ضَعْ مَفْعُولًا بِهِ مُنَاسِبًا لِكُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ:
۱. أَكَلَ القِطُّ ...
۲. يَزْرَعُ الفَلَّاحُ ...
۳. يَبْنِي البَنَّاءُ ...
۴. مَزَّقَ الوَلَدُ ...
۵. تَخِيطُ البِنْتُ ...
۶. كَسَرَ الهَوَاءُ ...
۷. يَنْشُرُ النَّجَّارُ ...
۸. يَبِيعُ البَدَّالُ ...
۹. غَسَلَتِ المَرْأَةُ ...
التَّمْرِين (٤)
ضَعْ فَاعِلًا وَمَفْعُولًا بِهِ لِكُلِّ فِعْلٍ مِنَ الأَفْعَالِ الآتِيَةِ:
قَطَعَ - نَظَّفَ - أَكَلَ - يَحْمِلُ
يَغْسِلُ - احْتَرَمَ - عَاقَبَ - يَحْفَظُ
التَّمْرِين (٥)
اقْرَأِ الأَمْثِلَةَ السَّابِقَةَ وَبَيِّنْ عَدَدَ الكَلِمَاتِ في كُلِّ مِثَالٍ:
(الوَلَدُ - المَاءَ) (الرِّسَالَةَ - الخَادِمَ)
(السَّفِينَةَ - الهَوَاءَ) (الغَزَالَ - الأَسَدَ)
(الهِرُّ - اللَّحْمَ) (التِّلْمِيذُ - الدَّرْسَ)
التَّمْرِين (٦)
هَاتْ أَرْبَعَ جُمَلٍ يَكُونُ المَفْعُولُ بِهِ في الأُولَى مِنَ الإِنْسَانِ، وَفِي الثَّانِيَةِ مِنَ الحَيَوَانِ، وَفِي الثَّالِثَةِ مِنَ النَّبَاتِ، وَفِي الأَخِيرَةِ مِنَ الجَمَادِ.
التَّمْرِين في الإِنْشَاءِ (۷)
(۱) ھَاتِ خَمسَ جُمَلٍ تَکُونُ کَلِمَۃَ (اَلقَمْحُ) فِی کُلِّ مِنھَا مَفعُولًا بِہ
(۲) ھَاتِ خَمسَ جُمَلٍ تَکُونُ کَلِمَۃَ (اَلقُطنُ) فِی کُلِّ مِنھَا مَفعُولًا بِہ
تَمْرِين في الاعرَابِ (۸)
۱۔ نَمُوذَج
۱۔ حَمَلَ الجَمَلُ الحَطَبَ
حَمَلَ۔ فعلٌ ماض
الجَمَلُ۔ فاعلٌ مرفوعٌ
۲۔ یَاکُلُ الذِّئبُ الشَّاۃَ
یَاکُلُ۔ فعلٌ مضارعٌ
الذِّئبُ۔ فاعلٌ مرفوعٌ
ب۔ أعرِبِ الجُملَتَین الآتِیتَینِ:
۱۔ صَادَ الغُلَامُ سَمَکۃً
۲۔ تَجمَعُ البِنْتُ الأزھَارَ
10 تیسیر النحو۔ سبق:۱۲
أسئلة
۱۔كم المنصوبات من الأسماء، وما هي ؟
۲۔ عرف المفعول به مع الأمثلة.
۳۔اذكر أنواع المفعول به مع الأمثلة.
۴۔ متى يجوز حذف ناصب المفعول به اذكره مع الأمثلة.
۵۔ اذكر مواضع حذف ناصب المفعول به وجوبا مع الأمثلة.
٦-اذكر مواضع حذف المفعول به جوازا مع الأمثلة.
۷۔ هل يتعدد المفعول به اذكره مع الأمثلة.
۸۔ عرف المفعول به الصريح وغير الصريح مع ذكر الأمثلة.
۹۔ هل يجوز تقديم المفعول به على الفعل والفاعل معا، اذكره مع التمثيل.
١٠ - اذكر مواضع تقديم المفعول به على الفعل والفاعل معاء مع الأمثلة.
تمرينات
۱۔ حدد في الأمثلة الآتية المفعول به، وعلامة نصبه مع ذكر سببها
أكل خالد الطعام وشرب الماء، قابلت أباك ولم أقابل أخاك، درست طالبات : مجتهدات، أرسلت طالبين إلى أبيهما، أعطيت الدارسين كتبهم.
٢- حدد أنواع المفعول به في الأمثلة الآتية مع ذكر إعرابه:
كتب التلميذ الدرس، ما حفظ الطالب الدرس فضربته، إياك أنادى، عرفت أن خالدا كسول -
۳۔كون ثلاث جمل تشتمل على مواضع حذف المفعول به الثلاثة جوازا.
٤. كون جملة تشتمل على تقديم المفعول به على الفعل والفاعل جوازا
۵۔ كون ثلاث جمل تشتمل على مواضع تقديم الفعول به على الفعل والفاعل وجوبا.
11 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
12 مفعول مطلق
مفعول مطلق عربی زبان میں ایک اہم نحوی قاعدہ ہے، جو فعل کی نوعیت، عددیا تاکید کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فعل کے ساتھ آتا ہے اور اس کی وضاحت کرت ہے۔
تعریف:
مفعول مطلق، فعل کے مصدر یا اس کی شکل سے نکلا ہوا ایک اسم ہوتا ہے جو کہ فعل کی تاکید، عدد یا نوعیت کی وضاحت کرتا ہے۔ یہ عام طور پر فعل کے بعد آتا ہے۔
مثالیں:
1. ضربت ضربًا (میں نے مارا) - یہاں "ضربًا" مفعول مطلق ہے، جو فعل "ضربت" کی نوعیت کی وضاحت کرتا ہے کہ مارنے کا عمل کس طرح کیا گیا۔
2. كتب كتابةً (اس نے لکھا) - یہاں "كتابةً" مفعول مطلق ہے، جو فعل "كتب" کی وضاحت کرتا ہے کہ اس نے کس طرح لکھا۔
3. أكلت أكلاً (میں نے کھانا کھایا) - یہاں "أكلاً" مفعول مطلق ہے، جو فعل "أكلت" کی نوعیت کو بیان کرتا ہے۔
4. جريت جريًا (میں نے دوڑ لگائی) - یہاں "جريًا" مفعول مطلق ہے، جو فعل "جريت" کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
عمل:
مفعول مطلق کا عمل یہ ہے کہ یہ فعل کے ساتھ آ کر اس کی نوعیت، عدد یا تاکید کو واضح کرتا ہے، جس سے جملہ کو زیادہ وضاحت اور وضوح حاصل کرتا ہے۔
مفعول مطلق کی اقسام:
1. مفعول مطلق مبین: یہ فعل کی نوعیت بتاتا ہے۔ مثلاً: ضربت ضربًا (میں نے ایک بار مارا)۔
2. مفعول مطلق عددی: یہ فعل کی مقدار بتاتا ہے۔ مثلاً: ضربت ضربتين (میں نے دو بار مارا)۔
مفعول مطلق کے استعمال سے جملے کی وضاحت بڑھتی ہے، اور یہ جملے کو مزید مؤثر بناتا ہے۔
13 النحوالواضح ابتدئیۃ (جلد:۲) سبق:۳۱
المفعولُ المطلقُ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ مُوَافِقٌ للفِعْل فِي لَفْظِهِ وَیَجِیءُ بَعْدَ الفِعْلِ لِتَأْكِيدِهِ أَوْ لِبَيَانِ نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ.
مفعول مطلق وہ اسم ہے جو لفظوں میں فعل کے مطابق ہوتا ہے اور فعل کے ساتھ اس کی تاکید یا نوعیت یا عدد کے اظہار لئے آتا ہے۔
الأمثلة :
١) لَعِبَ حَسَنُ لَعباً
(٢) خَطَفَ الثَّعْلَبُ الدَّجَاجَةَ خَطْفًا
(۳)يَشْرَبُ الطِّفلُ اللَّبَنَ شُرْباً
(٤) يَثِبُ النَّمِرُ وُثُوبَ الْأَسَدِ
(۵ ) مَرَّ الْقِطَارُ مَرَّ السَّحَابِ
(٦) جَرَى خَالِدٌ جَرْياً سَرِيعاً
(۷) أَكَلَ عَلَى أَكلَتَيْن .
(۸)تَدُورُ الْأَرْضُ دَوْرَةً فِي الْيَوْمِ .
(٩) ضَرَبَ الْخَادِمُ الْعَقْرَبَ ضَرْبَةً
14 النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۴
ما يَتُوبُ عَنِ المَصْدَرِ فِي بِابِ المَفْعُول المطلق: مفعول مطلق کے باب میں جو مصدر کا نائب ہوتا ہے
يَنُوُبُ عَنِ الْمَصْدَرِ مُرَادِفَهُ وَصِفَتُهُ وَمَا يَدُلُّ عَلَى نَوْعِهِ أَوْ عَدَدِهِ أَوْ آلَتِهِ وَكُلُّ وَبَعْضُ مُضَافَتَيْنِ إِلَيْهِ . وَالْإِشَارَةُ إِلَيْهِ وَضَمِيْرُهُ فَيُنصَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَلَى أَنَّهُ نَائِبٌ عَنِ الْمَفْعُولِ الْمُطْلَقِ.
مصدر کے قائم مقام اس کے مرادف کو اس کی صفت کو اور یا جو اس نوع یا عدد پر دلالت کرے یا اس کے آلہ پر دلالت کرے اور کل بعض دونوں اس مصدر کی طرف مضاف ہوتے ہیں اور اس کی طرف اشارہ کرنا اور اس کی ضمیر کو قائم مقام بنایا جاتا ہے اور ان میں سے ہر ایک کو مفعول مطلق کا نائب ہونے کی بناء پر نصب دیا جاتا ہے۔
الأمثلة
(۱) أَقْرَرْتُ بِذَنْبِي اعترافاً .
(۲) سَارَ القِطَارُ سَرِيعاً .
(۳) رَجَعَ الْجَيْشِ الْقَهْقَرَى .
( ٤ ) حَلَفَ الرَّجُلُ ثَلَاثَاً
(٥) ضَرَبَ الْحُوذِي الْحِصَانَ سَوْطاً
(٦) جَدَّ الطَّالِبُ كلَّ الْجِد
(۷) أَحْسَنَ العَامِلُ بَعْضَ الإِحْسَانِ
(۸) أَكْرَمْتُ الضَّيْفَ ذلك الإكرام .
(۹) جَامَلْتُكَ مُجَامَلَةً لَا أُجَامِلُهَا أَحَداً .
15 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴
مفعول مطلق :
اس اسم مصدر کو کہتے ہیں جو اپنے کسی مشتق فعل کے بعد کلام میں تاکید ( زور ) یا عدد یا نوعیت بیان کرنے کے لئے لایا جائے ۔ دوسرے لفظوں میں مفعول مطلق اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے جو بعد میں مذکورہ بالا اغراض میں سے کسی ایک غرض کے لئے لایا جاتا ہے جیسے جَرَى مَحْمُودٌ جَرِّيَّا ( محمود دوڑا واقعی دوڑنا) وَثبَ الْقِطُّ وَثوبَ الاسد ( بلی شیر کی طرح جھپٹی ) اكل الولد اكلتين (لڑکے نے دو مرتبہ کھایا) اوپر کی تعریف اور مثالوں سے یہ امر واضح ہوا کہ مفعول مطلق کا استعمال تین معنوں میں ہوتا ہے
(۱) تاکید (۲) نوعیت (۳) عدد۔
پہلی مثال تاکید کی ہے۔ جری محمود میں مخاطب کے لئے اس شبہ کا امکان تھا کہ محمود دوڑا نہیں بلکہ تیز چل کر آیا ہے۔ جسے الجری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مگر جریا کے اضافہ سے اس شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی بلکہ حقیقی دوڑنا متعین ہو جاتا ہے۔ تاکید کا ترجمہ عموماً ” بہت زیادہ، خوب، اچھی طرح ،واقعی وغیرہ کے الفاظ سے کیا جاتا ہے مگر جہاں اس کا موقع نہ ہو صرف فعل کے ترجمے پر اکتفا کیا جائے ہر جگہ بہت زیادہ خوب وغیرہ لکھنے کی ضرورت نہیں۔ اس میں دراصل مضمون جملہ کی تاکید ہوتی ہے۔
دوسری مثال نوعیت کی ہے۔ وثب القط سے صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ ” بلی جھپٹی مگر وثوب الاسد بڑھانے سے ایک نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے۔ اور وہ یہ کہ بلی شیر کی طرح جھپٹی۔
تیسری مثال عدد کی ہے اس میں اکلتین بڑھانے سے جس نئے معنی کا اضافہ ہوتا ہے وہ یہ کہ کھانے کا کام دو مرتبہ ہوا۔
مفعول مطلق جیسا کہ ہم نے ابھی بتایا کہ اپنے ہی فعل کا مصدر ہوتا ہے لیکن کبھی خود مصدر مستعمل نہیں ہوتا ہے بلکہ کوئی دوسرا اس مصدر کا قائم مقام بن کر آتا ہے جس کو مفعول مطلق کا نام دے دیا جاتا ہے۔ قائم مقام ہونے کی وجہ سے وہ بھی منصوب ہی ہوتا ہے۔ ذیل میں اس کی صورتیں درج کی جاتی ہیں۔
(۱) اس مصدر کا کوئی مترداف لفظ جیسے جَلَسَ محمود قعودًا
(۲) اس مصدر کی کوئی صفت جیسے جرى محمود سریعا (یعنی جرياً سريعًا)
(۳) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کی نوعیت پر دلالت کرے جیسے رجع الجيش القهقرى (يعني رجوع القهقرى)
(۴) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی عدد پر دلالت کرے جیسے ناکل فی اليوم مرتین (یعنی اکلتین)
(۵) کوئی ایسا لفظ جو اس مصدر کے کسی آلہ پر دلالت کرے جیسے ضَرَبَ الولد الحصان سوطا (ضربا بالسوط)
(۶) لفظ ”کل“ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اقبل التلميذ على القراءة كُلَّ الإقبال
(۷) لفظ "بعض" جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اجتھد محمود بعض الاجتهاد
(۸) اسم اشارہ جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اَحْسَنُتُ إِليه ذلك الإحسان
(۹) اسم ضمیر جو اس مصدر کی طرف مضاف ہو جیسے اكْرَمْتُهُ إِكْرَامًا لَا أُكْرِمُهُ أَحَدًا
16 تیسیر النحو۔ سبق:۱۳
فصل المفعول المطلق بها
المفعول المطلق: هو مصدر بمعنى فعل مذكور قبله، منصوب بذلك الفعل العامل، يؤتى به لتأكيد عامله فقط، أو بيان نوعه أو عدده مع تأكيده فيهما ، فأقسامه ثلاثة:
ا۔ مؤكد للعامل فقط نحو ضربت زيدا ضربا
۲۔ مؤكد مبين للنوع نحو: جَلَستُ جلوس القاري
۳۔ مؤكد مبين للعدد نحو: تدور الأرض دورة واحدة في اليوم، وضربت زيدا ضربتين، وضربات.
(۲) عامل المفعول المطلق:
يعمل في المفعول المطلق أحد ثلاثة عوامل:
۱۔ الفعل التام المتصرف نحو: اجتهدت اجتهادا.
٢ الصفة المشتقة منه الدالة على الحدوث نحو : أخوك مجتهد اجتهادا عظيما.
۳۔ مصدره بشرط أن يكون مماثلا للمفعول المطلق لفظا ومعنى، نحو: عجبت من ضربك زيدا ضربا شديدا.
حذف عامل المفعول المطلق
يجوز حذف عامل المصدر المؤكد المبين للنوع أو للعدد بشرط وجود دليل مقالي أو حالي يدل على المحذوف.
فمثال حذف عامل المصدر المبين للنوع لدليل مقالي : جلوسا طويلا في جواب: هل جلس الزائر عندك، أي: جلس جلوسا طويلا، ومثال حذفه لدليل حالي قولهم للمتهيئ للسفر: سفرا حميدا ورجوعا سعيدا، أي: تسافر سفرا حميدا وترجع رجوعا سعيدا
ومثال حذف عامل المصدر المؤكد المبين للعدد لدليل مقالي: رجعتين ) . في جواب هل رجعت إلى بيتك اليوم، أي رجعت رجعتين ومثال حذفه لدليل حالي أن ترى خيل السباق وهي تدور في الملعب فتقول: دورتين أي: دارت دورتين.
والمصدر في الحالات السابقة منصوب بعاملة المحذوف جوازا، وليس نائبا عن ذلك الفعل المحذوف. من - أما المصدر المؤكد العامله، فالأصل عدم حذف عامله، لأن حذفه منافي ومعارض للغرض الذي لأجله يؤتي بالمصدر المؤكد العامله، وذلك تأكيد معنى عامله المذكور قبله بإبعاد الشك واحتمال المجاز عنه.
لكن العرب التزموا حذف عامله باطراد في بعض مواضع معينة، وأنا بواعنه المصدر المؤكد، فصار ذكر العامل معه ممنوعا، لأن المصدر نائب وعوض عن لفظه ومعناه، ولا يجتمع العوض والمعوض عنه
ونظراً إلى التزام العرب طريقة الحذف والإنابة معا باطراد في تلك المواضع ـ قال النحاة:
إن عامل المصدر المؤكد لا يحذف جوازا في الصحيح، وإنما يحذف وجوبا في المواضع التي التزم فيها العرب حذفه لحكمة مقصودة وأنا بواعنه المصدر المؤكد. والعامل المحذوف وجوبا هو الذي ينصب المصدر النائب عنه، أي: المصدر نائب عن عاملة المحذوف وجوبا و منصوب به معا
مواضع حذف عامل المصدر المؤكد العامله وجوبا:
يحذف عامل المصدر المؤكد لعامله وجوبا في خمسة مواضع:
ا۔ في المصدر الواقع بدلا عن فعله، وهو كثير الاستعمال، ويقع في الكلام الطلبي قياسا سواء كان أمرا نحو صبرا على حوادث الزمان (أي: اصبر صبرا) أو نهيا، نحو: صبرا لا جزعا (أي: اصبر صبرا ولا تجزع جزعا أو دعاء، نحو: سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) أو استفهاما للتوبيخ ، نحو: أجرأة على المعاصي (أي: أتجرؤ جرأة على المعاصي)
۲۔ في المصدر الواقع فعله خبرا عن اسم عين . بشرط أن يكون مكررا، نحو: زيد فهما فهما أو محصورا فيه ، نحو: مازيد إلا سيرا انما زيد سيرا أو معطوفا عليه ، نحو : الأسعار صعودا وهبوطا .
فإن لم يكن المخبر عنه اسم عين ، بل اسم معنى وجب رفعه على الخبرية، نحو أمرك عجب عجب، وكذلك إن لم يكرر ولم يحصر لم يجب الحذف، بل يجوز الحذف والذكر، نحو: زيد سيرا، وزيد يسير سيرا.
۳۔في المصدر الواقع بعد جملة لغرض التشبيه، وتكون تلك الجملة مشتملة على فاعله و على معناه، وليس فيها ما يصلح للعمل، نحو: لزيد صوت صوت حمار
۴۔ في المصدر المؤكد لمضمون الجملة قبله، سواء جيئ به لمجرد التأكيد وهو ما يسمى "مؤكدا لنفسه " نحو : نادى سليم جهرا أو لمنع احتمال المجاز، نحو: أنت ابني حقا
۵۔ في المصدر الواقع تفصيلا لمجمل قبله، نحو: لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا
فصل المفعول المطلق
مفعول مطلق: یہ ایک مصدر ہے جو ایک ذکر شدہ فعل کے معنی میں ہوتا ہے، اور یہ اس فعل کے منصوب ہونے کی حالت میں آتا ہے جو اس کے عامل کا کام کرتا ہے۔ مفعول مطلق کو صرف عامل کی تصدیق یا اس کی نوعیت یا مقدار بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ اس کی تین اقسام ہیں:
1. مؤكد للعامل فقط: جیسے: "ضربت زیدًا صَربًا" (میں نے زید کو مارا)۔
2. مؤكد مبين للنوع: جیسے: "جلستُ جلوس القاري" (میں نے پڑھنے والے کے طور پر بیٹھا)۔
3. مؤكد مبين للعدد: جیسے: "تدور الأرض دورة واحدة في اليوم" (زمین ایک بار دن میں گھومتی ہے) اور "ضربت زيدًا ضربتين" (میں نے زید کو دو بار مارا)۔
(۲) عامل المفعول المطلق:
مفعول مطلق میں تین عوامل میں سے کوئی ایک کام کرتا ہے:
1. فعل تام متصرف: جیسے: "اجتهدت اجتهادًا" (میں نے محنت کی)۔
2. صفة مشتقة منه: جو حدوث کی طرف اشارہ کرتی ہے: جیسے: "أخوك مجتهد اجتهادًا عظيمًا" (تمہارا بھائی بڑی محنت کر رہا ہے)۔
3. مصدره: بشرط کہ وہ لفظی اور معنوی طور پر مفعول مطلق کی مانند ہو، جیسے: "عجبت من ضربك زيدًا ضربًا شديدًا" (میں نے زید کو شدید مارنے پر حیرت کا اظہار کیا)۔
حذف عامل المفعول المطلق
مفعول مطلق کے عامل کو حذف کرنا جائز ہے، خاص طور پر جب اس کی نوعیت یا تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے کوئی موجودہ یا قابل فہم دلیل ہو۔
1. دلیل مقالی کے ساتھ:
مثال: "جلوسًا طويلاً" کے جواب میں: "ھل جلس الزائر عندک؟" یعنی: "جلس جلوسًا طويلاً" (وہ بیٹھا تھا طویل بیٹھنے کے لیے)۔
2. دلیل حال کے ساتھ:
مثال: "سفرًا حميدًا ورجوعًا سعيدًا" (یہ سفر خوشگوار اور واپس آنا خوشی کا ہے) یعنی: "تسافرسفرًا حميدًا وترجع سعيدًا"۔
3. مفعول مطلق کی اقسام:
مفعول مطلق کے عناصر کو حذف کرنا جائز ہے، اور وہ خود کو مؤكد کرتا ہے، اور یہ اکثر زبان میں ہوا کرتا ہے۔
مفعول المطلق کی صورتوں میں عامل کا حذف
مفعول مطلق کے عامل کا حذف پانچ خاص مقامات پر ہوتا ہے:
1. مفعول مطلق جو فعل کے لیے بدل کے طور پر آتا ہے: جیسے: صبرا على حوادث الزمان "صبرا" (صبر کرو) اصبرصبرا ، یا سقيا لك ورعيا (أي: سقاك الله سقيا ورعاك الله رعيا) (تمہارے لیے دعا ہے کہ تمہیں پانی ملے) ۔
2. مفعول مطلق جو خبر کے طور پر آتا ہے شرط یہ ہے کہ وہ مکرر ہو، جیسے: "زيد فهما فهما" (یہ زید ہے، یہ سمجھنے کے لیے)۔
3. مفعول مطلق جو تشبیہ کے لیے آتا ہے: جیسے: "لزيد صوت صوت حمار" (زید کی آواز گدھے کی آواز کی طرح ہے)۔
4. مفعول مطلق جو جملہ کی تصدیق کے لیے آتا ہے: جیسے: "نادى سليم جهرا" (سلیم نے بلند آواز میں پکارا)۔
5. مفعول مطلق جو پہلے کے مجمل کو تفصیل دیتا ہے: جیسے: "لأجاهدن فإما فوزا وإما هلاكا" (میں لڑوں گا، یا فتح حاصل کروں گا یا ہلاک ہوں گا)۔
نتیجہ:
مفعول مطلق عربی زبان میں فعل کی وضاحت اور شدت کو بیان کرنے کے لیے ایک اہم قاعدہ ہے، اور اس کی مختلف اقسام اور استعمالات ہیں جو زبان کی معنوی ساخت کو بڑھاتے ہیں۔
17 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۸
مفعول مطلق ، جب جملہ میں استعمال شدہ فعل کا مصدر اسی جملہ میں بغرضِ تاکید استعمال کیا جائے تو وہ مفعول مطلق کہلاتا ہے اور منصوب ہوتا ہے، جیسے: ضَرَبَنِي بِلال ضَرْبًا, بلال نے مجھے خوب پیٹا صرف ضَرَبَنِي بلال سے بھی یہ معنی ادا ہو جاتا ہے، لیکن یہ اس وقت بھی کہا جاسکتا ہے جب اتفاقا بلال کا ہاتھ آپ کو لگ جائے ، یا اس نے از راہ تفریح آپ کو ہلکی سی چپت لگادی ہو لیکن ضَرَبَنِي بِلال ضربا آپ اسی وقت استعمال کریں گے جب بلال نے سنجیدگی سے آپ کی اچھی خاصی پٹائی کی ہو۔
مفعول مطلق ذیل کے چار مواقع پر استعمال ہوتا ہے۔
۱) تاکید کے اظہار کے لئے جیسا کہ سابقہ مثال میں ہے، مزید ایک مثال یہ ہے: ﴿وَ كَلَّمَ اللَّهُ مُوْسَى تَكْلِيْمًا [المائدة: ۱۶۴] اور اللہ تعالی نے موسی علیہ السلام سے گفتگو فرمائی۔
(۲) تعداد کے اظہار کے لئے ، جیسے : طُبعَ الْكِتَابُ طبعتين کتاب دو مرتبہ شائع ہوئی نَسِيْتُ وَسَجَدْتُ سَجْدَةً وَاحِدَةٌ میں بھول گیا اور ایک ہی سجدہ کیا۔
۳) عمل کی نوعیت کے اظہار کے لئے ، جیسے: مَاتَ مَوْتَ الشُّهَدَاءِ وہ شہیدوں کی موت مرا اُكْتُبْ كِتَابَةً وَاضِحَةً صاف صاف لکھو(۱)۔
(۴) اپنے فعل کی نیابت کے لئے ، اس حالت میں فعل حذف ہو جائے گا اور صرف مصدر استعمال ہوگا، جیسے: صبرا : صبر کرو یہاں مصدر صبر افعل امر اصبر کا نائب ہے، شکر : شکریہ یہاں مصدر فعل مضارع أشكرُ کا نائب ہے۔
وہ الفاظ جو مصدر کی نیابت کرتے ہیں:
ذیل کے الفاظ مصدر کے قائم مقام ہو کر منصوب ہوتے ہیں اور مفعول مطلق کے حکم میں ہوتے ہیں:
۱) كُلُّ ، بَعْضُ، أَيُّ، جب یہ تینوں لفظ مصدر کی طرف مضاف ہوں، جیسے:
أَعْرِفُهُ كُلَّ الْمَعْرِفَةِ میں اس کو پوری طرح جانتا ہوں۔
آخَذَنِي الْمُدِيرُ بَعْضَ الْمُؤَاخَذَةِ ہیڈ ماسٹر نے میری ہلکی سی گرفت کی۔
أَيَّ نَوْمٍ تَنَامُ؟ تم کیسی نیند سوتے ہو؟
وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُوْنَ﴾ [الشعراء: ۲۲۷] اور عنقریب وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا جان جائیں گے کہ وہ کونسا پلٹنا پلٹیں گے۔
(۲) عدد، جس کا مصدر اس کے معدود ( تمیز [1]) کے طور پر ساتھ ہو، جیسے:
طُبِعَ الْكِتَابُ ثَلاثَ طَبعَاتٍ . کتاب تین مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔
قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے:
فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ ﴾ [النور: ۲] ان دونوں کو سو سو کوڑے لگاؤ۔
فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً﴾ [النور: ۴] انہیں اسی کوڑے لگاؤ۔
(۳) مصدر کی صفت ( جبکہ مصدر محذوف ہو جیسے : فَهِمْتُ الدَّرْسَ جَيِّدا میں اچھی طرح سبق سمجھ گیا اصل میں فَهِمْتُ الدَّرْسَ فَهُمَا جَيِّدًا تھا۔
(۴) اسم مصدر، یعنی وہ اسم جو مصدر کے ہم معنی ہو لیکن اس کے حروف مصدر سے کم ہوں، جیسے: کلام: بولنا اسم مصدر ہے اور تعلیم مصدر، سُبْحانَ پاکی بیان کرنا اسم مصدر ہے اور تسبیح مصدر۔
كَلَّمَنِي كَلامًا شَدِيدًا اس نے مجھ سے سخت کلامی کی۔
(۵) فعل مجرد کا مصدر جبکہ جملہ میں فعل مزید مستعمل ہو، جیسے: اشْتَرَيْتُ هَذِهِ السَّيَّارَةَ شِرَاءٌ مُبَاشِرًا میں نے یہ کار خود خریدی ہے یہاں شِراءً فعل مجرد شَرَى يَشْرِيْ کا مصدر ہے جبکہ اشْتَرَى يَشْتَرِي کا مصدر اشْتِرَاء ہے، قرآن مجید میں آیا ہے: ﴿وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمَّا ﴾ [الفجر: ۲۰] اور تم مال سے شدید لگاؤ رکھتے ہو یہاں حبا فعل مجرد حَب يَحِبُّ کا مصدر ہے، جبکہ فعل مزيد أَحَبَّ يُحِبُّ كا مصدر إِحبَابٌ ہے۔
فعل مجرد حــبّ يــحــبُّ بہت کم استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر حب بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے اور فعل مزيد أحَبَّ يُحِبُّ بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کا مصدر احباب بہت کم۔
ب: فعل مزید کا مصدر بشرطیکہ وہ جملہ میں استعمال شدہ فعل کا (مصدر) نہ ہو، جیسے: تَبَسَّمْتُ ابْتِسَامًا مسکرا دیا۔ یہاں اِبْتِسَامًا فعل اِبْتَسَم کا مصدر ہے، جو باب افْتَعَلَ سے ہے، جبکہ تَبَسَّمَ بَاب تَفَعَّلَ سے ہےاور دونوں ہم معنی ہیں، قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے: ﴿وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَيْتِيْلاً ﴾ [المزمل: ۸] اور سب سے کٹ کر اس سے لو لگا لو۔ یہاں تبتل باب تفعل سے ہے اور مصدر تَيْتيل باب فَعَّلَ سے۔
۶) اسم اشارہ جبکہ مصدر اس کا بدل ہو، جیسے: أَتَسْتَقْبِلُنِي هَذَا الْإِسْتِقْبَالَ! کیا تم میرا اتنا شاندار استقبال کرو گے! یہاں هذا مفعول مطلق ہے اور نصب کے مقام میں ہے، اور الاستقبال اس کا بدل ہے۔
۷) اسم ضمیر جو مصدر کی طرف لوٹے، جیسے: اجْتَهَدَتُ اجْتِهَادًا لَمْ يَجْتَهِدُهُ غَيْرِي میں نے وہ محنت کی کہ دوسرے کسی نے ویسی نہیں کی ہوگی۔ یہاں ضمیر غائب کا اجتهادا کی طرف لوٹ رہی ہے۔
(۸) مصدر کا مترادف لفظ جیسے : عِشتُ حَيَاةً سَعِيْدَةً میں نے خوشگوار زندگی بسر کی۔ یہاں حَيَاةً عِيْشَة کا مترادف ہے جو جملہ میں وارد فعل عاش کا مصدر ہے۔
مصدر کی کئی قسمیں ہیں:
ا۔ مصدر المرة، یہ مصدر اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ کام کتنی مرتبہ ہوا، ایک، دو یا تین بار یہ مجرد ابواب سے فَعْلَة کے وزن پر آتا ہے، جیسے: ضَرَبْتُهُ ضَرْبَةً وَضَرَبَنِي ضَرْبَتَيْنِ میں نے اسے ایک مارا اور اس نے مجھے دو ، طُبِعَ هَذَا الْكِتَابُ طَبَعَاتِ یہ کتاب کئی بار چھپ چکی ہے۔ طَبَعَاتُ طَبعَةٌ کی جمع ہے۔
مزید ابواب کے مصدر ان کے آخر میں ایک بڑھا کر بنائیے جائیں گے جیسے : تَكْبِيرٌ : تَكْبِيرَةً ایک مرتبہ اللہ اکبر کہنا إطلال جھانکنا إطلالة ایک مرتبہ جھانکنا جیسے : نُكَبِّرُ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتِ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ ہم نماز جنازہ میں چار مرتبہ تکبیر کہتے ہیں۔ أَطْلَلْتُ مِنَ النَّافِدَةِ إطلالتنين میں نے کھڑکی سے دومرتبہ جها نکا۔
۲۔ مصدر کی ایک اور قسم مصدر الهيئة ہے، یہ فعلة کی وزن پر آئے گا، جیسے: جلسة : بیٹھنے کا طریقہ، مِشْيَةٌ: (۲) چال چلنے کا ڈھنگ۔ ہم کہتے ہیں : لا تَمْشِ مِشْيَةَ النِّسَاءِ عورتوں کی چال نہ چلو ۔ اجلس جلْسَة طَالِبِ علم طالب علم کی طرح بیٹھو۔
نوٹ: پہلا حرف مصدر المرۃ میں مفتوح ہوگا اور مصدر الهيئة میں مکسور ۔
۲: ابواب مزید سے مصدر الهيئة نہیں آتا ہے۔
۳۔ مصدر میمی بھی مصدر کی ایک قسم ہے، یہ مَفْعَلٌ ، مَفْعَلَةٌ، مَفْعِل اور مَفْعِلَةٌ کے اوزان پر آئے گا، جیسے : مَمَاتٌ : مرنا مَعْرِفَةً: جاننا، مَغْفِرَة: بخشنا۔
ابواب مزید سے یہ اسم مفعول کے وزن پر آئے گا، جیسے: مُمَزَّق : پھاڑنا ، مُخْرَج : نکالنا، مُنقَلَبُ : پلٹنا ، قرآن مجید میں ارشاد ربانی ہے: ﴿فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيْتَ وَ مَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ [ السبا: 19] پھر ہم نے انہیں قصہ پارینہ بنادیا اور انہیں تتر بتر کر دیا۔
18 المفصل۔ سبق:۱۰
المفعول المطلق هو المصدر سمي بذلك لأن الفعل يصدر عنه.
ويسميه سيبويه الحدث والحدثان وربما سماه الفعل. وينقسم إلى مبهم نحو ضربت ضرباً. وإلى مؤقت نحو ضربت ضربة وضربتين.
نائب المفعول المطلق وقد يقرن بالفعل غير مصدره مما هو بمعناه؛ وذلك على نوعين مصدر وغير المصدر. فالمصدر
على نوعين: ما يلاقي الفعل في اشتقاقه كقوله تعالى : " والله أنبتكم من الأرض نباتاً"، وقوله تعالى: " وتبتل إليه تبتيلاً". وما لا يلاقيه فيه كقولك قعدت جلوساً، وحبست منعاً. وغير المصدر كقولك ضربته أنواعاً من الضرب، وأي ضرب، وأيما ضرب ومنه رجع القهقري واشتمل الصماء، وقعد القرفصاء، لأنها أنواع من الرجوع والاشتمال والقعود، ومنه ضربته سوطاً.
أنواع المفعول المطلق الذي اضمر فعله
والمصادر المنصوبة بأفعال مضمرة على ثلاثة أنواع : ما يستعمل إظهار فعله وإضماره، وما لا يستعمل إظهار فعله، وما لا فعل له أصلاً. وثلاثتها تكون دعاء وغير دعاء فالنوع الأول كقولك للقادم من سفره خير مقدم ولمن يقرمط في عداته. مواعيد عرقوب وللغضبان غضب الخيل على اللجم. ومنه قولهم سقياً ورعياً وخيبة وجدعاً وعقراً وبؤساً وبعداً وسحقاً وحمداً وشكراً لا كفراً وعجباً وافعل ذلك وكرامة ومسرة ونعم ونعمة عين ونعام عين ولا أفعل ذلك ولا كيداً ولا هما ولا فعلن ذلك ورغماً وهواناً. ومنه إنما أنت سيراً سيراً وما أنت إلا قتلاً قتلاً وإلا سير البريد وإلا ضرب الناس وإلا شرب الإبل.
ومنه قوله تعالى: " فاما منّا بعد وإما فداء" ومنه مررت به فإذا له صوت صوت حمار، وإذا له صراخ صراخ الثكلي، وإذا له دق دقك بالمنحاز حب القلقل. ومنه ما يكون توكيداً إما لغيره كقولك هذا عبد الله حقا، والحق لا الباطل، وهذا زيد غير ما تقول، وهذا القول لا قولك، وأجدك لا تفعل كذا، أو لنفسه كقولك له على ألف درهم عرفاً، وقول الأحوص:
إني لأمنحك الصدود وإنني قسماً إليك مع الصدود لأميل
ومنه قوله تعالى صنع الله، ووعد الله وكتاب الله عليكم، وصبغة الله، وقولهم الله أكبر دعوة الحق.
ومنه ما جاء مثنى وهو حنانيك ولبيك وسعديك ودواليك وهذا ذيك.
ومنه ما لا يتصرف نحو سبحان الله ومعاذ الله وعمرك الله وقعدك الله.
والنوع الثالث نحو ذفراً وبحراً وأفة وتفة وويحك وويسك وويلك وويبك.
وقد تجري اسماء غير مصادر ذلك المجرى وهي على ضربين: جواهر نحو قولهم ترباً وجندلاً وفاهاً لفيك، وصفات نحو قولهم هنيئاً مريئاً وعائذاً بك وأقائماً وقد قعد الناس وأقاعداً وقد سار الركب.
إضمار المفعول المطلق:
ومن إضمار المصدر قولك عبد الله أظنه منطلق، تجعل الهاء ضمير الظن كأنك قلت عبد الله أظن ظني منطلق. وما جاء في الدعوة المرفوعة واجعله الوارث منا محتمل عندي ان يوجه على هذا.
19 تمارین
20 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴
التمرين ۲۷
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :-
(1)العصافير تشقشق على الأشجار الباسقة شقشقة وتغرد عليها الطيور تغريداحسنا.
(2)الصل حية خبيثة داهية قد تلدغ الانسان لدغا فتسقيه كأس الردى.
(3)الدبابة من الآلات الحربية الجديدة تزحف على الأرض تزحف السلحفات فلا يعوقها و هاد ولا هضاب
(4)أرض الهند الشمالية تكثر فيها الأمطار كثرة لا يقاس بها قياسا في أرض لا تجود عليها السماء إلا قليلا
(5)تثور البراكين في بعض الجهات ثورانا شديدا فتهدم المنازل هدما وتلك المبانى دكّا وتقذ ف النيران قذنا مستمرا .
(6)رأيت فتى مكتمل الشباب قد داسته سيارة مسرعة تصرخ صرخة عالية أحدثت في النفوس هلعاً.
(7)أمطرت السماء مطرا غزيراً سالت به الأودية والشوارع وامتلأت الحفر والأبادا متلاء وفاضت الأنهار فيضانا عظيما فطم الوادي على القرى وبلغ السيل الربي وجعل الناس يخافون على أنفسهم وأموالهم خوفا شديدا.
(8)من اراد الآخرة وسعى لها سعيها وهو مؤمن فأولئك كان سعيهم مشكوراً.
(9) من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه، فمنهم من قضى نحبه ومنهم من ينتظر ، وما بد لو ا تبديلاً.
(10) واذا أردنا ان نهلك قرية أمرنا متر فيها ففسقوا فيها فحق عليها القول قدمرناها تد ميرا.
(11)ولقد أتوا على القرية التي أمطرت مطر السوء أفلم يكونوا يرونها بل كانوا لا يرجون نشورا.
(12) ويسئلونك عن الجبال فقل ينسفها ربي نسفا فيذرها قاعا صفصفا لا ترى فيها عوجا ولا أمتا.
(13) اذجاؤكم من فوقكم ومن أسفل منكم واذ زاغت الأبصار وبلغت القلوب الحناجر وتظنون بالله الظنونا . هنالك ابتلى المؤمنون وزلزلوا زلزالاً شديدا.
(14) فلاوربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجاً مما قضيت ويسلموا تسليما
التمرين ۲۸
عربی میں ترجمہ کیجئے :۔
(1)کل رات خوب بارش ہوئی ، کھیت اور تالاب سب بھر گئے ۔ کسان خوش خوشنظر آنے لگے۔
(2)اس سال ہمارے مدرسہ میں ایک شاندار جلسہ منعقد ہوا ، میں نے اس میں دو تقریریں کیں۔ ایک اُردو میں اور دوسری عربی ہیں۔
(3)آج رات کو دس بجے کسی نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا مگر جب ہم باہر نکلے تو کوئی نہیں تھا۔
(4)ایک دفعہ ہم شکار میں گئے ، جیسے ہی ہم جنگل میں پہونچے ہمارے سامنے سے ایک ہرن تیزی کے ساتھ بھاگا، میں نے ایک فائر کیا اور بس وہ زمین پر ڈھیر تھا۔
(5)بچھو ایک موزی جانور ہے ، ہے تو ذرا سا مگر کسی کو ڈنک مارتا ہے تو بے چین ہی کر دیتا ہے پھر وہ بے چارہ سانپ کے ڈسے ہوئے آدمی کی طرح تڑپتا ہے اور کسی طرح قرار نہیں پاتا ۔
(6)ہوائی جہاز پرندوں کی طرح ہوا میں اُڑتا ہے ، چیل کی طرح فضا میں منڈلاتا ہے، دشمنوں کے ملک پر بم برساتا ہے اور آن کی آن میں اس کو جلا کر خاکستر کر دیتا ہے
(7)مغربی قومیں دشمنوں کے ملک پر خونخوار بھیڑیوں کی طرح حملہ کرتی ہیں، بوڑھے،
بچے اور کمزور سب کو ایک طرف سے ختم کرتی جاتی ہیں اور ان میں سے کسی کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرتیں۔
(8)یہ ہیں وہ لوگ جو اسلام پر خونخواری کا الزام رکھتے ہیں ، اور دل میں ذرا نہیں شرماتے۔
(9)جس نے کہا ہے سچ کہا ہے کہ آج کا انسان پرندوں کی طرح ہوا میں اُڑنے لگا ،مچھلیوں کی طرح پانی میں تیرنے لگا ، مگر انسان کی طرح اس کو زمین پر چلنا نہ آیا۔
(10) مغرب کے مقلدین ، مغربی تہذیب کے بڑے دلدادہ ہیں ، ان کی عورتیں بھی مغربی قوموں کا لباس پہنے لگیں کوّاچلا ہنس کی چال ، اپنی چال بھول گیا۔
التمرين ۲۹
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :
(1)عنى أبي أعظم عناية بتعليمى ونشأنى أحسن تنشئة وزودني بكثير من نصائحه الثمينة
(2) مرضت أنا ثلاثا، كلما مرضت خافت على أمى شديدا وفاضت عيناها دموعا
(3) ضرب الولد القاسى كلبه بعضا فغضب الكلب أشد الغضب و عضه بأنيابه الحادة عضاً أسال منه الدم.
(4) الرياضة البدنية تزيد الأعصاب والعضلات قوة فعلى الانسان أن يعنى بها كل العناية، ويحسن به أن يمشى في الحقول الخضراء كثيراً وأن يسبح في الأنهار عوما . وان يمتطئى صهوات الخيل ركوبا وأن يشتغل فى حديقته وفى الزراعة ثلاثا او مرتين في الأسبوع .
(5) احبب حبيبك هونا ما عسى أن يكون بغيضك يوما ما و ابغض بغيضك هونا ما عسى أن يكون حبيبك يوماما.
(6) و عباد الرحمن الذين يمشون على الأرض هونا واذا خاطبهم الجاهلون قالو اسلاما.
(7) يایها الذين امنوا ليستأذنكم الذين ملكت أيمانكم والذين لم يبلغوا الحلم منكم ثلث مرات.
(8)وجاء فى صفة النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان فخما مُفَحْمًا. يتلالا وجهه تلألو القمر ليلة البدر، واذا زال زال قلعا، يخطو تكفيا و يمشى هونا.
(9) فاذا دخلتم بيوتا فسلموا على انفسكم تحية من عند الله مباركة طيبة
(10) وقضينا إلى بنى اسرائيل فى الكتب التفسدن في الأرض مرتين ولتعلن علوا كبيرا.
(11) لا تجعل يدك مغلولة إلى عنقك ولا تبسطها كل البسط فتقعد ملوما محسوراً.
(12) ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم فلا تميلوا كل الميل فتذروها كا المعلقة .
(13) نحن نقص عليك أحسن القصص بما أوحينا إليك هذا القرآن، وإن كنت من قبله لمن الغافلين .
(14) قال الله إلى منزلها عليكم فمن يكفر بعد منكم فاتي أعذبه عذا بالا أعد به أحدا من العالمين.
(15) قل من ينجيكم من ظلمت البر والبحر تدعونه تضرعا وخفية لئن أنجانا من هذه لنكونن من الشاكرين.
التمرين ۳۰
عربی میں ترجمہ کیجئے :-
(1) آپ کا گرامی نامہ ملا مجھے حد درجہ مسرت ہوئی، میں نے کئی بار اسے پڑھا اور ہر بار ایک نئی مسرت حاصل ہوئی۔
(2) آج کل میں لکھنے پڑھنے میں بہت زیادہ مشغول ہوں اور اس میں پوری محنت صرف کر رہا ہوں ۔
(3) میرے استاد مجھ سے حد درجہ محبت کرتے ہیں۔ میں بھی ان کا اتنا احترام کرتا ہوں کہ اتنا احترام کسی دوسرے کا نہیں کرتا۔
(4) محمود نے ایک مرتبہ اپنے گھر آنے کی دعوت دی، پھر اس نے وہ اصرار کیا کہ بس۔
(5) حامد اپنے ساتھیوں کو رات بھر اچھے قصے سنا تا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی پھر وہ فجر پڑھ کر ایسے سوے کہ دو پہر ہوگئی۔
(6) کسی ایسے باپ کے لیے، جس کے کئی بیٹے ہوں مناسب نہیں کہ وہ اپنے کسی ایک ہی بیٹے کی طرف پورے طور پر مائل ہو جائے ۔
(7) میرے گھر کی دیوار پر دو چور چڑھ آئے، کچھ نیند میں سو چکا تھا۔ جلدی آنکھ کھل گئی میں نے اپنی بندوق سنبھال لی اور ہوا میں دو فائر کئے ۔ فائر کی آواز سے وہ کچھ ایسے بدحواس ہوئے کہ اپنے اسلحہ بھی چھوڑ بھاگے۔
(8) ہم نے ایک ماہر شکاری کو دیکھا کہ اس نے ایک نیل گائے کو ایک ایسا تیر مارا جو سینے کو چھید کر پار نکل گیا ۔
(9) ہم لوگ دن میں صرف دو مرتبہ کھاتے ہیں مگر چھوٹے بچے دن بھر میں کئی مرتبہ کھاتے ہیں۔
(10) یہی وہ زمانہ ہے کہ میرے والد نے وفات پائی، وہ سخت بیمار ہوےمیں نے علاج میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی، پوری کوشش صرف کر دی کہ کسی طرح شفایاب ہو جائیں، ایک مرتبہ افاقہ ہوا تو ہم لوگوں کو ان کی صحت کی کچھ کچھ توقع ہو چلی، مگر اس کے بعد پھر مرض بہت شدید ہو گیا اور وہ اس سے جانبر نہ ہو سکے۔
(11) ایک مرتبہ میں ایک شدید خطرہ سے دوچار ہوا ، میں نے دیکھا کہ ایک دیو ہیکل ڈاکو ایک تاجر کو قتل کرنے کی فکر میں لگا ہوا ہے ، تاجر زور زور سے چیخ رہا تھا، میں اس کی مدد کے لیے دوڑا ، ڈاکو نے پہلے مجھے ایک کڑی نظر سے دیکھا، پھر شیر کی طرح گرجا، بادل کی طرح کڑکا اور یک بارگی مجھ پر ٹوٹ پڑا۔ میں نے اسے ایک زور کا دھنگا دیا، پھر ایک گھونہ رسید کیا، وہ کچھ پیچھے ہٹا پھر میری طرف بڑھا ، اب وہ مجھے بھی قتل کرنا چاہتا تھا، اس نے خنجر نکال لیا، میں نے بھی اپنی تلوار کھینچ لی ، تلوار بجلی کی طرح چمکی اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام ہو گیا ، دیکھا تو وہ خون میں لت پت ہے، تاجر نے میرا ہاتھ چوم لیا ، میں نے اللہ کا بڑا شکر ادا کیا کہ اس نے ایک بڑے دشمن سے نجات بخشی۔
21 النحوالواضح ابتدئیۃ (جلد:۲) سبق:۳۱
التمرين (۱)
استخرج من العبارة الآتية كل مفعول مطلق وعين ما كان منه موكدا لفعله وما كان مبينا لنوعه او عدده:
تثور البراكين في بعض الجهات ثورانا شديد فتھدم المنازل هدما وتدك المبانى دكا وتقذف النيران قذفا مستمرا فيخاف السكان خوفا عظيما فلا تسمع غير نساء تصيح صياحا واطفال تصرخ صراخا ولا ترى الا رجال تكبهم الدھر نکبتین مات اولادهم وضاعت اموالهم.
التمرين (۲)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية مفعولا مطلقا في جملة تامة:
نوما، هجوم ،الذئب ، اجتهاد ، اشراقا، اختفاء ، اللص
تعبا ،نجاحا، باهرا ، استغفارا ،قعودا ، سجدتين
قياما،حفظا ،جيدا ، ضربتين، غسلة، اكراما
التمرين (۳)
ضع مفعولا مطلقا في كل جملة من الجمل الآتية:
۱- يفيض النهر.......
۲۔ نھق الحمار.......
۳۔ تجرى الارنب.......
۴۔ ينبح الكلب.......
۵- ابتعد عن الشر .......
۶۔ - سارت السيارة. .......
۷۔ ظهر الهلال.......
۸۔ نظف حذاء ك .......
۹۔ شفى المريض الدواء.......
۱۰- تغلى القدر.......
التمرين (۴)
(۱) كون خمس جمل تشتمل كل منها على مفعول مطلق موكد لفعله۔
(۲) كون خمس جمل تشتمل كل منها على مفعول مطلق مبين لنوع فعله۔
(۳) كون خمس جمل تشتمل كل منها على مفعول مطلق مبین لعدد فعله۔
التمرين (۵)
(۱) كون جملة المفعول به فيها ضمير متصل والفاعل اسم موصول مع اشتمالها على مفعول مطلق۔
(۲) كون جملة الفاعل فيها جمع مذكر سالم والمفعول به جمع مؤنث سالم مع اشتمالها على مفعول مطلق۔
(۳) كون جملة تشتمل على نائب فاعل و مفعول مطلق مبين للنوع۔
(۴) كون جملة الفاعل فيها ضمير متصل وبها مفعول مطلق موكد لفعله۔
(۵) كون جملة تشتمل على فعل أمر مبنى على الفتح ، وبها مفعول مطلق مبين للعدد
(٦) كون جملة شرطية تشتمل على مفعول مطلق مؤكد لفعل الشرط ومفعول مطلق مؤكد الجواب الشرط .
( ۷) كون جملة الفاعل فيها مثنى مضاف مع اشتمالها على مفعول مطلق مبين للنوع
التمرين (٦)
صف ليلة مظلمة كثيرة المطر والريح والبرد مع الاتيان بمفعول مطلق في كثير من الجمل التي تنشئها:
تمرین فی الأعراب (۷)
(الف) نموذج
وقف الشرطى وقوف النشاط
وقف ....... فعل ماض مبنى على الفتح
الشرطي .... فاعل مرفوع بالضمة
وقوف .... مفعول مطلق منصوب بالفتحة وهو مضاف
النشاط۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مضاف اليه مجرور بالكسرة
(ب) اعرب ما يأتي
(۱) سررت سرورا
(۲) اسع سعى المجد
(۳) لا تخافي خوف الجبناء
(۴) طرق عامل البريد الباب طرقاً
22 النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۴
تمرین ( ۱ )
عين كل نائب عن المفعول المطلق فى العبارة الآتية وبين سبب نيابته :
التمرينات البدنية تزيد العضلاتِ صلابة والقلب قوة ، وتساعد الأمعاء والكلى أتم مساعدة ، فعلى الإنسان أن يُعنى بها كل العناية، وأن يجعل لنفسه حظا منها كل يوم ، وأفضل أنواع التمرين البدني ما كان في الهواء الطلق ؛ فيحسن بالإنسان أن يَمْشِى فى الحقول كثيراً، وأن يَسْبَحَ عَوْماً ، وأَن يَمْتَطِي صهوات الخيل ركوباً ، وأن يشتغل فى حديقة منزله دفعتين أو ثلاثاً كل أسبوع ، وعلى الإنسان ألا يُجهد نفسه فى هذا التمرين ذلك الإجهاد الذي يأتيه المتنافسون في ميادين السباق، فإن ذلك قد يضر الجسم أكثر مما يفيده
التمرین ( ۲ )
عين نائب المفعول المطلق في الجمل الآتية :
( ١ ) تلا القارئ القرآن أحسن تلاوة
(۲) رمى الصياد الطير سهماً
(۳) سَجَد المُصَلِّى أربعا
( ٤ ) ما نام المريض بعض النوم حتى هَبَّ مُنزعجاً .
(٥) يُحِبُّ العاقل وطنه كل الحب
(٦) هَجَمَ الجُنْدِي الدَّغْرَى .
(۷) الرجل المهذب لا يعامل الناس هذه المعاملة
(۸) صفحتُ عنه صفحاً لا أصفحه عن أحد
(۹) إذا نجحت دعوت الجفلى
(۱۰) اولم صديق ودعا النقرى
التمرین ( ۳ )
ضع نائباً عن المفعول المطلق فى كل مكان خال ، بحيث يكون من النوع الموضوع بين القوسين :
(۱) أقبل الناس (مرداف )
(۲) أبغض الجبان (مرداف )
(۳) نأكل في اليوم ( عدد )
( ٤ ) بعد أن غَضِبَ .... رجع إليه حلمه ( اسم إشارة )
( ٥ ) أُحِبُّ الهواء الطلق ( کل )
( ٦ ) احترمته احتراماً (ضمير )
( ۷ ) أتعب العامل نفسه (بعض )
(۹) ضرب اللاعب الكرة ..... ( آلة )
( ۹ ) أكرمنا الضيوف (صفة )
(۱۰) نظرت إلى المقص ( نوع )
التمرين ( ٤ )
اجعل كل لفظ من الألفاظ الآتية نائباً عن المفعول المطلق في جملة تامة :
كل الإتقان بعض الإهمال تلك المساعدة أتم حفظ ذلك السلوك
عشرين عصا توكيلاً يسيراً سروراً
التمرين ( ٥ )
(۱) كون جملة الفاعل فيها مثنى مذكر، مع اشتمالها على اسم عددنائب عن المفعول المطلق .
(۲) كون جملة نائب الفاعل فيها جمع مؤنث سالم ، مع اشتمالها على صفة نائبة عن المفعول المطلق
(۳) كون جملة المبتدأ فيها جمع مذكر سالم ، والخبر جملة فعلية مشتملة على ضمير نائب عن المفعول المطلق .
(۴) كون جملتين استفهاميتين ، تشتمل كل منهما على مصدر نائب عن المفعول المطلق
(۵) کون جملۃ شرطیۃ، تشتمل کل من فعل الشرط والجواب فیھا متلوا بنائب عن المفعول المطلق۔
التمرين ( ٦ )
كون تسع جمل تشتمل كل واحدة منها على نائب عن المفعول المطلق ؛ واستوف جميع الأنواع التی تعرفها:
تمرین فی الاعراب(۷)
نموذج (۱)
زار الطبیب المریض اربع مرات
زار۔۔۔۔۔فعل ماض مبنی علی الفتح
الطبیب۔۔۔فاعل مرفوع
المریض۔۔۔۔۔مفعول بہ مصوب
اربع۔۔۔۔۔۔نائب عن المفعول المطلق منصوب بالفتحۃ
مرات۔۔۔۔۔۔مضاف الیہ مجرور
(ب) اعرب الجمل الآتیۃ:
(۱)وثقت بک کل الثقۃ
(۲)عطفنا علیہ مثل عطفکم
(۳)سعیت ذلک السعی
(۴)جلس الرجل القرفصاء
23 تیسیر النحو۔ سبق:۱۳
أسئلۃ
۱۔ عرف المفعول المطلق مع ذكر أقسامه والأمثلة لها،
٢- ما ذا يعمل في المفعول المطلق وماذا يشترط في كل منها، اذكرها مع التمثيل.
۳۔ متى يحذف عامل المفعول المطلق جوازاء اذكره بالتمثيل ؟
٤- متى يحذف عامل المفعول المطلق وجوبا، اذكره بالتمثيل ؟
تمرينات
۱- بين فيما يأتي أنواع المفعول المطلق والعامل فيه. ونوع النائب عنه
عجبا لبعض الناس، إذا تحدث لا ينظر فيما يقول نظرة فاحصة ولا يهذبه - التهذيب المطلوب، بل تراه يخبط خبط عشواء، ومن هنا فهو لا يتمسك بما يقول، بل و يرجع رجوعا ويندم ندامة الخاطئين، لو أنه فكر تفكيرا قليلاً لأصاب إصابة كاملة - ولم يندفع الاندفاع الذي يورثه حسرة، ولأثنى عليه سامعوه ثناء كريما، فكان المتحدث اللبق حقا، فانبذ التسرع نبذ النواة، وبعدا له وسحقا ... وصبرا صبرا على و اجادة القول .... فالكلم الطيب يصعد إلى رب العباد.
۲۔ هات ما يأتي في جمل مفيدة
(ا) مفعولا مطلقا ناصبه فعل (ب) مفعولا مطلقا ناصبه وصف (ج) مفعولا مطلقا ناصبه مصدر (د) مصدرا مؤكدا لنفسه (ھ) مصدرا مؤكد الغيره.
۳۔ كون ثلاث جمل من إنشائك تتضمن ما يأتي.
مصدرا محذوف العامل وجوبا، مصدرا محذوف العامل جوازا
24 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
25 مفعول فیہ (ظرف زمان و مکان)
مفعول فیہ کی تعریف:
مفعول فیہ وہ اسم ہے جو کسی فعل کے وقوع کا وقت یا جگہ بیان کرے اور اس کا اعراب منصوب ہو۔ اسے ظرف بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ یہ کسی فعل کے ہونے کا زمانے یامکان کو بیان کرتا ہے۔
مفعول فیہ کی اقسام:
مفعول فیہ کو دو بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
۱۔ ظرفِ زمان :
وہ اسم جو کسی فعل کے واقع ہونے کا وقت بیان کرے۔
مثالیں:
سافرتُ لَیلًا (میں نے رات کے وقت سفر کیا) → "لیلًا" ظرفِ زمان ہے۔
جئتُ صَباحًا (میں صبح آیا) → "صباحًا" ظرفِ زمان ہے۔
اجتهدتُ يَومَ الامتحانِ (میں نے امتحان کے دن محنت کی) → "يومَ" ظرفِ زمان ہے۔
ظرفِ مکان :
وہ اسم جو کسی فعل کے واقع ہونے کی جگہ بیان کرے۔
مثالیں:
جلستُ أمامَ المعلمِ (میں استاد کے سامنے بیٹھا) → "أمامَ" ظرفِ مکان ہے۔
سرتُ طَريقًا طويلاً (میں نے ایک لمبا راستہ طے کیا) → "طريقًا" ظرفِ مکان ہے۔
وقف الجنديُّ خلفَ القائدِ (سپاہی قائد کے پیچھے کھڑا ہوا) → "خلفَ" ظرفِ مکان ہے۔
اعراب:
مفعول فیہ ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، یعنی اس پر فتحہ یا کبھی مضاف ہونے کی وجہ سے مجرور بھی ہو سکتا ہے۔
ظرف اگر مبنی ہو، جیسے "أين، ثم، هنا، هناك" تو یہ اپنی حالت میں برقرار رہتا ہے۔
شرائط:
مفعول فیہ کا تعلق ہمیشہ فعل یا کسی ایسے مصدر سے ہوتا ہے جس میں فعل کا معنی پایا جائے۔
مفعول فیہ کو جملے میں حذف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کا سیاق و سباق سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ظرف کبھی کبھی مضاف ہوتا ہے اور اس کے بعد مضاف الیہ آتا ہے، جیسے: جئتُ يومَ العيدِ (میں عید کے دن آیا)۔
مفعول فیہ فعل کے ہونے کا وقت یا جگہ بتانے والا اسم ہے جو عام طور پر منصوب ہوتا ہے۔ یہ ظرفِ زمان اور ظرفِ مکان کی صورت میں آتا ہے اور فعل یا مصدر کے ساتھ متعلق ہوتا ہے۔
26 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۳
ظَرْفُ الزَّمَانِ: اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ الزَّمَنَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.
ظَرْفُ المَكَانِ:اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ المَكَانَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.
ظرف زمان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کا زمانہ واضح کرتا ہے۔
ظرف مکان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کی جگہ کا تعین کرتا ہے۔
الأمثلة :
(1) مَكَثَتُ بِالإِسْكَندَرِيَّةِ شَهرًا
(۲) شَرِبَ الْمَرِيضُ الدَّوَاءِ صَبَاحاً
(٣) جَلَسْتُ مَعَ صَدِيقِي لَحْظَة
(٤) تُوقَدُ الْمَصَابِيحُ لَيْلًا
(۵) تَجْمَعُ النَّمْلَةُ قُوتَهَا صَيْفاً
(٦) وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ .
(٧) جَلَسَتِ الهَرَةُ تَحْتَ الْمَائِدَةِ
(۸) نَامَ الْكَلْبُ خَلْفَ الْبَابِ
(٩) يَثبُ اللَّصْ فَوْقَ السُّورِ .
(١٠) جَرَى عَلِّى مِيلًا
27 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۶
مفعول فيه (ظرف زمان و ظرف مكان)
مفعول فيه: وہ اسم منصوب ہے جس سے کسی فعل کے وقوع کا وقت یا جگہ معلوم ہو جیسے جَلَسْتُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ( میں درخت کے نیچے بیٹھا) اور سرت لیلا ( میں رات کے وقت چلا ) ان مثالوں میں "تحت اور لیلا مفعول فیہ ہیں۔
مفعول فیہ در حقیقت ظرف زمان اور ظرف مکان کا دوسرا نام ہے ظرف زمان سے مراد وقت اور زمانہ ہے اور ظرف مکان سے جگہ اور مقام ۔ پس ہر وہ وقت ( زمان ) اور ہر وہ جگہ (مکان) جس میں کسی فعل کے وقوع کا ذکر ہو نحو کی اصطلاح میں مفعول فیہ کہلاتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے پہلے حرف جار ( نہ ہو جیسے اوپر کی دوسری مثال میں لیلا مفعول فیہ ہے مگر سرت فی اللیل میں اللیل کو مفعول فیه نہیں کہتے۔
ظرف زمان: خواہ مختص و معین ہو، خواہ مبہم ہو اور غیر معین ہو دونوں صورتوں میں ظرفیت کی بناء پر مفعول فیہ بن سکتا ہے۔ جیسے سافرت يَوْمَ الْخَمِيسِ مگر ظرف مکان کے صرف وہی اسماء مفعول فیہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کا شمار ظروف مبہمہ میں ہوتا ہے جسے اسماء جہات سته ( فوق، تحت قدام، خلف، يمينا، شمالا) اور اسماء مساحت جیسے (فرسخا، میلا، بریدا) وغیرہ اسی طرح اسمائے ظروف مشتق جیسے ذَهَبُتُ مَذْهَبَ خالدٍ اور جَلَسْتُ مَجْلِسَ الاستاذ وغیرہ مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کا عامل خود اسی مادہ سے ہو جیسے مذکورہ دونوں مثالوں میں، اس کے برعکس مثلاً ذَهَبْتُ مَجْلِسَ الْأَسْنَادِ کہنا درست نہیں کیوں کہ مجلس کا عامل (ذهبت) اس مادہ سے نہیں ہے۔
رہے ظرف مکان کے وہ اسماء جن سے کوئی محدود مخصوص جگہ مراد ہو جیسے مسجد، مدرسہ، گھر، بازار، شہر وغیرہ ، تو ظرفیت کی بناء پر یہ منصوب نہیں ہو سکتے اور نہ ان کا نام مفعول فیہ رکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ ان کے پہلے حرف ظرفیت "فی" کا لانا ضروری ہوتا ہے۔ صليت في المسجد، اقمتُ في السوق، اور جلست فِی الدَّارِ وغیرہ اس کے برخلاف صليت المسجد، اقمت السوق اور جلست الدار صحیح نہیں ہے۔ ہاں البته دَخَلْتُ کے باب میں کثرت استعمال کی وجہ سے توسعا یہ بات جائز رکھی گئی کہ اس کا استعمال "فی" اور فی کے بغیر دونوں طرح صحیح ہے۔ جیسے دخلت فی المسجد و في الدار اور دخلت المسجد، والدار وغيره
ذیل میں چند اسمائے ظروف لکھے جاتے ہیں، ان کو زبانی یا لکھ کر جملوں میں استعمال کریں۔
ليلا، نهارا، ساعةً، سنةً، شهرا، أسبوعا، دقيقةً، صباحا، مساء، فجرا، ضحی، غدوةً، عشيةً، بكرةً ، اصيلاً، ظهرا، عشاء، عصرا، ظهيرةً، أمس، غدًا، برهةً، هنيهة، زمنًا، حينًا، عاما، دهرًا، ابدا، دَائِماً، قَطُّ، عِوضُ، اول، قبل، بعدُ، تَحْتُ، خَلفُ ، امام، وراء، تلقاء، تجاه، ازاء، حذاء، يميناً، شمالاً۔
خط کشیدہ الفاظ جن کا شمار ظروف مبهمہ میں ہوتا ہے کسی اسم کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے اور منصوب پڑھے جاتے ہیں۔ مگر کبھی ان کا مضاف محذوف ہوتا ہے اور دل میں مقصود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ لِلَّهِ الأَمرُ مِنْ قبل ومن بعد لیکن اگر مضاف الیہ محذوف نہ ہو یا محذوف ہو مگر دل میں مقصود نہ ہو تو دونوں صورتوں میں معرب پڑھے جاتے ہیں اور منصوب ہوتے ہیں جیسے جَلَسْتُ فَوق الکرسی اور جئت اولا یا افعل هذا اولاً ، پہلی مثال میں مضاف الیہ محذوف نہیں ہے اور آخر کی دونوں مثالوں میں محذوف ہے مگر مقصود نہیں ہے
أمس کل گزشتہ کے معنی میں آتا ہے اور کسرہ پر مبنی ہوتا ہے مگر أمس پر اگر الف لام (ال) داخل کر دیا جائے تو مطلق زمانہ ماضی کے معنی میں ہو جاتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہے کہ بِالْأَمسِ كَانَ كذا و كذا
قط اور عوض ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں اور ہمیشہ نفی کے بعد آتے ہیں۔ قط زمانہ ماضی کے لئے اور عوض زمانہ مستقبل کے لئے آتا ہے۔ جیسے ما فَعَلْتُ هَذَا قَطُّ اور لا افْعَلُ هَذَا عِوَضُ ۔
28 تیسیر النحو۔ سبق:۱۴
فصل المفعول فيه
المفعول فيه: ( ويسمى الظرف) اسم يذكر البيان زمان الفعل أو مكانه على تقدير معنى في نحو : سافر ليلا ، ومشى ميلا.
والظرف قسمان ظرف زمان وظرف مكان، وكل منهما إما مبهم . أو محدود ويقال له : مختص أيضا فالمبهم من ظروف الزمان ما دل على قدر من الزمان غير معين نحو حين، ووقت ولحظة.
والمحدود (أو المختص) من ظروف الزمان مادل على وقت مقدر معين، نحو: يوم. وساعة، وشهر، وسنة.
وكلاهما يصلحان للنصب على الظرفية فتقول : صمت حينا، وسافرت يوم الاثنين.
والمبهم من ظروف المكان: ما دل على مكان غير معين البقعة أو هو ما ليس له صورة ولا حدود محصورة، كالجهات الست "أمام" ( ومثلها: قدام) و "وراء" (ومثلها: خلف) و يمين ويسار" ( ومثلها : شمال) و "فوق" و"تحت" وكأسماء المقادير المكانية نحو: ميل" و "فرسخ " و "كيلو متر"
والمحدود ( أو المختص ) من ظروف المكان ما دل على مكان معين البقعة، أو هو ما له صورة وحدود محصورة كـ "دار" و "مدرسة" و "معبد "
ولا ينصب من ظروف المكان إلا (۱) ما كان منها مبهما متضمنا معنى "في" نحو : سرت فرسخا، و (۲) ما كان مشتقا سواء أكان مبهما - أو محدودا، بشرط أن يكون عامله من لفظه مثال المبهم : خرج الماء مخرجه ومثال المحدود: جلست مجلس الرئيس.
ما ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه :
ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه خمسة أشياء:
۱۔ المصدر الدال على تعيين زمان أو مكان، نحو: سافرت طلوع الشمس، وجلست قرب الخطيب.
۲۔ المضاف إلى الظرف مما دل على كلية، أو جزئية، نحو: مشيت كل الفرسخ، وأقابل بعض الأحيان، وأجلس معه معظم الأوقات.
۳۔ الصفة القائمة مقام الظرف الموصوف، نحو: سرت قليلا أي زمنا قليلا.
۴۔ اسم الإشارة، نحو سرت ذلك اليوم سيرا سريعا.
۵۔ العدد الذي يقع الظرف تمييزا له، أو مضافا إليه له، نحو: سرت أربعين فرسخا ومشيت ثلاثة أيام. والظروف كلها معربة، إلا ألفاظا محصورة منها جاءت مبنية، سيأتي تفصيلها في مبحث المبني.
عامل المفعول فيه:
يكون عامل المفعول فيه فعلا ، كالأمثلة المذكورة أو شبه فعل نحو: أنا صائم غدا.
تأخر المفعول فيه وتقدمه:
الأصل في المفعول فيه أن يتأخر عن عامله، وقد يتقدم جوارًا، نحو: يوم الخميس صمت - كما أنه يتقدم وجوبا إذا كان له صدر الكلام نحو أين تنام؟ متى تسافر ؟
ذكر عامل المفعول فيه وحذفه:
الأصل في عامله أن يكون مذكورا، وقد يحذف إذا دلت عليه قرينة، نحو: يوم السبت في جواب من قال:
أي يوم سافرت ؟
لحوق ما بالظرف: تلحق "ما" ببعض الظروف (مثل: عند، وحين، وقبل، وبعد، ودون) وتكون زائدة ولا تؤثر عليها، ولا تكفها عن العمل، أي: ان هذه الظروف تظل منصوبة، ويظل الاسم الذي يليها مضافا إليه مجرورا، مثل: طلبت منه أن يحضر دونما تأخير (دونما: دون ظرف منصوب و ما زائدة تأخير مضاف إليه مجرور بالكسرة ) .
إضافة ياء مشددة إلى أسماء الجهات: يجوز إضافة يـاء مشددة إلى أسماء الجهات الأربع، فتقول: شمالي، وجنوبي، وشرقي وغربي، مثل: تقع مدينة بومباي غربي الهند.
فصل المفعول فيه
مفعول فيه: یہ وہ اسم ہے جو فعل کے زمانے یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔ مفعول فيه کو ’’ظرف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: "سافر ليلا" (اس نے رات کو سفر کیا) اور "مشى ميلا" (اس نے ایک میل چلا)۔
اقسام:
ظرف دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے:
1. ظرف زمان: جو وقت کی وضاحت کرتا ہے۔
2. ظرف مکان: جو جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔
ہر ایک قسم میں مبہم (غیر متعین) اور محدود (متعین) ہوتا ہے:
- مبہم: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک غیر معین مدت کو ظاہر کرتی ہیں، جیسے: "حين" (کچھ وقت)، "وقت" (وقت)، اور "لحظة" (لمحہ)۔
- محدود: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک خاص وقت کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "يوم" (دن)، "ساعة" (گھنٹہ)، "شہر" (مہینہ)، "سنة" (سال)۔
دونوں قسمیں ظرفیت کے لئے نصب ہوتی ہیں، جیسے: "صمت حينا" (میں نے کچھ وقت روزہ رکھا) اور "سافرت يوم الاثنين" (میں نے پیر کے دن سفر کیا)۔
مبہم ظروف مکان وہ ہیں جو غیر متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "أمام" (آگے)، "وراء" (پیچھے)، "يمين" (دائیں) وغیرہ۔
محدود ظروف مکان وہ ہیں جو متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "دار" (گھر)، "مدرسة" (اسکول)، "معبد" (عبادت گاہ) وغیرہ۔
نصب کی شرائط:
مکان کے مبہم ظرف میں صرف وہی نصب کیا جا سکتا ہے جو:
1. مبہم ہو اور معنی "في" شامل کرتا ہو، جیسے: "سرت فرسخا" (میں نے ایک فرسخ چلا)۔
2. مشتق ہو چاہے وہ مبہم ہو یا محدود، بشرط کہ اس کا عامل موجود ہو، جیسے: "خرج الماء مخرجه" (پانی اپنے نکاس سے باہر آیا) یا "جلست مجلس الرئيس" (میں صدر کی جگہ بیٹھا)۔
مفعول فيه کی جگہ
مفعول فيه کی صورت میں پانچ چیزیں ہیں جو اس کے نصب ہونے کی حیثیت سے کام کر سکتی ہیں:
1. مصدر: جو وقت یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے، جیسے: "سافرت طلوع الشمس" (میں سورج طلوع ہونے پر سفر کیا)۔
2. مضاف: جو ظرف کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے: "مشيت كل الفرسخ" (میں نے پورا فرسخ چلا)۔
3. صفت: جو ظرف کے وصف کے طور پر کام کرتی ہے، جیسے: "سرت قليلا" (میں تھوڑی دیر چلا)۔
4. اسم الإشارة: جیسے: "سرت ذلك اليوم سيرا سريعا" (میں اس دن تیز چلا)۔
5. عدد: جو ظرف کے تميز کے طور پر آتا ہے، جیسے: "سرت أربعين فرسخا" (میں نے چالیس فرسخ چلا)۔
عامل المفعول فيه:
مفعول فيه کا عامل عموماً فعل ہوتا ہے، جیسے: "أنا صائم غدا" (میں کل روزہ رکھوں گا)۔
مفعول فيه کی ترتیب:
مفعول فيه کا اصل یہ ہے کہ یہ عامل سے پہلے آتا ہے، مگر یہ کبھی کبھی قریبی جگہ پر بھی آ سکتا ہے، جیسے: "يوم الخميس صمت" (میں نے جمعرات کو روزہ رکھا)۔ نیز، اگر یہ جملے کی ابتداء میں آتا ہے تو یہ واجب ہے، جیسے: "أين تنام؟" (تم کہاں سوتے ہو؟) یا "متى تسافر؟" (تم کب سفر کرتے ہو؟)۔
عامل کا ذکر یا حذف:
مفعول فيه کے عامل کا ذکر کرنا اصل ہے، مگر یہ حذف بھی ہو سکتا ہے اگر کوئی دلیل موجود ہو، جیسے: "يوم السبت" کے جواب میں: "أي يوم سافرت؟" (تم کس دن سفر کیا؟)۔
ما کا لحوق:
کچھ ظروف (جیسے: "عند"، "حين"، "قبل"، "بعد"، "دون") میں "ما" ملایا جاتا ہے جو اضافی ہوتی ہے اور اس پر اثر انداز نہیں ہوتی، یعنی یہ ظروف منصوب رہتی ہیں، اور جو نام اس کے ساتھ آتا ہے وہ بھی مضاف ہوتا ہے، جیسے: "طلبت منه أن يحضر دونما تأخير" (میں نے اس سے کہا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آئے)۔
یاء مشددة کا اضافہ:
چاروں سمتوں کے ناموں میں یاء مشددة کا اضافہ جائز ہے، جیسے: "شمالي" (شمالی)، "جنوبي" (جنوبی)، "شرقي" (مشریقی) اور "غربي" (مغربی)۔ جیسے: "تقع مدينة بومباي غربي الهند" (ممبئی کا شہر بھارت کے مغرب میں واقع ہے)۔
29 المفصل۔ سبق:۱۸
المفعول فيه
هو ظرفا الزمان والمكان وكلاهما منقسم إلى مبهم ومؤقت، ومستعمل إسماً وظرفاً، ومستعمل ظرفاً لا غير. فالمبهم نحو الحين والوقت والجهات الست والمؤقت نحو اليوم والليلة والسوق والدار.
والمستعمل إسماً وظرفاً ما جاز ان تعتقب عليه العوامل والمستعمل ظرفاً لا غير ما لزم النصب نحو قولك وسرنا ذات مرة وبكرة وسحر وسحيرا وضحى وعشاء وعشية وعتمة ومساء، إذا أردت سحراً بعينه وضحى يومك وعشيته وعشاءه عتمة ليلتك ومساءها. ومثله عند وسوى وسواء. ومما يختار فيه أن يلزم الظرفية صفة الأحيان، تقول سير عليه طويلاً وكثيراً وقليلاً وقديماً وحديثاً.
وقد يجعل المصدر حينا لسعة الكلام. فيقال كان ذلك مقدم الحاج، وخفوق النجم، وخلافة فلان، وصلاة العصر؛ ومنه سير عليه ترويحتين وانتظرنه نحر جزورين وقوله تعالى : " وإدبار النجوم".
وقد يذهب بالظرف عن أن يقدر فيه معنى في اتساعاً، فيجرى لذلك مجرى المفعول به، فيقال الذي سرته يوم الجمعة وقال:
ويوم شهدناه سليماً وعـــامـــراً قليل سوى الطعن النهال نوافله
ويضاف إليه كقولك يا سارق الليلة أهل الدار، وقوله تعالى: " بل مكر الليل والنهار. ولولا الإتساع لقلت سرت فيه وشهدنا فيه.
إضمار عامل المفعول فيه:
وينصب بعامل مضمر كقولك في جواب من يقول لك متى سرت؟ يوم الجمعة. وفي المثل السائر: أسائر اليوم وقد زال الظهر ؟ ومنه قولهم لمن ذكر أمراً قد تقادم زمانه حينئذ الآن، أي كان ذلك حينئذ. واسمع الآن.
ويضمر عامله على شريطة التفسير كما صنع في المفعول به تقول اليوم سرت فيه وأيوم الجمعة ينطلق فيه عبد الله، مقدراً أسرت اليوم وأينطلق عبد الله يوم الجمعة.
30 تمارین
31 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۶
التمرين ۳۳
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :۔
(1)يظهر قرص الشمس صباحا من جهة الشرق بعد الفجر بنحو ساعة فيذهب وحشة الليل ويملأ الكون حركة ونشاطا.
(2)والشمس تختفى مساء عند الأفق الغربي فيظهر الشفق و ينشر الظلام اجنحته على الدنيا شرقاً وغرباً.
(3)والقمر كوكب مستدير سيار - يكتب ضوءه من الشمس فينير الأرض ليلا.
(4)ويصاب القمر بالخسوف أحيانا فينطفئ نوره ويحمر قوصه فتعبس الدنيا ويعمها الظلام ويبقى ذلك بعض الأحايين ساعات
(5)والنجوم حلية السماء وزينتها ليلاً وهي كثيرة لا يمكن عدها .
(6)تغلق المدارس صيفا لأن الحر يخمل الجسم والذهن ويسعف الطلاب ويقلقهم ليلا ونهاراً فلا يستطيعون الدرس والمطالعة
(7)ترش شوارع المدن كل يوم صباحا ومساء وتضاء بالمصابيح الكهربائية ليلاً
(8)ذهبت أمس مع والدى إلى الحفل بعد العصر. فمشينا ساعة حول الزروع ثم جلسنا تحت شجرة باسقة على ضفة النهر وكنا نسمع خرير المياه تحت أقدامنا والطيور فوقنا تشد و على الغصون العالمية فراقني ذلك المنظر البهيج فبقيت برهة أمتع النفس بتلك المشاهدة الساحرة ونقلب الطرف بين مناظر الزرع الأخضر ثم قمت مع أبي وعدنا إلى المنزل قبيل أقول الشمس.
(9) ترجوا النجاة ولم تسلك مسالكها
إن السفينة لا تجرى على اليابس
(10)لا يحل لامرئ مسلم أن يهجر أخاه فوق ثلث ليال .
(11)سبحن الذي أسرى بعبده ليلا من المسجد الحرام إلى المسجد الأقصى الذي باركنا حوله لنريه من ايتنا الكبرى .
(12)وجعلنا بينهم وبين القرى التي باركنا فيها قرى ظاهرة وقدرنا فيها السير، سيروا فيها ليالي واياما اٰمنين.
(13)فسبحن الذي حين تمسون وحين تصبحون وله الحمد في السموات والأرض وعشيا و حين تظهرون .
(14)ياتها الذين امنوا اذكروا الله ذكرا كثيرا وسبحوه بكرة وأصيلا.
(15)ولا تقولن لشيئ إلى فاعل ذلك غدا إلا ان يشا الله
التمرين ۳۴
عربی میں ترجمہ کیجئے :-
(1)اللہ کے نیک بندے راتوں کو جاگتے ہیں اور دن میں اس کے فضل (رزق) کی تلاش میں ادھر ادھر نکل جاتے ہیں۔
(2) اہل ثروت موسم گرمامیں "شملہ" یا "مسوری" کا سفر کرتے ہیں اور مئی وجون کے دو مہینے وہاں گزارتے ہیں۔
(3) آج شام کو میں اپنے باغ میں ایک گھنٹہ ٹہلتا رہا، پھر سورج غروب ہونے سے پہلے گھر لوٹ آیا۔
(4) میں ہر روز صبح و شام ٹہلا کرتا ہوں ، صبح کو صاف ہوا میں ٹہلنا صحت کے لیے مفید ہے۔
(5) ہریل اور فاختے اونچے اونچے درختوں کے اوپر اپنے گھونسلے بناتے ہیں اور شاہین پہاڑوں پر اپنا بسیرا کرتا ہے ۔
(6) چمگادڑ رات میں نکلتے ہیں اور دن میں چھپے رہتے ہیں اس لیے کہ دن کی روشنی میں انھیں دکھائی نہیں دیتا۔
(7) چونٹیاں موسم گرما میں اپنے رزق کا سامان مہیا کرتی ہیں تا کہ جاڑے اور برسات کے موسم میں راحت اُٹھائیں۔
(8) میرے گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا خوب صورت باغ ہے، میں ہر روز اس میں دو گھنٹے کام کرتا ہوں۔
(9) میں اس بات پر قادر ہوں کہ مسلسل دو راتیں جاگ سکوں ۔
(10)کسان اور مزدور دن بھر کام کرتے ہیں، مگر رات کو وہ آرام کے ساتھ میٹھی نیند سوتے ہیں ۔
(11)ریلوے اور ڈاک کے محکموں میں رات دن کام ہوتا رہتا ہے اگر ایسا نہ ہو تو بجائے وہ کام جو ایک دن میں پورے ہوتے ہیں، کئی کئی دن میں پورے ہوں۔
(12)میرے گاؤں کا محل وقوع بہت ہی اچھا ہے، مشرق میں ایک صاف و شفاف چشمہ بہتا ہے، اور مغرب میں خوب صورت جھیل واقع ہے، شمال میں ہرے بھرے کھیت ہیں اور جنوب میں گھنے باغات اور پارک ہیں۔
التمرين ۳۵
(رحلة مدرسية)
اُردو میں ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے
سافرت مرة إلى دهلى فى فرقة من طلبة دار العلوم، فتوجهنا إلى اٰكره لمشاهدة " التاج محل فلما وصلنا الى توند له ليلا نزلنا من القطار وجلسنا برهة على الرصيف ننتظر القطار الذي يوصلنا إلى اٰكره فجاء القطار وسار بنا ساعة حتى وصلنا إليها فجراً فبحثنا أولا عن الماء متوضأنا وصلينا الفجر. وبعد الصلوة استلقينا على ظهورنا لنستريح ساعة وقد كان كل منا فى حاجة إلى النوم بعد ما سهر الليل كله فغلبنا النوم ولم نستيقظ إلا بعد ثلث ساعات فقمنا من الفراش واكلنا غداءنا ضحى ، ثم أخذنا الطريق الى التاج محل حتى وصلنا إليه ظهرا.
و قد كنا قرأنا عنه من قبل فى كتب التاريخ انه اية في البناء والهندسة فلما رأيناه وجدناها أجهل مما تمثلنا إنها درة يتيمة تفتخر بها الهند وحق لها الفخر إن كان الفخر حقا. وقفنا أمامه و قمنا خلفه و درنا حوله نتعجب من حسن بنائه وبهجته وصفائه ثم صعدنا فوق إحدى منارات، فرأينا " جمنا " يجرى تحته فجلسنا طويلا نفكر في عظمة القدماء و هممهم ثم ذهبت كل مذهب في الفكر وجعلت أفكر في ملوك الهند وإسرا فهم فى الأبنية والقصور الشامخة وقلت في نفسى لو أنفق هذا الملك على بناء مدرسة يدل هذه المقبرة ووقفت لها هذه الأموال الطائلة لكان له ذخرا في الآخرة فانى سمعت أن بناءه قدتم فى ثلث وعشرين سنة وكان يعمل فيه عشرون الف صانع ويقدر أنه أنفق فى تشييده ما ينيف على ثلاثة ملايين من الجنيهات.
وما زلنا نتذاكر و نتجاذب أطراف الحديث بهذا الموضوع حتى خفت حرارة الشمس عصرا فقمنا ورجعنا على الأقدام فوصلنا إلى المحطة مساء. فاشترينا التذاكر وركبنا القطار ووصلنا إلى توند له، ومن توند له إلى " دهلی "صباح الغد۔
التمرين ۳۶
(رحلة مدرسية)
عربی میں ترجمہ کیجئے:
دوسرے دن ہم صبح کو دہلی پہونچے ، دہلی میں ہمارا قیام ایک ہفتہ رہا وہاں ہم نے آثار قدیمہ اور تاریخی مقامات کی خوب سیر کی ، ایک روز ہم قطب مینار بھی گئے۔ منارہ قطب الدین وہاں سے کافی دور تھا۔ ہم نے ایک پوری بس کرایہ پر لے لی ، عصر سے پہلے ہم لوگ بس پر سوار ہوئے اور وہ ہم کو لے کر آہستہ آہستہ قطب مینار کی طرف چلی۔ ہم دائیں بائیں دیکھتے جاتے تھے اور ہر چیز کے متعلق اپنے استاد سے سوال کرتے جاتے تھے ، چند منٹ کے بعد ہم مقبرہ ہمایوں پہونچ گئے مقبرہ کے سامنے ، ہماری بس رکی اور ہم سب اُتر گئے، تھوڑی دیر ہم اس میں گھومتے رہے، اندر باہر سے اُسے دیکھا، اور پھر اپنی سیٹوں پر آکر بیٹھ گئے۔
عصر کے وقت ہم قطب مینار پہونچے، سب سے پہلے پانی کی تلاش ہوئی، وضو کیا، نماز پڑھی پھر منارہ کی طرف گئے، پہلے ہم اسکے ارد گرد کئی مرتبہ گومے پھر اس کے اوپر چڑھے، اب جو نیچے نگاہ دوڑائی تو ہر چیز اپنے حجم سے چھٹی معلوم ہونے لگی، اوپر اب جو نیچے نگاہ منارہ سے متصل اس کے ارد گرد جو کھنڈرات اور عمارتیں تھیں وہ سب نظروں سے اوجھل ہوگئیں، تھوڑی دیر ہم اس کے اوپر ٹھہرے، اور پھر نیچے اتر آئے یہ منارہ سخت قسم کے سرخ پتھر سے بنا ہوا ہے ، اس کے چاروں طرف قرآن مجید کی آیات کندہ ہیں، اسے قطب الدین ایبک نے ایک مسجد کا منارہ بنایا تھا، مگراس کی تکمیل اس کے بعد اس کے غلام شمس الدین التمش کے ہاتھوں ہوئی ، کاش پوری مسجد کی تعمیر مکمل ہو گئی ہوتی اس منارہ کو دیکھ کر ہمارے دل میں طرح طرح کی آرزوئیں پیدا ہوئیں، تھوڑی دیر ہم رکے ، پھر ہم اپنی بس پر سوار ہوئے اور سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے اپنی قیام گاہ پر واپس آگئے۔
32 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۳
التمرين (۱)
استخرج ظروف الزمان والمكان من العبارة الآتية:
خرجنا يوما لمشاهدة الأهرام ، ولما ، فسارت بنا السيارة ساعة،ولما وصلنا إليها ظهرا . وقفنا أمامها ، ومشينا حولها ، وصعدنا فوقها ، فشاهدنا النيل يجرى تحتها ، ثم جلسنا مدة طويلة ، ولما قلت حرارة الشمس عصراً رجعنا على الأقدام فوصلنا إلى بيوتنا مساء ، ونحن في غاية السرور والقوة
التمرين (۲)
اجعل کل اسم من الأسماء الآتیۃ مفعولا فیہ فی جملۃ تامۃ:
سنة ، ليلة ، قدام ، دقيقة، اسبوعا
حينا ، ازاء ، فجرا ، برهة ، غدا
زمنا ، عشية ، دهرا ، هنيهة، عاما
التمرين (۳)
ضع ظرف زمان او مكان مناسبا في كل جملة من الجمل الآتية:
۱- يظهر القمر.۔۔۔۔۔۔
۲۔ تطلع الشمس .۔۔۔۔
۳۔ وضعت انابيب الماء ......
۴۔ انتظرت صدیقی۔۔۔۔۔
۵۔ وقف القطار ۔۔۔۔۔
۶۔ يقع اقليم مصر ۔۔۔۔۔ السودان
۷۔ ذهبت الى المدرسة ۔۔۔۔
۸۔ يقع المقطم ..... القاهرة
۹۔ يشتد البرد ......
۱۰- تلزم النملة مسكنها ۔۔۔۔۔
التمرين (۴)
(۱) كون خمس جمل تشتمل كل واحدة منها على ظرف زمان۔
(۲) كون خمس جمل تشتمل كل واحدة منها على ظرف مكان۔
(۳) كون جملة الفاعل فيها اسم اشارة الجماعة الاناث والمفعول به فيها من الاسماء الخمسة مع اشتمالها على ظرف زمان
(۴) كون جملة الفاعل فيها ضمير جماعة المتكلمين والمفعول به فيها جمع تكسير مع اشتمالها على ظرف مكان مضاف
التمرين (۵)
اذكر في جمل صحيحة كل ما تعمله في يوم عطلة مع الاتيان بظرف زمان او مكان في بعض الجمل۔
تمرين فی الإنشاء (٦)
(الف) نموذج
يشتد الحر صيفاً
يشتد ...... فعل مضارع مرفوع بالضمة
الحر...... فاعل مرفوع بالضمة
صيفاً.... ظرف زمان منصوب بالفتحه
(ب) اعراب مایاتی
(۱) احتفى الولد وراء الشجرة
(۲) سافر اخوك الى الاقصر شتاء۔
33 تیسیر النحو۔ سبق:۱۴
أسئلة
۱۔ عرف المفعول فیہ بالتمثیل؟
۲۔ ما هو المبهم وما هو المحدود من ظروف الزمان ؟ وأيهما يصلح للظرفية ؟ أجب عنهما مع الأمثلة.
۳۔ ما هو المبهم وما هو المحدود من ظروف المكان ؟ وأيهما يصلح للظرفية ؟ أجب عنهما مع الأمثلة.
٤ - ما هي الأشياء التي تنوب عن الظرف، اذكرها مع الأمثلة.
ه اذكر عامل المفعول فيه مع الأمثلة.
٦. اذكر تأخر المفعول فيه وتقدمه مع الأمثلة.
۷۔ اذكر ذكر عامل المفعول فيه وحذفه مع الأمثلة.
تمرينات
١. وضح فيما يأتي المبهم من ظروف الزمان والمكان والمختص منهما مع توضيح العامل.
اجتهد صباحا ومساء في الدراسة، استيقظ مبكرا، وإذا تعبت فاسترح قليلا - ونم ظهرا بعض الوقت، ولا تتأخر عن النوم مساء، واستقم على الصراط المستقيم ولا - تلتفت يمينا وشمالا، لا تكلف أحدا فوق طاقته، تخير من الزملاء من تطمئن إلى دينه - وخلقه حتى لا يذهب بك مذهب الباطل، واتق الله كل وقت ووفقك الله له دائما. ٢- اجعل كل كلمة من الكلمات الآتية في جملتين بحيث يكون ظرفا منصوبا في الأولى - ومجرورا في الثانية مع ذكر السبب (ملعب، مجلس، مقعد) .
۲۔ اجعل كل مصدر مما يأتي نائبا عن ظرف الزمان (إقامة الصلاة، قدوم الحاج، طلو - الفجر، صلاة العصر)
34 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
35 مفعول معہ
مفعول معہ کی تعریف:مفعول معہ کی تعریف:
مفعول معہ وہ اسم منصوب ہوتا ہے جو کسی فعل کے ساتھ کسی دوسرے کام یا واقعے کی معیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ عموماً حرف "واو المعیة" (واو بمعنی "ساتھ") کے بعد آتا ہے اور جملے میں اس کا ترجمہ "کے ساتھ" یا "کے ہمراہ" کیا جاتا ہے۔
عمل:
مفعول معہ کا مقصد فعل کی شدت یا دیگر چیزوں کے ساتھ وقوع کو واضح کرنا ہے۔ یہ فعل کے ساتھ جڑ کر دوسرے مفعول کی موجودگی کو ظاہر کرتا ہے، جس سے فعل کی نوعیت میں مزید وضاحت ملتی ہے۔
مثالیں:
1. فعل کے ساتھ ایک مفعول معہ:
- أكلت التفاحة مع البرتقالة (میں نے سیب کے ساتھ نارنگی بھی کھائی )
یہاں "مع البرتقالة" (نارنگی کے ساتھ) مفعول معہ ہے جو بتاتا ہے کہ سیب کھانے کے ساتھ ساتھ نارنگی بھی کھائی گئی۔
2. فعل کے ساتھ ایک دوسرے شخص کا ذکر:
- ذهبت إلى المدرسة مع صديقي (میں اپنے دوست کے ساتھ اسکول گیا)
یہاں "مع صديقي" (دوست کے ساتھ) مفعول معہ ہے جو بتاتا ہے کہ اسکول جانے میں دوست بھی شامل تھا۔
3. فعل کے ساتھ کوئی دوسری چیز:
-قرأت الكتاب مع القلم (میں نے کتاب پڑھتے وقت قلم بھی استعمال کیا)
یہاں "مع القلم" (قلم کے ساتھ) مفعول معہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ کتاب پڑھنے کے ساتھ قلم بھی استعمال ہوا۔
مزید وضاحت:
- مفعول معہ کا استعمال فعل کے بعد آتا ہے اور اکثر "مع" کے ساتھ مل کر ایک جملہ مکمل کرتا ہے۔
- یہ مفعول معہ فعل کے ساتھ شامل ہوتا ہے تاکہ اس کے ساتھ ہونے والی دوسری چیزوں کو واضح کیا جا سکے، جیسے کہ وقت، مقام، یا کسی اور عمل کے ساتھ۔
نوٹ: مفعول معہ کی حالت ہمیشہ وہی ہوتی ہے جو دوسرے مفعول کی ہوتی ہے، یعنی یہ بھی منصوب ہوتا ہے۔
36 معلعم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴
مفعول معہ اس کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اس مفعول سے پہلے واؤ معیت لکھا جاتا ہے جیسے اِذْهَبُ وَالشَّارِعَ الْجَدِيدَ (نئی سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے جاؤ ) یعنی دائیں بائیں نہ مڑنا اور جیسے جاء زيد والكتب ( زید کتابوں کے ساتھ یا کتابیں لے کر آیا )
37 تیسیر النحو ۔ سبق:۱۶
فصل المفعول معه
المفعول معه : اسم منصوب يذكر بعد "واو" بمعنى " مع " وهي تدل على مصاحبة ذلك الاسم المنصوب لمعمول ما تقدمه من فعل وشبهه، نحو سرت والنيل (الواو واو المعدية، النيل: مفعول معه المنصوب بالفتحة، وواو المعية تدل على مصاحبة النيل لمعمول الفعل "سار" وهو الضمير المرفوع المتصل ت ) والرجل سائر النيل ( واو المعية تدل على مصاحبة النيل المعمول شبه الفعل "سائر" وهو الضمير المرفوع المستتر في سائر" تقديره هو )
شروط نصب المفعول معه :
يشترط في نصب ما بعد الواو على أنه مفعول معه ثلاثة شروط
۱۔ أن يكون الاسم الواقع بعد الواو فضلة، حيث يصح انعقاد الجملة بدونه.
۲۔ أن يكون ما قبله جملة فيها فعل، أو اسم فيه معنى الفعل وحروفه.
۳۔ أن تكون الواو التي تسبقه نصا في المعية.
حالات الاسم الواقع بعد الواو
۱۔ يتعين نصب الاسم الواقع بعد الواو على المعية في موضعين:
(ا) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة المعنى نحو مشى التلميذ والطريق.
(ب) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة اللفظ ، نحو: سلمت عليك وأباك، وجئت وسليما
۲۔ يرجح النصب إذا كان العطف ضعيفا من جهة المعنى، نحو: لا تفرح بالبيع والخسارة .
۳۔ يرجح العطف متى أمكن بغير ضعف، نحو: سار الأمير والجيش.
۴۔ يتعين العطف إذا كان الفعل لا يقع إلا من متعدد، نحو: اختصم سعد وسعيد.
ناصب المفعول معه
يكون ناصب المفعول معه ما تقدمه
۱۔ من فعل
۲۔ أو شبه فعل ( وقد سبق مثالهما )
۳۔ وقد يكون منصوبا بفعل مضمر وجوبا من مادة (الكون) إذا وقع بعد ما، وكيف الاستفهاميتين، نحو: ما أنت وصديقك، وكيف أنت والامتحان والتقدير ما تكون و صديقك، وكيف تكون والامتحان
تقدم المفعول معه على العامل والمصاحب:
لا يجوز أن يتقدم المفعول معه على عامله، فلا يقال: والطريق مشى التلميذ، ولا على مصاحبه، فلا يقال: مشى والطريق التلميذ
فصل المفعول معه
مفعول معه: یہ ایک منصوب اسم ہے جو "واو" کے بعد آتا ہے جس کا معنی "مع" ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مذکورہ اسم (جو منصوب ہے) فعل یا فعل کے مشابہ کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً: سرت والنيل (میں نيل کے ساتھ چلتا ہوں) یہاں "النيل" (نيل) مفعول معه ہے جو "سار" (چلنا) فعل کے ساتھ موجود ہے۔
مفعول معه کی نصب کی شرائط:
مفعول معه کو نصب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:
1. فضلہ( زائد): الواو کے بعد آنے والا اسم فضلہ ہونا چاہئے، یعنی جملہ اس کے بغیر بھی مکمل ہو سکتا ہے۔
2. فعل کی موجودگی: اس سے پہلے ایک جملہ ہونا چاہئے جس میں فعل موجود ہو یا کوئی اسم جو فعل کے معنی میں ہو۔
3. واو کی معیت: ’’واو‘‘ جو اس سے پہلے آتا ہے،اس کو معیت کے لئے خاص ہونا چاہئے۔
الواو کے بعد آنے والے اسم کی حالتیں:
1. نصب کی تعیین: اسم جو ’’واو‘‘ کے بعد آتا ہے، دو صورتوں میں منصوب ہوگا:
- (الف) اگر کسی معنی کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "مشى التلميذ والطريق" (طالب علم نے چلتے ہوئے راستے پر چل دیا)۔
- (ب) اگر لفظ کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "سلمت عليك وأباك" (میں نے تمہیں اور تمہارے والد کو سلام کیا)۔
2. اگر عطف معنی کے لحاظ سے کمزور ہو تو نصب کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "لا تفرح بالبيع والخسارة" (فروخت اور نقصان پر خوش مت ہو)۔
3. جب عطف ممکن ہو اور کمزور نہ ہو تو عطف کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "سار الأمير والجيش" (شہزادہ اور فوج چلیں)۔
4. عطف کی تعین: جب فعل صرف متعدد کے لئے ہو تو عطف لازم ہے، جیسے: "اختصم سعد وسعيد" (سعد اور سعيد کے درمیان جھگڑا ہوا)۔
ناصب مفعول معه:
مفعول معه کا ناصب وہی چیز ہوتی ہے جو اس سے پہلے آتی ہے:
1. فعل
2. شبه فعل (اس کی مثالیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں)
3. فعل مضمر: یہ ہمیشہ "الكون" کے مادے سے آتا ہے جب "ما" یا "كيف" الاستفهامیتین کے بعد ہو، جیسے: "ما أنت وصديقك" (تم اور تمہارا دوست کیا ہو؟) اور "كيف أنت والامتحان" (تم امتحان کے ساتھ کیسے ہو؟)۔
مفعول معه کا عامل اور مصاحب پر مقدم:
مفعول معه کو عامل پر تقدم کرنا جائز نہیں ہے، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا: "والطريق مشى التلميذ" (راستہ طالب علم کے ساتھ چلا) اور نہ ہی یہ کہ: "مشى والطريق التلميذ" (طالب علم راستے کے ساتھ چلا)۔
38 المفصل۔ سبق:۱۹
المفعول معه
وهو المنصوب بعد الواو الكائنة بمعنى مع. وإنما ينصب إذا تضمن الكلام فعلاً كقولك ما صنعت وأباك، وما زلت أسير والنيل ومن أبيات الكتاب:
فكونوا أنتم وبني أبيكم مكان الكليتين من الطحال
ومنه قوله عزوجل: "فأجمعوا أمركم وشركاءكم"، أو ما هو بمعناه نحو قولك مالك وزيداً، وما شأنك وعمراً، لأن المعنى ما تصنع وما تلابس وكذلك حسبك وزيداً درهم، وقطك وكفيك مثله لأنها بمعنى كفاك. قال:
فما لك والتلدد حول نجد وقد غصت تهامة بالرجال
وقال:
إذا كانت الهيجاء انشقت العصا فحسبك والضحاك سيف مهند
وليس لك أن تجره حملاً على المكنى. فإذا جئت بالظاهر كان الجر الإختيار كقولك ما شأن عبد الله وأخيه يشستمه، وما شأن قيس والبر تسرقه، والنصب جائز .
وأما في قولك ما أنت وعبد الله وكيف أنت وقصعة من ثريد، فالرفع قال:
وقال:
یا زبرقان أخا بني خلف ما أنت ويب أبيك والفخر
وقال:
وكنت هناك أنت كريم قيس فما القيسيب بعدك والفخار
إلا عند ناس من العرب ينصبونه على تأويل ما كنت أنت وعبد الله، وكيف تكون أنت وقصعة من ثريد. قال سيبويه لأن كنت وتكون تقعان ههنا كثيراً وقال:
فما أنا والسير في متلف يبرح بالذكر الضابط
وهذا الباب قياس عند بعضهم وعند آخرين مقصور على السماع.
39 تمارین
40 تیسیر النحو ۔ سبق:۱۶
أسئلة
۱۔ عرف المفعول معہ بالتمثیل۔
٢. ما هي شروط نصب المفعول معه؟ اذكرها مع ذكر المثال وتوضيحه ..
۳۔ فإن فقد بعض شروطه فما حكمه؟ اذكره بالتفصيل مع التمثيل .
۴۔ ما هما الحالتان اللتان يتعين فيهما نصب الاسم الواقع بعد الواو ؟ اذكرهما مع التمثيل والتوضيح.
۵۔ متى يرجح نصب الاسم الواقع بعد الواو، ومتى يرجح عطفه ومتى يتعين عطفه؟ اذكر الحالات المذكورة مع الأمثلة والإيضاح.
٦ . اذكر أنواع ناصب المفعول معه مع التمثيل.
۷۔ هل يجوز تقدم المفعول معه على عامله أو مصاحبه أم لا؟ اذكره بالتمثيل.
تمرينات
١ . بين فيما يلى المفعول معه وحالته من حالات الاسم الواقع بعد الواو والعامل فيه، ونوعه.
لو ترك الناس وشأنهم لفسد المجتمع، فما كل انسان يمشي وطريق الرشاد. أنصف أحباءك وأعداءك من نفسك لتكون والسالكين سبيلك أسوة للآخرين، كن وإخوانك الأصفياء أعوانا على الخير، وإذا أصابك ورفقاء ك مصيبة من العدو فاتركه والزمان فإنه يؤدب الجاهل.
٢- ضع كل كلمة من الكلمات الآتية في ثلاث جمل، بحيث تكون في الأولى واجبة النصب على المفعول معه، و في الثانية واجبة العطف، وفي الثالثة جائزة الوجهين الأعداء، الأصدقاء، المخلصون)
41 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
42 مفعول لہ (لاجلہ)
مفعول لہ (یا لاجلہ) کی تعریف:
مفعول لہ (یا لاجلہ) عربی زبان میں ایک اسم منصوب ہے جو فعل کے مقصد، سبب، یا علت کو بیان کرتا ہے۔ یہ لفظی طور پر "کے لئے" یا "کی وجہ سے" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ مفعول لہ بیان کرتا ہے کہ فعل کس مقصد کے تحت انجام دیا گیا ہے۔
عمل: مفعول لہ کا عمل یہ ہوتا ہے کہ یہ فعل کی نوعیت اور مقصد کو واضح کرتا ہے۔ جب کوئی فعل(کام) کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد یا وجہ بیان کرنے کے لیے مفعول لہ استعمال کیا جاتا ہے۔
مثالیں:
1. فعل کے مقصد کی وضاحت:
- ذهبت إلى السوق لشراء الخبز (میں روٹی خریدنے کے لیے بازار گیا)
یہاں "لشراء الخبز" (روٹی خریدنے کے لیے) مفعول لہ ہے جو بتاتا ہے کہ بازار جانے کا مقصد کیا تھا۔
2. فعل کی علت کی وضاحت:
- اجتهدت في دراستي لأحقق النجاح (میں نے کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی پڑھائی میں محنت کی)
یہاں "لأحقق النجاح" (کامیابی حاصل کرنے کے لیے) مفعول لہ ہے جو بتاتا ہے کہ محنت کا سبب کیا ہے۔
3. مقصد کی وضاحت:
- أدرس العربية لأتحدث با (میں عربی زبان پڑھتا ہوں تاکہ اس میں بات کر سکوں)
یہاں "لأتحدث بھا" (تاکہ اس میں بات کر سکوں) مفعول لہ ہے جو پڑھنے کا مقصد بیان کرتا ہے۔
مزید وضاحت:
- مفعول لہ ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، اور یہ "لِ" یا "لأجل" جیسے حروف جار کے ساتھ مل کر آتا ہے۔
- یہ مفعول لہ فعل کے معنی کو مزید واضح کرتا ہے، اور اس کی موجودگی سے جملہ میں وضاحت آتی ہے کہ فعل کیوں کیا جا رہا ہے۔
جملہ کی ساخت:
مفعول لہ کی عمومی ساخت یہ ہوتی ہے:
- فعل + فاعل + مفعول+مفعول لہ
مثلاً: كتب الطالب الدرسَ لأجل النجاح (طالب علم نے سبق لکھا کامیابی کے لیے)۔
نوٹ: مفعول لہ کی مثالیں مختلف جملوں میں مختلف طریقوں سے استعمال کی جا سکتی ہیں، اور اس کی بنیادی خصوصیت یہ ہے کہ یہ فعل کے مقصد یا وجہ کو بیان کرتا ہے۔
43 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۲
المفعول لأجله: مفعول لاجلہ
المفعولُ لِأَجْلِهِ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ سَبَبَ الفِعْلِ وَعِلَّةَ حُصُولِهِ.
مفعولہ لہ وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے سبب اور اس کے حصول کی علت بیان کرے۔
الأمثلة :
1) يُسَافِرُ الطَّلَبَةُ إِلَى أوربا طَلَبَاً لِلْعِلم .
(٢) عَاقَبَ الْقَاضِي الْمُجْرِمَ تَأْدِيباً لَهُ .
(٣) قُمۡ احْتِرَاماً لِأُسْتَاذِكَ .
(٤) تَصَدَّقْتُ عَلَى الْفَقِيرِ أَمَلاً فِي الثَّوَابِ
(۵) صَفَحْتُ عَنِ السَّفِيهِ حِلْماً .
(٦) تَجَاوَزْتُ عَنْ هَفوةِ الصَّدِيقِ إِبْقَاء عَلى مَوَدَّتِهِ .
44 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۵
مفعول له.
مفعول لہ ایک ایسا اسم منصوب ہے جو فعل کے وقوع کا سبب وعلت بتاتا ہے۔ جیسے سَافَرَ مَحْمُودٌ طَلَبَا لِلْعِم ( محمود نے طلب علم کے لئے سفر کیا) تَصَدَّقُتُ على الْفُقَرَاءِ اَملا فِي الثّوَابِ ( میں نے محتاجوں میں ثواب کی امید میں صدقہ کیا )۔
علت بیان کرنے کے لئے عربی میں دو طریقے ہیں۔
ایک مفعول لہ جیسے اوپر کی مثال میں، دوسرے یہ کہ لام سبیہ کے ذریعے فعل کے وقوع کی علت بیان کی جائے جیسے سَافَرَتْ لِطَلَبِ الْعِلْمِ یا لِاَنْ اَطْلُبَ الْعِلْمَ یا لأَطْلُبَ الْعِلْمَ - جہاں مفعول لہ کا موقع نہ ہو وہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ اسی لام سببیہ کے ذریعے علت بیان کی جائے۔
مفعول لہ اسم مصدر ہوتا ہے اور منصوب ہوتا ہے۔ کسی اسم کو مفعول لہ بنانے کے لئے حسب ذیل امور کا لحاظ کیا جانا ضروری ہے۔
(1) سب سے پہلے یہ کہ وہ مصدر ہو۔
(۲) دوسرے یہ کہ وہ علت ہی بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہو۔
(۳) تیسرے یہ کہ فعل اور اس مصدر کے حدث ( وقوع) کا زمانہ ایک ہو۔
(۴) چوتھے یہ کہ فعل اور اس مصدر کا فاعل ایک ہو۔
یہ چاروں شرطیں بیک وقت پائی جانی چاہئیں ورنہ ان شرطوں میں سے ایک بھی اگر مفقود ہو جائے تو وہ اسم مفعول لہ نہیں بن سکتا ایسی صورت میں لام سببیہ ہی علت بیان کرنے کے لئے لایا جاتا ہے جیسا کہ ہم ابھی اوپر بتا چکے ہیں حسب ذیل مثالوں پر غور کیجئے :
(۱) جئتك للكتب: یہاں پہلی شرط یعنی مصدریت مفقود ہے۔
(۲) جِئْتُكَ ركُوبًا : یہاں دوسری شرط ( یعنی تعلیل) مفقود ہے اگر چہ رکوبا مصدر ہے۔
(۳) جئْتُكَ لِلسَفَرِ غدًا: یہاں تیسری شرط یعنی اتحاد زمانہ مفقود ہے۔ اگر چہ مصدریت و تعلیل پائی جاتی ہے۔
(۴) جِئْتُكَ لأمركَ إِيَّایَ: یہاں چوتھی شرط ( یعنی اتحاد فاعل ) مفقود ہے کیونکہ جئتك كا فاعل (ت ) ضمیر متکلم ہے۔ اور مصدر کا فاعل (ک) ضمیر مخاطب ہے۔
45 تیسیر النحو۔ سبق:۱۵
فصل المفعول له
المفعول له : مصدر منصوب يذكر بعد الفعل لبيان سببه (أي يقع في جواب لم حدث الفعل؟ ) مثل : حضر علي إكراما لمحمد ( إكراما مفعول له منصوب بالفتحة )
شروط المفعول له :
يشترط لجواز نصب المفعول له ثلاثة شروط
۱۔ أن يكون مصدرا
۲۔ أن يكون علة
۳۔ أن يتحد مع عامله في الزمان والفاعل مع اختلافه عنه في اللفظ
حالات المفعول له :
للمصدر المستوفي لشروط نصب المفعول له ثلاث حالات:
۱۔ أن يكون مجردا من "أل" والإضافة
۱۔ أن يكون مقرونا بـ"أل"
۲۔ أن يكون مضافا
۔ في الحالة الأولى يكثر نصبه، ويقل جره بحرف تعليل، نحو: نصحتك رغبة في مصلحتك، أو لرغبة في مصلحتك.
في الحالة الثانية يكثر جره بحرف تعليل، ويقل نصبه، نحو: نصحتك للرغبة في مصلحتك، ونصحتك الرغبة في مصلحتك.
في الحالة الثالثة يجوز النصب والجر على السواء، نحو: هربت خوف القتل، أو لخوف القتل.
فصل المفعول له
مفعول له: یہ ایک منصوب مصدر ہے جو فعل کے بعد آتا ہے تاکہ اس کے سبب کو بیان کرے (یعنی یہ جواب دیتا ہے کہ فعل کیوں ہوا؟)۔ مثال: حضر علي إكراما لمحمد (علی محمد کی خاطر حاضر ہوا)
یہاں "إكراما" (احترام کے لئے) مفعول له ہے جو فعل "حضر" (حاضر ہوا) کے سبب کو بیان کرتا ہے۔
مفعول له کی نصب کی شرائط:
مفعول له کو منصو ب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:
1. مصدر ہو: مفعول له ہمیشہ مصدر ہونا چاہئے۔
2. علت ہو: یہ فعل کی علت یا سبب کو بیان کرے۔
3. اپنے عامل کے ساتھ زمانہ اور فاعل میں ایک ہی ہونا چاہئے، اگر چہ لفظ میں مختلف ہو۔
مفعول له کی حالتیں:
مفعول له کی تین حالتیں ہیں جب یہ نصب کی شرائط کو پورا کرتا ہے:
1. مجرد: یہ "أل" یا اضافت سے خالی ہو۔
- اس حالت میں نصبی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے: ’’نصحتك رغبة في مصلحتك‘‘ (میں نے تمہیں تمہاری بھلائی کی خاطر نصیحت کی) یا ’’لرغبة في مصلحتك‘‘ (تمہاری بھلائی کی خاطر)۔
2. مقرون بـ "أل": - اس حالت میں حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور نصبی کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے:’’نصحتك للرغبة في مصلحتك‘‘ یا نصحتك الرغبة في مصلحتك
3. مضاف ہو: اس حالت میں نصب اور جر دونوں جائز ہے، جیسے: ھربت خوف القتلِ یا لخوف القتل (قتل کا خوف)۔
46 المفصل۔ سبق:۲۰
المفعول له
هو علة الإقدام على الفعل. وهو جواب لمه. وذلك قولك فعلت كذا مخافة الشر وإدخار فلان، وضربته تأديباً له، وقعدت عن الحرب جبنا، وفعلت ذلك أجل كذا؛ وفي التنزيل حذر الموت.
وفيه ثلاث شرائط أن يكون مصدراً، وفعلاً لفاعل الفعل المعلل، ومقارناً له في الوجود. فإن فقد شيء منها فاللام كقولك جنتك للسمن واللبن ولإكرامك الزائر، وخرجت اليوم لمخاصمتك زيداً أمس. ويكون معرفة ونكرة وقد جمعهما العجاج في قوله:
يركب كل عاقر جمهور مخافة وزعل المحبور
والهول من تھول الهبور
47 تمارین
48 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۵
التمرين ۳۱
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :
(1)اذا أتت من صديقك زلة فتجاوز عن مفوته ابقاء على مودته و رغبة في إصلاحه .
(2) الجبان إذا رأى ذعرا طارلبه فزعا و وجبت نفسه هلعا وكاد يهلك جزعا.
(3) لا تؤخر عمل اليوم الى غد اعتماداً على نفسك، وثقه بقدرتك ، و اتكالا على صحتك.
(4) و من الناس من يوغل في نفقات العرس والزينة حيا في الظهور الكاذب . وذلك قد أدى بكثير من البيوت العامرة إلى الخراب
(5)لا تبذر مالك ولا تعبت به عبثا مجاورة للأغنياء في ملابسهم الانيقة وقصورهم الشامخة
(6)المجد ون تمنحهم الحكومات أوسمة وجوائز اعترافا بفضلهم وحثا لغيرهم على الاقتداء بهم .
(7)لابد للناجحين من الطلبة أن يكافئوا بالجوائز تشجيعا لهم و وتشويقا للآخرين .
(8)يخرج الناس الى شواطئ الأنهار والحقول الخضراء ترويجا الأنفهم عن عناء الأشغال ويهرعون إلى الأشجار الباسقة ليتمتعوا بظلها الظليل وهوائها العليل. فإذا هبت عليهم الريح ترى أغصانها تهتز فرحا و أوراقها تصفق طربا ، والزروع تتمايل أفتانها عجبا تمايل النشوان، فيكون منظرا بهيجا
(9)لا تقتلوا أولادكم خشية إملاق ، نحن نرزقهم و إياكم إن قتلهم كان خطأ كبيرا.
(10)قد خسر الذين قتلوا أولادهم سفها بغير علم وحرموا مارزقهم الله افتراء على الله قد ضلوا وما كانوا مهتدين .
(11)قل لو كنتم تملكون خزائن رحمة ربي، اذا الأمسكتم خشية الانفاق وكان الانسان فتوراً .
(12)و مثل الذين ينفقون أموالهم ابتغاء مرضات الله وتثبيتا من أنفسهم كمثل جنة بربوة أصابها وابل فاتت أكلها ضعفين فان لم يصبها وابل فطل والله بما تعملون بصير.
(13)فلعلك باخع نفسك علىٰ اٰثار هم ان لم يؤمنوا بهذا الحديث أسفا
(14)تتجافى جنوبهم عن المضاجع يدعون ربهم خوفا وطمعا و مما رزقنهم ينفقون فلا تعلم نفس ما أخفى لهم من قرة أعين جزاء بما كانوا يعملون -
التمرين ۳۲
عربی میں ترجمہ کیجئے :-
(1)جب اس نے اپنی کامیابی کی خبر سنی تو مارے خوشی کے اُس کا چہرہ گلاب سا کھل گیا
(2)محمود کو میں نے جب اس کے قصور پر سرزنش کی تو شرم سے اُس نے اپنی گردن جھکالی۔
(3)تھا نہ دار نے جب مجرم کو ڈانٹنا شروع کیا تو ڈر کی وجہ سے اس کے چہرہ پر ہوائیاں اُڑنے لگیں
(4)مجرمین کی سرکوبی کے لیے تادیبی کارروائی ضروری ہے ، قصاص کی بھی یہی مصلحت ہے ۔
(5)راحت پسندی کی خاطر اپنے عزیز وقت کو ضائع نہ کرو ، وقت بڑی قیمتی شے ہے۔
(6)جب کسی مریض کے پاس اُس کی عیادت کے لیے جاؤ تو زیادہ دیر تک مت بیٹھو، مبادا وہ اکتا جائے ۔
(7)اہل ثروت نام و نمود کی خاطر بے دریغ دولت صرف کرتے ہیں اور پانی کی طرح روپے بہاتے ہیں۔
(8)عرب سخاوت میں بہت مشہور تھے، اپنے مہمانوں کی ضیافت میں (کے لیے) اپنی سواری کے اونٹ تک ذبح کر ڈالتے تھے
(9)مگر عربوں میں دوسری طرف کچھ ایسے لوگ بھی تھے جو فقر کے ڈر سے بچوں کو مار ڈالتے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر ان کی قسادت یہ تھی کہ لڑکیوں کوعار کی وجہ سے زندہ درگور کر دیتے تھے۔
(10)وہ صحابہ کرام ہی تھے جنھوں نے اعلاء کلمۂ حق کی خاطر اور دین کی سربلندی کے لیئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔
49 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۲
التمرين (۱)
استخرج المفعول لاجله من العبارات الآتية:
يزور مصر كثير من السائحين ترويحا عن النفس فيذهبون الى الصعيد رغبة فى مشاهدة مابه من الآثار التي بناها القدماء اظهارًا النبوغهم وشيدوها تمجيدا لملوكهم والتي انطقت السنة الناس بالثناء اعترافا بفضلهم وجعلت كل مصرى يفخر اعجابا بآبائه الامجاد.
التمرين (۲)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية مفعولا لاجله في جملة تامة:
حياء ، اجتيالا، خشية ، حبا ، ارضاء
مجاملة ، طمعا ، استغاثۃ ، حرصا ، مودة
ادبا ، شرها ، استهانة ، صفحا ، اجلالا
اجتلابا ، شكرا ، كرما ، غضبا ، فرحا
التمرين (۳)
ضع مفعولا لاجله في كل جملة من الجمل الاتية:
۱۔ اطعت والدي۔۔۔۔۔
۲۔ وقفت للمعلم۔۔۔۔
۳۔ ابتعدت عن الأسد.۔۔۔۔
۴۔ لا اكل الفواكه الفجة.۔۔۔۔
۵۔ عطفت على الصغير.۔۔۔۔
۶۔ لا يستذكر محمد دروسه.۔۔۔۔
۷۔ يرتب على كتبه.۔۔۔۔
۸۔ حضرت في الساعة الثالثة.۔۔۔۔
۹۔ کافانی ابی .......
۱۰۔ اعطيت الفقير خبزا ......
التمرين (۴)
(۱) كون خمس جمل تشتمل كل واحدة على مفعولٍ لاجله.
(۲) كون جملة الفاعل فيها مثنى والمفعول به ضمير متصل مع اشتمالها علی مفعول لاجله
(۳) كون جملة الفاعل فيها اسم موصول مع اشتمالها على مفعول لاجله مضاف
(۴) كون جملة المفعول به فيها اسم اشارة مع اشتمالها على مفعول لاجله
التمرين (۵)
اجب عن الاسئلة الآتية بجمل تامة بحيث تشتمل كل جملة على مفعول لاجله:
۱- لم تجد في استذكار دروسک؟
۲- لماذا تنشا ملا جئُ اليتامي؟
۳۔ لم يحرص الوالدان على تربية اولادهما؟
۴۔ لم لا تقترب من الثعبان؟
تمرين فی الأعراب (۶)
(الف) نموذج
سجدت شكراً
سجدت ....... سجد فعل ماض مبنى على السكون والتاء ضمير فاعل مبنى على الضم في محل رفع
شكراً ...... مفعول لأجله منصوب بالفتحة
(ب) اعرب الجمل الآتية:
۱۔ لا تبخلوا خشية الفقر
۲۔ اعملوا الخير حبا في الخير
۳۔ اعف عن المخطى تكرما
50 تیسیر النحو۔ سبق:۱۵
أسئلة
۱۔ اذكر تعريف المفعول له مع المثال
۲۔ لجواز نصب المفعول له شروط، اذكرها مع التمثيل ؟
۳۔ فان فقد بعض شروطه أو كلها فما حكمه؟ وبم يجر حينئذ ؟ مثل له في كل حالة من هذه الحالات. اذكر حالات كثرة نصبه ، وجره، وتساويهما مع التمثيل ؟
تمرينات
۱۔ بين فيما يأتي المفعول له وحكمه من حيث النصب أو الجر.
الطالب الذكي من يجتهد للوصول إلى أفضل الغايات، ولا يتكاسل عن طلب أعلى الدرجات خوفاً من الصعوبات، ولا يترك شيئا إهمالا وكسلا، ولا يفرط في واجب استهانة به، بل يسعى لتثقيف عقله سعيا وراء الجديد، ولا يقعد عن طلب حق حياة من أحد أو مخافة منه، أو للرغبة في الراحة وإيثار العافية.
۲۔ ضع كلمة (إخلاص ) في جمل عدة، تكون فاعلا في الجملة الأولى، ومفعولا به في الثانية، ومفعولا مطلقا في الثالثة، ومفعولا له في الرابعة.
٣. استخدم كلمة (تأديب) مفعولا له في ثلاث جمل، بحيث تكون راجحة النصب، ثم مرجوحة النصب، ثم مستوية الأمرين.
51 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
52 حال
حال کی تعریف:
حال عربی زبان میں ایک منصوب اسم ہے جو فعل، فاعل، یا مفعول کی حالت یا کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ یہ جملے میں یہ بتاتا ہے کہ فعل کس حالت میں ہو رہا ہے یا فاعل یا مفعول کس حالت میں ہے۔ حال کا استعمال جملے کو مزید وضاحت دینے اور فعل کے معنی کو بڑھانے کے لئے کیا جاتا ہے۔
حال کا عمل:
حال ہمیشہ منصوب ہوتا ہے اور اس کا فعل، فاعل، یا مفعول سے تعلق ہوتا ہے۔ حال کا مقصد جملے میں وضاحت اور تفصیل فراہم کرنا ہے۔ حال کی مثالیں عام طور پر فعل کے ساتھ موجود ہوتی ہیں اور فعل کی نوعیت، شدت یا حالت کی وضاحت کرتی ہیں۔
مثالیں:
- كتبتُ الدرسَ جالساً (میں سبق بیٹھ کر لکھ رہا تھا) یہاں "جالساً" حال ہے جو بتاتا ہے کہ میں سبق کیسے لکھ رہا تھا۔
- أكل الطفلُ طعامه شهيّاً (بچہ نے اپنا کھانا مزیدار کھایا) یہاں "شهيّاً" حال ہے جو بتاتا ہے کہ بچہ نے کھانا کس حالت میں کھایا۔
اہم نوٹ: حال کا استعمال جملے کی وضاحت کو بڑھاتا ہے اور اس کی تفصیل فراہم کرتا ہے۔ حال ہمیشہ منصوب ہوتا ہے اور یہ جملے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
53 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۸
الحال: حال
الحال: اسمٌ مَنْصوبٌ يُبَيِّنُ هيئةَ الفاعلِ أو المفعولِ به حينَ وقوعِ الفعلِ، ويُسَمَّى كُلٌّ مِنَ الفاعلِ أو المفعولِ به صاحِبَ الحالِ.
حال وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے واقع ہوتے وقت فاعل یا مفعول بہ کی ھیئت کو بیان کرتا ہے۔ اس وقت اس فاعل یا مفعول بہ کو صاحب الحال کہتے ہیں۔
الامثلة
(۱) عَادَ الجَيشُ ظافراً .
(٢) أقبل المظلوم باكياً
(۳) جَرَى الماء صافياً .
(٤) بِعْتُ الْقُطْنَ محلوجًا.
(٥) لاَ تَشْرَب الماء كَدِراً .
(٦) لا تَلْبَسِ الثّوْبَ ممزقاً .
أنواع الحال:
تَجِيءُ الحالُ اسْمًا مُفْرَدًا وَجُمْلَةً اسْمِيَّةً وَجُمْلَةً فِعْلِيَّةً وَظَرْفًا وَجَارًّا وَمَجْرُورًا.
إِذَا وَقَعَتِ الحالُ جُمْلَةً فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ رَابِطٍ يَرْبِطُهَا بِصَاحِبِ الحالِ، وَهُوَ إِمَّا الواوُ فَقَطْ، وَإِمَّا الضَّمِيرُ فَقَطْ، وَإِمَّا هُمَا مَعًا.
حال کبھی اسم مفرد ہوتا ہے کبھی جملہ اسمیه، کبھی جمله فعلیه، کبھی ظرف اور کبھی جار مجرور ہو کر بھی آتا ہے۔
حال جب جملہ ہو تو اس میں ایک ملانے والا (رابط) ہونا چاہئے جو اسے ذوالحال کے ساتھ ملائے رکھے (مربوط) رکھے۔ یہ رابطہ بھی صرف واؤ ہو گا ، کبھی صرف ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوں گے۔
الامثلة
(۱) رَجَعَ القائدُ مَنْصُوراً .
(۲) رَكبنَا البحر هائجاً .
(۳) لا تأْكُلُوا الطعام حارًا .
(٤) حَضَرَ الضُّيُوفُ والمُضِيفُ غَائِبُ
(۵) اصطفت الجنود سيوفهُمْ مَشْهورة .
(۶) لَا تَأْكُلُوا الفاكهة وَهِيَ فِجَّةٌ .
(۷) غاب أخوك وقد حَضَرَ جميع الأصدقاء .
(۸) ذَهَبَ الجَانِي تَحْرُسُهُ الجُنُودُ
(۹) قَطَفَ الأَوْلَادُ الأَزْهَارَ ولما تَتَفَتَّحْ
(۱۰) رَاقَنِي الوَرْدُ وَسْطَ البُسْتَانِ
(۱۱) أَبْصَرْتُ الخطيب فوقَ المِنْبَرِ
(۱۲) طَلَعَ البَدْرُ بَيْنَ السَّحَابِ
(۱۳) تألم الطائرُ في القفصِ
(١٤) اشتريْتُ السَّلَّةَ من التِّينِ بِثَمن قليلٍ .
(١٥) بعت الثمرَ عَلَى شَجَرِهِ
54 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۷
حال
حال ایک ایسا اسم منصوب ہے جو (فعل کے وقوع کے وقت) فاعل اور مفعول بہ کی ہیئت کو واضح کرتا ہے۔ جیسے جَاءَ خَالِدٌ رَاكِبًا ( خالد سوار ہو کر آیا) اور لاتاكل الطَعَامَ حَارا (کھانا اس حال میں نہ کھا کہ وہ گرم ہو ) ان مثالوں میں را کبا اور حارا حال ہیں۔ فاعل یا مفعول بہ جس کا بھی حال بیان کیا جائے نحویین کی اصطلاح میں صاحب حال یا ذو الحال کہلاتا ہے اوپر کی مثال میں فاعل (خَالِدٌ) ذوالحال ہے۔ اور دوسری مثال میں مفعول به (الطعام) ذوالحال ہے۔
(۱) حال کوئی اسم مشتق اور نکرہ ہوا کرتا ہے اور ذوالحال معرفہ ہوتا ہے ۔ (۱)
(۲) حال بھی ( خبر کی طرح) کبھی مفرد کبھی جملہ اور کبھی شبہ جملہ ہوا کرتا ہے، جیسے جَاءَ فَرِيدٌ يَرْكَبُ فَرَسَهُ، رَأَيْتُ الْخَطِيبَ فَوْقَ الْمِنْبَرِ، بِعْتُ الثَّمَرَ عَلَى الشَّجَرَةِ
(۳) حال جب جملہ ہو تو حال ذو الحال کے درمیان کسی رابطہ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ رابطہ کبھی واؤ ہوتا ہے اور کبھی ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوتے ہیں۔ مثالیں علی الترتیب یہ ہیں۔
(1) رَكِبتُ السَّفِينَةَ وَالْهَوَاءُ عَلِيلٌ ( یہاں رابطہ صرف واؤ ہے)
(۲) جَاءَ الْمُذْنِبُ يَعْتَذِرُ عَنْ ذَنْبِهِ ( یہاں رابطہ صرف ضمیر ہے)
(۳) خَرَجَ الْأَوْلَادُ وَهُمْ فَرِحُونَ ( یہاں رابطہ واؤ اور ضمیر دونوں ہیں)
(۴) حال جب جملہ فعلیہ ہو اور فعل اس میں مضارع مثبت ہو تو رابطہ صرف ضمیر ہوتی ہے۔ جیسے مثال نمبر ۲ میں ہے۔ اور اگر فعل ماضی مثبت ہو تو واؤ کے ساتھ قد بڑھا دیتے ہیں جیسے سَلَّمْتُ عَلَی أبِي وَقَدْ عَادَ مِنْ سَفَرِہٰ اور کبھی صرف قد ہی کافی سمجھا جاتا ہے مگر ماضی منفی میں قد بڑھانا صحیح نہیں ہے۔ اس میں رابطہ صرف واؤ ہوتا ہے۔ استيقظتُ مِنَ النَّوْمِ وَمَا طَلَعَت الشَّمسُ
فائده: جملہ خواہ اسمیہ ہو یا فعلیہ حال اس وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ کسی اسم معرفہ کے ساتھ آئے نکرہ کے بعد جملہ حال نہیں ہوتا بلکہ صفت بن جاتا ہے ۔ الجُمَل بَعْدَ النَكَراتِ صِفَاتِ وَبَعْدَ الْمُعَارَفِ احوالٌ
(۵) حال جب کوئی اسم مفرد ہو ( یعنی جملہ یا شبہ جملہ نہ ہو ) تو واحد، تثنیہ جمع اور تذکیر و تانیث میں وہ اپنے ذوالحال کے مطابق رہتا ہے اور ایسے ہی جبکہ حال کوئی جملہ ہو اور رابط اس میں ضمیر ہو تو مطابقت ضروری ہے، جیسے مثال نمبر 2 اور 3 میں ، لیکن اگر رابط ضمیر نہ ہو بلکہ صرف واؤ ہو تو مطابقت و عدم مطابقت کا سرے سے کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جیسے مثال نمبر (ا) اور حَضَرَ الصُّيُوفُ وَالْمُضِيْفُ غَائِبٌ وغيره -
حاشیہ : (۱) اصل قاعدے کی رو سے ذوالحال کو معرفہ اور حال کو اسم مشتق و نکرہ ہونا چاہئے مگر کبھی اس میں تخلف بھی ہوتا ہے تفصیلات یہ ہیں۔
(الف) اصل کے برعکس حسب ذیل صورتوں میں ذو الحال نکرہ لایا جا سکتا ہے
(۱) جب کہ ذوالحال کو حال سے مؤخر کر دیا جائے جیسے جَاءَ را کبا رجل
(۲) جب کہ ذوالحال سے پہلے کوئی حرف نفی آجائے اور معنی میں اس کا ایک عموم پیدا ہو جائے جیسے وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا مُنذِرُونَ
(۳) جب کہ ذوالحال کے اندر تخصیص کے معنی پیدا ہو جا ئیں جیسے وَلَمَّا جَاءَ هُمُ كِتَابٌ مِنْ عِندِ الله مُصَدِّقًا ( واضح رہے کہ مصدقاً بعض سلف سے منصوب ہی مروی ہے۔ اس صورت میں کتاب ذوالحال ہوگا اور یہ نکرہ ہے)
(ب) اصل قاعدہ کے برعکس حال حسب ذیل صورتوں میں معرفہ آسکتا ہے، مگر کلام عرب میں بہت ہی قلیل ہے۔
(۱) "ال" کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو اُدْخُلُوا الأَوَّلَ فَالاَوَّلَ ۔
(۲) اضافت کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو جیسے اِجتَهَدُ وَحۡدَكَ وغيره،
(ج) اس طرح اسم مشتق کے بجائے حسب ذیل صورتوں میں حال اسم جامد بھی ہو سکتا ہے۔
(۱) جب کہ وہ تشبیہ پر دلالت کرے جیسے کر عَلَىَّ اسدا ۔
(۲) جبکہ وہ ترتیب پر دلالت کرے جیسے اقرا الكتاب بابا بابا و ادْخُلُوا الْبَابَ رَجُلًا رَجُلاً
(۳) جب کہ وہ مفاعلہ (یعنی جانبین کی مشارکت بتائے جیسے بعته بدا بید ۔
(۴) جبکہ وہ نرخ (قیمت )بتائے ۔جیسے : اِشْتَرَيْتُ الثَوبَ ذِرَاعًا بِدرهَم
(۵) جبکہ وہ موصوف ہو جیسے إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا
55 تیسیر النحو۔ سبق:۱۷
فصل الحال
الحال: وصف فضلة منصوب يبين هيئة الفاعل، أو المفعول به أو كليهما عند وقوع الفعل
(أى: أنه يقع في جواب كيف حدث الفعل ؟) نحو: جاءني زيد راكبا وضربت زيدا مشدودا ولقيت زيدا راكبين راكبا حال منصوبة بالفتحة يبين هيئة الفاعل، مشدودا حال منصوبة يبين هيئة المفعول، وراكبين حال منصوبة بياء مفتوح ما قبلها يبين هيئة الفاعل والمفعول كليهما )
صاحب الحال:
يسمى الفاعل أو المفعول الذي تبين الحال هيئته "صاحب الحال" والأصل فيه (كما في المبتدأ) أن يكون معرفة، لأنه محكوم عليه، والمحكوم عليه لا بد أن يكون معلوما، ولكنه كالمبتدأ أيضا يأتي نكرة حينما يصير معلوما بمسوغات ترجع إلى ثلاثة أمور:
۱۔ أن تكون النكرة عامة بتقدم نفي، أو استفهام، أو نحوهما عليها، نحو: ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً ، وهل جاءك أحد راكباً.
٢۔ أن تتخصص النكرة بوصف، أو إضافة أو نحوهما، نحو: جاء ني رجل فن زائراً ، زارني صديق حميم مسلما
۳۔أن تتقدم الحال على صاحبها وهو نكرة محضة ، نحو: جاء ني مسرعا رجل.
عامل الحال:
عامل الحال: هو العامل في صاحبها من فعل، أو شبه أو ما في معناه نحو: طلعت الشمس مشرقة، فالعامل في الحال مشرقة هو الفعل "طلعت" وهو العامل في صاحبها الشمس )
أحوال الحال المفردة:
الأصل في الحال أن تكون صفة منتقلة، نكرة، مشتقة ، نحو: جاء زيد راكبا.
وقد تأتي الحال صفة ثابتة، نحو قوله تعالى: (خلق الانسان ضعيفا)
وقد تأتي الحال معرفة، لا نكرة، وذلك إذا صح تأويلها بنكرة، نحو: جاء أخوك وحده، أي: منفردا . قد تأتي الحال جامدة، لا مشتقة، وذلك على تأويلها غالبا بالمشتق، ويقع ذلك في خمس حالات.
أولا: في ما دل على تشبيه ، نحو: جرى سليم غزالا، أي مسرعاً كالغزال.
ثانيا: في ما دل على مفاعلة، نحو: بايعته يدا بيد، أي: متقابضين.
ثالثا : في ما دل على ترتيب، نحو : ادخلوا رجلا رجلا، أي: مرتبين.
رابعا: في ما دل على تفصيل، نحو: قرأت الكتاب باباً باباً، أي: مفصلا
خامسا: في ما دل على تسعير ، نحو: اشتريت الثوب ذراعا بدرهم، أي: مسعرا
أنواع الحال:
الحال تكون
ا. اسما ظاهرا مفردا كما سبقت أمثلته وتفاصيله.
أو جملة خبرية، اسمية كانت أو فعلية، نحو استيقظت والشمس طالعة (والشمس طالعة: جملة اسمية حال في محل نصبها) وسار الطفل يبكي (يبكي جملة فعلية حال في محل نصبها)
ويشترط في الجملة التي تقع حالا أن تشتمل على رابط يربطها بصاحب الحال وهذا الرابط قد يكون "الواو " فقط ( وتسمى واو الحال ) كما في المثال الأول ، أو الضمير فقط كما في المثال الثاني، أو الواو والضمير معا نحو: جاء زيد وهو راكب - وهذه الأحوال الثلاث من الرابط توجد في جملة الحال سواء أكانت اسمية أو فعلية، إلا في حالة واحدة، وهي أن تكون جملة الحال فعلية فعلها مضارع مثبت غير مقترن بـ قله فيكون الرابط فيها الضمير فقط، ولا يصح فيها استعمال الرابط "الواو" كما في المثال السابق: سار الطفل يبكي.
حذف عامل الحال:
يجوز حذف عامل الحال إذا دل عليه دليل، كقولك: "ماشياً لمن سألك: كيف جئت ؟ . ويجب حذف عامل الحال قياسا في مواضع، منها:
ا. في ما يتبين فيه زيادة أو نقص في المقدار بالتدريج، نحو: تصدق بدرهم فصاعدا واشتر الثوب بثلاثة دراهم فنازلا ، والتقدير: فاذهب بالعدد صاعدا أو نازلا.
۲۔ أن تكون مسوقة للتوبيخ نحو أقاعدا وقد قام الناس، أي: أتوجد قاعدا.
ويحذف عامل الحال سماعا في غير ذلك، نحو: هنيئا لك أي: ثبت لك الخير هنيئا.
تعدد الحال:
يجوز تعدد الحال وصاحبها مفرد، أو متعدد فمثال الأول، جاء زيد راكيا ضاحكا، (ف راكبا وضاحكة حالان من زيد وحده، والعامل فيهما جاء ) ومثال الثاني: لقيت هندا مصعدا منحدرة، (فـ مصعدا حال من الضمير المرفوع المتصل "ت"، ومنحدرة حال من "هند - والعامل فيهما لقي )
فصل الحال
حال: حال ایک وصف فضلہ منصوب ہوتا ہے جو فعل، فاعل، یا مفعول کی حالت کو بیان کرتا ہے جب فعل واقع ہوتا ہے۔ یہ سوال "فعل کس حالت میں ہوا؟" کا جواب دیتا ہے۔ مثال کے طور پر:
- جاءني زيد راكبا (زيد میرے پاس سوار ہو کر آیا) یہاں "راكبا" حال ہے جو بتا رہا ہے کہ زيد کیسے آیا۔
- وضربت زيدا مشدودا (میں نے زيد کو باندھ کر مارا) ہاں "مشدودا" حال ہے جو بتاتا ہے کہ زيد کی حالت کیا تھی جب اسے مارا گیا۔
- ولقيت زيدا راكبين (میں نے زيد کو سواروں کے ساتھ پایا) یہاں "راكبين" حال ہے جو دونوں (فاعل اور مفعول) کی حالت کو بیان کرتا ہے۔
صاحب الحال:
صاحب الحال وہ فاعل یا مفعول ہے جس کی حالت حال بیان کرتا ہے۔ اصل میں، جیسا کہ مبتدا میں ہوتا ہے، صاحب الحال کامعرفہ ضروری ہے، کیونکہ محکو م علیہ معلوم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ نکرہ بھی ہو سکتا ہے جب یہ کچھ مخصوص حالات کی بنا پر معلوم ہو جائے۔ ان حالات میں شامل ہیں:
1. نکرہ کا عمومی ہونا، جب اس سے پہلے نفی یا استفھام ہو یا ان دونوں جیسے ۔جیسے: "ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً" (مدرسے میں کوئی سست طالب علم نہیں ہے) ،ھل جاءک احد راکبا۔
2. نکرہ کا کسی وصف، اضافت یا دوسری صورت میں خاص ہونا، جیسے: "جاءني رجلٌ فن زائراً" (میرے پاس ایک آدمی آیا جو زائر تھا)۔
3. حال کا صاحب پر مقدم ہونا، اور وہ نکرہ محضہ ہو جیسے: "جاءني مسرعاً رجل" (میرے پاس تیز چلتا ہوا آدمی آیا)۔
عامل الحال:
’’عامل الحال‘‘ وہ فعل یا شبیہ فعل ہوتا ہے جو صاحب الحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً: -’’طلعت الشمس مشرقة‘‘ (سورج چمک رہا تھا) یہاں "مشرقة" حال ہے جو سورج کی حالت کو بیان کرتا ہے اور عامل "طلعت" ہے۔
احوال الحال المفردة:
اصل میں حال ایک نکرہ، مشتق اور منتقلی صفت ہوتی ہے، جیسے: "جاء زيد راكبا" (زيد سوار ہو کر آیا)۔
حال صفت ثابت بھی ہو سکتی ہے، جیسے: "خلق الانسان ضعيفا" (انسان کمزور پیدا ہوا)۔
حال کبھی کبھی معرفہ بھی ہوتی ہے، جیسے: "جاء أخوك وحده" (تمہارا بھائی اکیلا آیا)۔
حال کبھی کبھی جامد ہوتی ہے، اور وہ پانچ حالتوں میں ہو تی ہے جیسے:
1. تشبیہ میں، جیسے: "جرى سليم غزالا" (سلیم نے غزال کی طرح دوڑ لگائی)۔
2. مفاعلہ میں، جیسے: "بايعته يدا بيد" (میں نے اس سے ہاتھ ملایا)۔
3. ترتیب میں، جیسے: "ادخلوا رجلا رجلا" (آئیں، ایک ایک کر کے داخل ہوں)۔
4. تفصیل میں، جیسے: "قرأت الكتاب باباً باباً" (میں نے کتاب کو دروازے دروازے پڑھا)۔
5. تسعیر میں، جیسے: "اشتريت الثوب ذراعا بدرهم" (میں نے کپڑا ایک درہم میں خریدا)۔
انواع الحال:
حال مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہے:
1. اسم ظاهر: جیسے: "جاء زيد ضاحكاً" (زيد ہنستے ہوئے آیا)۔
2. جملہ خبریہ: چاہے وہ اسمّیہ ہو یا فعلیہ، جیسے:
- "استيقظت والشمس طالعة" (میں بیدار ہوا اور سورج چمک رہا تھا)
- "وسار الطفل يبكي" (اور بچہ روتا ہوا چلا گیا)
جملے میں حال کو صاحب حال کے ساتھ ایک رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، جو "واو" یا ضمیر کے ذریعے ہو سکتا ہے۔
حذف عامل الحال:
اگر کوئی شواہد ہوں تو عامل الحال کو حذف کیا جا سکتا ہے، جیسے: - ماشياً(میں چلتا ہوا)
جب پوچھا جائے: کیف جئت ؟"(تم کیسے آئے)؟"
حذف عامل الحال بعض صورتوں میں لازمی ہو سکتا ہے، جیسے:
1. جب مقدار میں اضافہ یا کمی واضح ہو، جیسے: "تصدق بدرهم فصاعداً" (ایک درہم سے بڑھ کر صدقہ دو)۔
2. اگر یہ توبيخ کے لئے ہو، جیسے: "أقاعداً وقد قام الناس؟" ای توجد قائما (کیا تم بیٹھے ہو جبکہ لوگ کھڑے ہیں؟)۔
اور عامل حال کو سماعی طور پر بھی حذف کیا جاسکتا ہے ، جیسے: ھنیئا لک : ای ثبت لک الخیر ھنیئا
تعدد الحال:
صاحب الحال اگر مفرد ہو تو حال کا تعدد جائز ہے، جیسے: - جاء زيد راكبا ضاحكا (زيد ہنستے ہوئے سوار ہوا)
یہاں "راكبا" اور "ضاحكا" دونوں حال ہیں جو زيد کی حالت کو بیان کر رہے ہیں۔
اگر صاحب حال متعدد ہو تو بھی حال کا تعدد ہو سکتا ہے، جیسے: - لقيت هندا مصعدا منحدرة (میں نے ہند کو اوپر آتے ہوئے پایا)
یہاں "مصعدا" حال ہے جو ضمیر "ت" کی حالت کو بیان کر رہا ہے، اور "منحدرة" حال ہے جو "ہند" کی حالت کو بیان کر رہا ہے۔
56 المفصل۔ سبق:۲۱
الحال
شبه المفعول والظرف
شبه الحال بالمفعول من حيث أنها فضلة مثله جاءت بعد مضي الجملة. ولها بالظرف شبه خاص من حيث أنها مفعول فيها ومجيئها لبيان هيأة الفاعل أو المفعول وذلك قولك ضربت زيداً قائماً تجعله حالاً من أيهما شئت وقد تكون منهما ضربة على الجمع والتفريق كقولك لقيته راكبين. قال عنترة:
متى ما تلقني فردين ترجف روانف أليتيك وتستطارا
ولقيته مصعداً ومنحدراً. عوامل الحال والعامل فيها إما فعل وشبهه من الصفات أو معنى فعل كقولك فيهاب زيد مقيماً، وهذا عمرو منطلقاً، وما شأنك قائماً، وما لك واقفاً، وفي التنزيل: " وهذا بعلي شيخاً" ، و "فما لهم عن التذكرة معرضين"؛ وليت ولعل وكأن ينصبها أيضاً لما فيها من معنى الفعل، فالأول يعمل فيها متقدما ومتأخراً ولا يعمل فيها الثاني إلا متقدماً. وقد منعوا في مررت راكباً بزيد أن يجعل الراكب حالاً من المجرور.
وقد يقع المصدر حالاً كما تقع الصفة مصدراً في قولهم قم قائماً، وقوله: ولا خارجاً من فيّ زور كلام وذلك قتلته صبراً، ولقيته فجاءۃ وعياناً وكفاحاً، وكلمته مشافهة، وأتيته ركضاً وعدواً ومشياً، وأخذت عنه سمعاً، أي مصبوراً ومفاجئاً ومعايناً.
وكذلك البواقي وليس عند سيبويه بقياس وأنكر اتانا رجلة وسرعة، وأجازه المبرد في كل ما دل عليه الفعل. والأسم غير الصفة والمصدر بمنزلتها في هذا الباب، تقول هذا بسراً أطيب منه رطباً، وجاء البر قفيزين وصاعين، وكلمته فاه إلى في، وبايعته يداً بيد وبعت الشاء شاة ودرهما، وبينت له حسابه بابا بابا .
تنكير الحال ومن حقها أن تكون نكرة، وذو الحال معرفة. وأما ارسلها العراك ومررت به وحده، وجاوا قضهم بقضيضهم، وفعلته جهدك وطاقتك، فمصادر قد تكلم بها على نية وضعها في موضع مالا تعريف فيه، كما وضع فاه إلى فيّ موضع شفاهاً، وعنى معتركة منفرداً وقاطبة وجاهداً. ومن الأسماء المحذوّ بها حذو هذه المصادر قولهم مررت بهم الجماء الغفير.
وتنكير ذي الحال قبيح إلا إذا قدمت عليه كقوله: لعزة موحشاً طلل قديم
الحال المؤكدة والحال المؤكدة هي التي تجيء على إثر جملة عقدها من اسمين لا عمل لهما لتوكيد خبرها وتقرير مؤداه ونفي الشك عنه، وذلك قولك زيد أبوك عطوفاً، وهو زيد معروفاً، وهو الحق بيناً، ألا تراك حققت بالعطوف الأبوة، وبالمعروف والبين أن الرجل زيد وأن الأمر حق، وفي التنزيل: " وهو الحق مصدقاً لما بين يديه" وكذلك أنا عبد الله آكلا كما يأكل العبيد فيه تقرير للعبودية وتحقيق لها. وتقول أنا فلان بطلاً شجاعاً وكريما جواداً فتحقق ما أنت متسم به وما هو ثابت لك في نفسك، ولو قلت زيد أبوك منطلقاً أو أخوك أحلت إلا إذا أردت التبني والصداقة. والعامل فيها أحق أو أثبت مضمراً.
الجملة الحالية:
والجملة تقع حالاً. ولا تخلو من أن تكون اسمية فعلية فإن كانت اسمية فالواو إلا ما شذّ من قولهم كلمته فوه إلى في، وما عسى ان يعثر عليه في الندرة. وأما لقيته عليه جبة وشي، فمعناه مستقرة عليه جبة وشي. وإن كانت فعلية لم تخل من أن يكون فعلها مضارعاً أو ماضياً. فإن كان مضارعاً لم يخل من أن يكون مثبتاً أو منفياً. فالمثبت بغير واو: وقد جاء في المنفي الأمران. وكذلك في الماضي. ولا بد معه من قد ظاهرة أو مقدرة.
ويجوز إخلاء هذه الجملة عن الراجع إلى ذي الحال إجراء لها مجرى الظرف لانعقاد الشبه بين الحال وبينه، تقول أتيتك وزيد قائم، ولقيتك الجيش قادم، وقال:
وقد أغتدي والطير وكناتها بمنجرد قيد الأوابد هيكل
إضمار عامل الحال:
ومن انتصاب الحال بعامل مضرم قولهم للمرتحل راشداً مهدياً ومصاحباً معاناً بإضمار إذهب وللقادم مأجوراً مبروراً أي رجعت. وإن أنشدت شعراً أو حدثت حديثاً قلت صادقاً، بإبضمار قال. وإذا رأيت من يتعرض لأمر قلت متعرضاً لعنن لم يعنه، أي دنا منه متعرضاً. ومنه أخذته بدرهم فصاعداً أو بدرهم فزائداً ، أي فذهب الثمن صاعداً أو زائداً. ومنه أتميميا مرة وقيسياً أخرى، كأنك قلت أتحول. ومنه قوله تعالى : " بلى قادرين " أي نجمعها قادرين.
57 تمارین
58 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۷
التمرين ۳۷
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :-
(1) الشمس نجم عظيم ملتهب يبدو قرصها في الشروق والغروب اصفر محمرا.
(2) تسبح السفن على متون البحار حاملة سلع التجارة والمسافرين متنقلة بهم من بلد الى بلد لم يكونوا بالغيه إلا بشق الأنفس.
(3) يقبل الناس على التاجر الأمين، واثقين بذمته، مطمئنين إلى معاملة لأنه يبيعهم البضائع خالية من الغش.
(4) يبكر الفلاحون إلى مزارعهم مجتمعة قواهم مملوئين بالنشاط ثم يعودون منها مساء لاغبين مجهودين
(5) خرجت اليوم مع أصدقائى الطلبة إلى الحقول والمزارع ماشين على أقدامنا لنستنشق الهواء صافيا و نحس النسيم عليلا. فرأينا الفلاحين دائبين فى أعمالهم هذا يعزق الارض وذاك يحرثها فقضينا بين هؤلاء ساعة مغتبطين بجد هم ونشاطهم ، ثم عدنا إلى المنزل فرحين مسرورين.
(6) وكثير من الناس يقصدون الحدائق والبساتين زرافات ووحدانا ليشموا الهواء العليل وليمتعوا انفسهم بمحاسن الطبيعة ومناظرها الجميلة -
(7) يوم الفطر يوم أغر مشهر يلبس فيه الناس أفخر ما عندهم من ملابس ثم يخرجون إلى المصلى جماعات وأفواجا مكبرين مهللين ويقضون صلوتهم خاشعى القلوب ، متضرعين إلى ربهم ثم اذا قضيت الصلوة ذهبوا إلى بيوتهم فرحين مسرورين وإلى ذويهم وأقابرهم مهنئين ، كل يتمنى لصاحبه أن يلبسه الله ثوب العافية وأن يكون العود أحمد.
(8)يایها النبي إنا ارسلناك شاهدا ومبشرا ونذيرا وداعيا إلى الله باذنه و سراجا منيرا.
(9)قل انى أعظكم بواحدة أن تقوموا لله مثنى و فرادى ثم تتفكروا ما يصاحبكم من جنة إن هو إلا نذير لكم بين يدى عذاب شدید۔
(10)وما أمروا إلا ليعبد والله مخلصين له الدين حنفاء ويقيمو الصلوة ويؤتوا الزكوة وذلك دين القيمة.
(11)و كانوا ينحتون من الجبال بيوتا اٰمنين. فاخذتهم الصيحة مصبحين فما أغنى عنهم ما كانوا يكسبون .
(12) وسخر لكم الشمس والقمر دائبين وسخر لكم الليل والنهار وآتاكم من كل ما سألتموه .
(13)محمد رسول الله والذين معه أشدّاء على الكفار رحماء بينهم تراهم ركعا سجدايبتغون فضلا من الله ورضوانا سيماهم في وجوههم من أثر السجود.
(14)الذين يذكرون الله قياما وقعودا وعلى جنوبهم ويتفكرون في خلق السموت والارض ربنا ما خلقت هذا باطلا سبحانك فقنا عذاب النار
التمرين ۳۸
عربی میں ترجمہ کیجئے :۔
(1)پرندے صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر واپس آتے ہیں۔
(2)اچھے بچے صبح سویرے اٹھتے ہیں، ضروریات سے جلد جلد فارغ ہوتے ہیں کہ کہیں جماعت نہ فوت ہو جائے ، نماز سے فارغ ہو کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں، پھر چہل قدمی کرتے ہوئے کھیتوں اور باغات کی طرف نکل جاتے ہیں، گھر لوٹ کر کچھ تازہ ناشتہ کرتے ہیں، پھر خوش خوش ہشاش بشاش مدرسہ کی طرفپیدل یا سوار چل دیتے ہیں۔
(3)کل عید تھی ، شام کو ٹہلتا ہوا میں بازار کی طرف نکلا ، چھوٹے بچوں کو دیکھا، زرقی برقی لباس پہنے ادھر سے اُدھر دوڑ رہے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے، ایک بچہ کو دیکھا، سب سے الگ تھلگ ایک دیوار سے لگا کھڑا ہے، اس پر حزن و ملال اور کبیدگی کے آثار نمایاں تھے، میں اس کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا بھئی تم اس طرح اکیلے کیوں کھڑے ہو پھر میں اسے اپنے ساتھ بازار لے گیا، بازار میں وہ میرے ساتھ ننگے پاؤں ننگے سر چل رہا تھا، مجھے یہ بات کچھ اچھی نہ لگی میں اسے اپنے ہمراہ گھر لے آیا ، ہمارے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ کچھ دیر وہ ہنسی خوشی کھیلتا رہا، پھر اُٹھا ، سلام کیا، اور ہم سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے چلا گیا۔
(4)ہم دونوں بھائی ہر روز سائیکل پر سوار ہو کر مدرسہ جایا کرتے تھے ایک روزبارش کی وجہ سے پیدل ہی مدرسہ گئے ، شام کو جب مدر سہ ختم ہوا، اپنی اپنی کتابیں لئے گھر لوٹے ۔ راستہ میں ہم دونوں مختلف موضوع پر باتیں کرتے ہوئے چل رہے تھے ، گاؤں کے قریب پہونچے ہی تھے کہ ایک بچھونے مجھے ڈنک مار دیا۔ میں پاؤں پکڑھ کر وہیں بیٹھ گیا، میرا بھائی مجھ سے دو سال چھوٹا تھا، وہ اٹھا نہیں سکتا تھا، بھاگا ہوا گھر آیا، اتنے میں کسی طرف سے میرے ماموں آگئے ، وہ مجھے اپنے کندھے پر اٹھا کر گھر لے آئے، دوا پلائی، میں نے لیٹے لیٹے دوا پی ، میرے بدن میں ایک کپکپی سی دوڑ رہی تھی، عشا کے وقت تک کچھ افاقہ ہوا، مگر پوری رات بستر پر کروٹ بدلتے اور جاگتے ہوئے بسر کی، کسی پہلو چین نہیں تھا، اللہ تم کو اس موذی جانورسے بچائے ۔
التمرين ۳۹
اعراب لگائیے اور ترجمہ کیجئے :-
(1)خرجت الى السوق والسماء مصحية لاغيه فيها ولا سحاب . فبينما كانت هي صافية الأديم إذ هبت الريح صرصراعاتية وثارت العاصفة تقتلع الاشجار وتسفى الرمال وتزجى سحابا ثم تؤلف بينه فتجعله ركاما، فعبس الجو وأظلمت الدنيا ولم تلبث هذه الحال حتى نزل المطر رذاذا ، ثم اشتد شيئا فشيئا حتى صار وابلا كأفواه القرب فجعل الناس يجرون الى هنا والى هناك مشمرين أذيا لهم وقد نشر وا الظلل خوفا من البلل وظل المطرها طلا فقضى الناس أكثر نهارهم متعطلين عن أعمالهم جالسين في بيوتهم والجو قاتم والسحاب متراكم والديم هواطل ..... وفى المساء هدأت الثائرة وانكشف الغمام وبدت الشمس مشرقة المحيا وضاءة الجبين فتنفس الناس الصعداء وحمدواالله .
(2) ركينا البحر رهوا وقت الأصيل والهواء عليل فسارت السفينة تشق عباب الماء وتمخر مياهه حتى اذا كان الهجيع الأخير والركاب نائمون از شعرنا بصدمة عنيفة فقمنا من النوم مذعورين
نسأل ما الخبر؟ فوجدنا الملاحين في هرج ومرج واستيقظ كل من في السفينة فرأوا الشر مستطيرا وأبصروا الموت عيانا. وفقدوا كل أمل في الحياة - كيف لا ! والصدع كبير والبحر فا غرفاه. وطيّر الخبر بالبرق لتسرع السفن بالنجدة، فخفت إلينا سفينة على بعد أميال فانتقلنا إليها وحمدنا الله على النجاة وقد أجهدنا التعب. (ماخود بحذف و تغیر)
(3) لا تترك وقتك يضيع سدىً فان الوقت كالسيف إن لم تقطعه قطعك .
(4)وترى المجرمين يومئذ مقرنين بالأصفاد . سرابيلهم من قطران وتغشى وجوههم النار.
(5)ولا تحسبن الله غافلاً عما يعمل الظالمون، إنما يؤخرهم ليوم تشخص فيه الأبصار ، مهطعين مقنعى رؤسهم لا يرتد إليهم طرفهم وأفئدتهم هواء.
(6)أفأمن أهل القرى أن يأتيهم بأسنابياتا وهم نائمون، أوأمن أهل القرى أن يأتيهم بأسنا ضحى وهم يلعبون .
(7)وإذ قال موسى لقومه يا قوم لم تؤذونني وقد تعلمون أنى رسول الله إليكم فلمازاغوا أزاغ الله قلوبهم والله لا يهدى القوم الفاسقين.
(8)أيود أحدكم أن تكون له جنة من نخيل وأعناب تجرى من تحتها الأنهار له فيها من كل الثمرات وأصابه الكبر وله ذرية ضعفاء فأصابها إعصار فيه نار فاحترقت ، كذلك يبين الله لكم الاٰيٰت لعلكم تتفكرون .
(9)يوم يكشف عن ساق ويدعون إلى السجود فلا يستطيعون خاشعة أبصارهم ترهقهم ذلة، وقد كانوا يدعون إلى السجود وهم سالمون.
(10)إنا بلوناهم كما بلونا أصحب الجنة، اذ أقسموا ليصر منها مصبحين ولا يستثنون، فطاف عليها طائف من ربك وهم نائمون ، فأصبحت كالصريم فتنادوا مصبحين ، أن أغدوا على حرثكم إن كنتم صارمين، فانطلقوا وهم يتخافتون، أن لا يدخلنها اليوم عليكم مسكين وغدوا على حرد قادرين، فلما رأوها قالوا إنا لضالون، بل نحن محرومون.
التمرين ۴۰
عربی میں ترجمہ کیجئے :
(1)ایک کسان جب شام کو تھکا ماندہ گھر واپس آتا ہے اور پھر وہ اپنے بال بچوں سے اس حال میں ملتا ہے کہ وہ سب اس کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں تو اپنی ساری تھکن بھول جاتا ہے ۔
(2)میرے پڑوسی کے گھر رات چورگھس آیا اور وہ سب سو رہے تھے چنانچہ چور چوری کر کے نکل گیا اور کسی نے محسوس تک نہ کیا، دو بجے رات کو جب ان کی آنکھ کھلی تو سارا سامان اِدھر اُدھر منتشر پایا ۔ ڈرتے ہوئے کچھ آگے بڑھے تو دروازہ بھی کھلا دیکھا، اب انھیں یقین ہو گیا کہ چور اپنا کام کر چکا ہے پلٹے کہ سامان کا جائزہ لیں اور وہ بے حد گھرائے ہوئے تھے ، جائزہ لیا تو بہت سے قیمتی سامان اور زیورات غائب تھے ، انھوں نے رات کا باقی حصہ خوف اور ہر اس کے ساتھ جاگ کر گزارا ۔
(3) گرمی کا زمانہ تھا ، سخت گرمی پڑ رہی تھی ، دو پہر کو ہم گاڑی سے اُترے ، موٹر ڈرائیور اور تانگہ والے ہڑتال کے گھروں میں بیٹھے تھے ، سوچا کہ دو پہر اسٹیشن پر ہی ویٹنگ روم میں گزار دیں ، مگر جمعہ کا دن تھا اور اب ہم مسافر بھی نہیں رہے تھے ، مزدور تلاش کیا مگر کوئی مزدور بھی نہیں ملا، آخر کار خود ہی اپنا سامان اور بستر لیے ہوئے پیدل قیام گاہ کی طرف چل پڑے ، اسٹیشن سے ہماری قیام گاہ چار میل کے فاصلہ پر تھی ۔ وہ ہم سڑک پر چل رہے تھے اور سامان سے بوجھل ہوتے جا رہے تھے ایک طرف زمین تپ رہی تھی اور آسمان اوپر سے شرارے برسا رہا تھا ، دوسری طرف لوگ اپنی دوکانوں اور برآمدوں میں بیٹھے ہم پر جملے چست کر رہے تھے، وہ ہمیں اس حال میں دیکھتے اور استہزا کے انداز میں مسکرا دیتے، ہم ان کی استہزا کی پرواہ کیے بغیر دھوپ اور گرمی میں اسی طرح چلتے رہے، یہاں تک کہ سامان اور بستر لیے ہوئے پسینہ میں شرابور ایک بجے قیام گاہ پر پہونچ گئے لیکن یہاں ہم نے دروازہ کو مقفل پایا، میرے کمرے کے ساتھی مسجد جا چکے تھے ۔ بھاگتے ہوئے ہم نے مسجد کا رخ کیا، مسجد اس حال میں پہونچے کہ امام منبر پر خطبہ دے رہا تھا، اللہ کا شکر ادا کیا کہ محنت اکارت نہ گئی ۔
التمرين ۴۱
اردو میں ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :۔
(مباراة في كرة القدم)
دعت المدرسة البلدية فرقة مدرستنا للمباراة في كرة القدم فاجابوا دعوتها مستبشرين، ففى الوقت الموعود توافد المدعوون إلى الملعب رجالا وركبانا وخرج جمعنا تحت إشراف حضرات المدرسين، وصلنا إلى الملعب وقد نضدت الكراسي والمقاعد لحضرات المدعو وين ينسق وترتيب فجلسوا عليها ووقف التلاميذ جوانب الملعب منتبهين متحمسين۔
نزل الفريقان فى الساحة قبل بداية اللعب بخمس دقائق يهرولان و يمرحان ثم تصافحا و وقفا متقابلين وفي تمام الساعة الخامسة صفر الحكم ايذانا بالبدء . . فتطلعت الأنظار وتطاولت الاعناق وكنانرى الكرة تعلو وتهبط وترتفع وتنخفض ذاك بقذفها و هذا يصد ها - هكذا استمر اللعب بطيئا - مباراة فاترة ضعيفة تبعث الملل ثم نشط فريق البلدية والهوا حليفهم بهجوم متواصل يشتد به ضغطهم ورمياتهم على مرمى فريقنا ولكن الحارس البارع يتلقف ويرتمي كلما تاتى اليه الكرة
قوية أو غير قوية . ومرة هلل أنصار البلدية حين شاهدوا الكرة تتخبط في الشباك ظانين أنها هدف ولكن الحكم اليقظ أحتسب فألغى للتسلل . وانتهى الشوط الأول دون أهداف ولم يستطيع فريقنا طوال الشوط أن يهاجم هجمة موفقة واحدة غير أن محمود اقذف مرة قذفة محكمة أنها المرمى ولكنها تعرجت قليلا فاصطدمت بقائمة العارضة فعادت مرتدّة۔
ثم ابتدأ الشوط الثانى والساعة خامسة ونصف ولعب في هذا المرة محمود دفاعا أيمن و مسعود ظهيرا أيسرو حمزة ساعدا أيمن وخالد جنا حا أيسر وبذلك استطاع فريقنا أن يهاجم مجمان موفقة ففى الدقائق الأولى استمر اللعب سجالا يتبادل فيا الهجوم على المرميين. ثم اشتدت الهجمات وتوالت القذائف علی مرمى البلدية ، حتى كانت رمية مروّعة من خالد رجت قائما المرمى رجا وذهبت إلى غرضها توا فى شباك الهدن مسجلة - "الاصابة الأولى فتعالت الأصوات واشتد الهتاف .
وحمی وطيس اللعب بعد هذا الهدف وعز على فريق البلدية . أن يخرج منهز وما فحاول أن يظفر بالتعادل ولكن الدفع القوى اليقظ استطاع أن يحطم هذه المحاولات كلها - وانسح الهجوم مرة أمام مرمى فريقنا وارتبك أفراده حتى أمسك خال الكرة وهو على خط منطقة الجزاء فاحتسبها الحكم" صربة جزاء ضد فريقنا فاستطاع فريق البلدية هكذا أن يحرز هدف التعاد ثم مرت بعد ذلك فترة طويلة دون أهداف حتى خيل للجسم أن المباراة ستنتهي بالتعادل، از بر زحمزة والكرة تتدحرج بین قدميه بسرعة فما هي الا كلمح البصر حتى رأينا الكرة متخبطا في الشباك ثم بدأ التجديد فالتقط خالد الكرة وهياء لحمزة فتلق حمزة بقدمه وبعد تحويلة وتمريرة يسيرة سجل الهدف الثلث و قبل نهاية المباراة بدقيقة واحدة انتصر فريقنا باصابة الهدف الرابع ، ثمصفر الحكم معلنا بنهاية المباراة فخرج اللاعبون من ساحة الملعب وهم يتصببون عرقا فأسرع إليهم التلاميذ بكئوس يسقونهم إياها وذهبنا إلى جمعنا نهنئهم ونثنى عليهم الخير ثم تصافح الفريقان وافترقا.
ورجعنا مع جمعنا یملا السرور قلوبنا والبشر يعلو وجوهنا. إذ فاز منتخب مدرستنا بأربعة أهداف مقابلة واحد. وقد فَاز بثلاثة أهداف مقابلة لا شئ في المباراة النهائية من قبل في السنة الماضية وأخيرا فان دفاع البلدية يستحق كل ثناء وتقدير لانه واجه طوال الشوط الأخير هجوما لا يهدأ ولا ينقطع وبذل كل فرد فيه قصارى جهده .
التمرين ۴۲
(الف) مندرجہ ذیل عنوان پر ایک مضمون لکھئیے اور اس بات کی کوشش کیجئے کہ زیاد سے زیادہ حال استعمال کر سکیں ۔
العنوان :- مسابقة في الخطابة .
العناصر : - اعلام المدرسة عن اقامة مسابقة خطابية. رغبة الطلبة في المساهمة . اعدادهم للخطب ونهيئهم لها. وصول النباً إلى سائر المدارس . تهيأ كثير من طلبتها للمسابقة . دنو الميعاد.
يوم المسابقة - قدوم المدعوين - الجوائز المعدة - بد الحفلة القاء الخطبات ماكنت ترجو في أثنائها - نتائج الفوز توزيع الجوائز الذهاب إلى مأدبة الشأى . انتها الحفلة .
الافتتاح : تعودت مدرستنا أن تنظم كل عام حفلة المسابقة خطابية . فلما بدئى التعليم فى هذا العام أراد رجالها أن يقيموا حفلة حسب دابهم
الخاتمة : كان من نتيجة هذه المسابقة أن رجع إلى الطلاب نشاطهم في التمرن على الخطابة حتى أن بعضهم قد تفوق وبرع فيها.
(ب) عربی میں ترجمہ کیجئے :-
ایک مرتبہ قریب ہی ایک محلہ میں آگ لگی اور وقت دو بجے رات کا تھا، چیخ و پکار کی آواز پر سارے محلہ والے جاگ گئے، مگر کسی کی سمجھ میں کچھ نہ آتا تھا ایک دوسرے سے لوگ پوچھ رہے تھے قصہ کیا ہے ؟ میں بھی گھبرایا ہوا گھر سے با ہر نکلا اور کچھ دیر حیران کھڑا رہا، اتنے میں میرا دوست محمود بھاگتا ہوا آیا اور زور زور سے چیختے ہوئے اُس نے کہا " آگ آگ پھر وہ فورا ہی واپس ہوا۔میں اور محلہ کے دوسرے لوگ تیزی کے ساتھ اُس کے پیچھے بھاگے ، ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ دیکھا ایک گھر سے بادل کی طرح دھواں اٹھ رہا ہے اور آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں اسی محلہ میں ہمارا دوست حامد بھی رہتا تھا، وہ ان دنوں بیمار بھی تھا اور گھر میں تنہا بھی تھا، جب ہم قریب پہنچے تو دیکھا کہ آگ اُسی کے گھر میں لگی ہوئی ہے ہم دونوں مجمع کو چیرتے ہوئے گھر کے قریب پہونچے کہ کسی طرح اُسے نکالنے کی فکر کریں، اتنے میں حامد نگے سر ننگے پاؤں، بدحواس ہمارے سامنے سے ہو کر گزرا ہم نے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھام لیا، اور مجمع سے باہر لے آئے، اسی اثنا میں فائر بریگیڈ والے آگئے، بڑی مشکل سے آگ پر قابو پایا جا سکا، مکان کا اکثر حصہ جل چکا تھا۔ ہم حامد کو سواری پر بٹھا کر اپنے گھر لے آئے اور محمود وہیں رہ گیا کہ اس کے بچے کچھے سامان کی صبح تک حفاظت کرے۔
59 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۸
التمرين ( ۱ )
عين في العبارة الآتية ما جاء من الاحوال مبينا هيئة الفاعل وما جاء منها مبينا هيئة المفعول به
يقبل الناس على التاجر الامين واثقين بذمته مطمئنين الى معاملته لانه يبيعهم سلعه خالية من كل غش ويودي اليهم حقوقهم كاملة واذا طلب اليه احد الحرفاء نصيحة ادها اليه مغتبطا مسرورا وان فاته من وراء ذلك ربح كثير
التمرين (۲)
عين في الجمل الاتية ما جاء من الاحوال مفردا او جملة اسمية او جملة فعلية او ظرفا أو جارا و مجرورا
۱۔ دخل اللص المنزل واهمله نائمون فسرق ما فيه من الامتعة الثمينة ثم خرج ولم يشعر به احد
۲۔ ذهب العمال الى اعمالهم مملوئين نشاطا ثم عادوا منها وقد بدت عليهم آثار التعب والاجهاد
۳۔ اشترى التاجر العنب على كرمه ثم قطفه ناضجا و باعه رابحا فيه
۴۔ ابصرت الطائر فوق الغصن وسمعته يغرد تغريدا حسنا
۵۔ نظرت السمك تحت الماء فالقيت شبكتي قاصدا صيده فخرجت الشبكة لا تحمل شيئا فالقيتها مرة ثانية فخرجت وفيها اثنتا عشرة سمكة صغيرة
۶۔ باع الفلاح قطنه في غير تودة وعاد من السوق نادما
۷۔ من جلس وهو صغير حيث يحب جلس وهو كبير حيث يكم
التمرين (۳)
عين الرابط الذي يربط جملة الحال بصاحبها في كل جملة من الجمل الآتية
۱۔ اكل فريد وهو شعبان ثم قام يشكو الما في معدته
۲۔ قرات الكتاب وما وجدت فيه كلمة غريبة
۳۔ اجل استاذی غاب او حضر
۴۔ نمت الاشجار ولما تثمر
۵۔ استيقظنا من النوم وما طلعت الشمس
۶۔ ركبت السفينة والبحر هائج
۷۔ مكث الضيوف عندنا يومين ما قصرنا في اكرامهم
۸۔ لا تنم ونوافذ الغرفة مقفلة
۹۔ قابلت اخاک وقد عاد من سفره
التمرين (۴)
اكمل كل جملة من الجمل الاتية بوضع حال مفردة مرة وغير مفردة اخرى
۱- لا تمش في اليل.......
۲۔- عاد الجنود.......
۳۔ فر المجرمون من السجن.......
۴۔ يعود الاطفال من اللعب
۵۔ ذهبت الماشية الى المرعى.......
۶- لا تاكل الطعام . .......
۷۔ اقبلت الخيل.......
۸۔ حضر الجاني امام القاضي .......
۹- لم توذون اخاكم . .......
۱۰۔ البس ثيابك . .......
التمرين (۵)
كون جملا تجي فيها الفاظ التالية احوالا :
مستبشرا ، ظافرا ، آسفین ، وانت غضبان
وقد أعياهم التعب ، مع اخواته ، مسرعين ، جاهلات
والحراس نيام
التمرين (۶)
اجعل الخال المفردة فى كل مثال من الامثلة الاتية حالا غير مفردة
ا۔ جلس المذنب خائفا
۲۔ يعجبني الغني متواضعا
۳۔ احب التلميذ مجتهدا
۴۔ سمعت المريض شاكيا -
۵۔ ابصرت الورد مفتحا
۶۔ باع الفلاح قطنه رخيصا
۷۔ عاد التاجر رابحا
۸۔ لا تختلط بالناس مريضا
۹- اصفح عمن اتاک معتذرا
۱۰۔ انظر الى السماء ممطرة
التمرين (۷)
اجعل جملة الحال في كل يقال من الامثلة الاتية حالا مفردة
ا - تمربنا الايام ونحن لاهين
۲۔ جاء المذنب يعتذر عن ذنبه
۳۔ رجع السابق يتصبب عرقا
۴۔ ركبت الحصان وهو متعب
۵۔ فارقت اخواني وانا متقبض الصدر
۶۔سمعت الخطيب ياسر القلوب بحسن لفظه
۷۔ ابصرت ثمر البستان يتساقط من شجرة
۸۔ غرقت السفينة وقد كان منظرها رهيبا
التمرين (۸)
(۱) كون ثلاث جمل تجنى الحال في كل منها مفردة مبينة هيئة الفاعل
(۲) كون ثلاث جمل تجنى الحال في كل منها جملة مبينة هيئة المفعول به
(۳) كون ثلاث جمل تجنى الحال في كل منها ظرفا مبينة هيئة الفاعل
(۴) كون ثلاث جمل تجنى الحال في كل منها جارا ومجرورا مبينة هيئة المفعول به
التمرين (۹)
(۱) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها جملة اسمية ورابطها الواوفقط
(۲) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها فعلية ورابطها الواوفقط
(۳) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها اسمية ورابطها الواوفقط الضمير
(۴) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها فعلية ورابطها الواوفقط
(۵) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها اسمية ورابطهاالواوالعمیر معا
(۶) كون ثلاث جمل تجى الحال في كل منها فعلية۔ ورابطها الواوفقط
التمرين ( ١٠ )
كون خمس جمل تصلح الحال في كل منها ان تكون من الفاعل، ومن المفعول به.
التمرين (۱۱)
صف يوما خرجت فيه مع بعض اهلك لنزهة في سفينة واعمل على ان تاتي في غضون الموضوع باحوال مناسبة ثم بين بعد الكتابة كل حال اتيت بها ونوعها.
التمرين (۱۲)
(الف) نموذج:
ركبت السفينة والنسيم عليل
رکبت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ركب فعل ماض مبني على السكون، والتاء ضمير مبنى على الضم في محل رفع فاعل
السفينة ..... مفعول به منصوب
والنسيم۔۔۔۔۔۔ الواو واو الحال حرف مبني على الفتح، والنسيم مبتداء مرفوع بالضمة الظاهرة
عليل۔۔۔۔۔ خبر المبتداء مرفوع بالضمة الظاهرة وجملة المبتداء والخير حال في محل نصب
(ب) اعرب الجمل الاتية
ا۔ خرج الاولاد وهم فرحون
۲۔ ابصرت عليا مع اصدقائه
۳۔ لعب الاطفال في نشاط وعادوا مسرورين
60 تیسیر النحو۔ سبق:۱۷
أسئلة
۱۔ اذكر تعريف الحال مع المثال، واشرحه شرحا يبين المراد منه .
٢- ما هو الأصل في "صاحب الحال"؟ وهل يجوز أن يكون نكرة؟ ومتى يجوز؟ أجب عنها مع الأمثلة.
۳۔ اذكر عامل الحال مع التمثيل.
۴۔ ماهو الأصل في الحال ؟ اذكره مع التمثيل، وهل يجوز أن تأتي صفة ثابتة ؟ اذكره مع التمثيل ؟ ۵۔ متى تأتي الحال جامدة وتؤول بالمشتق ؟ اذكر حالاتها الخمس مع التمثيل.
٦- ما هي أنواع الحال ؟ اذكرها مع التمثيل.
۷۔ اذكر أنواع الرابط في جملة الحال مع التمثيل
۸۔ متى يجوز حذف عامل الحال، ومتى يجب ؟ وهل يحذف سماعا ؟ اذكر الحالات الثلاث مع التمثيل
۹۔ هل يجوز تعدد الحال ؟ اذكره مع التمثيل.
تمرينات
۱۔ بين فيما ياتي الحال، وصاحبها، وعاملها، ونوعها
جئت إليهم طلق المحيا
إذا المرء أعيته المروءة يا فعا فمطلبها كهلا عليه ثقيل
إنما الميت من يعيش كثيبا كاسفاً باله قليل الرخاء
لا حوا مثل كواكب الجوزاء
نجيت يارب نوحا واستجبت له - في فلك ما خر في اليم مشحونا الشرير يعيش بائسا ويموت يائسا.
٢ - قال تعالى: ﴿وما أهلكنا من قرية إلا ولها كتاب معلوم
(۱) عين الحال وصاحبها في الآية. (ب) كيف صح مجيء الحال من النكرة
۳۔ مثل لما يأتي في جمل من عندك
(ا) حال تقدمت على صاحبها (ب) حال ثابتة (ج) حال جامدة (د) حال صاحبها نكرة (ه) حال معرفة
61 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
62 تمیز
تمیز کی تعریف
تمیز ایک لفظ یا ترکیب ہے جو کسی اسم، فعل، یا صفت کی وضاحت کرتی ہے، یعنی یہ بتاتی ہے کہ کوئی چیز کس طرح یا کتنی ہے۔ تمیز کا مقصد جملے میں وضاحت دینا ہوتا ہے، اور یہ عموماً منصوب ہوتی ہے۔
تمیز کا عمل
تمیز ہمیشہ منصوب ہوتی ہے اور اس کا عامل عموماً فعل ہوتا ہے۔ تمیز کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ جملے میں وضاحت اور تفصیل فراہم کرے۔
مثالیں
1. تمیز عددی: - أكلتُ ثلاثةَ تفاحٍ (میں نے تین سیب کھائے)
یہاں "ثلاثةَ" تمیز عددی ہے جو بتاتی ہے کہ کتنے سیب کھائے گئے۔
2. تمیز صفتی: - اشتريتُ سيارةً جديدةً (میں نے ایک نئی گاڑی خریدی)
یہاں "جديدةً" تمیز صفتی ہے جو بتاتی ہے کہ گاڑی کی حالت کیا تھی۔
نوٹ:تمیز کو ہمیشہ نصب دیا جاتا ہے اور یہ اکثر اسم، فعل، یا صفت کے بعد آتا ہے تاکہ وضاحت فراہم کرسکے۔
63 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۹
التمييز: تمیز
التَّمْيِيزُ: اِسْمٌ يُذْكَرُ لِبَيَانِ الْمُرَادِ مِنِ اسْمٍ سَابِقٍ يَصْلُحُ لأَنْ تُرَادَ بِهِ أَشْيَاءُ كَثِيرَةٌ.
الْمُمَيَّزُ قِسْمَانِ مَلْفُوظٌ وَمَلْحُوظٌ، فَالْأَوَّلُ مَا يُلْفَظُ بِهِ فِي الْجُمْلَةِ كَأَسْمَاءِ الْوَزْنِ، وَالْكَيْلِ، وَالْمِسَاحَةِ، وَالْعَدَدِ، وَالثَّانِي مَا يُفْهَمُ مِنَ الْجُمْلَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا.
تمیز وہ اسم ہے جو اسم سابق سے مطلوبہ معنی کی تعیین کیا کرتا ہے۔
ممیز کی دو قسمیں ہیں: ملفوظ اور ملحوظ ۔ ملفوظ وہ ہے جو جملہ میں مذکور ہو جیسے وزن ، پیمانہ ، پیمائش اور عدد کے اسماء اور ملحوظ وہ ہے جو ذکر ہوئے بغیر جملہ کے سیاق سے سمجھا جا سکے۔
الامثلة
(۱) اِشْتَرَيْتُ رِطلاً بَلَحًا .
(۲) غَلتِ الأَرْضُ إِرْدَبًا قَمْحًا .
(۳) باعنِي التاجرُ ذراعًا حَرِيراً .
( ٤ ) في الحقْلِ عِشْرُونَ بَقَرَةٌ .
(۵ ) طَابَ المكانُ هواءً
(٦) فَاضَ القَلْبُ سُرُوراً
(۷) الْعِنَبُ من الذِّ أَنْوَاعِ الْفَاكِهَةِ طَعۡمًا .
(۸) القاهرة أكثرُ مِنَ الْإِسْكَنْدَريَّةِ سُكاناً .
؎
حكم التمييز
(۱) حُكْمُ تَمْیيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمَسَاحَةِ: وزن پیمانه اور پیمائش کی تمیز کا حکم
يَجُوزُ فِي تَمْيِيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمِسَاحَةِ أَنْ يُنْصَبَ، وَأَنْ يُجَرَّ بِالإِضَافَةِ أَوْ بِمِنْ.
وزن ، پیمانہ اور مساحت کی تمیز منصوب ہوسکتی ہے اور اضافت یا من کی وجہ سے مجرور بھی آسکتی ہے۔
الامثلة
(۱) شَرِبْتُ رِطْلًا لَبَنَا (أَو) رِطْلَ لَبَنِ (أَو) رِطلًا مِنْ لَبَنِ
(٢) أَوْ قَدْتُ قِنْطَارًا فَحْمًا (أَو) قِنْطَارَ فَحمٍ (أَو) قِنْطَارًا مِنْ فَعْمِ
(۳) عِنْدِي مِثْقَالَ ذَهبًا (أَو) مِثْقَالُ ذهبٍ(أَو) مِثْقَالُ مِنْ ذَهَبٍ
(۴) أكل الحِصَانُ حفنَة شَعِيرًا.(أَو) حَفْنَةَ شَعيرٍ(أَو) حَفْنَةٌ مِنْ شَعيرٍ
(٥) شَرِبْتُ كُوباً ماءً .(أَو) كوبَ ماءٍ(أَو) كوبًا مِنْ مَاءٍ
(۶) اشْتَرَيْتُ قَدَحًا سِمْسِمًا. (أَو) قدحَ سِمْسِمٍ(أَو) قدحًا من سِمْسِمٍ
(۷) بعتُهُ ذِرَاعًا حريراً (أَو) ذراعَ حريرٍ(أَو) ذراعًا من حريرٍ
(۸) لا أَمْلِكُ شِبرًا أَرْضًا(أَو) شِبرَ أَرْضٍ (أَو) شِبْرًا مِنْ أَرْضٍ
(۹) زَرَعتُ فَدَّانَا أَرزا (أَو) فَدَّانَ أَرُزٍ(أَو) فَدَّانًا مِنْ أَرُزٍ
(۲) حُكْمُ تَيزِ الْعَدَدِ: عدد کی تمیز کا حکم
تَميِيزُ العَدَدِ يَجِبُ جَرُّهُ جَمْعًا مَعَ الثَّلَاثَةِ وَالعَشْرَةِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَنَصْبُهُ مُفْرَدًا مَعَ أَحَدَ عَشَرَ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَجَرُّهُ مُفْرَدًا مَعَ الْمِائَةِ وَالأَلْفِ.
تمیز العدد کو تین سے دس تک کے عدد میں جمع مجرور ، گیارہ سے ننانوے تک کے ساتھ مفرد منصوب اور سو اور ہزار کے ساتھ مفرد مجرور لانا واجب ہے۔
الامثلة
(۱) غَرَسْتُ ثَلَاثَ شَجَرَاتٍ
(٢) أكَلْتُ أَرْبَعَ تُفاحاتٍ .
(۳) اِشْتَرَيْتُ خَمْسَةَ أَقْلَامٍ .
(٤) في الأسبوع سَبْعَةُ أَيَّامٍ .
(٥) فِي الْمَسْجِدِ عَشْرَةُ أَعْمِدَةٍ
(۱) رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ فَارَسًا .
(۲) فِي الشَّجَرَةِ تسعةَ عَشَرَ غُصْنًا.
(۳) فى الشهرِ ثلاثونَ يَوْمًا
( ٤ ) في الشجرة إِحْدَى وَأَرْبَعُون برتقالةً..
( ۵ ) فِي البُسْتَانِ تِسْعُ وتسمون نخلةً.
(۱) في القنطارِ مائةُ رطلٍ . .
(۲)رکب السفینۃُ مائتَا مسافرٍ
(۳) قطع القطارُ خمسمائةِ ميلٍ
( ٤ ) في الحديقةِ ألفُ شجرةٍ .
( ۵ ) مِساحةُ الدَّارِ الْفَا ذِرَاعٍ .
(۶) في ساحةِ القِتالِ ثلاثةُ آلافِ جُنْدِيٍّ.
(۳) حُكْمُ التَّمِیۡزِ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظاً: تمیز کا حکم جب ممیز ملحوظ ہو(غیر مذکور)
يُنْصَبُ التَّمْيِيزُ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظًا.
اگر ممیز ملحوظ ہو (مذکور نہ ہو) تو تمیز ہمیشہ منصوب ہو گی۔
الامثلة
(۱) حَسُنَ الغلامُ كلاماً .
(۲) اعْتَدَلَ الرَّجُلُ قامةً .
(۳) الْفِيلُ اكبرُ من الجملِ جسماً .
(٤) الحَرِيرُ أغلى من القطنِ قيمةً
64 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۸،۹
تمیز
تمیز ایک ایسا اسم ہے جو اپنے ماقبل کے اسم سے ابہام دور کرکے اس کے معنی مراد کو متعین کرتا ہے جیسے اشتریتُ رِطُلا زيتا اور عِنْدِي عَشَرَۃَ أَقلَامٍ
اسماء کیل، وزن، مساحت اور عدد سب کے سب اپنے اندر ابہام رکھتے ہیں مثلا رطل ایک وزن کا نام ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہ ایک رطل کیا چیز ہے تیل، گھی، شہد یا کچھ اور ؟ اسی طرح عشرہ ایک عدد کا نام ہے اس سے مراد دس قلم بھی ہو سکتے ہیں۔ اور دس کوئی دیگر چیز بھی، پس جو اسم بعد میں آکر ان کے معنی کی مراد کو متعین کرتا ہے نحویین کی اصطلاح میں اسے تمیز کہتے ہیں۔ جیسے زیتا اور اقلام او پر کی دونوں مثالوں میں ۔
تمیز کے مقابلہ میں جس اسم کے اندر ابہام پایا جاتا ہے اسے ”ممیز“ کہتے ہیں ممیز دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ممیز ملفوظ اور دوسرا ممیز ملحوظ ۔
(۱) ممیز ملفوظ وہی ہے جس کا ذکر جملہ کے اندر الفاظ میں موجود ہو جیسے اوپر کی مثالوں میں رطل اور عشرہ ۔
(۲) ممیز ملحوظ سے مراد یہ ہے کہ جملہ کے اندر ممیز الفاظ میں مذکور تو نہ ہومگر خود جملہ کا ابہام اس امر کا متقاضی ہو کہ اس کی تمیز لائی جائے۔ جیسے فُلانٌ أَكْثَرَ مِنی مالاً یہاں اگر مال نہ کہا جائے تو یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ فلاں شخص آپ سے کس چیز میں یا کس لحاظ سے زیادہ ہے۔
ممیز ملحوظ کی تمیز :
ممیز جب ملحوظ ہوتا ہے تو تمیز ہمیشہ منصوب ہوتی ہے جیسے "مَحْمُودٌ اكْبَرُ مِنِّي سِنَّا، طَابَ الْمَكَانُ هَوَاءً، اِمْتَلا الِْاناءُ مَاءً، تَهَلَّلَ وَجُهُهُ بشْرًا
وزن کیل اور مساحت کی تمیز :
وزن کیل اور مساحت کی تمیز میں حسب ذیل صورتیں جائز ہیں:
(الف) یہ کہ منصوب ہو جیسے اشتریت ذراعا ثوبا
(ب) یه که مجرور باضافت ہو جیسے اشتریت ذراعَ ثوبٍ
(ج) یہ کہ مجرور بحرف جار "من" ہو جیسے اشتریت ذراعا من ثوب۔
عدد کی تمیز :
عدد کی تمیز حسب ذیل طریقے پر لائی جاتی ہے۔
(1) ثلثۃ سے عشر تک کی تمیز جمع اور مجرور لائی جاتی ہے۔ جیسے: ثلاثۃَ أقلامٍ ، و عشرۃَ رِجالٍ
(۲) اَحَدَ عَشَر سے تسعة و تسعون تک کی تمیز واحد اور منصوب ہوتی ہے۔ جیسے اَحَدَ عَشَرَ كوكبا وتسعة وتسعون رَجُلاً
(۳) مائة اور الف کی تمیز واحد اور مجرور آتی ہے جیسے مائة رجلٍ والف رَجُلٍ
عدد کا حکم:
عدد کی تمیز سب سے مشکل ہے اور اس سے زیادہ مشکل عدد کی تذکیر و تا نیث کاحکم ہے اس لئے اسے اچھی طرح یاد کر رکھنا چاہئے۔
(1) عدد کے الفاظ ثلٰثۃ سے تسعة تک تذکیر و تانیث میں معدود کے برعکس ہوتے ہیں ۔ خواہ عدد مفرد ہو خواہ مرکب ہو ۔ خواہ معطوف و معطوف علیہ ہو۔
(الف) مفرد کی مثال جیسے ثلاثۃ اقلامٍ اور ثلاث غرفاتٍ اسی طرح تسعۃ تک
(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثۃ عشر قلما اور ثلث عشر ۃغرفةً
(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ثلثۃ و عشرون قلما اور ثلث و عشرون غرفة
(۲) عشرۃ ( کی تذکیر و تانیث ) کا قاعدہ یہ ہے کہ مفرد ہو تو معدود کے برعکس ہوتا ہے اور مرکب ہو تو معدود کے موافق ہوتا ہے۔
(الف) مفرد کی مثال جیسے عشرۃ رجال اور عشر غرفات (معدود کے برعکس)۔
(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثة عشر قلما اور ثلث عشرة غرفة (معدود کے مطابق )۔
(۳) واحد اور اثنان تینوں صورتوں میں معدود کے مطابق رہتے ہیں۔
(الف) مفرد کی مثال ہے [ رجل واحد اور غرفة واحدة، رجلان اثنان اور غرفتان اثنتان] واضح رہے کہ واحد اور اثنان کی تمیز نہیں آتی۔
(ب) مرکب کی مثال جیسے [ احد عشر قلما اور احدى عشرة غرفة، اثنا عشر قلما اور اثنتا عشرة غرفة ]
(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ہے، [ احد و عشرون قلما اور احدى و عشرون غرفة ، اثنان وعشرون قلما و اثنتان و عشرون غرفة]
(۴) عشرہ کے سوا باقی تمام عقود ( دہائیاں) عشرون و ثلثون وغیرہ تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔
(۵) اسی طرح مائہ اور ألف بھی تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔
عدد کا اعراب:
احد عشر سے تسعة عشر تك باستثناء اثنا عشر فتحہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ باقی تمام اعداد بہ شمول اثنا عشر معرب ہیں۔ عامل کے مطابق ان کا اعراب پڑھا جاتا ہے۔
كنايات العدد:
کم، کائن اور کذا کے ذریعہ بھی عدد کا کنایہ کرتے ہیں۔ اس کے احکام حسب ذیل ہیں۔
(1) کم استفہامیہ کی تمیز مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے کہ کم تلميذا في صفك؟ تمہارے درجے میں کتنے طلباء ہیں؟۔ لیکن کم پر جب کوئی حرف جار داخل ہو جائے تو تمیز مجرور ہو جاتی ہے۔ بکم روبية ( کتنے روپے میں)؟ منذ كم يوم؟ ( کتنے دن سے)؟ اگر چہ اصل قاعدہ کی رو سے بکم روبيةً اور منذکم یوما منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں۔
(۲) کم خبریہ کی تمیز مفرد اور جمع دونوں لکھ سکتے ہیں۔ مگر ہر حال میں مجرور رہے گی جیسے کم کتبٍ قرأت یا کم کتابٍ قرأت
( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں) کبھی کم خبریہ کی تمیز پر من حرف جار بھی داخل کر دیتے ہیں۔ جیسے کم من كتاب قرأته
( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں)
(۳) کاین کی تمیز من حرف جار کے ساتھ ہمیشہ مجرور آتی ہے۔ جیسے کاین من طالب لا يجتهد في القرأة ( کتنے طالب علم پڑھنے میں محنت نہیں کرتے )
(۴) كذا کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے اَعْطَيْتُهُ كَذَا درھما ( میں نے اسے اتنے درہم دیئے)
فائدہ:
کم خبریہ اور کأین سے صرف کثیر اشیاء کی طرف کنایہ کیا جاتا ہے اور کذا سے قلیل و کثیر دونوں کی طرف۔
عدد وصفی و سنین (عدد صفی اور سال)
عدد وصفی جس سے اعداد کی ترکیب معلوم ہوتی ہے۔ اسم فاعل کے وزن پر حسب ذیل طریقے سے لکھتے ہیں ۔
الدرس الأول الدرس العاشر ،القصة الأولى القصۃ العاشرة
الدرس الحادي عشر الدرس التاسع عشر ،القصة الحادية عشرة القصة التاسعة عشرة
الدرس العشرون والثلاثون والتسعون الخ ، القصة العشرون والثلاثون والتسعون الخ
الدرس الحادي والعشرون والتاسع والتسعون ،القصة الحادية والعشرون والتاسعة والتسعون
الدرس المائة والدرس الألف ، القصة المائة والقصة الألف
بیچ کے اعداد اختصار کی غرض سے حذف کر دیئے گئے ہیں ان مثالوں پر غور کرنے سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔
(1) تذکیر و تانیٹ اور تعریف و تنکیر میں عدد اپنے موصوف کے مطابق ہے۔
(۲) عدد مرکب ( یعنی ا سے ۱۹ تک ) اور عدد معطوف و معطوف علیه ( یعنی ۲۱، ۲۲، ۲۳ وغیرہ) میں صرف پہلاہی جز اسم فاعل کے وزن پر ہے دوسرا جزا اپنے حال پر باقی ہے۔
(۳) عدد مرکب میں ال صرف پہلے ہی جز پر ہے، مگر عدد معطوف و معطوف علیہ دونوں جز پر۔
(۴) العاشر کے سوا باقی دہائیوں پر صرف ”ال‘ ہی داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ انہیں اسم فاعل کے وزن پر نہیں ڈھالا جاسکتا اسی طرح تذکیر و تانیث میں بھی وہ یکساں رہتے ہیں۔
فائدہ:
اوپر کے نقشہ میں اسم فاعل کے وزن پر جو اعداد لکھے گئے ہیں ان کا ترجمہ پہلا، دوسرا، پانچواں وغیرہ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ تینوں، چاروں پانچوں وغیرہ سے معانی کو ادا کرنا چاہیں تو اس کے لئے عدد اسم فاعل کے وزن پر نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ اصلی صورت میں باقی رکھتے ہوئے صرف ”ال" داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ جیسے تینوں بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا قال الاخوان الثلاثہ لابیھم۔
سنین:
تاریخ و سنین حسب ذیل طریقہ پر لکھتے پڑھتے ہیں۔
(1) ولد فلان في التاسع عشر من شهر شوال سنة سبع و خمسين و.سبع مائة من الهجرة
(۲) توفي فلان في الخامس والعشرين من شهر ربيع الأول سنة احدى و ستين و ثلث مائة والف من الهجرة
(۳) استقلت الهند من ايدى الانكليز سنة سبع و اربعین و تسع مائة بعد الألف من الميلاد
نوٹ
عربی میں سنۃ چونکہ مونث ہے اس لئے اس کے بعد واحد اور اثنان مؤنث لکھے جاتے ہیں۔ جیسے اوپر کی دوسری مثال میں اور ثلث سے تسع تک مذکر
(۲) عرب مورخین حسب ذیل طریقہ پر تاریخیں لکھتے ہیں۔ پہلی تاریخ کے لئے للیلة خلت من شهر کهذا ۔ اسی طرح چودہ تاریخ تک جیسے لاربع عشرة خلون من شهر كذا ۔ پندرہویں تاریخ کولنصف شهر كذا اور سولہویں کو لاربع عشرة ليلة بقين من شهر كذا اى طرح اٹھائیسویں تک انتیسویں تاریخ کو لليلة بقيت من شهر كذا اور تیسویں کو لآخر يوم من شهر كذا لکھتے ہیں۔
(۳) اعداد دونوں طرف سے پڑھے جاتے ہیں مگر زیادہ فصیح یہ ہے کہ دائیں طرف سے پڑھا جائے جیسے ” ۱۵۹۷‘ سال کو سبع و تسعون و خمس مائة و الف سنۃ۔ اگرچہ الف و خمس مائة وسبع و تسعون سنة بھی لکھ پڑھ سکتے ہیں۔
65 تیسیر النحو۔ سبق:۱۸
فصل التمييز
التمييز هو اسم نكرة منصوب غالبا متضمن معنى "من" يذكر لرفع الإبهام الموجود في المميز، نحو: عندي عشرون قلما (فلو قلت: عندي عشرون، وسكت لم يتضح المراد، لأن كلمة عشرون يوجد فيها الإبهام، تصلح لأن يراد بها أشياء كثيرة، وعند ما جيء بالتمييز قلما رفع تلك الإبهام، وحدد المراد بها)وتسمى كلمة "عشرون" مميزا، وتسمى كلمة "قلما" تمييزا.
المميز نوعان:
(۱) مميز ملفوظ أي مذكور في الكلام، ويكون المميز الملفوظ:
اسم عدد، نحو: عندي عشرون كتابا
مادل على مقدار :
من وزن، نحو: عندي جرام ذهبا
أوكيل، نحو: عندي صاح قمحا
أو مساحة، نحو: لي فرسخ أرضا
أو مقياس، نحو: عندي مترخزا
أو ما دل على ما يشبه المقدار من وزن، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا، ومن كيل، نحو: عندي حفنة قمحا، أو مساحة، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا أو مقياس، نحو: عندي مديدك خزا.
أو ما دل على مماثلة، نحو: لي مثلك صاحبا، أو على مغايرة نحو : ليس لي غير الله معينا.
وتمييز هذا المميز يسمى تمييز الذات" أو "تمييز المفرد"
(ب) مميز ملحوظ، أي لا يكون المميز ذاتا ملفوظا مذكورا في الكلام كما في النوع السابق، بل يكون أمرا معنويا ملحوظا غير مذكور في اللفظ، وذلك الأمر المعنوى الملحوظ هو "النسبة الموجودة في الجملة، فأحيانا يوجد الإبهام في هذه النسبة. ويؤتي بالتمييز لرفعه نحو ازداد المتعلم أدبا في هذه الجملة لا يوجد الإبهام والغموض في الذات، بل في نسبة الازدياد إلى المتعلم، وذلك الإبهام أنه لا يتضح المراد بالازدياد، أهو في علمه أم في أدبه أم في ماله، أم في جسمه، فإذا قلبك أدبا ارتفع الإبهام والغموض عن النسبة، واتضح المراد بأنه ازداد في الأدب)
وتمييز هذا المميز يسمى "تمييز النسبة" أو تمييز الجملة" وغالبا يكون هذا التمييز محولا
(۱) عن المبتدأ، نحو: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة، تمييز النسبة منصوب، يرفع الإبهام الموجود في نسبة الكثرة إلى المدرس، وأصل الجملة خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب)
(ب) عن الفاعل، نحو: طاب محمد نفسا (نفسا تمييز النسبة منصوب يرفع الإبهام الموجود في نسبة "طاب إلى"محمد" وأصل الجملة: طابت نفس محمد )
(ج) عن المفعول، نحو: غرست الأرض شجرا (شجراء تمييز النسبة منصوب، يرفع الإيهام الموجود في نسبة "غرست" إلى "الأرض" وأصل الجملة غرست شجر الأرض)
ناصب التمييز
الناصب لتمييز المفرد هو ذلك الاسم المبهم ( المميز) وإن كان جامدا، لأنه شبيه باسم الفاعل، ووجه الشبه أن الاسم المبهم ( المميز) يطلب التمييز حتى يكتمل المعنى ويتضح كما أن اسم الفاعل يطلب فاعله حتى يكتمل المعنى ويتضح، أي: كل منهما وان محتاج إلى شئ آخر لاكتمال المعنى.
والناصب لتمييز الجملة هو ما في الجملة من (فعل) كالامثلة السابقة، أو (شبهه) نحو: سعد كريم عنصرا.
التمييز وحكم إعرابه:
(ا) تمييز الملحوظ (أي تمييز النسبة ) يكون دائما منصوبا كما في الأمثلة السابقة.
(ب) تمييز الملفوظ: (أي تمييز الذات) يكون منصوبا، كما في الأمثلة السابقة، ويجوز جره بالإضافة، أو بـ "من" فيما عدا تمييز العدد، نحو: عندي جرام ذهبا و عندى جرام ذهب وعندي جرام من ذهب.
(ج) أما تمييز العدد فيكون منصوبا، أو مجرورا بالإضافة على الوجه التالي:
تمييز العدد من 3 إلى ١٠ يكون جمعا مجرورا بالإضافة، نحو: جاء أربعة رجال الرجال تمييز مجرور بإضافة "أربعة إليه، وعلامة الجر الكسرة )
تمييز العدد من ۱۱ إلى ۹۹ يكون مفردا منصوبا نحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا طالبا تمييز منصوب وعلامة نصبه الفتحة )
تمييز المائة والألف ومضاعفات كل منهما يكون مفردا مجرورا بالإضافة نحو: حضر الحفل مائة رجل، أو ألف رجل رجل تمييز مجرور بإضافة "مائة" أو "ألف إليه)
صور العدد :
يأتي العدد على صور مختلفة، فيكون مفردا من ١ إلى ١٠ أو مركبا مع العشرة من ١١ إلى ١٩، أو معطوفا عليه ومعطوفا من ٢١ إلى ٩٩ . وتسمى الأعداد ۲۰ ، ۳۰ ، ۴۰ ، ۶۰۰۵۰، ۷۰، ۹۰،۸۰ ألفاظ العقود.
العدد (المميز ) من حيث الإعراب والبناء
جميع الأعداد معربة، أي: ترفع أو تنصب أو تجر حسب موقعها في الجملة سوى الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون دائما مبنية على فتح الجزأين باستثناء العدد ١٢ (اثنا عشر، اثنتا عشرة) فيعرب الجزء الأول منه إعراب المثنى، ويبنى الجزء الثاني على الفتح نحو جاء أربعة رجال (أربعة : فاعل مرفوع بالضمة ورأيت أربعة رجال، (أربعة: مفعول به منصوب المفتحة) ونظرت إلى أربعة رجال (أربعة مجرور بحرف الجر، وعلامة جره الكسرة) ونحو: جاء أربعة وعشرون رجلا (أربعة: فاعل مرفوع بالضمة، وعشرون معطوف عليه مرفوع وعلامة رفعه الواو) ونحو: جاء عشرون رجلا (عشرون : فاعل مرفوع وعلامة رفعه الوار) ورأيت عشرين رجلا (عشرین مفعول به منصوب وعلامة نصبه الياء) ونظرت إلى عشرين رجلا (عشرين مجرور بحرف الجر وعلامة جره الياء) ونحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا، وفي الفصل ثلاث عشرة طالبة . ( ثلاثة عشر أو ثلاث عشرة كلاهما مبنیان على فتح الجزئين في محل رفع مبتدأ)
العدد من حيث التذكير والتأنيث
(۱) العددان ٢،١ يوافقان المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانا مفردين، أم مركبين، أم معطوفا عليهما.
وللعدد " ۱ " لفظان وهما: واحد ومؤنثه واحدة، وأحد ومؤنثه إحدى.
أما العدد " ۲" فألفاظه : اثنان واثنتان في حالة الرفع، واثنين واثنتين في حالتي النصب والجر، وتحذف النون إذا كان العدد ٢" مركبا مع العشرة.
أمثلة ما سبق بالقرية مدرسة واحدة بعض الشهور واحد وثلاثون يوما، رأي يوسف أحد عشر كوكبا، في الفصل إحدى عشرة بنتا، لي أخوان اثنان وأختان اثنتان، عمر أختي اثنتا عشرة سنة وعمري اثنتان وعشرون سنة، رأيت اثنين وثلاثين طالبا، واثنتين وثلاثين طالبة.
(ب) الأعداد من ۳ إلى ۹ تخالف المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانت مفردة أو مركبة أو معطوفا عليها وعند تحديد تذكير المعدود وتأنيثه ينظر دائما إلى مفرده، فمثلا ۳ مرفوعات تكتب: ثلاثة مرفوعات: لأن مفرد المعدود مذكر وهو مرفوع)
أمثلة ماسبق في الفصل أربعة طلاب، وفي الحافلة أربع طالبات ونجح ثلاثة عشر طالبا كما نجحت ثلاث عشرة طالبة، وفي المدرسة سبعة وثلاثون طالبا وسبع وثلاثون طالبة.
(ج) العدد ١٠ يخالف المعدود في التذكير والتأنيث إذا كان مفردا ويوافقه إذا كان مركبا. والأصل أن تكون "الشين" في
( عشر) مفتوحة، ويجوز تسكينها إذا اتصلت به التاء (عشرة)
العدد ١٠ يكون معربا إذا كان مفردا، ويكون دائما مبنيا على الفتح إذا كان مركبا.
أمثلة ما سبق: حضر عشرة طلاب ،حضرت عشر طالبات، مكثنا في دلهي أربعة عشر يوما وخمس عشرة ليلة.
(د) ألفاظ العقود ( من (۲۰) إلى (۹۰) ولفظ مائة وألف ومضاعفاتهما لا تختلف صيغها مع المعدود تذكيرا وتأنيثا سواء أكانت . مفردة أو معطوفة.
أمثلة ما سبق في الفصل عشرون طالبا وعشرون طالبة، وفي المدرسة مائتان وعشرون طالبا، ومائتان وعشرون طالبة.
تعريف العدد بـ "ال":
إذا أريد تعريف العدد بـ "ال"
فإن كان مفردا أدخلت "ال" على الاسم الذي يلي العدد (أي المضاف إليه) مثل جاء ستة الطلاب. وإن كان مركبا أدخلت "ال" على صدره (أي على جزئه الأول) مثل: قضينا الخمسة عشر يوما بدلهي.
وإن كان معطوفا عليه ومعطوفا أدخلت "ال" على الجزأين مثل: قرأت الخمسة والعشرين كتابا.
( وعند تعريف العدد بـ "ال" أيضا تطبق قواعد تذكير العدد وتأنيثه وإعرابه وبنائه السابقة)
صوغ العدد على وزن "فاعل" للدلالة على الترتيب:
إذا صيغ العدد على وزن فاعل، للدلالة على الترتيب فانه يطابق المعدود الموصوف في التذكير والتأنيث في جميع حالاته ويكون معربا فيما عدا الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون مبنية على فتح الجزأين.
أمثلة ما سبق: أذهب إلى الكلية في الساعة الثامنة والنصف وقرأت المقالة الرابعة في الباب الثالث من الكتاب ترتيب هذا الطالب الثالث والعشرون، و قرأت الصفحة الثالثة والعشرين، القرن التاسع عشر قرن الاختراعات، مضت الليلة الرابعة عشرة من الشهر التاسع عشر ميني على فتح الجزئين لفظا وفي محل رفع الصفة المرفوعة للقرن، وهكذا الرابعة عشرة
كنايات العدد:
هناك كلمات ليست أعدادا، ولكنها تدل : على معنى العدد، ولذا فهي تسمى كنايات للعدد، وأهمها: كم الاستفهامية، كم الخبرية، كذاء ،كأين ،بضع ، نيف (سنتاني امداد بنائها وإعرابها في مبحث الكنايات في باب المبني)
أما أحكام تمييزها فهي كما يلي:
(ا) كم الاستفهامية: يسأل بها عن عدد، وتحتاج إلى جواب، وتمييزها مفرد منصوب بـ كم" (وهو الاسم الي وقد سبق سبب عمله قبل قليل في "ناصب التمييز ) مثل : كم كتابا في المكتبة.
ويجوز جر تمييزها إذا دخلت عليه "من" وحينئذ تمتاز عن الخبرية بقرينة المقام نحو: كم من رجل لقيته ؟ . يجوز حذف تمييزها، نحو: كم مالك، أي: كم درهما مالك.
(ب) كم الخبرية: كم الخبرية تفيد الإخبار بكثرة العدد، ولا تحتاج إلى جواب وتمييزها يكون مفردا نكرة مجرورا، أو جمعا نكرة مجرورا بإضافة "كم" إليه، أو بحرف الجر من مثل : كم كتاب في المكتبة، أو كم من كتاب في المكتبة، أي كتب كثيرة في المكتبة.
(ج) كذا: تستعمل كذا" للدلالة على التكثير، وتأتي مفردة، أو مكررة أو معطوفة، ويكون تمييزها منصوبا مفردا أو جمعا مثل: حضر المبارأة كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا وكذا متفرجا أو متفرجين.
(د) كأين: اسم مركب من كاف التشبيه و "أي " المنونة، يجوز الوقف عليها بالنون وتستعمل مثل كم الخبرية للدلالة على التكثير، ويكون تمييزها مفردا مجرورا بـمن لفظا منصوب محلا مثل: كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم.
(ه) بضع:تستعمل كلمة "بضع للدلالة على العدد من۳ إلى ۹، وهي تأخذ أحكام هذه الأعداد في التذكير والتأنيث والتمييز مثل: قرأت بضع قصص وبضعة كتب (بضع في بضع لمحل بدون الثاء لأن المعدود "قصة" مؤنث، وعكسها في بضعة كتب، وتمييزه جمع مجرور بالإضافة)
(و) نيف:تستعمل للدلالة على العدد بين عقدين، أي بين العشرين والثلاثين مثلا، أو بين الثلاثين والأربعين الخ . وتستعمل بصيغة واحدة للمذكر والمؤنث، مثل: قرأت نيفا وثلاثين قصة، أو كتابا (تمييزه مفرد منصوب: قصة كتابا )
تنبيه مهم :
التمييز يوافق الحال في كونه اسما نكرة منصوبا رافعا للإبهام، ويخالفها في كونه جامدا مميزا للذات أو النسبة ، لا يتعدد ولا يتقدم على عامله ولا يكون جملة.
فصل التمييز
تمييز ایک اسم نکرہ ہے جو غالباً منصوب ہوتا ہے اور اس میں "من" کا معنی شامل ہوتا ہے۔ یہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ مُمیز (جو چیز بیان کی جارہی ہے) کیا ہے، جیسے: عندِي عِشرُونَ قَلَمًا (میرے پاس بیس قلم ہیں)
اگر میں کہوں: ’’عندِي عِشرُونَ‘‘ اور خاموش رہوں تو یہ واضح نہیں ہوگا کہ اس سے کیا مراد ہے کیونکہ "عشرون" میں ابہام موجود ہے۔ جب "قلمًا" ذکر کیا گیا تو اس نے اس ابہام کو ختم کیا اور وضاحت کی کہ مراد بیس قلم ہیں۔ "عشرون" کو ممیّز اور "قلمًا" کو تمییز کہا جاتا ہے۔
تمییز کی اقسام
ممیّز کی دو قسمیں ہیں:
1. ممیّز ملفوظ: - یہ وہ ہے جو گفتگو میں ذکر کیا گیا ہو، جیسے:
- عندِي عِشرُونَ كِتابًا (میرے پاس بیس کتابیں ہیں)
- ممیّز ملفوظ عموماً عدد، مقدار، وزن، یا کسی قسم کی وضاحت کے لئے ہوتا ہے۔
وزن، نحو: عندي جرام ذهبا
كيل، نحو: عندي صاح قمحا
مساحت، نحو: لي فرسخ أرضا
مقياس، نحو: عندي مترخزا
یا جو وزن کے مشابہ پر دلالت کرے، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا،
یا كيل کے، نحو: عندي حفنة قمحا،
یا مساحت کے، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا
یا مقياس کے ، نحو: عندي مديدك خزا.
یا جو ان کے مماثل پر دلالت کرے، نحو: لي مثلك صاحبا،
یامغایرت کے نحو : ليس لي غير الله معينا.
اس ممیز کی تمیز کو تمیز ذات یا تمیز مفرد کہا جاتا ہے
2. ممیّز ملحوظ:- یہ وہ ہے جو الفاظ میں ذکر نہیں ہوتا، بلکہ معنوی طور پر موجود ہوتا ہے، جیسے:
- ازدادَ المُتعلمُ أَدَبًا (طالب علم میں ادب بڑھ گیا ہے)
یہاں ابہام "ازداد" میں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "أَدَبًا" تو یہ وضاحت کرتا ہے کہ ادب میں اضافہ ہوا ہے۔
اور اس ممیز کی تمیز کو تمیز نسبت یا جملہ کہا جاتا ہے ۔
یہ تمییز منقول ہوتا ہے:
(1) مبتدا سے جیسے: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "المدرس" کی کثرت کی نسبت میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب تھا۔)
(2) فاعل سے جیسے: طاب محمد نفسا (نفسا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "طاب" کی نسبت "محمد" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: طابت نفس محمد تھا۔)
(3) مفعول سے جیسے: غرست الأرض شجرا (شجرا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "غرست" کی نسبت "الأرض" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: غرست شجر الأرض تھا۔)
ناصب تمییز
ناصب تمییز المفرد: وہ اسم مبہم (جس کی وضاحت کی جائے) ہوتا ہے، چاہے وہ جامد ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ اسم فاعل سے مشابہت رکھتا ہے۔ ان دونوں میں مشابہت یہ ہے کہ اسم مبہم (الممیز) کو تفسیر و وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو اور واضح ہو جائے، جیسے کہ اسم فاعل کو اپنے فاعل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو۔ یعنی، دونوں کو اپنے معنی کی تکمیل کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔
جملہ کے تمیز کا ناصب : جملے میں موجود فعل یا اس کے مشابہ الفاظ ہوتے ہیں، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔ مثال کے طور پر: سعد کریم عنصراً۔
تمییز اور اس کے اعراب کا حکم
تمییز الملحوظ ( تمییز نسبت): یہ ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، جیسا کہ پچھلی مثالوں میں دیکھا گیا۔
تمییز الملفوظ (تمییز ذات): یہ بھی منصوب ہوتا ہے، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔
اسے اضافت کے ذریعے یا "من" کے ساتھ بھی مجرور کیا جا سکتا ہے، سوائے عدد کے تمییز کے۔
مثالیں:
عندي جرام ذهبا (یہ منصوب ہے)
عندي جرام ذهبٍ (یہ مجرور ہے اضافت کی وجہ سے)
عندي جرام من ذهبٍ (یہ "من" کے ذریعے مجرور ہے)
عدد کی تمییز: یہ منصوب ہو تی ہے یا مجرور ہو تی ہے اضافت کی وجہ سے
3 سے 10 تک: تمییز جمع اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: جاء أربعة رجالٍ (رجالٍ: تمییز مجرور)
11 سے 99 تک: تمییز مفرد اور منصوب ہوتی ہے، جیسے: في الفصل ثلاثة عشر طالباً (طالباً: تمییز منصوب)
100، 1000 اور ان کے مضاعفات: تمییز مفرد اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: حضر الحفل مائةُ رجلٍ (رجلٍ: تمییز مجرور)
عدد کی مختلف صورتیں
مفرد (1 سے 10)
مُرکّب (11 سے 19)
معطوف (21 سے 99)
الفاظِ عقود (20، 30، 40... 90)
عدد کا اعراب اور بناء
تمام اعداد معرب ہوتے ہیں، یعنی جملے میں ان کے مقام کے مطابق ان کے اعراب تبدیل ہوتے ہیں۔
11 سے 19 کے اعداد ہمیشہ مبنی ہوتے ہیں اور دونوں اجزاء فتح پر ہوتے ہیں، سوائے 12 کے، جس کا پہلا جزو مثنیٰ کے مطابق معرب ہوتا ہے اور دوسرا جزو فتح پر مبنی ہوتا ہے۔
مثالیں:
جاء أربعةُ رجالٍ (أربعةُ: فاعل مرفوع)
رأيتُ أربعةَ رجالٍ (أربعةَ: مفعول منصوب)
نظرتُ إلى أربعةِ رجالٍ (أربعةِ: مجرور)
جاء أربعةٌ وعشرون رجلاً (أربعةٌ: فاعل، وعشرون: معطوف مرفوع)
جاء عشرون رجلاً (عشرون: فاعل مرفوع)
عدد کی تذکیر و تانیث
الف: عدد 1 اور 2 ہمیشہ معدود کے مطابق ہوتا ہے، جیسے:
مدرسةٌ واحدةٌ (واحد مؤنث ہے، اس لیے "واحدةٌ" آیا) رأيتُ أحدَ عشرَ كوكباً ، في الفصلِ إحدى عشرةَ بنتاً
ب: 3 سے 9 ہمیشہ معدود کی مخالف جنس میں آتا ہے:
في الفصلِ أربعةُ طلابٍ (أربعةُ: مؤنث عدد ہے، لیکن "طلاب" مذکر ہے)
في الحافلةِ أربعُ طالباتٍ (أربعُ: مذکر عدد، لیکن "طالبات" مؤنث ہے)
ج: عدد 10: اگر مفرد ہو تو معدود کے مخالف آتا ہے: حضر عشرةُ طلابٍ
اگر مرکب ہو تو معدود کے مطابق آتا ہے: مكثنا في دلهي أربعةَ عشرَ يوماً
د: عقود (20، 30...)، 100 اور 1000 معدود کے مطابق نہیں بدلتے، جیسے:
في الفصلِ عشرونَ طالباً، في المدرسةِ مائتان وعشرونَ طالبةً
عدد کی تعریف بـ "ال"
مفرد عدد ہو تو "ال" مضاف الیہ پر داخل ہوتا ہے: جاء ستةُ الطلابِ
مرکب عدد ہو تو "ال" پہلے جزو پر داخل ہوتا ہے: قضينا الخمسةَ عشرَ يوماً
معطوف عدد ہو تو "ال" دونوں اجزاء پر داخل ہوتا ہے: قرأتُ الخمسةَ والعشرينَ كتاباً
عدد کو "فاعل" کے وزن پر بنانے کا اصول
جب کسی عدد کو "فاعل" کے وزن پر ترتیب کے اظہار کے لیے بنایا جائے تو وہ معدود کے مطابق ہوتا ہے۔
11 سے 19 کے درمیان کے اعداد فتح پر مبنی ہوتے ہیں۔
مثالیں:اذهب إلى الكلية في الساعة الثامنةِ والنصفِ، قرأتُ المقالةَ الرابعةَ ، القرن التاسعَ عشرَ
کنایاتِ عدد
(الف) کمِ استفہامیہ: یہ تعداد کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا تمییز مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: کم کتابا في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں؟)۔
اگر اس کے تمییز پر "من" داخل ہو جائے تو اسے مجرور کرنا جائز ہوتا ہے، اور اس وقت یہ "کمِ خبریہ" سے سیاق و سباق کی مدد سے ممتاز ہوتی ہے، جیسے: كم من رجل لقيته؟ (تم نے کتنے آدمیوں سے ملاقات کی؟)۔
اس کا تمییز حذف کرنا بھی جائز ہوتا ہے، جیسے: كم مالك؟ یعنی كم درهما مالك؟ (تمہارے پاس کتنے درہم ہیں؟)۔
(ب) کمِ خبریہ: یہ تعداد کی کثرت پر خبر دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا تمییز مفرد نکرہ مجرور، یا جمع نکرہ مجرور بالاضافہ، یا "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے، جیسے:
كم كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں)۔
كم من كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں بہت سی کتابیں ہیں)۔
(ج) كذا: یہ کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مفرد، مکرر یا معطوف ہو سکتا ہے۔ اس کا تمییز مفرد یا جمع منصرف ہوتا ہے، جیسے:
حضر المباراة كذا متفرجا أو متفرجين۔ (میچ دیکھنے اتنے ناظرین آئے)۔
كذا كذا متفرجا أو متفرجين۔
كذا وكذا متفرجا أو متفرجين۔
(د) كأين: یہ "كافِ تشبیہ" اور "أي" پر مشتمل مرکب لفظ ہے، اور اس پر نون کے ساتھ وقف کیا جا سکتا ہے۔ یہ "كمِ خبریہ" کی طرح کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا تمییز "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے مگر محلًّا منصوب ہوتا ہے، جیسے:
كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم۔ (کتنے ہی علماء ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی راہ میں قربان کیں)۔
(هـ) بضع: یہ 3 سے 9 تک کی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ان اعداد کے تذکیر و تانیث کے احکام اختیار کرتا ہے، جیسے:
قرأت بضع قصصٍ۔ (میں نے چند کہانیاں پڑھیں)۔
قرأت بضعة كتبٍ۔ (میں نے چند کتابیں پڑھیں)۔
یہاں "بضع" بغیر تائے تانیث کے آیا کیونکہ "قصص" مؤنث ہے، جبکہ "بضعة" میں تائے تانیث آئی کیونکہ "كتب" مذکر ہے۔
(و) نيف: یہ عشرون - ثلاثون (20-30، 30-40 وغیرہ) دو کے درمیان کے عدد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال مذکر و مؤنث دونوں کے لیے ایک ہی طرح ہوتا ہے، جیسے:
قرأت نيفا وثلاثين قصة۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کہانیاں پڑھیں)۔
قرأت نيفا وثلاثين كتابا۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کتابیں پڑھیں)۔
اس کا تمییز ہمیشہ مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: قصة، كتابا۔
اہم نوٹ: تمییز اور حال دونوں نکرہ اور منصوب ہوتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ:
تمییز کسی ذات یا نسبت کی وضاحت کرتا ہے۔
حال کسی فاعل یا مفعول کی کیفیت بیان کرتا ہے۔
تمییز نہ تو متعدد ہوتا ہے اور نہ ہی عامل سے پہلے آ سکتا ہے اور نہ ہی جملہ ہوتا ہے۔
66 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۳۰
تمیز اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی مبہم شئ کی وضاحت کرے ، عدد کی تمیز مجرور یا منصوب ہوگی، جیسے ثَلَاثَةُ كُتُبِ، عِشْرُونَ كِتَابًا
تمیز وہ اسم ہے جو کسی مبہم لفظ کی وضاحت کرے، مثلاً ایک شخص کسی دوسرے سے مختلف پہلوؤں سے بہتر ہوسکتا ہے، اخلاق کے لحاظ سے، یہ لفظ اس بہتری کے پہلو کی وضاحت کرتا ہے
ا۔ تمییز یعنی وہ اسم جو سابقہ لفظ یا جملہ میں پائے جانے والے ابہام کی وضاحت کرے، جیسے :
(ا) شَرِبْتُ لِتْرًا حَلِيْبًا. میں نے ایک لیٹر دودھ پیا۔ لفظ لٹر ایک مقدار کو بتارہا ہے لیکن بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک یہ نہ بتا دیا جائے کہ وہ مشروب کیا ہے، جیسے پانی ، دودھ، شربت وغیرہ۔
(۲) إِبْرَاهِيمُ أَحْسَنُ مِني خَطا ابراہیم خوش خطی میں مجھ سے بہتر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جن میں کوئی کسی دوسرے سے بہتر ہو سکتا ہے، اس مثال میں لفظ خطا اس بہتری کے پہلو کو واضح کر رہا ہے تمیز منصوب ہوتی ہے۔
تمیز کی دو قسمیں ہیں:
ا: تمييز الذات، یہ ایسے الفاظ کے بعد آتی ہے، جو مقدار پر دلالت کریں۔ مقدار پر دلالت کرنے والے الفاظ چار قسم کے ہیں:
(۱) عدد، جیسے: ﴿يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا ﴾ [يوسف: ۴] ابا جان، میں نے گیارہ ستارے دیکھے۔ گیارہ سے ننانوے تک کے اعداد کی تمیز منصوب ہوگی، تین سے دس تک کی جمع اور مجرور، اور سو اور ہزار کی واحد مجرور
۲) پیمائش (مساحت) جیسے اِشْتَرَيْتُ مِترًا حَرِیرا میں نے ایک میٹر ریشم خریدا۔
۳) ناپ، جیسے: أَعْطِنِي لِترَيْنِ حَلِيْبًا. مجھے دو لیٹر دودھ دو۔
۴) وزن، جیسے: عِنْدِي كيْلُوْ غِرَامٌ بُرتُقَالاً . میرے پاس ایک کیلو مالٹے ہیں۔
جو الفاظ مقدار پر دلالت کرنے والے اصل الفاظ کی جگہ استعمال ہوئے ہیں ، ان کی بھی تمیز آتی ہے، جیسے:
(۱) لفظ کم کتنا جو عدد کی جگہ استعمال ہوتا ہے جیسے : کم بنتا لَكَ؟ تمہاری کتنی بیٹیاں ہیں؟
(٢) مَا فِي السَّمَاءِ قَدْرُ رَاحَةٍ سَحَابًا آسمان میں ہتھیلی برابر بھی بادل نہیں۔ یہاں لفظ قَدْرُ رَاحَة ہتھیلی برابر پیمائش پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
۳) هَلْ عِندَكَ کیس دقیقا کیا تیرے پاس ایک تھیلی آٹا ہے؟ یہاں لفظ کیس تھیلی ناپ پردلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
۴) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴾ [الزلزال : تو جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔
یہاں لفظ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ایک ذرہ برابر وزن پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔
ا: تمييز الذات حرف جر من کی وجہ سے مضاف الیہ ہو کر مجرور بھی ہوسکتی ہے، جیسے اشْتَرَيْتُ مِتْرًا مِنْ حَرِيْرٍ یا اشْتَرَيتُ مِثْرَ حَریر لیکن عدد کی تمیز اس سے مستثنی ہے۔
ب: تمييز النسبة. یہ اس ابہام کی وضاحت کرتی ہے جو گذشتہ پورے جملے سے متعلق ہو، جیسے: حَسُنَ هذَا الطَّالِبُ خُلُقًا يه طالب علم اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہے۔
تمییز فاعل یا مفعول بہ میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے، جیسے: حَسُنَ بِلالٌ خُلُقًا بلال اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہے کے بجائے حَسُنَ خُلُقُ بِلالٍ بلال کے اخلاق اچھے ہیں (فاعل)۔
اسی طرح: ﴿وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا ﴾ [القمر: ۱۲] اور ہم نے زمین کو چشمے بنا کر پھاڑ دیا۔ کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے وَفَجَّرْنَا عُيُونَ الْأَرْضِ اور ہم نے زمین کے چشمے پھاڑ نکالے (مفعول به)۔ یہ تمیز ہمیشہ منصوب ہوگی، مجرور نہیں ہوسکتی ۔
كم الاستفهامية کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوگی۔
كم الخبرية کی خبر مفرد یا جمع ہوگی، مجرور ہوگی اور اس سے پہلے من بھی ہو سکتا ہے، جیسے: كَمْ مِنْ كتاب عِنْدَكَ ! كمْ كِتَابٍ عِنْدَكَ، كَمْ كُتُبٍ عِندَكَ ! بہتر اسلوب یہ ہے: کَمْ كُتُبِ عِندَكَ ! گفتگو میں دونوں کَمْ کی ادائیگی کے وقت الگ الگ انداز ہوگا ، اور تحریر میں دونوں کی الگ الگ علامتیں (؟ !) ہوں گی۔
کم الخبرية کی مزید مثالیں یہ ہیں:
كُمْ نُجُوْمٍ فِي السَّمَاءِ! آسمان میں کتنے زیادہ ستارے ہیں !
كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ ﴾ [البقرة: ۲۴۹] کتنی چھوٹی جماعتیں اللہ کےحکم سے بڑی جماعتوں پر چھا گئیں۔
67 المفصل۔ سبق:۲۲
التمييز
ويقال له التبين والتفسير هو رفع الإبهام في جملة أو مفرد بالنص على أحد محتملاته فمثاله في الجملة طاب زيد نفساً، وتصبب الفرس عرقاً، وتفقاً شحماً وأبرحت جاراً، وامتلأ الإناء ماء، وفي التنزيل: " واشتعل الرأس شيباً" " و فجرنا الأرض عيونا"، " ومن أحسن قولا"، " ومن أصدق من الله حديثاً. ومثاله في المفرد عندي راقود خلا، ورطل زيتاً، ومنوان عسلاً، وقفيزان براً، وعشرون درهماً، وثلاثون ثوباً، وملأ الإناء عسلاً، وعلى التمرة مثلها زبداً وما في السماء. وضع كف سحاباً. وشبه المميز بالمفعول أن موقعه في هذه الأمثلة كموقعه في ضرب زيد عمراً وفي ضارب زيداً وضاربان زيداً وضاربون زيداً وضرب زيد عمراً.
عوامل التمييز ولا ينتصب المميز عن مفرد إلا عن نام. والذي يتم به أربعة أشياء التنوين ونون التثنية ونون الجمع والإضافة. وذلك على ضربين زائل ولازم
فالزائل التمام بالتنوين ونون التثنية لأنك تقول عندي رطل زيت، ومنوا سمن واللازم التمام بنون الجمع والإضافة لأنك لا تقول كلا عسل ولا مثل زبد ولا عشرو درهم.
وتمييز المفرد أكثره فيما كان مقداراً كيلاً كقفيزان أو وزناً كمنوان أن مساحة كموضع كف او عدد كعشرون أو مقياساً كملؤه ومثلها. وقد يقع فيما ليس إياها نحو قولهم ويحه رجلاً، والله دره فارسا وحسبك به ناصراً.
تقديم المميز وتأخيره عن عامله ولقد أبي سيبويه تقدم المميز على عامله وفرق أبو العباس بين النوعين فأجاز نفساً طاب زيد، ولم يجز لي سمنا منوان. وزعم أنه رأي المازني. وأنشد قول الشاعر :
أتهجر ليلي بالفراق حبيبها وما كان نفساً بالفراق تطيب
أصل التمييز:
واعلم أن هذه المميزات عن آخرها أشياء مزالة عن أصلها. ألا تراها إذا رجعت إلى المعنى متصفة بما هي منتصبة عنه ومنادية على أن الأصل عندي زيت رطل وسمن منوان، ودراهم عشرون عسل ملء الإناء، وزيد مثل التمرة، وسحاب موضع كف. وكذلك الأصل وصف النفس بالطيب والعرق بالتصبب والشيب بالإشتغال، وأن يقال طابت نفسه، وتصبب عرقه، واشتعل شيب رأسي. لأن الفعل في الحقيقة وصف في الفاعل السبب في هذه الإزالة قصدهم إلى ضرب من المبالغة والتأكيد.
68 تمارین
69 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۸
التمرين ۴۳
ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :۔
(1)ا الأنبياء أصدق الناس لهجة وأكرمهم طينة وأعفهم نفسا و أنقاهم عرضا وأشدهم خوفا من الله عز وجل.
(2)وكان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم أبر الناس قلوبا وأعمقهم علما واقلهم تكلفا.
(3) زرت اليوم مدرسة واجتمعت بأساتذتها وطلابها ولقيت عميد المدرسة وحادثت معه نحو عشرين دقيقة فوجدته أكثرهم علما وأفصحهم حديثا وأوسعهم معرفة ثم قمت وطفت معه فى أنحاء المدرسة فشاهدت أبنيتها - فللمدرسة بناية عظيمة شامخة وهي تشتمل على قاعة كبيرة، وخمس وثلثين غرفة منها عشر غرفات على السطح ولها دار الاقامة الطلبة جميلة فيهاست عشرة غرفة وفى كل غرفة خمسة شبابيك وأربع نوافذ و في الوسط مسجد جميل فيه اثنا عشر عمودا وثلثة عشر شباكا وثلثة اكواب وأرض المسجد فرشت بالرخام و مساحة المدرسة نحو ثلثة الاف ذراع.
(4)غزوة بدر الكبرى وقعت فى السنة الثانية من الهجرة بين ثلث مائة وثلثة عشر مقاتلا من المسلمين وألف مقاتل من قريش ببدر - انتصر فيها المسلمون باذن ربهم انتصارا باهرا فأسر وا من قريش سبعين رجلا و قتلوا من مشاهير هم مثل ذلك ولم يقتل من المسلمين إلا اثنا عشر رجلا ولهذه الغزوة أهمية كبيرة في تاريخ الاسلام اذ كانت هي وقعة مشهودة بل الحد الفاصل بين الحق والباطل كم من فئةقليلة غلبت فئة كثيرة باذن الله والله مع الصابرين
(5) وتمت كلمة ربك صدقا وعدلا لا مبدل لكلمته وهوالسميع العليم.
(6) ومن الناس من يتخذ من دون الله أندادا يحبونهم كحبالله والذين امنوا أشد حبالله.
(7) وأما ثمود فأهلكوا بالطاغية، وأما عاد فأهلكوا بريح صرصير عاتية سخرها عليهم سبع ليال وثمانية أيام حسوما فترىالقوم فيها صرعى.
(8) إن عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرا في كتاب الله يوم خلقالسموات والأرض منها أربعة حرم.
(9) واذا ستسقى موسى لقومه فقلنا اضرب بعصاك الحجر فانفجرمنه اثنتا عشرة عيناً قد علم كل أناس مشر بهم كلوا وشربوامن رزق الله ولا تعثوا في الأرض مفسدين.
(10) وواعدنا موسى ثلثين ليلة وأتممنها بعشر فتم ميقات ربه
أربعين ليلة .
(11) إن هذا أخى له تسع وتسعون نعجة ولى نعجة واحدة فقال اكفلنيها وعزني في الخطاب . قال لقد ظلمك بسوال نعجتك إلى نعاجه.
(12)أو كالذي مو على قرية وهى خاوية على عروشها قال ألى يعي هذه الله بعد موتها فأماته الله مائة عام ثم بعثه
(13)ولقد أرسلنا نوحا إلى قومه فلبث فيهم ألف سنة الأخمسين عاما فأخذهم الطوفان وهم ظالمون.
(14) وكأين من قرية عتت عن أمور بها ورسله فحاسبنها حساباً شديد أو عذبنها عذابا نكرا.
(15) وكم من قرية أهلكنها فجاءها بأسنابياتا أوهم قائلون فما كان دعواهم إذجاءهم بأسنا إلا ان قالوا إنا كنا ظٰلمين .
التمرين ۴۴
عربی میں ترجمہ کیجئے :-
(1) محمود مجھ سے عمر میں چھوٹا ہے لیکن قد و قامت میں وہ مجھ سے بڑا ہے، اس لیے دوڑنے میں وہ مجھ سے تیز ہے مگر تیراکی میں میں اس سے اچھا ہوں ۔
(2) میرے درجہ میں بارہ طلبا ہیں جن میں سے دو تحریر و تقریر کے لحاظ سے بہت اچھے ہیں۔
(3) اس کا دل خوشی سے اُمنڈ آیا اور چہرہ پر مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی جب کہ اس نے سنا کہ امتحان سالانہ میں اول آنے کی وجہ سے پہلا انعام اسی کو دیا گیا ۔
(4) اس وقت میری عمر ۲۲ سال سات ماہ کی ہے اور میرے بڑے بھائی کی ۲۵ سال ۶ ماہ کی، کیوں کہ وہ مجھ سے دو سال گیارہ ماہ بڑے ہیں۔ اور میرا چھوٹا بھائی مجھ سے گیارہ سال دس ماہ چھوٹا ہے، اس حساب سے اس کی عمر دس سال ۹ ماہ کی ہوئی۔
(5) میں نے ایک روپیہ نو آنے میں پندرہ کاپیاں اور چار روپے میں تیرہ قلم، گیارہ پنسلیں اور تین نیب لئے ۔ اب میرے پاس گیارہ روپے بارہ آنے بچتے ہیں ابھی مجھے فون ٹن کے لئے ایک دوات روشنائی اور تین درسی کتابیں خریدنی باقی ہیں۔
(6) پندرہ روپے لے کر میں گھر سے نکلا، جن میں سے تین روپے کا سیر آنا، اور تین روپے آٹھ آنے کا نصف سیر گھی اور ایک بوتل تیل خریدا۔ اس کے بعد پھلوں کی دوکان پر گیا، جہاں پانچ روپے گیارہ آنے میں بارہ کیلئے دس انار سات سیب اور پندرہ سنترے خریدے۔
(7)مالی نے ایک سو پچیس روپے میں پانچ سو آم فروخت کیے اور ا۲ روپے میں ایک ہزار لیموں ، سو آم میں نے بھی لئے اور پچیس روپے ادا کئے ۔
(8) ہم نے کتنے ہی درخت اپنے باغ میں لگائے مگر سب خشک ہو ہو کر رہ گئے۔ اس سال پھر ہم نے سو پیڑ آم کے پچیس امرود کے اور اکیس پورے لیموں کے لگائے ہیں ۔
(9) میرا خاندان دس افراد پرمشتمل ہے۔ ہم لوگ سو روپے ماہانہ پر گزر بسر کر لیتے ہیں اور اللہ کا شکر ہے یہاں کتنے ہی گھر ایسے ہیں جس کے افراد میرے خاندان کے افراد سے زیادہ ہیں اور وہ مشکل سے پچاس روپے پاتے ہیں۔
(10) اہم غزوات میں دوسرا غزوہ اُحد کا ہے یہ ۳ھ میں پیش آیا، بدر کے مقتولین ، کا بدلہ لینے کے لئے کفار قریش تین ہزار جنگجو لے کر آئے، اُحد پہاڑ کے پاس اترے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب معلوم ہوا تو ایک ہزار مسلمانوں کے ساتھ آپ باہر نکلے ان میں سے تین سو آدمی عبد اللہ ابن ابی منافق کے تھے ۔ عبداللہ ابن ابی انھیں لے کر راستہ سے واپس چلا آیا، اب تین ہزار کے مقابلہ میں صرف سات کو مسلمان رہ گئے ، پہلے وھلہ میں مسلمان غالب آئے مگر ایک غلطی کے ارتکاب کی وجہ سے آخر میں شکست ہوئی، اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوئے۔
(11) " خانہ کعبہ مسجد حرام کے صحن میں واقع ہے، ایک سیاہ رنگ کے غلاف کے اندر عظیم الشان کمرہ ہے ، طول تقریبا ہ ۷ فٹ ، عرض۶۰ فٹ اور بلندی ۸۰، ۸۱ فٹ ، اس کے چاروں طرف چکر لگانے کے لیے ایک گول راستہ بنا ہوا ہے، اسی حلقہ کو مطاف کہتے ہیں دنیا نے کتنے انقلابات دیکھے، کتنے عبادت خانے بنے اور بگڑے، کتنے مندر تعمیر ہوئے اور کھرے کتنے گرچے آباد ہوئے اور اُجڑے ہزار ہا طوفان آئے اور گزر گئے، مگر یہ سیاہ چوکور گھر جسے نہ کسی انجنیر نے بنایا اور نہ کسی مہندس نے ، آدم سے لے کر ایں دم جوں کا توں کھڑا ہے۔
(سفرنامه حجاز)
70 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۹
التمرين (۱)
عين في الجمل الاتية الفاظ التمييز التي تجي بعد مميز ملفوظ والتي تجي بعد مميز ملحوظ:
۱۔ للحجرة ثلاثة شبابيك وفي كل شباك اربعة اعواد من الحديد
۲۔ جاء الرسول يفيض وجهه بشرا
۳۔ اطعمت الدجاجة مل الكف حبا
۴۔ باع التاجر خمسة عشر قنطارا قطنا وعشرين اردبا شعيرا
۵۔ البرتقال من الذانواع الفاكهة طعما واطولها بقاء واكثرها فائدة
۶۔ في الكتاب خمس و تسعون صفحة وفى كل صفحة تسعة عشر سطرا
۷۔ الريف انقى من المدن هوا واجمل منظرا الذهب اقل صلابة من الحديد
۸۔ الذهب اقل صلابة من الحديد
التمرين (۲)
عين في الجمل الآتية تمييز الوزن، وتمييز المساحة وتمييز الكيل:
۱۔ يقتتل الفلاحون على شبر ارض يغتصمه احدهم من الآخر
۲۔ اشتريت ذراعين كتانا ورطلين بنا
۳۔ قيراط ماسا خير من قيراطين ياقوتا
۴۔ اطعمت الحصان قد حين شعير او سقبته دلواماء
۵۔ ما في الأرض قدر راحة ظلا
۶۔ يخرج الفدان نحو خمسة قناطير من القطن ونحو سبعة ارادب من القمح
التمرين (۳)
اكمل الجمل الاتية بوضع الفاظ التمييز المناسبة في الاماكن الخالية
۱۔ الفضة ارفع .۔۔۔۔من النحاس
۲۔ الكمثرى الذمن التفاح ۔۔۔۔۔۔۔
۳۔ الانبياء اصدق الناس۔۔۔۔۔۔۔۔
۴۔ يبتهج الشجاع اذا انتصر على عدو يماثله۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۔ دخلت حديقة الحيوان وشاهدت مافيها من صنوف الحيوان فوجدت الزارفة اطولها ..... والطاووس اجملها ..... والفيل اضخمها ...... والاسد
اشدها ..... والقرد اكثرها .......
۶۔ الشمس اكبر ..... من القمر واسطع منه .......
التمرين (۴)
ميز الاعداد المذكورة في الجمل الاتية بمعدودات تناسبها :
۱۔ في السنة اثنا عشر ..... وفى الشهر ثلاثون ..... وفى اليوم اربع وعشرون .......
۲۔ طول الطريق الف .. وعرضه عشرون.......
۳۔ وتسعة عشر في المدرسة خمسة وستون ومائتا....... و تسعۃ عشر
۴۔ يقطع القطار في الساعة خمسين ........
۵۔ عمر اخیک الان احدى وعشرون ..... وثلاثة ..... واحد عشر
۶۔ عزا المدينة جيش يتالف من الفين واربعمائة ........
۷۔ قرات من الكتاب مائة وعشرين ..... وبقى منه اربع عشرة.......
۸۔ يشتمل المنزل على بهوين وتسع .......
التمرين (۵)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية تمييزا في جملة مناسبة
سكرا ، قصبا ، باسا ، طولا
اخلاقا ، رطلا ، هواء ، اقلام
من بن، بقرات ، لاعبا ، ثمنا
كتب ، من عسل ، طعما ، تلميذ
رجل ، عقلا
التمرين (۶)
غير التمييز في الجمل الآتية من صورته التي جاء عليها الى كل صورةا بری ممكنة له وراع ما يستدعيه ذلك من التغيير في المميز :
ا - رايت البنت وهي تحمل جرة ماء
۲۔ - مثقال ذهبا خير من رطل نحاسا
۳۔ اشتریت مائتی ذراع ارضا
۴۔ اشتريت قفصين عنا
۵۔ باع التاجر قنطارا صابونا
۶۔ ذكاة الفطر نصف صاع برا
التمرين (۷)
(۱) كون ثلاث جمل يكون التمييز في كل منها منصوبا والممز اسما من اسماء الكيل
(۲) كون ثلاث جمل يكون التمييز في كل منها مجرورا والممز اسما من اسماء الوزن
(۳) كون ثلاث جمل يكون التمييز في كل منها منصوبا والممز اسما من اسماء المساحة
التمرين (۸)
(۱) كون ثلاث جمل يكون التمييز فيها جمعا مجرورا والمميز اسما من اسماءالعدد
(۲) كون ثلاث جمل يكون التمييز فيها مفردا منصوبا والمميز اسما من اسماءالعدد
(۳) كون ثلاث جمل يكون التمييز فيها مفردا مجرورا والمميز اسما من اسماءالعدد
(۴) كون ثلاث جمل يكون الممیز فیھا ملحوظا
التمرين في الانشاء (۹)
تخيل ان الطياره تفاخر غيرها من وسائل النقل واستعمل في موضوعك ما تستطيع من التمييز الذي مميزه ملحوظ:
التمرين في الاعراب (۱۰)
(الف) نموذج
باع التاجر در همین مسکا
باع .. فعل ماض مبني على الفتح
التاجر ...... فاعل مرفوع بالضمة الظاهرة
در همین .... مفعول به منصوب بالياء لا نه مثنى
مسكا تميز منصوب بالفتحة الظاهرة
(ب) اعرب الامثلة الاتية:
ا - اكلت الخيل اردبا شعيرا
۲۔ باضت الد جاجۃ ثلاث فضيات
۳۔ في الميدان عشرون جودا
۴۔ العالم العامل ارفع من ذوى لمال قدرا
71 تیسیر النحو۔ سبق:۱۸
أسئلة
۱۔ عرف التمييز مع التمثيل واشرحه شرحا يوضح المراد منه.
۲۔ كم قسما للمميز الملفوظ ؟ اذكرها بالتفصيل التمثيل وبماذا يسمى تمييز هذا الممیز َ؟واذكر ناصبه مع توضيحه.
۳۔اذكر المميز الملحوظ بالتفصيل والتمثيل وبماذا يسمى تمييز هذا المميز؟ واذكر . ناصبه مع توضيحه.
۴۔ اذكر تمييز النسبة بالتفصيل والتمثيل.
۵۔ اذكر إعراب التمييز بالتفصيل والتمثيل.
٦۔ اذكر أحكام العدد ( المميز) من حيث الإعراب والبناء بالتفصيل.
۷۔ ما هي صور العدد ؟ اذكرها مع التمثيل.
۸۔ اذكر أحكام العدد من حيث التذكير والتأنيث بالتفصيل.
۹۔ اذكر أحوال تعريف العدد بـ "ال" مع التمثيل.
۱۰. اذكر أحكام صوغ العدد على وزن "فاعل" للدلالة على الترتيب مع التمثيل.
۱۱ - اذكر كنايات العدد وأحكام تمييزها بالتفصيل والتمثيل.
تمرينات
١ - بين فيما يأتي التمييز ونوعه وحكمه نصبا وجرا
من أصدق من الله حديثا، انفردت اللغة العربية عن سائر اللغات فصاحة وبيانا، مثقال ذهبا خير من رطل حديداء ما في السماء قدر راحة سحابا، باعني التاجر ذراعا حرير في الحقل عشرون بقرة، وأربعة جمال، ومائة شاة، فاض القلب سروراء في الشجرة تسعۃ عشر غصنا، اشتريت خمسة أقلام، كم طالبا في الفصل ؟ كم طالب فقـ ، في الفصل، حضر - المحاضرة كذا وكذا مستمعا.
۲۔ أكمل الجمل الآتية بوضع ألفاظ التمييز المناسبة في الأماكن الخالية.
الأنبياء أصدق الناس ...... الشمس أكبر .... من القمر وأسطع منه ۔۔۔۔۔۔ في السنۃ اثنا عشر ... وفي الشهر ثلاثون ..... وفي اليوم أربع وعشرون ۔۔۔۔۔۔
۳۔ كون ثلاث جمل يكون التمييز فيها مجرورا، والمميز اسما من أسماء الوزن
٤۔ كون ثلاث جمل يكون التمييز فيها جمعا مجرورا والمميز اسما من أسماء العدد.
۵۔ كون ثلاث جمل يكون المميز فيها ملحوظا
72 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
73 مستثنی
مستثنی کی تعریف
مستثنی عربی زبان میں ایسے اسم کو کہتے ہیں جو جملے میں کسی قاعدے سے خارج (مستثنیٰ) ہوتا ہے، یعنی وہ عام اصول سے مستثنیٰ ہوتا ہے۔ یہ عموماً استثناء کے بعد آتا ہے اور اس کا اصل مقصد کسی خاص چیز یا اشیاء کی تفریق کرنا ہوتا ہے۔
مستثنی کی قسمیں
مستثنی کی بنیادی طور پر دو قسمیں ہیں:
مستثنی مرفوع: یہ وہ مستثنی ہے جو جملے میں مرفوع حالت میں ہوتا ہے۔
مثلاً: جاءَ المعلمُ إلا أحمدَ (اُستاد آیا سوا احمد کے)
مستثنی منصوب: یہ وہ مستثنی ہے جو جملے میں منصوب ہوتا ہے۔
مثلاً: ما حضرَ أحدٌ إلا أحمدًا (کوئی نہیں آیا سوا احمد کے)
74 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۷
المستثنى
(۱) المُسْتَغْنَى بالا: اِلا کے ذریعہ استثناء
يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَقَعُ بَعْدَ "إِلَّا" مُسْتَثْنًى. وَ يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَجِيءُ قَبْلَهَا وَيَشْتَمِلُ فِي المَعْنَى عَلَى مَا بَعْدَهَا مُسْتَثْنًى مِنْهُ.
المُسْتَثْنَى بـ"إِلَّا": اسمٌ يُذْكَرُ بَعْدَهَا مُخَالِفًا فِي الحُكْمِ لِمَا قَبْلَهَا.
جو اسم الا کے بعد واقع ہو وہ مستثنی کہلاتا ہے اور جو اسم الا سے پہلے آ جائے اور معنی کے لحاظ سے الا کے بعد والے اسم پر مشتمل ہو مستثنی منہ کہلاتا ہے۔
مستثنیٰ بالا وہ اسم ہے جو الا کے بعد ذکر ہو اور حکم میں ماقبل الا سے مخالف ہو۔
الامثلة
(۱) حضرَ الأصدقاءُ إلا عليًّا
(۲) حَلَلْتُ مَسَائلِ الحسابِ إلا مسألةً
(۳) قَرَأْتُ الكِتابَ إِلا صَفْحتينِ
( ٤ ) انْقَضَى الصيفُ إِلا يَوْمَينِ .
حكم المستثنى بإلا: اِلا کے ذریعہ استثناء کا حکم
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مُثْبَتًا وَجَبَ نَصْبُ المُسْتَثْنَى بِإِلَّا.
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مَنْفِيًّا جَازَ فِي المُسْتَثْنَى بِإِلَّا أَنْ يُنْصَبَ عَلَى الاِسْتِثْنَاءِ، وَأَنْ يَتْبَعَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ فِي إِعْرَابِهِ.
إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَحْذُوفًا، يُعْرَبُ المُسْتَثْنَى عَلَى حَسَبِ مَا يَقْتَضِيهِ مَوْضِعُهُ فِي التَّرْكِيبِ كَمَا لَوْ كَانَتْ إِلَّا غَيْرَ مَوْجُودَةٍ.
جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام مثبت ہو تو مستثنی بالا کو منصوب پڑھنا واجب ہے۔
جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام منفی ہو تو مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا بھی جائز ہے اور مستثنیٰ منہ جیسا اعراب لگانا بھی جائز ہے۔
جب مستثنی منہ محذوف ہو تو مستثنیٰ پر وہی اعراب آئے گا جو اس جگہ (موقع) پر الا کی غیر موجودگی میں آنا چاہئے تھا۔
الامثلة
(۱) أثمرتِ الأَشجَارُ إلا شجرةً
(۲) طار الحمام إلا واحدةً .
(۳) فر الجنود إلا القائدَ .
( ٤ ) لم تتفتح الأزهار إلا البنفسجَ ( أو البنفسجُ )
(۵ ) لم ينج المستحمون إلا أحمدَ ( أو أحمدُ )
(۶) ما سَلمت : على القادمين إلا الأولَ ( أو الأولُ )
(۷) لا یسدى النصيحةَ إلا المخلصون
(۸)ما صاحبْتُ إِلا الأخيارَ
(۹) لا تَسُودُ الشعوبُ إلا بالأخلاق .
(۲) المستثنى بغير وسوى: مستثنی سوی اور غیر کے ذریعہ
يُسْتَثْنَى بِـ"غَيْرِ" وَ"سِوَى"، فَيُجَرُّ الِاسْمُ الَّذِي بَعْدَهُمَا بِالإِضَافَةِ، وَيَثْبُتُ لَهُمَا مِنْ أَنْوَاعِ الإِعْرَابِ مَا ثَبَتَ لِلِاسْمِ الَّذِي بَعْدَ "إِلَّا".
غیر اور سوی کے ذریعے جو اسم مستثنی واقع ہو وہ اضافت کی وجہ سے مجرور ہوتا ہے اور خود غیر اور سوی پر اسی طرح کا اعراب آتا ہے جیسا کہ الا کے بعد واقع ہونے والے اسم پر آیا کرتا ہے۔
الامثلة
(۱) اتَّقَدَتِ المصابيحُ غير واحدٍ .
(٢) سَلَّمْتُ عَلَى القادمينَ غير سعيدٍ
(۳) ما عاد المريضَ عائدٌ غيرَ الطبيبِ ( أو غيرُُ الطبيبِ )
(۴) ما قَبلْتُ يَدَ أحدٍ غيرَ والدى .( أو غيرُ والدى )
(۵) لا يَنَالُ الْمَجْدَ غيرُ العاملينَ
(٦) لم يفترس الذئب غيرَ شاةٍ
(۷) لا تَعْتَمِد عَلَى غَيْرِ الله .
(۳) المستثنى بِخَلاً وَعَدَا وَحَاشَا: مستثنی خلا ، عدا اور حاشا کے ساتھ
يُسْتَثْنَى بِـ"خَلَا"، وَ"عَدَا"، وَ"حَاشَا"، فَيُنْصَبُ الِاسْمُ بَعْدَهَا مَفْعُولًا بِهِ عَلَى أَنَّهَا أَفْعَالٌ، أَوْ يُجَرُّ عَلَى أَنَّهَا أَحْرُفُ جَرٍّ، فَإِنْ سبَقَتْھا"مَا"، وَجَبَ النَّصْبُ.
خلا ، عدا اور حاشا کے ذریعے بھی مستثنی ہوتا ہے ان کے بعد آنے والے اسم کو مفعول به قرار دے کر منصوب بھی کر سکتے ہیں اور ان کو حروف جر مان کر ان اسماء کو مجرور بھی پڑھ سکتے ہیں البتہ خلا اور عدا سے پہلے ما آجائے تو پھر مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا واجب ہو جاتا ہے۔ (حاشا سے پہلے ما نہیں آسکتا۔)
الامثلة
(۱) قَطَفْتُ الأزهار خَلَا الوَرْدَ .( أو الوردِ )
(۲) دخلتُ غُرف البيتِ خَلَا غُرْفَةَ النوم .( أو غرفةِ النومِ )
(۳) زُرْتُ مَسَاجِدَ المدينة خَلاً واحداً( أو واحدٍ )
( ٤ ) ذَبح الجزار الفنم خلا شاة ( أو شاةٍ )
(٥) فَطَفْتُ الأَزْهَارَ ما خلا الوردَ .
(۶) دخلتُ غُرَفَ البيت ما خلا غُرْفَةَ النوم .
(۷) زُرْتُ مساجد المدينة ما خلا واحداً .
( ۸ ) ذَبح الجزار الفنم ما خلا شاةً .
75 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۳۲
ا - نَجَحَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا خَالِدًا. خالد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔
یہ استثناء ( الگ کرنا) کی ایک مثال ہے، استثناء کے تین ارکان ہیں :
(۱) مستثنی ، وہ چیز جس کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ خالدا ہے۔
(۲) مستثنی منہ، وہ چیز جس سے کسی چیز کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ الطلاب ہے۔
(۳) أداة الاستثناء ، گذشتہ مثال میں وہ إِلَّا ہے، مزید ادوات یہ ہیں : غَيْرَ اور سوی، یہ دونوں اسم ہیں، مَا عَدَا وَ مَا خَلا، یہ دونوں فعل ہیں۔
استثناء کی قسمیں:
۱) اگر مستثنی اور مستثنی منہ دونوں ایک ہی جنس کے ہوں تو استثناء متصل ہوگا ، جیسے گذشتہ مثال۔ ایک اور مثال یہ ہے: ُزرْتُ البَلادَ الْأَرُوْبيَّة كُلَّهَا إِلَّا الْيُوْنَانَ. میں نے یونان کے علاوہ سارے یورپی ممالک دیکھ لئے۔ یونان بھی ایک یورپی ملک ہے۔
(۲) اگر مستثنی مستثنی منہ کی جنس سے نہ ہو تو استثناء منقطع کہلائے گا، جیسے:
وَصَلَ الضُّيُوْف إِلَّا أَمْتِعَتَهُمْ. سارے مہمان پہنچ گئے سوائے ان کے سامان کے۔ یہاں استثناء منقطع ہے اس لئے کہ سامان اور مہمان دونوں کے اجناس مختلف ہیں اور جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ مہمان پہنچ گئے لیکن ان کا سامان نہیں پہنچ پایا، قرآن مجید میں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بتوں کے متعلق فرمایا:
فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ﴾ [الشعراء: ۷۷] تو وہ سب (بت) میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔
یہاں استثناء منقطع ہے، اس لئے کہ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ بتوں کے جنس سے نہیں ہے۔
ایک اور لحاظ سے استثناء مفرغ یا کام ہوگا۔ اگر مستثنی منہ مذکور ہوتو تام ہوگا جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں ہے اور اگر مذکور نہ ہو تو مفرغ، جیسے:
مَاجَاءَ إِلَّا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔
مَا رَأَيْتُ إِلَّا حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔
استثناء مفرغ میں جملہ ہمیشہ نفی، یا نہی، یا استفہام پرمشتمل ہوگا۔ استثناء پر مشتمل جملوں کی دو قسمیں ہیں:
(۱) مثبت جملہ جس کو مُوجَب کہتے ہیں ، جیسے:
افْتَحِ النَّوَافِذَ إِلَّا الْأَخِيْرَةَ. آخری کے علاوہ باقی ساری کھڑکیاں کھول دو۔
(۲) نہی نفی یا استفہام پر مشتمل جملہ، جسے غیر موجب کہتے ہیں، جیسے:
مَا غَابَ الطُّلابُ إِلَّا إِبْرَاهِيمَ إبْرَاهِيم. ابراہیم کے علاوہ باقی طلبہ غیر حاضر نہیں ہوئے۔(منفی)
لا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا الْجُدُدَ الْجُدُدُ نئے طلبہ کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔(نهي)
هَلْ يَرْسُبُ أَحَدٌ إِلَّا الْكَسْلَانَ الْكَسْلَانُ؟ کاہل کے علاوہ بھی کوئی نا کام ہوتا ہے؟(استفهام)
مستثنی کا اعراب : مستثنی إلا کے بعد
استثناء منقطع میں:
مستثنی ہمیشہ منصوب ہوگا، جیسے:
لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتَ. موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔
یہ منقطع ہے، کیوں کہ موت بیماری کی جنس سے نہیں ہے۔
استثناء متصل میں :
(۱) اگر موجب جملہ ہوتو مستثنی منصوب ہوگا ، جیسے:
يَغْفِرُ اللهُ الذُّنُوْبَ كُلَّهَا إِلَّا الشَّرْكَ. اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔
(۲) اگر غیر موجب جملہ ہو تو مستثنی کے دو اعراب ہو سکتے ہیں، یا تو وہ منصوب ہوگا یا اس کا اعراب بھی مستثنی منہ کے اعراب کی طرح ہوگا، جیسے:
(نفی) مَا حَضَرَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی طالب علم نہیں آیا۔
مَا سَأَلْتُ الطُّلابَ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے نہیں پوچھا۔ مَا اتَّصَلْتُ بالطُّلابِ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٍ. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے رابطہ نہیں کیا۔
(نہی) لَا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔
لا تَسْأَلْ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا. حامد کے علاوہ کسی سے نہ پوچھو۔
لَا تَتَّصِلْ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ. حامد کے علاوہ کسی سے رابطہ نہ کرو۔
(استفهام) هَلْ غَابَ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ؟ کیا حامد کے علاوہ بھی کوئی غائب ہے؟
هَلْ رَأَيْتَ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی کو دیکھا؟
هل اتَّصَلْتَ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ ؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی سے رابطہ کیا ؟
استثناء مفرغ میں :
استثناء مفرغ میں مستثنی کا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ جملہ میں اس کے مقام کے لحاظ سے اس کا اعراب ہوگا ، جیسے: مَا رَسَبَ إِلَّا بَلَالٌ بلال کے علاوہ کوئی نا کام نہیں ہوا۔
یہاں مستثنی بلال فاعل ہے، اس کا اعراب جاننے کے لئے الا حذف کردیں تو اعراب سمجھ میں آجائے گا، جیسے گذشتہ مثال میں الا حذف کردیں تو مَا رَسَبَ بلال باقی رہے گا اور یہاں بلال فاعل ہے، یہ مستثنی کا اعراب جانے کا ایک طریقہ ہے جب کہ معنی اس سے مختلف ہوگا۔
اسی طرح مَا رَأَيْتُ إِلَّا بَلالا میں نے بلال کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ میں بلالا مفعول بہ ہےجیسا کہ مَا رَأَيْتُ بِلالا سے واضح ہے۔
اگر مستثنی کے بعد حرف جر کی وجہ سے مجرور ہو تو اس کا اعراب بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے:
مَا بَحَثتُ إِلَّا عَنْ خَالِدٍ. میں نے خالد کے علاوہ کسی کو تلاش نہیں کیا۔
مَا كَرَمْنَا إِلَّا بِالْجَامِعَةِ الْإِسْلامِيَّة. ہم نے جامعہ اسلامیہ کے علاوہ کہیں نہیں پڑھا۔
نوٹ :۔ إِلَّا کے بعد صرف ضمیر منفصل آئے گی ، اس کی چند مثالیں یہ ہیں: لا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ . ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے ۔
سَألَ الْمُدَرِّسُ الطلابَ كُلُّهُمْ إِلَّا إِيَّاكَ استاذ نے تمہارے علاوہ سب سے سوال کیا۔
مستثنی غیر اور سوی کے بعد
ان الفاظ کے بعد مستثنی مجرور ہو گا اس لئے کہ یہ اس کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے ہیں، مستثنی کا اصل اعراب ان دونوں کلمات پر ظاہر ہو گا، جیسے: نَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِد حامد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔ یہاں غَيْرَ منصوب ہے
جیسا کہ نَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا میں منصوب ہے۔
مَانَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِدٍ حامد کے علاوہ کوئی طالب علم کا میاب نہیں ہوا۔ یہاں غیر منصوب یا مرفوع دونوں ہو سکتا ہے جیسا کہ مَانَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ دونوں صحیح ہیں۔
مَانَجَحَ غَيْرُ حَامِدٍ یہاں غَيْرُ مرفوع ہےجیسا کہ مَانَجَحَ إِلَّا حَامِدٌ میں حَامِدٌ مرفوع ہے۔
مَا سَأَلْتُ غَيْرَ حَامِدٍ یہاں غیر منصوب ہےجیسا کہ مَا سَأَلْتُ إِلَّا حَامِدًا میں حَامِدًا منصوب ہے۔ سوی کا اعراب بھی بالکل غیر ہی کی طرح ہو گا سوائے اس کے کہ سوی کی ساری حرکتیں اس کے مقصور ہونے کی وجہ سے مقدر ہوں گی ۔
مستثنى مَا عَدَا اور مَا خَلا کے بعد
ان دو ادوات استثناء کے بعد مستثنی منصوب ہوگا جیسے :
اختَبَرْتُ الطُلاب مَا عَدَا ثَلاثَةٌ. میں نے تین کے علاوہ سارے طلبہ کا امتحان لیا۔
ایک شاعر کہتا ہے:
أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ اللہ تعالی کے علاوہ ہر چیز باطل ہے۔
یہاں بَاطِلُ پر اصل میں تنوین ہے جو شعر کے وزن کی رعایت کرتے ہوئے حذف کر دی گئی ہے،
۲ - الا کسی چیز پر تنبیہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے:
ألا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ ﴾ [البقرة: ١٢] خبر دار یہی لوگ اصل مفسدین ہیں اگر چہ کہ انہیں احساس نہیں ہے۔ اس کو حرف استفتاح اور تنبیہ کہتے ہیں۔
76 تیسیر النحو۔ سبق:۱۹
فصل المستثنى
المستثني: هو اسم منصوب يقع بعد أداة من أدوات الاستثناء، ليخالف ما قبلها في الحكم إثباتا ونفيا نحو: حضر الرجال إلا زيدا، وما حضر الطلاب إلا زيدا.
والكلام على الاستثناء ينحصر فيما يأتي: ۱۔ المستثنى منه ۲۔ والمستثنى ٣- وأدوات الاستثناء
فالمستثنى منه : هو الاسم الذي يقع قبل أداة الاستثناء ويثبت له الحكم إثباتا أو نفيا مثل: "الرجال"، و"الطلاب في المثالين المذكورين، وتارة يكون مذكورا وتارة يكون ملحوظا.
والمستثني: هو الاسم الذي يقع بعد أداة الاستثناء ويخالف المستثنى منه في الحكم الذي يثبت له إثباتا ونفيا، مثل "زيدا" في المثالين المذكورين.
وأدوات الاستثناء هي إلا وغير، وسوى، وعدا وخلا، وحاشاء وقد ألحقوا بها ليس" و "لا يكون" و "بيد".
والمستثنى: ثلاثة أقسام :
متصل ومنقطع ومفرغ.
فالمتصل ماكان من جنس المستثنى منه، وأخرج عنه بأداة الاستثناء نحو: تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة.
والمنقطع: ما ليس من جنس المستثنى منه ، فلا حاجة إلى إخراجه عنه بأداة الاستثناء، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم
والمفرغ ما حذف فيه المستثنى منه، وفرغ العامل الذي قبل إلا" للعمل فيما بعدها(أي: المستثنى) وتكون إلا " كأنها لم تكن، ولا يكون ذلك إلا في كلام غير موجب نحو: ما جاء ني إلا زيد، وما رأيت إلا زيدا وما مررت إلا بزيد.
ولا يستعمل في المستثنى المفرغ أفعال الاستثناء
ثلاث حالات المستثنى بـ"إلا"
المستثنى بـ "إلا له ثلاث حالات:
ا۔ وجوب النصب
۲۔ جواز النصب والبدلية
۳۔ وجوب أن يكون حسب ما يقتضيه العامل الذي قبل "إلا"
الحالة الأولى: وجوب النصب
يجب نصب المستثنى بـ "إلا في ثلاثة مواضع:
أولا: إذا كان المستثنى متصلا واقعا بعد إلا في كلام تام موجب نحو: جاء القوم إلا زيدا
ثانيا: إذا تقدم المستثنى المتصل على المستثنى منه في كلام تام موجب أو غير موجب، مثال الموجب جاء إلا زيدا القوم ومثال غير الموجب ما جاء إلا سليما أحد
ثالثا: إذا كان المستثنى منقطعا، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم، ويستعمل في المستثنیٰ المنقطع "إلا" و "غير فقط
الحالة الثانية: جواز النصب والبدلية
يجوز في المستثنى المتصل الواقع بعد "إلا" نصبه على الاستثناء وجعله بدلا من المستثنى منه إذا وقع بعد المستثنى منه في كلام تام غير موجب، نحو: ما جاء القوم الا زيدا، على الاستثناء، أو إلا زيد على البدلية من القوم.
الحالة الثالثة تختص بالمستثنى المفرغ كما سبق في أمثلته .
وناصب المستثنى بـ "إلا هو العامل الذي قبلها
حكم المستثنى بـ "غير" و"سوى:
حكم المستثنى بـ"غير" و سوى أن يجر المستثنى بإضافتهما إليه وأما حكم "غير " و سوى " فمثل حكم المستثنى الواقع بعد "إلا" في جميع أحواله الثلاثة السابقة. نحو : جاء القوم غير سليم، ما جاء غير سليم أحد، جاء التلاميذ غير كتبهم، وما جاء القوم غير سليم بالنصب على الاستثناء، أو غير سليم بالرفع على البدلية وما جاء غير سليم، وما رأيت غير سليم، وما مررت بغير سليم ( برفع سليم ونصبه وجره، وذلك حسب العوامل في المستثنى المفرغ)
حكم المستثنى بـ"عدا" و"خلا" و"حاشا":
المستثنى بـ"عدا" و "خلا" و"حاشا" يجوز فيه النصب والجر فالنصب: على أنها أفعال ماضية، وفاعلها ضمير واحدمستتر فيها وجوبا على خلاف الأصل، يعود على المستثنى منه على سبيل الانفراد، وما بعدها مفعول به، والجر: على أنها أحرف جر شبيهة بالزائدة لا متعلق لها، نحو: جاء القوم خلا، أو عدا، أو حاشا سليما، وخلاء أو عدا أو حاشا سليم.
وإذا اقترنت بـ"خلا" و"عدا" (ما) المصدرية تعين كونهما فعلين، ووجب نصب ما بعدهما. وأما "حاشا" فلا تسبقها (ما) إلا نادرا.
حكم المستثنى بـ "ليس" و"لا يكون"
المستثنى بـ "ليس" و "لا يكون" يكون منصوبا على أنه خبر لها، واسمها ضمير مستتر وجوبا نحو الدروس تفيد التلاميذ ليس أو لا يكون المهمل.
حكم المستثنى بـ "بيد
المستثنى بـ"بيد لا يكون إلا مصدرا مسبوقا من "أن" واسمها وخبرها ويكون ذلك المصدر المسبوق في محل جر بإضافة بيد إليه وأما حكم "بيد" فهو ملازما النصب على الاستثناء، نحو: سليم غني بيد أنه بخيل.
فصل مستثنى
مستثنی: یہ ایک منصوب اسم ہے جو استثناء کی کسی ادات (جیسے "إلا") کے بعد آتا ہے تاکہ اس کا حکم اپنے سے پہلے کی چیز سے مختلف ہو۔ مثال کے طور پر: "حضر الرجال إلا زیدا" (مرد آئے سوا زید کے) یا "ما حضر الطلاب إلا زیدا" (طلبہ نہیں آئے سوا زید کے)۔
استثناء پر گفتگو درج ذیل نکات پر مرکوز ہوتی ہے:
1. مستثنی منه: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات سے پہلے ہوتا ہے اور اس کے لئے حکم ثابت یا نافذ ہوتا ہے۔ مثلاً: "الرجال" اور "الطلاب" مذکورہ مثالوں میں۔ کبھی یہ ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی یہ محض ذہن میں ہوتا ہے۔
2. مستثنی: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات کے بعد آتا ہے اور یہ مستثنی منه کے حکم سے مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ "زیدا" دونوں مثالوں میں۔
3. أدوات الاستثناء: یہ "إلا" ، "غير" ، "سوى" ، "عدا" ، "خلا" ، "حاشا" وغیرہ ہیں، اور ان میں "ليس" ، "لا يكون" ، اور "بيد" کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مستثنی کے اقسام
مستثنی کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. متصل: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں ہوتا ہے اور استثنا کی ادات کے ذریعے نکالا جاتا ہے، مثلاً: "تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة" (ہر دھات زنگ آلود ہوتی ہے سوائے سونے اور چاندی کے)۔
2. منقطع: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں نہیں ہوتا، اور اس کے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، مثلاً: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔
3. مفرغ: یہ وہ مستثنی ہے جس میں مستثنی منه حذف کر دیا جاتا ہے، اور "إلا" کی وجہ سے جو کام پہلے آیا ہے وہ اس کے بعد والے مستثنی پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسے: "ما جاءني إلا زيد" (کوئی نہیں آیا سوا زید کے)۔
مستثنی کے حالات
مستثنی کے ساتھ "إلا" کی تین حالتیں ہوتی ہیں:
1. وجوب النصب:
مستثنی کو "إلا" کے ساتھ نصب کرنا واجب ہے تین جگہوں پر:
- اگر مستثنی متصل ہو اور "إلا" کے بعد ایک مکمل مثبت جملے میں آئے، جیسے: "جاء القوم إلا زيدا" (قوم آئی سوائے زید کے)۔
- اگر متصل مستثنی مستثنی منه سے پہلے آ جائے، جیسے: "جاء إلا زيدا القوم" (قوم آئی سوائے زید کے)۔
- اگر مستثنی منقطع ہو، جیسے: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔
2. جواز النصب والبدلية:
متصل مستثنی جو "إلا" کے بعد آتا ہے، اسے نصب کرنا یا مستثنی منه کے بدل کے طور پر لانا جائز ہے اگر یہ مستثنی منه سے پہلے آ رہا ہو، جیسے: "ما جاء القوم إلا زيدا" (قوم نہیں آیا سوا زید کے) یا "إلا زید" (زید مستثنی منه کے طور پر)۔
3. مستثنی المفرغ: یہ پہلے بیان کردہ مثالوں کی طرح ہوتا ہے۔
اور مستثنی کونصب دینا الاّ کے ذریعہ
" 'إلا' کے ذریعے مستثنیٰ کو نصب دینے والا وہی عامل ہوتا ہے جو اس سے پہلے آتا ہے۔"
مستثنی ب "غير" اور "سوى" کے احکام
غير اور سوى کے ساتھ مستثنی کی حالت یہی ہوتی ہے کہ مستثنی کو ان کے ساتھ اضافت دےکر جردیا جاتا ہے۔ "غير" اور "سوى" کا حکم مستثنی کی حالتوں کی طرح ہوتا ہے جو "إلا" کے بعد آتا ہے، مثلاً: "جاء القوم غير سليم" (قوم آئے سوا سلیم کے)۔
مستثنی ب"عدا" اور "خلا" اور "حاشا" کے احکام
"عدا"، "خلا" اور "حاشا" کے ذریعے مستثنیٰ کا اعراب نصب اور جر دونوں طرح جائز ہے۔
نصب:اگر انہیں ماضی کے افعال مانا جائے تو یہ لازمًا مستتر ضمیر کو فاعل رکھتے ہیں، جو مستثنیٰ منه کی طرف لوٹتی ہے۔اس صورت میں، جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مفعول بہ کے طور پر منصوب ہوگا۔
مثال:جاء القومُ عدا زيدًا (یہاں "عدا" فعل ماضی ہے اور "زيدًا" مفعول بہ ہے) ، جاء الطلابُ خلا محمدًا ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدًا۔
جر:اگر انہیں حروفِ جر مانا جائے تو ان کا کوئی تعلق (متعلق) نہیں ہوتا اور جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مجرور ہوتا ہے۔
مثال:جاء القومُ عدا زيدٍ ،جاء الطلابُ خلا محمدٍ ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدٍ۔
"ما" کے ساتھ: اگر "عدا" اور "خلا" کے ساتھ "ما" المصدرية آجائے تو یہ لازمی طور پر افعال ہوں گے، اور ان کے بعد والا اسم منصوب ہوگا۔
"حاشا" کے ساتھ "ما" کا استعمال نادر ہوتا ہے۔
مستثنی ب "ليس" اور "لا يكون" کے احکام
ليس اور لا يكون کے ساتھ مستثنی کو نصب کیا جاتا ہے، جیسا کہ یہ ان کا خبر ہوتا ہے، اور ان کا اسم ضمیر مستتر ہوتا ہے، مثلاً: "الدروس تفيد التلاميذ ليس" (سبق طلبہ کے لئے مفید نہیں ہے)۔
مستثنی ب "بيد" کے احکام
"بيد" کے ذریعے مستثنیٰ ہمیشہ مصدر ہوتا ہے جو "أن" اور اس کے اسم و خبر کے بعد آتا ہے۔ یہ مصدر "بيد" کے اضافے کے باعث مجرور ہوتا ہے، جبکہ "بيد" خود ہمیشہ نصب میں رہتا ہے، جیسے: سليم غني بيد أنه بخيل (سلیم مالدار ہے، مگر وہ کنجوس ہے۔)
77 المفصل۔ سبق:۲۳
الإستثناء
أنواع المستثنى:
المستثنى في إعرابه على خمسة أضرب أحدها منصوب أبداً وهو على ثلاثة أوجه: ما استثني بإلا من كلام موجب وذلك جاءني القوم إلا زيدا، وبعدا وخلا بعد كل كلام. وبعضهم يجر بخلا وقيل بهما، ولم يورد هذا القول سيبويه ولا المبرد. فأما ما عدا وما خلا فالنصب ليس إلا. وكذلك ليس ولا يكون. وذلك جاءني القوم أو ما جاءني عدا زيداً وخلا زيداً ومن عدا زيداً وما خلا زيداً. قال لبيد:
ألا كل شيء ما خلا الله باطل وكل نعيم لا محالة زائل
وليس زيداً ولا يكون زيداً. وهذه أفعال مضمر فاعلوها. وما قدم من المستثنى كقولك ما جاءني إلا أخاك أحد قال الكميت
وما لي إلا آل أحمد شيعة ومالي إلا مذهب الحق مذهب
وما كان استثناؤه منقطعاً كقولك ما جاءني إلا حماراً وهي اللغة الحجازية. ومنه قوله عز وجل: "لا عاصم اليوم من أمر الله إلا من رحم، وقولهم ما زاد إلا ما نقص وما نفع إلا ما ضر.
والثاني جائز فيه النصب والبدل وهو المستثنى من كلام تام غير موجب كقولك ما جاءني أحد إلا زيداً وإلا زيد.
وكذلك إذا كان المستثنى منه منصوباً أو مجروراً. والاختيار البدل قال الله تعالى ما فعلوه إلا قليل منهم". وأما قوله عز وجل: "إلا أمرأتك" فيمن قرأ بالنصب فمستثنى من قوله تعالى: "فأسر بأهلك".
والثالث مجرور أبداً وهو ما استثنى بغير وحاشاً وسوى وسواه. والمبرد يجيز النصب بحاشا.
والرابع جائز فيه الجر والرفع وهو ما استثني بلا سيما وقول امرئ القيس:
ولا سيما يوم بدارة جلجل
يروى مجروراً ومرفوعاً وقد روي فيه النصب.
والخامس جار على إعرابه قبل دخول كلمة الإستثناء وذلك ما جاءني إلا زيد، وما رأيت إلا زيداً وما مررت إلا بزيد. والمشبه بالمفعول منها هو الأول والثاني في أحد وجهيه وشبهه به المجيئه فضلة وله شبه خاص بالمفعول معه لأن العامل فيه بتوسط حرف.
حكم غير:
وحكم غير في الإعراب حكم الاسم الواقع بعد إلا تنصبه في الموجب والمنقطع وعند التقديم وتجيز فيه البدل والنصب في غير الموجب. وقالوا إنما عمل فيه المتعدي لشبهه بالظرف لإبهامه.
الشبه في المعنى بين إلا وغير
واعلم أن إلا وغيراً يتقارضان ما لكل واحد منهما. فالذي لغير في أصله أن يكون وصفاً يمسه إعراب ما قبله، ومعناه المغايرة وخلاف المماثلة. ودلالته عليها من جهتين من جهة الذات ومن جهة الصفة. تقول مررت برجل غير زيد، قاصداً إلى أن مرورك كان بإنسان آخر أو بمن ليست صفته صفته، وفي قوله عز وجل" لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله، الرفع صفة للقاعدون والجر صفة للمؤمنين والنصب على الإستثناء. ثم دخل على إلا في الإستثناء وقد دخل عليه إلا في الوصفية. وفي التنزيل: "لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا".
أي غير الله. ومنه قوله:
وكل اخ مفارقة أخوه لعمر أبيك إلا الفرقدان
ولا يجوز اجراؤه مجرى غير إلا تابعاً، لو قلت: لو كان فيهما إلا الله كما تقول لو كان فيهما غير الله لم يجز. وشبهه سيبويه بأجمعون.
وتقول ما جاءني من أحد إلا عبد الله وما رأيت من أحد إلا زيداً ولا أحد فيها إلا عمرو فتحمل البدل على محل الجار والمجرور لا على اللفظ، وتقول ليس زيد بشيء إلا شيئا شيئاً لا يعبأ به.
قال طرفة:
أبني لبيني لستم بيد إلا يداً ليست لها عضد
وما زيد بشيء لا يعباً به بالرفع لا غير.
حكم تقديم المستثنى على صفة المستثنى منه وإن قدمت المستثنى على صفة المستثنى منه ففيه طريقان: أحدهما وهو اختيار سيبويه أن لا تكترث للصفة وتحمله على البدل. والثاني أن تنزل تقديمه على الصفة منزلة تقديمه على الموصوف، وذلك قولك ما أتاني أحد إلا أبوك خير من زيد، وما مررت بأحد إلا عمرو خير من زيد، أو تقول إلا أباك وإلا عمراً.
حکم تثنية المستثنى: وتقول في تثنية المستثنى ما أتاني إلا زيداً إلا عمراً أو إلا زيداً إلا عمرو ترفع الذي أسندت إليه
الفعل وتنصب الآخر. وليس لك أن ترفعه لأنك لا تقول تركوني إلا عمرو. وتقول ما أتاني إلا عمراً إلا بشراً أحد، منصوبين لأن التقدير ما أتاني إلا عمراً أحد إلا بشر، على إبدال بشر من أحد فلما قدمته نصبته.
الفعل المستثنى:
وإذا قلت ما مررت بأحد إلا زيد خير منه كان ما بعد إلا جملة ابتدائية واقعة صفة لأحد، وإلا لغو في اللفظ معطية في المعنى فائدتها جاعلة زيداً خيراً من جميع من مررت بهم.
وقد أوقع الفعل موقع الأسم المستثنى في قولهم نشدتك بالله إلا فعلت، والمعنى ما أطلب منك إلا فعلك؛ وكذلك أقسمت عليك الّا فعلت. وعن ابن عباس بالإيواء والنصر إلا جلستم. وفي حديث عمر : عزمت عليك لما ضربت كاتبك سوطاً بمعنى إلا ضربت.
حذف المستثنى:
والمستثنى يحذف تخفيفاً وذلك قولهم ليس إلا وليس غير.
78 تمارین
79 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۷
التمرين (۱)
عين المستثنى والمستثنى منه واداة الاستثناء فى الامثلة الاتية واضبط کلا منها بالشكل
(۱) زرت المدن الشهيرة في مصر الا اسوان
(۲) ما صحبني احد في سفري الا والدك
(۳) لم يواسي في شدتي الا الاصدقاء
(۴) لم يفترس الذئب سوى شاة
(۵) صام الغلام رمضان غير يوم
(۶) ما اكل الثعلب غير دجاجة
(۷) لا يكسب ثقة الجمهور الا المخلص
(۸) عاد الجنود خلا المشاة
(۹) ما ارتقى العمران بغير العلم
التمرين (۲)
اكمل الجمل الاتية بوضع مستثنى بالا يناسب بقية الكلام واضبط بالشكل وبين ما يجوز وجهان في اعرابه
۱- لا ينتصر للباطل. ………
۲۔ غرق ركاب السفينة . ………
۳۔ لا تنمو الثروة . ………
۴۔ لم يربح احد . ………
۵۔ لم يتلف اثاث المنزل . ………
۶۔ لم اسلم عن احد من الحاضرين ………
۷- لا ينتفع بالمال………
۸۔ ما صاع الصائغ الحلى . ………
التمرين (۳)
استثن بغير من الجمل الاتية واضبط المستثنى واداة الاستثناء في كل مثال:
۱۔ لم يعاقب احد . ………
۲- لم يصد الصياد . ………
۳۔ لا يبقى للانسان بعد موته ………
۴۔ ماتلف الطعام . ………
۵- لا ينفع الانسان . ………
۶۔ ضاعت امتعة المسافرين………
۷۔ تصد المعادن………
۸۔ ما قطفت الازهار………
التمرين (۴)
استثن من الجمل الاتية مرة بخلا ومرة بما عدا واضبط المستثنى بالشكل في كل مثال:
۱۔ حضر الوليمة جميع الاصدقاء………
۲۔ رايت احياء المدينة ………
۳۔ سرق اللص جميع الحلى………
۴۔ ما حفظت الدروس………
۵۔ كل شوارع المدينة نظيفة………
۶- ما اصلح النجار………
التمرين (۵)
اتمم الجمل الاتية بوضع المحذوف منها في الاماكن الخالية
۱۔ …………….علی غیر نفسک
۲- …………….الا قلما
۳۔ …………….ا لا العاملون
۴۔ …………….غير دقتين
۵۔ …………….كلها الا ميلا
۶۔ …………….ماعدا نافذة
۷۔ …………….خلا اثنين
۸۔ …………….سوى الاخيار
٩- …………….غير اللبن
۱۰۔ …………….الا المجدين
التمرين (۶)
ضع غير موضع الا في الامثلة الاتية واضبطها بالشكل وبين في اي هذه الامثلة يجوز في اعرابها وجهان
۱۔ ما عاد من سفره الا اخوك
۲۔ ما فاذ التلاميذ الا الاذكياء
۳۔ رایت الجنود الا القائد
۴۔ لا تصاحب الا الاخيار
۵۔ فهمت الدرس الا مسالة
۶۔ لم تثمر الأشجار الا النخيل
۷۔ لا تعجبني الكتب الا النافع
التمرين (۷)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية مستثنى منه في جملة مفيدة:
الابواب ، التجار ، المدن ، الاشجار،البقول
الازهار ، التلاميذ ، الطيور ، الليل ، المسافرون
التمرين (۸)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية مستثنى بالا وضعه في ثلاث جمل بحيث يكون في الأولى واجب النصب وفي الثانية جائز النصب والاتباع وفي الثالثة معربا على حسب العامل الذي قبله.
التفاح ، اللبن ،المقصر
التمرين (۹)
اجعل كل اسم من الاسماء الآتية مستثنى بعدا وضعه في جملتين بحيث يكون في الأولى واجب النصب وفى الثانية جائز النصب والجر:
الحصان ، الكسلان ، الاشرار
التمرين ( ١٠ )
(1) كون ثلاث جمل يكون المستثنى بالا في كل منها واجبا نصبه
(۲) كون ثلاث جمل يكون المستثنى بالا في كل منها جائزا نصبه وانباعه. للمستثنى منه
(۳) كون ثلاث جمل يكون المستثنى بالا في كل منها معربا على حسب ما يقتضيه موقعه في الجملة
التمرين (۱۱)
كون ثلاث جمل تشتمل كل منها على مستثنى بغير بحيث تكون كلمة غير في الأولى واجبة النصب وفى الثانية جائزة النصب والأتباع للمستثنى منه وفي الثالثة معربة على حسب العامل الذي قبلها.
التمرين (۱۲)
(الف) نموذج:
(۱) فر الصوص إلا واحداً .
فر..... فعل ماض مبني على الفتح
اللصوص ....... فاعل مرفوع بالضمة
إلا ... حرف استثناء بنى على السكون
واحدا... مستقى منصوب بالفتحة
(۲)عاد المسافرون عدا أخيك
عاد..... فعل ماض مبني على الفتح
المسافرون ..... فاعل مرفوع بالواو لا نه جمع مذكر سالم
عدا ..... حرف جر مبني على السكون
أخيك ۔۔۔۔۔۔۔۔۔أخيك أخي مجرور بالياء لأنه من الأسماء الخمسة، وهو مضافوالكاف عمير مضاف اليه مبنى على الفتح في محل جر.
(ب) اعرب الجمل الاتية:
۱۔ باع الفلاح القمح الا اردبين
۲۔ ما ضاعت الا متعة الا حقيبة
۳۔ اشتغل الصناع سوى النجارين
۴۔ ذبحنا الدجاج خلا واحد
80 تیسیر النحو۔ سبق:۱۹
أسئلة
۱۔عرف المستثنى مع التمثيل.
۲۔ما هو المستثنى منه، والمستثنى، وأدوات الاستثناء؟
۳۔ كم قسما للمستثنى ؟
۴۔ ما هي حالات المستثنى بـ " إلا"؟ اذكر كل حالة بالتفصيل والتمثيل.
۵۔ ما هو ناصب المستثنى بـ "إلا "؟
٦. ما هو حكم المستثنى بـ "غير" و "سوى "؟ وما حكمهما، اذكر كلا منهما بالتفصيل والتمثيل.
۷۔ ما هو حكم المستثنى بـ "عدا" و"خلا" و "حاشا"؟ اذكره بالتفصيل والتمثيل.
۸۔ ما هو حكم المستثنى بـ "ليس" و"لا يكون" ؟ اذكره بالتمثيل.
۹۔ ما حكم المستثنى بـ "بيد" وما حكم "بيد"؟ اذكرهما بالتمثيل.
تمرينات
١- استخرج مما يأتي أنواع المستثنى، وبين وجه إعرابه
ما المرء إلا قلبه ولسانه، ليس للانسان إلا ما سعى، وكل ممالك أمريكا الجنوبية تشرف على البحار عدا اثنتين كل شئ ما خلا الله باطل، ما بين الهجرة وميلاد عيسى عليه السلام إلا اثنتان وعشرون وستمائة سنة، تفوق جرير على شعراء زمانه خلا الأخطل والفرزدق
لكل داء دواء يستطب به إلا الحماقة أعيت من يداويها
ومالي إلا أل أحمد شيعة وما لي إلا مذهب الحق مذهب
أنا أفصح من نطق الضاد بيد أني من قريش ، كل شيء زائل غير الذكر الحسن يتصف المؤمن بكل وصف ليس الخيانة والغدر.
٢- استعمل كلمة "غير " الاستثنائية في جمل من عندك، بحيث تستوفي مواقعها الإعرابية.
۳۔ عين حكم ما بعد "إلا" في الجمل الآتية، واضبطه بالشكل ثم أعربه
(۱) لا يعرف الفضل إلا ذووه (ب) قرأت فصول الكتاب إلا فصلين (ج) ما أعجبني منك إلا خلق رفيع (د) ما أكلنا الطعام إلا السمك (ه) ما أعجبني الطلاب إلا المهذب.
81 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
82 حروف مشبہ بالفعل کا اسم
تعریف:
حروف مشبہ بالفعل وہ حروف ہیں جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں یعنی یہ مبتدا (اسم) پر داخل ہو کر اسے نصب دیتے ہیں اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ یہ حروف معنی کے لحاظ سے فعل سے مشابہت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں "حروف مشبہ بالفعل" کہا جاتا ہے۔
عمل:
یہ حروف جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں تو جملے کے پہلے حصے (مبتدا) کو منصوب اور دوسرے حصے (خبر) کو مرفوع کر دیتے ہیں۔
- مبتدأ کو "اسم" کہا جاتا ہے۔
- خبر کو "خبر" کہا جاتا ہے۔
حروف مشبہ بالفعل:
۱۔ إنّ: یہ تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مبتدا کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتا ہے۔
- مثال: إنّ زيداً مجتهدٌ (بیشک زید محنتی ہے)۔
۲۔ أنّ: یہ بھی تاکید کے لیے آتا ہے اور عموماً کلام کے درمیان استعمال ہوتا ہے۔
- مثال: علمتُ أنَّ خالداً ناجحٌ (میں نے جانا کہ خالد کامیاب ہے)۔
۳۔ كأنّ: یہ تشبیہ یا گمان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- مثال (تشبیہ): كأنَّ علياً أسدٌ (گویا علی شیر ہے)۔
- مثال (گمان): كأنَّكَ فاهمٌ (گویا تم سمجھ رہے ہو)۔
۴۔ لكنّ: یہ استدراک کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی بات کے بعد کوئی دوسری بات کہنے کے لیے جو پہلی بات کے خلاف ہو۔
مثال: الجو حارٌّ لكنّ الماءَ باردٌ (موسم گرم ہے لیکن پانی ٹھنڈا ہے)۔
۵۔ ليت: یہ تمنا یا آرزو کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی ممکن یا نا ممکن چیز کی خواہش۔
- مثال: ليتَ الشبابَ يعودُ يوماً (کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے)۔
۶۔ لعلّ: یہ ترجی یا امید کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی ممکن چیز کی امید۔
- مثال: لعلَّ اللهَ يرحمنا (شاید اللہ ہم پر رحم کرے)۔
خلاصہ:
حروف مشبہ بالفعل وہ حروف ہیں جو مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ان کا عمل جملے میں مبتدا اور خبر کے مابین تعلق کو تبدیل کر کے مبتدا کو "اسم" اور خبر کو "خبر" بناتا ہے۔
83 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۵
اِنّ و أخواتھا(ان اور اس کے اخوات )
إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ وَلَيْتَ وَلَعَلَّ تَدْخُلُ عَلَى الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَأَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا.
إن ،أن، كأن، لكن، ليت، لعل مبتدأ وخبر پر داخل ہوتے ہیں۔ مبتداء کو نصب دے کر اس کا اسم کہلاتا ہے اور خبر کو رفع دے کر اِنّ کی خبر کہلاتی ہے
الامثلة
- الْجَمَلُ صَبُورٌ → إِنَّ الْجَمَلَ صَبُورٌ.
- الْهَرَمُ قَدِيمٌ → إِنَّ الْهَرَمَ قَدِيمٌ.
- الْاِمْتِحَانُ قَرِيبٌ → عَلِمْت أَنَّ الْاِمْتِحَانَ قَرِيبٌ.
- الزَّهْرَةُ نَاضِرَةٌ → يَسُرُّنِي أَنَّ الزَّهْرَةَ نَاضِرَةٌ.
- الْكِتَابُ أُسْتَاذٌ → كَأَنَّ الْكِتَابَ أُسْتَاذٌ.
- الْقَمَرُ مِصْبَاحٌ → كَأَنَّ الْقَمَرَ مِصْبَاحٌ.
- الْأَثَاثُ قَدِيمٌ → الْبَيْتُ جَدِيدٌ لَكِنَّ الْأَثَاثَ قَدِيمٌ.
- الْخَسَائِرُ قَلِيلَةٌ → شَبَّتِ النَّارُ لَكِنَّ الْخَسَائِرَ قَلِيلَةٌ.
- الْفَاكِهَةُ نَاضِجَةٌ → لَيْتَ الْفَاكِهَةَ نَاضِجَةٌ.
- الْقَمَرُ طَالِعٌ → لَيْتَ الْقَمَرَ طَالِعٌ.
- الْكِتَابُ رَخِيصٌ → لَعَلَّ الْكِتَابَ رَخِيصٌ.
- الْمَرِيضُ نَائِمٌ → لَعَلَّ الْمَرِيضَ نَائِمٌ.
84 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۰،۱۱
تخفيفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَانَ وَلَكِنَّ :
تُخَفَّفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ ، أَمَّا إِنَّ فَيَجُوزُ عِندَ التَّخْفِيفِ إِعْمَالُهَا وَإِهْمَالُهَا ، وإِذا أُهْمِلَتْ دَخَلَتْ لَامُ الاِبْتِدَاءِ عَلىٰ الْخَبَرِ فَارِقَةً بَيْنَ الإِثباتِ والنَّفْى
وأَمَّا أَنَّ وكَأَنَّ فلا تُهْمَلَانِ ، غَيْرَ أنَّ الاسم فِيهِمَا يَكونُ ضَمِيرُ الشأنِ مَحْذُوفاً. وأَمَّا لكنَّ فَتُهْمَلُ وُجُوباً
إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ اور لَكِنَّ کو تخفیف (ہلکا) کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک إِنَّ کا تعلق ہے، تخفیف کے وقت اسے استعمال کرنا یا نہ کرنا دونوں جائز ہیں۔ اور اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو لام الابتداء خبر پر داخل ہو جاتی ہے جو اثبات اور نفی کے درمیان فرق کرتی ہے۔
جہاں تک أَنَّ اور كَأَنَّ کا تعلق ہے، یہ کبھی استعمال نہیں ہوتی ہیں، لیکن ان دونوں میں اسم ضمیر الشأن محذوف ہوتا ہے، اور لَكِنَّ تو اسے وجوباً (ضروری طور پر) استعمال نہیں کیا جاتا۔
الامثلة
(۱)
إِنْ عَمَلَكَ مُتقَن أو إِنْ عَمَلُكَ لَمُتقَنٌ
إِنْ مَرَضَهُ عُضَالٌ أو إِن مَرَضُهُ لَعُضَالُ
(۲)
عَلِمْتُ أنْ لَيسَ لِمقصَّرٍ فَلَاحٌ
بَلَغَنِي أَنْ لَم يُقبَضۡ عَلى اللِّصِّ
كأن قَد طَلَعَ القَمَرُ
كأن لم يُهْمِلْ وَاجِبَهُ أَحَدٌ
(۳)
الشَّمْسُ طَالِعَةٌ لٰكِنِ المَطَرُ نَازِلٌ۔
الكِتابُ صَغِيرٌ لَكِنْ نَفْعُهُ عَظِيمٌ .
كَفَ إِنَّ وأخواتها عن العمل: اِنَّ اور اس کے اخوات کو عمل سے روکنا
تَتَّصِلُ مَا الزَّائِدَةُ بِإِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فَتَكُفُّهَا عَنِ الْعَمَلِ، وَ تَزِيلُ اخْتِصَاصَهَا بِالْأَسْمَاءِ إِلَّا لَيْتَ فَيَجُوزُ اعْمَالُهَا وِإِلْغَاءُهَا وَلَا يَزُولُ اِخْتَصَاصُهَا بِالْأَسْمَاءِ
جب ما کافہ اِنّ اور اس کے اخوات کے ساتھ متصل ہوتا ہے تو اس کو عمل سے روک دیتا ہے اور اس کے اسماء کے ساتھ اختصاص کو زائل کر دیتا ہے، مگر لیت میں یہ بات نہیں ہے، پس جائز ہے اس کو عمل دینا اور اس کو عمل سے ملغہ رکھنا اور اس کا اسماء کے ساتھ اختصاص زائل نہیں ہوتا۔
الامثلة
(۱)
إنَّمَا الحَيَاةُ جِهَادٌ
إنَّمَا القَنَاعَةُ كَنزٌ
إِنَّمَا تُقَاسُ هِمَمُ النَّاسِ بِالأَعْمَالِ
إنَّمَا يُعَاقَبُ الْمُسِيءُ
(۲)
لَيتَمَا الدَّهْرَ مُسَالِمٌ
لَيتَمَا الإنسَانُ كَامِلٌ
لَيتَمَاالسُرُورُ دَائِمٌ
لَيتَمَا الشَبَابُ راجِعٌ
85 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق: ۲۰
حروف مشبہ بالفعل چھ ہیں اور وہ یہ ہیں :-
إنَّ ، أَنَّ ، كَانَ ، لَيْتَ ، لكن ، لعل
یہ حروف جملہ اسمیہ (مبتدا و خبر)، پر داخل ہوتے ہیں اور اپنے اسم (مبتدا) کو نصب دیتے ہیں۔ خبر اپنے حال پر مرفوع ہی باقی رہتی ہے ۔ ان کو مشبہ بالفعل اس لئے کہتے ہیں کہ فعل کی طرح یہ بھی ایک اسم (مبتدا) کو نصب اور دوسرے اسم (خبر) کو رفع دیتے ہیں ۔
(۱) إن اور أنّ جملہ میں تاکید وتحقیق کے معنی پیدا کرتے ہیں جیسے: اِنَّ زیدًا قائمٌ
(۲) كانَّ تشبیہ کے معنی دیتا ہے جیسے كَانَّ مَحمُودا اسد (گویا کہ محمود شیر ہے)
(۳) لیت و لعل تمنا و آرزو کے لئے آتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ لیت سے امر محال کی بھی تمنا کی جاتی ہے اور لعل سے امرممکن کی ہی۔
(۴) لکنّ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جملہ سابقہ سے جو شبہ اور و ہم پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے آتا ہے۔
اِنّ اور أن میں فرق یہ ہے کہ ان مع اپنے معمول کے مصدر کے معنی میں موول ہوتا ہے اور اس طرح دوسرے جملہ کا جزو بن جاتا ہے جیسے :- علمت أنك ذاهب، يعني علمت ذهابك .
اِنَّ مصدر کے معنی میں مؤول نہیں ہوتا اور نہ کسی دوسرے جملہ کا جزو بنتا ہے بلکہ مستقل جملہ پر آتا ہے جیسے: اِنّ اللہ علی کل شیئٍ قدیر
ذیل کی صورتوں میں انّ کو بالکسر ہی لکھنا اور پڑھنا چاہیئے :-
(1) جبکہ شروع کلام میں ہو جیسے: إِنَّ الحَرَّشَديد
(۲)جبکہ قول اور قول کے مشتقات کے بعد ہو جیسے: قُلْ إِنَّ الْحَقَّ وَاضِحٌ
(۳) جبکہ صلہ کے شروع میں ہو جیسے زرت الذي اِنّى أجله . جاء الذين إِنَّ مجیئھم يسرني
أنّ جیسا کہ بتایا گیا وسط کلام میں آتا ہے ، علم کے بعد اور مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ اَنَّ ہی پڑھا جاتا ہے۔ خصوصا حروف جارہ کے بعد جیسے الم يعلم بأنّ الله یری
نوٹ:۔ جملہ اسمیہ میں جس طرح خبر کو مفرد یا جملہ یا شبہ جملہ سبھی لا سکتے ہیں اسی طرح نواسخ کی خبر بھی مفرد، جملہ اور شبہ جملہ سب آتے ہیں۔ جیسے إِنَّ الله يَرْزُقُ الْعِبَادَ .
86 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۲
الحروف المشبهة بالفعل، وهي تدخل على المبتدأ والخبر تنصب المبتدأ وترفع الخبر، وهي ستة حروف: "إنّ وأنّ" وهما لتحقيق مضمون
الجملة الاسمية مثل: إن زيدا قائم أي حققت قيام زيد، وبلغني أن زيدا منطلق أي بلغني ثبوت انطلاق زيد.
و"كأن" وهي للتشبيه نحو :كأنّ زيدا أسد.
و "لكن" وهي للاستدراك أي لدفع التوهم الناشئ من الكلام السابق، ولهذا لا تقع إلا بين الجملتين اللتين تكونان متغايرتين بالمفهوم مثل: غاب زيد لكن بكرا حاضر، وما جاءني زيد لكن عمرا جاءني.
و"ليت" وهي للتمني مثل: ليت زيدا قائم أي أتمنى قيامه.
و"لعل" وهي للترجي مثل لعل السلطان يكرمني،
والفرق بين التمني والترجي أن الأول يستعمل في الممكنات كما مر والممتنعات مثل: ليت الشباب يعود والترجي مخصوص بالممكنات فلا يقال: لعل الشباب يعود، وتدخل "ما" الكافة على جميعها فتكفها عن العمل كقوله تعالى : أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ و إنما زيد منطلق.
یہ وہ حروف ہیں جو فعل کی طرح ہوتے ہیں، اور یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو منصو ب کرتے ہیں اور خبر کو مرفوع کرتے ہیں۔
یہ چھ حروف ہوتے ہیں:
"إنّ" اور "أنّ" جو جملہ اسمیہ کے مضمون کی تصدیق کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "إن زيدا قائم" یعنی زید کے قیام کی تصدیق کی گئی ہے، اور "بلغني أن زيدا منطلق" یعنی مجھے اطلاع ملی کہ زید روانہ ہو گیا ہے۔
"كأنّ" تشبیہ کے لیے ہے، جیسے: "كأن زيدا أسد" یعنی زید گویا شیر ہے۔
"لكنّ" استدراک کے لیے ہے، یعنی پچھلی بات سے پیدا شدہ توہم کو دور کرنے کے لیے، لہذا یہ صرف دو مختلف مفہوم جملوں کے درمیان آتی ہے، جیسے: "غاب زيد لكن بكرا حاضر" یعنی زید غائب ہے لیکن بکر حاضر ہے، اور "ما جاءني زيد لكن عمرا جاءني" یعنی زید نہیں آیا لیکن عمرو آیا۔
"ليت" تمنا کے لیے ہے، جیسے: "ليت زيدا قائم" یعنی میں زید کے قیام کی تمنا کرتا ہوں۔
"لعلّ" ترغیب کے لیے ہے، جیسے: "لعل السلطان يكرمني" یعنی شاید سلطان مجھے عزت دے۔
تمنّا اور ترجّی (آرزو اور امید) کے درمیان فرق یہ ہے کہ تمنّا ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ممکن ہوں جیسا کہ پہلے بیان ہوا، اور ان چیزوں کے لیے بھی جو ناممکن ہوں، جیسے: "لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"، جبکہ ترجّی صرف ممکن چیزوں کے لیے مخصوص ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاتا: "لَعَلَّ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"۔
"ما" کافہ (جو عمل کو روک دیتی ہے) ان دونوں پر داخل ہوتی ہے اور ان کو عمل سے روک دیتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ" اور"إنما زيد منطلق" ۔
87 تیسیر النحو۔ سبق:۱۰
فصل خبر إن وأخواتها (أي الحروف المشبهة بالأفعال)
هذه الحروف تدخل على المبتدأ والخبر، فتنصب المبتدأ ويسمى اسمها، وترفع الخبر ويسمى خبرها.
وهي:
ا۔ إنّ: للتوكيد، نحو: إن المجتهد ناجح
۲۔ أنّ : للتوكيد، ولا بد أن يتقدمها كلام، نحو: يسرني أن خالداً ناجح .
۳۔ كأن للتشبيه إذا كان خبرها جامدا، وللظن إذا كان خبرها مشتقا نحو: كأن محمدا أسد ( للتشبيه) وكأنك فاهم (للظن)
۴۔ لكن : للاستدراك، أي لأن تثبت لما بعدها حكما مخالفا لحكم ما قبلها ولذلك لا بد أن يتقدمها كلام، نحو: الكتاب صغير لكنه مفيد.
۵۔ ليت للتمني، أي محبة حصول الشيء، ويكون ذلك في الممكن نحو: ليت زيدا قائم وغير الممكن نحو: ليت الشباب يعود يوماً.
۶۔ لعل للترجي، وهو ترقب شيء لا وثوق بحصوله، ولا يكون ذلك إلا في الممكن سواء أكان محبوبا نحو : لعل الله يرحمنا، أم مكروها، نحو: لعل العدو يقدم.
وحكمه في كونه مفردا، أو جملة، أو شبه جملة، أو معرفة أو نكرة كحكم خبر المبتدأ.
ولا يجوز تقديم أخبارها على أسمائها إلا إذا كان الخبر ظرفا أو جارا ومجرورا والاسم معرفة، نحو: إن في الدار زيدا، وإن مع خالد زيدا.
ويجب تقديم خبرها إذا كان اسمها نكرة، ولا مسوغ لكون تلك النكرة اسما لها سوى تقديم خبرها، نحو: إن مع العسر يسرا.
ويجب تقديم الخبر أيضا في موضعين:
أولها: إذا لزم من تأخيره عود الضمير على متأخر لفظا ورتبة، نحو: إن في الدار صاحبها.
وثانيهما: إذا كان الاسم مقترنا بلام التأكيد، نحو: إن في ذلك لعبرة
"إن" اور اس کے اخوات (حروف مشبہ بالفعل) کا بیان:
یہ حروف مبتدأ اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، جس سے مبتدأ منصوب ہو جاتا ہے اور اسے "اسم" کہا جاتا ہے، جبکہ خبر مرفوع ہو جاتی ہے اور اسے "خبر" کہا جاتا ہے۔
یہ حروف درج ذیل ہیں:
۱۔ إنّ: یہ تاکید کے لیے آتا ہے، جیسے: إن المجتهد ناجح (بیشک محنتی کامیاب ہے)۔
۲۔ أنّ: یہ بھی تاکید کے لیے آتا ہے، لیکن اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے: يسرني أن خالداً ناجح (مجھے خوشی ہے کہ خالد کامیاب ہے)۔
۳۔ كأنّ: یہ تشبیہ کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر جامد ہو، اور گمان کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر مشتق ہو، جیسے:
- كأن محمداً أسد (گویا محمد شیر ہے) — تشبیہ کے لیے۔
- كأنك فاهم (گویا تم سمجھ رہے ہو) — گمان کے لیے۔
۴۔ لكنّ: یہ استدراک کے لیے آتا ہے، یعنی بعد میں آنے والی چیز کے لیے ایسا حکم جو پہلے سے مختلف ہو، اور اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے:
- الكتاب صغير لكنه مفيد (کتاب چھوٹی ہے لیکن مفید ہے)۔
۵۔ ليت: یہ تمنا (آرزو) کے لیے آتا ہے، یعنی کسی چیز کے ہونے کی خواہش، چاہے وہ ممکن ہو یا ناممکن، جیسے:
- ليت زيدا قائم (کاش زید کھڑا ہو) — ممکن کی تمنا۔
- ليت الشباب يعود يوماً (کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے) — ناممکن کی تمنا۔
۶۔ لعلّ: امید اور توقع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا مطلب کسی ایسے امر کا انتظار کرنا ہوتا ہے جس کے حاصل ہونے کا یقین نہ ہو۔ یہ صرف اسی چیز کے لیے آتا ہے جو ممکن ہو، چاہے وہ پسندیدہ ہو یا نہ ہو۔جیسے:
- لعل الله يرحمنا (شاید اللہ ہم پر رحم کرے) — محبوب چیز کی امید۔
- لعل العدو يقدم (شاید دشمن آگے بڑھے) — ناپسندیدہ چیز کی امید۔
خبر کے احکام:
خبر کا مفرد، جملہ یا شبه جملة ہونا اور اس کا نکرہ یا معرفہ ہونا، ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ مبتدأ کی خبر میں ہوتا ہے۔
خبر کے اسم پر مقدم ہونے کی اجازت:
خبر کو اسم پر مقدم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس صورت میں جب خبر ظرف یا جار و مجرور ہو اور اسم معرفہ ہو، جیسے:
- إن في الدار زيدا (بیشک زید گھر میں ہے)
- إن مع خالد زيدا (بیشک زید خالد کے ساتھ ہے)۔
خبر کے مقدم ہونے کی وجوبی صورتیں:
خبر کو دو صورتوں میں مقدم کرنا واجب ہوتا ہے:
۱۔ اگر تاخیر کی صورت میں ضمیر کا مرجع مؤخر ہو جائے، جیسے:
- إن في الدار صاحبها (بیشک اس کا مالک گھر میں ہے)۔
۲۔ جب اسم "لام تاکید" کے ساتھ ہو، جیسے:
- إن في ذلك لعبرة (بیشک اس میں عبرت ہے)۔
88 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱، ۳
اِنّ: جملہ اسمیہ کے شروع میں داخل ہوتا ہے۔ جیسے : الْكِتَابُ سَهْلٌ إِنَّ الْكِتَابَ سَهْلٌ
یہاں یہ بات یاد رہے کہ اِنَّ داخل ہونے کے بعد پہلا لفظ (مبتدا) منصوب ہو جاتا ہے اِنَّ داخل ہونے کے بعد مبتدا کو اِسمُ اِنَّ ( إِنَّ کا اسم ) اور خبر کو خَبَرُ إِنَّ ( إِنَّ کی خبر ) کہتے ہیں۔
اِنَّ معنی میں زور اور تاکید پیدا کر دیتا ہے ، جس کے لئے اردو میں بے شک ، بلاشبہ ، یقیناً اور ”ہی“ کا استعمال ہوتا ہے ۔
نوٹ :- اگر مبتدا پر اِنَّداخل ہونے سے پہلے ایک ضمہ ہو تو وہ ایک فتحہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے :
الْمُدَرِّسُ جَدِيدٌ إِنَّ الْمُدَرِّسَ جَدِيدٌ
آمِنَةٌ طَالِبَةٌ ان آمِنَة طالبة
لیکن اگر مبتدا پر دو ضمہ ہوں تو اِنَّ داخل ہونے پر وہ دو فتحہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسے :
حَامِدٌ مَرِيضٌ إِنَّ حَامِدًا مَرِيْضٌ
اگر مبتدا ضمیر ہو تو اِنَّ داخل ہونے کے بعد وہ ضمیر نصب سے بدل جاتا ہے۔ جیسے
ضمیر
أَنْتَ غَبِي إِنَّكَ غَبِيٌّ
کأنّ :( گویا، ایسا لگتا ہے ) یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہنوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :
كَأَنَّ الْإِمَامَ مَرِيْضٌ گویا امام مریض ہیں
مَنْ هذِهِ الْفَتَاةُ ؟ كَأَنَّهَا أُخْتُك لڑکی کون ہے؟ گویا یہ تیری بہن ہے
كَأَنَّكَ مِنَ الْهَنْدِ گویا تم ہندستان کے ہو
لكنّ (لیکن): یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :
بلال مُجْتَهَدٌ وَلَكِنَّ حَامِدًا كَسَلَانُ بلال محنتی ہے لیکن حامد کاہل ہے
أَخِي مُتَزَوِّجُ وَ لَكِنِّي عَزَبٌ میرا بھائی شادی شدہ ہے لیکن میں کنوارا ہوں
سَيَّارَتِي قَدِيْمَةٌ وَ لَكِنَّهَا قَوِيَّة میری کار پرانی ہے لیکن وہ مضبوط ہے
لَعَلَّ: یہ بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور اِنَّ کی طرح عمل کرتا ہے، اس کو اختُ إِنَّ یعنی ان کی بہن کہا جاتا ہے۔ یہ دو معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے :
ا :- امید ہے، توقع ہے۔
۲:- خدشہ ہے، اندیشہ ہے، خوف ہے۔ جیسے
الجوُّ جَمِيلٌ .موسم خوشگوار ہے
لَعَلَّ الْجَوَّ جَمِيلٌ امید ہے کہ موسم خوشگوار ہوگا
الْمُدَرِّسُ مَرِيض استاد بیمار ہیں
لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ مَرِيضٌ اندیشہ ہے کہ استاذ یمار ہیں
89 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۱
حروف مشبه بالفعل یعنی فعل سے مشابہ حروف
یہ کل چھ حروف ہیں: إِنَّ أَنَّ كَأَنَّ لَيْتَ، لَكِنَّ، لَعَلَّ. انہیں إِنَّ اور اس کی اُخوات بھی کہا جاتا ہے، یہ دو پہلؤوں سے فعل کے مشابہ ہیں ۔
(۱) معنی کے لحاظ سے، إِنَّ اور اَنَّ کا معنی ہے: میں تاکید کے ساتھ کہتا ہوں، کاَنَّ : میں سمجھتا ہوں، لکن : میں تصحیح کرتا ہوں ، لیت میں تمنا کرتا ہوں، اور لعل کا معنی ہے: میں امید کرتا ہوں مجھے اندیشہ ہے۔
(۲) اعراب میں: چنانچہ جس طرح مفعول بہ منصوب ہوتا ہے اسی طرح ان حروف کے اسماء بھی منصوب ہوتےہیں۔
حروف مشبهة بالفعل کے معانی
إِنَّ، أَنَّ یہ دونوں تاکید کے اظہار کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے : ﴿إنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [المائدة : ٢] بے شک اللہ زبردست عذاب والا ہے ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [الأنفال: ۲۵] اور یقین جانو کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
كاَنَّ تشبیہ کا معنی دیتا ہے، جیسے: كَأَنَّ الْعِلْمَ نُور گویا کہ علم نور ہے کبھی یہ ظن اور گمان کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، جیسے : كَأَنَّني أَعْرِفُكَ شاید میں تمہیں پہچانتا ہوں
لٰكِنَّ استدراک کا معنی دیتا ہے ، جیسے: حَامِدٌ ذَكِيٌّ لِٰكِنَّهُ كَسۡلانُ حامد ذہین ہے لیکن وہ ست (کابل)
ہے۔
لیت: حسرت اور تمنا کے اظہار کے لئے آتا ہے، جیسے لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ. کاش جوانی لوٹ آتی۔
لعل: توقع یا اندیشہ کو بتاتا ہے، جیسے: لَعَلَّ الله يَغْفِرُ لِي. امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دیں گے۔ لَعَلَّ الْجَرِيْحَ يَمُوتُ ڈر ہے کہ زخمی مرجائے گا۔
یہ حروف مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں ، اِنَّ کے داخل ہونے کے بعد مبتدا ان کا اسم اور خبر ان کی خبر کہلاتے ہیں، جیسے:
مبتدا: اللّٰه خبر: غَفُوْرٌ
اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ
اسم انَّ : اللّٰهَ
خبر اِنّ : غَفُوْرٌ
مبتدا کے برخلاف اگر انّ اور اس کے اخوات کی خبر جملہ فعلیہ ہو تو اِنّ کا اسم نکرہ ہوسکتا ہے، جیسے: كَأَنَّ شَيْئًا لَمْ يَحدُث گویا کہ کچھ نہیں ہوا۔
مبتدا کی خبر کی طرح إِنَّ اور اس کی اخوات کی خبر بھی مفرد، جملہ یا شبہ جملہ ہوگی، جیسے:
ا۔ مفرد۔﴿ إِنَّ اللهَ سَرِ يعُ الْحِسَابِ ﴾ [آل عمران: ۱۹۹] یقینا اللہ تعالی بہت جلد حساب لینے والے ہیں۔
۲۔ جملہ
الف- جمله فعليه: ﴿ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا) [الزمر: ۵۳] یقینا اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں۔
ب - جملہ اسمیہ: ﴿إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ [لقمان: ۲۴] یقینا صرف اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔
۳۔ شبہ جملہ
ا۔ جار ومجرور : كَأَنَّكَ مِنَ الصِّيْنِ. غالبا تم چین کے باشندے ہو۔
ب۔ ظرف : لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ عِنْدَ الْمُدِيرِ. غالبا استاد ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں۔
اگر خبر شبہ جملہ ہو تو وہ اسم سے پہلے بھی آسکتی ہے، جیسے:
﴿إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ لا ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ﴾ [الغاشية: ۲۶،۲۵] یقینا ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہے ، پھر بے شک ہمارے ہی ذمہ ہے ان کا حساب لینا۔
اصل ترتیب یوں ہوگی: إِنَّ إِيَابَهُمْ إِلَيْنَا ثُمَّ إِنَّ حِسَابَهُمْ عَلَيْنَا . اسم چونکہ معرفہ ہے اس لئے اس کی تاخیر جائز ہے، ضروری نہیں، اگر اسم نکرہ ہو تو لازما وہ مؤخر ہوگا ، جیسے:
﴿إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا﴾(۱)[المزمل:١٣] یقینا ہمارے پاس سخت بیڑیاں اور جہنم ہے۔
﴿إنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [الانشراح: ٦] یقین تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
یہاں یوں کہنا درست نہ ہوگا: إِنَّ أَنكالاً لَدَيْنَا يَا إِنَّ يُسْرًا مَعَ الْعُسْرِ.
اگر لیت کا اسم ضمیر متکلم ی ہو تو اس کے ساتھ لازما نونِ وقایہ استعمال ہوگا ، جیسے: لَيْتَنِي طِفل کاش میں ایک بچہ ہوتا۔
اگر إِنَّ ، أَنَّ كَأَنَّ، لکن کا اسم بنے تو نونِ وقایہ کا استعمال جائز ہے ،ضروری نہیں ، جیسے: إِنِّي إِنَّنِي. أَنِّي أَنَّنِي. كَأَنِّي، كَأَنَّنِي. لكني، لكنني . لَعَلَّ کے ساتھ نونِ وقایہ استعمال نہیں ہوگا ، ہم کہتے ہیں : لَعَلى لَا أَرَاكَ مُدَّةً طَوِيْلَةٌ. شاید میں ایک لمبے عرصے تک تم سے نہ مل سکوں گا۔
90 المفصل۔ سبق:
الخبر والاسم في بابي كان وإن
لما شبه العامل في البابين بالفعل المتعدي شبه ما عمل فيه بالفاعل والمفعول ويضمر العامل في خبر كان في مثل قولهم الناس مجزيون بأعمالهم إن خيراً فخير وإن شراً فشر، والمرء مقتول بما قتل به أن خنجراً فخنجر وإن سيفاً فسيف، أي إن كان عمله خيراً فجزاؤه خير وإن كان شراً فجزاؤه شر.
والرفع أحسن في الآخر ومنهم من يرفعهما ويضمر الرافع أي أن كان معه خنجر فالذي يقتل به خنجر قال النعمان بن المنذر : قد قيل ذلك إن حقاً وإن كذبا ومنه الإطعام ولو تمراً وائتني بداية ولو حماراً. وإن شئت رفعت بمعنى ولو يكون ثمر وحمار، ادفع الشر ولو إصبعاً. ومنه أما أنت منطلقاً انطلقت، والمعنى لأن كنت منطلقاً، وما مزيدة معوضة من الفعل المضمر .
ومنه قول الهذلي:
أبا خراشة أما أنت ذا نفر
وروى قوله:
إما أقمت وأما أنت مرتحلاً فالله يكلأ ما تأتي وما تذرا
بكسر الأول فتح الثاني.
91 تمارین
92 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۰
اَلتَّمْرِيْنُ (115)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اِنَّ الرِّيْحَ شَدِيْدَةٌ.
(2) اِنَّ الْبَخِيْلَ عَدُوٌّ لِنَفْسِهِ.
(3) اِنَّ الْهَوَاءَ الطَّلْقَ مُفِيْدٌ.
(4) سَرَّنِي اَنَّ النَّتيجةَ حسنةٌ.
(5) كَأَنَّ الشَّمْسَ قُرصٌ مِنَ الذَّهَبِ.
(6) الرَّجلُ بَخيلٌ ولَكنّ ابنَهُ جوادٌ.
(7) اِنَّ الْمُجِدِّيْنَ فَائزونَ.
(8) ليتَ النّاسَ منصفون.
(9) ليتَ الحياةَ خَالِيَةٌ من الكدرِ.
(10) لعَلَّ القِطَارَ مُتَاَخِّرٌ.
(11) لَعَلَّ الْعُمَّالَ مُتْعَبُوْنَ.
(12) اِنَّ الْفَتَياتِ مُهَذَّبَاتٌ.
اَلتَّمْرِيْنُ (116)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) واقعی محمود ایک محنتی طالب علم ہے۔
(۲) واقعی یہ محل بڑا شاندار ہے۔
(۳) یہ شہر واقعی خوبصورت ہے مگر اس کی سڑکیں تنگ ہیں۔
(۴) مجھے خوشی ہوئی کہ خالد پاس ہے۔
(۵) کاش تمام طلبہ کامیاب ہوتے۔
(۶) گویا یہ محل ایک بلند پہاڑ ہے۔
(۷) اساتذہ گویا مہربان باپ ہیں۔
(۸) محمود گرفتار ہے مگر وہ بے گناہ ہے۔
(۹) دوست بہت ہیں پر وفادار تھوڑے ہیں۔
(۱۰) یہ لوگ اپنی نیتوں میں مخلص ہیں مگر خطاکار ہیں۔
(۱۱) کاش تم لوگ محنتی طالب علم ہوتے۔
(۱۲) شاید یہ لوگ سیاح ہیں۔
(۱۳) اس تالاب کا پانی گویا صاف آئینہ ہے۔
(۱۴) ستارے گویا روشن چراغ ہیں۔
اَلتَّمْرِيْنُ (117)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اِنَّ اللهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ.
(2) اِنَّ الصَّلاَةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ.
(3) اِنَّ السَّفِيْنَةَ لَا تَجْرِيْ عَلىَ الْيُبْسِ.
(4) لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنِيْ صَلاَحًا.
(5) لَيْتَكُمْ تَجْتَهِدُوْنَ قَبْلَ الْاِمْتِحَانِ.
(6) كَأَنَّ اُذُنَي الفِيْلِ مِرْوَحَتَانِ.
(7) اِنَّ الْجَاهِلَ يُسِيْءُ اِلىَ نَفْسِهِ.
(8) اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ.
(9) اِنَّ الْاُمَّهَاتِ يُهَذِّبْنَ الْبَنَاتِ.
(10) وَجَدْتُ اَنَّ انغماسَ المرءِ فِي التَّرف يَضُرُّهُ.
(11) اَرَى اَنَّ بَائِعِي الصُّحُفِ قَدْ كَثُرُوْا.
(12) اِنَّ الْاَغْنِيَاءَ كَثِيْرُوْنَ وَلَكِنَّهُمْ لاَ يُؤَاسُوْنَ الْفُقَرَاءَ.
اَلتَّمْرِيْنُ (118)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) ورزش جسم کو واقعی طاقت ور بناتی ہے۔
(۲) واقعی محمود بڑی اچھی تقریر کرتا ہے۔
(۳) کاش تم میری نصیحت پر عمل کرتے۔
(۴) تم دونوں ذہین تو ہو لیکن پڑھنے میں محنت نہیں کرتے۔
(۵) میں جانتا تھا کہ یہ طلبہ امتحان میں ناکام ہوں گے۔
(۶) شاید یہ لوگ اب پڑھنے میں محنت کریں۔
(۷) لوگ دنیا کی زندگی میں منہمک ہیں گویا وہ کبھی نہیں مریں گے۔
(۸) بخیل سمجھتا ہے کہ مال ہمیشہ رہنے والا ہے۔
(۹) کاش ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔
(۱۰) اسلام ہی دین برحق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(۱۱) کاش مسلمان اسلام کے احکام پر عمل کرتے۔
(۱۲) مجھے خوشی ہوئی کہ تم لوگ امتحان میں کامیاب ہوئے۔
(۱۳) اس مسجد کے دونوں منارے واقعی بہت بلند ہیں۔
(۱۴) گویا یہ دونوں آسمان سے سرگوشی کررہے ہیں۔
93 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۵
التَّمْرِين (۱)
بَيِّنْ كُلَّ اِسْمٍ وَخَبَرٍ لِـ "إِنَّ" وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَاتِ الآتِيَةِ:
1. لَعَلَّ التُّفَّاحَ كَثِيرٌ.
2. وَجَدْتُ أَنَّ الْعَقْرَبَ سَامٌّ.
3. لَيْتَ الْبَلِيدَ مُجْتَهِدٌ.
4. إِنَّ النَّظَافَةَ وَاجِبَةٌ.
5. لَعَلَّ التَّاجِرَ رَابِحٌ.
6. اِمْتَنَعَ الْمَطَرُ وَلَكِنَّ السَّحَابَ كَثِيرٌ.
التَّمْرِين (۲)
اِدْخِلْ "إِنَّ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1. النُّجُومُ لَامِعَةٌ.
2. الْبَعُوضُ كَثِيرٌ.
3. السَّيَّارَةُ سَرِيعَةٌ.
4. الْبَعُوضُ كَثِيرٌ.
5. الشِّتَاءُ مُقْبِلٌ.
6. الْمَاءُ كَدِرٌ.
التَّمْرِين (۳)
اِدْخِلْ "لَيْتَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1. الدَّرَاهِمُ كَثِيرَةٌ.
2. الشَّارِعُ وَاسِعٌ.
3. الْبَطَّةُ سَمِينَةٌ.
4. الْعُطْلَةُ قَرِيبَةٌ.
5. الْبَحْرُ هَادِئٌ.
6. الْبَائِعُ أَمِينٌ.
التَّمْرِين (۴)
اِدْخِلْ "لَعَلَّ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1. الْمُسَافِرُ قَادِمٌ.
2. الْكُوبُ نَظِيفٌ.
3. الْقِصَّةُ لَذِيذَةٌ.
4. الْقُمْطَرُ مُرَتَّبٌ.
5. الْخَبَرُ صَحِيحٌ.
6. الدَّرْسُ سَهْلٌ.
التَّمْرِين (۵)
ضَعْ حَرْفًا مُنَاسِبًا فِي الْمَكَانِ الْخَالِي مِنْ كُلِّ جُمْلَةٍ وَأَشْكِلْ آخِرَ الْاِسْمَيْنِ بَعْدَهُ:
1. يَسُرُّنِي ..... النَّتِيجَةَ.
2. الْوَالِدُ مُؤَدَّبٌ ..... الْوَلَدَ قَبِيحٌ.
3. الْهَوَاءُ شَدِيدٌ ..... الْجَوَّ دَافِئٌ.
4. اِشْتَدَّ الْمَطَرُ ..... الشَّارِعَ نَظِيفٌ.
5. مَا عَلِمْتُ ..... الْمِفْتَاحَ ضَائِعًا.
6. يُؤْلِمُنِي ..... الْبِنْتَ مَرِيضَةٌ.
7. سَمِعْتُ ..... الْفَيَضَانَ.
8. أَخْبَرَ الْحَمَّالُ ..... الْقِطَارَ مُتَأَخِّرًا.
9. هَلْ بَلَغَكَ ..... النِّيلَ مُرْتَفِعًا؟
10. الْحَدِيقَةُ جَمِيلَةٌ ..... الْبُسْتَانِيَّ مُهْمِلٌ.
التَّمْرِين (۶)
أَتِمَّ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ الْخَبَرِ الْمَحْذُوفِ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي ثُمَّ أَضْبِطْ أَوَاخِرَ كَلِمَاتِهَا:
1. إِنَّ الْأَسَدَ .............
2. الْكِتَابُ مُفِيدٌ وَلَكِنَّ الصُّوَرَ .............
3. شَعَرْتُ أَنَّ الْبَرْدَ ..................
4. كَانَ الْهَرُّ ...........
5. لَعَلَّ الْمُجْرِمَ .........
6. لَيْتَ الدَّوَاءَ..........
7. يَسُرُّنِي أَنَّ الْعِيدَ......
8. كَانَ الْبَيْتُ ..............
التَّمْرِين (۷)
أَتِمَّ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ الْاِسْمِ الْمَحْذُوفِ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي ثُمَّ أَضْبِطْ آخِرَهُ بِالشَّكْلِ:
1. لَيْتَ ..... مُقْفَلٌ.
2. تَعَلَّمْتُ أَنَّ .......... مُتَحَرِّكَةٌ.
3. لَعَلَّ ..... مُعْتَدِلٌ.
4. كَانَ ...... فِضَّةٌ.
5. إِنَّ ..... سَمِينَةٌ.
6. الْحِبْرُ جَيِّدٌ وَلَكِنَّ .... مَقْصُوفٌ.
7. لَيْتَ ..... جَدِيدٌ.
8. كَانَ .... عَاقِلٌ.
التَّمْرِين (۸)
اِسْتَعْمِلْ كُلَّ حَرْفٍ مِنَ الْحُرُوفِ الَّتِي تَنْصِبُ الْمُبْتَدَأَ وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ فِي الْجُمْلَتَيْنِ.
التَّمْرِين فِي الْإِنْشَاءِ (۹)
هَاتْ سِتَّ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الْفِيلِ بِحَيْثُ تَشْتَمِلُ كُلُّ جُمْلَةٍ عَلَى حَرْفٍ مِنَ الْحُرُوفِ النَّاصِبَةِ لِلْمُبْتَدَأِ الرَّافِعَةِ لِلْخَبَرِ مَعَ اِسْتِيفَاءِ جَمِيعِ الْحُرُوفِ.
تَمْرِينٌ فِي الْإِعْرَابِ (۱۰)
نَمُوذَجٌ:
۱۔ إِنَّ الْأَدَبَ وَاجِبٌ.
إِنَّ: حَرْفُ تَوكِيدٍ.
الْأَدَبَ: اِسْمُ إِنَّ مَنْصُوبٌ.
وَاجِبٌ: خَبَرُ إِنَّ مَرْفُوعٌ.
۲۔ كَأَنَّ الْهَرَمَ جَبَلٌ.
كَأَنَّ: حَرْفُ تَشْبِيهٍ.
الْهَرَمَ: اِسْمُ كَأَنَّ مَنْصُوبٌ.
جَبَلٌ: خَبَرُ كَأَنَّ مَرْفُوعٌ.
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الآتِيَةَ:
1. إِنَّ الْجُنْدِيَّ شُجَاعٌ.
2. كَأَنَّ الْعِلْمَ نُورٌ.
3. لَعَلَّ الْمَنْزِلَ قَرِيبٌ.
4. لَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ.
5. عَلِمَ الْمُدَرِّسُ أَنَّ النَّاظِرَ مُقْبِلٌ.
6. كَثُرَ الْبَلَحُ وَلَكِنَّ الثَّمَنَ مُرْتَفِعٌ.
94 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۰،۱۱
التمرین ( ۱ )
بين العامل والمُهْمَلَ من إن المخففة وأخواتها في الجمل الآتية ، وبين للعامل اسمه وخبره :
(۱) إن الكذب ممقوت۔
(۲) سرني أن ليس بينكم خلاف
(۳) كأن لم تنفعك نصيحتي .
(٤) إن هؤلاء الجنود لباسلون .
( ٥ ) رأيت أن لا صديق وفي .
(۶) نضر الزهر وكأن لم يكن ذابلا .
(۷) المدينة جميلة لكن شوارعها ضيقة
(۸) إن اليأس لقاتل .
التمرین ( ۲ )
أدخل إن المخففة على كل جملة من الجمل الآتية، واجعلها مرة عاملةومرة مهملة :
(۱) أبوك طبيب ماهر۔
(۲) ذو المال محترم .
( ۳) المجدون فائزون۔
(۴) المقصرون ملومون
( ٥ ) الفتيات مهذبات۔
( ٦ ) البقرات سمان
(۶) القراءة مفيدة۔
(۸) البنت مطيعة
التمرين (۳)
ادْخِل أَن الْمُخَفَّفَةَ عَلَى الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَبَيِّن اسْمَهَا وَخَبَرَهَا فِي كُلِّ جُمْلَةٍ.
(۱) لَا سَبِيلَ إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ اَلْسنة الْعَامَةِ۔
(۲) لَيْسَ تَحْتَ الشَّمْسِ جَدِيد
(۳) رِضاالنَّاسِ غَايَةٌ لَا تُدْرَكُ
(۴) قَدْ ارْتَفَعَ سعر الْقُطْن
(۵) سَيَنْدَمُ الظَّالِمُونَ
(۲) لَنْ يَضِيعَ الْعُرْفُ بَيْنَ اللَّهِ وَالنَّاسِ
(۷) عَوَاقِبُ الصَّبْرِ مَحْمُودَةٌ
(۸) لَا تَسُودُ الْأُمَمُ إِلَّا بِالْأَخْلاقِ
التَّمْرِينُ (۴)
ادْخِل لكِن الْمُخَفَّفَةَ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الْآتِيَةِ، وَضَع قَبْلَهَا مَا يُنَاسِبُ مِنَ الْكَلَامِ وَاشْكِلُ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بعدھا.
(۱) النِّظامُ مُضْطَرَب
(۲) الرِّبحُ قَلِيل
(۳) الصُّنَّاعُ قَلِيلُونَ
(۶) النَّوافِذُ مُفَتَّحَةٌ
(۴) الْأَسْعَارُ رَخِيصَةٌ
(۵) الطَّرِيقُ وَعْرَةٌ
تمرين ( ٥ )
كون تسع جمل تبتدئ الثلاث الأولى منها بإن المخففة العاملة، والثلاث الثانية بإن المخففة المهملة ، والثلاث الأخيرة بكأن المخففة۔
تمرين في الإعراب ( ٦ )
ا - نموذج :
رأيت أن ليس للجاهل احترام ..
رأيت - فعل وفاعل
أن - مخففة من الثقيلة وهى حرف مبنى على السكون ، واسمهاضمير الشأن محذوف .
ليس - فعل ماض ناقص .
للجاهل - جار ومجرور خبر ليس .
احترام - اسم ليس ، وجملة ليس للجاهل احترام في محل رفع خبر أن المخففة ، وأن وما بعدها في تأويل مصدر سَدَّ مَسَد مفعولي رأى .
ب - أعرب الجمل الآتية :
(۱) إن البخل لعار .
(۳) وجدته صبوراً كأن لم تلم به نائبة .
(۲) وجدت أن ليس لك عذر
(۴) القطن قليل لكن سعره رخيص
تمرین ( ۷ )
اشرح قول إبراهيم بن المهديّ في رثاء ابنه وأعرب البيت الأول :
كَأَنْ لَمْ يَكُن كالغصن في مَيْعَةِ الضحا سقاهُ النَّدَى فَاهْتَزَّ وَهُوَ رطيب
كَأَنْ لَمْ يَكُنْ كَالدُّرِّ يَلمَعُ نُورُهُ بِأَصْدَافِهِ لَمَّا تَشِنهُ ثُقُوبُ
كَفَ إِنَّ وأخواتها عن العمل
التَّمْرِينُ (۱)
بَيِّنِ الْحُرُوفَ الْعَامِلَةَ وَالْمُلْغَاةَ مِنْ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَةِ الْآتِيَةِ، وَبَيِّنۡ سَبَبَ الْإِلْغَاءِ فِيمَا لَمْ يَعْمَل مِنْهَا .
زرْتُ سُوْقاً مِنْ أَسْوَاقِ الرِّيفِ مَرَّةً وَمَا كُنتُ أَبْغِي شِرَاءً وَلَا بَيْعاً، وَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْرِفَ شَيْئًا مِنْ عَادَاتِ الْقَوْمِ وَأَعْمَالِهِمْ فِي هَذِهِ السُّوقِ، قَصَدْتُ إِلَيْهَا مُبَكِّراً، فَخُيِّلَ إِلَىَّ إِنَّمَا الطَّرُقُ الْمُؤَدِّيَةُ إِلَيْهَا أَنْهَارٌ تَزْخَرُ بِالْقَرَوِیيِّنَ: مِنْ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ وَغِلْمَانِ، وَمَا بَلَغْتُ بَابَهَا حَتَّى شَهِدْتُ النَّاسَ يَتَزَاحَمُونَ وَ يَتَدَافَعُونَ كَأَنَّمَا هُمْ فِي مَلْحَمَةٍ أَوْ معْرَكَةٍ حَامِيَةٍ. دَفَعْتُ بِنَفْسِي بَيْنَ الدَّافِعِينَ، وَدَخَلْتُ السُّوقَ فَإِذَا صَخَبٌ وَضَجِيجٌ، وَنِزَاعٌ وَشِجَارٌ وَأَقْذَارٌ مُتَراكِمَةٌ وَغُبَارٌ ثائِرٌ وَأَقْوَاتٌ يغطيهَا جَيْش مِنَ الْبُعُوضِ وَالذُّبَابِ وَسِلَعٌ مَعْرُوْضَةٌ فِي غَيْرِ نِظَامٍ، وَالنَّاسُ حَيَارَى لَا يَدْرُونَ مِنْ أَثْمَانِهَا شَيْئًا، وَلَكِنَّمَا يَتَسَاوَمُوْنَ فِيهَا عَلَى غَيْرِ هُدًى فَمَرَّةً يَرْبَحُونَ وَمِرَارًا يَخْسَرُونَ.
وَلَيْتَمَا لِهَذِهِ الْأَسْوَاقِ نِظَامًا صِحيا دَقِيقًا وَقَوَانِينَ تَحُولُ دُونَ غَبنِ النَّاسِ وَضَرَرِهِمْ.
التَّمْرِينُ (۲)
بَيِّن مَا جَاءَ عَامِلاً وَمَا جَاءَ غَيْرعَامِلٍ مِنْ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ وَوَضح سَبَبَ الإِلْغَاءِ فِيمَا لَمْ يَعْمَل مِنْهَا ..
(۱) إِنَّمَا الرُّجُوعُ إِلَى الْحَقِّ فَضِيلَة
(۲) إِنَّ الْمَطَرَ غَزِير
(۳) إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات
(۴) كَأَنَّ الْقَصرَ جَبَل شَامخ
(۵) كَأَنَّمَا يَعْقِلُ الْحَيَوَان
(۶) كَأَنَّ الشَّمْسَ قرص مِنَ الذَّهَب
(۷) سَتَعْلَمُونَ أَنَّمَا يُكَافَأُ الْمُجِدُّ
(۸) سَاءَ نِي أَنَّ أَبَاكَ مَرِيضٌ
(۹) الرَّجُلُ بَخِيلٌ وَلَكِنَّمَا ابْنُهُ جَوَادٌ
(١٠) تَعِبَ الْعَامِلُ وَلَكِنَّ الْعَمَلَ قَلِيلٌ
(۱۱) لَيْتَمَا النَّاسَ مُنْصِفُونَ
(۱۲) لَيْتَمَا الْحَيَاةُ خَالِيَةٌ مِنَ الْكَدِرِ
(۱۳) لَعَلَّ الْجُيْشَ مُنتَصِرٌ
(۱۴) لَعَلَّمَا الصِّنَاعَةُ نَاهِضَةٌ
التَّمْرِينُ (۳)
صِل إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ بِمَا الزَّائِدَةِ، وَبَيِّن مَا يَجِبُ إِهْمَالُهُ مِنْهَا وَمَا يَجُوزُ.
(۱) إِنَّ الرِّيحَ شَدِيدَةٌ
(۲) إِنَّ اُذُنَى الْحِصَانِ صَغِيرَتَانِ
(۳) أُعْلِمْتُ أَنَّ الزرافة طَوِيلَةُ الْعُنُقِ
(۴) سرنِي أَنَّ التَّاجِرَ رَابِح
(۵) كَأَنَّ الْمَاءَ مِرْآة
(۶) كَاَنَّ الْجَمَلَ سَفِينَةٌ
(۷) كَأَنَّ الْمُعَلِّمِينَ آبَاءٌ
(۸) لَيْتَ الْإِنْسَانَ مُخَلَّدٌ
(۹) لَيْتَ الرَّبِيعَ دَائِمٌ
(١٠) الْخَادِمُ حَاضِرٌ لِكِنَّ السَّيِّدَ غَائِبٌ
التَّمْرِينُ (۴)
ادْخِل إِنَّ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الْآتِيَةِ، وَاجْعَلهَا مَرَّةً مَقْرُونَةً بِمَا الزَّائِدَةِ وَمَرَّةً غَيْرَ مَقْرُونَةٍ، وَاشْكُل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ فِي الْحَالَتَيْنِ.
(۱) الْقَمَرُ مُضِىء
(۲) الثَّوْبُ نَظِيف
(۳) البَيْلُ فَائِض
(۴) الْبَنَاءُ شَاهِق
(۵) السَّفِينَةُ سَائِرَة
(۶) الذُّبَابُ مُضِر
(۷) الْمِصْبَاحُ مُتقد
(۸) الْجَمَلُ قَوِيٌّ
(۹) الْفِيلُ ضَخْمُ
التمرين (۵)
أَدْخِل لَيْتَمَا عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَاضْبِطَ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بِالشَّكْلِ وَبَيِّن مَا يَجُوزُ فِي ضَبْطِ اسْمِهَا۔
(۱) السَّمَاءُ مصحية
(۲) الْهَوَاءُ معتدل
(۳) الْمَهْرُ مذلل
(۴) الرَّبِيعُ قَرِيبٌ
(۵) الْمَالُ كَثِير
(۶) الصَّدِيقُ مُهَذَّب
(۷) الْعِتَابُ نَافِعُ
(۸) الصِّحةُ دَائِمَةٌ
(۹) الْبُسْتَانُ مُثْمِرٌ
التمرين (۶)
(۱) كَوِّن سِتَّ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ الثَّلَاث الْأُولى مِنْهَا عَلَى إِنَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَة وَالثَّلاث الثَّانِيَة عَلَى أَنَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَةِ أَيْضًا ، وَاشْكُل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ.
(۲) كَوِّنُ سِتَّ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ الثَّلَاث الْأُولى مِنْهَا عَلَى كَانَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَةِ، وَالثَّلَاث الثَّانِيَة عَلَى لكِنَّ الْمُتَّصِلَة بِهَا أَيْضاً ، وَأشْكل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ.
(۳) كَوِّنُ ثَلَاثَ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ كُلٌّ مِنْهَا عَلَى لَيْتَ الْمُتَّصِلَةُ بِمَا الزَّائِدَةِ وَبَيِّن مَا يَجُوزُ فِي ضَبْطِ اسْمِهَا.
تَمْرِينَ فِي الْأِعْرَابِ (۷)
(۱) نموذج ۔
إِنَّمَا ثَمَرَةُ الْعِلْمِ الْعَمَلُ.
إِنَّمَا .... إِنَّ حَرف تَوْكِيدٍ، وَمَا كَافَّةً عَنِ الْعَمَلِ.
ثَمَرَةُ مُبْتَدَا مَرْفُوعٌ .
الْعِلْمُ .... مُضَاف إِلَيْهِ مَجْرُورٌ .
الْعَمَلُ . خبَرُ الْمُبْتَدَا مَرْفُوعُ .
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ
(۱) إِنَّمَا الْبَشَاشَةُ حَبْلُ الْمَوَدَّةِ.
(۲) وَجَدْتُ أَنَّمَا صَدَاقَةُ الْجَاهِلِ تَعَبٌ .
(۳) الْإِخْوَانُ كَثِيرُونَ وَلَكِنَّمَا الْأَوفِيَاءُ قَلِيلُونَ.
(۴) لَيْتَمَا الْغَايَاتُ تُبْلغ بِالْامَانِيِّ.
التَّمْرِينُ (۸)
اشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبِ الْأَوَّلَ مِنْهُمَا.
إِنَّمَا الدُّنْيَا هبات وَعَوَارٍ مُسْتَرَدَّه
شِدَّةٌ بَعْدَ رَخاءٍ ورَخَاءٌ بعد شِدَّة
95 تیسیر النحو۔ سبق:۱۰
أسئلة
۱۔ ما هو عمل الحروف المشبهة بالأفعال اذكره بالتمثيل.
۲۔ أذكر معاني الحروف المشبهة بالأفعال مع الأمثلة.
۳۔ متى يجوز تقديم خبرها على اسمها ؟ بينه مع التمثيل.
۴۔ متى يجب تقديم خبرها على اسمها اذكره مع الأمثلة.
تمرينات
ا۔ كون أربع جمل مفيدة يتقدم فيها الخير على الاسم جوارًا في الأولى، ووجوباً في الثلاث الأخيرة
۲۔ حدد علامات النصب في الأمثلة الآتية، مع بيان أن خبر "إن وأخواتها مفرد أو جملة.
إن المسلمات يصلين، سمعت أن الرجلين أسلماء إن أبا بكر أول الخلف الراشدين زيد راسب لكن أخاه ناجح ، كأن الكمثرى سكر، ليت شبابي يعود إن المسلمين يتلون القرآن، لعل زيدا ناجح، ليت أخي حصل على الجائزة الأولى.
96 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
97 افعال ناقصہ کی خبر
افعال ناقصہ
وہ افعال ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کے مبتدأ اور خبر کو متاثر کرتے ہیں، لیکن خود فعل مکمل نہیں ہوتے۔ یہ افعال مبتدأ کو اسم اور خبر کو خبر بناتے ہیں، اور جملہ اسمیہ کا مطلب مکمل کرنے کے لیے خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ افعال ناقصہ کا کام یہ ہے کہ یہ مبتدأ کو مرفوع رکھتے ہیں (یعنی اسم کان کو رفع دیتے ہیں) اور خبر کو منصوب کر دیتے ہیں۔
اور وہ یہ ہیں :كان ، صار ، اصبح ، أمسى ، أضحى، ظل، بات ، ما برح ، ما دام، مازال ، ما انفك ، ما فتي، لَيْسَ
افعال ناقصہ کی تعریف:
افعال ناقصہ وہ افعال ہیں جو خود مکمل معنی نہیں دیتے، بلکہ ان کے معنی مکمل کرنے کے لیے خبر کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ افعال مبتدأ کو اسم کان اور خبر کو خبر کان منصوب بنا دیتے ہیں۔ ان کو افعال ناقصہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ افعال ناقص ہیں اور جملے کو مکمل کرنے کے لیے خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
افعال ناقصہ کا عمل:
افعال ناقصہ جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں تو:
مبتدأ (یعنی اسم) کو مرفوع کر دیتے ہیں اور اسے اسم کان کہا جاتا ہے۔
خبر کو منصوب کر دیتے ہیں اور اسے خبر کان کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
- كان: كان زيدٌ قائماً (زید کھڑا تھا)۔
- یہاں "زيد" اسم کان ہے اور مرفوع ہے، اور "قائماً" خبر کان ہے اور منصوب ہے۔
- ما زال: ما زال الطالبُ مجتهداً (طالب علم محنتی ہے)۔
- یہاں "الطالب" اسم ہے اور مرفوع ہے، اور "مجتهداً" خبر ہے اور منصوب ہے۔
افعال ناقصہ کے استعمال کے شرائط:
۲۔ بلا شرط استعمال:
کچھ افعال ناقصہ بغیر کسی شرط کے اسم اور خبر کو متاثر کرتے ہیں، جیسے: ’’كان، صار، أصبح، أضحى، أمسى، ظل، بات، ليس‘‘۔
۲۔ شرط کے ساتھ استعمال:
کچھ افعال ناقصہ کو عمل کرنے کے لیے شرط درکار ہوتی ہے، جیسے:
- ما زال، ما برح، ما فتی، ما انفك: ان افعال کے کام کرنے کے لیے شرط ہے کہ ان سے پہلے نفی (مثلاً: "ما") ہو، جیسے: ما زال زيدٌ قائماً۔
- ما دام: اس کے کام کرنے کے لیے شرط ہے کہ اس سے پہلے ما المصدرية الظرفية ہو، جیسے: أحسن ما دمتَ حياً۔
افعال ناقصہ کی خصوصیات:
- افعال ناقصہ ہمیشہ اسم اور خبر کے ساتھ آتے ہیں اور ان کا عمل مبتدأ اور خبر پر ہوتا ہے۔
- یہ افعال جملہ اسمیہ کو مکمل کرتے ہیں اور اسم کان کو مرفوع اور خبر کان کو منصوب کر دیتے ہیں۔
98 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد: ۱) سبق:۱۴
کان و اخواتھا (کان اور اس کے اخوات )
تَدْخُلُ كَانَ عَلَى المُبْتَدَإِ وَالخَبَرِ فَتَرْفَعُ الأَوَّلَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا وَتَنْصِبُ الثَّانِي وَيُسَمَّى خَبَرَهَا.
مِثْلَ كَانَ فِيمَا تَقَدَّمَ صَارَ وَلَيْسَ وَأَصْبَحَ وَأَمْسَى وَأَضْحَى، وَظَلَّ وَبَاتَ، وَتُسَمَّى هَذِهِ الأَفْعَالُ أَخَوَاتِ كَانَ.
لِكُلِّ فِعْلٍ مِنْ هَذِهِ الأَفْعَالِ مُضَارِعٌ وَأَمْرٌ يَعْمَلَانِ عَمَلَ المَاضِي إِلَّا لَيْسَ فَلَا يَأْتِي لَهَا مُضَارِعٌ وَلَا أَمْرٌ.
کان مبتداء اور خبر پر داخل ہوتا ہے تو مبتداء کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ (مبتداء کو کان کا اسم اور خبر کو کان کی خبر کہتے ہیں۔)
صار - ليس- اصبح - امسی - اضحی - ظل- بات بھی یہی عمل کرتے ہیں اس لئے کان کے اخوات کہلاتے ہیں۔
ان افعال میں سے ہر ایک کا فعل مضارع اور امر بھی بنتا ہے اور وہ بھی ماضی کی طرح عمل کرتے ہیں البتہ لیس سے مضارع اور امر نہیں بنتے۔
الامثلة
- الزِّحَامُ شَدِيدٌ → كَانَ الزِّحَامُ شَدِيدًا.
- البَيْتُ نَظِيفٌ → كَانَ البَيْتُ نَظِيفًا.
- الثَّوْبُ قَصِيرٌ → صَارَ الثَّوْبُ قَصِيرًا.
- البَرْدُ قَارِسٌ → صَارَ البَرْدُ قَارِسًا.
- الخَادِمُ قَوِيٌّ → لَيْسَ الخَادِمُ قَوِيًّا.
- العَامِلُ نَشِيطٌ → لَيْسَ العَامِلُ نَشِيطًا.
- النَّهِمُ مَرِيضٌ → أَصْبَحَ النَّهِمُ مَرِيضًا.
- الجَوُّ مُمْطِرٌ → أَصْبَحَ الجَوُّ مُمْطِرًا.
- العَامِلُ مُتْعَبٌ → أَمْسَى العَامِلُ مُتْعَبًا.
- الزَّهْرُ ذَابِلٌ → أَمْسَى الزَّهْرُ ذَابِلًا.
- الغَمَامُ كَثِيفٌ → أَضْحَى الغَمَامُ كَثِيفًا.
- الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ → أَضْحَى الشَّارِعُ مُزْدَحِمًا.
- المَطَرُ غَزِيرٌ → ظَلَّ المَطَرُ غَزِيرًا.
- الغُبَارُ ثَائِرٌ → ظَلَّ الغُبَارُ ثَائِرًا.
- المِصْبَاحُ مُتَّقِدٌ → بَاتَ المِصْبَاحُ مُتَّقِدًا.
- المَرِيضُ مُتَأَلِّمٌ → بَاتَ المَرِيضُ مُتَأَلِّمًا.
99 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۱
افعال ناقصہ
نواسخ جملہ کی دوسری قسم افعال ناقصہ ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :۔
كان ، صار ، اصبح ، أمسى ، أضحى، ظل، بات ، ما برح ، ما دام، مازال ، ما انفك ، ما فتي، لَيْسَ
یہ افعال جمله اسمیه ( مبتدا و خبر)، پر داخل ہوتے ہیں ۔ مبتد ا جس کا نام اسم ہو جاتا ہے (اِنَّ) کے برعکس مرفوع باقی رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے جیسے كان الولد جالسًا (لڑکا بیٹھا تھا )
لیس کے سوا باقی تمام افعال کے فعل مضارع اور فعل امر دونوں آتے ہیں اور وہی عمل کرتے ہیں جو ماضی کرتا ہے ، یعنی اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں ۔ لیس کا فعل مضارع اور امر نہیں آتا ، البتہ ماضی کے صیغے سبھی آتے ہیں۔
(ا) کان سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ مبتدا کو جس خبر سے متصف کیا جا رہا ہے اس کا تعلق زمانہ ماضی سے ہے جیسے کان الحر شدیدا (گر می بہت سخت تھی)
(۲) صار تبدیلی حالت کو بتاتا ہے جیسے صَار الرَّجُلُ غنیًّا (آدمی مال دار ہو گیا)
(۳) لیس نفی کے لئے آتا ہے جیسے لَیسَ الرَّجُل غنیًّا (وہ آدمی مال دار نہیں ہے) ۔
لیس کی خبر پر کبھی ب حرف جر بھی داخل کر دیتے ہیں جیسے لیس الرجل بغني (اس وقت خبر مجرور ہو جاتی ہے) ۔
(۴) اصبح ، امسی ، ظل ، بات اور اضحی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا اسم (مبتدا) جن خبروں سے متصف کیا جارہا ہے ، اس کا تعلق ان کی اوقات سے ہے جو اصبح ، امسی وغیرہ سے سمجھا جاتا ہے ۔
اصبح سے صبح کا وقت اور امسیٰ سے شام کا وقت اور ظل سے دن اور بات سے رات مراد ہوتی ہے جیسے اصبح حامد مسروراً (حامد نے مسرت کی حالت میں صبح کی) اور بات المریض متألما (بیمار نے تکلیف میں رات گزاری)
اگرچہ یہ افعال انھیں معنوں کے لئے وضع کئے گئے ہیں مگر کبھی ان کا استعمال صار کے معنی میں بھی ہوتا ہے جیسے اصبح محمود غنی (محمد مالدار ہو گیا)وغیرہ۔
ما برح ، مادام مازال ، ما انفك ، مافتی پانچوں استمرار اور دوامی ثبوت بتانے کے لئے آتے ہیں جیسے ما زال محمود مجتہدا (محمود ہمیشہ محنتی رہا ) ، مازال محمود یجتھد (محمود برابر محنت کرتا رہا)
نوٹ : حروف مشبہ بالفعل کی طرح افعال ناقصہ کی خبر بھی مفرد جملہ اور شبہ جملہ سب آتے ہیں۔ جیسے كان محمود يكتب إلى أبيه (محمود اپنے والد کو خط لکھ رہا تھا)
كان يكتب محمود اور کان محمود یکتب کے درمیان یہی فرق ہے جو یکتب محمود اور محمود یکتب کے درمیان ہے یعنی جملہ اسمیہ اور فعلیہ کا فرق ہے۔
100 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۱۰
الأفعال الناقصة
وإنما سميت ناقصة؛ لأنها لا تكون بمجرد الفاعل كلاما تاما، فلا تخلو عن نقصان، وهي تدخل على الجملة الاسمية أي المبتدأ والخبر، فترفع الجزء الأول منها ويسمى اسمها، وتنصب الجزء الثاني منها ويسمى خبرها وهي ثلاثة عشر فعلا:
الأول: كان، وهي قد تكون زائدة مثل: إن من أفضلهم كان زيدا، وحينئذ لا تعمل، وقد تكون غير زائدة، وهي تجيء على معنيين ناقصة، وتامة، فالناقصة تجيء على معنيين: أحدهما: أن يثبت خبرها لاسمها في الزمان الماضي، سواء كان ممكن الانقطاع مثل: كان زيد قائما أو ممتنع الانقطاع مثل: كان الله عليما حكيما، وثانيهما: أن يكون بمعنى صار مثل: كان الفقير غنيا أي صار الفقير غنيا، والتامة تتم بفاعلها فلا تحتاج إلى الخبر فلا تكون ناقصة، وحينئذ تكون بمعنى "ثبت" مثل: كان زيد أي ثبت زيد.
والثاني: صار، وهي للانتقال أي لانتقال الاسم من حقيقة إلى حقيقة أخرى نحو : صار الطين خزفا، أو من صفة إلى صفة أخرى مثل: صار زيد غنيا، وقد تكون تامة بمعنى الانتقال من مكان إلى مكان آخر، وحينئذ تتعدى بـ " إلى " نحو : صار زيد من بلد إلى بلد
والثالث: أصبح والرابع: أضحى، والخامس: أمسى، فهذه الثلاثة لاقتران مضمون الجملة بأوقاتها التي هي الصباح والضحى والمساء نحو أصبح زيد غنيا، معناه: حصل غناه في وقت الصباح ونحو أضحى زيد حاكما معناه: حصل له الحكومة في وقت الضحى، ونحو أمسى زيد قارئا معناه: حصل له قراءته في وقت المساء، وهذه الثلاثة قد تكون بمعنى "صار" مثل: أصبح الفقير غنيا، وأمسى زيد كاتبا، وأضحى المظلم منيرا، وقد تكون تامة مثل: أصبح زيد بمعنى دخل زيد في الصباح، وأمسى عمرو أي دخل عمرو في المساء، وأضحى بكر أي دخل بكر في الضحى.
والسادس: ظل والسابع بات وهما لاقتران مضمون الجملة بالنهار والليل نحو : ظل زيد كاتبا أي حصل كتابته في النهار، وبات زيد نائما أي حصل نومه في الليل، وقد تكونان بمعنى "صار" مثل:ظل الصبي بالغا، وبات الشاب شيخا
والثامن: ما دام، وهي لتوقيت شيء بمدة ثبوت خبرها لاسمها، فلابد من أن يكون قبلها جملة فعلية أو اسمية نحو : اجلس ما دام زيد جالسا، وزيد قائم ما دام عمر قائما
والتاسع: ما زال والعاشر ما برح، والحادي عشر: ما انفك، والثاني عشر : مافتئ وقد يقال بفتح التاء والهمزة ما فتأ و ما أفتأ، وكل واحد من هذه الأفعال الأربعة الدوام ثبوت خبرها لاسمها من قبله، ويلزمها النفي مثل: ما زال زيد عالما، وما برح زيد صائما، وما فتئ عمرو فاضلا، وما انفك بكر عاقلا.
والثالث عشر ليس، وهي لنفي مضمون الجملة في زمان الحال، وقال بعضهم في كل زمان مثل ليس زيد قائما، واعلم أن تقديم أخبار هذه الأفعال على أسمائها جائز بإبقاء عملها، مثل: كان قائما زيد وعلى هذا القياس في البواقي، وأيضاً تقديم أخبارها على نفسها جائز سوى "ليس" والأفعال التي كان في أوائلها "ما" مثل: قائما كان زيد، وقال بعضهم: تقديم الأخبار على هذه الأفعال أيضاً جائز سوى "مادام"، أما تقديم أسمائها عليها فغير جائز.
واعلم أن حكم مشتقات هذه الأفعال كحكم هذه الأفعال في العمل.
افعال ناقصہ، جنہیں اس لیے ناقصہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف فاعل کے ساتھ مکمل جملہ نہیں بناتی، اس لیے ان میں کمی ہوتی ہے۔ یہ جملہ اسمیہ یعنی مبتدا اور خبر پر داخل ہوتی ہیں، اور مبتدا کو رفع کرتی ہیں جسے "اسم" کہتے ہیں، اور خبر کو نصب کرتی ہیں جسے "خبر" کہتے ہیں۔ ان کی تعداد تیرہ ہے:
۱۔ "كان":معنی: "پہنچنا" یا "ہونا"۔
ماضی میں: "كان زيد قائما" (زید ماضی میں قائم تھا)۔
معنی: "صارت" جیسے: "كان الفقير غنيا" (فقیر امیر ہوگیا)۔
تامہ: پختگی: "كان زيد" (زید ثابت ہے)۔
۲۔ "صار": معنی: "انتقال" (حقیقت سے حقیقت میں، یا صفت سے صفت میں تبدیلی)۔
حقیقت سے حقیقت: "صار الطين خزفا" (مٹی چپپ ہوئی)۔
صفت سے صفت: "صار زيد غنيا" (زید امیر ہوگیا)۔
مقام سے مقام: "صار زيد من بلد إلى بلد" (زید ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا گیا)۔
۳۔ "أصبح":
معنی: "صبح" (دن کے وقت)۔
- وقت کا تعین: "أصبح زيد غنيا" (زید صبح کے وقت امیر ہوا)۔
- معنی "صار": "أصبح الفقير غنيا" (فقیر صبح کو امیر ہوگیا)۔
- تامہ: "أصبح زيد" (زید صبح کے وقت پہنچ گیا)۔
۴۔ "أضحى":
معنی: "ضحی" (دن کے وقت)۔
وقت کا تعین: "أضحى زيد حاكما" (زید ضحی کے وقت حاکم ہوا)۔
معنی "صار": "أضحى المظلم منيرا" (اندھیرا صبح کے وقت روشن ہوگیا)۔
تامہ: "أضحى بكر" (بکر ضحی کے وقت پہنچ گیا)۔
۵۔ "أمسى":
معنی: "مساء" (رات کے وقت)۔
وقت کا تعین: "أمسى زيد قارئا" (زید شام کے وقت قاری ہوا)۔
معنی "صار": "أمسى زيد كاتبا" (زید شام کو لکھاری ہوگیا)۔
تامہ: "أمسى عمرو" (عمرو شام کے وقت پہنچ گیا)۔
۶۔ "ظل":
معنی: "دن" (دن کے وقت)۔
وقت کا تعین: "ظل زيد كاتبا" (زید دن کے وقت لکھاری رہا)۔
معنی "صار": "ظل الصبي بالغا" (بچہ دن کے وقت بالغ ہوا)۔
۷۔ "بات":
معنی: "رات" (رات کے وقت)۔
وقت کا تعین: "بات زيد نائما" (زید رات کے وقت سوتا رہا)۔
معنی "صار": "بات الشاب شيخا" (جوان رات کے وقت بوڑھا ہوگیا)۔
۸۔ "ما دام": معنی: "مدت" (زمانہ)۔ پختگی: "اجلس ما دام زيد جالسا" (بیٹھو جب تک زید بیٹھا ہے)۔
۹۔ ما زال:
اس کا مطلب ہوتا ہے "اب تک" یا "ابھی تک" اور یہ کسی حالت یا وصف کے دوام (برقرار رہنے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال:ما زال زيد عالماً (زید اب تک عالم ہے)۔
۱۰۔ ما برح:
معنی: "ابھی تک" اور یہ بھی کسی حالت کے دوام کو ظاہر کرتا ہے۔
مثال: ما برح زيد صائماً (زید ابھی تک روزے سے ہے)۔
۱۱۔ ما فتئ:
معنی: "اب تک" ہے اور یہ وصف کے دوام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال: ما فتئ عمرو فاضلاً (عمرو ابھی تک فاضل ہے)۔
۱۲۔ ما انفك:
معنی: دوام (کسی حالت کے برقرار رہنے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال: ما انفك بكر عاقلاً (بکر ابھی تک عقل مند ہے)۔
۱۳۔ ليس:
معنی: موجودہ حالت میں کسی کیفیت یا وصف کی نفی کے لیے ہوتا ہے۔
مثال: ليس زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
بعض علماء کے مطابق یہ ہر زمانے کی نفی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
سمجھ لو کہ ان افعال (افعال ناقصہ) کی خبر ان کے اسماء سے پہلے لانا جائز ہے، بشرطیکہ ان کا عمل برقرار رہے، جیسے : "كان قائماً زيد"۔ یہی اصول دوسرے افعال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اسی طرح افعال ناقصہ کی خبر خود فعل ناقص سے پہلے بھی لانا جائز ہے، سوائے "ليس"اور ان افعال کے جن کے شروع میں "ما" آتا ہو، جیسے: "قائماً كان زيد"۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان افعال ناقصہ کی خبر کو مقدم کرنا بھی جائز ہے، لیکن "ما دام" اس سے مستثنیٰ ہے (یعنی اس پر یہ اصول لاگو نہیں ہوتا)۔ البتہ ان کے اسماء کو ان افعال سے پہلے لانا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔
خلاصہ:
یہ افعال ناقصہ مبتدأ اور خبر کے درمیان ربط کو تبدیل کرتے ہیں اور کسی حالت یا کیفیت کے جاری رہنے یا نہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان افعال کے ساتھ خبر کو مقدم کرنے کا اصول اکثر افعال پر لاگو ہوتا ہے، سوائے ليس اور ما دام کے۔
101 تیسیر النحو۔ سبق:۷
فصل اسم كان وأخواتها (الأفعال الناقصة)
اسم كان: هو كل مبتدأ تدخل عليه كان أو إحدى أخواتها (أي أحد الأفعال الناقصة) فترفع على أنه اسمها، وتنصب خبره على أنه خبرها، مثل: كان عمر عادلا.
والأفعال الناقصة هي :
كان، صار ( ومن الأفعال الناقصة الملحقة بـ "صار" غداء راح ، عاد، آض) ظل، بات أصبح، أضحى، أمسى، ليس ، مازال، ما انفك، مافتي، ما برح، مادام
شروط عملها
ا منها ما يعمل هذا العمل بلا شرط : وهي : كان، صار وما ألحق بها، وظل وبات. وأصبح، وأضحى، وأمسى، وليس.
٢- ومنها مالا يعمل إلا بشرط وهو قسمان:
أحدهما ما يشترط في عمله أربعة زال، وبرح ، أن يسبقه نفي ! لفظا أو تقديرا، أو شبه نفي، وهو - فتي، وانفك، فمثال النفى لفظا مازال زيد قائما، ومثاله تقديرا قوله تعالى : وقالوا تالله تفتأ تذكر يوسف أي لا تفتأ ومثال شبه النفي - والمراد به النهي نحو لا تزل قائما، أو الدعاء، نحو: لا يزال الله محسنا إليك، أو الاستفهام الإنكاري نحو: هل يزال أخوك متكاسلا.
وثانيهما: ما يشترط في عمله أن يسبقه "ما" المصدرية الظرفية، وهو مادام نحو: أحسن مادمت حيا، أي مدة دوامك حيا.
حكم اسم كان وخبرها
الاسم في هذا الباب يجرى مع الفعل الناقص مجرى الفاعل مع فعله التام في جميع أحكامه من حيث التزام التأخير، وإفراد العامل، وما شاكل ذلك، ويجرى مع الخبر مجرى المبتدأ مع خبره في التعريف، والتنكير، والتقديم، والتأخير، والتذكير والتانيث، والإفراد والتثنية والجمع.
وإذا وقع خبر "كان" وأخواتها جملة فعلية، فالأكثر أن يكون فعلها مضارعا، نحو: كان الأستاذ يشرح الدرس لتلاميذه.
وقد يجيء ماضيا مقترنا بـ"قد بعد ستة منها كان، ظل، بات، أصبح أضحى، أمسىء نحو: كان سليم قد انطلق وأصبح العنب قد نضج أما غير هذه الأفعال الستة فلا يقع الماضي خبرا له على الإطلاق وقد يرد الماضي مجردا من قد نحو قوله تعالى : وان كان قميصه قد من قبل وأكثر ما يكون ذلك مع "كان"
اسم کان اور اس کی اقسام:
۱۔ اسم کان
اسم کان وہ مبتدأ ہوتا ہے جس پر کان یا اس کی بہنوں میں سے کوئی فعل داخل ہوتا ہے اور اسے مرفوع بنا دیتا ہے۔ اس اسم کو اسم کان کہا جاتا ہے اور اس کے بعد آنے والے جز کو خبر کان کہا جاتا ہے۔
- مثال: كان عمر عادلاً (عمر عادل تھا)۔
۲۔ افعال ناقصہ
وہ افعال جو جملہ اسمیہ پر اثر ڈالتے ہیں اور اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، جیسے:
- کان (تھا)، صار (ہو گیا)، ظل (برقرار رہا)، بات (رات کو تھا)، أصبح (صبح ہوا)، أضحى (دن چڑھا)، أمسى (شام کو ہوا)، ليس (نہیں تھا)، ما زال (ابھی تک تھا)، ما انفك (اب تک)، ما فتی (اب تک)، ما برح (اب تک) اور ما دام (جب تک)۔
افعال ناقصہ کے عمل کے شرائط:
۱۔ بلا شرط عمل کرنے والے افعال
یہ افعال بغیر کسی شرط کے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، جیسے:
- کان، صار، ظل، بات، أصبح، أضحى، أمسى اور ليس۔
۲۔ شرط کے ساتھ عمل کرنے والے افعال
ان افعال کے کام کرنے کے لیے کچھ شرائط لازمی ہوتی ہیں، جیسے:
- ما زال، ما برح، ما فتی، ما انفك : ان افعال کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے پہلے نفی آئے، جیسے:
- ما زال زيد قائماً (زید ابھی تک کھڑا ہے)۔
- لا يزال الله محسناً إليك (اللہ تم پر مہربانی کرتا رہے)۔
- ما دام: اس کا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے ما المصدرية الظرفية آئے، جیسے:
- أحسن ما دمت حيا(جب تک زندہ ہو، اچھے کام کرو)۔
اسم کان اور اس کا حکم:
اسم کان کا حکم فاعل کے حکم کے مشابہ ہے۔ یعنی:
- اسم کان مؤخر ہوتا ہے۔
- افعال ناقصہ کا خبر کے ساتھ تعلق مبتدأ اور خبر کے تعلق کے مانند ہے، جیسے:
- تعریف اور تنکیر (یعنی معرفہ اور نکرہ)۔
- تذکیر و تانیث (مذکر اور مؤنث)۔
- تعداد (واحد، تثنیہ، اور جمع)۔
خبر کان کی اقسام:
۱۔ جملہ فعلیہ:
اکثر خبر فعل مضارع ہوتا ہے، جیسے:
كان الأستاذ يشرح الدرس (استاد سبق سمجھا رہا تھا)۔
۲۔ فعل ماضی:
بعض اوقات خبر فعل ماضی کے ساتھ بھی آتا ہے، خاص طور پر قد کے ساتھ، جیسے:
كان سليم قد انطلق (سلیم روانہ ہو چکا تھا)۔
102 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۲) سبق:۷
كَانَ
یہ بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے : بِلَالٌ فِي الْفَصْلِ بلال کلاس ( درجہ ) میں ہے.
كَانَ بِلالٌ فِي الْفَصْلِ بلال کلاس ( درجہ ) میں تھا.
الْمُدَرِّسُ فِي الْمَكْتَبَةِ استاد لائبریری میں ہیں.
كَانَ الْمُدَرِّسُ فِي الْمَكْتَبَةِ استاد لائبریری میں تھے.
الْقَلَمُ تَحْتَ الْكِتَابِ قلم کتاب کے نیچے ہے.
كَانَ الْقَلَمُ تَحْتَ الْكِتَابِ قلم کتاب کے نیچے تھا.
رَيْنَبُ فِي الْمَطْبَخِ زینب باورچی خانہ میں ہے۔
كَانَتْ زَيْنَبُ فِي الْمَطبخ زينب باورچی خانہ میں تھی.
نوٹ : گذشتہ مثالوں میں کان کی خبر شبه جملہ جیسے تَحْتَ الْكِتَابِ، فِي الْمَكْتَبَةِ، فِي المطبخ ہے اگر کان کی خبر شبہ جملہ ہو تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن اگر اسم ہو تو وہ منصوب ہو جائیگا ۔ جیسے : بلال مریض سے كَانَ بِلَالٌ مَرِيضًا ،
103 المفصل۔ سبق:
الخبر والاسم في بابي كان وإن
لما شبه العامل في البابين بالفعل المتعدي شبه ما عمل فيه بالفاعل والمفعول ويضمر العامل في خبر كان في مثل قولهم الناس مجزيون بأعمالهم إن خيراً فخير وإن شراً فشر، والمرء مقتول بما قتل به أن خنجراً فخنجر وإن سيفاً فسيف، أي إن كان عمله خيراً فجزاؤه خير وإن كان شراً فجزاؤه شر.
والرفع أحسن في الآخر ومنهم من يرفعهما ويضمر الرافع أي أن كان معه خنجر فالذي يقتل به خنجر قال النعمان بن المنذر : قد قيل ذلك إن حقاً وإن كذبا ومنه الإطعام ولو تمراً وائتني بداية ولو حماراً. وإن شئت رفعت بمعنى ولو يكون ثمر وحمار، ادفع الشر ولو إصبعاً. ومنه أما أنت منطلقاً انطلقت، والمعنى لأن كنت منطلقاً، وما مزيدة معوضة من الفعل المضمر .
ومنه قول الهذلي:
أبا خراشة أما أنت ذا نفر
وروى قوله:
إما أقمت وأما أنت مرتحلاً فالله يكلأ ما تأتي وما تذرا
بكسر الأول فتح الثاني.
104 تمارین
105 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۱
اَلتَّمْرِيْنُ (119)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) كَانَ مَحْمُوْدٌ تِلْمِيْذًا نَجِيْبًا وَلَكِنَّهُ ضَلَّ بِصُحۡبَۃِ الْاَشْرَارِ.
(2) كَانَ الْبَيْتُ نَظِيْفًا وَلَكِنْ صَارَ مُتَّسِخًا بِالْاَقْذَارِ.
(3) صَارَ الْعَدُوُّ صَدِيْقًا حينما تَبَيَّنَ لَهُ الْاَمْرُ.
(4) يَبْدُوْ الهِلاَلُ ضَئِيلًا ثم يَصِيْرُ بدرًا كاملاً.
(5) اِنَّ اللهَ لَا يِظْلِمُ اَحَدًا اِنَّهُ لَيْسَ بِظَلَّامِ لِّلْعَبِيْدِ.
(6) اَلْاَسَاتِذَةُ لَيْسُؤا قُسَاةً عَلىَ الطَّلَبَةِ.
(7) اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فَارِغًا.
(8) اَضْحٰي الْغَمَامُ كَثِيْفًا وَكادت السَّمَاءُ اَنْ تُمْطِر.
(9) اَمْسَي الطلبۃُ مُشْتَغِلِيْنَ بِدُرُوْسِهِمْ.
(10) ظلتم طوَّافين في الاَسوَاق ومَا عَمِلْتُمْ.
(11) بتنا مُسترحين وَلَم نَشْعُر بأذيً.
(12) بات المريض مُتَأَلِّمًا ولم يَنَمْ طُول اللَّيلِ.
اَلتَّمْرِيْنُ (120)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) سبق زیادہ مشکل نہ تھا مگر میں نے نہیں سمجھا۔
(۲) سوالات بہت آسان تھے مگر میں بھول گیا۔
(۳) محمود بڑا ذہین تھا مگر بیماری کی وجہ سے پاس نہ ہوا۔
(۴) تم لوگ آج دن بھر اپنے اسباق میں مشغول رہے۔
(۵) ہم لوگوں نے بڑی پریشانی میں رات گزاری۔
(۶) لوگوں نے خوف و ہراس کے ساتھ صبح کی۔
(۷) نیکوکار نوجوان رات بھر اللہ کی یاد میں جاگتے رہے۔
(۸) کل دوپہر تک بادل (آسمان) برسا کیا۔
(۹) درجہ دوم کے طلبہ دوسرے گھنٹہ میں غیر حاضر تھے۔
(۱۰) محمود کے والد بوڑھے ہوگئے مگر میلوں پیدل چل لیتے ہیں۔
(۱۱) روئی بہت مہنگی ہو گئی اس لیے کپڑے کا نرخ چڑھ جائے گا۔
(۱۲) کل گرمی بہت سخت تھی کیونکہ ہوا بالکل بند تھی۔
(۱۳) اس کنویں کا پانی میٹھا نہیں ہے مگر ٹھنڈا بہت ہے۔
(۱۴) آج میں روزے سے نہیں ہوں کیوں کہ دو دن سے بیمار تھا۔
اَلتَّمْرِيْنُ (121)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) ما زال الحرّ شديداً مُنْذُ شَهرٍ.
(2) ما زال المهذَّبُ محبَّبًا اِلى النَّاس.
(3) ما بَرِحَ المريض نائمًا مُنْذُ سَاعَتَيْنِ.
(4) مَاانْفَكَّ القَاضِيُ عادِلًا فِي حكمِهِ.
(5) مَا فَتئ التَّاجِرُ رَابِحًا بِصدقهِ.
(6) تُحتَرم ما دام خُلقُك كريمًا.
(7) ما زالت الصَّدَقَةُ نافعةً.
(8) صفر القطارُ وما بَرِحَ محمودٌ غَائبًا.
(9) لاَ تقرا مادام النور ضئيلاً.
(10) لا تَتَعَرَّضُ لِلْبَرْدِ مَا دُمْتُ مَرِيْضًا.
(11) لا تزال الْاُمَّهَاتُ رَفيقاتٍ.
(12) انتَهَى الاِمْتِحَانُ وما زالت النَّتِيْجَة مجهولةً.
اَلتَّمْرِيْنُ (122)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) محنتی طالب علم ہمیشہ پیارا رہا۔
(۲) عقل مند طلبہ برابر کوشش میں لگے رہے۔
(۳) تم دونوں آج دن بھر کھیلتے رہے۔
(۴) تین دن سے آسمان برابر ابر آلود رہا۔
(۵) پورے دو گھنٹے بادل برستارہا۔
(۶) حق و باطل میں برابر کش مکش رہی۔
(۷) انگریز ہمیشہ اسلام کے دشمن رہے۔
(۸) حق کے پیروکار ہمیشہ تھوڑے رہے۔
(۹) اسلام باقی رہے گا جب تک زمین و آسمان باقی ہیں۔
(۱۰) جب تک زندہ رہو خدا کے عبادت گزار رہو۔
(۱۱) مسلمان غالب رہے جب تک کہ وہ اسلام پر عمل کرتے رہے۔
(۱۲) جب تک بارش ہوتی رہے گھر سے نہ نکلو۔
(۱۳) جب تک گاڑی چلتی رہے کھڑکیوں سے نہ جھانکو۔
(۱۴) طلبہ امتحان ہال میں بیٹھے رہے یہاں تک گھنٹی بجی۔
اَلتَّمْرِيْنُ (123)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) كَانَ النَّاسُ يَئِدُوْنَ بَنَاتهِمْ اَيَّامَ الْجَاهِلِيَّةِ.
(2) كان رجال الدّين لا يهمّهم إلا الدينُ ونصرُهُ.
(3) اما اليومَ فأصبح كثيرٌ منهم ينغمِسُون في الحياة الدنيا.
(4) اصبح الفلّاحون يقتتلون علَى شِبْرِ اَرْضٍ.
(5) الذين رسبوا في الامتحان صاروا يجتهدون.
(6) لا يزال الناس يموتون ويولدون حَتىَّ تقومَ الساعةُ.
(7) لا يزالُ اللهُ يبعث من يجدّدلهُ دينَهُ.
(8) كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا.
(9) مَا زِلْتُمْ فِي نَعِيْمٍ مَا دُمْتُمْ تَتَّبِعُوْنَ اَمْرَ اللهِ.
(10) فَلَمّا اعرضتم اَذَاقكم الله لباس الجوع.
(11) ما برح الناسُ يثقون بالتاجر الأمينِ.
(12) ما دامت المناظر البهيجةُ تُعْجِبُ النفوسَ.
اَلتَّمْرِيْنُ (124)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) یہ طلبہ محنت سے جی چراتے تھے یہاں تک کے امتحان میں فیل ہو گئے۔
(۲) ہم لوگ اپنا وقت ضائع کرتے رہے یہاں تک کہ امتحان قریب آگیا۔
(۳) جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو دین حق کی طرف بلایا تو لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہو گئے۔
(۴) مگر زیادہ دن نہ گزرے کہ سارا عرب مسلمان ہوگیا۔
(۵) حضرت خالد بن ولید ایک ملک کے بعد دوسرا ملک برابر فتح کرتے رہے۔
(۶) یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر دیا تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔
(۷) اور تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کرتا ہے۔
(۸) اسلامی فوجیں برابر آگے بڑھتی رہیں یہاں تک کہ دشمن شکست کھاگئے۔
(۹) لوگ گمراہیوں میں بھٹکتے رہیں گے یہاں تک کہ دین حق کی پیروی کریں۔
(۱۰) جب تک انسان، انسان پر حکومت کرتا رہے گا لوگ عدل و انصاف سے محروم رہیں گے۔
(۱۱) جب تک حق کا غلبہ نہ ہو ہم خدا کی راہ میں جہاد کرتے رہیں گے۔
(۱۲) جب تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ رہے مسلمان سادہ زندگی گزارتے رہے۔
(۱۳) مگر جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو لوگ تنعم و آسائش کی طرف مائل ہوگئے۔
(۱۴) جب تک انگریز ہندوستان میں (پر) حکومت کرتے رہے ملک ترقی نہ کرسکا۔
106 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد: ۱) سبق:۱۴
التَّمْرِين (۱)
بَيِّنْ كُلَّ اسْمٍ وَخَبَرٍ لِكَانَ وَأَخَوَاتِهَا فِي الجُمَلِ الآتِيَةِ:
۱. كَانَ مَحْمُودٌ شُجَاعًا.
۲. أَصْبَحَ الحِصَانُ جَائِعًا.
۳. صَارَ الأَوَّلُ آخِرًا.
۴. بَاتَ الكَلْبُ نَائِمًا.
۵. لَيْسَ المِيدَانُ فَسِيحًا.
۶. أَمْسَى الغَنِيُّ فَقِيرًا.
۷. أَضْحَى السَّجِينُ طَلِيقًا.
۸. ظَلَّ العِنَبُ كَثِيرًا
التَّمْرِين (۲)
أَدْخِلْ "كَانَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الحَارِسُ مُسْتَيْقِظٌ.
۲. العَامُ حَارٌّ.
۳. الحِصَانُ مُسَرَّج.
۴. الحَوْضُ مُمتَلِئٌ.
۵. المِفْتَاحُ ضَائِعٌ.
۶. الدُّخَانُ مُتَصَاعِدٌ.
۷. البَابُ مَفْتُوحٌ.
۸. الخَادِمُ نَائِمٌ.
۹. النِّيلُ مُنْخَفِضٌ.
۱۰. النِّيلُ مُنْخَفِضٌ.
التَّمْرِين (۳)
أَدْخِلْ "صَارَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الشَّجَرُ مُورِقٌ.
۲. الثَّمَرُ نَاضِجٌ.
۳. النُّورُ ضَعِيفٌ.
۴. الهَوَاءُ بَارِدٌ لَدٌ.
۵. القَمَرُ مَخْسُوفٌ.
۶. المَكَانُ مُظْلِمٌ.
۷. الجَوُّ حَارٌّ.
۸. المَاءُ رَائِقٌ.
۹. الكَبْشُ سَمِينٌ.
التَّمْرِين (٤):
أَدْخِلْ "لَيْسَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. البِنَاءُ قَوِيٌّ.
۲. الطَّعَامُ شَهِيٌّ.
۳. الأَمْرُ هَيِّنٌ.
۴۔ المُذْنِبُ خَائِفٌ.
۵، الهَوَاءُ نَقِيٌّ.
۶. الوَلَدُ مَرِيضٌ.
۷۔ الجِدَارُ مَائِلٌ.
۸۔ القِطُّ جَائِعٌ.
۹. الحَبْلُ مَتِينٌ
التَّمْرِين (٥):
أَدْخِلْ "أَصْبَحَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الدِّيكُ صَالِحٌ.
۲۔الزَّرْعُ مُبَلَّلٌ.
۳. المَاءُ جَامِدٌ.
۴. العُصْفُورُ مُغَرِّدٌ.
۵. اللَّبَنُ خَائِرٌ.
۶. الضَّبَابُ كَثِيفٌ.
۷. الوَرْدُ مُفَتَّحٌ.
۸۔ التِّلْمِيذُ نَشِيطٌ.
۹. النِّيلُ فَائِضٌ.
۱۰۔ النيل فائض
التَّمْرِين (٦)
أَتِمَّ الجُمَلَ الآتِيَةَ ثُمَّ أَضْبِطْ أَوَاخِرَ كَلِمَاتِهَا بِالشَّكْلِ:
۱. كَانَ الحَاكِمُ ...
۲. صَارَ العَدُوُّ ...
۳. لَيْسَ الدَّوَاءُ ...
٤. أَصْبَحَ البَنَفْسَجُ ...
٥. ظَلَّ العَدْلُ ...
٦. بَاتَ الظَّالِمُ ...
۷. أَمْسَى السَّجِينُ ...
۸. أَضْحَى المَطَرُ ...
التَّمْرِين (۷)
أَتِمَّ الجُمَلَ الآتِيَةَ بِوَضْعِ الاِسْمِ المَحْذُوفِ فِي المَكَانِ الخَالِي، وَأَضْبِطْ آخِرَهُ بِالشَّكْلِ:
۱. كَانَ ............ مُسْتَبِدًّا.
۲. لَيْسَ ..... عَارًا.
۳. يَبِيتُ .......... مُتَوَجِّعًا.
٤. يُمْسِي .......... مَسْرُورًا.
٥. صَارَ ..... خُبْزًا.
٦. أَصْبَحَ ........ سَلِيمًا.
۷. يَظَلُّ ..... مُسْتَغِلًّا.
۸. يُضْحِي ..... مُزْدَحِمًا.
التَّمْرِين (۸)
كَوِّنْ ثَمَانِيَ جُمَلٍ يَشْتَمِلُ كُلُّ اِثْنَتَيْنِ مِنْهَا عَلَى المُضَارِعِ مِنْ كَانَ، وَصَارَ، وَأَصْبَحَ، وَبَاتَ عَلَى التَّرْتِيبِ.
تَمْرِين فِي الاِنْشَاءِ (۹)
۱. كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الجَوِّ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "کَان".
۲. كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ المَاءِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "أَصْبَحَ".
۳۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الکِتَابِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "لَیسَ".
۴۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الکَسْلَانِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "ظَلَّ".
۵۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ العَامِلِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "أمسَیٰ".
تمْرِين فِی الأعرَابِ (۱۰)
(أ) نَمُوذَجٌ:
(۱) صَارَ العِنَبُ زَبِيبًا.
صَارَ: فِعْلٌ مَاضٍ.
العِنَبُ: اِسْمُ صَارَ مَرْفُوعٌ.
زَبِيبًا: خَبَرُ صَارَ مَنْصُوبٌ.
(۲) يَبِيتُ القِطَارُ سَائِرًا.
يَبِيتُ: فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ.
القِطَارُ: اِسْمُ يَبِيتُ مَرْفُوعٌ.
سَائِرًا: خَبَرُ يَبِيتُ مَنْصُوبٌ.
(ب) أَعْرِبِ الجُمَلَ الآتِيَةَ:
۱. لَيْسَ الزُّجَاجُ مَكْسُورًا.
۲. كَانَ البِنَاءُ عَالِيًا.
۳. يُصْبِحُ المِدَادُ جَافًّا.
٤. يَبِيتُ البَحْرُ هَائِجًا.
107 تیسیر النحو۔ سبق:۷
أسئلة
۱. ما هو عمل كان وأخواتها اذكره بالتمثيل.
۲. كم الأفعال الناقصة، وما هي ؟
۳۔ اذكر من الأفعال الناقصة ما يعمل بدون شرط، وما يعمل بشرط مع ذكر الشرط والأمثلة.
۴۔ الاسم مع فعله الناقص يجري مجرى ماذا في جميع أحكامه من التزام التاخير وإفراد العامل وغيرهما ؟
۵۔ اسم الفعل الناقص مع خبره يجري مجرى ماذا في التعريف والتنكير، والتقديم والتأخير، والإفراد والتثنية، والجمع، والتذكير والتأنيث ؟
٦- إذا وقع خبر كان وأخواتها جملة فعلية فكيف يكون فعلها اذكره بالتفصيل مع الأمثلة.
۷۔ اذكر الحروف المشبهة بـ "ليس" وفيماذا تُشبه بها؟
۸۔ اذكر أعمل الحروف المشبهة بـ "ليس" مع الأمثلة.
۹۔ اذكر شروط عمل "ما" بالتفصيل.
١٠. هل تزاد الباء في خبر "ما" و "ليس اذكره مع الأمثلة.
۱۱. اذكر شروط عمل "لا" الخمسة بالتفصيل.
١٢- اذكر شرطي عمل "لات" بالتفصيل.
١٣ - اذكر شرطي عمل "إن المشبهة بـ "ليس بالتفصيل.
١٤ - متى تكون "إن المشبهة بـ "ليس مهملة، اذكر مع الأمثلة.
تمرينات
۱۔ أكمل الجمل الآتية، ثم اضبط أواخر كلماتها بالشكل
كان الحاكم. ظل العدل ...... صار العدو..... أصبح الحصان ..... أمسى الغني . أضحى السجين ..... بات الكلب ..... أحسن إلى والدك مادام ...... مازال المطر . ما انفك زيد .... ما فتي الجو...... ما برح التلميذ .... راح الطلاب . غدا الطفل ....... ليس الدواء۔۔۔۔
٢- حدد في الأمثلة الآتية الخبر المقدم على اسم الفعل الناقص وهل يجب تقديمه أم يجوز.
كان في البيت زيد، كان في البيت رجل، كان في المدرسة تلاميذها ، كان في المدرسة تلاميذ، إنما كان في البيت خالد، ماكان في البيت إلا خالد، كان في البيت خالد.
۳۔ حدد في الأمثلة الآتية الخبر المؤخر عن اسم الفعل الناقص إنما كان البحتري شاعرا، ماكان البحتري إلا شاعرا، كان البحتري شاعراء كان الأب يطيعه ابنه، صار صديقي عدوي.
۴۔ اذكر سبب تقديم خبر كان عليها وعلى اسمها في مثل: "أين كان زيد"
۵۔ فيماذا طابق خبر الفعل الناقص اسمه في كل جملة من الجمل الآتية
كان المدرسان حاضرين، كان المدرسون حاضرين، كان المدرس حاضرا، كانت المدرستان حاضرتين، كانت المدرسات حاضرات.
٦- بين في الجمل الآتية الحروف التي تعمل عمل ليس وبين الاسم والخبر في كل جملة.
إن الرياح عاصفة، ما آمالك خائبة، لا صداقة دائمة بغير إخلاص، فر السجين ولات حين مفر.
۷۔ما الذي أوجب إلغاء عمل "إن، وما ولاء في الجمل الآتية
ما عندي كتابك، لا في الدار أحد ما أموالك إلا فانية، إن سعيك إلا مشكور، لا بكاتب إلا قاري، لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة.
108 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
109 اِن و ما و لا و لات المشبھات بلیس کی خبر
"إنْ"، "ما"، "لا" اور "لات" وہ حروف ہیں جو "لیس" کی طرح جملہ اسمیہ میں داخل ہو کر مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان حروف کومشبہات بلیس کہا جاتا ہے کیونکہ یہ "لیس" کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ حروف مبتدأ کو "اسم" اور خبر کو "خبر" بناتے ہیں، اور ان کا عمل عام طور پر نفی اور تشبیہ کے مفہوم میں ہوتا ہے۔
۱۔ "إنْ" کی تعریف اور عمل:
"إنْ" ایک حرف مشابہ بلیس ہے جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر نفی کا مفہوم پیدا کرتا ہے اور مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے۔
مثال: - إنْ زيدٌ قائمًا (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- یہاں "زيدٌ" اسم "إنْ" ہے اور مرفوع ہے، اور "قائمًا" خبر "إنْ" ہے اور منصوب ہے۔
عمل: - "إنْ" کا استعمال نفی کے لیے ہوتا ہے، جیسے "لیس" جملے میں نفی کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔
۲۔ "ما" (ما الحجازية) کی تعریف اور عمل:
"ما" نافیۂ جملہ اسمیہ میں مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتی ہے اور مبتدأ کو مرفوع جبکہ خبر کو منصوب کرتی ہے۔ اسے "ما الحجازية" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حجاز کے علاقے میں خاص طور پر استعمال ہوتی ہے۔
مثال: - ما زيدٌ قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- یہاں "زيدٌ" اسم "ما" ہے اور مرفوع ہے، اور "قائماً" خبر "ما" ہے اور منصوب ہے۔
عمل: - "ما" جملے میں نفی کا مفہوم پیدا کرتی ہے اور اس کا عمل "لیس" کی طرح ہوتا ہے، جو جملے کے مضمون کی نفی کرتی ہے۔
۳۔ "لا" (لا النافية للجنس) کی تعریف اور عمل:
"لا" نافیۂ جنس جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتی ہے۔ اس کا استعمال کلی نفی کے لیے ہوتا ہے، یعنی کسی چیز کی مکمل نفی۔
مثال: - لا رجلَ في الدار (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)۔
- یہاں "رجل" اسم "لا" ہے اور منصوب ہے، اور "في الدار" خبر "لا" ہے۔
عمل: - "لا" جملے میں جنس کی نفی کرتی ہے اور اس کا استعمال اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی چیز کی مکمل نفی مطلوب ہو۔
۴۔ "لات" کی تعریف اور عمل:
"لات" بھی "لا" کی طرح استعمال ہوتی ہے لیکن اس کا خاص استعمال زمانے کی نفی کے لیے ہوتا ہے، اور یہ مخصوص مواقع پر استعمال ہوتی ہے۔
مثال: - ولات حينَ مناصٍ (اب بچنے کا وقت نہیں ہے)۔
- یہاں "حينَ" اسم "لات" ہے اور منصوب ہے، اور "مناص" خبر "لات" ہے۔
عمل: - "لات" کا استعمال وقت یا زمانے کی نفی کے لیے کیا جاتا ہے، یعنی جب کسی خاص وقت یا موقع پر کوئی کام یا حالت ممکن نہ ہو۔
خلاصہ:
- "إنْ"، "ما"، "لا" اور "لات" حروف مشبہات بلیس ہیں جو مبتدأ اور خبر پر اثر ڈالتے ہیں۔
- ان حروف کا استعمال جملے میں نفی یا تشبیہ کے لیے ہوتا ہے۔
- ان حروف کے اثر سے مبتدأ مرفوع اور خبر منصوب ہوتی ہے، جیسے کہ "لیس" کے ساتھ ہوتا ہے۔
110 النحوالواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۷،۸
إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ المُشَبَّهَاتُ بِلَبْس: اِن ، ما ، لا اور لات جو لیس کے مشابہ لیس
تَعْمَلُ إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ النافِيَاتُ عَمَلَ لَيْسَ ، فَتَرْفَعُ الْإِسْمَ وَتَنْصِبُ الْخَبَر، وَلَكِنَّهَا لا تَعْمَلُ هَذَا الْعَمَلَ إِلَّا بِشُرُوط:
(ا) فَيُشْترَطُ فِي عَمَلٍ إِنْ وَمَا أَنْ يَتَقَدَّمَ اسْمُهُمَا عَلَى الْخَبَرِ، وَالَّايَنتقِضَ نَفْيُهُمَا بِالا
(ب)وَيُشْتَرَطُ فِي عَمَلِ لاَ فَوقَ الشَّرُطَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ أَنْ يَكُونَ مَعْمُوْلَاهُمَا نَكِرَتَيْن.
(ج) وَيُشْتَرَطُ فِي عَمَلٍ لَاتَ أَنْ يَكُونَ اِسْمُهَا وَخَبَرُهَا إِسْمَى زَمَانٍ وَأَنْ يُحْذَفَ أَحَدُهُمَا.
ان ، ما ، لا اور لات حروف نفی، یہ ليس والا عمل کرتے ہیں ، پس اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبرکو نصب دیتے ہیں لیکن وہ یہ عمل بغیر شرطوں کے نہیں کرتے
(الف) ان اور ما کے عمل کرنے کے لئے یہ بات شرط ٹھہرائی گئی ہے کہ اس کا اسم خبر پر مقدم ہوتا ہے اور یہ کہ ان دونوں کی نفی الا کے ساتھ منتقض نہیں ہوتی۔
(ب) لا کے عمل کے لئے دی گئی دو شرطوں سے بڑھ کر یہ بھی شرط ہے کہ ان کے دونوں معمول نکرہ ہوں ۔
(ج) اور لات کے عمل میں شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس کا اسم اور خبر دونوں اسم زمان ہوں اور یہ ان میں سے ایک کو حذف کیا جائے۔
الأمثلة
(۱) القُصُورُ شَاهِفَةٌ : إِنِ الْقُصُورُ شَاهِقَة
(۲) الْأَنْهَارُ فَائِضَةٌ : إِنِ الْأَنْهَارُ فَائِضَةً
(۳) الحُصُونُ مَنِيعَةٌ : مَا الْحُصُونُ مَنِيعَةً
( ٤ ) الذخَائِرُ كَثِيرَةٌ : مَا الذخَائِرُ كَثِيرَةً .
( ٥ ) الزَّمَانُ مُسَالِمُ : لَا زَمَانٌ مُسَالِماً
( ٦ ) الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ : لَا شارع مُزْدَحِماً
( ۷ ) الْوَقْتُ وَقْتُ نَدَامَة: لات وَقْتَ نَدَامَة
(۸) السَّاعَةُ سَاعَةُ تَوْبَة : لات ساعة توبة .
زِيادَةُ البَاءِ فِي خَبَرِ لَيْسَ وَمَا: لیس اور ما کی خبر میں باء کا اضافہ
يَجُوزُ أَنْ يَقْتَرِنَ خَبَرُ لَيْسَ وَمَا بِالْبَاءِ الزَّائِدَةِ فَيُجَرَّ فِي اللَّفْظِ وَيَبْقَى مَنْصُوباً فِي التَّقْدِيرِ.
جائز ہے کہ لیس اور ما کی خبر با زائدہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو وہ لفظ تو ظاہرا جر دیتی ہے اور اس کو منصوب رکھتی ہے تقدیراً۔
الأمثلة
(۱)
لَيْسَ الفقرُ عيباً: لَيْسَ الفَقْرُ بعيبٍ
لَيْسَ التَّقْتِيرُ مَحْمُوداً: ليس التَّقْتِيرُ بِمَحْمُودٍ
لَيْسَ العِتَابُ مُفيدًا: لَيْسَ الْعِتَابُ بمُفيدٍ
(۲)
مَا إِدْرَاكُ الْعُلَا سَهْلاً: ما إِدْرَاكَ العُلَا بِسَهْلٍ
مَا تَعَبُ العَامِلِينَ ضَائِعاً: مَا تَعَبُ العَامِلِينَ بِضَائِعٍ
مَا التَّنافُسُ مَذْمُوما: مَا التَّنَافُسُ بِمَذْمُومٍ
111 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۲
(ما ولا المشبهات بليس)
نواسخ جملہ کی تیسری قسم ما ولا مشبھتان بلیس ہیں ۔
یہ دونوں حروف لفظا اور معنیً لیس کے مشابہ ہیں اور اسی کا سا عمل کرتے ہیں، اسی لئے ان کو مشبہتان بلیس (لیس کے مشابہ) کہا جاتا ہے ۔
یہ دونوں بھی جملہ اسمیہ ہی پر داخل ہوتے ہیں اور افعال ناقصہ کی طرح ان کا اسم (مبتدا بھی مرفوع باقی رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے جیسے ما محمودخطيبا (محمود مقرر نہیں ہے) لیس کی طرح ما و لا کی خبر پر بھی کبھی ب زائدہ داخل کر دیتے ہیں ۔ اس صورت میں خبر لفظا مجرور ہو جاتی ہے جیسے ما محمود بخطیب (محمود مقررنہیں ہے)
ان حروف کے مندرجہ بالا عمل کرنے کے لئے چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ
(۱) ان کا اسم مقدم ہی رہے موخر نہ ہوں
(۲) ان کی نفی کو اِلّا حرف استثناء کے ذریعہ ختم نہ کیا جائے۔
(۳) ما معرفہ اور نکرہ دونوں پر آتا ہے مگر لا کے لئے تیسری شرط مزید یہ ہے کہ اس کا اسم و خبر دونوں ہی نکرہ ہوں ۔
ان شرطوں کے نہ پائے جانے کی صورت میں ما و لا کا عمل باطل ہو جائیگا۔
ذیل کی مثالوں پر غور کرو :-
ما عندي قلمك (مبتدای مؤخر)
مَا الدُّنيا إلا فانية ( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
مَا الطَّلبَةُإِلَّا لاعبون( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
لا عِندِي دِرْهَم (مبتدا مؤخر)
لا محمود إِلَّا خطيب ( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة ( مبتدا معرفہ ہے)
112 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۳
"ما ولا" المشبهتان بـ "ليس" في النفي والدخول على المبتدأ والخبر ترفعان الاسم وتنصبان الخبر، وتدخل "ما" على المعرفة والنكرة مثل: ما زيد قائما، ولا تدخل "لا" إلا على النكرة نحو : لا رجل ظريفا.
"ما" اور "لا" جو "ليس" کی طرح ہیں، منفی میں استعمال ہوتے ہیں اور مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں۔ یہ مبتدا کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں۔ "ما" معرفہ اور نکرہ دونوں پر داخل ہو سکتی ہے، جیسے: "ما زيد قائما" یعنی زید قائم نہیں ہے۔ جبکہ "لا" صرف نکرہ پر ہی داخل ہوتی ہے، جیسے: "لا رجل ظريفا" یعنی کوئی شخص شریر نہیں ہے۔
113 تیسیر النحو۔ سبق:۸
فصل اسم الحروف المشبهة بـ "ليس"
يلحق باسم كان أحد الأفعال الناقصة) اسم "ما، ولا، ولات، وإن المشبهات بليس" في إفادة النفي والعمل.
فالحروف المذكورة ترفع اسمها وتنصب خبرها مثل ليس، نحو: مازيد قائما، ولا رجل أفضل منك، وإن زيد قائما، وقوله تعالى: (ولات حين مناص) والتقدير ولات الحين حين مناص.
ويشترط في عمل ما أربعة شروط :
الأول: ألا يتقدم خبرها على اسمها
والثاني: ألا يتقدم معمول خبرها على اسمها .
والثالث: ألا تزاد بعدها "إن"
والرابع: ألا ينتقض نفي خبرها بـ"إلا
فان استوفت هذه الشروط عملت عمل "ليس" نحو: ما زيد قائما . وتكثر زيادة الباء في خبر "ما" كما تزاد في خبر "ليس " نحو قوله تعالى: ﴿وماربك بظلام للعبيد ونحو قوله تعالى : أليس الله بكاف عبده ).
الشروط في عمل "لا":
تعمل "لا" المشبهة بـ "ليس هذا العمل قليلا بالشروط الأربعة المذكورة في عمل "ما"، ويزاد على ذلك:
أن يكون اسمها وخبرها نكرتين، نحو: لا أحد ناجيا من الموت.
الشروط في عمل "لات":
۱۔ تعمل "لات" عمل "ليس" بشرطين: أن يكون اسمها وخبرها من أسماء الزمان، كالحين والساعة ونحوهما بحيث أن يكونا بلفظ واحد.
۲۔ وأن يكون أحدهما محذوفا، ويحذف غالبا اسمها، نحو قوله تعالى : ( ولات حين مناص) تقديره: ولات الحين حين مناص ، أي : ليس الحين حين مناص وفرار.
الشروط في عمل "إن" المشبهة بـ"ليس " :
تعمل "إن" النافية عمل "ليس" نادراً بشرطين.
۱۔ حفظ النفي، ويكون بعدم انتقاض نفي خبرها بـ " إلا" ونحوها.
۲۔ وحفظ الترتيب، ويكون بعدم تقدم خبرها أو معموله عليها أو على اسمها نحو: إن زيد قائما.
والغالب في استعمالها أن يقترن خبرها بـ إلا فينتقض نفيه، فتكون مهملة، نحو قوله تعالى : ان هذا الا ملك كريم وهكذا اذا انعكس الترتيب، أي تقدم الخبر على الاسم تكون مهملة، نحو إن قائم زيد.
حروف مشبہ بلیس کا باب
اسم "ما، لا، لات، اور إن" کو "لیس" جیسے نفی کے معنی اور عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ حروف اپنے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں جیسے کہ "لیس" کرتی ہے۔
مثال:
- ما زید قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- لا رجل أفضل منك (تم سے کوئی آدمی بہتر نہیں ہے)۔
- إن زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- اللہ تعالیٰ کا فرمان: "ولات حين مناص" (اور اب بچاؤ کا وقت نہیں ہے)۔
"ما" کے عمل کے لیے چار شرطیں:
1. خبر اس کے اسم پر مقدم نہ ہو۔
2. خبر کا معمول اس کے اسم پر مقدم نہ ہو۔
3. اس کے بعد "إن" کا اضافہ نہ ہو۔
4. اس کے خبر کی نفی "إلا" کے ذریعے ختم نہ ہو۔
اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو "ما" "لیس" کے مانند عمل کرتی ہے، جیسے: ما زید قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
اکثر اوقات "ما" کی خبر میں "باء" کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے "لیس" کی خبر میں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق: "وماربك بظلام للعبيد" (اور تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے)، اور ایک اور مثال: "أليس الله بكاف عبده" (کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟)۔
"لا" کے عمل کی شرائط:
"لا" مشبہ بلیس کا عمل نادر ہوتا ہے اور "ما" کی طرح چار شرطیں لاگو ہوتی ہیں اور مزید یہ شرط ہے کہ :
- اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں، جیسے: لا أحد ناجياً من الموت (کوئی بھی موت سے بچنے والا نہیں ہے)۔
"لات" کے عمل کی شرائط:
1. "لات" "لیس" کی طرح عمل کرتی ہے جب اس کا اسم اور خبر زمانے کے ناموں میں سے ہوں، جیسے "الحين" (وقت) اور "الساعة" (گھڑی) وغیرہ۔
2. ان میں سے ایک کا حذف ہونا ضروری ہے، اور زیادہ تر اسم حذف ہوتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان: "ولات حين مناص"، یعنی "لات الحين حين مناص" (اب فرار کا وقت نہیں ہے)۔
"إن" کے عمل کی شرائط:
"إن" نفی کے لیے "لیس" کی طرح نادر استعمال ہوتی ہے، اور اس کے دو شرطیں ہیں:
1. نفی برقرار رہے، یعنی اس کے خبر کی نفی "إلا" وغیرہ کے ذریعے ختم نہ ہو۔
2. ترتیب برقرار رہے، یعنی خبر یا اس کا معمول اس کے اسم پر مقدم نہ ہو، جیسے: إن زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
عام طور پر اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب اس کی خبر "إلا" کے ساتھ ہو اور اس کی نفی منسوخ ہو جائے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "إن هذا إلا ملك كريم" (یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے)۔ اسی طرح جب خبر اسم پر مقدم ہو، تو یہ "إن" مہمل ہوگی، جیسے: إن قائماً زيد (زید کھڑا ہے)۔
114 المفصل۔ سبق:
خبر ما ولا المشبهتين بليس
هذا التشبيه لغة أهل الحجاز. وأما بنو تميم فيرفعون ما بعدهما على الإبتداء، ويقرؤن: ما هذا بشر، إلا من درى كيف هي في المصحف.
فإذا انتقض النفى بإلا أو تقدم الخبر بطل العمل فقيل: ما زيد إلا منطلق، ولا رجل إلا أفضل منك، وما منطلق زيد ولا أفضل منك رجل.
ودخول الباء في الخبر نحو قولك ما زيد بمنطلق إنما يصح على لغة أهل الحجاز لأنك لا تقول زيد بمنطلق.
لات
لات : وهي لا التي يكسعونها بالتاء وهي المشبهة بليس بعينها ولكنهم أبوا إلا أن يكون المنصوب بها حيناً. قال الله تعالى: " ولات حين مناص" أي ليس الحين حين مناص.
115 تمارین
116 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۲
اَلتَّمْرِيْنُ (125)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لاَ صَدَاقَةٌ دَائِمَةٌ بغير اخلاصٍ.
(2) مَا الْمَعْرُوْفُ ضَائِعًا عنْدَ الْكِرَامِ.
(3) مَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ.
(4) مَا الجَوادُ يَبْخَلُ بِماله ولا هو مُمْسِكٌ.
(5) لاَ ثَمرةٌ نَاضِجَةً في البُسْتَانِ.
(6) اَلَيْسَ اللهُ بِقَادِرٍ عَلىَ اَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتٰى؟
(7) مَا الْاغراقُ في الترف محمودًا.
(8) مَا وَالِدَايَ مُرْتَحِلَيْنِ اِلىَ بَاكستان.
(9) مَا اَصْدِقَاؤُكَ مخلصين لك.
(10) لا تلميذٌ غائبًا بل تلميذان.
(11) وما الحُسنُ في جَسَد الفتىَ شرفًا لَهُ.
(12) اذا لم يكن في فعلهِ والخلائقِ.
اَلتَّمْرِيْنُ (126)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) اس باغ کے درخت پھل دار نہیں ہیں۔
(۲) تمہاری بات مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
(۳) میری نگاہ میں تم لوگ کچھ زیادہ محنتی نہیں ہو۔
(۴) محمود کے دونوں بیٹے محنتی تو ہیں مگر ذہین نہیں ہیں۔
(۵) ہر دولت مند عیش وآرام میں نہیں ہے۔
(۶) کوئی دو دوست اس زمانے میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے نہیں ہیں۔
(۷) حامد کی لڑکیاں جاہل نہیں ہیں۔
(۸) کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔
(۹) وہ موجودہ حالت سے بالکل واقف نہیں ہے۔
(۱۰) ہمارے نزدیک وہ لوگ تعریف کے مستحق نہیں ہیں۔
(۱۱) اس زمانہ میں دین پر قائم رہنا آسان نہیں ہے۔
(۱۲) ہم لوگ موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہیں۔
(۱۳) دین میں مداہنت کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔
(۱۴) ہم اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں۔
117 النحوالواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۷،۸
إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ المُشَبَّهَاتُ بِلَبْس
التَّمْرِينُ :(۱)
بَيِّن فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ الْادَوَاتِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ، وَبَيِّنِ الْإِسْمَ وَالْخَبَرَ فِي كُلِّ جُمْلَةٍ.
۱) إِنِ الرِّيَاح عَاصِفَة
(۲) مَا آمَالُكَ خَائِبَة
(۳) لَا صَدَاقَةٌ دَائِمَةً بِغَيْرِ إِخْلَاص
(۴) مَا أَحَدُ اسْمِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِالْعَقَلِ
(۵) فَرَّ السَّجِينُ وَلَاتَ حِيْنَ مَفَر
(۶) لَا جَاهِلَةٌ مُحْتَرمَةٌ
(۷) تَعْتُبُ وَلَاتَ وَقتَ عِتَابٍ
(۸) لَا ثمْرَةٌ نَاضِجَةً
التَّمُرِينُ(۲ )
ادْخِلۡ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِّنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ حَرْفًا مِنَ الْحُرُوفِ النَّافِيَةِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ ، مَعَ اسْتِيعَابِ الْحُرُوفِ، وَضَبْطِ أَوَاخِرِ الْكَلِمَاتِ الْمُعْرَبَةِ بِالْحَرَكَاتِ.
(۱) ... الْأَرْضُ مُجْدِبَة
(۲) .... الْأَزهَارُ نَاضِرَة
(۳) .....الْيَوْمَ يَوْمُ جهَاد
(۴) .... تِجَارَتُكَ رَابِحَة
(۵) ..... السَّاعَةُ سَاعَةَ إِحْجَام
(۶) .... الْجَوَادَانِ جَامِحَان
(۷) ...... تِلْمِيذ مِنَ الْمَدْرَسَةِ غَائِب
(۸) .....الْعُمَّالُ مُتعَبُون
التَّمُرِينُ (۳)
أَتمِمِ الْجُمَلَ الآتِيَةَ وَاضْبِطۡ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بِالشَّكْلِ.
(۱) مَا فَيضَانُ النِّيْلِ . .
(۲) إِنِ الْكَسلان . ..
(۳) لا ظَالِمٌ ...
(۴) اعْتَذَرَ وَلاتَ ..
(۵) إِنْ أُمَّة ......
(۶) مَا شَوَارِعُ الْمَدِينَةِ ......
(۷) لا مُجِد ......
(۸) حَاوَلَ الْفِرَارَ وَلاتَ ......
التمرين (۴ )
مَا الَّذِي أَوْجَبَ الْغَاء عَمَل إِنْ وَمَا وَلَا فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ.
(۱) مَا أَمْرُكَ إِلَّا عَجِيبٌ
(۲) إِنْ سَعْيُكَ إِلَّا مَشْكُورٌ
(۳) لَا الْمَدِينَةُ وَاسِعَةٌ وَلَا الشَّوَارِعُ نَظِيفَة
(۴) مَا بِالْآبَاءِ فَخُرُكُمْ
(۵) إِنِ الرَّجُلُ إِلَّا قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ
(۶) مَا دُنْيَاكَ إِلَّا فَانِيَةٌ
(۷) إِنِ الْفَرَاعُ إِلَّا فَسَاد
(۸) لا الشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ وَلَا السَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ
(۹) مَا عِنْدِي كِتَابك
(۱۰) لَا كَاتِبٌ إِلَّا قَارِى
التَّمْرِينُ (۷)
لِمَ لا تَصْلَحُ الْجُمَلُ الْآتِيَةُ لِدَخُولِ لَا الْعَامِلَةُ عَمَلَ لَيْسَ عَلَيْهَا؟ إِجْعَلۡهَا صَالِحَةً لِذَلِكَ، ثُمَّ ادْخِل لَا عَلَى كُلٍّ مِنْهَا .
(۱) الشَّجَرَةُ مُوْرِقَةُ الْأَغْصَان
(۲) الدَّارُ وَاسِعَةُ الْأَرْجَاءِ
(۳) الصُّورَةُ جَمِيلَةُ الْأَلْوَان
(۴) الصَّفُوفَ مُسْتَقِيمَةٌ
(۵) أَقْلَامُنَا مَبْرِيَّةٌ
(۶) السَّحَابُ كَثِيفٌ
التمرين ( ٦ )
(۱) كون ست جمل مبدوءة بإن النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى ، ملغاة في الثلاث الثانية
( ۲ ) كون ست جمل مبدوءة بما النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى، واجبة الإلغاء في الثلاث الثانية
(۳) كون ست جمل مبدوءة بلا النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى ، واجبة الإلغاء في الثلاث الثانية
( ٤ ) كون أربع جمل تشتمل كل منها على(لات)، التي تعمل عمل ليس
التمرين ( ۷ )
(۱) نموذج ۔
لات وَقتَ مُزَاحٍ.
لات۔۔۔۔۔ حَرْف نفي يَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ مَبْنِي عَلَى الْفَتْحِ، وَاسْمُهَا مَحْذُوفٌ.
وَقت۔۔۔۔۔ خَبر لَاتَ مَنصُوبٌ بِالْفَتْحَةِ، وَهُوَ مُضَافٌ.
مُزَاحَ۔۔۔۔۔۔۔ مُضَاف إِلَيْهِ مَجْرُورٌ بِالْكَسْرَةِ.
(ب) أَعْرِبِ الْامثلۃ الْآتِيَةَ.
(۱) مَا مَعْرُوفُكَ ضَائِعا
(۲) إِنْ أَنْتَ إِلَّا وَفِيٌّ
(۳) لَا عُذْرٌ لَكَ مَقْبُولاً
(۴) نَدِمَ الْبُغَاةُ وَ لاتَ سَاعَةَ مَنْدَمٍ
التَّمْرِينُ(۸)
اشْرَح أَحَدَ الْأَبْيَاتِ الْآتِيَةِ ثُمَّ أَعْرِبهُ:
مَا كُلُّ مَا فَوْقَ الْبَسِيْطَةِ كَافِيًا وَإِذَا قَنِعْتَ فَبَعْضُ شَيْءٍ كَافٍ
وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا الْأَصْغَرَانِ لِسَانُهُ وَمَعْقُولُهُ وَالْجِسْمُ خَلقٌ مُصَوَّرٌ
وَمَا الْحُسْنُ فِي وَجْهِ الفَتَى شَرَفاً لَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي فِعْلِهِ وَالْخَلَائِقِ
زيادَةُ البَاءِ فِي خَبَرِ لَيْسَ وَمَا
التمرين (۱)
ادْخِلِ الْبَاءَ الزَّائِدَةَ عَلَى أَخْبَارِ مَا وَلَيْسَ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ .
(۱) مَا الْفَتَيَاتُ سَافِرَات
(۵) لَيْسَتِ الْمَلَاجِيء كَثِيرَةٌ
(۲) مَا الْخَطِيبُ مُؤَثِّرًا
(۶) لَيْسَ الْإِغْرَاقَ فِي التَّرَفِ مَحْمُودًا
(۳) مَا الْأَشْجَارُ مُوْرِقَات
(۷) لَيْسَ التَّرَیُّتُ فِي الْأُمُورِ مَذْمُوماً
(۴) مَا اصْدِقَاؤُكَ مُخْلِصِينَ
(۸) لَيْسَ اعْتِزَالُ النَّاسِ فَضِيلَةً
التموين (۲)
احذِفَ حَرفَ الْجَر الزَّائِد مِنَ الْأَخْبَارِ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ، ثُمَّ بَيِّنۡ نَوْعَ الْإِعْرَابِ وَعَلَامَتَهُ فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ :
(۱) مَا الْبَنَاتُ بِجَاهِلات
(۵) لَيْسَ الْحُرَّاس بِمُسْتَيقِظِينَ
(۲) لَيْسَ الضَّبَابُ بِكَثِف
(۶) مَا النِّيْلُ بِفَائِض
(۳) لَيْسَتِ الْأَزهَارُ بِذَابِلاتٍ
(۷) لَيْسَ شَاطِئا النِّيْلِ بِقَاحِلَينَ
(۴) مَا الْمُخَادِعُ بِأَخِيك
(۸) مَا كُلُّ غَنِيٍّ بِسَعِيدٍ
التَّمْرِينُ (۲)
ضَع فِي الْأَمَاكِنِ الْخَالِيَةِ أَخْبَارًا لِلَيْسَ وَمَا النَّافِيَةِ، وَهَاتِهَا مَرَّةً مَقْرُونَةً بِالْبَاءِ الزَّائِدَةِ، وَمَرَّةً غَيْرَ مَقْرُونَةٍ بِهَا .
(۱) ما نوافذ الحجرة۔۔
(۵) ليس قرض الشعر...۔۔۔
(۲) ما العجلة في الأمور۔
(۶) ليست موائد الطعام ۔۔۔۔.
(۳) ليست الأيام..۔۔
(۷) ليس جو مصر ...۔۔۔
(۴) ليس ركوب الخيل۔۔۔
(۸) ما حنان الأم .۔۔۔۔
التمرين ( ٤ )
(۱) كون ثلاث جمل يكون اسم ليس في كل منها مثنى ، والخبر مقروناً بالباء الزائدة
( ۲ ) كون ثلاث جمل يكون اسم ليس فى كل منها جمع مؤنث سالماً ، والخبر مقروناً بالباء الزائدة :
(۳) كون ثلاث جمل يكون اسم ما النافية في كل منها جمع مذكر سالماً والخبر مقروناً بالباء الزائدة
( ٤ ) كون ثلاث جمل يكون اسم ما النافية فى كل منها اسم إشارةلجماعةالإناث، والخبر مقروناً بالباء الزائدة
تَمْرِينٌ فِي الْأِعْرَابِ ( ۵ )
(۱) نموذج ۔
مَا بَاذِلُ الْمَعْرُوفِ بِمَكْرُوهِ.
ما ..... حَرف نَفْي يَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ وَهُوَ مَبْنِي عَلَى السُّكُونِ.
بَاذِلُ ..... اسْمُ مَا مَرْفُوعٌ وَهُوَ مُضَاف .
الْمَعْرُوف ..۔۔مُضَاف إِلَيْهِ .
بِمَكْرُوه أَلْبَاءُ حَرْفُ جَرٍّ زَائِدٌ، وَمَكْرُوه خَبَرُ مَا مَجْرُورٌ لَفظًا مَنصُوبٌ تَقْدِيرًا.
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ:
(۱) مَا الْأَسَدُ بِقَصِيرِ الْوَثْبَةِ
(۳) لَيْسَتِ الْجَاهِلَاتُ بِمُحْتَرَمَاتٍ ...
(۲) مَا سَاقَا النَّعَامَةِ بِقَصِيرَتَيْنِ
(۴) لَيْسَ الْبُغَاةُ بِمَحْبُوبِينَ
التمرين (۶)
اشرح أَحَدَ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبهُ۔
وَلَيْسَ أَخُوكَ الدَّائِمُ الْعَهْدِ بِالَّذِي
يَذُمُّكَ إِنْ وَلَّى وَيُرْضِيكَ مُقْبِلاً
وَمَا كُلُّ ذِي لُبٍّ بِمُؤْتِيكَ نُصْحَهُ
وَمَا كُلُّ مُؤْتٍ نُصْحَهُ بِلَبِيبٍ
118 تیسیر النحو۔ سبق:۸
أسئلة
۱. ما هو عمل كان وأخواتها اذكره بالتمثيل.
۲. كم الأفعال الناقصة، وما هي ؟
۳۔ اذكر من الأفعال الناقصة ما يعمل بدون شرط، وما يعمل بشرط مع ذكر الشرط والأمثلة.
۴۔ الاسم مع فعله الناقص يجري مجرى ماذا في جميع أحكامه من التزام التاخير وإفراد العامل وغيرهما ؟
۵۔ اسم الفعل الناقص مع خبره يجري مجرى ماذا في التعريف والتنكير، والتقديم والتأخير، والإفراد والتثنية، والجمع، والتذكير والتأنيث ؟
٦- إذا وقع خبر كان وأخواتها جملة فعلية فكيف يكون فعلها اذكره بالتفصيل مع الأمثلة.
۷۔ اذكر الحروف المشبهة بـ "ليس" وفيماذا تُشبه بها؟
۸۔ اذكر أعمل الحروف المشبهة بـ "ليس" مع الأمثلة.
۹۔ اذكر شروط عمل "ما" بالتفصيل.
١٠. هل تزاد الباء في خبر "ما" و "ليس اذكره مع الأمثلة.
۱۱. اذكر شروط عمل "لا" الخمسة بالتفصيل.
١٢- اذكر شرطي عمل "لات" بالتفصيل.
١٣ - اذكر شرطي عمل "إن المشبهة بـ "ليس بالتفصيل.
١٤ - متى تكون "إن المشبهة بـ "ليس مهملة، اذكر مع الأمثلة.
تمرينات
۱۔ أكمل الجمل الآتية، ثم اضبط أواخر كلماتها بالشكل
كان الحاكم. ظل العدل ...... صار العدو..... أصبح الحصان ..... أمسى الغني . أضحى السجين ..... بات الكلب ..... أحسن إلى والدك مادام ...... مازال المطر . ما انفك زيد .... ما فتي الجو...... ما برح التلميذ .... راح الطلاب . غدا الطفل ....... ليس الدواء۔۔۔۔
٢- حدد في الأمثلة الآتية الخبر المقدم على اسم الفعل الناقص وهل يجب تقديمه أم يجوز.
كان في البيت زيد، كان في البيت رجل، كان في المدرسة تلاميذها ، كان في المدرسة تلاميذ، إنما كان في البيت خالد، ماكان في البيت إلا خالد، كان في البيت خالد.
۳۔ حدد في الأمثلة الآتية الخبر المؤخر عن اسم الفعل الناقص إنما كان البحتري شاعرا، ماكان البحتري إلا شاعرا، كان البحتري شاعراء كان الأب يطيعه ابنه، صار صديقي عدوي.
۴۔ اذكر سبب تقديم خبر كان عليها وعلى اسمها في مثل: "أين كان زيد"
۵۔ فيماذا طابق خبر الفعل الناقص اسمه في كل جملة من الجمل الآتية
كان المدرسان حاضرين، كان المدرسون حاضرين، كان المدرس حاضرا، كانت المدرستان حاضرتين، كانت المدرسات حاضرات.
٦- بين في الجمل الآتية الحروف التي تعمل عمل ليس وبين الاسم والخبر في كل جملة.
إن الرياح عاصفة، ما آمالك خائبة، لا صداقة دائمة بغير إخلاص، فر السجين ولات حين مفر.
۷۔ما الذي أوجب إلغاء عمل "إن، وما ولاء في الجمل الآتية
ما عندي كتابك، لا في الدار أحد ما أموالك إلا فانية، إن سعيك إلا مشكور، لا بكاتب إلا قاري، لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة.
119 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
120 لاء نفی للجنس کا اسم
تعریف:
"لا نفی للجنس" کا مطلب ہے کہ اس سے مراد کسی جنس (قسم) کی بالکل نفی کرنا ہے، یعنی وہ چیز یا جنس بالکل موجود نہیں ہے۔
مثال کے طور پر: لا رجل في الدار (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)
یہاں "لا" سے مراد یہ ہے کہ پوری جنس، یعنی "آدمی" کی مکمل نفی ہو رہی ہے۔
"لا نفی للجنس" کا عمل:
- "لا نفی للجنس" اپنے بعد آنے والے اسم کو منصوب کرتی ہے، اور یہ اسم ہمیشہ نکرہ ہونا چاہیے۔
- "لا" کا خبر محذوف ہوتا ہے یا پھر کبھی ذکر ہوتا ہے۔
مثالیں:
1. لا طالبَ في الفصل (کلاس میں کوئی طالب علم نہیں ہے)
یہاں "طالب" "لا" کا اسم ہے اور منصوب ہے، جبکہ خبر محذوف ہے (یعنی موجود نہیں ہے)۔
2. لا رجلَ أفضلَ منك (تم سے بہتر کوئی آدمی نہیں ہے)
یہاں "رجل" "لا" کا اسم ہے اور "أفضل" اس کی خبر ہے۔
"لا نفی للجنس" کی اہم خصوصیات:
1. اسم منصوب: "لا نفی للجنس" کے اسم کو ہمیشہ منصوب ہونا چاہیے۔
2. نکرہ اسم: "لا" کے بعد جو اسم آئے گا وہ نکرہ ہونا چاہیے، معرفہ نہیں ہو سکتا۔
3. خبر: "لا نفی للجنس" کا خبر کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی محذوف (چھپا ہوا) ہوتا ہے۔
خبر کی اقسام:
1. خبر محذوف: جب خبر ظاہر نہیں ہوتی اور اس کا سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے۔
جیسے: لا طالبَ في المدرسة (مدرسے میں کوئی طالب علم نہیں ہے)، یہاں خبر محذوف ہے یعنی "موجود"۔
2. خبر ظاہر: جب خبر ظاہر ہوتی ہے تو یہ عام طور پر جملہ یا مضاف ہوتا ہے۔
جیسے: لا أحدَ خيرٌ منك (کوئی بھی تم سے بہتر نہیں ہے)۔
مزید مثالیں:
1. لا ماءَ في الجرة (برتن میں کوئی پانی نہیں ہے)۔
2. لا علمَ نافعَ إلا العلم بالله (اللہ کے علم کے سوا کوئی علم فائدہ مند نہیں ہے)۔
اس طرح "لا نفی للجنس" عربی زبان میں جنس یا قسم کی مکمل نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے بعد آنے والے اسم کو ہمیشہ منصوب کرتی ہے۔
121 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳
(لائے نفی جنس)
نواسخ جملہ کی چوتھی قسم لائے نفی جنس ہے ۔
یہ مطلق نفی کے لئے آتا ہے یعنی سرے سے اس چیز کا انکار کرتا ہے جس پر داخل ہوتا ہے۔ اِنّ کی طرح اپنے اسم (مبتدا) کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لا تلميذَ حاضرٌ (کوئی طالب علم حاضر نہیں ہے)۔
(۱) لائے نفی جنس کا اسم نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوا کرتا ہے۔
(۲) اگر اسم مفرد ہو (یعنی مضاف نہ) ہو تو فتحہ پر مبنی ہوتا ہے اور اس پر تنویں نہیں آتی جیسے لا رجلَ جالسٌ في الطريق (راستہ میں کوئی شخص نہیں بیٹھا ہے)
(۳) اور اگر اس کا اسم مفرد کے بجائے مضاف یا شبہ مضاف ہو تو ان دونوں صورتوں میں منصوب رہتا ہے اور معرب سمجھا جاتا ہے اس لئے اس پر تنوین بھی آتی ہے جیسے :-
لا راكبا فرسا في الطريق (کوئی گھوڑ سوار راستہ میں نہیں ہے)
لا شاهد زور محبوب (کوئی جھوٹی گواہی دینے والا شخص پیارا نہیں ہے)
لا مسرفا في ماله محمود (اپنے مال میں اسراف کرنے والا شخص پسندیدہ آدمی نہیں ہے )
لائے نفی جنس کے مذکورہ بالا عمل کے لئے بھی چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ :
(۱) لائے نفی للجنس پر کوئی حرف جار داخل نہ ہو۔
(۲) لائے نفی جنس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں ۔
(۳) لائےنفی جنس اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو۔
پہلی شرط اگر نہیں پائی گئی تو لا کا عمل باطل ہو جائے گا اور اسکی حیثیت صرف نفی کی رہ جائے گی۔
دوسری اور تیسری شرط نہ پائی جانے کی صورت میں بھی لا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور یہاں لا کا مکرر لانا واجب اور ضروری ہو جاتا ہے۔
مثالیں علی الترتیب یہ ہیں :
اشتريت القَلَم بلا ریشۃ (پہلی شرط مفقود ہے)
(۲) لا زیدٌ في الدار و لا عمرو (دوسری شرط مفقود ہے)
(۳) لا الرجل كریم ولا ابنہ (دوسری شرط مفقود ہے)
لا القمرطالع ولا النجوم لامعات (دوسری شرط مفقود ہے)
(۴) لا هُوَ حَى فَيُرجىٰ وَلَا هُوَمیِّتٌ فَینعیٰ (تیسری شرط مفقود ہے)
لا في الحديقة صِبْيَانٌ وَلا بناتٌ (تیسری شرط مفقود ہے)
122 النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲
لا النافية للجنس: لاء نفی للجنس
تَعْمَلُ «لا» النَّافِيَةُ لِلْجِنسِ عَمَلَ إِنَّ فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَاءَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا، وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا .
يُنصَبُ اِسْمُهَا إِذَا كَانَ مُضَافًا أَوْ شَبِيهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ إِذَا كَانَ مُفْرَداً.
يُشْتَرَطُ فِي عَمَلِهَا ألَّا يَدْخُلُ عَلَيْهَا جَارٌ وَأَنْ يَكُونُ اسْمُهَا وَخَبَرُهَا نَكِرَتَيْنِ، وَالَّا يُفْصَلُ الْاِسْمُ عَنْهَا بِفَاصِلٍ، فَإِنْ فُقِدَ الشَّرْطُ الْأَوَّلَ بَطَلَ عَمَلُهَا، وَإِنْ فُقِدَ شَرُطٌ مِنَ الشَّرْطَيْنِ الْآخَرَيْنِ بَطَلَ عَمَلُهَا.وَلَزِمَ تَكْرَارُهَا .
لائے نفی جنس اِنَّ جیسا عمل کرتا ہے ، پس وہ مبتداء کو نصب دیتا ہے جس کا نام اس کا اسم رکھا جاتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے اس کا نام اس کی خبر رکھا جاتا ہے۔
اس کے اسم کو اس وقت نصب دیا جاتا ہے جب وہ مضاف ہو یا شبہ مضاف ہو اور جب وہ مفرد ہو تو نصب دیا جاتا ہے مبنی علی الفتح ہونے کی وجہ سے۔
اس کے عمل میں یہ شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس پر حرف جار داخل نہ ہو اور دوسری بات کہ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں اور اس کا اسم اس سے جدا نہ کیا گیا ہو۔ پس اگر پہلی شرط نہ پائی گئی تو اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور اگر دوسری دو شرطوں میں سے ایک شرط پائی گئی تو اس کا عمل بالکل باطل ہو گا اور تکرار ضروری ہوگا
الأمثلة
(۱)لا شَاهِدَ زورٍ مَحْبُوبٌ
لا شجَرَةَ رُمّان في البستان .
لا راعي غنم في الْحَقْلِ
(۲)لا راكباً فرساً في الطريق
لا مُقَصِّراً فيِ وَاجِبِهِ مَمدُوحٌ
لا مجداً في عمله مَذمُومٌ .
(۳)لا سُرُورَ دَائمٌ
لا ضِدَّيْنِ مُجْتَمِعَانِ
لا مُجِدِّينَ مَحْرُومُونَ
لا جَاهِلَاتٍ مُحتَرَمَاتٌ
123 تیسیر النحو۔ سبق:۱۱
فصل خبر "لا" النافية للجنس
لا النافية للجنس تدل على نفي الخبر عن جميع أفراد جنس اسمها الواقع بعدها. على سبيل التنصيص، لا على سبيل الاحتمال ، وتعمل عمل "إن فتنصب الاسم وترفع الخير، نحو: لا فاعل خير مكروه.
شروط عملها: يشترط لعملها المذكور ستة شروط:
۱۔ أن تكون نافية للجنس نصاء لا احتمالا J
۲۔ أن يكون المنفي الجنس بأجمعه ( بحيث لا يبقى فرد من أفراده
۳۔ أن يكون اسمها وخبرها نكرتين
۴۔ أن يكون اسمها متصلا بها ( ويلزم تأخير الخبر عنه )
۵۔ عدم تقدم خبرها عليها.
۶۔ عدم دخول حروف الجر عليها .
مثال المستوفي للشروط الستة : لا حلية أثمن من مكارم الأخلاق.
من أنواع اسمها :
اسم "لا" ثلاثة أنواع : (۱) مفرد (۲) مضاف (۳) شبيه بالمضاف
فإذا كان اسم "لا" مفردا غير مضاف ولا شبيه بالمضاف يبنى على ماكان ينصب به قبل وقوعه اسم "لا"
مثل المثال السابق: لا حيلة أثمن من مكارم الأخلاق (حلية: مفرد اسم لا مبني على الفتح، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الفتحة) ومثل : لا ضدين مجتمعان (ضدين: مفرد اسم لا مبني على اليد المفتوح ماقبلها لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه مثنى) ومثل : لا مسلمين في الجاهلية (مسلمين مفرد اسم لا مبني على الياء المكسور ما قبلها، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه جمع مذكر سالم)
وإذا كان اسم لا مضافا، أو شبيها بالمضاف وجب أن يكون معربا منصوباً مثال المضاف: لا شاهد زور محبوب، ومثال الشبيه بالمضاف: لا متقنا عمله يفشل فيه.
تكرار "لا":
إذا تكررت "لا" وكان اسمها نكرة متصلا بها، نحو: لاحول ولا قوة إلا بالله، جاز فيه خمسة أوجه:
۱۔ إعمال المكررتين وبناء اسميهما على الفتح ( وهو الأصل) فتقول: لاحول ولا قوة إلا بالله.
۲۔إلغاء المكررتين ورفع ما بعدهما إما بالابتداء، وإما أنهما عاملتان عمل "ليس" فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۳۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ورفع ما بعدها عطفاً على محل اسم الأولى قبل دخول "لا" باعتبار كونه مبتدأ قبل دخولها فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۴۔ إلغاء الأولى أو اعتبارها عاملة عمل "ليس" ورفع ما يليها، وإعمال الثانية عمل إن" وبناء ما بعدها، فتقول: لا حول ولا قوة إلا بالله.
۵۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ونصب ما بعدها عطفا على محل اسم الأولى، لأنه في محل نصب بعد دخولها عليه فتقول : لا حول ولا قوة إلا بالله
حذف خبرها واسمها وذكرهما
يكثر حذف خبر "لا" إذا كان معلوما ( بأن دلت عليه قرينة) نحو: لاضير ولا بأس أي: عليك) وأكثر ما يحذفونه مع "إلا" نحو : لا اله إلا الله (أي: لا اله يحق موجود إلا الله )
يقل حذف الاسم مع بقاء الخبر كقولهم: لا عليك (أي: لا بأس أولا جناح ) وإذا جهل خبر "لا" وجب ذكره كالأمثلة السابقة في "أنواع اسمها "
خبر "لا" النافية للجنس کا بیان
"لا" نافية للجنس وہ حرف ہے جو اپنے بعد آنے والے اسم کی پوری جنس کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی، یہ کسی اسم کے تمام افراد کے متعلق خبر کی نفی کو بالکل صریح اور قطعی طور پر بیان کرتا ہے، کسی احتمال کے بغیر۔ "لا" کا عمل "إن" کی طرح ہوتا ہے، یعنی یہ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے، جیسے:
لا فاعلَ خيرٍ مكروهٌ (کوئی بھلائی کرنے والا ناپسندیدہ نہیں ہے)۔
"لا" کے عمل کی شرائط:
"لا" نافية للجنس کو مندرجہ ذیل چھ شرائط کے تحت عمل کرنا ہوتا ہے:
1. "لا" جنس کی نفی صریحاً کرے: یعنی یہ واضح طور پر جنس کی مکمل نفی کرے، محض احتمال نہ ہو۔
2. جنس کی مکمل نفی ہو: یعنی جس جنس کی نفی ہو، اس کے کسی بھی فرد کا وجود باقی نہ رہے۔
3. اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں: یعنی "لا" کے اسم اور خبر دونوں غیر معین (indefinite) ہونے چاہئیں۔
4. اسم "لا" اس کے ساتھ متصل ہو: اسم "لا" کو "لا" سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اور اس کا خبر بعد میں آئے۔
5. خبر اسم پر مقدم نہ ہو: خبر کو "لا" کے اسم سے پہلے نہیں آنا چاہیے۔
6. حروف جر کا دخول نہ ہو: "لا" پر کوئی حرف جر داخل نہ ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(اخلاق کی خوبیوں سے زیادہ قیمتی کوئی چالاکی نہیں ہے)
یہ مثال مذکورہ بالا تمام شرائط پر پوری اترتی ہے۔
اسم "لا" کی اقسام:
اسم "لا" کی تین اقسام ہوتی ہیں:
1. مفرد
2. مضاف
3. شبیہ بالمضاف
(1) مفرد: اگر اسم "لا" مفرد ہو، اور نہ مضاف ہو اور نہ ہی شبیہ بالمضاف، تو اسے اس صورت میں مبنی مانا جاتا ہے جس صورت میں اسے "لا" سے پہلے نصب دی گئی ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(یہاں "حيلة" اسم "لا" ہے اور یہ مبنی ہے)۔
(2) مضاف: اگر اسم "لا" مضاف ہو تو اسے منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا شاهدَ زورٍ محبوبٌ
(جھوٹ کا گواہ محبوب نہیں)۔
(3) شبیہ بالمضاف: اگر اسم "لا" شبیہ بالمضاف ہو تو اسے بھی منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا متقناً عملَه يفشل فيه
(جو اپنا کام محنت سے کرے، وہ ناکام نہیں ہوتا)۔
"لا" کا تکرار:
اگر "لا" نکرہ اسم کے ساتھ تکرار ہو تو پانچ طریقے جائز ہیں:
1. دونوں "لا" کو عمل میں لانا اور ان کے اسما کو فتح کے ساتھ بنانا (یہ اصل ہے)۔
2. دونوں "لا" کو غیر مؤثر قرار دینا اور ان کے بعد والے کو مرفوع کرنا۔
3. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا۔
4. پہلی "لا" کو غیر مؤثر اور دوسری کو عمل میں لانا۔
5. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا اور اسم کو منصوب کرنا۔
خبر اور اسم کا حذف:
"لا" نافية للجنس میں خبر کا اکثر حذف کیا جاتا ہے، جب کہ وہ معلوم ہو، جیسے:
لا ضير ولا بأس (یعنی: کوئی نقصان نہیں)۔
اسم کا حذف کم ہوتا ہے، جیسے:
لا عليك (یعنی: تم پر کوئی گناہ نہیں)۔
جب خبر کا علم نہ ہو، تو اسے ضرور ذکر کیا جاتا ہے۔
مثال:
لا إله إلا الله (یعنی: کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے)۔
اس طرح "لا" نافية للجنس عربی میں کسی جنس کی مکمل اور قطعی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ آنے والے اسم اور خبر کو معین اصولوں کے تحت منصوب اور مرفوع کرتی ہے۔
124 المفصل۔ سبق:
النصوب بلا التي لنفي الجنس
حكم اسم لا
هي كما ذكر محمولة على إن فلذلك نصب بها الأسم ورفع الخبر، وذلك إذا كان المنفي مضافاً كقولك لا غلام رجل أفضل منه، ولا صاحب صدق موجود؛ أو مضارعاً له كقولك لا خيراً منه قائم هنا، ولا حافظاً للقرآن عندك، ولا ضارباً زيداً في الدار، ولا عشرين درهماً لك. فإذا كان مفرداً فهو مفتوح وخبره مرفوع كقولك لا رجل أفضل منك، ولا أحد خير منك.
ويقول المستفتح ولا إله غيرك. وأما قوله: لا نسب اليوم ولا خلة فعلى إضمار فعل، كأنه قال ولا أرى خلة كما قال الخليل في قوله:
ألا رجلاً جزاءه الله خيراً
كأنه قال ألا ترونني رجلاً وزعم يونس أنه نون مضطراً.
وحقه أن يكون نكرة. قال سيبويه واعلم أن كل شيء حسن لك أن تعمل فيه رب، حسن لك أن تعمل فيه لا.
وأما قول الشاعر :
لا هيثم الليلة للمطي
وقول ابن الزبير الأسدي:
أرى الحاجات عند أبي حبيب نکدن ولا أمية بالبلاد
وقولهم لا بصرة لكم وقضية، ولا أبا حسن لها، فعلى التنكير. وأما لا سيما زيد فمثل لا مثل زيد.
وتقول لا أب لك. قال نهار بن توسعة اليشكري:
أبي الإسلام لا أب لي سواه إذا افتخروا بقيس أو تميم
ولا غلامين لك ولا ناصرين لك. وأما قولهم لا أبا لك ولا غلامي لك ولا ناصري لك فمشبه في الشذوذ بالملامح والمذاكير ولدن غدوة. وقصدهم فيه إلى الإضافة وإثبات الألف وحذف النون لذلك، وإنما أقحمت اللام المضيفة توكيداً للإضافة.
لاۡألا تراهم لا يقولون لا أبا فيها، ولا رقيبلاً عليها، ولا مجيري منها، وقضاء من حق المنفي في التنكير بما يظهر بها من صورة الإنفصال. وقد شبهت في أنها مزيلة ومؤكدة بتيم الثاني في يا تيم تيم عدي. والفرق بين المنفي في هذه اللغة وبينه وبين الأولى أنه في هذا معرب وفي تلك مبني، فإذا فصلت فقلت لا يدين بها لك ولا أب فيها لك، امتنع الحذف والإثبات عند سيبويه وأجازهما يونس. وإذا قلت لا غلامين ظريفين لك لم يكن بد من إثبات النون في الصفة والموصوف.
حكم صفة اسم لا :
وفي صفة المفرد وجهان أحدهما أن يبنى معه على الفتح كقولك لا رجل ظريف فيها، والثاني أن تعرب محموله على لفظه أو محله كقولك لا رجل ظريفاً فيها أو ظريف، وإن فصلت بينهما أعربت . وليس في الصفة الزائدة عليها إلا الإعراب، فإن كررت المنفي جاز في الثاني الإعراب والبناء وذلك قولك لا ماء ماء بارداً، وإن شئت لم تنون.
حكم معطوف اسم لا :
وحكم المعطوف حكم الصفة إلا في البناء.
قال:
فلا أب وابنا مثل مروان وابنه
وقال:
لا أم لي إن كان ذاك ولا أب
وان تعرف فالحمل على المحل لا غير كقولك لا غلام لك ولا العباس.
حكمه إذا كرر:
ويجوز رفعه إذا كرر قال تعالى : " فلا رفث ولا فسوق"، وقال: "لا بيع فيه ولا خلة". فإن جاء مفصولاً بينه وبين لا أو معرفة وجب الرفع والتكرير كقولك لا فيها رجل ولا امرأة، ولا زيد فيها ولا عمرو. وقولهم لا نولك أن تفعل كذا كلام موضوع موضع لا ينبغي لك أن تفعل كذا وقوله:
وأنت امرؤ منا خلقت لغيرنا حياتك لا نفع وموتك فاجع
وقوله:
قضت وطراً واسترجعت ثم آذنت ركائبها أن لا إلينا رجوعها
ضعيف لا يجيء إلا في الشعر. وقد أجاز المبرد في السعة أن يقال لا رجل في الدار ولا زيد عندنا .
إعراب لا حول ولا قوة إلا بالله وفي لا حول ولا قوة إلا بالله ستة أوجه أن تفتحهما، وأن تنصب الثاني، وأن ترفعه، وأن ترفعهما، وأن ترفع الأول على أن لا بمعنى ليس، أو على مذهب أبي العباس وتفتح الثاني، وأن تعكس هذا .
حذف اسم لا :
وقد حذف المنفي في قولهم لا عليك أي لا بأس عليك.
125 تمارین
126 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳
اَلتَّمْرِيْنُ (127)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ.
(2) لاَ خَيْرَ فِي وُدِّ امْرَءٍ مُتَقَلِّبٍ.
(3) لاَ مُؤْمِنِيْنَ قَانِطُوْنَ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهِمْ.
(4) لاَ دُكَّانَ فَاكِهَانِيٍّ قَرِيْبٌ مِنْ هُنَا.
(5) لاَ شَجَرَةَ رُمَّانٍ فِي الْبُسْتَانِ.
(6) لاَ رَاكِبًا دَرَّاجَةً فِي الطَّرِيْقِ.
(7) لَا اِيْمَانَ لِمَنْ لاَ اَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ.
(8) لاَ مُجِدًّا فِي عَمَلِهِ مَذْمُوْمٌ.
(9) وَلاَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ مَمْدُوْحٌ.
(10) لاَ عَاصِيًّا اَبَاهُ مَحْمُوْدٌ فِي الْعَشِيْرَةِ.
(11) لاَ مُتَنَافِسِيْنَ فِي الْخَيْرِ نَادِمُوْنَ.
(12) لاَ كَوَاكِبَ لَامِعَاتٌ فِي السَّمَاءِ.
(13) لاَ اُمَّةَ اَكْثَرُ دَهَاءً مِنْ الّانْجليز فِيْمَا اَظُنُّ.
اَلتَّمْرِيْنُ (128)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) اس شہر میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں ہے۔
(۲) لکھنؤ میں کوئی جامع مسجد نہیں ہے۔
(۳) ہمارے درجے میں کوئی طالب علم فیل نہیں ہے۔
(۴) احمد کے باغ میں فوارے نہیں ہیں۔
(۵) میرے پاس کوئی اون کا لباس نہیں ہے۔
(۶) مصارف میں اعتدال پسند قابل مذمت نہیں ہے۔
(۷) محمود کی طرح کوئی اپنے باپ کا اطاعت گزار نہیں ہے۔
(۸) مسلمان اپنے حال پر مطمئن نہیں ہیں۔
(۹) جو کچھ ہو آپ کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
(۱۰) یہاں سے قریب کوئی قہوہ خانہ نہیں ہے۔
(۱۱) یہاں کوئی ماہر ڈاکٹر نہیں ہے۔
(۱۲) تمہارے درجہ میں کوئی سائیکل سوار نہیں ہے۔
(۱۳) اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔
(۱۴) کوئی دو دوست تم دونوں کی طرح مخلص نہیں ہیں۔
(۱۵) جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمہارے درجہ میں کوئی طالب علم محنتی نہیں ہے۔
(۱۶) فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں ہے۔
127 النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲
التمرين (۱)
مَيِّز "لا" الْعَامِلَةَ مِنَ الْمُلْغَاةِ فِيمَا يَأْتِي، وَبَيِّنۡ سَبَبَ الْإِلْغَاءِ:
(۱) اشْتَرَيْتُ الْحِصَانَ بِلا سَرج
(۲) لَا مُكْثِرَ مُزَاحٍ مَهِيب
(۳) لَا الرَّجُلُ كَرِيمٌ وَلَا ابْنه
(۴) لَا ظُلْمَ الْيَوْم
(۵) لَا فِي الْحَدِيقَةِ صِبْيَان وَلَا بَنَات
(۲) لَا دُكَّانَ فَاكِهَانِيٍّ قَرِيبٌ
(۷) لَا فِي الْقَصِيدَةِ هِجَاءٌ وَلَا مَدِيحٌ
(۸) لَا مُؤْمِنِينَ قَانطُونَ
(۹) لا هُوَ حَيٌّ فَيُرْجَى وَلَا هُوَ مَيِّتٌ فَيُنْعَى
(۱۰) لَا دَفْتَرِی مَعِي وَلَا قَلَمِي
التَّمْرِينُ (۲)
عَيِّنۡ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ نَوعَ اسْم "لا" النَّافِيَة لِلْجِنْس وَبَيِّنِ الْمُعْرَبَ مِنْهُ وَالْمَبْنِي وَنَوْعَ الْإِعْرَابِ وَالْبَنَاء.
(۱) لَا خَيْرَ فِي وُدِ امْرِئ مُتَقَلِّبٍ
(۲) لَا فَوَّرَاتِ فِي الْبُسْتَان
(۳) لَا عَاقِلَيْنِ مُتَشَاتِمَان
(۴) لَا حَسُودَ مُسْتَرِيح
(۵) لَا صَاحِبَ جُودٍ مَذْمُوم
(۲) لَا سَبِيلَ إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ اَلْسنةِ الْعَامَة
(۷) لَا عَاصِياً ابَاهُ مُوَفَّق
(۸) لَا صَحْرَاوَاتٍ فِي أَوْرُبَّا
(۹) لَا مُتَنَافِسِيْنَ فِي الْخَيْرِ نَادِمُونَ
(۱۰) لَا كَوَاكِبَ طَالِعَاتٌ
(۱۱) لا بَائِعَ عنب فِي السُّوقِ
(۱۲) لَا دَارَ كُتُبِ فِي الْمَدِينَةِ
التَّمْرِينُ (۳)
اجْعَل كُلَّ اسْمٍ مِمَّا يَأْتِي إِسْما (لِلا) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ، وَالحق بِهِ خَبَراً مُنَاسِباً .
(۱) مُتقِن عَمَلَه
(۲) أَبُو اسْرَة
(۳) رَايَات
(۴) مُجِدُّونَ فِي أَعْمَالِهِم
(۵) صَانع مَعْرُوف
(۶) صَدِيقَان
(۷) مِصْبَاحٌ
(۸) بَارٌ بِوَالِدَيْهِ
(۹) ذُو فَضْلٍ
التَّمْرِينُ (۴)
ضَع إِسْمَا (لِلا) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ فِي الْأَمَاكِنِ الْخَالِيَةِ، وَبَيِّنۡ نَوْعَ إِعْرَابِهِ أَوْ بِنَائِهِ مَعَ اسْتِيْفَاءِ أَنْوَاعِ الْإِسْمِ.
(۱) لا ...۔۔۔۔۔۔ أفضل من الكتاب
(۲) لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ في النهر
(۳) لا ... محبوبان
(۴) لا۔۔۔۔۔خائبون
( ۵) لا۔۔۔۔۔۔۔فقيرة
(۶) لا۔۔۔۔۔۔ شجاع
(۷) لا۔۔۔۔۔۔۔۔ يلتقيان
(۸) لا۔۔۔۔۔ محترمات
التَّمُرِينُ(۵)
(أ) هَاتِ أَرْبَعَ جُمَلٍ يَكُونُ اِسْمُ (لاَ) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ فِي الْأُولَى مِنْهَا مَنْصُوبًا بِالْفَتْحَةِ، وَفِي الثَّانِيَةِ مَنْصُوباً بِالْيَاءِ ، وَفِي الثَّالِثَةِ مَنصُوباً بِالْاَلِفِ ، وَفِي الْاَخِيرَةِ مَنصُوباً بِالْكَسْرَةِ.
(ب) ھات ثلاث جمل یکون اسم "لا" النافیۃ للجنس فی الاولٰی منھا مبنیا علی الفتح، وفی الثانیۃ مبنیا علی الیاء و فی الاخیرۃ مبنیا علی الکسر۔
التمرين (۶)
هَاتِ ثَلاثَ اَمْثِلَةٍ" لِلا " النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ الْمُلْغَاة، بِحَيْث يَكُون سَبَبُ الْإِلْغَاءِ فِي الْأَوَّلِ دَخُولُ حَرفِ الْجَرِّ عَلَيْهَا ، وَفِي الثَّانِي عَدُمُ تَنْكِيرِ مَعْمُولَيْهَا، وَفِي الثَّالِثِ فَصلُهَا عَنْ اسْمِهَا بِفَاصِلٍ.
التَّمْرِين (۷)
ميِّزِفی الْجُمَلِ الآتِيَةِ "لا" النَّافِيَةَ لِلْجِنْسِ مِنْ لَا النَّافِيَةِ لِلْوَاحِدِ ، وَبَيِّنۡ عَمَلَ كُلِّ مِنْهُمَا .
(۱) لَا تِلْمِيذ غَائبا بَلْ تِلْمِيذَان (۳) لا مُتَنَزَّهٌ فِي الْمَدِينَةِ بَلْ مُتَنَزَّهَاتٌ
(۲) لَا حَيَّ خَالِد (۴) لَا عَمَلَ خَيْرٍ ضَائِعٌ
التَّمْرِينُ (۸ )
اذْكُرالْمَعَانِي الَّتِي تَأْتِي لَهَا (لَا) ثُمَّ بَيِّنِ الْعَامِلَةَ مِنْهَا وَغَيْرَ الْعَامِلَةِ، وَوَضّح نَوْعَ الْعَمَلِ مَعَ التَّمْثِيلِ:
تَمْرِينٌ فِي الْأَعْرَاب (۹)
(۱) نموذج ۔
لَا حَارِسَيْنِ فِي الْبُسْتَانِ.
لا ..... نَافِيَةٌ لِلْجِنْسِ حَرْفٌ مَبْنِي عَلَى السَّكُون.
حَارِسينَ ... اسْمُ لَا مَبْنِي عَلَى الْيَاءِ لِأَنَّهُ مُثْنى.
فِي الْبُسْتَان ....جَارٌ وَمَجْرُورٌ خَبَرُ لا ..
(ب) أَعْرِب الْامثلۃ الْآتِيَةَ
(۱) لَا مُتَرَیِّثينَ مَذْمُومُون
(۲) لَا زَمَانَ رَبِيعٍ مَمْلُول
(۳) لَا مَعَ الْمُسَافِرِ مَاءٌ وَلَا زَادٌ
(۴) لَا مُسْتَشِيرًا فِي أُمُورِهِ نَادِمٌ
التَّمْرِينُ (۱۰)
اشْرَحْ أَحَدَ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبهُ۔
وَلا خَيْرَ فِي حُسْنِ الْجُسُومِ وَنَبْلِهَا إِذَا لَمْ تَزِنۡ حُسْنَ الْجُسُومِ عُقُولُ
وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يُكَدَّرَا
128 تیسیر النحو۔ سبق:۱۱
أسئلة
ا. اذكر معنى "لا" النافية للجنس وعملها مع المثال.
۲۔ اذكر شروط عملها مع ذكر المثال المستوفي للشروط. .
۳۔ كم نوعا لاسم "لا" النافية للجنس ؟ اذكر حكم كل واحد منها بالتفصيل والتمثيل.
۴۔ اذكر خمسة أوجه في "لاحول ولا قوة إلا بالله" بالتفصيل مع ذكر الأسباب.
۵۔ متى يحذف خبرها ومتى يجب ذكره ؟ وهل يجوز حذف الاسم مع بقاء الخبر.
تمرينات
۱- بين اسم "لا" النافية للجنس وخبرها مع بيان نوع الاسم وإعرابه فيما يلي:
لا فقر أضر من الجهل، لا صادقا في القول مذموم، لا شفيقا بعباد الله مذموم، لا فضل لعربي على عجمي إلا بالتقوى، لامؤذياً جاره محبوب، لاكتاب علم يبغض، لا مال ولا بنين تغني من عذاب الله، لا ساعياً في الصلح مكروه، لا أخوين متخاصمان، لا كاذبين ناجون، لا كاذبات محمودات
۲۔هات جملا مفيدة تتضمن ما يلي مع الضبط بالشكل.
ا: اسم "لا" النافية للجنس جمع مذكر سالم
ب: اسم "لا" النافية للجنس مثنى
ج: اسم "لا" النافية للجنس جمع مؤنث سالم
د: اسم "لا" النافية للجنس جمع مكسر
129 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
130 منادی
منادی:
منادی (پکارا ہوا) وہ اسم ہے جس کو مخاطب کیا جائے یا جسے آواز دی جائے۔ اس پر عام طور پر حرفِ نداء (جیسے "یا" یا "اے") داخل ہوتا ہے، جس کے ذریعے مخاطب کو پکارا جاتا ہے۔ مثال: "يا زيد" (اے زید)، "يا رجل" (اے آدمی)۔
منادی کی اقسام:
منادی کی اقسام کو دو بنیادی زمروں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
معرفہ منادی
نکرہ منادی
1. معرفہ منادی:
معرفہ منادی وہ منادی ہوتا ہے جو کسی خاص یا معروف شخص یا چیز کو مخاطب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔
معرفہ باللام:
جیسے "يا الرجل" (اے مرد)۔
معرفہ بالعَلَم:
جیسے "يا زيد" (اے زید)۔
2. نکرہ منادی:
نکرہ منادی وہ ہے جو غیر معین یا غیر مخصوص شخص یا چیز کو مخاطب کرے۔
نکرہ مقصودہ:یہ نکرہ منادی مقصود ہوتا ہے اور اس کو سنا جاتا ہے، جیسے "يا رجل" (اے آدمی)۔
نکرہ غیر مقصودہ: یہ غیر معین ہوتا ہے، جیسے "يا رجلا" (کسی آدمی کو پکارا جائے)۔
اعراب کے لحاظ سے منادی کی اقسام:
منادی کے اعراب (زیر، زبر، پیش) کا دارومدار اس کی قسم پر ہے:
1. منادی مفرد معرفہ: یہ وہ منادی ہے جو ایک مخصوص شخص یا چیز ہو اور معرفہ ہو۔ یہ ہمیشہ مبنی ہوتا ہے اور عام طور پر پیش (رفع) پر ہوتا ہے، جیسے: "يا زيدُ" (اے زید)
2. منادی نکرہ مقصودہ: یہ نکرہ بھی مبنی ہوتا ہے اور پیش پر ہوتا ہے، جیسے: "يا رجلُ" (اے آدمی)
3. منادی نکرہ غیر مقصودہ: یہ منصوب ہوتا ہے یعنی اس پر زبر آتاہے، جیسے: "يا رجلاً" (کسی آدمی کو پکارا جائے)
4. منادی مضاف: یہ مضاف ہوتا ہے اور منصوب ہوتا ہے، جیسے: "يا عبدَ اللهِ" (اے عبد اللہ)
5. منادی شبیہ بالمضاف:یہ بھی منصوب ہوتا ہے، جیسے: "يا طالبَ العلمِ" (اے علم کے طلبگار)
حروف نداء:
منادی کو بلانے کے لیے عربی زبان میں مختلف حروفِ نداء استعمال ہوتے ہیں:
يا: عام طور پر استعمال ہوتا ہے، جیسے: "يا زيد"۔
أيا، هيا، آی: دور یا غیر حاضر کو مخاطب کرنے کے لیے۔
أي: قریب کو مخاطب کرنے کے لیے۔
أ، آ: بہت قریب کو مخاطب کرنے کے لیے۔
خلاصہ:
منادی وہ اسم ہوتا ہے جسے پکارا جائے اور اس پر حرفِ نداء داخل ہوتا ہے۔ منادی معرفہ ہمیشہ مبنی ہوتا ہے اور نکرہ غیر مقصودہ منصوب ہوتا ہے۔
131 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳)
المنادى: اسم يُذْكَرُ بَعْدَ "يَا" أو إِحْدَى أَخَوَاتِهَا طَلَبًا لإِقْبَالِ مَدْلُولِهِ.
يُنْصَبُ المُنَادَى إِذَا كَانَ مُضَافًا، أَوْ شَبِيهًا بِالْمُضَافِ، أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مَقْصُودَةٍ.
يُبْنَى المُنَادَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِهِ إِذَا كَانَ نَكِرَةً مَقْصُودَةً، أَوْ عَلْمًا مُفْرَدًا، وَالمُرَادُ بِالمُفْرَدِ هُنَا مَا لَيْسَ مُضَافًا وَلَا شَبِيهًا بِالمُضَافِ.
منادی وہ اسم ہے جسے یاء یا اس کے اخوات کے ذریعے متوجہ کیا جائے۔
منادی اگر مضاف ، شبه مضاف یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو منصوب ہوگا اور اگر نکرہ مقصودہ یا علم مفرد ہو تو علامت رفع پر مبنی ہو گا۔ یاد رہے کہ یہاں مفرد سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ شبہ مضاف۔
الامثلة
(۱) يَا صَلاحَ الدينِ .
(۲) يَا حَارِسَ البُسْتَانِ .
(۳) يَا بَائِعَ التينِ
(۴) يَا مُسَافِرًا إِلَى لبْنَانَ .
(٥) يا لاهياً عن دَرْسِهِ
(٦) يا ضائعًا كتابه
(۷) يا مسرعًا في العجلة الندامة .
(۸) يا ظالمًا تَبَصر في العواقبِ.
(۹) يا شَامِتًا إِنَّ الدَهْرَ خَوَانٌ .
(١٠) يا رجالُ أَتقِنُوا أعمالكم .
(۱۱) يا فَتَيَانِ لا تَعبثا بالأزهار .
(۱۲) يا لاعبون استريحوا .
(۱۳) يا خليلُ .
(١٤) یا حَسَنَانِ .
(١٥) يا مُحَمَّدُونَ
132 تیسیر النحو۔ سبق:۲۰
فصل المنادى
المنادى هو الاسم الظاهر المطلوب إقباله بأحد أحرف النداء " نحو: يا عبد الله، ويا محمد.
وأحرف النداء سبعة وهي:
(۱) أي
(۲) الهمزة للمنادى القريب
(۳) أيا
(٤) هيا
(٥) آ: للمنادي البعيد
(٦) يا لكل منادى
(۷) وا: للندية
ولا ينادى لفظ الجلالة "الله" و المستغاث به، وأي، وأية إلاب "يا" كما لا يقدر عند الحذف غيرها.
المنادى نوعان
منصوب، ومبني في محل نصب
ينصب المنادى إذا كان مضافا، أو شبيها بالمضاف أو نكرة غير مقصودة ويعتبر المنادى في هذه الحالات منصوبا بحرف النداء النائب عن ( فعل النداء) المحذوف وجوبا نحو : يا عبد الله اسمع عبد منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه مضاف واحد منصرف صحيح ويا طالبي العلم اجتهدوا (طالبي: منادى وعلامة نصبه الياء لأنه مضاف جمع مذكر سالم) ويا طالعا جبلا أقبل طالعا: منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه شبيه بالمضاف واحد منصرف صحيح) ويا رجلا خذ بيدي رجلا منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه نكرة غير مقصودة واحد منصرف صحيح ) يبنى المنادى على ما يرفع به قبل النداء إذا كان مفردا سواء أكان ذلك المفرد علما أو نكرة مقصودة بصيغة المفرد، أو المثنى، أو الجمع مثل: يا محمد اذهب (محمد: علم منادى مبني على الضم ، لأن علامة رفعه قبل النداء الفضة) ويا بائع خذ الثمن (بائع: منادى فكرة مقصودة مبني على الضم لأن علامة رفعه قبل النداء الضمة) وياشرطيان أقبلا (شرطيان منادى نكرة مقصودة مبني على الألف لأن علامة رفعه قبل النداء الألف لأنه مثنى) ويا مجتهدون اجتهدوا (مجتهدون: منادى نكرة مقصودة مبني على الواو، لأن علامة رفعه قبل النداء الواو، لأنه جمع مذكر سالم).
ويتصل بصيغة النداء ثلاث صيغ أخرى
وهي:
١ - الاستغاثة، ٢ - والندبة .. والترخيم
الاستغاثة:
الاستغاثة هي نداء شخص لاعانة غيره ليخلصه من شدة، أو يساعده على دفع مشقة، نحو: يا لزيد للمظلوم.
فالمطلوب منه الاعانة يسمى "مستغاثابة" والمطلوب له الاعانة يسمى "مستغاثاله" ولا يستعمل للاستغاثة من أحرف النداء إلا "يا وحدها ولا يجوز حذفها، ولا حذف المستغاث به، أما المستغاث له فحذفه جائز، نحو: یالزيد.
أوجه المستغاث به:
للمستغاث به ثلاثة أوجه:
۱۔أن يجر بلام مفتوحة غالبا، نحو: يا لزيد، للمظلوم، ويا للْكِرَامِ لِلْمُحْتَاجِينَ.
۲۔ أن يختم بألف زائدة نحو: يا قوما للمظلوم
۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من لام مفتوحة، وألف زائدة نحو: يا قوم للمظلوم.
يخالف المستغات به المنادى في أنه يصح أن يكون مقترنا بـ " أل " نحو: يا للأطباء للمصابين ولا يصح ذلك في المنادى، كما سبق في بيان الوجهين في نداء الاسم لمقترن بـ آل" في الهامش)
حكم المستغاث له ولامه:
إن ذكر المستغاث له في الكلام وجب جره باللام، وهذه اللام تكون مكسورة إذا كان المستغاث له اسما ظاهرا كالأمثلة السابقة، أو ياء المتكلم نحو: يا لزيد لي، وإذا كان ضميرا غير ياء المتكلم تكون مفتوحة، نحو: يا لمحمد لك، أو له.
ويجوز الجر بـ " من " إذا كان مستغاثا منه، لا مستغاثا له، نحو: يالقومي للمظلوم من الطغاة الجائرين.
حكم المتعجب منه :
يلحق بالمستغاث به المتعجب منه الذي ضمن معنى التعجب من ذاته أو صفته . فيجرى مجرى المستغاث به في كل أحكامه فتدخل عليه اللام، نحو قولك یاللماء. (اذا تعجبت من وجوده، أو من كثرته) و يا للدواهي(إذا تعجبت من عظمها)
٢ - الندبة
الندبة: هي نداء المتوجع عليه ، أو المتوجع منه أو المتوجع لله و أداتها " وا" أو "يا مثال الأول: وا أماه والثاني واكبداه، والثالث: وامصيبتاه.
ولا يجوز حذف المندوب ولا أداة الندیة:
يكون المندوب كالمنادى في الإعراب، فيبنى على الضم في نحو وايوسف، وينصب في نحو: وا أمير المومنين الخ
حالات المندوب:
للمندوب ثلاث حالات
۱۔ أن يختم بألف زائدة، نحو واكبدا.
٢۔ أن يختم بالألف الزائدة مع هاء السكت الساكنة عند الوقف نحو: وايوسفاه
۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من الألف الزائدة وهاء السكت، نحو: وايوسف، ووا أمير المؤمنين
۳۔ الترخيم
الترخيم: هو حذف آخر المنادى تخفيفا، فيقال له المنادى المرخم والترخيم يجوز في نوعين من الأسماء:
ا۔ الاسم المختوم بتاء التأنيث، سواء أكان علما أو غير علم، مثال العلم يا فاطم (أصله : يا فاطمة) ومثال غير العلم يا جاري (أصله : يا جارية)
۲۔ العلم المذكر أو المؤنث بشرط أن يكون غير مركب، زائدا على ثلاثة أحرف مثال العلم المذكر : يا جعف (أصله : يا جعفر ) ومثال العلم المؤنث : يا سلم (أصله: يا سلمی)
الترخيم: إما أن يحذف فيه حرف واحد، وهو الأكثر كما تقدم، أو حرفان وهو قليل نحو: يا عُثُم ( أصله : يا عثمان)
يمتنع ترخيم المستغاث به والمندوب والنكرة غير المختومة بالتاء، والمضاف والشبيه بالمضاف، والمبني قبل النداء، والمركب الإسنادي
لغتان في المنادي المرخم
يجوز في المرخم لغتان
۱۔ ترك آخره بعد الحذف على ما كان عليه من الحركة قبل الحذف كما سبق في الأمثلة، وهو الأشهر.
۲۔ تحريك آخره بعد الحذف بحركة الحرف المحذوف، فتقول: يا جعف بعد الترخيم في "يا جعفر و يا فاطم بعد الترخيم في "يا فاطمة"
فصل المنادی
منادی: وہ ظاہر اسم ہے جسے کسی حرف نداء (یعنی پکارنے کے حرف) کے ذریعے بلایا جاتا ہے تاکہ اس کی طرف توجہ دلائی جائے۔ جیسے: "يا عبد الله" (اے عبد الله) یا "يا محمد" (اے محمد)۔
حروف نداء (یعنی پکارنے کے حروف) سات ہیں:
1. أي (قریب سے نداء کے لیے)
2. الہمزة (قریب سے نداء کے لیے)
3. أيا (دور سے نداء کے لیے)
4. هيا (دور سے نداء کے لیے)
5. آ (دور سے نداء کے لیے)
6. يا (ہر قسم کے منادی کے لیے)
7. وا (ندبہ کے لیے)
لفظ "اللّٰه" کو نداء میں صرف "يا" کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور استغاثہ یا نداء میں "أي" اور "أية" کے لیے بھی یہی حرف استعمال ہوتا ہے۔
منادی کے اقسام
منادی دو قسم کا ہوتا ہے:
1. منصوب:
- اگر منادی مضاف ہو، یا شبیہ بالمضاف ہو، یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو اسے منصوب کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں منادی کو حرف نداء نصب کرتا ہے جو دراصل ایک محذوف فعل نداء کی جگہ آتا ہے۔ مثالیں:
- "يا عبد الله" (عبد اللہ منادی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے)
- "يا طالبي العلم" (طالب علم منادی ہیں اور جمع مذكر سالم ہونے کی وجہ سے نصب پر ہیں)
- "يا رجلا" (رجل نکرہ غیر مقصودہ ہے اور منصوب ہے)
2. مبنی:
- اگر منادی مفرد علم ہو یا نکرہ مقصودہ ہو، تو اسے رفع کے اصولوں کے مطابق مبنی کیا جاتا ہے۔ مثالیں:
- "يا محمد" (محمد علم ہے اور مبنی على الضم ہے)
- "يا بائع" (بائع نکرہ مقصودہ ہے اور مبنی على الضم ہے)
- "يا شرطيان" (شرطيان مثنیٰ ہے اور مبنی على الألف ہے)
- "يا مجتهدون" (مجتهدون جمع مذكر سالم ہے اور مبنی على الواو ہے)
منادی کے ساتھ تین اضافی صیغے
استغاثہ:
استغاثہ کسی شخص کا دوسرے کو پکارنا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے کسی سختی سے نجات دلائے یا کسی تکلیف کو دور کرنے میں مدد کرے، جیسے: "یا لَزَیدُ للمظلوم"۔
جس سے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث بہ" کہا جاتا ہے، اور جس کے لیے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث لہ" کہا جاتا ہے۔
استغاثہ کے لیے صرف "یا" حرف ندا استعمال ہوتا ہے اور اسے حذف کرنا جائز نہیں، نہ ہی مستغاث بہ کو حذف کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستغاث لہ کو حذف کرنا جائز ہے، جیسے: "یا لزید"۔
مستغاث بہ کے اوزان:
مستغاث بہ کے تین اوزان ہوتے ہیں:
لام مفتوحہ کے ساتھ جر:
جیسے: "یا لَزیدُ للمظلوم"، "یا للکِرَامِ للمحتاجین"۔
آخر میں زائدہ الف کے ساتھ:
جیسے: "یا قوما للمظلوم"۔
مندرجہ بالا اضافات کے بغیر، عام منادی کی طرح:
جیسے: "یا قوم للمظلوم"۔
فرق بین المنادی والمستغاث بہ:
منادی کے برعکس، مستغاث بہ میں "أل" کے ساتھ آنا جائز ہے، جیسے: "یا للأطباء للمصابین"۔
جبکہ منادی میں "أل" کے ساتھ ندا جائز نہیں۔
مستغاث لہ اور اس کی لام کا حکم:
اگر مستغاث لہ کو ذکر کیا جائے تو اسے لام کے ساتھ مجرور کرنا لازم ہے۔
اگر اسم ظاہر ہو یا ياء المتکلم ہو تو لام مکسورہ ہوگی، جیسے: "یا لزید لي"۔
اگر ضمیر ہو (سوائے ياء المتکلم کے) تو لام مفتوحہ ہوگی، جیسے: یا لمحمد لك" یا "یا لمحمد له"۔
اگر استغاثہ کسی سے نجات کے لیے ہو (کسی کے خلاف مدد مانگنا ہو) تو "من" کے ساتھ ذکر کیا جا سکتا ہے، جیسے:
"یا لقومی للمظلوم من الطغاة الجائرین"۔
متعجب منہ کا حکم:
وہ الفاظ جو کسی چیز کے وجود یا اس کی شدت پر تعجب کے لیے آتے ہیں، ان پر بھی استغاثہ کے احکام لاگو ہوتے ہیں، جیسے:
"یا للماءِ" (اگر پانی کے ہونے پر تعجب ہو یا اس کی کثرت پر)
"یا للدواهي" (اگر مصیبتوں کی شدت پر تعجب ہو)۔
۲۔ ندبہ:
ندبہ وہ ندا ہے جو کسی تکلیف پر افسوس، کسی کے لیے غم، یا اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے کی جاتی ہے۔
اس کی دو ادوات ہیں: "وا" اور "یا"۔
مثالیں:
جس پر افسوس ہو:
"وا أماه" (اے میری ماں!)
جس سے تکلیف محسوس ہو:
"واکبداه" (ہائے جگر!)
اللہ کے لیے ندبہ:
"وامصيبتاه" (ہائے مصیبت!)
ندبہ میں حذف جائز نہیں:
نہ تو مندوُب (جس پر ندبہ کیا جا رہا ہو) کو حذف کرنا جائز ہے، نہ ہی ادات ندبہ کو۔
مندوُب کی اعرابی حالت:
اگر مفرد نکرہ ہو تو مبنی بر ضم ہوگا: "وا يوسفُ"
اگر مضاف ہو تو منصوب ہوگا: "وا أميرَ المؤمنين"۔
مندوُب کی تین حالتیں:
آخر میں زائدہ الف: جیسے: "واکبدا"۔
زائدہ الف کے ساتھ ہاء السکت: جیسے: "وا يوسفاه"۔
بغیر کسی اضافے کے:
جیسے: "وا يوسف"، "وا أمير المؤمنين"۔
۳۔ ترخیم:
ترخیم ندا میں آخری حرف کو حذف کرنے کو کہتے ہیں تاکہ لفظ ہلکا ہو جائے۔
جس منادی میں ترخیم کیا جائے اسے "منادی مرخم" کہا جاتا ہے۔
ترخیم کے جواز کی صورتیں:
تاء تانیث پر ختم ہونے والے الفاظ (چاہے علم ہو یا عام اسم):
علم: "یا فاطم" (اصل: یا فاطمة)۔
عام اسم: "یا جاري" (اصل: یا جارية)۔
غیر مرکب علم (زیادہ تر تین حروف سے زیادہ):
مذکر: "یا جعف" (اصل: یا جعفر)۔
مؤنث: "یا سلم" (اصل: یا سلمی)۔
ترخیم کی دو صورتیں:
ایک حرف حذف کرنا (یہ زیادہ عام ہے)
جیسے: "یا فاطم" (یا فاطمة)۔
دو حروف حذف کرنا (یہ کم ہوتا ہے)
جیسے: "یا عثم" (یا عثمان)۔
ترخیم ممنوع ہے:
مندرجہ ذیل صورتوں میں ترخیم جائز نہیں:
مستغاث بہ
مندوب
نکرہ غیر مختوم بتاء
مضاف
شبیہ بالمضاف
مرکب اسنادی
وہ الفاظ جو قبل الندا مبنی ہوں
ترخیم میں دو زبانیں: حذف کے بعد آخری حرف کی حرکت برقرار رکھنا (یہ زیادہ مشہور ہے)، جیسے: "یا جعف" (یا جعفر)
"یا فاطم" (یا فاطمة)
حذف کے بعد آخری حرف کو حذف شدہ حرف کی حرکت دینا، جیسے:
"یا جعَفُ" (یا جعفرَ)
"یا فاطِمُ" (یا فاطمةَ)
133 المفصل۔ سبق:۱۲
المنادى
ومن المنصوب باللازم إضماره المنادى لأنك إذا قلت يا عبد الله فكأنك قلت يا أريد أو أعنني عبد الله. ولكنه حذف لكثرة الإستعمال وصاريا بدلاً منه.
ولا يخلو من أن ينتصب لفظاً أو محلاً. فانتصابه لفظاً إذا كان مضافاً كعبد الله أو مضارعاً له كقولك يا خيراً من زيد و يا ضارباً زيداً ويا مضروباً غلامه ويا حسناً وجه الأخ ويا ثلاثة وثلاثين ، أو نكرة كقوله:
فيا راكباً إما عرضت فبلغا تداماي من نجران ألا تلاقيا
وانتصابه محلاً إذا كان مفرداً معرفة كقولك يا زيد و يا غلام ويا أيها الرجل أو داخلة عليه لام الإستغاثة أو لام التعجب كقوله:
يا لعطافنا ويا للرياح وأبي الحشرج الفتى النفاح
وقولهم يا للماء ويا للدواهي. أو مندوباً كقولك يا زيداه.
حكم توابع المنادى:
توابع المنادى المضموم غير المبهم إذا أفردت حملت على لفظه ومحله كقولك يا زيد الطويل والطويل، ويا تميم أجمعون وأجمعين، ويا غلام بشر وبشراً، ويا عمرو الحارث والحارث، وقرئ والطير رفعا ونصباً إلا البدل، ونحو زيد وعمرو من المعطوفات فإن حكمهما حكم المنادي بعينه تقول يا زيد زيد ويا زيد وعمرو بالضم لا غير وكذلك يا زيد أو عمر ويا زيد لا عمرو أو إذا أضيفت كقولك يا زيد ذا الجمة وقوله:
أزيد أخا ورقاء كنت ثائراً فقد عرضت أحناء أمر فخاصم
و یا خالد نفیسه، و يا تميم كلهم و يا بشر صاحب عمرو، ويا غلام أبا عبد الله ويا زيد عبد الله . والوصف بابن وابنة كالوصف بغيرهما إذا لم يقعا بين علمين فإن وقعا أتبعت حركة الأول حركة الثاني كما فعلوا في ابن وامرئ تقول يا زيد ابن أخينا ويا هند ابنة عمنا ويا زيد بن عمرو ويا هند ابنة عاصم. وقالوا في غير النداء أيضاً إذا وصفوا هذا زيد بن أخينا وهند ابنة عمنا، وهذا زيد ابن عمرو، وهند ابنة عاصم، وكذلك النصب والجر. فإذا لم يصفوا فالتنوين لا غير وقد جوزوا في الوصف التنوين في ضرورة الشعر كقوله:
جارية من قيس بن ثعلبة
المنادي المبهم:
والمنادي المبهم شيئان أي واسم الإشارة. فأي يوصف بشيئين بما فيه الألف واللام مقحمة بينهما كلمة التنبيه وباسم الإشارة، كقولك يا أيها الرجل، ويا أيهذا. قال ذو الرمة:
ألا أيهذا الباخع الوجد نفسه لشيء تحته عن يديه المقادر
واسم الإشارة لا يوصف إلا بما فيه الألف واللام كقولك يا هذا الرجل ويا هؤلاء الرجال. وأنشد سيبويه الخزز بن لوذان.
یا صاح يا ذا الضامر العنس
ولعبيد ابن الأبرص:
يا ذا المخوفنا بمقتل شيخه حجر تمني صاحب الأحلام
وتقول في غير الصفة يا هذا زيد وزيداً ويا هذان زيد وعمرو وزيداً وعمراً وتقول يا هذا ذا الجمة على البدل.
حكم المنادي المعرف بأل:
ولا ينادي ما فيه الألف واللام إلا الله وحده لأنهما لا تفارقانه كما لا تفارقان النجم مع انهما خلف عن همزة إله. وقال:
من اجلك يا التي تيمت قلبي وأنت بخيلة بالوصل عني
حكم المنادي المكررة
وإذا كرر المنادي في حال الإضافة ففيه وجهان أحدهما أن ينصب الإسمان معاً كقول جرير :
یا تيم تيم عدي أبا لكم يلقينكم في سوءة عمر
وقول بعض ولده
یا زید زيد اليعملات الذبل تطاول الليل عليك فأنزل
والثاني أن يضم الأول:
حكم المنادي المضاف إلى ياء المتكلم
وقالوا في المضاف إلى ياء المتكلم يا غلامي و يا غلام و يا غلاماً وفي التنزيل" يا عباد فاتقون" وقرئ يا عبادي. ويقال يا رباً تجاوز عني. وفي الوقف يا رباه غلاماه والتاء في يا أبة ويا أمة تاء تأنيث عوضت عن الياء ألا تراهم يبدلونها هاء في الوقف وقالوا يا ابن أمي ويا ابن عمي ويا ابن أم ويا ابن عم ويا ابن أم ويا ابن عم. وقال أبو النجم:
يا ابنة عما لا تلومي واهجعي ألم يكن يبيض لو لم يصلع
جعلوا الأسمين كاسم واحد.
حكم المندوب:
ولا بد لك في المندوب من أن تلحق قبله يا أو وا وأنت في إلحاق الألف في آخره مخير فتقول وازيد. والهاء اللاحقة بعد الألف للوقف خاصة دون الدرج. ويلحق ذلك المضاف إليه فيقال وا أمير للمؤمنيناه. ولا يلحق الصفة عند الخليل فلا يقال وازيد الظريفاه ويلحقها عند يونس. ولا يندب إلا الأسم المعروف فلا يقال وارجلاه ولم يستقبح، وا من حفر بئر زمزماه لأنه بمنزلة واعبد المطلباه.
ويجوز حذف حرف النداء عما لا يوصف به أي. قال الله تعالى: " يوسف أعرض عن هذا وقال: " رب أرني أنظر إليك". وتقول أيها الرجل وأيتها المرأة، ومن لا يزال محسناً أحسن إلي. ولا يحذف عما يوصف به أي فلا يقال رجل ولا هذا. وقد شذّ قولهم أصبح ليل وفتد مخنوق، وأطرق كراً.
وجاري لا تستنكري عذيري
ولا عن المستغاث والمندوب وقد التزم حذفه في اللهم لوقوع الميم خلفاً عنه.
الاختصاص:
وفي كلامهم ما هو على طريقة النداء ويقصد به الإختصاص لا النداء، وذلك قولهم أما أنا فأفعل كذا أيها الرجل، ونحن نفعل كذا أيها القوم، اللهم اغفر لنا أيتها العصابة . جعلوا أياً مع صفته دليلاً على الإختصاص والتوضيح، ولم يعنوا بالرجل القوم والعصابة إلا انفسهم وما كنوا عنه بأنا ونحن والضمير في لنا. كأنه قيل أما أنا فأفعل كذا متخصصاً بذلك من بين الرجال، ونحن نفعل متخصصين من بين الأقوام، واغفر لنا مخصوصين من العصائب. ومما يجري هذا المجرى قولهم إنا معشر العرب نفعل كذا.
ونحن آل فلان كرماء. وإنا معشر الصعاليك لا قوة بنا على المروة. إلا أنهم سرغوا دخول اللام ههنا فقالوا نحن العرب أقرى الناس للضيف. وبك الله نرجو الفضل وسبحانك الله العظيم. ومنه قولهم الحمد الله الحميد. والملك لله أهل الملك. وأتاني زيد الفاسق الحبيث. وقرئ حمالة الحطب. ومررت به المسكين والبائس. وقد جاء نكرة في قول الهذلي:
ويأوي إلى نسوة عطل وشعثاً مراضيع مثل السعالي
وهذا الذي يقال فيه نصب على المدح والشتم والترحم.
الترخيم:
ومن خصائص النداء الترخيم إلا إذا اضطر الشاعر فرحم في غير النداء. وله شرائط إحداهها أن يكون الأسم علماً. والثانية أن يكون غير مضاف والثالثة أن لا يكون مندوبا ولا . مستغاثاً. والرابعة أن تزيد عدته على ثلاثة أحرف إلا ما كان في آخره تاء تأنيث فإن العلمية والزيادة على الثلاثة فيه غير مشروطتين. يقولون يا عاذل، ويا جاري، لا تستنكري ويا ثب اقبلي و يا شا ارجني، وأما قولهم يا صاح وأطرق كراً فمن الشواذ.
والترخيم حذف في التقدير وهو الكثير، أو يجعل ما بقي كأنه اسم برأسه فيعامل بما تعامل به سائر الأسماء. فيقال على الأول يا حار، ويا هرق، ويا لمو، ويا بنو في المسمى ببنون وعلى الثاني يا حار، ويا هرق ويا ثمى ويا بني.
ولا يخلو المرخم من أن يكون مفرداً أو مركباً فإن كان مفرداً فهو على وجهين أحدهما أن يحذف منه حرف واحد كما ذكرت لك.
والثاني أن يحذف منه حرفان، وهما على نوعين إما زيادتان في حكم زيادة واحدة كاللتين في أعجاز أسماء ومروان وعثمان وطائفي. وإما حرف صحيح ومدة قبله وذلك في نحو منصور وعمار ومسكين. وإن كان مركباً حذف آخر الأسمين بكماله فقيل يا بخت و یا عمرو ويا سيب ويا خمسة في بخت نصر وعمرويه وسيبويه والمسمى بخمسة عشر. وأما نحو تأبط شراً وبرق نحره فلا يرخم.
حذف المنادي.
وقد يحذف المنادي فيقال يا بؤس لزيد بمعنى يا قوم بؤس لزيد ومن أبيات الكتاب:
يا لعنة الله والأقوام كلهم والصالحون على سمعان من جار
وفي التنزيل " ألا يا اسجدوا
134 تمارین
135 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳)
التمرين (۱)
عين في الجمل الاتية نوع المنادى وبين المعرب منه والمبنى ونوع الاعراب والبناء:
ا۔ اغيثوا البائسين ياهل المروات
۲۔ غربت الشمس يا صائمين
۳۔ اجب دعائي ايا مجيب الدعاء
۴۔ خذبیدی يا رحيما بالضعفاء
۵۔ یا شاهدان اشهدا بالعدل
۶۔ انصفوا المظلوم يا قضاة
۷۔ تمهل يا نازلا من الجبل
۸۔ لا تعذب الحيوان يا فريد
۹۔ خذوا جوائز کم یا فائزون
۱۰۔ جودوا ياهل الفضل
۱۱۔ اسرج الحصان يا غلام
۱۲۔ یا مسافرون تاهبوا
التمرين (۲)
ضع احد احرف النداء قبل الاسماء التالية والحق كل اسم بجملة مناسبة ثم بين نوع اعرابه او بنائه:
ابو الفضل ، عبد الغفار ، اسماعیل ، غلامان
عجول، مجتهد في درسه ، شاهدون، غافل
متقن عمله ، اخو العرب ، مبذرون ، ذو المروءة
التمرين (۳)
ضع منادى مناسبا في الاماكن الخالية من الجمل الـ الاتية وبين نوح عرا به او بنائه:
۱۔ ۔۔۔۔۔۔لا تكسل
۲۔۔۔۔۔۔۔دع الغرور
۳۔۔۔۔۔۔ ارحمو الحيوان
۴۔۔۔۔۔۔۔ اريحوا خيلكم
۵۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارضعی
۶۔۔۔۔۔۔ لا تومل النجاح
۷۔۔۔۔۔۔ابشروا بحسن العواقب
۸۔۔۔۔۔احكما بالعدل
۹۔۔۔۔۔لا تصحبوا الاشرار
۱۰۔ سالك الفعو والمغفرة
التمرين (۴)
(۱) كون ثلاث جمل المنادى فى كل منها مضاف واضبط آخره بالشكل
(۲) كون ثلاث جمل المنادى فى كل منها شيبه بالمضاف واضبط آخره بالشكل
(۳) كون ثلاث جمل المنادى فى كل منها نكرة غير مقصودة واضبط آخره بالشكل
(۴) كون ثلاث جمل المنادى فى كل منها مقصودة. واضبط آخره بالشكل
(۵) كون ثلاث جمل المنادى فى كل منها علم مفرد. واضبط آخره بالشكل
التمرين (۵)
(۱) هات ثلاثة امثلة للمنادي المنصوب بالفتحة
(۲) هات ثلاثة امثلة للمنادي المنصوب بالالف
(۳) هات ثلاثة امثلة للمنادي المنصوب بالياء
(۴) هات ثلاثة امثلة للمنادي المبنى على الضم
(۵) هات ثلاثة امثلة للمنادي المبنی علی الالف
(۶) ھات ثلاثۃ امثلۃ للمنادی المبنی علی الواو
التمرين في الاعراب (۶)
(الف) نموذج
يا راعي الغنم
یا.... حرف نداء مبنى على السكون
راعی ...... منادی منصوب بالفتحة الظاهرة لا نه مضاف
الغنم ... مضاف اليه مجرور بالكسرة الظاهرة
(ب) اعرب الامثلة الاتية
ا - يا ظالمين عواقب الظلم وخيمة
۲۔ يا صبيان لا تلعبا بالنار
۳۔ يا على لا تتسلق الاشجار
۴۔ یا مجهدا نفسه
136 تیسیر النحو۔ سبق:۲۰
أسئلة
۱۔ عرف المنادى بالتمثيل مع ذكر أحرف النداء وتحديد المنادى لكل منها، وذكر خصوصية "يا"
٢ - للمنادي نوعان، اذكرهما بالتفصيل مع التمثيل.
۳۔ اذكر حذف حرف النداء والمنادى بالتمثيل.
٤- عرف الاستغاثة بالتمثيل مع تحديد المراد بالمستغاث به، والمستغاث له.
۵۔ أي حرف من أحرف النداء يستعمل للاستغاثة، وهل يجوز حذفه، وحذف المستفان به والمستغاث له ؟
٦- للمستغاث به ثلاثة أوجه اذكرها بالتمثيل.
۷۔ اذكر حكم المستغاث له ولامه بالتمثيل.
۸۔ اذكر حكم المتعجب منه بالتمثيل.
٩- عرف الندبة بالتمثيل مع تحديد الحرفين من أحرف النداء اللذين يستعملان في الندبة.
١٠ - اذكر حكم المندوب في الإعراب بالتمثيل، وهل يجوز حذفه، وحذف أداة الندبة؟
۱۱ - للمندوب ثلاث حالات، اذكرها بالتمثيل.
١٢ - عرف الترخيم مع ذكر النوعين من الأسماء اللذين يجوز الترخيم فيهما، وذكر مثال واحد لكل منهما.
١٣ - كم حرفا يجوز حذفه في الترخيم ؟ اذكره بالتمثيل
١٤ - اذكر ما يمتنع ترخيمه.
١٥۔ يجوز في المرخم لغتان اذكرهما بالتمثيل.
تمرينات
۱۔عين المنادى ونوعه وحكم إعرابه أو بنائه في الأمثلة الآتية:
۱- قال تعالى: يا نساء النبي لستن كأحد من النساء ) ۲۔ يا عظيما خلقه نحبك،
٣. يا راكبا حملني معك، ٤. قال تعالى : أراغب أنت عن آلهتي يا ابراهيم .
۵۔ قال تعالى: بابها الناس اتقوا ربكم ) ٦- قال تعالى: (يايتها النفس المطمئنة ارجعي إلى ربك اضية مرضية ) ٧ - ما معنى هذه العبارة يا أستاذ ؟
۲۔ عين نوع أسلوب النداء فيما يأتي، وحكم إعرابه أو بناته.
۱۔ یالرجال الشرطة للمظلوم، ٢ . يا طبيبًا للمصاب، ٣. يا قوم لورثة المقتول۔ ۴۔ يا الروعة الطبيعة، ٥- يا للبرد، ٦- واعمراه ، ٧. واقلباء .. وامصيبتاه، ۹. قال شاعريرثي الشيخ محمد عبده واخادم الدين والفصحى وأهلها وحارس الفقه من زيغ وبهتان يا أيها الطالب المجتهد زادك الله حرصا على طلب العلم، ۱۱ - يا فاطم اصبري على ا أصابك، ۱۲ - يا عنتر أقدم، ۱۳ - يا أسم اذهبي إلى البيت، ١٤ - يا سلم لماذا لا تجتهدين في الدراسة، ١٥ - يا عثم اسمع ما أقول.
۳۔ ناد كل اسم من الأسماء الآتية في جملة مفيدة، وبين حكم إعرابه أو بنائه.
الطالب - محمد دعاة الهدى - سائق السيارة حارس.
۴۔ اندب ثلاثة أسماء من الأعلام مستوعبا صور الندبة الثلاث.
۵۔ استغث في جمل مفيدة بمن ياتي مع ذكر مستغاث له مناسب.
رجال الشرطة. الأطباء - جنود الجيش. قومي.
۶۔ هات ما يأتي في جمل مفيدة:
۱۔ منادى مبنيا على الواو
۲۔ منادى منصوبا بالألف
۳۔ منادى مبنيا على الألف
٤- منادى منصوبا بالياء
۵۔ منادى مبنيا على الألف
٦- منادى منصوبا بالكسرة
137 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں