علم نحو
جملہ کی تعریف اور اس کی قسمیں
1 قاعدہ
تعریف
جملہ: جملہ ایسے الفاظ کے مجموعے کو کہتے ہیں جو مل کر ایک مکمل مفہوم یا خیال ظاہر کرتے ہیں۔ جملہ الفاظ کے اس مجموعے کو کہا جاتا ہے جو سامع یا قاری کے ذہن میں ایک مکمل تصویر پیش کرتا ہے، مثلاً: "یَذْھَبُ عَلِیٌّ إلٰی المَدْرَسَۃِ (علی اسکول جاتا ہے)۔" اس جملے سے مکمل طور پر معلوم ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور کون کر رہا ہے۔
:جملہ کی اقسام
جملہ اسمیہ: وہ جملہ جو اسم سے شروع ہو، یعنی جس کا آغاز کسی شخص، چیز، یا جگہ کے نام (اسم) سے ہوتا ہے۔
مثال: الطّالبُ مجتهدٌ. (ترجمہ: طالب علم محنتی ہے۔) ، الكتابُ مفيدٌ. (ترجمہ: کتاب مفید ہے۔
جملہ فعلیہ: وہ جملہ جو فعل سے شروع ہو، یعنی جس میں عمل یا حرکت کا ذکر ہو۔
مثال: ذهبَ الطّالبُ إلى المدرسة. (ترجمہ: طالب علم اسکول گیا۔) ، أكلَ الولدُ التفاحة. (ترجمہ: لڑکے نے سیب کھایا۔)
:مزید اقسام
جملہ خبریہ: وہ جملہ جس میں کسی بات کی اطلاع یا خبر دی جائے۔ یہ جملہ تصدیق یا تردید کے ساتھ ہوتا ہے۔
مثال: السّماءُ صافيةٌ. (ترجمہ: آسمان صاف ہے۔) ، (ترجمہ: آج موسم گرم ہے۔) الجوّ حارٌ اليومَ
جملہ انشائیہ: وہ جملہ جس میں کوئی سوال، حکم، یا خواہش ظاہر کی جائے۔ یہ جملے اطلاع دینے کے بجائے کسی خواہش یا حکم کا اظہار کرتے ہیں۔
مثال: هل قرأتَ الكتابَ؟ (ترجمہ: کیا تم نے کتاب پڑھی؟) ، أكتبْ الدرسَ الآنَ. (ترجمہ: ابھی سبق لکھو ۔)
خلاصہ: جملہ اسمیہ اسم سے شروع ہوتا ہے، جبکہ جملہ فعلیہ فعل سے۔ جملے کی مزید اقسام میں جملہ خبریہ (خبر دینے والے جملے) اور جملہ انشائیہ (سوال یا حکم والے جملے) شامل ہیں۔
جملہ کی تعریف دیگر کتب میں1
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱
التَّركيبُ الَّذي يُفيدُ فائِدةً تامَّةً يُسمَّى جُملةً مُفيدةً ويُسمَّى أيضًا كلامًا.
الجملةُ المفيدةُ قدْ تترَكَّبُ منْ كَلِمتَينِ وقدْ تترَكَّبُ منْ أكثَرَ، وكُلُّ كلمةٍ فيها تُعَدُّ جُزءًا مِنها.
جس مرکب کےسننے سے پورا فائدہ پہنچے وہ جملہ کہلاتا ہے اور جملے کو کلام بھی کہتے ہیں۔
جملہ کبھی دو کلموں سے بنتا ہے اور کبھی دو سے زیادہ کلمات سے اور اس کے ہر ایک کلمہ کو جملہ کا جز ماناجاتا ہے۔
الامثلۃ
- البُسْتانُ جَميلٌ.
- الشَّمْسُ طالِعَةٌ.
- شَمَّ عَلِيٌّ وَرْدَةً.
- قَطَفَ مُحَمَّدٌ زَهْرَةً.
- يَعيشُ السَّمَكُ في الماءِ.
- يَكْثُرُ النَّخيلُ في اَقْليمِ مِصْرَ.
جملہ اسمیہ دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱۰
كلُّ جُملةٍ تَتَرَكَّبُ من مُبتدَأٍ وخَبَرٍ تُسَمَّى جُملةً اسميَّةً.
ہر وہ جملہ جو مبتداء اور خبر سے مرکب ہو جملہ اسمیہ کہلاتا ہے۔
الامثلة
- الدَّارُ وَاسِعَةٌ
- الجَوُّ مُعْتَدِلٌ
- الغُبَارُ ثَائِرٌ
- الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ
- الطَّرِيقُ ضَيِّقَةٌ
- الفَأْرَةُ مُخْتَبِئَةٌ
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۶
جملہ اسمیہ: جیسے: الْوَلَدُ قَائِمٌ (لڑکا کھڑا ہے) یا الوَلَدُ يَقُومُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) فَاطِمَةٌ جَالِسَةٌ ( فاطمہ بیٹھی ہے ) یا فَاطِمَةُ تَجْلِسُ (فاطمہ بیٹھتی ہے) یہ سب جملہ اسمیہ ہمیں کیونکہ ان کا پہلا جز اسم ہے۔ جملہ اسمیہ: مبتداء و خبر کہلاتا ہے اس کے پہلے جز کو مبتداء اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں الْوَلَدُ قَائِم میں الولد مبتدا اور قائم خبر ہے اور اسی طرح الْوَلَدُ يَقُومُ میں الْوَلَدُ . مبتداء اور یقوم اس کی خبر ہے۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۱
جملہ اسمیہ ، ایسا جملہ جو اسم سے شروع ہوتا ہے۔ جیسے الْكِتَابُ سَهْل. (کتاب آسان ہے) ایسے جملوں میں پہلے جزء کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۱۰
عربی میں جملوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ،
جملہ اسمیہ اسم سے شروع ہوتا ہے، جیسے: اَلْبَيْتُ جَمِيلٌ گھر خوبصورت ہے ۔
اور جملہ فعلیہ فعل سے شروع ہوتا ہے، جیسے: دَخَلَ الْمُدَرِّسُ استاذ داخل ہوئے۔
ان دونوں کی کچھ مزید تفصیلات یہ ہیں:
جملہ اسمیہ کی ابتدا میں ذیل میں سے کوئی کلمہ ہو گا :
ا۔ اسم یا ضمیر ، جیسے: هَذِهِ مَدْرَسَةٌ، أَنَا مُجْتَهِدٌ، اللَّهُ غَفُوْرٌ.
۲۔ مصدر مؤول ( اَنۡ اور مضارع سے بنی ہوئی ترکیب جو مصدر کی طرح عمل کرے) جیسے :وَأنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَكُمْ.تم روزہ رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
۳۔ حروف مشبه بالفعل، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ.بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔
لائے نفی للجنس دیگر کتب میں5
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳
(لائے نفی جنس)
نواسخ جملہ کی چوتھی قسم لائے نفی جنس ہے ۔
یہ مطلق نفی کے لئے آتا ہے یعنی سرے سے اس چیز کا انکار کرتا ہے جس پر داخل ہوتا ہے۔ اِنّ کی طرح اپنے اسم (مبتدا) کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لا تلميذَ حاضرٌ (کوئی طالب علم حاضر نہیں ہے)۔
(۱) لائے نفی جنس کا اسم نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوا کرتا ہے۔
(۲) اگر اسم مفرد ہو (یعنی مضاف نہ) ہو تو فتحہ پر مبنی ہوتا ہے اور اس پر تنویں نہیں آتی جیسے لا رجلَ جالسٌ في الطريق (راستہ میں کوئی شخص نہیں بیٹھا ہے)
(۳) اور اگر اس کا اسم مفرد کے بجائے مضاف یا شبہ مضاف ہو تو ان دونوں صورتوں میں منصوب رہتا ہے اور معرب سمجھا جاتا ہے اس لئے اس پر تنوین بھی آتی ہے جیسے :-
لا راكبا فرسا في الطريق (کوئی گھوڑ سوار راستہ میں نہیں ہے)
لا شاهد زور محبوب (کوئی جھوٹی گواہی دینے والا شخص پیارا نہیں ہے)
باقی عبارت پڑھیں (14)
لا مسرفا في ماله محمود (اپنے مال میں اسراف کرنے والا شخص پسندیدہ آدمی نہیں ہے )
لائے نفی جنس کے مذکورہ بالا عمل کے لئے بھی چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ :
(۱) لائے نفی للجنس پر کوئی حرف جار داخل نہ ہو۔
(۲) لائے نفی جنس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں ۔
(۳) لائےنفی جنس اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو۔
پہلی شرط اگر نہیں پائی گئی تو لا کا عمل باطل ہو جائے گا اور اسکی حیثیت صرف نفی کی رہ جائے گی۔
دوسری اور تیسری شرط نہ پائی جانے کی صورت میں بھی لا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور یہاں لا کا مکرر لانا واجب اور ضروری ہو جاتا ہے۔
مثالیں علی الترتیب یہ ہیں :
اشتريت القَلَم بلا ریشۃ (پہلی شرط مفقود ہے)
(۲) لا زیدٌ في الدار و لا عمرو (دوسری شرط مفقود ہے)
(۳) لا الرجل كریم ولا ابنہ (دوسری شرط مفقود ہے)
لا القمرطالع ولا النجوم لامعات (دوسری شرط مفقود ہے)
(۴) لا هُوَ حَى فَيُرجىٰ وَلَا هُوَمیِّتٌ فَینعیٰ (تیسری شرط مفقود ہے)
لا في الحديقة صِبْيَانٌ وَلا بناتٌ (تیسری شرط مفقود ہے)
النحو الواضح (ثانویہ)النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲
لا النافية للجنس: لاء نفی للجنس
تَعْمَلُ «لا» النَّافِيَةُ لِلْجِنسِ عَمَلَ إِنَّ فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَاءَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا، وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا .
يُنصَبُ اِسْمُهَا إِذَا كَانَ مُضَافًا أَوْ شَبِيهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ إِذَا كَانَ مُفْرَداً.
يُشْتَرَطُ فِي عَمَلِهَا ألَّا يَدْخُلُ عَلَيْهَا جَارٌ وَأَنْ يَكُونُ اسْمُهَا وَخَبَرُهَا نَكِرَتَيْنِ، وَالَّا يُفْصَلُ الْاِسْمُ عَنْهَا بِفَاصِلٍ، فَإِنْ فُقِدَ الشَّرْطُ الْأَوَّلَ بَطَلَ عَمَلُهَا، وَإِنْ فُقِدَ شَرُطٌ مِنَ الشَّرْطَيْنِ الْآخَرَيْنِ بَطَلَ عَمَلُهَا.وَلَزِمَ تَكْرَارُهَا .
لائے نفی جنس اِنَّ جیسا عمل کرتا ہے ، پس وہ مبتداء کو نصب دیتا ہے جس کا نام اس کا اسم رکھا جاتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے اس کا نام اس کی خبر رکھا جاتا ہے۔
اس کے اسم کو اس وقت نصب دیا جاتا ہے جب وہ مضاف ہو یا شبہ مضاف ہو اور جب وہ مفرد ہو تو نصب دیا جاتا ہے مبنی علی الفتح ہونے کی وجہ سے۔
اس کے عمل میں یہ شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس پر حرف جار داخل نہ ہو اور دوسری بات کہ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں اور اس کا اسم اس سے جدا نہ کیا گیا ہو۔ پس اگر پہلی شرط نہ پائی گئی تو اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور اگر دوسری دو شرطوں میں سے ایک شرط پائی گئی تو اس کا عمل بالکل باطل ہو گا اور تکرار ضروری ہوگا
باقی عبارت پڑھیں (15)
الأمثلة
(۱)لا شَاهِدَ زورٍ مَحْبُوبٌ
لا شجَرَةَ رُمّان في البستان .
لا راعي غنم في الْحَقْلِ
(۲)لا راكباً فرساً في الطريق
لا مُقَصِّراً فيِ وَاجِبِهِ مَمدُوحٌ
لا مجداً في عمله مَذمُومٌ .
(۳)لا سُرُورَ دَائمٌ
لا ضِدَّيْنِ مُجْتَمِعَانِ
لا مُجِدِّينَ مَحْرُومُونَ
لا جَاهِلَاتٍ مُحتَرَمَاتٌ
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۱۱
فصل خبر "لا" النافية للجنس
لا النافية للجنس تدل على نفي الخبر عن جميع أفراد جنس اسمها الواقع بعدها. على سبيل التنصيص، لا على سبيل الاحتمال ، وتعمل عمل "إن فتنصب الاسم وترفع الخير، نحو: لا فاعل خير مكروه.
شروط عملها: يشترط لعملها المذكور ستة شروط:
۱۔ أن تكون نافية للجنس نصاء لا احتمالا J
۲۔ أن يكون المنفي الجنس بأجمعه ( بحيث لا يبقى فرد من أفراده
۳۔ أن يكون اسمها وخبرها نكرتين
۴۔ أن يكون اسمها متصلا بها ( ويلزم تأخير الخبر عنه )
باقی عبارت پڑھیں (82)
۵۔ عدم تقدم خبرها عليها.
۶۔ عدم دخول حروف الجر عليها .
مثال المستوفي للشروط الستة : لا حلية أثمن من مكارم الأخلاق.
من أنواع اسمها :
اسم "لا" ثلاثة أنواع : (۱) مفرد (۲) مضاف (۳) شبيه بالمضاف
فإذا كان اسم "لا" مفردا غير مضاف ولا شبيه بالمضاف يبنى على ماكان ينصب به قبل وقوعه اسم "لا"
مثل المثال السابق: لا حيلة أثمن من مكارم الأخلاق (حلية: مفرد اسم لا مبني على الفتح، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الفتحة) ومثل : لا ضدين مجتمعان (ضدين: مفرد اسم لا مبني على اليد المفتوح ماقبلها لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه مثنى) ومثل : لا مسلمين في الجاهلية (مسلمين مفرد اسم لا مبني على الياء المكسور ما قبلها، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه جمع مذكر سالم)
وإذا كان اسم لا مضافا، أو شبيها بالمضاف وجب أن يكون معربا منصوباً مثال المضاف: لا شاهد زور محبوب، ومثال الشبيه بالمضاف: لا متقنا عمله يفشل فيه.
تكرار "لا":
إذا تكررت "لا" وكان اسمها نكرة متصلا بها، نحو: لاحول ولا قوة إلا بالله، جاز فيه خمسة أوجه:
۱۔ إعمال المكررتين وبناء اسميهما على الفتح ( وهو الأصل) فتقول: لاحول ولا قوة إلا بالله.
۲۔إلغاء المكررتين ورفع ما بعدهما إما بالابتداء، وإما أنهما عاملتان عمل "ليس" فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۳۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ورفع ما بعدها عطفاً على محل اسم الأولى قبل دخول "لا" باعتبار كونه مبتدأ قبل دخولها فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۴۔ إلغاء الأولى أو اعتبارها عاملة عمل "ليس" ورفع ما يليها، وإعمال الثانية عمل إن" وبناء ما بعدها، فتقول: لا حول ولا قوة إلا بالله.
۵۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ونصب ما بعدها عطفا على محل اسم الأولى، لأنه في محل نصب بعد دخولها عليه فتقول : لا حول ولا قوة إلا بالله
حذف خبرها واسمها وذكرهما
يكثر حذف خبر "لا" إذا كان معلوما ( بأن دلت عليه قرينة) نحو: لاضير ولا بأس أي: عليك) وأكثر ما يحذفونه مع "إلا" نحو : لا اله إلا الله (أي: لا اله يحق موجود إلا الله )
يقل حذف الاسم مع بقاء الخبر كقولهم: لا عليك (أي: لا بأس أولا جناح ) وإذا جهل خبر "لا" وجب ذكره كالأمثلة السابقة في "أنواع اسمها "
خبر "لا" النافية للجنس کا بیان
"لا" نافية للجنس وہ حرف ہے جو اپنے بعد آنے والے اسم کی پوری جنس کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی، یہ کسی اسم کے تمام افراد کے متعلق خبر کی نفی کو بالکل صریح اور قطعی طور پر بیان کرتا ہے، کسی احتمال کے بغیر۔ "لا" کا عمل "إن" کی طرح ہوتا ہے، یعنی یہ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے، جیسے:
لا فاعلَ خيرٍ مكروهٌ (کوئی بھلائی کرنے والا ناپسندیدہ نہیں ہے)۔
"لا" کے عمل کی شرائط:
"لا" نافية للجنس کو مندرجہ ذیل چھ شرائط کے تحت عمل کرنا ہوتا ہے:
1. "لا" جنس کی نفی صریحاً کرے: یعنی یہ واضح طور پر جنس کی مکمل نفی کرے، محض احتمال نہ ہو۔
2. جنس کی مکمل نفی ہو: یعنی جس جنس کی نفی ہو، اس کے کسی بھی فرد کا وجود باقی نہ رہے۔
3. اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں: یعنی "لا" کے اسم اور خبر دونوں غیر معین (indefinite) ہونے چاہئیں۔
4. اسم "لا" اس کے ساتھ متصل ہو: اسم "لا" کو "لا" سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اور اس کا خبر بعد میں آئے۔
5. خبر اسم پر مقدم نہ ہو: خبر کو "لا" کے اسم سے پہلے نہیں آنا چاہیے۔
6. حروف جر کا دخول نہ ہو: "لا" پر کوئی حرف جر داخل نہ ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(اخلاق کی خوبیوں سے زیادہ قیمتی کوئی چالاکی نہیں ہے)
یہ مثال مذکورہ بالا تمام شرائط پر پوری اترتی ہے۔
اسم "لا" کی اقسام:
اسم "لا" کی تین اقسام ہوتی ہیں:
1. مفرد
2. مضاف
3. شبیہ بالمضاف
(1) مفرد: اگر اسم "لا" مفرد ہو، اور نہ مضاف ہو اور نہ ہی شبیہ بالمضاف، تو اسے اس صورت میں مبنی مانا جاتا ہے جس صورت میں اسے "لا" سے پہلے نصب دی گئی ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(یہاں "حيلة" اسم "لا" ہے اور یہ مبنی ہے)۔
(2) مضاف: اگر اسم "لا" مضاف ہو تو اسے منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا شاهدَ زورٍ محبوبٌ
(جھوٹ کا گواہ محبوب نہیں)۔
(3) شبیہ بالمضاف: اگر اسم "لا" شبیہ بالمضاف ہو تو اسے بھی منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا متقناً عملَه يفشل فيه
(جو اپنا کام محنت سے کرے، وہ ناکام نہیں ہوتا)۔
"لا" کا تکرار:
اگر "لا" نکرہ اسم کے ساتھ تکرار ہو تو پانچ طریقے جائز ہیں:
1. دونوں "لا" کو عمل میں لانا اور ان کے اسما کو فتح کے ساتھ بنانا (یہ اصل ہے)۔
2. دونوں "لا" کو غیر مؤثر قرار دینا اور ان کے بعد والے کو مرفوع کرنا۔
3. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا۔
4. پہلی "لا" کو غیر مؤثر اور دوسری کو عمل میں لانا۔
5. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا اور اسم کو منصوب کرنا۔
خبر اور اسم کا حذف:
"لا" نافية للجنس میں خبر کا اکثر حذف کیا جاتا ہے، جب کہ وہ معلوم ہو، جیسے:
لا ضير ولا بأس (یعنی: کوئی نقصان نہیں)۔
اسم کا حذف کم ہوتا ہے، جیسے:
لا عليك (یعنی: تم پر کوئی گناہ نہیں)۔
جب خبر کا علم نہ ہو، تو اسے ضرور ذکر کیا جاتا ہے۔
مثال:
لا إله إلا الله (یعنی: کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے)۔
اس طرح "لا" نافية للجنس عربی میں کسی جنس کی مکمل اور قطعی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ آنے والے اسم اور خبر کو معین اصولوں کے تحت منصوب اور مرفوع کرتی ہے۔
المفصلالمفصل۔ سبق:۸
خبر لا التي لنفي الجنس
هو في قول أهل الحجاز لا رجل أفضل منك ولا أحد خير منك، وقول حاتم:
ولا كريم من الولدان مصبوح
يحتمل أمرين: أحدهما أن يترك فيه طائيته إلى اللغة الحجازية، والثاني أن لا يجعل مصبوحاً خيراً ولكن صفة محمولة على محل لا مع المنفي وارتفاعه بالحرف أيضاً لأن لا محذوبها حذو إن من حيث أنها نقيضتها ولازمة للأسماء لزومها. حذف خبر لا : ويحذفه الحجازيون كثيراً فيقولون: لا أهل، ولا مال ولا بأس، ولا فتى إلا علي ولا سيف إلا ذو الفقار. ومنه كلمة الشهادة ومعناها لا إله في الوجود إلا الله. وبنو تميم لا يثبتونه في كلامهم أصلاً.
المفصلالمفصل۔ سبق:
النصوب بلا التي لنفي الجنس
حكم اسم لا
هي كما ذكر محمولة على إن فلذلك نصب بها الأسم ورفع الخبر، وذلك إذا كان المنفي مضافاً كقولك لا غلام رجل أفضل منه، ولا صاحب صدق موجود؛ أو مضارعاً له كقولك لا خيراً منه قائم هنا، ولا حافظاً للقرآن عندك، ولا ضارباً زيداً في الدار، ولا عشرين درهماً لك. فإذا كان مفرداً فهو مفتوح وخبره مرفوع كقولك لا رجل أفضل منك، ولا أحد خير منك.
ويقول المستفتح ولا إله غيرك. وأما قوله: لا نسب اليوم ولا خلة فعلى إضمار فعل، كأنه قال ولا أرى خلة كما قال الخليل في قوله:
ألا رجلاً جزاءه الله خيراً
كأنه قال ألا ترونني رجلاً وزعم يونس أنه نون مضطراً.
وحقه أن يكون نكرة. قال سيبويه واعلم أن كل شيء حسن لك أن تعمل فيه رب، حسن لك أن تعمل فيه لا.
وأما قول الشاعر :
باقی عبارت پڑھیں (29)
لا هيثم الليلة للمطي
وقول ابن الزبير الأسدي:
أرى الحاجات عند أبي حبيب نکدن ولا أمية بالبلاد
وقولهم لا بصرة لكم وقضية، ولا أبا حسن لها، فعلى التنكير. وأما لا سيما زيد فمثل لا مثل زيد.
وتقول لا أب لك. قال نهار بن توسعة اليشكري:
أبي الإسلام لا أب لي سواه إذا افتخروا بقيس أو تميم
ولا غلامين لك ولا ناصرين لك. وأما قولهم لا أبا لك ولا غلامي لك ولا ناصري لك فمشبه في الشذوذ بالملامح والمذاكير ولدن غدوة. وقصدهم فيه إلى الإضافة وإثبات الألف وحذف النون لذلك، وإنما أقحمت اللام المضيفة توكيداً للإضافة.
لاۡألا تراهم لا يقولون لا أبا فيها، ولا رقيبلاً عليها، ولا مجيري منها، وقضاء من حق المنفي في التنكير بما يظهر بها من صورة الإنفصال. وقد شبهت في أنها مزيلة ومؤكدة بتيم الثاني في يا تيم تيم عدي. والفرق بين المنفي في هذه اللغة وبينه وبين الأولى أنه في هذا معرب وفي تلك مبني، فإذا فصلت فقلت لا يدين بها لك ولا أب فيها لك، امتنع الحذف والإثبات عند سيبويه وأجازهما يونس. وإذا قلت لا غلامين ظريفين لك لم يكن بد من إثبات النون في الصفة والموصوف.
حكم صفة اسم لا :
وفي صفة المفرد وجهان أحدهما أن يبنى معه على الفتح كقولك لا رجل ظريف فيها، والثاني أن تعرب محموله على لفظه أو محله كقولك لا رجل ظريفاً فيها أو ظريف، وإن فصلت بينهما أعربت . وليس في الصفة الزائدة عليها إلا الإعراب، فإن كررت المنفي جاز في الثاني الإعراب والبناء وذلك قولك لا ماء ماء بارداً، وإن شئت لم تنون.
حكم معطوف اسم لا :
وحكم المعطوف حكم الصفة إلا في البناء.
قال:
فلا أب وابنا مثل مروان وابنه
وقال:
لا أم لي إن كان ذاك ولا أب
وان تعرف فالحمل على المحل لا غير كقولك لا غلام لك ولا العباس.
حكمه إذا كرر:
ويجوز رفعه إذا كرر قال تعالى : " فلا رفث ولا فسوق"، وقال: "لا بيع فيه ولا خلة". فإن جاء مفصولاً بينه وبين لا أو معرفة وجب الرفع والتكرير كقولك لا فيها رجل ولا امرأة، ولا زيد فيها ولا عمرو. وقولهم لا نولك أن تفعل كذا كلام موضوع موضع لا ينبغي لك أن تفعل كذا وقوله:
وأنت امرؤ منا خلقت لغيرنا حياتك لا نفع وموتك فاجع
وقوله:
قضت وطراً واسترجعت ثم آذنت ركائبها أن لا إلينا رجوعها
ضعيف لا يجيء إلا في الشعر. وقد أجاز المبرد في السعة أن يقال لا رجل في الدار ولا زيد عندنا .
إعراب لا حول ولا قوة إلا بالله وفي لا حول ولا قوة إلا بالله ستة أوجه أن تفتحهما، وأن تنصب الثاني، وأن ترفعه، وأن ترفعهما، وأن ترفع الأول على أن لا بمعنى ليس، أو على مذهب أبي العباس وتفتح الثاني، وأن تعكس هذا .
حذف اسم لا :
وقد حذف المنفي في قولهم لا عليك أي لا بأس عليك.
افعال مقاربہ ، رجاء اور شروع دیگر کتب میں4
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۴
(أفعال المقاربة والرجاء والشروع )
افعال مقاربہ دوسرے افعال کی طرح مستقل فعل نہیں ہیں بلکہ یہ کسی دوسرے مستقل فعل کے ساتھ بطور معاون ومدد گار کے آتے ہیں جیسے یکاد البرقُ يَخطَفُ أَبْصَارَهُمْ
افعال مقاربه در حقیقت افعال ناقصه ہی کی ایک قسم ہیں ، یہ بھی جملہ اسمیہ ہی ہے مبتدا و خبر پر داخل ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں ۔ مگر ان میں اور افعال ناقصہ میں فرق یہ ہے کہ ان افعال کی خبر ہمیشہ جملہ فعلیہ کی صورت میں آتی ہے ، پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فعل مضارع ہو۔ مگر افعال ناقصہ کی خبر جب کہ تم نے دیکھا مفرد اور جملہ دونوں آتے ہیں۔
معنی کے لحاظ سے افعال مقاربه تین طرح کے ہیں ۔ اور اس لحاظ سے ان کے ناموں میں بھی فرق کیا جاتا ہے ۔
(1) افعال مقاربه قربت کے معنی پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں اور وہ کاد ، کرب، اوشک ہیں (بمعنی قریب ہے کے)
(۲) افعال رجاء ۔ امید کے معنی ظاہر کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں : - عَسیٰ، حری، اخلولق (بمعنی امید ہے کہ)
(۳) افعال شروع ابتداء اور شروع کے معنی بتاتے ہیں اور وہ یہ ہیں :۔ شرع، أنشأ، أخذ ، جَعَل ، طَفِق ، عَلِق ، أَقْبَلَ ، قَامَ ، هَبَّ (بمعنی کرنا۔۔۔۔۔ شروع کیا ...... لگا)
ان افعال کی خبر میں جو مضارع کا فعل آتا ہے اس پر کبھی أن مصدریہ کا لانا ضروری ہوتا ہے اور کبھی غیر ضروری اور جائزہ ۔ اور کبھی اس کے برعکس ان کا نہ لانا ہی ضروری ہوتا ہے تفصیل حسب ذیل ہے :
باقی عبارت پڑھیں (4)
(۱)کاد اور کرب میں عموما أنۡ نہیں لایا جاتا ، مگر لانا بھی صحیح ہے۔
(۲) اوشک اور عسی میں عموما أنۡ لایا جاتا ہے مگر نہ لانا بھی صحیح ہے۔
(۳) حری اور اوشک میں أنۡ کا لایا جانا ضروری ہے۔
(۴) تمام افعال شروع میں أنۡ کا نہ لایا جانا ضروری ہے ۔
شرح مائۃ عاملشرح مائۃ عامل۔سبق:۱۱
افعال المقاربۃ
أفعال المقاربة، وإنما سميت بهذا الاسم؛ لأنها تدل على المقاربة، وهي أربعة:
الأول: عسى، وهو فعل لدخول تاء التأنيث الساكنة فيه نحو : عست، وغير متصرف؛ إذ لا يشتق منه مضارع واسما فاعل ومفعول وأمر ونهي مثلا، وعمله على نوعين: الأول: أن يرفع الاسم وهو فاعله، وينصب الخبر ويكون خبره فعلا مضارعا مع "أن" وحينئذ يكون بمعنى "قارب" نحو : عسى زيد أن يخرج، فزيد مرفوع بأنه اسمه وفاعله، وأن يخرج" في موضع النصب بأنه خبره بمعنى قارب زيد الخروج، ويجب أن يكون خبره مطابقا لاسمه في الإفراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث نحو عسى زيد أن يقوم، وعسى الزيدان أن يقوما، وعسى الزيدون أن يقوموا، وعست هند أن تقوم، وعست الهندان أن تقوما، وعست الهندات أن يقمن، وهذا أي كون الخبر مطابقا للفاعل إذا كان الفاعل اسما ظاهرا، أما إذا كان مضمرا فليست المطابقة بينهما شرطا۔ النوع الثاني من النوعين المذكورين أن يرفع الاسم وحده، وذلك إذا كان اسمه فعلا مضارعا مع "أن"، فيكون الفعل المضارع مع "أن" في محل الرفع بأنه اسمه، ويكون "عسى" حينئذ بمعنى "قرب" مثل: عسى أن يخرج زيد أي قرب خروجه فلا يحتاج في هذا الوجه إلى الخبر، بخلاف الوجه الأول؛ لأنه لا يتم المقصود فيه بدون الخبر، فيكون الأول ناقصا والثاني تاما.
والثاني: كاد، وهو يرفع الاسم وينصب الخبر وخبره فعل مضارع بغير "أن"، وقد يكون مع "أن" تشبيها له بـ "عسى " مثل: كاد زيد يجيء، فزيد مرفوع بأنه اسم "كاد"، ويجيء في محل النصب بأنه خبره، معناه: قرب مجيء زيد، و حكم باقي المشتقات من مصدره كحكم "كاد" مثل: لم يكد زيد يجيء، ولا يكاد زيد يجيء، وإن دخل على "كاد" حرف النفي ففيه خلاف قال بعضهم: إن حرف النفي فيه مطلقا يفيد معنى النفي، وقال بعضهم: إنه لا يفيده، بل الإثبات باق على حاله، وقال بعضهم: إنه لا يفيد النفي في الماضي، وفي المستقبل يفيده.
والثالث كرب، وهو يرفع الاسم وينصب الخبر، وخبره يجيء فعلا مضارعا دائما بغير "أن" نحو : كرب زيد يخرج
والرابع: "أوشك" وهو يرفع الاسم وينصب الخبر، وخبره فعل مضارع مع "أن" أو بغير "أن" مثل: أوشك زيد أن يجيء أو يجيء، وقال بعضهم: إن أفعال المقاربة سبعة، هذه الأربعة المذكورة و "جعل" و "طفق" و "أخذ" وهذه الثلاثة مرادفة لـ "كرب" وموافقة له في الاستعمال.
افعال مقاربہ ، جو اس نام سے جانی جاتی ہیں کیونکہ یہ قریب ہونے کی حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں سے چار ہیں:
باقی عبارت پڑھیں (39)
1. "عسى": -معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- پہلا نوع:
- عمل: رفع الاسم (فعل) ونصب الخبر (فعل مضارع مع "أن")۔
- مثال: "عسى زيد أن يخرج" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
- موافقت: خبر کا فاعل کے ساتھ مطابقت ہونا ضروری ہے۔
- مثال: - "عسى زيد أن يقوم" (قریب ہے کہ زید قائم ہو)۔
- "عسى الزيدان أن يقوما" (قریب ہے کہ دونوں زید قائم ہوں)۔
- "عسى الزيدون أن يقوموا" (قریب ہے کہ سب زید قائم ہوں)۔
- "عست هند أن تقوم" (قریب ہے کہ ہند قائم ہو)۔
- "عست الهندان أن تقوما" (قریب ہے کہ دونوں ہند قائم ہوں)۔
- "عست الهندات أن يقمن" (قریب ہے کہ سب ہند قائم ہوں)۔
- مطابقت: اگر فاعل ظاہر ہو، تو خبر کا فاعل کے ساتھ مطابقت ضروری ہے۔ اگر ضمیر ہو، تو مطابقت شرط نہیں۔
- دوسرا نوع:
- عمل: رفع الاسم فقط (فعل مضارع مع "أن" کے بغیر)۔
- مثال: "عسى أن يخرج زيد" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
2. "كاد":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع بغیر "أن")۔
- مثال: "كاد زيد يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے)۔
- نفی: اگر "كاد" پر حرف نفی آئے، تو بعض علماء کے مطابق، حرف نفی نفی کا مفہوم نہیں دیتا، بلکہ اثبات باقی رہتا ہے۔
- مثال: "لم يكد زيد يجيء" (زید قریب تھا کہ آئے)۔
3. "كرب":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع بغير "أن")۔
- مثال: "كرب زيد يخرج" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
4. "أوشك":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع مع "أن" یا بغیر "أن")۔
- مثال: "أوشك زيد أن يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے) یا "أوشك زيد يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے)۔
مزید افعال مقاربہ:
- "جعل"، "طفق"، "أخذ": یہ تینوں "كرب" کے مترادف ہیں اور اس کے استعمال میں مشابہت رکھتے ہیں۔
یہ افعال قریب ہونے کی حالت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور ان کی نوعیت کے مطابق فاعل اور خبر کے ساتھ ان کے استعمال میں فرق ہوتا ہے۔
النحو الواضح (ثانویہ)النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۹
مِنَ الْأَفْعَالِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ كَانَ.
(ا) أَفْعَالُ الْمُقَارَبَةِ وَهِيَ : كَادَ، وَكَرْبَ، وَأَوْشَكَ، وَتَدُلُّ عَلَى قُرْبِ وقوع الخبر
(ب) أَفْعَالُ الرَّجَاءِ وَهِيَ عَسَى، وَحَرَى، وَ اخْلَوْلَقَ، وَتَدُلُّ عَلَى رَجَاءِ وقوعِ الْخَبَرِ
(ج) أَفْعَالُ الشَُرُوعِ وَهِيَ : شَرَعَ، وَأَنْشَأَ، وَأَخَذَ، وَطَفِقَ، وَجَعَلَ وَعَلِقَ، وَقَامَ، وَأَقْبَلَ، وَهَب وَتَدُلُّ عَلَى الشُّرُوعِ وَالْبَدْءِ فِي الْخَبَرِ.
يُشْتَرَطَ فِي هَذِهِ الْأَفْعَالِ أَنْ يَكُونَ خَبَرهَا جُمْلَةٌ فِعْلِيَّةٌ فِعْلُهَا مُضَارِع مُجَرَّدٌ مِنْ أَنْ مَعَ كَادَ وَكَربَ وَأَفْعَالِ الشُّرُوعِ، مَقْرُونَ بِهَا مَعَ أَوْشَكَ وَعَسَى وَحَرَى وَ اِخْلَوْلَقَ، وَقَدْ يَقْتَرِنُ بِهَا عَلَى قِلَّةٍ فِي كَادَ وَكَرَبَ كَمَا يَتَجَرَّدُ مِنْهَا عَلَى قِلَّةٍ فِي أَوْشَكَ وَعَسَى.
مِثْلُ هَذِهِ الْأَفْعَالِ فِي عَمَلِهَا مَا تَصَرُّفَ مِنْهَا.
ان افعال سے متعلق کہ جو کان کی طرح عمل کرتے ہیں
باقی عبارت پڑھیں (20)
افعال مقاربہ اور وہ یہ ہیں ،کادَ، كَرُبَ اَوشَک اور یہ خبر کے قریب میں واقع ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
افعال رجاء اور وہ یہ ہیں ، عسی ، حری اور اخلو لق اور یہ خبر کی امید کے وقوع پر دلالت کرتے ہیں۔
افعال شروع اور وہ یہ ہیں ، شَرَعَ ، اَنشَاء أَخَذَ طَفِقَ، جَعَلَ ، عَلَقَ ، قَامَ، اقبل اور هَبَّ ہیں، اور یہ خبر کے شروع ہونے یا ابتداء ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
ان افعال میں یہ بات شرط ٹھہرائی گئی ہے کہ ان کی خبر جملہ فعلیہ ہو اور اس کا فعل مضارع جو کہ أن سے خالی ہو با وجود کاد، کرب اور افعال شروع کے ، اور ملا ہوا ہونا أن کے ساتھ باوجود اوشک، عسی، حری اور اخلولق کے ، اور کبھی فعل ملا ہوتا ہے ان کے ساتھ قلت کے معنی پر دلالت کرنے کی وجہ سے کاد اور کرب میں جیسا کہ وہ خالی ہوتا ہے اس سے قلت پر
او شک اور عسی میں ۔
انہی افعال کی طرح ہیں اس کے عمل کرنے میں ، ان سے جو گردان کو ( تصرف کو) قبول کرے۔
الأمثلة
(۱)
كادت الشَّمْسُ تَغِيبُ، كادَتِ السَّفِينَةُ أَنْ تَغْرق
كَربَ الشَّتَاءُ أَنْ يَنْقَضِي، كَربَ الْمَاءُ يَجۡمُدُ
أَوْشَكَ الْمَالُ أَنْ يَنْفَدَ ، يُوشِكُ المريض أن يبرأ
(۲)
عسى الضيق أن ينفرج ، عَسَى الصَّائِدُ أَنْ يُصِيبَ .
حرَى الغَمَامُ أَنْ يَنْقَشِعَ ، حرَى الغَائِبُ أَنْ يَحْضَرَ .
اخْلُوْلَقَ الْمُذْنِبُ أَنْ يَتُوبَ ، اخْلُوْلَقَ الْهَوَاءُ أَنْ يَعْتَدِلَ .
(۳)
شَرَعَ الطَّفْلُ يَبْكِي ، شرع الجيش يتحرك
أَنْشَأْتِ السَّماءُ تُمْطَرُ ، أَنْشَأَ الرَّعْدُ يَقْصِفُ
أخذَ الثَّوبُ يَبْلَى ، أخَذَ البناء ينهار .
تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۹
فصل اسم أفعال المقاربة
تعمل أفعال المقاربة عمل كان فترفع المبتدأ، ويسمى اسمها وتنصب الخبر ويسمى خبرها، نحو: كاد المطر يسقط
وهي ثلاثة أقسام:
أولا: ما يدل على المقاربة أي قرب وقوع الخبر ) وهي كاد، وكرب وأوشك.
ثانيا: ما يدل على رجاء وقوع الخبر وهي: عسى، وحرى، واخلولق
ثالثاً: ما يدل على الشروع والبدء في الخبر وهي طفق، وجعل وأخذ، وبدأ، وأنشأ وغيرها.
باقی عبارت پڑھیں (59)
وتسمى كلها أفعال المقاربة من باب ( تسمية الكل باسم البعض) ويشترط في هذه الأفعال
(۱) أن يكون خبرها جملة فعلية، فعلها مضارع رافع الضمير يعود إلى اسمها
(۲) وأن يـ يكون متأخرا عنها نحو كاد النهار ينقضي. ويجوز أن يتوسط خبر هذه الأفعال بينها وبين اسمها، فتقول: كاد ينقضي النهار مالم يكن الخبر مقترنا بـ " أن "وإلا فلا يجوز فيه ذلك.
يقترن خبر هذه الأفعال بـ "أن" على النحو التالي :
وجوبا مع حرى واخلولق ( معناهما هو معنى عسى مثل: حرى (أو اخلولق) الطب أن يعالج الأمراض المستعصية.
وكثيراً مع عسى وأوشك، نحو: عسى الرخاء أن يدوم، وأوشك الليل أن ينجلي.
وقليلا مع كادو كرب، مثل: كاد (أوكرب) النهار ينقضي، أو كاد (أوكرب) النهار أن ينقضي
ويمتنع اقتران خبرها بـ"أن" مع جميع أفعال الشروع، مثل: أخذ الأولاد يلعبون
أفعال المقاربة لا تتصرف أي تستعمل في الماضي فقط ) ما عدا كاد، وأوشك، فيأتي منهم المضارع، نحو قوله تعالى : يكاد البرق يخطف أبصارهم ويوشك الثمر أن ينضج.
افعال مقاربت وہ افعال ہیں جو جملہ اسمیہ پر وارد ہو کر مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، اور ان کا خبر جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔ اس میں مبتدأ کو اسم اور خبر کو خبر کہا جاتا ہے، جیسے:
"کاد المطر يسقط" (بارش قریب تھی کہ گر پڑتی)۔
افعال مقاربہ کی تین اقسام ہیں:
وہ افعال جو قریب الوقوع ہونے کا اشارہ دیتے ہیں ، یعنی ایسی خبر جو قریب الوقوع ہو۔ اس میں شامل افعال:
کاد (قریب تھا)،
کرب (بہت قریب تھا)،
أوشك (ابھی ابھی ہونے والا تھا)۔
وہ افعال جو امید یا توقع کا اظہار کرتے ہیں یعنی ایسی خبر جس کے وقوع کی امید ہو۔ اس میں شامل افعال:
عسى (شاید)،
حرى (امید ہے)،
اخلولق (ضروری ہے)۔
وہ افعال جو شروع ہونے کا اظہار کرتے ہیں یعنی ایسی خبر جو واقع ہو چکی ہو یا شروع ہو گئی ہو۔ اس میں شامل افعال:
طفق (شروع ہو گیا)،
جعل (شروع کیا)،
أخذ (لگ گیا)،
بدأ (شروع ہوا)،
أنشأ (شروع کیا) وغیرہ۔
ان تمام افعال کو "افعال مقاربت" کہا جاتا ہے، حالانکہ بعض کا تعلق شروع ہونے یا امید سے ہے، مگر مجموعی طور پر انہیں افعال مقاربہ کہا جاتا ہے۔
افعال مقاربت کے استعمال کے اصول:
خبر کا جملہ فعلیہ ہونا ضروری ہے، اور اس جملے کا فعل مضارع ہونا چاہیے جو اسم کی طرف راجع ہو۔
خبر فعل کے بعد آنا چاہیے، جیسے:"کاد النہار ینقضی" (دن ختم ہونے کو تھا)۔
البتہ اگر خبر میں "أن" نہ ہو تو یہ خبر فعل اور اسم کے درمیان آ سکتی ہے، جیسے: "کاد ینقضی النہار"(دن ختم ہونے کو تھا)۔
لیکن اگر خبر "أن" کے ساتھ ہو تو یہ فعل اور اسم کے درمیان نہیں آ سکتی۔
افعال مقاربہ کا خبر سے "أن" کے ساتھ ربط:
"أن" کا لازمی استعمال:
"حرى" اور "اخلولق" کے ساتھ، جیسے: "حرى (یا اخلولق) الطب أن يعالج الأمراض المستعصية" (امید ہے کہ طب لاعلاج بیماریوں کا علاج کرے گی)۔
اکثر "أن" کے ساتھ:
"عسى" اور "أوشك" کے ساتھ، جیسے: "عسى الرخاء أن يدوم" (شاید خوشحالی باقی رہے)
"أوشك الليل أن ينجلي" (رات ابھی ختم ہونے والی ہے)۔
کبھی کبھار "أن" کے ساتھ:
"کاد" اور "کرب" کے ساتھ، جیسے: "کاد (یا کرب) النہار ینقضی" (دن قریب تھا کہ ختم ہو جائے)
"کاد (یا کرب) النہار أن ینقضی" (دن قریب تھا کہ ختم ہو جائے)۔
"أن" کا استعمال منع ہے:
تمام افعال شروع ہونے کے ساتھ، جیسے: "أخذ الأولاد يلعبون" (بچے کھیل شروع کیے )۔
افعال مقاربہ کا تصرف (تبدیلی):
افعال مقاربہ تصرف نہیں ہوتے، یعنی یہ افعال صرف ماضی کی شکل میں استعمال ہوتے ہیں، سوائے "کاد" اور "أوشك" کے۔ یہ افعال مضارع میں بھی آ سکتے ہیں، جیسے قرآن مجید میں: "يكاد البرق يخطف أبصارهم" (قریب تھا کہ بجلی ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دے)۔
"يوشك الثمر أن ينضج"(پھل پکنے کو ہے)۔
افعال قلوب دیگر کتب میں1
شرح مائۃ عاملشرح مائۃ عامل ۔ سبق:۱۳
أفعال القلوب، وإنما سميت بها؛ لأن صدورها من القلب ولا دخل فيه للجوارح، وتسمى أفعال الشك واليقين أيضا؛ لأن بعضها للشك وبعضها لليقين، وهي تدخل على المبتدأ والخبر وتنصبهما معا بأن يكونا مفعولين لها، وهي سبعة ثلاثة منها للشك، وثلاثة منها لليقين، وواحد منها مشترك بينهما،
أما الثلاثة الأول فحسبت وظننت وخلت" مثل: حسبت زيدا فاضلا وظننت بكرا نائما، وخلت خالدا قائما، وظننت" إذا كان من الظنة بمعنى التهمة لم يقتض المفعول الثاني، مثل: ظننت زيدا أي اتهمته.
وأما الثلاثة الثانية في "علمت ورأيت و وجدت" مثل: علمت زيداً أمينا، ورأيت عمرا فاضلا ، ووجدت البيت رهينا، و "علمت" قد يجيء بمعنى عرفت نحو: علمت زيدا أي عرفته، و"رأيت" قد يكون بمعنى "أبصرت" كقوله تعالى: فَانظُرْ مَاذَا تَرَى و "وجدت" قد يكون بمعنى "أصبت" مثل: وجدت (الصافات : ۱۰۲) الضالة أي أصبتها،
فإن كل واحد من هذه المعاني لا يقتضي إلا متعلقا واحدا، فلا يتعدى إلا إلى مفعول واحد، والواحد المشترك بينهما هو "زعمت" مثل: زعمت الله غفورا، فهو لليقين، وزعمت الشيطان شكورا، فهو للشك، وفي هذه الأفعال لا يجوز الاقتصار على أحد المفعولين؛ لأنهما كاسم واحد؛ لأن مضمونهما معا مفعول به في الحقيقة، وهو مصدر المفعول الثاني المضاف إلى المفعول الأول؛ إذ معنى علمت زيدا فاضلا علمت فضل زيد، فلو حذف أحدهما كان كحذف بعض أجزاء الكلمة الواحدة، وإذا توسطت هذه الأفعال بين مفعوليها أو تأخرت عنهما جاز إبطال عملها مثل: زيد ظننت قائم، وزيدا ظننت قائما، وزيد قائم ظننت وزيدا قائما ظننت، فإعمالها وإبطالها حينئذ متساويان، وقال بعضهم: إن إعمالها أولى على تقدير التوسط وإبطالها أولى على تقدير التأخر. وإذا زيدت الهمزة في أول علمت و رأيت صارا متعديين إلى ثلاثة مفاعيل، نحو: أعلمت زيدا عمرا فاضلا، وأريت عمرا خالدا عالما، فـ "زيد" فيهما بسبب الهمزة مفعول آخر؛ لأن الهمزة للتصيير، فمعنى المثال الأول: حملت زيدا على أن يعلم عمرا فاضلا ومعنى المثال الثاني: حملت عمرا على أن يعلم خالدا عالما، وذلك مخصوص بهذين الفعلين دون أخواتهما، وهذا مسموع من العرب خلافا للأخفش، فإنه أجاز زيادة الهمزة في جميع هذه الأفعال قياسا على أعلمت" و "أريت" نحو أظننت و أحسبت و أخلت و أوجدت و أزعمت زيدا عمرا فاضلا. وأنبأ و نبأ وأخبر وخبر" أيضاً تتعدى إلى ثلاثة مفاعيل.
اعلم أنه لا يجوز حذف المفعول الأول من المفاعيل الثلاثة، لكن يجوز حذف المفعولين الأخيرين معا، ولا يجوز حذف أحدهما بدون الأخر كما مر.
أفعال القلوب، جو دل سے نکلتی ہیں اور جن میں اعضائے جسمانی کی شمولیت نہیں ہوتی۔ یہ افعال شک و یقین کو ظاہر کرتی ہیں، اور یہ مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتی ہیں، دونوں کو نصب دیتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دونوں مفعول بناتے ہیں، اور یہ سب سات افعال ہیں: تین شک کے لئے، تین یقین کے لئے، اور ایک دونوں کے لئے مشترک ہے۔
۱. شک کے افعال
باقی عبارت پڑھیں (17)
1. حسبت: مثال: "حسبت زيدا فاضلا" (میں نے زید کو فاضل سمجھا)- توضیح: "حسبت" کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کسی مخصوص حالت یا خصوصیت کے ساتھ سمجھنا۔
2. ظننت: مثال: "ظننت بكرا نائما" (میں نے بکر کو سوتا سمجھا)- توضیح: "ظننت" کے ذریعے کسی چیز کے بارے میں شکی خیال ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر "ظننت" تہمہت کے معنوں میں ہو تو دوسرا مفعول لازم نہیں ہوتا، جیسے "ظننت زيدا" (میں نے زید پر الزام لگایا)۔
3. خلت: مثال: "خلت خالدا قائما" (میں نے خالد کو کھڑا سمجھا)- توضیح: "خلت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو ایک خاص حالت میں سمجھنا، جیسا کہ "حسبت" اور "ظننت"۔
۲. یقین کے افعال
1. علمت: مثال: "علمت زيداً أميناً" (میں نے زید کو امین جانا) - توضیح: "علمت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو جاننا یا پہچاننا۔ یہ کبھی "معرفت" کے معنوں میں بھی آتا ہے، جیسے "علمت زيدا" (میں نے زید کو پہچانا)۔
2. رأيت: مثال: "رأيت عمرا فاضلا" (میں نے عمرو کو فاضل دیکھا)- توضیح: "رأيت" کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی چیز کو بصری طور پر دیکھنا یا ملاحظہ کرنا۔
3. وجدت: مثال: "وجدت البيت رهينا" (میں نے گھر کو رہن میں پایا)- توضیح: "وجدت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو ملنا یا پانا۔
۳. مشترک فعل
زعمت: مثال: "زعمت الله غفورا" (میں نے اللہ کو غفور سمجھا)- توضیح: "زعمت" یقین اور شک دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یاد دہانی:
- ان افعال کا مفعول اول اور مفعول دوم دونوں کی موجودگی ضروری ہے کیونکہ دونوں مل کر اصل مفعول بنتے ہیں، مثلاً "علمت زيدا فاضلا" کا مطلب ہے "علمت فضل زيد" (میں نے زید کے فضل کو جانا)۔
- اگر ان افعال کو مفعولوں کے درمیان یا بعد میں رکھا جائے تو ان کا کام ہونا متنازع ہوسکتا ہے، جیسے "زيد ظننت قائما" یا "زيدا ظننت قائما"۔
- علمت اور رأيت میں اگر ہمزہ لگائی جائے تو یہ تین مفاعیل تک پھیل سکتے ہیں: "أعلمت زيدا عمرا فاضلا" اور "أريت عمرا خالدا عالما"۔
- أنبأ، نبأ، أخبر، اور خبر بھی تین مفاعیل تک پھیل سکتے ہیں۔
نوٹ: حذف مفعول اول، اگر تین مفاعیل ہوں، جائز نہیں، لیکن دو مفعولوں کو حذف کرنا ممکن ہے۔
لاسیما دیگر کتب میں1
النحو الواضح (ثانویہ)النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۳
لا سیما
يُؤْتَى بِتَركِيبِ لاسِيَّمَا لِتَفْضِيلِ مَا بَعْدَهَا عَلَىٰ مَا قَبْلَهَا فِي الحكم
الْاِسْمُ الْوَاقِعُ بَعْدَ لَا سِيَّمَا إِنْ كَانَ مَعْرِفَةٌ جَازَ فِيهِ الرَّفْعُ وَالْجَرُّ لَيْسَ غَيْرُ، وَإِنْ كَانَ نَكِرَةً جَازَ فِيْهِ أَوْجُهُ الْإِعْرَابِ الثَّلَاثَةِ.
لا سیما کا مرکب کلمہ اس کے مابعد کی ماقبل پر فضیلت کو ظاہر کرنے کے حکم میں لایا جاتا ہے۔
وہ اسم جو کہ لا سیما کے بعد واقع ہو اگر وہ معرفہ ہو تو اس میں صرف رفع اور جر ہی جائز ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ، اور اگر وہ نکرہ ہو تو اس میں تینوں اعراب کے طریقے جائز ہیں۔
الأمثلة
باقی عبارت پڑھیں (7)
(1) أُحِبُّ رِجال الأدب ولا سيما الشعراءُ أو الشعراءِ .
(۲) أُعْجَبْتُ بالجَيْشِ وَلَا سِما قَائِدُهُ أو قَائِدِهِ .
(۳) سَاعِدِ النَّاسَ وَلا سيما الفُقَرَاءُ أو الفقراءِ
( ٤ ) يُكافأُ المُجدون ولا سيما مُجِدٌ خُلُقُه كَرِيمٌ أَو مُجدِّ أَوْ مُجدا
( ٥ ) أُحِبُّ سُكْنَى الْقُرَى ولا سيما قَرْيَةٌ عَلَى النيل أو قريةٍ أو قريةً .
( ٦ ) أَجَادَ الخُطَبَاءُ ولا سيما خطيبٌ حديث السن أو خطيبٍ أو خطيباً
جملہ فعلیہ دیگر کتب میں4
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۹
كُلُّ جُمْلَةٍ تَتَرَكَّبُ مِنْ فِعْلٍ وفَاعِلٍ تُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً.
ہر وہ جملہ جو فعل اور فاعل سے بنا ہو جملہ فعلیہ کہلاتا ہے
الامثلة
- لَمَعَ البَرْقُ
- عَوَى الذِّئْبُ
- يَسْقُطُ الثَّلْجُ
- يَشْتَدُّ البَرْدُ
- أَقْطِفُ الوَرْدَةَ
- خُذِ الكِتَابَ
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۷
جمله فعلیه : جیسے قامَ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہے) یا يَقُومُ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) یہ سب جملہ فعلیہ ہیں کیونکہ ان کا پہلا جز فعل ہے۔ جملہ فعلیہ اس مرکب تام (جملہ مفیدہ) کو کہتے ہیں جس کی ابتداء فعل سے ہو جیسے جَاءَ الْأَمِيرُ، يَأْكُلُ الْوَلَدُ الْخُبْرَ
(۱) جملہ فعلیہ فعل ، فاعل اور مفعول سے ملکر بنتا ہے۔
(۲) فاعل اور مفعول دونوں ہی اسم ہوا کرتے ہیں۔
(۳) فاعل ہمیشہ مرفوع اور مفعول ہمیشہ منصوب ہوا کرتا ہے۔
(۴) جملہ فعلیہ میں پہلے فعل پھر فاعل اور سب سے آخر میں مفعول لایا جاتا ہے۔ لیکن مفعول کبھی فاعل سے پہلے اور ضرورۃ فعل سے پہلے بھی آتا ہے البتہ فاعل اپنے فعل سے پہلے نہیں آ تا:-
فاعل کے اعتبار سے فعل کی تذکیر و تانیث اور وحدت وجمع کا قاعدہ:
(۵) فعل کا فاعل جب کوئی اسم ظاہر ہو (یعنی ضمیر نہ ہو ) تو ہر حال میں فعل واحد ہی آئے گا، خواہ فاعل واحد ہو یا تثنیہ ہو یا جمع ہو جیسے
جَاءَ رَجُلٌ، جَاءَ رَجُلَانِ،جَاءُ رِجَالٌ،
باقی عبارت پڑھیں (7)
جَاءَتْ امْرَأَةٌ، جَاءَتْ امْرَأَنَانِ، جَاءَتْ نِسَاءُ
(۶) جب فعل کا فاعل کوئی اسم ظاہر نہ ہو بلکہ فاعل ضمیر ہی ہو تو پھر فعل اپنے ضمیر کے مطابق ہی آئے گا یعنی واحد کے لئے واحد اورتثنیه اور جمع کے لئےتثنیه و جمع جیسے
الْوَلَدُ قَامَ ، الْوَلَدَانِ قَامَا ، الْأَوۡلَادُ قَامُوا -
فائدہ: قام ، قَامَا، قَامُوا تینوں میں علی الترتیب واحد تثنیہ اور جمع کی ضمیر ہیں اور یہی ان افعال کے فاعل ہیں، رہے، الوَلَدُ الوَلَدَانِ اور الاولاد تو یہ سب مبتداء ہیں نہ کہ فاعل
فعل کی تذکیر و تانیث
(۷) افعال کی تذکیر و تا نیث میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر فاعل مذکر ہو تو فعل بھی مذکر لایا جاتا ہے اور اگر فاعل مونث ہو تو فعل بھی مؤنث لانا چاہئے جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں رجل کے لئے جاء فعل مذکر اورامرأۃ کے لئے جاءت فعل مؤنث لایا گیا ہے۔
(۸) فاعل اگر کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو فعل واحد مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر عاقل کی جمع واحد مونث ہی کے حکم میں ہوتی ہے۔ اس لئے مبتدا یا موصوف جب کسی غیر عاقل کی جمع ہوں تو خبر اور صفت عموماً واحد مونث ہی لائی جاتی ہے۔
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۲) سبق:۱
(ب) : - جملہ فعلیہ ، ایسا جملہ جو فعل سے شروع ہوتا ہے ۔ جیسے خَرَجَ بِلال . ( بلال نکلا )
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۳) سبق:۱۰
جملہ فعلیہ
جملہ فعلیہ کے آغاز کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوں گی :
۱۔ فعل تام، جیسے: طَلَعَتِ الشَّمْسُ : سورج طلوع ہوا۔
فعل تام اس فعل کو کہتے ہیں جس کے بعد فاعل آئے، جیسے: جَلَس، نَامَ، دَخَلَ، خَرَجَ وغیرہ۔
۲۔ فعل ناقص، جیسے: كَانَ الْجَرُّ بَارِدًا:موسم خنک تھا۔
فعل ناقص اس فعل کو کہتے ہیں جس کے بعد اسم اور خبر آئے، جیسے: صَارَ الْمَاءُ ثلْجا پانی برف بن گیا -
٣۔ طَفِقَ بِلال يَكْتُبُ بلال لکھنے لگا۔ طفق فعل ناقص ہے، اس جملہ میں بلال اس کا اسم ہے، اور جملہ: يَكْتُبُ اس کی خبر ، خبر میں فعل لازما مضارع ہوگا ، أَخَذَ اور جَعَلَ افعال بھی اسی طرح انہیں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے:
أَخَذَ الْمُدَرِّسُ يَشْرَحُ الدَّرْسَ:استاذ سبق سمجھانے لگے۔
جَعَلْتُ آكُلُ:میں کھانے لگا ( میں نے کھانا شروع کیا)۔
یہاں ضمیر«ت» اس کا اسم ہے اور جملہ اکل خبر ہے۔
2 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱
التَّركيبُ الَّذي يُفيدُ فائِدةً تامَّةً يُسمَّى جُملةً مُفيدةً ويُسمَّى أيضًا كلامًا.
الجملةُ المفيدةُ قدْ تترَكَّبُ منْ كَلِمتَينِ وقدْ تترَكَّبُ منْ أكثَرَ، وكُلُّ كلمةٍ فيها تُعَدُّ جُزءًا مِنها.
جس مرکب کےسننے سے پورا فائدہ پہنچے وہ جملہ کہلاتا ہے اور جملے کو کلام بھی کہتے ہیں۔
جملہ کبھی دو کلموں سے بنتا ہے اور کبھی دو سے زیادہ کلمات سے اور اس کے ہر ایک کلمہ کو جملہ کا جز ماناجاتا ہے۔
الامثلۃ
- البُسْتانُ جَميلٌ.
- الشَّمْسُ طالِعَةٌ.
- شَمَّ عَلِيٌّ وَرْدَةً.
- قَطَفَ مُحَمَّدٌ زَهْرَةً.
- يَعيشُ السَّمَكُ في الماءِ.
- يَكْثُرُ النَّخيلُ في اَقْليمِ مِصْرَ.
3 تمارین
4 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱
التمرين (۱)
اقْرَأِ ٱلْأَمْثِلَةَ ٱلسَّابِقَةَ وَبَيِّنْ عَدَدَ ٱلْكَلِمَاتِ فِى كُلِّ مِثَالٍ
التمرين (۲)
اقْرَأِ ٱلْجُمَلَ ٱلْآتِيَةَ وَبَيِّنْ ٱلْكَلِمَاتِ فِى كُلِّ وَاحِدَةٍۢ مِّنْهَا:
1. ٱلسَّمَاءُ مُمطِرَةٌۭ
2. ٱلْحَجِيقَةُ جَمِيلَةٌۭ
3. يَنْقَطِعُ ٱلْمَطَرُ
4. يَسِيرُ ٱلْحِسَابُ
5. تَطْلُعُ ٱلشَّمْسُ
6. تَجِفُّ ٱلْأَرْضُ
7. ٱلطَّائِرُ فَوْقَ ٱلشَّجَرَةِ
8. يَقْطِفُ عَلَى ٱلْأَزْهَارِ
9. يَلْعَبُ ٱلْغُلَمَانُ بِٱلْكُرَةِ
10. يَنْزِلُ ٱلْمَطَرُ مِنَ ٱلسَّمَاءِ
11. تَسِيرُ ٱلسُّفُنُ فِى ٱلْبِحَارِ
12. يَشْتَدُّ ٱلْبَرْدُ فَوْقَ ٱلْجِبَالِ
التمرين (۳)
مِيزْ ٱلْجُمَلَ ٱلْمُفِيدَةَ فِى ٱلتَّرَاكِيبِ ٱلْآتِيَةِ:
1. لَيْسَ ٱلْجَوُّ
2. أَكَلَ فَرِيدٌۭ
3. ٱلْقِطَارُ سَرِيعٌۭ
4. إِنْ أَجْتَهِدْ
5. لَيْتَ ٱلْمَرِيضَ
6. ٱلثَّوْبُ نَظِيفٌۭ
7. ٱلْكِتَابُ ٱلَّذِى
8. ٱلْبِنْتُ ٱلْمُتَعَلِّمَةُ
التمرين (٤)
اِجْعَلْ كُلَّ مِثَالٍۢ مِّنَ ٱلْأَمْثِلَةِ ٱلْآتِيَةِ جُمَلَةًۭ مُفِيدَةًۭ يُوضَعُ فِيهَا كَلِمَةٌۭ مُلَائِمَةٌۭ فِى ٱلْمَكَانِ ٱلْخَالِى:
1. ٱلْعُصْفُورُ ...... ٱلْقَفَصِ.
2. ٱلْوَلَدُ ٱلْمُهَذَّبُ ........
3. ٱلْوَلَدُ ...... ٱلْفَاكِهَةِ.
4. ٱلْحِذَاءُ ٱلضَّيِّقُ.........
5. ٱلثَّوْرُ ...... ٱلْأَرْضِ.
التمرين (٥)
ضَعْ كُلَّ كَلِمَةٍۢ مِّنَ ٱلْكَلِمَاتِ ٱلْآتِيَةِ فِى جُمَلَةٍۢ مُفِيدَةٍۢ مَّرْكَّبَةٍۢ مِّنْ كَلِمَتَيْنِ:
ٱلْحَدِيقَةُ ، ٱلشَّجَرَةُ ، ٱلْأَزْهَارُ ، ٱلشَّمْسُ ،ٱلْمَاءُ ، ٱلْفَاكِهَةُ ، يَلْعَبُ ، يَرْكَبُ
التمرين (٦)
اِتِ بِثَلاثِ جُمَلٍۢ كُلٍّۢ مِّنْهَا مَرْكَّبَةٍۢ مِّنْ كَلِمَتَيْنِ، وَبِثَلاثٍۢ كُلٍّۢ مِّنْهَا ثَلاثِ كَلِمَاتٍۢ، ثُمَّ بِثَلاثٍۢ كُلٍّۢ مِّنْهَا أَرْبَعِ كَلِمَاتٍۢ.
5 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
6 جملہ اسمیہ
جملہ اسمیہ عربی زبان میں ایک ایسا جملہ ہوتا ہے جو اسم (یعنی کسی شخص، چیز، یا حالت کا نام) سے شروع ہوتا ہے۔ یہ جملہ کسی خبر یا اطلاع کو بیان کرتا ہے اور اس میں مبتدأ اور خبر ہوتے ہیں۔
:جملہ اسمیہ کی تعریف
جملہ اسمیہ وہ جملہ ہے جو اسم سے شروع ہو اور اس کا مقصد کسی چیز یا شخص کے بارے میں کوئی بات یا خبر دینا ہو۔ اس میں دو بنیادی اجزاء ہوتے ہیں
مبتدأ: جملہ کا وہ حصہ جو کسی چیز یا شخص کا ذکر کرتا ہے، یعنی وہ اسم جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہو۔
خبر: جملہ کا وہ حصہ جو مبتدأ کے بارے میں کوئی خبر دیتا ہے یا اسے بیان کرتا ہے۔
:جملہ اسمیہ کی مثالیں
اللّٰهُ غفورٌ (اللہ بخشنے والا ہے) یہاں "اللّٰه" مبتدأ ہے، اور "غفورٌ" خبر ہے۔
الطالبُ مجتهدٌ (طالب علم محنتی ہے) یہاں "الطالب" مبتدأ ہے، اور "مجتهدٌ" خبر ہے۔
:جملہ اسمیہ کے مزید اجزاء
مبتدأ ہمیشہ اسم ہوتا ہے اور جملے کے شروع میں آتا ہے۔
خبر میں یا تو ایک اسم، صفت، یا کبھی فعل بھی ہو سکتا ہے، جس سے مبتدأ کی کیفیت یا حالت واضح ہوتی ہے۔
7 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱۰
كلُّ جُملةٍ تَتَرَكَّبُ من مُبتدَأٍ وخَبَرٍ تُسَمَّى جُملةً اسميَّةً.
ہر وہ جملہ جو مبتداء اور خبر سے مرکب ہو جملہ اسمیہ کہلاتا ہے۔
الامثلة
- الدَّارُ وَاسِعَةٌ
- الجَوُّ مُعْتَدِلٌ
- الغُبَارُ ثَائِرٌ
- الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ
- الطَّرِيقُ ضَيِّقَةٌ
- الفَأْرَةُ مُخْتَبِئَةٌ
8 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۶
جملہ اسمیہ: جیسے: الْوَلَدُ قَائِمٌ (لڑکا کھڑا ہے) یا الوَلَدُ يَقُومُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) فَاطِمَةٌ جَالِسَةٌ ( فاطمہ بیٹھی ہے ) یا فَاطِمَةُ تَجْلِسُ (فاطمہ بیٹھتی ہے) یہ سب جملہ اسمیہ ہمیں کیونکہ ان کا پہلا جز اسم ہے۔ جملہ اسمیہ: مبتداء و خبر کہلاتا ہے اس کے پہلے جز کو مبتداء اور دوسرے جز کو خبر کہتے ہیں الْوَلَدُ قَائِم میں الولد مبتدا اور قائم خبر ہے اور اسی طرح الْوَلَدُ يَقُومُ میں الْوَلَدُ . مبتداء اور یقوم اس کی خبر ہے۔
9 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۱
جملہ اسمیہ ، ایسا جملہ جو اسم سے شروع ہوتا ہے۔ جیسے الْكِتَابُ سَهْل. (کتاب آسان ہے) ایسے جملوں میں پہلے جزء کو مبتدا اور دوسرے کو خبر کہتے ہیں۔
10 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۱۰
عربی میں جملوں کی دو قسمیں ہوتی ہیں: جملہ اسمیہ اور جملہ فعلیہ،
جملہ اسمیہ اسم سے شروع ہوتا ہے، جیسے: اَلْبَيْتُ جَمِيلٌ گھر خوبصورت ہے ۔
اور جملہ فعلیہ فعل سے شروع ہوتا ہے، جیسے: دَخَلَ الْمُدَرِّسُ استاذ داخل ہوئے۔
ان دونوں کی کچھ مزید تفصیلات یہ ہیں:
جملہ اسمیہ کی ابتدا میں ذیل میں سے کوئی کلمہ ہو گا :
ا۔ اسم یا ضمیر ، جیسے: هَذِهِ مَدْرَسَةٌ، أَنَا مُجْتَهِدٌ، اللَّهُ غَفُوْرٌ.
۲۔ مصدر مؤول ( اَنۡ اور مضارع سے بنی ہوئی ترکیب جو مصدر کی طرح عمل کرے) جیسے :وَأنْ تَصُوْمُوْا خَيْرٌ لَكُمْ.تم روزہ رکھو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔
۳۔ حروف مشبه بالفعل، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُوْرٌ رَّحِيمٌ.بے شک اللہ بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے۔
11 تمارین
12 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۶
اَلتَّمْرِيْنُ (29)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَلْوَلَدُ بَاسِمٌ
(2) اَلشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ
(3) اَلْمَاءُ رَائِقٌ
(4) اَلْهَوَاءُ نَقِيٌّ
(5) اَلْمِنْضَدَتَانِ جَمِيْلَتَانِ
(6) فَاطِمَةُ نَظِيْفَةٌ
(7) اَلْجُنْدِيَّانِ قَوِيَّانِ
(8) اَلْقُضَاةُ عَادِلُوْنَ
(9) اَلْوَرْدَةُ مُفَتَّحَةٌ
(10) اَلْاَزْهَارُ نَاضِرَةٌ
(11) اَلْوَرَقُ نَاعِمٌ
(12) اَلْحَدِيْقَتَانِ مُثْمِرَتَانِ
(13) اَلْغُرُفَاتُ مُضِيْئَةٌ
(14) اَلْاُمَّهَاتُ مُشْفِقَاتٌ
(15) اَلْمُعَلِّمُوْنَ جَالِسُوْنَ
(16) اَلرُّسُلُ صَادِقُوْنَ
اَلتَّمْرِيْنُ (30)
خالی جگہیں پر کرو:
(۱) اَلْقَمَرُ __________
(2) اَلنُّجُوْمُ __________
(3) اَلْحَدِيْقَةُ ___________
(4) اَلشَّجَرَتَانِ __________
(5) اَلْاَبْوَابُ _________
(6) اَلنَّوَافِذُ __________
(7) اَلسَّمَاءُ _________
(8) اَلضَّيْفَانِ ___________
(9) اَلْبِنْتَانِ _________
(10) اَلتِّلْمِيْذَاتُ __________
(11) اَلصَّبِيَّةُ __________
(12) اَلْمُسَافِرُوْنَ _________
اَلتَّمْرِيْنُ (31)
خالی جگہیں پر کرو:
(1) _________ نَاعِمٌ
(2) __________ بَاسِمَةٌ
(3) _________ طَوِيْلَانِ
(4) _________ مَمْلُوْءَتَانِ
(5) _________ مَسْرُوْرُوْنَ
(6) _________ شَامِخَاتٌ
(7) _________ مُتَلَاْلِئَةٌ
(8) __________ خَضْرَاءُ
(9) _________ نَائِمَةٌ
(10) __________ مُضِيْئَتَانِ
(11) _________ مُسَافِرَاتٌ
(12) _________ مُكْرَمُوْنَ
اَلتَّمْرِيْنُ (32)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) موسم خوشگوار ہے
(۲) پھول کھلے ہیں
(۳) کھیتیاں سبز و شاداب ہیں
(۴) پتیاں ہری ہیں
(۵) رات ٹھنڈی ہے
(۶) سردی سخت ہے
(۷) ہوا تیز ہے
(۸) دروازے بند ہیں
(۹) دونوں کھڑکیاں کھلی ہیں
(۱۰) بچے سورہے ہیں
(۱۱) دونوں پہریدار جاگ رہے ہیں
(۱۲) زینب بھوکی ہے
(۱۳) بلی پیاسی ہے
(۱۴) دونوں گھڑیاں بند ہیں
(۱۵) لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں
(۱۶) مزدور مسلمان ہیں
(۱۷) سڑکیں کشادہ ہیں
(۱۸) باغات گھنے ہیں
(۱۹) آسمان ابرآلود ہے
(۲۰) اسٹیشن قریب ہے
(۲۱) طلبہ محنتی ہیں
(۲۲) اساتذہ رحم دل ہیں
اَلتَّمْرِيْنُ (33)
(مبتدا جب کہ ضمیر ہو)
اردو میں ترجمہ کرو:
(۱) اَنَا تِلْمِيْذٌ
(2) اَنْتَ خَطِيْبٌ
(3) هُوَ شَاعِرٌ
(4) اَنْتُمَا صَدِيْقَانِ
(5) هُمَا عَالِمَتَانِ
(6) اَنْتُمَا مُسْلِمَتَانِ
(7) هُنَّ صَادِقَاتٌ
(8) هِيَ بَاكِيَةٌ
(9) هُمَا اَخَوَانِ
(10) اَنْتِ حَزِيْنَةٌ
(11) هُمْ مُسَافِرُوْنَ
(12) اَنْتُنَّ صَائِمَاتٌ
(13) اَنْتُمْ ضُيُوْفٌ
(14) نَحْنُ مَسْرُوْرُوْنَ
اَلتَّمْرِيْنُ (34)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) آپ دونوں مہمان ہیں
(۲) میں میزبان ہوں
(۳) آپ لوگ نیکوکار ہیں
(۴) ہم دونوں دوست ہیں
(۵) ہم لوگ مسلمان ہیں
(۶) تو سچا ہے
(۷) وہ جھوٹی ہے
(۸) آپ دونوں بیٹھی ہیں
(۹) میں کھڑی ہوں
(۱۰) وہ دونوں سوئی ہوئی ہیں
(۱۱) آپ استانیاں ہیں
(۱۲) وہ سب طالبات ہیں
(۱۳) تم دونوں کھلاڑی ہو
(۱۴) وہ دونوں بڑھئ ہیں
اَلتَّمْرِيْنُ (35)
اردو میں ترجمہ کرو:
(۱) هَذَا مَطْبَخٌ وَهَذِهِ اَدْوَاتُهُ
(2) ذَلِكَ مَوْقِدٌ وَهَذَا تَنُّوْرٌ
(3) هَذِهِ قِدْرٌ وَهَذَا غِطَاؤُهَا
(4) تِلْكَ مِخْبَزَةٌ وَهٰذِهِ مِقْلاَةٌ
(5) هَذَانِ اِبْرِيْقَانِ وَتِلْكَ جَرَّةٌ
(6) هَاتَانِ مِلْعَقَتَانِ وَتْلَكَ مِغْرَفَةٌ
(7) ذَانِكَ قَدَحَانِ وَهَذِهِ قَصْعَةٌ
(8) تَانِكَ قَصْعَتَانِ وَهَذِهِ صُحُوْنٌ
(9) هَذِهِ فَنَاجِيْنُ وَتِلْكَ كُؤُوْسٌ
(10) هَؤُلَاءِ طُهَاةُ الْمَطْعَمِ وَاُوْلَئِكَ خَبَّازُوْنَ
(11) اُوْلَئِكَ خَادِمُ الْمَقْهَى وَهَذَا طَبَّاخٌ
(12) هَذِهِ آنِيَةُ الْمَطْبَخِ وَاَدَوَاتُهُ
اَلتَّمْرِيْنُ (36)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) یہ قلم ہے اور یہ اس کا نب ہے
(۲) یہ دوات ہے اور وہ اس کا ڈھکنا ہے
(۳) وہ کتاب ہے اور یہ کاپی ہے
(۴) وہ تختہ سیاہ ہے اور یہ سلیٹ ہے
(۵) یہ دونوں استاد ہیں
(۶) یہ دونوں طالبات ہیں
(۷)وہ دونوں طالبِ علم ہیں اور یہ ان کے والد ہیں
(۸) وہ لڑکیوں کا مدرسہ ہے
(۹) یہ سب درجہ سوم کے طلبہ ہیں
(۱۰) وہ لوگ دارالعلوم کے اساتذہ ہیں
(۱۱) وہ سب مسلمان لڑکیاں ہیں
(۱۲) یہ سب لڑکیوں کے مدرسہ کی استانیاں ہیں
اَلتَّمْرِيْنُ (37)
(مبتدا ترکیب توصیفی و ترکیب اضافی کی صورت میں)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَلتِّلْمِيْذُ الْمُجْتَهِدُ نَاجِحٌ
(2) اَلْوَلَدُ اللَّعُوْبُ غَائِبٌ
(3) مَسْجِدُ دَارِ الْعُلُوْمِ جَمِيْلٌ
(4) مَنَارَتَا الْمَسْجِدِ عَالِيَتَانِ
(5) هَذِهِ السَّاعَةُ وَاقِفَةٌ
(6) عَقْرَبَا السَّاعَةِ لَامِعَانِ
(7) سِبَابُ الْمُؤْمِنِ فُسُوقٌ وَقِتَالُهُ كُفْرٌ
(8) إِمَاطَةُ الْاَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ صَدَقَةٌ
(9) تِلْكَ الْبَقَرَةُ السَّوْدَاءُ حَلُوبٌ
(10) هَاتَانِ الشَّجَرَتَانِ مُثْمِرَتَانِ
(11) ذَانِكَ التِّلْمِيْذَانِ مُجْتَهِدَانِ
(12) اُوْلَئِكَ الْاَسَاتِذَةُ عَطُوْفُوْنَ
اَلتَّمْرِيْنُ (38)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) سچا لڑکا پیارا ہے
(۲) محنتی لڑکے کامیاب ہیں
(۳) انسان کی زندگی ڈھلتی چھاؤں ہے
(۴) مغربی تہذیب ،لعنت ہے
(۵) اسلامی نظام رحمت ہے
(۶) مصر کے مسلمان مالدار ہیں
(۷) چاندنی راتیں دل کش ہیں
(۸) فرید کے ماموں ڈاکٹر ہیں
(۹) تمہارے دونوں بھائی، تاجر ہیں
(۱۰) خالد کا دوست، وکیل ہے
(۱۱) یہ کمرہ تاریک ہے
(۱۲) وہ دونوں روشندان بند ہیں
(۱۳) تیری ٹوپی سیاہ اور قمیص سفید ہے
(۱۴) یہ لڑکیاں، مسلمان ہیں
اَلتَّمْرِيْنُ (39)
(خبر ترکیب توصیفی وترکیب اضافی میں)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَلْاِسْلَامُ دِيْنٌ قَيِّمٌ
(2) اَلْقُرْآنُ كِتَابُ اللهِ
(3) اَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ الْاَنْبِيَاءِ
(4) خَيْرُ السُّنَنِ، سُنَّةُ مُحَمَّدٍ (صلى الله عليه وسلم)
(5) رَاْسُ الْحِكْمَةِ مَخَافَةُ اللهِ
(6) الهِنْدُ بِلاَدٌ خَصْبَةٌ
(7) اليَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلىَ
(8) رَشَادٌ تِلْمِيْذٌ مُجْتَهِدٌ
(9) اِقْبَالٌ، شَاعِرٌ اِسْلَامِيٌّ
(10) هٰذِهِ سَاعَةٌ ثَمِيْنَةٌ
(11) ذَلِكَ قَصْرٌ مَشِيْدٌ
(12) اُوْلَئِكَ، نِسْوَةٌ مُؤْمِنَاتٌ
(13) هَذِهِ تَرنِيْمَةُ الْاَطْفَالِ
اَلتَّمْرِيْنُ (40)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) جھوٹ بری عادت ہے
(۲) فاطمہ، اچھی لڑکی ہے
(۳) اکبر ،دل چسپ آدمی ہے
(۴) حامد اور ہشام محنتی لڑکے ہیں
(۵) یہ لوگ شرارت پسند ہیں
(۶) تم لوگ اخبار بیچنے والے ہو
(۷) کتا وفادار جانور ہے
(۸) موٹر تیزرفتار سواری ہے
(۹) بلی چوہوں کی شکاری ہے
(۱۰) یہ دونوں میرے ماموں زاد بھائی ہیں
(۱۱) وہ میری خالہ زاد بہن ہے
(۱۲) یہ تیراچچا زاد بھائی ہے
(۱۳) وہ پاکستانی سفیر ہے
(۱۴) یہ لوگ مصری نمائندے ہیں
(۱۵) یہ ایک عربی رسالہ ہے
(۱۶) وہ آدمی ایک اخبار کا ایڈیٹر ہے
(۱۷) یہ تحریک ایک دینی تحریک ہے
(۱۸) یہ لوگ ہمارے مدرسہ کے معلم ہیں
13 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۱۰
التمرين (١)
(١): كَوِّنْ جُمَلًا اسميَّةً بوَضْعِ أخبارٍ للمبتدَآتِ الآتية:
النَّخْلَةُ ، المَدْرَسَةُ ، الثَّوْبُ ، الحِذَاءُ ،الجَمَلُ ، الفِيلُ ، الثُّعْبَانُ ، الخَادِمُ
(٢): كَوِّنْ جُمَلًا اسميَّةً بوَضْعِ مُبتدَآتٍ للأخبارِ الآتية:
حُلْوٌ ، مُرٌّ ، مُسْتَدِيرَةٌ ، طَوِيلٌ ، سَرِيعٌ ، جَمِيلٌ ، مُفْتَرِسٌ ، خَائِفٌ ، مُشْرِقَةٌ ، مُظْلِمَةٌ ، جَافٌّ ، بَارِدٌ
التمرين (٢)
كَوِّنْ من الكلماتِ الآتيةِ جُمَلًا اسميَّةً تتألَّفُ كُلُّ واحدةٍ منها من مُبتدَأٍ وخَبَرٍ:
الثَّوْبُ ، المَيْدَانُ ، مُغْلَقٌ ، مُشْتَعِلَةٌ ، مُمَزَّقٌ ، ذَابِلَةٌ ، الزَّهْرَةُ ، النَّارُ ، مَحْلُوجٌ ، البَابُ ، القُطْنُ ، فَسِيحٌ
التمرين (٣)
كَوِّنْ ستَّ جُمَلٍ اسميَّةً بحيثُ يكونُ المُبتدَأُ في كُلِّ جُمْلَتَيْنِ مرَّةً من الإنسانِ ومرَّةً من الحيوانِ وثالثةً من النَّبَاتِ:
التمرين (٤)
اقرأ الأمثلةَ السَّابقةَ وبيِّن عددَ الكلماتِ في كُلِّ مثالٍ:
١. الماءُ رَائِقٌ
٢. يَسْقُطُ الجِدَارُ
٣. البَرْدُ قَارِسٌ
٤. يَشْتَدُّ الحَرُّ في الصَّيْفِ
٥. جَنَى الفَلَّاحُ القُطْنَ
٦. يَجُولُ التَّاجِرُ في البَلَدِ
٧. يُسْرِجُ الخَادِمُ الحِصَانَ
٨. الزُّجَاجُ مَكْسُورٌ
٩. القِطُّ جَائِعٌ
١٠. النَّوَافِذُ مُفَتَّحَةٌ
١١. تَزْدَحِمُ المَدِينَةُ
١٢. يَنْزِلُ المَطَرُ من السَّمَاءِ
التمرين (٥)
حَوِّلِ الجُمَلَ الاسميَّةَ إلى جُمَلٍ فِعليَّةٍ:
١. الوَلَدُ نَائِمٌ
٢. الكِتَابُ نَافِعٌ
٣. البَحْرُ هَائِجٌ
٤. الشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ
٥. الحُجْرَةُ مُظْلِمَةٌ
٦. المَطَرُ كَثِيرٌ
التمرين (٦)
حَوِّلِ الجُمَلَ الفِعْلِيَّةَ الآتيةَ إلى جُمَلٍ اسميَّةٍ:
١. ضَاعَ المِفْتَاحُ
٢. أَسْرَعَ القِطَارُ
٣. زَادَ النِّيلُ
٤. يُثْمِرُ البُسْتَانُ
٥. يُغَرِّدُ الطَّائِرُ
٦. يُضِيءُ المِصْبَاحُ
التمرين في الإنشاء (٢)
أَجِبْ عن الأسئلةِ الآتيةِ بجُمَلٍ تَامَّةٍ وبيِّنْ نوعَ كُلِّ جُمْلَةٍ تُجِيبُ بها:
١. ما شَكْلُ البُرْتُقَالَةِ؟
٢. ما لَوْنُهَا؟
٣. أَنَاعِمَةٌ هي أَمْ خَشِنَةٌ؟
٤. هَلْ أَكَلْتَ بُرْتُقَالَةً؟
٥. كَيْفَ وَجَدْتَ طَعْمَهَا؟
٦. بِكَمْ تُشْتَرَى البُرْتُقَالَةُ؟
14 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
15 نواسخ جملہ اسمیہ
نواسخ جملہ اسمیہ وہ افعال اور حروف ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کی ساخت میں تبدیلی کرتے ہیں۔ جملہ اسمیہ عام طور پر مبتدأ (موضوع) اور خبر (جو اس کے بارے میں کہا گیا) پر مشتمل ہوتا ہے، اور دونوں مرفوع حالت میں ہوتے ہیں۔ نواسخ جب جملہ اسمیہ میں داخل ہوتے ہیں تو مبتدأ یا خبر میں اعراب (اعراب: یعنی مرفوع، منصوب وغیرہ) کی تبدیلی آتی ہے۔
نواسخ جملہ اسمیہ کی دو اہم اقسام ہیں: افعال ناقصہ ، (افعال ناسخہ) حروف مشبہ بالفعل
:افعال ناقصہ (افعال ناسخہ)
افعال ناقصہ وہ افعال ہیں جو جملہ اسمیہ میں داخل ہو کر مبتدأ کو مرفوع رکھتے ہیں اور خبر کو منصوب کر دیتے ہیں۔ یہ افعال معنی کے اعتبار سے ناقص ہوتے ہیں، یعنی ان کا مکمل مطلب خبر کے بغیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان افعال کا جملہ پر داخلہ جملہ کے مبتدأ اور خبر کے اعراب کو تبدیل کرتا ہے۔
كانَ (تھا) ، صارَ (ہو گیا) ، أصبحَ (صبح کو ہوا) ، أمسَی (شام کو ہوا) ، ظلَّ (دن کو رہا) ، باتَ (رات کو رہا) ،ليسَ (نہیں ہے) ، ما زالَ (اب تک ہے) ، ما دامَ (جب تک ہے)
افعال ناقصہ کی مثالیں:
كانَ الطالبُ مجتهداً : "كانَ" فعل ناقصہ ہے، "الطالبُ" مبتدأ (مرفوع) ہے، اور "مجتهداً" خبر (منصوب) ہے،ترجمہ: طالب علم محنتی تھا۔
أصبحَ الجوُّ بارداً :"أصبحَ" فعل ناقصہ ہے، "الجوُّ" مبتدأ (مرفوع) ہے، اور "بارداً" خبر (منصوب) ہے، ترجمہ: موسم سرد ہو گیا۔
صارَ الماءُ ثلجاً : "صارَ" فعل ناقصہ ہے، "الماءُ" مبتدأ (مرفوع) ہے، اور "ثلجاً" خبر (منصوب) ہے ، ترجمہ: پانی برف ہو گیا۔
افعال ناقصہ کا اثر: مبتدأ کو مرفوع حالت میں رکھتے ہیں،خبر کو منصوب حالت میں کر دیتے ہیں۔
:حروف مشبہ بالفعل
حروف مشبہ بالفعل وہ حروف ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کر دیتے ہیں۔ ان حروف کا استعمال عموماً جملے میں زور، تاکید، تشبیہ یا امکان کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔
إنَّ (بے شک) ،أنَّ (کہ) ، كأنَّ (گویا) ، لكنَّ (لیکن) ، لعلَّ (شاید) ، ليتَ (کاش)
:حروف مشبہ بالفعل کی مثالیں
إنَّ اللهَ غفورٌ :"إنَّ" حرف ناسخ ہے، "اللهَ" مبتدأ (منصوب) ہے، اور "غفورٌ" خبر (مرفوع) ہے، ترجمہ: بے شک اللہ بخشنے والا ہے۔
لعلَّ الطالبَ ناجحٌ: "لعلَّ" حرف ناسخ ہے، "الطالبَ" مبتدأ (منصوب) ہے، اور "ناجحٌ" خبر (مرفوع) ہے، ترجمہ: شاید طالب علم کامیاب ہو۔
ليتَ الشبابََ يعودُ يوماً : "ليتَ" حرف ناسخ ہے، "الشبابَ" مبتدأ (منصوب) ہے، اور "يعودُ" خبر (مرفوع) ہے ،ترجمہ: کاش جوانی ایک دن واپس آجائے۔
حروف مشبہ بالفعل کا اثر : مبتدأ کو منصوب حالت میں کر دیتے ہیں۔ خبر کو مرفوع حالت میں رکھتے ہیں۔
:نواسخ جملہ اسمیہ کا اثر
افعال ناقصہ جملہ اسمیہ میں داخل ہو کر مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کر دیتے ہیں۔
حروف مشبہ بالفعل جملہ اسمیہ میں داخل ہو کر مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کر دیتے ہیں۔
:خلاصہ
افعال ناقصہ: مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں۔
حروف مشبہ بالفعل: مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتے ہیں۔
نواسخ جملہ اسمیہ جملے میں معنی کی تبدیلی یا تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان کے ذریعے مبتدأ اور خبر کے اعراب میں فرق آتا ہے۔
16 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
17 افعال ناقصہ
افعال ناقصہ
وہ افعال ہیں جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کے مبتدأ اور خبر کو متاثر کرتے ہیں، لیکن خود مکمل فعل نہیں ہوتے۔ یہ افعال مبتدأ کو اسم اور خبر کو خبر بناتے ہیں، اور جملہ اسمیہ کا مطلب مکمل کرنے کے لیے خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ افعال ناقصہ کا کام یہ ہے کہ یہ مبتدأ کو مرفوع رکھتے ہیں (یعنی اسم کو رفع دیتے ہیں) اور خبر کو منصوب کر دیتے ہیں۔
اور وہ یہ ہیں :كان ، صار ، اصبح ، أمسى ، أضحى، ظل، بات ، ما برح ، ما دام، مازال ، ما انفك ، ما فتي، لَيْسَ
افعال ناقصہ کی تعریف:
افعال ناقصہ وہ افعال ہیں جو خود مکمل معنی نہیں دیتے، بلکہ ان کے معنی مکمل کرنے کے لیے خبر کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ یہ افعال مبتدأ کو کان کا اسم اور خبر کو کان کی خبر بنا دیتے ہیں۔ ان کو افعال ناقصہ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ افعال ناقص ہیں اور جملے کو مکمل کرنے کے لیے خبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
افعال ناقصہ کا عمل:
افعال ناقصہ جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں تو:
مبتدأ (یعنی اسم) کو مرفوع کر دیتے ہیں اور اسے اسم کان کہا جاتا ہے۔
خبر کو منصوب کر دیتے ہیں اور اسے خبر کان کہا جاتا ہے۔
مثالیں:
- كان: كان زيدٌ قائماً (زید کھڑا تھا)۔
- یہاں "زيد" کان کا اسم ہے اور مرفوع ہے، اور "قائماً" کان کی خبر ہے اور منصوب ہے۔
- ما زال: ما زال الطالبُ مجتهداً (طالب علم محنتی ہے)۔
- یہاں "الطالب" اسم ہے اور مرفوع ہے، اور "مجتهداً" خبر ہے اور منصوب ہے۔
افعال ناقصہ کے استعمال کے شرائط:
۲۔ بلا شرط استعمال:
کچھ افعال ناقصہ بغیر کسی شرط کے اسم اور خبر کو متاثر کرتے ہیں، جیسے: كان، صار، أصبح، أضحى، أمسى، ظل، بات، ليس۔
۲۔ شرط کے ساتھ استعمال:
کچھ افعال ناقصہ کو عمل کرنے کے لیے شرط درکار ہوتی ہے، جیسے:
- ما زال، ما برح، ما فتی، ما انفك: ان افعال کے کام کرنے کے لیے شرط ہے کہ ان سے پہلے نفی (مثلاً: "ما") ہو، جیسے: ما زال زيدٌ قائماً۔
- ما دام: اس کے کام کرنے کے لیے شرط ہے کہ اس سے پہلے ما المصدرية الظرفية ہو، جیسے: أحسن ما دمتَ حياً۔
افعال ناقصہ کی خصوصیات:
- افعال ناقصہ ہمیشہ اسم اور خبر کے ساتھ آتے ہیں اور ان کا عمل مبتدأ اور خبر پر ہوتا ہے۔
- یہ افعال جملہ اسمیہ کو مکمل کرتے ہیں اور اسم کان کو مرفوع اور خبر کان کو منصوب کر دیتے ہیں۔
18 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد: ۱) سبق:۱۴
کان و اخواتھا (کان اور اس کے اخوات )
تَدْخُلُ كَانَ عَلَى المُبْتَدَإِ وَالخَبَرِ فَتَرْفَعُ الأَوَّلَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا وَتَنْصِبُ الثَّانِي وَيُسَمَّى خَبَرَهَا.
مِثْلَ كَانَ فِيمَا تَقَدَّمَ صَارَ وَلَيْسَ وَأَصْبَحَ وَأَمْسَى وَأَضْحَى، وَظَلَّ وَبَاتَ، وَتُسَمَّى هَذِهِ الأَفْعَالُ أَخَوَاتِ كَانَ.
لِكُلِّ فِعْلٍ مِنْ هَذِهِ الأَفْعَالِ مُضَارِعٌ وَأَمْرٌ يَعْمَلَانِ عَمَلَ المَاضِي إِلَّا لَيْسَ فَلَا يَأْتِي لَهَا مُضَارِعٌ وَلَا أَمْرٌ.
کان مبتداء اور خبر پر داخل ہوتا ہے تو مبتداء کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ (مبتداء کو کان کا اسم اور خبر کو کان کی خبر کہتے ہیں۔)
صار - ليس- اصبح - امسی - اضحی - ظل- بات بھی یہی عمل کرتے ہیں اس لئے کان کے اخوات کہلاتے ہیں۔
ان افعال میں سے ہر ایک کا فعل مضارع اور امر بھی بنتا ہے اور وہ بھی ماضی کی طرح عمل کرتے ہیں البتہ لیس سے مضارع اور امر نہیں بنتے۔
الامثلة
- الزِّحَامُ شَدِيدٌ → كَانَ الزِّحَامُ شَدِيدًا.
- البَيْتُ نَظِيفٌ → كَانَ البَيْتُ نَظِيفًا.
- الثَّوْبُ قَصِيرٌ → صَارَ الثَّوْبُ قَصِيرًا.
- البَرْدُ قَارِسٌ → صَارَ البَرْدُ قَارِسًا.
- الخَادِمُ قَوِيٌّ → لَيْسَ الخَادِمُ قَوِيًّا.
- العَامِلُ نَشِيطٌ → لَيْسَ العَامِلُ نَشِيطًا.
- النَّهِمُ مَرِيضٌ → أَصْبَحَ النَّهِمُ مَرِيضًا.
- الجَوُّ مُمْطِرٌ → أَصْبَحَ الجَوُّ مُمْطِرًا.
- العَامِلُ مُتْعَبٌ → أَمْسَى العَامِلُ مُتْعَبًا.
- الزَّهْرُ ذَابِلٌ → أَمْسَى الزَّهْرُ ذَابِلًا.
- الغَمَامُ كَثِيفٌ → أَضْحَى الغَمَامُ كَثِيفًا.
- الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ → أَضْحَى الشَّارِعُ مُزْدَحِمًا.
- المَطَرُ غَزِيرٌ → ظَلَّ المَطَرُ غَزِيرًا.
- الغُبَارُ ثَائِرٌ → ظَلَّ الغُبَارُ ثَائِرًا.
- المِصْبَاحُ مُتَّقِدٌ → بَاتَ المِصْبَاحُ مُتَّقِدًا.
- المَرِيضُ مُتَأَلِّمٌ → بَاتَ المَرِيضُ مُتَأَلِّمًا.
19 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۱
افعال ناقصہ
نواسخ جملہ کی دوسری قسم افعال ناقصہ ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں :۔
كان ، صار ، اصبح ، أمسى ، أضحى، ظل، بات ، ما برح ، ما دام، مازال ، ما انفك ، ما فتي، لَيْسَ
یہ افعال جمله اسمیه ( مبتدا و خبر)، پر داخل ہوتے ہیں ۔ مبتد ا جس کا نام اسم ہو جاتا ہے (اِنَّ) کے برعکس مرفوع باقی رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے جیسے كان الولد جالسًا (لڑکا بیٹھا تھا )
لیس کے سوا باقی تمام افعال کے فعل مضارع اور فعل امر دونوں آتے ہیں اور وہی عمل کرتے ہیں جو ماضی کرتا ہے ، یعنی اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں ۔ لیس کا فعل مضارع اور امر نہیں آتا ، البتہ ماضی کے صیغے سبھی آتے ہیں۔
(ا) کان سے یہ بات سمجھی جاتی ہے کہ مبتدا کو جس خبر سے متصف کیا جا رہا ہے اس کا تعلق زمانہ ماضی سے ہے جیسے کان الحر شدیدا (گر می بہت سخت تھی)
(۲) صار تبدیلی حالت کو بتاتا ہے جیسے صَار الرَّجُلُ غنیًّا (آدمی مال دار ہو گیا)
(۳) لیس نفی کے لئے آتا ہے جیسے لَیسَ الرَّجُل غنیًّا (وہ آدمی مال دار نہیں ہے) ۔
لیس کی خبر پر کبھی ب حرف جر بھی داخل کر دیتے ہیں جیسے لیس الرجل بغني (اس وقت خبر مجرور ہو جاتی ہے) ۔
(۴) اصبح ، امسی ، ظل ، بات اور اضحی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کا اسم (مبتدا) جن خبروں سے متصف کیا جارہا ہے ، اس کا تعلق ان کی اوقات سے ہے جو اصبح ، امسی وغیرہ سے سمجھا جاتا ہے ۔
اصبح سے صبح کا وقت اور امسیٰ سے شام کا وقت اور ظل سے دن اور بات سے رات مراد ہوتی ہے جیسے اصبح حامد مسروراً (حامد نے مسرت کی حالت میں صبح کی) اور بات المریض متألما (بیمار نے تکلیف میں رات گزاری)
اگرچہ یہ افعال انھیں معنوں کے لئے وضع کئے گئے ہیں مگر کبھی ان کا استعمال صار کے معنی میں بھی ہوتا ہے جیسے اصبح محمود غنی (محمد مالدار ہو گیا)وغیرہ۔
ما برح ، مادام مازال ، ما انفك ، مافتی پانچوں استمرار اور دوامی ثبوت بتانے کے لئے آتے ہیں جیسے ما زال محمود مجتہدا (محمود ہمیشہ محنتی رہا ) ، مازال محمود یجتھد (محمود برابر محنت کرتا رہا)
نوٹ : حروف مشبہ بالفعل کی طرح افعال ناقصہ کی خبر بھی مفرد جملہ اور شبہ جملہ سب آتے ہیں۔ جیسے كان محمود يكتب إلى أبيه (محمود اپنے والد کو خط لکھ رہا تھا)
كان يكتب محمود اور کان محمود یکتب کے درمیان یہی فرق ہے جو یکتب محمود اور محمود یکتب کے درمیان ہے یعنی جملہ اسمیہ اور فعلیہ کا فرق ہے۔
20 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۱۰
الأفعال الناقصة
وإنما سميت ناقصة؛ لأنها لا تكون بمجرد الفاعل كلاما تاما، فلا تخلو عن نقصان، وهي تدخل على الجملة الاسمية أي المبتدأ والخبر، فترفع الجزء الأول منها ويسمى اسمها، وتنصب الجزء الثاني منها ويسمى خبرها وهي ثلاثة عشر فعلا:
الأول: كان، وهي قد تكون زائدة مثل: إن من أفضلهم كان زيدا، وحينئذ لا تعمل، وقد تكون غير زائدة، وهي تجيء على معنيين ناقصة، وتامة، فالناقصة تجيء على معنيين: أحدهما: أن يثبت خبرها لاسمها في الزمان الماضي، سواء كان ممكن الانقطاع مثل: كان زيد قائما أو ممتنع الانقطاع مثل: كان الله عليما حكيما، وثانيهما: أن يكون بمعنى صار مثل: كان الفقير غنيا أي صار الفقير غنيا، والتامة تتم بفاعلها فلا تحتاج إلى الخبر فلا تكون ناقصة، وحينئذ تكون بمعنى "ثبت" مثل: كان زيد أي ثبت زيد.
والثاني: صار، وهي للانتقال أي لانتقال الاسم من حقيقة إلى حقيقة أخرى نحو : صار الطين خزفا، أو من صفة إلى صفة أخرى مثل: صار زيد غنيا، وقد تكون تامة بمعنى الانتقال من مكان إلى مكان آخر، وحينئذ تتعدى بـ " إلى " نحو : صار زيد من بلد إلى بلد
والثالث: أصبح والرابع: أضحى، والخامس: أمسى، فهذه الثلاثة لاقتران مضمون الجملة بأوقاتها التي هي الصباح والضحى والمساء نحو أصبح زيد غنيا، معناه: حصل غناه في وقت الصباح ونحو أضحى زيد حاكما معناه: حصل له الحكومة في وقت الضحى، ونحو أمسى زيد قارئا معناه: حصل له قراءته في وقت المساء، وهذه الثلاثة قد تكون بمعنى "صار" مثل: أصبح الفقير غنيا، وأمسى زيد كاتبا، وأضحى المظلم منيرا، وقد تكون تامة مثل: أصبح زيد بمعنى دخل زيد في الصباح، وأمسى عمرو أي دخل عمرو في المساء، وأضحى بكر أي دخل بكر في الضحى.
والسادس: ظل والسابع بات وهما لاقتران مضمون الجملة بالنهار والليل نحو : ظل زيد كاتبا أي حصل كتابته في النهار، وبات زيد نائما أي حصل نومه في الليل، وقد تكونان بمعنى "صار" مثل:ظل الصبي بالغا، وبات الشاب شيخا
والثامن: ما دام، وهي لتوقيت شيء بمدة ثبوت خبرها لاسمها، فلابد من أن يكون قبلها جملة فعلية أو اسمية نحو : اجلس ما دام زيد جالسا، وزيد قائم ما دام عمر قائما
والتاسع: ما زال والعاشر ما برح، والحادي عشر: ما انفك، والثاني عشر : مافتئ وقد يقال بفتح التاء والهمزة ما فتأ و ما أفتأ، وكل واحد من هذه الأفعال الأربعة الدوام ثبوت خبرها لاسمها من قبله، ويلزمها النفي مثل: ما زال زيد عالما، وما برح زيد صائما، وما فتئ عمرو فاضلا، وما انفك بكر عاقلا.
والثالث عشر ليس، وهي لنفي مضمون الجملة في زمان الحال، وقال بعضهم في كل زمان مثل ليس زيد قائما، واعلم أن تقديم أخبار هذه الأفعال على أسمائها جائز بإبقاء عملها، مثل: كان قائما زيد وعلى هذا القياس في البواقي، وأيضاً تقديم أخبارها على نفسها جائز سوى "ليس" والأفعال التي كان في أوائلها "ما" مثل: قائما كان زيد، وقال بعضهم: تقديم الأخبار على هذه الأفعال أيضاً جائز سوى "مادام"، أما تقديم أسمائها عليها فغير جائز.
واعلم أن حكم مشتقات هذه الأفعال كحكم هذه الأفعال في العمل.
افعال ناقصہ، جنہیں اس لیے ناقصہ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ صرف فاعل کے ساتھ مکمل جملہ نہیں بناتی، اس لیے ان میں کمی ہوتی ہے۔ یہ جملہ اسمیہ یعنی مبتدا اور خبر پر داخل ہوتی ہیں، اور مبتدا کو رفع کرتی ہیں جسے "اسم" کہتے ہیں، اور خبر کو نصب کرتی ہیں جسے "خبر" کہتے ہیں۔ ان کی تعداد تیرہ ہے:
۱۔ "كان":معنی: "پہنچنا" یا "ہونا"۔
ماضی میں: "كان زيد قائما" (زید ماضی میں قائم تھا)۔
معنی: "صارت" جیسے: "كان الفقير غنيا" (فقیر امیر ہوگیا)۔
تامہ: پختگی: "كان زيد" (زید ثابت ہے)۔
۲۔ "صار": معنی: "انتقال" (حقیقت سے حقیقت میں، یا صفت سے صفت میں تبدیلی)۔
حقیقت سے حقیقت: "صار الطين خزفا" (مٹی چپپ ہوئی)۔
صفت سے صفت: "صار زيد غنيا" (زید امیر ہوگیا)۔
مقام سے مقام: "صار زيد من بلد إلى بلد" (زید ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا گیا)۔
۳۔ "أصبح":
معنی: "صبح" (دن کے وقت)۔
- وقت کا تعین: "أصبح زيد غنيا" (زید صبح کے وقت امیر ہوا)۔
- معنی "صار": "أصبح الفقير غنيا" (فقیر صبح کو امیر ہوگیا)۔
- تامہ: "أصبح زيد" (زید صبح کے وقت پہنچ گیا)۔
۴۔ "أضحى":
معنی: "ضحی" (دن کے وقت)۔
وقت کا تعین: "أضحى زيد حاكما" (زید ضحی کے وقت حاکم ہوا)۔
معنی "صار": "أضحى المظلم منيرا" (اندھیرا صبح کے وقت روشن ہوگیا)۔
تامہ: "أضحى بكر" (بکر ضحی کے وقت پہنچ گیا)۔
۵۔ "أمسى":
معنی: "مساء" (رات کے وقت)۔
وقت کا تعین: "أمسى زيد قارئا" (زید شام کے وقت قاری ہوا)۔
معنی "صار": "أمسى زيد كاتبا" (زید شام کو لکھاری ہوگیا)۔
تامہ: "أمسى عمرو" (عمرو شام کے وقت پہنچ گیا)۔
۶۔ "ظل":
معنی: "دن" (دن کے وقت)۔
وقت کا تعین: "ظل زيد كاتبا" (زید دن کے وقت لکھاری رہا)۔
معنی "صار": "ظل الصبي بالغا" (بچہ دن کے وقت بالغ ہوا)۔
۷۔ "بات":
معنی: "رات" (رات کے وقت)۔
وقت کا تعین: "بات زيد نائما" (زید رات کے وقت سوتا رہا)۔
معنی "صار": "بات الشاب شيخا" (جوان رات کے وقت بوڑھا ہوگیا)۔
۸۔ "ما دام": معنی: "مدت" (زمانہ)۔ پختگی: "اجلس ما دام زيد جالسا" (بیٹھو جب تک زید بیٹھا ہے)۔
۹۔ ما زال:
اس کا مطلب ہوتا ہے "اب تک" یا "ابھی تک" اور یہ کسی حالت یا وصف کے دوام (برقرار رہنے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال:ما زال زيد عالماً (زید اب تک عالم ہے)۔
۱۰۔ ما برح:
معنی: "ابھی تک" اور یہ بھی کسی حالت کے دوام کو ظاہر کرتا ہے۔
مثال: ما برح زيد صائماً (زید ابھی تک روزے سے ہے)۔
۱۱۔ ما فتئ:
معنی: "اب تک" ہے اور یہ وصف کے دوام کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال: ما فتئ عمرو فاضلاً (عمرو ابھی تک فاضل ہے)۔
۱۲۔ ما انفك:
معنی: دوام (کسی حالت کے برقرار رہنے) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
مثال: ما انفك بكر عاقلاً (بکر ابھی تک عقل مند ہے)۔
۱۳۔ ليس:
معنی: موجودہ حالت میں کسی کیفیت یا وصف کی نفی کے لیے ہوتا ہے۔
مثال: ليس زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
بعض علماء کے مطابق یہ ہر زمانے کی نفی کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔
سمجھ لو کہ ان افعال (افعال ناقصہ) کی خبر ان کے اسماء سے پہلے لانا جائز ہے، بشرطیکہ ان کا عمل برقرار رہے، جیسے : "كان قائماً زيد"۔ یہی اصول دوسرے افعال پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اسی طرح افعال ناقصہ کی خبر خود فعل ناقص سے پہلے بھی لانا جائز ہے، سوائے "ليس"اور ان افعال کے جن کے شروع میں "ما" آتا ہو، جیسے: "قائماً كان زيد"۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان افعال ناقصہ کی خبر کو مقدم کرنا بھی جائز ہے، لیکن "ما دام" اس سے مستثنیٰ ہے (یعنی اس پر یہ اصول لاگو نہیں ہوتا)۔ البتہ ان کے اسماء کو ان افعال سے پہلے لانا کسی بھی حالت میں جائز نہیں ہے۔
خلاصہ:
یہ افعال ناقصہ مبتدأ اور خبر کے درمیان ربط کو تبدیل کرتے ہیں اور کسی حالت یا کیفیت کے جاری رہنے یا نہ ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان افعال کے ساتھ خبر کو مقدم کرنے کا اصول اکثر افعال پر لاگو ہوتا ہے، سوائے ليس اور ما دام کے۔
21 تیسیر النحو۔ سبق:۷
فصل اسم كان وأخواتها (الأفعال الناقصة)
اسم كان: هو كل مبتدأ تدخل عليه كان أو إحدى أخواتها (أي أحد الأفعال الناقصة) فترفع على أنه اسمها، وتنصب خبره على أنه خبرها، مثل: كان عمر عادلا.
والأفعال الناقصة هي :
كان، صار ( ومن الأفعال الناقصة الملحقة بـ "صار" غداء راح ، عاد، آض) ظل، بات أصبح، أضحى، أمسى، ليس ، مازال، ما انفك، مافتي، ما برح، مادام
شروط عملها
ا منها ما يعمل هذا العمل بلا شرط : وهي : كان، صار وما ألحق بها، وظل وبات. وأصبح، وأضحى، وأمسى، وليس.
٢- ومنها مالا يعمل إلا بشرط وهو قسمان:
أحدهما ما يشترط في عمله أربعة زال، وبرح ، أن يسبقه نفي ! لفظا أو تقديرا، أو شبه نفي، وهو - فتي، وانفك، فمثال النفى لفظا مازال زيد قائما، ومثاله تقديرا قوله تعالى : وقالوا تالله تفتأ تذكر يوسف أي لا تفتأ ومثال شبه النفي - والمراد به النهي نحو لا تزل قائما، أو الدعاء، نحو: لا يزال الله محسنا إليك، أو الاستفهام الإنكاري نحو: هل يزال أخوك متكاسلا.
وثانيهما: ما يشترط في عمله أن يسبقه "ما" المصدرية الظرفية، وهو مادام نحو: أحسن مادمت حيا، أي مدة دوامك حيا.
حكم اسم كان وخبرها
الاسم في هذا الباب يجرى مع الفعل الناقص مجرى الفاعل مع فعله التام في جميع أحكامه من حيث التزام التأخير، وإفراد العامل، وما شاكل ذلك، ويجرى مع الخبر مجرى المبتدأ مع خبره في التعريف، والتنكير، والتقديم، والتأخير، والتذكير والتانيث، والإفراد والتثنية والجمع.
وإذا وقع خبر "كان" وأخواتها جملة فعلية، فالأكثر أن يكون فعلها مضارعا، نحو: كان الأستاذ يشرح الدرس لتلاميذه.
وقد يجيء ماضيا مقترنا بـ"قد بعد ستة منها كان، ظل، بات، أصبح أضحى، أمسىء نحو: كان سليم قد انطلق وأصبح العنب قد نضج أما غير هذه الأفعال الستة فلا يقع الماضي خبرا له على الإطلاق وقد يرد الماضي مجردا من قد نحو قوله تعالى : وان كان قميصه قد من قبل وأكثر ما يكون ذلك مع "كان"
اسم کان اور اس کی اقسام:
۱۔ اسم کان
اسم کان وہ مبتدأ ہوتا ہے جس پر کان یا اس کی بہنوں میں سے کوئی فعل داخل ہوتا ہے اور اسے مرفوع بنا دیتا ہے۔ اس اسم کو اسم کان کہا جاتا ہے اور اس کے بعد آنے والے جز کو خبر کان کہا جاتا ہے۔
- مثال: كان عمر عادلاً (عمر عادل تھا)۔
۲۔ افعال ناقصہ
وہ افعال جو جملہ اسمیہ پر اثر ڈالتے ہیں اور اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، جیسے:
- کان (تھا)، صار (ہو گیا)، ظل (برقرار رہا)، بات (رات کو تھا)، أصبح (صبح ہوا)، أضحى (دن چڑھا)، أمسى (شام کو ہوا)، ليس (نہیں تھا)، ما زال (ابھی تک تھا)، ما انفك (اب تک)، ما فتی (اب تک)، ما برح (اب تک) اور ما دام (جب تک)۔
افعال ناقصہ کے عمل کے شرائط:
۱۔ بلا شرط عمل کرنے والے افعال
یہ افعال بغیر کسی شرط کے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، جیسے:
- کان، صار، ظل، بات، أصبح، أضحى، أمسى اور ليس۔
۲۔ شرط کے ساتھ عمل کرنے والے افعال
ان افعال کے کام کرنے کے لیے کچھ شرائط لازمی ہوتی ہیں، جیسے:
- ما زال، ما برح، ما فتی، ما انفك : ان افعال کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ان سے پہلے نفی آئے، جیسے:
- ما زال زيد قائماً (زید ابھی تک کھڑا ہے)۔
- لا يزال الله محسناً إليك (اللہ تم پر مہربانی کرتا رہے)۔
- ما دام: اس کا کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس سے پہلے ما المصدرية الظرفية آئے، جیسے:
- أحسن ما دمت حيا(جب تک زندہ ہو، اچھے کام کرو)۔
اسم کان اور اس کا حکم:
اسم کان کا حکم فاعل کے حکم کے مشابہ ہے۔ یعنی:
- اسم کان مؤخر ہوتا ہے۔
- افعال ناقصہ کا خبر کے ساتھ تعلق مبتدأ اور خبر کے تعلق کے مانند ہے، جیسے:
- تعریف اور تنکیر (یعنی معرفہ اور نکرہ)۔
- تذکیر و تانیث (مذکر اور مؤنث)۔
- تعداد (واحد، تثنیہ، اور جمع)۔
خبر کان کی اقسام:
۱۔ جملہ فعلیہ:
اکثر خبر فعل مضارع ہوتا ہے، جیسے:
كان الأستاذ يشرح الدرس (استاد سبق سمجھا رہا تھا)۔
۲۔ فعل ماضی:
بعض اوقات خبر فعل ماضی کے ساتھ بھی آتا ہے، خاص طور پر قد کے ساتھ، جیسے:
كان سليم قد انطلق (سلیم روانہ ہو چکا تھا)۔
22 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۲) سبق:۷
كَانَ
یہ بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے۔ جیسے : بِلَالٌ فِي الْفَصْلِ بلال کلاس ( درجہ ) میں ہے.
كَانَ بِلالٌ فِي الْفَصْلِ بلال کلاس ( درجہ ) میں تھا.
الْمُدَرِّسُ فِي الْمَكْتَبَةِ استاد لائبریری میں ہیں.
كَانَ الْمُدَرِّسُ فِي الْمَكْتَبَةِ استاد لائبریری میں تھے.
الْقَلَمُ تَحْتَ الْكِتَابِ قلم کتاب کے نیچے ہے.
كَانَ الْقَلَمُ تَحْتَ الْكِتَابِ قلم کتاب کے نیچے تھا.
رَيْنَبُ فِي الْمَطْبَخِ زینب باورچی خانہ میں ہے۔
كَانَتْ زَيْنَبُ فِي الْمَطبخ زينب باورچی خانہ میں تھی.
نوٹ : گذشتہ مثالوں میں کان کی خبر شبه جملہ جیسے تَحْتَ الْكِتَابِ، فِي الْمَكْتَبَةِ، فِي المطبخ ہے اگر کان کی خبر شبہ جملہ ہو تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی لیکن اگر اسم ہو تو وہ منصوب ہو جائیگا ۔ جیسے : بلال مریض سے كَانَ بِلَالٌ مَرِيضًا ،
23 المفصل۔ سبق:
الخبر والاسم في بابي كان وإن
لما شبه العامل في البابين بالفعل المتعدي شبه ما عمل فيه بالفاعل والمفعول ويضمر العامل في خبر كان في مثل قولهم الناس مجزيون بأعمالهم إن خيراً فخير وإن شراً فشر، والمرء مقتول بما قتل به أن خنجراً فخنجر وإن سيفاً فسيف، أي إن كان عمله خيراً فجزاؤه خير وإن كان شراً فجزاؤه شر.
والرفع أحسن في الآخر ومنهم من يرفعهما ويضمر الرافع أي أن كان معه خنجر فالذي يقتل به خنجر قال النعمان بن المنذر : قد قيل ذلك إن حقاً وإن كذبا ومنه الإطعام ولو تمراً وائتني بداية ولو حماراً. وإن شئت رفعت بمعنى ولو يكون ثمر وحمار، ادفع الشر ولو إصبعاً. ومنه أما أنت منطلقاً انطلقت، والمعنى لأن كنت منطلقاً، وما مزيدة معوضة من الفعل المضمر .
ومنه قول الهذلي:
أبا خراشة أما أنت ذا نفر
وروى قوله:
إما أقمت وأما أنت مرتحلاً فالله يكلأ ما تأتي وما تذرا
بكسر الأول فتح الثاني.
24 تمارین
25 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۱
اَلتَّمْرِيْنُ (119)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) كَانَ مَحْمُوْدٌ تِلْمِيْذًا نَجِيْبًا وَلَكِنَّهُ ضَلَّ بِصُحۡبَۃِ الْاَشْرَارِ.
(2) كَانَ الْبَيْتُ نَظِيْفًا وَلَكِنْ صَارَ مُتَّسِخًا بِالْاَقْذَارِ.
(3) صَارَ الْعَدُوُّ صَدِيْقًا حينما تَبَيَّنَ لَهُ الْاَمْرُ.
(4) يَبْدُوْ الهِلاَلُ ضَئِيلًا ثم يَصِيْرُ بدرًا كاملاً.
(5) اِنَّ اللهَ لَا يِظْلِمُ اَحَدًا اِنَّهُ لَيْسَ بِظَلَّامِ لِّلْعَبِيْدِ.
(6) اَلْاَسَاتِذَةُ لَيْسُؤا قُسَاةً عَلىَ الطَّلَبَةِ.
(7) اَصْبَحَ فُؤَادُ اُمِّ مُوْسٰی فَارِغًا.
(8) اَضْحٰي الْغَمَامُ كَثِيْفًا وَكادت السَّمَاءُ اَنْ تُمْطِر.
(9) اَمْسَي الطلبۃُ مُشْتَغِلِيْنَ بِدُرُوْسِهِمْ.
(10) ظلتم طوَّافين في الاَسوَاق ومَا عَمِلْتُمْ.
(11) بتنا مُسترحين وَلَم نَشْعُر بأذيً.
(12) بات المريض مُتَأَلِّمًا ولم يَنَمْ طُول اللَّيلِ.
اَلتَّمْرِيْنُ (120)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) سبق زیادہ مشکل نہ تھا مگر میں نے نہیں سمجھا۔
(۲) سوالات بہت آسان تھے مگر میں بھول گیا۔
(۳) محمود بڑا ذہین تھا مگر بیماری کی وجہ سے پاس نہ ہوا۔
(۴) تم لوگ آج دن بھر اپنے اسباق میں مشغول رہے۔
(۵) ہم لوگوں نے بڑی پریشانی میں رات گزاری۔
(۶) لوگوں نے خوف و ہراس کے ساتھ صبح کی۔
(۷) نیکوکار نوجوان رات بھر اللہ کی یاد میں جاگتے رہے۔
(۸) کل دوپہر تک بادل (آسمان) برسا کیا۔
(۹) درجہ دوم کے طلبہ دوسرے گھنٹہ میں غیر حاضر تھے۔
(۱۰) محمود کے والد بوڑھے ہوگئے مگر میلوں پیدل چل لیتے ہیں۔
(۱۱) روئی بہت مہنگی ہو گئی اس لیے کپڑے کا نرخ چڑھ جائے گا۔
(۱۲) کل گرمی بہت سخت تھی کیونکہ ہوا بالکل بند تھی۔
(۱۳) اس کنویں کا پانی میٹھا نہیں ہے مگر ٹھنڈا بہت ہے۔
(۱۴) آج میں روزے سے نہیں ہوں کیوں کہ دو دن سے بیمار تھا۔
اَلتَّمْرِيْنُ (121)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) ما زال الحرّ شديداً مُنْذُ شَهرٍ.
(2) ما زال المهذَّبُ محبَّبًا اِلى النَّاس.
(3) ما بَرِحَ المريض نائمًا مُنْذُ سَاعَتَيْنِ.
(4) مَاانْفَكَّ القَاضِيُ عادِلًا فِي حكمِهِ.
(5) مَا فَتئ التَّاجِرُ رَابِحًا بِصدقهِ.
(6) تُحتَرم ما دام خُلقُك كريمًا.
(7) ما زالت الصَّدَقَةُ نافعةً.
(8) صفر القطارُ وما بَرِحَ محمودٌ غَائبًا.
(9) لاَ تقرا مادام النور ضئيلاً.
(10) لا تَتَعَرَّضُ لِلْبَرْدِ مَا دُمْتُ مَرِيْضًا.
(11) لا تزال الْاُمَّهَاتُ رَفيقاتٍ.
(12) انتَهَى الاِمْتِحَانُ وما زالت النَّتِيْجَة مجهولةً.
اَلتَّمْرِيْنُ (122)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) محنتی طالب علم ہمیشہ پیارا رہا۔
(۲) عقل مند طلبہ برابر کوشش میں لگے رہے۔
(۳) تم دونوں آج دن بھر کھیلتے رہے۔
(۴) تین دن سے آسمان برابر ابر آلود رہا۔
(۵) پورے دو گھنٹے بادل برستارہا۔
(۶) حق و باطل میں برابر کش مکش رہی۔
(۷) انگریز ہمیشہ اسلام کے دشمن رہے۔
(۸) حق کے پیروکار ہمیشہ تھوڑے رہے۔
(۹) اسلام باقی رہے گا جب تک زمین و آسمان باقی ہیں۔
(۱۰) جب تک زندہ رہو خدا کے عبادت گزار رہو۔
(۱۱) مسلمان غالب رہے جب تک کہ وہ اسلام پر عمل کرتے رہے۔
(۱۲) جب تک بارش ہوتی رہے گھر سے نہ نکلو۔
(۱۳) جب تک گاڑی چلتی رہے کھڑکیوں سے نہ جھانکو۔
(۱۴) طلبہ امتحان ہال میں بیٹھے رہے یہاں تک گھنٹی بجی۔
اَلتَّمْرِيْنُ (123)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) كَانَ النَّاسُ يَئِدُوْنَ بَنَاتهِمْ اَيَّامَ الْجَاهِلِيَّةِ.
(2) كان رجال الدّين لا يهمّهم إلا الدينُ ونصرُهُ.
(3) اما اليومَ فأصبح كثيرٌ منهم ينغمِسُون في الحياة الدنيا.
(4) اصبح الفلّاحون يقتتلون علَى شِبْرِ اَرْضٍ.
(5) الذين رسبوا في الامتحان صاروا يجتهدون.
(6) لا يزال الناس يموتون ويولدون حَتىَّ تقومَ الساعةُ.
(7) لا يزالُ اللهُ يبعث من يجدّدلهُ دينَهُ.
(8) كُنْتُمْ اَعْدَاءً فَاَلَّفَ بَيْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ اِخْوَانًا.
(9) مَا زِلْتُمْ فِي نَعِيْمٍ مَا دُمْتُمْ تَتَّبِعُوْنَ اَمْرَ اللهِ.
(10) فَلَمّا اعرضتم اَذَاقكم الله لباس الجوع.
(11) ما برح الناسُ يثقون بالتاجر الأمينِ.
(12) ما دامت المناظر البهيجةُ تُعْجِبُ النفوسَ.
اَلتَّمْرِيْنُ (124)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) یہ طلبہ محنت سے جی چراتے تھے یہاں تک کے امتحان میں فیل ہو گئے۔
(۲) ہم لوگ اپنا وقت ضائع کرتے رہے یہاں تک کہ امتحان قریب آگیا۔
(۳) جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے لوگوں کو دین حق کی طرف بلایا تو لوگ آپ ﷺ کے دشمن ہو گئے۔
(۴) مگر زیادہ دن نہ گزرے کہ سارا عرب مسلمان ہوگیا۔
(۵) حضرت خالد بن ولید ایک ملک کے بعد دوسرا ملک برابر فتح کرتے رہے۔
(۶) یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو معزول کر دیا تاکہ لوگ فتنے میں نہ پڑیں۔
(۷) اور تاکہ لوگ یہ جان لیں کہ جو کچھ کرتا ہے اللہ کرتا ہے۔
(۸) اسلامی فوجیں برابر آگے بڑھتی رہیں یہاں تک کہ دشمن شکست کھاگئے۔
(۹) لوگ گمراہیوں میں بھٹکتے رہیں گے یہاں تک کہ دین حق کی پیروی کریں۔
(۱۰) جب تک انسان، انسان پر حکومت کرتا رہے گا لوگ عدل و انصاف سے محروم رہیں گے۔
(۱۱) جب تک حق کا غلبہ نہ ہو ہم خدا کی راہ میں جہاد کرتے رہیں گے۔
(۱۲) جب تک حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ رہے مسلمان سادہ زندگی گزارتے رہے۔
(۱۳) مگر جب آپ رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو لوگ تنعم و آسائش کی طرف مائل ہوگئے۔
(۱۴) جب تک انگریز ہندوستان میں (پر) حکومت کرتے رہے ملک ترقی نہ کرسکا۔
26 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد: ۱) سبق:۱۴
التَّمْرِين (۱)
بَيِّنْ كُلَّ اسْمٍ وَخَبَرٍ لِكَانَ وَأَخَوَاتِهَا فِي الجُمَلِ الآتِيَةِ:
۱. كَانَ مَحْمُودٌ شُجَاعًا.
۲. أَصْبَحَ الحِصَانُ جَائِعًا.
۳. صَارَ الأَوَّلُ آخِرًا.
۴. بَاتَ الكَلْبُ نَائِمًا.
۵. لَيْسَ المِيدَانُ فَسِيحًا.
۶. أَمْسَى الغَنِيُّ فَقِيرًا.
۷. أَضْحَى السَّجِينُ طَلِيقًا.
۸. ظَلَّ العِنَبُ كَثِيرًا
التَّمْرِين (۲)
أَدْخِلْ "كَانَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الحَارِسُ مُسْتَيْقِظٌ.
۲. العَامُ حَارٌّ.
۳. الحِصَانُ مُسَرَّج.
۴. الحَوْضُ مُمتَلِئٌ.
۵. المِفْتَاحُ ضَائِعٌ.
۶. الدُّخَانُ مُتَصَاعِدٌ.
۷. البَابُ مَفْتُوحٌ.
۸. الخَادِمُ نَائِمٌ.
۹. النِّيلُ مُنْخَفِضٌ.
۱۰. النِّيلُ مُنْخَفِضٌ.
التَّمْرِين (۳)
أَدْخِلْ "صَارَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الشَّجَرُ مُورِقٌ.
۲. الثَّمَرُ نَاضِجٌ.
۳. النُّورُ ضَعِيفٌ.
۴. الهَوَاءُ بَارِدٌ لَدٌ.
۵. القَمَرُ مَخْسُوفٌ.
۶. المَكَانُ مُظْلِمٌ.
۷. الجَوُّ حَارٌّ.
۸. المَاءُ رَائِقٌ.
۹. الكَبْشُ سَمِينٌ.
التَّمْرِين (٤):
أَدْخِلْ "لَيْسَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. البِنَاءُ قَوِيٌّ.
۲. الطَّعَامُ شَهِيٌّ.
۳. الأَمْرُ هَيِّنٌ.
۴۔ المُذْنِبُ خَائِفٌ.
۵، الهَوَاءُ نَقِيٌّ.
۶. الوَلَدُ مَرِيضٌ.
۷۔ الجِدَارُ مَائِلٌ.
۸۔ القِطُّ جَائِعٌ.
۹. الحَبْلُ مَتِينٌ
التَّمْرِين (٥):
أَدْخِلْ "أَصْبَحَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الجُمَلِ الآتِيَةِ، وَشَكِّلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
۱. الدِّيكُ صَالِحٌ.
۲۔الزَّرْعُ مُبَلَّلٌ.
۳. المَاءُ جَامِدٌ.
۴. العُصْفُورُ مُغَرِّدٌ.
۵. اللَّبَنُ خَائِرٌ.
۶. الضَّبَابُ كَثِيفٌ.
۷. الوَرْدُ مُفَتَّحٌ.
۸۔ التِّلْمِيذُ نَشِيطٌ.
۹. النِّيلُ فَائِضٌ.
۱۰۔ النيل فائض
التَّمْرِين (٦)
أَتِمَّ الجُمَلَ الآتِيَةَ ثُمَّ أَضْبِطْ أَوَاخِرَ كَلِمَاتِهَا بِالشَّكْلِ:
۱. كَانَ الحَاكِمُ ...
۲. صَارَ العَدُوُّ ...
۳. لَيْسَ الدَّوَاءُ ...
٤. أَصْبَحَ البَنَفْسَجُ ...
٥. ظَلَّ العَدْلُ ...
٦. بَاتَ الظَّالِمُ ...
۷. أَمْسَى السَّجِينُ ...
۸. أَضْحَى المَطَرُ ...
التَّمْرِين (۷)
أَتِمَّ الجُمَلَ الآتِيَةَ بِوَضْعِ الاِسْمِ المَحْذُوفِ فِي المَكَانِ الخَالِي، وَأَضْبِطْ آخِرَهُ بِالشَّكْلِ:
۱. كَانَ ............ مُسْتَبِدًّا.
۲. لَيْسَ ..... عَارًا.
۳. يَبِيتُ .......... مُتَوَجِّعًا.
٤. يُمْسِي .......... مَسْرُورًا.
٥. صَارَ ..... خُبْزًا.
٦. أَصْبَحَ ........ سَلِيمًا.
۷. يَظَلُّ ..... مُسْتَغِلًّا.
۸. يُضْحِي ..... مُزْدَحِمًا.
التَّمْرِين (۸)
كَوِّنْ ثَمَانِيَ جُمَلٍ يَشْتَمِلُ كُلُّ اِثْنَتَيْنِ مِنْهَا عَلَى المُضَارِعِ مِنْ كَانَ، وَصَارَ، وَأَصْبَحَ، وَبَاتَ عَلَى التَّرْتِيبِ.
تَمْرِين فِي الاِنْشَاءِ (۹)
۱. كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الجَوِّ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "کَان".
۲. كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ المَاءِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "أَصْبَحَ".
۳۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الکِتَابِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "لَیسَ".
۴۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الکَسْلَانِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "ظَلَّ".
۵۔ كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي وَصْفِ العَامِلِ بِحَيْثُ تَبْتَدِئُ كُلُّ جُمْلَةٍ مِنْهَا بِـ "أمسَیٰ".
تمْرِين فِی الأعرَابِ (۱۰)
(أ) نَمُوذَجٌ:
(۱) صَارَ العِنَبُ زَبِيبًا.
صَارَ: فِعْلٌ مَاضٍ.
العِنَبُ: اِسْمُ صَارَ مَرْفُوعٌ.
زَبِيبًا: خَبَرُ صَارَ مَنْصُوبٌ.
(۲) يَبِيتُ القِطَارُ سَائِرًا.
يَبِيتُ: فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ.
القِطَارُ: اِسْمُ يَبِيتُ مَرْفُوعٌ.
سَائِرًا: خَبَرُ يَبِيتُ مَنْصُوبٌ.
(ب) أَعْرِبِ الجُمَلَ الآتِيَةَ:
۱. لَيْسَ الزُّجَاجُ مَكْسُورًا.
۲. كَانَ البِنَاءُ عَالِيًا.
۳. يُصْبِحُ المِدَادُ جَافًّا.
٤. يَبِيتُ البَحْرُ هَائِجًا.
27 تیسیر النحو۔ سبق:۷
أسئلة
۱. ما هو عمل كان وأخواتها اذكره بالتمثيل.
۲. كم الأفعال الناقصة، وما هي ؟
۳۔ اذكر من الأفعال الناقصة ما يعمل بدون شرط، وما يعمل بشرط مع ذكر الشرط والأمثلة.
۴۔ الاسم مع فعله الناقص يجري مجرى ماذا في جميع أحكامه من التزام التاخير وإفراد العامل وغيرهما ؟
۵۔ اسم الفعل الناقص مع خبره يجري مجرى ماذا في التعريف والتنكير، والتقديم والتأخير، والإفراد والتثنية، والجمع، والتذكير والتأنيث ؟
٦- إذا وقع خبر كان وأخواتها جملة فعلية فكيف يكون فعلها اذكره بالتفصيل مع الأمثلة.
۷۔ اذكر الحروف المشبهة بـ "ليس" وفيماذا تُشبه بها؟
۸۔ اذكر أعمل الحروف المشبهة بـ "ليس" مع الأمثلة.
۹۔ اذكر شروط عمل "ما" بالتفصيل.
١٠. هل تزاد الباء في خبر "ما" و "ليس اذكره مع الأمثلة.
۱۱. اذكر شروط عمل "لا" الخمسة بالتفصيل.
١٢- اذكر شرطي عمل "لات" بالتفصيل.
١٣ - اذكر شرطي عمل "إن المشبهة بـ "ليس بالتفصيل.
١٤ - متى تكون "إن المشبهة بـ "ليس مهملة، اذكر مع الأمثلة.
تمرينات
۱۔ أكمل الجمل الآتية، ثم اضبط أواخر كلماتها بالشكل
كان الحاكم. ظل العدل ...... صار العدو..... أصبح الحصان ..... أمسى الغني . أضحى السجين ..... بات الكلب ..... أحسن إلى والدك مادام ...... مازال المطر . ما انفك زيد .... ما فتي الجو...... ما برح التلميذ .... راح الطلاب . غدا الطفل ....... ليس الدواء۔۔۔۔
٢- حدد في الأمثلة الآتية الخبر المقدم على اسم الفعل الناقص وهل يجب تقديمه أم يجوز.
كان في البيت زيد، كان في البيت رجل، كان في المدرسة تلاميذها ، كان في المدرسة تلاميذ، إنما كان في البيت خالد، ماكان في البيت إلا خالد، كان في البيت خالد.
۳۔ حدد في الأمثلة الآتية الخبر المؤخر عن اسم الفعل الناقص إنما كان البحتري شاعرا، ماكان البحتري إلا شاعرا، كان البحتري شاعراء كان الأب يطيعه ابنه، صار صديقي عدوي.
۴۔ اذكر سبب تقديم خبر كان عليها وعلى اسمها في مثل: "أين كان زيد"
۵۔ فيماذا طابق خبر الفعل الناقص اسمه في كل جملة من الجمل الآتية
كان المدرسان حاضرين، كان المدرسون حاضرين، كان المدرس حاضرا، كانت المدرستان حاضرتين، كانت المدرسات حاضرات.
٦- بين في الجمل الآتية الحروف التي تعمل عمل ليس وبين الاسم والخبر في كل جملة.
إن الرياح عاصفة، ما آمالك خائبة، لا صداقة دائمة بغير إخلاص، فر السجين ولات حين مفر.
۷۔ما الذي أوجب إلغاء عمل "إن، وما ولاء في الجمل الآتية
ما عندي كتابك، لا في الدار أحد ما أموالك إلا فانية، إن سعيك إلا مشكور، لا بكاتب إلا قاري، لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة.
28 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
29 حروف مشبہ بالفعل
تعریف:
حروف مشبہ بالفعل وہ حروف ہیں جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں یعنی یہ مبتدأ (اسم) پر داخل ہو کر اسے نصب کرتے ہیں اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ یہ حروف معنی کے لحاظ سے فعل سے مشابہت رکھتے ہیں، اسی وجہ سے انہیں "حروف مشبہ بالفعل" کہا جاتا ہے۔
عمل:
یہ حروف جب جملہ اسمیہ پر داخل ہوتے ہیں تو جملے کے پہلے حصے (مبتدأ) کو منصوب اور دوسرے حصے (خبر) کو مرفوع کر دیتے ہیں۔
- مبتدأ کو "اسم" کہا جاتا ہے۔
- خبر کو "خبر" کہا جاتا ہے۔
حروف مشبہ بالفعل:
۱۔ إنّ:
یہ تاکید کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتا ہے۔
- مثال: إنّ زيداً مجتهدٌ (بیشک زید محنتی ہے)۔
۲۔ أنّ:
یہ بھی تاکید کے لیے آتا ہے اور عموماً کلام کے درمیان استعمال ہوتا ہے۔
- مثال: علمتُ أنَّ خالداً ناجحٌ (میں نے جانا کہ خالد کامیاب ہے)۔
۳۔ كأنّ:
یہ تشبیہ یا گمان کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
- مثال (تشبیہ): كأنَّ علياً أسدٌ (گویا علی شیر ہے)۔
- مثال (گمان): كأنَّكَ فاهمٌ (گویا تم سمجھ رہے ہو)۔
۴۔ لكنّ:
یہ استدراک کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی بات کے بعد کوئی دوسری بات کہنے کے لیے جو پہلی بات کے خلاف ہو۔
- مثال: الجو حارٌّ لكنّ الماءَ باردٌ (موسم گرم ہے لیکن پانی ٹھنڈا ہے)۔
۵۔ ليت:
یہ تمنا یا آرزو کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی چیز کے ہونے کی خواہش۔
- مثال: ليتَ الشبابَ يعودُ يوماً (کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے)۔
۶۔ لعلّ:
یہ ترجی یا امید کے لیے استعمال ہوتا ہے، یعنی کسی چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی امید۔
- مثال: لعلَّ اللهَ يرحمنا (شاید اللہ ہم پر رحم کرے)۔
خلاصہ:
حروف مشبہ بالفعل وہ حروف ہیں جو مبتدأ کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں۔ ان کا عمل جملے میں مبتدأ اور خبر کے مابین تعلق کو تبدیل کر کے مبتدأ کو "اسم" اور خبر کو "خبر" بناتا ہے۔
30 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۵
اِنّ و أخواتھا(ان اور اس کے اخوات )
إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ وَلَيْتَ وَلَعَلَّ تَدْخُلُ عَلَى الْمُبْتَدَأِ وَالْخَبَرِ، فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَأَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا.
إن ،أن، كأن، لكن، ليت، لعل مبتدأ وخبر پر داخل ہوتے ہیں۔ مبتداء کو نصب دے کر اس کا اسم کہلاتا ہے اور خبر کو رفع دے کر اِنّ کی خبر کہلاتی ہے
الامثلة
- الْجَمَلُ صَبُورٌ → إِنَّ الْجَمَلَ صَبُورٌ.
- الْهَرَمُ قَدِيمٌ → إِنَّ الْهَرَمَ قَدِيمٌ.
- الْاِمْتِحَانُ قَرِيبٌ → عَلِمْت أَنَّ الْاِمْتِحَانَ قَرِيبٌ.
- الزَّهْرَةُ نَاضِرَةٌ → يَسُرُّنِي أَنَّ الزَّهْرَةَ نَاضِرَةٌ.
- الْكِتَابُ أُسْتَاذٌ → كَأَنَّ الْكِتَابَ أُسْتَاذٌ.
- الْقَمَرُ مِصْبَاحٌ → كَأَنَّ الْقَمَرَ مِصْبَاحٌ.
- الْأَثَاثُ قَدِيمٌ → الْبَيْتُ جَدِيدٌ لَكِنَّ الْأَثَاثَ قَدِيمٌ.
- الْخَسَائِرُ قَلِيلَةٌ → شَبَّتِ النَّارُ لَكِنَّ الْخَسَائِرَ قَلِيلَةٌ.
- الْفَاكِهَةُ نَاضِجَةٌ → لَيْتَ الْفَاكِهَةَ نَاضِجَةٌ.
- الْقَمَرُ طَالِعٌ → لَيْتَ الْقَمَرَ طَالِعٌ.
- الْكِتَابُ رَخِيصٌ → لَعَلَّ الْكِتَابَ رَخِيصٌ.
- الْمَرِيضُ نَائِمٌ → لَعَلَّ الْمَرِيضَ نَائِمٌ.
31 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۰،۱۱
تخفيفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَانَ وَلَكِنَّ :
تُخَفَّفُ إِنَّ وَأَنَّ وَكَأَنَّ وَلَكِنَّ ، أَمَّا إِنَّ فَيَجُوزُ عِندَ التَّخْفِيفِ إِعْمَالُهَا وَإِهْمَالُهَا ، وإِذا أُهْمِلَتْ دَخَلَتْ لَامُ الاِبْتِدَاءِ عَلىٰ الْخَبَرِ فَارِقَةً بَيْنَ الإِثباتِ والنَّفْى
وأَمَّا أَنَّ وكَأَنَّ فلا تُهْمَلَانِ ، غَيْرَ أنَّ الاسم فِيهِمَا يَكونُ ضَمِيرُ الشأنِ مَحْذُوفاً. وأَمَّا لكنَّ فَتُهْمَلُ وُجُوباً
إِنَّ، أَنَّ، كَأَنَّ اور لَكِنَّ کو تخفیف (ہلکا) کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک إِنَّ کا تعلق ہے، تخفیف کے وقت اسے استعمال کرنا یا نہ کرنا دونوں جائز ہیں۔ اور اگر اسے استعمال نہ کیا جائے تو لام الابتداء خبر پر داخل ہو جاتی ہے جو اثبات اور نفی کے درمیان فرق کرتی ہے۔
جہاں تک أَنَّ اور كَأَنَّ کا تعلق ہے، یہ کبھی استعمال نہیں ہوتی ہیں، لیکن ان دونوں میں اسم ضمیر الشأن محذوف ہوتا ہے، اور لَكِنَّ تو اسے وجوباً (ضروری طور پر) استعمال نہیں کیا جاتا۔
الامثلة
(۱)
إِنْ عَمَلَكَ مُتقَن أو إِنْ عَمَلُكَ لَمُتقَنٌ
إِنْ مَرَضَهُ عُضَالٌ أو إِن مَرَضُهُ لَعُضَالُ
(۲)
عَلِمْتُ أنْ لَيسَ لِمقصَّرٍ فَلَاحٌ
بَلَغَنِي أَنْ لَم يُقبَضۡ عَلى اللِّصِّ
كأن قَد طَلَعَ القَمَرُ
كأن لم يُهْمِلْ وَاجِبَهُ أَحَدٌ
(۳)
الشَّمْسُ طَالِعَةٌ لٰكِنِ المَطَرُ نَازِلٌ۔
الكِتابُ صَغِيرٌ لَكِنْ نَفْعُهُ عَظِيمٌ .
كَفَ إِنَّ وأخواتها عن العمل: اِنَّ اور اس کے اخوات کو عمل سے روکنا
تَتَّصِلُ مَا الزَّائِدَةُ بِإِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فَتَكُفُّهَا عَنِ الْعَمَلِ، وَ تَزِيلُ اخْتِصَاصَهَا بِالْأَسْمَاءِ إِلَّا لَيْتَ فَيَجُوزُ اعْمَالُهَا وِإِلْغَاءُهَا وَلَا يَزُولُ اِخْتَصَاصُهَا بِالْأَسْمَاءِ
جب ما کافہ اِنّ اور اس کے اخوات کے ساتھ متصل ہوتا ہے تو اس کو عمل سے روک دیتا ہے اور اس کے اسماء کے ساتھ اختصاص کو زائل کر دیتا ہے، مگر لیت میں یہ بات نہیں ہے، پس جائز ہے اس کو عمل دینا اور اس کو عمل سے ملغہ رکھنا اور اس کا اسماء کے ساتھ اختصاص زائل نہیں ہوتا۔
الامثلة
(۱)
إنَّمَا الحَيَاةُ جِهَادٌ
إنَّمَا القَنَاعَةُ كَنزٌ
إِنَّمَا تُقَاسُ هِمَمُ النَّاسِ بِالأَعْمَالِ
إنَّمَا يُعَاقَبُ الْمُسِيءُ
(۲)
لَيتَمَا الدَّهْرَ مُسَالِمٌ
لَيتَمَا الإنسَانُ كَامِلٌ
لَيتَمَاالسُرُورُ دَائِمٌ
لَيتَمَا الشَبَابُ راجِعٌ
32 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق: ۲۰
حروف مشبہ بالفعل چھ ہیں اور وہ یہ ہیں :-
إنَّ ، أَنَّ ، كَانَ ، لَيْتَ ، لكن ، لعل
یہ حروف جملہ اسمیہ (مبتدا و خبر)، پر داخل ہوتے ہیں اور اپنے اسم (مبتدا) کو نصب دیتے ہیں۔ خبر اپنے حال پر مرفوع ہی باقی رہتی ہے ۔ ان کو مشبہ بالفعل اس لئے کہتے ہیں کہ فعل کی طرح یہ بھی ایک اسم (مبتدا) کو نصب اور دوسرے اسم (خبر) کو رفع دیتے ہیں ۔
(۱) إن اور أنّ جملہ میں تاکید وتحقیق کے معنی پیدا کرتے ہیں جیسے: اِنَّ زیدًا قائمٌ
(۲) كانَّ تشبیہ کے معنی دیتا ہے جیسے كَانَّ مَحمُودا اسد (گویا کہ محمود شیر ہے)
(۳) لیت و لعل تمنا و آرزو کے لئے آتے ہیں مگر دونوں میں فرق یہ ہے کہ لیت سے امر محال کی بھی تمنا کی جاتی ہے اور لعل سے امرممکن کی ہی۔
(۴) لکنّ استدراک کے لئے آتا ہے یعنی جملہ سابقہ سے جو شبہ اور و ہم پیدا ہوتا ہے اس کو دور کرنے کے لئے آتا ہے۔
اِنّ اور أن میں فرق یہ ہے کہ ان مع اپنے معمول کے مصدر کے معنی میں موول ہوتا ہے اور اس طرح دوسرے جملہ کا جزو بن جاتا ہے جیسے :- علمت أنك ذاهب، يعني علمت ذهابك .
اِنَّ مصدر کے معنی میں مؤول نہیں ہوتا اور نہ کسی دوسرے جملہ کا جزو بنتا ہے بلکہ مستقل جملہ پر آتا ہے جیسے: اِنّ اللہ علی کل شیئٍ قدیر
ذیل کی صورتوں میں انّ کو بالکسر ہی لکھنا اور پڑھنا چاہیئے :-
(1) جبکہ شروع کلام میں ہو جیسے: إِنَّ الحَرَّشَديد
(۲)جبکہ قول اور قول کے مشتقات کے بعد ہو جیسے: قُلْ إِنَّ الْحَقَّ وَاضِحٌ
(۳) جبکہ صلہ کے شروع میں ہو جیسے زرت الذي اِنّى أجله . جاء الذين إِنَّ مجیئھم يسرني
أنّ جیسا کہ بتایا گیا وسط کلام میں آتا ہے ، علم کے بعد اور مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ اَنَّ ہی پڑھا جاتا ہے۔ خصوصا حروف جارہ کے بعد جیسے الم يعلم بأنّ الله یری
نوٹ:۔ جملہ اسمیہ میں جس طرح خبر کو مفرد یا جملہ یا شبہ جملہ سبھی لا سکتے ہیں اسی طرح نواسخ کی خبر بھی مفرد، جملہ اور شبہ جملہ سب آتے ہیں۔ جیسے إِنَّ الله يَرْزُقُ الْعِبَادَ .
33 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۲
الحروف المشبهة بالفعل، وهي تدخل على المبتدأ والخبر تنصب المبتدأ وترفع الخبر، وهي ستة حروف: "إنّ وأنّ" وهما لتحقيق مضمون
الجملة الاسمية مثل: إن زيدا قائم أي حققت قيام زيد، وبلغني أن زيدا منطلق أي بلغني ثبوت انطلاق زيد.
و"كأن" وهي للتشبيه نحو :كأنّ زيدا أسد.
و "لكن" وهي للاستدراك أي لدفع التوهم الناشئ من الكلام السابق، ولهذا لا تقع إلا بين الجملتين اللتين تكونان متغايرتين بالمفهوم مثل: غاب زيد لكن بكرا حاضر، وما جاءني زيد لكن عمرا جاءني.
و"ليت" وهي للتمني مثل: ليت زيدا قائم أي أتمنى قيامه.
و"لعل" وهي للترجي مثل لعل السلطان يكرمني،
والفرق بين التمني والترجي أن الأول يستعمل في الممكنات كما مر والممتنعات مثل: ليت الشباب يعود والترجي مخصوص بالممكنات فلا يقال: لعل الشباب يعود، وتدخل "ما" الكافة على جميعها فتكفها عن العمل كقوله تعالى : أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ و إنما زيد منطلق.
یہ وہ حروف ہیں جو فعل کی طرح ہوتے ہیں، اور یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو منصو ب کرتے ہیں اور خبر کو مرفوع کرتے ہیں۔
یہ چھ حروف ہوتے ہیں:
"إنّ" اور "أنّ" جو جملہ اسمیہ کے مضمون کی تصدیق کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "إن زيدا قائم" یعنی زید کے قیام کی تصدیق کی گئی ہے، اور "بلغني أن زيدا منطلق" یعنی مجھے اطلاع ملی کہ زید روانہ ہو گیا ہے۔
"كأنّ" تشبیہ کے لیے ہے، جیسے: "كأن زيدا أسد" یعنی زید گویا شیر ہے۔
"لكنّ" استدراک کے لیے ہے، یعنی پچھلی بات سے پیدا شدہ توہم کو دور کرنے کے لیے، لہذا یہ صرف دو مختلف مفہوم جملوں کے درمیان آتی ہے، جیسے: "غاب زيد لكن بكرا حاضر" یعنی زید غائب ہے لیکن بکر حاضر ہے، اور "ما جاءني زيد لكن عمرا جاءني" یعنی زید نہیں آیا لیکن عمرو آیا۔
"ليت" تمنا کے لیے ہے، جیسے: "ليت زيدا قائم" یعنی میں زید کے قیام کی تمنا کرتا ہوں۔
"لعلّ" ترغیب کے لیے ہے، جیسے: "لعل السلطان يكرمني" یعنی شاید سلطان مجھے عزت دے۔
تمنّا اور ترجّی (آرزو اور امید) کے درمیان فرق یہ ہے کہ تمنّا ان چیزوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ممکن ہوں جیسا کہ پہلے بیان ہوا، اور ان چیزوں کے لیے بھی جو ناممکن ہوں، جیسے: "لَیْتَ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"، جبکہ ترجّی صرف ممکن چیزوں کے لیے مخصوص ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جاتا: "لَعَلَّ الشَّبَابَ یَعُوْدُ"۔
"ما" کافہ (جو عمل کو روک دیتی ہے) ان دونوں پر داخل ہوتی ہے اور ان کو عمل سے روک دیتی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "أَنَّمَا إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ" اور"إنما زيد منطلق" ۔
34 تیسیر النحو۔ سبق:۱۰
فصل خبر إن وأخواتها (أي الحروف المشبهة بالأفعال)
هذه الحروف تدخل على المبتدأ والخبر، فتنصب المبتدأ ويسمى اسمها، وترفع الخبر ويسمى خبرها.
وهي:
ا۔ إنّ: للتوكيد، نحو: إن المجتهد ناجح
۲۔ أنّ : للتوكيد، ولا بد أن يتقدمها كلام، نحو: يسرني أن خالداً ناجح .
۳۔ كأن للتشبيه إذا كان خبرها جامدا، وللظن إذا كان خبرها مشتقا نحو: كأن محمدا أسد ( للتشبيه) وكأنك فاهم (للظن)
۴۔ لكن : للاستدراك، أي لأن تثبت لما بعدها حكما مخالفا لحكم ما قبلها ولذلك لا بد أن يتقدمها كلام، نحو: الكتاب صغير لكنه مفيد.
۵۔ ليت للتمني، أي محبة حصول الشيء، ويكون ذلك في الممكن نحو: ليت زيدا قائم وغير الممكن نحو: ليت الشباب يعود يوماً.
۶۔ لعل للترجي، وهو ترقب شيء لا وثوق بحصوله، ولا يكون ذلك إلا في الممكن سواء أكان محبوبا نحو : لعل الله يرحمنا، أم مكروها، نحو: لعل العدو يقدم.
وحكمه في كونه مفردا، أو جملة، أو شبه جملة، أو معرفة أو نكرة كحكم خبر المبتدأ.
ولا يجوز تقديم أخبارها على أسمائها إلا إذا كان الخبر ظرفا أو جارا ومجرورا والاسم معرفة، نحو: إن في الدار زيدا، وإن مع خالد زيدا.
ويجب تقديم خبرها إذا كان اسمها نكرة، ولا مسوغ لكون تلك النكرة اسما لها سوى تقديم خبرها، نحو: إن مع العسر يسرا.
ويجب تقديم الخبر أيضا في موضعين:
أولها: إذا لزم من تأخيره عود الضمير على متأخر لفظا ورتبة، نحو: إن في الدار صاحبها.
وثانيهما: إذا كان الاسم مقترنا بلام التأكيد، نحو: إن في ذلك لعبرة
"إن" اور اس کے اخوات (حروف مشبہ بالفعل) کا بیان:
یہ حروف مبتدأ اور خبر پر داخل ہوتے ہیں، جس سے مبتدأ منصوب ہو جاتا ہے اور اسے "اسم" کہا جاتا ہے، جبکہ خبر مرفوع ہو جاتی ہے اور اسے "خبر" کہا جاتا ہے۔
یہ حروف درج ذیل ہیں:
۱۔ إنّ: یہ تاکید کے لیے آتا ہے، جیسے: إن المجتهد ناجح (بیشک محنتی کامیاب ہے)۔
۲۔ أنّ: یہ بھی تاکید کے لیے آتا ہے، لیکن اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے: يسرني أن خالداً ناجح (مجھے خوشی ہے کہ خالد کامیاب ہے)۔
۳۔ كأنّ: یہ تشبیہ کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر جامد ہو، اور گمان کے لیے آتا ہے اگر اس کی خبر مشتق ہو، جیسے:
- كأن محمداً أسد (گویا محمد شیر ہے) — تشبیہ کے لیے۔
- كأنك فاهم (گویا تم سمجھ رہے ہو) — گمان کے لیے۔
۴۔ لكنّ: یہ استدراک کے لیے آتا ہے، یعنی بعد میں آنے والی چیز کے لیے ایسا حکم جو پہلے سے مختلف ہو، اور اس سے پہلے کوئی بات ہونی چاہیے، جیسے:
- الكتاب صغير لكنه مفيد (کتاب چھوٹی ہے لیکن مفید ہے)۔
۵۔ ليت: یہ تمنا (آرزو) کے لیے آتا ہے، یعنی کسی چیز کے ہونے کی خواہش، چاہے وہ ممکن ہو یا ناممکن، جیسے:
- ليت زيدا قائم (کاش زید کھڑا ہو) — ممکن کی تمنا۔
- ليت الشباب يعود يوماً (کاش جوانی ایک دن لوٹ آئے) — ناممکن کی تمنا۔
۶۔ لعلّ: امید اور توقع کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور اس کا مطلب کسی ایسے امر کا انتظار کرنا ہوتا ہے جس کے حاصل ہونے کا یقین نہ ہو۔ یہ صرف اسی چیز کے لیے آتا ہے جو ممکن ہو، چاہے وہ پسندیدہ ہو یا نہ ہو۔جیسے:
- لعل الله يرحمنا (شاید اللہ ہم پر رحم کرے) — محبوب چیز کی امید۔
- لعل العدو يقدم (شاید دشمن آگے بڑھے) — ناپسندیدہ چیز کی امید۔
خبر کے احکام:
خبر کا مفرد، جملہ یا شبه جملة ہونا اور اس کا نکرہ یا معرفہ ہونا، ویسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ مبتدأ کی خبر میں ہوتا ہے۔
خبر کے اسم پر مقدم ہونے کی اجازت:
خبر کو اسم پر مقدم نہیں کیا جا سکتا سوائے اس صورت میں جب خبر ظرف یا جار و مجرور ہو اور اسم معرفہ ہو، جیسے:
- إن في الدار زيدا (بیشک زید گھر میں ہے)
- إن مع خالد زيدا (بیشک زید خالد کے ساتھ ہے)۔
خبر کے مقدم ہونے کی وجوبی صورتیں:
خبر کو دو صورتوں میں مقدم کرنا واجب ہوتا ہے:
۱۔ اگر تاخیر کی صورت میں ضمیر کا مرجع مؤخر ہو جائے، جیسے:
- إن في الدار صاحبها (بیشک اس کا مالک گھر میں ہے)۔
۲۔ جب اسم "لام تاکید" کے ساتھ ہو، جیسے:
- إن في ذلك لعبرة (بیشک اس میں عبرت ہے)۔
35 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱، ۳
اِنّ: جملہ اسمیہ کے شروع میں داخل ہوتا ہے۔ جیسے : الْكِتَابُ سَهْلٌ إِنَّ الْكِتَابَ سَهْلٌ
یہاں یہ بات یاد رہے کہ اِنَّ داخل ہونے کے بعد پہلا لفظ (مبتدا) منصوب ہو جاتا ہے اِنَّ داخل ہونے کے بعد مبتدا کو اِسمُ اِنَّ ( إِنَّ کا اسم ) اور خبر کو خَبَرُ إِنَّ ( إِنَّ کی خبر ) کہتے ہیں۔
اِنَّ معنی میں زور اور تاکید پیدا کر دیتا ہے ، جس کے لئے اردو میں بے شک ، بلاشبہ ، یقیناً اور ”ہی“ کا استعمال ہوتا ہے ۔
نوٹ :- اگر مبتدا پر اِنَّداخل ہونے سے پہلے ایک ضمہ ہو تو وہ ایک فتحہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ جیسے :
الْمُدَرِّسُ جَدِيدٌ إِنَّ الْمُدَرِّسَ جَدِيدٌ
آمِنَةٌ طَالِبَةٌ ان آمِنَة طالبة
لیکن اگر مبتدا پر دو ضمہ ہوں تو اِنَّ داخل ہونے پر وہ دو فتحہ میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جیسے :
حَامِدٌ مَرِيضٌ إِنَّ حَامِدًا مَرِيْضٌ
اگر مبتدا ضمیر ہو تو اِنَّ داخل ہونے کے بعد وہ ضمیر نصب سے بدل جاتا ہے۔ جیسے
ضمیر
أَنْتَ غَبِي إِنَّكَ غَبِيٌّ
کأنّ :( گویا، ایسا لگتا ہے ) یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہنوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :
كَأَنَّ الْإِمَامَ مَرِيْضٌ گویا امام مریض ہیں
مَنْ هذِهِ الْفَتَاةُ ؟ كَأَنَّهَا أُخْتُك لڑکی کون ہے؟ گویا یہ تیری بہن ہے
كَأَنَّكَ مِنَ الْهَنْدِ گویا تم ہندستان کے ہو
لكنّ (لیکن): یہ بھی اِنَّ کے اخوات ( بہوں ) میں سے ہے اور اُسی جیسا عمل کرتا ہے۔ جیسے :
بلال مُجْتَهَدٌ وَلَكِنَّ حَامِدًا كَسَلَانُ بلال محنتی ہے لیکن حامد کاہل ہے
أَخِي مُتَزَوِّجُ وَ لَكِنِّي عَزَبٌ میرا بھائی شادی شدہ ہے لیکن میں کنوارا ہوں
سَيَّارَتِي قَدِيْمَةٌ وَ لَكِنَّهَا قَوِيَّة میری کار پرانی ہے لیکن وہ مضبوط ہے
لَعَلَّ: یہ بھی جملہ اسمیہ پر داخل ہوتا ہے اور اِنَّ کی طرح عمل کرتا ہے، اس کو اختُ إِنَّ یعنی ان کی بہن کہا جاتا ہے۔ یہ دو معنوں کے لئے استعمال ہوتا ہے :
ا :- امید ہے، توقع ہے۔
۲:- خدشہ ہے، اندیشہ ہے، خوف ہے۔ جیسے
الجوُّ جَمِيلٌ .موسم خوشگوار ہے
لَعَلَّ الْجَوَّ جَمِيلٌ امید ہے کہ موسم خوشگوار ہوگا
الْمُدَرِّسُ مَرِيض استاد بیمار ہیں
لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ مَرِيضٌ اندیشہ ہے کہ استاذ یمار ہیں
36 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۲۱
حروف مشبه بالفعل یعنی فعل سے مشابہ حروف
یہ کل چھ حروف ہیں: إِنَّ أَنَّ كَأَنَّ لَيْتَ، لَكِنَّ، لَعَلَّ. انہیں إِنَّ اور اس کی اُخوات بھی کہا جاتا ہے، یہ دو پہلؤوں سے فعل کے مشابہ ہیں ۔
(۱) معنی کے لحاظ سے، إِنَّ اور اَنَّ کا معنی ہے: میں تاکید کے ساتھ کہتا ہوں، کاَنَّ : میں سمجھتا ہوں، لکن : میں تصحیح کرتا ہوں ، لیت میں تمنا کرتا ہوں، اور لعل کا معنی ہے: میں امید کرتا ہوں مجھے اندیشہ ہے۔
(۲) اعراب میں: چنانچہ جس طرح مفعول بہ منصوب ہوتا ہے اسی طرح ان حروف کے اسماء بھی منصوب ہوتےہیں۔
حروف مشبهة بالفعل کے معانی
إِنَّ، أَنَّ یہ دونوں تاکید کے اظہار کے لئے استعمال ہوتے ہیں، جیسے : ﴿إنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [المائدة : ٢] بے شک اللہ زبردست عذاب والا ہے ﴿وَاعْلَمُوا أَنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ [الأنفال: ۲۵] اور یقین جانو کہ اللہ بہت سخت عذاب والا ہے۔
كاَنَّ تشبیہ کا معنی دیتا ہے، جیسے: كَأَنَّ الْعِلْمَ نُور گویا کہ علم نور ہے کبھی یہ ظن اور گمان کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ، جیسے : كَأَنَّني أَعْرِفُكَ شاید میں تمہیں پہچانتا ہوں
لٰكِنَّ استدراک کا معنی دیتا ہے ، جیسے: حَامِدٌ ذَكِيٌّ لِٰكِنَّهُ كَسۡلانُ حامد ذہین ہے لیکن وہ ست (کابل)
ہے۔
لیت: حسرت اور تمنا کے اظہار کے لئے آتا ہے، جیسے لَيْتَ الشَّبَابَ يَعُودُ. کاش جوانی لوٹ آتی۔
لعل: توقع یا اندیشہ کو بتاتا ہے، جیسے: لَعَلَّ الله يَغْفِرُ لِي. امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے معاف کر دیں گے۔ لَعَلَّ الْجَرِيْحَ يَمُوتُ ڈر ہے کہ زخمی مرجائے گا۔
یہ حروف مبتدا خبر پر داخل ہوتے ہیں، مبتدا کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں ، اِنَّ کے داخل ہونے کے بعد مبتدا ان کا اسم اور خبر ان کی خبر کہلاتے ہیں، جیسے:
مبتدا: اللّٰه خبر: غَفُوْرٌ
اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ
اسم انَّ : اللّٰهَ
خبر اِنّ : غَفُوْرٌ
مبتدا کے برخلاف اگر انّ اور اس کے اخوات کی خبر جملہ فعلیہ ہو تو اِنّ کا اسم نکرہ ہوسکتا ہے، جیسے: كَأَنَّ شَيْئًا لَمْ يَحدُث گویا کہ کچھ نہیں ہوا۔
مبتدا کی خبر کی طرح إِنَّ اور اس کی اخوات کی خبر بھی مفرد، جملہ یا شبہ جملہ ہوگی، جیسے:
ا۔ مفرد۔﴿ إِنَّ اللهَ سَرِ يعُ الْحِسَابِ ﴾ [آل عمران: ۱۹۹] یقینا اللہ تعالی بہت جلد حساب لینے والے ہیں۔
۲۔ جملہ
الف- جمله فعليه: ﴿ إِنَّ اللهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا) [الزمر: ۵۳] یقینا اللہ تعالی سارے گناہوں کو معاف کر دیتے ہیں۔
ب - جملہ اسمیہ: ﴿إِنَّ اللهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ ﴾ [لقمان: ۲۴] یقینا صرف اللہ تعالی ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔
۳۔ شبہ جملہ
ا۔ جار ومجرور : كَأَنَّكَ مِنَ الصِّيْنِ. غالبا تم چین کے باشندے ہو۔
ب۔ ظرف : لَعَلَّ الْمُدَرِّسَ عِنْدَ الْمُدِيرِ. غالبا استاد ہیڈ ماسٹر کے پاس ہیں۔
اگر خبر شبہ جملہ ہو تو وہ اسم سے پہلے بھی آسکتی ہے، جیسے:
﴿إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ لا ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ ﴾ [الغاشية: ۲۶،۲۵] یقینا ہماری ہی طرف ان کا پلٹنا ہے ، پھر بے شک ہمارے ہی ذمہ ہے ان کا حساب لینا۔
اصل ترتیب یوں ہوگی: إِنَّ إِيَابَهُمْ إِلَيْنَا ثُمَّ إِنَّ حِسَابَهُمْ عَلَيْنَا . اسم چونکہ معرفہ ہے اس لئے اس کی تاخیر جائز ہے، ضروری نہیں، اگر اسم نکرہ ہو تو لازما وہ مؤخر ہوگا ، جیسے:
﴿إِنَّ لَدَيْنَا أَنْكَالًا وَّجَحِيْمًا﴾(۱)[المزمل:١٣] یقینا ہمارے پاس سخت بیڑیاں اور جہنم ہے۔
﴿إنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾ [الانشراح: ٦] یقین تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔
یہاں یوں کہنا درست نہ ہوگا: إِنَّ أَنكالاً لَدَيْنَا يَا إِنَّ يُسْرًا مَعَ الْعُسْرِ.
اگر لیت کا اسم ضمیر متکلم ی ہو تو اس کے ساتھ لازما نونِ وقایہ استعمال ہوگا ، جیسے: لَيْتَنِي طِفل کاش میں ایک بچہ ہوتا۔
اگر إِنَّ ، أَنَّ كَأَنَّ، لکن کا اسم بنے تو نونِ وقایہ کا استعمال جائز ہے ،ضروری نہیں ، جیسے: إِنِّي إِنَّنِي. أَنِّي أَنَّنِي. كَأَنِّي، كَأَنَّنِي. لكني، لكنني . لَعَلَّ کے ساتھ نونِ وقایہ استعمال نہیں ہوگا ، ہم کہتے ہیں : لَعَلى لَا أَرَاكَ مُدَّةً طَوِيْلَةٌ. شاید میں ایک لمبے عرصے تک تم سے نہ مل سکوں گا۔
37 المفصل۔ سبق:۷
خبر إن وأخواتها
سبب رفع خبر إن
هو المرفوع في نحو قولك إن زيداً أخوك، ولعل بشراً صاحبك. وارتفاعه عند أصحابنا بالحرف لأنه أشبه الفعل في لزومه الأسماء والماضي منه في بنائه على الفتح فألحق منصوبه بالمفعول ومرفوعه بالفاعل، ونزل قولك إن زيداً أخوك منزلة ضرب زيداً أخوك. وكأن عمراً الأسد منزلة فرس عمراً الأسد. وعند الكوفيين هو مرتفع بما كان مرتفعا به في قولك زيد أخوك ولا عمل للحرف فيه. وجميع ما ذكر في خبر المبتدأ من أصنافه وأحواله وشرائطه قائم فيه، ما خلا جواز تقديمه إذا وقع ظرفاً كقولك إن في الدار زيداً، ولعل عندك عمراً، وفي التنزيل: "إن إلينا إيابهم ثم إن علينا حسابهم"
حذف خبر إن
وإن عمراً أي إن لنا وقال الأعشى:
إن محلا وإن مرتحلا وإن في السفر اذ مضوا مهلا
وتقول إن غيرها إبلا وشاء أي إن لنا. وقال:
يا ليت أيام الصبى رواجعا
وقد حذف في قولهم إن مالا وإن ولدا عدداً أي إن لهم مالاً.
ويقول الرجل للرجل هل لكم أحد من الناس عليكم فيقول إن زيداً أي ياليت لنا. ومنه قول عمر بن عبد العزيز رضي الله عنه لقرشي مت إليه بقرابة: فإن ذاك. ثم ذكر حاجته فقال : لعل ذاك أي فإن ذاك مصدق ولعل مطلوبك حاصل. وقد التزم حذفه في قولهم ليت شعري.
38 المفصل۔ سبق:
الخبر والاسم في بابي كان وإن
لما شبه العامل في البابين بالفعل المتعدي شبه ما عمل فيه بالفاعل والمفعول ويضمر العامل في خبر كان في مثل قولهم الناس مجزيون بأعمالهم إن خيراً فخير وإن شراً فشر، والمرء مقتول بما قتل به أن خنجراً فخنجر وإن سيفاً فسيف، أي إن كان عمله خيراً فجزاؤه خير وإن كان شراً فجزاؤه شر.
والرفع أحسن في الآخر ومنهم من يرفعهما ويضمر الرافع أي أن كان معه خنجر فالذي يقتل به خنجر قال النعمان بن المنذر : قد قيل ذلك إن حقاً وإن كذبا ومنه الإطعام ولو تمراً وائتني بداية ولو حماراً. وإن شئت رفعت بمعنى ولو يكون ثمر وحمار، ادفع الشر ولو إصبعاً. ومنه أما أنت منطلقاً انطلقت، والمعنى لأن كنت منطلقاً، وما مزيدة معوضة من الفعل المضمر .
ومنه قول الهذلي:
أبا خراشة أما أنت ذا نفر
وروى قوله:
إما أقمت وأما أنت مرتحلاً فالله يكلأ ما تأتي وما تذرا
بكسر الأول فتح الثاني.
39 تمارین
40 معلم الانشاء (جلد: ۱) سبق:۲۰
اَلتَّمْرِيْنُ (115)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اِنَّ الرِّيْحَ شَدِيْدَةٌ.
(2) اِنَّ الْبَخِيْلَ عَدُوٌّ لِنَفْسِهِ.
(3) اِنَّ الْهَوَاءَ الطَّلْقَ مُفِيْدٌ.
(4) سَرَّنِي اَنَّ النَّتيجةَ حسنةٌ.
(5) كَأَنَّ الشَّمْسَ قُرصٌ مِنَ الذَّهَبِ.
(6) الرَّجلُ بَخيلٌ ولَكنّ ابنَهُ جوادٌ.
(7) اِنَّ الْمُجِدِّيْنَ فَائزونَ.
(8) ليتَ النّاسَ منصفون.
(9) ليتَ الحياةَ خَالِيَةٌ من الكدرِ.
(10) لعَلَّ القِطَارَ مُتَاَخِّرٌ.
(11) لَعَلَّ الْعُمَّالَ مُتْعَبُوْنَ.
(12) اِنَّ الْفَتَياتِ مُهَذَّبَاتٌ.
اَلتَّمْرِيْنُ (116)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) واقعی محمود ایک محنتی طالب علم ہے۔
(۲) واقعی یہ محل بڑا شاندار ہے۔
(۳) یہ شہر واقعی خوبصورت ہے مگر اس کی سڑکیں تنگ ہیں۔
(۴) مجھے خوشی ہوئی کہ خالد پاس ہے۔
(۵) کاش تمام طلبہ کامیاب ہوتے۔
(۶) گویا یہ محل ایک بلند پہاڑ ہے۔
(۷) اساتذہ گویا مہربان باپ ہیں۔
(۸) محمود گرفتار ہے مگر وہ بے گناہ ہے۔
(۹) دوست بہت ہیں پر وفادار تھوڑے ہیں۔
(۱۰) یہ لوگ اپنی نیتوں میں مخلص ہیں مگر خطاکار ہیں۔
(۱۱) کاش تم لوگ محنتی طالب علم ہوتے۔
(۱۲) شاید یہ لوگ سیاح ہیں۔
(۱۳) اس تالاب کا پانی گویا صاف آئینہ ہے۔
(۱۴) ستارے گویا روشن چراغ ہیں۔
اَلتَّمْرِيْنُ (117)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اِنَّ اللهَ يَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ.
(2) اِنَّ الصَّلاَةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ.
(3) اِنَّ السَّفِيْنَةَ لَا تَجْرِيْ عَلىَ الْيُبْسِ.
(4) لَعَلَّ اللهَ يَرْزُقُنِيْ صَلاَحًا.
(5) لَيْتَكُمْ تَجْتَهِدُوْنَ قَبْلَ الْاِمْتِحَانِ.
(6) كَأَنَّ اُذُنَي الفِيْلِ مِرْوَحَتَانِ.
(7) اِنَّ الْجَاهِلَ يُسِيْءُ اِلىَ نَفْسِهِ.
(8) اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ.
(9) اِنَّ الْاُمَّهَاتِ يُهَذِّبْنَ الْبَنَاتِ.
(10) وَجَدْتُ اَنَّ انغماسَ المرءِ فِي التَّرف يَضُرُّهُ.
(11) اَرَى اَنَّ بَائِعِي الصُّحُفِ قَدْ كَثُرُوْا.
(12) اِنَّ الْاَغْنِيَاءَ كَثِيْرُوْنَ وَلَكِنَّهُمْ لاَ يُؤَاسُوْنَ الْفُقَرَاءَ.
اَلتَّمْرِيْنُ (118)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) ورزش جسم کو واقعی طاقت ور بناتی ہے۔
(۲) واقعی محمود بڑی اچھی تقریر کرتا ہے۔
(۳) کاش تم میری نصیحت پر عمل کرتے۔
(۴) تم دونوں ذہین تو ہو لیکن پڑھنے میں محنت نہیں کرتے۔
(۵) میں جانتا تھا کہ یہ طلبہ امتحان میں ناکام ہوں گے۔
(۶) شاید یہ لوگ اب پڑھنے میں محنت کریں۔
(۷) لوگ دنیا کی زندگی میں منہمک ہیں گویا وہ کبھی نہیں مریں گے۔
(۸) بخیل سمجھتا ہے کہ مال ہمیشہ رہنے والا ہے۔
(۹) کاش ہم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔
(۱۰) اسلام ہی دین برحق ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔
(۱۱) کاش مسلمان اسلام کے احکام پر عمل کرتے۔
(۱۲) مجھے خوشی ہوئی کہ تم لوگ امتحان میں کامیاب ہوئے۔
(۱۳) اس مسجد کے دونوں منارے واقعی بہت بلند ہیں۔
(۱۴) گویا یہ دونوں آسمان سے سرگوشی کررہے ہیں۔
41 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۵
التَّمْرِين (۱)
بَيِّنْ كُلَّ اِسْمٍ وَخَبَرٍ لِـ "إِنَّ" وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَاتِ الآتِيَةِ:
1. لَعَلَّ التُّفَّاحَ كَثِيرٌ.
2. وَجَدْتُ أَنَّ الْعَقْرَبَ سَامٌّ.
3. لَيْتَ الْبَلِيدَ مُجْتَهِدٌ.
4. إِنَّ النَّظَافَةَ وَاجِبَةٌ.
5. لَعَلَّ التَّاجِرَ رَابِحٌ.
6. اِمْتَنَعَ الْمَطَرُ وَلَكِنَّ السَّحَابَ كَثِيرٌ.
التَّمْرِين (۲)
اِدْخِلْ "إِنَّ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1. النُّجُومُ لَامِعَةٌ.
2. الْبَعُوضُ كَثِيرٌ.
3. السَّيَّارَةُ سَرِيعَةٌ.
4. الْبَعُوضُ كَثِيرٌ.
5. الشِّتَاءُ مُقْبِلٌ.
6. الْمَاءُ كَدِرٌ.
التَّمْرِين (۳)
اِدْخِلْ "لَيْتَ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1.الدَّرَاهِمُ كَثِيرَةٌ.
2.الشَّارِعُ وَاسِعٌ.
3.الْبَطَّةُ سَمِينَةٌ.
4.الْعُطْلَةُ قَرِيبَةٌ.
5.الْبَحْرُ هَادِئٌ.
6.الْبَائِعُ أَمِينٌ.
التَّمْرِين (۴)
اِدْخِلْ "لَعَلَّ" عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَأَشْكِلْ آخِرَ كُلِّ كَلِمَةٍ فِيهَا:
1.الْمُسَافِرُ قَادِمٌ.
2.الْكُوبُ نَظِيفٌ.
3.الْقِصَّةُ لَذِيذَةٌ.
4.الْقُمْطَرُ مُرَتَّبٌ.
5.الْخَبَرُ صَحِيحٌ.
6.الدَّرْسُ سَهْلٌ.
التَّمْرِين (۵)
ضَعْ حَرْفًا مُنَاسِبًا فِي الْمَكَانِ الْخَالِي مِنْ كُلِّ جُمْلَةٍ وَأَشْكِلْ آخِرَ الْاِسْمَيْنِ بَعْدَهُ:
1. يَسُرُّنِي ..... النَّتِيجَةَ.
2. الْوَالِدُ مُؤَدَّبٌ ..... الْوَلَدَ قَبِيحٌ.
3. الْهَوَاءُ شَدِيدٌ ..... الْجَوَّ دَافِئٌ.
4. اِشْتَدَّ الْمَطَرُ ..... الشَّارِعَ نَظِيفٌ.
5. مَا عَلِمْتُ ..... الْمِفْتَاحَ ضَائِعًا.
6. يُؤْلِمُنِي ..... الْبِنْتَ مَرِيضَةٌ.
7. سَمِعْتُ ..... الْفَيَضَانَ.
8. أَخْبَرَ الْحَمَّالُ ..... الْقِطَارَ مُتَأَخِّرًا.
9. هَلْ بَلَغَكَ ..... النِّيلَ مُرْتَفِعًا؟
10. الْحَدِيقَةُ جَمِيلَةٌ ..... الْبُسْتَانِيَّ مُهْمِلٌ.
التَّمْرِين (۶)
أَتِمَّ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ الْخَبَرِ الْمَحْذُوفِ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي ثُمَّ أَضْبِطْ أَوَاخِرَ كَلِمَاتِهَا:
1. إِنَّ الْأَسَدَ .............
2. الْكِتَابُ مُفِيدٌ وَلَكِنَّ الصُّوَرَ .............
3. شَعَرْتُ أَنَّ الْبَرْدَ ..................
4. كَانَ الْهَرُّ ...........
5. لَعَلَّ الْمُجْرِمَ .........
6. لَيْتَ الدَّوَاءَ..........
7. يَسُرُّنِي أَنَّ الْعِيدَ......
8. كَانَ الْبَيْتُ ..............
التَّمْرِين (۷)
أَتِمَّ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ الْاِسْمِ الْمَحْذُوفِ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي ثُمَّ أَضْبِطْ آخِرَهُ بِالشَّكْلِ:
1. لَيْتَ ..... مُقْفَلٌ.
2. تَعَلَّمْتُ أَنَّ .......... مُتَحَرِّكَةٌ.
3. لَعَلَّ ..... مُعْتَدِلٌ.
4. كَانَ ...... فِضَّةٌ.
5. إِنَّ ..... سَمِينَةٌ.
6. الْحِبْرُ جَيِّدٌ وَلَكِنَّ .... مَقْصُوفٌ.
7. لَيْتَ ..... جَدِيدٌ.
8. كَانَ .... عَاقِلٌ.
التَّمْرِين (۸)
اِسْتَعْمِلْ كُلَّ حَرْفٍ مِنَ الْحُرُوفِ الَّتِي تَنْصِبُ الْمُبْتَدَأَ وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ فِي الْجُمْلَتَيْنِ.
التَّمْرِين فِي الْإِنْشَاءِ (۹)
هَاتْ سِتَّ جُمَلٍ فِي وَصْفِ الْفِيلِ بِحَيْثُ تَشْتَمِلُ كُلُّ جُمْلَةٍ عَلَى حَرْفٍ مِنَ الْحُرُوفِ النَّاصِبَةِ لِلْمُبْتَدَأِ الرَّافِعَةِ لِلْخَبَرِ مَعَ اِسْتِيفَاءِ جَمِيعِ الْحُرُوفِ.
تَمْرِينٌ فِي الْإِعْرَابِ (۱۰)
نَمُوذَجٌ:
۱۔ إِنَّ الْأَدَبَ وَاجِبٌ.
إِنَّ: حَرْفُ تَوكِيدٍ.
الْأَدَبَ: اِسْمُ إِنَّ مَنْصُوبٌ.
وَاجِبٌ: خَبَرُ إِنَّ مَرْفُوعٌ.
۲۔ كَأَنَّ الْهَرَمَ جَبَلٌ.
كَأَنَّ: حَرْفُ تَشْبِيهٍ.
الْهَرَمَ: اِسْمُ كَأَنَّ مَنْصُوبٌ.
جَبَلٌ: خَبَرُ كَأَنَّ مَرْفُوعٌ.
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الآتِيَةَ:
1. إِنَّ الْجُنْدِيَّ شُجَاعٌ.
2. كَأَنَّ الْعِلْمَ نُورٌ.
3. لَعَلَّ الْمَنْزِلَ قَرِيبٌ.
4. لَيْتَ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ.
5. عَلِمَ الْمُدَرِّسُ أَنَّ النَّاظِرَ مُقْبِلٌ.
6. كَثُرَ الْبَلَحُ وَلَكِنَّ الثَّمَنَ مُرْتَفِعٌ.
42 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۰،۱۱
التمرین ( ۱ )
بين العامل والمُهْمَلَ من إن المخففة وأخواتها في الجمل الآتية ، وبين للعامل اسمه وخبره :
(۱) إن الكذب ممقوت۔
(۲) سرني أن ليس بينكم خلاف
(۳) كأن لم تنفعك نصيحتي .
(٤) إن هؤلاء الجنود لباسلون .
( ٥ ) رأيت أن لا صديق وفي .
(۶) نضر الزهر وكأن لم يكن ذابلا .
(۷) المدينة جميلة لكن شوارعها ضيقة
(۸) إن اليأس لقاتل .
التمرین ( ۲ )
أدخل إن المخففة على كل جملة من الجمل الآتية، واجعلها مرة عاملةومرة مهملة :
(۱) أبوك طبيب ماهر۔
(۲) ذو المال محترم .
( ۳) المجدون فائزون۔
(۴) المقصرون ملومون
( ٥ ) الفتيات مهذبات۔
( ٦ ) البقرات سمان
(۶) القراءة مفيدة۔
(۸) البنت مطيعة
التمرين (۳)
ادْخِل أَن الْمُخَفَّفَةَ عَلَى الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَبَيِّن اسْمَهَا وَخَبَرَهَا فِي كُلِّ جُمْلَةٍ.
(۱) لَا سَبِيلَ إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ اَلْسنة الْعَامَةِ۔
(۲) لَيْسَ تَحْتَ الشَّمْسِ جَدِيد
(۳) رِضاالنَّاسِ غَايَةٌ لَا تُدْرَكُ
(۴) قَدْ ارْتَفَعَ سعر الْقُطْن
(۵) سَيَنْدَمُ الظَّالِمُونَ
(۲) لَنْ يَضِيعَ الْعُرْفُ بَيْنَ اللَّهِ وَالنَّاسِ
(۷) عَوَاقِبُ الصَّبْرِ مَحْمُودَةٌ
(۸) لَا تَسُودُ الْأُمَمُ إِلَّا بِالْأَخْلاقِ
التَّمْرِينُ (۴)
ادْخِل لكِن الْمُخَفَّفَةَ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الْآتِيَةِ، وَضَع قَبْلَهَا مَا يُنَاسِبُ مِنَ الْكَلَامِ وَاشْكِلُ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بعدھا.
(۱) النِّظامُ مُضْطَرَب
(۲) الرِّبحُ قَلِيل
(۳) الصُّنَّاعُ قَلِيلُونَ
(۶) النَّوافِذُ مُفَتَّحَةٌ
(۴) الْأَسْعَارُ رَخِيصَةٌ
(۵) الطَّرِيقُ وَعْرَةٌ
تمرين ( ٥ )
كون تسع جمل تبتدئ الثلاث الأولى منها بإن المخففة العاملة، والثلاث الثانية بإن المخففة المهملة ، والثلاث الأخيرة بكأن المخففة۔
تمرين في الإعراب ( ٦ )
ا - نموذج :
رأيت أن ليس للجاهل احترام ..
رأيت - فعل وفاعل
أن - مخففة من الثقيلة وهى حرف مبنى على السكون ، واسمهاضمير الشأن محذوف .
ليس - فعل ماض ناقص .
للجاهل - جار ومجرور خبر ليس .
احترام - اسم ليس ، وجملة ليس للجاهل احترام في محل رفع خبر أن المخففة ، وأن وما بعدها في تأويل مصدر سَدَّ مَسَد مفعولي رأى .
ب - أعرب الجمل الآتية :
(۱) إن البخل لعار .
(۳) وجدته صبوراً كأن لم تلم به نائبة .
(۲) وجدت أن ليس لك عذر
(۴) القطن قليل لكن سعره رخيص
تمرین ( ۷ )
اشرح قول إبراهيم بن المهديّ في رثاء ابنه وأعرب البيت الأول :
كَأَنْ لَمْ يَكُن كالغصن في مَيْعَةِ الضحا سقاهُ النَّدَى فَاهْتَزَّ وَهُوَ رطيب
كَأَنْ لَمْ يَكُنْ كَالدُّرِّ يَلمَعُ نُورُهُ بِأَصْدَافِهِ لَمَّا تَشِنهُ ثُقُوبُ
كَفَ إِنَّ وأخواتها عن العمل
التَّمْرِينُ (۱)
بَيِّنِ الْحُرُوفَ الْعَامِلَةَ وَالْمُلْغَاةَ مِنْ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَةِ الْآتِيَةِ، وَبَيِّنۡ سَبَبَ الْإِلْغَاءِ فِيمَا لَمْ يَعْمَل مِنْهَا .
زرْتُ سُوْقاً مِنْ أَسْوَاقِ الرِّيفِ مَرَّةً وَمَا كُنتُ أَبْغِي شِرَاءً وَلَا بَيْعاً، وَإِنَّمَا أَرَدْتُ أَنْ أَعْرِفَ شَيْئًا مِنْ عَادَاتِ الْقَوْمِ وَأَعْمَالِهِمْ فِي هَذِهِ السُّوقِ، قَصَدْتُ إِلَيْهَا مُبَكِّراً، فَخُيِّلَ إِلَىَّ إِنَّمَا الطَّرُقُ الْمُؤَدِّيَةُ إِلَيْهَا أَنْهَارٌ تَزْخَرُ بِالْقَرَوِیيِّنَ: مِنْ رِجَالٍ وَنِسَاءٍ وَغِلْمَانِ، وَمَا بَلَغْتُ بَابَهَا حَتَّى شَهِدْتُ النَّاسَ يَتَزَاحَمُونَ وَ يَتَدَافَعُونَ كَأَنَّمَا هُمْ فِي مَلْحَمَةٍ أَوْ معْرَكَةٍ حَامِيَةٍ. دَفَعْتُ بِنَفْسِي بَيْنَ الدَّافِعِينَ، وَدَخَلْتُ السُّوقَ فَإِذَا صَخَبٌ وَضَجِيجٌ، وَنِزَاعٌ وَشِجَارٌ وَأَقْذَارٌ مُتَراكِمَةٌ وَغُبَارٌ ثائِرٌ وَأَقْوَاتٌ يغطيهَا جَيْش مِنَ الْبُعُوضِ وَالذُّبَابِ وَسِلَعٌ مَعْرُوْضَةٌ فِي غَيْرِ نِظَامٍ، وَالنَّاسُ حَيَارَى لَا يَدْرُونَ مِنْ أَثْمَانِهَا شَيْئًا، وَلَكِنَّمَا يَتَسَاوَمُوْنَ فِيهَا عَلَى غَيْرِ هُدًى فَمَرَّةً يَرْبَحُونَ وَمِرَارًا يَخْسَرُونَ.
وَلَيْتَمَا لِهَذِهِ الْأَسْوَاقِ نِظَامًا صِحيا دَقِيقًا وَقَوَانِينَ تَحُولُ دُونَ غَبنِ النَّاسِ وَضَرَرِهِمْ.
التَّمْرِينُ (۲)
بَيِّن مَا جَاءَ عَامِلاً وَمَا جَاءَ غَيْرعَامِلٍ مِنْ إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ وَوَضح سَبَبَ الإِلْغَاءِ فِيمَا لَمْ يَعْمَل مِنْهَا ..
(۱) إِنَّمَا الرُّجُوعُ إِلَى الْحَقِّ فَضِيلَة
(۲) إِنَّ الْمَطَرَ غَزِير
(۳) إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّات
(۴) كَأَنَّ الْقَصرَ جَبَل شَامخ
(۵) كَأَنَّمَا يَعْقِلُ الْحَيَوَان
(۶) كَأَنَّ الشَّمْسَ قرص مِنَ الذَّهَب
(۷) سَتَعْلَمُونَ أَنَّمَا يُكَافَأُ الْمُجِدُّ
(۸) سَاءَ نِي أَنَّ أَبَاكَ مَرِيضٌ
(۹) الرَّجُلُ بَخِيلٌ وَلَكِنَّمَا ابْنُهُ جَوَادٌ
(١٠) تَعِبَ الْعَامِلُ وَلَكِنَّ الْعَمَلَ قَلِيلٌ
(۱۱) لَيْتَمَا النَّاسَ مُنْصِفُونَ
(۱۲) لَيْتَمَا الْحَيَاةُ خَالِيَةٌ مِنَ الْكَدِرِ
(۱۳) لَعَلَّ الْجُيْشَ مُنتَصِرٌ
(۱۴) لَعَلَّمَا الصِّنَاعَةُ نَاهِضَةٌ
التَّمْرِينُ (۳)
صِل إِنَّ وَأَخَوَاتِهَا فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ بِمَا الزَّائِدَةِ، وَبَيِّن مَا يَجِبُ إِهْمَالُهُ مِنْهَا وَمَا يَجُوزُ.
(۱) إِنَّ الرِّيحَ شَدِيدَةٌ
(۲) إِنَّ اُذُنَى الْحِصَانِ صَغِيرَتَانِ
(۳) أُعْلِمْتُ أَنَّ الزرافة طَوِيلَةُ الْعُنُقِ
(۴) سرنِي أَنَّ التَّاجِرَ رَابِح
(۵) كَأَنَّ الْمَاءَ مِرْآة
(۶) كَاَنَّ الْجَمَلَ سَفِينَةٌ
(۷) كَأَنَّ الْمُعَلِّمِينَ آبَاءٌ
(۸) لَيْتَ الْإِنْسَانَ مُخَلَّدٌ
(۹) لَيْتَ الرَّبِيعَ دَائِمٌ
(١٠) الْخَادِمُ حَاضِرٌ لِكِنَّ السَّيِّدَ غَائِبٌ
التَّمْرِينُ (۴)
ادْخِل إِنَّ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الْآتِيَةِ، وَاجْعَلهَا مَرَّةً مَقْرُونَةً بِمَا الزَّائِدَةِ وَمَرَّةً غَيْرَ مَقْرُونَةٍ، وَاشْكُل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ فِي الْحَالَتَيْنِ.
(۱) الْقَمَرُ مُضِىء
(۲) الثَّوْبُ نَظِيف
(۳) البَيْلُ فَائِض
(۴) الْبَنَاءُ شَاهِق
(۵) السَّفِينَةُ سَائِرَة
(۶) الذُّبَابُ مُضِر
(۷) الْمِصْبَاحُ مُتقد
(۸) الْجَمَلُ قَوِيٌّ
(۹) الْفِيلُ ضَخْمُ
التمرين (۵)
أَدْخِل لَيْتَمَا عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ وَاضْبِطَ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بِالشَّكْلِ وَبَيِّن مَا يَجُوزُ فِي ضَبْطِ اسْمِهَا۔
(۱) السَّمَاءُ مصحية
(۲) الْهَوَاءُ معتدل
(۳) الْمَهْرُ مذلل
(۴) الرَّبِيعُ قَرِيبٌ
(۵) الْمَالُ كَثِير
(۶) الصَّدِيقُ مُهَذَّب
(۷) الْعِتَابُ نَافِعُ
(۸) الصِّحةُ دَائِمَةٌ
(۹) الْبُسْتَانُ مُثْمِرٌ
التمرين (۶)
(۱) كَوِّن سِتَّ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ الثَّلَاث الْأُولى مِنْهَا عَلَى إِنَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَة وَالثَّلاث الثَّانِيَة عَلَى أَنَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَةِ أَيْضًا ، وَاشْكُل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ.
(۲) كَوِّنُ سِتَّ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ الثَّلَاث الْأُولى مِنْهَا عَلَى كَانَّ الْمُتَّصِلَة بِمَا الزَّائِدَةِ، وَالثَّلَاث الثَّانِيَة عَلَى لكِنَّ الْمُتَّصِلَة بِهَا أَيْضاً ، وَأشْكل أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ.
(۳) كَوِّنُ ثَلَاثَ جُمَلٍ تَشْتَمِلُ كُلٌّ مِنْهَا عَلَى لَيْتَ الْمُتَّصِلَةُ بِمَا الزَّائِدَةِ وَبَيِّن مَا يَجُوزُ فِي ضَبْطِ اسْمِهَا.
تَمْرِينَ فِي الْأِعْرَابِ (۷)
(۱) نموذج ۔
إِنَّمَا ثَمَرَةُ الْعِلْمِ الْعَمَلُ.
إِنَّمَا .... إِنَّ حَرف تَوْكِيدٍ، وَمَا كَافَّةً عَنِ الْعَمَلِ.
ثَمَرَةُ مُبْتَدَا مَرْفُوعٌ .
الْعِلْمُ .... مُضَاف إِلَيْهِ مَجْرُورٌ .
الْعَمَلُ . خبَرُ الْمُبْتَدَا مَرْفُوعُ .
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ
(۱) إِنَّمَا الْبَشَاشَةُ حَبْلُ الْمَوَدَّةِ.
(۲) وَجَدْتُ أَنَّمَا صَدَاقَةُ الْجَاهِلِ تَعَبٌ .
(۳) الْإِخْوَانُ كَثِيرُونَ وَلَكِنَّمَا الْأَوفِيَاءُ قَلِيلُونَ.
(۴) لَيْتَمَا الْغَايَاتُ تُبْلغ بِالْامَانِيِّ.
التَّمْرِينُ (۸)
اشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبِ الْأَوَّلَ مِنْهُمَا.
إِنَّمَا الدُّنْيَا هبات وَعَوَارٍ مُسْتَرَدَّه
شِدَّةٌ بَعْدَ رَخاءٍ ورَخَاءٌ بعد شِدَّة
43 تیسیر النحو۔ سبق:۱۰
أسئلة
۱۔ ما هو عمل الحروف المشبهة بالأفعال اذكره بالتمثيل.
۲۔ أذكر معاني الحروف المشبهة بالأفعال مع الأمثلة.
۳۔ متى يجوز تقديم خبرها على اسمها ؟ بينه مع التمثيل.
۴۔ متى يجب تقديم خبرها على اسمها اذكره مع الأمثلة.
تمرينات
ا۔ كون أربع جمل مفيدة يتقدم فيها الخير على الاسم جوارًا في الأولى، ووجوباً في الثلاث الأخيرة
۲۔ حدد علامات النصب في الأمثلة الآتية، مع بيان أن خبر "إن وأخواتها مفرد أو جملة.
إن المسلمات يصلين، سمعت أن الرجلين أسلماء إن أبا بكر أول الخلف الراشدين زيد راسب لكن أخاه ناجح ، كأن الكمثرى سكر، ليت شبابي يعود إن المسلمين يتلون القرآن، لعل زيدا ناجح، ليت أخي حصل على الجائزة الأولى.
44 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
45 لاء نفی للجنس
"لا نفی للجنس" ایک ایسا حرف ہے جو عربی میں مکمل طور پر جنس کی نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی چیز یا قسم کی مکمل طور پر نفی کی جائے، یعنی جس چیز کا ذکر کیا جا رہا ہو، اس کی پوری جنس کو رد کیا جا رہا ہو۔
تعریف:
"لا نفی للجنس" کا مطلب ہے کہ اس سے مراد کسی جنس (قسم) کی بالکل نفی کرنا ہے، یعنی وہ چیز یا جنس بالکل موجود نہیں ہے۔ مثال کے طور پر:
لا رجل في الدار (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)
یہاں "لا" سے مراد یہ ہے کہ پوری جنس، یعنی "آدمی" کی مکمل نفی ہو رہی ہے۔
"لا نفی للجنس" کا عمل:
- "لا نفی للجنس" اپنے بعد آنے والے اسم کو منصوب کرتی ہے، اور یہ اسم ہمیشہ نکرہ (indefinite) ہونا چاہیے۔
- "لا" کی خبر محذوف ہوتی ہے یا پھر کبھی ذکر ہوتی ہے۔
مثالیں:
1. لا طالبَ في الفصل
(کلاس میں کوئی طالب علم نہیں ہے)
یہاں "طالب" "لا" کا اسم ہے اور منصوب ہے، جبکہ خبر محذوف ہے (یعنی موجود نہیں ہے)۔
2. لا رجلَ أفضلَ منك
(تم سے بہتر کوئی آدمی نہیں ہے)
یہاں "رجل" "لا" کا اسم ہے اور "أفضل" اس کی خبر ہے۔
"لا نفی للجنس" کی اہم خصوصیات:
1. اسم منصوب: "لا نفی للجنس" کے اسم کو ہمیشہ منصوب ہونا چاہیے۔
2. نکرہ اسم: "لا" کے بعد جو اسم آئے گا وہ نکرہ (indefinite) ہونا چاہیے، معرفہ (definite) نہیں ہو سکتا۔
3. خبر: "لا نفی للجنس" کا خبر کبھی ظاہر ہوتا ہے اور کبھی محذوف (چھپا ہوا) ہوتا ہے۔
خبر کی اقسام:
1. خبر محذوف: جب خبر ظاہر نہیں ہوتی اور اس کا سیاق و سباق سے پتا چلتا ہے، جیسے:
لا طالبَ في المدرسة (مدرسے میں کوئی طالب علم نہیں ہے)، یہاں خبر محذوف ہے یعنی "موجود"۔
2. خبر ظاہر: جب خبر ظاہر ہوتی ہے تو یہ عام طور پر جملہ یا مضاف ہوتا ہے، جیسے:
لا أحدَ خيرٌ منك (کوئی بھی تم سے بہتر نہیں ہے)۔
مزید مثالیں:
1. لا ماءَ في الجرة (برتن میں کوئی پانی نہیں ہے)۔
2. لا علمَ نافعَ إلا العلم بالله (اللہ کے علم کے سوا کوئی علم فائدہ مند نہیں ہے)۔
اس طرح "لا نفی للجنس" عربی زبان میں جنس یا قسم کی مکمل نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے بعد آنے والے اسم کو ہمیشہ منصوب کرتی ہے۔
46 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳
(لائے نفی جنس)
نواسخ جملہ کی چوتھی قسم لائے نفی جنس ہے ۔
یہ مطلق نفی کے لئے آتا ہے یعنی سرے سے اس چیز کا انکار کرتا ہے جس پر داخل ہوتا ہے۔ اِنّ کی طرح اپنے اسم (مبتدا) کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لا تلميذَ حاضرٌ (کوئی طالب علم حاضر نہیں ہے)۔
(۱) لائے نفی جنس کا اسم نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوا کرتا ہے۔
(۲) اگر اسم مفرد ہو (یعنی مضاف نہ) ہو تو فتحہ پر مبنی ہوتا ہے اور اس پر تنویں نہیں آتی جیسے لا رجلَ جالسٌ في الطريق (راستہ میں کوئی شخص نہیں بیٹھا ہے)
(۳) اور اگر اس کا اسم مفرد کے بجائے مضاف یا شبہ مضاف ہو تو ان دونوں صورتوں میں منصوب رہتا ہے اور معرب سمجھا جاتا ہے اس لئے اس پر تنوین بھی آتی ہے جیسے :-
لا راكبا فرسا في الطريق (کوئی گھوڑ سوار راستہ میں نہیں ہے)
لا شاهد زور محبوب (کوئی جھوٹی گواہی دینے والا شخص پیارا نہیں ہے)
لا مسرفا في ماله محمود (اپنے مال میں اسراف کرنے والا شخص پسندیدہ آدمی نہیں ہے )
لائے نفی جنس کے مذکورہ بالا عمل کے لئے بھی چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ :
(۱) لائے نفی للجنس پر کوئی حرف جار داخل نہ ہو۔
(۲) لائے نفی جنس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں ۔
(۳) لائےنفی جنس اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو۔
پہلی شرط اگر نہیں پائی گئی تو لا کا عمل باطل ہو جائے گا اور اسکی حیثیت صرف نفی کی رہ جائے گی۔
دوسری اور تیسری شرط نہ پائی جانے کی صورت میں بھی لا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور یہاں لا کا مکرر لانا واجب اور ضروری ہو جاتا ہے۔
مثالیں علی الترتیب یہ ہیں :
اشتريت القَلَم بلا ریشۃ (پہلی شرط مفقود ہے)
(۲) لا زیدٌ في الدار و لا عمرو (دوسری شرط مفقود ہے)
(۳) لا الرجل كریم ولا ابنہ (دوسری شرط مفقود ہے)
لا القمرطالع ولا النجوم لامعات (دوسری شرط مفقود ہے)
(۴) لا هُوَ حَى فَيُرجىٰ وَلَا هُوَمیِّتٌ فَینعیٰ (تیسری شرط مفقود ہے)
لا في الحديقة صِبْيَانٌ وَلا بناتٌ (تیسری شرط مفقود ہے)
47 النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲
لا النافية للجنس: لاء نفی للجنس
تَعْمَلُ «لا» النَّافِيَةُ لِلْجِنسِ عَمَلَ إِنَّ فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَاءَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا، وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا .
يُنصَبُ اِسْمُهَا إِذَا كَانَ مُضَافًا أَوْ شَبِيهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ إِذَا كَانَ مُفْرَداً.
يُشْتَرَطُ فِي عَمَلِهَا ألَّا يَدْخُلُ عَلَيْهَا جَارٌ وَأَنْ يَكُونُ اسْمُهَا وَخَبَرُهَا نَكِرَتَيْنِ، وَالَّا يُفْصَلُ الْاِسْمُ عَنْهَا بِفَاصِلٍ، فَإِنْ فُقِدَ الشَّرْطُ الْأَوَّلَ بَطَلَ عَمَلُهَا، وَإِنْ فُقِدَ شَرُطٌ مِنَ الشَّرْطَيْنِ الْآخَرَيْنِ بَطَلَ عَمَلُهَا.وَلَزِمَ تَكْرَارُهَا .
لائے نفی جنس اِنَّ جیسا عمل کرتا ہے ، پس وہ مبتداء کو نصب دیتا ہے جس کا نام اس کا اسم رکھا جاتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے اس کا نام اس کی خبر رکھا جاتا ہے۔
اس کے اسم کو اس وقت نصب دیا جاتا ہے جب وہ مضاف ہو یا شبہ مضاف ہو اور جب وہ مفرد ہو تو نصب دیا جاتا ہے مبنی علی الفتح ہونے کی وجہ سے۔
اس کے عمل میں یہ شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس پر حرف جار داخل نہ ہو اور دوسری بات کہ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں اور اس کا اسم اس سے جدا نہ کیا گیا ہو۔ پس اگر پہلی شرط نہ پائی گئی تو اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور اگر دوسری دو شرطوں میں سے ایک شرط پائی گئی تو اس کا عمل بالکل باطل ہو گا اور تکرار ضروری ہوگا
الأمثلة
(۱)لا شَاهِدَ زورٍ مَحْبُوبٌ
لا شجَرَةَ رُمّان في البستان .
لا راعي غنم في الْحَقْلِ
(۲)لا راكباً فرساً في الطريق
لا مُقَصِّراً فيِ وَاجِبِهِ مَمدُوحٌ
لا مجداً في عمله مَذمُومٌ .
(۳)لا سُرُورَ دَائمٌ
لا ضِدَّيْنِ مُجْتَمِعَانِ
لا مُجِدِّينَ مَحْرُومُونَ
لا جَاهِلَاتٍ مُحتَرَمَاتٌ
48 تیسیر النحو۔ سبق:۱۱
فصل خبر "لا" النافية للجنس
لا النافية للجنس تدل على نفي الخبر عن جميع أفراد جنس اسمها الواقع بعدها. على سبيل التنصيص، لا على سبيل الاحتمال ، وتعمل عمل "إن فتنصب الاسم وترفع الخير، نحو: لا فاعل خير مكروه.
شروط عملها: يشترط لعملها المذكور ستة شروط:
۱۔ أن تكون نافية للجنس نصاء لا احتمالا J
۲۔ أن يكون المنفي الجنس بأجمعه ( بحيث لا يبقى فرد من أفراده
۳۔ أن يكون اسمها وخبرها نكرتين
۴۔ أن يكون اسمها متصلا بها ( ويلزم تأخير الخبر عنه )
۵۔ عدم تقدم خبرها عليها.
۶۔ عدم دخول حروف الجر عليها .
مثال المستوفي للشروط الستة : لا حلية أثمن من مكارم الأخلاق.
من أنواع اسمها :
اسم "لا" ثلاثة أنواع : (۱) مفرد (۲) مضاف (۳) شبيه بالمضاف
فإذا كان اسم "لا" مفردا غير مضاف ولا شبيه بالمضاف يبنى على ماكان ينصب به قبل وقوعه اسم "لا"
مثل المثال السابق: لا حيلة أثمن من مكارم الأخلاق (حلية: مفرد اسم لا مبني على الفتح، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الفتحة) ومثل : لا ضدين مجتمعان (ضدين: مفرد اسم لا مبني على اليد المفتوح ماقبلها لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه مثنى) ومثل : لا مسلمين في الجاهلية (مسلمين مفرد اسم لا مبني على الياء المكسور ما قبلها، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه جمع مذكر سالم)
وإذا كان اسم لا مضافا، أو شبيها بالمضاف وجب أن يكون معربا منصوباً مثال المضاف: لا شاهد زور محبوب، ومثال الشبيه بالمضاف: لا متقنا عمله يفشل فيه.
تكرار "لا":
إذا تكررت "لا" وكان اسمها نكرة متصلا بها، نحو: لاحول ولا قوة إلا بالله، جاز فيه خمسة أوجه:
۱۔ إعمال المكررتين وبناء اسميهما على الفتح ( وهو الأصل) فتقول: لاحول ولا قوة إلا بالله.
۲۔إلغاء المكررتين ورفع ما بعدهما إما بالابتداء، وإما أنهما عاملتان عمل "ليس" فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۳۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ورفع ما بعدها عطفاً على محل اسم الأولى قبل دخول "لا" باعتبار كونه مبتدأ قبل دخولها فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.
۴۔ إلغاء الأولى أو اعتبارها عاملة عمل "ليس" ورفع ما يليها، وإعمال الثانية عمل إن" وبناء ما بعدها، فتقول: لا حول ولا قوة إلا بالله.
۵۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ونصب ما بعدها عطفا على محل اسم الأولى، لأنه في محل نصب بعد دخولها عليه فتقول : لا حول ولا قوة إلا بالله
حذف خبرها واسمها وذكرهما
يكثر حذف خبر "لا" إذا كان معلوما ( بأن دلت عليه قرينة) نحو: لاضير ولا بأس أي: عليك) وأكثر ما يحذفونه مع "إلا" نحو : لا اله إلا الله (أي: لا اله يحق موجود إلا الله )
يقل حذف الاسم مع بقاء الخبر كقولهم: لا عليك (أي: لا بأس أولا جناح ) وإذا جهل خبر "لا" وجب ذكره كالأمثلة السابقة في "أنواع اسمها "
خبر "لا" النافية للجنس کا بیان
"لا" نافية للجنس وہ حرف ہے جو اپنے بعد آنے والے اسم کی پوری جنس کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی، یہ کسی اسم کے تمام افراد کے متعلق خبر کی نفی کو بالکل صریح اور قطعی طور پر بیان کرتا ہے، کسی احتمال کے بغیر۔ "لا" کا عمل "إن" کی طرح ہوتا ہے، یعنی یہ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے، جیسے:
لا فاعلَ خيرٍ مكروهٌ (کوئی بھلائی کرنے والا ناپسندیدہ نہیں ہے)۔
"لا" کے عمل کی شرائط:
"لا" نافية للجنس کو مندرجہ ذیل چھ شرائط کے تحت عمل کرنا ہوتا ہے:
1. "لا" جنس کی نفی صریحاً کرے: یعنی یہ واضح طور پر جنس کی مکمل نفی کرے، محض احتمال نہ ہو۔
2. جنس کی مکمل نفی ہو: یعنی جس جنس کی نفی ہو، اس کے کسی بھی فرد کا وجود باقی نہ رہے۔
3. اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں: یعنی "لا" کے اسم اور خبر دونوں غیر معین (indefinite) ہونے چاہئیں۔
4. اسم "لا" اس کے ساتھ متصل ہو: اسم "لا" کو "لا" سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اور اس کا خبر بعد میں آئے۔
5. خبر اسم پر مقدم نہ ہو: خبر کو "لا" کے اسم سے پہلے نہیں آنا چاہیے۔
6. حروف جر کا دخول نہ ہو: "لا" پر کوئی حرف جر داخل نہ ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(اخلاق کی خوبیوں سے زیادہ قیمتی کوئی چالاکی نہیں ہے)
یہ مثال مذکورہ بالا تمام شرائط پر پوری اترتی ہے۔
اسم "لا" کی اقسام:
اسم "لا" کی تین اقسام ہوتی ہیں:
1. مفرد
2. مضاف
3. شبیہ بالمضاف
(1) مفرد: اگر اسم "لا" مفرد ہو، اور نہ مضاف ہو اور نہ ہی شبیہ بالمضاف، تو اسے اس صورت میں مبنی مانا جاتا ہے جس صورت میں اسے "لا" سے پہلے نصب دی گئی ہو۔
مثال:
لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق
(یہاں "حيلة" اسم "لا" ہے اور یہ مبنی ہے)۔
(2) مضاف: اگر اسم "لا" مضاف ہو تو اسے منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا شاهدَ زورٍ محبوبٌ
(جھوٹ کا گواہ محبوب نہیں)۔
(3) شبیہ بالمضاف: اگر اسم "لا" شبیہ بالمضاف ہو تو اسے بھی منصوب ہونا ضروری ہے۔
مثال:
لا متقناً عملَه يفشل فيه
(جو اپنا کام محنت سے کرے، وہ ناکام نہیں ہوتا)۔
"لا" کا تکرار:
اگر "لا" نکرہ اسم کے ساتھ تکرار ہو تو پانچ طریقے جائز ہیں:
1. دونوں "لا" کو عمل میں لانا اور ان کے اسما کو فتح کے ساتھ بنانا (یہ اصل ہے)۔
2. دونوں "لا" کو غیر مؤثر قرار دینا اور ان کے بعد والے کو مرفوع کرنا۔
3. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا۔
4. پہلی "لا" کو غیر مؤثر اور دوسری کو عمل میں لانا۔
5. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا اور اسم کو منصوب کرنا۔
خبر اور اسم کا حذف:
"لا" نافية للجنس میں خبر کا اکثر حذف کیا جاتا ہے، جب کہ وہ معلوم ہو، جیسے:
لا ضير ولا بأس (یعنی: کوئی نقصان نہیں)۔
اسم کا حذف کم ہوتا ہے، جیسے:
لا عليك (یعنی: تم پر کوئی گناہ نہیں)۔
جب خبر کا علم نہ ہو، تو اسے ضرور ذکر کیا جاتا ہے۔
مثال:
لا إله إلا الله (یعنی: کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے)۔
اس طرح "لا" نافية للجنس عربی میں کسی جنس کی مکمل اور قطعی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ آنے والے اسم اور خبر کو معین اصولوں کے تحت منصوب اور مرفوع کرتی ہے۔
49 المفصل۔ سبق:۸
خبر لا التي لنفي الجنس
هو في قول أهل الحجاز لا رجل أفضل منك ولا أحد خير منك، وقول حاتم:
ولا كريم من الولدان مصبوح
يحتمل أمرين: أحدهما أن يترك فيه طائيته إلى اللغة الحجازية، والثاني أن لا يجعل مصبوحاً خيراً ولكن صفة محمولة على محل لا مع المنفي وارتفاعه بالحرف أيضاً لأن لا محذوبها حذو إن من حيث أنها نقيضتها ولازمة للأسماء لزومها. حذف خبر لا : ويحذفه الحجازيون كثيراً فيقولون: لا أهل، ولا مال ولا بأس، ولا فتى إلا علي ولا سيف إلا ذو الفقار. ومنه كلمة الشهادة ومعناها لا إله في الوجود إلا الله. وبنو تميم لا يثبتونه في كلامهم أصلاً.
50 المفصل۔ سبق:
النصوب بلا التي لنفي الجنس
حكم اسم لا
هي كما ذكر محمولة على إن فلذلك نصب بها الأسم ورفع الخبر، وذلك إذا كان المنفي مضافاً كقولك لا غلام رجل أفضل منه، ولا صاحب صدق موجود؛ أو مضارعاً له كقولك لا خيراً منه قائم هنا، ولا حافظاً للقرآن عندك، ولا ضارباً زيداً في الدار، ولا عشرين درهماً لك. فإذا كان مفرداً فهو مفتوح وخبره مرفوع كقولك لا رجل أفضل منك، ولا أحد خير منك.
ويقول المستفتح ولا إله غيرك. وأما قوله: لا نسب اليوم ولا خلة فعلى إضمار فعل، كأنه قال ولا أرى خلة كما قال الخليل في قوله:
ألا رجلاً جزاءه الله خيراً
كأنه قال ألا ترونني رجلاً وزعم يونس أنه نون مضطراً.
وحقه أن يكون نكرة. قال سيبويه واعلم أن كل شيء حسن لك أن تعمل فيه رب، حسن لك أن تعمل فيه لا.
وأما قول الشاعر :
لا هيثم الليلة للمطي
وقول ابن الزبير الأسدي:
أرى الحاجات عند أبي حبيب نکدن ولا أمية بالبلاد
وقولهم لا بصرة لكم وقضية، ولا أبا حسن لها، فعلى التنكير. وأما لا سيما زيد فمثل لا مثل زيد.
وتقول لا أب لك. قال نهار بن توسعة اليشكري:
أبي الإسلام لا أب لي سواه إذا افتخروا بقيس أو تميم
ولا غلامين لك ولا ناصرين لك. وأما قولهم لا أبا لك ولا غلامي لك ولا ناصري لك فمشبه في الشذوذ بالملامح والمذاكير ولدن غدوة. وقصدهم فيه إلى الإضافة وإثبات الألف وحذف النون لذلك، وإنما أقحمت اللام المضيفة توكيداً للإضافة.
لاۡألا تراهم لا يقولون لا أبا فيها، ولا رقيبلاً عليها، ولا مجيري منها، وقضاء من حق المنفي في التنكير بما يظهر بها من صورة الإنفصال. وقد شبهت في أنها مزيلة ومؤكدة بتيم الثاني في يا تيم تيم عدي. والفرق بين المنفي في هذه اللغة وبينه وبين الأولى أنه في هذا معرب وفي تلك مبني، فإذا فصلت فقلت لا يدين بها لك ولا أب فيها لك، امتنع الحذف والإثبات عند سيبويه وأجازهما يونس. وإذا قلت لا غلامين ظريفين لك لم يكن بد من إثبات النون في الصفة والموصوف.
حكم صفة اسم لا :
وفي صفة المفرد وجهان أحدهما أن يبنى معه على الفتح كقولك لا رجل ظريف فيها، والثاني أن تعرب محموله على لفظه أو محله كقولك لا رجل ظريفاً فيها أو ظريف، وإن فصلت بينهما أعربت . وليس في الصفة الزائدة عليها إلا الإعراب، فإن كررت المنفي جاز في الثاني الإعراب والبناء وذلك قولك لا ماء ماء بارداً، وإن شئت لم تنون.
حكم معطوف اسم لا :
وحكم المعطوف حكم الصفة إلا في البناء.
قال:
فلا أب وابنا مثل مروان وابنه
وقال:
لا أم لي إن كان ذاك ولا أب
وان تعرف فالحمل على المحل لا غير كقولك لا غلام لك ولا العباس.
حكمه إذا كرر:
ويجوز رفعه إذا كرر قال تعالى : " فلا رفث ولا فسوق"، وقال: "لا بيع فيه ولا خلة". فإن جاء مفصولاً بينه وبين لا أو معرفة وجب الرفع والتكرير كقولك لا فيها رجل ولا امرأة، ولا زيد فيها ولا عمرو. وقولهم لا نولك أن تفعل كذا كلام موضوع موضع لا ينبغي لك أن تفعل كذا وقوله:
وأنت امرؤ منا خلقت لغيرنا حياتك لا نفع وموتك فاجع
وقوله:
قضت وطراً واسترجعت ثم آذنت ركائبها أن لا إلينا رجوعها
ضعيف لا يجيء إلا في الشعر. وقد أجاز المبرد في السعة أن يقال لا رجل في الدار ولا زيد عندنا .
إعراب لا حول ولا قوة إلا بالله وفي لا حول ولا قوة إلا بالله ستة أوجه أن تفتحهما، وأن تنصب الثاني، وأن ترفعه، وأن ترفعهما، وأن ترفع الأول على أن لا بمعنى ليس، أو على مذهب أبي العباس وتفتح الثاني، وأن تعكس هذا .
حذف اسم لا :
وقد حذف المنفي في قولهم لا عليك أي لا بأس عليك.
51 تمارین
52 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳
اَلتَّمْرِيْنُ (127)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لاَ إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ.
(2) لاَ خَيْرَ فِي وُدِّ امْرَءٍ مُتَقَلِّبٍ.
(3) لاَ مُؤْمِنِيْنَ قَانِطُوْنَ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهِمْ.
(4) لاَ دُكَّانَ فَاكِهَانِيٍّ قَرِيْبٌ مِنْ هُنَا.
(5) لاَ شَجَرَةَ رُمَّانٍ فِي الْبُسْتَانِ.
(6) لاَ رَاكِبًا دَرَّاجَةً فِي الطَّرِيْقِ.
(7) لَا اِيْمَانَ لِمَنْ لاَ اَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِيْنَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ.
(8) لاَ مُجِدًّا فِي عَمَلِهِ مَذْمُوْمٌ.
(9) وَلاَ مُقَصِّرًا فِي عَمَلِهِ مَمْدُوْحٌ.
(10) لاَ عَاصِيًّا اَبَاهُ مَحْمُوْدٌ فِي الْعَشِيْرَةِ.
(11) لاَ مُتَنَافِسِيْنَ فِي الْخَيْرِ نَادِمُوْنَ.
(12) لاَ كَوَاكِبَ لَامِعَاتٌ فِي السَّمَاءِ.
(13) لاَ اُمَّةَ اَكْثَرُ دَهَاءً مِنْ الّانْجليز فِيْمَا اَظُنُّ.
اَلتَّمْرِيْنُ (128)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) اس شہر میں کوئی بڑا ہسپتال نہیں ہے۔
(۲) لکھنؤ میں کوئی جامع مسجد نہیں ہے۔
(۳) ہمارے درجے میں کوئی طالب علم فیل نہیں ہے۔
(۴) احمد کے باغ میں فوارے نہیں ہیں۔
(۵) میرے پاس کوئی اون کا لباس نہیں ہے۔
(۶) مصارف میں اعتدال پسند قابل مذمت نہیں ہے۔
(۷) محمود کی طرح کوئی اپنے باپ کا اطاعت گزار نہیں ہے۔
(۸) مسلمان اپنے حال پر مطمئن نہیں ہیں۔
(۹) جو کچھ ہو آپ کے لیے کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
(۱۰) یہاں سے قریب کوئی قہوہ خانہ نہیں ہے۔
(۱۱) یہاں کوئی ماہر ڈاکٹر نہیں ہے۔
(۱۲) تمہارے درجہ میں کوئی سائیکل سوار نہیں ہے۔
(۱۳) اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔
(۱۴) کوئی دو دوست تم دونوں کی طرح مخلص نہیں ہیں۔
(۱۵) جہاں تک میں سمجھتا ہوں تمہارے درجہ میں کوئی طالب علم محنتی نہیں ہے۔
(۱۶) فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں ہے۔
53 النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲
التمرين (۱)
مَيِّز "لا" الْعَامِلَةَ مِنَ الْمُلْغَاةِ فِيمَا يَأْتِي، وَبَيِّنۡ سَبَبَ الْإِلْغَاءِ:
(۱) اشْتَرَيْتُ الْحِصَانَ بِلا سَرج
(۲) لَا مُكْثِرَ مُزَاحٍ مَهِيب
(۳) لَا الرَّجُلُ كَرِيمٌ وَلَا ابْنه
(۴) لَا ظُلْمَ الْيَوْم
(۵) لَا فِي الْحَدِيقَةِ صِبْيَان وَلَا بَنَات
(۲) لَا دُكَّانَ فَاكِهَانِيٍّ قَرِيبٌ
(۷) لَا فِي الْقَصِيدَةِ هِجَاءٌ وَلَا مَدِيحٌ
(۸) لَا مُؤْمِنِينَ قَانطُونَ
(۹) لا هُوَ حَيٌّ فَيُرْجَى وَلَا هُوَ مَيِّتٌ فَيُنْعَى
(۱۰) لَا دَفْتَرِی مَعِي وَلَا قَلَمِي
التَّمْرِينُ (۲)
عَيِّنۡ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ نَوعَ اسْم "لا" النَّافِيَة لِلْجِنْس وَبَيِّنِ الْمُعْرَبَ مِنْهُ وَالْمَبْنِي وَنَوْعَ الْإِعْرَابِ وَالْبَنَاء.
(۱) لَا خَيْرَ فِي وُدِ امْرِئ مُتَقَلِّبٍ
(۲) لَا فَوَّرَاتِ فِي الْبُسْتَان
(۳) لَا عَاقِلَيْنِ مُتَشَاتِمَان
(۴) لَا حَسُودَ مُسْتَرِيح
(۵) لَا صَاحِبَ جُودٍ مَذْمُوم
(۲) لَا سَبِيلَ إِلَى السَّلَامَةِ مِنْ اَلْسنةِ الْعَامَة
(۷) لَا عَاصِياً ابَاهُ مُوَفَّق
(۸) لَا صَحْرَاوَاتٍ فِي أَوْرُبَّا
(۹) لَا مُتَنَافِسِيْنَ فِي الْخَيْرِ نَادِمُونَ
(۱۰) لَا كَوَاكِبَ طَالِعَاتٌ
(۱۱) لا بَائِعَ عنب فِي السُّوقِ
(۱۲) لَا دَارَ كُتُبِ فِي الْمَدِينَةِ
التَّمْرِينُ (۳)
اجْعَل كُلَّ اسْمٍ مِمَّا يَأْتِي إِسْما (لِلا) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ، وَالحق بِهِ خَبَراً مُنَاسِباً .
(۱) مُتقِن عَمَلَه
(۲) أَبُو اسْرَة
(۳) رَايَات
(۴) مُجِدُّونَ فِي أَعْمَالِهِم
(۵) صَانع مَعْرُوف
(۶) صَدِيقَان
(۷) مِصْبَاحٌ
(۸) بَارٌ بِوَالِدَيْهِ
(۹) ذُو فَضْلٍ
التَّمْرِينُ (۴)
ضَع إِسْمَا (لِلا) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ فِي الْأَمَاكِنِ الْخَالِيَةِ، وَبَيِّنۡ نَوْعَ إِعْرَابِهِ أَوْ بِنَائِهِ مَعَ اسْتِيْفَاءِ أَنْوَاعِ الْإِسْمِ.
(۱) لا ...۔۔۔۔۔۔ أفضل من الكتاب
(۲) لا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ في النهر
(۳) لا ... محبوبان
(۴) لا۔۔۔۔۔خائبون
( ۵) لا۔۔۔۔۔۔۔فقيرة
(۶) لا۔۔۔۔۔۔ شجاع
(۷) لا۔۔۔۔۔۔۔۔ يلتقيان
(۸) لا۔۔۔۔۔ محترمات
التَّمُرِينُ(۵)
(أ) هَاتِ أَرْبَعَ جُمَلٍ يَكُونُ اِسْمُ (لاَ) النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ فِي الْأُولَى مِنْهَا مَنْصُوبًا بِالْفَتْحَةِ، وَفِي الثَّانِيَةِ مَنْصُوباً بِالْيَاءِ ، وَفِي الثَّالِثَةِ مَنصُوباً بِالْاَلِفِ ، وَفِي الْاَخِيرَةِ مَنصُوباً بِالْكَسْرَةِ.
(ب) ھات ثلاث جمل یکون اسم "لا" النافیۃ للجنس فی الاولٰی منھا مبنیا علی الفتح، وفی الثانیۃ مبنیا علی الیاء و فی الاخیرۃ مبنیا علی الکسر۔
التمرين (۶)
هَاتِ ثَلاثَ اَمْثِلَةٍ" لِلا " النَّافِيَةِ لِلْجِنْسِ الْمُلْغَاة، بِحَيْث يَكُون سَبَبُ الْإِلْغَاءِ فِي الْأَوَّلِ دَخُولُ حَرفِ الْجَرِّ عَلَيْهَا ، وَفِي الثَّانِي عَدُمُ تَنْكِيرِ مَعْمُولَيْهَا، وَفِي الثَّالِثِ فَصلُهَا عَنْ اسْمِهَا بِفَاصِلٍ.
التَّمْرِين (۷)
ميِّزِفی الْجُمَلِ الآتِيَةِ "لا" النَّافِيَةَ لِلْجِنْسِ مِنْ لَا النَّافِيَةِ لِلْوَاحِدِ ، وَبَيِّنۡ عَمَلَ كُلِّ مِنْهُمَا .
(۱) لَا تِلْمِيذ غَائبا بَلْ تِلْمِيذَان (۳) لا مُتَنَزَّهٌ فِي الْمَدِينَةِ بَلْ مُتَنَزَّهَاتٌ
(۲) لَا حَيَّ خَالِد (۴) لَا عَمَلَ خَيْرٍ ضَائِعٌ
التَّمْرِينُ (۸ )
اذْكُرالْمَعَانِي الَّتِي تَأْتِي لَهَا (لَا) ثُمَّ بَيِّنِ الْعَامِلَةَ مِنْهَا وَغَيْرَ الْعَامِلَةِ، وَوَضّح نَوْعَ الْعَمَلِ مَعَ التَّمْثِيلِ:
تَمْرِينٌ فِي الْأَعْرَاب (۹)
(۱) نموذج ۔
لَا حَارِسَيْنِ فِي الْبُسْتَانِ.
لا ..... نَافِيَةٌ لِلْجِنْسِ حَرْفٌ مَبْنِي عَلَى السَّكُون.
حَارِسينَ ... اسْمُ لَا مَبْنِي عَلَى الْيَاءِ لِأَنَّهُ مُثْنى.
فِي الْبُسْتَان ....جَارٌ وَمَجْرُورٌ خَبَرُ لا ..
(ب) أَعْرِب الْامثلۃ الْآتِيَةَ
(۱) لَا مُتَرَیِّثينَ مَذْمُومُون
(۲) لَا زَمَانَ رَبِيعٍ مَمْلُول
(۳) لَا مَعَ الْمُسَافِرِ مَاءٌ وَلَا زَادٌ
(۴) لَا مُسْتَشِيرًا فِي أُمُورِهِ نَادِمٌ
التَّمْرِينُ (۱۰)
اشْرَحْ أَحَدَ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبهُ۔
وَلا خَيْرَ فِي حُسْنِ الْجُسُومِ وَنَبْلِهَا إِذَا لَمْ تَزِنۡ حُسْنَ الْجُسُومِ عُقُولُ
وَلَا خَيْرَ فِي حِلْمٍ إِذَا لَمْ تَكُنْ لَهُ بَوَادِرُ تَحْمِي صَفْوَهُ أَنْ يُكَدَّرَا
54 تیسیر النحو۔ سبق:۱۱
أسئلة
ا. اذكر معنى "لا" النافية للجنس وعملها مع المثال.
۲۔ اذكر شروط عملها مع ذكر المثال المستوفي للشروط. .
۳۔ كم نوعا لاسم "لا" النافية للجنس ؟ اذكر حكم كل واحد منها بالتفصيل والتمثيل.
۴۔ اذكر خمسة أوجه في "لاحول ولا قوة إلا بالله" بالتفصيل مع ذكر الأسباب.
۵۔ متى يحذف خبرها ومتى يجب ذكره ؟ وهل يجوز حذف الاسم مع بقاء الخبر.
تمرينات
۱- بين اسم "لا" النافية للجنس وخبرها مع بيان نوع الاسم وإعرابه فيما يلي:
لا فقر أضر من الجهل، لا صادقا في القول مذموم، لا شفيقا بعباد الله مذموم، لا فضل لعربي على عجمي إلا بالتقوى، لامؤذياً جاره محبوب، لاكتاب علم يبغض، لا مال ولا بنين تغني من عذاب الله، لا ساعياً في الصلح مكروه، لا أخوين متخاصمان، لا كاذبين ناجون، لا كاذبات محمودات
۲۔هات جملا مفيدة تتضمن ما يلي مع الضبط بالشكل.
ا: اسم "لا" النافية للجنس جمع مذكر سالم
ب: اسم "لا" النافية للجنس مثنى
ج: اسم "لا" النافية للجنس جمع مؤنث سالم
د: اسم "لا" النافية للجنس جمع مكسر
55 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
56 إن و ما و لا و لات المشبھات بلیس
"إنْ"، "ما"، "لا" اور "لات" وہ حروف ہیں جو "لیس" کی طرح جملہ اسمیہ میں داخل ہو کر مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان حروف کومشبہات بلیس کہا جاتا ہے کیونکہ یہ "لیس" کی طرح کام کرتے ہیں۔ یہ حروف مبتدأ کو "اسم" اور خبر کو "خبر" بناتے ہیں، اور ان کا عمل عام طور پر نفی اور تشبیہ کے مفہوم میں ہوتا ہے۔
۱۔ "إنْ" کی تعریف اور عمل:
"إنْ" ایک حرف مشابہ بلیس ہے جو جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر نفی کا مفہوم پیدا کرتا ہے اور مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتا ہے۔
مثال:
- إنْ زيدٌ قائمًا (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- یہاں "زيدٌ" اسم "إنْ" ہے اور مرفوع ہے، اور "قائمًا" خبر "إنْ" ہے اور منصوب ہے۔
عمل:
- "إنْ" کا استعمال نفی کے لیے ہوتا ہے، جیسے "لیس" جملے میں نفی کا مفہوم پیدا کرتا ہے۔
۲۔ "ما" (ما الحجازية) کی تعریف اور عمل:
"ما" نافیۂ جملہ اسمیہ میں مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتی ہے اور مبتدأ کو مرفوع جبکہ خبر کو منصوب کرتی ہے۔ اسے "ما الحجازية" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ حجاز کے علاقے میں خاص طور پر استعمال ہوتی ہے۔
مثال:
- ما زيدٌ قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- یہاں "زيدٌ" اسم "ما" ہے اور مرفوع ہے، اور "قائماً" خبر "ما" ہے اور منصوب ہے۔
عمل:
- "ما" جملے میں نفی کا مفہوم پیدا کرتی ہے اور اس کا عمل "لیس" کی طرح ہوتا ہے، جو جملے کے مضمون کی نفی کرتی ہے۔
۳۔ "لا" (لا النافية للجنس) کی تعریف اور عمل:
"لا" نافیۂ جنس جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر مبتدأ کو منصوب اور خبر کو مرفوع کرتی ہے۔ اس کا استعمال کلی نفی کے لیے ہوتا ہے، یعنی کسی چیز کی مکمل نفی۔
مثال:
- لا رجلَ في الدار (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)۔
- یہاں "رجل" اسم "لا" ہے اور منصوب ہے، اور "في الدار" خبر "لا" ہے۔
عمل:
- "لا" جملے میں جنس کی نفی کرتی ہے اور اس کا استعمال اس صورت میں ہوتا ہے جب کسی چیز کی مکمل نفی مطلوب ہو۔
۴۔ "لات" کی تعریف اور عمل:
"لات" بھی "لا" کی طرح استعمال ہوتی ہے لیکن اس کا خاص استعمال زمانے کی نفی کے لیے ہوتا ہے، اور یہ مخصوص مواقع پر استعمال ہوتی ہے۔
مثال:
- ولات حينَ مناصٍ (اب بچنے کا وقت نہیں ہے)۔
- یہاں "حينَ" اسم "لات" ہے اور منصوب ہے، اور "مناص" خبر "لات" ہے۔
عمل:
- "لات" کا استعمال وقت یا زمانے کی نفی کے لیے کیا جاتا ہے، یعنی جب کسی خاص وقت یا موقع پر کوئی کام یا حالت ممکن نہ ہو۔
خلاصہ:
- "إنْ"، "ما"، "لا" اور "لات" حروف مشبہات بلیس ہیں جو مبتدأ اور خبر پر اثر ڈالتے ہیں۔
- ان حروف کا استعمال جملے میں نفی یا تشبیہ کے لیے ہوتا ہے۔
- ان حروف کے اثر سے مبتدأ مرفوع اور خبر منصوب ہوتی ہے، جیسے کہ "لیس" کے ساتھ ہوتا ہے۔
57 النحوالواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۷،۸
إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ المُشَبَّهَاتُ بِلَبْس: اِن ، ما ، لا اور لات جو لیس کے مشابہ لیس
تَعْمَلُ إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ النافِيَاتُ عَمَلَ لَيْسَ ، فَتَرْفَعُ الْإِسْمَ وَتَنْصِبُ الْخَبَر، وَلَكِنَّهَا لا تَعْمَلُ هَذَا الْعَمَلَ إِلَّا بِشُرُوط:
(ا) فَيُشْترَطُ فِي عَمَلٍ إِنْ وَمَا أَنْ يَتَقَدَّمَ اسْمُهُمَا عَلَى الْخَبَرِ، وَالَّايَنتقِضَ نَفْيُهُمَا بِالا
(ب)وَيُشْتَرَطُ فِي عَمَلِ لاَ فَوقَ الشَّرُطَيْنِ الْمُتَقَدِّمَيْنِ أَنْ يَكُونَ مَعْمُوْلَاهُمَا نَكِرَتَيْن.
(ج) وَيُشْتَرَطُ فِي عَمَلٍ لَاتَ أَنْ يَكُونَ اِسْمُهَا وَخَبَرُهَا إِسْمَى زَمَانٍ وَأَنْ يُحْذَفَ أَحَدُهُمَا.
ان ، ما ، لا اور لات حروف نفی، یہ ليس والا عمل کرتے ہیں ، پس اسم کو رفع دیتے ہیں اور خبرکو نصب دیتے ہیں لیکن وہ یہ عمل بغیر شرطوں کے نہیں کرتے
(الف) ان اور ما کے عمل کرنے کے لئے یہ بات شرط ٹھہرائی گئی ہے کہ اس کا اسم خبر پر مقدم ہوتا ہے اور یہ کہ ان دونوں کی نفی الا کے ساتھ منتقض نہیں ہوتی۔
(ب) لا کے عمل کے لئے دی گئی دو شرطوں سے بڑھ کر یہ بھی شرط ہے کہ ان کے دونوں معمول نکرہ ہوں ۔
(ج) اور لات کے عمل میں شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس کا اسم اور خبر دونوں اسم زمان ہوں اور یہ ان میں سے ایک کو حذف کیا جائے۔
الأمثلة
(۱) القُصُورُ شَاهِفَةٌ : إِنِ الْقُصُورُ شَاهِقَة
(۲) الْأَنْهَارُ فَائِضَةٌ : إِنِ الْأَنْهَارُ فَائِضَةً
(۳) الحُصُونُ مَنِيعَةٌ : مَا الْحُصُونُ مَنِيعَةً
( ٤ ) الذخَائِرُ كَثِيرَةٌ : مَا الذخَائِرُ كَثِيرَةً .
( ٥ ) الزَّمَانُ مُسَالِمُ : لَا زَمَانٌ مُسَالِماً
( ٦ ) الشَّارِعُ مُزْدَحِمٌ : لَا شارع مُزْدَحِماً
( ۷ ) الْوَقْتُ وَقْتُ نَدَامَة: لات وَقْتَ نَدَامَة
(۸) السَّاعَةُ سَاعَةُ تَوْبَة : لات ساعة توبة .
زِيادَةُ البَاءِ فِي خَبَرِ لَيْسَ وَمَا: لیس اور ما کی خبر میں باء کا اضافہ
يَجُوزُ أَنْ يَقْتَرِنَ خَبَرُ لَيْسَ وَمَا بِالْبَاءِ الزَّائِدَةِ فَيُجَرَّ فِي اللَّفْظِ وَيَبْقَى مَنْصُوباً فِي التَّقْدِيرِ.
جائز ہے کہ لیس اور ما کی خبر با زائدہ کے ساتھ ملی ہوئی ہو تو وہ لفظ تو ظاہرا جر دیتی ہے اور اس کو منصوب رکھتی ہے تقدیراً۔
الأمثلة
(۱)
لَيْسَ الفقرُ عيباً: لَيْسَ الفَقْرُ بعيبٍ
لَيْسَ التَّقْتِيرُ مَحْمُوداً: ليس التَّقْتِيرُ بِمَحْمُودٍ
لَيْسَ العِتَابُ مُفيدًا: لَيْسَ الْعِتَابُ بمُفيدٍ
(۲)
مَا إِدْرَاكُ الْعُلَا سَهْلاً: ما إِدْرَاكَ العُلَا بِسَهْلٍ
مَا تَعَبُ العَامِلِينَ ضَائِعاً: مَا تَعَبُ العَامِلِينَ بِضَائِعٍ
مَا التَّنافُسُ مَذْمُوما: مَا التَّنَافُسُ بِمَذْمُومٍ
58 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۲
(ما ولا المشبهات بليس)
نواسخ جملہ کی تیسری قسم ما ولا مشبھتان بلیس ہیں ۔
یہ دونوں حروف لفظا اور معنیً لیس کے مشابہ ہیں اور اسی کا سا عمل کرتے ہیں، اسی لئے ان کو مشبہتان بلیس (لیس کے مشابہ) کہا جاتا ہے ۔
یہ دونوں بھی جملہ اسمیہ ہی پر داخل ہوتے ہیں اور افعال ناقصہ کی طرح ان کا اسم (مبتدا بھی مرفوع باقی رہتا ہے اور خبر منصوب ہو جاتی ہے جیسے ما محمودخطيبا (محمود مقرر نہیں ہے) لیس کی طرح ما و لا کی خبر پر بھی کبھی ب زائدہ داخل کر دیتے ہیں ۔ اس صورت میں خبر لفظا مجرور ہو جاتی ہے جیسے ما محمود بخطیب (محمود مقررنہیں ہے)
ان حروف کے مندرجہ بالا عمل کرنے کے لئے چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ
(۱) ان کا اسم مقدم ہی رہے موخر نہ ہوں
(۲) ان کی نفی کو اِلّا حرف استثناء کے ذریعہ ختم نہ کیا جائے۔
(۳) ما معرفہ اور نکرہ دونوں پر آتا ہے مگر لا کے لئے تیسری شرط مزید یہ ہے کہ اس کا اسم و خبر دونوں ہی نکرہ ہوں ۔
ان شرطوں کے نہ پائے جانے کی صورت میں ما و لا کا عمل باطل ہو جائیگا۔
ذیل کی مثالوں پر غور کرو :-
ما عندي قلمك (مبتدای مؤخر)
مَا الدُّنيا إلا فانية ( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
مَا الطَّلبَةُإِلَّا لاعبون( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
لا عِندِي دِرْهَم (مبتدا مؤخر)
لا محمود إِلَّا خطيب ( حرف استثنا الا کے ذریعہ نفی ختم کر دی گئی)
لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة ( مبتدا معرفہ ہے)
59 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۳
"ما ولا" المشبهتان بـ "ليس" في النفي والدخول على المبتدأ والخبر ترفعان الاسم وتنصبان الخبر، وتدخل "ما" على المعرفة والنكرة مثل: ما زيد قائما، ولا تدخل "لا" إلا على النكرة نحو : لا رجل ظريفا.
"ما" اور "لا" جو "ليس" کی طرح ہیں، منفی میں استعمال ہوتے ہیں اور مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں۔ یہ مبتدا کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں۔ "ما" معرفہ اور نکرہ دونوں پر داخل ہو سکتی ہے، جیسے: "ما زيد قائما" یعنی زید قائم نہیں ہے۔ جبکہ "لا" صرف نکرہ پر ہی داخل ہوتی ہے، جیسے: "لا رجل ظريفا" یعنی کوئی شخص شریر نہیں ہے۔
60 تیسیر النحو۔ سبق:۸
فصل اسم الحروف المشبهة بـ "ليس"
يلحق باسم كان أحد الأفعال الناقصة) اسم "ما، ولا، ولات، وإن المشبهات بليس" في إفادة النفي والعمل.
فالحروف المذكورة ترفع اسمها وتنصب خبرها مثل ليس، نحو: مازيد قائما، ولا رجل أفضل منك، وإن زيد قائما، وقوله تعالى: (ولات حين مناص) والتقدير ولات الحين حين مناص.
ويشترط في عمل ما أربعة شروط :
الأول: ألا يتقدم خبرها على اسمها
والثاني: ألا يتقدم معمول خبرها على اسمها .
والثالث: ألا تزاد بعدها "إن"
والرابع: ألا ينتقض نفي خبرها بـ"إلا
فان استوفت هذه الشروط عملت عمل "ليس" نحو: ما زيد قائما . وتكثر زيادة الباء في خبر "ما" كما تزاد في خبر "ليس " نحو قوله تعالى: ﴿وماربك بظلام للعبيد ونحو قوله تعالى : أليس الله بكاف عبده ).
الشروط في عمل "لا":
تعمل "لا" المشبهة بـ "ليس هذا العمل قليلا بالشروط الأربعة المذكورة في عمل "ما"، ويزاد على ذلك:
أن يكون اسمها وخبرها نكرتين، نحو: لا أحد ناجيا من الموت.
الشروط في عمل "لات":
۱۔ تعمل "لات" عمل "ليس" بشرطين: أن يكون اسمها وخبرها من أسماء الزمان، كالحين والساعة ونحوهما بحيث أن يكونا بلفظ واحد.
۲۔ وأن يكون أحدهما محذوفا، ويحذف غالبا اسمها، نحو قوله تعالى : ( ولات حين مناص) تقديره: ولات الحين حين مناص ، أي : ليس الحين حين مناص وفرار.
الشروط في عمل "إن" المشبهة بـ"ليس " :
تعمل "إن" النافية عمل "ليس" نادراً بشرطين.
۱۔ حفظ النفي، ويكون بعدم انتقاض نفي خبرها بـ " إلا" ونحوها.
۲۔ وحفظ الترتيب، ويكون بعدم تقدم خبرها أو معموله عليها أو على اسمها نحو: إن زيد قائما.
والغالب في استعمالها أن يقترن خبرها بـ إلا فينتقض نفيه، فتكون مهملة، نحو قوله تعالى : ان هذا الا ملك كريم وهكذا اذا انعكس الترتيب، أي تقدم الخبر على الاسم تكون مهملة، نحو إن قائم زيد.
حروف مشبہ بلیس کا باب
اسم "ما، لا، لات، اور إن" کو "لیس" جیسے نفی کے معنی اور عمل میں شامل کیا جاتا ہے۔ یہ حروف اپنے اسم کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں جیسے کہ "لیس" کرتی ہے۔
مثال:
- ما زید قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- لا رجل أفضل منك (تم سے کوئی آدمی بہتر نہیں ہے)۔
- إن زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
- اللہ تعالیٰ کا فرمان: "ولات حين مناص" (اور اب بچاؤ کا وقت نہیں ہے)۔
"ما" کے عمل کے لیے چار شرطیں:
1. خبر اس کے اسم پر مقدم نہ ہو۔
2. خبر کا معمول اس کے اسم پر مقدم نہ ہو۔
3. اس کے بعد "إن" کا اضافہ نہ ہو۔
4. اس کے خبر کی نفی "إلا" کے ذریعے ختم نہ ہو۔
اگر یہ شرائط پوری ہو جائیں تو "ما" "لیس" کے مانند عمل کرتی ہے، جیسے: ما زید قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
اکثر اوقات "ما" کی خبر میں "باء" کا اضافہ ہوتا ہے، جیسے "لیس" کی خبر میں ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق: "وماربك بظلام للعبيد" (اور تمہارا رب بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے)، اور ایک اور مثال: "أليس الله بكاف عبده" (کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے؟)۔
"لا" کے عمل کی شرائط:
"لا" مشبہ بلیس کا عمل نادر ہوتا ہے اور "ما" کی طرح چار شرطیں لاگو ہوتی ہیں اور مزید یہ شرط ہے کہ :
- اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں، جیسے: لا أحد ناجياً من الموت (کوئی بھی موت سے بچنے والا نہیں ہے)۔
"لات" کے عمل کی شرائط:
1. "لات" "لیس" کی طرح عمل کرتی ہے جب اس کا اسم اور خبر زمانے کے ناموں میں سے ہوں، جیسے "الحين" (وقت) اور "الساعة" (گھڑی) وغیرہ۔
2. ان میں سے ایک کا حذف ہونا ضروری ہے، اور زیادہ تر اسم حذف ہوتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان: "ولات حين مناص"، یعنی "لات الحين حين مناص" (اب فرار کا وقت نہیں ہے)۔
"إن" کے عمل کی شرائط:
"إن" نفی کے لیے "لیس" کی طرح نادر استعمال ہوتی ہے، اور اس کے دو شرطیں ہیں:
1. نفی برقرار رہے، یعنی اس کے خبر کی نفی "إلا" وغیرہ کے ذریعے ختم نہ ہو۔
2. ترتیب برقرار رہے، یعنی خبر یا اس کا معمول اس کے اسم پر مقدم نہ ہو، جیسے: إن زيد قائماً (زید کھڑا نہیں ہے)۔
عام طور پر اس کا استعمال اس وقت ہوتا ہے جب اس کی خبر "إلا" کے ساتھ ہو اور اس کی نفی منسوخ ہو جائے، جیسے اللہ تعالیٰ کا فرمان: "إن هذا إلا ملك كريم" (یہ تو ایک معزز فرشتہ ہے)۔ اسی طرح جب خبر اسم پر مقدم ہو، تو یہ "إن" مہمل ہوگی، جیسے: إن قائماً زيد (زید کھڑا ہے)۔
61 المفصل۔ سبق:۹
اسم ما ولا المشبهتين بليس
هو في قولك ما زيد منطلقاً ولا رجل أفضل منك. وشبههما بليس في النفي والدخول على المبتدأ والخبر إلا أن ما أوغل في الشبه بما لاختصاصها بنفي الحال، ولذلك كانت داخلة على المعرفة والنكرة جميعاً فقيل ما زيد منطلقا، وما أحد أفضل منك. ولم تدخل لا إلا على النكرة فقيل لا رجل أفضل منك، وامتنع لا زيد منطلقا. واستعمال لا بمعنى ليس قليل ومنه بيت الكتاب
من صد عن نيرانها فأنا إبن قيس لا براح
أي ليس براح والمعنى لا أبرح بموقفي.
62 المفصل۔ سبق:
خبر ما ولا المشبهتين بليس
هذا التشبيه لغة أهل الحجاز. وأما بنو تميم فيرفعون ما بعدهما على الإبتداء، ويقرؤن: ما هذا بشر، إلا من درى كيف هي في المصحف.
فإذا انتقض النفى بإلا أو تقدم الخبر بطل العمل فقيل: ما زيد إلا منطلق، ولا رجل إلا أفضل منك، وما منطلق زيد ولا أفضل منك رجل.
ودخول الباء في الخبر نحو قولك ما زيد بمنطلق إنما يصح على لغة أهل الحجاز لأنك لا تقول زيد بمنطلق.
لات
لات : وهي لا التي يكسعونها بالتاء وهي المشبهة بليس بعينها ولكنهم أبوا إلا أن يكون المنصوب بها حيناً. قال الله تعالى: " ولات حين مناص" أي ليس الحين حين مناص.
63 تمارین
64 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۲
اَلتَّمْرِيْنُ (125)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لاَ صَدَاقَةٌ دَائِمَةٌ بغير اخلاصٍ.
(2) مَا الْمَعْرُوْفُ ضَائِعًا عنْدَ الْكِرَامِ.
(3) مَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ.
(4) مَا الجَوادُ يَبْخَلُ بِماله ولا هو مُمْسِكٌ.
(5) لاَ ثَمرةٌ نَاضِجَةً في البُسْتَانِ.
(6) اَلَيْسَ اللهُ بِقَادِرٍ عَلىَ اَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتٰى؟
(7) مَا الْاغراقُ في الترف محمودًا.
(8) مَا وَالِدَايَ مُرْتَحِلَيْنِ اِلىَ بَاكستان.
(9) مَا اَصْدِقَاؤُكَ مخلصين لك.
(10) لا تلميذٌ غائبًا بل تلميذان.
(11) وما الحُسنُ في جَسَد الفتىَ شرفًا لَهُ.
(12) اذا لم يكن في فعلهِ والخلائقِ.
اَلتَّمْرِيْنُ (126)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) اس باغ کے درخت پھل دار نہیں ہیں۔
(۲) تمہاری بات مجھ سے پوشیدہ نہیں ہے۔
(۳) میری نگاہ میں تم لوگ کچھ زیادہ محنتی نہیں ہو۔
(۴) محمود کے دونوں بیٹے محنتی تو ہیں مگر ذہین نہیں ہیں۔
(۵) ہر دولت مند عیش وآرام میں نہیں ہے۔
(۶) کوئی دو دوست اس زمانے میں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے والے نہیں ہیں۔
(۷) حامد کی لڑکیاں جاہل نہیں ہیں۔
(۸) کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل کیا ہوگا۔
(۹) وہ موجودہ حالت سے بالکل واقف نہیں ہے۔
(۱۰) ہمارے نزدیک وہ لوگ تعریف کے مستحق نہیں ہیں۔
(۱۱) اس زمانہ میں دین پر قائم رہنا آسان نہیں ہے۔
(۱۲) ہم لوگ موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہیں۔
(۱۳) دین میں مداہنت کوئی پسندیدہ بات نہیں ہے۔
(۱۴) ہم اپنے فرائض سے غافل نہیں ہیں۔
65 النحوالواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۷،۸
إِنْ وَمَا وَلَا وَلَاتَ المُشَبَّهَاتُ بِلَبْس
التَّمْرِينُ :(۱)
بَيِّن فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ الْادَوَاتِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ، وَبَيِّنِ الْإِسْمَ وَالْخَبَرَ فِي كُلِّ جُمْلَةٍ.
۱) إِنِ الرِّيَاح عَاصِفَة
(۲) مَا آمَالُكَ خَائِبَة
(۳) لَا صَدَاقَةٌ دَائِمَةً بِغَيْرِ إِخْلَاص
(۴) مَا أَحَدُ اسْمِي مِنْ أَحَدٍ إِلَّا بِالْعَقَلِ
(۵) فَرَّ السَّجِينُ وَلَاتَ حِيْنَ مَفَر
(۶) لَا جَاهِلَةٌ مُحْتَرمَةٌ
(۷) تَعْتُبُ وَلَاتَ وَقتَ عِتَابٍ
(۸) لَا ثمْرَةٌ نَاضِجَةً
التَّمُرِينُ(۲ )
ادْخِلۡ عَلَى كُلِّ جُمْلَةٍ مِّنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ حَرْفًا مِنَ الْحُرُوفِ النَّافِيَةِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ ، مَعَ اسْتِيعَابِ الْحُرُوفِ، وَضَبْطِ أَوَاخِرِ الْكَلِمَاتِ الْمُعْرَبَةِ بِالْحَرَكَاتِ.
(۱) ... الْأَرْضُ مُجْدِبَة
(۲) .... الْأَزهَارُ نَاضِرَة
(۳) .....الْيَوْمَ يَوْمُ جهَاد
(۴) .... تِجَارَتُكَ رَابِحَة
(۵) ..... السَّاعَةُ سَاعَةَ إِحْجَام
(۶) .... الْجَوَادَانِ جَامِحَان
(۷) ...... تِلْمِيذ مِنَ الْمَدْرَسَةِ غَائِب
(۸) .....الْعُمَّالُ مُتعَبُون
التَّمُرِينُ (۳)
أَتمِمِ الْجُمَلَ الآتِيَةَ وَاضْبِطۡ أَوَاخِرَ الْكَلِمَاتِ بِالشَّكْلِ.
(۱) مَا فَيضَانُ النِّيْلِ . .
(۲) إِنِ الْكَسلان . ..
(۳) لا ظَالِمٌ ...
(۴) اعْتَذَرَ وَلاتَ ..
(۵) إِنْ أُمَّة ......
(۶) مَا شَوَارِعُ الْمَدِينَةِ ......
(۷) لا مُجِد ......
(۸) حَاوَلَ الْفِرَارَ وَلاتَ ......
التمرين (۴ )
مَا الَّذِي أَوْجَبَ الْغَاء عَمَل إِنْ وَمَا وَلَا فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ.
(۱) مَا أَمْرُكَ إِلَّا عَجِيبٌ
(۲) إِنْ سَعْيُكَ إِلَّا مَشْكُورٌ
(۳) لَا الْمَدِينَةُ وَاسِعَةٌ وَلَا الشَّوَارِعُ نَظِيفَة
(۴) مَا بِالْآبَاءِ فَخُرُكُمْ
(۵) إِنِ الرَّجُلُ إِلَّا قَلْبُهُ وَلِسَانُهُ
(۶) مَا دُنْيَاكَ إِلَّا فَانِيَةٌ
(۷) إِنِ الْفَرَاعُ إِلَّا فَسَاد
(۸) لا الشَّمْسُ مُشْرِقَةٌ وَلَا السَّمَاءُ مُصْحِيَةٌ
(۹) مَا عِنْدِي كِتَابك
(۱۰) لَا كَاتِبٌ إِلَّا قَارِى
التَّمْرِينُ (۷)
لِمَ لا تَصْلَحُ الْجُمَلُ الْآتِيَةُ لِدَخُولِ لَا الْعَامِلَةُ عَمَلَ لَيْسَ عَلَيْهَا؟ إِجْعَلۡهَا صَالِحَةً لِذَلِكَ، ثُمَّ ادْخِل لَا عَلَى كُلٍّ مِنْهَا .
(۱) الشَّجَرَةُ مُوْرِقَةُ الْأَغْصَان
(۲) الدَّارُ وَاسِعَةُ الْأَرْجَاءِ
(۳) الصُّورَةُ جَمِيلَةُ الْأَلْوَان
(۴) الصَّفُوفَ مُسْتَقِيمَةٌ
(۵) أَقْلَامُنَا مَبْرِيَّةٌ
(۶) السَّحَابُ كَثِيفٌ
التمرين ( ٦ )
(۱) كون ست جمل مبدوءة بإن النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى ، ملغاة في الثلاث الثانية
( ۲ ) كون ست جمل مبدوءة بما النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى، واجبة الإلغاء في الثلاث الثانية
(۳) كون ست جمل مبدوءة بلا النافية ، بحيث تكون عاملة في الثلاث الأولى ، واجبة الإلغاء في الثلاث الثانية
( ٤ ) كون أربع جمل تشتمل كل منها على(لات)، التي تعمل عمل ليس
التمرين ( ۷ )
(۱) نموذج ۔
لات وَقتَ مُزَاحٍ.
لات۔۔۔۔۔ حَرْف نفي يَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ مَبْنِي عَلَى الْفَتْحِ، وَاسْمُهَا مَحْذُوفٌ.
وَقت۔۔۔۔۔ خَبر لَاتَ مَنصُوبٌ بِالْفَتْحَةِ، وَهُوَ مُضَافٌ.
مُزَاحَ۔۔۔۔۔۔۔ مُضَاف إِلَيْهِ مَجْرُورٌ بِالْكَسْرَةِ.
(ب) أَعْرِبِ الْامثلۃ الْآتِيَةَ.
(۱) مَا مَعْرُوفُكَ ضَائِعا
(۲) إِنْ أَنْتَ إِلَّا وَفِيٌّ
(۳) لَا عُذْرٌ لَكَ مَقْبُولاً
(۴) نَدِمَ الْبُغَاةُ وَ لاتَ سَاعَةَ مَنْدَمٍ
التَّمْرِينُ(۸)
اشْرَح أَحَدَ الْأَبْيَاتِ الْآتِيَةِ ثُمَّ أَعْرِبهُ:
مَا كُلُّ مَا فَوْقَ الْبَسِيْطَةِ كَافِيًا وَإِذَا قَنِعْتَ فَبَعْضُ شَيْءٍ كَافٍ
وَمَا الْمَرْءُ إِلَّا الْأَصْغَرَانِ لِسَانُهُ وَمَعْقُولُهُ وَالْجِسْمُ خَلقٌ مُصَوَّرٌ
وَمَا الْحُسْنُ فِي وَجْهِ الفَتَى شَرَفاً لَهُ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِي فِعْلِهِ وَالْخَلَائِقِ
زيادَةُ البَاءِ فِي خَبَرِ لَيْسَ وَمَا
التمرين (۱)
ادْخِلِ الْبَاءَ الزَّائِدَةَ عَلَى أَخْبَارِ مَا وَلَيْسَ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ .
(۱) مَا الْفَتَيَاتُ سَافِرَات
(۵) لَيْسَتِ الْمَلَاجِيء كَثِيرَةٌ
(۲) مَا الْخَطِيبُ مُؤَثِّرًا
(۶) لَيْسَ الْإِغْرَاقَ فِي التَّرَفِ مَحْمُودًا
(۳) مَا الْأَشْجَارُ مُوْرِقَات
(۷) لَيْسَ التَّرَیُّتُ فِي الْأُمُورِ مَذْمُوماً
(۴) مَا اصْدِقَاؤُكَ مُخْلِصِينَ
(۸) لَيْسَ اعْتِزَالُ النَّاسِ فَضِيلَةً
التموين (۲)
احذِفَ حَرفَ الْجَر الزَّائِد مِنَ الْأَخْبَارِ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ، ثُمَّ بَيِّنۡ نَوْعَ الْإِعْرَابِ وَعَلَامَتَهُ فِي هَذِهِ الْأَخْبَارِ :
(۱) مَا الْبَنَاتُ بِجَاهِلات
(۵) لَيْسَ الْحُرَّاس بِمُسْتَيقِظِينَ
(۲) لَيْسَ الضَّبَابُ بِكَثِف
(۶) مَا النِّيْلُ بِفَائِض
(۳) لَيْسَتِ الْأَزهَارُ بِذَابِلاتٍ
(۷) لَيْسَ شَاطِئا النِّيْلِ بِقَاحِلَينَ
(۴) مَا الْمُخَادِعُ بِأَخِيك
(۸) مَا كُلُّ غَنِيٍّ بِسَعِيدٍ
التَّمْرِينُ (۲)
ضَع فِي الْأَمَاكِنِ الْخَالِيَةِ أَخْبَارًا لِلَيْسَ وَمَا النَّافِيَةِ، وَهَاتِهَا مَرَّةً مَقْرُونَةً بِالْبَاءِ الزَّائِدَةِ، وَمَرَّةً غَيْرَ مَقْرُونَةٍ بِهَا .
(۱) ما نوافذ الحجرة۔۔
(۵) ليس قرض الشعر...۔۔۔
(۲) ما العجلة في الأمور۔
(۶) ليست موائد الطعام ۔۔۔۔.
(۳) ليست الأيام..۔۔
(۷) ليس جو مصر ...۔۔۔
(۴) ليس ركوب الخيل۔۔۔
(۸) ما حنان الأم .۔۔۔۔
التمرين ( ٤ )
(۱) كون ثلاث جمل يكون اسم ليس في كل منها مثنى ، والخبر مقروناً بالباء الزائدة
( ۲ ) كون ثلاث جمل يكون اسم ليس فى كل منها جمع مؤنث سالماً ، والخبر مقروناً بالباء الزائدة :
(۳) كون ثلاث جمل يكون اسم ما النافية في كل منها جمع مذكر سالماً والخبر مقروناً بالباء الزائدة
( ٤ ) كون ثلاث جمل يكون اسم ما النافية فى كل منها اسم إشارةلجماعةالإناث، والخبر مقروناً بالباء الزائدة
تَمْرِينٌ فِي الْأِعْرَابِ ( ۵ )
(۱) نموذج ۔
مَا بَاذِلُ الْمَعْرُوفِ بِمَكْرُوهِ.
ما ..... حَرف نَفْي يَعْمَلُ عَمَلَ لَيْسَ وَهُوَ مَبْنِي عَلَى السُّكُونِ.
بَاذِلُ ..... اسْمُ مَا مَرْفُوعٌ وَهُوَ مُضَاف .
الْمَعْرُوف ..۔۔مُضَاف إِلَيْهِ .
بِمَكْرُوه أَلْبَاءُ حَرْفُ جَرٍّ زَائِدٌ، وَمَكْرُوه خَبَرُ مَا مَجْرُورٌ لَفظًا مَنصُوبٌ تَقْدِيرًا.
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ:
(۱) مَا الْأَسَدُ بِقَصِيرِ الْوَثْبَةِ
(۳) لَيْسَتِ الْجَاهِلَاتُ بِمُحْتَرَمَاتٍ ...
(۲) مَا سَاقَا النَّعَامَةِ بِقَصِيرَتَيْنِ
(۴) لَيْسَ الْبُغَاةُ بِمَحْبُوبِينَ
التمرين (۶)
اشرح أَحَدَ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبهُ۔
وَلَيْسَ أَخُوكَ الدَّائِمُ الْعَهْدِ بِالَّذِي
يَذُمُّكَ إِنْ وَلَّى وَيُرْضِيكَ مُقْبِلاً
وَمَا كُلُّ ذِي لُبٍّ بِمُؤْتِيكَ نُصْحَهُ
وَمَا كُلُّ مُؤْتٍ نُصْحَهُ بِلَبِيبٍ
66 تیسیر النحو۔ سبق:۸
أسئلة
۱. ما هو عمل كان وأخواتها اذكره بالتمثيل.
۲. كم الأفعال الناقصة، وما هي ؟
۳۔ اذكر من الأفعال الناقصة ما يعمل بدون شرط، وما يعمل بشرط مع ذكر الشرط والأمثلة.
۴۔ الاسم مع فعله الناقص يجري مجرى ماذا في جميع أحكامه من التزام التاخير وإفراد العامل وغيرهما ؟
۵۔ اسم الفعل الناقص مع خبره يجري مجرى ماذا في التعريف والتنكير، والتقديم والتأخير، والإفراد والتثنية، والجمع، والتذكير والتأنيث ؟
٦- إذا وقع خبر كان وأخواتها جملة فعلية فكيف يكون فعلها اذكره بالتفصيل مع الأمثلة.
۷۔ اذكر الحروف المشبهة بـ "ليس" وفيماذا تُشبه بها؟
۸۔ اذكر أعمل الحروف المشبهة بـ "ليس" مع الأمثلة.
۹۔ اذكر شروط عمل "ما" بالتفصيل.
١٠. هل تزاد الباء في خبر "ما" و "ليس اذكره مع الأمثلة.
۱۱. اذكر شروط عمل "لا" الخمسة بالتفصيل.
١٢- اذكر شرطي عمل "لات" بالتفصيل.
١٣ - اذكر شرطي عمل "إن المشبهة بـ "ليس بالتفصيل.
١٤ - متى تكون "إن المشبهة بـ "ليس مهملة، اذكر مع الأمثلة.
تمرينات
۱۔ أكمل الجمل الآتية، ثم اضبط أواخر كلماتها بالشكل
كان الحاكم. ظل العدل ...... صار العدو..... أصبح الحصان ..... أمسى الغني . أضحى السجين ..... بات الكلب ..... أحسن إلى والدك مادام ...... مازال المطر . ما انفك زيد .... ما فتي الجو...... ما برح التلميذ .... راح الطلاب . غدا الطفل ....... ليس الدواء۔۔۔۔
٢- حدد في الأمثلة الآتية الخبر المقدم على اسم الفعل الناقص وهل يجب تقديمه أم يجوز.
كان في البيت زيد، كان في البيت رجل، كان في المدرسة تلاميذها ، كان في المدرسة تلاميذ، إنما كان في البيت خالد، ماكان في البيت إلا خالد، كان في البيت خالد.
۳۔ حدد في الأمثلة الآتية الخبر المؤخر عن اسم الفعل الناقص إنما كان البحتري شاعرا، ماكان البحتري إلا شاعرا، كان البحتري شاعراء كان الأب يطيعه ابنه، صار صديقي عدوي.
۴۔ اذكر سبب تقديم خبر كان عليها وعلى اسمها في مثل: "أين كان زيد"
۵۔ فيماذا طابق خبر الفعل الناقص اسمه في كل جملة من الجمل الآتية
كان المدرسان حاضرين، كان المدرسون حاضرين، كان المدرس حاضرا، كانت المدرستان حاضرتين، كانت المدرسات حاضرات.
٦- بين في الجمل الآتية الحروف التي تعمل عمل ليس وبين الاسم والخبر في كل جملة.
إن الرياح عاصفة، ما آمالك خائبة، لا صداقة دائمة بغير إخلاص، فر السجين ولات حين مفر.
۷۔ما الذي أوجب إلغاء عمل "إن، وما ولاء في الجمل الآتية
ما عندي كتابك، لا في الدار أحد ما أموالك إلا فانية، إن سعيك إلا مشكور، لا بكاتب إلا قاري، لا المدينة واسعة ولا الشوارع نظيفة.
67 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
68 افعال مقاربہ ، رجاء اور شروع
افعال مقاربہ، رجاء اور شروع کی تعریف اور تفصیلات:
1. افعالِ مقاربہ (افعال قریب):
افعالِ مقاربہ وہ افعال ہیں جو کسی کام کے قریب ہونے یا شروع ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ افعال جملے میں اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کوئی کام قریب ہے کہ ہونے والا ہے۔
افعالِ مقاربہ کی مثالیں:
کاد، یکاد:
مثال: "کاد الطالب ینجح." (طالب علم قریب تھا کہ کامیاب ہو جاتا۔)
"یکاد زیتھا یضیء." (اس کا تیل قریب ہے کہ روشن ہو جائے۔)
2. افعالِ رجاء (امید کے افعال):
افعالِ رجاء وہ افعال ہیں جو کسی کام کے ہونے کی امید یا خواہش کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے جملے میں اس بات کو ظاہر کیا جاتا ہے کہ کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
افعالِ رجاء کی مثالیں:
عسیٰ:
مثال: "عسی الله أن یغفر لنا." (امید ہے کہ اللہ ہمیں معاف کرے گا۔)
حری، اخلولق: (یہ افعال کلاسیکی زبان میں زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔)
3. افعالِ شروع (ابتداء کے افعال):
افعالِ شروع وہ افعال ہیں جو کسی کام کے شروع ہونے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے جملے میں یہ بتایا جاتا ہے کہ کوئی عمل یا واقعہ اب شروع ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے۔
افعالِ شروع کی مثالیں:
أخذ، جعل، بدأ، طفق:
مثال: "بدأ الطالب یدرس." (طالب علم نے پڑھائی شروع کر دی۔)
"جعل الرجل یضحک." (آدمی ہنسنے لگا۔)
"طفق یکتب." (وہ لکھنے لگا۔)
افعال کی خصوصیات:
یہ افعال جملے میں مبتدا اور خبر کے درمیان آتے ہیں اور فعل کا رنگ پیدا کرتے ہیں، ان کے بعد عام طور پر فعل مضارع آتا ہے جو منصوب ہوتا ہے۔
مثال: "کاد یمطر." (بارش ہونے والی ہے۔)
افعالِ رجاء میں امید یا توقع کا اظہار کیا جاتا ہے۔افعالِ شروع عمل کی ابتدا کو ظاہر کرتے ہیں اور ماضی یا حال میں کسی کام کے آغاز کو بیان کرتے ہیں۔
69 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۴
(أفعال المقاربة والرجاء والشروع )
افعال مقاربہ دوسرے افعال کی طرح مستقل فعل نہیں ہیں بلکہ یہ کسی دوسرے مستقل فعل کے ساتھ بطور معاون ومدد گار کے آتے ہیں جیسے یکاد البرقُ يَخطَفُ أَبْصَارَهُمْ
افعال مقاربه در حقیقت افعال ناقصه ہی کی ایک قسم ہیں ، یہ بھی جملہ اسمیہ ہی ہے مبتدا و خبر پر داخل ہوتے ہیں اور اسی طرح اپنے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتے ہیں ۔ مگر ان میں اور افعال ناقصہ میں فرق یہ ہے کہ ان افعال کی خبر ہمیشہ جملہ فعلیہ کی صورت میں آتی ہے ، پھر یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فعل مضارع ہو۔ مگر افعال ناقصہ کی خبر جب کہ تم نے دیکھا مفرد اور جملہ دونوں آتے ہیں۔
معنی کے لحاظ سے افعال مقاربه تین طرح کے ہیں ۔ اور اس لحاظ سے ان کے ناموں میں بھی فرق کیا جاتا ہے ۔
(1) افعال مقاربه قربت کے معنی پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں اور وہ کاد ، کرب، اوشک ہیں (بمعنی قریب ہے کے)
(۲) افعال رجاء ۔ امید کے معنی ظاہر کرتے ہیں اور وہ یہ ہیں : - عَسیٰ، حری، اخلولق (بمعنی امید ہے کہ)
(۳) افعال شروع ابتداء اور شروع کے معنی بتاتے ہیں اور وہ یہ ہیں :۔ شرع، أنشأ، أخذ ، جَعَل ، طَفِق ، عَلِق ، أَقْبَلَ ، قَامَ ، هَبَّ (بمعنی کرنا۔۔۔۔۔ شروع کیا ...... لگا)
ان افعال کی خبر میں جو مضارع کا فعل آتا ہے اس پر کبھی أن مصدریہ کا لانا ضروری ہوتا ہے اور کبھی غیر ضروری اور جائزہ ۔ اور کبھی اس کے برعکس ان کا نہ لانا ہی ضروری ہوتا ہے تفصیل حسب ذیل ہے :
(۱)کاد اور کرب میں عموما أنۡ نہیں لایا جاتا ، مگر لانا بھی صحیح ہے۔
(۲) اوشک اور عسی میں عموما أنۡ لایا جاتا ہے مگر نہ لانا بھی صحیح ہے۔
(۳) حری اور اوشک میں أنۡ کا لایا جانا ضروری ہے۔
(۴) تمام افعال شروع میں أنۡ کا نہ لایا جانا ضروری ہے ۔
70 شرح مائۃ عامل۔سبق:۱۱
افعال المقاربۃ
أفعال المقاربة، وإنما سميت بهذا الاسم؛ لأنها تدل على المقاربة، وهي أربعة:
الأول: عسى، وهو فعل لدخول تاء التأنيث الساكنة فيه نحو : عست، وغير متصرف؛ إذ لا يشتق منه مضارع واسما فاعل ومفعول وأمر ونهي مثلا، وعمله على نوعين: الأول: أن يرفع الاسم وهو فاعله، وينصب الخبر ويكون خبره فعلا مضارعا مع "أن" وحينئذ يكون بمعنى "قارب" نحو : عسى زيد أن يخرج، فزيد مرفوع بأنه اسمه وفاعله، وأن يخرج" في موضع النصب بأنه خبره بمعنى قارب زيد الخروج، ويجب أن يكون خبره مطابقا لاسمه في الإفراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث نحو عسى زيد أن يقوم، وعسى الزيدان أن يقوما، وعسى الزيدون أن يقوموا، وعست هند أن تقوم، وعست الهندان أن تقوما، وعست الهندات أن يقمن، وهذا أي كون الخبر مطابقا للفاعل إذا كان الفاعل اسما ظاهرا، أما إذا كان مضمرا فليست المطابقة بينهما شرطا۔ النوع الثاني من النوعين المذكورين أن يرفع الاسم وحده، وذلك إذا كان اسمه فعلا مضارعا مع "أن"، فيكون الفعل المضارع مع "أن" في محل الرفع بأنه اسمه، ويكون "عسى" حينئذ بمعنى "قرب" مثل: عسى أن يخرج زيد أي قرب خروجه فلا يحتاج في هذا الوجه إلى الخبر، بخلاف الوجه الأول؛ لأنه لا يتم المقصود فيه بدون الخبر، فيكون الأول ناقصا والثاني تاما.
والثاني: كاد، وهو يرفع الاسم وينصب الخبر وخبره فعل مضارع بغير "أن"، وقد يكون مع "أن" تشبيها له بـ "عسى " مثل: كاد زيد يجيء، فزيد مرفوع بأنه اسم "كاد"، ويجيء في محل النصب بأنه خبره، معناه: قرب مجيء زيد، و حكم باقي المشتقات من مصدره كحكم "كاد" مثل: لم يكد زيد يجيء، ولا يكاد زيد يجيء، وإن دخل على "كاد" حرف النفي ففيه خلاف قال بعضهم: إن حرف النفي فيه مطلقا يفيد معنى النفي، وقال بعضهم: إنه لا يفيده، بل الإثبات باق على حاله، وقال بعضهم: إنه لا يفيد النفي في الماضي، وفي المستقبل يفيده.
والثالث كرب، وهو يرفع الاسم وينصب الخبر، وخبره يجيء فعلا مضارعا دائما بغير "أن" نحو : كرب زيد يخرج
والرابع: "أوشك" وهو يرفع الاسم وينصب الخبر، وخبره فعل مضارع مع "أن" أو بغير "أن" مثل: أوشك زيد أن يجيء أو يجيء، وقال بعضهم: إن أفعال المقاربة سبعة، هذه الأربعة المذكورة و "جعل" و "طفق" و "أخذ" وهذه الثلاثة مرادفة لـ "كرب" وموافقة له في الاستعمال.
افعال مقاربہ ، جو اس نام سے جانی جاتی ہیں کیونکہ یہ قریب ہونے کی حالت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان میں سے چار ہیں:
1. "عسى": -معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- پہلا نوع:
- عمل: رفع الاسم (فعل) ونصب الخبر (فعل مضارع مع "أن")۔
- مثال: "عسى زيد أن يخرج" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
- موافقت: خبر کا فاعل کے ساتھ مطابقت ہونا ضروری ہے۔
- مثال: - "عسى زيد أن يقوم" (قریب ہے کہ زید قائم ہو)۔
- "عسى الزيدان أن يقوما" (قریب ہے کہ دونوں زید قائم ہوں)۔
- "عسى الزيدون أن يقوموا" (قریب ہے کہ سب زید قائم ہوں)۔
- "عست هند أن تقوم" (قریب ہے کہ ہند قائم ہو)۔
- "عست الهندان أن تقوما" (قریب ہے کہ دونوں ہند قائم ہوں)۔
- "عست الهندات أن يقمن" (قریب ہے کہ سب ہند قائم ہوں)۔
- مطابقت: اگر فاعل ظاہر ہو، تو خبر کا فاعل کے ساتھ مطابقت ضروری ہے۔ اگر ضمیر ہو، تو مطابقت شرط نہیں۔
- دوسرا نوع:
- عمل: رفع الاسم فقط (فعل مضارع مع "أن" کے بغیر)۔
- مثال: "عسى أن يخرج زيد" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
2. "كاد":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع بغیر "أن")۔
- مثال: "كاد زيد يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے)۔
- نفی: اگر "كاد" پر حرف نفی آئے، تو بعض علماء کے مطابق، حرف نفی نفی کا مفہوم نہیں دیتا، بلکہ اثبات باقی رہتا ہے۔
- مثال: "لم يكد زيد يجيء" (زید قریب تھا کہ آئے)۔
3. "كرب":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع بغير "أن")۔
- مثال: "كرب زيد يخرج" (قریب ہے کہ زید نکلے)۔
4. "أوشك":
- معنی: "قریب ہونا"۔
- استعمال:
- عمل: رفع الاسم ونصب الخبر (فعل مضارع مع "أن" یا بغیر "أن")۔
- مثال: "أوشك زيد أن يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے) یا "أوشك زيد يجيء" (قریب ہے کہ زید آئے)۔
مزید افعال مقاربہ:
- "جعل"، "طفق"، "أخذ": یہ تینوں "كرب" کے مترادف ہیں اور اس کے استعمال میں مشابہت رکھتے ہیں۔
یہ افعال قریب ہونے کی حالت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور ان کی نوعیت کے مطابق فاعل اور خبر کے ساتھ ان کے استعمال میں فرق ہوتا ہے۔
71 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۹
مِنَ الْأَفْعَالِ الَّتِي تَعْمَلُ عَمَلَ كَانَ.
(ا) أَفْعَالُ الْمُقَارَبَةِ وَهِيَ : كَادَ، وَكَرْبَ، وَأَوْشَكَ، وَتَدُلُّ عَلَى قُرْبِ وقوع الخبر
(ب) أَفْعَالُ الرَّجَاءِ وَهِيَ عَسَى، وَحَرَى، وَ اخْلَوْلَقَ، وَتَدُلُّ عَلَى رَجَاءِ وقوعِ الْخَبَرِ
(ج) أَفْعَالُ الشَُرُوعِ وَهِيَ : شَرَعَ، وَأَنْشَأَ، وَأَخَذَ، وَطَفِقَ، وَجَعَلَ وَعَلِقَ، وَقَامَ، وَأَقْبَلَ، وَهَب وَتَدُلُّ عَلَى الشُّرُوعِ وَالْبَدْءِ فِي الْخَبَرِ.
يُشْتَرَطَ فِي هَذِهِ الْأَفْعَالِ أَنْ يَكُونَ خَبَرهَا جُمْلَةٌ فِعْلِيَّةٌ فِعْلُهَا مُضَارِع مُجَرَّدٌ مِنْ أَنْ مَعَ كَادَ وَكَربَ وَأَفْعَالِ الشُّرُوعِ، مَقْرُونَ بِهَا مَعَ أَوْشَكَ وَعَسَى وَحَرَى وَ اِخْلَوْلَقَ، وَقَدْ يَقْتَرِنُ بِهَا عَلَى قِلَّةٍ فِي كَادَ وَكَرَبَ كَمَا يَتَجَرَّدُ مِنْهَا عَلَى قِلَّةٍ فِي أَوْشَكَ وَعَسَى.
مِثْلُ هَذِهِ الْأَفْعَالِ فِي عَمَلِهَا مَا تَصَرُّفَ مِنْهَا.
ان افعال سے متعلق کہ جو کان کی طرح عمل کرتے ہیں
افعال مقاربہ اور وہ یہ ہیں ،کادَ، كَرُبَ اَوشَک اور یہ خبر کے قریب میں واقع ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
افعال رجاء اور وہ یہ ہیں ، عسی ، حری اور اخلو لق اور یہ خبر کی امید کے وقوع پر دلالت کرتے ہیں۔
افعال شروع اور وہ یہ ہیں ، شَرَعَ ، اَنشَاء أَخَذَ طَفِقَ، جَعَلَ ، عَلَقَ ، قَامَ، اقبل اور هَبَّ ہیں، اور یہ خبر کے شروع ہونے یا ابتداء ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔
ان افعال میں یہ بات شرط ٹھہرائی گئی ہے کہ ان کی خبر جملہ فعلیہ ہو اور اس کا فعل مضارع جو کہ أن سے خالی ہو با وجود کاد، کرب اور افعال شروع کے ، اور ملا ہوا ہونا أن کے ساتھ باوجود اوشک، عسی، حری اور اخلولق کے ، اور کبھی فعل ملا ہوتا ہے ان کے ساتھ قلت کے معنی پر دلالت کرنے کی وجہ سے کاد اور کرب میں جیسا کہ وہ خالی ہوتا ہے اس سے قلت پر
او شک اور عسی میں ۔
انہی افعال کی طرح ہیں اس کے عمل کرنے میں ، ان سے جو گردان کو ( تصرف کو) قبول کرے۔
الأمثلة
(۱)
كادت الشَّمْسُ تَغِيبُ، كادَتِ السَّفِينَةُ أَنْ تَغْرق
كَربَ الشَّتَاءُ أَنْ يَنْقَضِي، كَربَ الْمَاءُ يَجۡمُدُ
أَوْشَكَ الْمَالُ أَنْ يَنْفَدَ ، يُوشِكُ المريض أن يبرأ
(۲)
عسى الضيق أن ينفرج ، عَسَى الصَّائِدُ أَنْ يُصِيبَ .
حرَى الغَمَامُ أَنْ يَنْقَشِعَ ، حرَى الغَائِبُ أَنْ يَحْضَرَ .
اخْلُوْلَقَ الْمُذْنِبُ أَنْ يَتُوبَ ، اخْلُوْلَقَ الْهَوَاءُ أَنْ يَعْتَدِلَ .
(۳)
شَرَعَ الطَّفْلُ يَبْكِي ، شرع الجيش يتحرك
أَنْشَأْتِ السَّماءُ تُمْطَرُ ، أَنْشَأَ الرَّعْدُ يَقْصِفُ
أخذَ الثَّوبُ يَبْلَى ، أخَذَ البناء ينهار .
72 تیسیر النحو۔ سبق:۹
فصل اسم أفعال المقاربة
تعمل أفعال المقاربة عمل كان فترفع المبتدأ، ويسمى اسمها وتنصب الخبر ويسمى خبرها، نحو: كاد المطر يسقط
وهي ثلاثة أقسام:
أولا: ما يدل على المقاربة أي قرب وقوع الخبر ) وهي كاد، وكرب وأوشك.
ثانيا: ما يدل على رجاء وقوع الخبر وهي: عسى، وحرى، واخلولق
ثالثاً: ما يدل على الشروع والبدء في الخبر وهي طفق، وجعل وأخذ، وبدأ، وأنشأ وغيرها.
وتسمى كلها أفعال المقاربة من باب ( تسمية الكل باسم البعض) ويشترط في هذه الأفعال
(۱) أن يكون خبرها جملة فعلية، فعلها مضارع رافع الضمير يعود إلى اسمها
(۲) وأن يـ يكون متأخرا عنها نحو كاد النهار ينقضي. ويجوز أن يتوسط خبر هذه الأفعال بينها وبين اسمها، فتقول: كاد ينقضي النهار مالم يكن الخبر مقترنا بـ " أن "وإلا فلا يجوز فيه ذلك.
يقترن خبر هذه الأفعال بـ "أن" على النحو التالي :
وجوبا مع حرى واخلولق ( معناهما هو معنى عسى مثل: حرى (أو اخلولق) الطب أن يعالج الأمراض المستعصية.
وكثيراً مع عسى وأوشك، نحو: عسى الرخاء أن يدوم، وأوشك الليل أن ينجلي.
وقليلا مع كادو كرب، مثل: كاد (أوكرب) النهار ينقضي، أو كاد (أوكرب) النهار أن ينقضي
ويمتنع اقتران خبرها بـ"أن" مع جميع أفعال الشروع، مثل: أخذ الأولاد يلعبون
أفعال المقاربة لا تتصرف أي تستعمل في الماضي فقط ) ما عدا كاد، وأوشك، فيأتي منهم المضارع، نحو قوله تعالى : يكاد البرق يخطف أبصارهم ويوشك الثمر أن ينضج.
افعال مقاربت وہ افعال ہیں جو جملہ اسمیہ پر وارد ہو کر مبتدأ کو مرفوع اور خبر کو منصوب کرتے ہیں، اور ان کا خبر جملہ فعلیہ ہوتا ہے۔ اس میں مبتدأ کو اسم اور خبر کو خبر کہا جاتا ہے، جیسے:
"کاد المطر يسقط" (بارش قریب تھی کہ گر پڑتی)۔
افعال مقاربہ کی تین اقسام ہیں:
وہ افعال جو قریب الوقوع ہونے کا اشارہ دیتے ہیں ، یعنی ایسی خبر جو قریب الوقوع ہو۔ اس میں شامل افعال:
کاد (قریب تھا)،
کرب (بہت قریب تھا)،
أوشك (ابھی ابھی ہونے والا تھا)۔
وہ افعال جو امید یا توقع کا اظہار کرتے ہیں یعنی ایسی خبر جس کے وقوع کی امید ہو۔ اس میں شامل افعال:
عسى (شاید)،
حرى (امید ہے)،
اخلولق (ضروری ہے)۔
وہ افعال جو شروع ہونے کا اظہار کرتے ہیں یعنی ایسی خبر جو واقع ہو چکی ہو یا شروع ہو گئی ہو۔ اس میں شامل افعال:
طفق (شروع ہو گیا)،
جعل (شروع کیا)،
أخذ (لگ گیا)،
بدأ (شروع ہوا)،
أنشأ (شروع کیا) وغیرہ۔
ان تمام افعال کو "افعال مقاربت" کہا جاتا ہے، حالانکہ بعض کا تعلق شروع ہونے یا امید سے ہے، مگر مجموعی طور پر انہیں افعال مقاربہ کہا جاتا ہے۔
افعال مقاربت کے استعمال کے اصول:
خبر کا جملہ فعلیہ ہونا ضروری ہے، اور اس جملے کا فعل مضارع ہونا چاہیے جو اسم کی طرف راجع ہو۔
خبر فعل کے بعد آنا چاہیے، جیسے:"کاد النہار ینقضی" (دن ختم ہونے کو تھا)۔
البتہ اگر خبر میں "أن" نہ ہو تو یہ خبر فعل اور اسم کے درمیان آ سکتی ہے، جیسے: "کاد ینقضی النہار"(دن ختم ہونے کو تھا)۔
لیکن اگر خبر "أن" کے ساتھ ہو تو یہ فعل اور اسم کے درمیان نہیں آ سکتی۔
افعال مقاربہ کا خبر سے "أن" کے ساتھ ربط:
"أن" کا لازمی استعمال:
"حرى" اور "اخلولق" کے ساتھ، جیسے: "حرى (یا اخلولق) الطب أن يعالج الأمراض المستعصية" (امید ہے کہ طب لاعلاج بیماریوں کا علاج کرے گی)۔
اکثر "أن" کے ساتھ:
"عسى" اور "أوشك" کے ساتھ، جیسے: "عسى الرخاء أن يدوم" (شاید خوشحالی باقی رہے)
"أوشك الليل أن ينجلي" (رات ابھی ختم ہونے والی ہے)۔
کبھی کبھار "أن" کے ساتھ:
"کاد" اور "کرب" کے ساتھ، جیسے: "کاد (یا کرب) النہار ینقضی" (دن قریب تھا کہ ختم ہو جائے)
"کاد (یا کرب) النہار أن ینقضی" (دن قریب تھا کہ ختم ہو جائے)۔
"أن" کا استعمال منع ہے:
تمام افعال شروع ہونے کے ساتھ، جیسے: "أخذ الأولاد يلعبون" (بچے کھیل شروع کیے )۔
افعال مقاربہ کا تصرف (تبدیلی):
افعال مقاربہ تصرف نہیں ہوتے، یعنی یہ افعال صرف ماضی کی شکل میں استعمال ہوتے ہیں، سوائے "کاد" اور "أوشك" کے۔ یہ افعال مضارع میں بھی آ سکتے ہیں، جیسے قرآن مجید میں: "يكاد البرق يخطف أبصارهم" (قریب تھا کہ بجلی ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دے)۔
"يوشك الثمر أن ينضج"(پھل پکنے کو ہے)۔
73 تمارین
74 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۴
اَلتَّمْرِيْنُ (129)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَخَذَتِ الْاَزْهَارُ تَتَفَتَّحُ فِي الْبَسَاتِيْنِ.
(2) اَنْشَاَتِ الطُّيُوْرُ تَتَغَرَّدُ عَلىَ الْاَغْصَانِ.
(3) كَادَ الدَّاءُ يَقْضِيْ عَلىَ الْمَرِيْضِ وَلَكِنَّهُ بَرِيءٌ.
(4) اَجْدَبَتِ الْاَرْضُ فَاَوْشَكَ النَّاس اَن يموتوا جُوعًا.
(5) طَفِقَ التلاميذُ يتنافَسُونَ فِي الْخِطَابَةِ.
(6) اِنْتَهَتِ الْحَفْلَةُ وَجَعَلَ النَّاسُ يَنْتَشِرُوْنَ.
(7) كَادَ الْفَقْرُ اَنْ يَّكُونَ كُفْرًا.
(8) عَسَي الضّيق اَنْ ينفرج وياتي بعده يُسْرٌ.
(9) هَبَّ رجال العلم والدين يؤَدّون ماعليهم.
(10) امطَرَتِ السَّمَاءُ فقام الفلاحون يحرثون الارض.
(11) حان الامتحان فأقبل الطّلبة يجتهدون.
(12) أنشأ المعلم يعظ التلاميذ ويُرشدهم.
اَلتَّمْرِيْنُ (130)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) شام ہوئی اور پرندے اپنے گھونسلوں کی طرف جانے لگے۔
(۲) جب ملزم سے بازپرس کی جانے لگی تو وہ رونے لگا۔
(۳) کل زور کی آندھی آئی قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے۔
(۴) امید ہے کہ احمد ایک باکمال مقرر ہوگا۔
(۵) توقع ہے کہ محمود درجہ اول میں ہوگا۔
(۶) حامد ایک کھلاڑی لڑکا تھا مگر اب وہ محنت کرنے لگا۔
(۷) امتحان ختم ہو گیا اور طلبہ اپنے گھروں کو جانے لگے۔
(۸) جلدی نہ کرو اب صبح ہوا ہی چاہتی ہے۔
(۹) ابر گِھرآیا اب پانی برسا چاہتا ہے۔
(۱۰) گارڈ نے سیٹی دی اور ٹرین حرکت کرنے لگی۔
(۱۱) گاڑی رکی اور مسافروں نے اپنا سامان اتارنا شروع کردیا۔
(۱۲) قریب تھا کہ دشمن شکست کھا جائیں۔
(۱۳) جب اس نے اپنی ناکامی کی خبر سنی تو قریب تھا کہ روپڑے۔
(۱۴) فتح مکہ کے بعد لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے۔
اَلتَّمْرِيْنُ (131)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لَمَّا قَامَ رَسُوْلُ اللهِ صَلىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوْ النَّاسَ اِلىَ اللهِ جَعَلَ الْمُشْرِكُوْنَ يُؤْذُوْنَهُ.
(2) لَمَّا هَبَّ الْمُسْلِمُوْنَ يَنْصُرُوْنَ دِيْنَ اللهِ فَتَحَ اللهُ عَلَيْهِمْ بَرَكَاتِ السَّمَاوَاتِ.
(3) فَلَمَّا تَرَكُوا الدَّعْوَةَ وَالْعَمَلَ بِهَا جَعَلُوْا يَنْحطوْنَ يَوْمًا فَيَومًا.
(4) لَمْ نَكَدْ نصِل اِلىَ المحطة حتَّى صفر القطارُ.
(5) كان طلبة الصف الثاني يصرخون ويَصِيْحُوْنَ.
(6) فما كادوا يرون المعلِّمَ حتى اَصْبحوا ساكتين كأَنَّ علىَ رؤوسهم الطَّيرَ.
(7) مَا كَادَ رَسُولُ اللهِ صَلىَّ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْلُغَ الخَامِسَةَ حَتّٰى تُوُفِّيَتْ اُمُّهُ.
(8) ما كادت الشمسُ تغربُ حتىَّ اَخَذَ الصَّائِمُوْنَ يُفْطِرُوْنَ.
(9) لاَ يكادُ المحافظُ يصفر حتّٰى يَأْخُذَ القطارُ يتحرك.
(10) لا يكادُ محمودٌ يسمعُ بِموت اَبِيْهِ حتىَّ تزهق نفسُهُ.
(11) لا يكاد هَذا الشهر ينتهي حتىَّ تجعل السمومُ تلفح الوجوهَ.
(12) مالهؤلاء القوم لا يكادونَ يفقهونَ حَدِيْثًا.
اَلتَّمْرِيْنُ (132)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا بھی نہ ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا انتقال ہوگیا۔
(۲) جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کی وفات کی خبر سنی تو تلوار نیام سے کھینچ لی۔
(۳) اور کہنے لگے کہ میں نے کسی سے یہ کہتے سنا نہیں کہ ’’آپ ﷺ وفات فرما گئے‘‘ یہاں تک کہ میں اس کی گردن مار دوں گا۔
(۴) ابھی گھنٹی بجنے نہ پائی تھی کہ طلبہ درجوں سے نکلنے لگے۔
(۵) جیسے ہی اس نے اپنی کامیابی کی خبر سنی اس کا چہرہ گلاب سا کھل گیا۔
(۶) امتحان سالانہ ختم ہوا نہیں کہ طلبہ روانگی شروع کر دیں گے۔
(۷) جوں ہی میں گھر سے نکلا زور کی بارش ہونے لگی۔
(۸) اس نے اپنے باپ کے مرنے کی خبر سنی نہیں کہ بے ہوش ہو گیا۔
(۹) یہ مہینہ ختم ہوا نہیں کہ آم پکنے لگیں گے۔
(۱۰) بارش رکی نہیں کہ ہم لوگ چل پڑیں گے۔
(۱۱) ریفری نے سیٹی بجائی نہیں کہ کھلاڑی دوڑنے لگیں گے۔
(۱۲) ہم جیسے ہی مدرسہ پہنچے موسلادھار پانی برسنے لگا۔
75 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۹
التَّمْرِينُ (۱)
بين مَعْنَى كُلِّ فِعْلٍ نَاقِصٍ، وَعَيِّن إِسْمَهُ وَخَبَرَهُ فِيمَا يَأْتِي.
(۱) أَخَذَتِ الْأَشْجَارُ تُورِقُ
(۲) أَوْشَكَ الصَّيْفُ أَن يَنْقَضِيَ
(۳) عَسَى الرَّخَاءُ أَنْ يَدُومَ
(۴) تَكَادُالْحَرْبُ تَضَعُ أَوْزَارَهَا
(۵) اِخْلَو لَقَتِ الْحُمَّى أَنْ تُفَارِقِ الْمَرِيضَ
(۶) طَفِقَ الْغِلْمَانُ يَتَنَافَسُونَ فِي السَّبَاحَةِ
التَّمْرِينُ (۲)
أدْخِلۡ عَلَى الْجُمَلِ الآتِيَةِ أَفْعَالَ الْمُقَارَبَةِ الْمَاضِيَةَ، وَكَذَلِكَ الْمُضَارِعَةَ مِمَّا وَرَدَ لَهُ مُضَارِعٌ مِنْهَا وَاسْتَوْفِ جَمِيعَ هَذِهِ الْأَفْعَالِ.
(۱) الشَّمْسُ تُشْرِقُ
(۲) الزَّهۡرُ يَذْبُل
(۳) الصُّبْحُ يَطْلُعُ
(۴) الزَّادُ يَنفَدُ
(۵) النَّاسُ يَمُوتُونَ مِنَ الْبَرَدِ
(۶) الزَّرْعُ يَيْبَسُ مِنَ الْعَطْشِ
(۷) الدَّاءُ يَقْضِي عَلَى الْمَرِيضِ
(۸) الرَّخَاءُ يَعْمُّ الْبِلادَ
التمرين (۳)
ادْخِل أَفْعَالَ الشُّرُوعِ عَلَى الْجُمَلِ الآتِيَةِ مَعَ اسْتِيْعَابِ هَذِهِ الْأَفْعَالِ.
(۱) الْجَاهِلُ يُسِيءُ إِلَى نَفْسِهِ
(۲) الْعُمَّالُ يَتَعَبُونَ
(۳) الْوَادِي يُخْصِبُ
(۴) الرَّجُلانِ يَقْتَتِلانِ
(۵) الظَّالِمُ يَنْدَمُ
(۶) الْجُنُودُ يَذُودُونَ عَنِ الْوَطَنِ
(۷) عَلِيٌّ يَدْعُو إِلَى الْخَيْرِ
(۸) الْأَغْنِيَاءُ يُوَاسُونَ الْفُقَرَاءَ
(۹) الْفَلَّاحُ يَحْصُدُ الْقَمْحَ
(١٠) الصَّنَّاعُ يَتَنَافَسُونَ فِي الْعَمَلِ
التمرين (۴)
اتممِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ الْخَبَرِ الْمَحْذُوفِ فِي الْمَكَانِ الْخَالِي وَبَيِّنۡ حُكْمَهُ مِنْ حَيْثُ الْإِقْتِرَانِ بِأَنۡ وَالتَّجَرُّدُ مِنْهَا.
(۱) أَوْ شَكَتِ السُّحُبُ ........
(۲) أَخَذَتِ الْمَدِينَةُ ..........
(۳) اخْلَو لَقَ السَّلام .........
(۴) أَنْشَأَ الصُّنَّاعُ ........
(۵) حَرَتِ الْمَوَدَّةُ .........
(۶) طَفِقَتِ الْفَتَيَاتُ ......
(۷) يكاد الظلم ...........
(۸) هَبَّ رِجَالُ الْعِلْمِ ...........
(۹) عَسَى الْخِصبُ ...........
(۱۰) جَعَلَ الْمُوسِرُونَ ...........
(۱۱) قَامَ الْمُهَنۡدِسُونَ ...........
(۱۲) كَرَبَتِ الْعِلَّةُ ..........
تمرين ( ٥ )
۱۔ هات مثالين لفعلين ناقصين يقترن المضاع في خبرهما بأن وجوباً
۲۔ هات مثالين لفعلين ناقصين يتجرد المضارع في خبرهما من أن وجوباً
التَّمْرِينُ (۶)
ضَع كُلَّ فِعْلٍ مِنْ أَفْعَال الْمُقَارَبَةِ وَالرَّجَاءِ وَالشُّرُوعِ فِي جُمْلَةٍ تَامةٍ.
التَّمْرِين(۷)
اذْكُرُ مَا يَأْتِي مِنْهُ مُضَارِعُ مِنْ أَفْعَالِ الْمُقَارَبَةِ وَالشُّرُوعِ، ثُمَّ اسْتَعْمِلۡ كُلَّ مُضَارِعٍ فِي جُمْلَةٍ تامةٍ .
التَّمْرِينَ (۸)
اسْتعمل كُلَّ فِعْلٍ مِنَ الْأَفْعَالِ الْآتِيَةِ فِي جُملَتَيْنِ بِحَيْث يَكُونُ فِي إِحْدَاهُمَا تاماً وَفِي الثَّانِيَةِ نَاقِصًا وَبَيِّنَ مَعْنَاهُ فِي الْحَالَيْنِ:
قَامَ ، أَخَذَ ، جَعَلَ ، هب ، انشا
تَمرِين فِي الْأَعْرَابِ(۹)
(۱) نموذج
(۱) كَادَ الثَّمَرُ يَطِيبُ .
كاد۔۔۔۔۔۔۔ فعل مَاض نَاقِص مَبْنِي عَلَى الْفَتْحِ.
الثَّمَرُ۔۔۔۔۔۔۔ اسْمُ كَادَ مَرْفُوعُ بِالضَّمَّةِ.
يَطِيبُ۔۔۔۔۔ فِعْلٌ مُضَارِعُ وَالْفَاعِلُ ضَمِيرٌ مُسْتَتِرَ، وَالْجُمْلَةُ خَبَرُ كَادَ.
(۲) عَسَى الصَّفَاءُ أَنْ يَدُومَ.
عسى۔۔۔۔۔۔ فِعَلَ مَاضٍ نَاقِصٌ مَبْنِي عَلَى الْفَتْحِ
الصَّفَاءُ۔۔۔۔۔۔ اسْمُهَا مَرْفُوعٌ بِالضَّمَّةِ.
ان۔۔۔۔۔ حرفٌ مَصْدَرِى وَنَصۡبٌ مَبْنِي عَلَى السُّكُون.
يَدُومَ۔۔۔۔۔۔ فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَنْصُوبٌ بِأَنْ وَالْفَاعِلُ ضَمِيرٌ مُسْتَتِرٌ، وَالْمَصْدَرُ الْمُؤوَّلُ مِنْ أَنْ وَالْفِعْل خَبَرُ عَسَى.
(ب) أعرب الجُمَلَ الآتية:
۱۔ اخذت الازھار تتفتح
۲۔ اخلولق العملان ان یتعبا
۳۔ یوشک الطفل ان یتکلم
التمرین (۱۰)
اشرح البیت الآتی واعربہ:
اذاانصرفت نفسی عن الشّیءِ لم تکد
الیہ بوجہ اخر الدھر تقبل
76 تیسیر النحو۔ سبق:۹
أسئلۃ
۱۔ ما هو عمل أفعال المقاربة ؟
۲۔كم قسماً لأفعال المقاربة ؟
۳۔ماذا يشترط في خبر هذه الأفعال ؟
٤- هل يتوسط خبر هذه الأفعال بينها وبين اسمها ؟
۵۔ متى يقترن خبر هذه الأفعال بـ "أن وجوبا، وكثيرا، وقليلا، ومتى يمتنع اقترانه بها؟
٦- هل تتصرف هذه الأفعال ؟
تمرین
بين في الجمل الآتية ما يقترن فيه خبر أفعال المقاربة بـ"أن" وجوبا، وكثيرا، وقليلا
وما يمتنع فيه اقترانه بها.
كاد النصريتم، أوشك الصيف أن ينتهي ، كرب العلم ينتشر في البلاد، عسى الله أن يأتي بالفرج، اخلو لقت سحب الصيف أن تنكشف حرى التلاميذ أن ينجحواء طفق الغريق يستغيث، جعل الخطيب يعظ ببليغ كلامه، أخذ الثوب يبلى ، كادت الشمس تغيب، تكاد السماء تمطر، يوشك الثمر أن ينضج.
77 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
78 افعال قلوب
افعالِ قلوب وہ افعال ہیں جو دل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں اور کسی عمل، کیفیت یا حالت کے ادراک، یقین، گمان، یا احساس کو بیان کرتے ہیں۔ ان کا تعلق زیادہ تر دل اور ذہن کے افعال سے ہوتا ہے، جیسے سمجھنا، جاننا، ماننا، یقین کرنا، گمان کرنا وغیرہ۔
افعالِ قلوب کی اقسام
افعالِ قلوب کو دو بڑی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:
افعالِ یقین: یہ وہ افعال ہیں جو کسی بات کے یقین یا علم کو ظاہر کرتے ہیں۔
مثالیں:
علم (جاننا) , رأی (دیکھنا یا سمجھنا) , وجد (پانا) , عرف (واقف ہونا)
جملے میں استعمال: "علمتُ الطالبَ مجتہدًا."(میں نے طالب علم کو محنتی جانا۔)
افعالِ شک : یہ وہ افعال ہیں جو کسی بات کے گمان، شک یا ظن کو ظاہر کرتے ہیں۔
مثالیں:
ظن (گمان کرنا) , حسب (سمجھنا) , خال (خیال کرنا)
جملے میں استعمال: "ظننتُ الأمرَ سهلًا."(میں نے معاملہ آسان سمجھا۔)
79 شرح مائۃ عامل ۔ سبق:۱۳
أفعال القلوب، وإنما سميت بها؛ لأن صدورها من القلب ولا دخل فيه للجوارح، وتسمى أفعال الشك واليقين أيضا؛ لأن بعضها للشك وبعضها لليقين، وهي تدخل على المبتدأ والخبر وتنصبهما معا بأن يكونا مفعولين لها، وهي سبعة ثلاثة منها للشك، وثلاثة منها لليقين، وواحد منها مشترك بينهما،
أما الثلاثة الأول فحسبت وظننت وخلت" مثل: حسبت زيدا فاضلا وظننت بكرا نائما، وخلت خالدا قائما، وظننت" إذا كان من الظنة بمعنى التهمة لم يقتض المفعول الثاني، مثل: ظننت زيدا أي اتهمته.
وأما الثلاثة الثانية في "علمت ورأيت و وجدت" مثل: علمت زيداً أمينا، ورأيت عمرا فاضلا ، ووجدت البيت رهينا، و "علمت" قد يجيء بمعنى عرفت نحو: علمت زيدا أي عرفته، و"رأيت" قد يكون بمعنى "أبصرت" كقوله تعالى: فَانظُرْ مَاذَا تَرَى و "وجدت" قد يكون بمعنى "أصبت" مثل: وجدت (الصافات : ۱۰۲) الضالة أي أصبتها،
فإن كل واحد من هذه المعاني لا يقتضي إلا متعلقا واحدا، فلا يتعدى إلا إلى مفعول واحد، والواحد المشترك بينهما هو "زعمت" مثل: زعمت الله غفورا، فهو لليقين، وزعمت الشيطان شكورا، فهو للشك، وفي هذه الأفعال لا يجوز الاقتصار على أحد المفعولين؛ لأنهما كاسم واحد؛ لأن مضمونهما معا مفعول به في الحقيقة، وهو مصدر المفعول الثاني المضاف إلى المفعول الأول؛ إذ معنى علمت زيدا فاضلا علمت فضل زيد، فلو حذف أحدهما كان كحذف بعض أجزاء الكلمة الواحدة، وإذا توسطت هذه الأفعال بين مفعوليها أو تأخرت عنهما جاز إبطال عملها مثل: زيد ظننت قائم، وزيدا ظننت قائما، وزيد قائم ظننت وزيدا قائما ظننت، فإعمالها وإبطالها حينئذ متساويان، وقال بعضهم: إن إعمالها أولى على تقدير التوسط وإبطالها أولى على تقدير التأخر. وإذا زيدت الهمزة في أول علمت و رأيت صارا متعديين إلى ثلاثة مفاعيل، نحو: أعلمت زيدا عمرا فاضلا، وأريت عمرا خالدا عالما، فـ "زيد" فيهما بسبب الهمزة مفعول آخر؛ لأن الهمزة للتصيير، فمعنى المثال الأول: حملت زيدا على أن يعلم عمرا فاضلا ومعنى المثال الثاني: حملت عمرا على أن يعلم خالدا عالما، وذلك مخصوص بهذين الفعلين دون أخواتهما، وهذا مسموع من العرب خلافا للأخفش، فإنه أجاز زيادة الهمزة في جميع هذه الأفعال قياسا على أعلمت" و "أريت" نحو أظننت و أحسبت و أخلت و أوجدت و أزعمت زيدا عمرا فاضلا. وأنبأ و نبأ وأخبر وخبر" أيضاً تتعدى إلى ثلاثة مفاعيل.
اعلم أنه لا يجوز حذف المفعول الأول من المفاعيل الثلاثة، لكن يجوز حذف المفعولين الأخيرين معا، ولا يجوز حذف أحدهما بدون الأخر كما مر.
أفعال القلوب، جو دل سے نکلتی ہیں اور جن میں اعضائے جسمانی کی شمولیت نہیں ہوتی۔ یہ افعال شک و یقین کو ظاہر کرتی ہیں، اور یہ مبتدأ اور خبر پر اثر انداز ہوتی ہیں، دونوں کو نصب دیتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ دونوں مفعول بناتے ہیں، اور یہ سب سات افعال ہیں: تین شک کے لئے، تین یقین کے لئے، اور ایک دونوں کے لئے مشترک ہے۔
۱. شک کے افعال
1. حسبت: مثال: "حسبت زيدا فاضلا" (میں نے زید کو فاضل سمجھا)- توضیح: "حسبت" کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی چیز کو کسی مخصوص حالت یا خصوصیت کے ساتھ سمجھنا۔
2. ظننت: مثال: "ظننت بكرا نائما" (میں نے بکر کو سوتا سمجھا)- توضیح: "ظننت" کے ذریعے کسی چیز کے بارے میں شکی خیال ظاہر کیا جاتا ہے۔ اگر "ظننت" تہمہت کے معنوں میں ہو تو دوسرا مفعول لازم نہیں ہوتا، جیسے "ظننت زيدا" (میں نے زید پر الزام لگایا)۔
3. خلت: مثال: "خلت خالدا قائما" (میں نے خالد کو کھڑا سمجھا)- توضیح: "خلت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو ایک خاص حالت میں سمجھنا، جیسا کہ "حسبت" اور "ظننت"۔
۲. یقین کے افعال
1. علمت: مثال: "علمت زيداً أميناً" (میں نے زید کو امین جانا) - توضیح: "علمت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو جاننا یا پہچاننا۔ یہ کبھی "معرفت" کے معنوں میں بھی آتا ہے، جیسے "علمت زيدا" (میں نے زید کو پہچانا)۔
2. رأيت: مثال: "رأيت عمرا فاضلا" (میں نے عمرو کو فاضل دیکھا)- توضیح: "رأيت" کا مطلب ہوتا ہے کہ کسی چیز کو بصری طور پر دیکھنا یا ملاحظہ کرنا۔
3. وجدت: مثال: "وجدت البيت رهينا" (میں نے گھر کو رہن میں پایا)- توضیح: "وجدت" کا مطلب ہے کہ کسی چیز کو ملنا یا پانا۔
۳. مشترک فعل
زعمت: مثال: "زعمت الله غفورا" (میں نے اللہ کو غفور سمجھا)- توضیح: "زعمت" یقین اور شک دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔
یاد دہانی:
- ان افعال کا مفعول اول اور مفعول دوم دونوں کی موجودگی ضروری ہے کیونکہ دونوں مل کر اصل مفعول بنتے ہیں، مثلاً "علمت زيدا فاضلا" کا مطلب ہے "علمت فضل زيد" (میں نے زید کے فضل کو جانا)۔
- اگر ان افعال کو مفعولوں کے درمیان یا بعد میں رکھا جائے تو ان کا کام ہونا متنازع ہوسکتا ہے، جیسے "زيد ظننت قائما" یا "زيدا ظننت قائما"۔
- علمت اور رأيت میں اگر ہمزہ لگائی جائے تو یہ تین مفاعیل تک پھیل سکتے ہیں: "أعلمت زيدا عمرا فاضلا" اور "أريت عمرا خالدا عالما"۔
- أنبأ، نبأ، أخبر، اور خبر بھی تین مفاعیل تک پھیل سکتے ہیں۔
نوٹ: حذف مفعول اول، اگر تین مفاعیل ہوں، جائز نہیں، لیکن دو مفعولوں کو حذف کرنا ممکن ہے۔
80 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
81 لاسیما
"لا سیما" عربی زبان کا ایک مشہور مرکب لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے: "خاص طور پر"، "بالخصوص" یا "خصوصاً"۔ یہ لفظ کسی خاص چیز کو نمایاں کرنے یا عام بات میں کسی مخصوص پہلو پر زور دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
"لا سیما" کا استعمال: جملے میں بطور استثنا: "لا سیما" عام طور پر جملے میں کسی مخصوص چیز کو نمایاں کرنے کے لیے آتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس چیز کی خاص اہمیت ہے۔
مثال: "احترم العلماء، لا سیما المجتهدین." (علما کا احترام کرو، خاص طور پر محنتی علما کا۔)
بطور زور یا تخصیص: یہ کسی عمومی بات میں کسی ایک چیز پر زور دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ عام طور پر یہ ایسے جملوں میں آتا ہے جہاں پہلے عمومی ذکر کیا گیا ہو اور پھر خاص چیز کو نمایاں کیا جائے۔
82 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۳
لا سیما
يُؤْتَى بِتَركِيبِ لاسِيَّمَا لِتَفْضِيلِ مَا بَعْدَهَا عَلَىٰ مَا قَبْلَهَا فِي الحكم
الْاِسْمُ الْوَاقِعُ بَعْدَ لَا سِيَّمَا إِنْ كَانَ مَعْرِفَةٌ جَازَ فِيهِ الرَّفْعُ وَالْجَرُّ لَيْسَ غَيْرُ، وَإِنْ كَانَ نَكِرَةً جَازَ فِيْهِ أَوْجُهُ الْإِعْرَابِ الثَّلَاثَةِ.
لا سیما کا مرکب کلمہ اس کے مابعد کی ماقبل پر فضیلت کو ظاہر کرنے کے حکم میں لایا جاتا ہے۔
وہ اسم جو کہ لا سیما کے بعد واقع ہو اگر وہ معرفہ ہو تو اس میں صرف رفع اور جر ہی جائز ہے اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ، اور اگر وہ نکرہ ہو تو اس میں تینوں اعراب کے طریقے جائز ہیں۔
الأمثلة
(1) أُحِبُّ رِجال الأدب ولا سيما الشعراءُ أو الشعراءِ .
(۲) أُعْجَبْتُ بالجَيْشِ وَلَا سِما قَائِدُهُ أو قَائِدِهِ .
(۳) سَاعِدِ النَّاسَ وَلا سيما الفُقَرَاءُ أو الفقراءِ
( ٤ ) يُكافأُ المُجدون ولا سيما مُجِدٌ خُلُقُه كَرِيمٌ أَو مُجدِّ أَوْ مُجدا
( ٥ ) أُحِبُّ سُكْنَى الْقُرَى ولا سيما قَرْيَةٌ عَلَى النيل أو قريةٍ أو قريةً .
( ٦ ) أَجَادَ الخُطَبَاءُ ولا سيما خطيبٌ حديث السن أو خطيبٍ أو خطيباً
83 تمارین
84 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۳
التمرين(۱)
اقراِ الامْثِلَةَ الْآتِيَةَ، وَبَيِّنۡ فِي الْإِسْمِ الَّذِي بَعْدَ (لَا سِيَّمَا) مَا يَجُوزُ مِنْ أَوْجُهِ الْإِعْرَابِ، مَعَ تَعْلِيلِ كُلِّ وَجْهٍ:
(۱) أحِبُّ تَسَلُّقَ الْجِبَالِ وَلَا سِيَّمَا الشَّاهِقَةُ.
(۲) سَيُعَاقَبُ الْمُذْنِبُونَ وَلَا سِيَّمَا مُذْنِبٌ لَهُ سَابَقَۃٌ.
(۳) يُنْفِقُ الْعَاقِلُ مَا لَهُ فِي وُجُوهِ الْخَيْرِ وَلَا سِيَّمَا مُسَاعَدَةُ الْفُقَرَاءِ.
(۴) أَعْجَبَنِي الْقَوْمُ وَلَا سِيَّمَا أَمِير بَيْنِهُمْ.
(۵) أَحْسِنۡ إِلَى الْفُقَرَاءِ وَلَا سِيَّمَا فَقِيرٌ عَاجِزٌ.
(۲) يُعْجِبُنِي الْعُمَّالُ الْمُجِدُّونَ وَلَا سِيَّمَا عَامِلٌ مُبَكِّر.
(۷) رَبِحَ تِجَارُ الْمَدِينَةِ وَلَا سِيَّمَا تُجَّارُ الْقُطْنِ.
(۸) يَضُرُّ السَّهْر كُلّ طِفْلٍ وَلَا سِيَّمَا طِفْلٌ جِسْمُهُ ضَعِيفٌ.
التَّمُرِينُ (۲)
ضَع فِي الْأَمَاكِنِ الْخَالِيَةِ جُمَلاً مُنَاسَبَةً، وَبَيِّنَ أَوْجَهَ الْإِعْرَابِ الْجَائِزَةَ فِي كُلِّ اسْمٍ يَأْتِي بَعْدَ (لاسِيَّمَا) .
(۱) ..... وَلَا سِيَّما شرفاته
(۲) .. ولاسيما شجر الكافور
(۳) ........ولاسيما مزاح يؤدى إلى خصام
(۴) .... ولا سيما صديق وفي
(۵) .......... ولا سيما أخوك
(۶) ......... ولا سيما العلماء
(۷) ........... ولا سيما غَنِيّ يواسى بماله الفقراء
(۸) .... ولا سيما كتب الأدب
التَّمْرِينُ (۳)
ضَع إِسْماً مُنَاسِباً بَعْدَ (لاسِيَّمَا) فِي كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ، وَبَيِّنَ الْوُجُوهَ الْمُمْكِنَةَ فِي ضَبْطِ آخِرِهِ.
(۱) أثاث المنزل ثمين ولاسيما .۔۔۔۔۔۔
(۲) مناظر الريف جميلة ولاسيما .۔۔۔۔۔۔۔۔
(۳) يحب العقلاء الهدوء ولاسيما .۔۔۔۔۔۔
(۴) التمرينات البدنية مفيدة ولاسيما .۔۔۔۔۔۔
(۵) الفراغ يُفسد العقول ولاسيما .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۶) كثرة الأكل تضر الأجسام ولاسيما .۔۔۔۔۔۔۔
(۷) يجب المعلم تلاميذہ ولاسيما .۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۸) أجاد التلاميذ الإنشاء ولاسيما .۔۔۔۔۔۔۔۔۔
التمرين (۴)
(۱) كَوِّن ثَلَاث جُمَلٍ يَكُونَ الاِسْمُ بَعْدَ لاسِيَّمَا فِي كُلٍّ مِنْهَا مَعْرِفَةً وَبَيِّنِ الْأَوْجُهَ الْمُمْكِنَةَ فِي إِعْرَابِهِ.
(۲) کون ثلاث جمل یکون الاسم بعد "لاسیما" فی کل منھا نکرۃ، و بین ما یجوز فی اعرابہ۔
التَّمْرِينُ (۵)
كَوِّن تِسْعَ جُمَلٍ يَكُونُ الْإِسْمُ الْوَاقِعُ بَعْدَ لاَسِيَّمَا فِي الثَّلَاثِ الْأُولَى مِنْهَا مُثَنَّى، وَفِي الثَّلَاثِ الثَّانِيَةِ جَمْعَ مُذَكَّرٍ سَالِماً، وَفِي الثَّلَاثِ الْاَخِيرَةِ اسْمَ إِشَارَةٍ.
التَّمْرِينُ (۶)
عَبِّر عَنِ الْمَعَانِي فِي التَّرَاكِيبِ الْآتِيَةِ يَجُمَلٍ تَشْتَمِلُ عَلَى "لاسِيَّمَا".
(۱) الْفَاكِهَةُ غِذَاءٌ مُفِيدٌ، وَأَفْضَلُ أَنْوَاعِهَا الْبُرْتَقَالُ.
(۲) زُرْتُ حَدِيقَةً فَرَاعَنِي كُلُّ شَيْءٍ فِيهَا، وَإِنْ أَنسَ لَا أَنْسَ حُسْنَ الْوُرُودِ الْمُخْتَلِفَةِ الْأَلْوَانِ.
(۳) لِي شَغَفٌ عَظِيمٌ بِالْفنونِ الْجَمِيلَةِ وَبِخَاصَّةِ التَّصْوِير.
(۴) أَحْسِنُ إِلَى النَّاسِ وَ أَبْدَأۡ بِأَهْلِي وَجِيرَانِي
تَمُرِينَ فِي الْأَعْرَاب (۷)
(۱) نموذج ۔
الْعُلَمَاءُ مُحْتَرَمُونَ وَلَا سِيَّمَا الْعَامِلِینَ.
الْعُلَمَاءُ ..... مُبْتَدَا مَرْفُوعٌ.
مُحْتَرَمُونَ ... خَبَرُ الْمُبْتَدَاِ مَرْفُوعٌ بِالْوَاوِ.
وَلَا سِيَّمَا .... اَلْوَاوُ اعْتِرَاضِيَة، وَلَا نَافِيَةٌ لِلْجِنْسِ، وَ سِيَّ اِسْمُهَا مَنْصُوبٌ بِالْفَتْحَةِ الظَّاهِرَةِ، وَهُوَ مُضَافٌ، وَمَا زَائِدَةٌ.
الْعَامِلُونَ۔۔۔۔۔۔۔ مُضَافٌ إِلَيْهِ مَجْرُورٌ بِالْيَاءِ لِأَنَّهُ جَمْعُ مُذَكَّرٍ سَالِمٌ ...
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ.
(۱) اسْتَشِرِ الْأَصْدِقَاءَ وَلَا سِيَّمَا صَدِيقاً عَاقِلاً.
(۲) سَازُورُ آثَارَ الْقَاهِرَةِ وَلَا سِيَّمَا جَامِعُ عَمْرو.
(۳) حَفِظَ التَّلَامِيذُ دُرُوسَهُمْ وَلَا سِيَّمَا أَخِيكَ
85 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
86 جملہ فعلیہ
:جملہ فعلیہ کی تعریف
جملہ فعلیہ وہ جملہ ہوتا ہے جس کا آغاز فعل سے ہوتا ہے۔ یعنی جملے کا پہلا لفظ فعل ہوتا ہے، اور اس کے بعد فاعل (جو فعل کو انجام دینے والا ہوتا ہے) آتا ہے۔ جملہ فعلیہ ایک مکمل معنی بیان کرتا ہے اور کسی کام یا واقعے کے ہونے کی خبر دیتا ہے۔
:جملہ فعلیہ کی ساخت
:فعل
یہ جملے کا وہ حصہ ہوتا ہے جو کسی عمل یا حالت کو ظاہر کرتا ہے۔ فعل سے مراد کسی کام کا ہونا، کسی عمل کا انجام پانا، یا کسی حالت کا بیان کرنا ہوتا ہے۔
(Subject):فاعل
فعل کو انجام دینے والے کو فاعل کہتے ہیں۔ فاعل وہ شخص، شے، یا چیز ہے جو جملے کے فعل کو انجام دے رہا ہو۔ فاعل ہمیشہ فعل کے بعد آتا ہے۔
:مثالیں
ذهبَ الطالبُ إلى المدرسة : (طالب علم اسکول گیا)
فعل: ذهبَ (گیا) فاعل: الطالبُ (طالب علم)
كتبت الفتاةُ الرسالة : (لڑکی نے خط لکھا)
فعل: كتبت (لکھا) فاعل: الفتاة (لڑکی)
جملہ فعلیہ میں بنیادی طور پر فعل اور فاعل شامل ہوتے ہیں، اور اس کے ذریعے کسی کام یا عمل کے وقوع کا بیان کیا جاتا ہے۔ یہ جملے مختلف قسم کے افعال کے ساتھ استعمال ہوتے ہیں اور ان میں مفعول بہ بھی شامل ہو سکتا ہے تاکہ کسی عمل کا مقصد ظاہر ہو۔
87 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۹
كُلُّ جُمْلَةٍ تَتَرَكَّبُ مِنْ فِعْلٍ وفَاعِلٍ تُسَمَّى جُمْلَةً فِعْلِيَّةً.
ہر وہ جملہ جو فعل اور فاعل سے بنا ہو جملہ فعلیہ کہلاتا ہے
الامثلة
- لَمَعَ البَرْقُ
- عَوَى الذِّئْبُ
- يَسْقُطُ الثَّلْجُ
- يَشْتَدُّ البَرْدُ
- أَقْطِفُ الوَرْدَةَ
- خُذِ الكِتَابَ
88 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۷
جمله فعلیه : جیسے قامَ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہے) یا يَقُومُ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) یہ سب جملہ فعلیہ ہیں کیونکہ ان کا پہلا جز فعل ہے۔ جملہ فعلیہ اس مرکب تام (جملہ مفیدہ) کو کہتے ہیں جس کی ابتداء فعل سے ہو جیسے جَاءَ الْأَمِيرُ، يَأْكُلُ الْوَلَدُ الْخُبْرَ
(۱) جملہ فعلیہ فعل ، فاعل اور مفعول سے ملکر بنتا ہے۔
(۲) فاعل اور مفعول دونوں ہی اسم ہوا کرتے ہیں۔
(۳) فاعل ہمیشہ مرفوع اور مفعول ہمیشہ منصوب ہوا کرتا ہے۔
(۴) جملہ فعلیہ میں پہلے فعل پھر فاعل اور سب سے آخر میں مفعول لایا جاتا ہے۔ لیکن مفعول کبھی فاعل سے پہلے اور ضرورۃ فعل سے پہلے بھی آتا ہے البتہ فاعل اپنے فعل سے پہلے نہیں آ تا:-
فاعل کے اعتبار سے فعل کی تذکیر و تانیث اور وحدت وجمع کا قاعدہ:
(۵) فعل کا فاعل جب کوئی اسم ظاہر ہو (یعنی ضمیر نہ ہو ) تو ہر حال میں فعل واحد ہی آئے گا، خواہ فاعل واحد ہو یا تثنیہ ہو یا جمع ہو جیسے
جَاءَ رَجُلٌ، جَاءَ رَجُلَانِ،جَاءُ رِجَالٌ،
جَاءَتْ امْرَأَةٌ، جَاءَتْ امْرَأَنَانِ، جَاءَتْ نِسَاءُ
(۶) جب فعل کا فاعل کوئی اسم ظاہر نہ ہو بلکہ فاعل ضمیر ہی ہو تو پھر فعل اپنے ضمیر کے مطابق ہی آئے گا یعنی واحد کے لئے واحد اورتثنیه اور جمع کے لئےتثنیه و جمع جیسے
الْوَلَدُ قَامَ ، الْوَلَدَانِ قَامَا ، الْأَوۡلَادُ قَامُوا -
فائدہ: قام ، قَامَا، قَامُوا تینوں میں علی الترتیب واحد تثنیہ اور جمع کی ضمیر ہیں اور یہی ان افعال کے فاعل ہیں، رہے، الوَلَدُ الوَلَدَانِ اور الاولاد تو یہ سب مبتداء ہیں نہ کہ فاعل
فعل کی تذکیر و تانیث
(۷) افعال کی تذکیر و تا نیث میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر فاعل مذکر ہو تو فعل بھی مذکر لایا جاتا ہے اور اگر فاعل مونث ہو تو فعل بھی مؤنث لانا چاہئے جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں رجل کے لئے جاء فعل مذکر اورامرأۃ کے لئے جاءت فعل مؤنث لایا گیا ہے۔
(۸) فاعل اگر کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو فعل واحد مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر عاقل کی جمع واحد مونث ہی کے حکم میں ہوتی ہے۔ اس لئے مبتدا یا موصوف جب کسی غیر عاقل کی جمع ہوں تو خبر اور صفت عموماً واحد مونث ہی لائی جاتی ہے۔
89 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۲) سبق:۱
(ب) : - جملہ فعلیہ ، ایسا جملہ جو فعل سے شروع ہوتا ہے ۔ جیسے خَرَجَ بِلال . ( بلال نکلا )
90 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد: ۳) سبق:۱۰
جملہ فعلیہ
جملہ فعلیہ کے آغاز کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوں گی :
۱۔ فعل تام، جیسے: طَلَعَتِ الشَّمْسُ : سورج طلوع ہوا۔
فعل تام اس فعل کو کہتے ہیں جس کے بعد فاعل آئے، جیسے: جَلَس، نَامَ، دَخَلَ، خَرَجَ وغیرہ۔
۲۔ فعل ناقص، جیسے: كَانَ الْجَرُّ بَارِدًا:موسم خنک تھا۔
فعل ناقص اس فعل کو کہتے ہیں جس کے بعد اسم اور خبر آئے، جیسے: صَارَ الْمَاءُ ثلْجا پانی برف بن گیا -
٣۔ طَفِقَ بِلال يَكْتُبُ بلال لکھنے لگا۔ طفق فعل ناقص ہے، اس جملہ میں بلال اس کا اسم ہے، اور جملہ: يَكْتُبُ اس کی خبر ، خبر میں فعل لازما مضارع ہوگا ، أَخَذَ اور جَعَلَ افعال بھی اسی طرح انہیں معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے:
أَخَذَ الْمُدَرِّسُ يَشْرَحُ الدَّرْسَ:استاذ سبق سمجھانے لگے۔
جَعَلْتُ آكُلُ:میں کھانے لگا ( میں نے کھانا شروع کیا)۔
یہاں ضمیر«ت» اس کا اسم ہے اور جملہ اکل خبر ہے۔
91 تمارین
92 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۷
اَلتَّمْرِيْنُ (41)
(جملہ فعلیہ کی مشق)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَسْفَرَ الصُّبْحُ
(2) صَاحَ الدِّيْكُ الصَّائِحُ
(3) اسْتَيْقَظَتْ فَاطِمَةُ الصَّغِيْرَةُ
(4) هَبَّتِ الرِّيْحُ الشَّدِيْدَةُ
(5) نَزَلَ الْمَطَرُ الْغَزِيْرُ
(6) حَفِظَ التِّلْمِيْذُ الدَّرْسَ
(7) قَطَفَ مَحْمُوْدٌ زَهْرَةً جَمِيْلَةً
(8) شَرِبَتْ فَاطِمَةُ الْمَاءَ الْبَارِدَةَ
(9) اَكَلَ الْوَلَدُ الْخُبْزَ الْبَائِتَ
(10) اشْتَرَى مَحْمُودُ الصَّغِيْرُ قَلَمًا ثَمِيْنًا
(11) صَادَ خَالِدُ التِّلَمِيْذُ ظَبْيًا سَمِيْنًا
(12) خَلَقَ اللهُ الْاَرْضَ وَالسَّمَاوَاتِ الْعُلىَ
اَلتَّمْرِيْنُ (42)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) اللہ تعالی نے انبیاء اور رسول بھیجے
(۲) ناشکر گزار بندہ نے خدا کی نافرمانی کی
(۳) فرمان بردار لڑکے نے باپ کا کہامانا
(۴) رشاد طالب علم نے سبق پڑھا
(۵) سلیم خادم نے دروازہ کھولا
(۶) بہادر سپاہی نے شیر کو مارڈالا
(۷) محنتی طالب علم امتحان میں کامیاب ہوا
(۸) تمہاری خادمہ نے مزیدار کھانا پکایا
(۹) معزز مہمانوں نے کھانا کھایا
(۱۰) شریف میزبان نے شکریہ ادا کیا
(۱۱) توانا مزدور نے ایک کنواں کھودا
(۱۲) ماہر بڑھئی نے ایک عمدہ کرسی بنائی۔
اَلتَّمْرِيْنُ (43)
(فاعل جب کہ اسم ظاہر ہو)
(ابھی درس نمبر ۷ میں قاعدہ نمبر ۵ کے تحت پڑھ چکے ہو کہ فاعل جب اسم ظاہر ہو تو فعل ہر حال میں واحد ہی آئے گا البتہ تذکیر و تانیث میں فعل اپنے فاعل کے مطابق رہے گا جیسا کہ تمرین ۴۱ ،۴۲ میں گزرا، دیکھو قاعدہ نمبر ۶، درس نمبر ۷)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) انْسَلَخَ شَهْرُ شَعْبَانَ
(2) اَبْصَرَ رَجُلَانِ الْهِلاَلَ
(3) صَامَ الوِلدَانُ الصِّغَارُ الْيَوْمَ
(4) ذَهَبَ الظَّمَاُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوْقُ وَثَبَتَ الْاَجْرُ (اِنْ شَاءَ اللهِ)
(5) صَلَّى الْمُسْلِمُوْنَ صَلاَةَ الْعِيْدِ
(6) سَمِعَتِ الْاَخَوَاتُ خُطْبَةَ الْاِمَامِ
(7) اَطْعَمَ الْاَغْنِيَاءُ الْمَسَاكِيْنَ الْبَائِسِيْنَ
(8) تَفَتَّحَتِ الْوَرْدَةُ الْحَمْرَاءُ فِي الْحَدِيْقَةِ
(9) جَمَعَتِ الْبِنْتَانِ الْاَزْهَارَ الْجَمِيْلَةَ
(10) كَنَسَتِ الْخَادِمَةُ صَحْنَ الدَّارِ
(11) فَازَ الصَّدِيْقَانِ فِي سَعْيِهِمَا
(12) نَالَ الْمُجِدُّوْنَ الْجَوَائِزَ الثَّمِيْنَةَ
(13) اَفْسَدَتِ الْكُتُبُ الْمَاجِنَةُ اَخْلَاقَ النَّاشِئِيْنَ
(14) سَمِعَتِ الآذَانُ وَرَاَتِ الْعُيُونُ وَعَقَلَتِ الْقُلُوبُ
اَلتَّمْرِيْنُ (44)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) سورج غروب ہوا اور چاند نکلا
(۲) جامع مسجد کے مؤذن نے اذان دی
(۳) روزہ دار مسلمانوں نے افطار کیا
(۴) بیمار عائشہ نے ٹھنڈے پانی سے وضو کیا
(۵) دونوں بہنوں نے مغرب کی نماز پڑھی
(۶) ان لڑکیوں نے رمضان کے روزے رکھے
(۷) شمع روشن ہوئی اور تاریکی دور ہوگئی
(۸) کلکتہ کے مسافر ہوائی جہاز پر سوار ہوئے
(۹) خونخوار بھیڑیوں نے کسانوں کی بکریاں کھالیں
(۱۰) دونوں بھائیوں نے ایک فٹ بال خریدا
(۱۱) محمود کے دونوں بیٹے بیمار ہوگئے
(۱۲) بیماریاں بڑھ گئیں اور مخلص اطبّا کم ہوگئے۔
93 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق: ۹
التمرين (١)
كَوِّنْ جُمَلًا فِعْلِيَّةً يُوضَعُ فَاعِلٌ لِلْأَفْعَالِ الآتِيَة:
مَالَ ، غَرَّدَ ، اِنْكَسَرَ ، أَثْمَرَ ، يَنْتَصِرُ ، يَتَمَزَّقُ ، يَشْكُو ، اِحْتَرَقَ ، يَصْطَفُّ ، يَنْطَفِئُ ، تُشْرِقُ ، ضَحِكَ
التمرين (٢)
كَوِّنْ جُمَلًا فِعْلِيَّةً يَجِيءُ فِيهَا كُلُّ اِسْمٍ مِنَ الأَسْمَاءِ الآتِيَةِ فَاعِلًا لِفِعْلٍ مَاضٍ:
الهِلَالُ ، النُّجُومُ ، المِصْبَاحُ ، الظَّلَامُ ، الدِّيكُ ، الأَسَدُ ، الشَّاةُ ، الكِتَابُ
التمرين (٣)
كَوِّنْ جُمَلًا فِعْلِيَّةً يَجِيءُ فِيهَا كُلُّ اِسْمٍ مِنَ الأَسْمَاءِ الآتِيَةِ فَاعِلًا لِفِعْلٍ مُضَارِعٍ:
العُصْفُورُ ، الحَرُّ ، المَطَرُ ، الوَرْدَةُ ، الثَّوْبُ ، النَّارُ ، اللِّصُّ ، التَّاجِرُ
التمرين (٤)
كَوِّنْ جُمَلًا فِعْلِيَّةً يَجِيءُ فِيهَا كُلُّ اِسْمٍ مِنَ الأَسْمَاءِ الآتِيَةِ مَفْعُولًا بِهِ:
الغَنَمَ ، المَرِيضَ ، الخَشَبَ ، القَمْحَ ، القُطْنَ ، البَابَ
التمرين (٥)
اِئْتِ بِثَلَاثِ جُمَلٍ فِعْلِيَّةٍ فِعْلُهَا مَاضٍ، وَبِثَلَاثِ أُخْرَى فِعْلُهَا مُضَارِعٌ.
التمرين (٦)
هَاتْ خَمْسَ جُمَلٍ فِعْلِيَّةٍ فِي مَوْضُوعِ الكُرَةِ وَخَمْسًا أُخْرَى فِي مَوْضُوعِ الدَّرَّاجَةِ.
94 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں