جمله فعلیه : جیسے قامَ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہے) یا يَقُومُ الوَلَدُ (لڑکا کھڑا ہوتا ہے) یہ سب جملہ فعلیہ ہیں کیونکہ ان کا پہلا جز فعل ہے۔ جملہ فعلیہ اس مرکب تام (جملہ مفیدہ) کو کہتے ہیں جس کی ابتداء فعل سے ہو جیسے جَاءَ الْأَمِيرُ، يَأْكُلُ الْوَلَدُ الْخُبْرَ
(۱) جملہ فعلیہ فعل ، فاعل اور مفعول سے ملکر بنتا ہے۔
(۲) فاعل اور مفعول دونوں ہی اسم ہوا کرتے ہیں۔
(۳) فاعل ہمیشہ مرفوع اور مفعول ہمیشہ منصوب ہوا کرتا ہے۔
(۴) جملہ فعلیہ میں پہلے فعل پھر فاعل اور سب سے آخر میں مفعول لایا جاتا ہے۔ لیکن مفعول کبھی فاعل سے پہلے اور ضرورۃ فعل سے پہلے بھی آتا ہے البتہ فاعل اپنے فعل سے پہلے نہیں آ تا:-
فاعل کے اعتبار سے فعل کی تذکیر و تانیث اور وحدت وجمع کا قاعدہ:
(۵) فعل کا فاعل جب کوئی اسم ظاہر ہو (یعنی ضمیر نہ ہو ) تو ہر حال میں فعل واحد ہی آئے گا، خواہ فاعل واحد ہو یا تثنیہ ہو یا جمع ہو جیسے
جَاءَ رَجُلٌ، جَاءَ رَجُلَانِ،جَاءُ رِجَالٌ،
باقی عبارت پڑھیں (7)
جَاءَتْ امْرَأَةٌ، جَاءَتْ امْرَأَنَانِ، جَاءَتْ نِسَاءُ
(۶) جب فعل کا فاعل کوئی اسم ظاہر نہ ہو بلکہ فاعل ضمیر ہی ہو تو پھر فعل اپنے ضمیر کے مطابق ہی آئے گا یعنی واحد کے لئے واحد اورتثنیه اور جمع کے لئےتثنیه و جمع جیسے
الْوَلَدُ قَامَ ، الْوَلَدَانِ قَامَا ، الْأَوۡلَادُ قَامُوا -
فائدہ: قام ، قَامَا، قَامُوا تینوں میں علی الترتیب واحد تثنیہ اور جمع کی ضمیر ہیں اور یہی ان افعال کے فاعل ہیں، رہے، الوَلَدُ الوَلَدَانِ اور الاولاد تو یہ سب مبتداء ہیں نہ کہ فاعل
فعل کی تذکیر و تانیث
(۷) افعال کی تذکیر و تا نیث میں قاعدہ یہ ہے کہ اگر فاعل مذکر ہو تو فعل بھی مذکر لایا جاتا ہے اور اگر فاعل مونث ہو تو فعل بھی مؤنث لانا چاہئے جیسا کہ اوپر کی مثالوں میں رجل کے لئے جاء فعل مذکر اورامرأۃ کے لئے جاءت فعل مؤنث لایا گیا ہے۔
(۸) فاعل اگر کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو فعل واحد مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر عاقل کی جمع واحد مونث ہی کے حکم میں ہوتی ہے۔ اس لئے مبتدا یا موصوف جب کسی غیر عاقل کی جمع ہوں تو خبر اور صفت عموماً واحد مونث ہی لائی جاتی ہے۔