All topics

مبنی اسماء

اسماء شرط دیگر کتب میں

3 passages

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۸

(ادوات الشرط)

جملہ شرطیہ دو جملوں سے مل کو پورا ہوتا ہے۔ پہلے کو شرط اور دوسرے کو جزا کہتے ہیں جیسے : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يجز بہ (جو شخص برائی کرے گا اس کا بدلہ ملیگا)

ادوات شرط دو طرح کے ہیں ایک جاذمہ دوسرے غیر جاذمہ ،

ادوات جازمہ حسب ذیل ہیں:۔

إِن، اذْمَا ، مَن ، مهما ، مَتَى ، أَيَّانَ ، أَيْنَ ، أَنَّى ، حَيْثما ، كيفما ، أیّ ۔ ان میں سے اِن اوراذما دونوں حرف ہیں اور باقی سب اہم ہیں۔

(۱) یہ ادوات فعل مضارع پر داخل ہوتے ہیں اور لم اور لام امر کی طرح اسے جزم دیتے ہیں، اور اسی طرح نون اعرابی اور آخر سے عرف علت گرا دیتے ہیں۔

(۲) دوسرا جملہ یعنی جزا بھی اگر فعل مضارع ہو تو ا سے بھی جزم دیتے ہیں۔

او پر مثال میں غور کرد.

Read the rest (24)

(۳)لیکن دوسرا جملہ اگر فعل مضارع نہ ہو بلکہ اس کے بجائے جملہ اسمیہ ہو یا امر و نہی ہو یا فعل مضارع ہو مگر اس پر لن ، قد يا س يا سوف يا ما نافیہ داخل ہو، یا عسیٰ و لیس کی قسم کے افعال جامد ہوں تو جزا پرف داخل کرنا ضروری ہے

اِن اور إِذْما (اگر) دونوں ایک معنی میں مستعمل ہوتے ہیں

من (جو، جو شخص، جو کوئی) ذوی العقول کے لئے آتا ہے ۔

ما (جو چیز، جو کچھ) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

مھما (جو کچھ، جتنا کچھ جوکچھ بھی ہو) غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے۔

متى (جب ، جس وقت) ظرف زمان کے لئے آتا ہے ۔

ایان (جب بھی) ظرف زمان کے لئے آتا ہے۔

اين (جہاں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے۔

أنى (جہاں ، جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے ۔

حيثما اسی طرح اینما (جہاں کہیں) ظرف مکان کے لئے آتا ہے

كيفما (جس طرح ، جیسا کچھ) کیفیت و حالت کے لئے آتا ہے۔

أىُّ اور أيّةُ (جو، جہاں، جب، جس طرح) تمام معانی مذکورہ کے لئے آتا ہے

(ادوات شرط غير جازمه)

ادوات شرط غير جازمہ حسب ذیل ہیں :-

لو ، لولا ، لَوْمَا ، لَمَّا ، كُلَّمَا ، إِذَا ، أمّا

(۱) لو (اگر) یہ ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے کہ شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے جزا بھی نہ پائی گئی جیسے :- لو اجتهدت لفزت اگر تم محنت کرتے تو کامیاب ہوتے ،

(۲) لولا اور لوما (اگر نہ ہو ، اگر نہ ہوتا) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ شرط کے پائے جانے کی وجہ سے جزاء جواب نہ پایا گیا ، جیسے لولا الهواء ما عاش انسان (اگر ہوا نہ ہوتی تو کوئی انسان زندہ نہ رہ سکتا تھا)۔

(۳) لمّا (جب ، جبکہ) ظرف ہے حین کے معنی میں یہ فعل ماضی پر آتا ہے جیسے لَمَّا سَلمْتُ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَیَّ السلام (جب میں نے اسے سلام کیا تو اس نے میرے سلام کا جواب دیا)۔

(۴) كلما (جب ، جب کبھی) یہ بھی ظرف ہے اور یہ بھی فعل ماضی پر آتا ہے جیسے كلما مرضت خافت على أمی (جب جب میں بیمار پڑا میری ماں میرے لئے اندیشہ میں پڑگئیں)

(۵) إذا (جب) یہ بھی ظرف ہے مگر مستقبل کے لئے آتا ہے جیسے إذا تعلمت فاعمل بعلمک (جب تعلیم پاؤ تو اپنے علم پر عمل کرو) إذ الاستاذ نصح لك فاعمل بنصحہ (جب استاد تمہیں کوئی نصیحت کرے تو اس عمل کرو)

أمّا (مگر، مگر رہی یہ بات) تفصیل بیان کرنے کے لئے آتا ہے جیسے للبستان بابان، أما احدها ففي جانب الشرق وأما الآخر ففي جانب الشمال.

نوٹ :۔ اما کے جواب پر ف داخل کرنا ضروری ہے، البتہ لما کے جواب پر ف لانا صحیح نہیں۔ طلبہ اس میں بڑی غلطیاں کرتے ہیں۔

لمّا جو "اب تک" کے معنی میں نفی کے لئے آتا ہے وہ حرف جازم ہے۔ فعل مضارع پر داخل ہوتا ہے اور اس کو جزم دیتا ہے ، مگر یہ فعل ماضی پر آتا ہے اور جازم نہیں ہے دونوں کا فرق سمجھے لو۔

Link

النحو الواضح (ثانویہ)

النحوالواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق:۳،۲، ۴، ۵، ۷، ۸

اقْتِرَانُ جَوابِ الشَّرْطِ بالفاء: جواب شرط میں فاء کا ملانا

إذَا لَمْ يَصْلُحُ الْجَوَابُ لأَن يَكُونَ شَرُطًا وَجَبَ اقْتِرَانُهُ بِالْفاءِ وَذَلِكَ بِأَنْ كَانَ جُمْلَةٌ اِسْمِيَةٌ أَوْ فِعْلِيَّةٌ فِعْلُهَا طَلَبِيٌّ أَوْ جَامِدٌ أَوْ مَسْبُوقٌ بِلَنْ أَوْ قَدْ أَوْ مَا أَوِ السِّيْنِ أَوْ سَوْفَ .

جب جواب درست نہ ہو تو اس لئے کہ شرط میں فاء کا اتصال ضروری ہے. کیونکہ وہ جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے جس کا فعل طلبی یا جامد یا مسبوق ہوتا ہے، لن یا قد یا ما یا سین یا سوف کے ساتھ ۔

الأمثلة

(۱) مَنْ سَعَى فِي الْخَيْرِ فَسَعيُهُ مَشْكُورٌ

(٢) إِنْ حَيَّاكَ أَحَدٌ بِتَحِيَّةٍ فَحَيهِ بِأَحْسَنَ مِنْهَا

Read the rest (100)

(۳) مَنْ أَفْشى سِرَّ الصَّدِيقِ فَلَيْسَ بِأَمِين

(٤) إِنْ عَصَيْتَ أَمْرِى فَلَنْ تَنَالَ مَحَبَّتى

( ۵ ) إن نهضت مِصْرُ اليَوْمَ فقد نَهَضَتْ مِنْ قَبْلُ

(۶) إِنْ تَجتهد ما أقصرُ فِي مُكَافَاتِكَ

(۷) مَنْ يَتَعَب فِى صِغَرِهِ فَسَيَستَرِيحُ فِى كِبَرِهِ

(۸) مَنْ ظَلَمَ الناسَ فَسَوْفَ يَنْدَمُ

الْعَطْفُ عَلَى الشَّرطِ والجواب بالواو والفاء: جواب شرط کو واو اور فاء سے ملانا

إِذَ اتلَا الشَّرُطَ مُضَارِعُ مُقْتَرِنُ بِالْوَاوِ أَوِ الْفاءِ جَازَ فِيْهِ وَجْهَانِ : الجزمُ عَلَى الْعَطْفِ ، وَالنَّصْبُ عَلَى إِضمَارِ أَنْ ، أَمَّا إِذَا تلَا الجَوَابَ مُضَارِع مَسْبُوق بِإحْدَاهُمَا فَيَجُوزُ فِيهِ الْجَزْمُ وَالنصْبُ لما سَبَقَ ، وَالرَّفْعُ عَلَى الْإِسْتِئنَافِ

جب وہ مضارع جو کہ واؤ کے ساتھ ملا ہوا ہے یا فاء کے ساتھ ملا ہوا ہے شرط کے بعد آ جائے تو اس میں دو صورتیں جائز ہیں جزم عطف کی وجہ سے اور نصب أن کے مضمر ہونے کی وجہ سے۔ بہر حال جب مضارع ان دونوں میں کسی ایک کے ساتھ مسبوق ہو اور جواب کے بعد ہو تو پس اس میں اس وقت جزم اور نصب پڑھنا جائز ہے اس سبب کی وجہ سے جو گذر چکا ہے اور اس پر رفع استیناف کلام کی وجہ سے پڑھا جائے گا۔

الأمثلة

(۱) إِنْ تَعْمَلَ وَتُثابِرْ أَوْ وتُثابِرَ تَنْجَحْ

(٢) إِن تخلف وَتَكذِبۡ أَوْ وَتَكذِبَ تأثم

(۳) إِنْ تَقْضِ وَتَعدِلۡ أَوْ وَتَعدِلَ تُدْرِكَ رِضا الناس

(٤) مَنْ يَأْكُل كَثِيراً يَتخَمۡ ويَمْرضۡ أَوْ وَيَمۡرضَ أَوْ وَيَمرْضُ

(٥) مَنْ يَتَّبِعْ هَوَاهُ يَسْقَ وَيَنْدَمۡ أَوْ وَيَنْدَمَ أَوْ وَيَنْدَمُ .

(۶) مَا تَدَّخِرْ ينفعك وَيَنْفَعۡ وَطَنَك أَوْ وَيَنْفَعَ أَوْ وَيَنْفَعُ

اجتماع الشرطِ والقَسَم: شرط اور قسم ایک جگہ

إِذَا اجْتَمَعَ شَرْطٌ وَقَسَمْ فَالجَوَابُ لِلسَّابِقِ مِنْهُمَا ، فَإِنْ تَقَدَّمَ عَلَيْهِمَا مَا يَحْتَاجُ إِلَى خَبَرٍ جَازَ أَنْ يَكُوْنَ الْجَوَابُ لِلسَّابِقِ أَوِ اللاحق .

جب شرط اور قسم جمع ہو جائیں تو جواب اس وقت ان دونوں میں سے پہلے کے لئے ہوگا پس اگر ان دونوں پر وہ چیز مقدم ہو کہ جو محتاج ہو خبر کی طرف تو اس وقت جائز ہے کہ جواب سابق کے لئے ہو یا لا حق کے لئے ہو۔

الأمثلة

(۱) إِنْ أتقنت العَمَلَ وَحَقِّكَ أَضَاعِفْ لَكَ الْأَجْرَ

(٢) إِنْ تَتَّبِعْ نُصْح الطبيب واللهِ تُشْفَ

(۳) إِنْ تَصْحِبِ الْأَشْرَارَ وأَبيكَ تَنْدَمْ

( ٤ ) وَحَقِّكَ إِنْ أتقنت العمل لأضاعِفَنَّ لَكَ الأَجْرِ

(۵) واللهِ إِنْ تَتبع نصْحَ الطبيب لتشفين

(۶) وَأَبيكَ إِنْ تَصْحبِ الأَشرَارِ لَتَنْدَ مَنَّ

(۷) أخوك إِنْ يُتَّقِنِ الْعَمَل وحقك أضَاعِف له الأجر أو لأضَاعِفَنَّ

(۸) أنت والله إن تتبع نُصْح الطيب تُشفَ أو لتشفين

(۹) إِنَّكَ وأبيكَ إِنْ تَصْحَب الأشرار تَنْدَم أو لتندمن

حَذْفُ الشَّرْطِ أو الجواب: شرط یا جواب کا حذف کرنا

يَجُوزُ أَن يُحْذَفَ فِعْلُ الشَّرْطِ بَعْدَ إِن الْمُدْغمۃ فِي لَا النافية .

يَجِبُ أَن یُحذفَ الْجَوَابُ إِذَا سَبَقَهُ أَوْ اكْتَنفَهُ مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ وَكَانَ الْفِعْلُ الشَّرْطِ مَاضِياً .

فعل شرط کو حذف کرنا جائز ہے، ان حرف شرط کو لائے نافیہ میں مدغم کر دینےکے بعد

جواب کو حذف کرنا واجب ہے جبکہ اس سے پہلے یا گھیر لے اس کو جو کہ اس پر دلالت کرے اور فعل شرط ماضی ہو ۔

الأمثلة

(۱) تَجَنَّبِ الْمُزَاحَ وَإِلَّا تَسْقُطُ هَيْبتُكَ

(۲) دَعِ الْخِصَامَ وَإِلا يَنَلكَ شَرُّه

(۳) زُرْنِي وَإِلَّا أَعْتب عليك

(٤) سَتَنْدَمُ إِنْ ظَلَمْتَ

(٥) أَنتَ جَبَانُ إِنْ كَذَبْتَ

(۶) أَنْتَ إِنْ قُلْتَ الحَقِّ شُجَاعُ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الْجَازِمَةُ وإعرابها: حروف شرط جازمہ اور اس کا اعراب

تُعْرَبُ آدَوَاتُ الشَّرُطِ كَمَا يَأْتِي :

إِنْ دَلَّتِ الْادَاةُ عَلَى زَمَانٍ أَوْ مَكَانٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى الطَّرْفِيَّةِ الزَّمَانِيَّةِ أَوِ الْمَكَانِيَّةِ لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ تَامَّا ، وَلِخَبَرِهِ إِنْ كَانَ نَاقِصاً

إِنْ دَلَّتِ الْآدَاةُ عَلَى حَدَثٍ كَانَتْ مَفْعُولاً مُطْلَقاً لِفِعْلِ الشَّرُطِ

. إِنْ دَلَّتْ عَلَى الْحَالِ كَانَتْ فِي مَحَلَّ نَصَبٍ عَلَى الْحَالِ إِنْ كَانَ فِعَلُ الشَّرْطِ تَامَّا ، وَخَبَرًا لِفِعْلِ الشَّرْطِ إِنْ كَانَ نَاقِصَاً

إِنْ دَلْتُ عَلَى ذَاتٍ كَانَتْ فِي مَحَلَّ رفْعٍ عَلَى أَنَّهَا مُبْتَدَأ إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ لازماً ، أَوْ نَاقِصاً ، أَوْ مُتَعَدِّياً وَاقِعَا عَلَى أَجْنَبِيِّ مِنْهَا ، وفِي مَحَلَّ نَصْبٍ عَلَى أَنَّهَا مَفْعُولٌ بِهِ ، إِنْ كَانَ فِعْلُ الشَّرْطِ مُتَعَدِّياً -وَاقِعاً عَلَى مَعْنَاهَا .

حروف شرط درج طریقوں سے اعراب دیئے جاتے ہیں۔

اگر حرف زمان یا مکان پر دلالت کرے تو ظرف زمان یا مکان ہونے کی بناء پر محل نصب میں ہوگا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل تام ہو۔ اور اس کی خبر کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر کوئی حرف حدث پر دلالت کرے تو وہ فعل شرط کا مفعول مطلق ہوگا۔

اگر وہ حرف حال پر دلالت کرے تو وہ حال کی بناء پر محل نصب میں ہوگا اگر فعل شرط تام ہو اور خبر واقع ہو گا فعل شرط کی وجہ سے اگر وہ فعل ناقص ہو۔

اگر وہ ایسی ذات پر دلالت کرے جو محل رفع میں ہو اس شرط پر کہ وہ مبتداء ہے، اگر وہ فعل لازم ہو یا ناقص ہو یا متعدی واقع ہو کسی اجنبی پر جو کہ ان سے ہو ، اور محل نصب میں ہوگا اس شرط پر کہ وہ مفعول بہ ہے اگر فعل شرط متعدی ہو اور اس کے معنی پر واقع ہو رہا ہو۔

الأمثلة

(۱) مَتَى يَأْتِ الرَّبِيعُ يُزْرَعَ الْقُطْنُ

أَيَّانَ تَكُنْ وَفِيًّا يَكْثر محبُوك

(۲) أَيْنَ يَكْثر الظلْمُ يَضْعُفَ العمُرَانُ

أَنَّى يَكُنِ النِّيلُ جَارِيَا تُخْصِب الْأَرْضُ

(۳)أَي لَعِب تَلْعَبُ يَلْعَبْ أَخُوكَ

أَيَّ نَفْعِ تَنْفَع النَّاسَ يَحْمَدُوكَ عَلَيْهِ

(۴) كَيْفَمَا تُعَامِلُ إِخْوانَكَ يُعَامِلُوكَ

كَيْفَمَا يَكُنِ الْمُعَلِّمِ يَكُنْ تَلَامِيذُهُ

(۵) مَنْ يَكْثُرُ كلامُه يَكْثُرُ مَلامه

مَنْ يَكُنْ عَجُولاً يَكثُرُ زَلَهُ

(۶)من احترم الناس احترموه

مَا تَقَرَأ يُفدَكَ

أَدَوَاتُ الشَّرْطِ الَّتى لَا تَجْزِم: وہ حروف شرط جو جزم نہیں دیتے

لو ، وَلَوْلاً ، وَلَوْمًا ، وَلَمَّا ، وَكُلَّمَا ، وَإِذَا ، وَأَمَّا ، جَمِيعُهَا أَدَوَاتْ تُفِيدُ الشَّرْطَ وَلَا تَجْزِمُ .

لَوْ تُفِيدُ امْتَناعُ الْجَوَابِ لِامْتِنَاعِ الشَّرْطِ وَلَوْلَا وَلَوْمَا تَدُلانِ عَلَى امْتِنَاعِ الْجَوَابِ لِوُجُودِ الشَّرْطِ ، وَلَمَّا وَكُلَّمَا ظَرُفَانِ لِلْمَاضِي وَلَا يَلِيْهِمَا إِلَّا الْفِعْلُ الْمَاضِي ، وَإِذَا ظَرْفٌ لِلزَّمَانِ الْمُسْتَقْبِلِ وَلَا يَلِيْهَا إِلَّا الْفِعْلُ ظَاهِراً اَوْ مُقَدَّرًا ، وَإِمَّا تُفِيدُ التَّفْصِيلَ وَتَقُوْمُ مَقَامَ آدَاةِ الشَّرْطِ وَفِعْلِهِ مَعاً وَتَلْزَمُ الْفَاءُ جَوَابَهَا .

لو، لولا ، لوما ، لما، كلما، اذا ، اما ، یہ تمام کے تمام حروف شرط کا فائدہ دیتے ہیں اور جرم نہیں دیتے۔

لو جواب کے ممتنع ہونے کا فائدہ دیتا ہے شرط کے ممتنع ہونے کی وجہ سے اور لولا ، لوما یہ دونوں جواب کے ممتنع ہونے پر دلالت کرتے ہیں شرط کے پائے جانے کی وجہ سے، لما اور کلما دونوں ماضی کے ظرف واقع ہوتے ہیں اور صرف فعل ماضی کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں ، اور اذا یہ زمانہ مستقبل کے لئے ظرف ہے اور یہ صرف فعل ظاہر یا مقدر کے ساتھ استعمال ہوتا ہے اور اما تفصیل کا فائدہ دیتا ہے اور بیک وقت اپنے فعل اور حرف شرط کے قائم مقام ہوتا ہے اور اپنے جواب کے لئے فاء کو لازم کرتا ہے۔

الأمثلة

(۱) لَوِ احْتَمى الْمَرِيض لسلم

(۲) لَوْ تَأَنَّى الْعَامِلُ مَا نَدِمَ

(۳) لو أن أَخَاكَ كريم لَسَادَ

(٤) لولا النِّيلُ لكانَتْ مِصْرُ صَحْرَاء

(٥) لَوْلَا الهواء ما عَاشَ إِنْسَانُ

(۶) لَوْلَا الطبيب ساءَتْ حَالُ الْمَرِيضِ

(۷) لوما التَّعَبُ ما كانَتِ الرّاحة

(۸) لَوْمَا العملُ لَمْ تَكُن لِلْعِلْمِ فائدة

(۹) لومَا ثَوَابُ الْعَامِلِينَ لَفَتَرَتِ الهِمَمُ

Link

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۷

أسماء الشرط

اسم الشرط: اسم مبني يربط بين جملتين الأولى شرط للثانية، وتسمى الأولى جملة الشرط، والثانية جملة جواب الشرط نحو من يجتهد ينجح (فالجملة الأولى يجتهد شرط الثانية ينجح " لأن الاجتهاد شرط للنجاح)

أسماء الشرط هي: من، ما مهما، حيثما اذماء متى، أينما، أني، أيان، كيفما، أين، أي

المحل الاعرابي لكل من أسماء الشرط المبنية:

- أسماء الشرط المذكورة مبنية ما عدا " أي " ويكون لها محل الرفع أو النصب أو الجر، حسب موقعها في الجملة، فما دل منها على مكان (وهي: أين أينما، أنی، حيثما أو زمان (وهي المد متى أيان يكون في محل نصب على الظرفية المكانية أو الزمانية لفعل الشرط، وما دل على الحال (وهي كيفا) يكون في محل نصب حال، وما دل على ذات العاقل (وهي من) أو غير العاقل (وهي ماء مهما يكون في محل رفع مبتدأ، أو في محل نصب مفعول به، أو في محل جر بحرف الجر أو المضاف الداخل عليه.

أمثلة ما دل منها على مكان أين تذهب أذهب، هكذا، أينما، أنّي، حيثماء (اين مبنى على الفتح في محل نصب ظرف مكان)

أمثلة ما دل منها على زمان متى تذهب أذهب، وهكذا، اذماء وأيان (متي مبني على السكون في محل نصب ظرف زمان )

Read the rest (74)

مثال ما دل على الحال : كيفما تعامل إخوانك يعاملوك ( كيفما: مبني على السكون في محل نصب حال من فاعل فعل الشرط )

مثال ما دل على ذات العاقل من يجتهد ينجح ( من مبني على السكون في محل رفع مبتدا) من تضرب أضرب ( من مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الى من تذهب أذهب (من: مبني على السكون في محل جر مجرور) ابن من تضرب أضرب ابن مفعول به مقدم منصوب علامة نصبه الفتحة الظاهرة ومن مبني على السكون في محل جر مضاف اليه مثال ما دل على ذات غير العاقل : ما راعك من الأبيات راعني ما مبني على السكون في محل رفع مبتدا ) ما تأكل آكل (ما مبني على السكون في محل نصب مفعول به مقدم الی ماتنظر أنظر (ما: مبني على السكون في محل جر مجرور) وهكذا " مهما"

أما "أي فتكون معربة بحسب ما تضاف اليه ، فان أضيفت إلى مكان أو زمان كانت ظرفا منصوبا ، نحو: أي يوم أو مكان تذهب أذهب (أي: منصوب على الظرفية وعلامة نصبه الفتحة )و ان أضيفت إلى مصدر كانت مفعولا مطلقاً نحو : أى سير تسر أتبعك، وإن أضيفت إلى غير الظرف والمصدر كانت معربة حسب موقعها في الجملة، فقد تقع مبتدأ مرفوعاً، نحو: أي رجل يجتهد ينجح، أو مفعولاً به منصوباً نحو: أي كتاب تقرأ تستفد أو مجروراً نحو: إلى أي مكان تسافر أسافر.

سبب بنائها أنها تشبه "إن" الشرطية في المعنى.

عملها: أسماء الشرط المذكورة تسمى أيضا أدوات الشرط الجازمة فانها تجزم فعلي الشرط والجواب، نحو: من تضرب أضرب من جزمت "تضرب" وهو فعل الشرط وعلامة جزمه السكون

وجزمت أضرب" وهو فعل جواب الشرط وعلامة جزمه السكون)

ملحوظة: ستأتي أحكام أسماء الشرط الأخرى بشيء من التفصيل عند دراسة أسلوب الشرط.

اسم شرط: وہ اسم مبنی ہوتا ہے جو دو جملوں کو آپس میں جوڑتا ہے، پہلے جملے کو دوسرے جملے کی شرط بناتا ہے۔ پہلے جملے کو "جملہ شرط" اور دوسرے کو "جملہ جواب شرط" کہا جاتا ہے، جیسے: "من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا)۔ یہاں "يجتهد" پہلا جملہ (جملہ شرط) اور "ينجح" دوسرا جملہ (جواب شرط) ہے، کیونکہ کامیابی کی شرط محنت ہے۔

اسماء الشرط

اسماء الشرط درج ذیل ہیں:

من، ما، مهما، حيثما، متى، أينما، أنى، أيان، كيفما، أين، أي

اسماء الشرط المبنية کا محل اعرابی

یہ تمام اسماء مبنی ہیں، سوائے "أي" کے، جو معرب ہوتا ہے اور جملے میں اپنے مقام کے مطابق اعرابی تبدیلی قبول کرتا ہے۔

جو مکان (جگہ) پر دلالت کرے: أين، أينما، أنى، حيثما → جملے میں ظرف مکان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "أين تذهب أذهب" (جہاں جاؤ گے، وہاں جاؤں گا)۔

جو زمان (وقت) پر دلالت کرے: متى، أيان → ظرف زمان کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "متى تذهب أذهب" (جب تم جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

جو حال (کیفیت) پر دلالت کرے: كيفما → حال کے طور پر نصب میں آتا ہے۔

مثال: "كيفما تعامل إخوانك يعاملوك" (جیسے تم اپنے بھائیوں کے ساتھ برتاؤ کرو گے، ویسا ہی وہ تمہارے ساتھ کریں گے)۔

جو عاقل پر دلالت کرے: من → مبتدا، مفعول، یا مضاف الیہ ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"من يجتهد ينجح" (جو محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "من" مبتدا۔

"من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا) → "من" مفعول بہ۔

"إلى من تذهب أذهب" (جس کے پاس جاؤ گے، میں جاؤں گا) → "من" مجرور۔

جو غیر عاقل پر دلالت کرے: ما، مهما → مبتدا، مفعول بہ، یا مجرور ہو سکتا ہے۔

مثالیں:

"ما راعك من الأبيات راعني" → "ما" مبتدا۔

"ما تأكل آكل" (جو تم کھاؤ گے، میں وہی کھاؤں گا) → "ما" مفعول بہ۔

"الی ما تنظر أنظر " → "ما" مجرور۔

"أي" کا اعراب

"أي" معرب ہوتا ہے اور اس کا اعراب اس کے مضاف الیہ پر منحصر ہوتا ہے:

اگر کسی ظرف زمان یا مکان (جگہ یا وقت) کی طرف مضاف ہو → ظرف منصوب ہوگا۔

مثال: "أي يوم تذهب أذهب" (جس دن جاؤ گے، میں جاؤں گا)۔

اگر مصدر کی طرف مضاف ہو → مفعول مطلق ہوگا۔

مثال: "أي سير تسير أتبعك" (جیسے بھی تم چلو گے، میں تمہاری پیروی کروں گا)۔

اگر کسی اور اسم کی طرف مضاف ہو → اس کے مقام کے مطابق ہوگا۔

مثالیں:

"أي رجل يجتهد ينجح" (جو بھی آدمی محنت کرے گا، کامیاب ہوگا) → "أي" مبتدا۔

"أي كتاب تقرأ تستفد" (جو بھی کتاب پڑھو گے، فائدہ ہوگا) → "أي" مفعول بہ۔

"إلى أي مكان تسافر أسافر" (جس جگہ تم سفر کرو گے، میں بھی وہیں جاؤں گا) → "أي" مجرور۔

اسم شرط کے مبنی ہونے کی وجہ

یہ "إن" شرطیہ سے معنوی مشابہت کی بنا پر مبنی ہیں۔

اسماء الشرط کا عمل

یہ اسماء ادوات شرط جازمہ بھی کہلاتے ہیں، کیونکہ یہ فعل شرط اور جواب شرط دونوں کو جزم دیتے ہیں۔

مثال: "من تضرب أضرب" (جسے تم مارو گے، میں اسے ماروں گا)۔

"تضرب" → فعل شرط مجزوم

"أضرب" → جواب شرط مجزوم

Link