تمام موضوعات

منصوب اسماء

مفعول فیہ(ظرف زمان و مکان) دیگر کتب میں

4 عبارات

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۳

ظَرْفُ الزَّمَانِ: اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ الزَّمَنَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.

ظَرْفُ المَكَانِ:اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ المَكَانَ الَّذِي حَصَلَ فِيهِ الفِعْلُ.

ظرف زمان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کا زمانہ واضح کرتا ہے۔

ظرف مکان وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے حصول کی جگہ کا تعین کرتا ہے۔

الأمثلة :

(1) مَكَثَتُ بِالإِسْكَندَرِيَّةِ شَهرًا

باقی عبارت پڑھیں (9)

(۲) شَرِبَ الْمَرِيضُ الدَّوَاءِ صَبَاحاً

(٣) جَلَسْتُ مَعَ صَدِيقِي لَحْظَة

(٤) تُوقَدُ الْمَصَابِيحُ لَيْلًا

(۵) تَجْمَعُ النَّمْلَةُ قُوتَهَا صَيْفاً

(٦) وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ .

(٧) جَلَسَتِ الهَرَةُ تَحْتَ الْمَائِدَةِ

(۸) نَامَ الْكَلْبُ خَلْفَ الْبَابِ

(٩) يَثبُ اللَّصْ فَوْقَ السُّورِ .

(١٠) جَرَى عَلِّى مِيلًا

لنک

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۶

مفعول فيه (ظرف زمان و ظرف مكان)

مفعول فيه: وہ اسم منصوب ہے جس سے کسی فعل کے وقوع کا وقت یا جگہ معلوم ہو جیسے جَلَسْتُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ( میں درخت کے نیچے بیٹھا) اور سرت لیلا ( میں رات کے وقت چلا ) ان مثالوں میں "تحت اور لیلا مفعول فیہ ہیں۔

مفعول فیہ در حقیقت ظرف زمان اور ظرف مکان کا دوسرا نام ہے ظرف زمان سے مراد وقت اور زمانہ ہے اور ظرف مکان سے جگہ اور مقام ۔ پس ہر وہ وقت ( زمان ) اور ہر وہ جگہ (مکان) جس میں کسی فعل کے وقوع کا ذکر ہو نحو کی اصطلاح میں مفعول فیہ کہلاتا ہے۔ بشرطیکہ اس سے پہلے حرف جار ( نہ ہو جیسے اوپر کی دوسری مثال میں لیلا مفعول فیہ ہے مگر سرت فی اللیل میں اللیل کو مفعول فیه نہیں کہتے۔

ظرف زمان: خواہ مختص و معین ہو، خواہ مبہم ہو اور غیر معین ہو دونوں صورتوں میں ظرفیت کی بناء پر مفعول فیہ بن سکتا ہے۔ جیسے سافرت يَوْمَ الْخَمِيسِ مگر ظرف مکان کے صرف وہی اسماء مفعول فیہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں جن کا شمار ظروف مبہمہ میں ہوتا ہے جسے اسماء جہات سته ( فوق، تحت قدام، خلف، يمينا، شمالا) اور اسماء مساحت جیسے (فرسخا، میلا، بریدا) وغیرہ اسی طرح اسمائے ظروف مشتق جیسے ذَهَبُتُ مَذْهَبَ خالدٍ اور جَلَسْتُ مَجْلِسَ الاستاذ وغیرہ مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کا عامل خود اسی مادہ سے ہو جیسے مذکورہ دونوں مثالوں میں، اس کے برعکس مثلاً ذَهَبْتُ مَجْلِسَ الْأَسْنَادِ کہنا درست نہیں کیوں کہ مجلس کا عامل (ذهبت) اس مادہ سے نہیں ہے۔

رہے ظرف مکان کے وہ اسماء جن سے کوئی محدود مخصوص جگہ مراد ہو جیسے مسجد، مدرسہ، گھر، بازار، شہر وغیرہ ، تو ظرفیت کی بناء پر یہ منصوب نہیں ہو سکتے اور نہ ان کا نام مفعول فیہ رکھا جا سکتا ہے۔ بلکہ ان کے پہلے حرف ظرفیت "فی" کا لانا ضروری ہوتا ہے۔ صليت في المسجد، اقمتُ في السوق، اور جلست فِی الدَّارِ وغیرہ اس کے برخلاف صليت المسجد، اقمت السوق اور جلست الدار صحیح نہیں ہے۔ ہاں البته دَخَلْتُ کے باب میں کثرت استعمال کی وجہ سے توسعا یہ بات جائز رکھی گئی کہ اس کا استعمال "فی" اور فی کے بغیر دونوں طرح صحیح ہے۔ جیسے دخلت فی المسجد و في الدار اور دخلت المسجد، والدار وغيره

ذیل میں چند اسمائے ظروف لکھے جاتے ہیں، ان کو زبانی یا لکھ کر جملوں میں استعمال کریں۔

باقی عبارت پڑھیں (4)

ليلا، نهارا، ساعةً، سنةً، شهرا، أسبوعا، دقيقةً، صباحا، مساء، فجرا، ضحی، غدوةً، عشيةً، بكرةً ، اصيلاً، ظهرا، عشاء، عصرا، ظهيرةً، أمس، غدًا، برهةً، هنيهة، زمنًا، حينًا، عاما، دهرًا، ابدا، دَائِماً، قَطُّ، عِوضُ، اول، قبل، بعدُ، تَحْتُ، خَلفُ ، امام، وراء، تلقاء، تجاه، ازاء، حذاء، يميناً، شمالاً۔

خط کشیدہ الفاظ جن کا شمار ظروف مبهمہ میں ہوتا ہے کسی اسم کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے اور منصوب پڑھے جاتے ہیں۔ مگر کبھی ان کا مضاف محذوف ہوتا ہے اور دل میں مقصود ہوتا ہے تو ایسی صورت میں یہ ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ لِلَّهِ الأَمرُ مِنْ قبل ومن بعد لیکن اگر مضاف الیہ محذوف نہ ہو یا محذوف ہو مگر دل میں مقصود نہ ہو تو دونوں صورتوں میں معرب پڑھے جاتے ہیں اور منصوب ہوتے ہیں جیسے جَلَسْتُ فَوق الکرسی اور جئت اولا یا افعل هذا اولاً ، پہلی مثال میں مضاف الیہ محذوف نہیں ہے اور آخر کی دونوں مثالوں میں محذوف ہے مگر مقصود نہیں ہے

أمس کل گزشتہ کے معنی میں آتا ہے اور کسرہ پر مبنی ہوتا ہے مگر أمس پر اگر الف لام (ال) داخل کر دیا جائے تو مطلق زمانہ ماضی کے معنی میں ہو جاتا ہے جیسے ابھی کل کی بات ہے کہ بِالْأَمسِ كَانَ كذا و كذا

قط اور عوض ضمہ پر مبنی ہوتے ہیں اور ہمیشہ نفی کے بعد آتے ہیں۔ قط زمانہ ماضی کے لئے اور عوض زمانہ مستقبل کے لئے آتا ہے۔ جیسے ما فَعَلْتُ هَذَا قَطُّ اور لا افْعَلُ هَذَا عِوَضُ ۔

لنک

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۴

فصل المفعول فيه

المفعول فيه: ( ويسمى الظرف) اسم يذكر البيان زمان الفعل أو مكانه على تقدير معنى في نحو : سافر ليلا ، ومشى ميلا.

والظرف قسمان ظرف زمان وظرف مكان، وكل منهما إما مبهم . أو محدود ويقال له : مختص أيضا فالمبهم من ظروف الزمان ما دل على قدر من الزمان غير معين نحو حين، ووقت ولحظة.

والمحدود (أو المختص) من ظروف الزمان مادل على وقت مقدر معين، نحو: يوم. وساعة، وشهر، وسنة.

وكلاهما يصلحان للنصب على الظرفية فتقول : صمت حينا، وسافرت يوم الاثنين.

والمبهم من ظروف المكان: ما دل على مكان غير معين البقعة أو هو ما ليس له صورة ولا حدود محصورة، كالجهات الست "أمام" ( ومثلها: قدام) و "وراء" (ومثلها: خلف) و يمين ويسار" ( ومثلها : شمال) و "فوق" و"تحت" وكأسماء المقادير المكانية نحو: ميل" و "فرسخ " و "كيلو متر"

والمحدود ( أو المختص ) من ظروف المكان ما دل على مكان معين البقعة، أو هو ما له صورة وحدود محصورة كـ "دار" و "مدرسة" و "معبد "

ولا ينصب من ظروف المكان إلا (۱) ما كان منها مبهما متضمنا معنى "في" نحو : سرت فرسخا، و (۲) ما كان مشتقا سواء أكان مبهما - أو محدودا، بشرط أن يكون عامله من لفظه مثال المبهم : خرج الماء مخرجه ومثال المحدود: جلست مجلس الرئيس.

باقی عبارت پڑھیں (60)

ما ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه :

ينوب عن الظرف فينصب على أنه مفعول فيه خمسة أشياء:

۱۔ المصدر الدال على تعيين زمان أو مكان، نحو: سافرت طلوع الشمس، وجلست قرب الخطيب.

۲۔ المضاف إلى الظرف مما دل على كلية، أو جزئية، نحو: مشيت كل الفرسخ، وأقابل بعض الأحيان، وأجلس معه معظم الأوقات.

۳۔ الصفة القائمة مقام الظرف الموصوف، نحو: سرت قليلا أي زمنا قليلا.

۴۔ اسم الإشارة، نحو سرت ذلك اليوم سيرا سريعا.

۵۔ العدد الذي يقع الظرف تمييزا له، أو مضافا إليه له، نحو: سرت أربعين فرسخا ومشيت ثلاثة أيام. والظروف كلها معربة، إلا ألفاظا محصورة منها جاءت مبنية، سيأتي تفصيلها في مبحث المبني.

عامل المفعول فيه:

يكون عامل المفعول فيه فعلا ، كالأمثلة المذكورة أو شبه فعل نحو: أنا صائم غدا.

تأخر المفعول فيه وتقدمه:

الأصل في المفعول فيه أن يتأخر عن عامله، وقد يتقدم جوارًا، نحو: يوم الخميس صمت - كما أنه يتقدم وجوبا إذا كان له صدر الكلام نحو أين تنام؟ متى تسافر ؟

ذكر عامل المفعول فيه وحذفه:

الأصل في عامله أن يكون مذكورا، وقد يحذف إذا دلت عليه قرينة، نحو: يوم السبت في جواب من قال:

أي يوم سافرت ؟

لحوق ما بالظرف: تلحق "ما" ببعض الظروف (مثل: عند، وحين، وقبل، وبعد، ودون) وتكون زائدة ولا تؤثر عليها، ولا تكفها عن العمل، أي: ان هذه الظروف تظل منصوبة، ويظل الاسم الذي يليها مضافا إليه مجرورا، مثل: طلبت منه أن يحضر دونما تأخير (دونما: دون ظرف منصوب و ما زائدة تأخير مضاف إليه مجرور بالكسرة ) .

إضافة ياء مشددة إلى أسماء الجهات: يجوز إضافة يـاء مشددة إلى أسماء الجهات الأربع، فتقول: شمالي، وجنوبي، وشرقي وغربي، مثل: تقع مدينة بومباي غربي الهند.

فصل المفعول فيه

مفعول فيه: یہ وہ اسم ہے جو فعل کے زمانے یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔ مفعول فيه کو ’’ظرف‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: "سافر ليلا" (اس نے رات کو سفر کیا) اور "مشى ميلا" (اس نے ایک میل چلا)۔

اقسام:

ظرف دو قسموں میں تقسیم ہوتا ہے:

1. ظرف زمان: جو وقت کی وضاحت کرتا ہے۔

2. ظرف مکان: جو جگہ کی وضاحت کرتا ہے۔

ہر ایک قسم میں مبہم (غیر متعین) اور محدود (متعین) ہوتا ہے:

- مبہم: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک غیر معین مدت کو ظاہر کرتی ہیں، جیسے: "حين" (کچھ وقت)، "وقت" (وقت)، اور "لحظة" (لمحہ)۔

- محدود: یہ ایسی ظروف ہیں جو ایک خاص وقت کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "يوم" (دن)، "ساعة" (گھنٹہ)، "شہر" (مہینہ)، "سنة" (سال)۔

دونوں قسمیں ظرفیت کے لئے نصب ہوتی ہیں، جیسے: "صمت حينا" (میں نے کچھ وقت روزہ رکھا) اور "سافرت يوم الاثنين" (میں نے پیر کے دن سفر کیا)۔

مبہم ظروف مکان وہ ہیں جو غیر متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "أمام" (آگے)، "وراء" (پیچھے)، "يمين" (دائیں) وغیرہ۔

محدود ظروف مکان وہ ہیں جو متعین جگہ کی وضاحت کرتی ہیں، جیسے: "دار" (گھر)، "مدرسة" (اسکول)، "معبد" (عبادت گاہ) وغیرہ۔

نصب کی شرائط:

مکان کے مبہم ظرف میں صرف وہی نصب کیا جا سکتا ہے جو:

1. مبہم ہو اور معنی "في" شامل کرتا ہو، جیسے: "سرت فرسخا" (میں نے ایک فرسخ چلا)۔

2. مشتق ہو چاہے وہ مبہم ہو یا محدود، بشرط کہ اس کا عامل موجود ہو، جیسے: "خرج الماء مخرجه" (پانی اپنے نکاس سے باہر آیا) یا "جلست مجلس الرئيس" (میں صدر کی جگہ بیٹھا)۔

مفعول فيه کی جگہ

مفعول فيه کی صورت میں پانچ چیزیں ہیں جو اس کے نصب ہونے کی حیثیت سے کام کر سکتی ہیں:

1. مصدر: جو وقت یا جگہ کی وضاحت کرتا ہے، جیسے: "سافرت طلوع الشمس" (میں سورج طلوع ہونے پر سفر کیا)۔

2. مضاف: جو ظرف کی طرف اشارہ کرتا ہے، جیسے: "مشيت كل الفرسخ" (میں نے پورا فرسخ چلا)۔

3. صفت: جو ظرف کے وصف کے طور پر کام کرتی ہے، جیسے: "سرت قليلا" (میں تھوڑی دیر چلا)۔

4. اسم الإشارة: جیسے: "سرت ذلك اليوم سيرا سريعا" (میں اس دن تیز چلا)۔

5. عدد: جو ظرف کے تميز کے طور پر آتا ہے، جیسے: "سرت أربعين فرسخا" (میں نے چالیس فرسخ چلا)۔

عامل المفعول فيه:

مفعول فيه کا عامل عموماً فعل ہوتا ہے، جیسے: "أنا صائم غدا" (میں کل روزہ رکھوں گا)۔

مفعول فيه کی ترتیب:

مفعول فيه کا اصل یہ ہے کہ یہ عامل سے پہلے آتا ہے، مگر یہ کبھی کبھی قریبی جگہ پر بھی آ سکتا ہے، جیسے: "يوم الخميس صمت" (میں نے جمعرات کو روزہ رکھا)۔ نیز، اگر یہ جملے کی ابتداء میں آتا ہے تو یہ واجب ہے، جیسے: "أين تنام؟" (تم کہاں سوتے ہو؟) یا "متى تسافر؟" (تم کب سفر کرتے ہو؟)۔

عامل کا ذکر یا حذف:

مفعول فيه کے عامل کا ذکر کرنا اصل ہے، مگر یہ حذف بھی ہو سکتا ہے اگر کوئی دلیل موجود ہو، جیسے: "يوم السبت" کے جواب میں: "أي يوم سافرت؟" (تم کس دن سفر کیا؟)۔

ما کا لحوق:

کچھ ظروف (جیسے: "عند"، "حين"، "قبل"، "بعد"، "دون") میں "ما" ملایا جاتا ہے جو اضافی ہوتی ہے اور اس پر اثر انداز نہیں ہوتی، یعنی یہ ظروف منصوب رہتی ہیں، اور جو نام اس کے ساتھ آتا ہے وہ بھی مضاف ہوتا ہے، جیسے: "طلبت منه أن يحضر دونما تأخير" (میں نے اس سے کہا کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے آئے)۔

یاء مشددة کا اضافہ:

چاروں سمتوں کے ناموں میں یاء مشددة کا اضافہ جائز ہے، جیسے: "شمالي" (شمالی)، "جنوبي" (جنوبی)، "شرقي" (مشریقی) اور "غربي" (مغربی)۔ جیسے: "تقع مدينة بومباي غربي الهند" (ممبئی کا شہر بھارت کے مغرب میں واقع ہے)۔

لنک

المفصل

المفصل۔ سبق:۱۸

المفعول فيه

هو ظرفا الزمان والمكان وكلاهما منقسم إلى مبهم ومؤقت، ومستعمل إسماً وظرفاً، ومستعمل ظرفاً لا غير. فالمبهم نحو الحين والوقت والجهات الست والمؤقت نحو اليوم والليلة والسوق والدار.

والمستعمل إسماً وظرفاً ما جاز ان تعتقب عليه العوامل والمستعمل ظرفاً لا غير ما لزم النصب نحو قولك وسرنا ذات مرة وبكرة وسحر وسحيرا وضحى وعشاء وعشية وعتمة ومساء، إذا أردت سحراً بعينه وضحى يومك وعشيته وعشاءه عتمة ليلتك ومساءها. ومثله عند وسوى وسواء. ومما يختار فيه أن يلزم الظرفية صفة الأحيان، تقول سير عليه طويلاً وكثيراً وقليلاً وقديماً وحديثاً.

وقد يجعل المصدر حينا لسعة الكلام. فيقال كان ذلك مقدم الحاج، وخفوق النجم، وخلافة فلان، وصلاة العصر؛ ومنه سير عليه ترويحتين وانتظرنه نحر جزورين وقوله تعالى : " وإدبار النجوم".

وقد يذهب بالظرف عن أن يقدر فيه معنى في اتساعاً، فيجرى لذلك مجرى المفعول به، فيقال الذي سرته يوم الجمعة وقال:

ويوم شهدناه سليماً وعـــامـــراً قليل سوى الطعن النهال نوافله

ويضاف إليه كقولك يا سارق الليلة أهل الدار، وقوله تعالى: " بل مكر الليل والنهار. ولولا الإتساع لقلت سرت فيه وشهدنا فيه.

إضمار عامل المفعول فيه:

وينصب بعامل مضمر كقولك في جواب من يقول لك متى سرت؟ يوم الجمعة. وفي المثل السائر: أسائر اليوم وقد زال الظهر ؟ ومنه قولهم لمن ذكر أمراً قد تقادم زمانه حينئذ الآن، أي كان ذلك حينئذ. واسمع الآن.

ويضمر عامله على شريطة التفسير كما صنع في المفعول به تقول اليوم سرت فيه وأيوم الجمعة ينطلق فيه عبد الله، مقدراً أسرت اليوم وأينطلق عبد الله يوم الجمعة.

لنک