تمام موضوعات

منصوب اسماء

منادی دیگر کتب میں

3 عبارات

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳)

المنادى: اسم يُذْكَرُ بَعْدَ "يَا" أو إِحْدَى أَخَوَاتِهَا طَلَبًا لإِقْبَالِ مَدْلُولِهِ.

يُنْصَبُ المُنَادَى إِذَا كَانَ مُضَافًا، أَوْ شَبِيهًا بِالْمُضَافِ، أَوْ نَكِرَةً غَيْرَ مَقْصُودَةٍ.

يُبْنَى المُنَادَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِهِ إِذَا كَانَ نَكِرَةً مَقْصُودَةً، أَوْ عَلْمًا مُفْرَدًا، وَالمُرَادُ بِالمُفْرَدِ هُنَا مَا لَيْسَ مُضَافًا وَلَا شَبِيهًا بِالمُضَافِ.

منادی وہ اسم ہے جسے یاء یا اس کے اخوات کے ذریعے متوجہ کیا جائے۔

منادی اگر مضاف ، شبه مضاف یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو منصوب ہوگا اور اگر نکرہ مقصودہ یا علم مفرد ہو تو علامت رفع پر مبنی ہو گا۔ یاد رہے کہ یہاں مفرد سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ شبہ مضاف۔

الامثلة

باقی عبارت پڑھیں (18)

(۱) يَا صَلاحَ الدينِ .

(۲) يَا حَارِسَ البُسْتَانِ .

(۳) يَا بَائِعَ التينِ

(۴) يَا مُسَافِرًا إِلَى لبْنَانَ .

(٥) يا لاهياً عن دَرْسِهِ

(٦) يا ضائعًا كتابه

(۷) يا مسرعًا في العجلة الندامة .

(۸) يا ظالمًا تَبَصر في العواقبِ.

(۹) يا شَامِتًا إِنَّ الدَهْرَ خَوَانٌ .

(١٠) يا رجالُ أَتقِنُوا أعمالكم .

(۱۱) يا فَتَيَانِ لا تَعبثا بالأزهار .

(۱۲) يا لاعبون استريحوا .

(۱۳) يا خليلُ .

(١٤) یا حَسَنَانِ .

(١٥) يا مُحَمَّدُونَ

لنک

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۰

فصل المنادى

المنادى هو الاسم الظاهر المطلوب إقباله بأحد أحرف النداء " نحو: يا عبد الله، ويا محمد.

وأحرف النداء سبعة وهي:

(۱) أي

(۲) الهمزة للمنادى القريب

(۳) أيا

(٤) هيا

باقی عبارت پڑھیں (171)

(٥) آ: للمنادي البعيد

(٦) يا لكل منادى

(۷) وا: للندية

ولا ينادى لفظ الجلالة "الله" و المستغاث به، وأي، وأية إلاب "يا" كما لا يقدر عند الحذف غيرها.

المنادى نوعان

منصوب، ومبني في محل نصب

ينصب المنادى إذا كان مضافا، أو شبيها بالمضاف أو نكرة غير مقصودة ويعتبر المنادى في هذه الحالات منصوبا بحرف النداء النائب عن ( فعل النداء) المحذوف وجوبا نحو : يا عبد الله اسمع عبد منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه مضاف واحد منصرف صحيح ويا طالبي العلم اجتهدوا (طالبي: منادى وعلامة نصبه الياء لأنه مضاف جمع مذكر سالم) ويا طالعا جبلا أقبل طالعا: منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه شبيه بالمضاف واحد منصرف صحيح) ويا رجلا خذ بيدي رجلا منادى منصوب وعلامة نصبه الفتحة لأنه نكرة غير مقصودة واحد منصرف صحيح ) يبنى المنادى على ما يرفع به قبل النداء إذا كان مفردا سواء أكان ذلك المفرد علما أو نكرة مقصودة بصيغة المفرد، أو المثنى، أو الجمع مثل: يا محمد اذهب (محمد: علم منادى مبني على الضم ، لأن علامة رفعه قبل النداء الفضة) ويا بائع خذ الثمن (بائع: منادى فكرة مقصودة مبني على الضم لأن علامة رفعه قبل النداء الضمة) وياشرطيان أقبلا (شرطيان منادى نكرة مقصودة مبني على الألف لأن علامة رفعه قبل النداء الألف لأنه مثنى) ويا مجتهدون اجتهدوا (مجتهدون: منادى نكرة مقصودة مبني على الواو، لأن علامة رفعه قبل النداء الواو، لأنه جمع مذكر سالم).

ويتصل بصيغة النداء ثلاث صيغ أخرى

وهي:

١ - الاستغاثة، ٢ - والندبة .. والترخيم

الاستغاثة:

الاستغاثة هي نداء شخص لاعانة غيره ليخلصه من شدة، أو يساعده على دفع مشقة، نحو: يا لزيد للمظلوم.

فالمطلوب منه الاعانة يسمى "مستغاثابة" والمطلوب له الاعانة يسمى "مستغاثاله" ولا يستعمل للاستغاثة من أحرف النداء إلا "يا وحدها ولا يجوز حذفها، ولا حذف المستغاث به، أما المستغاث له فحذفه جائز، نحو: یالزيد.

أوجه المستغاث به:

للمستغاث به ثلاثة أوجه:

۱۔أن يجر بلام مفتوحة غالبا، نحو: يا لزيد، للمظلوم، ويا للْكِرَامِ لِلْمُحْتَاجِينَ.

۲۔ أن يختم بألف زائدة نحو: يا قوما للمظلوم

۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من لام مفتوحة، وألف زائدة نحو: يا قوم للمظلوم.

يخالف المستغات به المنادى في أنه يصح أن يكون مقترنا بـ " أل " نحو: يا للأطباء للمصابين ولا يصح ذلك في المنادى، كما سبق في بيان الوجهين في نداء الاسم لمقترن بـ آل" في الهامش)

حكم المستغاث له ولامه:

إن ذكر المستغاث له في الكلام وجب جره باللام، وهذه اللام تكون مكسورة إذا كان المستغاث له اسما ظاهرا كالأمثلة السابقة، أو ياء المتكلم نحو: يا لزيد لي، وإذا كان ضميرا غير ياء المتكلم تكون مفتوحة، نحو: يا لمحمد لك، أو له.

ويجوز الجر بـ " من " إذا كان مستغاثا منه، لا مستغاثا له، نحو: يالقومي للمظلوم من الطغاة الجائرين.

حكم المتعجب منه :

يلحق بالمستغاث به المتعجب منه الذي ضمن معنى التعجب من ذاته أو صفته . فيجرى مجرى المستغاث به في كل أحكامه فتدخل عليه اللام، نحو قولك یاللماء. (اذا تعجبت من وجوده، أو من كثرته) و يا للدواهي(إذا تعجبت من عظمها)

٢ - الندبة

الندبة: هي نداء المتوجع عليه ، أو المتوجع منه أو المتوجع لله و أداتها " وا" أو "يا مثال الأول: وا أماه والثاني واكبداه، والثالث: وامصيبتاه.

ولا يجوز حذف المندوب ولا أداة الندیة:

يكون المندوب كالمنادى في الإعراب، فيبنى على الضم في نحو وايوسف، وينصب في نحو: وا أمير المومنين الخ

حالات المندوب:

للمندوب ثلاث حالات

۱۔ أن يختم بألف زائدة، نحو واكبدا.

٢۔ أن يختم بالألف الزائدة مع هاء السكت الساكنة عند الوقف نحو: وايوسفاه

۳۔ أن يبقى على حاله كالمنادى المستقل المجرد من الألف الزائدة وهاء السكت، نحو: وايوسف، ووا أمير المؤمنين

۳۔ الترخيم

الترخيم: هو حذف آخر المنادى تخفيفا، فيقال له المنادى المرخم والترخيم يجوز في نوعين من الأسماء:

ا۔ الاسم المختوم بتاء التأنيث، سواء أكان علما أو غير علم، مثال العلم يا فاطم (أصله : يا فاطمة) ومثال غير العلم يا جاري (أصله : يا جارية)

۲۔ العلم المذكر أو المؤنث بشرط أن يكون غير مركب، زائدا على ثلاثة أحرف مثال العلم المذكر : يا جعف (أصله : يا جعفر ) ومثال العلم المؤنث : يا سلم (أصله: يا سلمی)

الترخيم: إما أن يحذف فيه حرف واحد، وهو الأكثر كما تقدم، أو حرفان وهو قليل نحو: يا عُثُم ( أصله : يا عثمان)

يمتنع ترخيم المستغاث به والمندوب والنكرة غير المختومة بالتاء، والمضاف والشبيه بالمضاف، والمبني قبل النداء، والمركب الإسنادي

لغتان في المنادي المرخم

يجوز في المرخم لغتان

۱۔ ترك آخره بعد الحذف على ما كان عليه من الحركة قبل الحذف كما سبق في الأمثلة، وهو الأشهر.

۲۔ تحريك آخره بعد الحذف بحركة الحرف المحذوف، فتقول: يا جعف بعد الترخيم في "يا جعفر و يا فاطم بعد الترخيم في "يا فاطمة"

فصل المنادی

منادی: وہ ظاہر اسم ہے جسے کسی حرف نداء (یعنی پکارنے کے حرف) کے ذریعے بلایا جاتا ہے تاکہ اس کی طرف توجہ دلائی جائے۔ جیسے: "يا عبد الله" (اے عبد الله) یا "يا محمد" (اے محمد)۔

حروف نداء (یعنی پکارنے کے حروف) سات ہیں:

1. أي (قریب سے نداء کے لیے)

2. الہمزة (قریب سے نداء کے لیے)

3. أيا (دور سے نداء کے لیے)

4. هيا (دور سے نداء کے لیے)

5. آ (دور سے نداء کے لیے)

6. يا (ہر قسم کے منادی کے لیے)

7. وا (ندبہ کے لیے)

لفظ "اللّٰه" کو نداء میں صرف "يا" کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے، اور استغاثہ یا نداء میں "أي" اور "أية" کے لیے بھی یہی حرف استعمال ہوتا ہے۔

منادی کے اقسام

منادی دو قسم کا ہوتا ہے:

1. منصوب:

- اگر منادی مضاف ہو، یا شبیہ بالمضاف ہو، یا نکرہ غیر مقصودہ ہو تو اسے منصوب کیا جاتا ہے۔ اس صورت میں منادی کو حرف نداء نصب کرتا ہے جو دراصل ایک محذوف فعل نداء کی جگہ آتا ہے۔ مثالیں:

- "يا عبد الله" (عبد اللہ منادی ہے اور مضاف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے)

- "يا طالبي العلم" (طالب علم منادی ہیں اور جمع مذكر سالم ہونے کی وجہ سے نصب پر ہیں)

- "يا رجلا" (رجل نکرہ غیر مقصودہ ہے اور منصوب ہے)

2. مبنی:

- اگر منادی مفرد علم ہو یا نکرہ مقصودہ ہو، تو اسے رفع کے اصولوں کے مطابق مبنی کیا جاتا ہے۔ مثالیں:

- "يا محمد" (محمد علم ہے اور مبنی على الضم ہے)

- "يا بائع" (بائع نکرہ مقصودہ ہے اور مبنی على الضم ہے)

- "يا شرطيان" (شرطيان مثنیٰ ہے اور مبنی على الألف ہے)

- "يا مجتهدون" (مجتهدون جمع مذكر سالم ہے اور مبنی على الواو ہے)

منادی کے ساتھ تین اضافی صیغے

استغاثہ:

استغاثہ کسی شخص کا دوسرے کو پکارنا ہوتا ہے تاکہ وہ اسے کسی سختی سے نجات دلائے یا کسی تکلیف کو دور کرنے میں مدد کرے، جیسے: "یا لَزَیدُ للمظلوم"۔

جس سے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث بہ" کہا جاتا ہے، اور جس کے لیے مدد طلب کی جائے اسے "مستغاث لہ" کہا جاتا ہے۔

استغاثہ کے لیے صرف "یا" حرف ندا استعمال ہوتا ہے اور اسے حذف کرنا جائز نہیں، نہ ہی مستغاث بہ کو حذف کیا جا سکتا ہے، جبکہ مستغاث لہ کو حذف کرنا جائز ہے، جیسے: "یا لزید"۔

مستغاث بہ کے اوزان:

مستغاث بہ کے تین اوزان ہوتے ہیں:

لام مفتوحہ کے ساتھ جر:

جیسے: "یا لَزیدُ للمظلوم"، "یا للکِرَامِ للمحتاجین"۔

آخر میں زائدہ الف کے ساتھ:

جیسے: "یا قوما للمظلوم"۔

مندرجہ بالا اضافات کے بغیر، عام منادی کی طرح:

جیسے: "یا قوم للمظلوم"۔

فرق بین المنادی والمستغاث بہ:

منادی کے برعکس، مستغاث بہ میں "أل" کے ساتھ آنا جائز ہے، جیسے: "یا للأطباء للمصابین"۔

جبکہ منادی میں "أل" کے ساتھ ندا جائز نہیں۔

مستغاث لہ اور اس کی لام کا حکم:

اگر مستغاث لہ کو ذکر کیا جائے تو اسے لام کے ساتھ مجرور کرنا لازم ہے۔

اگر اسم ظاہر ہو یا ياء المتکلم ہو تو لام مکسورہ ہوگی، جیسے: "یا لزید لي"۔

اگر ضمیر ہو (سوائے ياء المتکلم کے) تو لام مفتوحہ ہوگی، جیسے: یا لمحمد لك" یا "یا لمحمد له"۔

اگر استغاثہ کسی سے نجات کے لیے ہو (کسی کے خلاف مدد مانگنا ہو) تو "من" کے ساتھ ذکر کیا جا سکتا ہے، جیسے:

"یا لقومی للمظلوم من الطغاة الجائرین"۔

متعجب منہ کا حکم:

وہ الفاظ جو کسی چیز کے وجود یا اس کی شدت پر تعجب کے لیے آتے ہیں، ان پر بھی استغاثہ کے احکام لاگو ہوتے ہیں، جیسے:

"یا للماءِ" (اگر پانی کے ہونے پر تعجب ہو یا اس کی کثرت پر)

"یا للدواهي" (اگر مصیبتوں کی شدت پر تعجب ہو)۔

۲۔ ندبہ:

ندبہ وہ ندا ہے جو کسی تکلیف پر افسوس، کسی کے لیے غم، یا اللہ کی طرف متوجہ ہونے کے لیے کی جاتی ہے۔

اس کی دو ادوات ہیں: "وا" اور "یا"۔

مثالیں:

جس پر افسوس ہو:

"وا أماه" (اے میری ماں!)

جس سے تکلیف محسوس ہو:

"واکبداه" (ہائے جگر!)

اللہ کے لیے ندبہ:

"وامصيبتاه" (ہائے مصیبت!)

ندبہ میں حذف جائز نہیں:

نہ تو مندوُب (جس پر ندبہ کیا جا رہا ہو) کو حذف کرنا جائز ہے، نہ ہی ادات ندبہ کو۔

مندوُب کی اعرابی حالت:

اگر مفرد نکرہ ہو تو مبنی بر ضم ہوگا: "وا يوسفُ"

اگر مضاف ہو تو منصوب ہوگا: "وا أميرَ المؤمنين"۔

مندوُب کی تین حالتیں:

آخر میں زائدہ الف: جیسے: "واکبدا"۔

زائدہ الف کے ساتھ ہاء السکت: جیسے: "وا يوسفاه"۔

بغیر کسی اضافے کے:

جیسے: "وا يوسف"، "وا أمير المؤمنين"۔

۳۔ ترخیم:

ترخیم ندا میں آخری حرف کو حذف کرنے کو کہتے ہیں تاکہ لفظ ہلکا ہو جائے۔

جس منادی میں ترخیم کیا جائے اسے "منادی مرخم" کہا جاتا ہے۔

ترخیم کے جواز کی صورتیں:

تاء تانیث پر ختم ہونے والے الفاظ (چاہے علم ہو یا عام اسم):

علم: "یا فاطم" (اصل: یا فاطمة)۔

عام اسم: "یا جاري" (اصل: یا جارية)۔

غیر مرکب علم (زیادہ تر تین حروف سے زیادہ):

مذکر: "یا جعف" (اصل: یا جعفر)۔

مؤنث: "یا سلم" (اصل: یا سلمی)۔

ترخیم کی دو صورتیں:

ایک حرف حذف کرنا (یہ زیادہ عام ہے)

جیسے: "یا فاطم" (یا فاطمة)۔

دو حروف حذف کرنا (یہ کم ہوتا ہے)

جیسے: "یا عثم" (یا عثمان)۔

ترخیم ممنوع ہے:

مندرجہ ذیل صورتوں میں ترخیم جائز نہیں:

مستغاث بہ

مندوب

نکرہ غیر مختوم بتاء

مضاف

شبیہ بالمضاف

مرکب اسنادی

وہ الفاظ جو قبل الندا مبنی ہوں

ترخیم میں دو زبانیں: حذف کے بعد آخری حرف کی حرکت برقرار رکھنا (یہ زیادہ مشہور ہے)، جیسے: "یا جعف" (یا جعفر)

"یا فاطم" (یا فاطمة)

حذف کے بعد آخری حرف کو حذف شدہ حرف کی حرکت دینا، جیسے:

"یا جعَفُ" (یا جعفرَ)

"یا فاطِمُ" (یا فاطمةَ)

لنک

المفصل

المفصل۔ سبق:۱۲

المنادى

ومن المنصوب باللازم إضماره المنادى لأنك إذا قلت يا عبد الله فكأنك قلت يا أريد أو أعنني عبد الله. ولكنه حذف لكثرة الإستعمال وصاريا بدلاً منه.

ولا يخلو من أن ينتصب لفظاً أو محلاً. فانتصابه لفظاً إذا كان مضافاً كعبد الله أو مضارعاً له كقولك يا خيراً من زيد و يا ضارباً زيداً ويا مضروباً غلامه ويا حسناً وجه الأخ ويا ثلاثة وثلاثين ، أو نكرة كقوله:

فيا راكباً إما عرضت فبلغا تداماي من نجران ألا تلاقيا

وانتصابه محلاً إذا كان مفرداً معرفة كقولك يا زيد و يا غلام ويا أيها الرجل أو داخلة عليه لام الإستغاثة أو لام التعجب كقوله:

يا لعطافنا ويا للرياح وأبي الحشرج الفتى النفاح

وقولهم يا للماء ويا للدواهي. أو مندوباً كقولك يا زيداه.

باقی عبارت پڑھیں (54)

حكم توابع المنادى:

توابع المنادى المضموم غير المبهم إذا أفردت حملت على لفظه ومحله كقولك يا زيد الطويل والطويل، ويا تميم أجمعون وأجمعين، ويا غلام بشر وبشراً، ويا عمرو الحارث والحارث، وقرئ والطير رفعا ونصباً إلا البدل، ونحو زيد وعمرو من المعطوفات فإن حكمهما حكم المنادي بعينه تقول يا زيد زيد ويا زيد وعمرو بالضم لا غير وكذلك يا زيد أو عمر ويا زيد لا عمرو أو إذا أضيفت كقولك يا زيد ذا الجمة وقوله:

أزيد أخا ورقاء كنت ثائراً فقد عرضت أحناء أمر فخاصم

و یا خالد نفیسه، و يا تميم كلهم و يا بشر صاحب عمرو، ويا غلام أبا عبد الله ويا زيد عبد الله . والوصف بابن وابنة كالوصف بغيرهما إذا لم يقعا بين علمين فإن وقعا أتبعت حركة الأول حركة الثاني كما فعلوا في ابن وامرئ تقول يا زيد ابن أخينا ويا هند ابنة عمنا ويا زيد بن عمرو ويا هند ابنة عاصم. وقالوا في غير النداء أيضاً إذا وصفوا هذا زيد بن أخينا وهند ابنة عمنا، وهذا زيد ابن عمرو، وهند ابنة عاصم، وكذلك النصب والجر. فإذا لم يصفوا فالتنوين لا غير وقد جوزوا في الوصف التنوين في ضرورة الشعر كقوله:

جارية من قيس بن ثعلبة

المنادي المبهم:

والمنادي المبهم شيئان أي واسم الإشارة. فأي يوصف بشيئين بما فيه الألف واللام مقحمة بينهما كلمة التنبيه وباسم الإشارة، كقولك يا أيها الرجل، ويا أيهذا. قال ذو الرمة:

ألا أيهذا الباخع الوجد نفسه لشيء تحته عن يديه المقادر

واسم الإشارة لا يوصف إلا بما فيه الألف واللام كقولك يا هذا الرجل ويا هؤلاء الرجال. وأنشد سيبويه الخزز بن لوذان.

یا صاح يا ذا الضامر العنس

ولعبيد ابن الأبرص:

يا ذا المخوفنا بمقتل شيخه حجر تمني صاحب الأحلام

وتقول في غير الصفة يا هذا زيد وزيداً ويا هذان زيد وعمرو وزيداً وعمراً وتقول يا هذا ذا الجمة على البدل.

حكم المنادي المعرف بأل:

ولا ينادي ما فيه الألف واللام إلا الله وحده لأنهما لا تفارقانه كما لا تفارقان النجم مع انهما خلف عن همزة إله. وقال:

من اجلك يا التي تيمت قلبي وأنت بخيلة بالوصل عني

حكم المنادي المكررة

وإذا كرر المنادي في حال الإضافة ففيه وجهان أحدهما أن ينصب الإسمان معاً كقول جرير :

یا تيم تيم عدي أبا لكم يلقينكم في سوءة عمر

وقول بعض ولده

یا زید زيد اليعملات الذبل تطاول الليل عليك فأنزل

والثاني أن يضم الأول:

حكم المنادي المضاف إلى ياء المتكلم

وقالوا في المضاف إلى ياء المتكلم يا غلامي و يا غلام و يا غلاماً وفي التنزيل" يا عباد فاتقون" وقرئ يا عبادي. ويقال يا رباً تجاوز عني. وفي الوقف يا رباه غلاماه والتاء في يا أبة ويا أمة تاء تأنيث عوضت عن الياء ألا تراهم يبدلونها هاء في الوقف وقالوا يا ابن أمي ويا ابن عمي ويا ابن أم ويا ابن عم ويا ابن أم ويا ابن عم. وقال أبو النجم:

يا ابنة عما لا تلومي واهجعي ألم يكن يبيض لو لم يصلع

جعلوا الأسمين كاسم واحد.

حكم المندوب:

ولا بد لك في المندوب من أن تلحق قبله يا أو وا وأنت في إلحاق الألف في آخره مخير فتقول وازيد. والهاء اللاحقة بعد الألف للوقف خاصة دون الدرج. ويلحق ذلك المضاف إليه فيقال وا أمير للمؤمنيناه. ولا يلحق الصفة عند الخليل فلا يقال وازيد الظريفاه ويلحقها عند يونس. ولا يندب إلا الأسم المعروف فلا يقال وارجلاه ولم يستقبح، وا من حفر بئر زمزماه لأنه بمنزلة واعبد المطلباه.

ويجوز حذف حرف النداء عما لا يوصف به أي. قال الله تعالى: " يوسف أعرض عن هذا وقال: " رب أرني أنظر إليك". وتقول أيها الرجل وأيتها المرأة، ومن لا يزال محسناً أحسن إلي. ولا يحذف عما يوصف به أي فلا يقال رجل ولا هذا. وقد شذّ قولهم أصبح ليل وفتد مخنوق، وأطرق كراً.

وجاري لا تستنكري عذيري

ولا عن المستغاث والمندوب وقد التزم حذفه في اللهم لوقوع الميم خلفاً عنه.

الاختصاص:

وفي كلامهم ما هو على طريقة النداء ويقصد به الإختصاص لا النداء، وذلك قولهم أما أنا فأفعل كذا أيها الرجل، ونحن نفعل كذا أيها القوم، اللهم اغفر لنا أيتها العصابة . جعلوا أياً مع صفته دليلاً على الإختصاص والتوضيح، ولم يعنوا بالرجل القوم والعصابة إلا انفسهم وما كنوا عنه بأنا ونحن والضمير في لنا. كأنه قيل أما أنا فأفعل كذا متخصصاً بذلك من بين الرجال، ونحن نفعل متخصصين من بين الأقوام، واغفر لنا مخصوصين من العصائب. ومما يجري هذا المجرى قولهم إنا معشر العرب نفعل كذا.

ونحن آل فلان كرماء. وإنا معشر الصعاليك لا قوة بنا على المروة. إلا أنهم سرغوا دخول اللام ههنا فقالوا نحن العرب أقرى الناس للضيف. وبك الله نرجو الفضل وسبحانك الله العظيم. ومنه قولهم الحمد الله الحميد. والملك لله أهل الملك. وأتاني زيد الفاسق الحبيث. وقرئ حمالة الحطب. ومررت به المسكين والبائس. وقد جاء نكرة في قول الهذلي:

ويأوي إلى نسوة عطل وشعثاً مراضيع مثل السعالي

وهذا الذي يقال فيه نصب على المدح والشتم والترحم.

الترخيم:

ومن خصائص النداء الترخيم إلا إذا اضطر الشاعر فرحم في غير النداء. وله شرائط إحداهها أن يكون الأسم علماً. والثانية أن يكون غير مضاف والثالثة أن لا يكون مندوبا ولا . مستغاثاً. والرابعة أن تزيد عدته على ثلاثة أحرف إلا ما كان في آخره تاء تأنيث فإن العلمية والزيادة على الثلاثة فيه غير مشروطتين. يقولون يا عاذل، ويا جاري، لا تستنكري ويا ثب اقبلي و يا شا ارجني، وأما قولهم يا صاح وأطرق كراً فمن الشواذ.

والترخيم حذف في التقدير وهو الكثير، أو يجعل ما بقي كأنه اسم برأسه فيعامل بما تعامل به سائر الأسماء. فيقال على الأول يا حار، ويا هرق، ويا لمو، ويا بنو في المسمى ببنون وعلى الثاني يا حار، ويا هرق ويا ثمى ويا بني.

ولا يخلو المرخم من أن يكون مفرداً أو مركباً فإن كان مفرداً فهو على وجهين أحدهما أن يحذف منه حرف واحد كما ذكرت لك.

والثاني أن يحذف منه حرفان، وهما على نوعين إما زيادتان في حكم زيادة واحدة كاللتين في أعجاز أسماء ومروان وعثمان وطائفي. وإما حرف صحيح ومدة قبله وذلك في نحو منصور وعمار ومسكين. وإن كان مركباً حذف آخر الأسمين بكماله فقيل يا بخت و یا عمرو ويا سيب ويا خمسة في بخت نصر وعمرويه وسيبويه والمسمى بخمسة عشر. وأما نحو تأبط شراً وبرق نحره فلا يرخم.

حذف المنادي.

وقد يحذف المنادي فيقال يا بؤس لزيد بمعنى يا قوم بؤس لزيد ومن أبيات الكتاب:

يا لعنة الله والأقوام كلهم والصالحون على سمعان من جار

وفي التنزيل " ألا يا اسجدوا

لنک