Grammar

Nahw (syntax) کلمہ / اسم / معرب و مبنی کے اعتبار سے /

A type of the noun

مبنی اسماء

The lessons are written in Urdu.

On this page (68)
  1. The rule
  2. دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱
  3. النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳
  4. تمارین
  5. النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳
  6. خودکار جانچ
  7. ضمائر
  8. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۶
  9. معلم الانشاء ( جلد:۱ٰ) سبق:۵
  10. تیسیر النحو۔ سبق:۲۴
  11. دروس اللغۃ کلید (جلد:۱) سبق:۴، ۱۰،۱۲
  12. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) ۲۷
  13. تمارین
  14. معلم الانشاء ( جلد:۱ٰ) سبق:۵
  15. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۶
  16. تیسیر النحو۔ سبق:۲۴
  17. خودکار جانچ
  18. اسم اشارہ
  19. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸
  20. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶
  21. تیسیر النحو۔ سبق:۲۵
  22. تمارین
  23. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶
  24. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸
  25. تیسیر النحو۔ سبق:۲۵
  26. خودکار جانچ
  27. اسم موصول
  28. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۷
  29. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۹
  30. تیسیر النحو۔ سبق:۲۶
  31. تمارین
  32. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۹
  33. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۷
  34. تیسیر النحو۔ سبق:۲۶
  35. خودکار جانچ
  36. اسماء شرط
  37. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸
  38. النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸
  39. تیسیر النحو۔ سبق:۲۷
  40. تمارین
  41. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸
  42. النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸
  43. تیسیر النحو۔ سبق:۲۷
  44. خودکار جانچ
  45. اسماء استفھام
  46. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۷
  47. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۷
  48. تیسیر النحو۔ سبق:۲۸
  49. تمارین
  50. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۷
  51. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۷
  52. تیسیر النحو۔ سبق:۲۸
  53. خودکار جانچ
  54. اسماء افعال
  55. النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱
  56. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۸
  57. شرح مائۃ عامل۔ سبق:۹
  58. تمارین
  59. النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱
  60. خودکار جانچ
  61. اعداد مرکبہ
  62. تیسیر النحو۔ سبق:۲۹
  63. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق: ۱۹، ۲۰
  64. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۳، ۶، ۱۰، ۲۴
  65. تمارین
  66. تیسیر النحو۔ سبق:۲۹
  67. خودکار جانچ
  68. Practice

The map

  • معرب و مبنی کے اعتبار سے
    • معرب اسماء
    • مرفوع اسماء
    • منصوب اسماء
    • مجرور اسماء
    • معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں
    • مبنی اسماء

1 The rule

مبنی اسماء

مبنی وہ الفاظ ہوتے ہیں جن کا آخری حرف ہمیشہ ایک ہی حالت میں رہتا ہے اور حالتِ اعراب میں تبدیلی نہیں ہوتی۔

مثال : "ھذا" (یہ)

مبنی الفاظ کی مختلف قسمیں ہیں:

۱۔ ضمائر: ضمائر وہ الفاظ ہیں جو کسی شخص یا چیز کا نام لینے کی بجائے اسے ظاہر کرتے ہیں۔ یہ عموماً متکلم، مخاطب اور غائب کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مثال: "ھو" (وہ)، "انت" (تم)، "انا" (میں)

۲۔ اسماء اشارہ: یہ وہ اسم ہیں جو کسی معین شخص، چیز یا مقام کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

مثال: "ھذا" (یہ)، "ذلک" (وہ)، " تلک" (وہ)

۳۔ اسماء موصول: یہ وہ الفاظ ہیں جو دو جملوں کو ملاتے ہیں اور جن کے ذریعے موصول الیہ (جس پر جملہ ختم ہوتا ہے) کا ذکر کیا جاتا ہے۔

مثال: "الذی" (جو)، "التی" (جو)، "اللذین" (وہ دونوں)

۴۔ اسماء شرط: یہ وہ الفاظ ہیں جو کسی شرط کو ظاہر کرتے ہیں اور جن سے مشروط جملہ بنایا جاتا ہے۔

مثال: "من" (جو کوئی)، "ما" (جو کچھ)، "این" (کہاں)

۵۔ اسماء استفہام: یہ وہ الفاظ ہیں جو سوال کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔

مثال: "ما" (کیا)، "من" (کون)، "متی" (کب)، "این" (کہاں)

۶۔ اعداد مرکبہ (۱۱ سے ۱۹ تک): یہ وہ اعداد ہیں جو دو عددوں کے مرکب سے بنے ہوتے ہیں اور ان میں سے ۱۱ سے ۱۹ تک اعداد مرکب کہلاتے ہیں۔

مثال: "احد عشر" (گیارہ)، "ثلاثة عشر" (تیرہ)، "تسعة عشر" (انیس)

۷۔ بعض ظروف: ظرف وہ الفاظ ہیں جو وقت یا جگہ کو ظاہر کرتے ہیں۔

مثال: "فوق" (اوپر)، "تحت" (نیچے)، "قبل" (پہلے)، "بعد" (بعد میں)

۸۔ اسماء افعال: یہ ایسے الفاظ ہیں جو فعل کے معنی میں ہوتے ہیں لیکن خود اسم ہوتے ہیں۔

مثال: "ھیھات" (دور ہونا)، "شکرا" (شکریہ)

۹۔ منادی جو علم مفرد ہو: علم مفرد وہ اسم ہے جو کسی خاص شخص یا جگہ کا نام ہو اور منادی کے طور پر استعمال ہو۔

مثال: "یا زید!" (اے زید!)

۱۰۔ منادی جو نکرہ مقصودہ ہو: یہ وہ نکرہ اسم ہے جو خطاب کا مقصد ہو اور خاص طور پر پکارا جا رہا ہو۔

مثال: "یا رجل!" (اے آدمی!)

۱۱۔ اسم لاء نفی للجنس جو مفرد ہو: یہ وہ اسم ہوتا ہے جو "لا" کے ذریعے نفی کے معنی میں آتا ہے اور جنس کی مکمل نفی کرتا ہے۔

مثال: "لا رجل" (کوئی آدمی نہیں)

۱۲۔ اسم جو (ویہ) پر ختم ہوتا ہو: عموماً وہ اسماء جو "ویہ" پر ختم ہوتے ہیں، اس کا آخری حرف "و" اور اس کے بعد "یہ" آتا ہے۔

مثال: سیبویہ

مبنی اسماء دیگر کتب میں2

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱

ہم جانتے ہیں کہ عربی کے اکثر اسماء معرب ہیں، بعض مبنی ہیں جن کے آخر میں اعراب کی مختلف حالتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، مندرجہ ذیل اسماء مبنی ہیں:

ا۔ضمائر، جیسے: هُوَ أَنْتَ أنا ، اسی طرح رائتہ میں ت اور ہ بھی ضمائر ہیں، اور کتابک میں ک اور بَيْتُھا میں ھا بھی ضمائر ہیں۔

یہاں یہ بھی پیش نظر رہے کہ ضمائر کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

ا) ضمائر رفع

ب) ضمائر نصب اور جر ، جیسے:

نَحْنُ طُلاب. ہم طلبہ ہیں۔

أرَأَيْنا؟ کیا تم نے ہمیں دیکھا؟

هذا بيتنا. یہ ہمارا گھر ہے۔

Read the rest (6)

۲ - اسماء اشاره، جیسے: هذا، هذِهِ، ذَلِكَ، هؤلاء، أُولئِكَ سوائے هذَانِ اور هَـاتــان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۳- اسماء موصولہ، جیسے: الَّذِي، التِي، الَّذِيْنَ، اللاتي سوائے اللذان اور اللتان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۴۔ بعض اسماءِ استفهام جیسے مَنْ، أَيْنَ، مَا ،مَتَى، كَيْفَ.

۵۔ بعض اسماء ظروف، جیسے: إِذَا، حَيْث، أَمْسِ، الآن.

۶- أسماء الفعل ، یعنی وہ اسماء جو فعل کا معنی دیتے ہوں ، جیسے: آہ (میں تکلیف محسوس کرتا ہوں) آمِينَ (قبول کر )

۷۔ مرکب اعداد، جیسے: أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَةَ عَشَرَ تک اسی طرح ان کے تانسیث کے صیغے بھی، سوائے اثنا عَشَر اور اثْنَتَا عَشرةَ کے کہ ان کا پہلا جزء معرب ہے

النحو الواضح (ثانویہ)النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳

مِنَ الْأَسْمَاءِ الْمَبنِيَةِ مَا يَأْتِي

(ا) الضمَائِرُ ، وَ أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ ، وَالْأَسْمَاءُ الْمَوْصُولَهُ وَأَسْمَاءُ الاستفهام، وَأَسْمَاءُ الشَّرْطِ وَأَسْمَاءُ الْأَفْعَالِ ، وَبَعْضُ الظُّرُوفِ وَهَذِهِ كُلَّهَا تُبنى عَلَى مَا سَمِعَتْ عَلَيْهِ.

(ب) الْمُنَادَى إِذَا كَانَ عَلَمًا مُفْرَدًا أَوْ نَكِرَةً مَقْصُودَةً وَهُوَ يُبْنَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِه

(ج)اسمُ لا النافِيَةِ لِلْجِنْسِ إِذَا لَمْ يَكُنُ مُضَافًا وَلَا شَبِيْهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ .

(د) مَا رُكِبَ مِنَ الْأَعْدَادِ وَالظُّرُوفِ وَالْأَحْوَالِ ، وَهَذِهِ يَطَّرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى فَتْحِ الْجُزُأيْنِ.

(ھ). الْمُبْهَمَاتُ الْمَقْطُوعَةُ عَنِ الْإِضَافَةِ لَفُظَا ، وَهِيَ تُبْنَى عَلَى الضَّمِ.

(و) ما خُتِمَ بِوَيْهِ ، وَمَا جَاءَ عَلَى وَزْنِ فَعَالِ عَلَمًا لِأُنثَى أَوْ سَبًّا لَهَا، أَوْ اسْمَ فِعْلٍ، وَهَدِهِ كُلُّهَا يَطْرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى الْكَسْرِ.

Read the rest (17)

اسمائے مبنیہ یہ ہیں:

(الف) ضمائر ، اسمائے اشارہ ، اسمائے موصولہ، اسمائے استفہام، اسمائے شرط، اسمائے افعال ، بعض ظروف ۔ اور یہ تمام کے تمام اس طریقے پر مبنی ہوتے ہیں کہ جس طرح سے کہ سنے گئے ہیں۔

(ب) منادی جب کہ وہ علم مفرد ہو یا نکر مقصودہ ہو تو وہ اس وقت مبنی علی الرفع ہوتا ہے۔

(ج) لائے نفی جنس کا اسم جبکہ وہ مضاف نہ ہو اور نہ ہی مضاف کے مشابہ ہو تو اس وقت مبنی علی النصب ہوتا ہے۔

(د) وہ کلمات جو کہ اعداد اور ظروف اور احوال سے مرکب ہوں تو ان کے دونوں جزوں میں مبنی علی الفتح کا اعراب ہی ہو گا۔

(ھ) وہ مبہمات جو کہ لفظاً اضافت سے جدا ہو چکے ہوں تو وہ اس وقت مبنی علی الضم پڑھے جاتے ہیں۔

(ز) ہر وہ کلمہ جو کہ’’ ویه ‘‘کے کلمہ پر ختم ہو رہا ہو یا وہ کسی مؤنث کا علم ہو اور فعال کے وزن پر ہو یا اس مؤنث کے لئے گالی ہو یا اسم فعل ہو تو یہ تمام کے تمام کلمات مبنی علی الکسر ہوتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) فِي الْحُجْرَةِ أَحَدَ عَشَرَ كُرْسِیّا

جَلَسْتُ مَعَ أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا

(۲) مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ

إِنْ نَجَحْتَ فَلَكَ الْمُعَافَاهُ مِنْ بَعْدُ

(۳) مِنْ أَئمة النَّحْوِ سِيبَوَيه

كَانَ ابْنُ أَحْمَدَ بْنِ طُولُونَ يُدْعَى خَمَارَوَيْهِ

Open this topic with all books

ضمائر دیگر کتب میں5

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۶

الضمیر: ضمیر

الضَّمِيرُ اسْمٌ ، مَعْرِفَة يَدُلُّ عَلَى الْمُتَكلم ، أَوِ الْمُخَاطَبِ ، أَوِ الْغَائِبِ .

ضمیر وہ اسم معرفہ ہے جو متکلم مخاطب اور غائب پر دلالت کرتا ہے

الأمثلة :

(۱) أَنا لا أَتَأخَّرُ فِي الصَّبَاحِ

(۲) نَحْنُ نَعْرِفَ الْوَاجِبَ .

(٣) أَنْتَ تُحِبُّ الوَطَنَ

( ٤ ) أَنْتِ تُطِيعِينَ الْمُعَلِّمَةَ .

Read the rest (93)

(٥) مَا أَكْرَمَ الْمُعَلِّمُ إِلَّا إِيَّاكَ.

(٦) هُوَ مُولِع بِاللعِبِ

(۱) الضمير المنفصل: ضمیر منفصل

الضَّمِيرُ الْمُنْفَصِلُ مَا يُمْكِنُ النُّطْقُ بِهِ وَحْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَّصِلَ بِكَلِمَةٍ أُخْرى

ضمیر منفصل وہ ہے جس کو دوسرے کلمے کے ساتھ ملائے بغیر بولا اور لکها جاسکے۔

الضَّمَائِرِ المُنْفِصِلَةِ الْخَاصَّةُ بِالرَّفْعِ هِيَ :

ضمائر منفصلة مرفوعہ حسب ذیل ہیں:

أنا للمتكلم .

نحن للمتكلمين .

أنت - للمخاطب .

أنت - للمخاطبة .

أنتما للمخاطبين أو المخاطبتين .

أنتم - للمخاطبين .

أنتن للمخاطبات .

هو - للغائب .

هي - للغائبة

هما - للغائبين أو الغائبتين

هم - للغائبين .

ھن للغائبات

الضَّمَائِرُ الْمُنْفِصِلَةَ الْخَاصَّةِ بِالنَّصْبِ هِيَ :

ضمایر منفصلہ منصوبہ حسب ذیل ہیں:

إياى - للمتكلم .

إيانا - للمتكلمين

إياك - للمخاطب ..

إياكِ ۔۔۔۔ للمخاطبة

ايا كما - للمخاطبين أو المخاطبتين.

إياكم - للمخاطبين .

إياكن - للمخاطبات .

إياه - للغائب .

إياها - للغائبة .

إياهما للغائبين أو الغائبتين

إياهم - للغائبين .

إياهن للغائبات

الأمثلة

(۱) أَنَا سَامِعُ .

(٢) نَحْنُ مُطِيعُون

(٣) أَنْتَ مُجْتَهِد

(٤) أَنْتِ نَظِيفَةٌ

(۵) هُوَ طَاهِرُ الْقَلْبِ

(٦) هِيَ مُهَذِّبَةٌ

(۷) إِيَّايَ مَدَحَ الْمُدَرِّسُ .

(۸) ظَنَّ الرَّجُلُ سَعِيدًا إِيَّاكَ .

(۲) الضمير المتصل: ضمیر متصل

الضَّمِيرُ الْمُتّصِلُ هُوَ الَّذِي لَا يُنْطَقُ بِهِ وَحْدَهُ وَيَتَّصِلُ دائماً بكلمةٍ أُخرى

الضَّمَائِرُ الْمُتَّصِلَةُ بِالْأَفْعَالِ وَهِيَ خَاصة بِالرَّفْعِ هي : التَّاءُ وَأَلِفُ الاثْنَيْنِ وَوَاوُ الجَمَاعَةِ وَنُونُ النِّسْوَةِ وَيَاءُ المُخَاطَبَةِ

يَاءُ الْمُتَكَلِّمِ وَكَافُ الْمُخَاطَبِ وَهَاءُ الْغَائِبِ إِذا اتَّصَلَتْ بِالْأَفْعَالِ كَانَتْ فِي مَحَلِّ نَصْبٍ وَإِذَا اتَّصَلَتْ بِالْأَسْمَاءِ أَوْ حُرُوفِ الْجَرُ كَانَتْ فِي مَحَلَّ جَر

الضَّمِيرُ (نا) يَكُونُ مَرَّةً فِي مَحَلَّ رَفْعِ وَمَرَّةً في مَحلُّ نَصْبٍ وَمَرَّةٌ فِي مَحَلَّ جَرَّ

ضمیر متصل وہ ہے جو ہمیشہ دوسرے کلمہ سے ملی ہوئی ہو اور اکیلی بولی نہ جائے۔

افعال کے ساتھ متصل ضمائر حالت رفع میں یہ ہیں: تاء- الف تثنیہ- واؤ جمع - نون جمع مؤنث اور یاء واحد مؤنث مخاطب

یاء متکلم کاف مخاطب اور ھاء غائب جب فعل کے ساتھ آ جائیں تو محل نصب میں ہوتے ہیں اور جب اسم یا حرف جر سے متصل ہوں تو محل جر میں ہوتے ہیں۔

ضمیر "نا "کبھی محل رفع میں، کبھی محل نصب میں اور کبھی محل جر میں آتا ہے۔

الأمثلة

(1) سافَرْتُ إلى الإِسْكَنْدَرِيَّةِ

(۲) ذَهَبْنَا إِلى المَلْعَبِ.

(۳) انْتَصَرَ الْحَقِّ

(٤) أَخْلِصُوا في العَمَلِ .

(۵ ) اعْمَلِي الوَاجِبَ .

(٦) السَّيِّدَاتُ يُهَذِّبْنَ الْأَوْلَادَ

(٧) نَفَعَنِى نُصْحُ أَخِي .

(۸) أَعْطَاكَ مُعَلِّمِكَ كِتَاباً .

(٩) حَسَنٌ يَحِبُّهُ أَبُوهُ

(۱۰ ) أَفَادَنَا اجْتِهَادُنَا .

(۱۱) أَخَذَ عَلَى مِنِّي رِسَالَةٌ إِلَيْكَ.

(۱۲) لَنَا مَنْزِلُ بِهِ حَدِيقَة

(۳) الضمير المستتر: ضمیر مستتر

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ: هُوَ ضَمِيرٌ اتَّصَلَ بِالفِعْلِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَظْهَرَ فِي اللَّفْظِ.

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي الفِعْلِ المَاضِي: تَقْدِيرُهُ هُوَ أَوْ هِيَ۔

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي الفِعْلِ المُضَارِعِ: يَخْتَلِفُ تَقْدِيرُهُ بِاخْتِلَافِ حُرُوفِ المُضَارَعَةِ.

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي فِعْلِ الأَمْرِ: تَقْدِيرُهُ أَنْتَ دَائِمًا.

ضمیر مستتر وہ ہے جو فعل کے ساتھ متصل تو ہولیکن لفظوں میں ظاہر نہ ہو۔

فعل ماضی میں دو ضمیریں ھو اور ھی مستتر ہوتی ہیں۔

فعل مضارع میں پانچ صیغوں میں ضمیر مستتر آتی ہیں۔ وہ حسب ذیل ہیں:

يضرب (هو)، تضرب (هي)، تضرب (انت)، اضرب (انا)، نضرب (نحن)۔

فعل امر میں انت ضمیر مستتر آتی ہیں۔

الأمثلة

(۱) الْجَمَلُ بَرَكَ

(۲) الْحمَامَةُ غَرَّدَتْ

(٣) أُريدُ أَنْ تَجْتَهَدَ

(٤ ) إِنَّنَا نُحِبُّ نَجَاحَكَ

(۵ ) الكلبُ يَنْبَحُ .

(٦) البِنْتُ تُحْسِنُ الطَّبْخَ

(٧) عَظَّمِ الكَبِيرَ .

(۸) نَظِّفْ حِذَاءَكَ .

معلم الانشاءمعلم الانشاء ( جلد:۱ٰ) سبق:۵

ضمیر: ایک اسم معرفہ ہے۔ جو غائب یا مخاطب یا متکلم کی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے هُوَ(وہ)، انت( تو )، انا( میں )، نَحْنُ( ہم )

ضمیر کی دو قسمیں ہیں متصل اور منفصل

ضمیر متصل اس ضمیر کو کہتے ہیں جو دوسرے کلمہ کے ملے بغیر استعمال نہ ہوتی ہو ( بخلاف ضمیر منفصل کے ) یہ ضمیر کبھی فعل کے ساتھ آتی ہے جیسے ضَرَبَہ( اس نے اس کو مارا) اور ضَرَبَتُهُ ( میں نے اس کو مارا ) ۔ ضربتهما ( میں نے ان دونوں کو مارا ) اور کبھی اسم کے ساتھ ہوتی ہے جیسے کتابہ( اس کی کتاب ) اور کبھی حرف کے ساتھ ہوتی ہے جیسے:بہ، لہ، علیہ وغیرہ

ضمیر فعل کے ساتھ جب آتی ہے تو منصوب ہوتی ہے اور اسم یا حرف کے ساتھ ملتی ہے تو ہمیشہ مجرور ہوا کرتی ہے پہلی صورت میں ضمیر منصوب متصل کہلاتی ہے اور دوسری و تیسری صورت میں ضمیر مجرور متصل کہلاتی ہے۔

اسم کے ساتھ ملنے کی صورت میں اسم مضاف اور ضمیر مضاف الیہ ہوگی اس لئے اس کو ضمیر اضافی بھی کہتے ہیں۔ ذیل میں ضمیر اضافی کا نقشہ دیا جاتا ہے۔

ضمیر اضافی یا ضمیر مجرور متصل

غائب

واحد مذکر کِتَابُہُ

Read the rest (32)

تثنیہ مذکر كتابُهُمَا

جمع مذکر كِتَابُهُمْ

واحد مؤنث كِتَابُهَا

تثنیہ مؤنث كِتَابُهُمَا

جمع مؤنث كِتَابُهُنَّ

مخاطب

واحد مذکر کتَابُكَ

تثنیہ مذکر کتَابُكُمَا

جمع مذکر كِتَابُكُمْ

واحد مؤنث كِتَابُكِ

تثنیہ مؤنث كِتَابُكُمْا

جمع مؤنث كِتَابُكُنَّ

متکلم

واحد كِتَابِي

جمع كِتَابُنَا

اور حرف کے ساتھ جیسے لهُ، لَهُمَا، لَهُمْ، لَهَا، لَهُمَا ، لَهُنَّ، لَكَ، لَكُمَا، لَكُمْ، لَكِ، لَكُمَا، لَكُنَّ، لِي، لَنَا۔

اور ضمیر منصوب متصل کی صورت میں حسب ذیل ہوگی۔

ضربتُہُ، ضربتُهمَا، ضَرَبْتُهُمْ، ضَرَبۡتُهَا، ضَرَبْتُهُمَا، ضَرَبْتُهُنَّ ضَرَبْتُكَ، ضَرَبتُكُمَا، ضرَبْتُكُمْ، ضَرَبْتُكِ، ضَرَبۡتُكُمَا، ضَرَبْتُكُنَّ، ضَرَبْتُنِىِ، ضَربۡتُنَا

ضمیر منفصل: اس ضمیر کو کہتے ہیں کہ جس کا استعمال دوسرے کلمہ کے ساتھ ملائے بغیر ہوتا ہے جیسے ھو، ھی (وہ) هما ( وہ دونوں) هُمُ ( وہ سب) یا ايَّاك ( تجھ کو ) ايَّا كُمَا ( تم دونوں کو ) ايَّاكُمُ ( تم سب کو ) .

ضمیر منفصل کی صرف دو قسمیں ہیں۔

(۱) ایک وہ جو رفع کے ساتھ مختص ہیں اور وہ ہمیشہ مرفوع ہوتے ہیں، انہیں ضمیر فاعلی بھی کہا جاتا ہے۔

(۲) دوسرے وہ جو نصب کے ساتھ مختص ہیں اور ہمیشہ منصوب ہی ہوا کرتے ہیں ان کو ضمیر مفعولی بھی کہتے ہیں۔

ضمیر مرفوع منفصل یا ضمیر فاعلی حسب ذیل ہیں۔

مذکر : هو، هما، هم انت انتما انتم انا ، نحن

مؤنث : هِي هُمَا هُنَّ انتِ انتما انتُنَّ انا ، نحن

ضمیر منصوب منفصل یا ضمیر مفعولی یہ ہیں۔

مذکر :اياه، إيَّاهُما إِيَّاهُمْ، إِيَّاكَ، إِيَّاكُمَا إِيَّاكُمْ اِیّایَ، اِیّانَا

مؤنث :اياها، إيَّاهُمَا، إِيَّاهُنَّ إِيَّاكِ ، إِيَّاكُمَا ايَا كُنَّ اِیّایَ، اِیّانَا

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۴

الضمائر

الضمائر: جمع ضمير، والضمير : هو اسم لما وضع المتكلم كـ "أنا" أو لمخاطب كـ "أنت" أولغائب كـ "هو" أو لمخاطب تارة والغائب أخرى، وهي: الألف، والواو، والنون، مثل: فعلا، ويفعلان الألف فيهما للغائب) وتفعلان وافعلا الألف فيهما للمخاطب) وفعلوا ويفعلون (الواو فيهما للغائب) وتفعلون وافعلوا الواو فيهما للمخاطب) وفعلن ويفعلن النون فيهما للغائب) وتفعلن وافعلن (النون فيهما للمخاطب) أو لمخاطب تارة والمتكلم أخرى وهي: التاء والياء، مثل: فعلت (التاء فيه للمخاطب) وفعلت (التاء فيه للمتكلم) وتفعلين وافعلى (الياء فيهما للمخاطبة) وضربني (الياء فيه للمتكلم)

سبب بنائها مشابهتها الحرف في الوضع على حرف واحد مثل التاء في "ضربت" أو على حرفين مثل "نا" في "فعلنا" و "أكرمنا والضمائر الموضوعة على أكثر منها محمولة على ما سبق في سبب البناء طرد للباب

ينقسم الضمير إلى قسمين:

بارز، ومستتر

الأول: الضمير البارز هو الذي له صورة في ا اللفظ، وهو نوعان: متصل، ومنفصل. والضمير المنفصل ما استقل بالنطق ويقع بعد "إلا " . في الاختيار، ولہ قسمان:

Read the rest (282)

ا۔ ضمائر رفع منفصلة وتكون في محل رفع مبتدأ أو خبر، أو فاعل أو نائب فاعل

وهي:

للمتكلم : أنا، نحن

وللمخاطب: أنت، أنتماء أنتم أنت، أنتما أنتن

والغائب : هو، هما، هم، هي، هما، هن

مثل: أنا طالب (أنا: ضمير منفصل مبنى على السكون في محل رفع مبتدأ )

وأخوه أنت (انت " " " الفتح " " خبر)

وما ضرب إلا أنت (أنت " " " " " " فاعل)

وما ضُرب إلا أنت (انت " " " " " "نائب فاعل )

۲۔ ضمائر نصب منفصلة وتكون في محل نصب مفعول به، وهي:

للمتكلم : إياي، إيانا.

للمخاطب: إياك، إياكما، إياكم، إياك، إياكما، إياكن.

وللغائب: إياه، إياهما، إياهم إياها، إياهما، إياهن

مثل: إياك نعبد وإياك نستعين (إياك: ضمير منفصل مبني على الفتح في محل نصب مفعول به )

والضمير المتصل مالم يستقل بالنطق، ولا يقع بعد "إلا" وانما يكون كالجزء من الكلمة السابقة، كتاء "فعلت" وياء "كتابي" وكاف "أكرمك" وله ثلاثة أقسام.

۱۔ ضمائر رفع متصلة: تكون دائما متصلة بالفعل أو بـ"كان" وأخواتها وهي:

(۱) تاء الفاعل، مجردة لواحد المتكلم في "فعلت" ولواحد المذكر الحاضر في "فعلت" ولواحد المؤنث الحاضر في فعلت، أو متصلة بـ "ما" الدالة على مثنى الحاضر المذكر أو المؤنث في فعلتما" أو بـ"م" الدالة على جمع المذكر الحاضر في "فعلتم " أو بـ"ن" المشددة الدالة على جمع المؤنث الحاضر في "فعلتن".

(ب) نا لجمع المتكلم في "فعلنا"

(ج) الف الاثنين، مثل: فعلا ، يفعلان، فعلتا، تفعلان الألف في الأولين للمثنى الغائب المذكر، وفي الأخيرين للمثنى الغائب المؤنث وتفعلان، وافعلا الألف فيهما للمثنى المخاطب المذكر أو المؤنث)

( د) واو الجماعة، مثل : فعلوا، يفعلون تفعلون، افعلوا الواو في الأولين لجمع المذكر الغائب، وفي الأخيرين لجمع المذكر المخاطب)

(ه) ياء المخاطبة، مثل: تفعلين، افعلي

(و) نون النسوة، مثل: فعلن، ويفعلن، وتفعلن، وافعلن (النون في الأولين لجمع المؤنث الغائب وفي الأخيرين لجمع المؤنث المخاطب) .

وقت اتصالها بالفعل تكون مبنية في محل رفع فاعل مثل : ذهبت إلى المسجد (ذھبت: فعل ماض مبني على السكون لاتصاله بتاء الفاعل، و"ت" ضمير متصل مبني على الضم في محل رفع فاعل)

ووقت اتصالها بـ كان وأخواتها تكون مبنية في محل رفع اسم كان مثل: كنت مجتهدا في السنة الماضية (كنت: فعل ماض ناقص مبني على السكون لاتصاله بتاء الفاعل، و"ت" ضمير متصل مبنی على الفتح في محل رفع اسم كان)

۲۔ ضمائر نصب متصلة: تكون متصلة بالفعل أو بـ"إن" وأخواتها وهي:

(ا) ياء المتكلم الواحد، مثل: ضربني

(ب) نا، لجمع المتكلم، مثل: ضربنا

(ج) كاف الخطاب ، مثل : ضربك ، ضربكما، ضربكم، ضربك، ضربكما، ضربكن.

(د) هاء الغائب ، مثل : ضربه ، ضربهما، ضربهم، ضربها، ضربهما، ضربهن.

وقت اتصالها بالفعل تكون مبنية في محل نصب مفعول به.

ووقت اتصالها بـ"إن" وأخواتها تكون مبنية في محل نصب اسم "إن"

۳۔ ضمائر جر متصلة تكون متصلة بالاسم المضاف، أو بحرف الجر، وهي:

(۱) ياء المتكلم الواحد، مثل: كتابي، ولي:

(ب) نا، لجمع المتكلم، مثل: كتابنا، ولنا.

(ج) كاف الخطاب ، مثل : كتابك ، كتابكما، كتابكم ، كتابك ، كتابكما، كتابكن، ولك، لكماء لكم ، لك، لكما، لكن

(د) هاء الغائب مثل ، كتابه ، كتابهما، كتابهم، كتابها، كتابهما، كتابهن، وله ، لهماء لهم ، لها، لهما، لهن.

وقت اتصالها بالاسم المضاف تكون مبنية في محل جر مضاف إليه.

ووقت اتصالها بحرف الجر تكون مبنية في محل جر مجرور بحرف الجر

الثاني: الضمير المستتر هو الذي ليس له صورة في اللفظ كالضمير المستتر فی نحو افهم درسك افهم: فعل أمر مبني على السكون والفاعل ضمير مستتر تقديره "أنت")

وله نوعان: ١- الضمير المستتر وجوبا، ٢- الضمير المستتر جوازا.

الضمير المستتر وجوبا: هو الذي لا يصح أن يحل محله الاسم الظاهر، وهذا الضمير لا يكون إلا مرفوعا، وأشهر مواضعه أربعة:

۱۔ الفعل الأمر للواحد المخاطب، مثل: اكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنت)

۲۔ الفعل المضارع للواحد المخاطب، مثل: تكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنت)

۳۔ الفعل المضارع للواحد المتكلم، مثل: أكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنا)

۴۔ الفعل المضارع للجمع المتكلم، مثل: نكتب ( فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: نحن)

الضمير المستتر جوازا: هو الذي يصح أن يحل محله الاسم الظاهر.

ويكون الضمير مستترا جوازاً في كل من الفعل الماضي والفعل المضارع المسند إلى الغائب والغائبة، مثل: الرجل قام المرأة قامت الرجل يقوم المرأة تقوم

الضمير المتصل هو الأصل:

متى أمكن اتصال الضمير لا يجوز انفصاله وذلك لاختصار المتصل غالبا فلهذا كان المتصل هو الأصل، ولا يستعمل المنفصل إلا لأسباب.

أشهر الأسباب الموجبة لفصل الضمائر هي:

۱۔ إرادة الحصر بتقديم الضمير على عامله نحو قوله تعالى: اياك نعبد واياك نستعين - أو باستخدام "إلا" أو "إنما" نحو: لا نعبد إلا إياه، وإنما المعبود هو

۲۔ كون عامله محذوفا كما في التحذير، نحو: إياك من الكذب

۳۔ كون عامله معنويا ( وهو الابتداء نحو: أنا طالب).

٤۔ كون عامله حرف نفي، نحو: ما أنا راسبا في الاختبار.

۵۔ فصله عن عامله بمتبوع له، نحو قوله تعالى : (يخرجون الرسول واياكم)

ملاحظات عامة عن الضمائر

الضمائر "هم" و"هن" و "واو الجماعة" و"نون النسوة " لا تستعمل إلا لجمع العاقل. - يستعمل الجمع غير العاقل الضمير "هي" مع إلحاق تاء التأنيث بالفعل، مثل: وصلت السيارات وهي مسرعة.

أقسام الضمير المتصل:

الضمير المتصل ينقسم حسب إعرابه المحلي إلى ثلاثة أقسام:

(۱) ما يختص بالرفع وهو خمسة الألف كـ "قاما" والواو كـ قاموا" والنون كـ "قمن" ويا المخاطبة كـ "قومي " و "تقومين" والتاء مجردة كـ "قمت" أو متصلة بـ "ما كـ "قمتما أو 7 بالميم که قمتم أو بالنون كـ "قمتن "

(ب) ما هو مشترك بين النصب والجر، وهو ثلاثة: ياء المتكلم نحو ربي أكرمني وها، الغائب نحو زيد زميله يحبه، وكاف الخطاب مجردة نحو قوله تعالى ما ودعك ربك) أو متصلة بما يتصل بها من "ما" أو "م" أو "ن".

(ج) ما هو مشترك بين الرفع والنصب والجر، وهو "نا" نحو: إننا أخذنا حقنا.

ضمائر:

ضمائر

ضمائر، "ضمیر" کی جمع ہے۔ ضمیر وہ اسم ہے جو کسی متکلم جیسے "أنا" (میں)، کسی مخاطب جیسے "أنت" (تو)، یا کسی غائب جیسے "هو" (وہ) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات ضمیر مخاطب اور غائب دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے:

الف، واو، نون کا استعمال:

الف: "فعلا"، "يفعلان" (یہاں الف غائب کے لیے ہے)، "تفعلان"، "افعلا" (یہاں الف مخاطب کے لیے ہے)

واو: "فعلوا"، "يفعلون" (یہاں واو غائب کے لیے ہے)، "تفعلون"، "افعلوا" (یہاں واو مخاطب کے لیے ہے)

نون: "فعلن"، "يفعلن" (یہاں نون غائب کے لیے ہے)، "تفعلن"، "افعلن" (یہاں نون مخاطب کے لیے ہے)

تاء اور یاء:

"فعلت" (یہاں "تاء" مخاطب کے لیے ہے)، "فعلت" (یہاں "تاء" متکلم کے لیے ہے)

"تفعلين"، "افعلي" (یہاں "یاء" مخاطبہ کے لیے ہے)

"ضربني" (یہاں "یاء" متکلم کے لیے ہے)

ضمائر کے مبنی ہونے کی وجہ

ضمائر کو مبنی قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرف سے مشابہت رکھتے ہیں:

بعض اوقات کسی ایک حرف پر آتے ہیں، جیسے "تاء" (ضربت)

بعض اوقات دو حروف پر آتے ہیں، جیسے "نا" (فعلنا، أكرمنا)

جو ضمائر اس سے زیادہ حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، وہ بھی اسی اصول کے تحت مبنی قرار دیے جاتے ہیں۔

ضمائر کی اقسام

ضمیر کی دو اقسام ہیں:

ضمیر بارز (ظاہر ہونے والا ضمیر)

ضمیر مستتر (چھپا ہوا ضمیر)

1. ضمیر بارز (ظاہر ہونے والا ضمیر)

یہ وہ ضمیر ہے جو الفاظ میں واضح نظر آتا ہے۔ اس کی مزید دو قسمیں ہیں:

ضمیر متصل (جو دوسرے لفظ سے جُڑا ہو)

ضمیر منفصل (جو الگ ہو)

(أ) ضمیر منفصل

یہ وہ ضمیر ہے جو الگ سے بولا جا سکتا ہے اور "إلا" کے بعد آسکتا ہے۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے:

1- ضمائر رفع منفصلة (جو رفع میں آتے ہیں)

یہ مبتدا، خبر، فاعل یا نائب فاعل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

متکلم مخاطب غائب

أنا، نحن أنت، أنتما، أنتم، أنتن هو، هما، هم، هي، هما، هن

مثالیں:

أنا طالب (أنا: ضمیر منفصل، مبنی علی السکون، محل رفع مبتدا)

وأخوه أنت (أنت: ضمیر منفصل، مبنی علی الفتح، محل رفع خبر)

وما ضرب إلا أنت (أنت: ضمیر منفصل، محل رفع فاعل)

وما ضُرب إلا أنت (أنت: ضمیر منفصل، محل رفع نائب فاعل)

2- ضمائر نصب منفصلة (جو نصب میں آتے ہیں)

یہ مفعول بہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

متکلم مخاطب غائب

إياي، إيانا إياك، إياكما، إياكم، إياك، إياكما، إياكن إياه، إياهما، إياهم، إياها، إياهما، إياهن

مثال: إياك نعبد وإياك نستعين (إياك: ضمیر منفصل، مبنی علی الفتح، محل نصب مفعول بہ)

(ب) ضمیر متصل

یہ وہ ضمیر ہے جو الگ سے نہیں بولا جا سکتا اور کسی لفظ کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے، جیسے:

تاء (فعلت)

یاء (کتابي)

کاف (أكرمك)

1- ضمائر رفع متصلة

یہ ہمیشہ فعل یا "كان" اور اس کے اخوات کے ساتھ آتے ہیں:

تاء الفاعل: "فعلت" (واحد متکلم یا واحد مخاطب مذکر و مؤنث)

نا: "فعلنا" (جمع متکلم)

الف: "فعلا"، "يفعلان" (مثنی غائب مذکر)، "فعلتا"، "تفعلان" (مثنی غائب مؤنث)

واو الجماعة: "فعلوا"، "يفعلون" (جمع مذکر غائب)، "تفعلون"، "افعلوا" (جمع مذکر مخاطب)

ياء المخاطبة: "تفعلين"، "افعلي"

نون النسوة: "فعلن"، "يفعلن"، "تفعلن"، "افعلن"

مثال:ذهبت إلى المسجد (ذهبت: تاء ضمیر متصل، محل رفع فاعل)

كنت مجتهدا (تاء ضمیر متصل، محل رفع اسم كان)

2- ضمائر نصب متصلة

یہ فعل یا "إن" اور اس کے اخوات کے ساتھ آتے ہیں:

ياء المتكلم: "ضربني"

نا: "ضربنا"

كاف الخطاب: "ضربك، ضربكما، ضربكم، ضربكن"

هاء الغائب: "ضربه، ضربهما، ضربهم، ضربها، ضربهن"

3- ضمائر جر متصلة

یہ مضاف یا حرف جر کے ساتھ آتے ہیں:

ياء المتكلم: "كتابي، لي"

نا: "كتابنا، لنا"

كاف الخطاب: "كتابك، كتابكما، كتابكم"

هاء الغائب: "كتابه، كتابهما، كتابهم"

2. ضمیر مستتر (چھپا ہوا ضمیر)

یہ وہ ضمیر ہے جو الفاظ میں موجود نہیں ہوتا، لیکن مقدر (مفہوم) ہوتا ہے۔

(أ) ضمیر مستتر وجوباً

یہ وہ ضمیر ہے جو ظاہر نہیں ہو سکتا اور اسے کسی اسم سے بدلا نہیں جا سکتا:

امر واحد مخاطب: "اكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنت)

مضارع واحد مخاطب: "تكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنت)

مضارع واحد متکلم: "أكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنا)

مضارع جمع متکلم: "نكتب" (فاعل مستتر وجوباً: نحن)

(ب) ضمیر مستتر جوازاً

یہ وہ ضمیر ہے جو ظاہر بھی ہو سکتا ہے اور کسی اسم سے بدلا بھی جا سکتا ہے:

ماضی و مضارع (غائب): "الرجل قام" (فاعل مستتر جوازاً: هو)

المراة قامت (فاعل مستتر جوازاً: هي)

ضمائر منفصل کب استعمال ہوتے ہیں؟

عام طور پر متصل ضمیر اصل ہوتا ہے، لیکن درج ذیل صورتوں میں منفصل ضمیر استعمال ہوتا ہے:

حصر: "إياك نعبد"

عامل محذوف ہو: "إياك من الكذب"

ابتداء کے طور پر: "أنا طالب"

نفی کے ساتھ: "ما أنا راسبا"

متبوع کے بعد: "يخرجون الرسول وإياكم"

ضمائر کے بارے میں عمومی نوٹس

ضمائر "هم"، "هن"، "واو الجماعة" اور "نون النسوة" صرف عاقل کے جمع کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

غیر عاقل کے جمع کے لیے "هي" ضمیر استعمال کی جاتی ہے اور فعل میں تائے تانیث کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے:

وصلت السيارات وهي مسرعة. (گاڑیاں پہنچ گئیں اور وہ تیز رفتار تھیں۔)

متصل ضمیر کی اقسام

متصل ضمیر اپنی اعرابی حیثیت کے لحاظ سے تین اقسام میں تقسیم ہوتا ہے:

۱۔ صرف رفع کے لیے مخصوص ضمائر:

یہ پانچ قسموں میں آتے ہیں:

الف: جیسے "قاما" (وہ دونوں کھڑے ہوئے)

واو: جیسے "قاموا" (وہ سب کھڑے ہوئے)

نون: جیسے "قمن" (وہ سب عورتیں کھڑی ہوئیں)

یاء مخاطبہ: جیسے "قومي" (اے عورت! کھڑی ہو)، "تقومين" (تم کھڑی ہو رہی ہو)

تاء:مجرد، جیسے "قمت" (میں کھڑا ہوا)

"ما" سے متصل، جیسے "قمتما" (تم دونوں کھڑے ہوئے)

"میم" سے متصل، جیسے "قمتم" (تم سب کھڑے ہوئے)

"نون" سے متصل، جیسے "قمتن" (تم سب عورتیں کھڑی ہوئیں)

۲۔ وہ ضمائر جو نصب اور جر دونوں میں آتے ہیں:

یہ تین قسموں میں آتے ہیں:

یاء متکلم: جیسے "ربي أكرمني" (میرے رب نے مجھ پر کرم کیا)

ہاء الغائب: جیسے "زيد زميله يحبه" (زید اپنے ساتھی سے محبت کرتا ہے)

کاف خطاب: مجرد، جیسے ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ﴾ (تیرے رب نے تجھے نہیں چھوڑا)

"ما"، "م"، یا "ن" کے ساتھ متصل ہو سکتی ہے۔

۳۔ وہ ضمیر جو رفع، نصب اور جر تینوں میں آ سکتا ہے:

"نا": جیسے "إننا أخذنا حقنا" (بے شک ہم نے اپنا حق لے لیا)۔

ضمير الشأن والقصة

الشأن: هو مضمون الكلام الذي يريد المتكلم أن يتحدث عنه، وينسب إلى الشأن ضمير يطلق عليه ضمير الشأن، ويستعمل هذا الضمير في مجال التعظيم كأن المتكلم يذكر هذا الأمر أولا بوجه مبهم أي بالضمير حتى ينبه إلى أهميته ويجعل السامع مشتاقا إلى معرفة ذلك الأمر المبهم ثم يفسره بالجملة ليزيل الإبهام، ويسمى هذا أيضا ضمير القصة إذا كان لمؤنث.

يعود هذا الضمير إلى ما في الذهن من شأن أو قصة، وهو مضمون الجملة التي بعده وهذا من باب تقدم المرجع حكماء لأن المرجع - وهو مضمون الجملة التي بعده ـ لم يتقدم لفظا ولا معنى، ولكنه متقدم حكما، حيث تقدم المضمون إلى ذهن المتكلم، فذكره بالضمير بوجه مبهم حتى يجعل السامع مشتاقا إلى معرفة ذلك الأمر المبهم، ثم فسره بالجملة التي بعده لإزالة ذلك الإبهام.

يكون هذا الضمير مستترا في باب كاد نحو قوله تعالى : من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم وباررًا متصلا في باب "إن نحو قوله تعالى انه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة وباررًا منفصلا إذا كان عامله معنويا نحو قوله تعالى: هو الله أحد) يجب حذفه مع "أن " المفتوحة المخففة من المثقلة، نحو قوله تعالى: (وآخر دعواهم أن الحمد لله رب العالمين) أي: أنه الحمد لله .

الضمير الشأن أربع مخالفات للقياس تعد من خصائصه وهي:

۱۔ مفسره لا يكون إلا جملة ولا يشاركه في هذا ضمير.

۲۔ لا يتبع بتابع، فلا يؤكد ولا يعطف عليه، ولا يبدل منه.

۳۔ لا يعمل فيه إلا الابتداء أو أحد نواسخه.

۴۔ إنه ملازم للإفراد، فلا يثنى ولا يجمع.

ضمير الفصل

هو لفظ على صورة الضمير المرفوع المنفصل، يقع بين المبتدأ والخبر في الحال أو في الأصل وقد دخل عليهما في الحال أحد النواسخ، ويقصد به الفصل بين كون ما بعده خبرا وعدم كونه صفة ولا بدلا ولا غيرهما من التوابع والمكملات للمعنى، نحو: زيد هو العالم (قبل الاتيان بـ هو " أي في "زيد العالم كان في "العالم" احتمالان أن يكون صفة وأن يكون خبراً، فعند ما أن بضمير الفصل " هو فصل بأن "العالم" خبر وليس صفة)

شروط ضمير الفصل:

. يشترط في الاسم الذي قبل ضمير الفصل أمران:

ا۔ أن يكون معرفة.

۲۔ أن يكون مبتدأ أو ما أصله المبتدأ كاسم "كان" وأخواتها واسم "إن وأخواتها " وغيرها، سبق مثال المبتدأ، ومثال ما أصله المبتدأ قـ ا قوله تعالى: كنت أنت ا الرقيب - عليهم في هذا المثال "أنت" ضمير الفصل)

يشترط في ضمير الفصل نفسه أمران:

۱۔ أن يكون بصورة أحد الضمائر المرفوعة المنفصلة.

۲۔ أن يكون مطابقا للاسم الذي قبله في التكلم والخطاب والغيبة، وفي الإفراد والتثنية على والجمع، وفي التذكير والتأنيث.

ويشترط في الاسم الذي بعده أمران:

۱۔ أن يكون خيرا لمبتدأ في الحال أو في الأصل ( وقد سبق مثالهما )

۲۔ أن يكون معرفة، أو ما يقاربها في التعريف وهو: أفعل التفضيل المجرد من أل والإضافة وبعده " من " ، سبق مثال المعرفة، ومثال أفعل التفضيل قوله تعالى: ﴿ان ترن أنا أقل منك مالا وولدا ( في هذه الآية " أنا ضمير الفصل )

فرائد ضمير الفصل منها اللفظية ومنها المعنوية:

الفائدة اللفظية: هو الفصل بأن ما بعده خبر لا تابع.

والفائدة المعنوية: قسمان:

الأولى: هي التوكيد، وعلى هذا لا يجتمع مع التوكيد، فلا يقال: زيد نفسه هو الفاضل: الثانية : هي الاختصاص، وهو أن ما ينسب إلى المسند إليه ثابت له مختص به دون غیره نحو قوله تعالى: (وأولئك هم المفلحون)

ضمیر الشأن اور ضمیر القصة:

شان وہ مضمون ہوتا ہے جس پر متکلم گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ اس سے منسوب ایک "ضمیر الشأن" ہوتا ہے جو تعظیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال یوں ہوتا ہے کہ پہلے کسی بات کو مبہم انداز میں ضمیر کے ذریعے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو اور سامع میں تجسس پیدا ہو۔ پھر بعد میں جملے کے ذریعے اس کی وضاحت کی جاتی ہے

یہ ضمیر ذہن میں موجود کسی شان یا قصے کی طرف لوٹتا ہے، جو اس کے بعد آنے والے جملے کا مضمون ہوتا ہے۔ یہ "تقدم المرجع حکماً" (مرجع کا حکماً مقدم ہونا) کے قاعدے سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ مرجع (یعنی جملے کا مضمون) نہ تو لفظی طور پر پہلے ذکر ہوا ہوتا ہے اور نہ ہی معنوی طور پر، لیکن حکماً وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔

یہ اس طرح ہوتا ہے کہ متکلم کے ذہن میں کوئی بات پہلے سے ہوتی ہے، جسے وہ ضمیر کے ذریعے مبہم انداز میں بیان کرتا ہے، تاکہ سامع میں تجسس پیدا ہو۔ پھر اس تجسس کو دور کرنے کے لیے وہ اگلے جملے میں وضاحت پیش کرتا ہے اور اس طرح ابہام ختم ہو جاتا ہے۔

ضمیر الشأن کی اقسام

یہ ضمیر مختلف صورتوں میں آ سکتا ہے:

مستتر: جیسے "کاد" کے باب میں، مثال:﴿مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ﴾

متصل: جیسے "إنَّ" کے باب میں، مثال:﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ﴾

منفصل: جب اس کا عامل معنوی ہو، مثال:﴿هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾

حذف کے ساتھ: جب "أن" (مخفف) کے ساتھ آئے، مثال:﴿وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

(یہاں اصل جملہ "أنه الحمد لله" تھا)

ضمیر الشأن کی چار ایسی خصوصیات ہیں جو اسے عام قواعد سے مختلف بناتی ہیں:

  • اس کی وضاحت ہمیشہ جملے سے ہوتی ہے، اور اس میں کوئی دوسرا ضمیر شریک نہیں ہوتا۔
  • اس کی کوئی تابع چیز نہیں ہوتی، یعنی نہ اس کی تاکید کی جا سکتی ہے، نہ اس پر عطف کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا بدل بنایا جا سکتا ہے۔
  • یہ صرف مبتدا یا اس کے ناسخ افعال کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے، یعنی اس پر کوئی دوسرا عامل اثر انداز نہیں ہوتا۔
  • یہ ہمیشہ واحد رہتا ہے، نہ اس کی تثنیہ ہوتی ہے اور نہ ہی جمع۔

ضمیر الفصل (فصل کا ضمیر)

یہ ایک ایسا منفصل مرفوع ضمیر ہے جو مبتدا اور خبر کے درمیان آتا ہے، یا پھر نواسخ کے آنے کے بعد بھی مبتدا اور خبر کے درمیان رہتا ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ اس کے بعد آنے والا لفظ "خبر" ہے، نہ کہ صفت، بدل یا کوئی اور تابع۔ مثال:"زید هو العالم"(زید ہی عالم ہے)

اس جملے میں "هو" ضمیر الفصل ہے، جو اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ "العالم" زید کی خبر ہے، نہ کہ اس کی صفت۔

ضمیر الفصل کے شرائط

جس اسم سے پہلے یہ آتا ہے، اس کے دو شرائط ہیں:

وہ معرفہ (واضح نام یا ضمیر) ہو۔

وہ مبتدا ہو، یا اس کی اصل مبتدا ہو، جیسے: اسم "كان" اور اس کے بھائی ، اسم "إن" اور اس کے بھائی

مثال:﴿كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾(تو ہی ان پر نگران تھا)

خود ضمیر الفصل کے بھی دو شرائط ہیں:

یہ منفصل مرفوع ضمیر کی شکل میں ہو۔

یہ اپنے سے پہلے اسم سے موافقت رکھے، یعنی: تکلم، خطاب، غیبت ، مفرد، تثنیہ، جمع ، تذکیر و تانیث

اس کے بعد آنے والے اسم کے بھی دو شرائط ہیں:

وہ خبر ہو، یعنی مبتدا کی خبر بنے۔

وہ معرفہ ہو، یا افعل التفضیل (بہتر یا اعلیٰ کے معنی میں) ہو، جیسے:

﴿إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا﴾ (اگر تو مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے)یہاں "أنا" ضمیر الفصل ہے۔

ضمیر الفصل کے فائدے

لفظی فائدہ:اس بات کو واضح کرنا کہ "ما بعدہ خبر" ہے، کوئی اور تابع نہیں۔

معنوی فائدے:

تاکید (زور دینا) → اسی لیے تاکید کے ساتھ نہیں آتا، جیسے: "زید نفسه هو الفاضل" (یہ غلط ہوگا)

اختصاص (خصوصیت دینا) → یعنی مطلب کو خاص اور محدود کرنا، جیسے:﴿وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ کلید (جلد:۱) سبق:۴، ۱۰،۱۲

(سبق:۴)ضمائر

ھو (وہ) ضمیر مذکر ہے۔ اردو کی طرح عربی میں بھی انسان دیگر جاندار اور بے جان اشیاء سب کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے جیسے :

أَيْنَ الْوَلَدُ؟ لڑکا کہاں ہے ؟

هُوَ فِي المَسْجِدِ. وہ مسجد میں ہے

أَيْنَ الْكِتَابُ؟کتاب کہاں ہے ؟

هُو عَلَى الْمَكتب وہ میز پر ہے

۔ ھی (وہ) ضمیر مؤنث ہے۔ اردو کی طرح عربی میں بھی انسان دیگر جاندار اور بے جان اشیاء سب کے لئے استعمال ہوتی ہے جیسے۔

أَيْنَ آمِنَةُ؟ آمنہ کہاں ہے ؟

Read the rest (28)

هي فِي البَيْتِ. وہ گھر میں ہے۔

أَيْنَ السَّاعَةُ ؟ گھڑی کہاں ہے ؟

هيَ عَلَى السرير . وہ پلنگ پر ہے

أنا (میں) مذکر اور مونث دونوں کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے :

أَنَا مُحَمَّدٌ میں محمد ہوں

انَا فَاطِمَةُ میں فاطمہ ہوں

أنْتَ تو یہ صرف مذکر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے أَنْتَ رَجُلٌ تو آدمی ہے

نوٹ : تم اور آپ کے لئے بھی عربی میں ”انت “ ہی استعمال ہوتا ہے۔

(سبق: ۱۰)

ضمائر متصلہ ه، هَا، كَ، ي جیسے :

كِتَابُهُ :اس کی کتاب (مذکر)

كِتَابُهَا :اس کی کتاب (مؤنث)

هذَا مُحَمَّدٌ وَهَذَا كِتَابَهُ. یہ محمد ہے اور یہ اس کی کتاب ہے

تِلْكَ فَاطِمَةً وَهَذَا بَيْتُهَا . وہ فاطمہ ہے اور یہ اس کا گھر ہے

كِتَابُكَ: تیری کتاب

کتابی: میری کتاب

أهْذَا كِتَابُكَ؟ کیا یہ تیری کتاب ہے ؟

نَعَمْ، هَذَا كِتَابِي :ہاں۔ یہ میری کتاب ہے۔

یہ ضمائر ہمیشہ کسی کلمہ کے ساتھ مل کر استعمال ہوتے ہیں۔ کسی کلمہ کے ساتھ ملے بغیر ان کا استعمال نہیں ہو گا۔

(سبق:۱۲)

اس سے پہلے ہم أنت (تو) پڑھ چکے ہیں۔ یہاں ہم انتِ (تو) واحد مؤنث پڑھیں گے جیسے :

مِنْ أَيْنَ أَنْتِ يَا آمِنَةُ؟ اے آمنہ! تیرا تعلق کہاں سے ہے؟

۔ اس سے پہلے ہم ضمیر مذکر متصل ك پڑھ چکے ہیں جیسے :

أَيْنَ أَبُوكَ يَا مُحَمَّدُ ؟ اے محمد ! تیرا باپ کہاں ہے ؟

یہاں ہم کِ پڑھیں گے جیسے :

أَيْنَ بَيْتُكِ يَا مَرْيَمْ؟ اے مریم تیرا گھر کہاں ہے؟

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) ۲۷

ضمائر کی قسمیں

ضمائر یا تو متصل ہوگی یا منفصل۔

منفصل ضمائر : کسی اور حرف کے ساتھ مل کر نہیں آتی ہیں، بلکہ مستقل ہوتی ہیں، اور إِلَّا کے بعد بھی واقع ہوتی ہیں:

جیسے: أنا مُسلم میں ایک مسلمان ہوں۔ مَا فَهِمَ الدَّرْسُ إِلَّا أَنْتَ تمہارے علاوہ کسی نے سبق نہیں سمجھا۔

إِيَّاكَ رَأَيْتُ میں نے تم ہی کو دیکھا۔ مَارَأَيْتُ إِلَّا إِيَّاكَ میں نے تمہارے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ متصل ضمائر : یہ مستقل نہیں ہوتی ہیں، بلکہ ہمیشہ کسی دوسرے کلمہ کے ساتھ تجوری ہوتی ہیں، جیسے: رایتک میں نے تمہیں دیکھا میں ت اور ک، اس میں ت ضمیر متصل ہے اور اس کا معنی ہے: میں،ک بھی ضمیر متصل ہے اور اس کا معنی ہے: تجھے (تمہیں)۔

ہم جانتے ہیں کہ اسم اپنے آخری حرکت کی تبدیلی کے ذریعہ جملہ میں اپنے عمل کو بتاتا ہے، جیسے: دَخَلَ الْوَلَدُ سَأَلْتُ الْوَلَد، قُلْتُ لِلْوَلِد. لیکن ضمائر کی حرکت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے بلکہ وہ خود بدل جاتی ہیں، جیسے: مَنْ أَنتَ ؟ اور أَسْأَلُكَ اس میں أَنْتَ مرفوع اور ک منصوب ہے۔

اسی لئے ضمائر کے دو گروپ ہیں، ایک ضمائر رفع اور دوسرا ضمائر نصب اور جر، پھر ان دونوں کے دو دو صیغے ہیں، ایک حالت انفصال میں اور دوسرا حالت اتصال میں۔

Read the rest (40)

ضمائر رفع

منفصل ضمائر

ضمائر غائب: هُوَ، هُمَا، هُمْ ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ .

ضمائر مخاطب : أنتَ ، أَنْتمَا، أَنْتُمْ أَنتِ، أَنْتُمَا أَنتُنْ

ضمائر متكلم : أنا، نَحْنُ.

متصل ضمائر

(۱) ت متحرکہ جیسے کہ : ذَهَبْتُ ، ذَهَبْتُمَا ذَهَبْتُمْ، ذَهَبْتِ، ذَهَبْتُنَّ میں ہے۔

(٢ الف تثنیہ جیسے کہ: ذَهَبًا، ذَهَبَتا، يَذْهَبَانِ، تَذْهَبَانِ اور اذْهَبا میں ہے۔

(۳) واوِ جمع جیسے کہ: ذَهَبُوا يَذْهَبُوْنَ، تَذْهَبُون اور اذْهَبُوا میں ہے۔

(٤) ی مخاطبہ جیسے کہ تَذْهَبَيْنَ اور اذْهَبی میں ہے۔

(۵) نون نسوه جیسے کہ : ذَهَبْنَ ، يَذْهَبْنَ، تَذْهَبْنَ اور اذْهَبْنَ میں ہے۔

(۶) نا (ضمیر جمع متکلم) جیسے کہ : ذَهَبْنَا میں ہے۔

ذیل کے صیغوں میں ضمائر رفع مستتر ہوتی ہیں:

(۱) ماضی کے ان دو صیغوں ذَهَبَ اور ذَهَبَتْ میں۔

نوٹ:۔ ذَهَبَتْ کی ت ضمیر نہیں بلکہ تانیث پر دلالت کرنے والا حرف ہے۔

(۲) مضارع کے ان چار صیغوں میں: يَذْهَبُ، تَذْهَبُ، أَذْهَبُ اور نَذْهَبُ.

ضمائر نصب

منفصل ضمائر

آپ نے اس سے پہلے یہ صیغے نہیں پڑھے ہیں، یہ لفظ آیا اور ضمیر نصب متصل ( جنہیں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، جیسے بک وغیرہ) سے مرکب ہوتے ہیں۔

ضمائر غائب: إيَّاهُ، إِيَاهُمَا، إِيَا هُمْ، إِيَاهَا، إِيَا هُمَا إِيَا هُنَّ.

ضمائر مخاطب : إِيَّاكَ، إِيَّاكُمَا إِيَا كُمْ، إِيَاكِ، إِيَاكُمَا إِيَا كُنَّ.

ضمائر متكلم : ايا يّ، ايا نا.

متصل ضمائر

یہ ضمائر مستقل نہیں آتی ہیں بلکہ کسی فعل یا ان اور اس کی اخوات کے ساتھ مل کر آتی ہیں: ضمائر غائب سَأَلَهُ، سَأَلَهُمَا، سَأَلَهُمْ، سَأَلَهَا، سَأَلَهُمَا، سَأَلَهُنَّ.

ضمائر مخاطب: سألكَ، سَألُكُمَا ، سَألَكُمْ، سَألَك، سَألَكُمَا، سَأَلَكُنَّ.

ضمائر متكلم: سَأَلَنِي ، سَأَلَنَا.

ضمائر جر

ضمائر جر ہمیشہ متصل ہوتی ہیں اور ضمائر نصب کی طرح ہوتی ہیں، جیسے منہ، مِنْهُمَا، مِنْهُمْ، مِنْهَا، مِنْهُنَّ، مِنْكَ، مِنْكُمَا مِنْكُمْ مِنْكِ، مِنْكُمَا مِنْكُنَّ، مِنِّي، مِنَّا.

منفصل ضمائر کب استعمال ہوں گے؟

ذیل کی صورتوں میں ضمائر نصب منفصل ہوں گی :

(۱) اگر مفعول بہ ہو اور فعل پر مقدم ہو ، جیسے: نعبدی ہم تیری عبادت کرتے ہیں إِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم صرف تیری ہی کی عبادت کرتے ہیں ک نَعْبُدُ کہنا غلط ہے اس لئے کہ وہ متصل ضمیر ہے اور مستقل نہیں ہو سکتی۔

(۲) اگر وہ مصدر کا مفعول بہ ہو، جیسے: تنتظرُ زِيَارَةَ الْمُدِيرِ إِيَّانَا ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ ہیڈ ماسٹر صاحب ہمارے یہاں آئیں گے۔ اس مثال میں اِيَّانَا مصدر زِيَارَةٌ کا مفعول بہ ہے، ایک اور مثال یہ ہے: مُسَاعَدَتُكَ إِيَّايَ كَانَتْ قَبْلَ مُسَاعَدَتِي إِيَّاكَ میری تمہاری مدد سے پہلے تم نے میری مدد کی تھی ۔ ( میں تمہاری مدد کرتا اس سے پہلے تم نے میری مدد کی تھی )

۳) اگر وہ حرف عطف کے بعد ہو، جیسے: رَأَيْتُكَ وَإِيَّاهُ میں نے تمہیں اور اسے دیکھا۔ یہاں ہم رَأَيْتُكَ وہ نہیں کہہ سکتے ، اس لئے کہ ہ ضمیر متصل ہے اور مستقل نہیں آسکتی ہے ، اسی طرح ہم کہتے ہیں: إِنِّي وَ إِيَّاكَ نَاجِحَانِ

یقینا میں اور تم ، دونوں کامیاب ہیں إِنِّي وَكَ يا إِني وَأَنتَ کہنا صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ انت ضمیر رفع ہے۔

(۴) اگر الا کے ساتھ آئے، جیسے : لا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں مَا سَأَلْتُ إِلَّا إِيَّاكَ میں نے آپ کے سوا کسی سے نہیں مانگا۔

(۵) اگر وہ ضمیر نصب کے بعد آئے، جیسے اینَ مَجَلَّهُ الْمُدِيرِ ؟ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا ہیڈ ماسٹر کا پرچہ کہاں ہے؟ میں نے وہ انہیں دے دیا یہاں أَعْطَيْتُها کہنا صحیح نہیں ہوگا لیکن دونوں ضمیریں ہم رتبہ نہ ہوں بلکہ مختلف الرتبہ ہوں تو دوسری ضمیر متصل یا منفصل دونوں طرح صحیح ہے، اگر چہ اس کا متصل ہونا زیادہ بہتر ہے، جیسے: اين كتابي؟ میری کتاب کہاں ہے؟ أَعْطَيْتُكَهُ أَعْطَيْتُكَ إِيَّاه وہ تو میں نے تمہیں دے دی ہے۔

Open this topic with all books

اسم اشارہ دیگر کتب میں3

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ : أَسْمَاءُ تَدُلُّ عَلَى مُعَيْنِ مُشَارٍ إِلَيْهِ.

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ هي :

ذا : لِلْمُفْرَدِ الْمُذَكَّر

ذه : لِلْمُفْرَدَةِ الْمُؤَنَّثَةِ

ذَانِ : لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّر

تان : لِلْمُثَنَّى الْمُؤنَّثِ

أولاء : لِجَمْعِ الْعُقَلَاءِ مِنْ ذُكُورٍ أَوْ إِنَاث.

اسْمُ الإِشَارَةِ لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّرِ أَوِ الْمُؤَنَّثِ يُعَامَلْ مُعَامَلَة الْمُثَنَّى فَيَكُونُ بِالْأَلِفِ فِي حَالَةِ الرفع ، وبِاليَاءِ فِي حَالَتَى النَّصْبِ وَالْجَرْ

Read the rest (23)

اسماء اشارہ وہ اسماء ہیں جو ایک معین مشار الیہ پر دلالت کرتے ہیں۔

اسماء اشارہ یہ ہیں:

ذا :... مفرد مذکر کے لئے

ذه: مفرد مونث کے لئے

ذان: ... تثنیه مذکر کے لئے

تان: تثنیہ مؤنث کے لئے

اولاء: ..... مذکر و مونث عقلاء کی جمع کے لئے

تثنیہ مذکر اور مؤنث کے لئے اسماء اشارہ، تثنیه کی طرح حالت رفع میں الف اور حالت نصب و جر میں یاء کے ساتھ آتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) ذَا رَجُلٌ شَرِيفٌ

(۲) هَذَا كِتَابٌ نَافِع

(۳) ذِهِ امْرَأَةٌ تَعْتَنِي بِأَوْلَادِهَا

(٤) هَذِهِ حُجْرَةٌ وَاسِعَة

(۵ ) ذَانِ وَلدَانِ مُهَذِّبَانِ

(٦ ) إِنَّ هَذَيْنِ فَائِزَان

(۷) تَان وَرْدَتَانِ مُفَتَّحَتَانِ .

(۸) إِنَّ هَاتَيْنِ بِنْتَانِ مُطِيعَتَانِ

(۹ ) أُولَاءِ تُجَّارٌ صَادِقُونَ

(۱۰) هَؤُلَاءِ صُنَّاعٌ مَا هِرُونَ

(۱۱ ) أُولَاء بَنَاتُ نَظيفات

(۱۲ ) هَؤُلاء تِلْمِيذَاتُ لَطِيفَاتٌ

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶

عربی میں اسم اشارہ کے دس صیغے آتے ہیں پانچ اشارہ قریب کے لئے اور پانچ اشارہ بعید کے لئے ذیل کے نقشے میں دیکھو۔

اشاره قریب

واحد مذکر هذا

تثنیہ مذکر هذان

جمع مذکر هؤلاء

واحد مؤنث ھذہ

تثنیہ مؤنث هاتان

جمع مؤنث هؤلاء

Read the rest (17)

اشاره بعید

واحد مذکر ذلك

تثنیہ مذکر ذانك

جمع مذکر اوليك

واحد مؤنث تلک

تثنیہ مؤنث تانک

جمع مؤنث اوليك

اسمائے اشارہ معرفہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا استعمال بطور مبتداء کے بھی ہوتا ہے جس طرح یہ فاعل اور مفعول کے طور پر لائے جاتے ہیں۔ کبھی اسم اشارہ تنہا مبتداء ہوتا ہے اور کبھی اپنے مشار الیہ کے ساتھ مل کر مبتداء بنتا ہے اس صورت میں اسم اشارہ موصوف اور مشار الیہ صفت واقع ہوگا پھر یہ دونوں ملکر مرکب توصیفی کی صورت میں مبتداء ہو نگے۔ درج ذیل جملوں کے فرق پر غور کریں۔

(۱) هذا قلم ( یہ ایک قلم ہے)

(۲) هذَا قلَم جَمِيلٌ (یہ ایک خوبصورت قلم ہے )

(۳) هذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ (یہ قلم خوبصورت ہے)

(۴) هذَا الْقَلَمُ، قَلَمٌ جميلٌ (یہ قلم) ایک خوبصورت قلم ہے

پہلے اور دوسرے جملہ میں ھذا اسم اشارہ تنہا مبتداء ہے اوردوسرے اور تیسرے جملے میں ھذا القلم اشارہ اور مشار الیہ مل کر مبتداء ہیں۔

اسی طرح خبر بھی پہلے اور تیسرے جملے میں خبر مفرد ہے اور دوسرے اور چوتھے میں مرکب توصیفی ہے۔ قلم جمیل خبر ہے اس قسم کے جملے عربی میں بہت آئیں گے اگر قلم کو مثلا تم مبتداء بنانا چاہتے ہو تو اس کو معرفہ بنا لو اور اگر خبر بنانا چاہتے ہو تو نکرہ کی صورت میں لکھو۔

غیر ذوی العقول کی جمع کیلئے اسم اشاره واحد مونث استعمال کیا جاتا ہے اس لئے کہ غیر ذوی العقول کی جمع واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے۔

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۵

اسماء الإشارة

اسم الإشارة: اسم مبني يدل على معين بالإشارة إليه، نحو: هذا قلم، وذلك كتاب. سبب بنائها كونها محتاجه في الدلالة على معناها (أي: على شي معين) إلى قرينة الإشارة كاحتياج الحرف إلى كلمة أخرى ففي المثال الأول "هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ، وفي الثاني" ذلك" مبني على الفتح في محل رفع مبتدأ)

(۱) أسماء الإشارة هي:

ذا اللمفرد المذكر - ذي و ذه، و تا و ته للمفردة المؤنثة.

ذان رفعا، وذين نصبا وجرا للمثنى المذكر.

تان رفعا وتين نصبا وجرا للمثنى المؤنث.

أولاء للجمع المذكر والمؤنث العاقل - هنا للمكان

Read the rest (83)

(ب) أسماء الإشارة المذكورة تكون للإشارة إلى القريب، وفي هذه الحالة تدخل عليها ها التنبيه، وبعد دخولها تكون هكذا هذا، هذه هذان، هذين هاتان هاتین، هؤلاء هاهنا

(ج) إذا أريد بالأسماء المذكورة الإشارة إلى البعيد أتي بالكاف، أو بالكاف واللام في آخرها، وتسمى الكاف حرف خطاب ولا موضع لها من الإعراب، فأسماء الإشارة إلى البعيد هي: ذلك وذلك للمفرد المذكر تاك وتلك للمفردة المؤنثة.

ذانك للمثنى المذكر - تانك للمثنى المؤنث ( وهما قليلا الاستعمال )

أولئك لجمع المذكر والمؤنث العاقل - هناك وهنالك للمكان البعيد.

المحل الإعرابي لأسماء الإشارة:

أسماء الإشارة مبنية (ما عدا هذان" و"هاتان" فهما معربان إعراب المثنى) لا يتغير آخرها، لكن تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، لأنها ليست مبنية الأصل التي لا يكون لها محل من الإعرب، وهي

(۱) الفعل الماضي، (۲) فعل الأمر المعروف حال كونه مسندا إلى ضمائر الخطاب (۳) جميع الحروف مثل: هذا كتاب (ھذا اسم إشارة مبني على السكون في محل رفع مبتدأ۔)

- يشار إلى جمع غير عاقل سواء أكان مذكرااً ومؤنثا باسم الإشارة للمفردة المؤت نحو: هذه أقلام وتلك سيارات، قلما يشار اليه بـ "هؤلاء، أو أولئك " مثل قوله تعالى: (ان السمع والبصر والفواد كل أولئك كان عنه مسئولا)

إذا وقع بعد إسم الاشارة اسم مقترن بـ"ال " أعرب على أنه بدل من اسم الإشارة فيأخذ حكمه الإعرابي، مثل: هذا الطالب مجتهد ( هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ "الطالب" بدل من اسم الإشارة "هذا مرفوع وعلامة رفعه الضمة "مجتهد" خبر مرفوع وعلامة رفعه الضمة )

اسم الإشارة يطابق المشار إليه في تذكيره وتأنيثه، وافراده وتثنيته وجمعه مثل: هذا كتاب، تلك سيارة هذان طالبان، هاتان طالبتان، هؤلاء طلاب

إذا اتصلت باسم الاشارة الكاف وهي حرف الخطاب لا محل لها من الإعراب) وذكر بعده المخاطب فإن الكاف تطابق المخاطب في الافراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث مثل : ذلك كتاب مفيد يا محمد ، ذلك الكتاب مفيد يا أختي ، ذلكما الكتاب مفيد يا صديقي ، ذلكم الكتاب مفيد يا أصدقائي ، ذلكن الكتاب مفيد يا أخواتي.

تدخل كاف التشبيه على اسم الإشارة "ذا" مثل : أكذا كتابك ؟ (أي: أمثل ذاكتابك )

وقد تدخل هاء التنبيه على "كذا" مثل: أهكذا كتابك (أي: أمثل ذا كتابك )

اسماء اشارہ:

اسماء اشارہ وہ اسم مبنی ہیں جو کسی معین چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "هذا قلم، وذلك كتاب "۔ یہ اسماء مخصوص طور پر کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور عام طور پر ان کے ساتھ ایک جسمانی یا ذہنی اشارہ کیا جاتا ہے۔

(1) اسماء اشارہ کی اقسام:

مفرد مذکر کے لیے: ذا (یہ)۔

مفرد مؤنث کے لیے: ذي، ذه، تا، تِه (یہ)۔

مثنی مذکر کے لیے (رفع): ذان (یہ دونوں)۔

مثنی مذکر کے لیے (نصب و جر): ذين (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (رفع): تان (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (نصب و جر): تين (یہ دونوں)۔

جمع مذکر اور مؤنث عاقل کے لیے: اولاء (یہ سب)۔

مکان کے لیے: هنا (یہاں)۔

(ب) قریب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے قریب کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں ہاء التنبیہ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذَا (یہ مذکر)۔

هَذِهِ (یہ مؤنث)۔

هَذَانِ (یہ دونوں مذکر)۔

هَاتَانِ (یہ دونوں مؤنث)۔

هؤلاء (یہ سب)۔

هاهنا (یہاں)۔

(ج) دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے دور کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں کاف یا کاف اور لام کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ اسماء اشارہ دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

ذَلِكَ (وہ مذکر)۔

تِلْكَ (وہ مؤنث)۔

ذَانِكَ (وہ دونوں مذکر)۔

تَانِكَ (وہ دونوں مؤنث)۔

أُولَئِكَ (وہ سب)۔

هُنَاكَ اور هُنَالِكَ (وہاں)۔

اسماء اشارہ کا محل اعراب:

اسماء اشارہ مبنی ہوتے ہیں، یعنی ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، سوائے ہذان اور هاتان کے، جو مثنی ہونے کی وجہ سے معرب ہوتے ہیں۔ اسماء اشارہ جملے میں مختلف مواقع پر رفع، نصب یا جر کی حالت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

مثالیں:هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے) — هَذَا: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

ذَلِكَ كِتَابٌ (وہ کتاب ہے) — ذَلِكَ: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

جمع غیر عاقل کے لیے:

غیر عاقل اشیاء کی طرف اشارہ کرنے کے لیے عموماً مؤنث مفرد کا اسم اشارہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذِهِ أَقْلَامٌ (یہ قلم ہیں)۔

تِلْكَ سَيَّارَاتٌ (وہ گاڑیاں ہیں)۔

بعض اوقات غیر عاقل جمع کے لیے هؤلاء یا أُولَئِكَ بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے:

"إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا" (ترجمہ: بے شک، کان، آنکھ اور دل سب کے سب ذمہ دار ہوں گے)۔

اسم اشارہ اور "ال" کا استعمال:

اگر اسم اشارہ کے بعد کوئی اسم "ال" کے ساتھ آئے تو اسے بدل قرار دیا جاتا ہے اور اس کا اعراب وہی ہوتا ہے جو اسم اشارہ کا ہوتا ہے۔

مثال: هَذَا الطَّالِبُ مُجْتَهِدٌ ۔ هَذَا: اسم اشارہ مبتدا ہے۔ الطَّالِبُ: بدل ہے اور مبتدا کی طرح مرفوع ہے۔ مُجْتَهِدٌ: خبر ہے۔

اسم اشارہ اور کاف خطاب:

اسم اشارہ میں اگر کاف خطاب کا اضافہ ہو تو یہ مخاطب کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، یعنی واحد، تثنیہ، جمع اور تذکیر و تانیث کے اعتبار سے تبدیل ہوتی ہے۔

مثالیں:

ذَلِكَ كِتَابٌ مُفِيدٌ يَا مُحَمَّدُ (وہ کتاب مفید ہے اے محمد)۔

ذَلِكَ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أُخْتِي (وہ کتاب مفید ہے اے میری بہن)۔

ذَلِكُمُ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أَصْدِقَائِي (وہ کتاب مفید ہے اے میرے دوستو)۔

عمومی نکات:

اسم اشارہ مفرد، مثنی اور جمع میں مشار الیہ کے مطابق ہوتے ہیں، جیسے:

هَذَا كِتَابٌ (یہ کتاب ہے)۔

تِلْكَ سَيَّارَةٌ (وہ گاڑی ہے)۔

هَاتَانِ طَالِبَتَانِ (یہ دونوں طالبات ہیں)۔

کاف تشبیہ کا استعمال بھی بعض اوقات اسم اشارہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جیسے: أَكَذَا كِتَابُكَ؟ (کیا تمہاری کتاب بھی ایسی ہے؟)

اور کبھی ھاء تنبیہ بھی داخل ہو تا ہے جیسے : أَھكَذَا كِتَابُكَ

Open this topic with all books

اسم موصول دیگر کتب میں3

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۷

الاِسْمُ المَوْصُولُ: هُوَ اِسْمٌ مَعْرِفَةٌ يَتَعَيَّنُ المَقْصُودُ مِنْهُ بِجُمْلَةٍ بَعْدَهُ تُسَمَّى صِلَةً۔

يَجِبُ أَنْ تَشْتَمِلَ الصِّلَةُ عَلَى ضَمِيرٍ يَعُودُ عَلَى المَوْصُولِ، يُسَمَّى عَائِدًا.

الأَسْمَاءُ المَوْصُولَةُ ھِیَ:

الذي...... للمفرد المذكر

الذين....... لجماعة الذكور

التي....... للمفردة المؤنثة

اللاتي...... لجماعة الإناث

اللذان...... للمثنى المذكر

Read the rest (25)

اللتان....... للمثنى المؤنث

مَن ....... للعاقل مطلقا

ما..... لغير العاقل مطلقا

اسم موصول وہ معرفہ ہے جس کا مطلب اس کے بعد آنے والے جملے سے واضح ہوتا ہے اس کو صلہ کہتےہیں۔

صلہ میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو موصول کی طرف لوٹے، اسے عائد کہتےہیں۔

اسماء موصوله حسب ذیل ہیں:

الذي........ واحد مذکر کے لئے

الذين .... جمع مذکر کے لئے

التي......... واحد مونث کے لئے

اللاتي….. جمع مؤنث کے لئے

اللذان…... تثنیه مذکر کے لئے

اللتان….. تثنیه مونٹ کے لئے

مَن….. عاقل کے لئے

ما….. غیر عاقل کے لئے

الأمثلة

(۱) غَلَبْتُ الَّذِي غَلَبَنِي

(۲) سَافَرَتِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَنَا

(۳) حَضَرَ اللَّذَانِ كَانَا مُسَافِرَيْنِ

(٤) جَاءَتِ اللَّتَانِ تَسْكُنَانِ أَمَامَنَا

(۵) أُحِبُّ الَّذِينَ عَلَّمُونِي

(٦) رَأَيْتُ اللَّائِي يَشْتَغِلْنَ فِي الْمَصْنَعِ

(۷) أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ

(۸) لا تَأْكُلْ مَا لَا تَسْتَطِيعُ هَضْمَهُ

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۹

(اسم موصول)

اسم اشارہ کی طرح اسم موصول کے بھی چھ صیغے آتے ہیں ۔

الذي الذانِ الذين

التي اللتَانِ اللاتي

ان کے علاوہ من اور ما اور ای بھی اسم موصول ہیں ۔

من عاقل کے لئے اور ما غیر عاقل کے لئے مطلقا، یعنی واحد تثنیه جمع اور مذکر مونث سب کے لیئے اور اسی طرح ایّ بھی ۔

ان کلمات کا ترجمہ جو، جس ، جو شخص، جس چیز وغیرہ سے کیا جاتا ہے جس سے مقصود بہ واضح نہیں ہوتا کہ کون یا کیا چیز مراد ہے، اس لئے اس کے بعد ایک دوسرا جملہ لایا جاتا ہے۔ جو مقصود بہ کو واضح کرتا ہے۔ اس دوسرے جملہ کا نام صلہ ہے ۔

صلہ میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے، اس ضمیر کو عائد لوٹنے والی کہتے ہیں۔ عائد اپنے اسم موصول کی مناسبت سے واحدہ تثنیه جمع اور مذکر و مونث کی مختلف شکلوں میں بدلتا رہتا ہے ۔ ذیل کی مثالیں پڑھو:-

Read the rest (10)

أحِبُّ الذي يصدق

أحِبُّ اللَّذَيْنِ يَصْدُ قَانِ

أحِبُّ الذِينَ يَصْدُ قُون

أُحِبُّ الَّتِي تَصدق

أحِبُّ اللتين تصدُقَانِ

أَحِبُّ اللَّاتِي يَصُدُ قۡنَ

توفِّيت التي كانت مريضة

نجح الذين كانوا يَجْتَهِدُونَ

نوٹ : - من ، ما اور ایُّ کا استعمال بطور مبتدا، فاعل یا مفعول تینوں طرح سے ہوتا ہے اور اسی طرح الذی وغیرہ کا بھی ، البتہ الذی الذان وغیرہ بطور صفت کے زیادہ مستعمل ہیں ۔

(۲) اسمائے موصولہ معرفہ ہوتے ہیں اس لئے اسم موصول اسی لفظ کی صفت واقع ہو گا جو کہ معرفہ ہو ۔ تاکہ موصوف صفت میں مطابقت ہو سکے ، مگر یہاں اتنی بات یاد رکھنی چاہئے طلبہ اسمیں اکثر غلطی کے شکار ہوتے ہیں کہ نکرہ کی صفت اسم موصول سے لے آتے ہیں۔ مثلاً جاء رجل الذي كان منتظراً یہ غلط ہے الرجل ہونا چاہیے۔

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۶

الأسماء الموصولة

الاسم الموصول: هو اسم مبني يدل على معين بواسطة جملة تذكر بعده مشتملة على

ضميره وتسمى صلة الموصول، نحو: أحب الذي تحبه.

سبب بنائها : احتياجها إلى الصلة في الدلالة على معناها كاحتياج الحرف إلى كلمة أخرى الأسماء الموصولة قسمان: خاصة ومشتركة.

فالأسماء الموصولة الخاصة هي التي تختلف صورها بالإفراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث حسب مقتضى الكلام، وهي ما ياتي:

۱۔ الذي للمفرد المذكر مطلقا (أي: العاقل وغيره) مثل: حضر الذي نجح، الكتاب الذي عندك مفيد. ۲۔ التي للمفردة المؤنثة مطلقا مثل: جاءت الطالبة التي نجحت بالامتياز السيارة التي عندك ثمينة.

۳۔ اللذان: رفعا واللذين نصبا وجرا للمثنى المذكر مطلقا، مثل: سافر اللذان أقاما بالفندق، الكتابان اللذان عندك مفيدان

Read the rest (119)

۴۔ اللتان: رفعا واللتين نصبا وجرا للمثنى المؤنث مطلقا، مثل اللتان اجتهدتا نجحتا في الاختبار السيارتان اللتان عندك ثمينتان.

۵۔ الذين : لجمع المذكر العاقل، مثل لا أحب الذين يفتخرون على أموالهم. اللاتي واللائي : لجمع المؤنث مطلقا، مثل: أحسنت الطالبات اللاتي ألقين الخطب وماتت البقرات اللاتي أكلت شيئا مسموما.

۶۔ الألى: الجمع المذكر والمؤنث، مثل: جاء التلاميذ الألى ذهبوا والتلميذات الألي ذهبن.

الأسماء الموصولة المشتركة هي التي تكون بلفظ واحد للجميع فيشترك فيها المفرد والمثنى والجمع والمذكر والمؤنث، وهي ما يلي:

ا۔ من العاقل مذكرا كان أو مونثاء مفرداً كان أو مثنى أو جمعا مثل: جاء من قام، جاءت من قامت جاء من قاما، جاءت من قامتاء جاء من قاموا، جاءت من قمن

۲۔ ما "لغير العاقل " مذكرا كان أو مؤنثاء مفردا كان أو مثنى أو جمعا مثل: أعجبني ما كتبت من مقال وأعجبني ما كتبت من قصة ، أو ما كتبت من قصتين، أو ما كتبت من قصص.

۳۔ وأي: للعاقل وغير العاقل، مفردا كان أو مثنى أو جمعاء مثل: جاءني أي قام، وأي قاما، وأي قاموا، وأي قامت، وأي قامتا، وأي قمن (تقديرها: جاءني الذي قام اللذان قاما لي) ومؤنثها أية وتبنى على الضم بشرط إضافتها إلى المعرفة، وحذف الضمير الواقع صدر صلتها، نحو: أيكم مؤدب (تقديره : أيكم هو مؤدب) وفي هذا المثال "أي اسم موصول للعاقل، مبني على الضم في محل رفع مبتدأ وهو مضاف وكم مضاف إليه) ومثال غير العاقل، أكلت أي الطعام طازج وتقديره: أي الطعام هو طازج ، في هذا المثال "أين اسم موصول لغير العاقل مبني على الضم في محل نصب مفعول به، وهو مضاف، والطعام مضاف إليه )

- يجب تقديم العامل على " أي " الموصولية للفرق بينها وبين "أي" الشرطية والاستفهامية، فإن عاملهما لا يكون إلا مؤخرا عنهما لوجوب تصدرهما في أول الكلام

۴۔ ذا تأتي اسما موصولا بشروط ثلاثة:

ا۔ أن تكون مسبوقة بـ " من " الاستفهامية، وفي هذه الحالة تكون للعاقل أو بما الاستفهامية، وفي هذه الحالة تكون لغير العاقل.

٢۔ ألا تصير عند تركيبها مع إحداهما كلمة واحدة للاستفهام.

ألا تكون للإشارة، وتكون للإشارة إذا وقع بعدها الاسم، لأن الاسم لا يصلح للصلة التي يشترط فيها أن تكون. جملة أو شبه جملة، وإذا وقع بعدها الفعل فتكون موصولة لأن الفعل صالح للصلة، وغير صالح للإشارة)

وتستعمل بلفظ واحد للمذكر والمؤنث مفردا كان أو مثنى أو مجموعا فتقول: من ذا ذهب، من ذا ذهبا، من ذا ذهبوا من ذا ذهبت من ذا ذهبتا من ذا ذهبن.

۵۔ ذو في لغة بني طي، وتكون للعاقل وغير العاقل مفردا كان أو مثنى، أو مجموعاء مذكرا كان أو مؤنثا على الرأى المشهور، مثل: جاء ني ذو قام، وذو قامت، وذو قاما، وذو قامتا، وذو قامواء وذو قمن

تبنى "ذو الطائية على الرأى المشهور مثل: جاء ني ذو قام، رأيت ذو قام، ومررت بذو قام.

۶۔ "ال" للعاقل وغيره، نحو: جاء في القائم والمركوب، وتكون اسما موصولا بشرط أن يكون مادخلت عليه صفة صريحة وهذا ينطبق على اسم الفاعل وصيغ المبالغة، واسم المفعول، نحو: جاء الشاكر، والمشكور، والشكور (ال" في هذه الأمثلة اسم موصول بمعنى الذي لكن ليس له محل من الاعراب)

المحل الإعرابي للأسماء الموصولة:

تكون الأسماء الموصولة في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، مثل الذي اجتهد نجح الذي اسم موصول مبني على السكون في محل رفع مبتدأ إن الذين اجتهدوا نجحوا الذين: اسم موصول مبني على الفتح في محل نصب اسم إن أحسن إلى الذي يحتاج إلى الإحسان (الذي: اسم موصول مبني على السكون في محل جر مجرور بالحرف)

صلة الموصول تكون:

(۱) جملة فعلية كما في الأمثلة المذكورة.

(ب) أو جملة اسمية مثل: حضر الذين هم أصدقائي

(ج) أو ظرفاء، مثل: انظر إلى اللوحة التي أمامك.

(د) أو جاراً ومجروراء مثل: من والد الذي في السيارة؟

يشترط في جملة الصلة فعلية كانت أو اسمية أن تشتمل على ضمير غائب يربطها بالموصول، ويطابقه في التذكير والتانيث، والإفراد والتثنية والجمع، ويسمى بـ "العائد مثل: جاء الذي أكرمته، والتي أكرمتها، واللذان أكرمتهما، والذين أكرمتهم، واللاتي أكرمتهن - هذا في الموصول المختص، أما المشترك ففيه وجهان:

(۱) مراعاة اللفظ، فيكون مفردا مذكرا مع الجميع وهو الأكثر، نحو: ومنهم من يستمع إليك)

(۲) ومراعاة المعنى، نحو: ومنهم من يستمعون إليك

جملة الصلة لا يكون لها محل من الإعراب.

يقدر في صلة الموصول التي تكون ظرفاً أو جارًا ومجرورا فعل محذوف وجوبا تقديره: استقر، فتقدير المثالين المذكورين: استقرت أمامك، استقرفي السيارة.

اسم موصول:

اسم موصول: وہ اسم جو کسی معین چیز پر دلالت کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک جملہ آتا ہے جو اس کے ضمیر پر مشتمل ہوتا ہے، اسے صلة الموصول (یعنی موصول کا صِلہ) کہا جاتا ہے، جیسے: أحب الذي تحبه (مجھے وہ پسند ہے جسے تم پسند کرتے ہو)

اسماء موصولہ کے مبنی ہونے کی وجہ:

یہ اپنی صلہ کے محتاج ہوتے ہیں تاکہ اپنے معنی کو مکمل کر سکیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی حرف اپنے معنی کو مکمل کرنے کے لیے دوسرے لفظ کا محتاج ہوتا ہے۔

اسماء موصولہ کی اقسام:

اسماء موصولہ دو قسم کے ہوتے ہیں:خاصہ (مخصوص) ، مشترکہ (عام)

1- اسماء موصولہ خاصہ (مخصوص موصولی اسماء):

یہ وہ اسماء ہوتے ہیں جو واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث کے اعتبار سے مختلف صورتوں میں آتے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں:

الف- مذکر و مؤنث کی تفصیل:

۱۔ الذي واحد مذکر کے لیے (چاہے عاقل ہو یا غیر عاقل) حضر الذي نجح (وہ آیا جو کامیاب ہوا) الكتاب الذي عندك مفيد (وہ کتاب جو تمہارے پاس ہے مفید ہے)

۲۔ التي واحد مؤنث کے لیے جاءت الطالبة التي نجحت بالامتياز (وہ طالبہ آئی جو امتیازی کامیاب ہوئی) السيارة التي عندك ثمينة (وہ گاڑی جو تمہارے پاس ہے قیمتی ہے)

۳۔ اللذان (رفع) اللذين (نصب و جر) تثنیہ مذکر کے لیے سافر اللذان أقاما بالفندق (وہ دونوں چلے گئے جو ہوٹل میں ٹھہرے تھے) الكتابان اللذان عندك مفيدان (وہ دونوں کتابیں جو تمہارے پاس ہیں مفید ہیں)

۴۔ اللتان (رفع) اللتين (نصب و جر) تثنیہ مؤنث کے لیے اللتان اجتهدتا نجحتا في الاختبار (وہ دونوں لڑکیاں جو محنت کیں کامیاب ہو گئیں) السيارتان اللتان عندك ثمينتان (وہ دونوں گاڑیاں جو تمہارے پاس ہیں قیمتی ہیں)

۵۔ الذين جمع مذکر عاقل کے لیے لا أحب الذين يفتخرون على أموالهم (مجھے وہ لوگ پسند نہیں جو اپنے مال پر فخر کرتے ہیں)

۶۔ اللاتي / اللائي جمع مؤنث کے لیے أحسنت الطالبات اللاتي ألقين الخطب (میں نے ان طالبات کی تعریف کی جنہوں نے تقریریں کیں) ماتت البقرات اللاتي أكلت شيئًا مسمومًا (وہ گائیں مر گئیں جنہوں نے زہریلی چیز کھائی تھی)

۷۔ الأُلى جمع مذکر و مؤنث دونوں کے لیے جاء التلاميذ الأُلى ذهبوا (وہ طلبہ آئے جو چلے گئے) والتلميذات الأُلى ذهبن (وہ طالبات آئیں جو چلی گئیں)

2- اسماء موصولہ مشترکہ (عام موصولی اسماء):

یہ وہ اسماء ہیں جو واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے ایک ہی لفظ میں آتے ہیں۔

۱۔ من عاقل کے لیے (واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے) جاء من قام (وہ آیا جو کھڑا ہوا) جاءت من قامت (وہ آئی جو کھڑی ہوئی) جاء من قاما (وہ دونوں آئے جو کھڑے ہوئے) جاء من قاموا (وہ سب آئے جو کھڑے ہوئے)

۲۔ ما غیر عاقل کے لیے (واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے) أعجبني ما كتبت من مقال (مجھے وہ مضمون پسند آیا جو تم نے لکھا) أعجبني ما كتبت من قصتين (مجھے وہ دو کہانیاں پسند آئیں جو تم نے لکھی تھیں)

۳۔ أي عاقل و غیر عاقل دونوں کے لیے جاءني أي قام (میرے پاس وہ آیا جو کھڑا ہوا) أكلت أي الطعام طازج (میں نے وہ کھانا کھایا جو تازہ تھا)

۴۔ ذا اسم موصول بننے کی تین شرائط:

یہ "من" استفہامیہ کے بعد آئے تو یہ عاقل کے لیے ہوگا، اور اگر "ما" استفہامیہ کے بعد آئے تو غیر عاقل کے لیے ہوگا۔

یہ "من" یا "ما" کے ساتھ مل کر ایک لفظ نہ بنے جو استفہام کے لیے استعمال ہو۔

یہ اشارہ کے لیے استعمال نہ ہو، کیونکہ اگر اس کے بعد اسم آجائے تو یہ اشارہ ہوگا، نہ کہ اسم موصول۔ اسم موصول کی صلہ جملہ یا شبه جملہ ہوتی ہے، جبکہ اسم کے بعد آنے والا "ذا" اشارہ ہوتا ہے، نہ کہ موصول۔ اگر اس کے بعد فعل ہو تو یہ موصول ہوگا، کیونکہ فعل صلہ بننے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ اشارہ نہیں بن سکتا۔

یہ واحد، تثنیہ اور جمع کے لیے، اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی صورت میں استعمال ہوتا ہے، جیسے:

من ذا ذهب؟ (کون گیا؟)

من ذا ذهبا؟ (کون دونوں گئے؟)

من ذا ذهبوا؟ (کون لوگ گئے؟)

من ذا ذهبت؟ (کون گئی؟)

من ذا ذهبتا؟ (کون دونوں گئیں؟)

من ذا ذهبن؟ (کون عورتیں گئیں؟)

ذو اسم موصول (بنی طے قبیلے کی زبان میں):

بنی طے قبیلے کی زبان میں "ذو" اسم موصول کے طور پر عاقل و غیر عاقل، واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے:

جاءني ذو قام (وہ آیا جو کھڑا ہوا)

جاءني ذو قامت (وہ آئی جو کھڑی ہوئی)

جاءني ذو قاما (وہ دونوں آئے جو کھڑے ہوئے)

جاءني ذو قامتا (وہ دونوں آئیں جو کھڑی ہوئیں)

جاءني ذو قاموا (وہ آئے جو کھڑے ہوئے)

جاءني ذو قمن (وہ آئیں جو کھڑی ہوئیں)

یہ "ذو الطائیة" کہلاتی ہے اور مشہور رائے کے مطابق یہ ہمیشہ مبنی ہوتی ہے، جیسے:

جاءني ذو قام

رأيت ذو قام

مررت بذو قام

"ال" بطور اسم موصول:

یہ عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے آتا ہے، جیسے: جاءنی القائم و المركوب

یہ اسم موصول تب ہوتا ہے جب وہ کسی صفت صریحہ (اسم فاعل، صیغہ مبالغہ، یا اسم مفعول) پر داخل ہو، جیسے:

جاء الشاكر (وہ آیا جو شکر گزار ہے)

جاء المشكور (وہ آیا جس کی تعریف کی گئی ہے)

جاء الشكور (وہ آیا جو بہت شکر گزار ہے)

یہاں "ال" اسم موصول ہے، مگر اس کا کوئی محل اعرابی نہیں ہوتا۔

اسماء موصولہ کا محل اعرابی:

اسماء موصولہ جملے میں اپنے محل کے لحاظ سے رفع، نصب یا جر میں آتی ہیں، جیسے:

الذي اجتهد نجح (جس نے محنت کی، وہ کامیاب ہوا) → الذي اسم موصول مبنی، محل: مبتدا

إن الذين اجتهدوا نجحوا (بے شک وہ لوگ جنہوں نے محنت کی، کامیاب ہوگئے) → الذين اسم موصول مبنی، محل: اسم "إن" منصوب

أحسن إلى الذي يحتاج إلى الإحسان (اس شخص کے ساتھ بھلائی کرو جو بھلائی کا محتاج ہے) → الذي اسم موصول مبنی، محل: مجرور

صلة الموصول:

اسم موصول کی صلہ درج ذیل ہوسکتی ہے:

جملہ فعلیہ → جاء الذي أكرمته (وہ آیا جسے میں نے عزت دی)

جملہ اسمیہ → حضر الذين هم أصدقائي (وہ آئے جو میرے دوست ہیں)

ظرف → انظر إلى اللوحة التي أمامك (اس تختی کو دیکھو جو تمہارے سامنے ہے)

جار و مجرور → من والد الذي في السيارة؟ (وہ شخص کون ہے جو گاڑی میں ہے؟)

صلة الموصول میں شرط:

جملہ صلہ میں ایک غائب ضمیر ہونا ضروری ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتا ہو، جیسے:

جاء الذي أكرمته (وہ آیا جسے میں نے عزت دی)

جاءت التي أكرمتها (وہ آئی جسے میں نے عزت دی)

جاء اللذان أكرمتهما (وہ دونوں آئے جنہیں میں نے عزت دی)

جاء الذين أكرمتهم (وہ آئے جنہیں میں نے عزت دی)

اسماء موصولہ مشترکہ میں صلہ کے ضمیر کے دو طریقے:

لفظ کے مطابق مفرد مذکر ضمیر → ومنهم من يستمع إليك (ان میں سے کچھ تمہاری بات سنتے ہیں)

معنی کے مطابق صیغہ جمع ضمیر → ومنهم من يستمعون إليك (ان میں سے کچھ لوگ تمہاری بات سنتے ہیں)

یاد رکھیں:

جملہ صلہ کا کوئی محل اعرابی نہیں ہوتا۔

اگر صلہ ظرف یا جار و مجرور ہو، تو اس میں فعل محذوف مانا جاتا ہے، جیسے:

انظر إلى اللوحة التي أمامك → تقدیر: استقرت أمامك

من والد الذي في السيارة؟ → تقدیر: استقر في السيارة

Open this topic with all books

اسماء شرط دیگر کتب میں3

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸

(ادوات الشرط)

جملہ شرطیہ دو جملوں سے مل کو پورا ہوتا ہے۔ پہلے کو شرط اور دوسرے کو جزا کہتے ہیں جیسے : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يجز بہ (جو شخص برائی کرے گا اس کا بدلہ ملیگا)

ادوات شرط دو طرح کے ہیں ایک جاذمہ دوسرے غیر جاذمہ ،

ادوات جازمہ حسب ذیل ہیں:۔

إِن، اذْمَا ، مَن ، مهما ، مَتَى ، أَيَّانَ ، أَيْنَ ، أَنَّى ، حَيْثما ، كيفما ، أیّ ۔ ان میں سے اِن اوراذما دونوں حرف ہیں اور باقی سب اہم ہیں۔

(۱) یہ ادوات فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور لم اور لام امر کی طرح اسے جزم دیتے ہیں، اور اسی طرح نون اعرابی اور آخر سے عرف علت گرا دیتے ہیں۔

(۲) دوسرا جملہ یعنی جزا بھی اگر فعل مضارع ہو تو ا سے بھی جزم دیتے ہیں۔

او پر مثال میں غور کرد.

Read the rest (24)

(۳)لیکن دوسرا جملہ اگر فعل مضارع نہ ہو بلکہ اس کے بجائے جملہ اسمیہ ہو یا امر و نہی ہو یا فعل مضارع ہو مگر اس پر لن ، قد يا س يا سوف يا ما نافیہ داخل ہو، یا عسیٰ و لیس کی قسم کے افعال جامد ہوں تو جزا پرف داخل کرنا ضروری ہے

اِن اور إِذْما (اگر) دونوں ایک معنی میں مستعمل ہوتے ہیں

من (جو، جو شخص، جو کوئی) ذوی العقول کے لئے آتا ہے ۔

ما (جو چیز، جو کچھ) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

مھما (جو کچھ، جتنا کچھ جوکچھ بھی ہو) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

متى (جب ، جس وقت) ظرف زمان کے لئے آتا ہے ۔

ایان (جب بھی) ظرف زمان کے لئے آتا ہے۔

اين (جہاں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے۔

أنى (جہاں ، جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے ۔

حيثما اسی طرح اینما (جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے

كيفما (جس طرح ، جیسا کچھ) کیفیت و حالت کے لئے آتا ہے۔

أىُّ اور أيّةُ (جو، جہاں، جب، جس طرح) تمام معانی مذکورہ کے لئے آتا ہے

(ادوات شرط غير جازمه)

ادوات شرط غير جازمہ حسب ذیل ہیں :-

لو ، لولا ، لَوْمَا ، لَمَّا ، كُلَّمَا ، إِذَا ، أمّا

(۱) لو (اگر) یہ ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے کہ شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جزا بھی نہ پائی گئی جیسے :- لو اجتهدت لفزت اگر تم محنت کرتے تو کامیاب ہوتے ،

(۲) لولا اور لوما (اگر نہ ہو ، اگر نہ ہوتا) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شرط کے پائے جانے کی وجہ سے جزاء جواب نہ پایا گیا ، جیسے لولا الهواء ما عاش انسان (اگر ہوا نہ ہوتی تو کوئی انسان زندہ نہ رہ سکتا تھا)۔

(۳) لمّا (جب ، جبکہ) ظرف ہے حین کے معنی میں یہ فعل ماضی پر آتا ہے جیسے لَمَّا سَلمْتُ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَیَّ السلام (جب میں نے اسے سلام کیا تو اس نے میرے سلام کا جواب دیا)۔

(۴) كلما (جب ، جب کبھی) یہ بھی ظرف ہے اور یہ بھی فعل ماضی پر آتا ہے جیسے كلما مرضت خافت على أمی (جب جب میں بیمار پڑا میری ماں میرے لئے اندیشہ میں پڑگئیں)

(۵) إذا (جب) یہ بھی ظرف ہے مگر مستقبل کے لئے آتا ہے جیسے إذا تعلمت فاعمل بعلمک (جب تعلیم پاؤ تو اپنے علم پر عمل کرو) إذ الاستاذ نصح لك فاعمل بنصحہ (جب استاد تمہیں کوئی نصیحت کرے تو اس عمل کرو)

أمّا (مگر، مگر رہی یہ بات) تفصیل بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسے للبستان بابان، أما احدها ففي جانب الشرق وأما الآخر ففي جانب الشمال.

نوٹ :۔ اما کے جواب پر ف داخل کرنا ضروری ہے، البتہ لما کے جواب پر ف لانا صحیح نہیں۔ طلبہ اس میں بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔

لمّا جو "اب تک" کے معنی میں نفی کے لئے آتا ہے وہ حرف جازم ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ، مگر یہ فعل ماضی پر آتا ہے اور جازم نہیں ہے دونوں کا فرق سمجھے لو۔

النحو الواضح (ثانویہ)النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸

اقْتِرَانُ جَوابِ الشَّرْطِ بالفاء: جواب شرط میں فاء کا ملانا

إذَا لَمْ يَصْلُحُ الْجَوَابُ لأَن يَكُونَ شَرُطًا وَجَبَ اقْتِرَانُهُ بِالْفاءِ وَذَلِكَ بِأَنْ كَانَ جُمْلَةٌ اِسْمِيَةٌ أَوْ فِعْلِيَّةٌ فِعْلُهَا طَلَبِيٌّ أَوْ جَامِدٌ أَوْ مَسْبُوقٌ بِلَنْ أَوْ قَدْ أَوْ مَا أَوِ السِّيْنِ أَوْ سَوْفَ .

جب جواب درست نہ ہو تو اس لئے کہ شرط میں فاء کا اتصال ضروری ہے. کیونکہ وہ جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے جس کا فعل طلبی یا جامد یا مسبوق ہوتا ہے، لن یا قد یا ما یا سین یا سوف کے ساتھ ۔

الأمثلة

(۱) مَنْ سَعَى فِي الْخَيْرِ فَسَعيُهُ مَشْكُورٌ

(٢) إِنْ حَيَّاكَ أَحَدٌ بِتَحِيَّةٍ فَحَيهِ بِأَحْسَنَ مِنْهَا

Read the rest (100)

(۳) مَنْ أَفْشى سِرَّ الصَّدِيقِ فَلَيْسَ بِأَمِين

(٤) إِنْ عَصَيْتَ أَمْرِى فَلَنْ تَنَالَ مَحَبَّتى

( ۵ ) إن نهضت مِصْرُ اليَوْمَ فقد نَهَضَتْ مِنْ قَبْلُ

(۶) إِنْ تَجتهد ما أقصرُ فِي مُكَافَاتِكَ

(۷) مَنْ يَتَعَب فِى صِغَرِهِ فَسَيَستَرِيحُ فِى كِبَرِهِ

(۸) مَنْ ظَلَمَ الناسَ فَسَوْفَ يَنْدَمُ

الْعَطْفُ عَلَى الشَّرطِ والجواب بالواو والفاء: جواب شرط کو واو اور فاء سے ملانا

إِذَ اتلَا الشَّرُطَ مُضَارِعُ مُقْتَرِنُ بِالْوَاوِ أَوِ الْفاءِ جَازَ فِيْهِ وَجْهَانِ : الجزمُ عَلَى الْعَطْفِ ، وَالنَّصْبُ عَلَى إِضمَارِ أَنْ ، أَمَّا إِذَا تلَا الجَوَابَ مُضَارِع مَسْبُوق بِإحْدَاهُمَا فَيَجُوزُ فِيهِ الْجَزْمُ وَالنصْبُ لما سَبَقَ ، وَالرَّفْعُ عَلَى الْإِسْتِئنَافِ

جب وہ مضارع جو کہ واؤ کے ساتھ ملا ہوا ہے یا فاء کے ساتھ ملا ہوا ہے شرط کے بعد آ جائے تو اس میں دو صورتیں جائز ہیں جزم عطف کی وجہ سے اور نصب أن کے مضمر ہونے کی وجہ سے۔ بہر حال جب مضارع ان دونوں میں کسی ایک کے ساتھ مسبوق ہو اور جواب کے بعد ہو تو پس اس میں اس وقت جزم اور نصب پڑھنا جائز ہے اس سبب کی وجہ سے جو گذر چکا ہے اور اس پر رفع استیناف کلام کی وجہ سے پڑھا جائے گا۔

الأمثلة

(۱) إِنْ تَعْمَلَ وَتُثابِرْ أَوْ وتُثابِرَ تَنْجَحْ

(٢) إِن تخلف وَتَكذِبۡ أَوْ وَتَكذِبَ تأثم

(۳) إِنْ تَقْضِ وَتَعدِلۡ أَوْ وَتَعدِلَ تُدْرِكَ رِضا الناس

(٤) مَنْ يَأْكُل كَثِيراً يَتخَمۡ ويَمْرضۡ أَوْ وَيَمۡرضَ أَوْ وَيَمرْضُ

(٥) مَنْ يَتَّبِعْ هَوَاهُ يَسْقَ وَيَنْدَمۡ أَوْ وَيَنْدَمَ أَوْ وَيَنْدَمُ .

(۶) مَا تَدَّخِرْ ينفعك وَيَنْفَعۡ وَطَنَك أَوْ وَيَنْفَعَ أَوْ وَيَنْفَعُ

اجتماع الشرطِ والقَسَم: شرط اور قسم ایک جگہ

إِذَا اجْتَمَعَ شَرْطٌ وَقَسَمْ فَالجَوَابُ لِلسَّابِقِ مِنْهُمَا ، فَإِنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِمَا مَا يَحْتَاجُ إِلَى خَبَرٍ جَازَ أَنْ يَكُوْنَ الْجَوَابُ لِلسَّابِقِ أَوِ اللاحق .

جب شرط اور قسم جمع ہو جائیں تو جواب اس وقت ان دونوں میں سے پہلے کے لئے ہوگا پس اگر ان دونوں پر وہ چیز مقدم ہو کہ جو محتاج ہو خبر کی طرف تو اس وقت جائز ہے کہ جواب سابق کے لئے ہو یا لا حق کے لئے ہو۔

الأمثلة

(۱) إِنْ أتقنت العَمَلَ وَحَقِّكَ أَضَاعِفْ لَكَ الْأَجْرَ

(٢) إِنْ تَتَّبِعْ نُصْح الطبيب واللهِ تُشْفَ

(۳) إِنْ تَصْحِبِ الْأَشْرَارَ وأَبيكَ تَنْدَمْ

( ٤ ) وَحَقِّكَ إِنْ أتقنت العمل لأضاعِفَنَّ لَكَ الأَجْرِ

(۵) واللهِ إِنْ تَتبع نصْحَ الطبيب لتشفين

(۶) وَأَبيكَ إِنْ تَصْحبِ الأَشرَارِ لَتَنْدَ مَنَّ

(۷) أخوك إِنْ يُتَّقِنِ الْعَمَل وحقك أضَاعِف له الأجر أو لأضَاعِفَنَّ

(۸) أنت والله إن تتبع نُصْح الطيب تُشفَ أو لتشفين

(۹) إِنَّكَ وأبيكَ إِنْ تَصْحَب الأشرار تَنْدَم أو لتندمن

حَذْفُ الشَّرْطِ أو الجواب: شرط یا جواب کا حذف کرنا

يَجُوزُ أَن يُحْذَفَ فِعْلُ الشَّرْطِ بَعْدَ إِن الْمُدْغمۃ فِي لَا النافية .

يَجِبُ أَن یُحذفَ الْجَوَابُ إِذَا سَبَقَهُ أَوْ اكْتَنفَهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ وَكَانَ الْفِعْلُ الشَّرْطِ مَاضِياً .

فعل شرط کو حذف کرنا جائز ہے، ان حرف شرط کو لائے نافیہ میں مدغم کر دینےکے بعد

جواب کو حذف کرنا واجب ہے جبکہ اس سے پہلے یا گھیر لے اس کو جو کہ اس پر دلالت کرے اور فعل شرط ماضی ہو ۔

الأمثلة

(۱) تَجَنَّبِ الْمُزَاحَ وَإِلَّا تَسْقُطُ هَيْبتُكَ

(۲) دَعِ الْخِصَامَ وَإِلا يَنَلكَ شَرُّه

(۳) زُرْنِي وَإِلَّا أَعْتب عليك

(٤) سَتَنْدَمُ إِنْ ظَلَمْتَ

(٥) أَنتَ جَبَانُ إِنْ كَذَبْتَ

(۶) أَنْتَ إِنْ قُلْتَ الحَقِّ شُجَاعُ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الْجَازِمَةُ وإعرابها: حروف شرط جازمہ اور اس کا اعراب

تُعْرَبُ آدَوَاتُ الشَّرُطِ كَمَا يَأْتِي :

إِنْ دَلَّتِ الْادَاةُ عَلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى الطَّرْفِيَّةِ الزَّمَانِيَّةِ أَوِ الْمَكَانِيَّةِ لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ تَامَّا ، وَلِخَبَرِهِ إِنْ كَانَ نَاقِصاً

إِنْ دَلَّتِ الْآدَاةُ عَلَى حَدَثٍ كَانَتْ مَفْعُولاً مُطْلَقاً لِفِعْلِ الشَّرُطِ

. إِنْ دَلَّتْ عَلَى الْحَالِ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصَبٍ عَلَى الْحَالِ إِنْ كَانَ فِعَلُ الشَّرْطِ تَامَّا ، وَخَبَرًا لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ نَاقِصَاً

إِنْ دَلْتُ عَلَى ذَاتٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ رفْعٍ عَلَى أَنَّهَا مُبْتَدَأ إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ لازماً ، أَوْ نَاقِصاً ، أَوْ مُتَعَدِّياً وَاقِعَا عَلَى أَجْنَبِيِّ مِنْهَا ، وفِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى أَنَّهَا مَفْعُولٌ بِهِ ، إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ مُتَعَدِّياً -وَاقِعاً عَلَى مَعْنَاهَا .

حروف شرط درج طریقوں سے اعراب دیئے جاتے ہیں۔

اگر حرف زمان یا مکان پر دلالت کرے تو ظرف زمان یا مکان ہونے کی بناء پر محل نصب میں ہوگا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل تام ہو۔ اور اس کی خبر کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر کوئی حرف حدث پر دلالت کرے تو وہ فعل شرط کا مفعول مطلق ہوگا۔

اگر وہ حرف حال پر دلالت کرے تو وہ حال کی بناء پر محل نصب میں ہوگا اگر فعل شرط تام ہو اور خبر واقع ہو گا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر وہ ایسی ذات پر دلالت کرے جو محل رفع میں ہو اس شرط پر کہ وہ مبتداء ہے، اگر وہ فعل لازم ہو یا ناقص ہو یا متعدی واقع ہو کسی اجنبی پر جو کہ ان سے ہو ، اور محل نصب میں ہوگا اس شرط پر کہ وہ مفعول بہ ہے اگر فعل شرط متعدی ہو اور اس کے معنی پر واقع ہو رہا ہو۔

الأمثلة

(۱) مَتَى يَأْتِ الرَّبِيعُ يُزْرَعَ الْقُطْنُ

أَيَّانَ تَكُنْ وَفِيًّا يَكْثر محبُوك

(۲) أَيْنَ يَكْثر الظلْمُ يَضْعُفَ العمُرَانُ

أَنَّى يَكُنِ النِّيلُ جَارِيَا تُخْصِب الْأَرْضُ

(۳)أَي لَعِب تَلْعَبُ يَلْعَبْ أَخُوكَ

أَيَّ نَفْعِ تَنْفَع النَّاسَ يَحْمَدُوكَ عَلَيْهِ

(۴) كَيْفَمَا تُعَامِلُ إِخْوانَكَ يُعَامِلُوكَ

كَيْفَمَا يَكُنِ الْمُعَلِّمِ يَكُنْ تَلَامِيذُهُ

(۵) مَنْ يَكْثُرُ كلامُه يَكْثُرُ مَلامه

مَنْ يَكُنْ عَجُولاً يَكثُرُ زَلَهُ

(۶)من احترم الناس احترموه

مَا تَقَرَأ يُفدَكَ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الَّتى لَا تَجْزِم: وہ حروف شرط جو جزم نہیں دیتے

لو ، وَلَوْلاً ، وَلَوْمًا ، وَلَمَّا ، وَكُلَّمَا ، وَإِذَا ، وَأَمَّا ، جَمِيعُهَا أَدَوَاتْ تُفِيدُ الشَّرْطَ وَلَا تَجْزِمُ .

لَوْ تُفِيدُ امْتَناعُ الْجَوَابِ لِامْتِنَاعِ الشَّرْطِ وَلَوْلَا وَلَوْمَا تَدُلانِ عَلَى امْتِنَاعِ الْجَوَابِ لِوُجُودِ الشَّرْطِ ، وَلَمَّا وَكُلَّمَا ظَرُفَانِ لِلْمَاضِي وَلَا يَلِيْهِمَا إِلَّا الْفِعْلُ الْمَاضِي ، وَإِذَا ظَرْفٌ لِلزَّمَانِ الْمُسْتَقْبِلِ وَلَا يَلِيْهَا إِلَّا الْفِعْلُ ظَاهِراً اَوْ مُقَدَّرًا ، وَإِمَّا تُفِيدُ التَّفْصِيلَ وَتَقُوْمُ مَقَامَ آدَاةِ الشَّرْطِ وَفِعْلِهِ مَعاً وَتَلْزَمُ الْفَاءُ جَوَابَهَا .

لو، لولا ، لوما ، لما، كلما، اذا ، اما ، یہ تمام کے تمام حروف شرط کا فائدہ دیتے ہیں اور جرم نہیں دیتے۔

لو جواب کے ممتنع ہونے کا فائدہ دیتا ہے شرط کے ممتنع ہونے کی وجہ سے اور لولا ، لوما یہ دونوں جواب کے ممتنع ہونے پر دلالت کرتے ہیں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے، لما اور کلما دونوں ماضی کے ظرف واقع ہوتے ہیں اور صرف فعل ماضی کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں ، اور اذا یہ زمانہ مستقبل کے لئے ظرف ہے اور یہ صرف فعل ظاہر یا مقدر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور اما تفصیل کا فائدہ دیتا ہے اور بیک وقت اپنے فعل اور حرف شرط کے قائم مقام ہوتا ہے اور اپنے جواب کے لئے فاء کو لازم کرتا ہے۔

الأمثلة

(۱) لَوِ احْتَمى الْمَرِيض لسلم

(۲) لَوْ تَأَنَّى الْعَامِلُ مَا نَدِمَ

(۳) لو أن أَخَاكَ كريم لَسَادَ

(٤) لولا النِّيلُ لكانَتْ مِصْرُ صَحْرَاء

(٥) لَوْلَا الهواء ما عَاشَ إِنْسَانُ

(۶) لَوْلَا الطبيب ساءَتْ حَالُ الْمَرِيضِ

(۷) لوما التَّعَبُ ما كانَتِ الرّاحة

(۸) لَوْمَا العملُ لَمْ تَكُن لِلْعِلْمِ فائدة

(۹) لومَا ثَوَابُ الْعَامِلِينَ لَفَتَرَتِ الهِمَمُ

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۷

أسماء الشرط

اسم الشرط: اسم مبني يربط بين جملتين الأولى شرط للثانية، وتسمى الأولى جملة الشرط، والثانية جملة جواب الشرط نحو من يجتهد ينجح (فالجملة الأولى يجتهد شرط الثانية ينجح " لأن الاجتهاد شرط للنجاح)

أسماء الشرط هي: من، ما مهما، حيثما اذماء متى، أينما، أني، أيان، كيفما، أين، أي

المحل الاعرابي لكل من أسماء الشرط المبنية:

- أسماء الشرط المذكورة مبنية ما عدا " أي " ويكون لها محل الرفع أو النصب أو الجر، حسب موقعها في الجملة، فما دل منها على مكان (وهي: أين أينما، أنی، حيثما أو زمان (وهي المد متى أيان يكون في محل نصب على الظرفية المكانية أو الزمانية لفعل الشرط، وما دل على الحال (وهي كيفا) يكون في محل نصب حال، وما دل على ذات العاقل (وهي من) أو غير العاقل (وهي ماء مهما يكون في محل رفع مبتدأ، أو في محل نصب مفعول به، أو في محل جر بحرف الجر أو المضاف الداخل عليه.

أمثلة ما دل منها على مكان أين تذهب أذهب، هكذا، أينما، أنّي، حيثماء (اين مبنى على الفتح في محل نصب ظرف مكان)

أمثلة ما دل منها على زمان متى تذهب أذهب، وهكذا، اذماء وأيان (متي مبني على السكون في محل نصب ظرف زمان )

Read the rest (74)

مثال ما دل على الحال : كيفما تعامل إخوانك يعاملوك ( كيفما: مبني على السكون في محل نصب حال من فاعل فعل الشرط )

مثال ما دل على ذات العاقل من يجتهد ينجح ( من مبني على السكون في محل رفع مبتدا) من تضرب أضرب ( من مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الى من تذهب أذهب (من: مبني على السكون في محل جر مجرور) ابن من تضرب أضرب ابن مفعول به مقدم منصوب علامة نصبه الفتحة الظاهرة ومن مبني على السكون في محل جر مضاف اليه مثال ما دل على ذات غير العاقل : ما راعك من الأبيات راعني ما مبني على السكون في محل رفع مبتدا ) ما تأكل آكل (ما مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الی ماتنظر أنظر (ما: مبني على السكون في محل جر مجرور) وهكذا " مهما"

أما "أي فتكون معربة بحسب ما تضاف اليه ، فان أضيفت إلى مكان أو زمان كانت ظرفا منصوبا ، نحو: أي يوم أو مكان تذهب أذهب (أي: منصوب على الظرفية وعلامة نصبه الفتحة )و ان أضيفت إلى مصدر كانت مفعولا مطلقاً نحو : أى سير تسر أتبعك، وإن أضيفت إلى غير الظرف والمصدر كانت معربة حسب موقعها في الجملة، فقد تقع مبتدأ مرفوعاً، نحو: أي رجل يجتهد ينجح، أو مفعولاً به منصوباً نحو: أي كتاب تقرأ تستفد أو مجروراً نحو: إلى أي مكان تسافر أسافر.

سبب بنائها أنها تشبه "إن" الشرطية في المعنى.

عملها: أسماء الشرط المذكورة تسمى أيضا أدوات الشرط الجازمة فانها تجزم فعلي الشرط والجواب، نحو: من تضرب أضرب من جزمت "تضرب" وهو فعل الشرط وعلامة جزمه السكون

وجزمت أضرب" وهو فعل جواب الشرط وعلامة جزمه السكون)

ملحوظة: ستأتي أحكام أسماء الشرط الأخرى بشيء من التفصيل عند دراسة أسلوب الشرط.

اسم شرط: وہ اسم مبنی ہوتا ہے جو دو جملوں کو آپس میں جوڑتا ہے، پہلے جملے کو دوسرے جملے کی شرط بناتا ہے۔ پہلے جملے کو "جملہ شرط" اور دوسرے کو "جملہ جواب شرط" کہا جاتا ہے، جیسے: "من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا)۔ یہاں "يجتهد" پہلا جملہ (جملہ شرط) اور "ينجح" دوسرا جملہ (جواب شرط) ہے، کیونکہ کامیابی کی شرط محنت ہے۔

اسماء الشرط

اسماء الشرط درج ذیل ہیں:

من، ما، مهما، حيثما، متى، أينما، أنى، أيان، كيفما، أين، أي

اسماء الشرط المبنية کا محل اعرابی

یہ تمام اسماء مبنی ہیں، سوائے "أي" کے، جو معرب ہوتا ہے اور جملے میں اپنے مقام کے مطابق اعرابی تبدیلی قبول کرتا ہے۔

جو مکان (جگہ) پر دلالت کرے: أين، أينما، أنى، حيثما → جملے میں ظرف مکان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "أين تذهب أذهب" (جہاں جاؤ گے، وہاں جاؤں گا)۔

جو زمان (وقت) پر دلالت کرے: متى، أيان → ظرف زمان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "متى تذهب أذهب" (جب تم جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

جو حال (کیفیت) پر دلالت کرے: كيفما → حال کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "كيفما تعامل إخوانك يعاملوك" (جیسے تم اپنے بھائیوں کے ساتھ برتاؤ کرو گے، ویسا ہی وہ تمہارے ساتھ کریں گے)۔

جو عاقل پر دلالت کرے: من → مبتدا، مفعول، یا مضاف الیہ ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "من" مبتدا۔

"من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا) → "من" مفعول بہ۔

"إلى من تذهب أذهب" (جس کے پاس جاؤ گے، میں جاؤں گا) → "من" مجرور۔

جو غیر عاقل پر دلالت کرے: ما، مهما → مبتدا، مفعول بہ، یا مجرور ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"ما راعك من الأبيات راعني" → "ما" مبتدا۔

"ما تأكل آكل" (جو تم کھاؤ گے، میں وہی کھاؤں گا) → "ما" مفعول بہ۔

"الی ما تنظر أنظر " → "ما" مجرور۔

"أي" کا اعراب

"أي" معرب ہوتا ہے اور اس کا اعراب اس کے مضاف الیہ پر منحصر ہوتا ہے:

اگر کسی ظرف زمان یا مکان (جگہ یا وقت) کی طرف مضاف ہو → ظرف منصوب ہوگا۔

مثال: "أي يوم تذهب أذهب" (جس دن جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

اگر مصدر کی طرف مضاف ہو → مفعول مطلق ہوگا۔

مثال: "أي سير تسير أتبعك" (جیسے بھی تم چلو گے، میں تمہاری پیروی کروں گا)۔

اگر کسی اور اسم کی طرف مضاف ہو → اس کے مقام کے مطابق ہوگا۔

مثالیں:

"أي رجل يجتهد ينجح" (جو بھی آدمی محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "أي" مبتدا۔

"أي كتاب تقرأ تستفد" (جو بھی کتاب پڑھو گے، فائدہ ہوگا) → "أي" مفعول بہ۔

"إلى أي مكان تسافر أسافر" (جس جگہ تم سفر کرو گے، میں بھی وہیں جاؤں گا) → "أي" مجرور۔

اسم شرط کے مبنی ہونے کی وجہ

یہ "إن" شرطیہ سے معنوی مشابہت کی بنا پر مبنی ہیں۔

اسماء الشرط کا عمل

یہ اسماء ادوات شرط جازمہ بھی کہلاتے ہیں، کیونکہ یہ فعل شرط اور جواب شرط دونوں کو جزم دیتے ہیں۔

مثال: "من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا)۔

"تضرب" → فعل شرط مجزوم

"أضرب" → جواب شرط مجزوم

Open this topic with all books

اسماء استفھام دیگر کتب میں3

النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۷

أدوات الاستفهام والجواب: ادوات استفھام اور جواب

(۱) الهمزة وهل: ھمزہ اور ھل

يُسْتَفْهَمُ بِالْهَمْزَةِ وَهَلْ عَنْ مَضْمُونِ الْجُمْلَةِ، وَيَكُونُ الْجَوَابُ بِنَعَمْ أَوْ جَيْرٍ، أَوْ أَجَلٍ إِنْ أُرِيدَ الإِثْبَاتُ وَبِلا إِنْ أُرِيدَ النَّفْيِ.

يُسْتَفْهَمُ بِالْهَمْزَةِ أَيْضًا عَنْ وَاحِدٍ مِنْ شَيْئَيْنِ أَوْ أَشْيَاءِ، وَيَكُونُ الْجَوَابُ حِينَئِذٍ بِالتَّعْيِينِ لَا غَيْرَ.

همزة اور ھل کے ذریعے مضمون جملہ کے متعلق پوچھا جاتا ہے اور اس کا جواب بصورت اثبات نعم ، جیر یا اجل سے دیا جاتا ہے اور بصورت نفی ”لا“ سے۔

همزة کے ذریعے کبھی دو یا زیادہ چیزوں میں سے ایک کو متعین کرانے کے بارے میں استفہام ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا جواب صرف تعین کرنے سے دیا جاتا ہے۔

Read the rest (57)

الامثلة

(۱) أَطَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟

(٢) أَعَادَ الرَّسُولُ ؟

(۳) أَيَذُوبُ الحَدِيدُ في النَّارِ ؟

(٤) أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ حَسَنٌ ؟

(٥) أَرَاكِبًا جِئْتَ أَمْ مَاشِياً ؟

(٦) أَصَبَاحًا حَضَرْتَ أَمْ مَسَاء ؟

(۱) هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟

( ۲ ) هَلْ عَادَ الرَّسُولُ ؟

(٣) هَلْ يَذُوبُ الحَدِيدُ في النَّارِ ؟

(٤) هَلْ عَلِيٌّ مُسَافِرُ ؟

(٥) هَلْ جِئْتَ رَاكِبًا ؟

(٦) هَلْ حَضَرْتَ صَبَاحًا ؟

(۲) بقية أدوات الاستفهام: بقیہ ادوات استفھام

للاستفهامِ أَدَواتٌ أُخْرَى غَيْرَ الهمزةِ وَهَلْ، وَمِنْ أَشْهَرِهَا مَا يَأْتِي:

مَن... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ العُقَلَاءِ.

مَا... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ غَيْرِ العُقَلَاءِ.

مَتَى... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ الزَّمَانِ.

أَيْنَ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ المَكَانِ.

كَيْفَ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ الحَالِ.

كَمْ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ العَدَدِ.

أَيُّ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ جَمِيعِ مَا تَقَدَّمَ.

إِذَا كَانَتْ أَدَاةُ الاستفهامِ فِي الجُمْلَةِ وَاحِدَةً مِنَ الأَدَوَاتِ السَّبْعِ المَذْكُورَةِ هُنَا، كَانَ الجَوَابُ بِتَعْيِينِ المَسْئُولِ عَنْهُ.

همزة اور ھل کے علاوہ استفہام کے کچھ دیگر ادوات بھی ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں:

من.... عاقل کے لئے

ما .... غیر عاقل کے لئے

متی ..... زمان کے لئے

این ...... مکان کے لئے

كيف ...... حالت کے لئے

کم ..... عدد کے لئے

ای ..... مذکورہ بالا سب کے لئے

جب کسی جملے میں ان سات ادوات استفہام میں سے کوئی ایک آجائے تو اس کا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ مسئول عنہ کو متعین کر دیا جائے۔

الامثلة

(۱) مَنْ هَذا الرَّجُلُ ؟

(۲) مَنِ اخْتَطَ القَاهِرَةَ ؟

(۳) ما الذي بِيَدِكَ ؟

(٤) مَا تَفْعَلُ بِمِبۡرَاتِکَ؟

( ٥ ) متى يجنى القُطْنُ ؟

(٦) مَتَى يُزْرَعَ القَصَبُ ؟

(٧) أَيْنَ دَارُكُمْ ؟

(۸) أَيْنَ يَجْتَمِعُ إِخوانُكُمْ ؟

الاستفهام والنفي معا: استفھام اور نفی ایک ساتھ

الجُمَلُ الاستفهاميَّةُ المنفيَّةُ هي المصدَّرةُ بِأَدَاةِ استفهامٍ متبوعةٍ بِأَدَاةِ النَّفيِ مُباشَرَةً.

جَوابُ الجُمَلِ الاستفهاميَّةِ المنفيَّةِ يَكُونُ بِلفظِ "بَلَى" في حالِ الإِثْبَاتِ وَبِلفظِ "نَعَمْ" في حالِ النَّفْيِ.

استفہامیہ منفی جملے وہ ہیں جن کی ابتداء میں اداۃ استفہام آیا ہو اور اس کے ساتھ حرف نفی مل کر(متصل) آیا ہو۔

استفہامیہ منفیہ جملوں کا جواب اثبات کی صورت میں لفظ ”بلی“ سے اور نفی کی صورت میں لفظ "نعم" سے دیا جاتا ہے۔

الامثلة

(۱) أَلَمْ تَرَ حَدِيقَتَنَا ؟

(٢) أَلَا تُحِبُّ الإقامة في القُرَى ؟

(۳) أَلَيْسَ القُطْنُ عِمَادَ الثرْوَةِ فِي مِصْرَ ؟

(٤) أَلَيْسَتْ مِصْرُ مَهْبِطَ السُّيَاحِ ؟

معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۷

ادوات الاستفهام

عربی میں استفہام کے لئے متعدد حروف آتے ہیں جن میں سے چند مشہور یہ ہیں: همزة - هَل مَنْ - مَا - مَتى - أين - كَيْفَ - كَمْ - أَيُّ

(۱) ہمزہ اور ھل سے نفس مضمون جملہ کے متعلق سوال کیا جاتا ہے ، جیسے: أأكلت الطَّعام يا هل أكلت الطعام؟ کیا تو نے کھانا کھایا ؟ اس کا جواب نعم یا لا کے ساتھ دیا جائے گا۔

(۲) ہمزہ کبھی دو چیزوں میں ایک کی تعیین کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے : أزيد جاء ام محمود ؟ اس کا جواب تعیین کے ساتھ ہوگا ۔

(۳) بقیہ حروف جو حسب ذیل معانی کے لئے آتے ہیں ان کا جواب بھی تعیین ہی کے ساتھ آئے گا۔

(۴) من (کون) ذوی العقول کے لئے آتا ہے جیسے : من هذا یا زید (یہ کون شخص ہے ؟ )

(۵) ما (کیا چیز)، غیر ذوالعقول کے لئے آتا ہے۔ جیسے : ما هذا؟ (یہ کیا چیز ہے؟)

(۶) متی (کب)، یہ زمانے کے لئے آتا ہے جیسے : متى جئت (تم کب آئے ؟)

Read the rest (20)

(۷) این (کہاں؟) یہ مکان اور جگہ کے لئے آتا ہے ، جیسے : أَین تَذْهَبُ؟ (کہاں جاتے ہو ؟)

(۷)کیف (کیا، کس طرح) حالت و کیفیت کے لئے آتا ہے۔ جیسے کیف انتتم (کیسے ہو؟)

(9) کم ( کتنا، کے) عدد کے لئے آتا ہے جیسے کم اخالك ؟ (تمھارے کتنے بھائی ہیں؟)

(۱۰) أیُّ (كون ، کیا چیز؟ کہاں)، وغیرہ تمام معانی مذکورہ کے لئے۔

(۱۱) لِمَ (کیوں ، کیونکہ) یہ ما پر لام داخل کر کے بنایا گیا ہے۔ لِمَ کی طرح اور دوسرے حروف پر بھی حرف جار داخل کر کے اس سے کچھ مختلف معانی پیدا کر لئے جاتے ہیں۔ جیسے : لمن (کس کا، کس کے لئے وغیرہ)

من این (کہاں سے؟) إلى أين (کدھر، کس طرف ، کس جگہ یا کہاں تک)

حتى متى (کب تک)

بکم روبیة کتے روپے میں، في كم يوم ، کتے دن میں منذ یوم کے دن سے، وغیرہ۔

نوٹ : کم استفهامیه کے بعد لفظ عموما مفرد (واحد) اور منصوب ہوتا ہے جیسے کم روبية، كم پر جب حروف جارہ داخل ہو جائیں تو وہ اسم مجرور بھی ہوسکتا ہے اور منصوب بھی۔ اوپر کی مثالوں پر غور کرو ۔

ایُّ مضاف ہوتا ہے اس لئے اس کے بعد کا اسم مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرورہوتا ہے جیسے آیُّ كِتَابٍ تقرأ تو کون سی کتاب پڑھتا ہے)

(استفهام و نفی ایک ساتھ)

پچھلے سبق میں جتنے جملے لکھے گئے ہیں وہ سب مثبت استفہام پرمشتمل تھے۔ اب ہم کچھ چھلے منفی استفہام کے لکھتے ہیں۔ ذیل کی مثالیں دیکھو۔

(1) ألیس محمود خطيبا ؟ کیا محمود مقرر نہیں ہے ؟

بلى هوخطيب بارع (کیوں نہیں، وہ ایک اچھا مقرر ہے) یا نعم هو لیس بخطیب (ہاں وہ مقرر نہیں ہے)

(٢) ألا تسافر معی (کیا تو میرے ساتھ سفر نہیں کرے گا ؟)

بلى لأسافرن معک (کیوں نہیں میں آپ کے ساتھ ضرور سفر کروں گا يا نعم لا اسافر (ہاں، میں نہیں سفر کروں گا)

(۳) الم تكتب إلى ابی ؟ (کیا تو نے اپنے والد کو خط نہیں لکھا)، بلى قد كتبت الیک (کیوں نہیں، میں نے انھیں خط لکھا ہے)

یا نَعَمْ مَا كتَبْتُ إِلَيْهِ مُند شہر (ہاں، میں نے ایک ماہ سے انہیں خط نہیں لکھا ہے)

ان مثالوں سے تم نے مثبت اور منفی استفہام کا فرق سمجھ لیا ہوگا۔ پھر تم نے یہ بھی سمجھا ہوگا کہ منفی استفہام کا جواب اثبات کی صورت میں بلیٰ (ہاں کیوں نہیں) کے ساتھ اور نفی کی صورت میں نعم کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۸

أسماء الاستفهام

اسم مبني يستعمل للسؤال عن شيء ماء نحو من جاءك ؟ أسماء الاستفهام : من ، ما متى، أين، أني، أيان، كم، كيف، أي

معاني أسماء الاستفهام:

من: (للعاقل) مثل: من أكرمك ؟

ما (لغير العاقل) مثل: ماهي الكتب التي استفدت منها ؟

متي (الزمان) مثل : متى حضرت؟

Read the rest (49)

أين (للمكان) مثل : أين يقع بيتك ؟

أيان: (الزمان) مثل قوله تعالى: أيان يوم القيامة)

كم: (للعدد) مثل : كم كتابا قرأت ؟

كيف : ( للحال) مثل: كيف جاء خالد ؟

أني (تكون بمعنى كيف) مثل قوله تعالى : أنى يحيي هذه الله بعد موتها وتكون بمعنى: من أين مثل قوله تعالى: يا مريم أنى لك هذا وتكون بمعنى "متى " مثل: أني وصلت ؟

المحل الإعرابي لأسماء الاستفهام:

أسماء الاستفهام ما عدا "أي" مبنية، ويكون لها محل من الإعراب حسب موقعها في الجملة فـ " من ، وما، وكم تكون في محل رفع أو نصب أو جر مثل: من جاءك (من مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) ومن ضربت من مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم) إلى من أرسلت خالدا ( من مبني على السكون في محل جر مجرور ومثل ما سرك ؟ (ما: اسم استفهام مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) وما تأكل ؟ (ما في محل نصب مفعول به مقدم ألام تنظر أصله إلى ما حذفت ألف "ما لدخول حرف الجر عليه، م: في محل جر مجرور) وهكذا : كم كتابا عندك ؟ وكم كتابا قرأت ؟ ومن كم كتابا استفدت؟

و متى" و"أيان" و "أين تكون في محل نصب على الظرفية، كما سبقت أمثلتها في معاني أسماء الاستفهام و متى وأين تكونان في محل جر وقت دخول حرف الجر عليهما نحو إلى متى تتكاسل ؟ وإلى أين تذهب ؟ وكيف تكون في محل نصب على الحالية وسبق مثالها أيضا، و"أني " تكون في محل نصب على الحالية إذا كانت بمعنى كيف وعلى الظرفية إذا كانت بمعنى " من أين" أو "متى" وسبقت أمثلتها أيضا.

أي: تكون معربة حسب موقعها في الجملة مثل : أي كتاب عندي ؟ وأي كتاب قرأت ؟

أسماء الاستفهام لها صدر الكلام، ويجوز أن يسبقها حرف جر كما سبق مثاله.

سبب بنائها أنها تشبه همزة الاستفهام في المعنى.

اسماءاستفہام:

تعریف: استفہام کے اسماء وہ اسماء ہیں جو کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے:

مثال:"من جاءك؟" (تمہارے پاس کون آیا؟)

اسماءاستفہام :

من: (عاقل کے لیے) مثال: "من أكرمك؟" (تمہیں کس نے عزت دی؟)

ما: (غیر عاقل کے لیے) مثال: "ما هي الكتب التي استفدت منها؟" (وہ کون سی کتابیں ہیں جن سے تم نے فائدہ اٹھایا؟)

متى: (زمان کے لیے) مثال: "متى حضرت؟" (تم کب آئے؟)

أين: (مکان کے لیے) مثال: "أين يقع بيتك؟" (تمہارا گھر کہاں ہے؟)

أيان: (زمان کے لیے) مثال: اللہ کا فرمان "أيان يوم القيامة؟" (قیامت کا دن کب ہوگا؟)

كم: (عدد کے لیے) مثال: "كم كتابا قرأت؟" (تم نے کتنی کتابیں پڑھیں؟)

كيف: (حال کے لیے) مثال: "كيف جاء خالد؟" (خالد کیسے آیا؟)

أني: یہ "کیسے" کے معنی میں آتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان "أنى يحيي هذه الله بعد موتها" (اللہ اس کو موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟)

یہ "کہاں سے" کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان "يا مريم أنى لك هذا؟" (اے مریم، تمہارے پاس یہ کہاں سے آیا؟)

یہ "کب" کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے: "أني وصلت؟" (تم کب پہنچے؟)

اسماءاستفہام کا محل اعراب:

اسماءاستفہام (سوائے "أي" کے) مبنی ہوتے ہیں اور ان کا اعراب ان کے جملے میں مقام کے لحاظ سے ہوتا ہے:

من، ما، كم: یہ مبتدا، مفعول به، یا مجرور کے مقام پر آ سکتے ہیں، جیسے:

"من جاءك؟" (من: مبتدا، محل رفع)

"من ضربت؟" (من: مفعول به، محل نصب)

"إلى من أرسلت خالدا؟" (من: مجرور، محل جر)

اسی طرح "ما" اور "كم" کا بھی یہی اعراب ہوتا ہے۔

متى، أين، أيان: یہ زمان یا مکان کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان کا محل اعراب ظرف کے طور پر ہوتا ہے، جیسے:

"متى حضرت؟" (متى: ظرف زمان)

"أين تذهب؟" (أين: ظرف مکان)

كيف: یہ حال کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا اعراب حال کے طور پر ہوتا ہے، جیسے:

"كيف جاء خالد؟" (كيف: حال)

أني: اگر یہ "کیسے" کے معنی میں ہو تو حال کے طور پر، اور اگر "کہاں سے" یا "کب" کے معنی میں ہو تو ظرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

أي کا اعراب: أي معرب ہوتا ہے اور اس کا اعراب جملے میں اس کے مقام کے مطابق ہوتا ہے، جیسے:

"أي كتاب عندك؟" (أي: مبتدا، محل رفع)

"أي كتاب قرأت؟" (أي: مفعول به، محل نصب)

اسماءاستفہام جملے کے آغاز میں آتے ہیں اور کبھی کبھار ان سے پہلے حرف جر بھی آ سکتا ہے، جیسے: "إلى متى تتكاسل؟" (تم کب تک سستی کرو گے؟)

سبب بناء:

یہ اسماء "همزة الاستفهام" (استفہام کی ہمزہ) کی طرح معنی میں سوال ظاہر کرنے کی وجہ سے مبنی ہوتے ہیں۔

Open this topic with all books

اسماء افعال دیگر کتب میں3

النحو الواضح (ثانویہ)النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱

اِسْمُ الْفِعْلِ كَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلَى مَعْنَى الْفِعْلِ وَلَا تُقْبَلُ عَلَامَاتِهِ.

وَهُوَ مِنْ حَيْتُ زَمَنُهُ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ اسْمُ فِعْلٍ مَاضٍ، وَاسْمُ فِعْلٍ مُضَارِعٍ وَاسْمُ فِعْلِ اَمْرٍ،

وَمِنْ حَيْثُ وَضْعُهُ قِسْمَانِ: مُرْتَجَلٌ وَمَنْقُولٌ،

وَيُنْقَلُ عَنِ الْجَارِ وَالْمَجْرُورِ وَالطرْفِ وَالْمَصْدَرِ.

يُصَاغ اِسْمُ فِعْلِ أَمْرٍ عَلَى وَزْنِ فَعَالِ مِنْ كُلِّ فِعْلٍ ثُلاثي مُتَصَرِف تام.

اسم فعل ایسا کلمہ ہے جو فعل کے معنی پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس کی علامات کو قبول نہیں کرتا

اور وہ اپنے زمانے کے اعتبار سے تین قسم پر ہے، اسم فعل ماضی ، اسم فعل مضارع اور اسم فعل امر

Read the rest (16)

اور اس حیثیت سے اس کی وضع کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں :مرتجل اور منقول

اور وہ جار مجرور اور ظرف اور مصدر سے منقول ہوگا۔

اسم فعل امر سے فعال کے وزن پر بنایا جاتا ہے ہر فعل ثلاثی متصرف تام سے۔

الأمثلة

(۱)هيهات الْأَمَلُ إِذَا لَمْ يُسْعِدُهُ الْعَمَلُ

(۲)أُفٍّ لِمَنْ يَيْئس

(۳).صَهُ إِذَا تَكَلَّمَ غَيْرُكَ

(۱)عَلَيْكَ نَفْسَكَ فَهَذِّبۡھا

(۲)دُونَكَ الْقَلَم .

(۳)رُوَيْدَكَ إِذَا سِرْتَ .

(۱)كتاب الدرس

(۲)دفاعِ عَنِ الشَّرَفِ .

(۳)سماعِ النَّصْحَ

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۸

هَیَّا بِنَا ( چلو چلتے ہیں ) هیاجیسے لفظ کو اسم الفعل کہتے ہیں، یہ اصلا اسم ہے

فعل کا معنی دیتا ہے، مزید چند اسم الفعل یہ ہیں :

آہ آہ میں تکلیف ( درد ) محسوس کر رہا ہوں

اف، افوہ (بیزاری پر دلالت کرنے والا کلمہ )

آمين قبول کر ( ہماری دعا )

شرح مائۃ عاملشرح مائۃ عامل۔ سبق:۹

أسماء تسمى أسماء الأفعال، وإنما سميت بأسماء الأفعال؛ لأن معانيها أفعال، وهي تسعة، ستة منها موضوعة للأمر الحاضر وتنصب الاسم على المفعولية:

أحدها: "رويد" فإنه موضوع لـ "أمهل" وهو يقع في أول الكلام مثل رويد زيدا أي أمهل زيدا.

وثانيها: "بله" فإنه موضوع لـ "دع" مثل: بله زيدا أي دع زيدا۔

وثالثها: "دونك" فإنه موضوع لـ " خذ" مثل : دونك زيدا أي خذ زيدا.

ورابعها: "عليك" فإنه موضوع لـ "الزم" مثل: عليك زيدا أي ألزم زيدا.

وخامسها: "حيهل" فإنه موضوع لـ "ايت " مثل : حيهل الصلاة أي ايت الصلاة.

وسادسها: "ها" فإنه موضوع لـ "خذ" مثل: ها زيدا أي خذ زيدا،

وقد جاء فيه ثلاث لغات هاء بسكون الهمزة، وهاء بزيادة الهمزة المكسورة وهاء بزيادة الهمزة المفتوحة، ولابد لهذه الأسماء من فاعل، وفاعلها ضمير المخاطب المستتر فيها، وثلاثة منها موضوعة للفعل الماضي وترفع الاسم بالفاعلية:

Read the rest (26)

أحدها: "هيهات"، فإنه موضوع لـ "بعد" مثل هيهات زيد أي بعد زيد۔

وثانيها سرعان" فإنه موضوع لـ "سرع" مثل سرعان زيد أي سرع زيد۔

وثالثها: "شتان" فإنه موضوع لـ " افترق" مثل: شتان زيد وعمرو أي افترق زيد وعمرو.

اسماء الأفعال، یہ وہ اسماء ہیں جو افعال کے معانی رکھتے ہیں، اور کل نو ہیں، جن میں سے چھے موجودہ حکم کے لیے مخصوص ہیں اور مفعول پر نصب کرتے ہیں:

1. "رويد":- مطلب: "أمهل" (دھیرج)۔

- استعمال: ابتدائی گفتگو میں، جیسے: "رويد زيدا" (دھیرج زید کو)۔

2. "بله": - مطلب: "دع" (چھوڑ دو)۔

- استعمال: جیسے: "بله زيدا" (چھوڑ دو زید کو)۔

3. "دونك": - مطلب: "خذ" (لے لو)۔

- استعمال: جیسے: "دونك زيدا" (لے لو زید کو)۔

4. "عليك": - مطلب: "الزم" (پابند رہو)۔

- استعمال: جیسے: "عليك زيدا" (پابند رہو زید کو)۔

5. "حيهل": - مطلب: "ايت" (آؤ)۔

- استعمال: جیسے: "حيهل الصلاة" (آؤ نماز کے لیے)۔

6. "ها": - مطلب: "خذ" (لے لو)۔

- استعمال: جیسے: "ها زيدا" (لے لو زید کو)۔

- مختلف طریقے: "ها" (سکون کے ساتھ)، "هاء" (زائد شدہ ہمزہ کے ساتھ)، "هاء" (زائد شدہ ہمزہ کے ساتھ)۔

تین اسماء ماضی کے فعل کے لیے مخصوص ہیں اور اسم کو فاعلیہ پر رفع کرتے ہیں:

1. "هيهات":- مطلب: "بعد" (دور)۔

- استعمال: جیسے: "هيهات زيد" (دور زید)۔

2. "سرعان":- مطلب: "سرع" (جلدی)۔

- استعمال: جیسے: "سرعان زيد" (جلدی زید)۔

3. "شتان":- مطلب: "افترق" (الگ ہونا)۔

- استعمال: جیسے: "شتان زيد وعمرو" (زید اور عمرو الگ ہیں)۔

Open this topic with all books

اعداد مرکبہ اور اسم جو "ویہ" پر ختم ہو دیگر کتب میں3

تیسیر النحوتیسیر النحو۔ سبق:۲۹

الاسم المركب المبني: هو ما ركب من كلمتين تركيبا مزجيا (أي: صارتا بمثابة كلمة واحدة) وتضمنت الثانية منهما حرفاء مثل الأعداد المركبة من ۱۱ الى ۱۹، أو كانت ا الثانية كلمة "ويه " مثل: سيبويه، خالويه نفطويه، درستويه، فالأعداد المركبة يجب فيها بناء الجزئين على الفتح، مثل: قرأت أحد عشر كتابا أحد عشر: بني الجزءان على الفتح، وهو في محل نصب مفعول به)

والاسم المركب من كلمتين الثانية منهما "ويه " يبنى الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر ، مثل: لقيت سيبويه سيبويه : بني الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر وهو في محل نصب مفعول به)

المحل الإعرابي للأسماء المركبة المبنية:

الأسماء المركبة المبنية المذكورة تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، مثل: جاء أربعة عشر طالبا، ورأيت أربعة عشر طالبا، وسلمت على أربعة عشر طالباء (أربعة عشر في الجمل الثلاث مبني على الفتح، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور) ومثل: جاء سيبويه، ورأيت سيبويه، ومررت بسيبويه ( سيبوية في الجمل الثلاث مبني على الكسر، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور )

الاسم المركب المبني وہ اسم ہے جو دو الفاظ سے مل کر بنا ہو اور یہ دونوں مل کر ایک واحد لفظ کا کام کرتے ہیں۔ اس کی دوسری جزو میں ایک یا دو حروف شامل ہوتے ہیں جیسے اعداد مرکبہ (11 سے 19 تک کے اعداد) یا پھر اس کی دوسری جزو "ویہ" (ويه) ہو، جیسے: سیبویہ، خالویہ، نفطویہ، درستویہ وغیرہ۔

Read the rest (26)

اعداد مرکبہ کی مثال:

اعداد مرکبہ میں دونوں اجزاء پر فتحہ ہوتا ہے:

مثال: قرأتُ أحد عشرَ كتاباً (میں نے گیارہ کتابیں پڑھیں)

یہاں "احد عشر" کا پہلا اور دوسرا جزو فتحہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

ویہ (ويه) کے ساتھ مرکب اسماء:

اگر مرکب اسم میں دوسری جزو "ویہ" ہو، تو پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے جزو پر کسرہ ہوتا ہے:

مثال: لقيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ سے ملاقات کی)

یہاں "سيبويه" کا پہلا جزو فتحہ کے ساتھ اور دوسرا جزو کسرہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

الاسم المركب المبني کا محل اعرابی:

مرکب اسماء اپنی اعرابی حالت (رفع، نصب، جر) کے مطابق استعمال ہوتے ہیں:

رفع: جاء أربعة عشر طالباً (چودہ طلبہ آئے)

"أربعة عشر" فاعل کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

نصب: رأيتُ أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ کو دیکھا)

"أربعة عشر" مفعول به کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

جر: سلمتُ على أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ پر سلام کیا)

"أربعة عشر" مجرور کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

اسی طرح ویہ (ويه) والے مرکب اسماء:

رفع:جاء سيبويه (سیبویہ آیا)

"سيبويه" فاعل کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

نصب: رأيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ کو دیکھا)

"سيبويه" مفعول به کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

جر: مررتُ بسيبويه (میں سیبویہ کے پاس سے گزرا)

"سيبويه" مجرور کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق: ۱۹، ۲۰

عربی میں گنتی کو ”عدد اور جو چیز گنی جائے اس کو ” معدود“ کہتے ہیں۔ جیسے : تین کتابیں۔اس میں تین عدد کہلاتا ہے اور کتابیں معدود

ا۔ ایک کے لئے لفظ واحد استعمال ہوتا ہے یہ اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ:ایک کتاب

۲۔ دو کے لئے لفظ اثنان ہے یہ بھی اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابَانِ اثْنَانِ:دو کتابیں

نوٹ : چونکہ تثنیہ کے صیغہ میں خود ہی دو کا معنی پایا جاتا ہے اسے لئے اثنان کا استعمال بطور تاکید ہو گا۔

ب۔ یادر ہے کہ صفت، اعراب، تعریف و تنکیر اور تذکیر و تانیث میں موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔

۳۔ تین سے دس تک کے اعداد اپنے معدود کی طرف مضاف ہوں گے ان کا معدود ہمیشہ جمع ہو گا اور مضاف الیہ ہونے کی

Read the rest (33)

وجہ سے مجرور ۔ جیسے:

ثَلاثَةُ كُتب:تین کتابیں

خَمْسَةُ أَقْلَامٍ: پانچ قلم

أَربعة بُيُوتٍ :چار گھر

عَشَرَةُ رِجَالٍ:دس آدمی

۴۔ عدد کا اعراب جملہ میں اس کے موقع کے اعتبار سے ہو گا۔ اصلا مرفوع ہو گا۔ اور اس سے پہلے حرف جر ہو تو مجرور اور

مفعول بہ ہو تو منصوب ہو گا جیسے : فِي الْفَصْلِ سِتَّةُ طُلابٍ. کلاس میں چھ طلبہ ہیں۔

هَذِهِ الْغُرْفَةُ لِثَلَاثَةِ رِجَالٍ. یہ کمرہ تین آدمیوں کے لئے ہے۔

رَأَيْتُ ثَمَانِيَةَ أطفال. میں نے آٹھ بچے دیکھے۔

(سبق ۲۰)

یہاں ہم عدد کے ساتھ مونث معدود کا استعمال سیکھیں گے۔

ا۔واحد اور اثنان معدود کے ساتھ صفت بن کر آتے ہیں واحد کا مونث واحدہ ہے اور اثنان کا اثنتان جیسے :

لِي أُخت وَاحِدَةٌ. :میری ایک بہن ہے۔

لَهُ خَالَتَانِ اثْنَتَانِ .: اس کی دو خالائیں ہیں۔

۲۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ تین سے دس تک کا معدود ہمیشہ مضاف الیہ اور جمع ہو گا اگر معدود مونث ہو تو عدد کے آخر سے ۃ حذف کر دی جائے گی جیسے :

ثَلَاثَةُ أَبْنَاء:تین لڑکے

ثَلاثُ بَنَاتٍ:تین لڑکیاں

أَرْبَعَةُ رِجَال:چار آدمی

أرْبَعُ نِسَاء:چار عورتیں

خَمْسَةُ نُجُومٍ :پانچ ستارے

خَمْسُ مَجَلاتٍ: پانچ پر چے

ستَّةُ آبَاء :چھ باپ

ستُ أُمَّهَاتِ:چھ مائیں

سَبْعَةُ طلاب:سات طلبہ

سَبْعُ طَالِبَاتٍ:سات طالبات

ثَمَانِيَةُ بُيُوتِ:آٹھ گھر

ثَمَانِي غُرَفٍ:آٹھ کمرے

نوٹ : ثَمَانِي کی ی پرسکون (جزم) رہے گا۔

تسْعَةُ أقلام :نو قلم

تِسعُ حَافِلات: نوبیس

عَشَرَةُ قُرُوش دس قروش

عَشْرُ رُوبِيَّات دس روپے

نوٹ : عَشَرَةُ میں ش پر فتحہ ہو گا اور عشر میں ش پر سکون ہو گا۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۳، ۶، ۱۰، ۲۴

(سبق ۳)

۱۱ سے ۲۰ تک کے اعداد مذکر معدود کے ساتھ.

اس صورت میں عدد مرکب ( دو لفظوں سے مل کر بنا ہوا ) ہوگا اور دونوں پر فتحہ ہوگا اور معدود واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے

أحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا گیارہ ستارے

تِسْعَةَ عَشَرَ كِتابًا:انیس کتا ہیں

آسانی کے لئے ہم اسے چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.

(الف) ۱۱ اور ۱۲

یہ دونوں اپنے معدود کے مطابق ہوں گے یعنی اگر معدود مذکر ہو تو یہ بھی مذکر اور معدود مؤنثہو تو یہ بھی مؤنث ہوں گے۔ جیسے

Read the rest (141)

أحد عشر طالبا گیارہ طالب علم

إحدى عشرة طالبة گیارہ طالبات

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا بارہ طالب علم

اِثْنَتَا عَشْرَةَ طَالِبَةٌ باره طالبات

(ب) ۱۳ تا ۱۹

ان میں عدد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا ( تذکیر و تانیث میں ) جبکہ دوسرا جزء مطابق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

مؤنث مذکر

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

مذکر مؤنث

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبا میں معدود ( طالبا ) چونکہ مذکر ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَةَ مؤنث ہے اور دوسرا عشر مذکر جبکہ ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ میں چونکہ معدود ( طالِبَةٌ ) مؤنث ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَ مذکر ہے اور دوسرا عشرة مؤنث.

اس سبق میں ہم صرف معدود مذکر کو پڑھیں گے، مؤنث معدود کے ساتھ عدد کا استعمال ہم ان شاء اللہ چھٹے سبق میں پڑھیں گے.

(ج) یہ عدد مبنی ہیں یعنی جملہ میں ان کی حیثیت کے اعتبار سے ان کے آخری حرف کی حرکت طرح سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثَهُ رِيَالات

عِنْدِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

أُريدُ ثَلَاثَةَ رِيَالَاتِ

أَرِيْدُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

هذا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةِ رِيَالَاتِ

هذَا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالا

اِثْنَا عَشر اور اِثْنَتَا عَشر میں واقع اثنا اور اثنتا معرب ہیں، حالتِ نصب اور جر میں وہ اثْنَي اور اثْنَتَيْ ہو جائینگے۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا:میرے پاس بارہ ریال ہیں

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالًا:مجھے بارہ ریال چاہیئے

هَذَا الْكِتَابُ بِاثْنَيْ عَشْرَ رِيَالًا: یہ کتاب بارہ ریال کی ہے

نوٹ :- اثْنَا اور اثْنَتَا میں جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ ءِ وصل ہے اگر ان سے پہلے کوئی لفظ آجائے تو انہیں لکھا تو جائے گا لیکن پڑھا نہیں جائے گا.

(۱) ۲۰ کے لئے لفظ عِشرُونَ استعمال ہوتا ہے یہ مذکر اور مؤنث دونوں معدود کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے اور اسکا محدود بھی واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : عِشْرُونَ طَالِبًا عِشْرُونَ طَالِبَةٌ

۳۰ سے ۹۰ تک کے اعداد انشاء اللہ ہم تیسویں سبق میں پڑھیں گے اور ان اعداد کے بقیہ حالات بھی.

(۵) عدد ترتیبی

پہلے کے لئے لفظ أول استعمال ہوتا ہے جب کہ دوسرے سے دسویں تک کے لئے جو الفاظ ہیں وہ فاعل کے وزن پر ہیں ۔ جیسے ثالث تیسرا ، رابع چوتھا ، خامس پانچواں ، سَادِس چھٹا. ثاني (دوسرا) اصل میں ثان ہے، غال کی طرح، اگر اس پر ال داخل ہو تو وہ الثانی ہو جائے گا.

(سبق ۶ )

اعداد ۱۱ سے ۲۰ تک معدود مؤنث کے ساتھ

اس سے پہلے سبق نمبر ۳ میں ہم معدود مذکر کے ساتھ معدود مؤنث کا استعمال سیکھ چکے

ہیں، وہاں معدود مؤنث کے ساتھ عدد کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے، جو اس طرح ہے : (الف) ۱۱ اور ۱۲ اپنے معدود کے مطابق ہوں گے ( تذکیر اور تانیث میں ) جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا

اثْنَتَا عَشرة طالبة

نوٹ : عَشر میں ش پر فتحہ اور عشرہ میں ش پر سکون ہوگا.

(ب)۱۳ سے ۱۹ تک کے اعداد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا دوسرا موافق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِيَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَمَانِي عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِي عَشرة میں

ثَمَانِي کی ي پر سکون ہوگا.

(سبق ۱۰)

عدد ۲۱ تا ۳۰

ان میں عدد کے دو اجزاء کو و کے ذریعہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسے :

وَاحِدٌ وَعِشْرُوْنَ طَالِبًا

نوٹ :-

( الف ): ان میں پہلے جزء پر تنوین ہوگی۔ جیسے: وَاحِدٌ وَ عِشْرُوْنَ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُوْنَ، أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ سوائے لفظ إِثْنَان، کہ اس پر تنوین نہیں آتی.

(ب): مذکر معدود کے ساتھ واحد اور اِثْنَان ،مذکر، جب کہ بقیه اعداد مؤنث استعمال ہوں گے۔

جیسے :

وَاحِدٌ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا ، اِثْنَانِ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا، ثَلَاثَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلًا، أَرْبَعَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلا خَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا.

ج : معدود مفرد اور منصوب ہوگا.

التَّاسِعَةُ إِلاَّ رُبعًا ( نو مگر پاؤ ) پونے نو

إِلاَّ کے لفظی معنی سوا اور مگر ہیں

اس کے بعد آنے والا اسم منصوب ہوتا ہے۔ جیسے :

السَّاعَةُ الْوَاحِدَةُ إِلَّا عَشْرَ دَقَائِقَ :دس منٹ کم ایک بجے (بارہ بج کر پچاس منٹ )

السَّاعَةُ الثَّانِيَةُ إِلَّا خَمْسَ دَقَائِقَ: پانچ منٹ کم دو بجے ( ایک بج کر پچپن منٹ )

السَّاعَةُ الْخَامِسَةُ إِلَّا دَقِيقَةٌ وَاحِدَةً :ایک منٹ کم پانچ بجے ( چار بج کر انسٹھ منٹ )

(سبق ۲۴)

ا۔ اعداد کے متعلق قواعد

(الف) وَاحِدٌ / اثنان : یہ دونوں معدود کے مطابق ہوں گے اور معدود کی صفت ہو کر اس کے بعد

آئیں گے۔ جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ

كِتَابَانِ اثْنَانِ

سَيَّارَةٌ وَاحِدَةٌ

سَيَّارَتَانِ اثْنَتَانِ

(ب) ثَلاثَةٌ . عشرة : يه اعداد معدود کے مخالف ہوں گے، اگر معدود مذکر ہو تو یہ مؤنث اور معدود مؤنث ہو تو یہ مذکر ہوں گے۔ جیسے : ثَلَاثَهُ رِجَالٍ وَ ثَلَاثُ نِسَاءٍ

(ج) أَحَدَ عَشَرَ / إِثْنَا عَشَر : ان کے دونوں اجزاء معدود کے مطابق ہوں گے۔ جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشرَةً طَالِبَةٌ

إثنا عشر طالبًا

اِثْنَتَا عَشمْرَةً طَالِبَةٌ

(و) ثَلَاثَةٌ عَشَرَ . تِسْعَةَ عَشَرَ : ان اعداد کا دوسرا جزء معدود کے مطابق اور پہلا معدود کے

مخالف ہوگا۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشَرَةً طَالِبَةٌ

( ه ) عِشْرُوْنَ .... تِسْعُوْنَ، مِائَةٌ، أَلْف : یہ اعداد مذکر اور مؤنث دونوں میں یکساں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے :

خَمْسُونَ مُسْلِمًا / مُسْلِمَةٌ

مِائَةُ طَالِب / طَالِبة

(و) مِائَتان / ألفان : جب انکا معدود ذکر کیا جائیگا تو ان کا نون حذف ہو جائیگا۔ جیسے : مِائَتَا رِيَالٍ ، أَلْفًا دُوْلَار دو سو ریال، دو ہزار ڈالر

معدود سے متعلق قواعد :

(الف) ۳-۱۰ کا معدود جمع اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ثَلَاثَةُ كُتب

(ب) ۱۱-۹۹ کا معدود مفرد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا (ج) ۱۰۰ اور ۱۰۰۰ کا معدود مفرد اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ألف ريال

:- اعداد کا اعراب :

(الف) وَاحِدٌ ، اِثْنَان : یہ صفت بن کر استعمال ہوتے ہیں اور صفت اعراب میں موصوف کے تابع ہوتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي رِيَالٌ وَاحِدٌ

عِنْدِي ريالان اثنان

أَرِيْدُ رِيَالًا وَاحِدًا

أُريدُ رِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالِ وَاحِدٍ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

(ب) ثَلاثَةٌ ...... عشرة : یہ اعداد معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي خَمْسَةُ رِيَالَاتِ:میرے پاس پانچ ریال ہیں

أريد خَمْسَةَ ريَالات:مجھے پانچ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةِ رِيَالَاتِ:قلم پانچ ریال کا ہے

(ج) أَحَدَ عَشَرَ ...... تِسْعَةَ عَشَرَ : یہ اعداد مبنی ہوتے ہیں سوائے اثنا اور اثْنَتَا کے، کہ ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے:

عِنْدِي خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالا :میرے پاس پندرہ ریال ہیں

أَرِيْدُ خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالًا :مجھے پندرہ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةَ عَشَرَ :رِيَالا یہ قلم پندرہ ریال کا ہے

إِثْنَا عَشَرَ اور اِثْنَتَا عَشْرَةَ میں صرف لفظ اِثْنَا اور اِثْنَتَا معرب ہیں مثنی کی طرح، رہے الفاظ عشر اور عشرةَ تو وہ مبنی ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا

عِنْدِي اثْنَتَا عَشَرَةَ رُوْبِيَةٌ

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالٌا

أُرِيْدُ اثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَيْ عَشَرَ رِیالًا

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

(و) الْعُقُوْدُ ( عِشْرُوْنَ تِسْعُونَ ) : ان کا اعراب جمع مذکر سالم کی طرح ہوتا ہے۔

أَعِنْدَكَ سِتُّوْنَ رِيَالًا ؟ کیا تیرے پاس ساٹھ ریال ہیں؟

أريدُ سِتِّينَ ريَالا:مجھے ساتھ ریال چاہئے

هذا الْكِتَابُ بِسِتِّينَ ريَالا :یہ کتاب ساٹھ ریال کی ہے

(ه) مِائَةٌ / ألف : يه معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

مُرَتَّبُهُ أَلْفُ دُولار:اس کی تنخواہ ایک ہزار ڈالر ہے

أَخَذْتُ أَلْفَ دُولار مِنْهُ: میں نے اس سے ایک ہزار ڈالر لئے

اشتَرَيْتُهُ بِأَلْفِ دُولار:میں نے یہ ایک ہزار ڈالر میں خریدا

(و) مائتا / ألفا : یہ دونوں مثنی ہیں اور انکا اعراب مثنی کی طرح ہے۔ جیسے :

أَجْرَتُهُ أَلْفَا ريال. اس کی مزدوری دو ہزار ریال ہے

مَا يُرِيدُ أَلْفَيْ رِيَال. وہ دو ہزار ریال نہیں چاہتا ہے

يَعْمَلُ بِأَلْفَيْ رِيَال وہ دو ہزار ریال ( کی اجرت ) پر کام کرتا ہے

(ز) ثَلَاتُمِائَةٍ .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تِسعُمِائَةٍ : ان اعداد میں لفظ مِائَةُ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، ان اعداد میں مضاف مضاف الیہ کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے، مضاف کا اعراب جملہ میں اس کے موقع اور عمل کے مطابق ہوگا۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثُمِائَةِ ريال : میرے پاس تین سو ریال ہیں

أريدُ ثَلَاثَمِائَةِ ريال:میں تین سو ریال چاہتا ہوں

اسْتَرَيْتُهُ بِثَلَاثِمِائَةِ رِيَال: میں نے یہ تین سو ریال میں خریدا

نوٹ : ثَمَانِمِائَةٍ اصل میں ثَمَانِيْمِائَةٍ ہے، ي حذف کردی گئی ہے اس لئے نون پر ہمیشہ کسرہ رہیگا۔

-۴- ألف بیک وقت عدد اور معدود دونوں ہو سکتا ہے۔ جیسے :

ثَلَاثَةُ آلَافِ ريال : تین ہزار ریال

ستة عشر ألف ريال سِتَّةَ :سولہ ہزار ریال

ثَلَاثُوْنَ أَلْفَ رِيَالٍ:تیس ہزار ریال

مائة ألف ريال :ایک لاکھ ریال

ان مثالوں میں لفظ ألف یا آلاف پچھلے کے لئے معدود اور اگلے اسم کے لئے عدد ہے.

۵۔ اگر عدد مضاف ہو اور اس کا معدود مذکور ہو تو عدد پر تنوین نہیں آئے گی اور اگر معدود محذوف

ہو تو تنوین آئے گی۔ جیسے :

كم ريالًا عِندَكَ؟

عِنْدِي عَشَرَةٌ يَا عِنْدِي عَشَرَةُ رِيَالَاتِ

بكم اسْتَرَيْت هَذِهِ السَّاعَةَ ؟

۶۔ اعداد کو پڑھنا :

اعداد پڑھتے وقت بہتر یہ ہے کہ اکائی سے شروع کریں پھر دہائی پھر سیکڑہ پھر ہزار۔ جیسے ۶۵۴۳ کو اگر معدود مذکر ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلَاثَةٌ وَأَرْبَعُوْنَ وخَمْسُمِائَةٍ و سِتَّةُ آلاف ريال اور اگر معدود مؤنث ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلاث و أَرْبَعُوْنَ و خَمْسُمِائَةٍ وَ سِتَّةُ آلَافِ رُوْبِيَةٍ

Open this topic with all books

2 دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱

ہم جانتے ہیں کہ عربی کے اکثر اسماء معرب ہیں، بعض مبنی ہیں جن کے آخر میں اعراب کی مختلف حالتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، مندرجہ ذیل اسماء مبنی ہیں:

ا۔ضمائر، جیسے: هُوَ أَنْتَ أنا ، اسی طرح رائتہ میں ت اور ہ بھی ضمائر ہیں، اور کتابک میں ک اور بَيْتُھا میں ھا بھی ضمائر ہیں۔

یہاں یہ بھی پیش نظر رہے کہ ضمائر کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

ا) ضمائر رفع

ب) ضمائر نصب اور جر ، جیسے:

نَحْنُ طُلاب. ہم طلبہ ہیں۔

أرَأَيْنا؟ کیا تم نے ہمیں دیکھا؟

هذا بيتنا. یہ ہمارا گھر ہے۔

۲ - اسماء اشاره، جیسے: هذا، هذِهِ، ذَلِكَ، هؤلاء، أُولئِكَ سوائے هذَانِ اور هَـاتــان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۳- اسماء موصولہ، جیسے: الَّذِي، التِي، الَّذِيْنَ، اللاتي سوائے اللذان اور اللتان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۴۔ بعض اسماءِ استفهام جیسے مَنْ، أَيْنَ، مَا ،مَتَى، كَيْفَ.

۵۔ بعض اسماء ظروف، جیسے: إِذَا، حَيْث، أَمْسِ، الآن.

۶- أسماء الفعل ، یعنی وہ اسماء جو فعل کا معنی دیتے ہوں ، جیسے: آہ (میں تکلیف محسوس کرتا ہوں) آمِينَ (قبول کر )

۷۔ مرکب اعداد، جیسے: أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَةَ عَشَرَ تک اسی طرح ان کے تانسیث کے صیغے بھی، سوائے اثنا عَشَر اور اثْنَتَا عَشرةَ کے کہ ان کا پہلا جزء معرب ہے

3 النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳

مِنَ الْأَسْمَاءِ الْمَبنِيَةِ مَا يَأْتِي

(ا) الضمَائِرُ ، وَ أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ ، وَالْأَسْمَاءُ الْمَوْصُولَهُ وَأَسْمَاءُ الاستفهام، وَأَسْمَاءُ الشَّرْطِ وَأَسْمَاءُ الْأَفْعَالِ ، وَبَعْضُ الظُّرُوفِ وَهَذِهِ كُلَّهَا تُبنى عَلَى مَا سَمِعَتْ عَلَيْهِ.

(ب) الْمُنَادَى إِذَا كَانَ عَلَمًا مُفْرَدًا أَوْ نَكِرَةً مَقْصُودَةً وَهُوَ يُبْنَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِه

(ج)اسمُ لا النافِيَةِ لِلْجِنْسِ إِذَا لَمْ يَكُنُ مُضَافًا وَلَا شَبِيْهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ .

(د) مَا رُكِبَ مِنَ الْأَعْدَادِ وَالظُّرُوفِ وَالْأَحْوَالِ ، وَهَذِهِ يَطَّرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى فَتْحِ الْجُزُأيْنِ.

(ھ). الْمُبْهَمَاتُ الْمَقْطُوعَةُ عَنِ الْإِضَافَةِ لَفُظَا ، وَهِيَ تُبْنَى عَلَى الضَّمِ.

(و) ما خُتِمَ بِوَيْهِ ، وَمَا جَاءَ عَلَى وَزْنِ فَعَالِ عَلَمًا لِأُنثَى أَوْ سَبًّا لَهَا، أَوْ اسْمَ فِعْلٍ، وَهَدِهِ كُلُّهَا يَطْرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى الْكَسْرِ.

اسمائے مبنیہ یہ ہیں:

(الف) ضمائر ، اسمائے اشارہ ، اسمائے موصولہ، اسمائے استفہام، اسمائے شرط، اسمائے افعال ، بعض ظروف ۔ اور یہ تمام کے تمام اس طریقے پر مبنی ہوتے ہیں کہ جس طرح سے کہ سنے گئے ہیں۔

(ب) منادی جب کہ وہ علم مفرد ہو یا نکر مقصودہ ہو تو وہ اس وقت مبنی علی الرفع ہوتا ہے۔

(ج) لائے نفی جنس کا اسم جبکہ وہ مضاف نہ ہو اور نہ ہی مضاف کے مشابہ ہو تو اس وقت مبنی علی النصب ہوتا ہے۔

(د) وہ کلمات جو کہ اعداد اور ظروف اور احوال سے مرکب ہوں تو ان کے دونوں جزوں میں مبنی علی الفتح کا اعراب ہی ہو گا۔

(ھ) وہ مبہمات جو کہ لفظاً اضافت سے جدا ہو چکے ہوں تو وہ اس وقت مبنی علی الضم پڑھے جاتے ہیں۔

(ز) ہر وہ کلمہ جو کہ’’ ویه ‘‘کے کلمہ پر ختم ہو رہا ہو یا وہ کسی مؤنث کا علم ہو اور فعال کے وزن پر ہو یا اس مؤنث کے لئے گالی ہو یا اسم فعل ہو تو یہ تمام کے تمام کلمات مبنی علی الکسر ہوتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) فِي الْحُجْرَةِ أَحَدَ عَشَرَ كُرْسِیّا

جَلَسْتُ مَعَ أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا

(۲) مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ

إِنْ نَجَحْتَ فَلَكَ الْمُعَافَاهُ مِنْ بَعْدُ

(۳) مِنْ أَئمة النَّحْوِ سِيبَوَيه

كَانَ ابْنُ أَحْمَدَ بْنِ طُولُونَ يُدْعَى خَمَارَوَيْهِ

4 تمارین

5 النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳

التَّمْرِينُ (۱)

مَيِّزِ الْأَسْمَاءَ الْمَبْنِيَةَ فِيمَا يَأْتِي، وَ بَيِّنْ أَنْوَاعَهَا وَأَحْوَالَ بِنَائِهَا:

إِيَّاكَ وَالتَّهَاوُنَ فِي أَمْرِ أَسْنَانِكَ ، فَإِنَّ ذَالِكَ مدْعَاةٌ إِلَى فَسَادِهَا، وَمَنْ فَسَدَتْ أَسْنَانُهُ تَعَرَّضَ لِكَثِيرٍ مِنَ الْآلَامِ وَالْأَوْجَاعِ الَّتِي لَا طَاقَةَ لَهُ بِاحْتِمَالِهَا، وَ نَاهِيْكَ بِمَا يُوَلِّدُهُ هَذَا الْفَسَاد مِنْ أَمْرَاضِ الْمِعْدَةِ وَتَعْجِيلِ الشَّيْخُوخَةِ وَ فُقْدَانِ كَثِيرٍ مِنْ مَلاذِّ الْحَيَاةِ، فَاكْثِر أَيُّهَا اللَّبِيبُ مِنْ مُشَاوَرَةِ الاطباء فِي أَمْرِهَا وَ قُمْ عَلَى تَنْظِيفِهَا صَبَاحَ مَسَاءَ، وَ حَذَارِ أَنْ تقطع بِهَا مَا يصْعبُ قَطْعُهُ مِنْ طَعَامٍ أَوْ غَيْرِهِ وَلَا تُوَالِ فِي الْأَكْلِ بَيْنَ الْأَطْعِمَةِ الْحَارَةِ وَالْبَارِدَةِ ، فَإِنَّ ذَالِكَ مِنْ أَسْبَابِ الْفَسَادِ الَّذِي تَتَعَرَّضُ لَهُ الْأَسْنَانُ السَّلِيمَةُ

التَّمْرِينُ(۲)

ضَعِ الْأَسْمَاءَ الْمَبْنِيَّةَ الآتِيَةَ فِي جُمَلٍ مُفِيدَةٍ بِحَيْثُ يَكُونُ كُلٌّ مِنْهَا مَرَّةً فِي مَحَلِّ رَفْعٍ، وَمَرَّةً فِي مَحَلِّ نَصْبٍ ، وَ مَرَّةً فِي مَحَلِّ جَرٍ:

خَمْسَةَ عَشَرَ، هَؤُلَاءِ ، اللَّائِي، نَا ، قَطَامِ

التَّمرين(۳)

ضَعۡ إِسْمًا مَبْنِيًّا فِي كُلِّ مَكَانٍ مِنَ الْأَمْكِنَةِ الْخَالِيَةِ فیما يَأْتِي ، وَأضْبطْ آخِرَهُ بالشكل.

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَعْطِفُونَ عَلَى الْمَسَاكِينِ

۲۔قَراتُ الْكِتَابَ ۔۔..... أَهْدَيْتَهُ إِلَىَّ

۳۔أحِبُّ۔۔۔۔۔ الْأَوْلَادَ الْمُهَذَّبِينَ

۴۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تُحْسِنِينَ الطَّهْيَ

۵۔ فهمتُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سَمِعْتُهُ مِنْكَ

۶۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔أَنْ تُقَصِّرَ فِي وَاجِبِكَ

۷۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔يُفْرِطْ فِي السِّیْرِ يَمْرَضُ

۸۔ مَشَيْتُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ميلاً

۹۔ يَزُورُ الطَّبِيبُ الْمَرِيضَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰۔ غَرَسْتُ ۔۔۔۔۔۔۔۔ شَجَرَةً

۱۱۔ ما سَمِعْتُ بِقُدُومِكَ مِنْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۲۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔يَأْتِ الشَّتَاءِ نَلْبَس الصُّوفَ

التمرين (۴)

بيِّنِ الْمَبْنِيَّ وَالْمُعْرَبَ مِنْ كَلِمَتَى ” قبل “ و ” بَعْدُ" فِيْمَا يَأْتِي مَعْ ذِكْرِ السَّبَبِ.

ا۔ كَانَ النَّجَاحُ حلِيفِي فَلِلْمُعَلِّمِ الشُّكْرُ مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ بَعْدُ

۲۔ نَظِّفْ أَسْنَانَكَ مِنْ قَبْلِ النَّوْمِ وَ مِنْ بَعْدِهِ

۳۔ طَلَبْتُ مَعُونَتَكُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ حَاجَتِي إِلَيْهَا مِنْ قَبْلُ

۴۔ مَا كَانَ لِلْهَرَمِ مَثِيلٌ فِي عَظْمَتِهِ مِنْ قَبْلٍ وَ مِنْ بَعْدٍ

التَّمْرِينُ(۵)

كَوِّن جُملا مُفِيدَةً تَشْتَمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا عَلَى اسْمٍ مَبْنِي، مَعَ اسْتِيْفَاءِ جَمِيعِ أَنْوَاعِ الْمَبْنِيَّاتِ الَّتِي تَعْرِفُهَا:

التَّمْرِينُ (۶)

مَثِّل فِي جُمَلٍ مُفِيدَةٍ لِلأَسْمَاءِ الْمَبْنِيَّةِ عَلَى الضَّمِّ، وَالْمَبنِيَّةِ عَلَى الْفَتْحِ، وَالْمَبْنِيَّةِ عَلَى الْكَسْر، وَالْمَبْنِيَّةِ عَلَى السُّكُونِ بِهَذَا التَّرْتِيبِ:

التَّمْرِينُ(۷)

(۱) كَوِّنۡ ثَلَاثَ جُمَلٍ فِي كُلِّ مِنْهَا اسْمٌ مَبنِي عَلَى السُّكُونَ فِي مَحَلِّ رَفْعِ .

(۲) كَوِّنْ ثَلَاثَ جُمَلٍ فِي كُلِّ مِنْهَا إِسْمٌ مَبْنِيٌّ عَلَى الضَّمِّ فِي مَحَلِّ نَصْبٍ.

(۳) كَوِّنۡ ثَلَاثَ جُمَلٍ فِي كُلٍّ مِنْهَا اسْمٌ مَبْنِي عَلَى الْفَتْحِ فِي مَحَلِّ جَرٍ.

(۴) كَوِّنۡ ثَلَاثَ جُمَلٍ فِي كُلٍّ مِنْهَا اسْمٌ مَبْنِي عَلَى الْكَسْرِ فِي مَحَلِّ رَفْعِ.

التَّمْرِينُ(۸)

اكْتُبۡ مَقَالًا قَصِيرًا تَصِفُ فِيهِ الْحَيَاة الْمَدْرَسیةِ، وَضَعْ خَطًّا تَحْتَ كُلِّ اسْمٍ مَبْنِي تَسْتَعْمِلُهُ فِي مَقَالِكَ:

تَمْرِينٌ فِي الْإِعْرَاب (۹)

(۱)نموذج

فِي الْحُجْرَةِ تِسْعَةَ عَشَرَ طَالِبًا.

فِي الْحُجْرَةِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جارو مجرور خبر مقدم

تِسْعَةَ عَشَرَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مبتداء مؤخر مبنى على الفتح في محل رفع.

طالبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تمييز منصوب بالفتحة الظاهرة.

(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ:

(۱) مَتَى يُزْرَعُ الْقَصَبُ ؟

(۲) رُوَيْدَ أَخَاكَ

(۳) أَشْرَبُ الدَّوَاءَ لَيْلَ نَهَارَ

(۴) مَا رَأَيْتُ أَبَا الْهَوْلِ مِنْ قَبْلُ

التَّمُرِينُ (۱۰)

اِشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ ، وَعَيِّنۡ فِيهِمَا الْأَسْمَاءَ الْمَبْنِيَّةَ، وَبَيِّنۡ مَوَاقِعَهَا مِنَ الإِعْرَابِ:

وَمَا قَتَلَ الْأَحْرَارَ كَالْعَفْوِ عَنْهُمُ وَمَنْ لَكَ بِالْحُرِّ الَّذِي يَحْفَظُ الْيَدَا

إِذَا أَنْتَ أَكْرَمۡتَ الْكَرِيمَ مَلَكْتَهُ وَإِنْ أَنْتَ أَكْرَمْتَ اللَّئِيمَ تَمَرَّدَا

6 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

7 ضمائر

ضمائر:

ضمائر وہ الفاظ ہیں جو کسی اسم (شخص یا چیز) کی جگہ استعمال ہوتے ہیں تاکہ بار بار ایک ہی اسم کا ذکر نہ کرنا پڑے۔ ضمائر کی مدد سے گفتگو میں آسانی اور روانی پیدا ہوتی ہے۔ ضمائر کو اردو میں "ضمیر" کہا جاتا ہے اور عربی میں اس کا لفظی مطلب "چھپا ہوا" یا "پوشیدہ" ہوتا ہے۔

ضمائر کی اقسام:

ضمائر کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے، جیسے شخص (متکلم، مخاطب، غائب) اور عدد (واحد، تثنیہ، جمع) کے لحاظ سے۔

1. ضمائر متکلم :

یہ وہ ضمائر ہیں جو بولنے والے یا متکلم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

واحد (ایک شخص): اردو میں: "میں" ، عربی میں: "أنا"

جمع (زیادہ لوگ): اردو میں: "ہم" ، عربی میں: "نحن"

2. ضمائر مخاطب :

یہ وہ ضمائر ہیں جو مخاطب یا سننے والے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

واحد مذکر (ایک مرد): اردو میں: "تو" یا "تم" ، عربی میں: "أنتَ"

واحد مؤنث (ایک عورت): اردو میں: "تو" یا "تم" ، عربی میں: "أنتِ"

تثنیہ (دو افراد): اردو میں: "تم دونوں" ، عربی میں: "أنتما" (مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے)

جمع مذکر (زیادہ مرد): اردو میں: "تم لوگ" ، عربی میں: "أنتم"

جمع مؤنث (زیادہ عورتیں): اردو میں: "تم لوگ" ، عربی میں: "أنتنّ"

3. ضمائر غائب : یہ وہ ضمائر ہیں جو غیر موجود شخص یا چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

واحد مذکر (ایک مرد): اردو میں: "وہ" ، عربی میں: "هو"

واحد مؤنث (ایک عورت): اردو میں: "وہ" ، عربی میں: "هي"

تثنیہ مذکر و مؤنث (دو افراد): اردو میں: "وہ دونوں" ، عربی میں: "هما" (مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے)

جمع مذکر (زیادہ مرد): اردو میں: "وہ لوگ" ، عربی میں: "هم"

جمع مؤنث (زیادہ عورتیں): اردو میں: "وہ عورتیں" ، عربی میں: "هنّ"

ضمائر کی مزید اقسام:

1. ضمائر متصل : یہ وہ ضمائر ہیں جو کسی لفظ کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور الگ نہیں آتے، جیسے:

عربی مثالیں: "کتابي" (میری کتاب) میں "ي" متصل ضمیر ہے ، "کتابك" (تمہاری کتاب) میں "ك" متصل ضمیر ہے۔

2. ضمائر منفصل: یہ وہ ضمائر ہیں جو اپنے طور پر الگ آتے ہیں اور کسی لفظ سے متصل نہیں ہوتے، جیسے:

عربی مثالیں: "أنا" (میں) ، "هو" (وہ)

خلاصہ:

ضمائر وہ الفاظ ہیں جو اسم کی جگہ استعمال ہوتے ہیں اور گفتگو کو سہل اور مختصر بناتے ہیں۔ ضمائر کی مختلف اقسام ہیں، جیسے ضمائر متکلم، مخاطب، اور غائب۔

8 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۶

الضمیر: ضمیر

الضَّمِيرُ اسْمٌ ، مَعْرِفَة يَدُلُّ عَلَى الْمُتَكلم ، أَوِ الْمُخَاطَبِ ، أَوِ الْغَائِبِ .

ضمیر وہ اسم معرفہ ہے جو متکلم مخاطب اور غائب پر دلالت کرتا ہے

الأمثلة :

(۱) أَنا لا أَتَأخَّرُ فِي الصَّبَاحِ

(۲) نَحْنُ نَعْرِفَ الْوَاجِبَ .

(٣) أَنْتَ تُحِبُّ الوَطَنَ

( ٤ ) أَنْتِ تُطِيعِينَ الْمُعَلِّمَةَ .

(٥) مَا أَكْرَمَ الْمُعَلِّمُ إِلَّا إِيَّاكَ.

(٦) هُوَ مُولِع بِاللعِبِ

(۱) الضمير المنفصل: ضمیر منفصل

الضَّمِيرُ الْمُنْفَصِلُ مَا يُمْكِنُ النُّطْقُ بِهِ وَحْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَّصِلَ بِكَلِمَةٍ أُخْرى

ضمیر منفصل وہ ہے جس کو دوسرے کلمے کے ساتھ ملائے بغیر بولا اور لکها جاسکے۔

الضَّمَائِرِ المُنْفِصِلَةِ الْخَاصَّةُ بِالرَّفْعِ هِيَ :

ضمائر منفصلة مرفوعہ حسب ذیل ہیں:

أنا للمتكلم .

نحن للمتكلمين .

أنت - للمخاطب .

أنت - للمخاطبة .

أنتما للمخاطبين أو المخاطبتين .

أنتم - للمخاطبين .

أنتن للمخاطبات .

هو - للغائب .

هي - للغائبة

هما - للغائبين أو الغائبتين

هم - للغائبين .

ھن للغائبات

الضَّمَائِرُ الْمُنْفِصِلَةَ الْخَاصَّةِ بِالنَّصْبِ هِيَ :

ضمایر منفصلہ منصوبہ حسب ذیل ہیں:

إياى - للمتكلم .

إيانا - للمتكلمين

إياك - للمخاطب ..

إياكِ ۔۔۔۔ للمخاطبة

ايا كما - للمخاطبين أو المخاطبتين.

إياكم - للمخاطبين .

إياكن - للمخاطبات .

إياه - للغائب .

إياها - للغائبة .

إياهما للغائبين أو الغائبتين

إياهم - للغائبين .

إياهن للغائبات

الأمثلة

(۱) أَنَا سَامِعُ .

(٢) نَحْنُ مُطِيعُون

(٣) أَنْتَ مُجْتَهِد

(٤) أَنْتِ نَظِيفَةٌ

(۵) هُوَ طَاهِرُ الْقَلْبِ

(٦) هِيَ مُهَذِّبَةٌ

(۷) إِيَّايَ مَدَحَ الْمُدَرِّسُ .

(۸) ظَنَّ الرَّجُلُ سَعِيدًا إِيَّاكَ .

(۲) الضمير المتصل: ضمیر متصل

الضَّمِيرُ الْمُتّصِلُ هُوَ الَّذِي لَا يُنْطَقُ بِهِ وَحْدَهُ وَيَتَّصِلُ دائماً بكلمةٍ أُخرى

الضَّمَائِرُ الْمُتَّصِلَةُ بِالْأَفْعَالِ وَهِيَ خَاصة بِالرَّفْعِ هي : التَّاءُ وَأَلِفُ الاثْنَيْنِ وَوَاوُ الجَمَاعَةِ وَنُونُ النِّسْوَةِ وَيَاءُ المُخَاطَبَةِ

يَاءُ الْمُتَكَلِّمِ وَكَافُ الْمُخَاطَبِ وَهَاءُ الْغَائِبِ إِذا اتَّصَلَتْ بِالْأَفْعَالِ كَانَتْ فِي مَحَلِّ نَصْبٍ وَإِذَا اتَّصَلَتْ بِالْأَسْمَاءِ أَوْ حُرُوفِ الْجَرُ كَانَتْ فِي مَحَلَّ جَر

الضَّمِيرُ (نا) يَكُونُ مَرَّةً فِي مَحَلَّ رَفْعِ وَمَرَّةً في مَحلُّ نَصْبٍ وَمَرَّةٌ فِي مَحَلَّ جَرَّ

ضمیر متصل وہ ہے جو ہمیشہ دوسرے کلمہ سے ملی ہوئی ہو اور اکیلی بولی نہ جائے۔

افعال کے ساتھ متصل ضمائر حالت رفع میں یہ ہیں: تاء- الف تثنیہ- واؤ جمع - نون جمع مؤنث اور یاء واحد مؤنث مخاطب

یاء متکلم کاف مخاطب اور ھاء غائب جب فعل کے ساتھ آ جائیں تو محل نصب میں ہوتے ہیں اور جب اسم یا حرف جر سے متصل ہوں تو محل جر میں ہوتے ہیں۔

ضمیر "نا "کبھی محل رفع میں، کبھی محل نصب میں اور کبھی محل جر میں آتا ہے۔

الأمثلة

(1) سافَرْتُ إلى الإِسْكَنْدَرِيَّةِ

(۲) ذَهَبْنَا إِلى المَلْعَبِ.

(۳) انْتَصَرَ الْحَقِّ

(٤) أَخْلِصُوا في العَمَلِ .

(۵ ) اعْمَلِي الوَاجِبَ .

(٦) السَّيِّدَاتُ يُهَذِّبْنَ الْأَوْلَادَ

(٧) نَفَعَنِى نُصْحُ أَخِي .

(۸) أَعْطَاكَ مُعَلِّمِكَ كِتَاباً .

(٩) حَسَنٌ يَحِبُّهُ أَبُوهُ

(۱۰ ) أَفَادَنَا اجْتِهَادُنَا .

(۱۱) أَخَذَ عَلَى مِنِّي رِسَالَةٌ إِلَيْكَ.

(۱۲) لَنَا مَنْزِلُ بِهِ حَدِيقَة

(۳) الضمير المستتر: ضمیر مستتر

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ: هُوَ ضَمِيرٌ اتَّصَلَ بِالفِعْلِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَظْهَرَ فِي اللَّفْظِ.

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي الفِعْلِ المَاضِي: تَقْدِيرُهُ هُوَ أَوْ هِيَ۔

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي الفِعْلِ المُضَارِعِ: يَخْتَلِفُ تَقْدِيرُهُ بِاخْتِلَافِ حُرُوفِ المُضَارَعَةِ.

الضَّمِيرُ المُسْتَتِرُ فِي فِعْلِ الأَمْرِ: تَقْدِيرُهُ أَنْتَ دَائِمًا.

ضمیر مستتر وہ ہے جو فعل کے ساتھ متصل تو ہولیکن لفظوں میں ظاہر نہ ہو۔

فعل ماضی میں دو ضمیریں ھو اور ھی مستتر ہوتی ہیں۔

فعل مضارع میں پانچ صیغوں میں ضمیر مستتر آتی ہیں۔ وہ حسب ذیل ہیں:

يضرب (هو)، تضرب (هي)، تضرب (انت)، اضرب (انا)، نضرب (نحن)۔

فعل امر میں انت ضمیر مستتر آتی ہیں۔

الأمثلة

(۱) الْجَمَلُ بَرَكَ

(۲) الْحمَامَةُ غَرَّدَتْ

(٣) أُريدُ أَنْ تَجْتَهَدَ

(٤ ) إِنَّنَا نُحِبُّ نَجَاحَكَ

(۵ ) الكلبُ يَنْبَحُ .

(٦) البِنْتُ تُحْسِنُ الطَّبْخَ

(٧) عَظَّمِ الكَبِيرَ .

(۸) نَظِّفْ حِذَاءَكَ .

9 معلم الانشاء ( جلد:۱ٰ) سبق:۵

ضمیر: ایک اسم معرفہ ہے۔ جو غائب یا مخاطب یا متکلم کی طرح استعمال ہوتا ہے جیسے هُوَ(وہ)، انت( تو )، انا( میں )، نَحْنُ( ہم )

ضمیر کی دو قسمیں ہیں متصل اور منفصل

ضمیر متصل اس ضمیر کو کہتے ہیں جو دوسرے کلمہ کے ملے بغیر استعمال نہ ہوتی ہو ( بخلاف ضمیر منفصل کے ) یہ ضمیر کبھی فعل کے ساتھ آتی ہے جیسے ضَرَبَہ( اس نے اس کو مارا) اور ضَرَبَتُهُ ( میں نے اس کو مارا ) ۔ ضربتهما ( میں نے ان دونوں کو مارا ) اور کبھی اسم کے ساتھ ہوتی ہے جیسے کتابہ( اس کی کتاب ) اور کبھی حرف کے ساتھ ہوتی ہے جیسے:بہ، لہ، علیہ وغیرہ

ضمیر فعل کے ساتھ جب آتی ہے تو منصوب ہوتی ہے اور اسم یا حرف کے ساتھ ملتی ہے تو ہمیشہ مجرور ہوا کرتی ہے پہلی صورت میں ضمیر منصوب متصل کہلاتی ہے اور دوسری و تیسری صورت میں ضمیر مجرور متصل کہلاتی ہے۔

اسم کے ساتھ ملنے کی صورت میں اسم مضاف اور ضمیر مضاف الیہ ہوگی اس لئے اس کو ضمیر اضافی بھی کہتے ہیں۔ ذیل میں ضمیر اضافی کا نقشہ دیا جاتا ہے۔

ضمیر اضافی یا ضمیر مجرور متصل

غائب

واحد مذکر کِتَابُہُ

تثنیہ مذکر كتابُهُمَا

جمع مذکر كِتَابُهُمْ

واحد مؤنث كِتَابُهَا

تثنیہ مؤنث كِتَابُهُمَا

جمع مؤنث كِتَابُهُنَّ

مخاطب

واحد مذکر کتَابُكَ

تثنیہ مذکر کتَابُكُمَا

جمع مذکر كِتَابُكُمْ

واحد مؤنث كِتَابُكِ

تثنیہ مؤنث كِتَابُكُمْا

جمع مؤنث كِتَابُكُنَّ

متکلم

واحد كِتَابِي

جمع كِتَابُنَا

اور حرف کے ساتھ جیسے لهُ، لَهُمَا، لَهُمْ، لَهَا، لَهُمَا ، لَهُنَّ، لَكَ، لَكُمَا، لَكُمْ، لَكِ، لَكُمَا، لَكُنَّ، لِي، لَنَا۔

اور ضمیر منصوب متصل کی صورت میں حسب ذیل ہوگی۔

ضربتُہُ، ضربتُهمَا، ضَرَبْتُهُمْ، ضَرَبۡتُهَا، ضَرَبْتُهُمَا، ضَرَبْتُهُنَّ ضَرَبْتُكَ، ضَرَبتُكُمَا، ضرَبْتُكُمْ، ضَرَبْتُكِ، ضَرَبۡتُكُمَا، ضَرَبْتُكُنَّ، ضَرَبْتُنِىِ، ضَربۡتُنَا

ضمیر منفصل: اس ضمیر کو کہتے ہیں کہ جس کا استعمال دوسرے کلمہ کے ساتھ ملائے بغیر ہوتا ہے جیسے ھو، ھی (وہ) هما ( وہ دونوں) هُمُ ( وہ سب) یا ايَّاك ( تجھ کو ) ايَّا كُمَا ( تم دونوں کو ) ايَّاكُمُ ( تم سب کو ) .

ضمیر منفصل کی صرف دو قسمیں ہیں۔

(۱) ایک وہ جو رفع کے ساتھ مختص ہیں اور وہ ہمیشہ مرفوع ہوتے ہیں، انہیں ضمیر فاعلی بھی کہا جاتا ہے۔

(۲) دوسرے وہ جو نصب کے ساتھ مختص ہیں اور ہمیشہ منصوب ہی ہوا کرتے ہیں ان کو ضمیر مفعولی بھی کہتے ہیں۔

ضمیر مرفوع منفصل یا ضمیر فاعلی حسب ذیل ہیں۔

مذکر : هو، هما، هم انت انتما انتم انا ، نحن

مؤنث : هِي هُمَا هُنَّ انتِ انتما انتُنَّ انا ، نحن

ضمیر منصوب منفصل یا ضمیر مفعولی یہ ہیں۔

مذکر :اياه، إيَّاهُما إِيَّاهُمْ، إِيَّاكَ، إِيَّاكُمَا إِيَّاكُمْ اِیّایَ، اِیّانَا

مؤنث :اياها، إيَّاهُمَا، إِيَّاهُنَّ إِيَّاكِ ، إِيَّاكُمَا ايَا كُنَّ اِیّایَ، اِیّانَا

10 تیسیر النحو۔ سبق:۲۴

الضمائر

الضمائر: جمع ضمير، والضمير : هو اسم لما وضع المتكلم كـ "أنا" أو لمخاطب كـ "أنت" أولغائب كـ "هو" أو لمخاطب تارة والغائب أخرى، وهي: الألف، والواو، والنون، مثل: فعلا، ويفعلان الألف فيهما للغائب) وتفعلان وافعلا الألف فيهما للمخاطب) وفعلوا ويفعلون (الواو فيهما للغائب) وتفعلون وافعلوا الواو فيهما للمخاطب) وفعلن ويفعلن النون فيهما للغائب) وتفعلن وافعلن (النون فيهما للمخاطب) أو لمخاطب تارة والمتكلم أخرى وهي: التاء والياء، مثل: فعلت (التاء فيه للمخاطب) وفعلت (التاء فيه للمتكلم) وتفعلين وافعلى (الياء فيهما للمخاطبة) وضربني (الياء فيه للمتكلم)

سبب بنائها مشابهتها الحرف في الوضع على حرف واحد مثل التاء في "ضربت" أو على حرفين مثل "نا" في "فعلنا" و "أكرمنا والضمائر الموضوعة على أكثر منها محمولة على ما سبق في سبب البناء طرد للباب

ينقسم الضمير إلى قسمين:

بارز، ومستتر

الأول: الضمير البارز هو الذي له صورة في ا اللفظ، وهو نوعان: متصل، ومنفصل. والضمير المنفصل ما استقل بالنطق ويقع بعد "إلا " . في الاختيار، ولہ قسمان:

ا۔ ضمائر رفع منفصلة وتكون في محل رفع مبتدأ أو خبر، أو فاعل أو نائب فاعل

وهي:

للمتكلم : أنا، نحن

وللمخاطب: أنت، أنتماء أنتم أنت، أنتما أنتن

والغائب : هو، هما، هم، هي، هما، هن

مثل: أنا طالب (أنا: ضمير منفصل مبنى على السكون في محل رفع مبتدأ )

وأخوه أنت (انت " " " الفتح " " خبر)

وما ضرب إلا أنت (أنت " " " " " " فاعل)

وما ضُرب إلا أنت (انت " " " " " "نائب فاعل )

۲۔ ضمائر نصب منفصلة وتكون في محل نصب مفعول به، وهي:

للمتكلم : إياي، إيانا.

للمخاطب: إياك، إياكما، إياكم، إياك، إياكما، إياكن.

وللغائب: إياه، إياهما، إياهم إياها، إياهما، إياهن

مثل: إياك نعبد وإياك نستعين (إياك: ضمير منفصل مبني على الفتح في محل نصب مفعول به )

والضمير المتصل مالم يستقل بالنطق، ولا يقع بعد "إلا" وانما يكون كالجزء من الكلمة السابقة، كتاء "فعلت" وياء "كتابي" وكاف "أكرمك" وله ثلاثة أقسام.

۱۔ ضمائر رفع متصلة: تكون دائما متصلة بالفعل أو بـ"كان" وأخواتها وهي:

(۱) تاء الفاعل، مجردة لواحد المتكلم في "فعلت" ولواحد المذكر الحاضر في "فعلت" ولواحد المؤنث الحاضر في فعلت، أو متصلة بـ "ما" الدالة على مثنى الحاضر المذكر أو المؤنث في فعلتما" أو بـ"م" الدالة على جمع المذكر الحاضر في "فعلتم " أو بـ"ن" المشددة الدالة على جمع المؤنث الحاضر في "فعلتن".

(ب) نا لجمع المتكلم في "فعلنا"

(ج) الف الاثنين، مثل: فعلا ، يفعلان، فعلتا، تفعلان الألف في الأولين للمثنى الغائب المذكر، وفي الأخيرين للمثنى الغائب المؤنث وتفعلان، وافعلا الألف فيهما للمثنى المخاطب المذكر أو المؤنث)

( د) واو الجماعة، مثل : فعلوا، يفعلون تفعلون، افعلوا الواو في الأولين لجمع المذكر الغائب، وفي الأخيرين لجمع المذكر المخاطب)

(ه) ياء المخاطبة، مثل: تفعلين، افعلي

(و) نون النسوة، مثل: فعلن، ويفعلن، وتفعلن، وافعلن (النون في الأولين لجمع المؤنث الغائب وفي الأخيرين لجمع المؤنث المخاطب) .

وقت اتصالها بالفعل تكون مبنية في محل رفع فاعل مثل : ذهبت إلى المسجد (ذھبت: فعل ماض مبني على السكون لاتصاله بتاء الفاعل، و"ت" ضمير متصل مبني على الضم في محل رفع فاعل)

ووقت اتصالها بـ كان وأخواتها تكون مبنية في محل رفع اسم كان مثل: كنت مجتهدا في السنة الماضية (كنت: فعل ماض ناقص مبني على السكون لاتصاله بتاء الفاعل، و"ت" ضمير متصل مبنی على الفتح في محل رفع اسم كان)

۲۔ ضمائر نصب متصلة: تكون متصلة بالفعل أو بـ"إن" وأخواتها وهي:

(ا) ياء المتكلم الواحد، مثل: ضربني

(ب) نا، لجمع المتكلم، مثل: ضربنا

(ج) كاف الخطاب ، مثل : ضربك ، ضربكما، ضربكم، ضربك، ضربكما، ضربكن.

(د) هاء الغائب ، مثل : ضربه ، ضربهما، ضربهم، ضربها، ضربهما، ضربهن.

وقت اتصالها بالفعل تكون مبنية في محل نصب مفعول به.

ووقت اتصالها بـ"إن" وأخواتها تكون مبنية في محل نصب اسم "إن"

۳۔ ضمائر جر متصلة تكون متصلة بالاسم المضاف، أو بحرف الجر، وهي:

(۱) ياء المتكلم الواحد، مثل: كتابي، ولي:

(ب) نا، لجمع المتكلم، مثل: كتابنا، ولنا.

(ج) كاف الخطاب ، مثل : كتابك ، كتابكما، كتابكم ، كتابك ، كتابكما، كتابكن، ولك، لكماء لكم ، لك، لكما، لكن

(د) هاء الغائب مثل ، كتابه ، كتابهما، كتابهم، كتابها، كتابهما، كتابهن، وله ، لهماء لهم ، لها، لهما، لهن.

وقت اتصالها بالاسم المضاف تكون مبنية في محل جر مضاف إليه.

ووقت اتصالها بحرف الجر تكون مبنية في محل جر مجرور بحرف الجر

الثاني: الضمير المستتر هو الذي ليس له صورة في اللفظ كالضمير المستتر فی نحو افهم درسك افهم: فعل أمر مبني على السكون والفاعل ضمير مستتر تقديره "أنت")

وله نوعان: ١- الضمير المستتر وجوبا، ٢- الضمير المستتر جوازا.

الضمير المستتر وجوبا: هو الذي لا يصح أن يحل محله الاسم الظاهر، وهذا الضمير لا يكون إلا مرفوعا، وأشهر مواضعه أربعة:

۱۔ الفعل الأمر للواحد المخاطب، مثل: اكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنت)

۲۔ الفعل المضارع للواحد المخاطب، مثل: تكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنت)

۳۔ الفعل المضارع للواحد المتكلم، مثل: أكتب (فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: أنا)

۴۔ الفعل المضارع للجمع المتكلم، مثل: نكتب ( فاعله ضمير مستتر وجوبا تقديره: نحن)

الضمير المستتر جوازا: هو الذي يصح أن يحل محله الاسم الظاهر.

ويكون الضمير مستترا جوازاً في كل من الفعل الماضي والفعل المضارع المسند إلى الغائب والغائبة، مثل: الرجل قام المرأة قامت الرجل يقوم المرأة تقوم

الضمير المتصل هو الأصل:

متى أمكن اتصال الضمير لا يجوز انفصاله وذلك لاختصار المتصل غالبا فلهذا كان المتصل هو الأصل، ولا يستعمل المنفصل إلا لأسباب.

أشهر الأسباب الموجبة لفصل الضمائر هي:

۱۔ إرادة الحصر بتقديم الضمير على عامله نحو قوله تعالى: اياك نعبد واياك نستعين - أو باستخدام "إلا" أو "إنما" نحو: لا نعبد إلا إياه، وإنما المعبود هو

۲۔ كون عامله محذوفا كما في التحذير، نحو: إياك من الكذب

۳۔ كون عامله معنويا ( وهو الابتداء نحو: أنا طالب).

٤۔ كون عامله حرف نفي، نحو: ما أنا راسبا في الاختبار.

۵۔ فصله عن عامله بمتبوع له، نحو قوله تعالى : (يخرجون الرسول واياكم)

ملاحظات عامة عن الضمائر

الضمائر "هم" و"هن" و "واو الجماعة" و"نون النسوة " لا تستعمل إلا لجمع العاقل. - يستعمل الجمع غير العاقل الضمير "هي" مع إلحاق تاء التأنيث بالفعل، مثل: وصلت السيارات وهي مسرعة.

أقسام الضمير المتصل:

الضمير المتصل ينقسم حسب إعرابه المحلي إلى ثلاثة أقسام:

(۱) ما يختص بالرفع وهو خمسة الألف كـ "قاما" والواو كـ قاموا" والنون كـ "قمن" ويا المخاطبة كـ "قومي " و "تقومين" والتاء مجردة كـ "قمت" أو متصلة بـ "ما كـ "قمتما أو 7 بالميم که قمتم أو بالنون كـ "قمتن "

(ب) ما هو مشترك بين النصب والجر، وهو ثلاثة: ياء المتكلم نحو ربي أكرمني وها، الغائب نحو زيد زميله يحبه، وكاف الخطاب مجردة نحو قوله تعالى ما ودعك ربك) أو متصلة بما يتصل بها من "ما" أو "م" أو "ن".

(ج) ما هو مشترك بين الرفع والنصب والجر، وهو "نا" نحو: إننا أخذنا حقنا.

ضمائر:

ضمائر

ضمائر، "ضمیر" کی جمع ہے۔ ضمیر وہ اسم ہے جو کسی متکلم جیسے "أنا" (میں)، کسی مخاطب جیسے "أنت" (تو)، یا کسی غائب جیسے "هو" (وہ) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات ضمیر مخاطب اور غائب دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے:

الف، واو، نون کا استعمال:

الف: "فعلا"، "يفعلان" (یہاں الف غائب کے لیے ہے)، "تفعلان"، "افعلا" (یہاں الف مخاطب کے لیے ہے)

واو: "فعلوا"، "يفعلون" (یہاں واو غائب کے لیے ہے)، "تفعلون"، "افعلوا" (یہاں واو مخاطب کے لیے ہے)

نون: "فعلن"، "يفعلن" (یہاں نون غائب کے لیے ہے)، "تفعلن"، "افعلن" (یہاں نون مخاطب کے لیے ہے)

تاء اور یاء:

"فعلت" (یہاں "تاء" مخاطب کے لیے ہے)، "فعلت" (یہاں "تاء" متکلم کے لیے ہے)

"تفعلين"، "افعلي" (یہاں "یاء" مخاطبہ کے لیے ہے)

"ضربني" (یہاں "یاء" متکلم کے لیے ہے)

ضمائر کے مبنی ہونے کی وجہ

ضمائر کو مبنی قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ یہ حرف سے مشابہت رکھتے ہیں:

بعض اوقات کسی ایک حرف پر آتے ہیں، جیسے "تاء" (ضربت)

بعض اوقات دو حروف پر آتے ہیں، جیسے "نا" (فعلنا، أكرمنا)

جو ضمائر اس سے زیادہ حروف پر مشتمل ہوتے ہیں، وہ بھی اسی اصول کے تحت مبنی قرار دیے جاتے ہیں۔

ضمائر کی اقسام

ضمیر کی دو اقسام ہیں:

ضمیر بارز (ظاہر ہونے والا ضمیر)

ضمیر مستتر (چھپا ہوا ضمیر)

1. ضمیر بارز (ظاہر ہونے والا ضمیر)

یہ وہ ضمیر ہے جو الفاظ میں واضح نظر آتا ہے۔ اس کی مزید دو قسمیں ہیں:

ضمیر متصل (جو دوسرے لفظ سے جُڑا ہو)

ضمیر منفصل (جو الگ ہو)

(أ) ضمیر منفصل

یہ وہ ضمیر ہے جو الگ سے بولا جا سکتا ہے اور "إلا" کے بعد آسکتا ہے۔ یہ دو طرح کا ہوتا ہے:

1- ضمائر رفع منفصلة (جو رفع میں آتے ہیں)

یہ مبتدا، خبر، فاعل یا نائب فاعل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

متکلم مخاطب غائب

أنا، نحن أنت، أنتما، أنتم، أنتن هو، هما، هم، هي، هما، هن

مثالیں:

أنا طالب (أنا: ضمیر منفصل، مبنی علی السکون، محل رفع مبتدا)

وأخوه أنت (أنت: ضمیر منفصل، مبنی علی الفتح، محل رفع خبر)

وما ضرب إلا أنت (أنت: ضمیر منفصل، محل رفع فاعل)

وما ضُرب إلا أنت (أنت: ضمیر منفصل، محل رفع نائب فاعل)

2- ضمائر نصب منفصلة (جو نصب میں آتے ہیں)

یہ مفعول بہ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔

متکلم مخاطب غائب

إياي، إيانا إياك، إياكما، إياكم، إياك، إياكما، إياكن إياه، إياهما، إياهم، إياها، إياهما، إياهن

مثال: إياك نعبد وإياك نستعين (إياك: ضمیر منفصل، مبنی علی الفتح، محل نصب مفعول بہ)

(ب) ضمیر متصل

یہ وہ ضمیر ہے جو الگ سے نہیں بولا جا سکتا اور کسی لفظ کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے، جیسے:

تاء (فعلت)

یاء (کتابي)

کاف (أكرمك)

1- ضمائر رفع متصلة

یہ ہمیشہ فعل یا "كان" اور اس کے اخوات کے ساتھ آتے ہیں:

تاء الفاعل: "فعلت" (واحد متکلم یا واحد مخاطب مذکر و مؤنث)

نا: "فعلنا" (جمع متکلم)

الف: "فعلا"، "يفعلان" (مثنی غائب مذکر)، "فعلتا"، "تفعلان" (مثنی غائب مؤنث)

واو الجماعة: "فعلوا"، "يفعلون" (جمع مذکر غائب)، "تفعلون"، "افعلوا" (جمع مذکر مخاطب)

ياء المخاطبة: "تفعلين"، "افعلي"

نون النسوة: "فعلن"، "يفعلن"، "تفعلن"، "افعلن"

مثال:ذهبت إلى المسجد (ذهبت: تاء ضمیر متصل، محل رفع فاعل)

كنت مجتهدا (تاء ضمیر متصل، محل رفع اسم كان)

2- ضمائر نصب متصلة

یہ فعل یا "إن" اور اس کے اخوات کے ساتھ آتے ہیں:

ياء المتكلم: "ضربني"

نا: "ضربنا"

كاف الخطاب: "ضربك، ضربكما، ضربكم، ضربكن"

هاء الغائب: "ضربه، ضربهما، ضربهم، ضربها، ضربهن"

3- ضمائر جر متصلة

یہ مضاف یا حرف جر کے ساتھ آتے ہیں:

ياء المتكلم: "كتابي، لي"

نا: "كتابنا، لنا"

كاف الخطاب: "كتابك، كتابكما، كتابكم"

هاء الغائب: "كتابه، كتابهما، كتابهم"

2. ضمیر مستتر (چھپا ہوا ضمیر)

یہ وہ ضمیر ہے جو الفاظ میں موجود نہیں ہوتا، لیکن مقدر (مفہوم) ہوتا ہے۔

(أ) ضمیر مستتر وجوباً

یہ وہ ضمیر ہے جو ظاہر نہیں ہو سکتا اور اسے کسی اسم سے بدلا نہیں جا سکتا:

امر واحد مخاطب: "اكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنت)

مضارع واحد مخاطب: "تكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنت)

مضارع واحد متکلم: "أكتب" (فاعل مستتر وجوباً: أنا)

مضارع جمع متکلم: "نكتب" (فاعل مستتر وجوباً: نحن)

(ب) ضمیر مستتر جوازاً

یہ وہ ضمیر ہے جو ظاہر بھی ہو سکتا ہے اور کسی اسم سے بدلا بھی جا سکتا ہے:

ماضی و مضارع (غائب): "الرجل قام" (فاعل مستتر جوازاً: هو)

المراة قامت (فاعل مستتر جوازاً: هي)

ضمائر منفصل کب استعمال ہوتے ہیں؟

عام طور پر متصل ضمیر اصل ہوتا ہے، لیکن درج ذیل صورتوں میں منفصل ضمیر استعمال ہوتا ہے:

حصر: "إياك نعبد"

عامل محذوف ہو: "إياك من الكذب"

ابتداء کے طور پر: "أنا طالب"

نفی کے ساتھ: "ما أنا راسبا"

متبوع کے بعد: "يخرجون الرسول وإياكم"

ضمائر کے بارے میں عمومی نوٹس

ضمائر "هم"، "هن"، "واو الجماعة" اور "نون النسوة" صرف عاقل کے جمع کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

غیر عاقل کے جمع کے لیے "هي" ضمیر استعمال کی جاتی ہے اور فعل میں تائے تانیث کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے:

وصلت السيارات وهي مسرعة. (گاڑیاں پہنچ گئیں اور وہ تیز رفتار تھیں۔)

متصل ضمیر کی اقسام

متصل ضمیر اپنی اعرابی حیثیت کے لحاظ سے تین اقسام میں تقسیم ہوتا ہے:

۱۔ صرف رفع کے لیے مخصوص ضمائر:

یہ پانچ قسموں میں آتے ہیں:

الف: جیسے "قاما" (وہ دونوں کھڑے ہوئے)

واو: جیسے "قاموا" (وہ سب کھڑے ہوئے)

نون: جیسے "قمن" (وہ سب عورتیں کھڑی ہوئیں)

یاء مخاطبہ: جیسے "قومي" (اے عورت! کھڑی ہو)، "تقومين" (تم کھڑی ہو رہی ہو)

تاء:مجرد، جیسے "قمت" (میں کھڑا ہوا)

"ما" سے متصل، جیسے "قمتما" (تم دونوں کھڑے ہوئے)

"میم" سے متصل، جیسے "قمتم" (تم سب کھڑے ہوئے)

"نون" سے متصل، جیسے "قمتن" (تم سب عورتیں کھڑی ہوئیں)

۲۔ وہ ضمائر جو نصب اور جر دونوں میں آتے ہیں:

یہ تین قسموں میں آتے ہیں:

یاء متکلم: جیسے "ربي أكرمني" (میرے رب نے مجھ پر کرم کیا)

ہاء الغائب: جیسے "زيد زميله يحبه" (زید اپنے ساتھی سے محبت کرتا ہے)

کاف خطاب: مجرد، جیسے ﴿مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ﴾ (تیرے رب نے تجھے نہیں چھوڑا)

"ما"، "م"، یا "ن" کے ساتھ متصل ہو سکتی ہے۔

۳۔ وہ ضمیر جو رفع، نصب اور جر تینوں میں آ سکتا ہے:

"نا": جیسے "إننا أخذنا حقنا" (بے شک ہم نے اپنا حق لے لیا)۔

ضمير الشأن والقصة

الشأن: هو مضمون الكلام الذي يريد المتكلم أن يتحدث عنه، وينسب إلى الشأن ضمير يطلق عليه ضمير الشأن، ويستعمل هذا الضمير في مجال التعظيم كأن المتكلم يذكر هذا الأمر أولا بوجه مبهم أي بالضمير حتى ينبه إلى أهميته ويجعل السامع مشتاقا إلى معرفة ذلك الأمر المبهم ثم يفسره بالجملة ليزيل الإبهام، ويسمى هذا أيضا ضمير القصة إذا كان لمؤنث.

يعود هذا الضمير إلى ما في الذهن من شأن أو قصة، وهو مضمون الجملة التي بعده وهذا من باب تقدم المرجع حكماء لأن المرجع - وهو مضمون الجملة التي بعده ـ لم يتقدم لفظا ولا معنى، ولكنه متقدم حكما، حيث تقدم المضمون إلى ذهن المتكلم، فذكره بالضمير بوجه مبهم حتى يجعل السامع مشتاقا إلى معرفة ذلك الأمر المبهم، ثم فسره بالجملة التي بعده لإزالة ذلك الإبهام.

يكون هذا الضمير مستترا في باب كاد نحو قوله تعالى : من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم وباررًا متصلا في باب "إن نحو قوله تعالى انه من يشرك بالله فقد حرم الله عليه الجنة وباررًا منفصلا إذا كان عامله معنويا نحو قوله تعالى: هو الله أحد) يجب حذفه مع "أن " المفتوحة المخففة من المثقلة، نحو قوله تعالى: (وآخر دعواهم أن الحمد لله رب العالمين) أي: أنه الحمد لله .

الضمير الشأن أربع مخالفات للقياس تعد من خصائصه وهي:

۱۔ مفسره لا يكون إلا جملة ولا يشاركه في هذا ضمير.

۲۔ لا يتبع بتابع، فلا يؤكد ولا يعطف عليه، ولا يبدل منه.

۳۔ لا يعمل فيه إلا الابتداء أو أحد نواسخه.

۴۔ إنه ملازم للإفراد، فلا يثنى ولا يجمع.

ضمير الفصل

هو لفظ على صورة الضمير المرفوع المنفصل، يقع بين المبتدأ والخبر في الحال أو في الأصل وقد دخل عليهما في الحال أحد النواسخ، ويقصد به الفصل بين كون ما بعده خبرا وعدم كونه صفة ولا بدلا ولا غيرهما من التوابع والمكملات للمعنى، نحو: زيد هو العالم (قبل الاتيان بـ هو " أي في "زيد العالم كان في "العالم" احتمالان أن يكون صفة وأن يكون خبراً، فعند ما أن بضمير الفصل " هو فصل بأن "العالم" خبر وليس صفة)

شروط ضمير الفصل:

. يشترط في الاسم الذي قبل ضمير الفصل أمران:

ا۔ أن يكون معرفة.

۲۔ أن يكون مبتدأ أو ما أصله المبتدأ كاسم "كان" وأخواتها واسم "إن وأخواتها " وغيرها، سبق مثال المبتدأ، ومثال ما أصله المبتدأ قـ ا قوله تعالى: كنت أنت ا الرقيب - عليهم في هذا المثال "أنت" ضمير الفصل)

يشترط في ضمير الفصل نفسه أمران:

۱۔ أن يكون بصورة أحد الضمائر المرفوعة المنفصلة.

۲۔ أن يكون مطابقا للاسم الذي قبله في التكلم والخطاب والغيبة، وفي الإفراد والتثنية على والجمع، وفي التذكير والتأنيث.

ويشترط في الاسم الذي بعده أمران:

۱۔ أن يكون خيرا لمبتدأ في الحال أو في الأصل ( وقد سبق مثالهما )

۲۔ أن يكون معرفة، أو ما يقاربها في التعريف وهو: أفعل التفضيل المجرد من أل والإضافة وبعده " من " ، سبق مثال المعرفة، ومثال أفعل التفضيل قوله تعالى: ﴿ان ترن أنا أقل منك مالا وولدا ( في هذه الآية " أنا ضمير الفصل )

فرائد ضمير الفصل منها اللفظية ومنها المعنوية:

الفائدة اللفظية: هو الفصل بأن ما بعده خبر لا تابع.

والفائدة المعنوية: قسمان:

الأولى: هي التوكيد، وعلى هذا لا يجتمع مع التوكيد، فلا يقال: زيد نفسه هو الفاضل: الثانية : هي الاختصاص، وهو أن ما ينسب إلى المسند إليه ثابت له مختص به دون غیره نحو قوله تعالى: (وأولئك هم المفلحون)

ضمیر الشأن اور ضمیر القصة:

شان وہ مضمون ہوتا ہے جس پر متکلم گفتگو کرنا چاہتا ہے۔ اس سے منسوب ایک "ضمیر الشأن" ہوتا ہے جو تعظیم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا استعمال یوں ہوتا ہے کہ پہلے کسی بات کو مبہم انداز میں ضمیر کے ذریعے ذکر کیا جاتا ہے تاکہ اس کی اہمیت واضح ہو اور سامع میں تجسس پیدا ہو۔ پھر بعد میں جملے کے ذریعے اس کی وضاحت کی جاتی ہے

یہ ضمیر ذہن میں موجود کسی شان یا قصے کی طرف لوٹتا ہے، جو اس کے بعد آنے والے جملے کا مضمون ہوتا ہے۔ یہ "تقدم المرجع حکماً" (مرجع کا حکماً مقدم ہونا) کے قاعدے سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ مرجع (یعنی جملے کا مضمون) نہ تو لفظی طور پر پہلے ذکر ہوا ہوتا ہے اور نہ ہی معنوی طور پر، لیکن حکماً وہ پہلے سے موجود ہوتا ہے۔

یہ اس طرح ہوتا ہے کہ متکلم کے ذہن میں کوئی بات پہلے سے ہوتی ہے، جسے وہ ضمیر کے ذریعے مبہم انداز میں بیان کرتا ہے، تاکہ سامع میں تجسس پیدا ہو۔ پھر اس تجسس کو دور کرنے کے لیے وہ اگلے جملے میں وضاحت پیش کرتا ہے اور اس طرح ابہام ختم ہو جاتا ہے۔

ضمیر الشأن کی اقسام

یہ ضمیر مختلف صورتوں میں آ سکتا ہے:

مستتر: جیسے "کاد" کے باب میں، مثال:﴿مِن بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِّنْهُمْ﴾

متصل: جیسے "إنَّ" کے باب میں، مثال:﴿إِنَّهُ مَن يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ﴾

منفصل: جب اس کا عامل معنوی ہو، مثال:﴿هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾

حذف کے ساتھ: جب "أن" (مخفف) کے ساتھ آئے، مثال:﴿وَآخِرُ دَعْوَاهُمْ أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾

(یہاں اصل جملہ "أنه الحمد لله" تھا)

ضمیر الشأن کی چار ایسی خصوصیات ہیں جو اسے عام قواعد سے مختلف بناتی ہیں:

  • اس کی وضاحت ہمیشہ جملے سے ہوتی ہے، اور اس میں کوئی دوسرا ضمیر شریک نہیں ہوتا۔
  • اس کی کوئی تابع چیز نہیں ہوتی، یعنی نہ اس کی تاکید کی جا سکتی ہے، نہ اس پر عطف کیا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اس کا بدل بنایا جا سکتا ہے۔
  • یہ صرف مبتدا یا اس کے ناسخ افعال کے ذریعے عمل پذیر ہوتا ہے، یعنی اس پر کوئی دوسرا عامل اثر انداز نہیں ہوتا۔
  • یہ ہمیشہ واحد رہتا ہے، نہ اس کی تثنیہ ہوتی ہے اور نہ ہی جمع۔

ضمیر الفصل (فصل کا ضمیر)

یہ ایک ایسا منفصل مرفوع ضمیر ہے جو مبتدا اور خبر کے درمیان آتا ہے، یا پھر نواسخ کے آنے کے بعد بھی مبتدا اور خبر کے درمیان رہتا ہے۔ اس کا مقصد یہ واضح کرنا ہوتا ہے کہ اس کے بعد آنے والا لفظ "خبر" ہے، نہ کہ صفت، بدل یا کوئی اور تابع۔ مثال:"زید هو العالم"(زید ہی عالم ہے)

اس جملے میں "هو" ضمیر الفصل ہے، جو اس بات کو واضح کر رہا ہے کہ "العالم" زید کی خبر ہے، نہ کہ اس کی صفت۔

ضمیر الفصل کے شرائط

جس اسم سے پہلے یہ آتا ہے، اس کے دو شرائط ہیں:

وہ معرفہ (واضح نام یا ضمیر) ہو۔

وہ مبتدا ہو، یا اس کی اصل مبتدا ہو، جیسے: اسم "كان" اور اس کے بھائی ، اسم "إن" اور اس کے بھائی

مثال:﴿كُنتَ أَنتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ﴾(تو ہی ان پر نگران تھا)

خود ضمیر الفصل کے بھی دو شرائط ہیں:

یہ منفصل مرفوع ضمیر کی شکل میں ہو۔

یہ اپنے سے پہلے اسم سے موافقت رکھے، یعنی: تکلم، خطاب، غیبت ، مفرد، تثنیہ، جمع ، تذکیر و تانیث

اس کے بعد آنے والے اسم کے بھی دو شرائط ہیں:

وہ خبر ہو، یعنی مبتدا کی خبر بنے۔

وہ معرفہ ہو، یا افعل التفضیل (بہتر یا اعلیٰ کے معنی میں) ہو، جیسے:

﴿إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا﴾ (اگر تو مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کم تر دیکھتا ہے)یہاں "أنا" ضمیر الفصل ہے۔

ضمیر الفصل کے فائدے

لفظی فائدہ:اس بات کو واضح کرنا کہ "ما بعدہ خبر" ہے، کوئی اور تابع نہیں۔

معنوی فائدے:

تاکید (زور دینا) → اسی لیے تاکید کے ساتھ نہیں آتا، جیسے: "زید نفسه هو الفاضل" (یہ غلط ہوگا)

اختصاص (خصوصیت دینا) → یعنی مطلب کو خاص اور محدود کرنا، جیسے:﴿وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ﴾ (اور یہی لوگ کامیاب ہیں)

11 دروس اللغۃ کلید (جلد:۱) سبق:۴، ۱۰،۱۲

(سبق:۴)ضمائر

ھو (وہ) ضمیر مذکر ہے۔ اردو کی طرح عربی میں بھی انسان دیگر جاندار اور بے جان اشیاء سب کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے جیسے :

أَيْنَ الْوَلَدُ؟ لڑکا کہاں ہے ؟

هُوَ فِي المَسْجِدِ. وہ مسجد میں ہے

أَيْنَ الْكِتَابُ؟کتاب کہاں ہے ؟

هُو عَلَى الْمَكتب وہ میز پر ہے

۔ ھی (وہ) ضمیر مؤنث ہے۔ اردو کی طرح عربی میں بھی انسان دیگر جاندار اور بے جان اشیاء سب کے لئے استعمال ہوتی ہے جیسے۔

أَيْنَ آمِنَةُ؟ آمنہ کہاں ہے ؟

هي فِي البَيْتِ. وہ گھر میں ہے۔

أَيْنَ السَّاعَةُ ؟ گھڑی کہاں ہے ؟

هيَ عَلَى السرير . وہ پلنگ پر ہے

أنا (میں) مذکر اور مونث دونوں کے لئے اس کا استعمال ہوتا ہے۔ جیسے :

أَنَا مُحَمَّدٌ میں محمد ہوں

انَا فَاطِمَةُ میں فاطمہ ہوں

أنْتَ تو یہ صرف مذکر کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے أَنْتَ رَجُلٌ تو آدمی ہے

نوٹ : تم اور آپ کے لئے بھی عربی میں ”انت “ ہی استعمال ہوتا ہے۔

(سبق: ۱۰)

ضمائر متصلہ ه، هَا، كَ، ي جیسے :

كِتَابُهُ :اس کی کتاب (مذکر)

كِتَابُهَا :اس کی کتاب (مؤنث)

هذَا مُحَمَّدٌ وَهَذَا كِتَابَهُ. یہ محمد ہے اور یہ اس کی کتاب ہے

تِلْكَ فَاطِمَةً وَهَذَا بَيْتُهَا . وہ فاطمہ ہے اور یہ اس کا گھر ہے

كِتَابُكَ: تیری کتاب

کتابی: میری کتاب

أهْذَا كِتَابُكَ؟ کیا یہ تیری کتاب ہے ؟

نَعَمْ، هَذَا كِتَابِي :ہاں۔ یہ میری کتاب ہے۔

یہ ضمائر ہمیشہ کسی کلمہ کے ساتھ مل کر استعمال ہوتے ہیں۔ کسی کلمہ کے ساتھ ملے بغیر ان کا استعمال نہیں ہو گا۔

(سبق:۱۲)

اس سے پہلے ہم أنت (تو) پڑھ چکے ہیں۔ یہاں ہم انتِ (تو) واحد مؤنث پڑھیں گے جیسے :

مِنْ أَيْنَ أَنْتِ يَا آمِنَةُ؟ اے آمنہ! تیرا تعلق کہاں سے ہے؟

۔ اس سے پہلے ہم ضمیر مذکر متصل ك پڑھ چکے ہیں جیسے :

أَيْنَ أَبُوكَ يَا مُحَمَّدُ ؟ اے محمد ! تیرا باپ کہاں ہے ؟

یہاں ہم کِ پڑھیں گے جیسے :

أَيْنَ بَيْتُكِ يَا مَرْيَمْ؟ اے مریم تیرا گھر کہاں ہے؟

12 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) ۲۷

ضمائر کی قسمیں

ضمائر یا تو متصل ہوگی یا منفصل۔

منفصل ضمائر : کسی اور حرف کے ساتھ مل کر نہیں آتی ہیں، بلکہ مستقل ہوتی ہیں، اور إِلَّا کے بعد بھی واقع ہوتی ہیں:

جیسے: أنا مُسلم میں ایک مسلمان ہوں۔ مَا فَهِمَ الدَّرْسُ إِلَّا أَنْتَ تمہارے علاوہ کسی نے سبق نہیں سمجھا۔

إِيَّاكَ رَأَيْتُ میں نے تم ہی کو دیکھا۔ مَارَأَيْتُ إِلَّا إِيَّاكَ میں نے تمہارے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ متصل ضمائر : یہ مستقل نہیں ہوتی ہیں، بلکہ ہمیشہ کسی دوسرے کلمہ کے ساتھ تجوری ہوتی ہیں، جیسے: رایتک میں نے تمہیں دیکھا میں ت اور ک، اس میں ت ضمیر متصل ہے اور اس کا معنی ہے: میں،ک بھی ضمیر متصل ہے اور اس کا معنی ہے: تجھے (تمہیں)۔

ہم جانتے ہیں کہ اسم اپنے آخری حرکت کی تبدیلی کے ذریعہ جملہ میں اپنے عمل کو بتاتا ہے، جیسے: دَخَلَ الْوَلَدُ سَأَلْتُ الْوَلَد، قُلْتُ لِلْوَلِد. لیکن ضمائر کی حرکت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ہے بلکہ وہ خود بدل جاتی ہیں، جیسے: مَنْ أَنتَ ؟ اور أَسْأَلُكَ اس میں أَنْتَ مرفوع اور ک منصوب ہے۔

اسی لئے ضمائر کے دو گروپ ہیں، ایک ضمائر رفع اور دوسرا ضمائر نصب اور جر، پھر ان دونوں کے دو دو صیغے ہیں، ایک حالت انفصال میں اور دوسرا حالت اتصال میں۔

ضمائر رفع

منفصل ضمائر

ضمائر غائب: هُوَ، هُمَا، هُمْ ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ .

ضمائر مخاطب : أنتَ ، أَنْتمَا، أَنْتُمْ أَنتِ، أَنْتُمَا أَنتُنْ

ضمائر متكلم : أنا، نَحْنُ.

متصل ضمائر

(۱) ت متحرکہ جیسے کہ : ذَهَبْتُ ، ذَهَبْتُمَا ذَهَبْتُمْ، ذَهَبْتِ، ذَهَبْتُنَّ میں ہے۔

(٢ الف تثنیہ جیسے کہ: ذَهَبًا، ذَهَبَتا، يَذْهَبَانِ، تَذْهَبَانِ اور اذْهَبا میں ہے۔

(۳) واوِ جمع جیسے کہ: ذَهَبُوا يَذْهَبُوْنَ، تَذْهَبُون اور اذْهَبُوا میں ہے۔

(٤) ی مخاطبہ جیسے کہ تَذْهَبَيْنَ اور اذْهَبی میں ہے۔

(۵) نون نسوه جیسے کہ : ذَهَبْنَ ، يَذْهَبْنَ، تَذْهَبْنَ اور اذْهَبْنَ میں ہے۔

(۶) نا (ضمیر جمع متکلم) جیسے کہ : ذَهَبْنَا میں ہے۔

ذیل کے صیغوں میں ضمائر رفع مستتر ہوتی ہیں:

(۱) ماضی کے ان دو صیغوں ذَهَبَ اور ذَهَبَتْ میں۔

نوٹ:۔ ذَهَبَتْ کی ت ضمیر نہیں بلکہ تانیث پر دلالت کرنے والا حرف ہے۔

(۲) مضارع کے ان چار صیغوں میں: يَذْهَبُ، تَذْهَبُ، أَذْهَبُ اور نَذْهَبُ.

ضمائر نصب

منفصل ضمائر

آپ نے اس سے پہلے یہ صیغے نہیں پڑھے ہیں، یہ لفظ آیا اور ضمیر نصب متصل ( جنہیں آپ پہلے پڑھ چکے ہیں، جیسے بک وغیرہ) سے مرکب ہوتے ہیں۔

ضمائر غائب: إيَّاهُ، إِيَاهُمَا، إِيَا هُمْ، إِيَاهَا، إِيَا هُمَا إِيَا هُنَّ.

ضمائر مخاطب : إِيَّاكَ، إِيَّاكُمَا إِيَا كُمْ، إِيَاكِ، إِيَاكُمَا إِيَا كُنَّ.

ضمائر متكلم : ايا يّ، ايا نا.

متصل ضمائر

یہ ضمائر مستقل نہیں آتی ہیں بلکہ کسی فعل یا ان اور اس کی اخوات کے ساتھ مل کر آتی ہیں: ضمائر غائب سَأَلَهُ، سَأَلَهُمَا، سَأَلَهُمْ، سَأَلَهَا، سَأَلَهُمَا، سَأَلَهُنَّ.

ضمائر مخاطب: سألكَ، سَألُكُمَا ، سَألَكُمْ، سَألَك، سَألَكُمَا، سَأَلَكُنَّ.

ضمائر متكلم: سَأَلَنِي ، سَأَلَنَا.

ضمائر جر

ضمائر جر ہمیشہ متصل ہوتی ہیں اور ضمائر نصب کی طرح ہوتی ہیں، جیسے منہ، مِنْهُمَا، مِنْهُمْ، مِنْهَا، مِنْهُنَّ، مِنْكَ، مِنْكُمَا مِنْكُمْ مِنْكِ، مِنْكُمَا مِنْكُنَّ، مِنِّي، مِنَّا.

منفصل ضمائر کب استعمال ہوں گے؟

ذیل کی صورتوں میں ضمائر نصب منفصل ہوں گی :

(۱) اگر مفعول بہ ہو اور فعل پر مقدم ہو ، جیسے: نعبدی ہم تیری عبادت کرتے ہیں إِيَّاكَ نَعْبُدُ ہم صرف تیری ہی کی عبادت کرتے ہیں ک نَعْبُدُ کہنا غلط ہے اس لئے کہ وہ متصل ضمیر ہے اور مستقل نہیں ہو سکتی۔

(۲) اگر وہ مصدر کا مفعول بہ ہو، جیسے: تنتظرُ زِيَارَةَ الْمُدِيرِ إِيَّانَا ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ ہیڈ ماسٹر صاحب ہمارے یہاں آئیں گے۔ اس مثال میں اِيَّانَا مصدر زِيَارَةٌ کا مفعول بہ ہے، ایک اور مثال یہ ہے: مُسَاعَدَتُكَ إِيَّايَ كَانَتْ قَبْلَ مُسَاعَدَتِي إِيَّاكَ میری تمہاری مدد سے پہلے تم نے میری مدد کی تھی ۔ ( میں تمہاری مدد کرتا اس سے پہلے تم نے میری مدد کی تھی )

۳) اگر وہ حرف عطف کے بعد ہو، جیسے: رَأَيْتُكَ وَإِيَّاهُ میں نے تمہیں اور اسے دیکھا۔ یہاں ہم رَأَيْتُكَ وہ نہیں کہہ سکتے ، اس لئے کہ ہ ضمیر متصل ہے اور مستقل نہیں آسکتی ہے ، اسی طرح ہم کہتے ہیں: إِنِّي وَ إِيَّاكَ نَاجِحَانِ

یقینا میں اور تم ، دونوں کامیاب ہیں إِنِّي وَكَ يا إِني وَأَنتَ کہنا صحیح نہیں ہے، اس لئے کہ انت ضمیر رفع ہے۔

(۴) اگر الا کے ساتھ آئے، جیسے : لا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ ہم صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں مَا سَأَلْتُ إِلَّا إِيَّاكَ میں نے آپ کے سوا کسی سے نہیں مانگا۔

(۵) اگر وہ ضمیر نصب کے بعد آئے، جیسے اینَ مَجَلَّهُ الْمُدِيرِ ؟ أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا ہیڈ ماسٹر کا پرچہ کہاں ہے؟ میں نے وہ انہیں دے دیا یہاں أَعْطَيْتُها کہنا صحیح نہیں ہوگا لیکن دونوں ضمیریں ہم رتبہ نہ ہوں بلکہ مختلف الرتبہ ہوں تو دوسری ضمیر متصل یا منفصل دونوں طرح صحیح ہے، اگر چہ اس کا متصل ہونا زیادہ بہتر ہے، جیسے: اين كتابي؟ میری کتاب کہاں ہے؟ أَعْطَيْتُكَهُ أَعْطَيْتُكَ إِيَّاه وہ تو میں نے تمہیں دے دی ہے۔

13 تمارین

14 معلم الانشاء ( جلد:۱ٰ) سبق:۵

اَلتَّمْرِيْنُ (25)

(ضمیر کی طرف اضافت)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) رِيْشَةُ قَلَمِي

(2) قَوَائِمُ مِنْضَدَتِهِ

(3) صُفْرَةُ وَجْهِكَ

(4) صِدْقُ مَقَالَتِهِمْ

(5) مُعَلِّمُوْاَبْنَائِنَا

(6) شُعَرَاءُ بِلَادِكُمْ

(7) مَصَارَعَةُ اِبْنَيْكُمَا

(8) دُمْيَةُ بِنْتِهَا

(9) لَوْنُ خِمَارِكِ

(10) ثَمْنُ اَسْوِرَتِهِمَا

(11) حَذْقُ بَنَاتِكُنَّ

(12) سِيَاحَةُ زَوْجَيْكُمَا

(13) رِقَّةُ قُلُوْبِهِنَّ

(14) زُعَمَاءُ بِلَادِنَا

اَلتَّمْرِيْنُ (26)

عربی میں ترجمہ کرو:

(1) میرے باغ کا منظر

(2) تیرے گھر کی دیوار

(3) اس کے لڑکے کا گیند

(4) تم دو مردوں کی تیراندازی

(5) ان دو مردوں کی بہادری کا چرچا

(6) ہمارے ملک کی آب و ہوا

(7) تمہارے ملک کے سیّاح

(8) اس کے پازیب کی قیمت

(9) تیرے کان کی بالی

(10) تمہارے شوہروں کی شہادت

(11) ان عورتوں کے رونے کا اثر

(12) ان دو عورتوں کے بچوں کی تعلیم

(13) ان لوگوں کے علم کی شہرت

(14) ہمارے اسلاف کے کارنامے

اَلتَّمْرِيْنُ (27)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلصُّبْحُ الْمُسْفِرُ

(2) اَلشَّعْرُ الْفَاحِمُ

(3) بَيَاضُ الصُّبْحِ

(4) سَوَادُ الشَّعْرِ

(5) قَفْزُ الْوَلَدَيْنِ وَهَرْوَلَتُهُمَا

(6) سَاكِنُوْا الْبَادِيَةِ وَسَذَاجَتُهُمْ

(7) اَلْفَتَيَاتُ الْاَفْرَنْجِيَّاتُ وَسُفُوْرُهُنَّ

(8) زَئِيْرُ الْاَسَدِ

(9) اَلْحِمَارُ النَّاهِقُ

(10) اَلْكَلْبُ الْعَضُوضُ وَنَبَاحُهُ

(11) اَلْقِطُّ الْجَائِعُ وَمُؤَاؤُهُ

(12) اَلْقَلَمُ الْمُحَبَّرُ وَرِيْشَتُهُ

(13) عَقْرَبَا السَّاعَةِ وَمِيْنَاؤُهَا

(14) اَلْفَرَسُ الْجَامِحُ وَصَهِيْلُهُ

اَلتَّمْرِيْنُ (28)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) زمزم کا کنواں اور اس کا پانی

(۲) چاندی کی انگھوٹی اور اس کا نگینہ

(۳) مسجد کے دو منارے اور ان کی بلندی

(۴) عرب کے باشندے اور ان کی زبان

(۵) رسول اللہ (ﷺ) کے اصحاب اور ان کی سیرت

(۶) انبیاء کی بعثت اور ان کے پیغامات

(۷) اسلامی نظام اور اس کے محاسن

(۸) مغربی تہذیب اور اس کے نقصانات

(۹) انگریزوں کے سیاست اور ان کی چال بازی (ہوشیاری)

(۱۰) عربوں کی مہمان نوازی اور ان کے سخاوت۔

(۱۱) میری تلوار کی چمک اور اس کی دھار

(۱۲) تیری تلوار کا دستہ اور اس کی نیام

(۱۳) فاطمہ کی گڑیا اور اس کے کھلونے

(۱۴) احمد کا گیند اور اس کا لٹو

(۱۵) محمود کی سائیکل اور اس کے دونوں پہئے

(۱۶) دو موٹے بیل اور ان کا ڈکارنا

(۱۷) ایک خوبصورت گائے اور اس کی دونوں سینگیں

(۱۸) اونٹ کی گردن اور اس کے پائے

(۱۹) تیرے گھوڑے کی زین اور اس کی لگام

(۲۰) ہمارا دارالاقامہ اور اس کے کمرے

(۲۱) تیرے گھر کی چھت اور اس کی دیواریں

15 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۶

الضمیر

التمرين (۱)

استخرج الضمائر التي تعرفها في الجمل الآتية:

۱۔ انت تامر و نحن نطيع

۲۔ الشمس والقمر هما المصدرالأكبر للضياء

۳۔ الزراع والصناع هم اساس الثروة

۴۔ انتم رجال الغد

التمرين (۲)

ضع ضميرا مناسبا في اول كل جملة من الجمل الاتية:

۱- اقوم من النوم مبكرا

۲۔ تمشط شعرها كل يوم

۳۔ يساعدون الفقراء

۴۔ تشكر من يساعدك

۵۔ تتبعين قواعد الصحة

۶- نكرم الضيف

التمرين (۳)

ضع ضميرا مناسبا بدل الاعلام التي في الجمل الاتية:

۱- على يصيد السمك

۲۔ الحسنان زارا حديقة الحيوان

۳۔ الزينبات شاهدن الاهرام

۴۔ المحمدون يستحمون في النهر

الضمیر المنفصل

التمرين (۱)

اجعل كل اسم من الاسماء الآتية خبرا لكل ما يناسبه من ضمائر الرفع المنفصلة:

مطيعة ، مهذبان ، نظيف ، كرماء ، نشيطتان ، محسنات

التمرين (۲)

حول ضمير المتكلم في الجملة الاتية الى جميع ضمائر الرفع المنفصلة بحيث يكون الخبر مطابقا لكل مبتدا وهي:

انا مجتهد

التمرين (۳)

ضع ضميرا منفصلا خاصا بالنصب ليكون مفعولا به في الجمل الآتية:

۱۔ یا سائل ۔۔۔۔۔۔۔ أعطی المحسن

۲۔ البنت المھذبۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ مدح الناس

۳۔ یا فاطمۃ ۔۔۔۔۔۔۔۔ دعت المعلمۃ

۴۔ یا صالحون ۔۔۔۔۔۔۔۔ أثاب اللہ

التمرين (۴)

كون جملا اسمية بحيث يكون المبتداء في كل واحدة منها ضميرا منفصلا مع استيفا جميع ضمائر الرفع المنفصلة

التمرين (۵)

(۱) كون سبع جمل فعلية على مثال (اياى مدح الأستاذ) بحيث تشتمل كل الجمل على جميع ضمائر النصب المنفصلة للتكلم والخطاب:

(۲) کون خمس جمل فعلية على مثال (ما كافا الناظر الا اياى) بحيث تشتمل كل الجمل على جميع ضمائر النصب المنفصلة للغيبة:

تمرین فی الأعراب (۶)

(الف) نموذج

اياه عالج الطبيب

اياه ...... مفعول به مقدم مبنى على الضم في محل نصب

عالج ...... فعل ماض مبنى على الفتح

الطبيب... فاعل مرفوع بالضمة

(ب) اعرب الجمل الآتية :

(۱) انتم نجباء

(۲) نحن راضون

(۳) ایاک يحترم الناس

(۴) من صديقات

الضمیر المتصل

التمرين (۱)

بين الضمائر المتصلة والمنفصلة في العبارات الآتية وبين محل كل ضمير من الاعراب:

زرت حديقة الحيوان انا و بعض اصدقائي فراينا فيها كثيرا من الناس قد اجتمعوا امام الاسد وهو جاثم كانه الملك المتوج ينظر اليهم بعينه نظر من يعرف قدر نفسه۔

التمرين (۲)

خاطب بالعبارة الآتية المؤنثة والمثنى وجمع الذكور وجمع الاناث وهي:

هل احضرت کتبک؟

التمرين (۳)

حول الجمل الاسمية الآتية الى جمل ماضوية واذكر نوع الضمير الذي تشتمل عليه كل جملة وبين موقعه من الاعراب:

۱- انا اكرم الضيف

۲۔ نحن نلعب بالكرة

۳۔ انت تنظفين الحجرة

۴۔ انت تحسن السباحة

۵۔ انتما تغيثان الملهوف

۶- انتم تحبون المدرسة

۷۔ ھن يسافرن الى بنها

۸۔ هم يعطفون على اليتيم

التمرين (۴)

اجعل كل ضمير من ضمائر الرفع المتصلة فاعلا في جملة مفيدة:

التمرين (۵)

(۱) كون جملتين بكلتيهما فعل متصل بياء المتكلم وبين موقعها من الاعراب۔

(۲) كون جملتين بكلتيهما فعل متصل بكاف المخاطب وبين موقعها من الاعراب۔

(۳) كون جملتين بكلتيهما فعل متصل بهاء الغائب وبين موقعها من الاعراب۔

(۴) كون جملتين بكلتيهما فعل متصل بهاء الغائبة وبين موقعها من الاعراب۔

التمرين (٦)

(۱) كون ثلاث جمل تشتمل كل واحدة منها على )نا( بحيث يكون في الجملۃ الأولى في محل رفع وفي الثانية في محل نصب و في الثالثة في محل جر:

(۲) كون جملة تكون فيها كاف المخاطب متصلة باسم و متصلة بحرف جر وبين موقعها من الاعراب في كلتا الحالتين:

(۳) كون ثلاث جمل تكون في أولاها هاء الغائب متصلة بلعل وفي الثانية كاف المخاطب متصلة بان وفى الثالثة ياء المتكلم متصلة بليت و بين موقع هذه الضمائر من الاعراب:

التمرين (۷)

(۱) كم كلمة وما نوع كل كلمة في كل جملة من الجمل الثلاث الآتية

اکر متک علمونا هذبتني

(۲) بین الضمائر فی العبارۃ الآتیۃ و محالھا من الأعراب:

سألناکِ فأجیبنا

التمرين (۸)

(۱) تخيل انت سافرت بقطار سكة الحديد وصف ما عملته من حين عزمت على السفر الى ان وصلت الى غايتك معبرا بافعال ماضية متصلة بتاء المتكلم:

(۲) عبر عما يلاقيه حصانا عجلة الاجرة فى يوم واحد من المشاق وما يعملانه من الاعمال (مع استعمال الف الاثنين)

(۳) انصح صديقاً بالعفو عن المسىء وعدم مجاراة السفيه مع استعمال كاف المخاطب وهاء الغائب.

تمرین فی الأعراب (۹)

الف) نموذج

لبستُ مِعطفی

لبست....... لبس فعل ماض مبنى على السكون والتاء فاعل مبنى على الضم في محل رفع.

معطفی ....... معطف مفعول به منصوب بفتحة مقدرة قبل الياء والياء ضمير مضاف اليه مبنى على السكون في محل جر.

(ب) اعرب الجمل الآتية

(۱) ربوا اولادكم على الفضيلة

(۲) جلسنا لنستريح

(۳) امرنا المعلم بالجلوس

الضمیر المستتر

التمرين (۱)

انت تكرمنى

ما عدد الضمائر التي في هذه الجملة؟ وما انواعها؟ وما محالها من الاعراب؟

التمرين (۲)

قدر الضمائر المستترة في الجمل الآتية:

۱۔ الشرطي يقبض على اللص

۲۔ الساعة دقت ثلاثا

۳۔ انجز الوعد

۴۔ نحن نرفع شان مدرستنا

۵۔ زينب تجيد التطريز

۶۔ احب النيل

۷۔ لا تشرب وانت تعب

۸۔ القطار قدم في موعده

التمرين (۳)

حول الافعال الماضية في الجمل الاتية الى افعال مضارعة وعين الفاعل في كل جملة بعد التحويل:

۱- سمعت النداء

۲۔ ذهبنا الى المنزل

۳۔ رتبت در جک

۴۔ العصفور طار من القفص

۵۔ الدجاجة باضت

۶- ودعنا المسافر

التمرين (۴)

كون خمس جمل تشتمل كل واحدة منها على ضمير مستتر مع استيفاء جميع الضمائر المستترة

تمرین فی الأعراب (۵)

(الف) نموذج

احفظ الجميل

احفظ ..... فعل مضارع مرفوع بالضمة والفاعل ضمير مستتر تقديره أنا

الجميل ..... مفعول به منصوب بالفتحه

(ب) اعرب مایاتی

(۱) تعود الصدق

(۲) نغيث الملهوف

(۳) ابجل المدرسين

16 تیسیر النحو۔ سبق:۲۴

أسئلة

ا. اذكر أنواع الاسم المبني وحدد منها ما يبنى بناء لازما، وما يبنى بناء عارضا. ،

۲۔ كيف تعرب الأسماء المبنية حال وقوعها في موضع من مواضع الإعراب؟ اذكرها بالتمثيل.

٣. عرف الضمير مع الأمثلة.

۴۔ اذكر سبب بناء الضمائر.

۵۔ عرف الضمير البارز ونوعيه مع الأمثلة.

۶۔ اذكر ضمائر رفع منفصلة وكونها في محل رفع مبتدأ، أو خبر، أو فاعل، أو نائب فاعل مع الأمثلة.

۷۔ اذكر ضمائر نصب منفصلة، وكونها في محل نصب مفعول به بالتمثيل.

۸۔ اذكر ضمائر رفع متصلة وكونها في محل رفع فاعل أو اسم كان بالأمثلة.

۹۔ اذكر ضمائر نصب متصلة وكونها في محل نصب مفعول به أو اسم "إن" بالأمثلة.

١٠ . اذكر ضمائر جر متصلة وكونها في محل جر مضاف إليه، أو مجرور بحرف الجر بالأمثلة.

١١ . عرف الضمير المستتر، واذكر مواضع استتاره وجوبا، ومواضع استتاره جوازا بالأمثلة.

١٢ . ماهوا الأصل الضمير المتصل أو المنفصل ؟ وما هي أشهر الأسباب الموجبة لفصل الضمائر ؟ اذكرها بالأمثلة.

١٣ - اذكر بعض ملاحظات عامة عن الضمائر.

١٤ - اذكر أقسام الضمير المتصل حسب إعرابه المحلي مع الأمثلة.

تمرينات

۱- حدد في الأمثلة الآتية الضمائر مع بيان أنواعها وإذا كانت مستترة فبين جواز استتارها ووجوبه.

قال تعالى: (وقل للمؤمنات يغضضن من أبصارهن ويحفظن فروجهن ولا يبدين زينتهن الا ماظهر منها وليضربن بخمرهن على جيوبهن ۔۔۔۔۔۔. أو الطفل الذين لم يظهروا على عورات النساء ولا يضربن بأرجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن وتوبوا الى الله جميعا أيها المؤمنون لعلكم تفلحون أتكلم قليلا وأعمل كثيرا، خذ الحكمة أني وجدتها، من استبد برأيه هلك، خالد يجتهد للنجاح بالامتياز، أحب أن تطيع والديك كل شيء يرخص إذا كثر إلا الأدب فإنه إذا كثر غلا.

۲۔ اذكر حكم الفصل والوصل في الضمائر الآتية مع بيان السبب:

إياه نسال أن يهدينا الصراط المستقيم، لا نعبد إلا إياه، إياك من الخداع، أنتم مجتهدون، ما أنت كاذبا.

۳۔ اذكر أربع أمثلة لضمائر مختلفة أولها خاص بالمتكلم، وثانيها بالمخاطب، وثالثها مشترك بين المخاطب والغائب، رابعها بين المخاطب والمتكلم.

٤- كون ثلاث جمل يشتمل كل منها على فعل ضميره مستتر جوازا

۵۔ كون ثلاث جمل تشتمل كل منها على فعل ضميره مستتر وجوبا

أسئلة

۱۔ عرف ضمير الشأن مع التمثيل.

۲۔ اذكر أحوال ضمير الشأن الثلاث مع الأمثلة.

۳۔ اذكر مخالفات ضمير الشأن الأربع للقياس.

۴۔ عرف ضمير الفصل مع التمثيل .

۵۔ اذكر شروط ضمير الفصل، وشروط الاسم الذي قبله، وشروط الاسم الذي بعده

۶۔ اذكر فوائد ضمير الفصل . مع الا الأمثلة.

17 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

18 اسم اشارہ

اسم اشارہ کی تعریف:

اسم اشارہ وہ اسم ہے جس سے کسی شخص، چیز، یا جگہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ اسم اشارہ کو استعمال کرتے ہوئے مخاطب کو بتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جس چیز کا ذکر ہو رہا ہے، وہ کس مقام پر ہے یا کتنی قریب یا دور ہے۔

اسم اشارہ کی اقسام:

اسم اشارہ کو عمومًا دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

۱۔ قریب کے لیے اسم اشارہ

۲۔ دور کے لیے اسم اشارہ

1. قریب کے لیے اسم اشارہ: یہ وہ اسم اشارہ ہیں جو کسی قریب کی چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مذکر کے لیے:

ھذا (یہ): یہ واحد مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے)۔

هَذَانِ (یہ دونوں): یہ تثنیہ مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَذَانِ رَجُلانِ (یہ دو آدمی ہیں)۔

هَؤُلَاءِ (یہ سب): یہ جمع مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَؤُلَاءِ أَوْلَادٌ (یہ بچے ہیں)۔

مؤنث کے لیے:

هَذِهِ (یہ): یہ واحد مؤنث کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَذِهِ بِنْتٌ (یہ ایک لڑکی ہے)۔

هَاتَانِ (یہ دونوں): یہ تثنیہ مؤنث کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَاتَانِ بِنْتَانِ (یہ دو لڑکیاں ہیں)۔

هَؤُلَاءِ (یہ سب): یہ جمع مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: هَؤُلَاءِ بَناتٌ(یہ بیٹیاں ہیں)۔

2. دور کے لیے اسم اشارہ: یہ وہ اسم اشارہ ہیں جو کسی دور کی چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

مذکر کے لیے:

ذَلِكَ (وہ): یہ واحد مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: ذَلِكَ كِتَابٌ (وہ کتاب ہے)۔

ذَانِكَ (وہ دونوں): یہ تثنیہ مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: ذَانِكَ رَجُلانِ (وہ دو آدمی ہیں)۔

أُولَئِكَ (وہ سب): یہ جمع مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: أُولَئِكَ أَوْلَادٌ (وہ بچے ہیں)۔

مؤنث کے لیے:

تِلْكَ (وہ): یہ واحد مؤنث کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: تِلْكَ بِنْتٌ (وہ لڑکی ہے)۔

تَانِكَ (وہ دونوں): یہ تثنیہ مؤنث کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: تَانِكَ بِنْتَانِ (وہ دو لڑکیاں ہیں)۔

أُولَئِكَ (وہ سب): یہ جمع مذکر کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: أُولَئِكَ بَناتٌ(یہ بیٹیاں ہیں)۔

اسم اشارہ کے استعمال کی تفصیلات:

اسم اشارہ کا حالت کے مطابق استعمال:

رفع: مثال: هذا (یہ مذکر واحد ہے)۔

نصب: مثال: هَذَا (یہ مفعول کے طور پر)۔

جر: مثال: بهذا (اس سے)۔

اسم اشارہ کی مثالیں مختلف حالتوں میں:

قریب مذکر واحد: هذا كتاب (یہ کتاب ہے)۔

قریب مؤنث واحد: هذه سيارة (یہ گاڑی ہے)۔

دور مذکر واحد: ذلك رجل (وہ آدمی ہے)۔

دور مؤنث واحد: تلك شجرة (وہ درخت ہے)۔

عمومی نکات:

اسم اشارہ ہمیشہ معرب اسم کے ساتھ استعمال ہوتا ہے، یعنی اسم کی اعرابی حالت اس کی ترکیب کے مطابق ہوتی ہے۔ جمع کے لیے مذکر اور مؤنث کی تفریق نہیں کی جاتی، بلکہ هَؤُلَاءِ اور أُولَئِكَ کا استعمال کیا جاتا ہے۔

خلاصہ:

اسم اشارہ وہ اسم ہے جو کسی شخص یا چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اسے مذکر، مؤنث، قریب یا دور کے اعتبار سے مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

19 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ : أَسْمَاءُ تَدُلُّ عَلَى مُعَيْنِ مُشَارٍ إِلَيْهِ.

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ هي :

ذا : لِلْمُفْرَدِ الْمُذَكَّر

ذه : لِلْمُفْرَدَةِ الْمُؤَنَّثَةِ

ذَانِ : لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّر

تان : لِلْمُثَنَّى الْمُؤنَّثِ

أولاء : لِجَمْعِ الْعُقَلَاءِ مِنْ ذُكُورٍ أَوْ إِنَاث.

اسْمُ الإِشَارَةِ لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّرِ أَوِ الْمُؤَنَّثِ يُعَامَلْ مُعَامَلَة الْمُثَنَّى فَيَكُونُ بِالْأَلِفِ فِي حَالَةِ الرفع ، وبِاليَاءِ فِي حَالَتَى النَّصْبِ وَالْجَرْ

اسماء اشارہ وہ اسماء ہیں جو ایک معین مشار الیہ پر دلالت کرتے ہیں۔

اسماء اشارہ یہ ہیں:

ذا :... مفرد مذکر کے لئے

ذه: مفرد مونث کے لئے

ذان: ... تثنیه مذکر کے لئے

تان: تثنیہ مؤنث کے لئے

اولاء: ..... مذکر و مونث عقلاء کی جمع کے لئے

تثنیہ مذکر اور مؤنث کے لئے اسماء اشارہ، تثنیه کی طرح حالت رفع میں الف اور حالت نصب و جر میں یاء کے ساتھ آتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) ذَا رَجُلٌ شَرِيفٌ

(۲) هَذَا كِتَابٌ نَافِع

(۳) ذِهِ امْرَأَةٌ تَعْتَنِي بِأَوْلَادِهَا

(٤) هَذِهِ حُجْرَةٌ وَاسِعَة

(۵ ) ذَانِ وَلدَانِ مُهَذِّبَانِ

(٦ ) إِنَّ هَذَيْنِ فَائِزَان

(۷) تَان وَرْدَتَانِ مُفَتَّحَتَانِ .

(۸) إِنَّ هَاتَيْنِ بِنْتَانِ مُطِيعَتَانِ

(۹ ) أُولَاءِ تُجَّارٌ صَادِقُونَ

(۱۰) هَؤُلَاءِ صُنَّاعٌ مَا هِرُونَ

(۱۱ ) أُولَاء بَنَاتُ نَظيفات

(۱۲ ) هَؤُلاء تِلْمِيذَاتُ لَطِيفَاتٌ

20 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶

عربی میں اسم اشارہ کے دس صیغے آتے ہیں پانچ اشارہ قریب کے لئے اور پانچ اشارہ بعید کے لئے ذیل کے نقشے میں دیکھو۔

اشاره قریب

واحد مذکر هذا

تثنیہ مذکر هذان

جمع مذکر هؤلاء

واحد مؤنث ھذہ

تثنیہ مؤنث هاتان

جمع مؤنث هؤلاء

اشاره بعید

واحد مذکر ذلك

تثنیہ مذکر ذانك

جمع مذکر اوليك

واحد مؤنث تلک

تثنیہ مؤنث تانک

جمع مؤنث اوليك

اسمائے اشارہ معرفہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا استعمال بطور مبتداء کے بھی ہوتا ہے جس طرح یہ فاعل اور مفعول کے طور پر لائے جاتے ہیں۔ کبھی اسم اشارہ تنہا مبتداء ہوتا ہے اور کبھی اپنے مشار الیہ کے ساتھ مل کر مبتداء بنتا ہے اس صورت میں اسم اشارہ موصوف اور مشار الیہ صفت واقع ہوگا پھر یہ دونوں ملکر مرکب توصیفی کی صورت میں مبتداء ہو نگے۔ درج ذیل جملوں کے فرق پر غور کریں۔

(۱) هذا قلم ( یہ ایک قلم ہے)

(۲) هذَا قلَم جَمِيلٌ (یہ ایک خوبصورت قلم ہے )

(۳) هذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ (یہ قلم خوبصورت ہے)

(۴) هذَا الْقَلَمُ، قَلَمٌ جميلٌ (یہ قلم) ایک خوبصورت قلم ہے

پہلے اور دوسرے جملہ میں ھذا اسم اشارہ تنہا مبتداء ہے اوردوسرے اور تیسرے جملے میں ھذا القلم اشارہ اور مشار الیہ مل کر مبتداء ہیں۔

اسی طرح خبر بھی پہلے اور تیسرے جملے میں خبر مفرد ہے اور دوسرے اور چوتھے میں مرکب توصیفی ہے۔ قلم جمیل خبر ہے اس قسم کے جملے عربی میں بہت آئیں گے اگر قلم کو مثلا تم مبتداء بنانا چاہتے ہو تو اس کو معرفہ بنا لو اور اگر خبر بنانا چاہتے ہو تو نکرہ کی صورت میں لکھو۔

غیر ذوی العقول کی جمع کیلئے اسم اشاره واحد مونث استعمال کیا جاتا ہے اس لئے کہ غیر ذوی العقول کی جمع واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے۔

21 تیسیر النحو۔ سبق:۲۵

اسماء الإشارة

اسم الإشارة: اسم مبني يدل على معين بالإشارة إليه، نحو: هذا قلم، وذلك كتاب. سبب بنائها كونها محتاجه في الدلالة على معناها (أي: على شي معين) إلى قرينة الإشارة كاحتياج الحرف إلى كلمة أخرى ففي المثال الأول "هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ، وفي الثاني" ذلك" مبني على الفتح في محل رفع مبتدأ)

(۱) أسماء الإشارة هي:

ذا اللمفرد المذكر - ذي و ذه، و تا و ته للمفردة المؤنثة.

ذان رفعا، وذين نصبا وجرا للمثنى المذكر.

تان رفعا وتين نصبا وجرا للمثنى المؤنث.

أولاء للجمع المذكر والمؤنث العاقل - هنا للمكان

(ب) أسماء الإشارة المذكورة تكون للإشارة إلى القريب، وفي هذه الحالة تدخل عليها ها التنبيه، وبعد دخولها تكون هكذا هذا، هذه هذان، هذين هاتان هاتین، هؤلاء هاهنا

(ج) إذا أريد بالأسماء المذكورة الإشارة إلى البعيد أتي بالكاف، أو بالكاف واللام في آخرها، وتسمى الكاف حرف خطاب ولا موضع لها من الإعراب، فأسماء الإشارة إلى البعيد هي: ذلك وذلك للمفرد المذكر تاك وتلك للمفردة المؤنثة.

ذانك للمثنى المذكر - تانك للمثنى المؤنث ( وهما قليلا الاستعمال )

أولئك لجمع المذكر والمؤنث العاقل - هناك وهنالك للمكان البعيد.

المحل الإعرابي لأسماء الإشارة:

أسماء الإشارة مبنية (ما عدا هذان" و"هاتان" فهما معربان إعراب المثنى) لا يتغير آخرها، لكن تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، لأنها ليست مبنية الأصل التي لا يكون لها محل من الإعرب، وهي

(۱) الفعل الماضي، (۲) فعل الأمر المعروف حال كونه مسندا إلى ضمائر الخطاب (۳) جميع الحروف مثل: هذا كتاب (ھذا اسم إشارة مبني على السكون في محل رفع مبتدأ۔)

- يشار إلى جمع غير عاقل سواء أكان مذكرااً ومؤنثا باسم الإشارة للمفردة المؤت نحو: هذه أقلام وتلك سيارات، قلما يشار اليه بـ "هؤلاء، أو أولئك " مثل قوله تعالى: (ان السمع والبصر والفواد كل أولئك كان عنه مسئولا)

إذا وقع بعد إسم الاشارة اسم مقترن بـ"ال " أعرب على أنه بدل من اسم الإشارة فيأخذ حكمه الإعرابي، مثل: هذا الطالب مجتهد ( هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ "الطالب" بدل من اسم الإشارة "هذا مرفوع وعلامة رفعه الضمة "مجتهد" خبر مرفوع وعلامة رفعه الضمة )

اسم الإشارة يطابق المشار إليه في تذكيره وتأنيثه، وافراده وتثنيته وجمعه مثل: هذا كتاب، تلك سيارة هذان طالبان، هاتان طالبتان، هؤلاء طلاب

إذا اتصلت باسم الاشارة الكاف وهي حرف الخطاب لا محل لها من الإعراب) وذكر بعده المخاطب فإن الكاف تطابق المخاطب في الافراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث مثل : ذلك كتاب مفيد يا محمد ، ذلك الكتاب مفيد يا أختي ، ذلكما الكتاب مفيد يا صديقي ، ذلكم الكتاب مفيد يا أصدقائي ، ذلكن الكتاب مفيد يا أخواتي.

تدخل كاف التشبيه على اسم الإشارة "ذا" مثل : أكذا كتابك ؟ (أي: أمثل ذاكتابك )

وقد تدخل هاء التنبيه على "كذا" مثل: أهكذا كتابك (أي: أمثل ذا كتابك )

اسماء اشارہ:

اسماء اشارہ وہ اسم مبنی ہیں جو کسی معین چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "هذا قلم، وذلك كتاب "۔ یہ اسماء مخصوص طور پر کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور عام طور پر ان کے ساتھ ایک جسمانی یا ذہنی اشارہ کیا جاتا ہے۔

(1) اسماء اشارہ کی اقسام:

مفرد مذکر کے لیے: ذا (یہ)۔

مفرد مؤنث کے لیے: ذي، ذه، تا، تِه (یہ)۔

مثنی مذکر کے لیے (رفع): ذان (یہ دونوں)۔

مثنی مذکر کے لیے (نصب و جر): ذين (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (رفع): تان (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (نصب و جر): تين (یہ دونوں)۔

جمع مذکر اور مؤنث عاقل کے لیے: اولاء (یہ سب)۔

مکان کے لیے: هنا (یہاں)۔

(ب) قریب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے قریب کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں ہاء التنبیہ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذَا (یہ مذکر)۔

هَذِهِ (یہ مؤنث)۔

هَذَانِ (یہ دونوں مذکر)۔

هَاتَانِ (یہ دونوں مؤنث)۔

هؤلاء (یہ سب)۔

هاهنا (یہاں)۔

(ج) دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے دور کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں کاف یا کاف اور لام کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ اسماء اشارہ دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

ذَلِكَ (وہ مذکر)۔

تِلْكَ (وہ مؤنث)۔

ذَانِكَ (وہ دونوں مذکر)۔

تَانِكَ (وہ دونوں مؤنث)۔

أُولَئِكَ (وہ سب)۔

هُنَاكَ اور هُنَالِكَ (وہاں)۔

اسماء اشارہ کا محل اعراب:

اسماء اشارہ مبنی ہوتے ہیں، یعنی ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، سوائے ہذان اور هاتان کے، جو مثنی ہونے کی وجہ سے معرب ہوتے ہیں۔ اسماء اشارہ جملے میں مختلف مواقع پر رفع، نصب یا جر کی حالت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

مثالیں:هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے) — هَذَا: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

ذَلِكَ كِتَابٌ (وہ کتاب ہے) — ذَلِكَ: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

جمع غیر عاقل کے لیے:

غیر عاقل اشیاء کی طرف اشارہ کرنے کے لیے عموماً مؤنث مفرد کا اسم اشارہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذِهِ أَقْلَامٌ (یہ قلم ہیں)۔

تِلْكَ سَيَّارَاتٌ (وہ گاڑیاں ہیں)۔

بعض اوقات غیر عاقل جمع کے لیے هؤلاء یا أُولَئِكَ بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے:

"إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا" (ترجمہ: بے شک، کان، آنکھ اور دل سب کے سب ذمہ دار ہوں گے)۔

اسم اشارہ اور "ال" کا استعمال:

اگر اسم اشارہ کے بعد کوئی اسم "ال" کے ساتھ آئے تو اسے بدل قرار دیا جاتا ہے اور اس کا اعراب وہی ہوتا ہے جو اسم اشارہ کا ہوتا ہے۔

مثال: هَذَا الطَّالِبُ مُجْتَهِدٌ ۔ هَذَا: اسم اشارہ مبتدا ہے۔ الطَّالِبُ: بدل ہے اور مبتدا کی طرح مرفوع ہے۔ مُجْتَهِدٌ: خبر ہے۔

اسم اشارہ اور کاف خطاب:

اسم اشارہ میں اگر کاف خطاب کا اضافہ ہو تو یہ مخاطب کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، یعنی واحد، تثنیہ، جمع اور تذکیر و تانیث کے اعتبار سے تبدیل ہوتی ہے۔

مثالیں:

ذَلِكَ كِتَابٌ مُفِيدٌ يَا مُحَمَّدُ (وہ کتاب مفید ہے اے محمد)۔

ذَلِكَ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أُخْتِي (وہ کتاب مفید ہے اے میری بہن)۔

ذَلِكُمُ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أَصْدِقَائِي (وہ کتاب مفید ہے اے میرے دوستو)۔

عمومی نکات:

اسم اشارہ مفرد، مثنی اور جمع میں مشار الیہ کے مطابق ہوتے ہیں، جیسے:

هَذَا كِتَابٌ (یہ کتاب ہے)۔

تِلْكَ سَيَّارَةٌ (وہ گاڑی ہے)۔

هَاتَانِ طَالِبَتَانِ (یہ دونوں طالبات ہیں)۔

کاف تشبیہ کا استعمال بھی بعض اوقات اسم اشارہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جیسے: أَكَذَا كِتَابُكَ؟ (کیا تمہاری کتاب بھی ایسی ہے؟)

اور کبھی ھاء تنبیہ بھی داخل ہو تا ہے جیسے : أَھكَذَا كِتَابُكَ

22 تمارین

23 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶

اَلتَّمْرِيْنُ (35)

(مبتدا جب کہ اسم اشارہ ہو)

اردو میں ترجمہ کرو:

(۱) هَذَا مَطْبَخٌ وَهَذِهِ اَدْوَاتُهُ

(2) ذَلِكَ مَوْقِدٌ وَهَذَا تَنُّوْرٌ

(3) هَذِهِ قِدْرٌ وَهَذَا غِطَاؤُهَا

(4) تِلْكَ مِخْبَزَةٌ وَهٰذِهِ مِقْلاَةٌ

(5) هَذَانِ اِبْرِيْقَانِ وَتِلْكَ جَرَّةٌ

(6) هَاتَانِ مِلْعَقَتَانِ وَتْلَكَ مِغْرَفَةٌ

(7) ذَانِكَ قَدَحَانِ وَهَذِهِ قَصْعَةٌ

(8) تَانِكَ قَصْعَتَانِ وَهَذِهِ صُحُوْنٌ

(9) هَذِهِ فَنَاجِيْنُ وَتِلْكَ كُؤُوْسٌ

(10) هَؤُلَاءِ طُهَاةُ الْمَطْعَمِ وَاُوْلَئِكَ خَبَّازُوْنَ

(11) اُوْلَئِكَ خَادِمُ الْمَقْهَى وَهَذَا طَبَّاخٌ

(12) هَذِهِ آنِيَةُ الْمَطْبَخِ وَاَدَوَاتُهُ

اَلتَّمْرِيْنُ (36)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) یہ قلم ہے اور یہ اس کا نب ہے

(۲) یہ دوات ہے اور وہ اس کا ڈھکنا ہے

(۳) وہ کتاب ہے اور یہ کاپی ہے

(۴) وہ تختہ سیاہ ہے اور یہ سلیٹ ہے

(۵) یہ دونوں استاد ہیں

(۶) یہ دونوں طالبات ہیں

(۷)وہ دونوں طالبِ علم ہیں اور یہ ان کے والد ہیں

(۸) وہ لڑکیوں کا مدرسہ ہے

(۹) یہ سب درجہ سوم کے طلبہ ہیں

(۱۰) وہ لوگ دارالعلوم کے اساتذہ ہیں

(۱۱) وہ سب مسلمان لڑکیاں ہیں

(۱۲) یہ سب لڑکیوں کے مدرسہ کی استانیاں ہیں

24 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸

التمرين (۱)

(۱) اشر الى سبعة اشياء بحجرة الدراسة مع التعبير بجمل تامة في كل حال۔

(۲) اشر الى سبعة اشياء على مائدة الطعام مع التعبير بجمل تامة في كل حال۔

(۳) اشر الى سبعة اشياء في غرفة النوم مع التعبير بجمل تامة في كل حال۔

(۴) اشر الى سبعة اشياء في الشارع مع التعبير بجمل تامة في كل حال۔

التمرين (۲)

اشر الى مدلول الكلمات الآتية مع التعبير بجمل تامة:

الحصان ، الهرمان ، التلاميذ ، المسطرة ، الحمامة

السيدات ، القمر ، القلمان ، اللاعبون ، الكراسات

التمرین (۳)

اجعل اسم الاشارۃ فی الجملۃ الآتیۃ للمفردۃ، ثم المثنّی والجمع بنوعیھما وھی:

ھذا التلمیذ نجح فی امتحانہ۔

التمرين (۴)

اجعل كل اسم من الاسماء الآتية خبرا لمتبداء بحيث يكون المبتدا اسم اشارة:

نافع ، مجتهدات ، شامخات ، مطيعة ، كرماء

كريمة ، طويلان ، مسافرات ، مسرورون ، واسعتان

التمرين (۵)

ضع اسم إشارة و مشارا اليه قبل كل جملة من الجمل الآتية:

۱- يسبح في الماء

۲- انقذ الغريق

۳- ينصرون الفضيلة

۴۔ راكبو الطيارة

۵- ثوبها نظيف

۶۔ تجمعان الازهار

۷۔ نالت الجائزة

۸۔ ركب السيارة

۹- يحرسان الحقل

۱۰۔ اتقنا البطخ

ا ا يبحثون على عمل نافع

۱۲۔ رفعن قدر وطنهن

التمرين (۵)

كون ست جمل فعلية يكون المفعول به في كل واحدة منها اسم اشارة مع اختلاف نوع المشار اليه في كل جملة.

التمرين (۶)

(۱) كون ثلاث جمل اسمية المبتدا فيها اسم اشارة للمفرد المذكر

(۲) كون ثلاث جمل اسمية المبتدا فيها اسم اشارة للمفردۃ المؤنثۃ

(۳) كون ثلاث جمل اسمية المبتدا فيها اسم اشارة للمثنى المذكر

(۴) كون ثلاث جمل اسم اصبح فيها اسم اشارة للمثنى المؤنث

(۵) كون ثلاث جمل اسم لعل فيها اسم اشارة لجماعة الذكور

(۶) كون ثلاث جمل فيها اسم اشارة لجماعة الاناث مسبوق بحرف جر

تمرین فی الأعراب (۷)

(الف) نموذج

هذا كتاب

هذا. مبتداء مبنى على السكون في محل رفع

كتاب ...... خبر المبتداء مرفوع بالضمة

(ب) اعرب ما یاتی

(۱) خذ هذه

(۲) انظر إلى هاتين

(۳) هؤلاء مجتهدون

(۴) هذان قلمان

25 تیسیر النحو۔ سبق:۲۵

أسئلة

١. عرف اسم الإشارة مع التمثيل واذكر سبب بناء أسماء الإشارة.

٢. اذكر الألفاظ الموضوعة للإشارة إلى المفرد المذكر ومثناه وجمعه والموضوعة للإشارة إلى المفردة المؤنثة ومثناها وجمعها.

۳۔ اذكر أسماء الإشارة إلى البعيد.

۴۔ اذكر المحل الإعرابي لأسماء الإشارة مع التوضيح والتمثيل.

۵۔ بماذا يشار إلى جمع غير عاقل ؟ اذكره مع التمثيل.

٦- كيف يعرب الاسم المقترن بـ"ال" الواقع بعد اسم الإشارة؟ اذكره مع التمثيل.

۷۔ فيماذا يطابق اسم الإشارة مع المشار إليه ؟ اذكره مع التمثيل.

۸۔ فيماذا تطابق الكاف المتصلة باسم الإشارة مع المخاطب المذكور بعده؟ اذكره مع التمثيل.

تمرينات

۱- عين في الآيات الآتية أسماء الإشارة ونوعها ومواقعها الإعرابية.

قال تعالى : وذلك الكتاب لا ريب فيه ان هذا القرآن يهدى للتي هي أقوم) أولئك على هدى من ربهم) فذانك برهانان من ربك) فذلكن الذي لمتنني فيه )

۲۔ اجعل كل كلمة من الكلمات الآتية خبر المبتدأ حال كونه اسم اشارة طالبات، طالب، أديبان، أديبة، مسلمتان، مخلصون.

۳۔ اجعل الجملة الآتية للمثنى والجمع بنوعيهما (المذكر والمؤنث) هذ الطالب سباق إلى الخير.

۴۔ كون جملا مرة تكون الإشارة فيها للمفرد والخطاب لجمع المذكر، وثانية تكون للمفردة والخطاب للمثنى ، وثالثة تكون للمثنى المذكر و الخطاب للمفرد، ورابعة تكون للمثنى المؤنث والخطاب للمفردة ، وخامسة تكون للجمع المذكر والخطاب لجمع المؤنث

26 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

27 اسم موصول

تعریف:

اسم موصول ایک ایسا اسم ہے جو کسی غیر معین (مبہم) شخص، شے یا چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کا مفہوم یا مطلب ایک جملے کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔ یعنی، اسم موصول کا مفہوم بغیر جملہ موصول (جو اس کے بعد آتا ہے) کے واضح نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر: "الذی جاء صدیقی ": جو شخص آیا ہے، وہ میرا دوست ہے۔

اس جملے میں "جو" اسم موصول ہے اور اس کے بعد آنے والا جملہ "آیا ہے" اس کا جملہ موصول ہے، جس سے اس کا مفہوم مکمل ہوتا ہے۔

اقسام:

اسمائے موصولہ مخصوصہ: یہ وہ اسماء موصول ہیں جو معین افراد یا اشیاء کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

الذي: واحد مذکر کے لیے (جو شخص/چیز)

التي: واحد مؤنث کے لیے (جو عورت/چیز)

اللذان/اللذين: تثنیہ مذکر کے لیے (جو دو مرد/چیزیں) [رفع]

اللتان/اللتين: تثنیہ مؤنث کے لیے (جو دو عورتیں/چیزیں) [رفع]

الذين: جمع مذکر کے لیے (جو مرد/چیزیں)

اللاتي/اللائي: جمع مؤنث کے لیے (جو عورتیں/چیزیں)

اسمائے موصولہ عامہ: یہ وہ اسماء موصول ہیں جو عام طور پر انسانوں، جانوروں یا اشیاء کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

مَن: جو (عاقل کے لیے)

ما: جو (غیر عاقل کے لیے)

أين: جہاں (جگہ کے لیے)

متى: جب (وقت کے لیے)

جملہ موصول: اسم موصول کا مفہوم مکمل کرنے والا جملہ جملہ موصول کہلاتا ہے۔ یہ جملہ اسم موصول کے بعد آتا ہے اور اس کا فعل اور فاعل مکمل کرتا ہے۔

مثال: "الذي نجح في الامتحان هو أخي" (ترجمہ: جو امتحان میں کامیاب ہوا، وہ میرا بھائی ہے)۔ اس جملے میں "الذي" اسم موصول ہے اور "نجح في الامتحان" جملہ موصول ہے۔

اسم موصول کا اعراب:

اسم موصول عام طور پر حالت رفع، نصب یا جر میں ہوتا ہے اور یہ جملے میں اپنے محل کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے:

رفع: اگر اسم موصول مبتدا یا فاعل ہو، جیسے: "الذي حضر" (جو آیا)۔

نصب: اگر اسم موصول مفعول ہو، جیسے: "أحب الذي يدرس" (میں اسے پسند کرتا ہوں جو پڑھتا ہے)۔

جر: اگر اسم موصول حرف جر کے بعد آئے، جیسے: "البيت الذي في المدينة" (وہ گھر جو شہر میں ہے)۔

اسم موصول کی خصوصیات:

جملہ موصول کی ضرورت: اسم موصول کا معنی ہمیشہ جملہ موصول سے مکمل ہوتا ہے۔

تذکیر و تانیث اور اعداد کا لحاظ: اسم موصول کا انتخاب اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ جس چیز یا شخص کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے وہ مذکر ہے، مؤنث ہے، واحد ہے یا جمع ہے۔

جملہ اسمیہ یا فعلیہ: جملہ موصول، جملہ اسمیہ یا جملہ فعلیہ دونوں ہو سکتا ہے۔

عربی مثالیں:

"الذي قرأ الكتابَ نجح في الامتحان" (ترجمہ: جو کتاب پڑھا، وہ امتحان میں کامیاب ہوا)۔

"اللاتي يدرسنَ هنا هنّ متفوقات" (ترجمہ: جو لڑکیاں یہاں پڑھتی ہیں، وہ کامیاب ہیں)۔

اس طرح اسم موصول ایک خاص لفظ ہے جو کسی غیر معین چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے اور اس کا مفہوم جملہ موصول کے ذریعے مکمل ہوتا ہے۔

28 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۷

الاِسْمُ المَوْصُولُ: هُوَ اِسْمٌ مَعْرِفَةٌ يَتَعَيَّنُ المَقْصُودُ مِنْهُ بِجُمْلَةٍ بَعْدَهُ تُسَمَّى صِلَةً۔

يَجِبُ أَنْ تَشْتَمِلَ الصِّلَةُ عَلَى ضَمِيرٍ يَعُودُ عَلَى المَوْصُولِ، يُسَمَّى عَائِدًا.

الأَسْمَاءُ المَوْصُولَةُ ھِیَ:

الذي...... للمفرد المذكر

الذين....... لجماعة الذكور

التي....... للمفردة المؤنثة

اللاتي...... لجماعة الإناث

اللذان...... للمثنى المذكر

اللتان....... للمثنى المؤنث

مَن ....... للعاقل مطلقا

ما..... لغير العاقل مطلقا

اسم موصول وہ معرفہ ہے جس کا مطلب اس کے بعد آنے والے جملے سے واضح ہوتا ہے اس کو صلہ کہتےہیں۔

صلہ میں ایک ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو موصول کی طرف لوٹے، اسے عائد کہتےہیں۔

اسماء موصوله حسب ذیل ہیں:

الذي........ واحد مذکر کے لئے

الذين .... جمع مذکر کے لئے

التي......... واحد مونث کے لئے

اللاتي….. جمع مؤنث کے لئے

اللذان…... تثنیه مذکر کے لئے

اللتان….. تثنیه مونٹ کے لئے

مَن….. عاقل کے لئے

ما….. غیر عاقل کے لئے

الأمثلة

(۱) غَلَبْتُ الَّذِي غَلَبَنِي

(۲) سَافَرَتِ الَّتِي كَانَتْ عِنْدَنَا

(۳) حَضَرَ اللَّذَانِ كَانَا مُسَافِرَيْنِ

(٤) جَاءَتِ اللَّتَانِ تَسْكُنَانِ أَمَامَنَا

(۵) أُحِبُّ الَّذِينَ عَلَّمُونِي

(٦) رَأَيْتُ اللَّائِي يَشْتَغِلْنَ فِي الْمَصْنَعِ

(۷) أَحْسِنْ إِلَى مَنْ أَحْسَنَ إِلَيْكَ

(۸) لا تَأْكُلْ مَا لَا تَسْتَطِيعُ هَضْمَهُ

29 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۹

(اسم موصول)

اسم اشارہ کی طرح اسم موصول کے بھی چھ صیغے آتے ہیں ۔

الذي الذانِ الذين

التي اللتَانِ اللاتي

ان کے علاوہ من اور ما اور ای بھی اسم موصول ہیں ۔

من عاقل کے لئے اور ما غیر عاقل کے لئے مطلقا، یعنی واحد تثنیه جمع اور مذکر مونث سب کے لیئے اور اسی طرح ایّ بھی ۔

ان کلمات کا ترجمہ جو، جس ، جو شخص، جس چیز وغیرہ سے کیا جاتا ہے جس سے مقصود بہ واضح نہیں ہوتا کہ کون یا کیا چیز مراد ہے، اس لئے اس کے بعد ایک دوسرا جملہ لایا جاتا ہے۔ جو مقصود بہ کو واضح کرتا ہے۔ اس دوسرے جملہ کا نام صلہ ہے ۔

صلہ میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتی ہے، اس ضمیر کو عائد لوٹنے والی کہتے ہیں۔ عائد اپنے اسم موصول کی مناسبت سے واحدہ تثنیه جمع اور مذکر و مونث کی مختلف شکلوں میں بدلتا رہتا ہے ۔ ذیل کی مثالیں پڑھو:-

أحِبُّ الذي يصدق

أحِبُّ اللَّذَيْنِ يَصْدُ قَانِ

أحِبُّ الذِينَ يَصْدُ قُون

أُحِبُّ الَّتِي تَصدق

أحِبُّ اللتين تصدُقَانِ

أَحِبُّ اللَّاتِي يَصُدُ قۡنَ

توفِّيت التي كانت مريضة

نجح الذين كانوا يَجْتَهِدُونَ

نوٹ : - من ، ما اور ایُّ کا استعمال بطور مبتدا، فاعل یا مفعول تینوں طرح سے ہوتا ہے اور اسی طرح الذی وغیرہ کا بھی ، البتہ الذی الذان وغیرہ بطور صفت کے زیادہ مستعمل ہیں ۔

(۲) اسمائے موصولہ معرفہ ہوتے ہیں اس لئے اسم موصول اسی لفظ کی صفت واقع ہو گا جو کہ معرفہ ہو ۔ تاکہ موصوف صفت میں مطابقت ہو سکے ، مگر یہاں اتنی بات یاد رکھنی چاہئے طلبہ اسمیں اکثر غلطی کے شکار ہوتے ہیں کہ نکرہ کی صفت اسم موصول سے لے آتے ہیں۔ مثلاً جاء رجل الذي كان منتظراً یہ غلط ہے الرجل ہونا چاہیے۔

30 تیسیر النحو۔ سبق:۲۶

الأسماء الموصولة

الاسم الموصول: هو اسم مبني يدل على معين بواسطة جملة تذكر بعده مشتملة على

ضميره وتسمى صلة الموصول، نحو: أحب الذي تحبه.

سبب بنائها : احتياجها إلى الصلة في الدلالة على معناها كاحتياج الحرف إلى كلمة أخرى الأسماء الموصولة قسمان: خاصة ومشتركة.

فالأسماء الموصولة الخاصة هي التي تختلف صورها بالإفراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث حسب مقتضى الكلام، وهي ما ياتي:

۱۔ الذي للمفرد المذكر مطلقا (أي: العاقل وغيره) مثل: حضر الذي نجح، الكتاب الذي عندك مفيد. ۲۔ التي للمفردة المؤنثة مطلقا مثل: جاءت الطالبة التي نجحت بالامتياز السيارة التي عندك ثمينة.

۳۔ اللذان: رفعا واللذين نصبا وجرا للمثنى المذكر مطلقا، مثل: سافر اللذان أقاما بالفندق، الكتابان اللذان عندك مفيدان

۴۔ اللتان: رفعا واللتين نصبا وجرا للمثنى المؤنث مطلقا، مثل اللتان اجتهدتا نجحتا في الاختبار السيارتان اللتان عندك ثمينتان.

۵۔ الذين : لجمع المذكر العاقل، مثل لا أحب الذين يفتخرون على أموالهم. اللاتي واللائي : لجمع المؤنث مطلقا، مثل: أحسنت الطالبات اللاتي ألقين الخطب وماتت البقرات اللاتي أكلت شيئا مسموما.

۶۔ الألى: الجمع المذكر والمؤنث، مثل: جاء التلاميذ الألى ذهبوا والتلميذات الألي ذهبن.

الأسماء الموصولة المشتركة هي التي تكون بلفظ واحد للجميع فيشترك فيها المفرد والمثنى والجمع والمذكر والمؤنث، وهي ما يلي:

ا۔ من العاقل مذكرا كان أو مونثاء مفرداً كان أو مثنى أو جمعا مثل: جاء من قام، جاءت من قامت جاء من قاما، جاءت من قامتاء جاء من قاموا، جاءت من قمن

۲۔ ما "لغير العاقل " مذكرا كان أو مؤنثاء مفردا كان أو مثنى أو جمعا مثل: أعجبني ما كتبت من مقال وأعجبني ما كتبت من قصة ، أو ما كتبت من قصتين، أو ما كتبت من قصص.

۳۔ وأي: للعاقل وغير العاقل، مفردا كان أو مثنى أو جمعاء مثل: جاءني أي قام، وأي قاما، وأي قاموا، وأي قامت، وأي قامتا، وأي قمن (تقديرها: جاءني الذي قام اللذان قاما لي) ومؤنثها أية وتبنى على الضم بشرط إضافتها إلى المعرفة، وحذف الضمير الواقع صدر صلتها، نحو: أيكم مؤدب (تقديره : أيكم هو مؤدب) وفي هذا المثال "أي اسم موصول للعاقل، مبني على الضم في محل رفع مبتدأ وهو مضاف وكم مضاف إليه) ومثال غير العاقل، أكلت أي الطعام طازج وتقديره: أي الطعام هو طازج ، في هذا المثال "أين اسم موصول لغير العاقل مبني على الضم في محل نصب مفعول به، وهو مضاف، والطعام مضاف إليه )

- يجب تقديم العامل على " أي " الموصولية للفرق بينها وبين "أي" الشرطية والاستفهامية، فإن عاملهما لا يكون إلا مؤخرا عنهما لوجوب تصدرهما في أول الكلام

۴۔ ذا تأتي اسما موصولا بشروط ثلاثة:

ا۔ أن تكون مسبوقة بـ " من " الاستفهامية، وفي هذه الحالة تكون للعاقل أو بما الاستفهامية، وفي هذه الحالة تكون لغير العاقل.

٢۔ ألا تصير عند تركيبها مع إحداهما كلمة واحدة للاستفهام.

ألا تكون للإشارة، وتكون للإشارة إذا وقع بعدها الاسم، لأن الاسم لا يصلح للصلة التي يشترط فيها أن تكون. جملة أو شبه جملة، وإذا وقع بعدها الفعل فتكون موصولة لأن الفعل صالح للصلة، وغير صالح للإشارة)

وتستعمل بلفظ واحد للمذكر والمؤنث مفردا كان أو مثنى أو مجموعا فتقول: من ذا ذهب، من ذا ذهبا، من ذا ذهبوا من ذا ذهبت من ذا ذهبتا من ذا ذهبن.

۵۔ ذو في لغة بني طي، وتكون للعاقل وغير العاقل مفردا كان أو مثنى، أو مجموعاء مذكرا كان أو مؤنثا على الرأى المشهور، مثل: جاء ني ذو قام، وذو قامت، وذو قاما، وذو قامتا، وذو قامواء وذو قمن

تبنى "ذو الطائية على الرأى المشهور مثل: جاء ني ذو قام، رأيت ذو قام، ومررت بذو قام.

۶۔ "ال" للعاقل وغيره، نحو: جاء في القائم والمركوب، وتكون اسما موصولا بشرط أن يكون مادخلت عليه صفة صريحة وهذا ينطبق على اسم الفاعل وصيغ المبالغة، واسم المفعول، نحو: جاء الشاكر، والمشكور، والشكور (ال" في هذه الأمثلة اسم موصول بمعنى الذي لكن ليس له محل من الاعراب)

المحل الإعرابي للأسماء الموصولة:

تكون الأسماء الموصولة في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، مثل الذي اجتهد نجح الذي اسم موصول مبني على السكون في محل رفع مبتدأ إن الذين اجتهدوا نجحوا الذين: اسم موصول مبني على الفتح في محل نصب اسم إن أحسن إلى الذي يحتاج إلى الإحسان (الذي: اسم موصول مبني على السكون في محل جر مجرور بالحرف)

صلة الموصول تكون:

(۱) جملة فعلية كما في الأمثلة المذكورة.

(ب) أو جملة اسمية مثل: حضر الذين هم أصدقائي

(ج) أو ظرفاء، مثل: انظر إلى اللوحة التي أمامك.

(د) أو جاراً ومجروراء مثل: من والد الذي في السيارة؟

يشترط في جملة الصلة فعلية كانت أو اسمية أن تشتمل على ضمير غائب يربطها بالموصول، ويطابقه في التذكير والتانيث، والإفراد والتثنية والجمع، ويسمى بـ "العائد مثل: جاء الذي أكرمته، والتي أكرمتها، واللذان أكرمتهما، والذين أكرمتهم، واللاتي أكرمتهن - هذا في الموصول المختص، أما المشترك ففيه وجهان:

(۱) مراعاة اللفظ، فيكون مفردا مذكرا مع الجميع وهو الأكثر، نحو: ومنهم من يستمع إليك)

(۲) ومراعاة المعنى، نحو: ومنهم من يستمعون إليك

جملة الصلة لا يكون لها محل من الإعراب.

يقدر في صلة الموصول التي تكون ظرفاً أو جارًا ومجرورا فعل محذوف وجوبا تقديره: استقر، فتقدير المثالين المذكورين: استقرت أمامك، استقرفي السيارة.

اسم موصول:

اسم موصول: وہ اسم جو کسی معین چیز پر دلالت کرتا ہے، اور اس کے بعد ایک جملہ آتا ہے جو اس کے ضمیر پر مشتمل ہوتا ہے، اسے صلة الموصول (یعنی موصول کا صِلہ) کہا جاتا ہے، جیسے: أحب الذي تحبه (مجھے وہ پسند ہے جسے تم پسند کرتے ہو)

اسماء موصولہ کے مبنی ہونے کی وجہ:

یہ اپنی صلہ کے محتاج ہوتے ہیں تاکہ اپنے معنی کو مکمل کر سکیں، بالکل اسی طرح جیسے کوئی حرف اپنے معنی کو مکمل کرنے کے لیے دوسرے لفظ کا محتاج ہوتا ہے۔

اسماء موصولہ کی اقسام:

اسماء موصولہ دو قسم کے ہوتے ہیں:خاصہ (مخصوص) ، مشترکہ (عام)

1- اسماء موصولہ خاصہ (مخصوص موصولی اسماء):

یہ وہ اسماء ہوتے ہیں جو واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث کے اعتبار سے مختلف صورتوں میں آتے ہیں۔ یہ درج ذیل ہیں:

الف- مذکر و مؤنث کی تفصیل:

۱۔ الذي واحد مذکر کے لیے (چاہے عاقل ہو یا غیر عاقل) حضر الذي نجح (وہ آیا جو کامیاب ہوا) الكتاب الذي عندك مفيد (وہ کتاب جو تمہارے پاس ہے مفید ہے)

۲۔ التي واحد مؤنث کے لیے جاءت الطالبة التي نجحت بالامتياز (وہ طالبہ آئی جو امتیازی کامیاب ہوئی) السيارة التي عندك ثمينة (وہ گاڑی جو تمہارے پاس ہے قیمتی ہے)

۳۔ اللذان (رفع) اللذين (نصب و جر) تثنیہ مذکر کے لیے سافر اللذان أقاما بالفندق (وہ دونوں چلے گئے جو ہوٹل میں ٹھہرے تھے) الكتابان اللذان عندك مفيدان (وہ دونوں کتابیں جو تمہارے پاس ہیں مفید ہیں)

۴۔ اللتان (رفع) اللتين (نصب و جر) تثنیہ مؤنث کے لیے اللتان اجتهدتا نجحتا في الاختبار (وہ دونوں لڑکیاں جو محنت کیں کامیاب ہو گئیں) السيارتان اللتان عندك ثمينتان (وہ دونوں گاڑیاں جو تمہارے پاس ہیں قیمتی ہیں)

۵۔ الذين جمع مذکر عاقل کے لیے لا أحب الذين يفتخرون على أموالهم (مجھے وہ لوگ پسند نہیں جو اپنے مال پر فخر کرتے ہیں)

۶۔ اللاتي / اللائي جمع مؤنث کے لیے أحسنت الطالبات اللاتي ألقين الخطب (میں نے ان طالبات کی تعریف کی جنہوں نے تقریریں کیں) ماتت البقرات اللاتي أكلت شيئًا مسمومًا (وہ گائیں مر گئیں جنہوں نے زہریلی چیز کھائی تھی)

۷۔ الأُلى جمع مذکر و مؤنث دونوں کے لیے جاء التلاميذ الأُلى ذهبوا (وہ طلبہ آئے جو چلے گئے) والتلميذات الأُلى ذهبن (وہ طالبات آئیں جو چلی گئیں)

2- اسماء موصولہ مشترکہ (عام موصولی اسماء):

یہ وہ اسماء ہیں جو واحد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث سب کے لیے ایک ہی لفظ میں آتے ہیں۔

۱۔ من عاقل کے لیے (واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے) جاء من قام (وہ آیا جو کھڑا ہوا) جاءت من قامت (وہ آئی جو کھڑی ہوئی) جاء من قاما (وہ دونوں آئے جو کھڑے ہوئے) جاء من قاموا (وہ سب آئے جو کھڑے ہوئے)

۲۔ ما غیر عاقل کے لیے (واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے) أعجبني ما كتبت من مقال (مجھے وہ مضمون پسند آیا جو تم نے لکھا) أعجبني ما كتبت من قصتين (مجھے وہ دو کہانیاں پسند آئیں جو تم نے لکھی تھیں)

۳۔ أي عاقل و غیر عاقل دونوں کے لیے جاءني أي قام (میرے پاس وہ آیا جو کھڑا ہوا) أكلت أي الطعام طازج (میں نے وہ کھانا کھایا جو تازہ تھا)

۴۔ ذا اسم موصول بننے کی تین شرائط:

یہ "من" استفہامیہ کے بعد آئے تو یہ عاقل کے لیے ہوگا، اور اگر "ما" استفہامیہ کے بعد آئے تو غیر عاقل کے لیے ہوگا۔

یہ "من" یا "ما" کے ساتھ مل کر ایک لفظ نہ بنے جو استفہام کے لیے استعمال ہو۔

یہ اشارہ کے لیے استعمال نہ ہو، کیونکہ اگر اس کے بعد اسم آجائے تو یہ اشارہ ہوگا، نہ کہ اسم موصول۔ اسم موصول کی صلہ جملہ یا شبه جملہ ہوتی ہے، جبکہ اسم کے بعد آنے والا "ذا" اشارہ ہوتا ہے، نہ کہ موصول۔ اگر اس کے بعد فعل ہو تو یہ موصول ہوگا، کیونکہ فعل صلہ بننے کے قابل ہوتا ہے، جبکہ اشارہ نہیں بن سکتا۔

یہ واحد، تثنیہ اور جمع کے لیے، اور مذکر و مؤنث سب کے لیے ایک ہی صورت میں استعمال ہوتا ہے، جیسے:

من ذا ذهب؟ (کون گیا؟)

من ذا ذهبا؟ (کون دونوں گئے؟)

من ذا ذهبوا؟ (کون لوگ گئے؟)

من ذا ذهبت؟ (کون گئی؟)

من ذا ذهبتا؟ (کون دونوں گئیں؟)

من ذا ذهبن؟ (کون عورتیں گئیں؟)

ذو اسم موصول (بنی طے قبیلے کی زبان میں):

بنی طے قبیلے کی زبان میں "ذو" اسم موصول کے طور پر عاقل و غیر عاقل، واحد، تثنیہ، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے:

جاءني ذو قام (وہ آیا جو کھڑا ہوا)

جاءني ذو قامت (وہ آئی جو کھڑی ہوئی)

جاءني ذو قاما (وہ دونوں آئے جو کھڑے ہوئے)

جاءني ذو قامتا (وہ دونوں آئیں جو کھڑی ہوئیں)

جاءني ذو قاموا (وہ آئے جو کھڑے ہوئے)

جاءني ذو قمن (وہ آئیں جو کھڑی ہوئیں)

یہ "ذو الطائیة" کہلاتی ہے اور مشہور رائے کے مطابق یہ ہمیشہ مبنی ہوتی ہے، جیسے:

جاءني ذو قام

رأيت ذو قام

مررت بذو قام

"ال" بطور اسم موصول:

یہ عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے آتا ہے، جیسے: جاءنی القائم و المركوب

یہ اسم موصول تب ہوتا ہے جب وہ کسی صفت صریحہ (اسم فاعل، صیغہ مبالغہ، یا اسم مفعول) پر داخل ہو، جیسے:

جاء الشاكر (وہ آیا جو شکر گزار ہے)

جاء المشكور (وہ آیا جس کی تعریف کی گئی ہے)

جاء الشكور (وہ آیا جو بہت شکر گزار ہے)

یہاں "ال" اسم موصول ہے، مگر اس کا کوئی محل اعرابی نہیں ہوتا۔

اسماء موصولہ کا محل اعرابی:

اسماء موصولہ جملے میں اپنے محل کے لحاظ سے رفع، نصب یا جر میں آتی ہیں، جیسے:

الذي اجتهد نجح (جس نے محنت کی، وہ کامیاب ہوا) → الذي اسم موصول مبنی، محل: مبتدا

إن الذين اجتهدوا نجحوا (بے شک وہ لوگ جنہوں نے محنت کی، کامیاب ہوگئے) → الذين اسم موصول مبنی، محل: اسم "إن" منصوب

أحسن إلى الذي يحتاج إلى الإحسان (اس شخص کے ساتھ بھلائی کرو جو بھلائی کا محتاج ہے) → الذي اسم موصول مبنی، محل: مجرور

صلة الموصول:

اسم موصول کی صلہ درج ذیل ہوسکتی ہے:

جملہ فعلیہ → جاء الذي أكرمته (وہ آیا جسے میں نے عزت دی)

جملہ اسمیہ → حضر الذين هم أصدقائي (وہ آئے جو میرے دوست ہیں)

ظرف → انظر إلى اللوحة التي أمامك (اس تختی کو دیکھو جو تمہارے سامنے ہے)

جار و مجرور → من والد الذي في السيارة؟ (وہ شخص کون ہے جو گاڑی میں ہے؟)

صلة الموصول میں شرط:

جملہ صلہ میں ایک غائب ضمیر ہونا ضروری ہے جو اسم موصول کی طرف لوٹتا ہو، جیسے:

جاء الذي أكرمته (وہ آیا جسے میں نے عزت دی)

جاءت التي أكرمتها (وہ آئی جسے میں نے عزت دی)

جاء اللذان أكرمتهما (وہ دونوں آئے جنہیں میں نے عزت دی)

جاء الذين أكرمتهم (وہ آئے جنہیں میں نے عزت دی)

اسماء موصولہ مشترکہ میں صلہ کے ضمیر کے دو طریقے:

لفظ کے مطابق مفرد مذکر ضمیر → ومنهم من يستمع إليك (ان میں سے کچھ تمہاری بات سنتے ہیں)

معنی کے مطابق صیغہ جمع ضمیر → ومنهم من يستمعون إليك (ان میں سے کچھ لوگ تمہاری بات سنتے ہیں)

یاد رکھیں:

جملہ صلہ کا کوئی محل اعرابی نہیں ہوتا۔

اگر صلہ ظرف یا جار و مجرور ہو، تو اس میں فعل محذوف مانا جاتا ہے، جیسے:

انظر إلى اللوحة التي أمامك → تقدیر: استقرت أمامك

من والد الذي في السيارة؟ → تقدیر: استقر في السيارة

31 تمارین

32 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۹

اَلتَّمْرِيْنُ (113)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَّاحِدَةٍ.

(2) هُوَ الَّذِي اَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ.

(3) الضَّيْفَانِ اللَّذَانِ كَانَا عِنْدَنَا سَافَرَا.

(4) الاَسَاتِذَة الَّذين عَلَّمُونِي اُجِلُّهُم وَاُحِبُّهُم.

(5) هَلْ يَسْتَوِي الَّذِيْنَ يَعْلَمُوْنَ وَالَّذِيْنَ لاَ يَعْلَمُوْنَ.

(6) الاُمَّهَاتُ اللآتِي يُرَبِّيْنَ اَوْلَادَهُنَّ عَلىَ الْفَضِيْلَةِ هُنَّ خَيْرُ اُمَّهَاتٍ.

(7) المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ يَدِهِ وَلِسَانِهِ.

(8) مَنْ حَفَرَ حَفِيْرًا لِاَخِيْهِ كَانَ حَتْفُهُ فِيْهِ.

(9) لَا تَعِدْ بِمَا لَا تَقْدِرَ عَلىَ اِيْفَائِهِ.

(10) لاَ تُحَاوِلْ تَاْدِيْبَ مَنْ لاَّ يِتَاَدَّبْ.

(11) لاَ تُحَاوِلْ تقويمَ ما لا يَسْتَقِيْم.

(12) سَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يِنْقَلِبُوْنَ.

اَلتَّمْرِيْنُ (114)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) لڑکا جو سڑک پر دوڑ رہا ہے میرا بھائی ہے۔

(۲) وہ مریضہ جو کل یہاں آئی تھی آج مرگئی۔

(۳) کیا اس لڑکے کو آپ جانتے ہیں جس نے آپ کو سلام کیا تھا۔

(۴) کیا یہی وہ طالب علم ہے جس نے انعام پایاتھا۔

(۵) یہی وہ عمارت ہے جس میں دو سال پہلے میں رہتا تھا۔

(۶) وہ کتاب جو کل آپ نے مجھے دی تھی کھوگئی۔

(۷) جو بڑوں کی نصیحت نہیں سنتا اپنا ہی کچھ بگاڑتا ہے۔

(۸) اس لڑکے کو بلاؤ جس کی یہ کاپی ہے۔

(۹) ان دو لڑکوں سے ملو جو آج آئے ہیں۔

(۱۰) جو لوگ خدا کا حکم مانتے ہیں اللہ ان سے راضی ہوتا ہے۔

(۱۱) پولیس والوں نے ان لوگوں کو گرفتار کرلیا جو نقب زنی کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔

(۱۲) یہ وہی گھڑی ہے جو میرے والد نے انعام میں دی تھی۔

(۱۳) کیا یہ دونوں وہی لوگ ہیں جو دہلی میں ہم سے ملے تھے۔

(۱۴) وہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے دریائے دجلہ میں گھوڑے ڈال دیے۔

33 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۷

التمرين (۱)

بين في العبارات الاتية كل اسم موصول وصلته والعائد الذي اشتملت عليه كل صلة:

ان الذي يحب وطنه هو من يبذل جهده فيما يرفع قدر امته التي ينتسب اليها، فالصناع الذين يتقنون اعمالهم يخدمون وطنهم والنساء اللاتي يربين ابناء ھن على الفضيلة يرفعن شان وطنهن والتلاميذ الذين يجدون في دروسهم يبنون مجد امتهم۔

التمرين (۲)

ضع صلة مناسبة لكل اسم موصول في الجمل الآتية:

۱۔ قرات الكتاب الذي .۔۔۔

۲۔ حملت الحقيبة التي ۔۔۔۔۔۔

۳۔ هذا هو البيت الذي .۔۔۔

۴- كسر القط الزجاجتين اللتين ۔۔۔۔۔۔۔

۵۔ هل زجرت الكلبين اللذين۔۔۔۔

۶۔ قبض الشرطي على الذين ۔۔۔۔

۷۔ صاحب من ۔۔۔۔۔۔

۸۔ یحترم التامیذ من ۔۔۔۔۔۔

۹۔ هل سمعت صراخ اللاتي ....

۱۰- حكى على ما .۔۔۔۔۔۔۔

التمرين (۳)

ضع كل كلمة من الكلمات الآتية منعوتة باسم موصول في جملة مفيدة:

السرير ، المبراة ، الخادمات ، العلبة ، الدواتان

المنزل ، الجنود ، الحارسان ، الغاسلات ، التلاميذ

التمرين (۴)

كون جملا فعلية تشتمل كل واحدة منها على اسم موصول وانتخب لہ صلۃ تناسبه من الجمل الآتية:

۱- ينبح طول الليل

۲۔ يجمعن الصدقات

۳۔ تستذكر دروسها

۴۔ ركبنا الزورق

۵- قدما من السفر

۶۔ ابوهم مريض

التمرين (۵)

(۱) كون ثلاث جمل فعلية يكون الفاعل في كل منها اسما موصولا۔

(۲) كون ثلاث جمل فعلية يكون المفعول به في كل منها اسما موصولا۔

(۳) كون ثلاث جمل اسميه يكون المبتداء في كل منها اسما موصولا۔

(۴) كون ثلاث جمل يكون اسم كان في كل منها اسما موصولا۔

التمرين (٦)

خاطب بالجملة الآتية غير الواحد وهي:

انت الذي يحسن التعبير.

التمرين في الاعراب (۷)

(الف) نموذج

جاء اللذان غابا

جاء ۔۔۔۔۔۔۔۔ فعل ماض مبني على الفتح

الذان ... فاعل مبنى على الألف في محل رفع

غابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غاب فعل ماض 'والأ لف ضمیر فاعل مبنی على السكون -في محل رفع' والجملة صلۃ

(ب) اعرب الجمل الاتية

۱۔ ودعت اللتين زارتامنزلنا

۲۔ الذي يعلمنا مخلص

۳۔ ان التي تتصدق محبوبة

۴۔ رايت الذين فازوا

34 تیسیر النحو۔ سبق:۲۶

أسئلة

۱. عرف الاسم الموصول مع التمثيل.

٢- أذكر سبب بناء الأسماء الموصولة

۳۔ ما هي الأسماء الموصولة الخاصة اذكرها بالتفصيل مع التمثيل.

۴۔ما هي الأسماء الموصولة المشتركة ؟ اذكرها بالتفصيل مع التمثيل.

۵۔ ما هو الفرق بين "أي" الموصولية وبين "أي" الشرطية والاستفهامية ؟

۶۔ اذكر المحل الإعرابي للأسماء الموصولة بالتفصيل مع التمثيل.

۷۔ اذكر أنواع صلة الموصول بالأمثلة.

۸۔ ماذا يشترط في جملة الصلة ؟ اذكره بالتفصيل مع التمثيل.

۹۔ ماذا يقدر في صلة الموصول التي تكون ظرفا أو جارا ومجرورا، اذكره مع التمثيل.

تمرينات

ا. قال تعالى : ما عندكم ينفد وما عند الله باق) قد أفلح المؤمنون الذين هم في صلاتهم خاشعون) سبح لله مافي السماوات وما في الأرض) الذين يؤمنون بالغيب ويقيمون الصلاة) ومن الناس من يقول آمنا بالله) ذرنى ومن خلقت وحيدا) يوم يجمع الله الرسل فيقول ماذا أجبتم)

(ا) بين في الآيات السابقة الاسم الموصول، وموقعه الإعرابي وعائده.

(ب) عين الصلة واذكر نوعها.

٢ كون ثلاث جمل

الأولى: تشتمل على اسم موصول يقع مفعولا به.

الثانية: تشتمل على اسم موصول يقع مبتدأ.

الثالثة: تشتمل على اسم موصول يقع مجرورا بحرف الجر

۳۔ عين الاسم الموصول الخاص، والاسم الموصول المشترك في الأمثلة التالية. -

أد الأمانة الى من ائتمنك ولا تخن من خانك ان صلاح الأمة بالأمهات اللاتي يقمن التربية أولادهن بأسلوب حسن، وبالآباء الذين يجتهدون لتحسين أخلاقهم، ستعلم أي الذين الرجلين هو الصادق، إن القمار والسكرهما الرذيلتان اللتان تقودان إلى الكبائر. كون سبع جمل تشتمل كل واحدة منها على اسم موصول مع استيفاء الأسماء الموصولة الخاصة.

35 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

36 اسماء شرط

اسماء شرط وہ اسماء ہیں جو جملے میں کسی فعل کے وقوع کو کسی دوسرے فعل کے وقوع پر معلق کرتے ہیں۔ یہ جملے میں شرط اور جواب شرط کا مفہوم پیدا کرتے ہیں۔ اسم شرط ہمیشہ شرطی جملے میں استعمال ہوتا ہے، جہاں شرط والا فعل پہلے آتا ہے اور جواب شرط والا فعل اس کے بعد آتا ہے۔

مثال: جو محنت کرے گا، وہی کامیاب ہوگا۔ اسماء شرط کی اقسام

اسماء شرط کو معرب (وہ اسماء جو مختلف حالتوں میں بدل جاتے ہیں) اور مبنی (وہ اسماء جو حالتوں کے بدلنے پر نہیں بدلتے) کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

1. اسماء شرط مبنیہ (وہ اسماء جو اپنی حالت نہیں بدلتے): یہ وہ اسماء ہیں جو کسی بھی محل یا حالت میں استعمال ہوں، اپنی شکل میں کوئی تبدیلی نہیں لاتے۔ ان کی تفصیل درج ذیل ہے۔ جیسے: من: عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے (یعنی انسانوں کے لیے)۔

مثال: "من یصدق ینج: جو سچ بولے گا، وہ نجات پائے گا"۔

ما: غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے (یعنی اشیاء یا حیوانات کے لیے)۔

مثال: "ما تاکل تقوی بدنک : جو تم کھاؤ گے، وہ تمہارے جسم میں طاقت پیدا کرے گا"۔

مَهما: غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر چیزوں کے بارے میں بات کرنے کے لیے آتا ہے۔

مثال: "سمعت ما قلت: جو کچھ تم نے کہا، میں نے سن لیا"۔

أين: جگہ یا مقام کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مثال: "أین تذھب أذھب معک : جہاں تم جاؤ گے، میں تمہارے ساتھ جاؤں گا"۔

متى: وقت کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مثال: "متی تجئ افرح : جب تم آؤ گے، میں خوش ہوں گا"۔

أيان: وقت کی تعیین کے لیے استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تر مستقبل کی بات کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مثال: "جب بھی تمہاری ضرورت ہوگی، میں حاضر ہوں گا"۔

كيفما: حالت یا طریقے کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مثال: "جس طرح بھی تم کروگے، میں قبول کروں گا"۔

أي: عاقل اور غیر عاقل دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور عام طور پر اضافت کے ساتھ آتا ہے۔

مثال: "جو بھی کتاب تم چاہو، میں تمہیں دوں گا"۔

2. اسماء شرط معربہ (وہ اسماء جو حالت کے بدلنے پر بدل جاتے ہیں):

اسماء شرط معربہ کی کوئی خاص فہرست نہیں ہے، کیونکہ اسماء شرط کی اکثریت مبنی ہوتی ہے۔ تاہم، کچھ اضافی اسماء معرب شکل میں استعمال ہوتے ہیں، جو جملے کے مختلف حالات میں بدل جاتے ہیں۔

جملہ شرط اور جواب شرط:

شرطیہ جملہ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے:

شرط: وہ حصہ جو کسی فعل یا حالت کو مشروط کرتا ہے۔

جواب شرط: وہ حصہ جو شرط کے پورا ہونے پر وقوع پذیر ہوتا ہے۔

مثال: اگر تم محنت کرو گے (شرط)، تو تم کامیاب ہو گے (جواب شرط)۔

اعرابی حالت:

اسماء شرط کی اعرابی حالت جملے میں ان کے محل کے مطابق ہوتی ہے۔ عام طور پر یہ اسماء جملے میں مبتدا، فاعل یا مفعول کے طور پر آتے ہیں، اور جواب شرط میں فعل کی تکمیل کرتے ہیں۔

افعال شرط اور جواب شرط میں توافق:

شرط اور جواب شرط کے درمیان اکثر فعل مضارع (حال یا مستقبل کے وقت میں وقوع پذیر ہونے والے کام) ہوتا ہے۔

کبھی کبھار فعل ماضی بھی استعمال ہوتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب شرط کسی ماضی کے واقعے پر مبنی ہو۔

مثالیں: من يذاكر ينجح: جو مطالعہ کرے گا، وہ کامیاب ہوگا۔

ما تفعل من خير تجد جزاءه: جو کچھ تم اچھا کام کرو گے، اس کا تمہیں بدلہ ملے گا۔

متى تسافر أكن معك: جب بھی تم سفر کرو گے، میں تمہارے ساتھ ہوں گا۔

كيفما تعامل الناس يعاملوك: جس طرح بھی تم لوگوں کے ساتھ سلوک کرو گے، ویسے ہی وہ تمہارے ساتھ سلوک کریں گے۔

نتیجہ:

اسمائے شرط جملے میں سبب اور نتیجے کا مفہوم پیدا کرتے ہیں اور شرط اور جواب شرط کے درمیان ربط قائم کرتے ہیں۔ یہ اسماء مختلف حالات میں استعمال ہوتے ہیں اور جملے کو معین مفہوم دیتے ہیں۔

37 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸

(ادوات الشرط)

جملہ شرطیہ دو جملوں سے مل کو پورا ہوتا ہے۔ پہلے کو شرط اور دوسرے کو جزا کہتے ہیں جیسے : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يجز بہ (جو شخص برائی کرے گا اس کا بدلہ ملیگا)

ادوات شرط دو طرح کے ہیں ایک جاذمہ دوسرے غیر جاذمہ ،

ادوات جازمہ حسب ذیل ہیں:۔

إِن، اذْمَا ، مَن ، مهما ، مَتَى ، أَيَّانَ ، أَيْنَ ، أَنَّى ، حَيْثما ، كيفما ، أیّ ۔ ان میں سے اِن اوراذما دونوں حرف ہیں اور باقی سب اہم ہیں۔

(۱) یہ ادوات فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور لم اور لام امر کی طرح اسے جزم دیتے ہیں، اور اسی طرح نون اعرابی اور آخر سے عرف علت گرا دیتے ہیں۔

(۲) دوسرا جملہ یعنی جزا بھی اگر فعل مضارع ہو تو ا سے بھی جزم دیتے ہیں۔

او پر مثال میں غور کرد.

(۳)لیکن دوسرا جملہ اگر فعل مضارع نہ ہو بلکہ اس کے بجائے جملہ اسمیہ ہو یا امر و نہی ہو یا فعل مضارع ہو مگر اس پر لن ، قد يا س يا سوف يا ما نافیہ داخل ہو، یا عسیٰ و لیس کی قسم کے افعال جامد ہوں تو جزا پرف داخل کرنا ضروری ہے

اِن اور إِذْما (اگر) دونوں ایک معنی میں مستعمل ہوتے ہیں

من (جو، جو شخص، جو کوئی) ذوی العقول کے لئے آتا ہے ۔

ما (جو چیز، جو کچھ) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

مھما (جو کچھ، جتنا کچھ جوکچھ بھی ہو) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

متى (جب ، جس وقت) ظرف زمان کے لئے آتا ہے ۔

ایان (جب بھی) ظرف زمان کے لئے آتا ہے۔

اين (جہاں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے۔

أنى (جہاں ، جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے ۔

حيثما اسی طرح اینما (جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے

كيفما (جس طرح ، جیسا کچھ) کیفیت و حالت کے لئے آتا ہے۔

أىُّ اور أيّةُ (جو، جہاں، جب، جس طرح) تمام معانی مذکورہ کے لئے آتا ہے

(ادوات شرط غير جازمه)

ادوات شرط غير جازمہ حسب ذیل ہیں :-

لو ، لولا ، لَوْمَا ، لَمَّا ، كُلَّمَا ، إِذَا ، أمّا

(۱) لو (اگر) یہ ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے کہ شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جزا بھی نہ پائی گئی جیسے :- لو اجتهدت لفزت اگر تم محنت کرتے تو کامیاب ہوتے ،

(۲) لولا اور لوما (اگر نہ ہو ، اگر نہ ہوتا) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شرط کے پائے جانے کی وجہ سے جزاء جواب نہ پایا گیا ، جیسے لولا الهواء ما عاش انسان (اگر ہوا نہ ہوتی تو کوئی انسان زندہ نہ رہ سکتا تھا)۔

(۳) لمّا (جب ، جبکہ) ظرف ہے حین کے معنی میں یہ فعل ماضی پر آتا ہے جیسے لَمَّا سَلمْتُ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَیَّ السلام (جب میں نے اسے سلام کیا تو اس نے میرے سلام کا جواب دیا)۔

(۴) كلما (جب ، جب کبھی) یہ بھی ظرف ہے اور یہ بھی فعل ماضی پر آتا ہے جیسے كلما مرضت خافت على أمی (جب جب میں بیمار پڑا میری ماں میرے لئے اندیشہ میں پڑگئیں)

(۵) إذا (جب) یہ بھی ظرف ہے مگر مستقبل کے لئے آتا ہے جیسے إذا تعلمت فاعمل بعلمک (جب تعلیم پاؤ تو اپنے علم پر عمل کرو) إذ الاستاذ نصح لك فاعمل بنصحہ (جب استاد تمہیں کوئی نصیحت کرے تو اس عمل کرو)

أمّا (مگر، مگر رہی یہ بات) تفصیل بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسے للبستان بابان، أما احدها ففي جانب الشرق وأما الآخر ففي جانب الشمال.

نوٹ :۔ اما کے جواب پر ف داخل کرنا ضروری ہے، البتہ لما کے جواب پر ف لانا صحیح نہیں۔ طلبہ اس میں بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔

لمّا جو "اب تک" کے معنی میں نفی کے لئے آتا ہے وہ حرف جازم ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ، مگر یہ فعل ماضی پر آتا ہے اور جازم نہیں ہے دونوں کا فرق سمجھے لو۔

38 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸

اقْتِرَانُ جَوابِ الشَّرْطِ بالفاء: جواب شرط میں فاء کا ملانا

إذَا لَمْ يَصْلُحُ الْجَوَابُ لأَن يَكُونَ شَرُطًا وَجَبَ اقْتِرَانُهُ بِالْفاءِ وَذَلِكَ بِأَنْ كَانَ جُمْلَةٌ اِسْمِيَةٌ أَوْ فِعْلِيَّةٌ فِعْلُهَا طَلَبِيٌّ أَوْ جَامِدٌ أَوْ مَسْبُوقٌ بِلَنْ أَوْ قَدْ أَوْ مَا أَوِ السِّيْنِ أَوْ سَوْفَ .

جب جواب درست نہ ہو تو اس لئے کہ شرط میں فاء کا اتصال ضروری ہے. کیونکہ وہ جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے جس کا فعل طلبی یا جامد یا مسبوق ہوتا ہے، لن یا قد یا ما یا سین یا سوف کے ساتھ ۔

الأمثلة

(۱) مَنْ سَعَى فِي الْخَيْرِ فَسَعيُهُ مَشْكُورٌ

(٢) إِنْ حَيَّاكَ أَحَدٌ بِتَحِيَّةٍ فَحَيهِ بِأَحْسَنَ مِنْهَا

(۳) مَنْ أَفْشى سِرَّ الصَّدِيقِ فَلَيْسَ بِأَمِين

(٤) إِنْ عَصَيْتَ أَمْرِى فَلَنْ تَنَالَ مَحَبَّتى

( ۵ ) إن نهضت مِصْرُ اليَوْمَ فقد نَهَضَتْ مِنْ قَبْلُ

(۶) إِنْ تَجتهد ما أقصرُ فِي مُكَافَاتِكَ

(۷) مَنْ يَتَعَب فِى صِغَرِهِ فَسَيَستَرِيحُ فِى كِبَرِهِ

(۸) مَنْ ظَلَمَ الناسَ فَسَوْفَ يَنْدَمُ

الْعَطْفُ عَلَى الشَّرطِ والجواب بالواو والفاء: جواب شرط کو واو اور فاء سے ملانا

إِذَ اتلَا الشَّرُطَ مُضَارِعُ مُقْتَرِنُ بِالْوَاوِ أَوِ الْفاءِ جَازَ فِيْهِ وَجْهَانِ : الجزمُ عَلَى الْعَطْفِ ، وَالنَّصْبُ عَلَى إِضمَارِ أَنْ ، أَمَّا إِذَا تلَا الجَوَابَ مُضَارِع مَسْبُوق بِإحْدَاهُمَا فَيَجُوزُ فِيهِ الْجَزْمُ وَالنصْبُ لما سَبَقَ ، وَالرَّفْعُ عَلَى الْإِسْتِئنَافِ

جب وہ مضارع جو کہ واؤ کے ساتھ ملا ہوا ہے یا فاء کے ساتھ ملا ہوا ہے شرط کے بعد آ جائے تو اس میں دو صورتیں جائز ہیں جزم عطف کی وجہ سے اور نصب أن کے مضمر ہونے کی وجہ سے۔ بہر حال جب مضارع ان دونوں میں کسی ایک کے ساتھ مسبوق ہو اور جواب کے بعد ہو تو پس اس میں اس وقت جزم اور نصب پڑھنا جائز ہے اس سبب کی وجہ سے جو گذر چکا ہے اور اس پر رفع استیناف کلام کی وجہ سے پڑھا جائے گا۔

الأمثلة

(۱) إِنْ تَعْمَلَ وَتُثابِرْ أَوْ وتُثابِرَ تَنْجَحْ

(٢) إِن تخلف وَتَكذِبۡ أَوْ وَتَكذِبَ تأثم

(۳) إِنْ تَقْضِ وَتَعدِلۡ أَوْ وَتَعدِلَ تُدْرِكَ رِضا الناس

(٤) مَنْ يَأْكُل كَثِيراً يَتخَمۡ ويَمْرضۡ أَوْ وَيَمۡرضَ أَوْ وَيَمرْضُ

(٥) مَنْ يَتَّبِعْ هَوَاهُ يَسْقَ وَيَنْدَمۡ أَوْ وَيَنْدَمَ أَوْ وَيَنْدَمُ .

(۶) مَا تَدَّخِرْ ينفعك وَيَنْفَعۡ وَطَنَك أَوْ وَيَنْفَعَ أَوْ وَيَنْفَعُ

اجتماع الشرطِ والقَسَم: شرط اور قسم ایک جگہ

إِذَا اجْتَمَعَ شَرْطٌ وَقَسَمْ فَالجَوَابُ لِلسَّابِقِ مِنْهُمَا ، فَإِنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِمَا مَا يَحْتَاجُ إِلَى خَبَرٍ جَازَ أَنْ يَكُوْنَ الْجَوَابُ لِلسَّابِقِ أَوِ اللاحق .

جب شرط اور قسم جمع ہو جائیں تو جواب اس وقت ان دونوں میں سے پہلے کے لئے ہوگا پس اگر ان دونوں پر وہ چیز مقدم ہو کہ جو محتاج ہو خبر کی طرف تو اس وقت جائز ہے کہ جواب سابق کے لئے ہو یا لا حق کے لئے ہو۔

الأمثلة

(۱) إِنْ أتقنت العَمَلَ وَحَقِّكَ أَضَاعِفْ لَكَ الْأَجْرَ

(٢) إِنْ تَتَّبِعْ نُصْح الطبيب واللهِ تُشْفَ

(۳) إِنْ تَصْحِبِ الْأَشْرَارَ وأَبيكَ تَنْدَمْ

( ٤ ) وَحَقِّكَ إِنْ أتقنت العمل لأضاعِفَنَّ لَكَ الأَجْرِ

(۵) واللهِ إِنْ تَتبع نصْحَ الطبيب لتشفين

(۶) وَأَبيكَ إِنْ تَصْحبِ الأَشرَارِ لَتَنْدَ مَنَّ

(۷) أخوك إِنْ يُتَّقِنِ الْعَمَل وحقك أضَاعِف له الأجر أو لأضَاعِفَنَّ

(۸) أنت والله إن تتبع نُصْح الطيب تُشفَ أو لتشفين

(۹) إِنَّكَ وأبيكَ إِنْ تَصْحَب الأشرار تَنْدَم أو لتندمن

حَذْفُ الشَّرْطِ أو الجواب: شرط یا جواب کا حذف کرنا

يَجُوزُ أَن يُحْذَفَ فِعْلُ الشَّرْطِ بَعْدَ إِن الْمُدْغمۃ فِي لَا النافية .

يَجِبُ أَن یُحذفَ الْجَوَابُ إِذَا سَبَقَهُ أَوْ اكْتَنفَهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ وَكَانَ الْفِعْلُ الشَّرْطِ مَاضِياً .

فعل شرط کو حذف کرنا جائز ہے، ان حرف شرط کو لائے نافیہ میں مدغم کر دینےکے بعد

جواب کو حذف کرنا واجب ہے جبکہ اس سے پہلے یا گھیر لے اس کو جو کہ اس پر دلالت کرے اور فعل شرط ماضی ہو ۔

الأمثلة

(۱) تَجَنَّبِ الْمُزَاحَ وَإِلَّا تَسْقُطُ هَيْبتُكَ

(۲) دَعِ الْخِصَامَ وَإِلا يَنَلكَ شَرُّه

(۳) زُرْنِي وَإِلَّا أَعْتب عليك

(٤) سَتَنْدَمُ إِنْ ظَلَمْتَ

(٥) أَنتَ جَبَانُ إِنْ كَذَبْتَ

(۶) أَنْتَ إِنْ قُلْتَ الحَقِّ شُجَاعُ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الْجَازِمَةُ وإعرابها: حروف شرط جازمہ اور اس کا اعراب

تُعْرَبُ آدَوَاتُ الشَّرُطِ كَمَا يَأْتِي :

إِنْ دَلَّتِ الْادَاةُ عَلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى الطَّرْفِيَّةِ الزَّمَانِيَّةِ أَوِ الْمَكَانِيَّةِ لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ تَامَّا ، وَلِخَبَرِهِ إِنْ كَانَ نَاقِصاً

إِنْ دَلَّتِ الْآدَاةُ عَلَى حَدَثٍ كَانَتْ مَفْعُولاً مُطْلَقاً لِفِعْلِ الشَّرُطِ

. إِنْ دَلَّتْ عَلَى الْحَالِ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصَبٍ عَلَى الْحَالِ إِنْ كَانَ فِعَلُ الشَّرْطِ تَامَّا ، وَخَبَرًا لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ نَاقِصَاً

إِنْ دَلْتُ عَلَى ذَاتٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ رفْعٍ عَلَى أَنَّهَا مُبْتَدَأ إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ لازماً ، أَوْ نَاقِصاً ، أَوْ مُتَعَدِّياً وَاقِعَا عَلَى أَجْنَبِيِّ مِنْهَا ، وفِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى أَنَّهَا مَفْعُولٌ بِهِ ، إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ مُتَعَدِّياً -وَاقِعاً عَلَى مَعْنَاهَا .

حروف شرط درج طریقوں سے اعراب دیئے جاتے ہیں۔

اگر حرف زمان یا مکان پر دلالت کرے تو ظرف زمان یا مکان ہونے کی بناء پر محل نصب میں ہوگا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل تام ہو۔ اور اس کی خبر کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر کوئی حرف حدث پر دلالت کرے تو وہ فعل شرط کا مفعول مطلق ہوگا۔

اگر وہ حرف حال پر دلالت کرے تو وہ حال کی بناء پر محل نصب میں ہوگا اگر فعل شرط تام ہو اور خبر واقع ہو گا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر وہ ایسی ذات پر دلالت کرے جو محل رفع میں ہو اس شرط پر کہ وہ مبتداء ہے، اگر وہ فعل لازم ہو یا ناقص ہو یا متعدی واقع ہو کسی اجنبی پر جو کہ ان سے ہو ، اور محل نصب میں ہوگا اس شرط پر کہ وہ مفعول بہ ہے اگر فعل شرط متعدی ہو اور اس کے معنی پر واقع ہو رہا ہو۔

الأمثلة

(۱) مَتَى يَأْتِ الرَّبِيعُ يُزْرَعَ الْقُطْنُ

أَيَّانَ تَكُنْ وَفِيًّا يَكْثر محبُوك

(۲) أَيْنَ يَكْثر الظلْمُ يَضْعُفَ العمُرَانُ

أَنَّى يَكُنِ النِّيلُ جَارِيَا تُخْصِب الْأَرْضُ

(۳)أَي لَعِب تَلْعَبُ يَلْعَبْ أَخُوكَ

أَيَّ نَفْعِ تَنْفَع النَّاسَ يَحْمَدُوكَ عَلَيْهِ

(۴) كَيْفَمَا تُعَامِلُ إِخْوانَكَ يُعَامِلُوكَ

كَيْفَمَا يَكُنِ الْمُعَلِّمِ يَكُنْ تَلَامِيذُهُ

(۵) مَنْ يَكْثُرُ كلامُه يَكْثُرُ مَلامه

مَنْ يَكُنْ عَجُولاً يَكثُرُ زَلَهُ

(۶)من احترم الناس احترموه

مَا تَقَرَأ يُفدَكَ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الَّتى لَا تَجْزِم: وہ حروف شرط جو جزم نہیں دیتے

لو ، وَلَوْلاً ، وَلَوْمًا ، وَلَمَّا ، وَكُلَّمَا ، وَإِذَا ، وَأَمَّا ، جَمِيعُهَا أَدَوَاتْ تُفِيدُ الشَّرْطَ وَلَا تَجْزِمُ .

لَوْ تُفِيدُ امْتَناعُ الْجَوَابِ لِامْتِنَاعِ الشَّرْطِ وَلَوْلَا وَلَوْمَا تَدُلانِ عَلَى امْتِنَاعِ الْجَوَابِ لِوُجُودِ الشَّرْطِ ، وَلَمَّا وَكُلَّمَا ظَرُفَانِ لِلْمَاضِي وَلَا يَلِيْهِمَا إِلَّا الْفِعْلُ الْمَاضِي ، وَإِذَا ظَرْفٌ لِلزَّمَانِ الْمُسْتَقْبِلِ وَلَا يَلِيْهَا إِلَّا الْفِعْلُ ظَاهِراً اَوْ مُقَدَّرًا ، وَإِمَّا تُفِيدُ التَّفْصِيلَ وَتَقُوْمُ مَقَامَ آدَاةِ الشَّرْطِ وَفِعْلِهِ مَعاً وَتَلْزَمُ الْفَاءُ جَوَابَهَا .

لو، لولا ، لوما ، لما، كلما، اذا ، اما ، یہ تمام کے تمام حروف شرط کا فائدہ دیتے ہیں اور جرم نہیں دیتے۔

لو جواب کے ممتنع ہونے کا فائدہ دیتا ہے شرط کے ممتنع ہونے کی وجہ سے اور لولا ، لوما یہ دونوں جواب کے ممتنع ہونے پر دلالت کرتے ہیں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے، لما اور کلما دونوں ماضی کے ظرف واقع ہوتے ہیں اور صرف فعل ماضی کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں ، اور اذا یہ زمانہ مستقبل کے لئے ظرف ہے اور یہ صرف فعل ظاہر یا مقدر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور اما تفصیل کا فائدہ دیتا ہے اور بیک وقت اپنے فعل اور حرف شرط کے قائم مقام ہوتا ہے اور اپنے جواب کے لئے فاء کو لازم کرتا ہے۔

الأمثلة

(۱) لَوِ احْتَمى الْمَرِيض لسلم

(۲) لَوْ تَأَنَّى الْعَامِلُ مَا نَدِمَ

(۳) لو أن أَخَاكَ كريم لَسَادَ

(٤) لولا النِّيلُ لكانَتْ مِصْرُ صَحْرَاء

(٥) لَوْلَا الهواء ما عَاشَ إِنْسَانُ

(۶) لَوْلَا الطبيب ساءَتْ حَالُ الْمَرِيضِ

(۷) لوما التَّعَبُ ما كانَتِ الرّاحة

(۸) لَوْمَا العملُ لَمْ تَكُن لِلْعِلْمِ فائدة

(۹) لومَا ثَوَابُ الْعَامِلِينَ لَفَتَرَتِ الهِمَمُ

39 تیسیر النحو۔ سبق:۲۷

أسماء الشرط

اسم الشرط: اسم مبني يربط بين جملتين الأولى شرط للثانية، وتسمى الأولى جملة الشرط، والثانية جملة جواب الشرط نحو من يجتهد ينجح (فالجملة الأولى يجتهد شرط الثانية ينجح " لأن الاجتهاد شرط للنجاح)

أسماء الشرط هي: من، ما مهما، حيثما اذماء متى، أينما، أني، أيان، كيفما، أين، أي

المحل الاعرابي لكل من أسماء الشرط المبنية:

- أسماء الشرط المذكورة مبنية ما عدا " أي " ويكون لها محل الرفع أو النصب أو الجر، حسب موقعها في الجملة، فما دل منها على مكان (وهي: أين أينما، أنی، حيثما أو زمان (وهي المد متى أيان يكون في محل نصب على الظرفية المكانية أو الزمانية لفعل الشرط، وما دل على الحال (وهي كيفا) يكون في محل نصب حال، وما دل على ذات العاقل (وهي من) أو غير العاقل (وهي ماء مهما يكون في محل رفع مبتدأ، أو في محل نصب مفعول به، أو في محل جر بحرف الجر أو المضاف الداخل عليه.

أمثلة ما دل منها على مكان أين تذهب أذهب، هكذا، أينما، أنّي، حيثماء (اين مبنى على الفتح في محل نصب ظرف مكان)

أمثلة ما دل منها على زمان متى تذهب أذهب، وهكذا، اذماء وأيان (متي مبني على السكون في محل نصب ظرف زمان )

مثال ما دل على الحال : كيفما تعامل إخوانك يعاملوك ( كيفما: مبني على السكون في محل نصب حال من فاعل فعل الشرط )

مثال ما دل على ذات العاقل من يجتهد ينجح ( من مبني على السكون في محل رفع مبتدا) من تضرب أضرب ( من مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الى من تذهب أذهب (من: مبني على السكون في محل جر مجرور) ابن من تضرب أضرب ابن مفعول به مقدم منصوب علامة نصبه الفتحة الظاهرة ومن مبني على السكون في محل جر مضاف اليه مثال ما دل على ذات غير العاقل : ما راعك من الأبيات راعني ما مبني على السكون في محل رفع مبتدا ) ما تأكل آكل (ما مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الی ماتنظر أنظر (ما: مبني على السكون في محل جر مجرور) وهكذا " مهما"

أما "أي فتكون معربة بحسب ما تضاف اليه ، فان أضيفت إلى مكان أو زمان كانت ظرفا منصوبا ، نحو: أي يوم أو مكان تذهب أذهب (أي: منصوب على الظرفية وعلامة نصبه الفتحة )و ان أضيفت إلى مصدر كانت مفعولا مطلقاً نحو : أى سير تسر أتبعك، وإن أضيفت إلى غير الظرف والمصدر كانت معربة حسب موقعها في الجملة، فقد تقع مبتدأ مرفوعاً، نحو: أي رجل يجتهد ينجح، أو مفعولاً به منصوباً نحو: أي كتاب تقرأ تستفد أو مجروراً نحو: إلى أي مكان تسافر أسافر.

سبب بنائها أنها تشبه "إن" الشرطية في المعنى.

عملها: أسماء الشرط المذكورة تسمى أيضا أدوات الشرط الجازمة فانها تجزم فعلي الشرط والجواب، نحو: من تضرب أضرب من جزمت "تضرب" وهو فعل الشرط وعلامة جزمه السكون

وجزمت أضرب" وهو فعل جواب الشرط وعلامة جزمه السكون)

ملحوظة: ستأتي أحكام أسماء الشرط الأخرى بشيء من التفصيل عند دراسة أسلوب الشرط.

اسم شرط: وہ اسم مبنی ہوتا ہے جو دو جملوں کو آپس میں جوڑتا ہے، پہلے جملے کو دوسرے جملے کی شرط بناتا ہے۔ پہلے جملے کو "جملہ شرط" اور دوسرے کو "جملہ جواب شرط" کہا جاتا ہے، جیسے: "من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا)۔ یہاں "يجتهد" پہلا جملہ (جملہ شرط) اور "ينجح" دوسرا جملہ (جواب شرط) ہے، کیونکہ کامیابی کی شرط محنت ہے۔

اسماء الشرط

اسماء الشرط درج ذیل ہیں:

من، ما، مهما، حيثما، متى، أينما، أنى، أيان، كيفما، أين، أي

اسماء الشرط المبنية کا محل اعرابی

یہ تمام اسماء مبنی ہیں، سوائے "أي" کے، جو معرب ہوتا ہے اور جملے میں اپنے مقام کے مطابق اعرابی تبدیلی قبول کرتا ہے۔

جو مکان (جگہ) پر دلالت کرے: أين، أينما، أنى، حيثما → جملے میں ظرف مکان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "أين تذهب أذهب" (جہاں جاؤ گے، وہاں جاؤں گا)۔

جو زمان (وقت) پر دلالت کرے: متى، أيان → ظرف زمان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "متى تذهب أذهب" (جب تم جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

جو حال (کیفیت) پر دلالت کرے: كيفما → حال کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "كيفما تعامل إخوانك يعاملوك" (جیسے تم اپنے بھائیوں کے ساتھ برتاؤ کرو گے، ویسا ہی وہ تمہارے ساتھ کریں گے)۔

جو عاقل پر دلالت کرے: من → مبتدا، مفعول، یا مضاف الیہ ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "من" مبتدا۔

"من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا) → "من" مفعول بہ۔

"إلى من تذهب أذهب" (جس کے پاس جاؤ گے، میں جاؤں گا) → "من" مجرور۔

جو غیر عاقل پر دلالت کرے: ما، مهما → مبتدا، مفعول بہ، یا مجرور ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"ما راعك من الأبيات راعني" → "ما" مبتدا۔

"ما تأكل آكل" (جو تم کھاؤ گے، میں وہی کھاؤں گا) → "ما" مفعول بہ۔

"الی ما تنظر أنظر " → "ما" مجرور۔

"أي" کا اعراب

"أي" معرب ہوتا ہے اور اس کا اعراب اس کے مضاف الیہ پر منحصر ہوتا ہے:

اگر کسی ظرف زمان یا مکان (جگہ یا وقت) کی طرف مضاف ہو → ظرف منصوب ہوگا۔

مثال: "أي يوم تذهب أذهب" (جس دن جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

اگر مصدر کی طرف مضاف ہو → مفعول مطلق ہوگا۔

مثال: "أي سير تسير أتبعك" (جیسے بھی تم چلو گے، میں تمہاری پیروی کروں گا)۔

اگر کسی اور اسم کی طرف مضاف ہو → اس کے مقام کے مطابق ہوگا۔

مثالیں:

"أي رجل يجتهد ينجح" (جو بھی آدمی محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "أي" مبتدا۔

"أي كتاب تقرأ تستفد" (جو بھی کتاب پڑھو گے، فائدہ ہوگا) → "أي" مفعول بہ۔

"إلى أي مكان تسافر أسافر" (جس جگہ تم سفر کرو گے، میں بھی وہیں جاؤں گا) → "أي" مجرور۔

اسم شرط کے مبنی ہونے کی وجہ

یہ "إن" شرطیہ سے معنوی مشابہت کی بنا پر مبنی ہیں۔

اسماء الشرط کا عمل

یہ اسماء ادوات شرط جازمہ بھی کہلاتے ہیں، کیونکہ یہ فعل شرط اور جواب شرط دونوں کو جزم دیتے ہیں۔

مثال: "من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا)۔

"تضرب" → فعل شرط مجزوم

"أضرب" → جواب شرط مجزوم

40 تمارین

41 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸

اَلتَّمْرِيْنُ (107)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) مَنْ يَتْعَبْ فِي صِغَرِهِ يَتَمَتَّعْ فِي كِبَرِهِ.

(2) مَنْ يَّتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لاَ يَحْتَسِبُ.

(3) مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللهِ.

(4) مَهْمَا تُنْفِقْ فِي الْخَيْرِ يُخْلِفْهُ اللهُ.

(5) اِنْ تُسَافِرْ تَسْتَفِدْ مِنَ التَّجَارِبِ.

(6) اِذْ مَا تَفْعَلْ شَرًّا تَنْدَمْ عَلَيْهِ.

(7) اَيُّ نَفْعٍ تَنْفَعِ النَّاسَ يَحْمَدُوْكَ.

(8) مَتَى يُسَافِرْ اَخِي اِلىَ لَكْنَؤ اُسَافِرْ مَعَهُ.

(9) أَيَّانَ تُدْعُنِي فِي مُلِمَّةٍ اُجِبْكَ.

(10) اَيْنَ يَذْهَبْ مَحْمُوْدٌ يَصْحَبْهُ اَخُوْهُ.

(11) اَيْنَمَا تَكُوْنُوْا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ.

(12) اَنَّي يَرْحَلْ ذُوْ الْعِلْمِ يُكْرَمْ.

(13) حَيْثُمَا يَنْزِلْ اَبُوْكَ يَلْقَ الْحَفَاوَةَ وَالْاِكْرَامَ.

(14) كَيْفَمَا تُعَامِلْ اِخْوَانَكَ يُعَامِلُوْكَ.

(15) اِنْ تَفْتَحْ نَوَافِذَ الْحُجْرَةِ يَتَجَدَّدْ هَوَاؤُهَا.

(16) وَمَهْمَا تَكُنْ عِنْدَ امْرِءٍ مِنْ خَلِيْقَةٍ: وَاِنْ خَالَهَا تَخْفَى عَلىَ النَّاسِ تُعْلَم.

اَلتَّمْرِيْنُ (108)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) اگر پڑھنے میں محنت کرو گے تو کامیاب ہوگے۔

(۲) اگر بروں کے ساتھ رہو گے تو تمہارے اخلاق بگڑ جائیں گے۔

(۳) جو لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتا ہے لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔

(۴) جو بڑوں کی نصیحت پر عمل کرتا ہے وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

(۵) جو نیکی یا برائی کرو گے اس کا بدلہ پاؤ گے۔

(۶) جو کچھ نیکی کرو گے اس کا فائدہ تمہاری طرف لوٹے گا۔

(۷) چاہے وہ کتنا ہی تیز دوڑے مجھے نہیں پاسکتا۔

(۸) جب گرمی آئے گی اُمَرَاءشملہ کا سفر کریں گے۔

(۹) جب کبھی آپ دلی جائیں تو میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔

(۱۰) جہاں آپ قیام کریں گے وہاں میں قیام کروں گا۔

(۱۱) جہاں کہیں رہو اللہ تمہیں رزق دے گا۔

(۱۲) جس جگہ جاؤ قدرت کی کاریگری نظر آئے گی۔

(۱۳) جیسے کچھ تمہارے اخلاق ہوں گے لوگ اس کو جان لیں گے۔

(۱۴) جو بیج زمین میں ڈالو گے وہی اگے گا۔

(۱۵) جب سورج نکلتا ہے تو تاریکی چھٹ جاتی ہے۔

(۱۶) جو اپنی عزت آپ نہیں کرتا اس کی دوسرے لوگ بھی عزت نہیں کرتے۔

اَلتَّمْرِيْنُ (109)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) الحكمة ضالَّة المؤمن حيث وجدها فهو اَحَقُّ بِهَا.

(2) مَنْ سَعَى فِي الخير فَسَعْيُهُ مَشْكُوْرٌ.

(3) اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ.

(3) مَهْمَا ارْتَكَبْتَ مِنَ الذُّنُوبِ فَلاَ تَيْئَسْ مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ.

(4) مَا تَصْنَعْ مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يَضِيْعَ جَزَاؤُهُ.

(5) اِنْ يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَهُ.

(6) اِنْ خِفْتُمْ عَيْلَةً فَسَوْفَ يُغْنِيْكُمُ اللهُ.

(7) مَهْمَا تُخْفِ مِنْ طِبَاعِكَ فَسَيَعْلَمْهُ النَّاسُ.

(8) اِنْ تَتَقَرَّبْ اِلىَ اللهِ فَمَا يُقَصِّرْ فِي مُكَافَاتِكَ.

(9) مَنْ اَفْشٰى سِرَّ الصَّدِيْقِ فَلَيْسَ بِاَمِيْنٍ.

(11) اِنْ تَتُوْبُوْا اِلىَ اللهِ فَعَسَى اَنْ يَرْحَمَكُمْ.

(12) مَا آتَاكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا.

اَلتَّمْرِيْنُ (110)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) جس کسی نے یہ مضمون لکھا ہے وہ انعام کا مستحق ہے۔

(۲) جو شخص اپنے نفس کی پیروی کرتا ہے وہ خسارہ پانے والا ہے۔

(۳) جو کچھ تمہیں استاد نصیحت کرے اس پر عمل کرو۔

(۴) علم جہاں کہیں ملے اسے اپنی گم شدہ دولت سمجھو۔

(۵) جب کبھی کوئی وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔

(۶) جب آپ سفر کریں تو مجھے اپنے ساتھ لے لیں۔

(۷) جو اللہ کی نافرمانی کرے اس کی اتباع نہ کرو۔

(۸) اگر تم میری نصیحت پر عمل کرو گے تو عنقریب فائدہ اٹھاؤگے۔

(۹) اگر تو نے وعدہ خلافی کی تو اس سے پہلے بھی کرچکے ہو۔

(۱۰) اگر تونے اپنے والدین کی نافرمانی کی تو وہ دونوں ہرگز تجھ سے راضی نہ ہوں گے۔

(۱۱) اگر تو نے میری بات نہ مانی تو عنقریب پچھتاؤ گے۔

(۱۲) جو اعتدال کے ساتھ خرچ کرے وہ بخیل نہیں ہے۔

(۱۳) جس کو اللہ ہدایت نہ بخشے اس کو کوئی دوسرا ہدایت نہیں کرسکتا۔

(۱۴) ہم میں سے جو لوگ خوش حال ہوں وہ تنگ دستوں پر خرچ کریں۔

(ادوات شرط غير جازمه)

اَلتَّمْرِيْنُ (111)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) لَوْ عَمِلْتَ فِي فَرَاغِكَ مَا نَدِمْتَ.

(2) لَوْ كَانَ عِنْدِي مَالٌ لَفديتك.

(3) لَولَا الْعقل لكان الِانسان كَالْبَهَائِمِ.

(4) لَوْلاَ الطّبيبُ لساءَتْ حالُ المريضِ.

(5) لَوْمَا التَّعَبُ مَا كَانَتِ الرَّاحَةُ.

(6) لَوْمَا ثوابُ العَاملين لفترتِ الهِمَمُ.

(7) لَمَّا تُوُفِّىَ اَبيَ كنتُ ابنَ خمس سنواتٍ.

(8) لَمَّا رَاَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَذَا رَبِّيْ.

(9) اِذَا اَسَرَّ اِلَيْكَ اَحَدٌ فَلاَ تُفْشِ سِرَّهُ.

(10) كُلَّمَا ذَهَبَ جيلٌ جَاءَ جيلٌ اَخَرُ.

(11) لِي صَدِيْقَانِ عَالِمَانِ، اَمَّا اَحَدَهُمَا فَهُوَ مَحْمُوْدٌ.

(12) وَاَمَّا الآخَرُ فَهُوَ خَالِدُنِ الْخَطِيْبُ.

اَلتَّمْرِيْنُ (112)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) اگر تم محنت کے ساتھ پڑھتے تو امتحان میں کامیاب ہوتے۔

(۲) اگر تو پاس ہوتا تو میں تجھے ایک قیمتی انعام دیتا۔

(۳) اگر ہم لوگ دیر نہ کرتے تو گاڑی مل جاتی۔

(۴) اگر وہ ذرا پروا کرتا تو نتیجہ اس کے برعکس ہوتا۔

(۵) اگر دیوار گر پڑتی تو سب لوگ مرجاتے۔

(۶) اگر تاریکی نہ ہوتی تو روشنی کی قدر نہیں جانی جاسکتی تھی۔

(۷) اگر تجربات نہ ہوتے تو انسان فائدہ نہیں اٹھاتا۔

(۸) اگر اسلام نہ ہوتا تو لوگ عدل و مساوات کے نام سے واقف نہ ہوتے۔

(۹) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چالیس سال کے ہوئے تو آپ کو نبوت ملی۔

(۱۰) جب کبھی میں آپ سے ملا، آپ نے میری عزت فرمائی۔

(۱۱) جب جب تو نے عذر چاہا میں نے تمہارا عذر قبول کیا۔

(۱۲) جب بیمار ہو تو کسی ڈاکٹر سے مشورہ لو۔

(۱۳) تم دونوں بیمار کے پاس بیٹھو، رہا میں، تو میں۔

(۱۴) بازار جاتا ہوں تاکہ اس کے لیے دوائیں اور انارخریدوں۔

42 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸

اقتران جواب الشرط بالفاء

التمرين ( ۱ )

بين الجمل الشرطية في العبارة الآتية ، وبين السبب في اقتران أجوبتها بالفاء:

المصريون من أحسن خلق الله استعداداً ، فإن نافسوا غيرهم من الأمم في علم فما تقصر عن ذلك فطنهم ، و إن سابقوا في الصناعات فلن تبعد عنهم غاية ، وإن عمدوا إلى زراعة فهم أهل كدح وجلاد، وإِن يَرُومُوا مراماً فثق بأنهم أولو عزم وهمة، نسبهم عريق، ومجدهم أثيل ؟ فإن نهضوا اليوم فقد كانوا أول الناهضين ، وإن أخذوا بأسباب الحضارة فإنهم يسيرون على سنن آباء عظام وأجداد كرام ، ومن خالجه شك في عظمتهم فليقرأها في صحائف الآثار .

التمرين ( ۲ )

أتمم الجمل الشرطية الآتية بذكر أجوبة الشرط المحذوفة مقرونة بالفاء ، واستوف جمیع المواضع التي يجب فيها اقتران الجواب بالفاء .

(۱) من مدحك بما ليس فيك .. ..

(۲) إن صحبت الأشرار ...

(۳) ما تول من معروف ...

(۴) إن أحسنتم إلى الناس ...

(٥) من أحب أن يطاع .

(٦) من يسع بالفساد بين الناس ...

(۷) مهما تخف من طباعك .

(۸) إذ ما تتقن عملك ....

التمرين ( ۳ )

اجعل كل جملة من الجمل الآتية جواب شرط :

(۱)…………. نعم القرين

(۲) …………..أمنتم العدوى

(۳)…………..ما تَسْلَمُ من الأذى

(۴)……….. قد أساء إلى وطنه

(۵) …………تجدان زرعاً ناضراً

(۶)………… لن يَنَالَ مطلبه

( ۷)………….سیفوتک القطار

(۸)………….الفوز حليفك

(۹)………….يقوى بدنك

(۱۰) .............. اتبع نصح الطبيب

(۱۱)………..سوف تلحقك الندامة

(۱۲)…………..لا تقصر في عملك

التمرين ( ٤ )

كون تسع جمل شرطية، جواب الشرط في الثلاث الأولى منها جملة اسمية، وفى الثلاث الثانية جملة فعلية فعلها دال على الطلب ، وفي الثلاث الأخيرة جملة فعلية فعلها جامد:

التمرين ( ۵ )

كون خمس جمل شرطية، جواب الشرط في كل منها جملة فعلية، فعلها مسبوق في الأولى بما ،وفى الثانية بلن ،وفى الثالثة بقد ،وفي الرابعة بالسين ،وفي الخامسة بسوف:

تمرين في الإعراب ( ٦ )

نموذج :(۱)

مَنْ جَدَّ فَالنَّجَاحُ حلِيفهُ

من - ----اسم شرط جازم مبنى على السكون

جد-----فعل ماض مبنى على الفتح، فعل الشرط،والفاعل ضمير مستتر

فالنجاح--- - الفاء واقعة في حواب الشرط ، والنجاح مبتدأ مرفوع

حليفه----- حليف خبر المبتدأ مرفوع ، وهو مضاف ، والهاء مضاف إليه ، والجملة من المبتدأ والخبر في محل جزم ، جواب الشرط

(ب) أعرب الجملتين الآتيتين :

(۱) ما تفعل من خير فلن يضيع جزاؤه .

(۲) إِنْ ظَلَمْتَ فسوف تُحاسب .

التمرين ( ۷ )

اشرح أحد الأبيات الآتية وأعربه :

وَمَنْ طَلَبَ العُلَا مِنْ غَيْرِ كَيد

أَضَاعَ العُمْرَ في طَلَبِ المُحالِ

وَمَنْ عَاشَ فِي الدُّنيا فلا بُدَّ أَنْ يَرَى مِنَ العَيْشِ مَا يَصْفُو وَمَا يَتَكَدَّرُ

وَمَنْ قَلَّ فيما يَتَّقِيهِ اصْطِبَارُهُ

فَقَدْ قَلَّ فِيمَا يَرْتَجِيهِ مُنَاهُ

العطف علی الشرط و الجواب بالواو والفاء

التمرين(۱)

بيِّنۡ فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ كُلَّ وَجْهٍ مُمْكِنٍ فِي إِعْرَابِ الْأَفْعَالِ الْمُضَارعَةِ الَّتِي تَلِي الْوَاوَ أَوِ الْفَاءَ.

(۱) مَنْ يَصْحَبِ الأَخْيَارَ وَيَتَّبِعِ نُصْحَ الْحُكَمَاءِ تَسْتَقِم أُمُورُهُ .

(۲) مَنْ يَعْمَلۡ فَيُتْقِن عَمَلَهُ يَرْبَح وَيَكْتَسِب ثِقَةَ النَّاسِ.

(۳) مَنْ يُعَاشِرِ النَّاسَ بِالْمَعْرُوفِ يُحِبُّوہُ وَيُكْرِمُوهُ .

(۴) مَنْ يُفْرِطُ فِي السهرِ يَضْعُف وَيُسْرِعِ إِلَيْهِ الْهَرَمُ .

(۵ ) مَنْ يُبَكِّر إِلَى عَمَلِهِ يَغْنَ وَيَسْعَد.

(۶) مَنْ يَأْكُل طَعَامًا حَارًّا وَيَشْرَبُ مَاءً بَارِداً تفسدُ أَسْنانهُ .

(۷) مَنْ يَكْثُر مزاحه تَسْقُط هَيْبَتُهُ وَيَضِيع احْتِرَامُهُ .

(۸) إِنْ تَسْكُن فِي الرِّيفِ تَقِلُّ نَفْقَتُكَ فيكثر مَالُكَ .

(۹) إِنْ تَرْكَبُوا الْخَيْلَ تَقْوَ أَبْدَانُكُمْ وَيَزِيدُ نشاطكم .

التمرين(۲)

ضَعۡ بَعْدَ فِعْلِ الشَّرْطِ فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ فِعۡلا مُضَارِعاً مُلائِماً ، وَاجْعَلْهُ مَسْبُوقاً مَرَّةً بِالْوَاءِ، وَمَرَّةً بِالْفَاءِ، وَبَيِّنِ الْوُجُوهَ الْمُمْكِنَةَ فِيهِ:

(۱) إِنْ تَمْشِ فِي الْحُقُولِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يَصِحُّ بَدَنُكَ .

(۲) إن تَسمَعِ النُّصْحَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَنْجَحْ .

(۳) إن تَتَكَلَّمْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یَکْثُر سَقَطُکَ .

(۴) إن تَتَعَلَّمُوْا السّبَاحَةَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تَنْجَوْا مِنَ الغَرْقِ.

(۵)مَنْ يُعَامِلِ النَّاسَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يُحِبُّوْهُ .

(۶) مَنْ يُنْفِقْ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يَأمَنِ الفَقْرَ .

(۷) إن تَعُدْ مَرِيْضاً ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يَتَألَّمْ .

(۸) مَنْ يُعَاتِبِ الأصْدِقَاءَ ......... يَمَلُّوْهُ .

التَّمْرِينُ (۳)

ضَعۡ بَعْدَ جَوَابِ الشَّرْطِ فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ فِعْلاً مُضَارِعاً مُلائِماً، وَاجْعَلْهُ مَسْبُوقَاً مَرَّةً بِالْوَاوِ، وَمَرَّةً بِالْفَاءِ ، وَبَيِّنِ الْوُجُوهَ الْمُمْكِنَةَ فِيهِ:

(۱) إن نَدْخُلِ البُسْتَانَ نَقْطِفْ منْ أزْهَارِهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۲) مَن يَسْتَعِنْ بِنَا نُسَارِعْ إلَيهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۳) مَنْ لَمْ يَنْفَعِ النَّاسَ يَسْتغنوا عَنهُ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۴) مَا تَفْعَلْ مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللّٰهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۵) إن تطْعمُوْا الفُقَرَاءَ تَحْمَدُوْا ..............

(۶) إن تَفْتحْ نَوَافِذَ المَنْزِلِ تَدخُلْهُ الشَّمْسُ .............

(۷) مَتَىٰ يَنضج العِنَبُ نَقْطِفْهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۸) مَتَىٰ يَاتِ الصَّيْفُ يَهْجُر الأغْنِيَاءُ مِصْرَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۹) مَنْ يُسِئ إلىٰ النَّاسِ يَخِزْهُ ضَمِيْرہُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التَّمْرِينُ(۴)

(۱) كَوِّن ثَلَاثَ جُمَلٍ شَرْطِيَّةٍ فِي كُلٍّ مِنْهَا فِعْلٌ مُضَارِعٌ تَالٍ لِفِعْلِ الشَّرْطِ مَسْبُوق بِالْفَاءِ أَوِ الْوَاءِ، وَبَيِّنۡ مَا يَجُوزُ فِيهِ مِنْ أَوْجُهِ الْإِعْرَابِ:

(۲)کون ثلاث جمل شرطیۃ فی کل منھا فعل مضارع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔مسبوق بالفاء او الواو،وبین مایجوز فیہ من اوجہ الاعراب:

(۳) کون ثلاث جمل شرطیۃ فی کل منھا فعلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تالٍ لفعل الشرط مسبوق بالفاء،وثانیھما تال للجواب مسبوق بالواو،وبین ما یجوز فیھما من اوجہ الاعراب:

التمرين (۵)

اشْرَح قَوْلَ زُهَيْرٍ وَبَيِّنۡ مَا جَاءَ فِيهِ مُنطَبِقاً عَلَى الْقَاعِدَةِ السَّابِقَةِ ثُمَّ أَعْرِبِ الشَّطْرَالْأَوَّلَ مِنْهُ .

وَمَنْ يَكُ ذَا فَضْلٍ فَيَبْخَلْ بِفَضْلِهِ

عَلَى قَوْمِهِ يُسْتَغْنَ عَنْهُ وَيُذۡمَمِ

اجتماع الشرط والقسم

التَّمْرِينُ (۱)

بَيِّنۡ مَا جَاءَ فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ جَوَاباً لِلْقَسَمِ ، وَمَا جَاءَ جَوَاباً لِلشَّرْطِ، وَاذْكُرِ السَّبَبَ :

(۱) إِنَّ الْغَنِيَّ إِنْ أَحْسَنَ إِلَى الفُقَرَاءِ وَاللَّهِ لَيُحِبُّنَّهُ .

(۲) إِنْ تَسْلُكْ سَبِيلَ الْخَيْرِ لَعَمۡرُكَ تَسْتَقِمْ أُمُورُكَ...

(۳) وَأَبِيكَ إِنْ زُرْتَنِي إِنِّي لَشَاكِرٌ .

(۴) أَخُوكَ وَاللَّهِ إِنْ لَمْ يَتَرَوَّ فِي أَمْرِهِ فَسَوْفَ يَنْدَمْ .

(۵) تَاللَّهِ إِنْ أَحْسَنْتَ عَمَلَكَ لَقَدْ خَدمْت وَطَنَكَ .

(۶) التَّرَفُ وَاللَّهِ إِنْ كَثُرَ فِي أُمَّةٍ لَا يعظم شَأْنُهَا .

(۷) مَالُكَ وَاللَّهِ إِنْ لَمْ تُحْسِنِ الْقِيَامَ عَلَيْهِ فَسَوْفَ يَذْهَبْ .

(۸) مَنْ مَدَحَكَ بِمَا لَيْسَ فِيكَ لَعَمَرِى فَقَدْ ذَمَّكَ .

(۹) لَئِنْ أَخْلَصْتَ فِي عَمَلِكَ لَيُرْفَعَنَّ شَأْنُكَ .

التمرين (۲)

أَتمِمِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ وَاذْكُر وَجْهَ مَا تَقُولُ :

(۱) اَللَّئِيمُ لَعَمرُكَ إن أحسَنْتَ إلَيْهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۲) : اِبْنُكَ وَاللّٰهِ إِنْ هَذَّبْتَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۳) مَنْ يُبَكِّرْ إلَى عَمَلِهِ وَاللّٰهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( ۴) تَاللّٰهِ إن كَثُرَ مِزَاحُكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۵) اَلوَطْنُ وَحَقِّهُ إن أخْلَصْتُمْ لَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۶) مَن يُهْمِلْ وَاجِبَهُ وَحَيَاتكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۷) اَلفَقِيْرُ وَاللّٰهِ إن رَحِمْتَهُ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۸) إن تَتَعَوَّدِ الصِّدْقَ وَأبِيْكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۹) مَن يُخَالِطِ الأدْنِيَاءَ وَحَقِّكَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۱۰) لَئِنْ لَمْ تَفْعَلْ مَا آمُرُكَ بِهِ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التَّمْرِينُ (۳)

اجْعَلۡ كُلَّ تَرْكِيبٍ مِنَ التَّرَاكِيبِ الآتِيَةِ جَوَاباً فِي جُمْلَةٍ تَوَالَى فِيْهَا شَرطٌ وَقَسَمٌ :

(۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔ تَلْقَ مِنِّى مَا يَسُرُّک .

(۲) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَهُوَ فِي مَأمَنٍ مِن الفَاقَةِ۔

(۳) ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَنَجَاحُكَ مُحَقَّق

(۴) ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَنِعْمَ مَا يَفْعَلُوْن

(۵) ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَقَدْ أدَّيْتَ وَاجِبَك

(۲) ۔۔۔۔۔۔۔۔ مَا تَفُوْزُ بِثَنَاءٍ

(۷) ۔۔۔۔۔۔۔۔ إنِّهُم لَظَالِمُوْنَ

(۸) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَلَنْ يَخْفِقَ

(۹) ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَتُعْرِضَنَّ صِحتَكَ لِلتَّلَفِ

(۱۰) ۔۔۔۔۔۔۔۔ تَتَقَدَّمْ

(۱۱) ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَسَوْفَ تَنْدَمُ

(۱۲) ۔۔۔۔۔۔۔۔ فَبِئْسَ الْخُلُقُ

التَّمْرِينُ (۴)

اجْعَلۡ كُلَّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الآتِيَةِ مَرَّةً جَوَاباً لِشَرْطٍ وَمَرَّةً جَوَاباً لِقَسَمِ . بَعْدَ إِضَافَةِ مَا تَحْتَاجُ إِلَيْهِ فِي كِلْتَا الْحَالَيْنِ .

(۱) قَدْ خَدمْتَ الْوَطَنَ

(۲) مِصْرُ مَهْدُ الْحَضَارَةِ

(۳) عَسَى التَّوْفِيقُ أَنْ يُصَاحِبَكَ

(۴) سَوْفَ تَنَالُ مَا تَبْتَغِي

التَّمْرِينُ(۵)

قَدِّمِ الشَّرْطَ عَلَى الْقَسَمِ فِي الْجُمَلِ الآتِيَةِ مَعَ جعل جَوَابِ الْقَسَمِ صَالِحًا لانْ يَكُونَ جَوَابًا لِلشَّرْطِ:

(۱) لَئِنْ صَنَعْتَ الْخَيْرَ مَا تَنْدَمْ .

(۲) لَئِنْ أَنْهَضْتَ لُغَتَكَ لَقَدْ أَنْهَضْتَ وَطَنَكَ۔

(۳) لَئِنْ عَلَوْتَ لَانْتَ بِذَلِكَ حَقِيقٌ.

(۴) لَئِنْ خَطَبْتَ إِنَّكَ لَاَفۡصَحُ خَطِيبٍ.

التمرين(۶)

(۱)كَوِّنۡ سِتَّ جُمَلٍ يَتَوَالي فِي كُلٍّ مِنْهَا شَرْطٌ وَقَسَمٌ، وَقَدِّمِ الشَّرْطَ فِي الثلاث الأولى، وَالْقَسَمَ فِي الثَّلاثِ الثَّانِيَةِ .

(۲) كَوِّنۡ ثَلَاثَ جُمَلٍ يَتَوَالي فِي كُلٍّ مِنْهَا شَرْطٌ وَقَسَمٌ مَسْبُوقَانِ بِمُبْتَدَأٍ فِي الأولى ، وَبِكَانَ فِي الثَّانِيَةِ، وَبِإِنَّ فِي الثَّالِثَةِ .

(۳) كَوِّنۡ ثَلَاثَ جُمَلٍ بِكُلِّ مِنْهَا قَسَمٌ مُقَدَّمٌ عَلَى شَرْطٍ وَالْجَوَابُ مُضَارِعٌ مُمْتَنِعُ التَّاكِيدِ .

التَّمُرِينَ:(۷)

اشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبِ الثَّانِي مِنْهُمَا:

قَوْمِي هُمُ قَتَلُوا أُمَيْمَ أَخِي

فَإِذَا رَمَيْتُ يُصِيْبُنِي سَهْمِىْ

فَلَئِنُ عَفَوْتُ لأَعْفُوَنْ جَلَلاً

وَلَئِنُ رَمَيْتُ لَاُوهِنَنْ عَظْمِي

حذف الشرط أو الجواب

التمرين:(۱)

بَيِّنِ الْمَحْذُوفَ فِي كُلِّ جُمْلَةٍ مِنَ الْجُمَلِ الشَّرْطِيَةِ الْآتِيَةِ :

(۱) عَامِلِ النَّاسَ بِالْحُسْنَى وَإِلَّا فَإِنَّهُمْ يَكْرَهُونَكَ.

(۲) إِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَنَاجِحُونَ.

(۳) إِنْ كَانَ لَكَ عُذْرٌ عَفَوْنَا عَنْكَ وَإِلَّا فَالْعِقَابُ جَزَاؤُكَ .

(۴) الْمَرْءُ مَحْبُوبٌ إِنْ أَحْسَنَ إِلَى النَّاسِ .

(۵) لا بُدَّ لِلْفَرَسِ مِنْ سَوْطِ ، وَإِنْ كَانَ بَعِيدُ الشَّوْطِ .

(۲) أَحْسِنْ إِذَا أَرَدْتَ أَنْ يُحْسَنَ إِلَيْكَ

(۷) صُنْ لِسَانَكَ وَإِلَّا يَقْطَعْكَ بِحَدِّهِ ..

(۸) لا تُفْسِدْ بَيْنَ اثْنَيْنِ وَإِلَّا كَانَ عَلَى يَدَيْهِمَا هَلَاكُكَ

التَّمْرِينُ:(۲)

(۱) كَوِّنۡ أَرْبَعَ جُمَلٍ شَرْطِيَةٍ، فِعْلُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهَا مَحْذُوفٌ،وَالْجَوَابُ جُمْلَةٌ اِسْمِيَّةٌ.

(۲)کون اربع جمل شرطیۃ،فعل الشرط فی کل منھا محذوف،والجواب مضارع مسند فی الجملتین الاولیین،الی واو الجماعۃ،وفی الجملتین الاُخریین الی نون النسوۃ۔

(۳)کون اربع جمل شرطیۃ جواب الشرط فی کل منھا محذوف،وفعل الشرط مسند فی الجملتین الاولیین الی الف الاثنیین،وفی الجملتین الاخریین الی اسم ظاھر۔

التَّمرِينُ (۳)

اسْتَعْمِل "إِلَّا “ فِي جُملَتَيْنِ بِحَيْثُ يَكُونُ مَعْنَاهَا مُخْتَلِفاً فِيهِمَا.

تَمْرِينٌ فِي الْأَعْرَابِ (۴)

(۱) نموذج -

اعْمَلۡ وَإِلَّا تُحْرَم .

اعْمَل .... فعل أمر مبني على السكون ، والفاعل ضمير مستتر وجوباً تقديره أنت.

وإلا .... الواو عاطفة، وإن حرف شرط جازم، ولا نافية ، فعل الشرط محذوف تقديره تعمل.

تحرم ..... فعل مضارع مبني للمجهول مجزوم في جواب الشرط، ونائب الفاعل مستتر وجوباً تقديره أنت.

(ب) أَعْرِبُ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ:

(۱) جَامِلْ إِخْوَانَكَ وَإِلَّا يَهْجُرُوكَ

(۲) أَوْفِ بِعَهْدِكَ إِذَا عَاهَدْتَ

(۳) قُلْ خَيْراً وَإِلَّا فَاصْمُتْ

(۴) ارْوِ الزَّرْعَ وَإِلَّا يَذْبُل

التَّمْرِين (۵)

(۱) اشْرَحِ الْبَيْتَ الْآتِي وَأَعْرِبِ الشَّطْرَ الْأَوَّلَ مِنْهُ :

يَعِزُّ غَنِيُّ النَّفْسِ إِنْ قَلَّ مَالُهُ وَيَغْنَي غَنِيُّ الْمَالِ وَهُوَ ذَلِيلُ

(۲) اشرح البیت الآتی واعرب الشرط الاخیر منہ:

فَاِنۡ تُولِنِیۡ منکَ الجَمِیلَ فَاَھۡلُہُ وَاِلَّا فَاِنِّیۡ عَاذِرٌ وَشَکُورُ

أدوات الشرط الجازمۃ وإعرابھا

التَّمرِينُ (ا)

كَيْفَ تُعْرَبُ أَدَوَاتُ الشَّرْطِ فِي الْأَمْثِلَةِ الْآتِيَةِ :

(۱) أيّ خَطَاءٍ تُخْطِئۡ فَعَلَيْكَ إِصْلَاحُهُ

(۲) مَتَى يَأْتِي فَصْلُ الصَّيْفِ يَنْضَجِ الْعِنَبُ .

(۳) أَيَّانَ يَكُنِ الْجِسْمُ سَقِيماً فَالْعَقْلُ لَا يَقْوَى عَلَى عَمَلِهِ .

(۴) كَيْفَمَا يَكُنِ الْعُودُ يَكُنْ ظِلُّهُ .

(۵) أَيَّان يَكْثُر فَرَاغَ الشُّبَّانِ يَكْثُرۡ فَسَادُهُمُ .

(۲) مَا تُقَدِّمۡ مِنْ خَيْرٍ أَوْ شَرِّ تُجْزَ بِهِ .

(۷) مَنْ لَمْ يَذُدۡ عَنْ حَوْضِهِ يُهَدَّم .

(۸) مَنْ يَفْعَلِ الْخَيْرَ لَا يَعْدَمْ جَوَازِيَه .

التَّمْرِين (۲)

اسْتَعْمِلۡ ادَوَاتِ الشَّرْطِ الْآتِيَةِ فِي جُمَلٍ مُفِيدَةٍ ثُمَّ بَيِّنۡ مَوَاقِعَهَا مِنَ الْإِعْرَابِ.

أيّانَ كَيْفَمَا أيُّ مَهْمَا مَا مَتَیٰ مَنْ أنَّيٰ

التَّمْرِينُ(۳)

۱)إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا حَالاً .

۲) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا خبرالفعل الشرط

۳) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَاظرف زمان لفعل الشرط

۴) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا ظرف مکان لخبر فعل الشرط

۵) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا مفعولا مطلقا

۶) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَامبتدأ۔

۷) إِيْتِ بِمِثَالَيْنِ تُعْرَبُ اَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا مفعولابہ

التمرين:(۴)

اشْرَحِ الْبَيْتَ الْآتِي وَأَعْرِبۡهُ :

مَنْ كَانَ فَوْقَ مَحَلَّ الشَّمْسِ مَوْضِعُهُ

فَلَيْسَ يَرْفَعُهُ شَيْءٌ وَلَا يَضَعُ

أدوات الشرط التی لا تجزم

التَّمْرِينُ (۱)

بَيِّن مَا فِي الْعِبَارَاتِ الْآتِيَةِ مِنْ اَدَوَاتِ الشَّرْطِ الْجَازِمَةِ وَغَيْرِ الْجَازِمَةِ، وَعَيِّنْ جُمْلَةَ الشَّرْطِ وَجُمَلَةَ الْجَوَابِ فِي كُلِّ مَوْضِعِ .

(۱) قَالَ عُمَرُ بْنُ عُتْبَةَ : لَمَّا بَلَغْتُ خَمْسَ عشرة سَنَةً قَالَ لِي أَبِي : يَا بُنَيَّ ، قَدْ تَقَطَّعَتْ عَنكَ شَرَائِع الصِّبَا ، فَالْزِمِ الْحَيَاءَ تَكُن مِنْ أَهْلِهِ، وَلَا يَغُرَّنَّكَ مَنْ مَدْحَكَ بِمَا تَعْلَمُ غَيْرَهُ مِنْ نَفْسِكَ ، فَإِنَّهُ مَنْ قَالَ فِيْكَ مِنَ الْخَيْرِ مَا لَمْ يَعْلَمُ إِذَا رَضِيَ ، قَالَ فِيْكَ مِنَ الشَّرِ مثْلُهُ إِذَا سَخِطَ .

(۲) قَالَ بَعْضُ الْحُكَمَاءِ : ثَلاثٌ مُهْلِكَاتٌ وَثَلاتٌ مُنْجِيَاتٌ ، فَأَمَّا :- الْمُهْلِكَاتُ فَشُحٌّ مُطَاعٌ ،وھوی متبع، وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ وَأَمَّا الْمُنْجِيَاتُ فَخَشْيَةُ الله فِى السِّرِ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَصْدُ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ ، وَالْعَدْلُ فِي الرِّضَاءِ وَالْغَضَبِ.

(۳) مَنْ اسْتَخَفَّ بِالصَّدِيقِ ذَهَبَتْ مَوَدَّتُهُ .

(۴) إِذَا أَقْبَلَتِ الدُّنْيَا عَلَى إِنْسَانٍ أَعَارَتْهُ مَحَاسِن غَيْرِهِ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ عَنْهُ سَلَبَتْهُ مَحَاسِنَ نَفْسِهِ .

(۵) لَوْمَا الْمَدَارِسُ لأَزْدَحَمَتِ السُّجُونُ .

(۶) مَنْ حَفَرَ حَفِيرًالِاخِيهِ كَانَ حَتْفُهُ فِيهِ .

(۷) لَوْلَا الْعِلْمُ مَا تَقَدَّمَ الْعُمْرَانُ ، وَلَوْلاَ التَّجَارِبُ لَمْ يَسْتَفِدْ إِنْسَانٌ .

(۸) اِسْتَحِ مِنْ ذَمِّ مَنْ لَوْ كَانَ حَاضِرًا لَبَالَغْتَ فِي مَدْحِهِ ، وَمَدْحِ مَنْ لَوْ كَانَ غَائِباً لَسَارَعۡتَ إِلَى ذَمِّهِ .

(۹) إِنْ يَكُنِ الشُّغلُ مَجْهَدَةً فَإِنَّ الْفَرَاغَ مَفْسَدَةٌ .

(۱۰) كُلَّمَا كَثُرَتْ خُزَّانَ الْأَسْرَارِ زَادَتْ ضِيَاعاً .

(۱۱) لَمَا ظَفِرَ الْمَامُونُ بِإِبْرَاهِيمِ بنِ الْمَهْدِي اسْتِشَارَ فِيهِ وَزِيرُهُ ، فَقَالَ الْوَزِيرُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِنْ قَتَلْتَهُ فَلَكَ نُظَرَاءُ ، وَإِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ فَمَا لَكَ مِنْ نَظِيرٍ.

التَّمْرِين:(۲)

اَتْمِمِ الْجُمَلَ الشَّرْطِيَةَ بِوَضْعَ جَوَابِ الشَّرْطِ الْمَحْذُوفِ :

(۱) لَولَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ .

(۲) لَو اِشْتَغَلَ كُلُّ إنْسَانٍ بِمَا يَعْنِيْهِ..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۳) أمَّا الأهْرَامُ ... ....

(۴) كُلَّمَا زَارَنِي صَدِيْقٌ .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۵) إذَا أكْثَرْتَ عِتَابَ الصَّدِيْقِ . ....

(۶) لَوْمَا الجَوْرُ وَقِلَّةُ الإنْصَافِ ۔۔۔۔۔۔

(۷) لَمَّا حُفِرَتْ تُرْعَةُ السُّوَيْسِ ....

(۸) لَوْلَا القِصَاصُ.۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(۹) إذَا عَدَلَ السُّلْطَانُ .۔۔۔۔۔۔۔

(١٠) كُلَّمَا أغْرَقَ النَّاسُ فِي التَّرَفِ ....

(۱۱) لَمَّا فَتَحَ عَمْرُو بْنِ العَاصَ مِصْرَ ......

(۱۲) لَو تُعْنَى كُلُّ أمٍّ بِتَهْذِيْبِ أبْنَائِهَا .۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التَّمْرِينُ (۳)

أَتُمِمِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ بِوَضْعِ جُمُلَةِ الشَّرْطِ الْمَحْذُوفَةِ .

(۱) لَوْلَا ..... مَا تَمَتَّعَ الأغْنِيَاءُ

(۲) إذَا ..... فَسَلْ مَا يُسْتَطَاعُ

(۳) لَو ...... مَا نَدِمْتَ

(۴) لَوْمَا ..... مَا جَرَتِ الأنْهَارُ

(۵) لَمَّا .... زَادَ انْتِشَارُ العِلمِ

(۶) لَوْ ...... لَاسْتَرَاحَ فِيْ كِبَرِهِ

(۷) كُلَّمَا ...... زَادَتْ ثِقَةُ النَّاسِ بِهِ

(۸) لَوْ ...... مَا أحَبتْهُ رَعيتُهُ

(۹) كُلَّمَا ...... اِبْتَهَجَ النَّاسُ

(١٠) لَمَّا .... تَقَدَّمَ العُمْرَانُ

التَّمْرِينُ (۴)

كَوِّ ن سَبْعَ جُمَلٍ شَرْطِيَةٍ تَبْتَدِئُ كُلُّ مِنْهَا بِاَدَاةِ شَرْطٍ غَيْرِ جَازِمَةٍ ، وَاسْتَوْفِ الْآدَوَاتِ الَّتِي لَا تَجْزِمُ .

التَّمْرِينُ ۵

(۱) هَاتِ جُمْلَتَيْنِ شَرْطِيَّتَيْنِ يَمْتَنِعُ الْجَوَابُ فِي كُلِّ مِنْهُمَا لِامْتِنَاعِ الشَّرْطِ.

(۲) هَاتِ جُمُلَتَيْنِ شَرْطِيَّتَيْنِ يَمْتَنِعُ الْجَوَابُ فِي كُلِّ مِنْهُمَا لِوُجُودِ الشَّرْطِ .

(۳) هَاتِ جُمُلَتَيْنِ شَرْطِيَتَيْنِ تَدْخُلُ أَدَاةُ الشَّرْطِ فِي كُلِّ مِنْهُمَا عَلَى فِعْلٍ مُقَدَّرٍ .

تَمْرِينٌ فِي الْإِعْرَاب (۶)

(۱)نموذج ۔

(۱) لَوْلَا الشَّمْسُ مَا أَضَاءَ الْقَمَرُ .

لولا .... حَرْفُ امْتِنَاعِ لِوُجُودِهِ وَهِيَ آدَاةُ شَرُطٍ غَيْرُ جَازِمَةٍ ..

الشمس ..... مُبْتَدَأَ خَبَرُهُ مُحْذُوفٌ وُجُوباً وَهُمَا جُمْلَةُ الشَّرْطِ .

ما .... نَافِيَةٌ

أضاء ... فعل ماض .

القمر .... فَاعِلٌ وَالْجُمْلَةُ مِنَ الْفِعْلِ وَالْفَاعِلُ جَوَابُ الشَّرْطِ .

(ب) أَعْرِبِ الْأَمْئِلَةَ الْآتِيَةَ .

(۱) إِذَا مَرِضْتَ فَاسْتَشِرِ الطَّبِيبَ .

(۲) لَوْلا الْعَقْلُ لَكَانَ الْإِنْسَانُ كَالْحَيَوَان ..

(۳) كُلَّمَا ذَهَبَ جِيْلٌ جَاءَ غَيْرُهُ .

(۴) لَوِ احْتَرَمْتَ النَّاسَ لَاحْتَرَمُوْكَ .

التَّمْرِينُ (۷)

اشْرَحْ أَحَدَ الْأَبْيَاتِ الآتِيَةِ وَأَعْرِبْهُ :

وَلَمْ أَرَ كَالْمَعْرُوفِ أَمَّا مَذَاقُهُ فَحُلْوٌ وَأَمَّا وَجُهُهُ فَجَمِيلٌ

لَوْلا العُقُولُ لَكَانَ أَدْنَى ضَيْغَمٍ أَدْنَى إِلى شَرَفٍ مِنَ الإِنْسَانِ

إِذَا مَرَّ بِي يَوْمٌ وَلَمْ اتَّخِذْ يَدَاً وَلَمْ اسْتَفِدْ عِلْمًا فَمَاذَاكَ مِنْ عُمُرِي

43 تیسیر النحو۔ سبق:۲۷

أسئلة

۱۔ عرف اسم الشرط مع التثميل.

٢- اذكر أسماء الشرط.

۳۔ اذكر المحل الإعرابي لكل من أسماء الشرط وأمثلته ستأتي تدريبات في دراسة جزم الفعل المضارع)

44 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

45 اسماء استفھام

استفہام کے اسماء: وہ اسماء ہیں جن کا استعمال کسی سوال یا استفسار کے لیے کیا جاتا ہے۔ ان اسماء کے ذریعے بولنے والا کسی بات کی وضاحت یا معلومات طلب کرتا ہے۔ استفہام کے اسماء عام طور پر جملے کے آغاز میں آتے ہیں اور ان کا مقصد جملے میں کسی معلومات یا خبر کی غیر موجودگی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔

استفہام کے معروف اسماء:

من: یہ اسم عاقل (انسان) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے کسی شخص کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔

مثال:من أنت؟ (تم کون ہو؟) , من جاء اليوم؟ (آج کون آیا؟)

ما: یہ اسم غیر عاقل (چیز یا جانور) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی چیز کی وضاحت یا تفصیل معلوم کرنے کے لیے سوال کیا جاتا ہے۔

مثال: ما هذا؟ (یہ کیا ہے؟) , ما تأكل؟ (تم کیا کھا رہے ہو؟)

ماذا: یہ بھی "ما" کی طرح غیر عاقل کے لیے استعمال ہوتا ہے، لیکن زیادہ تر اسے فعل کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

مثال: ماذا تفعل؟ (تم کیا کر رہے ہو؟) , ماذا تريد؟ (تم کیا چاہتے ہو؟)

أين: یہ اسم مکان (جگہ) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی جگہ کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

مثال: أين تسكن؟ (تم کہاں رہتے ہو؟) , أين الكتاب؟ (کتاب کہاں ہے؟)

متى: یہ اسم زمان (وقت) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور وقت کے بارے میں سوال کرنے کے لیے آتا ہے۔

مثال: متى تسافر؟ (تم کب سفر کرو گے؟) , متى جاء محمد؟ (محمد کب آیا؟)

كيف: یہ اسم کیفیت (حال یا حالت) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی چیز یا شخص کی حالت یا کیفیت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔

مثال: كيف حالك؟ (تمہاری حالت کیسی ہے؟) , كيف وصلت إلى هنا؟ (تم یہاں کیسے پہنچے؟)

أيان: یہ اسم بھی زمان (وقت) کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن زیادہ تر مستقبل کے بارے میں سوالات میں آتا ہے۔

مثال: أيان تقوم الساعة؟ (قیامت کب آئے گی؟)

كم: یہ عدد (گنتی) کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی چیز کی مقدار یا تعداد معلوم کرنے کے لیے سوال کیا جاتا ہے۔

مثال: كم كتاباً قرأت؟ (تم نے کتنی کتابیں پڑھیں؟) , كم عمرك؟ (تمہاری عمر کتنی ہے؟)

أي: یہ اسم انتخاب کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس سے مختلف آپشنز میں سے کسی ایک کا انتخاب یا وضاحت طلب کی جاتی ہے۔

مثال: أي كتاب تفضل؟ (تمہیں کون سی کتاب پسند ہے؟) , أي يوم ستأتي؟ (تم کون سے دن آؤ گے؟)

لماذا: یہ اسم وجہ معلوم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کسی کام کی وجہ یا سبب معلوم کرنے کے لیے سوال کیا جاتا ہے۔

مثال: لماذا تأخرت؟ (تم کیوں دیر سے آئے؟) , لماذا لم تذهب؟ (تم کیوں نہیں گئے؟)

استفہام کے اسماء کے اعراب: استفہام کے اسماء کا اعراب ان کے جملے میں مقام کے لحاظ سے ہوتا ہے، یعنی یہ مبتدا، مفعول به، ظرف، یا کسی اور حالت میں آ سکتے ہیں۔ یہ اسماء جملے میں مختلف مواقع پر مختلف حالات کے مطابق آتے ہیں:

من: مبتدا یا مفعول به کی حالت میں آ سکتا ہے۔

ما: مبتدا یا مفعول به کی حالت میں آ سکتا ہے۔

أين: ظرف مکان ہوتا ہے۔

متى: ظرف زمان ہوتا ہے۔

كيف: حال کی حالت میں آتا ہے۔

استفہام کے اسماء سوال کرنے کے بنیادی ذرائع ہیں اور ان کی مدد سے مختلف اقسام کے سوالات کیے جا سکتے ہیں، چاہے وہ شخص کے بارے میں ہوں، جگہ، وقت، حالت، یا مقدار کے بارے میں ہوں۔

46 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۷

أدوات الاستفهام والجواب: ادوات استفھام اور جواب

(۱) الهمزة وهل: ھمزہ اور ھل

يُسْتَفْهَمُ بِالْهَمْزَةِ وَهَلْ عَنْ مَضْمُونِ الْجُمْلَةِ، وَيَكُونُ الْجَوَابُ بِنَعَمْ أَوْ جَيْرٍ، أَوْ أَجَلٍ إِنْ أُرِيدَ الإِثْبَاتُ وَبِلا إِنْ أُرِيدَ النَّفْيِ.

يُسْتَفْهَمُ بِالْهَمْزَةِ أَيْضًا عَنْ وَاحِدٍ مِنْ شَيْئَيْنِ أَوْ أَشْيَاءِ، وَيَكُونُ الْجَوَابُ حِينَئِذٍ بِالتَّعْيِينِ لَا غَيْرَ.

همزة اور ھل کے ذریعے مضمون جملہ کے متعلق پوچھا جاتا ہے اور اس کا جواب بصورت اثبات نعم ، جیر یا اجل سے دیا جاتا ہے اور بصورت نفی ”لا“ سے۔

همزة کے ذریعے کبھی دو یا زیادہ چیزوں میں سے ایک کو متعین کرانے کے بارے میں استفہام ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا جواب صرف تعین کرنے سے دیا جاتا ہے۔

الامثلة

(۱) أَطَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟

(٢) أَعَادَ الرَّسُولُ ؟

(۳) أَيَذُوبُ الحَدِيدُ في النَّارِ ؟

(٤) أَعَلِيٌّ مُسَافِرٌ أَمْ حَسَنٌ ؟

(٥) أَرَاكِبًا جِئْتَ أَمْ مَاشِياً ؟

(٦) أَصَبَاحًا حَضَرْتَ أَمْ مَسَاء ؟

(۱) هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟

( ۲ ) هَلْ عَادَ الرَّسُولُ ؟

(٣) هَلْ يَذُوبُ الحَدِيدُ في النَّارِ ؟

(٤) هَلْ عَلِيٌّ مُسَافِرُ ؟

(٥) هَلْ جِئْتَ رَاكِبًا ؟

(٦) هَلْ حَضَرْتَ صَبَاحًا ؟

(۲) بقية أدوات الاستفهام: بقیہ ادوات استفھام

للاستفهامِ أَدَواتٌ أُخْرَى غَيْرَ الهمزةِ وَهَلْ، وَمِنْ أَشْهَرِهَا مَا يَأْتِي:

مَن... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ العُقَلَاءِ.

مَا... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ غَيْرِ العُقَلَاءِ.

مَتَى... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ الزَّمَانِ.

أَيْنَ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ المَكَانِ.

كَيْفَ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ الحَالِ.

كَمْ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ العَدَدِ.

أَيُّ... وَيُسْأَلُ بِهَا عَنْ جَمِيعِ مَا تَقَدَّمَ.

إِذَا كَانَتْ أَدَاةُ الاستفهامِ فِي الجُمْلَةِ وَاحِدَةً مِنَ الأَدَوَاتِ السَّبْعِ المَذْكُورَةِ هُنَا، كَانَ الجَوَابُ بِتَعْيِينِ المَسْئُولِ عَنْهُ.

همزة اور ھل کے علاوہ استفہام کے کچھ دیگر ادوات بھی ہیں جن میں سے مشہور یہ ہیں:

من.... عاقل کے لئے

ما .... غیر عاقل کے لئے

متی ..... زمان کے لئے

این ...... مکان کے لئے

كيف ...... حالت کے لئے

کم ..... عدد کے لئے

ای ..... مذکورہ بالا سب کے لئے

جب کسی جملے میں ان سات ادوات استفہام میں سے کوئی ایک آجائے تو اس کا جواب اس طرح دیا جائے گا کہ مسئول عنہ کو متعین کر دیا جائے۔

الامثلة

(۱) مَنْ هَذا الرَّجُلُ ؟

(۲) مَنِ اخْتَطَ القَاهِرَةَ ؟

(۳) ما الذي بِيَدِكَ ؟

(٤) مَا تَفْعَلُ بِمِبۡرَاتِکَ؟

( ٥ ) متى يجنى القُطْنُ ؟

(٦) مَتَى يُزْرَعَ القَصَبُ ؟

(٧) أَيْنَ دَارُكُمْ ؟

(۸) أَيْنَ يَجْتَمِعُ إِخوانُكُمْ ؟

الاستفهام والنفي معا: استفھام اور نفی ایک ساتھ

الجُمَلُ الاستفهاميَّةُ المنفيَّةُ هي المصدَّرةُ بِأَدَاةِ استفهامٍ متبوعةٍ بِأَدَاةِ النَّفيِ مُباشَرَةً.

جَوابُ الجُمَلِ الاستفهاميَّةِ المنفيَّةِ يَكُونُ بِلفظِ "بَلَى" في حالِ الإِثْبَاتِ وَبِلفظِ "نَعَمْ" في حالِ النَّفْيِ.

استفہامیہ منفی جملے وہ ہیں جن کی ابتداء میں اداۃ استفہام آیا ہو اور اس کے ساتھ حرف نفی مل کر(متصل) آیا ہو۔

استفہامیہ منفیہ جملوں کا جواب اثبات کی صورت میں لفظ ”بلی“ سے اور نفی کی صورت میں لفظ "نعم" سے دیا جاتا ہے۔

الامثلة

(۱) أَلَمْ تَرَ حَدِيقَتَنَا ؟

(٢) أَلَا تُحِبُّ الإقامة في القُرَى ؟

(۳) أَلَيْسَ القُطْنُ عِمَادَ الثرْوَةِ فِي مِصْرَ ؟

(٤) أَلَيْسَتْ مِصْرُ مَهْبِطَ السُّيَاحِ ؟

47 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۷

ادوات الاستفهام

عربی میں استفہام کے لئے متعدد حروف آتے ہیں جن میں سے چند مشہور یہ ہیں: همزة - هَل مَنْ - مَا - مَتى - أين - كَيْفَ - كَمْ - أَيُّ

(۱) ہمزہ اور ھل سے نفس مضمون جملہ کے متعلق سوال کیا جاتا ہے ، جیسے: أأكلت الطَّعام يا هل أكلت الطعام؟ کیا تو نے کھانا کھایا ؟ اس کا جواب نعم یا لا کے ساتھ دیا جائے گا۔

(۲) ہمزہ کبھی دو چیزوں میں ایک کی تعیین کے لئے بھی آتا ہے۔ جیسے : أزيد جاء ام محمود ؟ اس کا جواب تعیین کے ساتھ ہوگا ۔

(۳) بقیہ حروف جو حسب ذیل معانی کے لئے آتے ہیں ان کا جواب بھی تعیین ہی کے ساتھ آئے گا۔

(۴) من (کون) ذوی العقول کے لئے آتا ہے جیسے : من هذا یا زید (یہ کون شخص ہے ؟ )

(۵) ما (کیا چیز)، غیر ذوالعقول کے لئے آتا ہے۔ جیسے : ما هذا؟ (یہ کیا چیز ہے؟)

(۶) متی (کب)، یہ زمانے کے لئے آتا ہے جیسے : متى جئت (تم کب آئے ؟)

(۷) این (کہاں؟) یہ مکان اور جگہ کے لئے آتا ہے ، جیسے : أَین تَذْهَبُ؟ (کہاں جاتے ہو ؟)

(۷)کیف (کیا، کس طرح) حالت و کیفیت کے لئے آتا ہے۔ جیسے کیف انتتم (کیسے ہو؟)

(9) کم ( کتنا، کے) عدد کے لئے آتا ہے جیسے کم اخالك ؟ (تمھارے کتنے بھائی ہیں؟)

(۱۰) أیُّ (كون ، کیا چیز؟ کہاں)، وغیرہ تمام معانی مذکورہ کے لئے۔

(۱۱) لِمَ (کیوں ، کیونکہ) یہ ما پر لام داخل کر کے بنایا گیا ہے۔ لِمَ کی طرح اور دوسرے حروف پر بھی حرف جار داخل کر کے اس سے کچھ مختلف معانی پیدا کر لئے جاتے ہیں۔ جیسے : لمن (کس کا، کس کے لئے وغیرہ)

من این (کہاں سے؟) إلى أين (کدھر، کس طرف ، کس جگہ یا کہاں تک)

حتى متى (کب تک)

بکم روبیة کتے روپے میں، في كم يوم ، کتے دن میں منذ یوم کے دن سے، وغیرہ۔

نوٹ : کم استفهامیه کے بعد لفظ عموما مفرد (واحد) اور منصوب ہوتا ہے جیسے کم روبية، كم پر جب حروف جارہ داخل ہو جائیں تو وہ اسم مجرور بھی ہوسکتا ہے اور منصوب بھی۔ اوپر کی مثالوں پر غور کرو ۔

ایُّ مضاف ہوتا ہے اس لئے اس کے بعد کا اسم مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرورہوتا ہے جیسے آیُّ كِتَابٍ تقرأ تو کون سی کتاب پڑھتا ہے)

(استفهام و نفی ایک ساتھ)

پچھلے سبق میں جتنے جملے لکھے گئے ہیں وہ سب مثبت استفہام پرمشتمل تھے۔ اب ہم کچھ چھلے منفی استفہام کے لکھتے ہیں۔ ذیل کی مثالیں دیکھو۔

(1) ألیس محمود خطيبا ؟ کیا محمود مقرر نہیں ہے ؟

بلى هوخطيب بارع (کیوں نہیں، وہ ایک اچھا مقرر ہے) یا نعم هو لیس بخطیب (ہاں وہ مقرر نہیں ہے)

(٢) ألا تسافر معی (کیا تو میرے ساتھ سفر نہیں کرے گا ؟)

بلى لأسافرن معک (کیوں نہیں میں آپ کے ساتھ ضرور سفر کروں گا يا نعم لا اسافر (ہاں، میں نہیں سفر کروں گا)

(۳) الم تكتب إلى ابی ؟ (کیا تو نے اپنے والد کو خط نہیں لکھا)، بلى قد كتبت الیک (کیوں نہیں، میں نے انھیں خط لکھا ہے)

یا نَعَمْ مَا كتَبْتُ إِلَيْهِ مُند شہر (ہاں، میں نے ایک ماہ سے انہیں خط نہیں لکھا ہے)

ان مثالوں سے تم نے مثبت اور منفی استفہام کا فرق سمجھ لیا ہوگا۔ پھر تم نے یہ بھی سمجھا ہوگا کہ منفی استفہام کا جواب اثبات کی صورت میں بلیٰ (ہاں کیوں نہیں) کے ساتھ اور نفی کی صورت میں نعم کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

48 تیسیر النحو۔ سبق:۲۸

أسماء الاستفهام

اسم مبني يستعمل للسؤال عن شيء ماء نحو من جاءك ؟ أسماء الاستفهام : من ، ما متى، أين، أني، أيان، كم، كيف، أي

معاني أسماء الاستفهام:

من: (للعاقل) مثل: من أكرمك ؟

ما (لغير العاقل) مثل: ماهي الكتب التي استفدت منها ؟

متي (الزمان) مثل : متى حضرت؟

أين (للمكان) مثل : أين يقع بيتك ؟

أيان: (الزمان) مثل قوله تعالى: أيان يوم القيامة)

كم: (للعدد) مثل : كم كتابا قرأت ؟

كيف : ( للحال) مثل: كيف جاء خالد ؟

أني (تكون بمعنى كيف) مثل قوله تعالى : أنى يحيي هذه الله بعد موتها وتكون بمعنى: من أين مثل قوله تعالى: يا مريم أنى لك هذا وتكون بمعنى "متى " مثل: أني وصلت ؟

المحل الإعرابي لأسماء الاستفهام:

أسماء الاستفهام ما عدا "أي" مبنية، ويكون لها محل من الإعراب حسب موقعها في الجملة فـ " من ، وما، وكم تكون في محل رفع أو نصب أو جر مثل: من جاءك (من مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) ومن ضربت من مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم) إلى من أرسلت خالدا ( من مبني على السكون في محل جر مجرور ومثل ما سرك ؟ (ما: اسم استفهام مبني على السكون في محل رفع مبتدأ) وما تأكل ؟ (ما في محل نصب مفعول به مقدم ألام تنظر أصله إلى ما حذفت ألف "ما لدخول حرف الجر عليه، م: في محل جر مجرور) وهكذا : كم كتابا عندك ؟ وكم كتابا قرأت ؟ ومن كم كتابا استفدت؟

و متى" و"أيان" و "أين تكون في محل نصب على الظرفية، كما سبقت أمثلتها في معاني أسماء الاستفهام و متى وأين تكونان في محل جر وقت دخول حرف الجر عليهما نحو إلى متى تتكاسل ؟ وإلى أين تذهب ؟ وكيف تكون في محل نصب على الحالية وسبق مثالها أيضا، و"أني " تكون في محل نصب على الحالية إذا كانت بمعنى كيف وعلى الظرفية إذا كانت بمعنى " من أين" أو "متى" وسبقت أمثلتها أيضا.

أي: تكون معربة حسب موقعها في الجملة مثل : أي كتاب عندي ؟ وأي كتاب قرأت ؟

أسماء الاستفهام لها صدر الكلام، ويجوز أن يسبقها حرف جر كما سبق مثاله.

سبب بنائها أنها تشبه همزة الاستفهام في المعنى.

اسماءاستفہام:

تعریف: استفہام کے اسماء وہ اسماء ہیں جو کسی چیز کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے:

مثال:"من جاءك؟" (تمہارے پاس کون آیا؟)

اسماءاستفہام :

من: (عاقل کے لیے) مثال: "من أكرمك؟" (تمہیں کس نے عزت دی؟)

ما: (غیر عاقل کے لیے) مثال: "ما هي الكتب التي استفدت منها؟" (وہ کون سی کتابیں ہیں جن سے تم نے فائدہ اٹھایا؟)

متى: (زمان کے لیے) مثال: "متى حضرت؟" (تم کب آئے؟)

أين: (مکان کے لیے) مثال: "أين يقع بيتك؟" (تمہارا گھر کہاں ہے؟)

أيان: (زمان کے لیے) مثال: اللہ کا فرمان "أيان يوم القيامة؟" (قیامت کا دن کب ہوگا؟)

كم: (عدد کے لیے) مثال: "كم كتابا قرأت؟" (تم نے کتنی کتابیں پڑھیں؟)

كيف: (حال کے لیے) مثال: "كيف جاء خالد؟" (خالد کیسے آیا؟)

أني: یہ "کیسے" کے معنی میں آتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان "أنى يحيي هذه الله بعد موتها" (اللہ اس کو موت کے بعد کیسے زندہ کرے گا؟)

یہ "کہاں سے" کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے اللہ کا فرمان "يا مريم أنى لك هذا؟" (اے مریم، تمہارے پاس یہ کہاں سے آیا؟)

یہ "کب" کے معنی میں بھی آتا ہے، جیسے: "أني وصلت؟" (تم کب پہنچے؟)

اسماءاستفہام کا محل اعراب:

اسماءاستفہام (سوائے "أي" کے) مبنی ہوتے ہیں اور ان کا اعراب ان کے جملے میں مقام کے لحاظ سے ہوتا ہے:

من، ما، كم: یہ مبتدا، مفعول به، یا مجرور کے مقام پر آ سکتے ہیں، جیسے:

"من جاءك؟" (من: مبتدا، محل رفع)

"من ضربت؟" (من: مفعول به، محل نصب)

"إلى من أرسلت خالدا؟" (من: مجرور، محل جر)

اسی طرح "ما" اور "كم" کا بھی یہی اعراب ہوتا ہے۔

متى، أين، أيان: یہ زمان یا مکان کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور ان کا محل اعراب ظرف کے طور پر ہوتا ہے، جیسے:

"متى حضرت؟" (متى: ظرف زمان)

"أين تذهب؟" (أين: ظرف مکان)

كيف: یہ حال کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اس کا اعراب حال کے طور پر ہوتا ہے، جیسے:

"كيف جاء خالد؟" (كيف: حال)

أني: اگر یہ "کیسے" کے معنی میں ہو تو حال کے طور پر، اور اگر "کہاں سے" یا "کب" کے معنی میں ہو تو ظرف کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

أي کا اعراب: أي معرب ہوتا ہے اور اس کا اعراب جملے میں اس کے مقام کے مطابق ہوتا ہے، جیسے:

"أي كتاب عندك؟" (أي: مبتدا، محل رفع)

"أي كتاب قرأت؟" (أي: مفعول به، محل نصب)

اسماءاستفہام جملے کے آغاز میں آتے ہیں اور کبھی کبھار ان سے پہلے حرف جر بھی آ سکتا ہے، جیسے: "إلى متى تتكاسل؟" (تم کب تک سستی کرو گے؟)

سبب بناء:

یہ اسماء "همزة الاستفهام" (استفہام کی ہمزہ) کی طرح معنی میں سوال ظاہر کرنے کی وجہ سے مبنی ہوتے ہیں۔

49 تمارین

50 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۱۷

اَلتَّمْرِيْنُ (97)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَيَذْهَبُ مَحْمُوْدٌ اِلىَ جُنَيْنَةِ الْحَيَوَانَاتِ.

(2) هَلْ رَاَيْتَ مُتْحَفَ لَكْنَؤَ؟

(3) هَلْ تَسْكُنُ فِي دَارِ الْاِقَامَةِ؟

(4) اَاَنْتَ قُلْتَ هَذَا اَمْ اَخُوْكَ؟

(5) اَتَاْكُلُ الْفُطُورَ قَبْلَ السَّابِعَةِ صَبَاحًا؟

(6) مَا تَاْكُلُ فِي الْفُطُوْرِ صَبَاحًا؟

(7) مَنْ كَانَ عِنْدَكَ اَمْسِ؟

(8) مَنْ يَسْكُنُ فِي هَذِهِ الْغُرْفَةِ.

(9) مَتَى تُغْلَقُ مَدْرَسَتُكُمْ لِعُطْلَةِ الصَّيْفِ.

(10) اَيْنَ تَجْتَمِعُوْنَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ؟

(11) فِي اَيِّ صَفٍّ تَقْرَاُ اَنْتَ.

(12) كَمْ تِلْمِيْذًا يَقْرَاُ فِي صَفِّكَ.

اَلتَّمْرِيْنُ (98)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) کیا تمہارے والد دلی جا رہے ہیں؟

(۲) کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟

(۳) کیا تم دونوں درجہ سوم میں پڑھتے ہو؟

(۴) کیا خالد شہر میں رہتا ہے یا دارالاقامہ میں؟

(۵) کیا آپ چاول کھاتے ہیں یا روٹی؟

(۶) آپ شام کے کھانے میں کیا کھاتے ہیں؟

(۷) محمود اپنے والد کو کیا لکھ رہا ہے؟

(۸) زمین اور آسمان کو کس نے پیدا کیا؟

(۹) آسمان سے بارش کون برساتا ہے؟

(۱۰) تم دونوں اپنے گھر کب جاؤ گے؟

(۱۱) یہ لڑکیاں کہاں پڑھتی ہیں؟

(۱۲) پہلے گھنٹہ میں کون سی کتاب پڑھتے ہو؟

(۱۳) تمہارے درجہ میں کتنی کتابیں پڑھائی جاتی ہیں؟

(۱۴) دارالاقامہ میں کتنے طلبہ رہتے ہیں؟

اَلتَّمْرِيْنُ (99)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) كَمْ رَكْعَةً تُصَلِّي فِي الْمَغْرِبِ؟

(2) فِي كَمْ دَقِيْقَةً تَقْضِي صَلاَتَكَ؟

(3) فِي كَمْ يَوْمٍ وَصَلْتَ اِلىَ بَمبَايَ؟

(4) مُنْذُ كَمْ عَامٍ تَتَعَلَّمُ فِي هَذِهِ الْمَدْرَسَةِ؟

(5) بِكَمْ رُوْبِيَّةً اشْتَرَيْتَ الْحِذَاءَ؟

(6) لِمَ ضَرَبْتَ هَذَا الْوَلَدَ؟

(7) اِلىَ اَيْنَ تَقْصِدُ يَا مَحْمُوْدُ؟

(8) مِنْ اَيْنَ اشْتَرَيْتَ هَذَا الْقَلَمَ؟

(9) بِاَيِّ شَيء يُقطعَ الْخَشَبُ؟

(10) مِنْ اَيِّ شَيءِ تُصْنَعُ الْاَحْذِيَةُ؟

(11) اِلىَ اَيِّ سَاعَةِ تَرْجِعُ مِنَ السُّوْقِ؟

(12) حَتَّى مَتَى اُكَابِدُ تِلْكَ الْمَصَائِبَ؟

اَلتَّمْرِيْنُ (100)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) تمہاری کتاب میں کتنے صفحے ہیں؟

(۲) اس کتاب میں کتنی مشقیں ہیں؟

(۳) یہ جہاز کَے دن میں جدہ پہونچے گا؟

(۴) کَے گھنٹے میں تو نے یہ کتاب پڑھی؟

(۵) کتنے روپیے میں تو نے یہ گھڑی خریدی؟

(۶) کتنے دام میں میز بیچو گے؟

(۷) کاغذ کس چیز سے (کا) بنایا جاتا ہے؟

(۸) زمین کس چیز سے جوتی جاتی ہے؟

(۹) آپ لوگ اس وقت کہاں جا رہے ہیں؟

(۱۰) یہ گھر کس کا ہے اور اس میں کون رہتا ہے؟

(۱۱) کل مدرسہ سے تم دونوں کیوں غیر حاضر رہے؟

(۱۲) آپ لوگ کب تک مصر سے واپس آئیں گے؟

(۱۳) کے بجے تک میں تمہارا انتظار کروں؟

(۱۴) کتنے سال سے تم اس گھر میں رہتے ہو؟

اَلتَّمْرِيْنُ (101)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) هَلْ هَذِهِ الْقَلَنْسُوَةُ سَوْدَاءُ؟

(2) لاَ، بَلْ هِيَ حَمْرَاءُ؟

(3) هَلْ هَذْا الْحِذَاءُ اَحْمَرُ؟

(4) لَا، بَلْ هُوَ اَسْوَدُ!

(5) هَلْ هَذَانِ الْقَمِيْصَانِ اَصْفَرَانِ؟

(6) لَا، بَلْ هُمَا اَبْيَضَانِ.

(7) هَلْ هَذَانِ الرَّجُلَانِ اَخَوَانِ؟

(8) هَلْ هَاتَانِ الْبَقَرَتَانِ بَيْضَاوَانِ؟

(9) لاَ ، بَلْ هُمَا صَفْرَاوَانِ!

(10) أَهٰذِهِ الْبَقَرَاتُ سُوْدٌ؟

(11) لاَ، بَلْ هِيَ صُفْرٌ!

(12) اَهٰذَا ابْنُ عَمِّكَ اَمْ ذَاكَ

(13) نَعَمْ هٰذَا ابْنُ عَمِّي وَذَاكَ ابْنُ خَالِيْ!

(14) أَهٰؤُلَاءِ مُسَافِروۡمَكَّةَ؟

(15) لَا، بَلْ هُمْ مُمَثِّلُوا الْبِلَاد الْعَرَبِيَّةِ جَمِيْعِهَا!

اَلتَّمْرِيْنُ (102)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) کیا یہ روشنائی سرخ ہے؟

(۲) نہیں، بلکہ یہ نیلی ہے؟

(۳) کیا یہ دوپٹہ زرد ہے؟

(۴) نہیں، بلکہ یہ سبز ہے؟

(۵) کیا یہ ٹوپیاں سفید ہیں؟

(۶) نہیں، بلکہ یہ نیلی ہیں!

(۷) کیا یہ عمامہ نیلا ہے؟

(۸) نہیں، بلکہ وہ سفید ہے!

(۹) کیا یہ دونوں درخت ہرے ہیں؟

(۱۰) ہاں، وہ دونوں ہرے ہیں!

(۱۱) کیا محمود کے دونوں بھائی عالم ہیں؟

(۱۲) ہاں، وہ دونوں عالم ہیں!

(۱۳) کیا یہ لوگ کسی کارخانہ کے مزدور ہیں یا کچھ اور؟

(۱۴) نہیں، یہ لوگ کاشت کار ہیں!

اَلتَّمْرِيْنُ (103)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلاَ تَاْكُلُ الْفَوَاكِهَ يَا مَحْمُوْدُ؟

(2) بَلٰي، آكُلُ الْفَوَاكِهَ بِرَغْبَةٍ جِدًّا.

(3) اَلاَ تُحِبُّ الْاِقَامَةَ عِنْدَنَا يَاخَالِدُ؟

(4) بَليَ، يَاسَيّدي! وَاَنَا اَسْعَدُ بِالْاِقَامَة عِنْدَكُمْ.

(5) أَلاَ تُضِيْعَان وقتَكمَا فِي اللَّعبِ كثيرًا؟

(6) نَعَمْ لاَ نُضِيْعُ اَوْقَاتَنَا كَثِيْرًا فِي اللَّعْبِ.

(7) اَلاَ تَرْضَوْنَ بِحُكْمِ رَسُوْلِ اللهِ صلى الله عليه وسَلَّمَ؟

(8) بَلٰي، نَحْنُ رَاضُوْنَ بِحُكْمِ اللهِ وَرَسُوْلِهِ.

(9) وَاِذْ قَالَ اِبْرَاهِيْمُ رَبِّ اَرِنِي كَيْفَ تُحْيِ الْمَوْتٰى؟

(10) قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ؟ قَالَ بَلىَ وَلَكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِيْ.

(11) كُلَّمَا اُلْقِيَ فِيْهَا فَوْجٌ سَاَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَاْتِكُمْ نَذِيْرٌ؟

(12) قَالُوْا: بَلىَ قَدْ جَاءَنَا نَذِيْرٌ، فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللهُ مِنْ شَيءٍ.

(13) اَلَمْ تَكُنْ تَحْفَظُ دَرْسَكَ يَاسَعِيْدُ؟

(14) نَعَمْ مَا كُنْتُ اَحْفَظُ الدَّرْسَ فَرَسَبْتُ فِي الْاِمْتِحَانِ.

(15) اَلَيْسَ اللهُ بِاَحْكَمِ الْحَاكِمِيْنَ.

(16) بَليَ، وَاَنَا عَلىَ ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِيْنَ!

اَلتَّمْرِيْنُ (104)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) کیا تم ہر روز غسل نہیں کرتے؟

(۲) ہاں کیوں نہیں، میں ہر روز غسل کرتا ہوں!

(۳) کیا تم لوگ اپنے کپڑے خود نہیں دھوتے؟

(۴) نہیں، ہم لوگ سب کپڑے خود سے نہیں دھوتے ہیں۔

(۵) کیا تم دونوں اپنے والدین کا کہنا نہیں مانتے؟

(۶) کیوں نہیں، ہم ان کی اطاعت کرتے ہیں۔

(۷) کیا تم لوگ اپنے اساتذہ کا احترام نہیں کرتے؟

(۸) ہاں کیوں نہیں، ہم ان کا یقینی احترام کرتے ہیں۔

(۹) فاطمہ! کیا تو آج سبق نہیں پڑھے گی؟

(۱۰) جی ہاں میں چاہتی ہوں کہ اپنی خالہ کے گھر جاؤں۔

(۱۱) کیا اللہ نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ نہیں دے گا؟

(۱۲) کیوں نہیں اللہ ان کے اجر کو ہرگز ضائع نہیں فرمائے گا۔

اَلتَّمْرِيْنُ (105)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) کیا تم آج مدرسہ نہیں گئے؟

(۲) ہاں آج میں نے چھٹی لی ہے۔

(۳) کیا وہ بیمار رات بھر نہیں سویا؟

(۴) ہاں، وہ تکلیف کی زیادتی سے رات بھر نہیں سویا۔

(۵) کیا میں نے تم لوگوں کو دوپہر میں نکلنے سے منع نہیں کیا۔

(۶) کیوں نہیں، آپ نے واقعی منع فرمایا تھا، لیکن اس مرتبہ معاف فرما دیں۔

(۷) کیا تمہارے والد سفر سے واپس نہیں آئے؟

(۸) جی ہاں، اب تک واپس نہیں آئے۔

(۹) کیا آپ کو میرا خط نہیں ملا تھا؟

(۱۰) ہاں کیوں نہیں، آپ کا خط واقعی ملا تھا۔

(۱۱) کیا تم نے پچھلے سال شام و عراق کا سفر نہیں کیا تھا؟

(۱۲) ہاں کیوں نہیں، میں نے پورے بلاد عربیہ کی سیاحت کی تھی۔

(۱۳) کیا تم لوگ علی گڑھ کالج میں نہیں پڑھتے تھے؟

(۱۴) نہیں، بلکہ ہم لوگ دارالعلوم ندوہ میں پڑھتے تھے۔

اَلتَّمْرِيْنُ (106)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) یہ گھڑی کس کی ہے؟

(۲) کرسیاں کس چیز کی بنائی جاتی ہیں؟

(۳) تم دونوں کَے بجے سے میرا انتظار کر رہے تھے؟

(۴) حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کس غزوہ میں شہید کیے گئے؟

(۵) کیا تم لوگ درجہ اول میں پڑھتے ہو؟

(۶) نہیں! بلکہ ہم لوگ درجہ دوم میں پڑھتے ہیں؟

(۷) یہ لوگ کہاں جا رہے ہیں؟

(۸) یہ سب ایک دینی جلسہ میں جارہے ہیں تاکہ دین کی باتیں سنیں؟

(۹) کیا وہ مہمان آج شام تک ضرور چلے جائیں گے۔

(۱۰) ہاں وہ لوگ ضرور جائیں گے تاکہ کل صبح گھر پہونچ سکیں۔

(۱۱) کیا تمہارے والد ابھی تک شفایاب نہیں ہوئے؟

(۱۲) نہیں، لیکن میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ جلد ہی شفا بخشے گا۔

(۱۳) کیا تمہارا امتحان ابھی تک ختم نہیں ہوا؟

(۱۴) ہاں اب تک ہمارا امتحان ختم نہیں ہوا ہے۔

(۱۵) کیا اللہ نے اس بات کا حکم نہیں دیا ہے۔

(۱۶) کہ ہم لوگوں کو اچھی باتوں کا حکم دیں اور ان کو برائیوں سے روکیں۔

(۱۷) کیوں نہیں اللہ نے ہم کو اس کا حکم دیا ہے۔

(۱۸) اور ہم اس حکم کی ضرور پیروی کریں گے یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو۔

(۱۹) کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ برائیاں پھیلیں۔

(۲۰) نہیں ہم ہرگز اسے پسند نہیں کریں گے کہ لوگ برائیوں میں مبتلا ہوں۔

51 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۷

التمرين ( ۱)

عين الجمل الاستفهامية فيما ياتى واجب عن كل جملة منها اجابة تناسبها :

ا - اتم بناء الدار

۲۔ هل ينفع الحفظ بلافهم

۳۔ من انباك هذا

۴۔ متى يات الشتاء بكثر البنفسج

۵۔ این تسافر اسافر معک

۶۔ این غرست شجر الكافور

۷۔ كم يوما في السنة

۸۔ كيف اصبحت اليوم

۹۔ ای اخویک اکبر

۱۰۔ افهمت درسک

ا ا من ينفع الناس ينفعوه

۱۲۔ من الطبيب الذي عادك

١٣ ما جاء بك اليوم

۱۴- متى يسافر والدك

۱۵ این تجتمعون هذه الليلة

۱۶۔ ای طریق تسلک اسلک

التمرين (۲)

حول الجمل الاتية الى جمل استفهامية مثبتة

ا - شتاء مصر محبوب

۲۔ صيف مصر شديد الحر

۳۔ هذا قصر الملك

۴۔ راكبا ذهب اخوک

۵۔ هذه دار الآثار العربية

۶۔ يوم الخميس قدمت

۷۔ تزدحم الاسكندرية

۸۔ تقضى عطلة الصيف

التمرين (۳)

حول الجمل الاتية الى جمل استفهامية منفية:

ا - هذا عسير عليك

۲۔انشا والدك مصنعا

۳۔ يحسن اخوك السباحة

۴- نصحت لكم

۵- حاولنا اصلاحه

۶۔ تعبتم من شدة الحر

۷۔ اخوک صدیقی

۸۔ قلت لكم ..... اتركوا الجدال

۹۔ رايت مقابرا الخلفاء

۱۰- ساعدتك في شدتک

التمرين (۴)

هات جملا استفهامية منفية تصلح لها الاجابات الآتية:

ا - نعم لم اسى اليهم

۲۔ بلی قد اطمانت نفسی

۳۔ نعم لا ارضی به

۴۔ بلى قد انست بلقائكم

۵- بلی قد تنبهتنی

۶۔ نعم لم ينم من شدة الالم

۷۔ نعم ما عرفني في شدتي

۹۔ بلی قد عدناه مرتين

۹۔ بلی قد قضاه كله

۱۰۔ نعم لا تنفعه النصيحة

ا ا۔ نعم لا يحبونه

۱۲۔ بلى يثني عليه من يعرفه

التمرين (۵)

(۱) استعمل ادوات الاستفهام التي تعرفها في جمل مفيدة واجب عن كل جملة تاتی بها۔

(۲) هات ست جمل للاستفهام والنفى معا واذكر جواب كل جملة تاتي بها .

52 تیسیر النحو۔ سبق:۲۸

أسئلة

۱۔ عرف اسم الاستفهام مع التمثيل.

٢. اذكر أسماء الاستفهام.

۳۔ اذكر المحل الإعرابي لأسماء الاستفهام مع الأمثلة.

تمرينات

۱۔ حدد أسماء الاستفهام ومعانيها في الأمثلة الآتية مع بيان المحل الإعرابي لكل منها.

من ذهب إلى السوق ؟ من قابلت ؟ بمن مررت ؟ ما أعجبك من خلق زيد ؟ ما تحبّ في الأكل ؟ بم (أصله : بما كتبت رسالتك ؟ كم فصلا قرأت من الكتاب؟ كيف أصبح خالد ؟ أين تسكن ؟ أيان تسافر ؟ متى جئت ؟ كم درهما عندك ؟ كم رغيفا أكلت ؟ بكم روبية اشتريت هذ الكتاب ؟

53 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

54 اسماء افعال

اسماء افعال:

اسمائے افعال وہ الفاظ ہیں جو فعل کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں، لیکن ان کا ظاہری طور پر کوئی فعل نہیں ہوتا۔ یہ اپنے اندر فعل کا معنی رکھتے ہیں اور جملے میں فعل کا کام کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان میں فاعل کا تصور بھی شامل ہوتا ہے، یعنی یہ ایک ہی لفظ میں فعل اور فاعل دونوں کا مفہوم ادا کرتے ہیں۔

مثالیں:

هيهات: دوری کے لیے۔ مثال: "هيهات العافية" (تندرستی دور ہے)

أف: ناگواری ظاہر کرنے کے لیے۔ مثال: "أف لك" (تم پر افسوس)

صه: خاموشی کے لیے۔ مثال: "صه عن الكلام" (بات کرنا بند کرو)

اسمائے افعال کی اقسام:

اسمائے افعال کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1. زمان کے لحاظ سے:

اسماء افعال ماضی: یہ ماضی کے فعل کے معنی میں آتے ہیں۔ مثال: هيهات: "هيهات النجاح" (کامیابی دور ہے)

اسماء افعال حال: یہ حال کے فعل کے معنی میں آتے ہیں۔ مثال: أف: "أف لك" (تم پر افسوس)

اسماء افعال مستقبل: یہ مستقبل کے فعل کے معنی میں آتے ہیں۔ مثال: آمين: "اللهم آمين" (یا اللہ قبول کر)

2. معنی کے لحاظ سے:

تعجب کے لیے: کچھ اسماء افعال تعجب ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: واها: "واها للعلم" (علم کے لیے حیرت ہے)

امر کے لیے:کچھ اسماء افعال امر یعنی حکم دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: صه: "صه عن الكلام" (بات کرنا بند کرو)

نہی کے لیے: کچھ اسماء افعال کسی کام سے روکنے کے لیے آتے ہیں۔ مثال: مه: "مه عن الكلام" (بات کرنا چھوڑ دو)

3. فاعل کی نوعیت کے لحاظ سے:

متکلم کے لیے: کچھ اسمائے افعال متکلم کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: أف: "أف لي" (مجھ پر افسوس)

مخاطب کے لیے: کچھ اسمائے افعال مخاطب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: صه: "صه أنت" (تم خاموش رہو)

غائب کے لیے: کچھ اسمائے افعال غائب کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ مثال: هيهات: "هيهات النجاح" (کامیابی دور ہے)

اعرابی حالت: اسمائے افعال کا کوئی خاص اعرابی محل نہیں ہوتا، کیونکہ یہ جملے میں فعل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں اور انہی کا حکم رکھتے ہیں۔

استعمال کی اہمیت:

اختصار: اسمائے افعال جملے کو مختصر اور جامع بنا دیتے ہیں۔

تأثیر: یہ جملے کو زیادہ مؤثر اور جذباتی بناتے ہیں۔

بلاغت: بلاغت میں اسمائے افعال کا استعمال جملے کی خوبصورتی اور زور بڑھاتا ہے۔

نتیجہ:

اسمائے افعال عربی زبان میں اختصار اور تاثیر کے ساتھ گفتگو کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہیں۔ یہ ایک لفظ میں فعل اور فاعل دونوں کا مفہوم ادا کرتے ہیں اور مختلف مقامات پر استعمال کیے جا سکتے ہیں۔

55 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱

اِسْمُ الْفِعْلِ كَلِمَةٌ تَدُلُّ عَلَى مَعْنَى الْفِعْلِ وَلَا تُقْبَلُ عَلَامَاتِهِ.

وَهُوَ مِنْ حَيْتُ زَمَنُهُ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ اسْمُ فِعْلٍ مَاضٍ، وَاسْمُ فِعْلٍ مُضَارِعٍ وَاسْمُ فِعْلِ اَمْرٍ،

وَمِنْ حَيْثُ وَضْعُهُ قِسْمَانِ: مُرْتَجَلٌ وَمَنْقُولٌ،

وَيُنْقَلُ عَنِ الْجَارِ وَالْمَجْرُورِ وَالطرْفِ وَالْمَصْدَرِ.

يُصَاغ اِسْمُ فِعْلِ أَمْرٍ عَلَى وَزْنِ فَعَالِ مِنْ كُلِّ فِعْلٍ ثُلاثي مُتَصَرِف تام.

اسم فعل ایسا کلمہ ہے جو فعل کے معنی پر دلالت کرتا ہے، لیکن اس کی علامات کو قبول نہیں کرتا

اور وہ اپنے زمانے کے اعتبار سے تین قسم پر ہے، اسم فعل ماضی ، اسم فعل مضارع اور اسم فعل امر

اور اس حیثیت سے اس کی وضع کے اعتبار سے دو قسمیں ہیں :مرتجل اور منقول

اور وہ جار مجرور اور ظرف اور مصدر سے منقول ہوگا۔

اسم فعل امر سے فعال کے وزن پر بنایا جاتا ہے ہر فعل ثلاثی متصرف تام سے۔

الأمثلة

(۱)هيهات الْأَمَلُ إِذَا لَمْ يُسْعِدُهُ الْعَمَلُ

(۲)أُفٍّ لِمَنْ يَيْئس

(۳).صَهُ إِذَا تَكَلَّمَ غَيْرُكَ

(۱)عَلَيْكَ نَفْسَكَ فَهَذِّبۡھا

(۲)دُونَكَ الْقَلَم .

(۳)رُوَيْدَكَ إِذَا سِرْتَ .

(۱)كتاب الدرس

(۲)دفاعِ عَنِ الشَّرَفِ .

(۳)سماعِ النَّصْحَ

56 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۸

هَیَّا بِنَا ( چلو چلتے ہیں ) هیاجیسے لفظ کو اسم الفعل کہتے ہیں، یہ اصلا اسم ہے

فعل کا معنی دیتا ہے، مزید چند اسم الفعل یہ ہیں :

آہ آہ میں تکلیف ( درد ) محسوس کر رہا ہوں

اف، افوہ (بیزاری پر دلالت کرنے والا کلمہ )

آمين قبول کر ( ہماری دعا )

57 شرح مائۃ عامل۔ سبق:۹

أسماء تسمى أسماء الأفعال، وإنما سميت بأسماء الأفعال؛ لأن معانيها أفعال، وهي تسعة، ستة منها موضوعة للأمر الحاضر وتنصب الاسم على المفعولية:

أحدها: "رويد" فإنه موضوع لـ "أمهل" وهو يقع في أول الكلام مثل رويد زيدا أي أمهل زيدا.

وثانيها: "بله" فإنه موضوع لـ "دع" مثل: بله زيدا أي دع زيدا۔

وثالثها: "دونك" فإنه موضوع لـ " خذ" مثل : دونك زيدا أي خذ زيدا.

ورابعها: "عليك" فإنه موضوع لـ "الزم" مثل: عليك زيدا أي ألزم زيدا.

وخامسها: "حيهل" فإنه موضوع لـ "ايت " مثل : حيهل الصلاة أي ايت الصلاة.

وسادسها: "ها" فإنه موضوع لـ "خذ" مثل: ها زيدا أي خذ زيدا،

وقد جاء فيه ثلاث لغات هاء بسكون الهمزة، وهاء بزيادة الهمزة المكسورة وهاء بزيادة الهمزة المفتوحة، ولابد لهذه الأسماء من فاعل، وفاعلها ضمير المخاطب المستتر فيها، وثلاثة منها موضوعة للفعل الماضي وترفع الاسم بالفاعلية:

أحدها: "هيهات"، فإنه موضوع لـ "بعد" مثل هيهات زيد أي بعد زيد۔

وثانيها سرعان" فإنه موضوع لـ "سرع" مثل سرعان زيد أي سرع زيد۔

وثالثها: "شتان" فإنه موضوع لـ " افترق" مثل: شتان زيد وعمرو أي افترق زيد وعمرو.

اسماء الأفعال، یہ وہ اسماء ہیں جو افعال کے معانی رکھتے ہیں، اور کل نو ہیں، جن میں سے چھے موجودہ حکم کے لیے مخصوص ہیں اور مفعول پر نصب کرتے ہیں:

1. "رويد":- مطلب: "أمهل" (دھیرج)۔

- استعمال: ابتدائی گفتگو میں، جیسے: "رويد زيدا" (دھیرج زید کو)۔

2. "بله": - مطلب: "دع" (چھوڑ دو)۔

- استعمال: جیسے: "بله زيدا" (چھوڑ دو زید کو)۔

3. "دونك": - مطلب: "خذ" (لے لو)۔

- استعمال: جیسے: "دونك زيدا" (لے لو زید کو)۔

4. "عليك": - مطلب: "الزم" (پابند رہو)۔

- استعمال: جیسے: "عليك زيدا" (پابند رہو زید کو)۔

5. "حيهل": - مطلب: "ايت" (آؤ)۔

- استعمال: جیسے: "حيهل الصلاة" (آؤ نماز کے لیے)۔

6. "ها": - مطلب: "خذ" (لے لو)۔

- استعمال: جیسے: "ها زيدا" (لے لو زید کو)۔

- مختلف طریقے: "ها" (سکون کے ساتھ)، "هاء" (زائد شدہ ہمزہ کے ساتھ)، "هاء" (زائد شدہ ہمزہ کے ساتھ)۔

تین اسماء ماضی کے فعل کے لیے مخصوص ہیں اور اسم کو فاعلیہ پر رفع کرتے ہیں:

1. "هيهات":- مطلب: "بعد" (دور)۔

- استعمال: جیسے: "هيهات زيد" (دور زید)۔

2. "سرعان":- مطلب: "سرع" (جلدی)۔

- استعمال: جیسے: "سرعان زيد" (جلدی زید)۔

3. "شتان":- مطلب: "افترق" (الگ ہونا)۔

- استعمال: جیسے: "شتان زيد وعمرو" (زید اور عمرو الگ ہیں)۔

58 تمارین

59 النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۱) سبق:۱

التَّمْرِين (۱)

خَاطِب بِالْعِبَارَةِ الْآتِيَةِ الْمُفْرَد وَالْمُثنى وَالْجَمْعَ بِنوْعَيْهِ.

حَيَّ عَلَى خَيْرِ الْعَمَلِ ذَاكِرًا مَجْدَكَ الْقَدِيمِ، وَإِلَيْكَ عَنْ كُلِّ مَا يَقِفُ بِكَ دُونَ آمَالِكَ الْجِسَامِ.

تَمْرِينٌ فِي الْأِعْرَابِ( ۲)

(۱) وَى لِشَاب لَا يَعْمَلُ .

وَى ۔۔۔۔۔۔اسْمُ فِعْلٍ مُضَارِع بِمَعْنَى أَتَعَجَّبُ، وَالْفَاعِلُ مُسْتَتِرٌ وَجُوبًا تَقْدِيرُهُ انا.

لِشَابِ. جَارٌ وَمَجْرُورٌ مُتَعَلِّقٌ بِوَى.

لا ……نافية

يَعْمَلُ ... فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ وَفَاعِلُهُ ضَمِيرٌ مُسْتَتِرٌ وَالْجُمْلَةُ صِفَةٌ.

(۲) دُونَكَ الْكِتَابَ.

دُونَكَ ……. دُونَ اِسْمُ فِعْلٍ بِمَعْنَى خُذْ وَالْفَاعِلُ مُسْتَتِرٌ وَجُوباً تَقْدِيرُهُ أَنْتَ.

الْكِتَابَ .... مَفْعُولٌ بِهِ مَنْصُوبٌ .

(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَتَيْنِ الْآتِيَتَيْنِ:

(۱)صَهُ عَمَّا يَشِينُ

(۲) أَمَامَكُمْ فَإِنَّ الْحَيَاةَ جِهَادٌ

التَّمْرِين (۳)

اشْرَحِ الْبَيْتَ الْآتِي وَاعْرِبهُ:

عَلَيْكَ نَفْسَكَ هَذِّبهَا فَمَنْ مَلَكَتْ

قِيَادَهُ النَّفْسُ عَاشَ الدَّهْرَ مَذْمُومًا

60 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

61 اعداد مرکبہ

اعداد مرکبہ عربی زبان میں ایسے اعداد کو کہا جاتا ہے جو دو عددوں کو ملا کر بنائے جاتے ہیں اور یہ اسماء مبنیہ میں سے ہوتے ہیں۔ یعنی یہ الفاظ اپنی حالت میں تغیر نہیں کرتے اور ان کی اعرابی حالت (رفع، نصب، جر) میں کوئی تبدیلی نہیں آتی۔ یہ اعداد 11 سے 19 تک کے اعداد پر مشتمل ہوتے ہیں۔

اعداد مرکبہ کی تفصیلات:

1. اعداد مرکبہ (11 سے 19 تک): اعداد مرکبہ کی ترتیب میں دو اجزاء ہوتے ہیں:

پہلا جزو: واحد یعنی 1 سے 9 کے درمیان کا عدد۔

دوسرا جزو: عشرہ یعنی 10۔

یہ اعداد اپنی ساخت میں مرکب ہوتے ہیں، اس لیے انہیں اعداد مرکبہ کہا جاتا ہے۔

2. اعرابی حالت: 11 اور 12 کے اعداد میں پہلا جزو اپنے مفہوم کے مطابق تصریف کرتا ہے اور یہ دونوں جزو رفع، نصب اور جر کی حالتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔

مثال: 11: "احد عشر" , 12: "اثنا عشر" (رفع)، "اثني عشر" (نصب و جر)۔

13 سے 19 تک کے اعداد میں پہلا جزو واحد مذکر یا مؤنث کے مطابق آتا ہے اور دوسرا جزو یعنی عشرہ ہمیشہ مذکر ہوتا ہے۔

3. مذکر اور مؤنث کے لحاظ سے استعمال:

11 اور 12 میں پہلا جزو اسما کے جنس (مذکر یا مؤنث) کے مطابق بدلتا ہے۔

مثال: مذکر: "احد عشر رجلاً" (گیارہ آدمی)

مؤنث: "احدى عشرة امرأةً" (گیارہ عورتیں)

13 سے 19 تک کے اعداد میں پہلا جزو مؤنث اور دوسرا جزو مذکر ہوتا ہے جب شمار کی جانے والی چیز مذکر ہو، اور الٹ جب مؤنث ہو۔

مثال: مذکر: "ثلاثة عشر كتاباً" (تیرہ کتابیں)

مؤنث: "ثلاث عشرة بنتاً" (تیرہ لڑکیاں)

4. اعراب (نحو کے لحاظ سے): اعداد مرکبہ ہمیشہ مبنی ہوتے ہیں یعنی ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، اور ان کا اعراب جملے میں ان کے محل کے مطابق ہوتا ہے:

اگر مبتدا ہو تو رفع میں ہوگا: جاءَ ثلاثةَ عشرَ طالباً (تیرہ طلبہ آئے)۔

اگر مفعول ہو تو نصب میں ہوگا: رأيتُ ثلاثةَ عشرَ طالباً (میں نے تیرہ طلبہ کو دیکھا)۔

اگر مجرور ہو تو جر میں ہوگا: مررتُ بثلاثةَ عشرَ طالباً (میں تیرہ طلبہ کے پاس سے گزرا)۔

5. خاص اعداد:

11: "احد عشر" (مذکر)، "احدى عشرة" (مؤنث)۔

12: "اثنا عشر" (مذکر)، "اثنتا عشرة" (مؤنث)۔

6. دیگر اعداد:

13: ثلاثة عشر (مذکر)، ثلاث عشرة (مؤنث)۔

14: أربعة عشر (مذکر)، أربع عشرة (مؤنث)۔

15: خمسة عشر (مذکر)، خمس عشرة (مؤنث)۔

16: ستة عشر (مذکر)، ست عشرة (مؤنث)۔

17: سبعة عشر (مذکر)، سبع عشرة (مؤنث)۔

18: ثمانية عشر (مذکر)، ثماني عشرة (مؤنث)۔

19: تسعة عشر (مذکر)، تسع عشرة (مؤنث)۔

نتیجہ:

اعداد مرکبہ عربی زبان میں 11 سے 19 تک کے اعداد کو کہا جاتا ہے جو اپنی خاص ساخت اور قاعدوں کے تحت استعمال ہوتے ہیں۔ یہ اسماء مبنیہ میں شمار ہوتے ہیں اور مذکر و مؤنث کے لحاظ سے ان کا استعمال مختلف ہوتا ہے۔

62 تیسیر النحو۔ سبق:۲۹

الاسم المركب المبني: هو ما ركب من كلمتين تركيبا مزجيا (أي: صارتا بمثابة كلمة واحدة) وتضمنت الثانية منهما حرفاء مثل الأعداد المركبة من ۱۱ الى ۱۹، أو كانت ا الثانية كلمة "ويه " مثل: سيبويه، خالويه نفطويه، درستويه، فالأعداد المركبة يجب فيها بناء الجزئين على الفتح، مثل: قرأت أحد عشر كتابا أحد عشر: بني الجزءان على الفتح، وهو في محل نصب مفعول به)

والاسم المركب من كلمتين الثانية منهما "ويه " يبنى الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر ، مثل: لقيت سيبويه سيبويه : بني الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر وهو في محل نصب مفعول به)

المحل الإعرابي للأسماء المركبة المبنية:

الأسماء المركبة المبنية المذكورة تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، مثل: جاء أربعة عشر طالبا، ورأيت أربعة عشر طالبا، وسلمت على أربعة عشر طالباء (أربعة عشر في الجمل الثلاث مبني على الفتح، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور) ومثل: جاء سيبويه، ورأيت سيبويه، ومررت بسيبويه ( سيبوية في الجمل الثلاث مبني على الكسر، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور )

الاسم المركب المبني وہ اسم ہے جو دو الفاظ سے مل کر بنا ہو اور یہ دونوں مل کر ایک واحد لفظ کا کام کرتے ہیں۔ اس کی دوسری جزو میں ایک یا دو حروف شامل ہوتے ہیں جیسے اعداد مرکبہ (11 سے 19 تک کے اعداد) یا پھر اس کی دوسری جزو "ویہ" (ويه) ہو، جیسے: سیبویہ، خالویہ، نفطویہ، درستویہ وغیرہ۔

اعداد مرکبہ کی مثال:

اعداد مرکبہ میں دونوں اجزاء پر فتحہ ہوتا ہے:

مثال: قرأتُ أحد عشرَ كتاباً (میں نے گیارہ کتابیں پڑھیں)

یہاں "احد عشر" کا پہلا اور دوسرا جزو فتحہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

ویہ (ويه) کے ساتھ مرکب اسماء:

اگر مرکب اسم میں دوسری جزو "ویہ" ہو، تو پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے جزو پر کسرہ ہوتا ہے:

مثال: لقيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ سے ملاقات کی)

یہاں "سيبويه" کا پہلا جزو فتحہ کے ساتھ اور دوسرا جزو کسرہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

الاسم المركب المبني کا محل اعرابی:

مرکب اسماء اپنی اعرابی حالت (رفع، نصب، جر) کے مطابق استعمال ہوتے ہیں:

رفع: جاء أربعة عشر طالباً (چودہ طلبہ آئے)

"أربعة عشر" فاعل کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

نصب: رأيتُ أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ کو دیکھا)

"أربعة عشر" مفعول به کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

جر: سلمتُ على أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ پر سلام کیا)

"أربعة عشر" مجرور کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

اسی طرح ویہ (ويه) والے مرکب اسماء:

رفع:جاء سيبويه (سیبویہ آیا)

"سيبويه" فاعل کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

نصب: رأيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ کو دیکھا)

"سيبويه" مفعول به کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

جر: مررتُ بسيبويه (میں سیبویہ کے پاس سے گزرا)

"سيبويه" مجرور کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

63 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق: ۱۹، ۲۰

عربی میں گنتی کو ”عدد اور جو چیز گنی جائے اس کو ” معدود“ کہتے ہیں۔ جیسے : تین کتابیں۔اس میں تین عدد کہلاتا ہے اور کتابیں معدود

ا۔ ایک کے لئے لفظ واحد استعمال ہوتا ہے یہ اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ:ایک کتاب

۲۔ دو کے لئے لفظ اثنان ہے یہ بھی اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابَانِ اثْنَانِ:دو کتابیں

نوٹ : چونکہ تثنیہ کے صیغہ میں خود ہی دو کا معنی پایا جاتا ہے اسے لئے اثنان کا استعمال بطور تاکید ہو گا۔

ب۔ یادر ہے کہ صفت، اعراب، تعریف و تنکیر اور تذکیر و تانیث میں موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔

۳۔ تین سے دس تک کے اعداد اپنے معدود کی طرف مضاف ہوں گے ان کا معدود ہمیشہ جمع ہو گا اور مضاف الیہ ہونے کی

وجہ سے مجرور ۔ جیسے:

ثَلاثَةُ كُتب:تین کتابیں

خَمْسَةُ أَقْلَامٍ: پانچ قلم

أَربعة بُيُوتٍ :چار گھر

عَشَرَةُ رِجَالٍ:دس آدمی

۴۔ عدد کا اعراب جملہ میں اس کے موقع کے اعتبار سے ہو گا۔ اصلا مرفوع ہو گا۔ اور اس سے پہلے حرف جر ہو تو مجرور اور

مفعول بہ ہو تو منصوب ہو گا جیسے : فِي الْفَصْلِ سِتَّةُ طُلابٍ. کلاس میں چھ طلبہ ہیں۔

هَذِهِ الْغُرْفَةُ لِثَلَاثَةِ رِجَالٍ. یہ کمرہ تین آدمیوں کے لئے ہے۔

رَأَيْتُ ثَمَانِيَةَ أطفال. میں نے آٹھ بچے دیکھے۔

(سبق ۲۰)

یہاں ہم عدد کے ساتھ مونث معدود کا استعمال سیکھیں گے۔

ا۔واحد اور اثنان معدود کے ساتھ صفت بن کر آتے ہیں واحد کا مونث واحدہ ہے اور اثنان کا اثنتان جیسے :

لِي أُخت وَاحِدَةٌ. :میری ایک بہن ہے۔

لَهُ خَالَتَانِ اثْنَتَانِ .: اس کی دو خالائیں ہیں۔

۲۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ تین سے دس تک کا معدود ہمیشہ مضاف الیہ اور جمع ہو گا اگر معدود مونث ہو تو عدد کے آخر سے ۃ حذف کر دی جائے گی جیسے :

ثَلَاثَةُ أَبْنَاء:تین لڑکے

ثَلاثُ بَنَاتٍ:تین لڑکیاں

أَرْبَعَةُ رِجَال:چار آدمی

أرْبَعُ نِسَاء:چار عورتیں

خَمْسَةُ نُجُومٍ :پانچ ستارے

خَمْسُ مَجَلاتٍ: پانچ پر چے

ستَّةُ آبَاء :چھ باپ

ستُ أُمَّهَاتِ:چھ مائیں

سَبْعَةُ طلاب:سات طلبہ

سَبْعُ طَالِبَاتٍ:سات طالبات

ثَمَانِيَةُ بُيُوتِ:آٹھ گھر

ثَمَانِي غُرَفٍ:آٹھ کمرے

نوٹ : ثَمَانِي کی ی پرسکون (جزم) رہے گا۔

تسْعَةُ أقلام :نو قلم

تِسعُ حَافِلات: نوبیس

عَشَرَةُ قُرُوش دس قروش

عَشْرُ رُوبِيَّات دس روپے

نوٹ : عَشَرَةُ میں ش پر فتحہ ہو گا اور عشر میں ش پر سکون ہو گا۔

64 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۳، ۶، ۱۰، ۲۴

(سبق ۳)

۱۱ سے ۲۰ تک کے اعداد مذکر معدود کے ساتھ.

اس صورت میں عدد مرکب ( دو لفظوں سے مل کر بنا ہوا ) ہوگا اور دونوں پر فتحہ ہوگا اور معدود واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے

أحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا گیارہ ستارے

تِسْعَةَ عَشَرَ كِتابًا:انیس کتا ہیں

آسانی کے لئے ہم اسے چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.

(الف) ۱۱ اور ۱۲

یہ دونوں اپنے معدود کے مطابق ہوں گے یعنی اگر معدود مذکر ہو تو یہ بھی مذکر اور معدود مؤنثہو تو یہ بھی مؤنث ہوں گے۔ جیسے

أحد عشر طالبا گیارہ طالب علم

إحدى عشرة طالبة گیارہ طالبات

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا بارہ طالب علم

اِثْنَتَا عَشْرَةَ طَالِبَةٌ باره طالبات

(ب) ۱۳ تا ۱۹

ان میں عدد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا ( تذکیر و تانیث میں ) جبکہ دوسرا جزء مطابق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

مؤنث مذکر

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

مذکر مؤنث

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبا میں معدود ( طالبا ) چونکہ مذکر ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَةَ مؤنث ہے اور دوسرا عشر مذکر جبکہ ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ میں چونکہ معدود ( طالِبَةٌ ) مؤنث ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَ مذکر ہے اور دوسرا عشرة مؤنث.

اس سبق میں ہم صرف معدود مذکر کو پڑھیں گے، مؤنث معدود کے ساتھ عدد کا استعمال ہم ان شاء اللہ چھٹے سبق میں پڑھیں گے.

(ج) یہ عدد مبنی ہیں یعنی جملہ میں ان کی حیثیت کے اعتبار سے ان کے آخری حرف کی حرکت طرح سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثَهُ رِيَالات

عِنْدِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

أُريدُ ثَلَاثَةَ رِيَالَاتِ

أَرِيْدُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

هذا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةِ رِيَالَاتِ

هذَا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالا

اِثْنَا عَشر اور اِثْنَتَا عَشر میں واقع اثنا اور اثنتا معرب ہیں، حالتِ نصب اور جر میں وہ اثْنَي اور اثْنَتَيْ ہو جائینگے۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا:میرے پاس بارہ ریال ہیں

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالًا:مجھے بارہ ریال چاہیئے

هَذَا الْكِتَابُ بِاثْنَيْ عَشْرَ رِيَالًا: یہ کتاب بارہ ریال کی ہے

نوٹ :- اثْنَا اور اثْنَتَا میں جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ ءِ وصل ہے اگر ان سے پہلے کوئی لفظ آجائے تو انہیں لکھا تو جائے گا لیکن پڑھا نہیں جائے گا.

(۱) ۲۰ کے لئے لفظ عِشرُونَ استعمال ہوتا ہے یہ مذکر اور مؤنث دونوں معدود کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے اور اسکا محدود بھی واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : عِشْرُونَ طَالِبًا عِشْرُونَ طَالِبَةٌ

۳۰ سے ۹۰ تک کے اعداد انشاء اللہ ہم تیسویں سبق میں پڑھیں گے اور ان اعداد کے بقیہ حالات بھی.

(۵) عدد ترتیبی

پہلے کے لئے لفظ أول استعمال ہوتا ہے جب کہ دوسرے سے دسویں تک کے لئے جو الفاظ ہیں وہ فاعل کے وزن پر ہیں ۔ جیسے ثالث تیسرا ، رابع چوتھا ، خامس پانچواں ، سَادِس چھٹا. ثاني (دوسرا) اصل میں ثان ہے، غال کی طرح، اگر اس پر ال داخل ہو تو وہ الثانی ہو جائے گا.

(سبق ۶ )

اعداد ۱۱ سے ۲۰ تک معدود مؤنث کے ساتھ

اس سے پہلے سبق نمبر ۳ میں ہم معدود مذکر کے ساتھ معدود مؤنث کا استعمال سیکھ چکے

ہیں، وہاں معدود مؤنث کے ساتھ عدد کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے، جو اس طرح ہے : (الف) ۱۱ اور ۱۲ اپنے معدود کے مطابق ہوں گے ( تذکیر اور تانیث میں ) جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا

اثْنَتَا عَشرة طالبة

نوٹ : عَشر میں ش پر فتحہ اور عشرہ میں ش پر سکون ہوگا.

(ب)۱۳ سے ۱۹ تک کے اعداد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا دوسرا موافق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِيَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَمَانِي عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِي عَشرة میں

ثَمَانِي کی ي پر سکون ہوگا.

(سبق ۱۰)

عدد ۲۱ تا ۳۰

ان میں عدد کے دو اجزاء کو و کے ذریعہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسے :

وَاحِدٌ وَعِشْرُوْنَ طَالِبًا

نوٹ :-

( الف ): ان میں پہلے جزء پر تنوین ہوگی۔ جیسے: وَاحِدٌ وَ عِشْرُوْنَ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُوْنَ، أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ سوائے لفظ إِثْنَان، کہ اس پر تنوین نہیں آتی.

(ب): مذکر معدود کے ساتھ واحد اور اِثْنَان ،مذکر، جب کہ بقیه اعداد مؤنث استعمال ہوں گے۔

جیسے :

وَاحِدٌ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا ، اِثْنَانِ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا، ثَلَاثَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلًا، أَرْبَعَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلا خَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا.

ج : معدود مفرد اور منصوب ہوگا.

التَّاسِعَةُ إِلاَّ رُبعًا ( نو مگر پاؤ ) پونے نو

إِلاَّ کے لفظی معنی سوا اور مگر ہیں

اس کے بعد آنے والا اسم منصوب ہوتا ہے۔ جیسے :

السَّاعَةُ الْوَاحِدَةُ إِلَّا عَشْرَ دَقَائِقَ :دس منٹ کم ایک بجے (بارہ بج کر پچاس منٹ )

السَّاعَةُ الثَّانِيَةُ إِلَّا خَمْسَ دَقَائِقَ: پانچ منٹ کم دو بجے ( ایک بج کر پچپن منٹ )

السَّاعَةُ الْخَامِسَةُ إِلَّا دَقِيقَةٌ وَاحِدَةً :ایک منٹ کم پانچ بجے ( چار بج کر انسٹھ منٹ )

(سبق ۲۴)

ا۔ اعداد کے متعلق قواعد

(الف) وَاحِدٌ / اثنان : یہ دونوں معدود کے مطابق ہوں گے اور معدود کی صفت ہو کر اس کے بعد

آئیں گے۔ جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ

كِتَابَانِ اثْنَانِ

سَيَّارَةٌ وَاحِدَةٌ

سَيَّارَتَانِ اثْنَتَانِ

(ب) ثَلاثَةٌ . عشرة : يه اعداد معدود کے مخالف ہوں گے، اگر معدود مذکر ہو تو یہ مؤنث اور معدود مؤنث ہو تو یہ مذکر ہوں گے۔ جیسے : ثَلَاثَهُ رِجَالٍ وَ ثَلَاثُ نِسَاءٍ

(ج) أَحَدَ عَشَرَ / إِثْنَا عَشَر : ان کے دونوں اجزاء معدود کے مطابق ہوں گے۔ جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشرَةً طَالِبَةٌ

إثنا عشر طالبًا

اِثْنَتَا عَشمْرَةً طَالِبَةٌ

(و) ثَلَاثَةٌ عَشَرَ . تِسْعَةَ عَشَرَ : ان اعداد کا دوسرا جزء معدود کے مطابق اور پہلا معدود کے

مخالف ہوگا۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشَرَةً طَالِبَةٌ

( ه ) عِشْرُوْنَ .... تِسْعُوْنَ، مِائَةٌ، أَلْف : یہ اعداد مذکر اور مؤنث دونوں میں یکساں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے :

خَمْسُونَ مُسْلِمًا / مُسْلِمَةٌ

مِائَةُ طَالِب / طَالِبة

(و) مِائَتان / ألفان : جب انکا معدود ذکر کیا جائیگا تو ان کا نون حذف ہو جائیگا۔ جیسے : مِائَتَا رِيَالٍ ، أَلْفًا دُوْلَار دو سو ریال، دو ہزار ڈالر

معدود سے متعلق قواعد :

(الف) ۳-۱۰ کا معدود جمع اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ثَلَاثَةُ كُتب

(ب) ۱۱-۹۹ کا معدود مفرد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا (ج) ۱۰۰ اور ۱۰۰۰ کا معدود مفرد اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ألف ريال

:- اعداد کا اعراب :

(الف) وَاحِدٌ ، اِثْنَان : یہ صفت بن کر استعمال ہوتے ہیں اور صفت اعراب میں موصوف کے تابع ہوتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي رِيَالٌ وَاحِدٌ

عِنْدِي ريالان اثنان

أَرِيْدُ رِيَالًا وَاحِدًا

أُريدُ رِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالِ وَاحِدٍ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

(ب) ثَلاثَةٌ ...... عشرة : یہ اعداد معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي خَمْسَةُ رِيَالَاتِ:میرے پاس پانچ ریال ہیں

أريد خَمْسَةَ ريَالات:مجھے پانچ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةِ رِيَالَاتِ:قلم پانچ ریال کا ہے

(ج) أَحَدَ عَشَرَ ...... تِسْعَةَ عَشَرَ : یہ اعداد مبنی ہوتے ہیں سوائے اثنا اور اثْنَتَا کے، کہ ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے:

عِنْدِي خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالا :میرے پاس پندرہ ریال ہیں

أَرِيْدُ خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالًا :مجھے پندرہ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةَ عَشَرَ :رِيَالا یہ قلم پندرہ ریال کا ہے

إِثْنَا عَشَرَ اور اِثْنَتَا عَشْرَةَ میں صرف لفظ اِثْنَا اور اِثْنَتَا معرب ہیں مثنی کی طرح، رہے الفاظ عشر اور عشرةَ تو وہ مبنی ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا

عِنْدِي اثْنَتَا عَشَرَةَ رُوْبِيَةٌ

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالٌا

أُرِيْدُ اثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَيْ عَشَرَ رِیالًا

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

(و) الْعُقُوْدُ ( عِشْرُوْنَ تِسْعُونَ ) : ان کا اعراب جمع مذکر سالم کی طرح ہوتا ہے۔

أَعِنْدَكَ سِتُّوْنَ رِيَالًا ؟ کیا تیرے پاس ساٹھ ریال ہیں؟

أريدُ سِتِّينَ ريَالا:مجھے ساتھ ریال چاہئے

هذا الْكِتَابُ بِسِتِّينَ ريَالا :یہ کتاب ساٹھ ریال کی ہے

(ه) مِائَةٌ / ألف : يه معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

مُرَتَّبُهُ أَلْفُ دُولار:اس کی تنخواہ ایک ہزار ڈالر ہے

أَخَذْتُ أَلْفَ دُولار مِنْهُ: میں نے اس سے ایک ہزار ڈالر لئے

اشتَرَيْتُهُ بِأَلْفِ دُولار:میں نے یہ ایک ہزار ڈالر میں خریدا

(و) مائتا / ألفا : یہ دونوں مثنی ہیں اور انکا اعراب مثنی کی طرح ہے۔ جیسے :

أَجْرَتُهُ أَلْفَا ريال. اس کی مزدوری دو ہزار ریال ہے

مَا يُرِيدُ أَلْفَيْ رِيَال. وہ دو ہزار ریال نہیں چاہتا ہے

يَعْمَلُ بِأَلْفَيْ رِيَال وہ دو ہزار ریال ( کی اجرت ) پر کام کرتا ہے

(ز) ثَلَاتُمِائَةٍ .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تِسعُمِائَةٍ : ان اعداد میں لفظ مِائَةُ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، ان اعداد میں مضاف مضاف الیہ کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے، مضاف کا اعراب جملہ میں اس کے موقع اور عمل کے مطابق ہوگا۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثُمِائَةِ ريال : میرے پاس تین سو ریال ہیں

أريدُ ثَلَاثَمِائَةِ ريال:میں تین سو ریال چاہتا ہوں

اسْتَرَيْتُهُ بِثَلَاثِمِائَةِ رِيَال: میں نے یہ تین سو ریال میں خریدا

نوٹ : ثَمَانِمِائَةٍ اصل میں ثَمَانِيْمِائَةٍ ہے، ي حذف کردی گئی ہے اس لئے نون پر ہمیشہ کسرہ رہیگا۔

-۴- ألف بیک وقت عدد اور معدود دونوں ہو سکتا ہے۔ جیسے :

ثَلَاثَةُ آلَافِ ريال : تین ہزار ریال

ستة عشر ألف ريال سِتَّةَ :سولہ ہزار ریال

ثَلَاثُوْنَ أَلْفَ رِيَالٍ:تیس ہزار ریال

مائة ألف ريال :ایک لاکھ ریال

ان مثالوں میں لفظ ألف یا آلاف پچھلے کے لئے معدود اور اگلے اسم کے لئے عدد ہے.

۵۔ اگر عدد مضاف ہو اور اس کا معدود مذکور ہو تو عدد پر تنوین نہیں آئے گی اور اگر معدود محذوف

ہو تو تنوین آئے گی۔ جیسے :

كم ريالًا عِندَكَ؟

عِنْدِي عَشَرَةٌ يَا عِنْدِي عَشَرَةُ رِيَالَاتِ

بكم اسْتَرَيْت هَذِهِ السَّاعَةَ ؟

۶۔ اعداد کو پڑھنا :

اعداد پڑھتے وقت بہتر یہ ہے کہ اکائی سے شروع کریں پھر دہائی پھر سیکڑہ پھر ہزار۔ جیسے ۶۵۴۳ کو اگر معدود مذکر ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلَاثَةٌ وَأَرْبَعُوْنَ وخَمْسُمِائَةٍ و سِتَّةُ آلاف ريال اور اگر معدود مؤنث ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلاث و أَرْبَعُوْنَ و خَمْسُمِائَةٍ وَ سِتَّةُ آلَافِ رُوْبِيَةٍ

65 تمارین

66 تیسیر النحو۔ سبق:۲۹

اسئلۃ

۱۔ عرف الاسم المركب المبني مع الأمثلة.

۲۔ وضح المحل الإعرابي للأسماء المركبة المبنية بالأمثلة.

۳۔ اذكر سبب بناء النوعين من الأسماء المركبة المبنية المذكور في الهامش.

(أحكام الأعداد المركبة والتدريبات عليها سبقت في مبحث التمييز والمركب المختوم باويه " لا يحتاج إلى تدريبات)

67 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

68 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

630 questions in this lesson