گرامر

نقشہ

  • معرب و مبنی کے اعتبار سے
    • معرب اسماء
    • مرفوع اسماء
    • منصوب اسماء
    • مجرور اسماء
    • معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں
    • مبنی اسماء

1 قاعدہ

اسماء مجرورہ وہ اسماء ہیں جن کے آخر میں کسرہ (جر) کی علامت آتی ہے، اور ان کو جر کی حالت میں لانے کا سبب عموماً حروفِ جر یا اضافت کا استعمال ہوتا ہے۔

حروف جردیگر کتب میں5

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ ( جلد:۱) سبق:۱۶

يُجَرُّ الِاسْمُ إِذَا سَبَقَهُ حَرْفٌ مِنْ حُرُوفِ الْجَرِّ الآتِيَةِ وَهِيَ: مِنْ، وَإِلَى، وَعَنْ، وَعَلَى، وَفِي، وَالْبَاءِ، وَاللَّامِ.

جب کسی اسم پر حروف جر - من - الی - عن- علی- فی- باء- لام - میں سے کوئی حرف داخل ہو تو اس اسم کو جر دیا جاتا ہے اور وہ اسم مجرور ہو جاتا ہے۔

الامثلة

  1. نَزَلَ الْمَطَرُ مِنَ السَّمَاءِ.
  1. يَأْتِي السَّمَكَ مِنَ الْبَحْرِ.
  1. سَعَى الْجَيْشُ إِلَى الْمَيْدَانِ.
  1. سَارَتِ الْمَاشِيَةُ إِلَى الْحَقْلِ.
  1. يَنْزِلُ الْجُنْدِيُّ عَنِ الْحِصَانِ.
باقی عبارت پڑھیں (9)
  1. يَذْهَبُ الْخَوْفُ عَنِ الطِّفْلِ.
  1. يَطْفُو الْخَشَبُ عَلَى الْمَاءِ.
  1. يَسْقُطُ الثَّمَرُ عَلَى الْأَرْضِ.
  1. يَنْبَحُ الْكَلْبُ فِي الْبُسْتَانِ.
  1. دَخَلَ الْمُجْرِمُ فِي السِّجْنِ.
  1. قَشَّرْتُ الْفَاكِهَةَ بِالسِّكِّينِ.
  1. يَتَقَاتَلُ الْجُنُودُ بِالسُّيُوفِ.
  1. الْجَائِزَةُ لِلسَّابِقِ.
  1. اشْتَرَيْتُ قُفْلًا لِلْخِزَانَةِ.
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۵

حروف جارہ

حروف جارہ سترہ ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :۔

ب ، ت ، ك ، ل ، و، من، عن، على، فى، إِلَى، حَتَّى، رُبَّ ، مذ ، منذ ، حاشا ، عدا ، خلا

یہ حروف اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو جر دیتے ہیں جیسے المطر ينزل من السماء

حروف جارہ رابطه اور صلہ کا کام دیتے ہیں۔

ان میں سے اکثر و بیشتر متعدد اور مختلف معانی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ ذیل میں بعض حروف کے صرف کثیر الوقوع معانی لکھے جاتے ہیں :۔

(۱) ب :۔ سے ، میں ، پر، سبب، ساتھ، قسم، وغیرہ کے معانی میں کبھی زائدہ بھی ہوتا ہے اور کبھی تعدیہ کے لئے آتا ہے۔

(۲) ت : قسم کے لئے، اللہ کے لئے مخصوص ہے جیسے تا اللہ (اللہ کی قسم)

باقی عبارت پڑھیں (15)

(۳) ك : تشبیہ کے لئے (مانند ، مشابه، مثل، طرح )، وغیرہ

(۴) ل : (واسطے ، طرف سے، کو، کا، کے ،کی ، وغیرہ)

(۵) و : قسم کے لئے "رُبَّ "کے معنی میں ۔

(۶) من : سے ، کا، کی، کے ، میں ۔ سے ، بعض سبب ، وغیرہ ۔

(۷) عن : (سے، طرف سے ، بارے میں)۔

(۸) علی : (پر، باوجود) و غیره -

(۹) في : (میں، بارے میں، متعلق، سبب وغیرہ)

(۱۰) إلى : ( تك، طرف، وغیره)

(۱۱) حتی : (تک ، یہاں تک کہ، تاکہ وغیره )

(۱۲) رُبَّ : بعض بہتر، اکثر، وغیرہ ، تقلیل و تکثیر دونوں کے لئے)

(۱۴،۱۳) منذ ، مذ : (عرصہ سے ..... دن سے وغیرہ ) عرصہ بتانے کیلئے

(۱۵، ۱۶، ۱۷) حاشا ، خلا ، عدا۔ (ہوا، علاوہ، وغیرہ استثناء کے لئے)

نوٹ : عربی میں صلہ کا پہچاننا سب سے مشکل کام ہے۔ مبتدی تو مبتدی اکثر پڑھے لکھے لوگ لکھنے ہیں فاش غلطی کر جاتے ہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر مشق و مداومت پر ہے۔

البتہ اتنی بات یاد رکھو:

قال کا صلہ لام آتا ہے ، سال، سمع بغیر صلہ کے استعمال ہوتے ہیں اور اسی طرح ظلم بھی، جیسے: - قلتُ لِزَيْدٍ، سَمِعْتُ زَيْدًا، فلَانٌ ظَلَم زَيْدًا ، سَأَلْتُ زَيْدًا عَنْ اسم أَبِيْهِ .

شرح مائۃ عاملمائۃ عامل۔ سبق:۱

حروف تجر الاسم فقط، وتسمى حروفا جارة، وهي سبعة عشر حرفا

۱۔ الباء للإلصاق، وهو اتصال الشيء بالشيء، إما حقيقة نحو به داء، وإما مجازا نحو مررت بزيد أي التصق مروري بمكان يقرب منه زيد، وللاستعانة نحو : كتبت بالقلم، وقد تكون للتعليل نحو قوله تعالى: إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّحَاذِكُمُ الْعِجْل، وللمصاحبة نحو : اشتريت الفرس بسرجه، وللتعدية نحو قوله تعالى: ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ، ونحو : ذهبت بزيد أي أذهبته، وللمقابلة نحو : اشتريت العبد بالفرس، وللقسم نحو : بالله لأفعلن كذا، وللاستعطاف نحو : ارحم بزيد، وللظرفية نحو : زيد بالبلد، وللزيادة نحو قوله تعالى: وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.

۲۔ واللام للاختصاص، نحو: الجل للفرس، وللزيادة نحو : ردف لكم أي ردفكم، وللتعليل نحو : جئتك لإكرامك، وللقسم نحو: الله لا يؤخر الأجل، وللمعاقبة نحو : لزم الشر للشقاوة،

۳۔ و"من" وهي لابتداء الغاية نحو سرت من البصرة إلى الكوفة، وللتبعيض نحو : أخذت من الدراهم أي بعض الدراهم، وللتبيين نحو قوله تعالى: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ أي الرجس الذي هو الأوثان، وللزيادة نحو قوله تعالى: يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ.

۴۔ و " إلى " لانتهاء الغاية في المكان نحو: سرت من البصرة إلى الكوفة، وللمصاحبة نحو قوله تعالى: ﴿وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ أي مع أموالكم، وقد يكون ما بعدها داخلا في ما قبلها إن كان ما بعدها من جنس ما قبلها، نحو قوله تعالى: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ، وقد لا يكون ما بعدها داخلا في ما قبلها إن لم يكن ما بعدها من جنس ما قبلها، نحو قوله تعالى: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ.

۵۔ و"حتى" لانتهاء الغاية في الزمان، نحو : نمت البارحة حتى الصباح، وفي المكان نحو: سرت البلد حتى السوق، وللمصاحبة نحو : قرأت وردي حتى الدعاء أي مع الدعاء، وما بعدها قد يكون داخلا في حكم ما قبلها، نحو: أكلت السمكة حتى رأسها، وقد لا يكون داخلا فيه نحو المثال المذكور، وهي مختصة بالاسم الظاهر بخلاف "إلى" فلا يقال : حتاه، ويقال: إليه.

۶۔ و"على" للاستعلاء نحو : زيد على السطح، وعليه دين، وقد تكون بمعنى الباء نحو مررت عليه بمعنى مررت به، وقد تكون بمعنى "في" نحو قوله تعالى : وَإِنْ كُنتُمْ عَلَى سَفَرٍ أي في سفر.

۷۔ و"عن" للبعد والمجاوزة نحو : رميت السهم عن القوس.

باقی عبارت پڑھیں (44)

۸۔ و"في"للظرفية نحو : المال في الكيس، ونظرت في الكتاب. وللاستعلاء نحو قوله تعالى: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ،

۹۔ والكاف للتشبيه نحو : زيد كالأسد، وقد تكون زائدة نحو: قوله تعالى: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء.

۱۰۔ ومذ ومنذ" لابتداء الغاية في الزمان الماضي نحو : ما رأيته مذ يوم الجمعة أو منذ يوم الجمعة، أي ابتداء عدم رؤيتي إياه كان يوم الجمعة إلى الآن، وقد تكون بمعنى جميع المدة نحو : ما رأيته مذ يومين أو منذ يومين، أي جميع مدة انقطاع رؤيتي إياه يومان.

۱۱۔ و"رب" للتقليل ولا يكون مجرورها إلا نكرة موصوفة، ولا يكون متعلقه إلا فعلا ماضيا نحو : رب رجل كريم لقيته، وقد تدخل على الضمير المبهم ولا يكون تمييزه إلا نكرة موصوفة نحو : ربه رجلا جوادا.

۱۲۔ والواو للقسم، وهي لا تدخل إلا على الاسم الظاهر لا على المضمر نحو : والله لأشربن اللبن، وقد تكون بمعنى "رب" نحو : وعالم يعمل بعلمه أي رب عالم يعمل بعلمه

۱۳۔ والتاء للقسم، وهي لا تدخل إلا على اسم الله تعالى نحو : تالله لأضربن زيدا. اعلم أنه لابد للقسم من الجواب، فإن كان جوابه جملة اسمية، فإن كانت مثبتة وجب أن تكون مصدرة بـ "إن" أو لام الابتداء نحو: والله إن زيدا قائم، والله لزيد قائم، وإن كانت منفية كانت مصدرة بــ "ما ولا و إن" مثل: والله ما زيد قائما، و والله لا زيد في الدار ولا عمرو، و والله إن زيداً قائم، وإن كان جوابه جملة فعلية، فإن كانت مثبتة كانت مصدرة باللام وقد، أو باللام وحده مثل : والله لقد قام زيد و والله لأفعلن كذا، وإن كانت منفية فإن كانت فعلا ماضيا كانت مصدرة بـ "ما" مثل: والله ما قام زيد، وإن كانت فعلا مضارعا كانت مصدرة بـ"ما ولا ولن" مثل: والله ما أفعلن كذا، و والله لا أفعلن كذا، و والله لن أفعل كذا، وقد يكون جواب القسم محذوفا إن كان قبل القسم جملة كالجملة التي وقعت جوابه، مثل: زيد عالم والله أي والله إن زيدا عالم، أو كان القسم واقعا بين الجملة المذكورة مثل: زيد والله عالم أي والله إن زيدا عالم.

۱۴۔ و حاشا وخلا وعدا كل واحد منها للاستثناء مثل: جاءني القوم حاشا زيد وخلا زيد وعدا زيد، وقال بعضهم: إن الاسم الواقع بعدها يكون منصوبا على المفعولية، فحينئذ تكون هذه الألفاظ أفعالا والفاعل فيها ضمير مستتر دائما، فالمثال المذكور في معنى جاءني القوم حاشا زيدا وخلا زيدا وعدا زيدا، وإذا وقعت "خلا وعدا" بعد "ما" مثل: ما خلا زيدا وما عدا زيدا، أو في صدر الكلام مثل : خلا البيت زيدا وعدا القوم زيدا تعينتا للفعلية.

حروف جارہ

ایسے حروف جو اسم کو مجرور کرتے ہیں، انہیں حروف جارۃ کہا جاتا ہے، اور یہ سترہ حروف ہوتے ہیں۔

1. باء: جوڑنےکے لیے، جو چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑتا ہے، مثلاً: "به داء" (اس سے بیماری)، یا مجازاً: "مررت بزيد" (میں زید کے قریب سے گزرا)، یا مدد کے لیے: "كتبت بالقلم" (میں نے قلم سے لکھا)، یا غرض کے لیے: "إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّحَاذِكُمُ الْعِجْل" (یقیناً تم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، گائے کے بت کو اپنے لیے معبود بنا کر)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "اشتريت الفرس بسرجه" (میں نے گھوڑا اس کی زین کے ساتھ خریدا)، یا تعدیہ کے لیے: "ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ" (اللہ نے ان کے نور کو لے لیا)، یا: "ذهبت بزيد" (میں زید کے ساتھ گیا)، یا مبادلہ کے لیے: "اشتريت العبد بالفرس" (میں نے غلام کو گھوڑے کے بدلے خریدا)، یا قسم کے لیے: "بالله لأفعلن كذا" (اللہ کی قسم میں ایسا کروں گا)، یا استغاثہ کے لیے: "ارحم بزيد" (زید پر رحم کرو)، یا ظرفیت کے لیے: "زيد بالبلد" (زید شہر میں ہے)، یا اضافے کے لیے: "وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (اپنی ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا)۔

2. لام: خاصیت کے لیے، مثلاً: "الجل للفرس" (یہ زین گھوڑے کے لیے ہے)، یا اضافے کے لیے: "ردف لكم" (یہ تمہارے لیے ہے)، یا غرض کے لیے: "جئتك لإكرامك" (میں تمہیں عزت دینے کے لیے آیا)، یا قسم کے لیے: "الله لا يؤخر الأجل" (اللہ اجل کو نہیں ٹالتا)، یا سزا کے لیے: "لزم الشر للشقاوة" (بدی شقاوت کے لیے لازم ہے)۔

3. من: ابتدائی حد کے لیے، مثلاً: "سرت من البصرة إلى الكوفة" (میں بصرہ سے کوفہ تک گیا)، یا جزو کے لیے: "أخذت من الدراهم" (میں نے پیسوں میں سے کچھ لیا)، یا وضاحت کے لیے: "فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ" (بتوں سے جو ناپاکی ہے، اس سے اجتناب کرو)، یا اضافے کے لیے: "يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ" (وہ تمہارے گناہوں کی معافی دے گا)۔

4. إلى: مقام میں انتہا کے لیے، مثلاً: "سرت من البصرة إلى الكوفة" (میں بصرہ سے کوفہ تک گیا)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ" (ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ نہ کھاؤ)، اور بعد والا حصہ کبھی پہلے کے حصہ میں شامل ہو سکتا ہے، جیسے: "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ" (اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو)، اور کبھی شامل نہیں ہوتا، جیسے: "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ" (پھر روزہ رات تک مکمل کرو)۔

5. حتى: زمانے میں انتہا کے لیے، مثلاً: "نمت البارحة حتى الصباح" (میں کل رات صبح تک سویا)، یا مقام میں: "سرت البلد حتى السوق" (میں شہر سے بازار تک گیا)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "قرأت وردي حتى الدعاء" (میں نے اپنا ورد دعاء کے ساتھ پڑھا)، اور بعد والا حصہ کبھی پہلے کے حکم میں شامل ہو سکتا ہے، جیسے: "أكلت السمكة حتى رأسها" (میں نے مچھلی کو اس کے سر تک کھایا)، اور کبھی شامل نہیں ہوتا، جیسے: مذکورہ مثال۔ یہ اسم ظاہر سے مختص ہے، "إلى" کے برعکس، "حتى" کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ کہا جاتا ہے: "إليه"۔

6. على: بلند ہونے کے لیے، مثلاً: "زيد على السطح" (زيد چھت پر ہے)، یا: "عليه دين" (اس پر قرض ہے)، یا "ب" کے معنی میں، مثلاً: "مررت عليه" (میں اس کے پاس سے گزرا) یا "في" کے معنی میں، جیسے: "وَإِن كُنتُمْ عَلَى سَفَرٍ" (اور اگر تم سفر پر ہو)۔

7. عن: دوری اور تجاوز کے لیے، مثلاً: "رميت السهم عن القوس" (میں نے تیر کو کمان سے پھینکا)۔

8. في: ظرفیت کے لیے، مثلاً: "المال في الكيس" (پیسہ بیگ میں ہے)، یا: "نظرت في الكتاب" (میں نے کتاب میں دیکھا)، اور بلند ہونے کے لیے، جیسے: "وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ" (اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا)۔

۹۔ کاف تشبیہ: یہ کسی چیز کو کسی اور چیز کے مشابہ قرار دینے کے لیے آتی ہے، جیسے: "زید کالأسد" (زید شیر کی مانند ہے)۔

کبھی یہ زائد بھی آتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" (اس کے مثل کوئی چیز نہیں)۔

۱۰۔ "مذ" اور "منذ": یہ دونوں ماضی میں کسی وقت کی ابتدا کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہیں، جیسے:

"ما رأيته مذ يوم الجمعة" یا "منذ يوم الجمعة" (میں نے اسے جمعہ کے دن سے نہیں دیکھا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ سے لے کر اب تک نہ دیکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کبھی یہ پوری مدت کے معنی میں بھی آتی ہیں، جیسے: "ما رأيته مذ يومين" یا "منذ يومين" (میں نے اسے دو دن سے نہیں دیکھا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ دیکھنے کی پوری مدت دو دن پر مشتمل ہے۔

11. رب: کمی کے لیے، اور اس کا مجرور ہمیشہ نکرہ موصوفہ ہوتا ہے، اور متعلقہ فعل ماضی ہوتا ہے، جیسے: "رب رجل كريم لقيته" (شاید ایک نیک آدمی میں نے دیکھا)۔

12. واو: قسم کے لیے، اور یہ صرف اسم ظاہر پر آتی ہے، جیسے: "والله لأشربن اللبن" (اللہ کی قسم، میں دودھ پیوں گا)، اور کبھی "رب" کے معنی میں، جیسے: "وعالم يعمل بعلمه" (اور ایک عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے) أي رب عالم يعمل بعلمه ۔

13. تاء: قسم کے لیے، اور یہ صرف اسم اللہ تعالیٰ پر آتی ہے، جیسے: "تالله لأضر بن زيدا" (اللہ کی قسم، میں زید کو نقصان پہنچاؤں گا)۔

جان لو کہ قسم کے لیے جواب ضروری ہے۔ اگر جواب جملہ اسمیہ ہے، اور مثبت ہو تو "إن" یا لام ابتدائی سے شروع ہونا چاہئے، جیسے: "والله إن زيدا قائم" (اللہ کی قسم، زید قائم ہے)، اور اگر منفی ہو تو "ما" یا "لا" یا "إن" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله ما زيد قائما" (اللہ کی قسم، زید قائم نہیں ہے)۔

اگر جواب جملہ فعلیہ ہے، اور مثبت ہو تو "لام" اور "قد" یا صرف "لام" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله لقد قام زيد" (اللہ کی قسم، زید نے قیام کیا)، اور اگر منفی ہو اور فعل ماضی ہو تو "ما" سے شروع ہو تا ہے جیسے واللہ ما قام زید اور اگر فعل مضارع ہو تو ما یا "لا" یا "لن" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله ما أفعلن كذا" (اللہ کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا)۔

اور کبھی جواب قسم حذف ہوتا ہے، اگر قسم سے پہلے کوئی جملہ ہو جو جواب قسم کی طرح ہو، جیسے: "زيد عالم والله" یعنی "والله إن زيداً عالم"۔

یا اگر قسم جملے کے درمیان ہو، جیسے: "زيد والله عالم" یعنی "والله إن زيداً عالم"۔

حاشا، خلا، عدا: یہ سب استثنا کے لیے ہوتے ہیں، جیسے: "جاءني القوم حاشا زيد" (لوگ میرے پاس آئے، زید کے سوا)۔ کچھ نے کہا ہے کہ ان کے بعد آنے والا اسم مفعولیت کے لیے منصوب ہوتا ہے، تو یہ الفاظ فعل ہوتے ہیں اور فاعل ہمیشہ ضمیر مستتر ہوتا ہے، جیسے: "جاءني القوم حاشا زيدا" (لوگ میرے پاس آئے، زید کے سوا)۔

"جب 'خلا' اور 'عدا'، 'ما' کے بعد آئیں، جیسے: 'ما خلا زیداً' اور 'ما عدا زیداً'، یا کلام کے آغاز میں آئیں، جیسے: 'خلا البيت زيداً' اور 'عدا القوم زيداً'، تو ان کا فعلی ہونا لازم ہو جاتا ہے۔"

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۱

فصل المجرور بحرف الجر

يجر الاسم إذا وقع بعد حرف من حروف الجر ، نحو مررت بزيد، ورجال، ومسلمات( زید، رجال" و "مسلمات "مجرورات، وعلامة جرها الكسرة لكونها مفردا منصرفا وجمعا مكسرا، وجمع مؤنث سالما) ونحو مررت بعمر (عمر مجرور وعلامة جره الفتحة لكونه غير منصرف) ونحو مررت بالمسلمين والمسلمين، وأخيك (المسلمين" و "المسلمين" و "أخيك" مجرورات، وعلامة جرها الياء لكونها مثنى، وجمع مذكر سالم واسما من الأسماء الخمسة)

وحروف الجر سبعة عشر حرفاء كما في هذا البيت:

باء تاء، كاف، لام ، واو، منذ ، مُذ خَلا - ربِّ، حاشا مِنْ ، عداء في، عَنْ، عَلَى، حتى، إلى

( أما المباحث الأخرى المتعلقة بحروف الجر ( دخولها على الاسم الظاهر والضمير أو على الاسم الظاهر فقط، معانیھا كونها أصلية، وزائدة، وشبيهة بالزائد، وغيرها فستأتي في قسم الحروف)

فصل: مجرور بحرف جر

باقی عبارت پڑھیں (11)

اسم کو حرفِ جر کے بعد آنے کی صورت میں جر (کسرہ) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جیسے:

مررتُ بزيدٍ (میں زید کے پاس سے گزرا)، ورجالٍ (مردوں کے پاس سے) اور ومسلماتٍ (مسلمان عورتوں کے پاس سے)۔

یہاں زید، رجال اور مسلمات مجرور ہیں اور ان کی جر کی علامت کسرہ ہے، کیونکہ یہ مفرد منصرف، جمع مکسر، اور جمع مؤنث سالم ہیں۔

اسی طرح:

مررتُ بعمرَ (میں عمر کے پاس سے گزرا)، یہاں عمر بھی مجرور ہے لیکن جر کی علامت فتحة ہے، کیونکہ یہ غیر منصرف ہے۔اور:

مررتُ بالمسلمينَ (مسلمان دو مردوں کے پاس سے)، والمسلمينَ (اور مسلمان مردوں کے پاس سے) اور أخيك (تمہارے بھائی کے پاس سے)۔

یہاں المسلمين، المسلمين اور أخيك مجرور ہیں اور ان کی جر کی علامت یاء ہے، کیونکہ یہ تثنیہ، جمع مذکر سالم، اور اسماء ستّہ میں سے ہیں۔

حروفِ جر کی تعداد سترہ ہے، جیسا کہ اس شعر میں بیان کیا گیا ہے:

باء، تاء، کاف، لام، واو، منذ، مذ، خلا - رب، حاشا، مِن، عدا، فی، عن، على، حتى، إلى

(جہاں تک حروفِ جر سے متعلق دیگر مباحث جیسے: ان کا اسم ظاہر اور ضمیر پر آنا، یا صرف اسم ظاہر پر آنا، ان کے معانی، اور ان کا اصل یا زائد ہونا وغیرہ ہے، وہ حروف کے باب میں آئیں گے۔)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۴

عربی میں اسماء عام حالت میں مرفوع ہوتے ہیں لیکن اگر ان سے پہلے حروف جر میں سے کوئی حرف جیسے فی“ یا ”علی“

آ جائے تو ان کا رفع ختم ہو جاتا ہے اور وہ مجرور ہو جاتے ہیں جیسے

الْبَيْتُ :گھر، في البَيْتِ: گھر میں

بيت:ایک گھر ، فِي بَيْتِ:ایک گھر میں

الْمَكْتَبُ:میز ، عَلَى الْمَكتب:میز پر

مكتب :ایک میز ، عَلَى مَكْتَبٍ: ایک میز پر

یہ موضوع تمام کتب کے ساتھ کھولیں

اضافت دیگر کتب میں8

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۹

المُضَافُ اسْمٌ نُسِبَ إِلَى اسْمٍ بَعْدَهُ، فَتَعَرَّفَ بِسَبَبِ هَذِهِ النِّسْبَةِ أَوْ تَخَصَّص.

المُضَافُ يُحْذَفُ تَنْوِينُہ عِنْدَ الإِضَافَةِ إِذَا كَانَ مُنَوَّنًا قَبْلَهَا. وَتُحْذَفُ نُونُ المُضَافِ إِذَا كَانَ مُثَنًّى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرٍ سَالِمًا.

المُضَافُ إِلَيْهِ: اسْمٌ يَأْتِي بَعْدَ المُضَافِ وَهُوَ مَجْرُورٌ.

مضاف وہ اسم ہے جو اپنے مابعد کی طرف منسوب ہو ، اس نسبت کی وجہ سے وہ معرفہ بن جاتا ہے یا مخصوص ہو جاتا ہے۔

مضاف پر تنوین موجود ہو تو اضافت کی وجہ سے وہ حذف ہو جاتی ہے اگر مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو تو اس کا نون حذف ہو جاتا ہے۔ (مضاف پر ان نہیں آتا)

مضاف الیہ وہ اسم ہے جو مضاف کے بعد آتا ہے اور مجرور ہوتا ہے۔

باقی عبارت پڑھیں (14)

الأمثلة :

(۱) لَعِبْنَا فِي فِنَاءِ الْمَدْرَسَةِ .

(٢) ابْتَعِدَ عَنْ قَرِينِ السُّوءِ

(٣) مَشَيْتُ عَلَى شَاطِي النَّيْلِ

(٤) رَكِبْتُ قِطَارَ الصَّبَاحِ .

(۱) أَغلَقْتُ مِصْرَاعَى الْبَابِ

(۲) غَسَلْتُ يَدَى الطَّفْلِ.

(٣) لَمَعَتْ عَيْنَا الْقِطْ

(٤) اِنْكَسَرَتْ عَجَلَتَا الدَّرَاجَةِ .

(۱) تَشْكُرُ الصُّحُفُ مُحْسِنِي الْأُمَّةِ

(٢) ثَرْوَةُ مِصْرَ مِنْ زَارِعَى الْأَرْضِ .

(٣) أَسْرَعَ سَائِقُوا السَّيَّارَاتِ

(٤) جَاءَ مُعَلِّمُوا الْمَدْرَسَةِ

النحو الواضح (ثانویہ)النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۵

( ۱ ) الإضافةُ المَعْنَوِيَّةُ واللفظية: اضافت لفظی اور معنوی

الْإِضَافَةُ قِسْمَانِ : مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ ..

(ا) فَالْإِضَافَةُ الْمَعْنَوِيَّةُ مَا أَفَادَتِ الْمُضَافَ تَعْرِيفاً أَوْ تَحْصِيْصَاً وَلَا يَكُونُ الْمُضافُ فِيهَا وَصْفاً مُضَافًا إِلَى مَعْمُولِهِ.

(ب) وَالْإِضَافَةُ اللَّفْظِيَّةُ مَا لَمْ تُفِدِ الْمُضَافَ إِلَّا التَّخْفِيْفَ بِحَذْفِ تَنْوِينِهِ إِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ مُنوَّنَاً، أَوْ حَذْفِ نُونِهِ إِنْ كَانَ مُثنى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرِ سَالِماً، وَيُضَافُ فِيهَا الْوَصْفُ إِلَى مَعْمُولِهِ.

يَمْتَنِعُ فِي الْإِضَافَةِ الْمَعْتَوِيَّةِ دُخُولُ أَلْ عَلَى الْمُصَافِ مُطْلَقًا و یَمتَنِعُ ذَلِکَ فی الاِضَافَۃِ اللَّفۡظِیَّۃِ أیۡضًا اِلّا فِیمَا یَاتِیۡ:

.(۱) ان يَكُونَ الْمُضَافُ مُثَنَّى أَوْ جَمْعِ مُذَكَّرٍ سَالِماً.

(۲) أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ مَقْرُونَا بِأَلُ اَوْ مُضَافَاً لِمَا فِيهِ أَلْ.

باقی عبارت پڑھیں (61)

اضافت کی دو قسمیں ہیں معنویہ اور لفظیہ -

پس اضافت معنویہ وہ ہے کہ جو مضاف کی تعریف اور تخصیص کا فائدہ دے، اور اس میں مضاف اس میں اس کلمہ میں ہوتا جو کہ وصف ہو کر اپنے معمول کی طرف مضاف ہو۔

اور اضافت لفظیہ مضاف کو صرف حذف نون کی وجہ سے تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اگر وہ اصل تنوین والا کلمہ ہو یا تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو اور اس میں وصف کو اس کے معمول کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر مطلقاً الف لام کا داخل ہونا ممنوع ہے اور یہ اضافت لفظیہ میں بھی ممنوع ہے مگر ان مقامات میں جو کہ نیچے آرہے ہیں۔

ایک یہ کہ مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو۔

دوسرا یہ کہ مضاف الیہ الف لام کے ساتھ ملا ہوا ہو یا اس کی طرف مضاف ہو کہ جس میں الف لام ہو۔

الأمثلة

(۱) نُورُ الشَّمْسِ قَوِى

عُنْقُ الجَمَلِ طَوِيلٌ

ريسُ الطَّاوُسِ جَمِيلٌ

(۲)أسْمَعُ بُكَاءَ طِفْل

أَرَى آثارَ أَقْدَامٍ

اَشُمُّ رَائحةَ وردٍ .

(۳) صَانِعُ المَعْرُوفِ مَشْكُورٌ .

مَحْمُودُ الْخِصَالِ مَمْدُوحٌ

سَرِيعُ الْغَضَبِ مَذمُومُ

(۴)الْحَافِظا دُرُوسِهِما مَكَافَانِ

الْمُتَّقِنُو أَعْمَالِهِمْ رَابِحُونَ.

الْمُنْصِفُ النَّاسِ مَحْبُوبٌ

الْمَحِبُّ فِعَلَ الخَيْرِ سَعِيدٌ

( ٢ ) الْمُضَافُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّم: یاء متکلم کی طرف مضاف

إِذَا أُضِيْفَ الْاِسْمُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ كُسِرَ آخِرُهُ لِمُنَاسَبَةِ الْيَاءِ ، وَجَازَ فِي الْيَاءِ الْإِسْكَانُ وَالْفَتْحُ إِلَّا إِذَا كَانَ مَقْصُوراً، أَوْ مَنقُوصاً أَوْ مثَنّیٰ أَوْ جَمْعَ مُذَكَرٍ سَالِماً فَيَجِبُ تَسْكِيْنُ آخِرِ الْمُصَافِ وَفَتْحِ الْيَاءِ

جب کسی اسم کی یائے متکلم کی طرف اضافت کی جائے تو اس کے آخر کو یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ دیتے ہیں اور اس میں یاء کو ساکن کرنا اور فتحہ دینا بھی جائز ہے، مگر جب وہ مقصور ہو یا منقوص ہو، تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو تو اس وقت مضاف کے آخر اور یاء کے فتحہ کو ساکن کر دینا واجب ہے۔

الأمثلة

(۱)قُمْتُ بنَصيبي مِنَ العَمَل أو بنصيبيَ

سموت بآدابی أَو بِآدَابِيَ

أَعْطِفُ عَلَى الْفَقِيرِ بِصَدَقَاتِي أَوْ بِصَدَقَاتِيَ

(۲)

إِن عَصَايَ لَجَمِيلَةٌ

كانَتْ لَيَالِي فِي السَّفَرِ مُقْمِرَةً .

أَنْتُمَا صَاحِبَايَ الوَفِيَّان .

هؤلاءِ مُنقذِيَّ من الضِّيقِ .

(۳) ما يُضَافُ إِلَى الجَمْلَةِ وُجُوباً وَجَوَازاً: وہ جن کا جملہ کی طرف مضاف ہو واجب یا جائز ہے

حَيْثُ وَإِذْ وَإِذَا ظُرُوفٌ مَبْنِيَّةٌ لَا تُضَافُ إِلَّا إِلَى الْجُمَلِ .

اسم الزَّمَانِ المُبْهَم مَا دَلَّ عَلَى وَقْتِ غَيْرِ مَحْدُودٍ وَيُضَافُ إِلَى الْجُمْلَةِ وَالْمُفْرَدِ، فَإِذَا أُضِيْفَ إِلَى الْجُمْلَةِ جَازَ إِعْرَابُهُ وَبِنَاؤُهُ عَلَى الْفَتح

حيث ، اذ اور اذا یہ ظروف مبنی ہیں یہ صرف جملے کی طرف ہی مضاف ہوتے ہیں۔

اسم زمان مبہم وہ ہے کہ جو غیر محدود وقت پر دلالت کرے ، اور وہ جملہ اور مفرد کی طرف مضاف ہو، پس جب اس کو جملہ کی طرف مضاف کیا جائے تو اس کو معرب پڑھنا بھی جائز ہے اور مبنی برفتحہ پڑھنا بھی۔

الأمثلة :

(۱)جَلَسْتُ حَيْثُ الْمَنْظُرُ جَمِيلٌ .

جَلَسْتُ حَيْثُ يَجْمُلُ الْمَنْظُرُ .

جَلَسْتُ حَيْثُ جَمُلَ الْمَنْظَرُ .

(۲) جئْتُ إِذِ الْمَطَرُ هَاطِلُ .

جِئْتُ إِذْ هَطَلَ الْمَطَرُ .

(۳)أُجِيبُكَ إِذَا دَعَوْتَني.

أَجِيبُكَ إِذَا تَدْعُونِي .

(۴)نَزَلَ المَطَر على حِينِ الْفَلاحُ قَائِط أو حِينَ .

هَذَا وَقْتُ يُكافأُ الْمُجِدُّونَ أو وقتَ

زُرْتُكَ فِي زَمَنِ فُزۡتَ فِي الْأَمْتِحَانِ أو زَمَنَ

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۵

مرکب اضافی

مرکب اضافی: دو اسموں کے ایسے مرکب کو کہتے ہیں جس میں پہلے اسم کی نسبت دوسرے اسم کی طرف کی گئی ہو، جیسے کتاب سعيدٍ، بيت خالدٍ -

مرکب اضافی کے پہلے اسم کو (جس کی نسبت دوسرےاسم کی طرف کی جارہی ہو)۔ مضاف اور دوسرے اسم کو (جس کی طرف نسبت کی گئی ہو ) مضاف الیه کہتے ہیں۔

(1) مضاف اور مضاف الیہ دونوں اسم ہوا کرتے ہیں۔

(۲) مضاف اسم نکرہ اور مضاف الیہ اکثر معرفہ اور کبھی نکرہ بھی ہوا کرتا ہے۔

(۳) مضاف پر ال اور تنوین نہیں آتی لیکن مضاف الیہ پر "ال" اور تنوین دونوں ہی آتے ہیں۔

(۴) مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوا کرتا ہے۔

(۵) اضافت میں مضاف سے تنوین ہی کی طرح اس کے نون جمع اور نون تثنیہ بھی گر جاتے ہیں۔ جیسے مسلمون الهند سے مُسْلِمُوا الْهِنْدِ اور كِتَابَانِ خَالِدٍ سے كِتَابا خَالِدٍ وغيرة

باقی عبارت پڑھیں (5)

(۶) کبھی ایک ہی ترکیب میں کئی مضاف الیہ ہوتے ہیں جیسے بابُ بیتِ صدِيقِكَ، لَوْنُ قَلنْسُوةِ مَحْمُود، ایسی صورت میں درمیانی مضاف الیه چونکہ ما بعد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو جر (کسرہ) تو ہو گا مگر اس پر تنوین اور ال نہیں آئے گا۔

حاشیہ: کبھی مضاف الیہ جملہ میں بھی ہوا کرتا ہے۔ (جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ دونوں )

نوٹ: اضافت سے اسم میں تخصیص اور تعیین کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلا: بیت خالدٍ میں اگر تم صرف لفظ ہیت کہو تو اس سے کوئی ایک غیر متعین ہی گھر مراد ہوگا۔ لیکن جب بیت کو مضاف بنا کر اس کی اضافت خالد کی طرف کر دو تو پھر بیت کی تعین ہو جائے گی اور اس سے ایک مخصوص گھر ( خالد کا گھر ) سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی سا گھر۔

نوٹ: (۱) اردو میں مضاف الیہ پہلے ہوتا ہے اور مضاف بعد میں ہوتا ہے لیکن عربی میں اس کے بر عکس ہوتا ہے یعنی مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں جیسے کتابُ خالدٍ ( خالد کی کتاب ) ابنُ محمودٍ ( محمود کا بیٹا) وغیره۔

نوٹ: (۲) اردو میں اضافت کا ترجمہ " کا، کے ، کی" سے کیا جاتا ہے اور جب ضمائر کی طرف اضافت ہو تو ضمیر غائب کے لئے اس کا ضمیر مخاطب کے لئے تیرا اور ضمیر متکلم کے لئے میرا اور اپنے سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مبتدی طلبہ ضمائر کے ترجمہ میں خصوصاً اپنا وغیرہ میں غلطیاں کرتے ہیں۔ مثلاً جب کہنا ہو کہ خالد اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تو رکبَ خَالِدٌ فَرسَهُ کہا جائے گا لیکن اس کے بجائے میں اس کے گھوڑے پر سوار ہوا تو رَکِبتُ فَرسَہُ کہا جائیگا اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا کے لئے رَکبتُ فَرسِی کہا جائے گا۔

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۲

مضاف اور مضاف الیہ کی صفت

آپ پڑھ چکے ہیں کہ اردو کے برعکس عربی میں صفت اپنے موصوف کے بعد آتی ہے اور متصل ہی آتی ہے مگر جہاں ترکیب توصیفی و ترکیب اضافی ایک ساتھ جمع ہو جائیں اور مقصود مضاف کی صفت لانی ہو تو اس صورت مندرجہ بالا قاعدہ سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ بخلاف مضاف الیہ کی صفت کے ۔ کیونکہ مضاف الیہ کی صفت اس سے متصل ہی آتی ہے۔ اس لئے طالب علم کے لئے اس میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔ اس کے برعکس مضاف کی صفت چونکہ مضاف سے متصلا نہیں آتی بلکہ مضاف الیہ کے بعد لائی جاتی ہے اور موصوف وصفت میں فصل ہو جاتا ہے۔اس لئے اکثر طلبا اس میں غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں ذیل کی مثالیں پڑھیئے ۔

رِيشَةُ الْقَلَمِ الثمینِ (قیمتی قلم کا نب) مضاف الیہ کی صفت

رِیشَةُ الْقَلَمُ الثمینةُ ( قلم کا قیمتی نب) مضاف کی صفت ۔

پہلی مثال میں الثَمينُ ، قلم ( مضاف الیہ) کی صفت ہے اس لئے مذکر اور مجرور ہے اور دوسری مثال میں الثّمِينَةُ رِيشةُ مضاف کی صفت ہے اس لیے مونث اور مرفوع ہے کیونکہ رِیشۃُ مرفوع ہی ہے پھر چونکہ رِیشۃُ معرفہ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ اس لئے الثّمِينَةُ کو بھی ال کے ذریعے معرفہ بنالیا گیا ہے۔ اس قاعدہ کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔ ترجمہ کرتے وقت حسب ذیل باتوں کو یادر کھیئے۔

(۱) سب سے پہلے مضاف و مضاف الیہ کا ترجمہ کر لینا چاہئے پھر مضاف کی صفت مضاف الیہ کے بعد لکھنی چاہیے۔

(۲) مضاف الیہ تو ہر حال میں مجرور ہی ہوتا ہے مگر مضاف کی صفت کا اعراب مضاف کے مطابق رہے گا۔

(۳) مضاف کی تذکیر و تانیث پر بھی غور کرنا چاہئے تا کہ صفت اس کے مطابق لکھی جاسکے نہ کہ مضاف الیہ کے مطابق۔

(۴) اضافت سے چونکہ اسم میں تخصیص و تعیین پیدا کرنی مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے اسماء کی اضافت عموما معرفہ کی طرف کی جاتی ہے۔ اس طرح وہ اسم نکرہ اضافت کے بعد معرفہ بن جاتا ہے۔ لہذا اب اس کی صفت بھی معرفہ ہی لکھی جانی چاہئے۔

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۱

فصل المجرور بالمضاف

يكون الاسم مجرورا إذا سبقه المضاف، وكان ذلك الاسم مضافا إليه، نحو: هذا بيت - زيد ورجال، ومسلمات

("زيد" ورجال" و "مسلمات" مجرورات لكونها مضافة إليها وعلامة جرها الكسرة لكونها مفرد - منصرفا، وجمعا مكسرا، وجمع مؤنث سالما)

ونحو : هذا بيت عمر (عمر مجرور لكونه مضافا إليه، وعلامة جره الفتحة - لكونه غير منصرف)

ونحو: هذا بيت المسلمين، والمسلمين، وأخيك المسلمين" و "المسلمين" و"أخیک"- مجرورات لكونها مضافة إليها، وعلامة جرها الياء لكونها مثنى، وجمع مذكر سالماء واسما من الاسماء الستة)

والمضاف إليه:

هو اسم ينسب إليه اسم آخر قبله على تقدير حرف جر ، فالاسم الأول يسمی "مضافا" والثاني "مضافا إليه"

باقی عبارت پڑھیں (117)

وحرف الجر المقدر يكون كثيرا " من " إذا كان المضاف إليه جنسا للمضاف، نحو: اشتريت خاتم فضة (التقدير: اشتريت خاتما من فضة) ويكون قليلا " في " إذا كان ظرفا له ، نحو: صليت صلاة الصبح (التقدير: صليت الصلاة في الصبح ويكون غالبا "اللام" في ما سوی المذكور، نحو: عندي كتاب زيد (التقدير : عندي كتاب لزيد)

تقسيم الإضافة:

عملية نسبة المضاف إلى المضاف إليه تسمى إضافة، وهذه الإضافة قسمان:

ا. معنوية

٢- ولفظية

فالإضافة المعنوية : ( وتسمى محضة أو حقيقية)

هي نسبة اسم لا يكون صفة عاملة ، إلى معرفة، أو نكرة، وتفيد تعريف المضاف عند إضافته إلى المعرفة، نحو: كتاب سليم عندي، وتخصيصه عند إضافته إلى النكرة، نحو: كتاب نحو عندي، هذا من جهة المعنى، ومن جهة اللفظ تخفيف المضاف بحذف التنوين ونون التثنية والجمع من لفظه ، فحذف التنوين من "كتاب" في المثالين المذكورين، ومثال حذف النونين: هذان كتابا سليم وهؤلاء مسلموا أمريكا.

والإضافة اللفظية : ( وتسمى غير محضة أو مجازية )

هي نسبة الصفة العاملة إلى معمولها (أي فاعلها أو مفعولها في المعنى) وتفيد التخفيف فقط بحذف التنوين أو نوني التثنية والجمع من لفظ المضاف عند وجودها فيه قبل الإضافة، نحو: هذا ناصر الضعيف تقديره هذا ناصر الضعيف) وهذان مطيعا الأب (تقديره: هذان مطيعان أباهما) وهؤلاء مطيعو الأب (تقديره: هؤلاء مطيعون أباهم)

أحكام المضاف

المضاف يكون عادة نكرة، ويعرب حسب موقعه في الجملة، نحو: قلم خالد جميل (قلم: مبتدأ مرفوع وعلامة رفعه الضمة) وأخذت قلم خالد (قلم مفعول به منصوب وعلامة نصبه الفتحة) وكتبت بقلم خالد (قلم: مجرور بالباء، وعلامة جره الكسرة) يجرد المضاف من التنوين، ونوني التثنية والجمع في الإضافتين كما سبق. يجرد المضاف من "ال" في الإضافة المعنوية، وأما إذا كانت الإضافة لفظية فيجوز -

دخول "ال" على المضاف بشرط :

۱۔ أن يكون مثنى نحو: جاء المكرما سعد

٢۔ أو جمع مذكر سالما، نحو: جاء المكرمو سعد

۳۔ أو مضافاً إلى ما فيه ال، نحو: جاء الدارس النحو.

۴۔ أو مضافا إلى اسم مضاف إلى ما فيه "ال" نحو : جاء القاري كتاب الصرف -

المضاف في الإضافة اللفظية يستمر نكرة ولو أضيف الی معرفة ولذلک جاز وصف النكرة به نحو قوله تعالى: هذا عارض ممطرنا ( عارض موصوف نكرة، وقد وصف بالمضاف من الإضافة اللفظية لبقائه نكرة بعد إضافته )

يكتسب المضاف من المضاف إليه التذكير أو التأنيث فيعامل معاملته، بشرط أن يكون المضاف صالحا للاستغناء عنه، وإقامة المضاف إليه مقامه، نحو: قطعت بعض أصابعه وقرى أجزاء الكتاب (والأولى مراعاة المضاف فتقول: قطع بعض أصابعه، وقرئت أجزاء الكتاب)

لا يضاف اسم إلى مرادفه إلا إذا كانا علمين نحو محمد سعيد.

لا يضاف الموصوف إلى صفته وأما نحو: دار الآخرة، فهو على تقدير محذوف قد وصف بهذه الصفة، أي: دار الحياة الآخرة.

قد يكون في الكلام اسمان مضافان متماثلان في اللفظ والمعنى، و أحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الثاني منهما استغناء عنه بالأول نحو ما كل سوداء تمرة، ولا - بيضاء شحمة، أي: ولا كل بيضاء شحمة.

قد يكون في الكلام اسمان مضاف إليهما متماثلان في اللفظ والمعنى وأحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الأول منهما استغناء عنه بالثاني ، نحو: جاء شقيق وشقيقة حسن، والأصل: جاء شقيق حسن وشقيقة حسن، لكن الأولى فيه : جاء شقيق حسن وشقيقته.

أحكام المضاف إليه :

المضاف إليه يكون إما اسما ظاهرا، أو ضميرا.

إذا كان المضاف إليه اسما ظاهرا فانه يكون دائما مجرورا، ويكون عادة معرفة نحو قلم الطالب عندي، وقد يقع المضاف إليه نكرة، نحو: قلم طالب عندي

إذا كان المضاف إليه ضميرا فإنه يكون متصلا بالمضاف، ويعرب في محل جر، نحو: أخذت كتابك (الكاف: ضمير متصل مبني على الفتح في محل جر مضاف إليه )

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها:

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها ثلاثة أنواع:

ا۔ نوع تجوز إضافته، وهو كثير.

۲۔ نوع تمتنع إضافته كالضمائر، والإشارات، والموصولات (سوى "أي" ) وأسماء الشرط والاستفهام (سوى "أي" أيضا)

۳۔ نوع تلزم إضافته إلى المفرد، أو الجملة، فمما تلزم إضافته إلى المفرد عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، وكل اسم يدل على جهة من الجهات الست مثل فوق، تحت وغيرهما، ومما تلزم إضافته إلى الجملة: إذ، إذا، حيث، وغيرها.

فصل المجرور بالمضاف (اضافت کے ذریعے مجرور)

اسم اس وقت مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے کوئی مضاف آئے، اور وہ اسم مضاف الیہ ہو۔ جیسے: "هَذا بيتُ زيدٍ"، "رجالٍ" اور "مسلماتٍ": یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر (زیر) کی علامت کسرة (زیر) ہے کیونکہ یہ مفرد منصرف (واحد) اور جمع مکسر (ٹوٹے ہوئے جمع) ہیں، اور جمع مؤنث سالم ہیں۔

اسی طرح: "هذا بيتُ عمرَ" (عمر مجرور ہے کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، اور اس کی جر کی علامت فتحة (زبر) ہے کیونکہ یہ غیر منصرف ہے)۔

اسی طرح: "هذا بيت المسلمين، المسلمين، وأخيك"۔ (یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر کی علامت "ياء" ہے، کیونکہ یہ مثنى (دوہری) اور جمع مذکر سالم ہیں اور اسماء میں سے ہیں جو جر میں مخصوص قاعدہ رکھتے ہیں)۔

مضاف الیہ کی تعریف:

مضاف الیہ وہ اسم ہے جس کی طرف دوسرے اسم کی نسبت کی جائے، جیسے کہ اس سے پہلے کوئی مضاف ہو، اور اس میں حرف جر مقدر ہو۔ اس میں زیادہ تر "من"کا استعمال ہوتا ہے جب مضاف الیہ مضاف کی جنس ہو۔

مثالیں:

- اشتريتُ خَاتمَ فضةٍ (اس کا مطلب ہے: میں نے چاندی کی انگوٹھی خریدی)۔

- صليت صلاة َالصبحِ(اس کا مطلب ہے: میں نے صبح کی نماز پڑھی)۔

اضافت کی تعریف اور اقسام

اضافت وہ نسبت ہے جو مضاف کو مضاف الیہ سے جوڑتی ہے، اور یہ دو طرح کی ہوتی ہے:

اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

1- اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف کسی ایسے اسم کی طرف منسوب ہو جو عامل صفت نہ ہو، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ:

اگر مضاف کو کسی معرفہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، جیسے:

"كتاب سليمٍ عندِي" (میرے پاس سلیم کی کتاب ہے) → "كتاب" معرفہ بن گیا۔

اگر مضاف کو کسی نکرہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ مخصوص ہو جاتا ہے، جیسے:

"كتاب نحو عندي" (میرے پاس نحو کی ایک کتاب ہے) → "كتاب" نکرہ ہی رہا، مگر مخصوص ہوگیا۔

اس کا ایک اور فائدہ مضاف کا تخفیف (مختصر ہونا) بھی ہے، یعنی:

تنوین حذف ہو جاتی ہے، جیسے: "كتاب" (اصلاً "كتابٌ" تھا)۔

نون تثنیہ اور جمع حذف ہو جاتی ہے، جیسے:

"هذان كتابا سليم" (یہ دو کتابیں سلیم کی ہیں) → "كتابان" سے "نون" ختم ہو گئی۔

"هؤلاء مسلمو أمريكا" (یہ لوگ امریکہ کے مسلمان ہیں) → "مسلمون" سے "نون" ختم ہوگئی۔

2- اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف ایک عامل صفت ہوتا ہے، اور مضاف الیہ اس کا فاعل یا مفعول ہوتا ہے۔ اس میں صرف تخفیف کا فائدہ ہوتا ہے، نہ کہ معرفہ یا نکرہ بننے کا، جیسے:

"هذا ناصر الضعيف" → یعنی "هذا ناصرٌ الضعيف" (یہ کمزوروں کا مددگار ہے)۔

"هذان مطيعا الأب" → یعنی "هذان مطيعان أباهما" (یہ دونوں والد کے فرمانبردار ہیں)۔

"هؤلاء مطيعو الأب" → یعنی "هؤلاء مطيعون أباهم" (یہ لوگ والد کے تابع ہیں)۔

احکام المضاف (مضاف کے احکام)

مضاف عام طور پر نکرہ ہوتا ہے اور جملے میں اپنے محل کے مطابق معرب ہوتا ہے، جیسے:

"قلم خالد جميل" → "قلم" مبتدا ہے۔

"أخذت قلم خالد" → "قلم" مفعول بہ ہے۔

"كتبت بقلم خالد" → "قلم" مجرور ہے۔

مضاف ہمیشہ تنوین اور نون تثنیہ و جمع سے پاک ہوتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر "ال" داخل نہیں ہو سکتا۔

اضافت لفظیہ میں "ال" داخل ہو سکتا ہے، مگر چار شرائط کے ساتھ:

۱۔مثنی ہو، جیسے: "جاء المكرما سعد"۔

۲۔جمع مذكر سالم ہو، جیسے: "جاء المكرمو سعد"۔

۳۔ایسے اسم سے مضاف ہو جس میں "ال" ہو، جیسے: "جاء الدارس النحو"۔

۴۔ کسی ایسے اسم سے مضاف ہو جو خود کسی معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "جاء القاري كتاب الصرف"۔

اضافت لفظیہ میں مضاف نکرہ ہی رہتا ہے، چاہے معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "هذا عارض ممطرنا" → "عارض" نکرہ ہے کیونکہ یہ اضافت لفظیہ ہے۔

مضاف اپنے مضاف الیہ سے تذکیر و تانیث حاصل کرتا ہے، بشرطیکہ مضاف کے بغیر جملہ مکمل ہو سکتا ہو، جیسے:

"قطعت بعض أصابعه" → "بعض" مذکر ہے کیونکہ "أصابعه" مذکر ہے۔

"قرى أجزاء الكتاب" → "أجزاء" مونث ہے کیونکہ "الكتاب" مذکر ہے، مگر بہتر ہے کہ "أجزاء" کی تانیث کا لحاظ رکھا جائے اور یوں کہا جائے: "قرئت أجزاء الكتاب"۔

کسی اسم کو اس کے مترادف (ہم معنی) سے مضاف نہیں کیا جاتا، سوائے اگر وہ دونوں اعلام ہوں، جیسے: "محمد سعيد" (یہاں "محمد" اور "سعيد" دونوں اعلام ہیں)۔

موصوف کو صفت سے مضاف نہیں کیا جا سکتا، سوائے اگر کوئی محذوف مفہوم ہو، جیسے: "دار الآخرة" → اصل میں "دار الحياة الآخرة" تھا۔

دوسرے مضاف کا حذف:

جب کسی جملے میں دو مضافات ہوں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوں اور دوسرا مضاف پہلے پر معطوف ہو، تو دوسرا مضاف حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم پہلے مضاف سے واضح ہوتا ہے، جیسے: ما كل سوداء تمرة، ولا بيضاء شحمة"

اصل جملہ: "ما كل سوداء تمرة، ولا كل بيضاء شحمة": ہر سیاہ چیز کھجور نہیں ہوتی، اور ہر سفید چیز چربی نہیں ہوتی۔

پہلے مضاف کا حذف:

کبھی کسی جملے میں دو مضاف الیہ ہوتے ہیں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر معطوف ہوتا ہے، تو پہلا مضاف الیہ حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم دوسرے مضاف الیہ سے واضح ہو جاتا ہے۔

مثال:

"جاء شقيق وشقيقة حسن" اصل جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقة حسن"

بہتر جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقته" : حسن کا بھائی اور بہن آئے۔

احکام المضاف إليه (مضاف الیہ کے احکام)

مضاف الیہ یا اسم ظاہر ہوگا یا ضمیر:

اگر اسم ظاہر ہو تو ہمیشہ مجرور ہوگا، جیسے: "قلم الطالب عندي"۔

نکرہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے: "قلم طالب عندي"۔

اگر ضمیر ہو تو مضاف سے متصل ہوگا اور محل جر میں ہوگا، جیسے: "أخذت كتابك" → "كتاب" کا مضاف الیہ "ك" (ضمیر) ہے۔

اضافہ کے اعتبار سے اسماء کی اقسام

وہ اسماء جو اضافت قبول کرتے ہیں → عام الفاظ، جیسے: "كتاب خالد"۔

وہ اسماء جن کی اضافت منع ہے → ضمائر، اسماء اشارہ، موصولات (سوائے "أي" کے)، اور اسماء شرط و استفہام (سوائے "أي" کے)۔

وہ اسماء جو لازمی اضافت رکھتے ہیں:

مفرد سے مضاف ہوتے ہیں: عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، فوق، تحت وغیرہ۔

جملے سے مضاف ہوتے ہیں: إذ، إذا، حيث وغیرہ۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۵

كِتَابُ بلالٍ بلال کی کتاب۔

بَيْتُ الْإِمَامِ امام کا گھر

اس صورت میں پہلے جزء کو ”مضاف“ اور دوسرے جزء کو ”مضاف الیہ “ کہتے ہیں۔

مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہو گا خواہ اس کے آخر میں تنوین ہو جیسا کہ پہلی مثال میں ہے یا اس پر ”ال“ داخل ہو جیسا کہ دوسری مثال میں گذرا۔

مضاف پر ”ال یا تنوین نہیں آئے گی۔ بلکہ اس پر صرف ایک حرکت ہو گی جیسے : كتاب بلالٍ بلال کی کتاب

چنانچہ کتاب بلال یا الكِتَابُ بلالٌ کہنا غلط ہے۔ كِتَابُ مَنْ؟ کس کی کتاب اس مثال میں ” من مضاف الیہ ہے لیکن اس کے آخر میں کسرہ (زیر) نہیں ہے۔ حالانکہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ اور جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں بعض کلمات ایسے ہیں جو ہمیشہ یکساں حالت میں رہتے ہیں۔ ان کے آخر میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ہے ایسے کلمات کو ”مبنی “ کہتے ہیں۔

عَلَى مَكْتَبِ الْمُدِير مدیر کی میز پر

اس مثال میں مکتب حرف جر علی کی وجہ سے مجرور ہے اور المدیرِ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔

۲۔ تحت: نیچے۔ یہ اپنے بعد آنے والے اسم کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا اسم (مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے) مجرور ہوتا ہے جیسے :

تحت المكتب میز کے نیچے

تَحْتَ الْكِتَابِ کتاب کے نیچے

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱

مضاف الیہ ضمیر بھی ہو سکتا ہے، جیسے:

أَيْنَ ذَهَبَ أَخُوْكَ ؟تمہارا بھائی کہاں گیا ؟

مَارَأَيْتُ أَخَاكَ.میں نے تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔

مَا اسْمُ أَخيْكَ ؟تمہارے بھائی کا نام کیا ہے؟

اگر مضاف الیہ یائے متکلم ہو تو مضاف پر ہمیشہ ایک ہی حرکت رہے گی، جیسے:

يَدْرُسُ أَخِي بِالْجَامِعَةِ.:میرا بھائی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔

أَتَعْرِفُ أَخِي؟کیا تم میرے بھائی کو جانتے ہو؟

خُذِ العَنْوَانَ مِنْ أَخِي.: پتہ میرے بھائی سے حاصل کرلو۔

المفصلالمفصل۔ سبق:

الإضافة

وإضافة الأسم للأسم على ضربين معنوية ولفظية. فالمعنوية ما أفاد تعريفاً كقولك دارعمرو، أو تخصيصاً كقولك غلام رجل ولا تخلو في الأمر العام من أن تكون بمعنى اللام كقولك مال زيد وأرضه وأبوه وابنه وسيده وعبده، أو بمعنى من كقولك خاتم فضة وسوار ذهب وباب ساج.

واللفظية أن تضاف الصفة إلى مفعولها في قولك هو ضارب يد وراكب فرس بمعنى ضارب زيداً وراكب فرساً؛ وإلى فاعلها كقولك زيد حسن الوجه ومعمور الدار، وهند جائلة الوشاح، بمعنى حسن وجهه ومعمورة داره وجائلوشاحهها. ولا تفيد إلا تخفيفاً في اللفظ والمعنى كما هو قبل الإضافة. ولاستواء الحالين وصف النكرة بهذه الصفة مضافة كما وصف بها مفصولة في قولك مررت برجل حسن الوجه وبرجل ضارب أخيه.

تجريد المضاف من التعريف:

وقضية الإضافة المعنوية ان يجرد لها المضاف من التعريف وما تقبله الكوفيون من قولهم الثلاثة الأثواب والخمسة الدراهم فبمعزل عند أصحابنا عن القياس واستعمال الفصحاء. قال الفرزدق:

فسما وأدرك خمسة الأشبار

وقال ذو الرمة:

ثلاث الأثافي والديار البلاقع

باقی عبارت پڑھیں (106)

وتقول في اللفظية مررت بزيد الحسن الوجه، وبهند الجائلة الوشاح، هما الضاربا زيد، وهم الضاربو زيد. قال الله تعالى : " والمقيمي الصلاة، ولا تقول الضارب زيد، لأنك لا تفيد فيه خفة بالإضافة كما أفدتها في المثنى والمجموع وقد أجازه الفراء. وأما الضارب الرجل فمشبه بالحسن الوجه.

المضاف إلى ضمير متصل:

وإذا كان المضاف إليه ضميراً متصلاً جاء ما فيه تنوين أو نون وما عدم واحداً منهما شرعاً في صحة الإضافة . لأنهم لما رقضوا يوجد فيه التنوين أو النون أن يجمعوا بينه وبين الضمير المتصل جعلوا ما لا يوجد فيه له تبعاً فقالوا الضاربك والضارباتك والضاربي بالضارباتي، كما قالوا لضارباك والضارباك والضاربوك والضاربي كما قال عبد الرحمن بن حسان

أيها الشائمي ليحسب مثلي إنما أنت في الضلال تهيم

وقوله هم

الأمرون الخير والفاعلونه

مما لا يعمل عليه.

الإضافة إلى غير ومثل وشبه

وكل اسم معرفة يتعرف به ما أضيف إليه إضافة معنوية، إلا أسماء توغلت في إبهامها فهي نكرات وإن أضيفت إلى المعارف، وهي نحو غير ومثل وشبه. ولذلك وصفت بها النكرات فقيل مررت برجل غيرك ومثلك وشبهك ودخل عليها رب قال:

یا رب مثلك في النساء غريرة

اللهم إلا إذا شهر المضاف بمغايرة المضاف إليه كقوله عز وجل: " غير المغضوب عليهم"، أو بمماثلته.

أنواع الأسماء المضافة:

والأسماء المضافة إضافة معنوية على ضربين لازمة للإضافة وغير لازمة لها. فاللازمة على ضربين ظروف وغير ظروف. فالظروف نحو فوق وتحت وأمام وقدام وخلف ووراء وتلقاء وتجاه وحذاء وعند ولدن ولدى وبين ووسط وسوى ومع ودون. وغير الظروف نحو مثل وشبه وغير وبيد وقيد وقداً وقاب وقيس وأي وبعض وكل وكلا وذو مؤنثة ومثناء ومجموعة وأولو وأولات وقد وقط وحسب.

وغير اللازمة نحو ثوب وفرس ودار وغيرها مما يضاف في حال دون حال.

حكم أي:

وأي اضافته إلى اثنين فصاعداً إذا أضيف إلى المعرفة كقولك أي الرجلين وأي الرجال. عندك، وأيهما وأيهم وأي من رأيت أفضل وأي الذين لقيت أكرم. وأما قولهم أبي وايك كان شراً فأخزاه الله، فكقولك اخزي الله الكاذب مني ومنك وهو بين وبينك والمعنى أينا ومنا وبيننا. قال العباس بن مردس:

فأبي ما وأيك كان شراً فقيد إلى المقامة لا يراها

واذا أضيف إلى النكرة أضيف إلى الواحد والإثنين والجماعة كقولك أي رجل وأي رجلين وأي رجال، ولا تقول أيا ضربت وبأي مررت إلا حيث جرى ذكر ما هو بعض منه كقوله عز وجل: "أياً ما تدعوا فله الأسماء الحسنى" ولا ستيجابه الإضافة عوضوا منها توسيط المقحم بينه وبين صفته في النداء.

حكم كلا:

وحق ما يضاف إليه كلا أن يكون معرفة ومثنى أو ما هو في معنى المثنى، كقوله:

فإن الله يعلمني ووهباً ويعلم أن سيلقاه كلانا

وقوله:

إن للخير وللشر مدى وكلا ذلك وجه وقبل

ونظيره "عوان" بين ذلك". ويجوز التفريق في الشعر كقولك كلا زيد وعمرو.

وحكمه إذا أضيف إلى الظاهر أن يجري مجرى عصا ورحا، تقول جاءني كلا الرجلين ورأيت كلا الرجلين، ومررت بكلا الرجلين. وإذا أضيف إلى المضمر أن يجري مجرى المثنى على ما ذكر.

ومن العرب من يقر آخره على الألف في الوجهين.

حكم إضافة أفعل التفضيل:

وأفعل التفضيل يضاف إلى نحو ما يضاف إليه أي تقول هو أفضل الرجلين وأفضل القوم، وتقول هو أفضل رجل وهما أفضل رجلين، وهم أفضل رجال، والمعنى في هذا إثبات الفضل على الرجال إذا فضلوا رجلاً رجلاً واثنين اثنين وجماعة جماعة. وله معنيان: أحدهما أن يراد أنه زائد على المضاف إليهم في الخصلة هو وهم فيها شركاء، والثاني أن يؤخذ مطلقاً له الزيادة فيها إطلاقاً ثم يضاف لا للتفضيل على المضاف إليهم لكن لمجرد التخصيص، كما يضاف ما لا تفضيل فيه وذلك نحو قولك الناقص والأشج أعدلا بني مروان، كأنك قلت عادلا بني مروان. فأنت على الأول يجوز لك توحيده في التثنية والجمع وأن لا تؤنثه قال الله تعالى : " ولتجدنهم أحرص الناس على حياة"، وعلى الثاني ليس لك إلا أن تثنيه وتجمعه تؤنثه وقد اجتمع الوجهان في قوله عليه السلام ألا أخبركم بأحبكم إلي وأقربكم مني مجالس يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً الموطون أكنافاً الذينب يألفون ويؤلفون ألا أخبركم بأبغضكم إلي وأبعدكم مني مجالس يوم القيامة أساوئكم أخلاقاً الثرثارون المتفيهقون ". وعلى الوجه الأول لا يجوز أن تقول يوسف أحسن أخوته، لأنك لما أضفت الأخوة إلى ضميره فقد أخرجته من جملتهم من قبل أن المضاف حقه أن يكون غير المضاف إليه ألا ترى أنك إذا قلت هؤلاء إخوة زيد في عداد المضافين إليه، وإذا خرج من جملتهم لم يجز إضافة أفعل الذي هو هو إليهم، لأن من شرطه إضافته إلى جملة هو بعضها. وعلى الوجه الثاني لا يمتنع ومنه قول من قال لنصيب أنت أشعر أهل جلدتك كأنه قال أنت شاعرهم:

إضافة الشيء إلى غيره:

ويضاف الشيء إلى غيره بأدنى ملابسة بينهما كقول أحد حاملي الخشبة لصاحبه خذ طرفك وقال:

إذا كوكب الخرقاء لاح بسحرة

أضاف الكوكب إليهم لجدها في عملها إذا طلع وقال:

إذا قال قدني قال بالله حلفة لتغني عني ذا إنائك أجمعا

الملابسة له في شربه وهو الساقي اللبن.

امتناع إضافة الشيء إلى نفسه:

والذي أبوه من إضافة الشيء إلى نفسه أن تأخذ الأسمين المعلقين على عين أو معنى واحد كالليث والأسد وزيد وأبي عبد الله والحبس والمنع ونظائر هن فتضيف أحدهما إلى الآخر فذلك بمكان من الإحالة. فأما نحو قولك جميع القوم وكل الدراهم وعين الشيء ونفسه فليس من ذلك.

عدم جواز إضافة الموصوف إلى صفته:

ولا يجوز إضافة الموصوف إلى صفته ولا الصفة إلى موصوفها وقالوا دار الآخرة وصلاة الأولى ومسجد الجامع وجانب الغربي وبقلة الحمقاء على تأويل دار الحياة الآخرة وصلاة الساعة الأولى ومسجد الوقت الجامع وجانب المكان الغربي وبقلة الحبة الحمقاء وقالوا عليه سحق عمامة وجرد قطيفة وأخلاق ثياب وهل عندك جانبة خبر ومغربة خبر على الذهاب بهذه الأوصاف مذهب خاتم وسوار وباب ومائة لكونها ومحتملة مثلها ليلخص أمرها بالإضافة كفعل النابغة في إجراء الطير على العائذات بياناً وتلخيصاً لا تقديماً للصفة على الموصوف حيث قال:

والمؤمن العائدات الطير يمسحها ركبان مكة بين الغيل والسند

إضافة المسمى إلى اسمه وقد أضيف المسمى إلى اسمه في نحو قولهم لقيته ذات مرة وذات ليلة ومررت به ذات يوم داره ذات اليمين وذات الشمال وسرنا ذات صباح قال أنس بن مدركة الخثعمي:

عزمت على إقامة ذي صباح لأمر ما يسود من يسود

وقال الكميت:

إليكم ذوي آل النبي تطلعت نوازع من قلبي ظماء وألبب

وقالوا في نحو قول لبيد:

إلى الحول ثم اسم السلام عليكما ومن يبك حولاً كاملاً فقد اعتذر

وفي قول ذي الرمة :

داع يناديه باسم الماء مبغوم

وقوله:

تداعين باسم الشيب في متعلم

أن المضاف يعنون الأسم مقحم خروجه ودخوله سواء وحكوا هذا حي زيد وأتيتك وحي فلان قائم وحي فلانة شاهد وأنشدوا:

يا قر إن إباك حي خويلد قد كنت خائفة على الإحماق

وعن الأخفش إنه سمع إعرابياً يقول في أبيات قالهن حي رباح بإقحام حي والمعنى هذا زيد وإن أباك خويلداً وقالهن رباح ومنه قول الشماخ

و نفيت عنه مقام الذئب

أي الذئب .

إضافة أسماء الزمان والمكان:

وتضاف أسماء الزمان إلى الفعل قال الله تعالى : " هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم، وتقول جئتك إذ جاء زيد، و آتيك : إذا احمر البسر، وما رأيتك منذ دخل الشتاء ومذ قدم الأمير. وقال:

حنت نوار ولات هنا حنت

وتضاف إلى الجملة الإبتدائية أيضاً كقولك أتيتك زمن الحجاج أمير، وإذ الخليفة عبد الملك. وقد أضيف المكان إليهما في قولهم اجلس حيث جلس زيد وحيث زيد جالس.

ومما يضاف إلى الفعل آية لقرب معناها من معنى الوقت قال:

بآية يقدمون الخيل شعثاً كان على سنابكها مداما

وقال آخر:

ألا من مبلغ عني تميماً بآية ما يحبون الطعاما

وذو في قولهم اذهب بذي تسلم واذهبا بذي تسلمان واذهبوا بذي تسلمون أي بذي سلامتك والمعنى بالأمر الذي يسلمك .

الفصل بين المضاف والمضاف إليه:

ويجوز الفصل بين المضاف والمضاف إليه بالظرف في الشعر من ذلك قول عمرو بن قميئة:

لله در اليوم من لامها

وقول درنا:

هما أخوا في الحرب من لا أخا له

وأما قول الفرزدق:

بين ذراعي وجبهة الأسد

وقول الأعشى:

إلا علالة أو بداهة سابح

فعلى حذف المضاف إليه من الأول استغناء عنه بالثاني وما يقع في بعض نسخ الكتاب من قوله:

فزججتها بمزجة زج القلوص أبي مزاده

فسيبويه برئ من عهدته.

حذف المضاف

وإذا امنوا الألباس حذفوا المضاف وأقاموا المضاف إليه مقامه وأعربوه بإعرابه والعلم فيه قوله تعالى:" واسأل القرية" لأنه لا يلبس أن المسؤول أهلها لا هي. ولا يقولون رأيت هندا يعنون رأيت غلام هند. وقد جاء الملبس في الشعر قال ذو الرمة:

عشية فر الحارثيون بعد ما قضى نحبه في ملتقى القوم هوبر

وقال:

بما أعي النطاسي حديما

أي ابن هوبر وابن حذيم. وكما أعطوا هذا الثابت حق المحذوف في الإعراب فقد أعطوه حقه في غيره قال حسان:

يسقون من ورد البريص عليهم بردى يصفق بالرحيق السلسل

فذكر الضمير في يصفق حيث أراد ماء بردي وقد جاء قوله عز وجل: " وكم من قرية أهلكناها فجاءها بأسنا بياتاً أو هم قائلون" . على ما للثابت والمحذوف جميعا.

وقد حذف المضاف وترك المضاف إليه في إعرابه في قولهم ما كل سواء ثمرة ولا بيضاء شحمة. قال سيبويه كأنك أظهرت كل فقلت ولا كل بيضاء قال أبو دؤاد:

أكل امرئ تحسبين امرأ ونار توقد بالليل نارا

ويقولون ما مثل عبد الله يقول ذلك ولا أخيه. ومثله ما مثل أخيك ولا أبيك يقولان ذاك. وهو في الشذوذ إضمار الجار.

حذف المضاف إليه:

وقد حذف المضاف إليه في قولهم كان ذلك إذ وحينئذ، ومررت بكل قائماً. وقال الله تعالى: " وكلاً آتينا حكماً وعلماً" وقال تعالى: " ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات، وقال: "لله الأمر من قبل ومن بعد"، وفعلته أول يريدون إذ كان كذا وكلهم وبعضهم وقبل كل شيء وبعده وأول كل شيء.

حذف الإثنين:

وقد جاء المحذوفين معاً في نحو قول أبي دؤاد يصف البرق:

أسال البحار فانتحى للعقيق

وقول الأسود:

وقد جعلتني من حزيمة إصبعا

قال الفسوي أي أسال سقيا سحابه وذا مسافة إصبع.

حكم المضاف إلى ياء المتكلم:

وما أضيف إلى ياء المتكلم فحكمه الكسر نحو قولك في الصحيح والجاري مجراه غلامي ودلوي، إلا إذا كان آخره ألفاً أو ياء متحركاً ما قبلها أو واواً أما الألف فلا يتغير إلا في لغة هذيل في نحو قوله:

سبقوا هوي وأعنقوا الهواهم

وفي حديث طلحة رضي الله عنه: فوضعوا اللج على قفي، يجعلونها إذا لم يكن التثنية ياء، و يدغمونها. وقالوا جميعاً لدي ولديه كما قالوا علي وعليه وعليك. وياء الإضافة مفتوحة إلا ماجاء عن نافع محياي ومماتي وهو غريب. وأما الياء فلا تخلو من أن ينفتح ما قبلها كياء التثنية وياء الأشقين والمصطفين والمرامين والمعلين أو ينكسر كياء الجمع. والواو لا تخلو من أن ينفتح ما قبلها کالأشقون و أخواتہ أو یضم کالمسلمون والمصطوفون۔ فما انفتح ما قبلہ من ذلك فمدغم في ياء المتكلم ياء ساكنة بين مفتوحين، وما انكسر ما قبله من ذلك أو انضم فمدغم فيها ياء ساكنة بين مكسور مفتوح.

والأسماء الستة متى أضيفت إلى ظاهر أو مضمر ما خلا الياء، فحكمها ما ذكرنا. فأما إذا أضيفت إلى الياء فحكمها حكمها غير مضافة، أي تحذف الأواخر، إلا ذو فإنه لا يضاف إلا إلى أسماء الأجناس الظاهرة وفي شعر كعب:

صبحنا الخزرجية مرهفات آبار ذوي أرومتها ذووها

وھو شاذ

وللفم مجريان أحدهما مجرى اخواته وهو أن يقال فمي والفصيح فيَّ في الأحوال الثلاث. وقد أجاز المبرد أبيّ وأخيّ وأنشد:

وأبي مالك ذو المجاز بدار

وصحة محمله على الجمع في قوله:

وفديننا بالابينا

تدفع ذلك

یہ موضوع تمام کتب کے ساتھ کھولیں

2 حروف جر

حروف جر

عربی زبان میں حروفِ جارہ (حروفِ جر) وہ حروف ہیں جو اسم کو حالتِ جر میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ ان کی تعداد عموماً 17 سمجھی جاتی ہے، اور وہ یہ ہیں:

1. مِنْ : - معنی: سے (ابتداء کے لیے)

- مثال: "خَرَجْتُ مِنَ البَيْتِ" (میں گھر سے نکلا)

2. إلىٰ : - معنی: تک، کی طرف (انتہاء کے لیے)

- مثال: "ذَهَبْتُ إِلَى المَسْجِدِ" (میں مسجد کی طرف گیا)

3. عَنْ : - معنی: سے، کے بارے میں

- مثال: "تَحَدَّثَ عَنِ العِلْمِ" (اس نے علم کے بارے میں بات کی)

4. علىٰ: - معنی: پر (بلندی یا استعلاء کے لیے)

- مثال: "الكِتَابُ عَلَى الطاوِلَةِ" (کتاب میز پر ہے)

5. فِيْ : - معنی: میں (ظرف مکان یا زمان کے لیے)

- مثال: "فِي المَدرَسَةِ" (مدرسے میں)

6. اللام (لِ): - معنی: کے لیے، کی (ملکیت یا فائدے کے لیے)

- مثال: "الكتابُ لِمُحَمَّدٍ" (کتاب محمد کے لیے ہے)

7. الباء (بِ): - معنی: سے، ساتھ (آلہ یا سبب کے لیے)

- مثال: "كَتَبَ بِالقَلَمِ" (اس نے قلم سے لکھا)

8. الكاف (كَ): - معنی: کی مانند، جیسا (تشبیہ کے لیے)

- مثال: "أَنتَ كَالْأَسَدِ" (تم شیر کی طرح ہو)

9. حَاشَا : - معنی: سوائے (استثناء کے لیے)

- مثال: "جاءَ القومُ حاشا زيدٍ" (قوم آئی سوائے زید کے)

10. خَلاَ: - معنی: سوائے (استثناء کے لیے)

- مثال: "جاء القومُ خلا زيدٍ" (قوم آئی سوائے زید کے)

11. عَدَا: - معنی: سوائے (استثناء کے لیے)

- مثال: "جاء القومُ عدا زيدٍ" (قوم آئی سوائے زید کے)

12. حَتّٰى: - معنی: تک (انتہاء کے لیے)

- مثال: "أَكَلْتُ السَّمَكَ حَتَّى الرَّأْسِ" (میں نے مچھلی کھائی یہاں تک کہ سر تک)

13. مُذْ: - معنی: سے (ابتداء زمان کے لیے)

- مثال: "مَا رَأَيْتُهُ مُذْ يَوْمَيْنِ" (میں نے اسے دو دن سے نہیں دیکھا)

14. مُنْذُ: - معنی: سے (ابتداء زمان کے لیے)

- مثال: "مَا رَأَيْتُهُ مُنْذُ يَوْمَيْنِ" (میں نے اسے دو دن سے نہیں دیکھا)

15.رُبَّ: - معنی: بعض اوقات، کتنے ہی (تقلیل یا تکثیر کے لیے)

- مثال: "رُبَّ رَجُلٍ كَرِيمٍ" (کتنے ہی سخی لوگ)

16. واو (و) : - معنی: قسم کے لیے

- مثال: "وَاللّهِ لأَفْعَلَنَّ" (خدا کی قسم، میں ضرور کروں گا)

17. تاء (ت): - معنی: قسم کے لیے

- مثال: "تَاللّهِ لَأَفْعَلَنَّ" (خدا کی قسم، میں ضرور کروں گا)

یہ 17 حروف جارہ عربی زبان میں اکثر استعمال ہوتے ہیں اور جملوں میں مختلف معنوں کو ظاہر کرنے کے لیے اسم کو حالتِ جر میں لاتے ہیں۔

3 النحوالواضح ابتدائیۃ ( جلد:۱) سبق:۱۶

يُجَرُّ الِاسْمُ إِذَا سَبَقَهُ حَرْفٌ مِنْ حُرُوفِ الْجَرِّ الآتِيَةِ وَهِيَ: مِنْ، وَإِلَى، وَعَنْ، وَعَلَى، وَفِي، وَالْبَاءِ، وَاللَّامِ.

جب کسی اسم پر حروف جر - من - الی - عن- علی- فی- باء- لام - میں سے کوئی حرف داخل ہو تو اس اسم کو جر دیا جاتا ہے اور وہ اسم مجرور ہو جاتا ہے۔

الامثلة

  1. نَزَلَ الْمَطَرُ مِنَ السَّمَاءِ.
  1. يَأْتِي السَّمَكَ مِنَ الْبَحْرِ.
  1. سَعَى الْجَيْشُ إِلَى الْمَيْدَانِ.
  1. سَارَتِ الْمَاشِيَةُ إِلَى الْحَقْلِ.
  1. يَنْزِلُ الْجُنْدِيُّ عَنِ الْحِصَانِ.
  1. يَذْهَبُ الْخَوْفُ عَنِ الطِّفْلِ.
  1. يَطْفُو الْخَشَبُ عَلَى الْمَاءِ.
  1. يَسْقُطُ الثَّمَرُ عَلَى الْأَرْضِ.
  1. يَنْبَحُ الْكَلْبُ فِي الْبُسْتَانِ.
  1. دَخَلَ الْمُجْرِمُ فِي السِّجْنِ.
  1. قَشَّرْتُ الْفَاكِهَةَ بِالسِّكِّينِ.
  1. يَتَقَاتَلُ الْجُنُودُ بِالسُّيُوفِ.
  1. الْجَائِزَةُ لِلسَّابِقِ.
  1. اشْتَرَيْتُ قُفْلًا لِلْخِزَانَةِ.

4 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۵

حروف جارہ

حروف جارہ سترہ ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :۔

ب ، ت ، ك ، ل ، و، من، عن، على، فى، إِلَى، حَتَّى، رُبَّ ، مذ ، منذ ، حاشا ، عدا ، خلا

یہ حروف اسم پر داخل ہوتے ہیں اور اس کو جر دیتے ہیں جیسے المطر ينزل من السماء

حروف جارہ رابطه اور صلہ کا کام دیتے ہیں۔

ان میں سے اکثر و بیشتر متعدد اور مختلف معانی میں مستعمل ہوتے ہیں۔ ذیل میں بعض حروف کے صرف کثیر الوقوع معانی لکھے جاتے ہیں :۔

(۱) ب :۔ سے ، میں ، پر، سبب، ساتھ، قسم، وغیرہ کے معانی میں کبھی زائدہ بھی ہوتا ہے اور کبھی تعدیہ کے لئے آتا ہے۔

(۲) ت : قسم کے لئے، اللہ کے لئے مخصوص ہے جیسے تا اللہ (اللہ کی قسم)

(۳) ك : تشبیہ کے لئے (مانند ، مشابه، مثل، طرح )، وغیرہ

(۴) ل : (واسطے ، طرف سے، کو، کا، کے ،کی ، وغیرہ)

(۵) و : قسم کے لئے "رُبَّ "کے معنی میں ۔

(۶) من : سے ، کا، کی، کے ، میں ۔ سے ، بعض سبب ، وغیرہ ۔

(۷) عن : (سے، طرف سے ، بارے میں)۔

(۸) علی : (پر، باوجود) و غیره -

(۹) في : (میں، بارے میں، متعلق، سبب وغیرہ)

(۱۰) إلى : ( تك، طرف، وغیره)

(۱۱) حتی : (تک ، یہاں تک کہ، تاکہ وغیره )

(۱۲) رُبَّ : بعض بہتر، اکثر، وغیرہ ، تقلیل و تکثیر دونوں کے لئے)

(۱۴،۱۳) منذ ، مذ : (عرصہ سے ..... دن سے وغیرہ ) عرصہ بتانے کیلئے

(۱۵، ۱۶، ۱۷) حاشا ، خلا ، عدا۔ (ہوا، علاوہ، وغیرہ استثناء کے لئے)

نوٹ : عربی میں صلہ کا پہچاننا سب سے مشکل کام ہے۔ مبتدی تو مبتدی اکثر پڑھے لکھے لوگ لکھنے ہیں فاش غلطی کر جاتے ہیں۔ اس کا انحصار زیادہ تر مشق و مداومت پر ہے۔

البتہ اتنی بات یاد رکھو:

قال کا صلہ لام آتا ہے ، سال، سمع بغیر صلہ کے استعمال ہوتے ہیں اور اسی طرح ظلم بھی، جیسے: - قلتُ لِزَيْدٍ، سَمِعْتُ زَيْدًا، فلَانٌ ظَلَم زَيْدًا ، سَأَلْتُ زَيْدًا عَنْ اسم أَبِيْهِ .

5 مائۃ عامل۔ سبق:۱

حروف تجر الاسم فقط، وتسمى حروفا جارة، وهي سبعة عشر حرفا

۱۔ الباء للإلصاق، وهو اتصال الشيء بالشيء، إما حقيقة نحو به داء، وإما مجازا نحو مررت بزيد أي التصق مروري بمكان يقرب منه زيد، وللاستعانة نحو : كتبت بالقلم، وقد تكون للتعليل نحو قوله تعالى: إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّحَاذِكُمُ الْعِجْل، وللمصاحبة نحو : اشتريت الفرس بسرجه، وللتعدية نحو قوله تعالى: ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ، ونحو : ذهبت بزيد أي أذهبته، وللمقابلة نحو : اشتريت العبد بالفرس، وللقسم نحو : بالله لأفعلن كذا، وللاستعطاف نحو : ارحم بزيد، وللظرفية نحو : زيد بالبلد، وللزيادة نحو قوله تعالى: وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.

۲۔ واللام للاختصاص، نحو: الجل للفرس، وللزيادة نحو : ردف لكم أي ردفكم، وللتعليل نحو : جئتك لإكرامك، وللقسم نحو: الله لا يؤخر الأجل، وللمعاقبة نحو : لزم الشر للشقاوة،

۳۔ و"من" وهي لابتداء الغاية نحو سرت من البصرة إلى الكوفة، وللتبعيض نحو : أخذت من الدراهم أي بعض الدراهم، وللتبيين نحو قوله تعالى: فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ أي الرجس الذي هو الأوثان، وللزيادة نحو قوله تعالى: يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ.

۴۔ و " إلى " لانتهاء الغاية في المكان نحو: سرت من البصرة إلى الكوفة، وللمصاحبة نحو قوله تعالى: ﴿وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ أي مع أموالكم، وقد يكون ما بعدها داخلا في ما قبلها إن كان ما بعدها من جنس ما قبلها، نحو قوله تعالى: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ، وقد لا يكون ما بعدها داخلا في ما قبلها إن لم يكن ما بعدها من جنس ما قبلها، نحو قوله تعالى: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ.

۵۔ و"حتى" لانتهاء الغاية في الزمان، نحو : نمت البارحة حتى الصباح، وفي المكان نحو: سرت البلد حتى السوق، وللمصاحبة نحو : قرأت وردي حتى الدعاء أي مع الدعاء، وما بعدها قد يكون داخلا في حكم ما قبلها، نحو: أكلت السمكة حتى رأسها، وقد لا يكون داخلا فيه نحو المثال المذكور، وهي مختصة بالاسم الظاهر بخلاف "إلى" فلا يقال : حتاه، ويقال: إليه.

۶۔ و"على" للاستعلاء نحو : زيد على السطح، وعليه دين، وقد تكون بمعنى الباء نحو مررت عليه بمعنى مررت به، وقد تكون بمعنى "في" نحو قوله تعالى : وَإِنْ كُنتُمْ عَلَى سَفَرٍ أي في سفر.

۷۔ و"عن" للبعد والمجاوزة نحو : رميت السهم عن القوس.

۸۔ و"في"للظرفية نحو : المال في الكيس، ونظرت في الكتاب. وللاستعلاء نحو قوله تعالى: ﴿وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ،

۹۔ والكاف للتشبيه نحو : زيد كالأسد، وقد تكون زائدة نحو: قوله تعالى: لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْء.

۱۰۔ ومذ ومنذ" لابتداء الغاية في الزمان الماضي نحو : ما رأيته مذ يوم الجمعة أو منذ يوم الجمعة، أي ابتداء عدم رؤيتي إياه كان يوم الجمعة إلى الآن، وقد تكون بمعنى جميع المدة نحو : ما رأيته مذ يومين أو منذ يومين، أي جميع مدة انقطاع رؤيتي إياه يومان.

۱۱۔ و"رب" للتقليل ولا يكون مجرورها إلا نكرة موصوفة، ولا يكون متعلقه إلا فعلا ماضيا نحو : رب رجل كريم لقيته، وقد تدخل على الضمير المبهم ولا يكون تمييزه إلا نكرة موصوفة نحو : ربه رجلا جوادا.

۱۲۔ والواو للقسم، وهي لا تدخل إلا على الاسم الظاهر لا على المضمر نحو : والله لأشربن اللبن، وقد تكون بمعنى "رب" نحو : وعالم يعمل بعلمه أي رب عالم يعمل بعلمه

۱۳۔ والتاء للقسم، وهي لا تدخل إلا على اسم الله تعالى نحو : تالله لأضربن زيدا. اعلم أنه لابد للقسم من الجواب، فإن كان جوابه جملة اسمية، فإن كانت مثبتة وجب أن تكون مصدرة بـ "إن" أو لام الابتداء نحو: والله إن زيدا قائم، والله لزيد قائم، وإن كانت منفية كانت مصدرة بــ "ما ولا و إن" مثل: والله ما زيد قائما، و والله لا زيد في الدار ولا عمرو، و والله إن زيداً قائم، وإن كان جوابه جملة فعلية، فإن كانت مثبتة كانت مصدرة باللام وقد، أو باللام وحده مثل : والله لقد قام زيد و والله لأفعلن كذا، وإن كانت منفية فإن كانت فعلا ماضيا كانت مصدرة بـ "ما" مثل: والله ما قام زيد، وإن كانت فعلا مضارعا كانت مصدرة بـ"ما ولا ولن" مثل: والله ما أفعلن كذا، و والله لا أفعلن كذا، و والله لن أفعل كذا، وقد يكون جواب القسم محذوفا إن كان قبل القسم جملة كالجملة التي وقعت جوابه، مثل: زيد عالم والله أي والله إن زيدا عالم، أو كان القسم واقعا بين الجملة المذكورة مثل: زيد والله عالم أي والله إن زيدا عالم.

۱۴۔ و حاشا وخلا وعدا كل واحد منها للاستثناء مثل: جاءني القوم حاشا زيد وخلا زيد وعدا زيد، وقال بعضهم: إن الاسم الواقع بعدها يكون منصوبا على المفعولية، فحينئذ تكون هذه الألفاظ أفعالا والفاعل فيها ضمير مستتر دائما، فالمثال المذكور في معنى جاءني القوم حاشا زيدا وخلا زيدا وعدا زيدا، وإذا وقعت "خلا وعدا" بعد "ما" مثل: ما خلا زيدا وما عدا زيدا، أو في صدر الكلام مثل : خلا البيت زيدا وعدا القوم زيدا تعينتا للفعلية.

حروف جارہ

ایسے حروف جو اسم کو مجرور کرتے ہیں، انہیں حروف جارۃ کہا جاتا ہے، اور یہ سترہ حروف ہوتے ہیں۔

1. باء: جوڑنےکے لیے، جو چیز کو دوسری چیز کے ساتھ جوڑتا ہے، مثلاً: "به داء" (اس سے بیماری)، یا مجازاً: "مررت بزيد" (میں زید کے قریب سے گزرا)، یا مدد کے لیے: "كتبت بالقلم" (میں نے قلم سے لکھا)، یا غرض کے لیے: "إِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ أَنْفُسَكُمْ بِاتِّحَاذِكُمُ الْعِجْل" (یقیناً تم نے اپنے آپ پر ظلم کیا، گائے کے بت کو اپنے لیے معبود بنا کر)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "اشتريت الفرس بسرجه" (میں نے گھوڑا اس کی زین کے ساتھ خریدا)، یا تعدیہ کے لیے: "ذَهَبَ اللهُ بِنُورِهِمْ" (اللہ نے ان کے نور کو لے لیا)، یا: "ذهبت بزيد" (میں زید کے ساتھ گیا)، یا مبادلہ کے لیے: "اشتريت العبد بالفرس" (میں نے غلام کو گھوڑے کے بدلے خریدا)، یا قسم کے لیے: "بالله لأفعلن كذا" (اللہ کی قسم میں ایسا کروں گا)، یا استغاثہ کے لیے: "ارحم بزيد" (زید پر رحم کرو)، یا ظرفیت کے لیے: "زيد بالبلد" (زید شہر میں ہے)، یا اضافے کے لیے: "وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ" (اپنی ہاتھوں سے اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالنا)۔

2. لام: خاصیت کے لیے، مثلاً: "الجل للفرس" (یہ زین گھوڑے کے لیے ہے)، یا اضافے کے لیے: "ردف لكم" (یہ تمہارے لیے ہے)، یا غرض کے لیے: "جئتك لإكرامك" (میں تمہیں عزت دینے کے لیے آیا)، یا قسم کے لیے: "الله لا يؤخر الأجل" (اللہ اجل کو نہیں ٹالتا)، یا سزا کے لیے: "لزم الشر للشقاوة" (بدی شقاوت کے لیے لازم ہے)۔

3. من: ابتدائی حد کے لیے، مثلاً: "سرت من البصرة إلى الكوفة" (میں بصرہ سے کوفہ تک گیا)، یا جزو کے لیے: "أخذت من الدراهم" (میں نے پیسوں میں سے کچھ لیا)، یا وضاحت کے لیے: "فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ" (بتوں سے جو ناپاکی ہے، اس سے اجتناب کرو)، یا اضافے کے لیے: "يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ" (وہ تمہارے گناہوں کی معافی دے گا)۔

4. إلى: مقام میں انتہا کے لیے، مثلاً: "سرت من البصرة إلى الكوفة" (میں بصرہ سے کوفہ تک گیا)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَى أَمْوَالِكُمْ" (ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ نہ کھاؤ)، اور بعد والا حصہ کبھی پہلے کے حصہ میں شامل ہو سکتا ہے، جیسے: "فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ" (اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو)، اور کبھی شامل نہیں ہوتا، جیسے: "ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ" (پھر روزہ رات تک مکمل کرو)۔

5. حتى: زمانے میں انتہا کے لیے، مثلاً: "نمت البارحة حتى الصباح" (میں کل رات صبح تک سویا)، یا مقام میں: "سرت البلد حتى السوق" (میں شہر سے بازار تک گیا)، یا ہمراہ ہونے کے لیے: "قرأت وردي حتى الدعاء" (میں نے اپنا ورد دعاء کے ساتھ پڑھا)، اور بعد والا حصہ کبھی پہلے کے حکم میں شامل ہو سکتا ہے، جیسے: "أكلت السمكة حتى رأسها" (میں نے مچھلی کو اس کے سر تک کھایا)، اور کبھی شامل نہیں ہوتا، جیسے: مذکورہ مثال۔ یہ اسم ظاہر سے مختص ہے، "إلى" کے برعکس، "حتى" کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا، بلکہ کہا جاتا ہے: "إليه"۔

6. على: بلند ہونے کے لیے، مثلاً: "زيد على السطح" (زيد چھت پر ہے)، یا: "عليه دين" (اس پر قرض ہے)، یا "ب" کے معنی میں، مثلاً: "مررت عليه" (میں اس کے پاس سے گزرا) یا "في" کے معنی میں، جیسے: "وَإِن كُنتُمْ عَلَى سَفَرٍ" (اور اگر تم سفر پر ہو)۔

7. عن: دوری اور تجاوز کے لیے، مثلاً: "رميت السهم عن القوس" (میں نے تیر کو کمان سے پھینکا)۔

8. في: ظرفیت کے لیے، مثلاً: "المال في الكيس" (پیسہ بیگ میں ہے)، یا: "نظرت في الكتاب" (میں نے کتاب میں دیکھا)، اور بلند ہونے کے لیے، جیسے: "وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ" (اور تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی چڑھاؤں گا)۔

۹۔ کاف تشبیہ: یہ کسی چیز کو کسی اور چیز کے مشابہ قرار دینے کے لیے آتی ہے، جیسے: "زید کالأسد" (زید شیر کی مانند ہے)۔

کبھی یہ زائد بھی آتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ" (اس کے مثل کوئی چیز نہیں)۔

۱۰۔ "مذ" اور "منذ": یہ دونوں ماضی میں کسی وقت کی ابتدا کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہیں، جیسے:

"ما رأيته مذ يوم الجمعة" یا "منذ يوم الجمعة" (میں نے اسے جمعہ کے دن سے نہیں دیکھا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ سے لے کر اب تک نہ دیکھنے کا سلسلہ جاری ہے۔

کبھی یہ پوری مدت کے معنی میں بھی آتی ہیں، جیسے: "ما رأيته مذ يومين" یا "منذ يومين" (میں نے اسے دو دن سے نہیں دیکھا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ دیکھنے کی پوری مدت دو دن پر مشتمل ہے۔

11. رب: کمی کے لیے، اور اس کا مجرور ہمیشہ نکرہ موصوفہ ہوتا ہے، اور متعلقہ فعل ماضی ہوتا ہے، جیسے: "رب رجل كريم لقيته" (شاید ایک نیک آدمی میں نے دیکھا)۔

12. واو: قسم کے لیے، اور یہ صرف اسم ظاہر پر آتی ہے، جیسے: "والله لأشربن اللبن" (اللہ کی قسم، میں دودھ پیوں گا)، اور کبھی "رب" کے معنی میں، جیسے: "وعالم يعمل بعلمه" (اور ایک عالم جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتا ہے) أي رب عالم يعمل بعلمه ۔

13. تاء: قسم کے لیے، اور یہ صرف اسم اللہ تعالیٰ پر آتی ہے، جیسے: "تالله لأضر بن زيدا" (اللہ کی قسم، میں زید کو نقصان پہنچاؤں گا)۔

جان لو کہ قسم کے لیے جواب ضروری ہے۔ اگر جواب جملہ اسمیہ ہے، اور مثبت ہو تو "إن" یا لام ابتدائی سے شروع ہونا چاہئے، جیسے: "والله إن زيدا قائم" (اللہ کی قسم، زید قائم ہے)، اور اگر منفی ہو تو "ما" یا "لا" یا "إن" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله ما زيد قائما" (اللہ کی قسم، زید قائم نہیں ہے)۔

اگر جواب جملہ فعلیہ ہے، اور مثبت ہو تو "لام" اور "قد" یا صرف "لام" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله لقد قام زيد" (اللہ کی قسم، زید نے قیام کیا)، اور اگر منفی ہو اور فعل ماضی ہو تو "ما" سے شروع ہو تا ہے جیسے واللہ ما قام زید اور اگر فعل مضارع ہو تو ما یا "لا" یا "لن" سے شروع ہوتا ہے، جیسے: "والله ما أفعلن كذا" (اللہ کی قسم، میں ایسا نہیں کروں گا)۔

اور کبھی جواب قسم حذف ہوتا ہے، اگر قسم سے پہلے کوئی جملہ ہو جو جواب قسم کی طرح ہو، جیسے: "زيد عالم والله" یعنی "والله إن زيداً عالم"۔

یا اگر قسم جملے کے درمیان ہو، جیسے: "زيد والله عالم" یعنی "والله إن زيداً عالم"۔

حاشا، خلا، عدا: یہ سب استثنا کے لیے ہوتے ہیں، جیسے: "جاءني القوم حاشا زيد" (لوگ میرے پاس آئے، زید کے سوا)۔ کچھ نے کہا ہے کہ ان کے بعد آنے والا اسم مفعولیت کے لیے منصوب ہوتا ہے، تو یہ الفاظ فعل ہوتے ہیں اور فاعل ہمیشہ ضمیر مستتر ہوتا ہے، جیسے: "جاءني القوم حاشا زيدا" (لوگ میرے پاس آئے، زید کے سوا)۔

"جب 'خلا' اور 'عدا'، 'ما' کے بعد آئیں، جیسے: 'ما خلا زیداً' اور 'ما عدا زیداً'، یا کلام کے آغاز میں آئیں، جیسے: 'خلا البيت زيداً' اور 'عدا القوم زيداً'، تو ان کا فعلی ہونا لازم ہو جاتا ہے۔"

6 تیسیر النحو۔ سبق:۲۱

فصل المجرور بحرف الجر

يجر الاسم إذا وقع بعد حرف من حروف الجر ، نحو مررت بزيد، ورجال، ومسلمات( زید، رجال" و "مسلمات "مجرورات، وعلامة جرها الكسرة لكونها مفردا منصرفا وجمعا مكسرا، وجمع مؤنث سالما) ونحو مررت بعمر (عمر مجرور وعلامة جره الفتحة لكونه غير منصرف) ونحو مررت بالمسلمين والمسلمين، وأخيك (المسلمين" و "المسلمين" و "أخيك" مجرورات، وعلامة جرها الياء لكونها مثنى، وجمع مذكر سالم واسما من الأسماء الخمسة)

وحروف الجر سبعة عشر حرفاء كما في هذا البيت:

باء تاء، كاف، لام ، واو، منذ ، مُذ خَلا - ربِّ، حاشا مِنْ ، عداء في، عَنْ، عَلَى، حتى، إلى

( أما المباحث الأخرى المتعلقة بحروف الجر ( دخولها على الاسم الظاهر والضمير أو على الاسم الظاهر فقط، معانیھا كونها أصلية، وزائدة، وشبيهة بالزائد، وغيرها فستأتي في قسم الحروف)

فصل: مجرور بحرف جر

اسم کو حرفِ جر کے بعد آنے کی صورت میں جر (کسرہ) کے ساتھ پڑھا جاتا ہے، جیسے:

مررتُ بزيدٍ (میں زید کے پاس سے گزرا)، ورجالٍ (مردوں کے پاس سے) اور ومسلماتٍ (مسلمان عورتوں کے پاس سے)۔

یہاں زید، رجال اور مسلمات مجرور ہیں اور ان کی جر کی علامت کسرہ ہے، کیونکہ یہ مفرد منصرف، جمع مکسر، اور جمع مؤنث سالم ہیں۔

اسی طرح:

مررتُ بعمرَ (میں عمر کے پاس سے گزرا)، یہاں عمر بھی مجرور ہے لیکن جر کی علامت فتحة ہے، کیونکہ یہ غیر منصرف ہے۔اور:

مررتُ بالمسلمينَ (مسلمان دو مردوں کے پاس سے)، والمسلمينَ (اور مسلمان مردوں کے پاس سے) اور أخيك (تمہارے بھائی کے پاس سے)۔

یہاں المسلمين، المسلمين اور أخيك مجرور ہیں اور ان کی جر کی علامت یاء ہے، کیونکہ یہ تثنیہ، جمع مذکر سالم، اور اسماء ستّہ میں سے ہیں۔

حروفِ جر کی تعداد سترہ ہے، جیسا کہ اس شعر میں بیان کیا گیا ہے:

باء، تاء، کاف، لام، واو، منذ، مذ، خلا - رب، حاشا، مِن، عدا، فی، عن، على، حتى، إلى

(جہاں تک حروفِ جر سے متعلق دیگر مباحث جیسے: ان کا اسم ظاہر اور ضمیر پر آنا، یا صرف اسم ظاہر پر آنا، ان کے معانی، اور ان کا اصل یا زائد ہونا وغیرہ ہے، وہ حروف کے باب میں آئیں گے۔)

7 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۴

عربی میں اسماء عام حالت میں مرفوع ہوتے ہیں لیکن اگر ان سے پہلے حروف جر میں سے کوئی حرف جیسے فی“ یا ”علی“

آ جائے تو ان کا رفع ختم ہو جاتا ہے اور وہ مجرور ہو جاتے ہیں جیسے

الْبَيْتُ :گھر، في البَيْتِ: گھر میں

بيت:ایک گھر ، فِي بَيْتِ:ایک گھر میں

الْمَكْتَبُ:میز ، عَلَى الْمَكتب:میز پر

مكتب :ایک میز ، عَلَى مَكْتَبٍ: ایک میز پر

8 تمارین

9 النحوالواضح ابتدائیۃ ( جلد:۱) سبق:۱۶

التَّمْرِين (۱)

عَيِّنْ كُلَّ حَرْفٍ مِنْ حُرُوفِ الْجَرِّ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَشَكِّلِ الْأَسْمَاءَ بَعْدَ كُلٍّ مِنْهَا:

۱. يَقْطَعُ النَّجَّارُ الْخَشَبَ بِالْمِنْشَارِ.

۲. رَأَيْتُ الطَّائِرَ فِي الْقَفَصِ.

۳. يَقْطَعُ الْقِطَارُ الْمَسَافَةَ مِنَ الْقَاهِرَةِ إِلَى الْإِسْكَنْدَرِيَّةِ فِي ثَلَاثِ سَاعَاتٍ وَعِشْرِينَ دَقِيقَةً.

٤. لِلْبُسْتَانِ بَابَانِ وَعَلَى كُلِّ بَابٍ حَارِسٌ.

٥. اِمْتَنَعَ الْمَرِيضُ عَنِ الْأَكْلِ وَأَصْبَحَ لَا يَقْوَى عَلَى الْمَشْيِ.

التَّمْرِين (۲)

أَتِمَّ كُلَّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ بِوَضْعِ حَرْفِ جَرٍّ مُلَائِمٍ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي:

۱. يَغُوصُ الرَّجُلُ الْمَاءَ ........

۲. عَفَوْنَا ..... الْمُسِيءِ.

٣. أَصْغَيْنَا ....... الْحَدِيثِ.

٤. لَا تَعْتَمِدْ غَيْرَ ....... نَفْسِكَ.

٥. اشْتَرَيْتُ سَرْجًا . . . . . . الْحِصَانِ.

٦. تَرْقُدُ الدَّجَاجَةُ ........... الْبَيْضِ.

٧. يَلْمَعُ الْبَرْقُ السَّمَاءَ .......

٨. اِنْتَشَرَ النَّاسُ الطَّرِيقَ.........

٩. عَادَ الْمُسَافِرُ ..... وَطَنِهِ.

۱۰. وَضَعْتُ الْمِدَادَ الدَّوَاةَ ........

التَّمْرِين (۳)

أَتِمَّ كُلَّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ بِوَضْعِ اِسْمٍ مُنَاسِبٍ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي وَشَكِّلْ آخِرَهُ:

۱. بَرَيْتُ الْقَلَمَ ........ بِ...........

۲. يُثْنِي الْمُعَلِّمُ عَلَى .........

٣. يُسَاقُ الْمُجْرِمُ إِلَى ......

٤. يَنْزِلُ الْمَطَرُ مِنْ .........

٥. يُسْتَخْرَجُ الذَّهَبُ مِنْ .............

٦. الْعَاقِلُ يَبْتَعِدُ عَنْ ........

٧. يُسْتَخْرَجُ الذَّهَبُ مِنْ ...........

٨َ. تَنْظُرُ إِلَى الْبِنْتِ وَجْهَهَا فِي .......

٩. صَنَعَ الْحَدَّادُ نَعْلَيْكَ ......

۱۰. غَضِبَ السَّيِّدُ عَلَى .........

۱۱. أَحْرَقَ الْوَلَدِ .......... بِ ..........

۱۲. الْعِلْمُ أَفْضَلُ مِنْ .........

التَّمْرِين (٤)

كَوِّنْ سَبْعَ جُمَلٍ بِكُلٍّ مِنْهَا حَرْفٌ مِنْ حُرُوفِ الْجَرِّ الَّتِي تَعْرِفُهَا وَاسْتَوْفِ هَذِهِ الْحُرُوفَ.

التَّمْرِين (٥)

اِسْتَعْمِلِ الْأَسْمَاءَ الآتِيَةَ فِي جُمَلٍ تَامَّةٍ بِحَيْثُ يَكُونُ كُلٌّ مِنْهَا مَجْرُورًا بِحَرْفِ جَرٍّ:

الْأَرْضِ ، الْكُرَةِ، السَّمَاءِ ، الشَّرِّ ، الْمَاءِ ، الْمَنْزِلِ ، الْقَلَمِ ، الْبَابِ.

التَّمْرِين فِي الْإِنْشَاءِ (٦)

أَجِبْ عَنِ الْأَسْئِلَةِ الآتِيَةِ بِجُمَلٍ تَامَّةٍ بِحَيْثُ تَشْتَمِلُ "كُلُّ إِجَابَةٍ عَلَى حَرْفٍ مِنْ حُرُوفِ الْجَرِّ الَّتِي عَرَفْتَهَا:

۱. أَيْنَ كِتَابُكَ؟

۲. أَيْنَ يُوضَعُ السَّرْجُ مِنَ الْحِصَانِ؟

۳. مَتَى تُوقَدُ الْمَصَابِيحُ؟

٤. أَيْنَ تُسَافِرُ فِي عُطْلَةِ الصَّيْفِ؟

٥. كَيْفَ يُصْطَادُ السَّمَكُ؟

٦. بِمَ يُقْطَعُ الْخَشَبُ؟

٧. لِمَ تُفْتَحُ نَوَافِذُ الْحُجْرَةِ؟

٨. مِنْ أَيْنَ يُسْتَخْرَجُ الذَّهَبُ؟

٩. عَمَّنْ يَبْتَعِدُ الْعَاقِلُ؟

تَمْرِينٌ فِي الْإِعْرَابِ (۷)

نَمُوذَجٌ:

۱. يَعُودُ الْغَائِبُ إِلَى الْوَطَنِ.

يَعُودُ: فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ.

الْغَائِبُ: فَاعِلٌ مَرْفُوعٌ.

إِلَى: حَرْفُ جَرٍّ.

الْوَطَنِ: اِسْمٌ مَجْرُورٌ بِإِلَى.

۲. بِالْعِلْمِ يَسُودُ الْمَرْءُ.

الْبَاءِ: حَرْفُ جَرٍّ.

الْعِلْمِ: اِسْمٌ مَجْرُورٌ بِالْبَاءِ.

يَسُودُ: فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ.

الْمَرْءُ: فَاعِلٌ مَرْفُوعٌ.

(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الآتِيَةَ:

۱. لَا تَلْعَبْ بِالنَّارِ.

۲. تَتَلَأْلَأُ النُّجُومُ فِي السَّمَاءِ.

۳. الْفَأْرَةُ مُخْتَبِئَةٌ فِي الْحُجْرَةِ.

٤. تَعِبَ الْوَلَدُ مِنَ الْجَرْيِ.

10 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۵

اَلتَّمْرِيْنُ (133)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) يَقْطَعُ النجّارُ الخشبَ بالمنشار ويصنعُ منه الكراسِيَّ.

(2) تالله لاسافرنَّ الى البلاد الاسلامِيَّةِ ولأطوفَنَّ فيها حتَّى عام.

(3) وقع الحريقُ البارحةَ فاحترق كل متاعي عداالكتبِ.

(4) للبستان بابان وعلىَ كُلِّ بابٍ حارسٌ.

(5) يقطع القطار المسافة من لكنؤ الى كانفور في ساعتين.

(6) رُبَّ اكلة تمنعُ عن أكلات كثيرةٍ.

(7) أفبالباطل يُؤْمنُونَ وبنعمة الله يكفرون.

(8) من كان في هذه أعمٰى فهو في الآخرة اعمىَ.

(9) مُنْذُكُمْ عَامٍ تَسْكُنُ فِي لَكْنَؤ.

(10) ترخم الدجاجة على البَيْضِ حتّٰى عشرين يومًا.

(11) مَنْ مَدَحَكَ بِمَا لَيْسَ فِيْكَ فَقَدْ ذَمَّكَ.

(12) لا يُزَهِّدَنَّك في المعروف من لا يشكرُك.

(13) لا تؤخّر عمل اليوم إلي غدٍ.

(14) ذهب أخِي الى المحطة ليقابل صديقًا لهُ.

(15) وَللهِ عَلىَ النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلاً.

اَلتَّمْرِيْنُ (134)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) اس زمانے میں بجلی سے بڑے بڑے کام لئےجاتے ہیں۔

(۲) جدید انکشافات اور ایجادات کی وجہ سے گھنٹوں کے کام منٹوں میں پورے ہونے لگے۔

(۳) کہتے ہیں کہ چاند میں بھی آبادی ہے۔

(۴) کتنی مدت میں چاند کا سفر کیا جانا ممکن ہے۔

(۵) تمہارے والد کتنے دنوں سے بیمار ہیں اور کس کا علاج کرارہے ہیں۔

(۶) خیر کے سوا ہر بات سے اپنی زبان کو روکو۔

(۷) کھلاڑی لڑکے کے علاوہ تمام لڑکے کامیاب ہوئے۔

(۸) اساتذہ انہیں طلبہ کی تعریف کرتے ہیں جو پڑھنے میں محنت کرتے ہیں۔

(۹) کیا یہ ممکن ہے کہ دنیا سے گمراہیاں ختم ہو جائیں؟

(۱۰) میں نے محمود سے پوچھا کہ تم کس سنہ میں پیدا ہوئے مگر وہ نہیں بتاسکا۔

(۱۱) ملازم سے کہو کہ میرے لئے ایک تانگہ کرایہ کردے۔

(۱۲) ان طلبہ کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے کھیل میں اپنے اوقات ضائع کئے۔

(۱۳) اللہ کی قسم میں ان لوگوں کی ضرور مدد کروں گا جنہوں نے حق کی خاطر گھربار چھوڑا اور جان و مال کی قربانی کی۔

11 تیسیر النحو۔ سبق:۲۱

أسئلة

۱۔ كم قسما للمجرورات ؟ اذكرهما مع التمثيل.

۲۔ عرف المجرور بحرف الجر مع الأمثلة.

۳۔ اذكر سبعة عشر حرف جر.

۴۔ عرف المجرور بالمضاف مع الأمثلة.

۵۔ عرف المضاف إليه والمضاف مع الأمثلة.

۶۔ عرف كلا من الإضافة المعنوية واللفظية مع التمثيل.

۷۔اذكر أحكام المضاف مع التمثيل لكل حكم .

۸۔اذكر أحكام المضاف إليه مع التمثيل لكل حكم.

۹۔ كم نوعا للأسماء باعتبار إضافتها وعدمها ؟

تمرينات

ا: عين فيما يأتي المضاف والمضاف إليه وبين نوع الإضافة وما حدث في المضاف بسبب الإضافة.

تغرس الأشجار على جانبي الطريق ، قاري كتب الأدب يرقى أسلوبه، تخير زميلا مخلص المودة، مامون العثرات، عندي خزانتا كتب، مرتل القرآن يؤثر في النفوس، مذيع نشرة الأخبار يحسن تقديمها، إن الله فالق الحب والنوى، حسن العمل في الحاضر عظيم القدر في المستقبل، المؤديا الواجب محبوبان عند الناس، المرشد و الناس إلى أمور دينهم محبوبون عند الله.

۲۔ ضع كل اسم من الأسماء الآتية مضافا إليه في جملة من إنشائك:

الكتاب المدرسة، الأشجار، الصديق.

۳۔ هات ثلاثة أمثلة للإضافة المعنوية.

۴۔ هات ثلاثة أمثلة للإضافة اللفظية.

۵۔ مثل لما يأتي في جمل تامة.

إضافة معنوية حذف من مضافها نون التثنية

إضافة لفظية دخلت على مضافها "ال"

مضاف اكتسب من المضاف إليه التذكير

مضاف اكتسب من المضاف إليه التأنيث

12 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

13 اضافت (مرکب اضافی)

اضافت

اضافت عربی گرامر کا ایک قاعدہ ہے جس میں دو اسماء کو آپس میں ملایا جاتا ہے، جس سے ایک مرکب (ترکیب) بنتی ہے۔ اس مرکب میں پہلے اسم کو مضاف اور دوسرے اسم کو مضاف الیہ کہا جاتا ہے۔ یہ ترکیب دو اسماء کے درمیان ایک تعلق یا نسبت کو ظاہر کرتی ہے، جو عموماً ملکیت، تعلق یا دیگر معنی میں ہوتی ہے۔

اضافت کی تعریف:

اضافت سے مراد دو اسماء کے درمیان ایک تعلق پیدا کرنا ہے جس میں پہلا اسم (مضاف) اور دوسرا اسم (مضاف الیہ) آپس میں جڑے ہوتے ہیں۔ مضاف کو حالت رفع، نصب یا جر میں لایا جا سکتا ہے، لیکن مضاف الیہ ہمیشہ حالت جر میں ہوتا ہے۔

اضافت کی ساخت:

اضافت کی ترکیب میں:

1. مضاف: وہ اسم جو دوسرے اسم سے نسبت رکھتا ہے۔

2. مضاف الیہ: وہ اسم جس سے نسبت کی جاتی ہے، اور یہ ہمیشہ حالت جر میں ہوتا ہے۔

مثال: کتابُ الطالبِ (طالب علم کی کتاب) یہاں "کتاب" مضاف ہے، اور "الطالب" مضاف الیہ ہے۔ "الطالب" حالتِ جر میں ہے۔

اضافت کی قسمیں:

اضافت کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1. اضافتِ معنوی (ملکی یا حقیقی اضافت): اس قسم میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان ملکیت یا تعلق کا واضح معنی ہوتا ہے۔

مثال: بيتُ زيدٍ (زید کا گھر) یہاں "بيت" مضاف ہے اور "زيد" مضاف الیہ ہے، اور دونوں کے درمیان ملکیت کا تعلق ظاہر ہو رہا ہے۔

2. اضافتِ لفظی:اس قسم میں مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کوئی ملکیت یا حقیقی تعلق نہیں ہوتا بلکہ یہ ترکیب محض گرامر کے قواعد کی پیروی میں ہوتی ہے۔

مثال: حسنُ الخلقِ (اچھی خصلت) یہاں حسن (خوبصورتی) کو خلق (خصلت) کی صفت دی گئی ہے، یہاں کوئی ملکیت کا تصور نہیں ہے۔

اضافت کے قواعد:

1. مضاف پر "ال" کا استعمال نہیں ہوتا: مضاف کے ساتھ کبھی بھی معرفہ کے لیے "ال" نہیں آتا، لیکن مضاف الیہ کے ساتھ معرفہ کے لیے "ال" آ سکتا ہے۔

مثال: بيتُ الرجلِ (آدمی کا گھر)، یہاں "بيت" کے ساتھ "ال" نہیں آیا۔

2. مضاف الیہ ہمیشہ حالت جر میں ہوتا ہے: مضاف الیہ کی حالت ہمیشہ جر (کسرہ) میں ہوگی۔

مثال: قلمُ الطالبِ (طالب علم کا قلم)، "الطالب" پر کسرہ ہے۔

3. مضاف نکرہ اور مضاف الیہ معرفہ ہو تو مرکب معرفہ بنتا ہے: اگر مضاف نکرہ ہو اور مضاف الیہ معرفہ، تو پورا مرکب معرفہ ہو جاتا ہے۔

مثال: كتابُ المدرسِ(استاد کی کتاب)، یہاں "كتاب" نکرہ ہے، لیکن "المدرس" معرفہ ہے، لہذا مرکب معرفہ بن گیا۔

4. مضاف اور مضاف الیہ کے درمیان کوئی حرف جر نہیں آتا، یہ براہ راست ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔

اضافت کی مزید تفصیلات:

1. مضاف کی جنس: مضاف کی جنس اور عدد مضاف الیہ پر منحصر نہیں ہوتا۔ مضاف واحد، تثنیہ یا جمع ہو سکتا ہے، اور اس کی جنس مذکر یا مؤنث ہو سکتی ہے۔

2. مضاف الیہ کا تعلق: مضاف الیہ کی معرفہ یا نکرہ ہونے کی بنیاد پر پورا مرکب معرفہ یا نکرہ بنتا ہے۔

مثال: قلمُ الولدِ (لڑکے کا قلم) → مرکب معرفہ

قلمُ ولدٍ(کسی لڑکے کا قلم) → مرکب نکرہ

14 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۹

المُضَافُ اسْمٌ نُسِبَ إِلَى اسْمٍ بَعْدَهُ، فَتَعَرَّفَ بِسَبَبِ هَذِهِ النِّسْبَةِ أَوْ تَخَصَّص.

المُضَافُ يُحْذَفُ تَنْوِينُہ عِنْدَ الإِضَافَةِ إِذَا كَانَ مُنَوَّنًا قَبْلَهَا. وَتُحْذَفُ نُونُ المُضَافِ إِذَا كَانَ مُثَنًّى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرٍ سَالِمًا.

المُضَافُ إِلَيْهِ: اسْمٌ يَأْتِي بَعْدَ المُضَافِ وَهُوَ مَجْرُورٌ.

مضاف وہ اسم ہے جو اپنے مابعد کی طرف منسوب ہو ، اس نسبت کی وجہ سے وہ معرفہ بن جاتا ہے یا مخصوص ہو جاتا ہے۔

مضاف پر تنوین موجود ہو تو اضافت کی وجہ سے وہ حذف ہو جاتی ہے اگر مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو تو اس کا نون حذف ہو جاتا ہے۔ (مضاف پر ان نہیں آتا)

مضاف الیہ وہ اسم ہے جو مضاف کے بعد آتا ہے اور مجرور ہوتا ہے۔

الأمثلة :

(۱) لَعِبْنَا فِي فِنَاءِ الْمَدْرَسَةِ .

(٢) ابْتَعِدَ عَنْ قَرِينِ السُّوءِ

(٣) مَشَيْتُ عَلَى شَاطِي النَّيْلِ

(٤) رَكِبْتُ قِطَارَ الصَّبَاحِ .

(۱) أَغلَقْتُ مِصْرَاعَى الْبَابِ

(۲) غَسَلْتُ يَدَى الطَّفْلِ.

(٣) لَمَعَتْ عَيْنَا الْقِطْ

(٤) اِنْكَسَرَتْ عَجَلَتَا الدَّرَاجَةِ .

(۱) تَشْكُرُ الصُّحُفُ مُحْسِنِي الْأُمَّةِ

(٢) ثَرْوَةُ مِصْرَ مِنْ زَارِعَى الْأَرْضِ .

(٣) أَسْرَعَ سَائِقُوا السَّيَّارَاتِ

(٤) جَاءَ مُعَلِّمُوا الْمَدْرَسَةِ

15 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۵

( ۱ ) الإضافةُ المَعْنَوِيَّةُ واللفظية: اضافت لفظی اور معنوی

الْإِضَافَةُ قِسْمَانِ : مَعْنَوِيَّةٌ وَلَفْظِيَّةٌ ..

(ا) فَالْإِضَافَةُ الْمَعْنَوِيَّةُ مَا أَفَادَتِ الْمُضَافَ تَعْرِيفاً أَوْ تَحْصِيْصَاً وَلَا يَكُونُ الْمُضافُ فِيهَا وَصْفاً مُضَافًا إِلَى مَعْمُولِهِ.

(ب) وَالْإِضَافَةُ اللَّفْظِيَّةُ مَا لَمْ تُفِدِ الْمُضَافَ إِلَّا التَّخْفِيْفَ بِحَذْفِ تَنْوِينِهِ إِنْ كَانَ فِي الْأَصْلِ مُنوَّنَاً، أَوْ حَذْفِ نُونِهِ إِنْ كَانَ مُثنى أَوْ جَمْعَ مُذَكَّرِ سَالِماً، وَيُضَافُ فِيهَا الْوَصْفُ إِلَى مَعْمُولِهِ.

يَمْتَنِعُ فِي الْإِضَافَةِ الْمَعْتَوِيَّةِ دُخُولُ أَلْ عَلَى الْمُصَافِ مُطْلَقًا و یَمتَنِعُ ذَلِکَ فی الاِضَافَۃِ اللَّفۡظِیَّۃِ أیۡضًا اِلّا فِیمَا یَاتِیۡ:

.(۱) ان يَكُونَ الْمُضَافُ مُثَنَّى أَوْ جَمْعِ مُذَكَّرٍ سَالِماً.

(۲) أَنْ يَكُونَ الْمُضَافُ إِلَيْهِ مَقْرُونَا بِأَلُ اَوْ مُضَافَاً لِمَا فِيهِ أَلْ.

اضافت کی دو قسمیں ہیں معنویہ اور لفظیہ -

پس اضافت معنویہ وہ ہے کہ جو مضاف کی تعریف اور تخصیص کا فائدہ دے، اور اس میں مضاف اس میں اس کلمہ میں ہوتا جو کہ وصف ہو کر اپنے معمول کی طرف مضاف ہو۔

اور اضافت لفظیہ مضاف کو صرف حذف نون کی وجہ سے تخفیف کا فائدہ دیتی ہے، اگر وہ اصل تنوین والا کلمہ ہو یا تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو اور اس میں وصف کو اس کے معمول کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر مطلقاً الف لام کا داخل ہونا ممنوع ہے اور یہ اضافت لفظیہ میں بھی ممنوع ہے مگر ان مقامات میں جو کہ نیچے آرہے ہیں۔

ایک یہ کہ مضاف تثنیہ یا جمع مذکر سالم ہو۔

دوسرا یہ کہ مضاف الیہ الف لام کے ساتھ ملا ہوا ہو یا اس کی طرف مضاف ہو کہ جس میں الف لام ہو۔

الأمثلة

(۱) نُورُ الشَّمْسِ قَوِى

عُنْقُ الجَمَلِ طَوِيلٌ

ريسُ الطَّاوُسِ جَمِيلٌ

(۲)أسْمَعُ بُكَاءَ طِفْل

أَرَى آثارَ أَقْدَامٍ

اَشُمُّ رَائحةَ وردٍ .

(۳) صَانِعُ المَعْرُوفِ مَشْكُورٌ .

مَحْمُودُ الْخِصَالِ مَمْدُوحٌ

سَرِيعُ الْغَضَبِ مَذمُومُ

(۴)الْحَافِظا دُرُوسِهِما مَكَافَانِ

الْمُتَّقِنُو أَعْمَالِهِمْ رَابِحُونَ.

الْمُنْصِفُ النَّاسِ مَحْبُوبٌ

الْمَحِبُّ فِعَلَ الخَيْرِ سَعِيدٌ

( ٢ ) الْمُضَافُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّم: یاء متکلم کی طرف مضاف

إِذَا أُضِيْفَ الْاِسْمُ إِلى يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ كُسِرَ آخِرُهُ لِمُنَاسَبَةِ الْيَاءِ ، وَجَازَ فِي الْيَاءِ الْإِسْكَانُ وَالْفَتْحُ إِلَّا إِذَا كَانَ مَقْصُوراً، أَوْ مَنقُوصاً أَوْ مثَنّیٰ أَوْ جَمْعَ مُذَكَرٍ سَالِماً فَيَجِبُ تَسْكِيْنُ آخِرِ الْمُصَافِ وَفَتْحِ الْيَاءِ

جب کسی اسم کی یائے متکلم کی طرف اضافت کی جائے تو اس کے آخر کو یاء کی مناسبت کی وجہ سے کسرہ دیتے ہیں اور اس میں یاء کو ساکن کرنا اور فتحہ دینا بھی جائز ہے، مگر جب وہ مقصور ہو یا منقوص ہو، تثنیہ ہو یا جمع مذکر سالم ہو تو اس وقت مضاف کے آخر اور یاء کے فتحہ کو ساکن کر دینا واجب ہے۔

الأمثلة

(۱)قُمْتُ بنَصيبي مِنَ العَمَل أو بنصيبيَ

سموت بآدابی أَو بِآدَابِيَ

أَعْطِفُ عَلَى الْفَقِيرِ بِصَدَقَاتِي أَوْ بِصَدَقَاتِيَ

(۲)

إِن عَصَايَ لَجَمِيلَةٌ

كانَتْ لَيَالِي فِي السَّفَرِ مُقْمِرَةً .

أَنْتُمَا صَاحِبَايَ الوَفِيَّان .

هؤلاءِ مُنقذِيَّ من الضِّيقِ .

(۳) ما يُضَافُ إِلَى الجَمْلَةِ وُجُوباً وَجَوَازاً: وہ جن کا جملہ کی طرف مضاف ہو واجب یا جائز ہے

حَيْثُ وَإِذْ وَإِذَا ظُرُوفٌ مَبْنِيَّةٌ لَا تُضَافُ إِلَّا إِلَى الْجُمَلِ .

اسم الزَّمَانِ المُبْهَم مَا دَلَّ عَلَى وَقْتِ غَيْرِ مَحْدُودٍ وَيُضَافُ إِلَى الْجُمْلَةِ وَالْمُفْرَدِ، فَإِذَا أُضِيْفَ إِلَى الْجُمْلَةِ جَازَ إِعْرَابُهُ وَبِنَاؤُهُ عَلَى الْفَتح

حيث ، اذ اور اذا یہ ظروف مبنی ہیں یہ صرف جملے کی طرف ہی مضاف ہوتے ہیں۔

اسم زمان مبہم وہ ہے کہ جو غیر محدود وقت پر دلالت کرے ، اور وہ جملہ اور مفرد کی طرف مضاف ہو، پس جب اس کو جملہ کی طرف مضاف کیا جائے تو اس کو معرب پڑھنا بھی جائز ہے اور مبنی برفتحہ پڑھنا بھی۔

الأمثلة :

(۱)جَلَسْتُ حَيْثُ الْمَنْظُرُ جَمِيلٌ .

جَلَسْتُ حَيْثُ يَجْمُلُ الْمَنْظُرُ .

جَلَسْتُ حَيْثُ جَمُلَ الْمَنْظَرُ .

(۲) جئْتُ إِذِ الْمَطَرُ هَاطِلُ .

جِئْتُ إِذْ هَطَلَ الْمَطَرُ .

(۳)أُجِيبُكَ إِذَا دَعَوْتَني.

أَجِيبُكَ إِذَا تَدْعُونِي .

(۴)نَزَلَ المَطَر على حِينِ الْفَلاحُ قَائِط أو حِينَ .

هَذَا وَقْتُ يُكافأُ الْمُجِدُّونَ أو وقتَ

زُرْتُكَ فِي زَمَنِ فُزۡتَ فِي الْأَمْتِحَانِ أو زَمَنَ

16 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۵

مرکب اضافی

مرکب اضافی: دو اسموں کے ایسے مرکب کو کہتے ہیں جس میں پہلے اسم کی نسبت دوسرے اسم کی طرف کی گئی ہو، جیسے کتاب سعيدٍ، بيت خالدٍ -

مرکب اضافی کے پہلے اسم کو (جس کی نسبت دوسرےاسم کی طرف کی جارہی ہو)۔ مضاف اور دوسرے اسم کو (جس کی طرف نسبت کی گئی ہو ) مضاف الیه کہتے ہیں۔

(1) مضاف اور مضاف الیہ دونوں اسم ہوا کرتے ہیں۔

(۲) مضاف اسم نکرہ اور مضاف الیہ اکثر معرفہ اور کبھی نکرہ بھی ہوا کرتا ہے۔

(۳) مضاف پر ال اور تنوین نہیں آتی لیکن مضاف الیہ پر "ال" اور تنوین دونوں ہی آتے ہیں۔

(۴) مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوا کرتا ہے۔

(۵) اضافت میں مضاف سے تنوین ہی کی طرح اس کے نون جمع اور نون تثنیہ بھی گر جاتے ہیں۔ جیسے مسلمون الهند سے مُسْلِمُوا الْهِنْدِ اور كِتَابَانِ خَالِدٍ سے كِتَابا خَالِدٍ وغيرة

(۶) کبھی ایک ہی ترکیب میں کئی مضاف الیہ ہوتے ہیں جیسے بابُ بیتِ صدِيقِكَ، لَوْنُ قَلنْسُوةِ مَحْمُود، ایسی صورت میں درمیانی مضاف الیه چونکہ ما بعد کی طرف مضاف ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو جر (کسرہ) تو ہو گا مگر اس پر تنوین اور ال نہیں آئے گا۔

حاشیہ: کبھی مضاف الیہ جملہ میں بھی ہوا کرتا ہے۔ (جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ دونوں )

نوٹ: اضافت سے اسم میں تخصیص اور تعیین کے معنی پیدا ہو جاتے ہیں۔ مثلا: بیت خالدٍ میں اگر تم صرف لفظ ہیت کہو تو اس سے کوئی ایک غیر متعین ہی گھر مراد ہوگا۔ لیکن جب بیت کو مضاف بنا کر اس کی اضافت خالد کی طرف کر دو تو پھر بیت کی تعین ہو جائے گی اور اس سے ایک مخصوص گھر ( خالد کا گھر ) سمجھا جائے گا نہ کہ کوئی سا گھر۔

نوٹ: (۱) اردو میں مضاف الیہ پہلے ہوتا ہے اور مضاف بعد میں ہوتا ہے لیکن عربی میں اس کے بر عکس ہوتا ہے یعنی مضاف پہلے اور مضاف الیہ بعد میں جیسے کتابُ خالدٍ ( خالد کی کتاب ) ابنُ محمودٍ ( محمود کا بیٹا) وغیره۔

نوٹ: (۲) اردو میں اضافت کا ترجمہ " کا، کے ، کی" سے کیا جاتا ہے اور جب ضمائر کی طرف اضافت ہو تو ضمیر غائب کے لئے اس کا ضمیر مخاطب کے لئے تیرا اور ضمیر متکلم کے لئے میرا اور اپنے سے ترجمہ کیا جاتا ہے۔ مبتدی طلبہ ضمائر کے ترجمہ میں خصوصاً اپنا وغیرہ میں غلطیاں کرتے ہیں۔ مثلاً جب کہنا ہو کہ خالد اپنے گھوڑے پر سوار ہوا تو رکبَ خَالِدٌ فَرسَهُ کہا جائے گا لیکن اس کے بجائے میں اس کے گھوڑے پر سوار ہوا تو رَکِبتُ فَرسَہُ کہا جائیگا اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا کے لئے رَکبتُ فَرسِی کہا جائے گا۔

17 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۲

مضاف اور مضاف الیہ کی صفت

آپ پڑھ چکے ہیں کہ اردو کے برعکس عربی میں صفت اپنے موصوف کے بعد آتی ہے اور متصل ہی آتی ہے مگر جہاں ترکیب توصیفی و ترکیب اضافی ایک ساتھ جمع ہو جائیں اور مقصود مضاف کی صفت لانی ہو تو اس صورت مندرجہ بالا قاعدہ سے کچھ مختلف ہوتی ہے۔ بخلاف مضاف الیہ کی صفت کے ۔ کیونکہ مضاف الیہ کی صفت اس سے متصل ہی آتی ہے۔ اس لئے طالب علم کے لئے اس میں کوئی دشواری نہیں ہوتی ۔ اس کے برعکس مضاف کی صفت چونکہ مضاف سے متصلا نہیں آتی بلکہ مضاف الیہ کے بعد لائی جاتی ہے اور موصوف وصفت میں فصل ہو جاتا ہے۔اس لئے اکثر طلبا اس میں غلطیوں کا شکار ہوتے ہیں ذیل کی مثالیں پڑھیئے ۔

رِيشَةُ الْقَلَمِ الثمینِ (قیمتی قلم کا نب) مضاف الیہ کی صفت

رِیشَةُ الْقَلَمُ الثمینةُ ( قلم کا قیمتی نب) مضاف کی صفت ۔

پہلی مثال میں الثَمينُ ، قلم ( مضاف الیہ) کی صفت ہے اس لئے مذکر اور مجرور ہے اور دوسری مثال میں الثّمِينَةُ رِيشةُ مضاف کی صفت ہے اس لیے مونث اور مرفوع ہے کیونکہ رِیشۃُ مرفوع ہی ہے پھر چونکہ رِیشۃُ معرفہ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے معرفہ ہے۔ اس لئے الثّمِينَةُ کو بھی ال کے ذریعے معرفہ بنالیا گیا ہے۔ اس قاعدہ کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لیجئے۔ ترجمہ کرتے وقت حسب ذیل باتوں کو یادر کھیئے۔

(۱) سب سے پہلے مضاف و مضاف الیہ کا ترجمہ کر لینا چاہئے پھر مضاف کی صفت مضاف الیہ کے بعد لکھنی چاہیے۔

(۲) مضاف الیہ تو ہر حال میں مجرور ہی ہوتا ہے مگر مضاف کی صفت کا اعراب مضاف کے مطابق رہے گا۔

(۳) مضاف کی تذکیر و تانیث پر بھی غور کرنا چاہئے تا کہ صفت اس کے مطابق لکھی جاسکے نہ کہ مضاف الیہ کے مطابق۔

(۴) اضافت سے چونکہ اسم میں تخصیص و تعیین پیدا کرنی مقصود ہوتی ہے۔ اس لئے اسماء کی اضافت عموما معرفہ کی طرف کی جاتی ہے۔ اس طرح وہ اسم نکرہ اضافت کے بعد معرفہ بن جاتا ہے۔ لہذا اب اس کی صفت بھی معرفہ ہی لکھی جانی چاہئے۔

18 تیسیر النحو۔ سبق:۲۱

فصل المجرور بالمضاف

يكون الاسم مجرورا إذا سبقه المضاف، وكان ذلك الاسم مضافا إليه، نحو: هذا بيت - زيد ورجال، ومسلمات

("زيد" ورجال" و "مسلمات" مجرورات لكونها مضافة إليها وعلامة جرها الكسرة لكونها مفرد - منصرفا، وجمعا مكسرا، وجمع مؤنث سالما)

ونحو : هذا بيت عمر (عمر مجرور لكونه مضافا إليه، وعلامة جره الفتحة - لكونه غير منصرف)

ونحو: هذا بيت المسلمين، والمسلمين، وأخيك المسلمين" و "المسلمين" و"أخیک"- مجرورات لكونها مضافة إليها، وعلامة جرها الياء لكونها مثنى، وجمع مذكر سالماء واسما من الاسماء الستة)

والمضاف إليه:

هو اسم ينسب إليه اسم آخر قبله على تقدير حرف جر ، فالاسم الأول يسمی "مضافا" والثاني "مضافا إليه"

وحرف الجر المقدر يكون كثيرا " من " إذا كان المضاف إليه جنسا للمضاف، نحو: اشتريت خاتم فضة (التقدير: اشتريت خاتما من فضة) ويكون قليلا " في " إذا كان ظرفا له ، نحو: صليت صلاة الصبح (التقدير: صليت الصلاة في الصبح ويكون غالبا "اللام" في ما سوی المذكور، نحو: عندي كتاب زيد (التقدير : عندي كتاب لزيد)

تقسيم الإضافة:

عملية نسبة المضاف إلى المضاف إليه تسمى إضافة، وهذه الإضافة قسمان:

ا. معنوية

٢- ولفظية

فالإضافة المعنوية : ( وتسمى محضة أو حقيقية)

هي نسبة اسم لا يكون صفة عاملة ، إلى معرفة، أو نكرة، وتفيد تعريف المضاف عند إضافته إلى المعرفة، نحو: كتاب سليم عندي، وتخصيصه عند إضافته إلى النكرة، نحو: كتاب نحو عندي، هذا من جهة المعنى، ومن جهة اللفظ تخفيف المضاف بحذف التنوين ونون التثنية والجمع من لفظه ، فحذف التنوين من "كتاب" في المثالين المذكورين، ومثال حذف النونين: هذان كتابا سليم وهؤلاء مسلموا أمريكا.

والإضافة اللفظية : ( وتسمى غير محضة أو مجازية )

هي نسبة الصفة العاملة إلى معمولها (أي فاعلها أو مفعولها في المعنى) وتفيد التخفيف فقط بحذف التنوين أو نوني التثنية والجمع من لفظ المضاف عند وجودها فيه قبل الإضافة، نحو: هذا ناصر الضعيف تقديره هذا ناصر الضعيف) وهذان مطيعا الأب (تقديره: هذان مطيعان أباهما) وهؤلاء مطيعو الأب (تقديره: هؤلاء مطيعون أباهم)

أحكام المضاف

المضاف يكون عادة نكرة، ويعرب حسب موقعه في الجملة، نحو: قلم خالد جميل (قلم: مبتدأ مرفوع وعلامة رفعه الضمة) وأخذت قلم خالد (قلم مفعول به منصوب وعلامة نصبه الفتحة) وكتبت بقلم خالد (قلم: مجرور بالباء، وعلامة جره الكسرة) يجرد المضاف من التنوين، ونوني التثنية والجمع في الإضافتين كما سبق. يجرد المضاف من "ال" في الإضافة المعنوية، وأما إذا كانت الإضافة لفظية فيجوز -

دخول "ال" على المضاف بشرط :

۱۔ أن يكون مثنى نحو: جاء المكرما سعد

٢۔ أو جمع مذكر سالما، نحو: جاء المكرمو سعد

۳۔ أو مضافاً إلى ما فيه ال، نحو: جاء الدارس النحو.

۴۔ أو مضافا إلى اسم مضاف إلى ما فيه "ال" نحو : جاء القاري كتاب الصرف -

المضاف في الإضافة اللفظية يستمر نكرة ولو أضيف الی معرفة ولذلک جاز وصف النكرة به نحو قوله تعالى: هذا عارض ممطرنا ( عارض موصوف نكرة، وقد وصف بالمضاف من الإضافة اللفظية لبقائه نكرة بعد إضافته )

يكتسب المضاف من المضاف إليه التذكير أو التأنيث فيعامل معاملته، بشرط أن يكون المضاف صالحا للاستغناء عنه، وإقامة المضاف إليه مقامه، نحو: قطعت بعض أصابعه وقرى أجزاء الكتاب (والأولى مراعاة المضاف فتقول: قطع بعض أصابعه، وقرئت أجزاء الكتاب)

لا يضاف اسم إلى مرادفه إلا إذا كانا علمين نحو محمد سعيد.

لا يضاف الموصوف إلى صفته وأما نحو: دار الآخرة، فهو على تقدير محذوف قد وصف بهذه الصفة، أي: دار الحياة الآخرة.

قد يكون في الكلام اسمان مضافان متماثلان في اللفظ والمعنى، و أحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الثاني منهما استغناء عنه بالأول نحو ما كل سوداء تمرة، ولا - بيضاء شحمة، أي: ولا كل بيضاء شحمة.

قد يكون في الكلام اسمان مضاف إليهما متماثلان في اللفظ والمعنى وأحدهما معطوف على الآخر، فيحذف الأول منهما استغناء عنه بالثاني ، نحو: جاء شقيق وشقيقة حسن، والأصل: جاء شقيق حسن وشقيقة حسن، لكن الأولى فيه : جاء شقيق حسن وشقيقته.

أحكام المضاف إليه :

المضاف إليه يكون إما اسما ظاهرا، أو ضميرا.

إذا كان المضاف إليه اسما ظاهرا فانه يكون دائما مجرورا، ويكون عادة معرفة نحو قلم الطالب عندي، وقد يقع المضاف إليه نكرة، نحو: قلم طالب عندي

إذا كان المضاف إليه ضميرا فإنه يكون متصلا بالمضاف، ويعرب في محل جر، نحو: أخذت كتابك (الكاف: ضمير متصل مبني على الفتح في محل جر مضاف إليه )

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها:

الأسماء بالنسبة إلى إضافتها وعدمها ثلاثة أنواع:

ا۔ نوع تجوز إضافته، وهو كثير.

۲۔ نوع تمتنع إضافته كالضمائر، والإشارات، والموصولات (سوى "أي" ) وأسماء الشرط والاستفهام (سوى "أي" أيضا)

۳۔ نوع تلزم إضافته إلى المفرد، أو الجملة، فمما تلزم إضافته إلى المفرد عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، وكل اسم يدل على جهة من الجهات الست مثل فوق، تحت وغيرهما، ومما تلزم إضافته إلى الجملة: إذ، إذا، حيث، وغيرها.

فصل المجرور بالمضاف (اضافت کے ذریعے مجرور)

اسم اس وقت مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے کوئی مضاف آئے، اور وہ اسم مضاف الیہ ہو۔ جیسے: "هَذا بيتُ زيدٍ"، "رجالٍ" اور "مسلماتٍ": یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر (زیر) کی علامت کسرة (زیر) ہے کیونکہ یہ مفرد منصرف (واحد) اور جمع مکسر (ٹوٹے ہوئے جمع) ہیں، اور جمع مؤنث سالم ہیں۔

اسی طرح: "هذا بيتُ عمرَ" (عمر مجرور ہے کیونکہ یہ مضاف الیہ ہے، اور اس کی جر کی علامت فتحة (زبر) ہے کیونکہ یہ غیر منصرف ہے)۔

اسی طرح: "هذا بيت المسلمين، المسلمين، وأخيك"۔ (یہ اسماء مجرور ہیں کیونکہ یہ مضاف الیہ ہیں اور ان کی جر کی علامت "ياء" ہے، کیونکہ یہ مثنى (دوہری) اور جمع مذکر سالم ہیں اور اسماء میں سے ہیں جو جر میں مخصوص قاعدہ رکھتے ہیں)۔

مضاف الیہ کی تعریف:

مضاف الیہ وہ اسم ہے جس کی طرف دوسرے اسم کی نسبت کی جائے، جیسے کہ اس سے پہلے کوئی مضاف ہو، اور اس میں حرف جر مقدر ہو۔ اس میں زیادہ تر "من"کا استعمال ہوتا ہے جب مضاف الیہ مضاف کی جنس ہو۔

مثالیں:

- اشتريتُ خَاتمَ فضةٍ (اس کا مطلب ہے: میں نے چاندی کی انگوٹھی خریدی)۔

- صليت صلاة َالصبحِ(اس کا مطلب ہے: میں نے صبح کی نماز پڑھی)۔

اضافت کی تعریف اور اقسام

اضافت وہ نسبت ہے جو مضاف کو مضاف الیہ سے جوڑتی ہے، اور یہ دو طرح کی ہوتی ہے:

اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

1- اضافت معنویہ (محضہ یا حقیقی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف کسی ایسے اسم کی طرف منسوب ہو جو عامل صفت نہ ہو، اور اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ:

اگر مضاف کو کسی معرفہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ بھی معرفہ بن جاتا ہے، جیسے:

"كتاب سليمٍ عندِي" (میرے پاس سلیم کی کتاب ہے) → "كتاب" معرفہ بن گیا۔

اگر مضاف کو کسی نکرہ اسم سے جوڑا جائے تو وہ مخصوص ہو جاتا ہے، جیسے:

"كتاب نحو عندي" (میرے پاس نحو کی ایک کتاب ہے) → "كتاب" نکرہ ہی رہا، مگر مخصوص ہوگیا۔

اس کا ایک اور فائدہ مضاف کا تخفیف (مختصر ہونا) بھی ہے، یعنی:

تنوین حذف ہو جاتی ہے، جیسے: "كتاب" (اصلاً "كتابٌ" تھا)۔

نون تثنیہ اور جمع حذف ہو جاتی ہے، جیسے:

"هذان كتابا سليم" (یہ دو کتابیں سلیم کی ہیں) → "كتابان" سے "نون" ختم ہو گئی۔

"هؤلاء مسلمو أمريكا" (یہ لوگ امریکہ کے مسلمان ہیں) → "مسلمون" سے "نون" ختم ہوگئی۔

2- اضافت لفظیہ (غیر محضہ یا مجازی)

یہ وہ نسبت ہے جس میں مضاف ایک عامل صفت ہوتا ہے، اور مضاف الیہ اس کا فاعل یا مفعول ہوتا ہے۔ اس میں صرف تخفیف کا فائدہ ہوتا ہے، نہ کہ معرفہ یا نکرہ بننے کا، جیسے:

"هذا ناصر الضعيف" → یعنی "هذا ناصرٌ الضعيف" (یہ کمزوروں کا مددگار ہے)۔

"هذان مطيعا الأب" → یعنی "هذان مطيعان أباهما" (یہ دونوں والد کے فرمانبردار ہیں)۔

"هؤلاء مطيعو الأب" → یعنی "هؤلاء مطيعون أباهم" (یہ لوگ والد کے تابع ہیں)۔

احکام المضاف (مضاف کے احکام)

مضاف عام طور پر نکرہ ہوتا ہے اور جملے میں اپنے محل کے مطابق معرب ہوتا ہے، جیسے:

"قلم خالد جميل" → "قلم" مبتدا ہے۔

"أخذت قلم خالد" → "قلم" مفعول بہ ہے۔

"كتبت بقلم خالد" → "قلم" مجرور ہے۔

مضاف ہمیشہ تنوین اور نون تثنیہ و جمع سے پاک ہوتا ہے۔

اضافت معنویہ میں مضاف پر "ال" داخل نہیں ہو سکتا۔

اضافت لفظیہ میں "ال" داخل ہو سکتا ہے، مگر چار شرائط کے ساتھ:

۱۔مثنی ہو، جیسے: "جاء المكرما سعد"۔

۲۔جمع مذكر سالم ہو، جیسے: "جاء المكرمو سعد"۔

۳۔ایسے اسم سے مضاف ہو جس میں "ال" ہو، جیسے: "جاء الدارس النحو"۔

۴۔ کسی ایسے اسم سے مضاف ہو جو خود کسی معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "جاء القاري كتاب الصرف"۔

اضافت لفظیہ میں مضاف نکرہ ہی رہتا ہے، چاہے معرفہ سے مضاف ہو، جیسے: "هذا عارض ممطرنا" → "عارض" نکرہ ہے کیونکہ یہ اضافت لفظیہ ہے۔

مضاف اپنے مضاف الیہ سے تذکیر و تانیث حاصل کرتا ہے، بشرطیکہ مضاف کے بغیر جملہ مکمل ہو سکتا ہو، جیسے:

"قطعت بعض أصابعه" → "بعض" مذکر ہے کیونکہ "أصابعه" مذکر ہے۔

"قرى أجزاء الكتاب" → "أجزاء" مونث ہے کیونکہ "الكتاب" مذکر ہے، مگر بہتر ہے کہ "أجزاء" کی تانیث کا لحاظ رکھا جائے اور یوں کہا جائے: "قرئت أجزاء الكتاب"۔

کسی اسم کو اس کے مترادف (ہم معنی) سے مضاف نہیں کیا جاتا، سوائے اگر وہ دونوں اعلام ہوں، جیسے: "محمد سعيد" (یہاں "محمد" اور "سعيد" دونوں اعلام ہیں)۔

موصوف کو صفت سے مضاف نہیں کیا جا سکتا، سوائے اگر کوئی محذوف مفہوم ہو، جیسے: "دار الآخرة" → اصل میں "دار الحياة الآخرة" تھا۔

دوسرے مضاف کا حذف:

جب کسی جملے میں دو مضافات ہوں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوں اور دوسرا مضاف پہلے پر معطوف ہو، تو دوسرا مضاف حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم پہلے مضاف سے واضح ہوتا ہے، جیسے: ما كل سوداء تمرة، ولا بيضاء شحمة"

اصل جملہ: "ما كل سوداء تمرة، ولا كل بيضاء شحمة": ہر سیاہ چیز کھجور نہیں ہوتی، اور ہر سفید چیز چربی نہیں ہوتی۔

پہلے مضاف کا حذف:

کبھی کسی جملے میں دو مضاف الیہ ہوتے ہیں جو لفظاً اور معنیً یکساں ہوتے ہیں اور ایک دوسرے پر معطوف ہوتا ہے، تو پہلا مضاف الیہ حذف کیا جا سکتا ہے کیونکہ اس کا مفہوم دوسرے مضاف الیہ سے واضح ہو جاتا ہے۔

مثال:

"جاء شقيق وشقيقة حسن" اصل جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقة حسن"

بہتر جملہ: "جاء شقيق حسن وشقيقته" : حسن کا بھائی اور بہن آئے۔

احکام المضاف إليه (مضاف الیہ کے احکام)

مضاف الیہ یا اسم ظاہر ہوگا یا ضمیر:

اگر اسم ظاہر ہو تو ہمیشہ مجرور ہوگا، جیسے: "قلم الطالب عندي"۔

نکرہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے: "قلم طالب عندي"۔

اگر ضمیر ہو تو مضاف سے متصل ہوگا اور محل جر میں ہوگا، جیسے: "أخذت كتابك" → "كتاب" کا مضاف الیہ "ك" (ضمیر) ہے۔

اضافہ کے اعتبار سے اسماء کی اقسام

وہ اسماء جو اضافت قبول کرتے ہیں → عام الفاظ، جیسے: "كتاب خالد"۔

وہ اسماء جن کی اضافت منع ہے → ضمائر، اسماء اشارہ، موصولات (سوائے "أي" کے)، اور اسماء شرط و استفہام (سوائے "أي" کے)۔

وہ اسماء جو لازمی اضافت رکھتے ہیں:

مفرد سے مضاف ہوتے ہیں: عند، لدى، كلا، كلتا، قبل، بعد، فوق، تحت وغیرہ۔

جملے سے مضاف ہوتے ہیں: إذ، إذا، حيث وغیرہ۔

19 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۵

كِتَابُ بلالٍ بلال کی کتاب۔

بَيْتُ الْإِمَامِ امام کا گھر

اس صورت میں پہلے جزء کو ”مضاف“ اور دوسرے جزء کو ”مضاف الیہ “ کہتے ہیں۔

مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہو گا خواہ اس کے آخر میں تنوین ہو جیسا کہ پہلی مثال میں ہے یا اس پر ”ال“ داخل ہو جیسا کہ دوسری مثال میں گذرا۔

مضاف پر ”ال یا تنوین نہیں آئے گی۔ بلکہ اس پر صرف ایک حرکت ہو گی جیسے : كتاب بلالٍ بلال کی کتاب

چنانچہ کتاب بلال یا الكِتَابُ بلالٌ کہنا غلط ہے۔ كِتَابُ مَنْ؟ کس کی کتاب اس مثال میں ” من مضاف الیہ ہے لیکن اس کے آخر میں کسرہ (زیر) نہیں ہے۔ حالانکہ ہم پڑھ چکے ہیں کہ مضاف الیہ ہمیشہ مجرور ہوتا ہے۔ اور جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عربی میں بعض کلمات ایسے ہیں جو ہمیشہ یکساں حالت میں رہتے ہیں۔ ان کے آخر میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ہے ایسے کلمات کو ”مبنی “ کہتے ہیں۔

عَلَى مَكْتَبِ الْمُدِير مدیر کی میز پر

اس مثال میں مکتب حرف جر علی کی وجہ سے مجرور ہے اور المدیرِ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔

۲۔ تحت: نیچے۔ یہ اپنے بعد آنے والے اسم کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کے بعد آنے والا اسم (مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے) مجرور ہوتا ہے جیسے :

تحت المكتب میز کے نیچے

تَحْتَ الْكِتَابِ کتاب کے نیچے

20 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱

مضاف الیہ ضمیر بھی ہو سکتا ہے، جیسے:

أَيْنَ ذَهَبَ أَخُوْكَ ؟تمہارا بھائی کہاں گیا ؟

مَارَأَيْتُ أَخَاكَ.میں نے تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔

مَا اسْمُ أَخيْكَ ؟تمہارے بھائی کا نام کیا ہے؟

اگر مضاف الیہ یائے متکلم ہو تو مضاف پر ہمیشہ ایک ہی حرکت رہے گی، جیسے:

يَدْرُسُ أَخِي بِالْجَامِعَةِ.:میرا بھائی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔

أَتَعْرِفُ أَخِي؟کیا تم میرے بھائی کو جانتے ہو؟

خُذِ العَنْوَانَ مِنْ أَخِي.: پتہ میرے بھائی سے حاصل کرلو۔

21 المفصل۔ سبق:

الإضافة

وإضافة الأسم للأسم على ضربين معنوية ولفظية. فالمعنوية ما أفاد تعريفاً كقولك دارعمرو، أو تخصيصاً كقولك غلام رجل ولا تخلو في الأمر العام من أن تكون بمعنى اللام كقولك مال زيد وأرضه وأبوه وابنه وسيده وعبده، أو بمعنى من كقولك خاتم فضة وسوار ذهب وباب ساج.

واللفظية أن تضاف الصفة إلى مفعولها في قولك هو ضارب يد وراكب فرس بمعنى ضارب زيداً وراكب فرساً؛ وإلى فاعلها كقولك زيد حسن الوجه ومعمور الدار، وهند جائلة الوشاح، بمعنى حسن وجهه ومعمورة داره وجائلوشاحهها. ولا تفيد إلا تخفيفاً في اللفظ والمعنى كما هو قبل الإضافة. ولاستواء الحالين وصف النكرة بهذه الصفة مضافة كما وصف بها مفصولة في قولك مررت برجل حسن الوجه وبرجل ضارب أخيه.

تجريد المضاف من التعريف:

وقضية الإضافة المعنوية ان يجرد لها المضاف من التعريف وما تقبله الكوفيون من قولهم الثلاثة الأثواب والخمسة الدراهم فبمعزل عند أصحابنا عن القياس واستعمال الفصحاء. قال الفرزدق:

فسما وأدرك خمسة الأشبار

وقال ذو الرمة:

ثلاث الأثافي والديار البلاقع

وتقول في اللفظية مررت بزيد الحسن الوجه، وبهند الجائلة الوشاح، هما الضاربا زيد، وهم الضاربو زيد. قال الله تعالى : " والمقيمي الصلاة، ولا تقول الضارب زيد، لأنك لا تفيد فيه خفة بالإضافة كما أفدتها في المثنى والمجموع وقد أجازه الفراء. وأما الضارب الرجل فمشبه بالحسن الوجه.

المضاف إلى ضمير متصل:

وإذا كان المضاف إليه ضميراً متصلاً جاء ما فيه تنوين أو نون وما عدم واحداً منهما شرعاً في صحة الإضافة . لأنهم لما رقضوا يوجد فيه التنوين أو النون أن يجمعوا بينه وبين الضمير المتصل جعلوا ما لا يوجد فيه له تبعاً فقالوا الضاربك والضارباتك والضاربي بالضارباتي، كما قالوا لضارباك والضارباك والضاربوك والضاربي كما قال عبد الرحمن بن حسان

أيها الشائمي ليحسب مثلي إنما أنت في الضلال تهيم

وقوله هم

الأمرون الخير والفاعلونه

مما لا يعمل عليه.

الإضافة إلى غير ومثل وشبه

وكل اسم معرفة يتعرف به ما أضيف إليه إضافة معنوية، إلا أسماء توغلت في إبهامها فهي نكرات وإن أضيفت إلى المعارف، وهي نحو غير ومثل وشبه. ولذلك وصفت بها النكرات فقيل مررت برجل غيرك ومثلك وشبهك ودخل عليها رب قال:

یا رب مثلك في النساء غريرة

اللهم إلا إذا شهر المضاف بمغايرة المضاف إليه كقوله عز وجل: " غير المغضوب عليهم"، أو بمماثلته.

أنواع الأسماء المضافة:

والأسماء المضافة إضافة معنوية على ضربين لازمة للإضافة وغير لازمة لها. فاللازمة على ضربين ظروف وغير ظروف. فالظروف نحو فوق وتحت وأمام وقدام وخلف ووراء وتلقاء وتجاه وحذاء وعند ولدن ولدى وبين ووسط وسوى ومع ودون. وغير الظروف نحو مثل وشبه وغير وبيد وقيد وقداً وقاب وقيس وأي وبعض وكل وكلا وذو مؤنثة ومثناء ومجموعة وأولو وأولات وقد وقط وحسب.

وغير اللازمة نحو ثوب وفرس ودار وغيرها مما يضاف في حال دون حال.

حكم أي:

وأي اضافته إلى اثنين فصاعداً إذا أضيف إلى المعرفة كقولك أي الرجلين وأي الرجال. عندك، وأيهما وأيهم وأي من رأيت أفضل وأي الذين لقيت أكرم. وأما قولهم أبي وايك كان شراً فأخزاه الله، فكقولك اخزي الله الكاذب مني ومنك وهو بين وبينك والمعنى أينا ومنا وبيننا. قال العباس بن مردس:

فأبي ما وأيك كان شراً فقيد إلى المقامة لا يراها

واذا أضيف إلى النكرة أضيف إلى الواحد والإثنين والجماعة كقولك أي رجل وأي رجلين وأي رجال، ولا تقول أيا ضربت وبأي مررت إلا حيث جرى ذكر ما هو بعض منه كقوله عز وجل: "أياً ما تدعوا فله الأسماء الحسنى" ولا ستيجابه الإضافة عوضوا منها توسيط المقحم بينه وبين صفته في النداء.

حكم كلا:

وحق ما يضاف إليه كلا أن يكون معرفة ومثنى أو ما هو في معنى المثنى، كقوله:

فإن الله يعلمني ووهباً ويعلم أن سيلقاه كلانا

وقوله:

إن للخير وللشر مدى وكلا ذلك وجه وقبل

ونظيره "عوان" بين ذلك". ويجوز التفريق في الشعر كقولك كلا زيد وعمرو.

وحكمه إذا أضيف إلى الظاهر أن يجري مجرى عصا ورحا، تقول جاءني كلا الرجلين ورأيت كلا الرجلين، ومررت بكلا الرجلين. وإذا أضيف إلى المضمر أن يجري مجرى المثنى على ما ذكر.

ومن العرب من يقر آخره على الألف في الوجهين.

حكم إضافة أفعل التفضيل:

وأفعل التفضيل يضاف إلى نحو ما يضاف إليه أي تقول هو أفضل الرجلين وأفضل القوم، وتقول هو أفضل رجل وهما أفضل رجلين، وهم أفضل رجال، والمعنى في هذا إثبات الفضل على الرجال إذا فضلوا رجلاً رجلاً واثنين اثنين وجماعة جماعة. وله معنيان: أحدهما أن يراد أنه زائد على المضاف إليهم في الخصلة هو وهم فيها شركاء، والثاني أن يؤخذ مطلقاً له الزيادة فيها إطلاقاً ثم يضاف لا للتفضيل على المضاف إليهم لكن لمجرد التخصيص، كما يضاف ما لا تفضيل فيه وذلك نحو قولك الناقص والأشج أعدلا بني مروان، كأنك قلت عادلا بني مروان. فأنت على الأول يجوز لك توحيده في التثنية والجمع وأن لا تؤنثه قال الله تعالى : " ولتجدنهم أحرص الناس على حياة"، وعلى الثاني ليس لك إلا أن تثنيه وتجمعه تؤنثه وقد اجتمع الوجهان في قوله عليه السلام ألا أخبركم بأحبكم إلي وأقربكم مني مجالس يوم القيامة أحاسنكم أخلاقاً الموطون أكنافاً الذينب يألفون ويؤلفون ألا أخبركم بأبغضكم إلي وأبعدكم مني مجالس يوم القيامة أساوئكم أخلاقاً الثرثارون المتفيهقون ". وعلى الوجه الأول لا يجوز أن تقول يوسف أحسن أخوته، لأنك لما أضفت الأخوة إلى ضميره فقد أخرجته من جملتهم من قبل أن المضاف حقه أن يكون غير المضاف إليه ألا ترى أنك إذا قلت هؤلاء إخوة زيد في عداد المضافين إليه، وإذا خرج من جملتهم لم يجز إضافة أفعل الذي هو هو إليهم، لأن من شرطه إضافته إلى جملة هو بعضها. وعلى الوجه الثاني لا يمتنع ومنه قول من قال لنصيب أنت أشعر أهل جلدتك كأنه قال أنت شاعرهم:

إضافة الشيء إلى غيره:

ويضاف الشيء إلى غيره بأدنى ملابسة بينهما كقول أحد حاملي الخشبة لصاحبه خذ طرفك وقال:

إذا كوكب الخرقاء لاح بسحرة

أضاف الكوكب إليهم لجدها في عملها إذا طلع وقال:

إذا قال قدني قال بالله حلفة لتغني عني ذا إنائك أجمعا

الملابسة له في شربه وهو الساقي اللبن.

امتناع إضافة الشيء إلى نفسه:

والذي أبوه من إضافة الشيء إلى نفسه أن تأخذ الأسمين المعلقين على عين أو معنى واحد كالليث والأسد وزيد وأبي عبد الله والحبس والمنع ونظائر هن فتضيف أحدهما إلى الآخر فذلك بمكان من الإحالة. فأما نحو قولك جميع القوم وكل الدراهم وعين الشيء ونفسه فليس من ذلك.

عدم جواز إضافة الموصوف إلى صفته:

ولا يجوز إضافة الموصوف إلى صفته ولا الصفة إلى موصوفها وقالوا دار الآخرة وصلاة الأولى ومسجد الجامع وجانب الغربي وبقلة الحمقاء على تأويل دار الحياة الآخرة وصلاة الساعة الأولى ومسجد الوقت الجامع وجانب المكان الغربي وبقلة الحبة الحمقاء وقالوا عليه سحق عمامة وجرد قطيفة وأخلاق ثياب وهل عندك جانبة خبر ومغربة خبر على الذهاب بهذه الأوصاف مذهب خاتم وسوار وباب ومائة لكونها ومحتملة مثلها ليلخص أمرها بالإضافة كفعل النابغة في إجراء الطير على العائذات بياناً وتلخيصاً لا تقديماً للصفة على الموصوف حيث قال:

والمؤمن العائدات الطير يمسحها ركبان مكة بين الغيل والسند

إضافة المسمى إلى اسمه وقد أضيف المسمى إلى اسمه في نحو قولهم لقيته ذات مرة وذات ليلة ومررت به ذات يوم داره ذات اليمين وذات الشمال وسرنا ذات صباح قال أنس بن مدركة الخثعمي:

عزمت على إقامة ذي صباح لأمر ما يسود من يسود

وقال الكميت:

إليكم ذوي آل النبي تطلعت نوازع من قلبي ظماء وألبب

وقالوا في نحو قول لبيد:

إلى الحول ثم اسم السلام عليكما ومن يبك حولاً كاملاً فقد اعتذر

وفي قول ذي الرمة :

داع يناديه باسم الماء مبغوم

وقوله:

تداعين باسم الشيب في متعلم

أن المضاف يعنون الأسم مقحم خروجه ودخوله سواء وحكوا هذا حي زيد وأتيتك وحي فلان قائم وحي فلانة شاهد وأنشدوا:

يا قر إن إباك حي خويلد قد كنت خائفة على الإحماق

وعن الأخفش إنه سمع إعرابياً يقول في أبيات قالهن حي رباح بإقحام حي والمعنى هذا زيد وإن أباك خويلداً وقالهن رباح ومنه قول الشماخ

و نفيت عنه مقام الذئب

أي الذئب .

إضافة أسماء الزمان والمكان:

وتضاف أسماء الزمان إلى الفعل قال الله تعالى : " هذا يوم ينفع الصادقين صدقهم، وتقول جئتك إذ جاء زيد، و آتيك : إذا احمر البسر، وما رأيتك منذ دخل الشتاء ومذ قدم الأمير. وقال:

حنت نوار ولات هنا حنت

وتضاف إلى الجملة الإبتدائية أيضاً كقولك أتيتك زمن الحجاج أمير، وإذ الخليفة عبد الملك. وقد أضيف المكان إليهما في قولهم اجلس حيث جلس زيد وحيث زيد جالس.

ومما يضاف إلى الفعل آية لقرب معناها من معنى الوقت قال:

بآية يقدمون الخيل شعثاً كان على سنابكها مداما

وقال آخر:

ألا من مبلغ عني تميماً بآية ما يحبون الطعاما

وذو في قولهم اذهب بذي تسلم واذهبا بذي تسلمان واذهبوا بذي تسلمون أي بذي سلامتك والمعنى بالأمر الذي يسلمك .

الفصل بين المضاف والمضاف إليه:

ويجوز الفصل بين المضاف والمضاف إليه بالظرف في الشعر من ذلك قول عمرو بن قميئة:

لله در اليوم من لامها

وقول درنا:

هما أخوا في الحرب من لا أخا له

وأما قول الفرزدق:

بين ذراعي وجبهة الأسد

وقول الأعشى:

إلا علالة أو بداهة سابح

فعلى حذف المضاف إليه من الأول استغناء عنه بالثاني وما يقع في بعض نسخ الكتاب من قوله:

فزججتها بمزجة زج القلوص أبي مزاده

فسيبويه برئ من عهدته.

حذف المضاف

وإذا امنوا الألباس حذفوا المضاف وأقاموا المضاف إليه مقامه وأعربوه بإعرابه والعلم فيه قوله تعالى:" واسأل القرية" لأنه لا يلبس أن المسؤول أهلها لا هي. ولا يقولون رأيت هندا يعنون رأيت غلام هند. وقد جاء الملبس في الشعر قال ذو الرمة:

عشية فر الحارثيون بعد ما قضى نحبه في ملتقى القوم هوبر

وقال:

بما أعي النطاسي حديما

أي ابن هوبر وابن حذيم. وكما أعطوا هذا الثابت حق المحذوف في الإعراب فقد أعطوه حقه في غيره قال حسان:

يسقون من ورد البريص عليهم بردى يصفق بالرحيق السلسل

فذكر الضمير في يصفق حيث أراد ماء بردي وقد جاء قوله عز وجل: " وكم من قرية أهلكناها فجاءها بأسنا بياتاً أو هم قائلون" . على ما للثابت والمحذوف جميعا.

وقد حذف المضاف وترك المضاف إليه في إعرابه في قولهم ما كل سواء ثمرة ولا بيضاء شحمة. قال سيبويه كأنك أظهرت كل فقلت ولا كل بيضاء قال أبو دؤاد:

أكل امرئ تحسبين امرأ ونار توقد بالليل نارا

ويقولون ما مثل عبد الله يقول ذلك ولا أخيه. ومثله ما مثل أخيك ولا أبيك يقولان ذاك. وهو في الشذوذ إضمار الجار.

حذف المضاف إليه:

وقد حذف المضاف إليه في قولهم كان ذلك إذ وحينئذ، ومررت بكل قائماً. وقال الله تعالى: " وكلاً آتينا حكماً وعلماً" وقال تعالى: " ورفعنا بعضهم فوق بعض درجات، وقال: "لله الأمر من قبل ومن بعد"، وفعلته أول يريدون إذ كان كذا وكلهم وبعضهم وقبل كل شيء وبعده وأول كل شيء.

حذف الإثنين:

وقد جاء المحذوفين معاً في نحو قول أبي دؤاد يصف البرق:

أسال البحار فانتحى للعقيق

وقول الأسود:

وقد جعلتني من حزيمة إصبعا

قال الفسوي أي أسال سقيا سحابه وذا مسافة إصبع.

حكم المضاف إلى ياء المتكلم:

وما أضيف إلى ياء المتكلم فحكمه الكسر نحو قولك في الصحيح والجاري مجراه غلامي ودلوي، إلا إذا كان آخره ألفاً أو ياء متحركاً ما قبلها أو واواً أما الألف فلا يتغير إلا في لغة هذيل في نحو قوله:

سبقوا هوي وأعنقوا الهواهم

وفي حديث طلحة رضي الله عنه: فوضعوا اللج على قفي، يجعلونها إذا لم يكن التثنية ياء، و يدغمونها. وقالوا جميعاً لدي ولديه كما قالوا علي وعليه وعليك. وياء الإضافة مفتوحة إلا ماجاء عن نافع محياي ومماتي وهو غريب. وأما الياء فلا تخلو من أن ينفتح ما قبلها كياء التثنية وياء الأشقين والمصطفين والمرامين والمعلين أو ينكسر كياء الجمع. والواو لا تخلو من أن ينفتح ما قبلها کالأشقون و أخواتہ أو یضم کالمسلمون والمصطوفون۔ فما انفتح ما قبلہ من ذلك فمدغم في ياء المتكلم ياء ساكنة بين مفتوحين، وما انكسر ما قبله من ذلك أو انضم فمدغم فيها ياء ساكنة بين مكسور مفتوح.

والأسماء الستة متى أضيفت إلى ظاهر أو مضمر ما خلا الياء، فحكمها ما ذكرنا. فأما إذا أضيفت إلى الياء فحكمها حكمها غير مضافة، أي تحذف الأواخر، إلا ذو فإنه لا يضاف إلا إلى أسماء الأجناس الظاهرة وفي شعر كعب:

صبحنا الخزرجية مرهفات آبار ذوي أرومتها ذووها

وھو شاذ

وللفم مجريان أحدهما مجرى اخواته وهو أن يقال فمي والفصيح فيَّ في الأحوال الثلاث. وقد أجاز المبرد أبيّ وأخيّ وأنشد:

وأبي مالك ذو المجاز بدار

وصحة محمله على الجمع في قوله:

وفديننا بالابينا

تدفع ذلك

22 تمارین

23 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۵

اَلتَّمْرِيْنُ (17)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) ضَوْءُ الْقَمَرِ

(2) ظَلاَمُ اللَّيْلِ

(3) فَصْلُ الْمَطَرِ

(4) شَاطِئُ النَّهْرِ

(5) جَمَالُ الطَّبِيْعَةِ

(6) آيَةُ اللهِ

(7) نَبَاتُ الْاَرْضِ

(8) سَنَامُ الْجَبَلِ

(9) غُصْنُ الشَّجَرِ

(10) تَغْرِيْدُ الطُّيُوْرِ

(11) حَدِيْقَةُ مَحْمُوْدٍ

(12) دَارُ غَنِيٍّ

(13) اِكْرَامُ الضُّيُوفِ

(14) خِدْمَةُ الدِّيْنِ

اَلتَّمْرِيْنُ (18)

مندرجہ ذیل الفاظ سے مرکب اضافی کے جملے بناؤ:

اَلْبَرْقُ، اَلْبَيْتُ، اَلْفِيْلُ ، رَمَضَانُ ، اَلْفَرَسُ ، اَلْحُجْرَةُ

اَلْكَاْسُ ، اَلْعَذْبُ ، اَلسَّقْفُ، اَللَّمْعَانُ ، اَلسَّيْرُ، اَلْجَنَاحُ

اَلْخُرْطُوْمُ ، اَلزُّجَاجُ ، اَلْعِنَانُ ، اَلْمَاءُ ، اَلْقِطَارُ ، اَلصَّوْمُ

اَلْبَابُ ، اَلطَّيْرُ

اَلتَّمْرِيْنُ (۱۹)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) تاروں کی چمک

(۲) سورج کی گرمی

(۳) آسمان کا رنگ

(۴) باغ کا منظر

(۵) پھولوں کی مہک

(۶) ہرن کا شکار

(۷) پرند کا گوشت

(۸) محمود کی بندوق

(۹) چاندی کی گھڑی

(۱۰) لوہے کا صندوق

(۱۱) رسول اللہ ﷺ کی تعلیم

(۱۲) اخلاق کی پاکیزگی

(۱۳) مومن کے ارادے

(۱۴) دین کا غلبہ

(۱۵) رب کی خوشنودی

اَلتَّمْرِيْنُ (۲۰)

(تثنیہ و جمع کی اضافت)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) يَدَا الطِّفْلِ

(2) عَيْنَاالظَّبْيِ

(3) جَنَاحَا الطَّيْرِ

(4) شَاطِئَاالنَّهْرِ

(5) رَاكِبُوْالسَّفِيْنَةِ

(6) قَاطِنُوالْجِبَالِ

(7) صَادِقُوْالْوَعْدِ

(8) مُعَلِّمُوْا الْمَدْرَسَةِ

(9) مِصْرَاعَاالْبَابِ

(10) عَجْلَتَاالدَّرَّاجَةِ

(11) مُحْسِنُوالْاُمَّةِ

(12) خَادِمُوْالدِّيْنَ

اَلتَّمْرِيْنُ (21)

مندرجہ ذیل الفاظ کی اضافت مناسب اسما کی طرف کرو:

(1) عَيْنَانِ

(2) اَلْعَقْرَبَانِ

(3) مَنَارَتَانِ

(4) لَابِسُونَ

(5) بَائِعُوْنَ

(6) اَلْمَدَارِسُ

(7) اَلْمُهَاجِرُوْنَ

(8) سَائِقُوْنَ

(9) اَلْاُذُنَانِ

(10) لَمْعَانٌ

(11) اَلسِّنَانُ

(12) اَلْمُسَافِرُوْنَ

اَلتَّمْرِيْنُ (22)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) مومن کی فراست

(۲) ایمان کی روشنی

(۳) کفر کی تاریکی

(۴) چیونٹی کی سمجھ

(۵) اونٹ کی گردن

(۶) ہاتھی کے دودانت

(۷) شترمرغ کی دوٹانگیں

(۸) ابراہیم علیہ السلام کے دونوں بیٹے

(۹) باپ کے اطاعت گزار (جمع)

(۱۰) خانہ کعبہ کے معمار (جمع)

(۱۱) مکہ کے دومسافر

(۱۲) مسجد نبوی کے زائرین

(۱۳) رسول اللہ (ﷺ) کے اصحاب

(۱۴) عہد کے پکے (پورا کرنے والے)

(۱۵) بات کے سچے (جمع)

(۱۶) مہمانوں کی تعظیم کرنے والے

(۱۷) اللہ کے رسول (جمع)

(۱۸) اخلاق کے معلم(جمع)

(۱۹) وطن کے پرستار (جمع)

(۲۰) دین کے دشمن(جمع)

اَلتَّمْرِيْنُ (23)

(مضاف الیہ جب کہ متعدد ہوں)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) خِصْبُ اَرْضِ الْهِنْدِ

(2) ثَرْوَةُ بِلاَدِ اَمْرِيْكَا

(3) لَوْنُ قَلَنْسُوَةِ مَحْمُوْدٍ

(4) ثَمَنُ عِقْدِ فَاطِمَةَ

(5) طُوْلُ مِنْشَفَةِ اَحْمَدَ

(6) نَسْجُ جَوْرَبِ حَامِدٍ

(7) صُوْفُ قُفَّازَي هِشَامٍ

(8) خَشْخَشَةُ قُبْقَابِ مَسْعُوْدٍ

(9) حَفْحَفَةُ جَنَاحَيِ الطَّيْرِ

(10) فَخۡفَخَةُ اَغْنِيَاءِ اَوَدۡه

(11) خَشَبَةُ مِصْرَاعَيِ الْبَابِ

(12) سَعْيُ مُحِبِّي الدِّيْنِ

(13) طَاعَةُ اَحْكَامِ الرَّسُوْلِ

(14) سِرُّغَلَبَةِ الْاِسْلَامِ

اَلتَّمْرِيْنُ (24)

عربی میں ترجمہ کرو:

(1) اللہ کے گھر کی عظمت

(2) نوح علیہ السلام کی کشتی کے سوار

(3) دیہات کے باشندوں کی زندگی

(4) ہندوستان کے کارخانوں کے مزدور

(5) انڈونیشیا کے مسلمانوں کی زبان

(6) عمر بن عبدالعزیز کا عدل

(7) گلاب کے پھول کی سرخی

(8) شعیب کے قلم کا رنگ

(9) کاریگر کے ہاتھ کی صفائی (تیزی)

(10) حسن کی گھڑی کا ڈائل

(11) دیوار کی گھڑی کی دو سوئیاں

(12) گھنٹے کے بجنے کی آواز

اَلتَّمْرِيْنُ (25)

(ضمیر کی طرف اضافت)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) رِيْشَةُ قَلَمِي

(2) قَوَائِمُ مِنْضَدَتِهِ

(3) صُفْرَةُ وَجْهِكَ

(4) صِدْقُ مَقَالَتِهِمْ

(5) مُعَلِّمُوْاَبْنَائِنَا

(6) شُعَرَاءُ بِلَادِكُمْ

(7) مَصَارَعَةُ اِبْنَيْكُمَا

(8) دُمْيَةُ بِنْتِهَا

(9) لَوْنُ خِمَارِكِ

(10) ثَمْنُ اَسْوِرَتِهِمَا

(11) حَذْقُ بَنَاتِكُنَّ

(12) سِيَاحَةُ زَوْجَيْكُمَا

(13) رِقَّةُ قُلُوْبِهِنَّ

(14) زُعَمَاءُ بِلَادِنَا

اَلتَّمْرِيْنُ (26)

عربی میں ترجمہ کرو:

(1) میرے باغ کا منظر

(2) تیرے گھر کی دیوار

(3) اس کے لڑکے کا گیند

(4) تم دو مردوں کی تیراندازی

(5) ان دو مردوں کی بہادری کا چرچا

(6) ہمارے ملک کی آب و ہوا

(7) تمہارے ملک کے سیّاح

(8) اس کے پازیب کی قیمت

(9) تیرے کان کی بالی

(10) تمہارے شوہروں کی شہادت

(11) ان عورتوں کے رونے کا اثر

(12) ان دو عورتوں کے بچوں کی تعلیم

(13) ان لوگوں کے علم کی شہرت

(14) ہمارے اسلاف کے کارنامے

اَلتَّمْرِيْنُ (27)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلصُّبْحُ الْمُسْفِرُ

(2) اَلشَّعْرُ الْفَاحِمُ

(3) بَيَاضُ الصُّبْحِ

(4) سَوَادُ الشَّعْرِ

(5) قَفْزُ الْوَلَدَيْنِ وَهَرْوَلَتُهُمَا

(6) سَاكِنُوْا الْبَادِيَةِ وَسَذَاجَتُهُمْ

(7) اَلْفَتَيَاتُ الْاَفْرَنْجِيَّاتُ وَسُفُوْرُهُنَّ

(8) زَئِيْرُ الْاَسَدِ

(9) اَلْحِمَارُ النَّاهِقُ

(10) اَلْكَلْبُ الْعَضُوضُ وَنَبَاحُهُ

(11) اَلْقِطُّ الْجَائِعُ وَمُؤَاؤُهُ

(12) اَلْقَلَمُ الْمُحَبَّرُ وَرِيْشَتُهُ

(13) عَقْرَبَا السَّاعَةِ وَمِيْنَاؤُهَا

(14) اَلْفَرَسُ الْجَامِحُ وَصَهِيْلُهُ

اَلتَّمْرِيْنُ (28)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) زمزم کا کنواں اور اس کا پانی

(۲) چاندی کی انگھوٹی اور اس کا نگینہ

(۳) مسجد کے دو منارے اور ان کی بلندی

(۴) عرب کے باشندے اور ان کی زبان

(۵) رسول اللہ (ﷺ) کے اصحاب اور ان کی سیرت

(۶) انبیاء کی بعثت اور ان کے پیغامات

(۷) اسلامی نظام اور اس کے محاسن

(۸) مغربی تہذیب اور اس کے نقصانات

(۹) انگریزوں کے سیاست اور ان کی چال بازی (ہوشیاری)

(۱۰) عربوں کی مہمان نوازی اور ان کے سخاوت۔

(۱۱) میری تلوار کی چمک اور اس کی دھار

(۱۲) تیری تلوار کا دستہ اور اس کی نیام

(۱۳) فاطمہ کی گڑیا اور اس کے کھلونے

(۱۴) احمد کا گیند اور اس کا لٹو

(۱۵) محمود کی سائیکل اور اس کے دونوں پہئے

(۱۶) دو موٹے بیل اور ان کا ڈکارنا

(۱۷) ایک خوبصورت گائے اور اس کی دونوں سینگیں

(۱۸) اونٹ کی گردن اور اس کے پائے

(۱۹) تیرے گھوڑے کی زین اور اس کی لگام

(۲۰) ہمارا دارالاقامہ اور اس کے کمرے

(۲۱) تیرے گھر کی چھت اور اس کی دیواریں

24 معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۲

التمرين:۱۳

مضاف الیہ کی صفت

ترجمہ کیجئے اور اعراب لگاتے :-

(1)ضوء المصباح الكهربائي ساطع .

(2)يكمل القمر في وسط الشهر العربي.

(3)حزن الناس بموت عالم جليل .

(4)نتيجة الامتحان السنوى حسنة.

(5)خرّيجو المدارس العربية همهم الدين.

(6)بنيان الجامعة القومية شامع.

(7)طلبة الكليات الانكليزية ملابسهم فاخرة.

(8)لكنؤ بلدة طيبة ذات حدائق جميلات ومنتزهات فسيحة .

(9)مشورة الناصح الأمين لا تردّ .

(10)تتغرد الطيور على غصون الأشجار الباسقة.

(11)رؤية المناظر البهيجة يودّها الشعراء .

(12)كان سحبان من خطباء الدولة الأموية.

(13)فلاح المجتمع البشرى في اتباع دين الله

(14) سياسة الحكومات الجمهورية تفسد على المرء دينه وخلقه .

(15)إن مسئلة الحياة الانسانية تعقدت اليوم.

(16) كأنهم أعجاز نخل خاوية ، فهل ترىٰ لهم من باقية

التمرين:۱۴

عربی میں ترجمہ کیجئے :

(1)عربی زبان کے قواعد زیادہ مشکل نہیں ہیں ۔

(2)مگر ابتدائی درجوں کے طلبا اسے مشکل سمجھتے ہیں ۔

(3)جسمانی ورزش کے فائدے بہت ہیں۔

(4)صفائی وستھرائی، پاکیزہ ذوق کی علامت ہے۔

(5)عربی مدارس کے طلباً صفائی کا زیادہ خیال نہیں رکھتے ۔

(6)محنتی طلبا کی کامیابی سے مجھے بے حد خوشی ہوئی ۔

(7)مسلسل جد و جہد اور پیہم کوشش کے منافع بے شمار ہیں۔

(8)برفستانی علاقے کے لوگ روئیں دار کھال پہنتے ہیں۔

(9)یہ قالین ایک ایرانی تاجر کی دوکان سے خریدا گیا تھا۔

(10)مغربی تہذیب کی تقلید ایک طرح کی لعنت ہے۔

(11)گمراہ قوموں کی تباہی کی داستان بڑی عجیب ہے ۔

(12)عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم بے خبر نہیں ہیں ۔

(13)آج دنیا اسلامی قوانین کی برکت سے نا آشنا ہے۔

(14)خلفائے راشدین کا عہد ایک مبارک وسعید عہد تھا۔

(15)میٹھے چشمے کا پانی اور گھنے درخت کا سایہ بھی عجیب نعمت ہے

التمرين۱۵

مضاف کی صفت

ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :

(1) يسكن محمود وأخوه الصغير في بيت صغير.

(2)أخي الأوسط أكبر من أخي الصغير بسنتين.

(3)النحلة لسعت الولد في أصبعه الوسطىٰ.

(4) انعقدت الحفلة في قاعة دار العلوم الواسعة.

(5)القنغر كا الأرنب رجلاه الخلفيتان أطول من رجليه الأماميتين .

(6)لا اله إلا هو يحي ويميت ، ربکم ورب آبائكم الاولين.

(7)أفرأيتم ما كنتم تعبدون، أنتم وأباؤکم الأقدمون.

(8)نار الله الموقدة التي تطلع على الأفئدة .

(9) الوردة المفتحة تعطر الهواء برائحتها الزكية.

(10) البعوضة بلسعاتها المؤذية وطنينها المبغض تحرم المرءلذةالكرى .

(11)إن المذياع من مخترعات العصر الحديث العجيبة.

(12) نظرية الاسلام السياسية غير نظرية الجمهورية والشيوعية

(13) كانت أحوال العرب الدينية كأحوالهم الاجتماعية فوضى بغير نظام.

(14) الشمس قبل أن تشرق بضيائها الباهر ترسل من أشعتها الخفيفة المختلفة الألوان .

(14) ھلمّ بنا تخرج إلى بعض ضواحي البلد القريبة لنتمتّع بمنظرهاالجميل و تنشق هواؤها العليل.

(16)وأنذار عشيرتك الأقربين واخفض جناحك لمن اتبعك من المؤمنين.

التمرين۱۶

عربی میں ترجمہ کیجئے :-

(1)اللہ کے نیک بندے راتوں کو جاگتے ہیں ۔

(2)فاطمہ اپنی درسی کتابوں کی بڑی حفاظت کرتی ہے ۔

(3)میرا چھوٹا بھائی درجہ سوم میں پڑھتا ہے ۔

(4)اسلم کا منجھلا بھائی ایک باکمال مقرر ہے ۔

(5)خالد گھر کی چھت سے گر پڑا ، اور اس کا بایاں پاؤں ٹوٹ گیا۔

(6)محمود کی سیاہ گائے بڑی دو دھاری ہے ۔

(7)دارالعلوم کے چھوٹے طلبا ٔ اردو تقریر کی مشق کرتے ہیں ۔

(8)ہندوستان کے پریشان حال کسان بھوکوں مرتے ہیں۔

(9)امرار اور اہلِ ثروت اپنی شاندار کوٹھیوں میں دادِ عیش دیتے ہیں ۔

(10)میری گھڑی کی چھوٹی سوئی نہ جانے کہاں گر گئی ۔

(11)جامع مسجد کا بلند منارہ دور سے نظر آتا ہے ۔

(12)شہر کی بڑی دوکانیں دس بجے کے بعد کھولی جاتی ہیں۔

(13)میں نے ایک فاختہ شکار کی اور اُس کو اپنے بڑے تیز چاقو سے ذبح کیا ۔

(14)رمضان کا مبارک مہینہ اور اُس کے آخری دس دن خاص طور پر بڑے خیر وبرکت کے ہیں۔

(15)اسلام کا اخلاقی نقطۂ نظر جمہوری واشترا کی نقطۂ نظر سے مختلف ہے ۔

(16) اسلام کی عادلانہ سیاست اور اس کا صالح نظام ہی انسانیت کو بچا سکتا ہے ۔

(17) انسان کا معاشی مسئلہ آج سب سے اہم مسئلہ بن گیا ہے ۔

التمرين۱۷

ترجمہ کیجئے اور اعراب لگائیے :۔

(مصير مدارس الهند العربية)

مدارس الهند العربية فى احتضار ، تلفظ نفسها الأخير، فان لم تداركها علما ؤها العاملون، ورجالها المخلصون لسوف يقضى عليها فمنها ما تعطلت ومنها ما اضطرب حبل نظامها الداخلى وتضعضع بنيانها وذلك لاسباب: فمن تلك الاسباب عدم حماية الدولة، ومنها قلة رغبة الناس في العلوم الدينية، وترك الجمهور مساعدتها و منها بعض النقص في منهاج الدرس، ونظامها التعليمي، ومنها أن الهند بعد ما خرجت من أيدى الانكليز الغلابة، ونالت حريتها المرجوة ثم وقع فيها ما وقع من الاضطرابات الهائلة المؤلمة أضطر كثير من المسلمين إلى أن يغادروا موطنهم القديم وديارهم العزيزة، فحرمت المدارس من كثير من أولئك المتبرعين الذين كان يعنيهم تعليمها الديني لعنا يتهم بشئون المسلمين الدينية والخلقية.ولا أرى اليوم أن حكومة الهند اللادينية ستمتع بحمايتها مدارسها الدينية، فعلى مسلمي الهند و محبى الدين خاصة أن يقوموالھا ويبذلوا في سبيلها جهدهم المستطاع لعل الله يحدث بعد ذلك أمرًا.والمدارس في أرجاء الهند الواسعة كثيرة تحتاج إلى تعيير وإصلاح كبير في نظام التعليم ومنهاجها العقيم لو أتاح الله للقائمين بها إصلاحها وما ذلك على الله بعزيز۔

التمرين۱۸

عربی میں ترجمہ کیجئے :۔

ہندوستان کی اردو زبان ایک ترقی یافتہ زبان ہے ۔ ہندوستان کا ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ فرد اس کو بولتا اور سمجھتا ہے ۔ رہے اس کے علمی اور سیاسی مصطلحات تو اس کے سمجھنے والوں کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ، مگر آج وطن کی سیکولر (لادینی) حکومت اسے دیس نکالا دے رہی ہے۔

بعض لوگ اس کا جرم یہ بتاتے ہیں کہ اُردو مسلمانوں کی قومی زبان ہے، کیوں کہ اس میں بہت سے عربی و فارسی کے الفاظ پائے جاتے ہیں، اس کا فارسی رسم خطہ ہندی کے سنسکرت رسم خط سے میل نہیں کھاتا، اور یہ کہ اس سے مسلمانوں کی اسلامی ثقافت کی بو آتی ہے جو ہندوستان کی قدیم تہذیب کی ضد ہے اور اس کی سیکولر حکومت کے منافی ہے۔

25 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۹

التمرين (۱)

بين المضاف والمضاف اليه في الجمل الاتية

۱۔ سور الحديقة مرتفع

۲۔ كتاب على مفيد

۳۔ اذنا الحصان صغيرتان

۴۔ نهضة الوطن برجال الامة

۵۔ ركبت سيارة حسن

۶۔ شاهدت هرمی مصر

۷۔ الحلم سيد الاخلاق

۸۔ كثر بائعو الصحف

۹- فحص الطبيب عن رئتي المريض

۱۰۔ شاهدت جمل المحمل

التمرين (۲)

اجعل الاسماء الآتية مضافة الى اسماء تناسبها في جمل مفيدة

جموح ، زئير ، مفتاح، جميل ، سنام

خرطوم ، شاطئان ، جناحان، نابان ، کتابان

ذراعان ، قلمان ، عقربان ، مهندسون، مهاجرون

مهذبون ، مجتهدون ، ناجحون ، غارقون ، خادمون

التمرين (۳)

كون من الاسماء الآتية مضافا ومضافا اليه ثم ضعهما في جمل تامة

الاسد ، غضن ، خياطون ، تغريد، البحر

عنان ، العين، انیاب، الحجرة ، الكتاب

العصفور ، الفرس، انسان ، قمة، الشجرة

باب ، ماء ، الجبل، الملابس ، غلاف

التمرين (۴)

(۱) كون ثلاث جمل اسمية يكون المبتداء فيها مضافا۔

(۲) كون ثلاث جمل اسمية یکون الخبر فيها مضافا۔

(۳) كون ثلاث جمل فعلية يكون الفاعل فيها مثنى مضافا۔

(۴) كون ثلاث جمل فعلیۃ یکون المفعول به فيها جمع مذكر سالما مضافا۔

(۵) كون ثلاث جمل فعلیۃ تشتمل على مثنى مجرور بحرف جر وهو مضاف۔

التمرين (۵)

(۱) كون جملة يكون خبر ليس فيها مضافا والمضاف اليه جمع مذكر سالما۔

(۲) كون جملة يكون خبر ان فيها مضافا والمضاف اليه مثنی۔

التمرين فی الإنشاء(٦)

اجب عن الاسئلة الآتية بجمل تامة تشتمل كل منها على مضاف ومضاف اليه:

۱۔ لِمَ يكثر الرمدفى مصر ؟

۲۔ ما الذي يقوى الرئتين؟

۳۔ ما الواجب قبل الأكل وبعده؟

۴- ما الذى يسبب العدوى وانتقال الامراض؟

۵۔ ما فائدة الالعاب الرياضية؟

۶۔ ما فائدة الاستحمام؟

۷- ما فائدة التنزه ؟

تمرین فی الأعراب (۷)

(الف) نموذج

يسير الناس على جانبي الشارع

يسير ....... فعل مضارع مرفوع بالضمة

الناس ..... فاعل مرفوع بالضمة

على ...... حرف جر مبنى على السكون

جانبی....... مجرور بعلى وعلامة جره الياء لأنه مثنى

الشارع ………. مضاف اليه مجرور بالكسرة

(ب) أعرب الجمل الآتیۃ:

(۱) نابا الفيل طويلتان۔

(۲) بات الناجحون ناعمى البال۔

(۳) إن تعليم الفتيات أساس سعادة الأمة۔

26 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۵

التمرين (۱)

بين كُلَّ مُضَافٍ وَمُضَافٍ إِلَيْهِ، وَمَيِّزِ الْإِضَافَاتِ الْمَعْنَوِيَّةَ فِي الدُّعَاءِ الْآتِي.

دَعَا أَعْرَابِي رَبَّهُ فَقَالَ يَا عِمَادَ مَنْ لا عِمَادَلَهُ، وَيَا رُكْنَ مَنْ لَا رُكْنَ لَهُ، وَيَا مُجِيرُ الضَّعْفَى، وَيَا مُنْقِذَ الْهَلْكٰی، وَيَا عَظِيمَ الرَّجَاءِ ، أَنْتَ الَّذِي سَبَّحَ لَكَ سَوَادُ اللَّيْلِ وَبَيَاضُ النَّهَارِ وَضَوْءُ الْقَمَرِ وَشُعَاعُ الشَّمْسِ وَحَفِيفُ الشَّجَرِ، اللَّهُمَّ إِنَّكَ مُعِينُ الْمُتَّكِلِينَ عَلَيْكَ، أَنْتَ شَاهِدُهُمُ وَالْمُطَّلِعُ عَلَى ضَمَائِرِهِمْ، سِرِّى لَكَ مَكْشُوفٌ، وَأَنَا إِلَيْكَ مَلْهُوفٌ إِذَا أَوْحَشَتنِي الْغُرْبَةُ آنسَنِی ذِكْرُكَ، وَإِذَا أَكَبَّت عَلَى الْغَمُومُ لَجَأْتُ إِلَى الْإِسْتِجَارَةِ بِكَ عِلْمًا بِأَنَّ أَزِمَّةَ الْأُمُورِ كُلِّهَا بِيَدِكَ، وَمَصْدَرَهَا عَنْ قَضَائِكَ۔

التَّمْرِينُ (۲ )

مَيِّزِ الْإِضَافَةَ اللَّفْظِيَّةَ مِنَ الْإِضَافَةِ الْمَعْنَوِيَّةِ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ.

(۱) حُبُّ الثَّنَاءِ طَبِيعَةُ الْإِنْسَان

(۲) كَثُرَ سَائِقُوا السَّيَّارَات

(۳) سَاقَا النَّعَامَةِ طَوِيلَتَان

(۴) عَوَاقِبُ الْمَكَارِهِ مَحْمُودَۃ

(۵) الْمَظْلُومُ مُسْتَجَابُ الدُّعَاء

(۶) آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ

(۷) الشَّجَرَةُ مُوْرِقَةُ الْأَغْصَانِ

(۸) الْفِيلُ عَظِيمُ الْجُثّةِ

(۹) لَا تَتَكَلَّم مِنْ قَبْلِ أَنْ تُفَکِّرَ

(۱۰) آفَةُ الْعَدْلِ مَيْلُ الْوُلاةِ

التَّمْرِينُ (۳)

بَيِّن فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ كُلَّ مُضَافِ اسْتَفَادَ التَّعْرِيفَ، وَكُلَّ مُضَافِ اسْتِفَادَالتَّخْصِيصَ، وَكُلَّ مُضَافٍ لَمْ يَكْتسِب بِالْإِضَافَةِ شَيْئًا مِنْهُمَا.

(۱) فِي الْحُجْرَةِ خِزَانَتَا كُتُب

(۲) نَهْرُ النِّيْلِ مِنْ أَطْوَلِ الْأَنْهَارِ

(۳) سَرِيعُ الْغَضَبِ كَثِيرُ الزَّلَل

(۴) حَارِسا الْبُسْتَانِ قَوِيَّانِ

(۵) كَثۡرَةُ الطَّعَامِ تُفْسِدُ الْأَبْدَان

(۶) فَاعِلُ الشَّرِّ يَلْقَى الشَّرَّ

التَّمْرِينُ (۴)

بَيِّن فِي الْجُمَلِ الْآتِيَةِ كُلَّ مُضَافٍ يَمْتَنعُ دُخُولُ أَلْ عَلَيْهِ، وَكُلُّ مُضَافٍ يَجُوزُ أَنْ يَقْتَرِنَ بِهَا،وَبَيِّنِ السَّبَبَ.

(۱) تغرَسُ الْأَشْجَارُ عَلَى ضَفَّتَي النَّهْر

(۲) مُثِيرُو الْفِتَنِ مُبْغَضُون

(۳) الثَّلُوجُ فَوْقَ قِمَمِ الْجِبَال

(۴) يَنْهَضُ الْوَطَنُ بِأَبْنَائِه

(۵) ثروَةُ مِصْرَ مِنْ زَارِعِي أَرْضِهَا

(۶) الْمَرْءُ بِقَلْبِهِ وَلِسَانِهِ

(۷) شَاهِدَا الْحَادِثِ حَاضِرَانِ

(۸) لا تَثِقۡ بِمَادِ حِيكَ فِي وَجْهِكَ

التمرين (۵)

اجْعَلِ الْمُضَافَ وَالْمُضَافَ إِلَيْهِ فِيمَا يَأْتِي مُثَنَّبَيْنِ، ثُمَّ مَجْمُوعَيْنِ، وَادْخِلۡهُمَا بَعْدَ التَّثْنِيَةِ وَالْجَمْعِ فِي جُمَلٍ مُفِيدَةٍ ، ثُمَّ بَيِّنۡ كُلَّ مُضَافٍ يَجُوزُ اقْتِرَانُهُ بِأَل.

(۱) خَادِمُ وَطنه

(۲) سَائِقُ السَّيَّارَة

(۳) مُحِبُّ نَفْسِه

(۴) مُنقِذُ الْغَرِيق

(۵) غِلاف الْكِتَاب

(۶) عُنق الْجَمَل

(۷) فِنَاءُ الدَّارِ

(۸) حَامِلُ الْعِلْمِ

(۹) قَائِدُ الْجَيْش

التَّمْرِينُ (۶)

ضَع الْمُضَافَ إِلَيْهِ فِي الْأَمْكِنَةِ الْخَالِيَةِ.

۱) أَقَمْتُ حَيْثُ۔۔

(۲) سَافَرْتَ إِذْ .۔۔

(۳) أَجِبنِي إِذَا .۔۔۔۔

(۴) تَكَلَّم حَيْثُ۔۔۔۔

التَّمْرِينُ (۷)

عَيِّن مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ مَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مُضَافَاً إِلَى "حَيْثُ"، وَمَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مُضَافاً إِلَى" إِذْ " وَمَا يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ مُضَافَاً إِلَى "إِذَا" ، ثُمَّ اسْتَعْمِلهَا مُضَافَةً إِلَى هَذِهِ الظُّرُوفِ.

(۱) الْحَرُّ شَدِيد

(۲) أَظْلَمَ الْجَوّ

(۳) تَثورُ الْعَوَاصِفُ

(۴) تَفَتَّحَتِ الْأَزْهَارُ

التَّمْرِينُ (۷)

بَيِّن فِي ای الْأَمْثِلَة الْآتِيَة يَجُوز إِعْرَاب اِسْم الزَّمَان وَبِنَاؤُهُ عَلَى الْفَتْحِ وَاذْكُرِ السَّبَب.

(۱) سَاعَدۡتَنِي فِي وَقْتِ الشَّدَائِد

(۲) تَيَقَّظتُ عَلَى حِيْنَ أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ

(۳) مَضَى زَمَن يُبَاعُ الرَّقِيق

(۴) سَرَقَ اللصُّ فِي وَقْتِ الْفَجَر

(۵) هَذَا أَوَان يُزْرعُ الْقَصَبُ .

(۲) يَشْتَدُّ الْبَرَدُ فِي زَمَنِ الشَّتَاءِ

(۷) هَذَا يَوْمَ يَنْفَعُ الْجِدُّ

(۸) بِعْتُ فِي يَوْمِ ارْتِفَعَ السِّعْرُ

التمرين(۹)

فِي أَي الْأَمْثلَةِ الآتیۃ يَجُوزُ فِي يَاءِ الْمُتَكَلِّمِ التَّسْكِين وَالْفَتْحُ؟ وَفِي أَيها يَجِبُ الْفَتْحُ بَيِّنِ السَّبَبَ فی الحالین.

(۱) هَؤُلَاءِ إِخْوَانِي الْمُهَذَّبُونَ۔

(۲) أُطِيعُ وَالِدَيَّ وَجَمِيعَ مُعَلِّمِي۔

(۳) عِدَايَ لَهُمْ فَضْلٌ عَلی۔

(۴) أَخُوكَ هَادِيّ إِلَى الْخَيْر

(۵) عَيْنَايَ قَوِيَّتا الْأَبْصَارِ

(۶) سِوَايَ يَهَابُ الْمَوْتُ .

(۷) ذِرَاعَایَ مَفْتُولَتَانِ

(۸) أَنْتَ مُرْشِدِى إِلَى الْخَيْرِ

التمرين (۱۰)

اجْعَلُ كُلَّ كَلِمَةٍ مِنَ الْكَلِمَاتِ الْآتِيَةِ مُضَافَاً إِلَيْهِ فِي جُمْلَةٍ تَامَةٍ.

الْبَابُ،السُّكَّرُ،النيل،الْكِتَابُ،الْأَشْجَارُ

الْوَردُ،الشَّمْسُ،الْمَنْزِلُ ، الاسد،الْفَاكِهَةُ

التمرين (۱۱)

كوِّن مِنْ كُلِّ اسْمَيْنِ مِنَ الْأَسْمَاءِ الْآتِيَةِ مُضَافًا وَمُضَافًا إِلَيْهِ، ثُمَّ ضَعهُمَا فِي جملَةٍ تَامَةٍ.

نقيق،شاطئان،فَاتِحٌ،الضِّفْدَعُ،النَّهْرُ

الْجَمَلُ،مِصْرُ،ضُيُوفُهُمْ،سَنَامُ،الْمُكْرمُونَ

التَّمُرِينُ (۱۲)

(۱) كون أربع جمل إسمية،المبتدأ فى كل منها مضاف عُرف بالمضاف إليه

(۲) كون أربع جمل إسمية، الخبر فى كل منها مضاف خصص بالمضاف إليه

(۳) كون أربع جمل فعلية المفعول به في كل منها مضاف لا يكتسب بالإضافة تعريفاً ولا تخصيصاً

( ٤ ) كون أربع جمل يشتمل كل منها على مصدر مؤول مضاف إليه

( ٥ ) كون أربع جمل يشتمل كل منها على مضاف مقترن بأل، واستوف جميع المواضع التي يجوز أن يقترن فيها المضاف بأل

التمرین (۱۳)

(۱) هات أربعة أمثلة للمضاف إلى ياء المتكلم التي يجوز إسكانها وفتحها وأربعة أخرى للمضاف إلى المتكلم التي يجب فتحها

(۲) هات ثلاثة أمثلة يشتمل كل منها على ظرف لا يضاف إلا إلى الجملة ، ثم ثلاثة أسماء للزمان المبهم ، واجعل كلاً منها مرة مضافاً إلى مفرد ، ومرة مضافاً إلى جملة في عبارة تامة

تَمْرِينٌ فِي الْأَعْرَاب (۱۴)

(۱) نموذج

حَضَرْتُ عَلَى حِيْنَ انْصَرَفْتَ.

حَضَرْتُ ..... فِعْلٌ مَاضٍ وَفَاعِلٌ.

على ..... حَرْفُ جَرٍّ.

حينَ ... اسْمُ زَمَانٍ مُبْهَم مَبنِي عَلَى الْفَتْحِ فِي مَحَلِّ جَرٍ وَهُوَ مُضَافٌ.

انْصَرَف ..... فِعْلٌ وَفَاعِلٌ وَالْجُمُلَةُ فِي مَحَلِّ جَرٍ مُضَاف إِلَيْهِ.

(ب) أَعْرِبِ الامثلۃَالْآتِيَةَ

(۱) مُھمِلُو وَاجِبِهِمْ مَلُومُون

(۲) فَاضَ النِّيلُ عَلَى حِيْنَ يَئِسۡنَا

(۳) أَنْتَ يُمُنَايَ الَّتِي أَبْطِشُ بِهَا

(۴) اجْلِسُ حَيْثُ أَرَدْتَ

التَّمُرِينُ (۱۵)

اشْرَحِ الْبَيْتَ الْآتِي وَبَيِّنۡ فِيهِ كُلَّ مُضَافٍ وَمُضَافٍ إِلَيْهِ.

وَالنَّفْسُ رَاغِبَةٌ إِذَا رَغَّبۡتَهَا وَإِذَا تُرَدُّ إِلَى قَلِيلٍ تَقْنَعُ

27 تیسیر النحو۔ سبق:۲۱

أسئلة

۱۔ كم قسما للمجرورات ؟ اذكرهما مع التمثيل.

۲۔ عرف المجرور بحرف الجر مع الأمثلة.

۳۔ اذكر سبعة عشر حرف جر.

۴۔ عرف المجرور بالمضاف مع الأمثلة.

۵۔ عرف المضاف إليه والمضاف مع الأمثلة.

۶۔ عرف كلا من الإضافة المعنوية واللفظية مع التمثيل.

۷۔اذكر أحكام المضاف مع التمثيل لكل حكم .

۸۔اذكر أحكام المضاف إليه مع التمثيل لكل حكم.

۹۔ كم نوعا للأسماء باعتبار إضافتها وعدمها ؟

تمرينات

ا: عين فيما يأتي المضاف والمضاف إليه وبين نوع الإضافة وما حدث في المضاف بسبب الإضافة.

تغرس الأشجار على جانبي الطريق ، قاري كتب الأدب يرقى أسلوبه، تخير زميلا مخلص المودة، مامون العثرات، عندي خزانتا كتب، مرتل القرآن يؤثر في النفوس، مذيع نشرة الأخبار يحسن تقديمها، إن الله فالق الحب والنوى، حسن العمل في الحاضر عظيم القدر في المستقبل، المؤديا الواجب محبوبان عند الناس، المرشد و الناس إلى أمور دينهم محبوبون عند الله.

۲۔ ضع كل اسم من الأسماء الآتية مضافا إليه في جملة من إنشائك:

الكتاب المدرسة، الأشجار، الصديق.

۳۔ هات ثلاثة أمثلة للإضافة المعنوية.

۴۔ هات ثلاثة أمثلة للإضافة اللفظية.

۵۔ مثل لما يأتي في جمل تامة.

إضافة معنوية حذف من مضافها نون التثنية

إضافة لفظية دخلت على مضافها "ال"

مضاف اكتسب من المضاف إليه التذكير

مضاف اكتسب من المضاف إليه التأنيث

28 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

29 مشقی سوالات

اس سبق سے بے ترتیب دس سوالات۔ جواب دیں، فوراً نتیجہ دیکھیں اور نئے سوالات کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔

134 سوالات اس سبق میں