تمام موضوعات

جملہ

لائے نفی للجنس دیگر کتب میں

5 عبارات

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۲۳

(لائے نفی جنس)

نواسخ جملہ کی چوتھی قسم لائے نفی جنس ہے ۔

یہ مطلق نفی کے لئے آتا ہے یعنی سرے سے اس چیز کا انکار کرتا ہے جس پر داخل ہوتا ہے۔ اِنّ کی طرح اپنے اسم (مبتدا) کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے لا تلميذَ حاضرٌ (کوئی طالب علم حاضر نہیں ہے)۔

(۱) لائے نفی جنس کا اسم نکرہ یا نکرہ کی طرف مضاف ہوا کرتا ہے۔

(۲) اگر اسم مفرد ہو (یعنی مضاف نہ) ہو تو فتحہ پر مبنی ہوتا ہے اور اس پر تنویں نہیں آتی جیسے لا رجلَ جالسٌ في الطريق (راستہ میں کوئی شخص نہیں بیٹھا ہے)

(۳) اور اگر اس کا اسم مفرد کے بجائے مضاف یا شبہ مضاف ہو تو ان دونوں صورتوں میں منصوب رہتا ہے اور معرب سمجھا جاتا ہے اس لئے اس پر تنوین بھی آتی ہے جیسے :-

لا راكبا فرسا في الطريق (کوئی گھوڑ سوار راستہ میں نہیں ہے)

لا شاهد زور محبوب (کوئی جھوٹی گواہی دینے والا شخص پیارا نہیں ہے)

باقی عبارت پڑھیں (14)

لا مسرفا في ماله محمود (اپنے مال میں اسراف کرنے والا شخص پسندیدہ آدمی نہیں ہے )

لائے نفی جنس کے مذکورہ بالا عمل کے لئے بھی چند شرائط ہیں اور وہ یہ ہیں کہ :

(۱) لائے نفی للجنس پر کوئی حرف جار داخل نہ ہو۔

(۲) لائے نفی جنس کے اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں ۔

(۳) لائےنفی جنس اور اس کے اسم کے درمیان کوئی فصل نہ ہو۔

پہلی شرط اگر نہیں پائی گئی تو لا کا عمل باطل ہو جائے گا اور اسکی حیثیت صرف نفی کی رہ جائے گی۔

دوسری اور تیسری شرط نہ پائی جانے کی صورت میں بھی لا کا عمل باطل ہو جاتا ہے اور یہاں لا کا مکرر لانا واجب اور ضروری ہو جاتا ہے۔

مثالیں علی الترتیب یہ ہیں :

اشتريت القَلَم بلا ریشۃ   (پہلی شرط مفقود ہے)

(۲) لا زیدٌ في الدار و لا عمرو (دوسری شرط مفقود ہے)

(۳) لا الرجل كریم ولا ابنہ (دوسری شرط مفقود ہے)

لا القمرطالع ولا النجوم لامعات (دوسری شرط مفقود ہے)

(۴) لا هُوَ حَى فَيُرجىٰ وَلَا هُوَمیِّتٌ فَینعیٰ (تیسری شرط مفقود ہے)

لا في الحديقة صِبْيَانٌ وَلا بناتٌ (تیسری شرط مفقود ہے)

لنک

النحو الواضح (ثانویہ)

النحو الواضح الثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱۲

لا النافية للجنس: لاء نفی للجنس

تَعْمَلُ «لا» النَّافِيَةُ لِلْجِنسِ عَمَلَ إِنَّ فَتَنْصِبُ الْمُبْتَدَاءَ وَيُسَمَّى اسْمَهَا، وَتَرْفَعُ الْخَبَرَ وَيُسَمَّى خَبَرَهَا .

يُنصَبُ اِسْمُهَا إِذَا كَانَ مُضَافًا أَوْ شَبِيهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ إِذَا كَانَ مُفْرَداً.

يُشْتَرَطُ فِي عَمَلِهَا ألَّا يَدْخُلُ عَلَيْهَا جَارٌ وَأَنْ يَكُونُ اسْمُهَا وَخَبَرُهَا نَكِرَتَيْنِ، وَالَّا يُفْصَلُ الْاِسْمُ عَنْهَا بِفَاصِلٍ، فَإِنْ فُقِدَ الشَّرْطُ الْأَوَّلَ بَطَلَ عَمَلُهَا، وَإِنْ فُقِدَ شَرُطٌ مِنَ الشَّرْطَيْنِ الْآخَرَيْنِ بَطَلَ عَمَلُهَا.وَلَزِمَ تَكْرَارُهَا .

لائے نفی جنس اِنَّ جیسا عمل کرتا ہے ، پس وہ مبتداء کو نصب دیتا ہے جس کا نام اس کا اسم رکھا جاتا ہے اور خبر کو رفع دیتا ہے اس کا نام اس کی خبر رکھا جاتا ہے۔

اس کے اسم کو اس وقت نصب دیا جاتا ہے جب وہ مضاف ہو یا شبہ مضاف ہو اور جب وہ مفرد ہو تو نصب دیا جاتا ہے مبنی علی الفتح ہونے کی وجہ سے۔

اس کے عمل میں یہ شرط ٹھہرایا گیا ہے کہ اس پر حرف جار داخل نہ ہو اور دوسری بات کہ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں اور اس کا اسم اس سے جدا نہ کیا گیا ہو۔ پس اگر پہلی شرط نہ پائی گئی تو اس کا عمل باطل ہو جائے گا اور اگر دوسری دو شرطوں میں سے ایک شرط پائی گئی تو اس کا عمل بالکل باطل ہو گا اور تکرار ضروری ہوگا

باقی عبارت پڑھیں (15)

الأمثلة

(۱)لا شَاهِدَ زورٍ مَحْبُوبٌ

لا شجَرَةَ رُمّان في البستان .

لا راعي غنم في الْحَقْلِ

(۲)لا راكباً فرساً في الطريق

لا مُقَصِّراً فيِ وَاجِبِهِ مَمدُوحٌ

لا مجداً في عمله مَذمُومٌ .

(۳)لا سُرُورَ دَائمٌ

لا ضِدَّيْنِ مُجْتَمِعَانِ

لا مُجِدِّينَ مَحْرُومُونَ

لا جَاهِلَاتٍ مُحتَرَمَاتٌ

لنک

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۱

فصل خبر "لا" النافية للجنس

لا النافية للجنس تدل على نفي الخبر عن جميع أفراد جنس اسمها الواقع بعدها. على سبيل التنصيص، لا على سبيل الاحتمال ، وتعمل عمل "إن فتنصب الاسم وترفع الخير، نحو: لا فاعل خير مكروه.

شروط عملها: يشترط لعملها المذكور ستة شروط:

۱۔ أن تكون نافية للجنس نصاء لا احتمالا J

۲۔ أن يكون المنفي الجنس بأجمعه ( بحيث لا يبقى فرد من أفراده

۳۔ أن يكون اسمها وخبرها نكرتين

۴۔ أن يكون اسمها متصلا بها ( ويلزم تأخير الخبر عنه )

باقی عبارت پڑھیں (82)

۵۔ عدم تقدم خبرها عليها.

۶۔ عدم دخول حروف الجر عليها .

مثال المستوفي للشروط الستة : لا حلية أثمن من مكارم الأخلاق.

من أنواع اسمها :

اسم "لا" ثلاثة أنواع : (۱) مفرد (۲) مضاف (۳) شبيه بالمضاف

فإذا كان اسم "لا" مفردا غير مضاف ولا شبيه بالمضاف يبنى على ماكان ينصب به قبل وقوعه اسم "لا"

مثل المثال السابق: لا حيلة أثمن من مكارم الأخلاق (حلية: مفرد اسم لا مبني على الفتح، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الفتحة) ومثل : لا ضدين مجتمعان (ضدين: مفرد اسم لا مبني على اليد المفتوح ماقبلها لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه مثنى) ومثل : لا مسلمين في الجاهلية (مسلمين مفرد اسم لا مبني على الياء المكسور ما قبلها، لأن علامة نصبه قبل وقوعه اسم لا الياء لأنه جمع مذكر سالم)

وإذا كان اسم لا مضافا، أو شبيها بالمضاف وجب أن يكون معربا منصوباً مثال المضاف: لا شاهد زور محبوب، ومثال الشبيه بالمضاف: لا متقنا عمله يفشل فيه.

تكرار "لا":

إذا تكررت "لا" وكان اسمها نكرة متصلا بها، نحو: لاحول ولا قوة إلا بالله، جاز فيه خمسة أوجه:

۱۔ إعمال المكررتين وبناء اسميهما على الفتح ( وهو الأصل) فتقول: لاحول ولا قوة إلا بالله.

۲۔إلغاء المكررتين ورفع ما بعدهما إما بالابتداء، وإما أنهما عاملتان عمل "ليس" فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.

۳۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ورفع ما بعدها عطفاً على محل اسم الأولى قبل دخول "لا" باعتبار كونه مبتدأ قبل دخولها فتقول : لاحول ولا قوة إلا بالله.

۴۔ إلغاء الأولى أو اعتبارها عاملة عمل "ليس" ورفع ما يليها، وإعمال الثانية عمل إن" وبناء ما بعدها، فتقول: لا حول ولا قوة إلا بالله.

۵۔ إعمال الأولى وبناء ما يليها، وإلغاء الثانية ونصب ما بعدها عطفا على محل اسم الأولى، لأنه في محل نصب بعد دخولها عليه فتقول : لا حول ولا قوة إلا بالله

حذف خبرها واسمها وذكرهما

يكثر حذف خبر "لا" إذا كان معلوما ( بأن دلت عليه قرينة) نحو: لاضير ولا بأس أي: عليك) وأكثر ما يحذفونه مع "إلا" نحو : لا اله إلا الله (أي: لا اله يحق موجود إلا الله )

يقل حذف الاسم مع بقاء الخبر كقولهم: لا عليك (أي: لا بأس أولا جناح ) وإذا جهل خبر "لا" وجب ذكره كالأمثلة السابقة في "أنواع اسمها "

خبر "لا" النافية للجنس کا بیان

"لا" نافية للجنس وہ حرف ہے جو اپنے بعد آنے والے اسم کی پوری جنس کی نفی پر دلالت کرتا ہے۔ یعنی، یہ کسی اسم کے تمام افراد کے متعلق خبر کی نفی کو بالکل صریح اور قطعی طور پر بیان کرتا ہے، کسی احتمال کے بغیر۔ "لا" کا عمل "إن" کی طرح ہوتا ہے، یعنی یہ اپنے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے، جیسے:

لا فاعلَ خيرٍ مكروهٌ (کوئی بھلائی کرنے والا ناپسندیدہ نہیں ہے)۔

"لا" کے عمل کی شرائط:

"لا" نافية للجنس کو مندرجہ ذیل چھ شرائط کے تحت عمل کرنا ہوتا ہے:

1. "لا" جنس کی نفی صریحاً کرے: یعنی یہ واضح طور پر جنس کی مکمل نفی کرے، محض احتمال نہ ہو۔

2. جنس کی مکمل نفی ہو: یعنی جس جنس کی نفی ہو، اس کے کسی بھی فرد کا وجود باقی نہ رہے۔

3. اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوں: یعنی "لا" کے اسم اور خبر دونوں غیر معین (indefinite) ہونے چاہئیں۔

4. اسم "لا" اس کے ساتھ متصل ہو: اسم "لا" کو "لا" سے جدا نہیں کیا جا سکتا، اور اس کا خبر بعد میں آئے۔

5. خبر اسم پر مقدم نہ ہو: خبر کو "لا" کے اسم سے پہلے نہیں آنا چاہیے۔

6. حروف جر کا دخول نہ ہو: "لا" پر کوئی حرف جر داخل نہ ہو۔

مثال:

لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق

(اخلاق کی خوبیوں سے زیادہ قیمتی کوئی چالاکی نہیں ہے)

یہ مثال مذکورہ بالا تمام شرائط پر پوری اترتی ہے۔

اسم "لا" کی اقسام:

اسم "لا" کی تین اقسام ہوتی ہیں:

1. مفرد

2. مضاف

3. شبیہ بالمضاف

(1) مفرد: اگر اسم "لا" مفرد ہو، اور نہ مضاف ہو اور نہ ہی شبیہ بالمضاف، تو اسے اس صورت میں مبنی مانا جاتا ہے جس صورت میں اسے "لا" سے پہلے نصب دی گئی ہو۔

مثال:

لا حيلةَ أثمنَ من مكارم الأخلاق

(یہاں "حيلة" اسم "لا" ہے اور یہ مبنی ہے)۔

(2) مضاف: اگر اسم "لا" مضاف ہو تو اسے منصوب ہونا ضروری ہے۔

مثال:

لا شاهدَ زورٍ محبوبٌ

(جھوٹ کا گواہ محبوب نہیں)۔

(3) شبیہ بالمضاف: اگر اسم "لا" شبیہ بالمضاف ہو تو اسے بھی منصوب ہونا ضروری ہے۔

مثال:

لا متقناً عملَه يفشل فيه

(جو اپنا کام محنت سے کرے، وہ ناکام نہیں ہوتا)۔

"لا" کا تکرار:

اگر "لا" نکرہ اسم کے ساتھ تکرار ہو تو پانچ طریقے جائز ہیں:

1. دونوں "لا" کو عمل میں لانا اور ان کے اسما کو فتح کے ساتھ بنانا (یہ اصل ہے)۔

2. دونوں "لا" کو غیر مؤثر قرار دینا اور ان کے بعد والے کو مرفوع کرنا۔

3. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا۔

4. پہلی "لا" کو غیر مؤثر اور دوسری کو عمل میں لانا۔

5. پہلی "لا" کو عمل میں لانا اور دوسری کو غیر مؤثر قرار دینا اور اسم کو منصوب کرنا۔

خبر اور اسم کا حذف:

"لا" نافية للجنس میں خبر کا اکثر حذف کیا جاتا ہے، جب کہ وہ معلوم ہو، جیسے:

لا ضير ولا بأس (یعنی: کوئی نقصان نہیں)۔

اسم کا حذف کم ہوتا ہے، جیسے:

لا عليك (یعنی: تم پر کوئی گناہ نہیں)۔

جب خبر کا علم نہ ہو، تو اسے ضرور ذکر کیا جاتا ہے۔

مثال:

لا إله إلا الله (یعنی: کوئی معبود برحق نہیں سوائے اللہ کے)۔

اس طرح "لا" نافية للجنس عربی میں کسی جنس کی مکمل اور قطعی نفی کے لیے استعمال ہوتی ہے، اور اس کے ساتھ آنے والے اسم اور خبر کو معین اصولوں کے تحت منصوب اور مرفوع کرتی ہے۔

لنک

المفصل

المفصل۔ سبق:۸

خبر لا التي لنفي الجنس

هو في قول أهل الحجاز لا رجل أفضل منك ولا أحد خير منك، وقول حاتم:

ولا كريم من الولدان مصبوح

يحتمل أمرين: أحدهما أن يترك فيه طائيته إلى اللغة الحجازية، والثاني أن لا يجعل مصبوحاً خيراً ولكن صفة محمولة على محل لا مع المنفي وارتفاعه بالحرف أيضاً لأن لا محذوبها حذو إن من حيث أنها نقيضتها ولازمة للأسماء لزومها. حذف خبر لا : ويحذفه الحجازيون كثيراً فيقولون: لا أهل، ولا مال ولا بأس، ولا فتى إلا علي ولا سيف إلا ذو الفقار. ومنه كلمة الشهادة ومعناها لا إله في الوجود إلا الله. وبنو تميم لا يثبتونه في كلامهم أصلاً.

لنک

المفصل

المفصل۔ سبق:

النصوب بلا التي لنفي الجنس

حكم اسم لا

هي كما ذكر محمولة على إن فلذلك نصب بها الأسم ورفع الخبر، وذلك إذا كان المنفي مضافاً كقولك لا غلام رجل أفضل منه، ولا صاحب صدق موجود؛ أو مضارعاً له كقولك لا خيراً منه قائم هنا، ولا حافظاً للقرآن عندك، ولا ضارباً زيداً في الدار، ولا عشرين درهماً لك. فإذا كان مفرداً فهو مفتوح وخبره مرفوع كقولك لا رجل أفضل منك، ولا أحد خير منك.

ويقول المستفتح ولا إله غيرك. وأما قوله: لا نسب اليوم ولا خلة فعلى إضمار فعل، كأنه قال ولا أرى خلة كما قال الخليل في قوله:

ألا رجلاً جزاءه الله خيراً

كأنه قال ألا ترونني رجلاً وزعم يونس أنه نون مضطراً.

وحقه أن يكون نكرة. قال سيبويه واعلم أن كل شيء حسن لك أن تعمل فيه رب، حسن لك أن تعمل فيه لا.

وأما قول الشاعر :

باقی عبارت پڑھیں (29)

لا هيثم الليلة للمطي

وقول ابن الزبير الأسدي:

أرى الحاجات عند أبي حبيب نکدن ولا أمية بالبلاد

وقولهم لا بصرة لكم وقضية، ولا أبا حسن لها، فعلى التنكير. وأما لا سيما زيد فمثل لا مثل زيد.

وتقول لا أب لك. قال نهار بن توسعة اليشكري:

أبي الإسلام لا أب لي سواه إذا افتخروا بقيس أو تميم

ولا غلامين لك ولا ناصرين لك. وأما قولهم لا أبا لك ولا غلامي لك ولا ناصري لك فمشبه في الشذوذ بالملامح والمذاكير ولدن غدوة. وقصدهم فيه إلى الإضافة وإثبات الألف وحذف النون لذلك، وإنما أقحمت اللام المضيفة توكيداً للإضافة.

لاۡألا تراهم لا يقولون لا أبا فيها، ولا رقيبلاً عليها، ولا مجيري منها، وقضاء من حق المنفي في التنكير بما يظهر بها من صورة الإنفصال. وقد شبهت في أنها مزيلة ومؤكدة بتيم الثاني في يا تيم تيم عدي. والفرق بين المنفي في هذه اللغة وبينه وبين الأولى أنه في هذا معرب وفي تلك مبني، فإذا فصلت فقلت لا يدين بها لك ولا أب فيها لك، امتنع الحذف والإثبات عند سيبويه وأجازهما يونس. وإذا قلت لا غلامين ظريفين لك لم يكن بد من إثبات النون في الصفة والموصوف.

حكم صفة اسم لا :

وفي صفة المفرد وجهان أحدهما أن يبنى معه على الفتح كقولك لا رجل ظريف فيها، والثاني أن تعرب محموله على لفظه أو محله كقولك لا رجل ظريفاً فيها أو ظريف، وإن فصلت بينهما أعربت . وليس في الصفة الزائدة عليها إلا الإعراب، فإن كررت المنفي جاز في الثاني الإعراب والبناء وذلك قولك لا ماء ماء بارداً، وإن شئت لم تنون.

حكم معطوف اسم لا :

وحكم المعطوف حكم الصفة إلا في البناء.

قال:

فلا أب وابنا مثل مروان وابنه

وقال:

لا أم لي إن كان ذاك ولا أب

وان تعرف فالحمل على المحل لا غير كقولك لا غلام لك ولا العباس.

حكمه إذا كرر:

ويجوز رفعه إذا كرر قال تعالى : " فلا رفث ولا فسوق"، وقال: "لا بيع فيه ولا خلة". فإن جاء مفصولاً بينه وبين لا أو معرفة وجب الرفع والتكرير كقولك لا فيها رجل ولا امرأة، ولا زيد فيها ولا عمرو. وقولهم لا نولك أن تفعل كذا كلام موضوع موضع لا ينبغي لك أن تفعل كذا وقوله:

وأنت امرؤ منا خلقت لغيرنا حياتك لا نفع وموتك فاجع

وقوله:

قضت وطراً واسترجعت ثم آذنت ركائبها أن لا إلينا رجوعها

ضعيف لا يجيء إلا في الشعر. وقد أجاز المبرد في السعة أن يقال لا رجل في الدار ولا زيد عندنا .

إعراب لا حول ولا قوة إلا بالله وفي لا حول ولا قوة إلا بالله ستة أوجه أن تفتحهما، وأن تنصب الثاني، وأن ترفعه، وأن ترفعهما، وأن ترفع الأول على أن لا بمعنى ليس، أو على مذهب أبي العباس وتفتح الثاني، وأن تعكس هذا .

حذف اسم لا :

وقد حذف المنفي في قولهم لا عليك أي لا بأس عليك.

لنک