All topics

مبنی اسماء

مبنی اسماء دیگر کتب میں

2 passages

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱

ہم جانتے ہیں کہ عربی کے اکثر اسماء معرب ہیں، بعض مبنی ہیں جن کے آخر میں اعراب کی مختلف حالتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، مندرجہ ذیل اسماء مبنی ہیں:

ا۔ضمائر، جیسے: هُوَ أَنْتَ أنا ، اسی طرح رائتہ میں ت اور ہ بھی ضمائر ہیں، اور کتابک میں ک اور بَيْتُھا میں ھا بھی ضمائر ہیں۔

یہاں یہ بھی پیش نظر رہے کہ ضمائر کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاتا ہے:

ا) ضمائر رفع

ب) ضمائر نصب اور جر ، جیسے:

نَحْنُ طُلاب. ہم طلبہ ہیں۔

أرَأَيْنا؟ کیا تم نے ہمیں دیکھا؟

هذا بيتنا. یہ ہمارا گھر ہے۔

Read the rest (6)

۲ - اسماء اشاره، جیسے: هذا، هذِهِ، ذَلِكَ، هؤلاء، أُولئِكَ سوائے هذَانِ اور هَـاتــان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۳- اسماء موصولہ، جیسے: الَّذِي، التِي، الَّذِيْنَ، اللاتي سوائے اللذان اور اللتان کے کہ یہ دونوں معرب ہیں۔

۴۔ بعض اسماءِ استفهام جیسے مَنْ، أَيْنَ، مَا ،مَتَى، كَيْفَ.

۵۔ بعض اسماء ظروف، جیسے: إِذَا، حَيْث، أَمْسِ، الآن.

۶- أسماء الفعل ، یعنی وہ اسماء جو فعل کا معنی دیتے ہوں ، جیسے: آہ (میں تکلیف محسوس کرتا ہوں) آمِينَ (قبول کر )

۷۔ مرکب اعداد، جیسے: أَحَدَ عَشَرَ سے تِسْعَةَ عَشَرَ تک اسی طرح ان کے تانسیث کے صیغے بھی، سوائے اثنا عَشَر اور اثْنَتَا عَشرةَ کے کہ ان کا پہلا جزء معرب ہے

Link

النحو الواضح (ثانویہ)

النحو الواضح ثانویۃ (جلد:۲) سبق: ۳

مِنَ الْأَسْمَاءِ الْمَبنِيَةِ مَا يَأْتِي

(ا) الضمَائِرُ ، وَ أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ ، وَالْأَسْمَاءُ الْمَوْصُولَهُ وَأَسْمَاءُ الاستفهام، وَأَسْمَاءُ الشَّرْطِ وَأَسْمَاءُ الْأَفْعَالِ ، وَبَعْضُ الظُّرُوفِ وَهَذِهِ كُلَّهَا تُبنى عَلَى مَا سَمِعَتْ عَلَيْهِ.

(ب) الْمُنَادَى إِذَا كَانَ عَلَمًا مُفْرَدًا أَوْ نَكِرَةً مَقْصُودَةً وَهُوَ يُبْنَى عَلَى مَا يُرْفَعُ بِه

(ج)اسمُ لا النافِيَةِ لِلْجِنْسِ إِذَا لَمْ يَكُنُ مُضَافًا وَلَا شَبِيْهَا بِالْمُضَافِ، وَيُبْنَى عَلَى مَا يُنصَبُ بِهِ .

(د) مَا رُكِبَ مِنَ الْأَعْدَادِ وَالظُّرُوفِ وَالْأَحْوَالِ ، وَهَذِهِ يَطَّرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى فَتْحِ الْجُزُأيْنِ.

(ھ). الْمُبْهَمَاتُ الْمَقْطُوعَةُ عَنِ الْإِضَافَةِ لَفُظَا ، وَهِيَ تُبْنَى عَلَى الضَّمِ.

(و) ما خُتِمَ بِوَيْهِ ، وَمَا جَاءَ عَلَى وَزْنِ فَعَالِ عَلَمًا لِأُنثَى أَوْ سَبًّا لَهَا، أَوْ اسْمَ فِعْلٍ، وَهَدِهِ كُلُّهَا يَطْرِدُ فِيهَا الْبِنَاءُ عَلَى الْكَسْرِ.

Read the rest (17)

اسمائے مبنیہ یہ ہیں:

(الف) ضمائر ، اسمائے اشارہ ، اسمائے موصولہ، اسمائے استفہام، اسمائے شرط، اسمائے افعال ، بعض ظروف ۔ اور یہ تمام کے تمام اس طریقے پر مبنی ہوتے ہیں کہ جس طرح سے کہ سنے گئے ہیں۔

(ب) منادی جب کہ وہ علم مفرد ہو یا نکر مقصودہ ہو تو وہ اس وقت مبنی علی الرفع ہوتا ہے۔

(ج) لائے نفی جنس کا اسم جبکہ وہ مضاف نہ ہو اور نہ ہی مضاف کے مشابہ ہو تو اس وقت مبنی علی النصب ہوتا ہے۔

(د) وہ کلمات جو کہ اعداد اور ظروف اور احوال سے مرکب ہوں تو ان کے دونوں جزوں میں مبنی علی الفتح کا اعراب ہی ہو گا۔

(ھ) وہ مبہمات جو کہ لفظاً اضافت سے جدا ہو چکے ہوں تو وہ اس وقت مبنی علی الضم پڑھے جاتے ہیں۔

(ز) ہر وہ کلمہ جو کہ’’ ویه ‘‘کے کلمہ پر ختم ہو رہا ہو یا وہ کسی مؤنث کا علم ہو اور فعال کے وزن پر ہو یا اس مؤنث کے لئے گالی ہو یا اسم فعل ہو تو یہ تمام کے تمام کلمات مبنی علی الکسر ہوتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) فِي الْحُجْرَةِ أَحَدَ عَشَرَ كُرْسِیّا

جَلَسْتُ مَعَ أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا

(۲) مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ

إِنْ نَجَحْتَ فَلَكَ الْمُعَافَاهُ مِنْ بَعْدُ

(۳) مِنْ أَئمة النَّحْوِ سِيبَوَيه

كَانَ ابْنُ أَحْمَدَ بْنِ طُولُونَ يُدْعَى خَمَارَوَيْهِ

Link