Grammar

Nahw (syntax) کلمہ / اسم / معرب و مبنی کے اعتبار سے /

A type of the noun

معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں

The lessons are written in Urdu.

On this page (57)
  1. اسماء خمسہ
  2. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۰
  3. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱
  4. تمارین
  5. النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۰
  6. خودکار جانچ
  7. ممنوع من الصرف
  8. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱۱
  9. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۲۲
  10. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۵
  11. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱، ۳۴
  12. المفصل۔ سبق:۳
  13. تمارین
  14. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱۱
  15. خودکار جانچ
  16. وہ صیغے جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں(اسماء مشتقہ)
  17. تمرین الصرف۔ سبق:۲۳، ۲۴
  18. تمارین
  19. تمرین الصرف۔ سبق:۲۳، ۲۴
  20. خودکار جانچ
  21. توابع
  22. (نعت ، توکید ، بدل ، عطف)
  23. خودکار جانچ
  24. نعت (مرکب توصیفی)
  25. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۷
  26. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۲
  27. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۴
  28. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  29. تمارین
  30. معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۴
  31. دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱
  32. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۷
  33. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۲
  34. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  35. خودکار جانچ
  36. توکید
  37. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۳
  38. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  39. تمارین
  40. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۳
  41. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  42. خودکار جانچ
  43. بدل
  44. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۶
  45. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  46. تمارین
  47. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۶
  48. تیسیر النحو۔ سبق:۲۲
  49. خودکار جانچ
  50. عطف
  51. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۴، ۱۵
  52. تیسیر النحو۔ سبق:۱۴، ۱۵
  53. تمارین
  54. النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۴، ۱۵
  55. تیسیر النحو۔ سبق:۱۴، ۱۵
  56. خودکار جانچ
  57. Practice

The map

  • معرب و مبنی کے اعتبار سے
    • معرب اسماء
    • مرفوع اسماء
    • منصوب اسماء
    • مجرور اسماء
    • معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں
    • مبنی اسماء

1 اسماء خمسہ

اسماء خمسہ عربی زبان کے پانچ خاص اسماء ہیں جو مخصوص حالات میں ایک منفرد طریقے سے اعراب حاصل کرتے ہیں۔ ان اسماء کی حالت رفع، نصب اور جر میں ان کے آخر میں حرف کے ساتھ تبدیلی آتی ہے۔ یہ پانچ اسماء ہیں:

1. أب (والد)

2. أخ(بھائی)

3. حم (سسر یا شوہر کا باپ)

4. فو(منہ)

5. ذو(مالک یا صاحب)

اعراب کی حالتیں:

1. رفع : جب اسم مرفوع (فاعل یا مبتدا) ہو، تو ان اسماء کو واو کے ساتھ رفع دیا جاتا ہے۔

مثال: جاء أبوك (تمہارا والد آیا)۔ یہاں أبوك مرفوع ہے اور اس کے آخر میں واو لگا ہے۔

2. نصب: جب اسم منصوب (مفعول به) ہو، تو ان اسماء کو ألف کے ساتھ نصب دیا جاتا ہے۔

مثال: رأيت أباك (میں نے تمہارے والد کو دیکھا)۔ یہاں أباك منصوب ہے اور اس کے آخر میں الف لگا ہے۔

3. جر: جب اسم مجرور (حرف جر کے بعد یا مضاف الیہ) ہو، تو ان اسماء کو ياء کے ساتھ جر دیا جاتا ہے۔

مثال: مررت بأبيك (میں تمہارے والد کے پاس سے گزرا)۔ یہاں بأبيك مجرور ہے اور اس کے آخر میں یاء لگا ہے۔

شروط:

اسماء خمسہ کو ان خاص اعراب کے ساتھ استعمال کرنے کے لیے کچھ شرائط ہیں:

- یہ اسماء ہمیشہ مضاف ہوں گے یعنی ان کے بعد مضاف الیہ آئے گا۔

- یہ اسماء مفرد ہوں گے، یعنی تثنیہ یا جمع کی صورت میں یہ قاعدہ لاگو نہیں ہوگا۔

- ان اسماء کا مضاف الیہ ضمیر یا معرفہ ہوگا۔

مثالیں:

1. رفع: أبوك (تمہارا والد)، أخوك (تمہارا بھائی) ، جاء أخوك (تمہارا بھائی آیا)۔

2. نصب: أباك (تمہارے والد کو)، أخاك (تمہارے بھائی کو) ، رأيت أخاك (میں نے تمہارے بھائی کو دیکھا)۔

3. جر: بأبيك (تمہارے والد کے پاس سے)، بأخيك (تمہارے بھائی کے پاس سے) ، مررت بأخيك (میں تمہارے بھائی کے پاس سے گزرا)۔

خلاصہ:

اسماء خمسہ عربی کے وہ پانچ اسماء ہیں جو مخصوص حالات میں واو، الف اور یاء کے ذریعے رفع، نصب اور جر کی علامتیں لیتے ہیں۔ ان کا استعمال قواعدی لحاظ سے خاص ہے اور یہ اکثر رسمی اور فصیح عربی میں پائے جاتے ہیں۔

2 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۰

الأَسْمَاءُ الخَمْسَةُ هِيَ: أَبٌ وأَخٌ وحَمٌ وفُووذُو.

الأسماء الخمسة: تُرْفَعُ بِالوَاوِ و تُنْصَبُ بِالأَلِفِ و تُجَرُّ بِاليَاءِ و یُشْتَرطُ فِی إِعْرَابِهَا هَذَا الإِعْرَابِ: أَنْ تَكُونَ مُضَافَةً لِغَيْرِ يَاءِ المُتَكَلِّمِ.

اسمائے خمسہ یہ ہیں: اب- اخ- حم- فو- ذو .

اسمائے خمسہ کا اعراب حالت رفع میں واو حالت نصب میں الف اور حالت جر میں یاء کے ساتھ آتا ہے۔ بشرطیکہ یہ کلمات مضاف ہوں اور یائے متکلم کی طرف مضاف نہ ہوں۔

الأمثلة

(۱) جَاءَ أَبُو سَعِيدٍ

(٢) أَبُوكَ طَبيب ماهر .

(٣) كَانَ أَبُوكَ رَجُلًا حَازِماً .

(٤) لَعَلَّ الْقَادِمَ أَبُو مُحَمَّدٍ .

(۱) وَدَّعْنَا أَبا سَعِيدٍ .

(٢) يُجِلُّ النَّاسُ أَبَاكَ .

(٣) لَعَلَّ أَبَاكَ طَبِيبٌ مَاهِرٌ .

(٤) إِنَّ أَبَا مُحَمَّدٍ رَجُل شَرِيفٌ

(١) رَضِينَا عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .

(٢) يَثِقُ النَّاسُ بأبيكَ .

(٣) رَضِيَ النَّاسُ عَنْ أَبِيكَ

(٤) يَشْكُرُ النَّاسُ لأَبِي مُحَمَّدٍ .

3 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱

اسماء خمسه (أب، أخ، حم، فم، ذو)

ان اسماء پر اعراب کی فرعی علامتیں صرف اس وقت داخل ہوتی ہیں جب وہ مضاف ہوں اور مضاف الیہ یائے متکلم نہ ہو، اس حالت میں ان کی علامتیں حالت رفع میں ضمہ کے بجائے واو ، حالت نصب میں فتحہ کے بجائے الف اور حالتِ جر میں کسرہ کے بجائے یاء ہوتی ہیں، جیسے: مَاذَا قَالَ أَبُو بَلالٍ؟ بلال کے والد نے کیا کہا؟

نوٹ: یہاں اب کے ساتھ واو بھی ہے اس طرح وہ ابو ہو گیا۔

أَعْرِفُ أَبَا بِلالٍ. میں بلال کے والد کو جانتا ہوں۔

نوٹ:۔ یہاں اب کے ساتھ الف بھی ہے اس طرح وہ ابا ہو گیا۔

ذَهَبْتُ إِلَى أَبِي بِلالٍ. میں بلال کے والد کے پاس گیا۔

نوٹ: یہاں اب کے ساتھ یاء بھی ہے اس طرح وہ ابي ہوا، صرف اب نہیں۔

مضاف الیہ ضمیر بھی ہو سکتا ہے، جیسے:

أَيْنَ ذَهَبَ أَخُوْكَ ؟ تمہارا بھائی کہاں گیا ؟

مَارَأَيْتُ أَخَاكَ. میں نے تمہارے بھائی کو نہیں دیکھا۔

مَا اسْمُ أَخيْكَ ؟ تمہارے بھائی کا نام کیا ہے؟

اگر مضاف الیہ یائے متکلم ہو تو مضاف پر ہمیشہ ایک ہی حرکت رہے گی، جیسے:

يَدْرُسُ أَخِي بِالْجَامِعَةِ. میرا بھائی یونیورسٹی میں پڑھتا ہے۔

أَتَعْرِفُ أَخِي؟ کیا تم میرے بھائی کو جانتے ہو؟

خُذِ العَنْوَانَ مِنْ أَخِي. پتہ میرے بھائی سے حاصل کرلو۔

لفظ فم دو طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے، میم کے ساتھ اور میم کے بغیر، جب وہ میم کے ساتھ استعمال ہوگا تو اس پر اعراب کی اصلی علامتیں ہوں گی ، جیسے:

فَمُكَ نَظِيْفٌ. تمہارا منھ صاف ہے۔

اِفْتَحْ فَمَكَ. تم اپنا منھ کھولو۔

مَاذَا فِي فَمِكَ؟ تمہارے منھ میں کیا ہے؟

اگر میم حذف کر دیا جائے تو اس پر بقیہ اسماء خمسہ کی طرح اعراب کی فرعی علامتیں ظاہر ہوں گی، جیسے:

فُوْكَ صَغِيْرٌ. تمہارا منھ چھوٹا ہے۔

افْتَحْ فَاكَ. تم اپنا منھ کھولو

مَاذَا فِي فِيْكَ؟۔ تمہارے منھ میں کیا ہے؟

ان پانچوں اسماء پر فرعی علامتیں اسی وقت داخل ہوں گی جب وہ مضاف ہوں جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں ہے، ورنہ اس پر اعراب کی اصلی علامتیں ہی آئیں گی، جیسے:

هُوَ أَخ. وہ ایک بھائی ہے۔

أَيْنَ الأخ؟ بھائی کہاں ہے؟

رَأَيْتُ أَخًا . میں نے ایک بھائی کو دیکھا۔

سَأَلْتُ الْأخ. میں نے بھائی سے پوچھا۔

هذَا بَيْتُ أَخ. یہ ایک بھائی کا گھر ہے۔

هذِهِ سَيَّارَةُ الْآخِ. یہ بھائی کی کار ہے۔

4 تمارین

5 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۰

التمرين (۱)

عين في الجمل الاتية ماتراه من الاسماء الخمسة مرفوعا أو منصوبا او مجرورا وبين السبب وعلامة الاعراب في كل:

۱۔ ذو المال محسود

۲۔ لا تضع اصبعك في فيك .

۳۔ عظم حما اخيك كما تعظم اباک

۴۔ ابوک ذوجاه عظیم

۵۔ احترم اخاك الاكبر

۶۔ اعطف على اخيك الاصغر

۷۔ ضع یدک علی فیک عند التثاؤب

۸۔ اغسل فاك بعد كل طعام

التمرين (۲)

(۱) ایت بثلاث جمل في كل منها اسم مرفوع من الاسماء الخمسة

(۲) ایت بثلاث جمل في كل منها اسم منصوب من الاسماء الخمسة

(۳) ایت بثلاث جمل في كل منها اسم مجرور من الاسماء الخمسة

التمرين (۳)

(1) ضع كل اسم من الاسماء الخمسة في جملتين بحيث يكون في احداهما فاعلا وفي الأخرى مفعولا به

(۲) ضع كل اسم من الاسماء الخمسة في جملتين بحيث يكون في احداهما مبتدا وفي الأخرى خبرا.

(۳) ضع كل اسم من الاسماء الخمسة في جملتين بحيث يكون في احداهما اسما لان وفي الأخرى اسمالاصبح.

(۴) ضع كل اسم من الاسماء الخمسةفی جملتین بحیث یکون فی احداھما مجرورا بحرف جر وفى الأخرى مجرورا بالاضافة

تمرين في الاعراب (۴)

(الف) نموذج

(۱) حضر أخو على

حضر ...... فعل ماض مبنى على الفتح

اخو...... فاعل مرفوع بالواو لأنه من الأسماء الخمسة وهو مضاف

على ...... مضاف إليه مجرور بالكسرة

(۲) اصبح محمد ذا يسار

اصبح ...... فعل ماض مبنى على الفتح

محمد ۔۔۔۔۔۔ اسم اصبح مرفوع بالضمة

ذا ..... خبر اصبح منصوب بالألف و هو مضاف

يسار....... مضاف إليه مجرور بالكسرة

(ب) اعرب الجمل الاتية

۱۔ ابو فريد رجل فاضل

۲۔ لیت اخا صالح مقبل

۳۔ يحب الناس كل ذي مروءة

6 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

7 ممنوع من الصرف

ممنوع من الصرف (غیر منصرف) عربی زبان کا ایک اہم موضوع ہے

تعریف:

ممنوع من الصرف وہ اسم ہوتا ہے جس پر تنوین نہیں آتی، اور یہ اسم جر کے وقت بھی کسرہ (زیر) کی بجائے فتحہ (زبر) کے ساتھ آتا ہے۔ یعنی عام طور پر اسماء پر جر کی حالت میں کسرہ آتا ہے، مگر ممنوع من الصرف اسماء پر جر کی حالت میں بھی فتحہ آتا ہے۔

ممنوع من الصرف کی وجوہات:

کسی اسم کو ممنوع من الصرف قرار دینے کے پیچھے دو وجوہات یا اسباب ہوسکتے ہیں:

1. ایک عِلّت (سبب): ایک ایسا اسم جس میں ایک علت ہو، مثلاً:

خواتین کے نام: جیسے فاطمة (فاطمہ)، عائشة (عائشہ)۔

غیر عربی نام: جیسے إبراهيم (ابراہیم)، إسماعيل (اسماعیل)۔

2. دو عِلّتیں (اسباب): جب کسی اسم میں دو علتیں جمع ہوجائیں تو وہ غیر منصرف ہوتا ہے۔ دو علتوں کے ساتھ ممنوع من الصرف ہونے کی عام صورتیں درج ذیل ہیں:

علم اور عجمیّت: جیسے غیر عربی نام يوسف ، إسحاق ۔

علم اور مؤنث: جیسے خواتین کے نام سلمى، فاطمة۔

علم اور وزن فعل: جیسے عمر، زيد۔

علم اور زائد الف و نون: جیسے عثمان، سلمان۔

ممنوع من الصرف کے اسباب کی تفصیل:

1. علمیت اور عجمیّت (غیر عربی ہونا): غیر عربی نام، جو علم (ذاتی نام) ہوں، ممنوع من الصرف ہوتے ہیں۔ جیسے: إبراهيم، إسماعيل، يوسف۔

2. علمیت اور مؤنث ہونا: مؤنث نام، جو علم ہوں، جیسے :سلمى، زينب، عائشة، یہ بھی ممنوع من الصرف ہوتے ہیں۔

3. علمیت اور زائد الف و نون: ایسے اسماء جن کے آخر میں زائد الف اور نون آئے، جیسے عثمان، سلمان، یہ بھی غیر منصرف ہوتے ہیں۔

4. علمیت اور وزن فعل: وہ اسماء جو علم ہوں اور فعل کے وزن پر ہوں، جیسے عمر، يزيد، احمد۔

5. صیغہ مبالغہ یا صفت: وہ صفات یا مبالغہ کے صیغے جو "افعل" یا "فعلاء" کے وزن پر ہوں، جیسے أحمر (سرخ)، كبرى (بڑا)، عظمى (عظیم)۔

6. خواتین کے نام: وہ نام جو مؤنث ہوں، جیسے فاطمة، عائشة، زينب۔

ممنوع من الصرف کی اعرابی حالتیں:

جر کی حالت میں :ممنوع من الصرف اسماء کو جب حروفِ جر کے بعد لایا جائے تو ان پر فتحہ (زبر) آتی ہے، جیسے: مررتُ بعمرَ (میں عمر کے پاس سے گزرا) ، ذهبتُ إلى بغدادَ (میں بغداد گیا)۔

رفع کی حالت میں:اسم پر ضمہ (پیش) آتی ہے، جیسے: عمرُ حاضرٌ (عمر موجود ہے)۔

نصب کی حالت میں: اسم پر فتحہ (زبر) آتی ہے، جیسے: رأيتُ عمرَ (میں نے عمر کو دیکھا)۔

ممنوع من الصرف کے بارے میں ایک اصول:

اگر ممنوع من الصرف اسم معرف باللام (ال کے ساتھ) آجائے یا مضاف ہو، تو پھر وہ جر کی حالت میں کسرہ لیتا ہے: مررتُ بالعمرِ (میں عمر کے پاس سے گزرا)۔ كتابُ زيدٍ (زید کی کتاب)۔

خلاصہ:

ممنوع من الصرف وہ اسم ہے جو تنوین نہیں لیتا اور جر کی حالت میں بھی فتحہ کے ساتھ آتا ہے، بشرطیکہ وہ غیر معرف باللام یا مضاف نہ ہو۔

عموماً یہ اسم دو وجوہات کی بنا پر ممنوع من الصرف ہوتا ہے:

اضافی وزن یا صیغہ۔

اضافی حرف یا معنی۔

1. علم جو ممنوع من الصرف ہو: علم (یعنی خاص نام) بھی بعض صورتوں میں ممنوع من الصرف ہوتا ہے، خاص طور پر جب اس میں مخصوص علل پائی جائیں۔

علم کو ممنوع من الصرف بنانے کی وجوہات:

عجمی (غیر عربی) علم:غیر عربی نام جو علم کے طور پر استعمال ہو، جیسے إبراهيم، إسماعيل، يوسف۔

مذکر علم جو فعل کے وزن پر ہو:مذکر نام جو فعل کے وزن پر ہو، جیسے أحمد، يزيد، عمر۔

علم اور زائد الف و نون: وہ نام جن کے آخر میں الف اور نون زائد ہو، جیسے عثمان، سلمان۔

مؤنث علم:وہ نام جو مؤنث ہوں، جیسے فاطمة، عائشة، سلمى۔

مثالیں:

إبراهيم، يوسف (عجمی علم)

أحمد، يزيد (فعل کے وزن پر مذکر علم)

سلمان، عثمان (زائد الف و نون)

فاطمة، عائشة (مؤنث علم)

2. صفت جو ممنوع من الصرف ہو:

بعض صفات بھی ممنوع من الصرف ہوتی ہیں، جب وہ مخصوص وزن یا صیغہ پر ہوں۔

صفات کو ممنوع من الصرف بنانے کی وجوہات:

صیغہ مبالغہ:مبالغہ کے صیغے جو "أفعل" یا "فعلاء" کے وزن پر ہوں۔

أفعل جیسے: أحمر (سرخ)، أكبر (سب سے بڑا)۔

فعلاء جیسے: حسناء (خوبصورت)، عظمى (سب سے عظیم)۔

صفات جو "فعلان" اور "فعلى" کے وزن پر ہوں: یہ وہ صفات ہیں جو "فعلان" (مذکر) اور "فعلى" (مؤنث) کے وزن پر ہوں۔

فعلان جیسے: غضبان (غصے میں)، عطشان (پیاسا)۔

فعلى جیسے: كبرى (سب سے بڑی)، عظمى (سب سے عظیم)۔

مثالیں:

أحمر (سرخ)، أكبر (سب سے بڑا)۔

غضبان (غصے میں)، عطشان (پیاسا)۔

كبرى (سب سے بڑی)، عظمى (سب سے عظیم)۔

3. منتہی الجموع (جمع مکسر) اور الف تانیث کے صیغے سے ممنوع من الصرف:

منتہی الجموع:منتہی الجموع وہ جمع مکسر ہے جو مخصوص وزن پر ہو اور وہ ممنوع من الصرف ہو۔ جمع مکسر (ٹوٹے ہوئے جمع) میں حروف کے اضافے یا تبدیلیوں کی وجہ سے وہ مخصوص صیغے میں آجاتے ہیں جو ممنوع من الصرف ہوتا ہے۔

منتہی الجموع کی مثالیں:

مساجد (مسجد کی جمع)، مصابيح (چراغ کی جمع)۔

الف تانیث کے صیغے سے ممنوع من الصرف:

الف تانیث والے اسماء وہ اسماء ہوتے ہیں جن کے آخر میں "الف" آتا ہے، اور یہ اسماء مؤنث ہوتے ہیں۔ ایسے اسماء بھی ممنوع من الصرف ہوتے ہیں۔

الف تانیث کی دو اقسام:

الف تانیث مقصورہ:وہ اسماء جن کے آخر میں "الف" ہو اور اس کے بعد کوئی حرف نہ ہو۔

مثالیں: سلمى، ذكرى۔

الف تانیث ممدودہ:وہ اسماء جن کے آخر میں "الف" اور "ہمزہ" ہو۔

مثالیں:صحراء، سماء۔

الف تانیث کے صیغے کی مثالیں:

سلمى (الف تانیث مقصورہ)، صحراء (الف تانیث ممدودہ)۔

خلاصہ:

علم جو ممنوع من الصرف ہو: غیر عربی نام، فعل کے وزن پر مذکر علم، زائد الف و نون والے علم، اور مؤنث علم۔

صفت جو ممنوع من الصرف ہو: مبالغہ کے صیغے (أفعل، فعلاء) اور "فعلان" اور "فعلى" کے وزن پر صفات۔

منتہی الجموع: وہ جمع مکسر جو مخصوص وزن پر ہو۔

الف تانیث کے صیغے: الف تانیث مقصورہ اور ممدودہ والے اسماء۔

8 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱۱

(۱) العَلَمُ الْمَمْنُوعُ مِنَ الصَّرْفِ: علم جو ممنوع من الصرف ہے

يُمْنَعُ العَلَمُ مِنَ الصَّرْفِ (أَيْ التَّنْوِينِ) وَيُجَرُّ بِالفَتْحَةِ نِيَابَةً عَنِ الكَسْرَةِ:

(أ) إِذَا كَانَ مُؤَنَّثًا.

(ب) إِذَا كَانَ أَعْجَمِيًّا.

(ج) إِذَا كَانَ مُرَكَّبًا تَرْكِيبًا مَزْجِيًّا.

(د) إِذَا كَانَ مَزِيدًا فِيهِ أَلِفٌ وَنُونٌ.

(ه) إِذَا كَانَ عَلَى وَزْنِ الفِعْلِ.

(و) إِذَا كَانَ مُذَكَّرًا ثُلَاثِيًّا مَضْمُومَ الأَوَّلِ مَفْتُوحَ الثَّانِي.

علم اس وقت صرف یعنی تنوین سے منع ہوتا ہے اور حالت جر میں اس پر کسرہ کے بدلے فتحہ آتا ہے جبکہ:

(الف) وہ مؤنث ہو۔

(ب) وہ عجمی لفظ ہو۔

(ج) وہ مرکب امتزاجی ہو۔

(د) اس کے آخر میں الف نون زائدہ آئے ہوں۔

(ھ) وہ فعل کے وزن پر آیا ہو۔

(و) وہ مذکر ثلاثی ہو جس کا پہلا حرف مضموم اور دوسرا حرف مفتوح ہو۔

الامثلة

قَرَأَتْ سُعَادُ.

أَثْنَيْتُ عَلَى سُعَادَ.

زُرْتُ لَنْدَنَ.

جَاءَ الطَّالِبُ مِنْ لَنْدَنَ.

شَاهَدْنَا نْيُويُورْك.

ذَهَبَ السَّائِحُ إِلَى نْيُويُورْك.

رَأَيْتُ عُثْمَانَ.

شَكَرْتُ العُثْمَانَ.

جَاءَ أَحْمَدُ.

أَعْطَيْتُ المُكَافَأَةَ لأَحْمَدَ.

اشْتَهَرَ بِعَدْلِهِ عُمَرُ.

اقْتَدَيْتُ بِعُمَرَ.

(۲) الصِّفَةُ الْمَمْنُوعَةُ مِنَ الصَّرْفِ: صفت جو ممنوع من الصرف ہے

تُمنَعُ الصِّفَةُ مِنَ الصَّرْفِ وَتُجَرُّ بِالْفَتْحَةِ نِيَابَةً عَنِ الْكَسْرَةِ:

(أ) إِذَا كَانَتْ عَلَى وَزْنِ "فَعْلَان".

(ب) إِذَا كَانَتْ عَلَى وَزْنِ "أَفْعَل".

(ج) فِي كَلِمَاتٍ مِنْ "أَحَادٍ"، "مَوَحَّدٍ" إِلَى "عِشَارٍ" وَ"مَعْشَرٍ"، وَفِي كَلِمَةِ "أُخَر".

صفت بھی صرف سے ممنوع ہوتی ہے اور حالت جر میں اس پر کسرہ کے بدلے فتحہ آتا ہے بشرطیکہ :

(الف) وہ فعلان کے وزن پر ہو۔

(ب) وہ افعل کے وزن پر آیا ہو۔

(ج) وہ احاد اور موحد سے لے کر عشار اور معشر کا عدد ہو یا کلمہ اُخر ہو۔

الامثلة

الوَلَدُ عَطْشَانُ.

سَقَيْتُ وَلَدًا عَطْشَانَ.

لَا تَبْخَلْ عَلَى عَطْشَانَ

أَنْتَ أَسْبَقُ مِنِّي.

لَمْ يَكُنْ غَيْرُكَ أَسْبَقَ مِنِّي.

لَسْتَ بِأَسْبَقَ مِنْ عَلِيٍّ.

وَقَفَ جُنُودٌ مَثْنَى.

تَقَابَلْتُ مَعَ جُنُودٍ مَثْنَى.

جَاءَ الأَوْلَادُ ثُلَاثَ.

نَظَرْتُ إِلَى أَوْلَادٍ ثُلَاثَ.

دَخَلَ المَدْرَسَةَ بَنَاتٌ أُخَر.

مَرَرْتُ بِبَنَاتٍ أُخَر.

(۳) الممنوع من الصرف لصيغة منتهى الجموع أو ألف التأنيث: منتھی الجموع یا الف تانیث کی وجہ سے ممنوع من الصرف

يُمنَعُ الاسمُ من الصَّرْفِ ويُجَرُّ بالفَتْحَةِ نيابَةً عن الكَسْرَةِ:

(أ) إذا كان على صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِ.

(ب) إذا كان مُخْتَوماً بأَلِفِ التَّأْنِيثِ المَمْدودَةِ.

(ج) إذا كان مُخْتَوماً بأَلِفِ التَّأْنِيثِ المَقْصُورَةِ.

کبھی کبھی ایک اسم صرف سے ممنوع ہو جاتا ہے اور اس پر حالت جر میں بجائے کسرہ کے فتحہ آتا ہے بشرطیکہ:

(الف) وہ منتہی المجموع کا صیغہ ہو۔

(ب) اس کے آخر میں الف تانیث ممدودہ آیا ہو۔

(ج) اس کے آخر میں الف تانیث مقصوره آیا ہو۔

الامثلة

(۱) أُنشِئَتْ مَدارِسُ.

(۲) شاهَدْتُ مَدارِسَ.

(۳) تَعَلَّمْتُ في مَدارِسَ.

(٤) هَذِهِ عَصافيرُ.

(۵) أَطْلَقْتُ عَصافيرَ.

(۶) لا تَلْعَبْ بِمَصافيرَ.

(۷) هَذِهِ صَحْراءُ.

(۸) اخْتَرَقْتُ صَحْراءَ.

(۹) يَمُرُّ الجَمَلُ في صَحْراءَ.

(١٠) الوَلَدُ النَّجيبُ نُعْمى.

(۱۱) ما رَأَيْتُ نُعْمى كالصِّحَّةِ.

(۱۲) قابِلِ النِّعْمَةَ بِنُعْمى.

(٤) جر الممنوع من الصرف بالكسرة: ممنوع من الصرف کو کسرہ کے ذریعہ جر دینا

يُجَرُّ الممنوعُ من الصَّرْفِ بالكَسْرَةِ إذا كان مُضافاً أوْ بَہِ اَلْ

اسم ممنوع من الصرف پر حالت جر میں اس وقت کسرہ آتا ہے جب وہ مضاف ہو یا اس پر ال داخل ہوا ہو۔

الامثلة

۱۔ أَثْنَيْتُ عَلَى أَسْبَقِ اللَّاعِبِينَ.

۲۔ سَلَّمْتُ عَلَى التِّلْمِيذِ الأَسْبَقِ.

۳۔ يَجِبُ الإِكْثَارُ مِنْ مَدَارِسِ الصِّناعَةِ.

۴۔ بِالْمَدَارِسِ تَرْقَى الأُمَمُ.

۵۔ سُرِرْتُ مِنْ عَصَافِيرِ الحَدِيقَةِ.

۶۔ طَرِبْتُ مِنَ العَصَافِيرِ.

۷۔ تَسِيرُ القَوافِلُ بِصَحْرَاءِ العَرَبِ.

۸۔ يَقِلُّ المَاءُ بِالصَّحْرَاءِ.

9 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۲۲

ا۔ اسم کی اصلی حالت یہ ہے کہ اس کے آخر میں تنوین ہو۔ اسم سے تنوین صرف مندرجہ ذیل حالات میں جدا ہو گی۔

ا۔ اسم پر ”ال داخل ہو ۔ جیسے : كتاب سے الكتاب

۲۔ اسم مضاف ہو جیسے : کتاب سے كِتَابُ حَامِدٍ

۔ اسم سے پہلے حرف نداء ہو جیسےأستاذ سے يَا أُسْتَاذُ

بعض اسماء ایسے ہیں جن پر تنوین کبھی نہیں آتی ہے ان کو ممنوع من الصرف (جن پر صرف (تنوین) کا داخل ہونا منع ہے) کہتے ہیں۔

حسب ذیل اسماء ممنوع من الصرف ہیں۔

ا۔ عورتوں کے نام جیسے :زينَبُ ، مَريَمُ، سُعَادُ ، فَاطِمَةُ

۲۔ مردوں کے وہ نام جن کے آخر میں تائے تانیث(ۃ) ہو جیسے : حَمزةُ أَسَامَةُ، طَلْحَةُ

۳۔ جن ناموں کے آخر میں ”ان “ ہو جیسے :عُثْمَانُ، مَرْوَانُ، رَمَضَانُ

۴۔ جو صفت فَعْلانُ کے وزن پر ہو جیسے :جوْعَانُ، كَسَلَانُ، عَطَشَانُ

۵۔ جو نام افعل کے وزن پر ہو جیسے :أَحْمَدُ ، أَنْوَرُ، أَكْبَرُ، أَحْسَنُ

۲۔ جو صفت افعل کے وزن پر ہو جیسے : أحْمَرُ (لال) أبيض(سفيد)، أسوَدُ ، (کالا)

۷۔ علم عجمی (غیر عربی نام) جیسے : وليَمُ، كَشْمِيْرُ ، مَدْرَاسُ، لَنْدَنُ

نوٹ : اگر علم عجمی مذکر سہ حرفی ہو اور اس کا درمیانی حرف ساکن ہو تو اس پر تنوین داخل ہو گی جیسے :نُوْحٌ، لَوْطُ، رَامٌ ، حَانَ ، جُرْج

۔ جمع تکسیر کے بعض اوزان جیسے :

فعَلاء جیسے : زُمَلاء، سُفَرَاءُ، فُقَرَاءُ

- افْعِلاءُ جیسے: أصدقاء أَغْنِيَاءُ

مفاعیلُ اور اس کے مشابہ اور ان جیسے فَنَاجِيْنُ ، فَنَادِيلُ، مَفَاتِيْحُ، أَسَابِيْعُ. ۔

مَفَاعِلُ اور اس کے مشابہ اوزان جیسے : فَنَادِقُ، دَفَاتِرُ، مَكَاتِبُ.

نوٹ : أطباء اصل میں اطبباء تھا۔ ب کو ب میں ادغام کرنے سے اطباء ہو گیا۔

أَقْوِيَاءُ

ممنوع من الصرف اسماء پر جر کے احکام :

ا۔ اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں جو اسم حرف جر کے بعد آئے یا مضاف الیہ ہو وہ مجرور ہوتا ہے اور جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے

اسمائے ممنوع من الصرف پر کسرہ داخل نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ حالت جر میں بھی کسرہ (زیر) کی بجائے فتحہ (زبر) لیتے ہیں۔

حَامِدٌ مِنْ حَامِدٍ كِتَابٌ حَامِدٍ

آمنة مِنْ آمِنَةَ كِتَابُ آمِنَةَ

۲۔ اگر اسمائے ممنوع من الصرف پر ”ال داخل ہو یاوہ مضاف ہوں تو ان پر کسرہ (زیر ) داخل ہو گا۔ جیسے :

صَلَّيْتُ فِي الْمَسَاجِدِ میں نے مسجدوں میں نماز پڑھی

صلَّيْتُ فِي مَسَاجِدِ الْمَدِينَةِ میں نے مدینہ کی مسجدوں میں نماز پڑھی

كَتَبْتُ بِالْقَلَمِ الْأَحْمَرِ میں نے لال قلم سے لکھا

هَذِهِ الدَّفاتِرُ لِز مَلائِكَ یہ کا پیاں تیرے ساتھیوں کی ہے

الْمُهَنْدِسُوْنَ فِي الْفَنَادِقِ انجینئر ہو ٹلوں میں ہیں

10 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۵

فعل کے وزن پر آنے والا اسم علم(نام )ممنوع من الصرف ( غیر منصرف ) ہوتا ہے۔

هبل، رُحَلُ، زُفَرُ

هبل : جاہلیت میں ایک بت کا نام تھا۔

رحل : ایک مشہور سیارہ کا نام ہے۔

رفر : ایک معروف نام ہے۔

اس طرح کے ناموں کو معدول کہا جاتا ہے۔ ایسے اسماء کا اعراب یوں ہوگا :

خَرَجَ عُمَرُ عمر نکلا

سَأَلْتُ عُمَرَ میں نے عمر سے پوچھا۔

كَتَبْتُ إِلَى عُمر میں نے عمر کو لکھا۔

رنگوں پر دلالت کرنے والے چند الفاظ جیسے : أَسْوَدُ، أَحْمَرُ، أَصْفَرُ اور أَبْيَضُ

پڑھ چکے ہیں، یہ واحد مذکر ہیں، ان سے واحد مؤنث کا صیغہ فَعْلَاءُ کے وزن پر آتا ہے جیسے :

أبْيَضُ بَيْضَاءُ :سفید

أسوَدُ سَوْدَاءُ : سیاه

أحْمَرُ حمراء :سرخ

ان میں مذکر اور مؤنث دونوں غیر منصرف ( ممنوع من الصرف ) ہوتے ہیں۔ مؤنث کی مزید چندمثالیں یہ ہیں :

شَعْرُ رَأْسِي أَسْوَدُ وَلِحْيَتِي بَيْضَاءُ میرے سر کے بال سیاہ ہیں اور داڑھی سفید ہے

هَذِهِ الشَّجَرَةُ خَضْرَاءُالسَّمَاءُ زَرْقَاءُ یہ درخت سبز ہےآسمان نیلا ہے

مذکر اور مؤنث دونوں کی جمع فعل کے وزن پر آئی ہے۔ جیسے :

الْهُنُوْدُ الْحُمْرُ سرخ ہندوستانی ( Red Indians )

مَنْ هَؤُلَاءِ الرِّجَالُ السُّودُ وَ أُولئِكَ النِّسَاءُ السُّمْرُ ؟ یہ کالے مرد اور وہ گندمی عورتیں کون ہیں ؟

لفظ عمرو میں لکھا جانے والا واو پڑھا نہیں جاتا ہے، یہ عَمْرُو اور عُمَرُ کے درمیان فرق کرنے کے لئے لکھا جاتا ہے، حالتِ نصب میں یہ واو نہیں لکھا جائے گا، اس لئے کہ یہ سألت عمرا لکھا جاتا ہے اور وہ سألتُ عُمَرَ لکھا جاتا ہے، اس لئے کہ عُمَرُ ممنوع من الصرف ہے اور ممنوع من الصرف پر تنوین نہیں آتی. عَمْرًا

11 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱، ۳۴

غیر منصرف اسماء پر حالت جر میں کسرہ کے بجائے فتحہ داخل ہوتا ہے، جیسے:یہاں هذَا كِتَابُ زَيْنَبَ یہ زینب کی کتاب ہے اس مثال میں زینب مجرور ہونے کے باوجود مفتوح ہے، اس لئے کہ یہ ممنوع من الصرف ہے، یہاں یہ پیش نظر رہے کہ ممنوع من الصرف مجرور اور منصوب دونوں حالتوں میں مفتوح ہوتا ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل مثالوں سے واضح ہوتا ہے:

سَأَلْتُ زَيْنَبَ میں نے زینب سے دریافت کیا۔ یہاں زینب منصوب ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔ ذَهَبْتُ إِلَى زَيْنَبَ میں زینب کے پاس گیا۔ یہاں زینب مجرور ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔

الممنوع من الصرف (غیر منصرف)

أ - ممنوع من الصرف (غیر منصرف) یہ وہ اسم معرب ہے جس پر نوین نہیں آتاہے اس کی دو قسمیں ہیں:

(۱) وہ اسماء جو صرف ایک سبب (علت) کی وجہ سے ممنوع من الصرف ہیں۔

(۲) وہ اسماء جو دوسیبوں ( علتوں) کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔

ایک علت کی وجہ سے غیر منصرف اسماء

وہ علتیں جو تنہا تنوین روکنے کے لئے کافی ہیں وہ یہ ہیں:

(۱) الف تانیث خواہ وہ مقصور ہو جو "ی" لکھا جاتا ہے یا ممدود جو "الف" لکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ہمزہ ہوتا ہے، یہ دونوں تیسرے حرف اصلی کے بعد زیادہ کئے جاتے ہیں، جیسے:

الف مقصوره : مَرْضَى دُنْيَا ، حُبْلَى، هَدَايَا ، فَتَاوَی

یادر ہے کہ فتی : نوجوان ، رحی: چکی، عصا: لاٹھی وغیرہ کلمات منصرف ہیں اس لئے کہ ان میں الف مقصورہ تیسرا حرف اصلی ہے زائد نہیں۔

الف ممدوده: صَحْرَاءُ، حَمْرَاء، أصْدِقَاء فَقَرَاءُ

یادر ہے کہ أَسْمَاء ، آباء، آلاء، أنحاء منصرف ہیں اور أَقْلامٌ، أَولادٌ اور أَحْكام کے طرح افعال کے وزن پر ہیں اور ہمزہ ان کا تیسرا اصلی حرف ہے، زائد نہیں۔

(۲) الجمع المتناهي

(۳) یعنی وہ جمع جو مَفَاعِلُ يا مَفَاعِيْلُ جیسے اوزان پر آئے جیسے: مَسَاجِدُ، مَدَارِسُ ، أَسَاوِرُ، حَدَائِقُ، سَلاسِلُ، أَنامِلُ ، فَنَادِقُ .

مَفَاتِيْحُ، أَسَابِيْعُ، فَنَاجِيْنُ، تَعَابِيْنُ ، مَنَادِيْلُ.

مَفَاعِلُ کے آخر میں ۃ لگ جائے تو وہ غیر منصرف نہیں رہتا، جیسے: أَسَائِدَةٌ، دَكَاتِرَةٌ، تَلَامِذةٌ وغيره منصرف ہیں لیکن ان دونوں وزنوں پر آنے والے مفرد اسماء غیر منصرف ہوتے ہیں، جیسے: طَماطِمُ : ٹماٹر، بَطَاطِسُ : آلو، طَبَاشِيرُ : چاک (chalk) سَرَاوِيْلُ شلوار

دوعلتوں کی وجہ سے غیر منصرف اسماء

اس طرح کے اسماء یا تو علم ہوں گے یا صفت :

علم:

اسم علم میں جب مندرجہ ذیل میں سے کوئی سبب (علت) پایا جائے گا تو وہ غیر منصرف ہو جائے گا: تانیث، جیسے آمِنَةُ، زَيْنَبُ ، حَمْزَةُ ، ملاحظہ ہو کہ حمزہ گرچہ مرد کا نام ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کے آخر میں ہے اس لئے یہ لفظ مونث ہے۔

اگر علم مؤنث تین حرفوں پر مشتمل ہو اور ان کا دوسرا حرف ساکن ہو تو وہ منصرف اور غیر منصرف دونوں طریقے سے استعمال ہو سکتے ہیں لیکن ان کو منصرف استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، جیسے ھند، دَعْد، ریم.

(۲) عجمی ہونا، جیسے: پاکستان، ولیم، ابراهیم، لیکن اگر علم عجمی ثلاثی مساكن الوسط اور مذکر ہوتو وہ منصرف ہو جائے گا، جیسے: نُوحٌ، لفظ، شیث جُرج، خان جب کہ علم بھی ثلاثی مساكن الوسط اگر مونث ہو تو وہ غیر منصرف ہی رہے گا، جیسے : بَلْخُ، حِمْصُ ، نِيْسُ، مُوْشُ، بَاتٌ، بَرْثُ

اگر کوئی عجمی لفظ عربی میں داخل ہونے کے بعد پھر علم بنے تو وہ منصرف ہوگا، جیسے: جوهر جو اصلاً فارسی لفظ ہے اور عربی میں بطور علم استعمال ہوتا ہے۔

) اگر وہ معدول (مبدل ) ہو یعنی فُعلُ کے وزن پر ہو، جیسے: عُمَرُ، زُفَرُ ، رُحَلُ، هُبَلُ

(۴) اگر اس کے آخر میں ایسے الف نون ہوں جو اصلی نہ ہوں ، جیسے: رَمَضَانُ، مَرْوَانُ، شَعْبَانَ، عُثْمَانَ وغيره، حَسَّان چونکہ حُسن سے فَعَّال کے وزن پر ہے اور ن اس کا تیسرا اصلی حرف ہے، زائد نہیں ہے اس لئے اس پر تنوین آتی ہے۔

(۵) اگر علم کسی فعل کے وزن پر ہو، جیسے: أَحْمَدُ، جو أَذْهَبُ کے وزن پر ہے، يَزِيدُ جو يَبيعُ کا ہم وزن ہے۔

(۶) اگر وہ دو اسموں سے مل کر بنا ہو، جس کو مرکب مزجی کہتے ہیں، جیسے: مَعْدِيْكُرِبُ، حَضْرَمَوتُ.

صفت:

ذیل کی صورتوں میں صفت غیر منصرف ہوگی:

(۱) اگر وہ أَفْعَلُ کے وزن پر ہو اور اس کا مؤنث ۃ بڑھا کر نہ بنایا جائے ، جیسے: أَحْمَرُ، أَكْبَرُ جن کا مونث حَمْرَاءُ اور كُبُری ہے جب کہ أَرْمَل (وہ مرد جس کی بیوی مر چکی ہو ) کا مؤنث أَرْمَلَةُ (بیوہ) ہے اس لئے وہ منصرف ہے۔

(۲) وه فَعلان کے وزن پر ہو ، جیسے: جَوْعَانُ ، شَبْعَانُ، عَطْشَانُ، مَلآن.

(۳) اگر وہ معدول ہو، صفت دوصورتوں میں معدول ہو سکتی ہے:

ا۔ وہ عدد جو فعال اور مَفْعَل کے وزن پر ہو، جیسے ثلاث : بیک وقت تین ، رُبَاعُ : بیک وقت چار،مثنی: بیک وقت دو ( دودو) مثلث : بیک وقت تین ( تین تین ) ارشاد الہی ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاث وَرُبَاعَ [النساء : ۳] اور اگر تمہیں یتیموں کے معاملہ میں بے انصافی کا ڈر ہو تو تمہیں جو عورتیں پسند ہیں ان میں سے بیک وقت دو یا تین یا چار سے شادی کرلو۔

۲۔ لفظ أخر جو أُخْرَى کا جمع ہے، ارشادِ ربانی ہے:

وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [البقرة: ۱۸۵] اور جو بیمار یا سفر میں ہو وہ اتنے دن بعد میں روزے رکھ لے۔

ممنوع من الصرف کا اعراب

ممنوع من الصرف کا اعراب ہم پڑھ چکے ہیں، حالت جر میں ایسے اسماء پر فتحہ ہوتا ہے جیسے:

دَرَسْتُ فِي مَدَارِسَ كَثِيرَةِ.:میں نے بہت سے اسکولوں میں پڑھا ہے۔

سَافَرْتُ مِنْ لَنْدَنَ إِلَى بَرْلِيْنَ.: میں لندن سے برلین تک سفر کر چکا ہوں۔

هذِهِ كُتُبُ زَيْنَبَ: یہ زینب کی کتابیں ہیں۔

لیکن ذیل کی دوصورتوں میں اس پر بھی کسرہ آئے گا:

(۱) جب وہ معرف بال ہو، جیسے:

نَزَلْتُ فِي هَذِهِ الْفَنَادِقِ: میں ان ہوٹلوں میں ٹھہر چکا ہوں۔

اكْتُبْ بِالْقَلَمِ الْأَحْمَرِ:سرخ قلم سے لکھو۔

سَلَّمْتُ الرَّغِيْفَ لِلْوَلَدِ الْجَوْعَانِ:میں نے بھو کے لڑکے کو روٹی دے دی۔

قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے:

فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَ الْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُوْنَ [المعارج: ۴۰]

تو نہیں، میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم قدرت والے ہیں۔

۲۔ جب وہ مضاف ہو ، جیسے:

دَرَّسْتُ فِي مَدَارِسِ الْمَدِينَةِ:میں نے مدینہ منورہ کے اسکولوں میں پڑھایا ہے۔

اتَّصَلْتُ بِأصْدِقَاءِ بَلَالٍ: میں نے بلال کے دوستوں سے رابطہ کیا۔

هُوَ مِنْ أَحْسَنِ الطُّلابِ:وہ بہترین طلبہ میں سے ہے۔

ارشاد الہی ہے:

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ [التين: ۴] يقينا ہم نے انسان کو بہترین سانچہ (شکل) پر پیدا کیا ہے۔

نوٹ :۔ الفاظ مَعَانِ، جَوَارٍ، نَوادٍ جو معنی معنی، جَارِيَةٌ : بچی اور نَادِ: کلب کی جمع ہیں مَفَاعِل کے وزن پر ہیں اور ساتھ میں منقوص بھی ہیں، ان کے آخر میں "ی" ہے جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ان پر ال داخل ہو، جیسے: الْمَعَانِي الْجَوَارِي، اَلنَّوَادِي ، یہ جمع متناهی منقوص کہلاتے ہیں، ان پر حالتِ رفع وجر میں تنوین آئے گی ، اس لئے کہ ان کی "ی :حذف ہو جائے گی اور حالت نصب میں ہی لوٹ آئے گی ، اس لئے تنوین حذف ہو جائے گی ، جیسے:

مرفوع : هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَهَا مَعَانٍ كَثِيرَةٌ. اس لفظ کے کئی معنی ہیں ۔

یہاں مَعَانِ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی ي محذوف ہے، اس لئے اس پر اسي کے بدلے تنوین ہے۔

منصوب : أعْرِفُ مَعَانِي كَثِيرَةٌ لِهَذِهِ الْكَلِمَةِ. میں اس لفظ کے بہت سے معنی جانتا ہوں۔

یہاں مَعَانِي مفعول بہ ہو کر منصوب ہے اور اس پر تنوین نہیں ہے اس لئے کہ ي موجود ہے۔

مجرور : تُسْتَعْمَلُ هَذِهِ الْكَلِمَةُ بِمَعَانِ كَثِيرَةٍ. یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

یہاں لفظ معان حرف جر کی وجہ سے مجرور ہے اور اس پر تنوین اس لئے ہے کہ ي محذوف ہے، ایک اور مثال دیکھئے:

مرفوع : تُوجَدُ هُنَا نَوَادٍ مُّخْتَلِفَةٌ. یہاں مختلف کلب (انجمنیں ) موجود ہیں۔

منصوب : أَمَّسَ النَّاسُ نَوَادِيَ مُخْتَلِفَةٌ. لوگوں نے بہت سی انجمنیں بنائی ہیں۔

مجرور : هُوَ عُضْوٌ فِي نَوَادٍ مُّخْتَلِفَةٍ. وہ بہت سی انجمنوں کا رکن ہے۔

12 المفصل۔ سبق:۳

المنصرف وغير المنصرف

والأسم المعرب على نوعين نوع يستوفي حركات الأعراب والتنوين كزيد ورجل ويسمى المنصرف. ونوع يختزل عنه الجر والتنوين لشبه الفعل.

ويحرك بالفتح في موضع الجر كأحمد ومروان إلا إذا أضيف أو دخله لام التعريف ويسمى غير المنصرف، واسم المتمكن يجمعهما. وقد يقال للمنصرف الأمكن.

والأسم يمتنع من الصرف متى اجتمع فيه اثنان من أسباب تسعة أو تكرر واحد منها. وهي العلمية؛ والتأنيث اللازم لفظاً أو معنى في نحو سعاد وطلحة ووزن الفعل الذي يغلبه في نحو أفعل فإنه فيه أكثر منه في الأسم أو يخصه في نحو ضرب إن سمي به والوصفية في نحو أحمر والعدل من صيغة إلى أخرى في نحو عمر وثلاث لأن فيه عدلاً ووصفية، وأن يكون جمعاً في نحو منازل ومصابيح، إلا ما اعتل آخره نحو جوار فإنه في الرفع والجر كقاض وفي النصب كضوارب، وحضاجر وسراويل في التقدير جمع حضجر وسروالة والتركيب في نحو معد يكرب وبعلبك والعجمة في الأعلام خاصة والألف والنون المضارعتان لألفي التأنيث في نحو سكران وعثمان.

إلا إذا اضطر الشاعر يصرف وأما السبب الواحد فغير مانع أبداً. وما تعلق به الكوفيون في إجازة منعه في الشعر ليس بثبت. وما أحد سببيه أو أسبابه العلمية فحكمه الصرف عند التنكير كقولك رب سعاد وقطام لبقائه بلا سبب أو على سبب واحد، إلا نحو أحمر فإن فيه خلافاً بين الأخفش وصاحب الكتاب وما فيه سببان من الثلاثي الساكن الحشو كنوح ولوط منصرف في اللغة الفصيحة التي عليها التنزيل المقاومة السكون أحد السببين. وقوم يجرونه على القياس فلا يصرفونه وقد جمعهما الشاعر في قوله:

لم تتلفع بفضل مئزرها دعد ولم تسق دعد في العلب

وأما ما فيه سبب زائد كماه وجور فإن فيهما ما في نوح ولوط مع زيادة التأنيث فلا مقال في امتناع صرفه، والتكرر في نحو بشرى وصحراء ومساجد ومصابيح نزل البناء على حرف تأنيث لا يقع منفصلاً بحال، والزنة التي لا واحد عليها منزلة تأنيث ثان وجمع ثان.

13 تمارین

14 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱۱

التمرين (۱)

عين في العبارات الاتية كل ممنوع من الصرف مع بيان السبب

۱۔ كانت زينب بنت الحسين افصح من كثير من الرجال

۲۔ اشتهر معاوية بن ابي سفيان بالحلم وكان يزيد ابنه اقل من سياسة وكياسة

۳۔ لا تجادل وانت غضبان ولا تاكل وانت شبعان

۴۔ زحل اسم كوكب وكواكب السماء أكثر من ان تحصى

۵۔ زرت حدائق فيحاء ذات اشجار غناء وازهار كثيرة من حمراء الى صفراء الى زرقاء

۶۔ ليفربول بلد تجاری عظیم

۷۔ كان سحبان من خطباء الدولة الأموية

۸۔ دخل العمال المصنع رباع و مخمس

۹۔ لا تنال حظوى في الحياة ولا تظفر بذكرى حسنة بعدہا الا بخیر العمل وعمل الخير

التمرين (۲)

بين الممنوع من الصرف وغيره من الاسماء الآتية مع ذكر الاسباب، ثم ضع خمسة منها في جمل مفيدة

شعبان ، رمسيس، بستان ، اجمل

مضر ،ابراهيم ، يثرب ، غرف

بتروغراد ، عريان ، كنائس ، جبان

شقراء ، رضوان ، قراطیس ، شکوی

انشاء ، سداس

التمرين (۳)

ضع الاسماء الآتية في جمل مفيدة بحيث تكون مرة مجرورة بالفتحة ومرة مجرورة بالكسرة

افصح ، مناظر ، بيضاء ، احادیث، ظمآن

التمرين (۴)

(۱) كون خمس جمل تشتمل كل واحدة منها . على علم ممنوع من اختلاف نوع الاعلام في جميعها

(۲) كون ثلاث جمل تشتمل كل واحدة منها على صفة ممنوعة من الصرف مع اختلاف نوع الصفة في جميعها

( ۳) كون ثلاث جمل تشتمل كل واحدة منها على صيغة منتهى الجموع

(۴) کون ثلاث جمل تشتمل كل واحدة منها على اسم مختوم بالف التانيث

التمرين في الاعراب (۵)

(الف) نموذج

صليت بمساجد

صلیت ...... صلى فعل ماض مبني على السكون والتاء ضمير فاعل

بمساجد... الباء حرف جزء و مساجد مجرور بالباء وعلامة جره الفتحة نيابة عن الكسرة لأنه ممنوع من الصرف

(ب) اعرب الجمل الاتية

۱- ذهبت الى حلوان

۲۔ عطفت على اسماعيل

۳۔ رد التحية باحسن منها

۴۔ تمتاز مصر بتربة خضراء

15 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

16 وہ صیغے جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں(اسماء مشتقہ)

عربی زبان میں کچھ ایسے صیغے ہیں جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں اور فعل کے معانی یا عمل کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان صیغوں میں سے کچھ اسماء فعل کے فاعل، مفعول یا صفات کو بیان کرتے ہیں، جبکہ کچھ تفضیل اور مبالغہ کے معانی بیان کرتے ہیں۔ یہاں ان صیغوں کی تعریفات بیان کی گئی ہیں:

1. اسم فاعل :اسم فاعل اس شخص یا چیز کو بیان کرتا ہے جو کسی عمل کا انجام دینے والا ہو۔ یعنی یہ فاعل کے معانی میں ہوتا ہے۔

مثال:

"کاتب" (لکھنے والا) - فعل "کتب" (لکھنا) سے۔

"ضارب" (مارنے والا) - فعل "ضرب" (مارنا) سے۔

قاعدہ: ثلاثی مجرد فعل کے لیے اسم فاعل کا وزن "فاعل" ہوتا ہے، جیسے "کاتب" فعل "کتب" سے۔غیر ثلاثی فعل کے لیے، اسے مضارع میں تبدیل کر کے اسم فاعل بنایا جاتا ہے، جیسے "مکرم" فعل "أكرم" سے۔

2. اسم مفعول: اسم مفعول اس شخص یا چیز کو بیان کرتا ہے جس پر کسی عمل کا اثر ہو یا جسے کوئی عمل برداشت کرنا پڑے۔

مثال:

"مکتوب" (لکھا ہوا) - فعل "کتب" سے۔

"مضروب" (مارا ہوا) - فعل "ضرب" سے۔

قاعدہ: ثلاثی مجرد فعل کے لیے اسم مفعول کا وزن "مفعول" ہوتا ہے، جیسے "مکتوب" فعل "کتب" سے۔ غیر ثلاثی فعل کے لیے، اسے ماضی میں تبدیل کر کے اسم مفعول بنایا جاتا ہے، جیسے "مکرم" فعل "أكرم" سے۔

3. صفت مشبہ : صفت مشبہ ایک ایسا اسم ہے جو کسی شخص یا چیز کی دائمی یا مستقل صفت کو بیان کرتا ہے، اور یہ فعل لازم (جو فاعل پر محدود ہو) سے بنایا جاتا ہے۔

مثال:

"حسن" (خوبصورت) - فعل "حسُنَ" سے۔

"طویل" (لمبا) - فعل "طالَ" سے۔

قاعدہ: یہ مختلف اوزان پر آتے ہیں جیسے "فعيل"، "فعل"، "فعلان"، "فعيل" وغیرہ۔ جیسے "کریم"، "عظیم"۔

4. اسم تفضیل : اسم تفضیل ایک ایسا اسم ہے جو دو چیزوں میں سے کسی ایک کی برتری یا کم تری کو بیان کرتا ہے۔ یعنی یہ "زیادہ" یا "کم" کے معانی دیتا ہے۔

مثال:

"أكبر" (بڑا ترین/زیادہ بڑا) - فعل "کبر" سے۔

"أحسن" (زیادہ خوبصورت) - فعل "حسن" سے۔

قاعدہ: اسم تفضیل کا وزن "أفعل" ہوتا ہے، جیسے "أحسن" فعل "حسن" سے۔تفضیل کے بعد مفضل علیہ (جس پر برتری حاصل ہو) عام طور پر "من" کے ذریعے آتا ہے، جیسے "أكبر من زيد"۔

5. اسم مبالغہ: اسم مبالغہ ایک ایسا اسم ہے جو کسی شخص یا چیز کے عمل یا صفت کو حد سے زیادہ بیان کرتا ہے۔ یعنی یہ شدت یا حد سے زیادہ عمل کے معانی میں ہوتا ہے۔

مثال:

"غفار" (بہت زیادہ معاف کرنے والا) - فعل "غفر" سے۔

"رحمن" (بہت زیادہ رحم کرنے والا) - فعل "رحم" سے۔

قاعدہ: اسم مبالغہ مختلف اوزان پر آتا ہے جیسے "فعال"، "مفعال"، "فعول"، "فعیل" وغیرہ۔ جیسے "غفار"، "شکور"۔

6. مصدر :مصدر فعل کے اصلی معنی کو بیان کرنے والا اسم ہے، اور یہ فعل کی جڑ یا اصل ہوتا ہے۔ یہ کسی عمل کے انجام دیے جانے یا وقوع پذیر ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

مثال:

"کتابة" (لکھنا) - فعل "کتب" سے۔

"ضرب" (مارنا) - فعل "ضرب" سے۔

قاعدہ: ثلاثی مجرد فعل کے لیے مصدر کا وزن مخصوص ہوتا ہے، جیسے "کتب" سے "کتابة"۔ غیر ثلاثی فعل کے لیے مصدر کا وزن فعل کی نوعیت کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، جیسے "إكرام" فعل "أكرم" سے۔

خلاصہ:

یہ تمام صیغے فعل کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ اسم فاعل اور اسم مفعول فاعل اور مفعول کے معانی دیتے ہیں، صفت مشبہ اور اسم تفضیل صفات کو بیان کرتے ہیں، اسم مبالغہ شدت کو ظاہر کرتا ہے اور مصدر فعل کے اصل یا بنیادی معنی کو بیان کرتا ہے۔

17 تمرین الصرف۔ سبق:۲۳، ۲۴

اسم فاعل

اسم فاعل وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس سے فعل صادر ہو جیسے نَاصِرٌ(مدد کرنے والا)

جب ماضی تین حرف کا ہوتواسم فاعل فَاعِلٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا)فَتَحَ سے فَاتِحٌ (کھولنے والا،فتح کرنے والا)

اسم فاعل مادہ کے پہلے حرف کے بعد الف زیادہ کرنے سے اور دوسرے حرف کو کسرہ دینے سے بنتاہے جیسے فَعَلَ سے فَاعِلٌ،نَصَرَ سے نَاصِرٌ

اسم فاعل کے چھ صیغے آتےہیں۔تین مذکر کےلئے اور تین مؤنث کے لئے

گردان سے اسکو اچھی طرح سمجھ لیاجائے۔

صیغے:

واحد- مذکر: فَاعِلٌ(کرنے والا ایک مرد)

مؤنث: فَاعِلَۃٌ(کرنے والی ایک عورت)

تثنیہ- مذکر: فَاعِلَانِ(کرنے والے دو مرد)

مؤنث: فَاعِلَتَانِ(کرنے والی دو عورتیں)

جمع - مذکر: فَاعِلُونَ(کرنے والے سب مرد)

مؤنث: فَاعِلَاتٌ(کرنے والی سب عورتیں)

اسم مفعول

اسم مفعول وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس پر فعل واقع ہو جیسے مَنْصُورٌ وہ شخص جس کی مدد کی گئی

تین حرفی ماضی سے اسم مفعول مَفْعُولٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے مَنْصُورٌ (مدد کیا ہوا) فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھولاہوا)عَلِمَ سے مَعْلُومٌ(جاناہوا)

یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو افعال لازم ہیں ان سے مفعول نہیں آتا، اسم مفعول کے بھی چھ صیغے آتے ہیں۔گردان پوری یوں ہوگی۔

صیغے

واحد- مذکر: مَنْصُورٌ(مدد کیاہواایک مرد)

مؤنث: مَنْصُورَۃٌ(مدد کی ہوئی ایک عورت)

تثنیہ- مذکر: مَنْصُورَانِ(مدد کئے ہوئے دومرد)

مؤنث:مَنْصُورَتَانِ(مدد کی ہوئی دو عورتیں)

جمع- مذکر: مَنْصُورُونَ(مدد کئے ہوئے سب مرد)

مؤنث: مَنْصُورَاتٌ(مدد کی ہوئی سب عورتیں)

اسم تفضیل

وہ اسم ہے جس سے کسی شی میں کسی صفت کی زیادتی بہ مقابلہ دوسری شے کے معلوم ہو جیسے اعلمُ (زیادہ جاننےوالا)اَکْبَرُ(زیادہ بڑا)

اسم تفضیل کا صیغہ واحد مذکر افعل کے وزن پر اور واحد مؤنث کا فُعْلٰی کے وزن پر آتاہے، اسکے آخر میں تنوین نہیں آتی گردان یوں ہوگی۔

مذکر

واحد: اَفْعَلُ زیادہ کرنے والاایک مرد

تثنیہ: اَفْعَلَانِ زیادہ کرنے والے دو مرد

جمع: اَفْعَلُونَ زیادہ کرنے والے سب مرد

جمع: اَفَاعِلُ زیادہ کرنے والے سب مرد

مؤنث

واحد: فُعْلٰی زیادہ کرنے والی ایک عورت

تثنیہ: فُعْلَیَانِ زیاد کرنے والی دو عورتیں

جمع: فُعْلَیَاتٌ زیادہ کرنے والی سب عورتیں

جمع: فُعَلٌ زیادہ کرنے والی سب عورتیں

اگر ماضی سہ حرفی نہ ہو تو اس سے اسم تفضیل نہیں آئے گا۔

اسم مبالغہ

جس صیغہ سے مصدری معنٰی کی زیادتی سمجھی جائے وہ اسم مبالغہ ہے جیسے عَلَّامٌ (بہت جاننے والا)جَھُولٌ(بہت جاہل)

اگرچہ اسم تفضیل میں بھی مصدری معنٰی کی زیادتی پائی جاتی ہے لیکن وہ زیادتی کسی کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔اور مبالغہ میں مقابلہ نہیں ہوتا جیسے عَلَّامٌ(بہت جاننے والا)اور اسم تفضیل میں جیسے (اَعْلَمُ مِنْ زَیْدِ)بہ نسبت زید کے زیادہ جاننے والا)

مبالغہ کے تمام اوزان سماعی ہیں جن میں کثیرالاستعمال یہ ہیں

اوزان مثالیں

فَعَّالٌ۔فَعَّالَۃٌ : سَفَّاکٌ(بڑاخوں ریز) عَلَّامَۃٌ(بہت جاننے والا)

فَعَّالٌ۔فِعِّیْلٌ : کَبَّارٌ(بہت بڑا) صِدِّیْقٌ(بہت سچا)

فَعُّولٌ : قَیُّومٌ(خوب قائم رہنے والا)اور(قائم رکھنے والا)

فُعُّولٌ۔فُعَالٌ: قُدُّوسٌ(بڑاپاک) عُجَابٌ(بہت عجیب)

فَاعُولٌ۔فُعَلَۃٌ: فَارُوقٌ(بہت فرق کرنے والا) ھُمَزَۃٌ(بڑاعیب نکالنے والا)

فَعِلٌ۔فَعِیْلٌ: حَذِرٌ(بہت بچنے والا)عَلِیْمٌ(بہت جاننے والا)

فَعُولٌ۔مِفْعَلٌ: اَکُولٌ(بہت کھانے والا) مِجْزَرٌ(بہت کاٹنے والا)

مِفْعَالٌ۔مِفْعِیْلٌ: مِنْعَامٌ(بہت انعام دینے والا) مِنْطِیْقٌ(بہت بولنے والا)

اوزان مبالغہ میں تذکیر وتانیث کا فرق نہیں ہوتا۔

صفت مشبہ

صفت مشبہ وہ اسم ہے جو فعل لازم سے بنایاجائے،اور اس ذات کوبتائے جس میں کوئی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے جیسے صَادِقٌ (سچا)اس شخص کو کہیں گے جس میں سچائی کی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے۔

اس کے کئی وزن ہیں،بعض کثیر الاستعمال ہیں ان کو بیان کیاجاتاہے۔

۱۔فَعِیْلٌ جیسے سَعِیْدٌ(نیک بخت)

۲۔فَعُولٌ جیسے وَقُورٌ(صاحب وقار)

۳ْ۔فَعْلَانُ جیسے تَعْبَانُ(تھکاہوا)غَضْبَانُ(غصہ میں بھراہوا)فَرْحَانُ(خوش)

۴۔فَاعِلٌ جیسے عَادِلٌ،عَالِمٌ،جَاھِلٌ،صَادِقٌ

جو افعال رنگ یا عیب ظاہری یا حلیے کے معنٰی رکھتے ہوں ان کے اوزان اس طورپرہوتے ہیں۔

واحد مذکر: اَفْعَلُ: اَحْمَرُ(سرخ) اَسْوَدُ(سیاہ) اَبْیَضُ(سفید) اَصَمُّ(بہرا) اَعْمٰی(اندھا)

واحد مؤنث: فَعْلَاءُ: حَمْرَاءُ سَوداءُ بَیْضَاءُ صَمَّاءُ عَمْیَاءُ

جمع مذکرومؤنث: فُعْلٌ: حُمْرٌ سُودٌ بِیْضٌ صُمٌّ عُمْیٌ

مصدر

وہ اسم ہے جس سے افعال اور اسماءِ مشتقہ نکلیں(اردو میں مصدر کے ترجمہ کے آخر میں نا آتاہے جیسے نصرٌ(مددکرنا)ضربٌ(مارنا)

18 تمارین

19 تمرین الصرف۔ سبق:۲۳، ۲۴

اسم فاعل

ذَھَبَ۔عَبَدَ۔عَلِمَ۔جَلَسَ۔سَئَلَ سے اسم فاعل کی گردان کرو،اورمعنی اور صیغوں کے ساتھ لکھو۔

صیغے اور معنٰی بتاؤ:

ذَاھِبُوۡنَ ذَاھِبَۃٌ عَابِدَاتٌ عَابِدُونَ جَالِسَتَانِ جَالِسَانِ

عَالِمَانِ عَالِمَتَانِ سَائِلُوۡنَ سَائِلَاتٌ ذَاھِبَانِ ذَاھِبَتَانِ

عربی بناؤ:

سب کرنے والے مرد۔ سب کرنے والی عورتیں۔ عبادت کرنے والی دوعورتیں۔بیٹھنے والا۔پوچھنے والی دو عورتیں۔ پوچھنے والے دو مرد۔جاننے والی ایک عورت۔ جاننے والے سب مرد

اسم مفعول

سَئَلَ۔ضَرَبَ۔قَتَلَ۔رَزَقَ۔عَرَفَ سے اسم مفعول گردانوں مع معنٰی اور صیغوں کے کاپی پر لکھو:

صیغے اور معانی بتاؤ:

مَسْئُوۡلَتَانِ مَسْئُوۡلُوۡنَ مَضْرُوۡبَاتٌ مَقْتُوۡلُوۡنَ مَقْتُوۡلَۃٌ مَرْزُوۡقَاتٌ مَرْزُوۡقَانِ مَعْرُوۡفَتَانِ مَعْرُوۡفُوۡنَ مَسْئُوۡلَاتٌ مَعْرُوۡفُوۡنَ مَسْئُوۡلَاتٌ مَعْلُوۡمَۃٌ مَعْلُوۡمَاتٌ مَفْتُوۡحَاۡنِ مَفْتُوۡحَاۡتٌ

عربی بناؤ:

دومظلوم مرد۔سب مظلوم عورتیں،دو مظلوم عورتیں،پوچھی ہوئی سب عورتیں،پوچھے ہوئےسب مرد،

سب مقتول عورتیں۔دو مقتول مرد۔ دو مقتول عورتیں۔رزق دی ہوئی سب عورتیں۔رزق دئے ہوئے سب مرد۔

اسم تفضیل

ضَرَبَ۔نَصَرَ۔عَلِمَ۔سَمِعَ۔کَرُمَ سے اسم تفضیل گردانو،مع معنٰی و صیغے کاپی پر لکھو:

صیغے اور معنٰی بتاؤ:

ضُرَبٌ۔اَضَارِبُ۔نُصْرٰی۔اَنْصَرَانِ۔اَنَاصِرُ۔عُلْمَیَانِ۔سُمْعَیَاتٌ۔اَکۡرَمَانِ۔اَکۡرَمُوۡنَ۔نُصْرَیَاتٌ۔اَنْصَرُ۔کُرمٰی۔

عربی بناؤ:

حامد محمود سے بڑاہے۔یہ قلم پنسل سے چھوٹاہے۔یہ عورتیں مردوں سے زیادہ عبادت کرنے والی ہیں۔زینب فاطمہ سے زیادہ علم والی ہے۔وہ دو عورتیں تم سے زیادہ سننے والی ہیں۔میری کتاب کاپی سے زیادہ قیمتی ہے۔گھوڑا سب جانوروں سے تیز ہے۔قرآن مجید سب کتابوں سے زیادہ فضیلت والاہے۔

اسم مبالغہ

عربی بناؤ:

سید سلیمانؒ بہت بڑے عالم تھے۔یہ چیز بہت عجیب ہے۔اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والاہے۔ہلاکو بہت خوں ریز آدمی تھا۔بیل بہت کھانے والا جانورہے۔اللہ تعالٰی پاک ہےاور وہ آسمانوں اور زمینوں کو قائم رکھنے والا ہے۔حامد بہت بات کرنے والا لڑکاہے۔

صفت مشبہ

عربی بناؤ:

آسمان نیلاہے۔یہ پہاڑسیاہ ہیں۔میں نے ایک کالی بکری دیکھی۔سرخ گائے ذبح کردی گئی۔یہ کپڑے سفید ہیں۔ایک اندھا سڑک پر گرگیا۔تھکے آدمی کی مدد کرو۔احمد کل خوش تھا۔اورنگ زیب انصاف پسند بادشاہ تھے۔یہ درخت سبزہیں۔یہ قلم سرخ ہیں۔میرا جوتا سفید تھا۔مسلمان سچ بولنے والاہے۔

20 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

21 توابع

22 (نعت ، توکید ، بدل ، عطف)

توابع عربی زبان میں ایسے اسماء یا الفاظ کو کہتے ہیں جو اپنے ماقبل اسم کی پیروی کرتے ہیں۔ یعنی ان کی حالت، اعراب، تعداد، اور جنس ماقبل اسم کے مطابق ہوتی ہے۔ توابع کا مقصد جملے کے اجزاء کے درمیان ہم آہنگی اور ربط پیدا کرنا ہوتا ہے۔ توابع کی چار قسمیں ہیں:

۱۔ نعت

۲۔ توکید

۳۔ بدل

۴۔ عطف

خلاصہ:

توابع ایسے الفاظ ہیں جو اپنے ماقبل اسم کی پیروی کرتے ہیں۔ ان میں نعت (صفت)، عطف بیان (وضاحت)، عطف نسق (ربط)، توکید (تاکید) اور بدل (تبدیلی) شامل ہیں۔ یہ الفاظ جملے کو مزید تفصیل اور وضاحت دینے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

23 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

24 نعت (مرکب توصیفی)

نعت وہ تابع ہوتا ہے جو اپنے ماقبل اسم (منعوت) کی صفت بیان کرتا ہے۔ نعت اپنے منعوت کی حالت، اعراب، جنس اور تعداد میں اس کی پیروی کرتا ہے۔

مثال:

جاءَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ (نیک آدمی آیا)

یہاں "الصَّالِحُ" نعت ہے اور "الرَّجُلُ" منعوت ہے۔

25 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۷

النَّعْتُ لَفْظٌ يَدُلُّ عَلَى صِفَةٍ فِي اِسْمٍ قَبْلَهُ وَيُسَمَّى الِاسْمُ الْمَوْصُوفُ مَنْعُوتًا.

النَّعْتُ يَتْبَعُ الْمَنْعُوتَ فِي رَفْعِهِ وَنَصْبِهِ وَجَرِّهِ.

نعت وہ لفظ ہے جو اپنے سے پہلے والے اسم کی صفت بتائے اس سے پہلے والے اسم کو منعوت کتے ہیں۔

نعت اعراب یعنی رفع نصب اور جر میں اپنے منعوت کے تابع ہوتا ہے۔

الْأَمْثِلَةُ:

هَذَا كِتَابٌ مُفِيدٌ.

قَرَأْتُ كِتَابًا مُفِيدًا.

نَظَرْتُ فِي كِتَابٍ مُفِيدٍ.

هَذَا مَيْدَانٌ فَسِيحٌ.

رَأَيْتُ مَيْدَانًا فَسِيحًا.

جَرَيْتُ فِي مَيْدَانٍ فَسِيحٍ.

26 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۲

النعت الحقيقي والسببي: نعت حقیقی اور سببی

النَّعْتُ نَوْعَانِ: حَقِيقِيٌّ وَسَبَبِيٌّ، فَالْحَقِيقِيُّ مَا دَلَّ عَلَى صِفَةٍ فِي نَفْسِ مَتْبُوعِهِ، وَالسَّبَبِيُّ مَا دَلَّ عَلَى صِفَةٍ فِي اسْمٍ لَهُ ارْتِبَاطٌ بِالْمَتْبُوعِ.

نعت کی دو قسمیں ہیں: حقیقی اور سببی۔

نعت حقیقی وہ ہے جو ایسی صفت پر دلالت کرے جو متبوع کی ذات میں موجود ہو۔

نعت سببی وہ ہے جو ایسی صفت کی نشاندہی کرے جو کسی ایسے اسم میں پائی جائے جس کا متبوع سے تھوڑا بہت تعلق ہو۔

الامثلة

(۱) جاء الرَّجُلُ المُهَذَّبُ ..

(۲) حَضَرَتِ السَّيِّدَةُ العاقِلَةُ .

(۳) رَكِبْتُ الحِصَانَ الْجَمِيلَ .

( ٤ ) أقَمْتُ فِي المَنْزِلِ الفِسِيْحِ .

(۱) جاء الرَّجل المهذَّبُ أَخُوهُ .

(۲) حَضَرَتِ السَّيدةُ العَاقِلَةُ أمُّهَا.

(۳) ركبْتُ الْحِصَانَ الجَميلَ سَرْجُهُ .

(٤) أَقَمْتُ ِي المَنْزِلِ الفِسِيْحِ فناؤُهُ .

مطابقة النعت للمنعوت: نعت اور منعوت میں مطابقت

النَّعْتُ بِنَوْعَيْهِ يَتْبَعُ مَنْعُوتَهُ في رَفْعِهِ وَنَصْبِهِ وَجَرِّهِ، وَفي تَعْرِيفِهِ وَتَنْكِيرِهِ.

النَّعْتُ الحَقِيقِيُّ يَتْبَعُ مَنْعُوتَهُ فَوْقَ مَا تَقَدَّمَ في إِفْرَادِهِ وَتَثْنِيَتِهِ وَجَمْعِهِ، وَتَذْكِيرِهِ وَتَأْنِيثِهِ.

النَّعْتُ السَّبَبِيُّ يَكُونُ مُفْرَدًا، وَيُرَاعَى في تَذْكِيرِهِ وَتَأْنِيثِهِ مَا بَعْدَهُ.

نعت حقیقی اور سببی دونوں اپنے منعوت کے ساتھ رفع، نصب، جر اور تعریف و تنکیر میں مطابق ہوتے ہیں۔

نعت حقیقی مذکورہ بالا باتوں کے علاوہ افراد تثنیه جمع اور تذکیر و تانیث میں بھی اپنےمنعوت کے موافق آتے ہیں۔

نعت سببی مفرد آتے ہیں اور تذکیر و تانیث میں اپنے مابعد اسم کے مطابق ہوتےہیں۔

الامثلة

(نعت الحقيقي)

هذا مَنْزِلٌ ضَيِّقٌ.

تَسَلَّقْتُ شَجَرَةً غَلِيظَةً.

جَلَسْتُ في السَّرادِقِ الفَاخِرِ.

هاتانِ صُورَتَانِ جَمِيلَتَانِ.

اشْتَرَيْتُ بِسَاطَيْنِ شَرْقِيَّيْنِ.

عَثَرْتُ بِطَائِرَيْنِ غَرِيبَيْنِ.

هَؤُلاءِ بَنَاتٌ عَاقِلاتٌ.

عَاشَرْتُ إِخْوَانًا مُوسِرِينَ.

أَشْفَقْتُ عَلَى الصِّبْيَةِ الْمُعْدِمِينَ.

(نعت السببي)

هذا مَنْزِلٌ ضَيِّقٌ فَنَاؤُهُ.

تَسَلَّقْتُ شَجَرَةً غَلِيظًا جِذْعُهَا.

جَلَسْتُ في السَّرادِقِ الفَاخِرَةِ أَرَائِكَُهُ.

هاتانِ صُورَتَانِ جَمِيلٌ إِطَارَاهُمَا.

اشْتَرَيْتُ بِسَاطَيْنِ شَرْقِيًّا نَقْشُهُمَا.

عَثَرْتُ بِطَائِرَيْنِ غَرِيبٍ شَكْلُهُمَا.

هَؤُلاءِ بَنَاتٌ عَاقِلَةٌ أُمَّهَاتُهُنَّ.

عَاشَرْتُ إِخْوَانًا مُوسِرًا آبَاؤُهُمْ.

أَشْفَقْتُ عَلَى الصِّبْيَةِ الْمُعْدِمِ أَهْلُوهُمْ.

النعت حين يكون جملة: نعت جب جملہ واقع ہو

اَلجُمَلُ بَعْدَ النَّكِرَاتِ صفاتٌ، وبَعْدَ المَعَارِفِ أحوالٌ.

نکرہ کے بعد آنے والے جملے ” صفات“ ہوتے ہیں اور معرفہ کے بعد آنے والے جملے ” حال“ ہوتے ہیں۔

الامثلة

(۱) هَذَا عَمَلٌ نَافِعٌ

(۲) أَبْصَرْتُ رَجلاً سابحاً .

(۳) نَظَرْتُ إِلى سَفِينَةٍ غارقة .

(٤) مَضَى يَوْمٌ شَدِيدُ الْحَرِّ .

(٥) أَوْقَدْتُ مِصْباحًا قوى النُّور .

(۶) نَصِيدُ في بِركَةٍ كَثِيرَةِ السَّمكِ .

(۱) هَذَا عَمَلٌ يَنْفَعُ .

(٢) أَبْصَرْتُ رَجُلاً يَسْبَحُ .

(۳) نَظَرْتُ إِلَى سَفِينَةٍ تَغرقُ .

(٤) مَضَى يَوْمٌ حَرَّهُ شَدِيدٌ .

(٥) أَوْ قَدْتُ مِصْباحًا نُورُهُ قوى.

(۶) نَصِيدُ في بِركَةٍ سَمَكُهَا كَثِيرٌ .

27 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۴

مرکب توصیفی

مرکب توصیفی ایسے مرکب کو کہتے ہیں جس میں کسی اسم (اسم ذات) کی کوئی صفت یا حالت یا کیفیت وغیرہ بیان کی گئی ہو۔

جیسے الْمَاءُ الْعَذْبُ (میٹھا پانی)، الْهَوَاءُ الْبَارِدُ (ٹھنڈی ہوا)، الْوَلَدُ الْمُجْتَهِدُ (محنتی لڑکا)، محمود الخطيب (مقرر محمود) وغیرہ۔

(۱) مرکب توصیفی کا پہلا جز موصوف اور دوسرا صفت کہلاتا ہے۔

(۲) موصوف ہمیشہ اسم ذات اور صفت عموماً اسم صفت ہوا کرتا ہے۔

(۳) مرکب توصیفی یعنی موصوف وصفت کے درمیان حسب ذیل باتوں میں پوری مطابقت ہوتی ہے اور وہ یہ ہیں

(1) اعراب (۲) تعریف و تنکیر (۳) تذکیر و تانیث (۴) واحد تثنیه اور جمع۔ البته موصوف اگر کسی غیر عاقل کی جمع ہو تو صفت عموماً واحد مؤنث ہی آتی ہے جیسے الشَّجَرَات الطويلۃ اور کبھی مطابقت کے لئے الطويلات بھی کہتے ہیں۔

حاشیہ :

اسم ذات سے مراد وہ لفظ ہے جو کسی شے کے محض وجود کو بتائے جیسے اوپر کی مثالوں میں الماءُ، الْهَوَاء، محمود کہ یہ پانی، ہوا لڑکا محمود کے محض وجود اور ان کی ذات پر دلالت کرتے ہیں۔

اسم صفت کسی چیز کی اچھائی، برائی، حالت و کیفیت اور صفت پر دلالت کرتا ہے جیسے العَذبُ، الْبَارِدُ، المجتهد اور الخطیب یہ چاروں الفاظ حالت و کیفیت کو بتا رہے ہیں۔

اسم صفت کی پانچ قسمیں ہیں اسم فاعل جیسے: عالم، اسم مفعول جیسے: معلوم، صفت مشبه جیسے: عليم ( جاننے والا)، اسم تفضیل جیسے اعلم( زیادہ جاننے والا )، اسم مبالغہ جیسے: علام اور علامۃ (بہت جاننے والا )

صفت عموماً انہی اسماء صفات سے لائی جاتی ہے مگر کبھی صفت کے لئے جملہ یا شبہ جملہ بھی آتا ہے۔

28 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

النعت

النعت: تابع متمم لمتبوعه بدلالته على صفة فيه ، نحو: جاء الرجل العالم . ويقال له النعت الحقيقي۔ أو بدلالته على صفة فيما يتعلق به نحو: جاء رجل عالم أبوه . ويقال له النعت السببي ففي المثال الأول "الرجل" وفي الثاني "رجل" متبوع منعوت مرفوع و "العالم" في الأول، و "عالم في الثاني تابع نعت مرفوع مثله.

أحكام المنعوت

لا يكون المنعوت إلا اسما ظاهرا. إن كان المنعوت معرفة كان نعته للإيضاح ( وهو التمييز بين المشتركين في الاسم) نحو: جاء يوسف التاجر.

إن كان المنعوت نكرة كان نعته للتخصيص (وهو تقليل الاشتراك) نحو: جاء رجل عالم. يكثر حذف المنعوت إذا ظهر أمره ظهورا يستغنى معه عن ذكره نحو قوله تعالى : وعندهم قاصرات الطرف عين أي: نساء قاصرات الطرف.

أحكام النعت:

الأصل في النعت أن يكون مشتقا لكي يتحمل ضميرا يعود إلى المنعوت (والمراد بالمشتق: مادل على حدث وصاحبه، وهو اسم الفاعل، واسم المفعول، والصفة المشبهة، وأفعل التفضيل وصيغ المبالغة )

قد يأتي النعت اسما جامدا مؤولا بالمشتق في المعنى، نحو: عندي رجل أسد، أي: شجاع. ويأتي النعت أيضا جملة اسمية أو فعلية، بشرط أن تكون خبرية مشتملة على ضمير يعود إلى المنعوت، غير مقترنة بالواو ، وبشرط أن يكون المنعوت نكرة لأن الجملة تؤول بالنكرة، نحو: جاء أستاذ تلاميذه مجتهدون، وجاء رجل يحمل كتابا، أي: مجتهد تلاميذه، وحامل كتابا.

مطابقة النعت للمنعوت

النعت الحقيقي يطابق منعوته في أربعة من عشرة : (۱) في واحد من الرفع والنصب والجر، (۲) وفي واحد من الإفراد والتثنية والجمع، (۳) وفي واحد من التعريف والتنكير، (٤) وفي واحد من التذكير والتأنيث، نحو: جاء رجل عالم، رأيت المرأة العالمة، استفدت من الرجلين العالمين، وجاء رجال عالمون الخ .

النعت السببي يطابق منعوته في اثنين من خمسة ، (۱) في واحد من الرفع والنصب والجر، وفي واحد من التعريف والتنكير، ويوافق ما بعده في التذكير والتأنيث، ويلزم الإفراد دائما وإن كان ما بعده مثنى أو جمعا نحو : جاء الرجل الكريم أبوه، ورأيت امرأة كريما أبوها، جاء الرجل الكريمة أمه، ونظرت إلى الرجال الكريمة أمهم الخ

النعت (صفت)

النعت: وہ تابع ہے جو اپنے متبوع (منعوت) کی تکمیل کرتا ہے اور اس کی کسی صفت کو ظاہر کرتا ہے، جیسے: "جاء الرجل العالم" (عالم آدمی آیا)۔ اسے نعت حقیقی کہا جاتا ہے۔ یا پھر یہ کسی ایسی صفت کو ظاہر کرتا ہے جو اس سے متعلق ہو، جیسے: "جاء رجل عالم أبوه" (ایک آدمی آیا جس کا باپ عالم ہے)۔ اسے نعت سببی کہا جاتا ہے۔

پہلے جملے میں "الرجل" اور دوسرے میں "رجل" متبوع (منعوت) مرفوع ہیں، اور "العالم" پہلے جملے میں اور "عالم" دوسرے جملے میں نعت مرفوع ہیں، جو اپنے منعوت کی پیروی کرتے ہیں۔

منعوت کے احکام:

منعوت ہمیشہ ظاہر اسم ہوتا ہے۔

اگر منعوت معرفہ ہو تو نعت وضاحت کے لیے ہوتا ہے، تاکہ نام کے اشتراک والے افراد میں فرق کیا جا سکے، جیسے: "جاء يوسف التاجر" (یوسف تاجر آیا)۔

اگر منعوت نکرہ ہو تو نعت تخصیص کے لیے ہوتا ہے، تاکہ اشتراک کم ہو، جیسے: "جاء رجل عالم" (ایک عالم آدمی آیا)۔

منعوت کا حذف عام ہے اگر اس کا ظاہر ہونا اتنا واضح ہو کہ اس کا ذکر غیر ضروری ہو، جیسے قرآن کی آیت "وَعِندَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ" (ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہیں)۔ یہاں "نساء" (عورتیں) کا ذکر حذف ہے۔

نعت کے احکام:

نعت کا اصل مشتق ہونا ہے تاکہ وہ ضمیر کو اپنے منعوت کی طرف لوٹا سکے۔ مشتق سے مراد وہ الفاظ ہیں جو کسی فعل اور اس کے فاعل کو ظاہر کرتے ہیں، جیسے: اسم فاعل، اسم مفعول، صفت مشبہ، اسم تفضیل اور مبالغہ کے صیغے۔

نعت کبھی اسم جامد بھی ہو سکتا ہے، جو اپنے معنی میں مشتق ہو، جیسے: "عندي رجل أسد" (میرے پاس ایک شیر آدمی ہے)، یعنی شجاع (بہادر)۔

نعت جملہ بھی ہو سکتا ہے، اس صورت میں یہ جملہ اسمیہ یا فعلیہ ہوتا ہے، بشرطیکہ اس میں ضمیر ہو جو منعوت کی طرف لوٹے، اور وہ واو کے ساتھ نہ ہو۔ نیز، منعوت نکرہ ہونا چاہیے کیونکہ جملہ بھی نکرہ میں تبدیل ہوتا ہے، جیسے: "جاء أستاذ تلاميذه مجتهدون" (وہ استاد آیا جس کے شاگرد محنتی ہیں)، یا "جاء رجل يحمل كتابا" (وہ آدمی آیا جو کتاب اٹھائے ہوئے ہے)۔

نعت اور منعوت کی مطابقت:

نعت حقیقی اپنے منعوت سے چار باتوں میں مطابقت رکھتا ہے:

اعراب (رفع، نصب، جر)

واحد، تثنیہ اور جمع

تعریف اور تنکیر

تذکیر اور تانیث

جیسے: "جاء رجل عالم" (ایک عالم آدمی آیا)، "رأيت المرأة العالمة" (میں نے عالمہ عورت کو دیکھا)، "استفدت من الرجلين العالمين" (میں نے دو عالم آدمیوں سے فائدہ اٹھایا)۔

نعت سببی اپنے منعوت سے دو باتوں میں مطابقت رکھتا ہے:

اعراب (رفع، نصب، جر)

تعریف اور تنکیر

اور یہ اپنے بعد والے لفظ کے تذکیر و تانیث میں مطابقت رکھتا ہے، اور ہمیشہ واحد رہتا ہے چاہے بعد والا لفظ مثنی یا جمع ہو، جیسے: "جاء الرجل الكريم أبوه" (وہ آدمی آیا جس کا باپ کریم ہے)، "رأيت امرأة كريما أبوها" (میں نے اس عورت کو دیکھا جس کا باپ کریم ہے)۔

29 تمارین

30 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۴

اَلتَّمْرِيْنُ (5)

تعریف وتنکیر میں موصوف وصفت کی مطابقت۔

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلْبُسْتَانُ الْجَمِيْلُ

(2) اَلْغُصْنُ الْاَخْضَرُ

(3) اَلْوَرَقُ النَّاعِمُ

(4) ثَوْبٌ رَخِيْصٌ

(5) قَلَمٌ ثَمِيْنٌ

(6) اَلرِّدَاءُ الْخَشِنُ

(7) اَلْمَطَرُ الْغَزِيْرُ

(8) اَلسَّحَابُ الْكَثِيْفُ

(9) تِلْمِيْذٌ مُجْتَهِدٌ

(10) اَلْفَلَّاحُ الْكَسْلاَنُ

(11) اَلْقِطَارُ السَّرِيْعُ

(12) فَرَسٌ بَطِيْءٌ

(13) اَلتُّفَّاحُ الْحُلْوُ

(14) اَللَّيْمُوْنُ الْحامِضُ

(15) اِقْبَالُنِ الشَّاعِرُ

(16) اَلدِّيْنُ القَيِّمُ

اَلتَّمْرِيْنُ (6)

مندرجہ ذیل الفاظ سے مرکب توصیفی کے جملے لکھو:

طَائِرٌ ، اَلْبَابُ ، اَلْجَدِيْدُ ، وَلَدٌ، اَلسَّرِيْعُ ، اَلنَّاعِمُ ، اَلْكَبِيْرُ

شُبَّاكٌ ، اَلْكِتَابُ، اَلْمَسْجِدُ ، جَمِيْلٌ ، صَغِيْرٌ، اَلْفِرَاشُ ، اَلثَّوْبُ

مَفْتُوحٌ ،اَلْمُغْلَقُ، صَالِحٌ ، اَلْحِصَانُ ، بَيْتٌ ، اَلْخَلَقُ (پرانا)

اَلتَّمْرِيْنُ (7)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) ٹھنڈا پانی

(۲) صاف ہوا

(۳) میٹھا پھل

(۴) سرخ روشنائی

(۵) سیاہ پنسل

(۶) ایک خوبصورت پرندہ

(۷) ایک قیمتی ہار

(۸) موٹا بیل

(۹) ایک تیزرفتار گھوڑا

(۱۰) چوڑی سڑک

(۱۱) ایک نیک لڑکا

(۱۲) ایک اچھی کتاب

(۱۳) محنتی طالب علم

(۱۴) مہربان استاد

(۱۵) شاہد ادیب

(۱۶) آخری نبی

(۱۷) محمد ﷺ رسول

(۱۸) سچا رسول

اَلتَّمْرِيْنُ (8)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلْحَدِيْقَةُ الْجَمِيْلَةُ

(2) اَلشَّجَرَةُ الْمُثْمِرَةُ

(3) وَرْدَةٌ حَمْرَاءُ

(4) اَلطَّعَامُ الشَّهِيُّ

(5) لَحْمٌ طَرِيٌّ

(6) خُبْزٌ بَائِتٌ

(7) اَلْفِضَّةُ الْبَيْضَاءُ

(8) اَلْفَاكِهَةُ الْفِجَّةُ

(9) زَهْرَةٌ مُفَتَّحَةٌ

(10) ثَمَرٌ نَاضِجٌ

(11) اَلسَّمَاءُ الصَّافِيَّةُ

(12) بِنْتٌ جَمِيْلَةٌ

(13) خَدِيْجَةُ الْعَالِمَةُ

(14) حَمِيْدَةُ الْخَرْقَاءُ

اَلتَّمْرِيْنُ (9)

خالی جگہیں پر کرو:

(۱) اَللَّيْلُ __________

(2) اَلْبُسْتَانُ __________

(3) اَلسَّاعَةُ ___________

(4) طَاوِلَةٌ ___________

(5) كُرْسِيٌّ ___________

(6) اَلسَّبُّوْرَةُ ___________

(7) سَعِيْدٌ ___________

(8) اَلْعِقْدُ ___________

(9) اَلْمِصْبَاحُ __________

(10) سَيَّارَةٌ __________

(11) اَلْمَنَارَةُ ____________

(12) اَلْبَقَرَةُ ___________

(13) شَاةٌ ___________

(14) فَاطِمَةُ ____________

اَلتَّمْرِيْنُ (10)

خالی جگہیں پر کرو:

(1) __________ اَللَّامِعُ

(2) ________ اَلْعَذْبُ

(3) __________ اَلنَّقِيُّ

(4) _________ اَلسَّمِيْنَةُ

(5) __________ اَلْمُرُّ

(6) _________ اَلْهِنْدِيُّ

(7) __________ مُقْمِرَةٌ

(8) __________ بَيْضَاءُ

(9) __________ اَلْمُظْلِمُ

(10) ___________ نَشِيْطٌ

(11) __________ اَلْمُثْمِرُ

(12) ___________ اَلْمُظِلَّةُ

اَلتَّمْرِيْنُ (11)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) نیلا آسمان

(۲) روشن سورج

(۳) بلند پہاڑ

(۴) گہراکنواں

(۵) پھل داردرخت

(۶) میٹھا انار

(۷) ٹھنڈی رات

(۸) ایک تاریک کمرہ

(۹) کوئی اونچی میز

(۱۰) ایک قیمتی گھڑی

(۱۱) سفید کرتا

(۱۲) سیاہ ٹوپی

(۱۳) تعلیم یافتہ عائشہ

(۱۴) مجاہد خالد

(۱۵) ایک خونریز لڑائی

اَلتَّمْرِيْنُ (۱۲)

(تثنیہ وجمع میں موصوف و صفت کی مطابقت)

اردو میں ترجمہ کرو:

(1) اَلْمَاءُ الرَّائِقُ

(2) اَلْهَوَاءُ النَّقِيُّ

(3) اَلْاَنْهَارُ الْجَارِيَةُ (اَلْجَارِيَاتُ)

(4) نَجْمَانِ لاَمِعَانِ

(5) اَلْجِبَالُ الشَّامِخَةُ (اَلشَّامِخَاتُ)

(6) اَلْمُسْلِمُونَ الصَّادِقُوْنَ

(7) رِجَالٌ صَالِحُونَ

(8) وَرْدَةٌ مُفَتَّحَةٌ

(9) تِلْمِيْذَانِ مُجْتَهِدَانِ

(10) اَلْبَنَاتُ الصَّالِحَاتُ

(11) اَقْلاَمٌ ثَمِيْنَةٌ (اَوْ ثَمِيْنَاتٌ)

(12) اَلْمَنَارَتَانِ الطَّوِيْلَتَانِ

(13) اَلدَّوَاةُ الْمَمْلُوْءَةُ

(14) اَلْاُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنَاتُ

اَلتَّمْرِيْنُ (۱۳)

خالی جگہیں مناسب صفات سے پر کرو:

(1) اَلْاَنْهَارُ ________

(2) اَلْمَلاَبِسُ _________

(3) عَمُوْدَانِ ________

(4) اَلْمَنْظَرُ ___________

(5) اَللَّيَالِي __________

(6) اَلْبَقَرَاتُ __________

(7) اَلْحَدَائِقُ __________

(8) كُرْسِيَّانِ __________

(9) اَلْفَلاَّحُونَ _________

(10) اَلتِّلْمِيْذَاتُ __________

(11) تُفَّاحَتَانِ _________

(12) سَلْمَانُ __________

اَلتَّمْرِيْنُ (14)

خالی جگہیں پر کرو:

(1) _________ اَلْمُمْطِرَةُ

(2) ________ اَلضَّئِيْلُ

(3) _________ اَللَّعُوْبَانِ

(4) _________ اَلْبَارُّوْنَ

(5) _________ مُتَلَأْلِئٌ

(6) _________ اَلْفَائِزَتَانِ

(7) _________ اَلْمُوْرِقَةُ

(8) _________ اَلْقَوِيَّانِ

(9) ________ اَلنَّاجِحُوْنَ

(10) _________ عَفِيْفَتَانِ

(11) _________ اَلْعَابِدَاتُ

(12) _________ مُجْتَهِدَاتٌ

اَلتَّمْرِيْنُ (15)

عربی میں ترجمہ کرو:

(۱) عربی مدرسے

(۲) تعلیم یافتہ لڑکیاں

(۳) مومن عورتیں

(۴) نیک مائیں

(۵) ایک خوبصورت آئینہ

(۶) گلاب کا سرخ پھول

(۷) خوش گوار موسم

(۸) دو خوبصورت پارک

(۹) بہتی نہریں

(۱۰) دو چمکدار ستارے

(۱۱) چاندنی راتیں

(۱۲) دلفریب منظر

(۱۳) کچھ پھلدار درخت

(۱۴) ہری ٹہنیاں

(۱۵) خائن وزراء

(۱۶) مغربی تہذیب و تمدن

(۱۷) عدل و انصاف کرنے والے قاضی

(۱۸) بے پردہ عورتیں

(۱۹) قومی ترانہ

(۲۰) میٹھے گیت

اَلتَّمْرِيْنُ (۱۶) (فی الانشاء)

(۱) اپنی درس گاہ سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ اور جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔

(۲) اپنی تعلیم سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ و جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔

(۳) اپنے دارالاقامہ سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ و جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔

31 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱

النعت (صفت) یہ اعراب میں اپنے منعوت (موصوف) کے تابع ہوتی ہے، منعوت ( موصوف ) اس اسم کو کہتے ہیں جس میں وہ صفت پائی جائے، جیسے:

أَحَضَرَ الطَّالِبُ الْجَدِيدُ؟ کیا نیا طالب علم حاضر ہوا؟

يَطْلُبُ الْمَدِيرُ الطَّالِبَ الْجَدِيدَ. ہیڈ ماسٹر نئے طالب علم کو طلب کر رہے ہیں۔

هذَا دَفَتَرُ الطَّالِب الْجَدِيد. یہ نئے طالب علم کی کاپی ہے۔

ان مثالوں میں نعت الجدید اپنے منعوت الطالب کے اعراب کے تابع ہے، چنانچہ اگر وہ مرفوع ہے تو نعت بھی مرفوع ہے اور اگر وہ منصوب ہے تو نعت بھی منصوب ہے اور اگر وہ مجرور ہے تو نعت بھی مجرور ہے۔

32 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۱) سبق:۱۷

التَّمْرِين (۱)

ضَعْ نَعْتًا مُنَاسِبًا فِي مَكَانٍ خَالٍ وَشَكِّلْ آخِرَهُ.

۱. الْوَلَدُ ............ يُحِبُّهُ أَبُوهُ.

۲. جَرَيْتُ فِي مَيْدَانٍ .......

٣. أَكْثِرْ مِنَ الْقِرَاءَةِ فِي الْكُتُبِ .......

٤. يَضُرُّ الصَّدِيقُ ..... صَاحِبَهُ.

٥. عَدُوٌّ ............... خَيْرٌ مِنْ صَدِيقٍ ......

٦. لَا تَشْرَبِ الْمَاءَ ......

٧. الْحِذَاءُ ......... يَضُرُّ الْقَدَمَ.

٨. زُرْتُ ضَاحِيَةً ........

٩. لِلْجَمَلِ عُنُقٌ ......

١٠. تَنَافَسُوا فِي الْعَمَلِ ......

التَّمْرِين (۲)

ضَعْ مَنْعُوتًا مُنَاسِبًا فِي الْمَكَانِ الْخَالِي وَشَكِّلْ آخِرَهُ:

۱. يُحِبُّ النَّاسُ .......... الْعَادِلَ.

۲. فِي الْبُسْتَانِ ...... مُفَتَّحَةٌ.

٣. .......... الْكَثِيرُ يَضُرُّ الْمَعِدَةَ.

٤. تَحْمِلُ الشَّجَرَةُ ..... نَاضِجَةً.

٥. لِلطَّاوُوسِ ..... جَمِيلٌ.

٦. وَضَعْتُ الصُّورَةَ فِي .... بَدِيعٍ.

٧. أَبْصَرْتُ فِي الْحَقْلِ ..... مُفْتَرِسًا.

٨. أَكْرَهُ السَّيْرَ فِي .... الْمُزْدَحِمَةِ.

٩. فِي السَّمَاءِ ............ لَامِعَةٌ.

١٠. أَرَى فِي الْجَوِّ ....... كَشْفًا.

التَّمْرِين (٣)

ضَعِ الْأَسْمَاءَ الآتِيَةَ فِي جُمَلٍ ثُمَّ اِنْعَتْهَا بِنُعُوتٍ مُنَاسِبَةٍ مَعَ ضَبْطِ آخِرِ النَّعْتِ وَالْمَنْعُوتِ:

نَهْرٌ، طَرِيقٌ، نَخْلَةٌ، مَطَرٌ ، بَرْدٌ ، الْمَسْجِدُ

الْبِنَاءُ، الْبُسْتَانُ۔،السَّمَاءُ ، الْبَحْرُ، السَّفِينَةُ، الْقِطَارُ.

التَّمْرِين (٤)

كَوِّنْ جُمَلًا تَشْتَمِلُ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا عَلَى اِسْمٍ مَنْعُوتٍ بِأَحَدِ الْأَوْصَافِ الآتِيَةِ مَعَ ضَبْطِ آخِرِ النَّعْتِ وَالْمَنْعُوتِ:

خَشِنٌ، عَذْبٌ،الرَّائِقُ،نَاضِجَةٌ،الْحُلْوُ

ذَابِلَةٌ ،مُفْتَرِسٌ،النَّظِيفُ،الْمَحْلُوجُ،لَامِعَةٌ.

التَّمْرِين (٥)

(۱) كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِعْلِيَّةٍ يَكُونُ الْفَاعِلُ فِي كُلٍّ مِنْهَا مَنْعُوتًا.

(۲) كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِعْلِيَّةٍ يَكُونُ الْمَفْعُولُ بِهِ فِي كُلٍّ مِنْهَا مَنْعُوتًا.

(۳) كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ اِسْمِيَّةٍ الْمُبْتَدَأُ فِي كُلٍّ مِنْهَا مَنْعُوتًا.

(٤) كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ اِسْمِيَّةٍ يَكُونُ الْخَبَرُ فِي كُلٍّ مِنْهَا مَنْعُوتًا.

(٥) كَوِّنْ خَمْسَ جُمَلٍ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا اِسْمٌ مَجْرُورٌ مَنْعُوتٌ.

التَّمْرِين فِي الْإِنْشَاءِ (٦)

كَوِّنْ سَبْعَ جُمَلٍ فِعْلِيَّةٍ بِحَيْثُ يَجِيءَ لَفْظُ "الثَّوْرُ" فِي كُلٍّ مِنْهَا مَوْصُوفًا بِصِفَةٍ تُلَائِمُهُ ثُمَّ اِسْتَعِنْ بِهَذِهِ الْجُمَلِ عَلَى كِتَابَةِ مَوْضُوعٍ صَغِيرٍ فِي وَصْفِ "الثَّوْرِ".

تَمرینٌ فِی الأعرَابِ (۷)

(أ) نَمُوذَجٌ:

(۱) رَبِحَ التَّاجِرُ الْأَمِينُ.

رَبِحَ: فِعْلٌ مَاضٍ.

التَّاجِرُ: فَاعِلٌ مَرْفُوعٌ.

الْأَمِينُ: نَعْتٌ مَرْفُوعٌ.

(۲) يَقْرَأُ عَلِيٌّ كِتَابًا مُفِيدًا.

يَقْرَأُ: فِعْلٌ مُضَارِعٌ مَرْفُوعٌ.

عَلِيٌّ: فَاعِلٌ مَرْفُوعٌ.

كِتَابًا: مَفْعُولٌ بِهِ مَنْصُوبٌ.

مُفِيدًا: نَعْتٌ مَنْصُوبٌ.

(ب) أعرِبِ الجُمَلَ الآتِیَۃَ:

(۱) نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَطَرٌ غَزِيرٌ.

(۲) يَلْبَسُ عَلِيٌّ حِذَاءً وَاسِعًا.

(۳) یَکْثُرُ النَّحْلُ فِی البَسَاتِیْنِ المُثْمِرَۃِ

33 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۲

التمرين ( ۱ )

ميز النعت الحقيقى من السببي في العبارة الآتية:

القاهرة مدينة عظيمة تضارع كثيرا من المدن الاروبية في جمالها ورونقها وقد زاد سكانها في الايام الاخيرة زيادة عظيمة وفيها كثير من الميادين - الواسعة والحدائق الغناء واذا طفت في انحائها وجدت قصورا شامخا بنيانها ومساجد عالية قبابها واحياء متسعة شوارعها ووجدت مصانع ومتاجر وعملا وعمالا وفي كل شتاء ينزح اليها السياح الموسرون من الاقطار القارس يردها فيقيمون ما شاء واتحت سمائها الصافي اديمها ويمتعون بهوائها المعتدل الجميل

التمرين (۲)

عين ما في الجمل الاتية من النعوت والخبار والاحوال

۱۔ لا تزر احدا والسماء ممطرة حتى لا تدخل عليه مبلل الثياب ملوث الحذاء فان ذلك عيب كبير

۲۔ الامام العادل كالاب الحاني على ولده يعولهم صغارا ويرشھم كبار

۳۔ البرتقال فاكهة لذيذ طعمها طيبة رائحتها وهو من فاكهة الشتاءالطويلة البقاء

۴۔ الاماكن الهادئة خير للسكنى من الاماكن المملوة بالجلبة والضوضاء

التمرين (۳)

ضع في كل مكان خال نعتا مناسبا :

ا - الهواء ..... منعش للاجسام

۲۔ الاكل .... يتخم المعدة

۳۔ الماء ..... مضر شربه

۴۔ الطبيب .... يريد المريض سقما

۵- المناظر ..... تشرح النفوس

۶۔ الاشجار .... تظلل المارة

۷۔ يثق الناس بالتاجر۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۸۔ الهواء ..... يثبط القوى البدنية

۹- الحذاء۔۔۔۔۔۔۔ يضر القدم

۱۰- لا تأكل الطعام .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۱۔ يسر الاباء بالابناء۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۲۔ الاعلام ..... تدل على الحزن

۱۳ لا تسكن الاماكن۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۴۔ تكرم الشعوب رجالها ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

التمرين (۴)

ضع في كل مكان من الاماكن الخالية منعوتا مناسبا :

۱۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الباسلون لا يهابون الحرب

۲۔ الذهب .... نفيس

۳۔۔۔۔۔۔۔ الكثير يطغى صاحبه

۴۔۔۔۔۔۔۔۔ الخربة ماوى البوم

۵۔ الزمرد ..... كريم اخضر

۶۔ ظهرت في السماء .... كثيفة

۷۔ هبت۔۔۔۔۔۔۔۔ اقتلعت الاشجار

۸۔ جامحا ۔۔۔۔۔۔۔- اشتريت

۹۔ نزل من السماء .... غزير

۱۰۔- الصديق .. محبوب

التمرين (۵)

كون جملا تكون فيها الأوصاف الآتية نعوتا :

طويل ،كريمة ،طباعه،باسقة ،فروعها ،سخي،كثير ماله

صادق ، موثر کلامه،شجاع،نظيفة ملابسه ،حسن هندامه

مهيب ،مشرقة ساطع نوره،حالک ظلامه ، عالیات

التمرين (۶)

كون جملا تكون فيه الأوصاف الاتية نعوتا سببية

عاقل ، متلالي شاهق ، جميل ، واسع

مذنب ، المسافر ، الغائب ، المحسن ، الفقير

التمرين (۷)

حول في جمل مفيدة الاوصاف السببية الآتية الى نعوت حقيقية

شدید برده متلاطم موجه لذيذ طعمه نافع علمه

ضعيف نوره ملتفة اشجاره مائلة اغصانه مفتحة نوافذها

التمرين (۸)

كيف تحول النعت المفرد المذكور فى الجملة الاتية الى المفردة المؤنثه ثم الى المثنى والجمع بنوعيه

التمرين (۹)

حول النعوت المفردة في الجمل الاتية الى جمل وضعية

ا۔ مررت بحی مزدحم بالسكان

۲۔ سمعت صوتا مطربا

۳۔ نالت مصر منزلة عالية

۴۔ سقيت كلبا لا هنا

۵۔ قليل مدبر خير من كثير مبعثر

۶۔ اقبل نصحا نافعا من اخ مخلص

التمرين (۱۰)

حول الجمل الوصفية فى العبارات الاتية الى نعوت مفردة

ا- قابلت ولدا يصيح

۲۔ سمعت خطيبا يوثر في سامعيه

۳۔ احب كل عامل يتقن عمله

۴۔ شاهدنا قطارا سیره سریع

۵۔ عطفت على فقير نفسه عفيفة

۶۔ رکبت باخرةغرفھا جمیلت

التمرين (۱۱)

ما الذي تحدثه من التغيير في الجمل الاتية لتجعل الاحوال التي بها نعوتا :

۱۔ جامت البنت تضحک

۳۔ ظھر النور ساطعًا

۲۔ رکبت الحصان جامحًا

۴۔ ابصرنا البرق یلمع

التمرين (۱۲)

غير كل جملة من الجمل الاتية لتجعل الاخبار التي بها نعوتا :

۱- الحجرة نظيفة

۲۔ الحديقة ناضرة ازهارها

۳- الدرس مفهوم

۴۔ الزهرة ناصع بياضها

التمرين ( ۱۳)

(۱) كون ست جمل تشتمل كل واحدة منها على نعت حقيقي مع اختلاف المنعوت في التذكير والتانيث والافراد والتثنية والجمع

(۲) کون ست جمل تشتمل كل واحدة منها على نعت سببي مع اختلاف المنعوت في التذكير والتانيث والافراد والتثنية والجمع

(۳) كون ست جمل يكون النعت فى الثلاث الأولى منها جملة اسمية وفي الثلاث الثانية جملة فعلية

(۴) كون ست جمل تكون الحال في الثلاث الأولى منها جملة اسمية، وفي الثلاث الثانية جملة فعلية

التمرين (۱۴)

صف حجرة نومك وتعمد ان تاتي في موضوعك بكثير من النعوت ثم بين في جداول ما كان منها حقيقيا وما كان سببيا وما كان جملة

34 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

أسئلة

۱۔عرف التابع واذكر العامل فيه مع التمثيل.

۲۔ كم عدد التوابع، وما هي ؟

۳۔ عرف النعت بالتفصيل مع التمثيل.

۴۔ اذكر أحكام المنعوت مع الأمثلة.

۵۔ ما هو الأصل في النعت ؟ وهل يأتي النعت جامدا؟ اذكرهما مع الأمثلة.

٦- اذكر شروط إتيان النعت جملة اسمية أو فعلية مع الأمثلة.

۷۔ فيم يتبع النعت الحقيقي منعوته ؟ اذكرها مع الأمثلة.

۸۔ فيم ينبع النعت السببي منعوته ؟ اذكرها مع الأمثلة.

تمرينات

١ - استخرج النعوت مما يأتي ، مييز بين الحقيقي والسببي منها وحدد المنعوت

والنعت وبين ما بينهما من مطابقة.

اللهم أعطني علما نافعا وقلبا خاشعا ولسانا ذاكرا استمعت إلى سورة واحدة، جاء ني الطالبان المجتهدان زار ني طلاب مجتهدون، طلبت من الطالبات المتكاسلات أن يتركن الكسل، نجحت الطالبتان المجتهدتان، أطعم الانسان الجائع بطنه واكس المرء العاري جسمه ، منظر المدرسة منظر جميل جذاب، جاء ني رجل كريمة أمه، زرت امرأة كريما أبوها، جاء في الرجلان الكريمة أمهما، زرت بنات كريمة أمهاتهن، مررت بالرجال الكريم آباؤهم، أحسن إلى الفقراء الحزينة قلوبهم.

۲- ميزبين النعت المفرد والجملة فيما يأتي.

العقل السليم في الجسم السليم، دخلت في بستان مثمرة أشجاره، عفة اللسان صفة محمودة، عندي كتب يستفيد منها الناس ، جاء ني ولد أبوه مدرس زرت طالبين يجتهدان، سافرت طالبتان أخلاقهما كريمة، درست طلا با يجتهدون، المؤمن القوي خير من المؤمن الضعيف، أحب المرء الحسنة أخلاقه.

۳۔ مثل لكل مما يأتي في جملة تامة. ١. نعت حقيقي يخصص المنعوت ۲ نعت حقيقي يوضح المنعوت، ٣- نعت جامد مؤول بالمشتق.

35 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

36 توکید

توكيد وہ تابع ہوتا ہے جو اپنے ماقبل اسم کی تاکید کرتا ہے، یعنی اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔ توکید کی دو اقسام ہیں: توكيد لفظی (لفظ کی تکرار) اور توكيد معنوی (معنوی تاکید)۔

مثال:

جاءَ الرَّجُلُ نَفْسُهُ (آدمی خود آیا) یہاں "نَفْسُهُ" توکید معنوی ہے۔

جاءَ الرَّجُلُ الرَّجُلُ (آدمی آیا، آیا) یہاں "الرَّجُلُ" کی تکرار توکید لفظی ہے۔

توكيد وہ تابع ہوتا ہے جو اپنے ماقبل اسم کی تاکید کرتا ہے، یعنی اسے مزید مضبوط کرتا ہے۔ توکید کی دو اقسام ہیں: توكيد لفظی (لفظ کی تکرار) اور توكيد معنوی (معنوی تاکید)۔

مثال:

جاءَ الرَّجُلُ نَفْسُهُ (آدمی خود آیا) یہاں "نَفْسُهُ" توکید معنوی ہے۔

جاءَ الرَّجُلُ الرَّجُلُ (آدمی آیا، آیا) یہاں "الرَّجُلُ" کی تکرار توکید لفظی ہے۔

37 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۳

التوكيد: تابع يُذْكَرُ فِي الكَلامِ لِدَفْعِ مَا قَدْ يَتَوَهَّمُهُ السَّامِعُ مِمَّا لَيْسَ مَقْصُودًا، وَهُوَ نَوْعَانِ: مَعْنَوِيٌّ وَلَفْظِيٌّ.

التوكيد المعنوي يكون بِأَلْفَاظٍ هِيَ: النَّفْسُ، العَيْنُ، كُلُّ، جَمِيعُ، كِلَا، كِلْتَا، ويَجِبُ أَنْ يَتَّصِلَ كُلٌّ مِنْهَا بِضَمِيرٍ يُطَابِقُ المُؤَكَّدَ.

التوكيد اللفظي يكون بِإِعَادَةِ اللَّفْظِ إِسْمًا، أَوْ فِعْلًا، أَوْ حَرْفًا، أَوْ جُمْلَةً.

تو کید وہ تابع ہے جو سامع کو خلاف مقصود بات سمجھ لینے کے تو ہم سے بچانے کے لئے ذکر کیا جاتا ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں: معنوی اور لفظی۔

توکید معنوی، نفس، عین، کل، جمیع ، کلا اور کلتا کے ذریعے ہوتی ہے ان میں سے ہر ایک میں ضمیر ہوتی ہے جو مؤکد کے مطابق ہوتی ہے۔

تو کید لفظی اسی لفظ کو مکرر کرنے سے حاصل ہوتی ہے خواہ وہ اسم ہو فعل ہو حرف ہو یا جملہ ہو۔

الامثلة

(۱) حَدَّثَنِي الوَزِيرُ نَفْسُهُ.

(۲) قَابَلْتُ الوَزِيرَ نَفْسَهُ.

(۳) كَتَبْتُ إِلَى الوَزِيرِ نَفْسِهِ.

(٤) احْتَرَقَتِ الدَّارُ كُلَّهَا.

(٥) قَرَأْتُ الكِتَابَ كُلَّهُ.

(٦) فَرَغْتُ مِنَ الأَعْمَالِ كُلِّهَا.

(۷) نَجَحَ الأَخَوَانِ كِلَاهُمَا.

(۸) ذَبَحْنَا الكَبْشَيْنِ كِلَيْهِمَا.

(۹) سَكَنَّا فِي المَنْزِلَيْنِ كِلَيْهِمَا.

(۱۰) رَأَيْتُ التِّمْسَاحَ التِّمْسَاحَ.

(۱۱) حَضَرَ حَضَرَ الغَائِبُ.

(۱۲) لا، لا أَخُونُ العَهْدَ.

(۱۳) أَنْتَ الْمَلُومُ أَنْتَ الْمَلُومُ.

توكيد الضمير المتصل أو المستتر: ضمیر متصل اور مستتر کی تاکید

اَلضَّمَائِرُ الْمُتَّصِلَةُ وَالْمُسْتَتِرَةُ تُؤَكَّدُ تَوْكِيدًا لَفْظِيًّا بِوَاسِطَةِ ضَمَائِرِ الرَّفْعِ الْمُنْفَصِلَةِ.

لَا تُؤَكَّدُ ضَمَائِرُ الرَّفْعِ الْمُتَّصِلَةُ وَالْمُسْتَتِرَةُ بِـ"النَّفْسِ" وَ"الْعَيْنِ" إِلَّا بَعْدَ تَوْكِيدِهَا بِضَمَائِرِ الرَّفْعِ الْمُنْفَصِلَةِ.

ضمائر متصلہ اور مستترہ کی تو کید لفظی ضمائر مرفوع منفصلہ سے ہوتی ہے۔

ضمائر مرفوع متصلہ اور مستترہ کی تو کید لفظ نفس اور لفظ عین کے ساتھ اس وقت ہو سکے گی جب پہلے ضمائر منفصلہ سے ان کی تو کید ہو چکی ہو۔

الامثلة

(۱) قُمْتُ أَنَا بِالوَاجِبِ.

(۲) مَا جَاءَكَ أَنْتَ أَحَدٌ.

(۳) سَلَّمْتُ عَلَيْهِ هُوَ.

(٤) دَهِشْنَا نَحْنُ أَنْفُسُنَا.

(٥) ذُعِرْتَ أَنْتَ نَفْسَكَ.

(۶) جَبُنُوا هُمْ أَنْفُسَهُمْ.

(۷) أُسْرِجُ أَنَا الفَرَسَ.

(۸) افْتَحْ أَنْتَ النَّافِذَةَ.

(۹) فَرِيدٌ قَرَأَ هُوَ الكِتَابَ.

(۱۰) أُسْرِجُ أَنَا نَفْسِي الفَرَسَ.

(۱۱) افْتَحْ أَنْتَ نَفْسَكَ النَّافِذَةَ.

(۱۲) فَرِيدٌ قَرَأَ هُوَ نَفْسُهُ الكِتَابَ.

38 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

- التوكيد

التوكيد: تابع يقرر متبوعه ويزيل احتمال غير الظاهر من الكلام، الناشي عن التجوز أو السهو، نحو: جاء الأمير الأمير

(إذا قيل: جاء الأمير يحتمل أن يظن السامع أنه حصل السهر من المتكلم حيث اسند جاء إلى الأمير، مع أن الجائي غيره، لكن أزال المتكلم هذا الاحتمال عند ما أكد الأمير بتكريره وقرر أن الجائي هو الأمير لاغيره) ونحو: جاء الخليفة نفسه (إذا قيل: جاء الخليفة، يحتمل أن يظن السامع أن فيه تجوزا، والجائي يمكن أن يكون مندوب الخليفة أو المأمور منه، أو حكمه وقد أسند المتكلم جاءالی الخليفة مجازا لکن ازال المتکلم ھذا الاحتمال عندما أكد الخليفة بـ نفسه وقرر أن الجائي هو الخليفة لا غيره )

وهو نوعان:

(۱) لفظي، و (۲) معنوي

فالتوكيد اللفظي: يكون بإعادة اللفظ الأول بعينه، أو بمرادفه وهو يشمل الاسم (ظاهرا) نحو: جاء الأمير الأمير، والصابرون الصابرون هم الفائزون، أو (ضميرا)

نحو: جئت أنا، و (الفعل) نحو: جاء جاء زيد ، و ( الحرف) نحو: لا لا أكذب و (الجملة).

نحو: ظهر الحق ظهر الحق، والمرادف ، نحو: فاز انتصر الجيش.

والتوكيد المعنوي يكون لأحد المعنيين:

۱۔ لتوكيد النسبة للمتبوع الموكد بـ "النفس" و "العين" مضافتين إلى ضميره، نحو: جاء القاضي نفسه، وابنة الأمير عينها.

۲۔ ولتوكيد شمول النسبة لجميع أفراد المتبوع المؤكد بـ"كل" و"كلا" وكلتا وجميع" و"عامة" مضافات إلى ضميره أيضا وبـ "أجمع" بدون الإضافة، فيقال: جاء القوم كلهم ، والرجلان كلاهما، والمرأتان كلتاهما، والتلاميذ جميعهم، وأحسن إلى فقراء القرية عامتهم، وجاء الجيش أجمع.

أحوال ألفاظ التوكيد المعنوي والضمائر التي تضاف إليها تلك الالفاظ:

" النفس" و"العين" يؤكد بهما المفرد والمثنى والجمع مذكراً كان أو مؤنثاء وتفردان مع المفرد، وتجمعان مع المثنى والجمع في الأفصح، ويختلف الضمير الذي يضاف إليه كل منهما حسب المؤكد، نحو: جاء الرجل نفسه أو عينه، وجاء التلميذان أنفسهما أو أعينهما، وجاء الأساتذة أنفسهم أو أعينهم، وجاءت المرأة نفسها أو عينها، وجاءت الطالبتان أنفسهما أو أعينهما وجاءت الطالبات أنفسهن أو أعينهن.

و كلا يؤكد به المثنى المذكر ، نحو: جاء الرجلان كلاهما.

وكلتا" يؤكد بها المثنى المؤنث، نحو: جاءت المرأتان كلتاهما.

وكل وجميع" و"عامة" و"أجمع" يؤكد بها الجمع والمفرد الذي يُتَصَوِّرُ فيه الأجزاء. نحو: جاء الجيش كله ومضى الزمان كله، ويضاف كل واحد من "كل" و "جميع وعامة إلى ضمير المتبوع المؤكد ، نحو: صلى المسلمون كلهم وجميعهم وعامتهم و "أجمع لا تضاف إلى ضمير المتبوع، لكن تختلف صيغها حسب متبوعها، ويؤتى بها عامة بعد "كل" لتقوية التوكيد، نحو: جاء الجيش كله أجمع والكتيبة كلها جمعا، والمومنون كله أجمعون، والمؤمنات كلهن جمع وقد يؤكد بـ " أجمع وفروعها وإن لم يتقدم لفظ كل نحو: صلى المسلمون أجمعون

توكيد الضمير المرفوع المتصل بالمنفصل

إذا أريد توكيد الضمير المرفوع المتصل البارز أو المستتر بالنفس والعين وجب توكيده أولا بالضمير المنفصل، نحو: جاء هو نفسه، وذهبت أنت نفسك.

التوكيد (تاکید):

تاکید ایک ایسا تابع ہے جو اپنے متبوع کی تصدیق کرتا ہے اور کلام میں ظاہر ہونے والے کسی دوسرے معنی یا شک کو دور کرتا ہے، جو تجوز (مجاز) یا سھو کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے، جیسے: "جاء الأمير الأمير" (امیر آیا، خود امیر آیا)۔ اگر کہا جائے: "جاء الأمير" تو سننے والے کو یہ شک ہو سکتا ہے کہ شاید متکلم سے کوئی غلطی ہوئی ہو اور امیر کی بجائے کوئی اور آیا ہو، لیکن جب متکلم نے امیر کو دہرا کر کہا تو یہ شک ختم ہو گیا کہ خود امیر ہی آیا ہے، کوئی اور نہیں۔

اسی طرح: "جاء الخليفة نفسه" (خلیفہ خود آیا)۔ اگر کہا جائے: "جاء الخليفة" تو سننے والے کو یہ شک ہو سکتا ہے کہ شاید آنے والا خلیفہ کا نمائندہ یا کوئی مامور ہو، لیکن جب متکلم نے "نفسه" کا اضافہ کیا تو یہ شک دور ہو گیا کہ خود خلیفہ آیا ہے، نہ کہ کوئی اور۔

تاکید کی اقسام:

تاکید کی دو اقسام ہیں:

تاکید لفظی، تاکید معنوی

1. تاکید لفظی:

یہ پہلی بار بولے گئے لفظ کی بعینہ تکرار یا اس کے مترادف سے ہوتی ہے۔ یہ اسم (ظاہر) جیسے: "جاء الأمير الأمير" (امیر آیا، امیر آیا)، یا ضمیر جیسے: "جئت أنا" (میں آیا)، یا فعل جیسے: "جاء جاء زيد" (زید آیا، آیا)، یا حرف جیسے: "لا لا أكذب" (نہیں، میں جھوٹ نہیں بولوں گا) اور جملے جیسے: "ظهر الحق ظهر الحق" (حق ظاہر ہوا، حق ظاہر ہوا)۔ مترادف کے ساتھ بھی تاکید ہو سکتی ہے، جیسے: "فاز انتصر الجيش" (فوج کامیاب ہوئی، فتح یاب ہوئی)۔

2. تاکید معنوی:

یہ درج ذیل دو معانی کے لیے ہوتی ہے:

متبوع کے لیے نسبت کی تاکید: "النفس" اور "العين" کو ضمیر کے ساتھ ملا کر اس تاکید کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے: "جاء القاضي نفسه" (خود قاضی آیا)، اور "ابنة الأمير عينها" (خود امیر کی بیٹی آئی)۔

متبوع کے تمام افراد کے لیے نسبت کی تاکید: "كل" (سب)، "كلا" (دونوں)، "كلتا" (دونوں مؤنث)، "جميع" (تمام)، "عامة" (عوام) اور "أجمع" (سب) جیسے الفاظ سے کی جاتی ہے۔ یہ ضمیر کے ساتھ مضاف ہوتے ہیں، جیسے: "جاء القوم كلهم" (سب لوگ آئے)، "الرجلان كلاهما" (دونوں آدمی آئے)، "المرأتان كلتاهما" (دونوں عورتیں آئیں)، "التلاميذ جميعهم" (سب طالب علم آئے)۔ اور "أجمع" بغیر ضمیر کے مضاف ہوتا ہے، جیسے: "جاء الجيش أجمع" (پوری فوج آئی)۔

تاکیدی الفاظ اور ضمائر کے احوال:

"النفس" اور "العين":

یہ دونوں مفرد، تثنیہ اور جمع کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتے ہیں، اور مفرد کے ساتھ مفرد آتے ہیں، جبکہ تثنیہ اور جمع کے ساتھ جمع کی شکل میں آتے ہیں۔ ضمیر کا استعمال ان الفاظ کے ساتھ منعوت کے مطابق ہوتا ہے، جیسے: "جاء الرجل نفسه أو عينه" (خود آدمی آیا یا اس کی آنکھ)، "جاء التلميذان أنفسهما أو أعينهما" (دونوں طالب علم آئے)۔

"كلا":یہ مذکر تثنیہ کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: "جاء الرجلان كلاهما" (دونوں آدمی آئے)۔

"كلتا":یہ مؤنث تثنیہ کی تصدیق کے لیے استعمال ہوتا ہے، جیسے: "جاءت المرأتان كلتاهما" (دونوں عورتیں آئیں)۔

١- تاکید کے لیے استعمال

"كل"، "جميع"، "عامة" اور "أجمع" ایسے مفرد اور جمع الفاظ کی تاکید کے لیے استعمال ہوتے ہیں جو اجزاء میں تقسیم ہو سکتے ہوں۔

مثالیں:جاء الجيش كله (پورا لشکر آیا) مضى الزمان كله (پوری مدت گزر گئی)

"كل"، "جميع" اور "عامة" کی اضافت ہمیشہ اس لفظ کے ضمیر کی طرف ہوتی ہے جس کی تاکید کی جا رہی ہو۔

مثالیں:

صلى المسلمون كلهم

صلى المسلمون جميعهم

صلى المسلمون عامتهم

"أجمع" اور اس کی فروع (أجمعون، أجمعين، جمع، جمعاء) ضمیر سے مضاف نہیں ہوتے بلکہ تاکید کے طور پر آتے ہیں۔

مثالیں:

جاء الجيش كله أجمع

المؤمنون كلهم أجمعون

المؤمنات كلهن جمع

٣- "أجمع" کے بغیر بھی تاکید

بعض اوقات "أجمع" اور اس کی فروع "كل" کے بغیر بھی تاکید کے لیے آتے ہیں۔

مثال: صلى المسلمون أجمعون (تمام مسلمانوں نے نماز پڑھی)

تاکید الضمیر المرفوع المتصل بالمنفصل:

اگر مرفوع ضمیر کو "النفس" اور "العين" کے ساتھ تاکید دینا مقصود ہو تو پہلے اسے ضمیر منفصل کے ساتھ تاکید دی جاتی ہے، جیسے: "جاء هو نفسه" (وہ خود آیا)، "ذهبت أنت نفسك" (تم خود گئے)۔

39 تمارین

40 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۳

التمرين (۱)

عين في العبارات الآتية التوكيد والموكد واشكلهما وميز التوكيد اللفظي من التوكيد المعنوى.

۱- يثنى الناس جميعهم على العامل المجد

۲۔ الملك كله الله

۳۔ تفقدت انا نفسي اشجار البستان فوجدتها جميعا مثمرة

۴۔ اطع والديك كليهما واعطف على اخوتك جميعهم

۵۔ ایاک ایاک النميمة

۶۔ عاد الرسول عينه يحمل البشرى

۷۔ ركبت الزورق عينه مع صديقي كليهما

۸۔ اجل اجل سيلقى الجاني جزاءه

۹۔ قطعنا نحن انفسنا الطريق كله مشيا على الاقدام

۱۰- باع المسافر داريه كلتيهما وقبض الثمن كله

۱۱- واسية انا نفسى اكثر مما واساه اخواه انفسهما

۱۲ غربت غربت الشمس

۱۳ - حذار حذار من الاهمال

التمرين (۲)

ضع في كل مكان من الاماكن الخالية توكيدا معنويا مناسبا واضبط آخره بالشكل:

ا - تلف الاثاث۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ بعت ثمر البستان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۳۔ ابوه واخوه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يعطفان عليه

۴- احفظ عینیک .... من وهج الشمس

۵۔ احترق الحطب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۶۔ اخوك .... هو الذي نقل الخبر

۷۔ اشتريت الحصانين۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۸۔ العقلاء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ يكرهون الشقاق

۹۔ زارنا المدير۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۰- انت ..... الذي بدات الشر

التمرين (۳)

ضع موكدا مناسبا في كل مكان من الامكنة الخالية في الجمل الآتية:

۱۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔انفسهم لا يحبونه

۲۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كلها نظيفة

۳۔ ..... دع اللهو ان الوقت ثمين

۴۔ احسن الى .... كليهما

۵۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كلتاهما مغرور قتان بالدموع

۶۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لا افشى سر الصديق

۷۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كلتاهما ملوثتان بالمداد

۸۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الصدق يافتي

۹۔ احسن الى .... كليهما

۱۰- عاود المريض۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عینہ

ا ا -..... اعينهما لم تثمرا

۱۲۔ قرات۔۔۔۔۔۔۔۔ كله الا صفحتين

التمرين (۴)

كون جملا تجي فيها الالفاظ الآتية موكدة توكيدا معنويا بحيث تقع الالفاظ مرة مرفوعة ومرة منصوبة ومرة مجرورة:

الحاكم ، المسافرون ، البسط الشرقية ، الفتاة المهذبة

الجوادان ، الشجرتان ،الرجال الموسرون ، القاضي

التمرين (۵)

ضع من الجملة لا ينجح الكسلان اربعة امثلة التوكيد الاسم والفعل والحرف والجملة توكيدا لفظيا :

التمرين (۶)

اكد ما في الجمل الاتية من الضمائر المتصلة والمستترة توكيدا لفظيا :درج ذیل جملوں میں ضمائر متصلہ اور ضمائر مستقترہ کے ساتھ تو کید لفظی لائیں:

ا – اكتبوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ اذهبا ..... الى البستان

۳۔ من انباكم ...... بهذا

۴۔ ساسافر ..... الى لبنان

۵ رتبن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔المائدة

۶۔ اتتنا .... الاخبار

۷- لم يسلم عليه۔۔۔۔۔۔۔۔۔احد

۸۔ زارنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رسول الامير

۹۔ سنجلس .... تحت الشجرة

۱۰- دع ....... المزاح

التمرين (۷)

اكد ما في الجمل الآتية من ضمائر الرفع المتصلة والضمائر المستترة توكيدا معنويا بالنفس او العين

ا - اجلس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. حيث اجلس

۲۔ عودوا .... المريض

۳- تعودي .... الحلم

۴۔ ادرسن ..... التدبير المنزلي

۵۔ اشتريت ..... اثاث . اثاث المنزل

۶۔ اسرجا .... الخيل

۷- اقلم ..... اشجار الحديقة

۸۔ خرج محمد وعاد. .. بعد ساعة

۹۔ نتولى ..... تنسيق

۱۰- هل سمعتم . هذه القصة

التمرين (۸)

كون ثلاث جمل يجي فيها المثنى موكدا بكلا او كلتا بحيث بکون فی الاولى مرفوعا وفى الثانية منصوبا وفي الثالثة مجرورا

التمرين (۹)

كون ثلاث جمل تشتمل كل منها على توكيد بالنفس او العين ويكون الموكد في الأولى جمع مذكر سالما وفى الثانية جمع مؤنث سالما وفي الثالثة جمع تكسير :

التمرين ( ١٠ )

كون ثلاث جمل تشتمل كل منها على توكيد بكل او جميع ويكون الموكد في الأولى مفردا وفي ا سالما الثانية جمع مذكر سالما وفى الثالثة جمع مؤنت سالما

التمرين (۱۱)

(۱) كون جملتين في كل منها ضمير رفع متصل موكد توكيدا لفظيا

(۲) كون جملتين في كل منها ضمير نصب متصل موكد توكيدا لفظيا

(۳) كون جملتين في كل منها ضمير جر متصل موكد توكيدا لفظيا

(۴ كون جملتين في كل منها ضمير مستتر متصل موكد توكيدا لفظيا

التمرين (۱۲)

كون اربع جمل تشتمل كل منها على ضمير رفع موكد بالنفس او العين ويكون الضمير في الاولين متصلا وفي الاخيرتين مستترا

التمرين في الاعراب (۱۳)

(الف) نموذج:

نظفت يداه كلتاهما

نظفت ..... نظف فعل ماض مبني على الفتح والتاء علامة التأنيث

يداه ..... يدا فاعل مرفوع بالألف لأنه مثنى مضاف والضمير مضاف إليه مبنى على الضم في محل جر

كلتاهما .... كلتا توكيد للاسم المثنى قبله مرفوع بالألف وهو مضاف والضمير بعده مضاف إليه مبنى على السكون في محل جر

(ب) اعرب الجمل الاتية

۱۔ ا دعونا الطبيب نفسه

۲۔ احترق اثاث المنزل جميعه

۳۔ هل زارك انت احد اليوم؟

۴۔ اذهبوا انتم انفسكم الى الناظر

41 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

أسئلة

ا۔ عرف التوكيد مع ذكر المثالين وتوضيحهما.

۲۔ كم نوعا للتوكيد، وما هما؟

۳۔ كيف يتم التوكيد اللفظي ؟ بينه بالتفصيل والتمثيل. .

٤۔ لكم معنى يأتي التوكيد المعنوي ؟ اذكره بالتفصيل والتمثيل.

۵۔ اذكر أحوال "النفس" و"العين" عند التوكيد بهما مع الأمثلة.

۶۔ اذكر الأحوال المختلفة لكل من "كل" و "جميع" و "عامة" و"أجمع" عند التوكيد بها مع الأمثلة.

۷۔ كيف يتم توكيد الضمير المرفوع المتصل البارز أو المستتر ؟ أذكره بالتمثيل.

تمرينات

۱۔ استخرج مما يأتي التوكيد اللفظي والمعنوي، وحدد المؤكد والتوكيد:

تمسك تمسك بالأخلاق الكريمة، الشجرتان كلتاهما مثمرتان، جاء الأستاذ نفسه إلى التلميذ قال : احفظ احفظ الدرس ، يرفع المسلم يديه كلتيهما إلى السماء ويقول: اللهم اغفر لي، جاء ستاذ الأستاذ، لا لا أصحب السارق، ذهبت أنا نفسي إلى الطبيب، وزع الوزير نفسه جوائز بين الطلاب، وصلت الحافلات جميعها إلى المدرسة، سمع المسلمون عامتهم خطبة الجمعة.

۲۔ أكد كل كلمة من الكلمات الآتية توكيدا لفظيا مرة، وتوكيداً معنوياً مرة أخرى في جمل عيده الكتابان القلم، المعلم

۳۔ ضع كل توكيد من التوكيدات الآتية في ثلاث جمل بحيث يكون مرفوعا مرة، ومنصوبا نية، ومجرورا ثالثة نفسها، كلاهما، جميعهن

۴۔ (۱) هات جملة تشتمل على توكيد لفظي للاسم

(ب) هات جملة تشتمل على توكيد لفظي للفعل

(ج) هات جملة تشتمل على توكيد لفظي للحرف

(د) هات ثلاث جمل تشتمل كل منها على توكيد معنوي.

42 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

43 بدل

بدل وہ تابع ہوتا ہے جو اپنے ماقبل اسم کو تبدیل یا اس کی جگہ لیتا ہے۔ بدل اور مبدل منہ دونوں کی حالت اور اعراب ایک جیسے ہوتے ہیں۔

مثال:

رأيتُ زيداً أستاذَك (میں نے زید، تمہارے استاد کو دیکھا)

یہاں "أستاذَك" بدل ہے اور "زيداً" مبدل منہ ہے۔

44 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۶

البَدَلُ: تَابِعٌ مُمَهَّدٌ لَهُ بِذِكْرِ اسْمٍ قَبْلَهُ غَيْرُ مَقْصُودٍ لِذَاتِهِ، وَهُوَ أَنْوَاعٌ: بَدَلٌ مُطَابِقٌ. وَبَدَلُ بَعْضٍ مِنْ كُلٍّ. وَبَدَلُ اشْتِمَالٍ.

يَجِبُ فِي بَدَلِ البَعْضِ وَالاشْتِمَالِ أَنْ يَتَّصِلَ كُلٌّ مِنْهُمَا بِضَمِيرٍ يَعُودُ عَلَى المُبْدَلِ مِنْهُ.

بدل وہ تابع ہے جس سے پہلے غیر مقصودی اسم بطور تمہید آتا ہے۔ اس کی کئی قسمیں ہیں : بدل مطابق، بدل بعض اور بدل اشتمال۔

بدل البعض اور بدل الاشتمال میں یہ ضروری ہے کہ اس میں ایک ضمیر ہو جو مبدل منہ کی طرف لوٹتی ہو۔

الامثلة

  1. حَضَرَ أَخُوكَ حَسَنُ.
  1. عَامَلْتُ التَّاجِرَ خَلِيلًا.
  1. أَصْغَيْتُ إِلَى الخَطِيبِ عَلِيٍّ.
  1. تَهَشَّمَ أَبُو الهَوْلِ أَنْفُهُ.
  1. قَضَيْتُ الدِّينَ ثُلُثَهُ.
  1. نَظَرْتُ إِلَى السَّفِينَةِ شِرَاعِهَا.
  1. تَضَوَّعَ البُسْتَانُ أَرِيجُهُ.
  1. سَمِعْتُ الشَّاعِرَ إِنْشَادَهُ.
  1. عَجِبْتُ مِنَ الأَسَدِ إِقْدَامِهِ.

45 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

البدل

البدل تابع ينسب إليه ما نسب إلى متبوعه لكن المتبوع لا يكون مقصودا بالنسبة بل يذكر تمهيدا للتابع، وإنما المقصود بالنسبة التابع بدون واسطة حرف العطف ويكون كالتفسير بعد الإبهام، نحو: جاء زيد أخوك

( فـ أخوك بدل الكل من الكل جاء تفسيرا للمبدل منه، وهو مرفوع وعلامة رفعه الواو لأن متبوعه أي المبدل منه مرفوع)

أنواع البدل:

البدل أربعة أنواع: (۱) بدل الكل من الكل (۲) وبدل البعض من الكل (۳) وبدل الاشتمال (٤) بدل الغلط أو النسيان أو الإضراب

بدل الكل من الكل: هو ما كان فيه التابع عين المتبوع، نحو: جاء زيد أخوك (فالمراد بـ "أخوك هو عين المراد بـ "زيد")

بدل البعض من الكل: هو ما كان فيه التابع جزءا من المتبوع، نحو: طاب خالد قلبه. فإن القلب هو جزء من "خالد")

بدل الاشتمال: ما كان فيه التابع من متعلقات المتبوع، وليس جزءا منه، نحو: نفعني الأستاذ علمه ( فإن العلم من متعلقات الأستاذ )

بدل الغلط أو النسيان أو الإضراب هو ما ذكر ليكون بدلا من اللفظ الذي سبق ذكره خطأ، نحو: النحو الفقه أحب العلوم لدي (إذا كنت أردت الفقه فسبق لسانك وذكر "النحو خطأ فهو بدل الغلط وإذا كنت أردت الإخبار بأحب العلوم عندك، فذكرت أولا نسيانا أو سهوا أنه النحو، ثم تذكرت أنه الفقه فذكرته فهو بدل النسيان، لأنه نتيجة نسيان وإذا كنت أردت الإخبار بأن النحو أحب العلوم، ثم تبين لك بعد ذلك أن تضرب عن ذكر النحو وتعدل عنه إلى ذكر الفقه، فهو بدل الاعراض) وهو لا يقع في كلام البلغاء.

أحكام متفرقة :

بدل البعض وبدل الاشتمال يحتاجان إلى ضمير يربطهما بالمبدل منه كما في الأمثلة السابقة طاب زيد قلبه، ونفعني الأستاذ علمه.

لا تشترط مطابقة البدل للمبدل منه في التعريف والتنكير، وتجب في غيرهما فتبدل المعرفة من المعرفة، نحو: جاء زيد أخوك ومن النكرة، نحو: جاءني رجل كريم إبراهيم، وتبدل النكرة من المعرفة، نحو: جاء ني إبراهيم رجل كريم. كل اسم يجوز أن يقع بدلا إلا الضمير فإنه لا يبدل من الضمير ولا من الاسم الظاهر في الصحيح.

يبدل الفعل من الفعل (بدل الكل من الكل نحو : حدثنا فلان قال: (فقال " بدل الكل من "حدث )

تبدل الجملة من الجملة (بدل الكل من الكل) إن كانت الثانية أبين من الأولى، نحو قوله تعالى : أمدكم بما تعلمون أمدكم بأنعام وبنين) (فالجملة الثانية: أمدكم بأنعام وبنين، بدل من الأولى.أمنكم بما تعلمون )

ومن البدل ما يفصل المجمل الذي قبله، ويكون متعددا، نحو: قرأت قصائد الشعراء أبي تمام والمتنبي والبحتري) ففي مثل هذا فريق من النحاة يعتبرون مجموع المعطوف عليه والمعطوفات بدلا فيكون من قبيل بدل الكل من الكل، ومنهم من يعتبرون الأول منها فقط بدلا، وما يليه معطوفات، فيكون من قبيل بدل البعض من الكل)

البدل يكون على نية تكرير العامل، أي: يصح أن يحل البدل محل المبدل منه باقيا على حكمه، وبلفظ آخر : يذكر البدل مكان المبدل منه، والمبدل منه مكان البدل، ويدخل عامل المبدل منه السابق على البدل مثل المثال السابق : جاء زيد أخوك، يصح فيه أن يحل "أخوك" محل "زيد" باقيا على حكمه (أي: كونه فاعلا مرفوعا) فيقال: جاء أخوك زيد.

البدل:

بدل ایک ایسا تابع ہے جس کی نسبت اسی چیز کی طرف ہوتی ہے جس کی نسبت اس کے متبوع کی طرف کی گئی ہوتی ہے، لیکن متبوع مقصود نہیں ہوتا، بلکہ اس کا ذکر محض تمہید کے لیے کیا جاتا ہے تاکہ اصل مقصد یعنی تابع واضح ہو سکے۔ تابع ہی حقیقت میں مقصود ہوتا ہے بغیر کسی حرف عطف کے۔ بدل کا ذکر وضاحت کے طور پر مبہم بات کے بعد کیا جاتا ہے، جیسے: "جاء زيد أخوك" (زید ، تمہارا بھائی آیا)۔ اس مثال میں "أخوك" بدل ہے اور "زيد" مبدل منه ہے، جو کہ مرفوع ہے کیونکہ مبدل منه مرفوع ہے۔

بدل کی اقسام:

بدل کی چار اقسام ہیں:

بدل الكل من الكل

بدل البعض من الكل

بدل الاشتمال

بدل الغلط، النسيان، أو الإضراب

1. بدل الكل من الكل:

اس میں تابع اور متبوع ایک ہی چیز ہوتے ہیں، جیسے: "جاء زيد أخوك" (زید آیا، تمہارا بھائی آیا)۔ یہاں "أخوك" اور "زيد" ایک ہی شخص کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔

2. بدل البعض من الكل:

اس میں تابع، متبوع کا ایک حصہ ہوتا ہے، جیسے: "طاب خالد قلبه" (خالد کا دل خوش ہوا)۔ یہاں "قلب" خالد کا ایک حصہ ہے۔

3. بدل الاشتمال:

اس میں تابع، متبوع کا ایک تعلق ہوتا ہے، لیکن وہ اس کا حصہ نہیں ہوتا، جیسے: "نفعني الأستاذ علمه" (استاد کے علم نے مجھے فائدہ دیا)۔ یہاں "علم" استاد سے متعلق ہے لیکن استاد کا حصہ نہیں ہے۔

4. بدل الغلط، النسيان، أو الإضراب:

یہ وہ بدل ہے جو غلطی، بھول یا کسی چیز سے رخ موڑنے کی وجہ سے استعمال کیا جاتا ہے، جیسے: "النحو الفقه أحب العلوم لدي" (نحو، فقہ، میرے پسندیدہ علوم میں سے ہیں)۔ یہاں اگر متکلم نے پہلے "النحو" کہا لیکن اصل میں اس کا مطلب "الفقه" تھا تو یہ بدل الغلط ہے۔

متفرق احکام:

بدل البعض اور بدل الاشتمال

بدل البعض (جزوی بدل) اور بدل الاشتمال (اجمالی بدل) میں ہمیشہ ایک ضمیر ہوتا ہے جو بدل کو مبدل منہ سے جوڑتا ہے۔

مثالیں:

طاب زيد قلبه (زید کا دل خوش ہوا)

نفعني الأستاذ علمه (استاد کا علم مجھے فائدہ پہنچا)

بدل کو مبدل منہ سے تعریف و تنکیر میں مطابقت ضروری نہیں، مگر دیگر امور میں مطابقت ضروری ہے۔

معرفہ کا بدل معرفہ: جاء زيد أخوك (زید آیا، تمہارا بھائی)

نکرہ کا بدل نکرہ: جاءني رجل كريم إبراهيم (میرے پاس ایک نیک شخص آیا، یعنی ابراہیم)

معرفہ کا بدل نکرہ: جاءني إبراهيم رجل كريم (ابراہیم آیا، یعنی ایک نیک شخص)

ضمیر کو بدل نہیں بنایا جا سکتا، نہ ہی ضمیر کسی ظاہر اسم کا بدل بن سکتا ہے۔

٤- فعل کا بدل فعل سے : بعض اوقات پورا فعل کسی دوسرے فعل کا بدل بن سکتا ہے (بدل الكل من الكل)۔

مثال: حدثنا فلان قال یہاں "فقال" کا "حدث" سے بدل کیا گیا ہے۔

٥- جملہ کا بدل جملہ سےبعض اوقات پورا جملہ کسی دوسرے جملہ کا بدل بن سکتا ہے، بشرطیکہ دوسرا جملہ پہلا سے زیادہ واضح ہو۔

مثال: قوله تعالى: أمدكم بما تعلمون أمدكم بأنعام وبنين ۔یہاں "أمدكم بأنعام وبنين" کا "أمدكم بما تعلمون" سے بدل کیا گیا ہے۔

٦- بدل مجمل کی تفصیل بیان کرتا ہے بدل بعض اوقات کسی اجمالی بات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے۔

مثال: قرأت قصائد الشعراء أبي تمام والمتنبي والبحتري

تمام فہرست (بدل الكل من الكل) ہے صرف پہلا اسم بدل ہے، باقی معطوف ہیں (بدل البعض من الكل)

٧- بدل میں عامل کی نیت بدل ہمیشہ مبدل منہ کے عامل کو قبول کرتا ہے، یعنی مبدل منہ کو بدل سے تبدیل کیا جا سکتا ہے بغیر کسی نحوی تبدیلی کے۔

مثال: جاء زيد أخوك یہاں "أخوك" کا بدل "زيد" سے کیا گیا ہے، اور اگر بدل کو مبدل منہ کی جگہ رکھیں تو جملہ درست رہے گا: جاء أخوك زيد (تمہارا بھائی زید آیا)

46 تمارین

47 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۶

التمرين (۱)

ميز البدل والمبدل منه وعين نوع البدل في كل جملة من الجمل الآتية:

(۱) كانت ام المومنين عائشة حجة في رواية الحديث

(۲) كان ابو حامد الغزالي من اكبر رجال الدين في القرن الخامس من الهجرة

(۳) تهدم المسجد منارته

(۴) ذهب السياح اكثرهم لزيارة وادى الملوك مقابره

(۵) ذهبت الى الجيزة فرايت التمثال العظيم ابا الهول و تسلقت الھرم الاکبر نصفه

(۶) اعجتنا المدينة ابنيتها وسرتنا الشوارع نظافتها

(۷) تمزق الكتاب غلافه۔

(۸) قطفنا الكرم عنبه واغلقنا البستان بابه۔

التمرين (۲)

ضع بدلا مناسبا في الاماكن الخالية من الجمل الآتية:

۱۔ احترقت الدار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۔ بعت الشجرة ......

۳۔ - انعشتنا القرية ....................

۴- شجانا البلبل......

۵۔ ضايقني الصيف .........

۶۔ سلخ الجزار الشاة ...............

۷۔ اعجبنا البحر .........

۸۔ نفعنا الواعظ .........

۹۔ تمتعت بالبستان .........

۱۰۔ تلالات السماء .........

التمرين (۳)

ضع مبدلا منه ملائما في الاماكن الخالية من الجمل الآتية:

۱۔ جفت ......... مدادها۔

۲۔ خرج .... اكثرهم

۳۔ اعجبي .... فيضانه

۴۔ نفعني .... لصحه

۵۔ سقطت ....... سقفها

۶۔ اتسعت ....... شوارعها

۷- انكسر .... رجاجه

۸۔ ساعده ....... جرح

۹۔ سرتتی ........ صفائوها

۱۰۔ وسعني ....... عفوه

۱۱۔ ضعف........ نوره

۱۲۔ مشيت .......... نصفه

التمرين (۴)

كون جملا تشتمل كل واحدة منها يدل ومبدل منه يختارال من الكلمات الاتية مع مرعاة المناسبة في الاختيار :

الشباك النحلة عمرو اللص

امانته الصديق ریشه النمر

مراوعته الامام رجاجة الثعلب

ملحها الطائر جراءته الكلب

جلده الفاتح ابو حنيفة ابوبكر

التمرين (۵)

(۱) ایت بثلاثة امثلة للبدل المطابق بحيث يكون مرة مرفوعا ومرة منصوبا ومرة مجرورا:

(۲) ایت بثلاثة امثلة لبدل البعض بحيث يكون مرة مرفوعا ومرة منصوبا ومرة مجرورا:

(۳) ایت بثلاثة امثلة لبدل الاشتمال بحيث يكون مرة مرفوعا ومرة منصوبا ومرة مجرورا:

التمرين في الاعراب (٦)

(الف) نموذج:

سطح القمر نورة

سطح ..... فعل ماض مبني على الفتح

القمر ...... فاعل مرفوع بالضمة الظاهرة

نوره...... نور بدل اشتمال من القمر مرفوع بالضمة الظاهرة، وهو مضاف والهاء ضمير مضاف اليه مبنى على الضم في محل جر

(ب) اعرب الجمل الاتية

ا - بنى القائد جوهر القاهرة۔

۲۔ كان ابو الطيب المتنبی شاعر حکیما۔

۳۔ سرني الخادم امانته۔

۴۔ بنيت الدار اساسها۔

48 تیسیر النحو۔ سبق:۲۲

أسئلة

ا۔ عرف البدل مع المثال.

۲۔ كم نوعا للبدل ؟ عرف كل واحد منها بالتمثيل.

۳۔ من أنواع البدل ما يحتاج إلى ضمير يربطه بالمبدل منه، اذكر تلك الأنواع من الأمثلة.

٤. هل تشترط مطابقة البدل للمبدل منه في التعريف والتنكير ؟ وضح هذا مع الأمثلة.

۵۔ اذكر ما يجوز أن يقع بدلا من الأسماء وما لا يجوز.

٦- بدل الفعل من الفعل وبدل الجملة من الجملة يكون من أي نوع من أنواع البدل ؟

۷۔ بين أراء الفريقين من النحاة في البدل المتعدد الذي يفصل المبدل منه المجمل . التوضيح بالمثال.

۸۔ وضح قول النحاة البدل على نية تكرير العامل.

تمرينات

۱۔ بين البدل والمبدل منه فيما يأتي من الآيات والجمل ثم اذكر نوع البدل ؟

(۱) (قم الليل الا قليلا نصفه أو انقص منه قليلا

(ب) النسفعاً بالناصية ناصية كاذبة خاطئة

(ج) والله على الناس حج البيت من استطاع اليه سبيلا )

(د) قتل أصحاب الأخدود النار ذات الوقود

اقرأ الكتاب الباب الأول منه، أعجبني زيد خلقه، جاء الأستاذ مدرس النحو، جاء زيد عمر

۲۔ اجعل كل كلمة آتية بدلا في جملة محمد، ثلثه، أخلاقه

۳۔ هات جملة من عندك فيها بدل كل من كل مرفوع.

هات جملة من عندك فيها بدل بعض من كل منصوب

هات جملة من عندك فيها بدل اشتمال مجرور

49 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

50 عطف

عطف بیان

عطفِ بیان وہ تابع ہوتا ہے جو اپنے ماقبل اسم کی وضاحت یا اس کو مزید واضح کرتا ہے۔ یہ عموماً ماقبل اسم کا مترادف یا اس کی توضیح ہوتا ہے۔

مثال:جاءَ الخليفةُ عمرُ (خلیفہ عمر آیا)

یہاں "عمر" عطف بیان ہے اور "الخليفةُ" اس کا مضاف الیہ ہے۔

عطف نسق

عطف نسق وہ تابع ہوتا ہے جو دو اسماء یا افعال کو "وَ" (اور)، "أَوْ" (یا)، "ثُمَّ" (پھر) جیسے حروف کے ذریعے آپس میں ملاتا ہے۔

مثال:جاءَ زيدٌ وَعمرٌ (زید اور عمر آئے)

یہاں "وَ" عطف نسق ہے جو "زيدٌ" اور "عمرٌ" کو جوڑتا ہے۔

51 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۴، ۱۵

العَطْفُ تَابِعٌ يَتَوَسَّطُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مَتْبُوعِهِ أَحَدُ هَذِهِ الحُرُوفِ، وَهِيَ:

الْوَاوُ، وَالْفَاءُ، وَثُمَّ، وَأَوْ، وَأَمْ، وَلَا، وَبَلْ، وَلَكِنْ، وَحَتَّى.

عطف وہ تابع ہے جس کے متبوع اور اس کے درمیان ان حروف میں سے کوئی حرف آ جائے: واو، فاء، ثم، او، ام، لا، بل، لكن اور حتى۔

الامثلة

(۱) نضِجَ الخوخُ والعِنَبُ

(٢) أَكَلْتُ الخوخَ والعِنَبَ

(۳) هَذَا شَجَرُ الخوخِ والعِنَبِ

(٤) تُرْعِدُ السَّماء وَتُبْرِقُ

(٥) يَخَافُ الأطفالُ مِنْ أَنْ تُرْعِدَ السماءِ وَتُبْرَقَ

(٦) إِنْ تُرْعِدِ السَّمَاءِ وَتُبْرِقُ فَلَنْ تَخْرُجَ

معاني حروف العطف: حروف عطف کے معانی

حُرُوفُ العَطْفِ تِسْعَةٌ: الْوَاوُ وَهِيَ لِمُطْلَقِ الجَمْعِ، وَالْفَاءُ لِلتَّرْتِيبِ مَعَ التَّعْقِيبِ، وَثُمَّ لِلتَّرْتِيبِ مَعَ التَّرَاخِي، وَأَوْ لِلشَّكِّ أَوِ التَّخْيِيرِ، وَأَمْ لِطَلَبِ التَّعْيِينِ، وَلَا لِلنَّفْيِ، وَبَلْ لِلإِضْرَابِ، وَلَكِنْ لِلِاسْتِدْرَاكِ، وَحَتَّى لِلْغَايَةِ.

حروف عطف ۹ ہیں: واؤ مطلق جمع کے لئے، فاء ترتیب مع تعقیب کے لئے، ثم ترتیب مع تراخی کے لئے، او شک یا تخیر کے لئے، ام طلب تعیین کے لئے، لا نفی کے لئے، بل اضراب کے لئے، لکن استدراک کے لئے اور حتی غایت کے لئے۔

الامثلة

(۱) تَوَلَّى الخَلَافَةَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ

(٢) تَوَلَّى الخَلَافَةَ عُمَرُ وأبو بَكْرٍ

(۳) صَلَّى الإمام والمأمومُ

(٤) دَخَلَ المدرسُ فَوَقَفَ التلاميذ

(۵)حَكَمَ مِصْرَ إِسْمَاعِيلُ فَتَوفيقُ

(۶) رانا أبوكَ فَحَيَّانَا

(۷) ماتَ الرَّشِيدُ ثُمَّ المَأْمُونَ

(۸) زَرَعْنَا القُطْنَ ثُمَّ جَنَيْنَاهُ

(۹) يَنْقَضِي الصَّيْفُ ثُمَّ يَعُودُ

واو العطف وواو المعية:

وَاوُ العَطْفِ تُفِيدُ اشْتِرَاكَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فِي نِسْبَةِ الحُكْمِ إِلَيْهِمَا، وَالِاسْمُ بَعْدَهَا يَكُونُ تَابِعًا لِمَا قَبْلَهُ فِي إِعْرَابِهِ.

وَاوُ المَعِيَّةِ لَا تُفِيدُ اشْتِرَاكَ مَا قَبْلَهَا وَمَا بَعْدَهَا فِي الحُكْمِ، بَلْ تَدُلُّ عَلَى المُصَاحَبَةِ، وَالِاسْمُ بَعْدَهَا يَكُونُ مَنْصُوبًا دَائِمًا عَلَى أَنَّهُ مَفْعُولٌ مَعَهُ.

تَتَعَيَّنُ الوَاوُ لِلْمَعِيَّةِ إِذَا كَانَ هُنَاكَ مَانِعٌ مِنَ العَطْفِ.

تَتَعَيَّنُ الوَاوُ لِلْعَطْفِ بَعْدَ مَا لَا يَتَأَتَّى وُقُوعُهُ إِلَّا مِنْ مُتَعَدِّدٍ.

إِذَا صَحَّ العَطْفُ وَلَمْ يَجِبْ، جَازَ أَنْ تَكُونَ الوَاوُ لِلْعَطْفِ وَأَنْ تَكُونَ لِلْمَعِيَّةِ.

واؤ عطف اپنے ماقبل و مابعد کو ایک حکم میں مشترک ٹھہراتا ہے اور مابعد اسم اپنے ماقبل کا تابع ہوتا ہے۔

واؤ معیت اپنے ماقبل و مابعد کو ایک حکم میں مشترک نہیں کرتا بلکہ مصاحبت پر دلالت کرتا ہے اور اس کے بعد واقع ہونے والا اسم مفعول معہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہوتا ہے۔

جہاں عطف درست نہ ہو وہاں جو واؤ آئے وہ واؤ معیت کہلاتا ہے۔

اگر کوئی کام متعدد افراد کے بغیر صادر نہ ہوتا ہو تو وہاں آیا ہوا واو ، واو عاطفہ کہلاتا ہے۔

جب عطف جائز ہو اور ضروری نہ ہو تو آیا ہوا واؤ عاطفہ بھی ہو سکتا ہے اور واؤ معیت بھی۔

الامثلة

(۱) سِرْتُ وَطُلوعَ الفَجْرِ

(۲) حَضَرَ محمد وغُرُوبَ الشَّمْسِ

(۳) تَخَاصَمَ أَحمدُ وَحَسَنٌ

(٤) اشْتَرَكَ مَحْمُودٌ ونَجِيبٌ

( ٥ ) سَافَرَ إِبْرَاهِيمُ وخالدٌ أو وَخَالدا

(٦) نَامَ الطِفْلُ والمَرْضِعُ أو والمرْضَعَ

52 تیسیر النحو۔ سبق:۱۴، ۱۵

عطف

عطف البيان

عطف البيان: تابع جامد يشبه النعت في إيضاح متبوعه إن كان معرفة، وفي تخصيصه إن كان نكرة بنفسه لا بمعنى في متبوعه ولا في متعلقه، نحو: جاء أبو حفص عمر ( عمر عطف بيان مرفوع لأن متبوعة أبو حفص مرفوع) .

موافقة التابع للمتبوع في عطف البيان:

يجب في عطف البيان أن يوافق متبوعه مثل النعت الحقيقي في أربعة من عشرة: في واحد من الرفع والنصب والجر، وواحد من التعريف والتنكير، وواحد من الإفراد والتثنية والجمع، وواحد من التذكير والتأنيث.

مواضع عطف البيان:

ا۔ الاسم بعد الكنية، نحو: جاء أبو حفص عمر

۲۔ الاسم بعد اللقب شيخ الاسلام أحمد بن عبد الحليم ممن دافعوا عن العقيدة الصحيحة.

۳۔ الاسم الظاهر بعد اسم الإشارة، نحو: أعجبني هذا الخطيب.

۴۔ التفسير بعد المفسر نحو: عندي العسجد الذهب.

أحكام متفرقه:

عطف البيان لا يكون مضمرا، ولا تابعا للمضمر

عطف البيان لا يكون فعلا تابعا لفعل.

إذا اجتمعت التوابع قدم منها النعت ثم عطف البيان . ثم التوكيد، ثم البدل، ثم عطف النسق

عطف البیان:

عطف البیان ایک تابع ہے جو اپنے متبوع کی وضاحت کرتا ہے، بالخصوص جب متبوع معرفہ (مخصوص) ہو۔ اگر متبوع نکرہ (غیر مخصوص) ہو، تو عطف البیان اس کی تخصیص (مخصوص کرنا) کرتا ہے۔ عطف البیان کا تعلق نہ متبوع کے کسی معنی سے ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی تعلق سے، بلکہ تابع خود اپنے وجود سے متبوع کو واضح کرتا ہے۔ مثال کے طور پر: "جاء أبو حفص عمر" (ابو حفص، یعنی عمر، آیا)۔ یہاں "عمر" عطف البیان ہے اور مرفوع ہے کیونکہ اس کا متبوع "أبو حفص" مرفوع ہے۔

عطف البیان اور متبوع کی مطابقت:

عطف البیان کو اپنے متبوع کے ساتھ چار مختلف چیزوں میں مطابقت کرنی چاہیے، جیسے "النعت الحقیقی" (حقیقی صفت) میں ہوتی ہے:

رفع، نصب، یا جر میں۔

معرفہ اور نکرہ میں۔

واحد، تثنیہ، اور جمع میں۔

مذکر اور مؤنث میں۔

عطف البیان کے مواقع:

کنیت کے بعد نام: جیسے: "جاء أبو حفص عمر" (ابو حفص، یعنی عمر، آیا)۔

لقب کے بعد نام: جیسے: "شيخ الاسلام أحمد بن عبد الحليم" (شیخ الاسلام، یعنی احمد بن عبد الحلیم)۔

اسم اشارہ کے بعد ظاہر اسم: جیسے: "أعجبني هذا الخطيب" (یہ خطیب مجھے پسند آیا)۔

تفسیر کے بعد مفسر: جیسے: "عندي العسجد الذهب" (میرے پاس عسجد یعنی سونا ہے)۔

متفرق احکام:

عطف البیان ضمیر نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ضمیر کے تابع ہو سکتا ہے۔

عطف البیان فعل کو فعل کے تابع نہیں کرتا۔

جب توابع جمع ہوں تو ترتیب یہ ہوگی: پہلے نعت، پھر عطف البیان، پھر توکید، پھر بدل، اور آخر میں عطف النسق۔

عطف النسق

عطف النسق تابع يتوسط بينه وبين متبوعه أحد حروف العطف (سيأتي ذكرها وذكر بنانيها في مبحث الحروف) وينسب إليه ما نسب إلى متبوعه، وكلاهما مقصودان في تلك النسبة، نحو: جاء زيد وخالد، ورأيت زيدا وخالداء زيد" معطوف عليه في المثال الأول مرفوع فكذلك المطوف "خالد" و "زيدا في الثاني منصوب فكذلك "خالدا")

مرافقة التابع المعطوف للمتبوع المعطوف عليه:

لا يجب موافقة المعطوف للمعطوف عليه إلا في الإعراب فقط، وأما في غيره فيجوز اختلافهما فتعطف (۱) النكرة على المعرفة ، نحو: جاء زيد ورجل (۲) وعكسه نحو: جاء رجل وزيد (۳) والمذكر على المؤنث، نحو: جاءت امرأة ورجل (٤) وعكسه نحو: جاء رجل وامرأة (٥) والمفرد على المثنى والجمع، نحو: جاء طلاب وطالبتان وأستاذ (٦) وعكسه، نحو: جاء أستاذ وطالبتان وطلاب.

صور مختلفة لعطف الضمير

يجوز أن يعطف الضمير على الظاهر، نحو: جاء سليم وأنا، والظاهر على الضمير. المنفصل، نحو: ما جاء إلا أنت وسعيد.

لا يعطف على الضمير المتصل المرفوع والضمير المستتر إلا بعد توكيدهما بالضمير المنفصل، نحو: جئت أنا وزيد واذهب أنت وزيد أو بعد أن يفصل بين المعطوف والمعطوف عليه فاصل، نحو: ضربت اليوم وزيد.

إذا عطف على الضمير المجرور وجب إعادة الجار حرفا كان أو اسماء نحو: مررت بك وبسعيد، وعندي كتابه وكتاب سعيد

عطف النسق:

عطف النسق وہ تابع ہے جو اپنے متبوع کے ساتھ کسی حرفِ عطف کے ذریعے جڑتا ہے (جیسے: و، أو، ثم وغیرہ)، اور اس پر وہی حکم لاگو ہوتا ہے جو متبوع پر لاگو ہوتا ہے۔ دونوں کو ایک ہی نسبت میں شریک کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر: "جاء زيد وخالد" (زید اور خالد آئے)۔ یہاں "خالد" کا عطف "زيد" پر ہوا ہے اور چونکہ زید مرفوع ہے، اس لیے خالد بھی مرفوع ہے۔

عطف النسق میں تابع کی موافقت:

عطف النسق میں معطوف کو اپنے معطوف علیہ (جس پر عطف ہوا ہے) سے صرف اعراب میں مطابقت کرنی ہوتی ہے، جبکہ دیگر خصوصیات میں اختلاف ہو سکتا ہے، جیسے:

نکرہ کا معرفہ پر عطف: مثال: "جاء زيد ورجل" (زید اور ایک آدمی آئے)۔

معرفہ کا نکرہ پر عطف: مثال: "جاء رجل وزيد" (ایک آدمی اور زید آئے)۔

مذکر کا مؤنث پر عطف: مثال: "جاءت امرأة ورجل" (ایک عورت اور ایک مرد آئے)۔

مؤنث کا مذکر پر عطف: مثال: "جاء رجل وامرأة" (ایک مرد اور ایک عورت آئے)۔

مفرد کا تثنیہ یا جمع پر عطف: مثال: "جاء طلاب وطالبتان وأستاذ" (طلباء، دو طالبات اور ایک استاد آئے)۔

تثنیہ یا جمع کا مفرد پر عطف: مثال: "جاء أستاذ وطالبتان وطلاب" (ایک استاد، دو طالبات اور طلباء آئے)۔

عطف الضمیر کی مختلف صورتیں:

ضمیر کا ظاہر پر عطف: جیسے: "جاء سليم وأنا" (سلیم اور میں آیا)۔

ظاہر کا ضمیرِ منفصل پر عطف: جیسے: "ما جاء إلا أنت وسعيد" (صرف تم اور سعید آئے)۔

ضمیرِ متصل مرفوع یا مستتر پر عطف: اس صورت میں ضمیر پر عطف کرنے کے لیے ضمیرِ منفصل سے توکید ضروری ہے، جیسے: "جئت أنا وزيد" (میں اور زید آئے)، یا "اذهب أنت وزيد" (تم اور زید جاؤ) یا معطوف یا معطوف علیہ کے بعد فاصل لا کر جیسے : ضربت الیوم و زید ۔

عطفِ ضمیرِ مجرور: اگر ضمیرِ مجرور پر عطف کرنا ہو تو حرفِ جر کو دوبارہ ذکر کرنا ضروری ہےچاہے وہ حرف ہو یا اسم ، جیسے: "مررت بك وبسعيد" (میں تمہارے اور سعید کے پاس سے گزرا)، یا "عندي كتابه وكتاب سعيد" (میرے پاس اس کی اور سعید کی کتاب ہے)۔

53 تمارین

54 النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۱۴، ۱۵

التمرين (۱)

بين المعانى المختلفة المستفادة من اختلاف حروف العطف في الجمل الآتية:

ا۔ باع الفلاح الشعير والقمح

۲۔ باع الفلاح الشعير فالقمح

۳۔ مباع الفلاح الشعير ثم القمح

۴۔ باع الفلاح الشعير او القمح

۵- اشعيرا باع الفلاح ام قمحا

۶۔ باع الفلاح الشعير لا القمح

۷۔ باع الفلاح الشعير بل القمح

۸۔ ما باع الفلاح الشعير لكن القمح

التمرين (۲)

بين في اى جمل الاتية تتعين الواو للعطف وفى ايها تتعين للمعية وفي ايها يجوز الامران

ا - تعانق خالد واخوه

۲۔ قرا محمد و المصباح

۳۔ اختلف التاجر ووكيله

۴۔ جلست والقمر

۵۔ جاء السيد و خادمه

۶- مشينا والظلام

۷۔ سار التلميذ والكتاب

۸- نجحت سعاد و اختها

۹۔ نام اخي و ظل الشجرة

۱۰- ركب السفينة على وصديقه

التمرين (۳)

وسط حروف العطف بالتعاقب بين لفظى الابواب والشبابيك والطق بهما مرفوعين ثم منصوبين ثم مجرورين في جمل مفيدة:

التمرين (۴)

ضع حرف عطف ملائما بين كل معطوف و معطوف عليه فى الجمل لاتھۃ

۱۔ اتفاحا اكلت .... عنبا

۲۔ هرزنا الشجرة .... سقط ثمرها

۳۔ قرات الكتاب .... فهمته

۴۔ كل الفاكهة الناضجة .... الفجة

۵۔ باع عقاره ..... منزله

۶۔ خسر التاجر كل شئى .... شرفه

۷۔ ما قابلته ..... قابلت وکیله

۸۔ بذر الحب…….. حصد

۹۔ ا انت فعلت هذا .... الخادم؟

۱۰۔ اكل الفاكهة ..... قشرها

۱۱۔ ا انت فعلت هذا .... الخادم؟

۱۲۔ قدمت اليه الطعام ..... اكله

التمرين (۵)

ضع معطوفا ملائما بعد كل حرف من حروف العطف في الجمل الاتية:

ا - بنى الامير قصر او. . . . . .

۲۔ اشتريت حصانا ثم . . . . . . .

۳۔ آخاتما اشتريت ام . . . . . .

۴۔ ما غرست نخلا لكن. . . . . .

۵۔ سالنی سئو الابل . . . . . . .

۶۔ - قشرت التفاح و. . . . . . .

۷۔ دخل الامراء ف. . . . . .

۸۔ طلينا ابواب المنزل لا. . . . . .

۹- ذهب الخادم لا. . . . . .

۱۰۔ خرج من في الدار حتى. . . . . .

التمرين (٦)

ضع معطوفا عليه في الاماكن الخالية من الجمل الآتية:

۱۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔القصيدة وانشدها

۲۔ استقبل الرئيس ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فالعلماء

۳۔ مازرت ... لكن اسوان

۴۔ ما مشيت .... بل میلین

۵۔ ارسلت اليه رسالة ثم رسولا

۶۔ لبث عندنا .... او بعض يوم

۷۔ ا .... تسافر ام بعد غد

۸۔ عاشر .... لا الاشرار

التمرين (۷)

(۱) استعمل كل حرف من حروف العطف التسعة في جملة مفيدة

(۲) كون تسع جمل تشتمل كل . منها على واو تتعين اللطعف فى الثلاث الأولى وللمعية في الثلاث الثانية وتصح للامرين في الثلاث الاخيرة.

التمرين في الاعراب (۸)

(الف) نموذج:

رأيت الأسد لا النمر

رأيت... رأى من رأيت فعل ماض مبني على السكون والتاء ضمير مبني على الضم في محل رفع فاعل

الأسد...... مفعول به منصوب بالفتحة الظاهرة

لا... حرف عطف مبنى على السكون

النمر ..... معطوف على الأسد منصوب بالفتحة الظاهرة

(ب) اعرب الجملتين الاتيين

ا - الشجرة تنمو وتثمر

۲۔ مشيت و سور الحديقة

55 تیسیر النحو۔ سبق:۱۴، ۱۵

أسئلة

۱۔ عرف عطف البيان مع المثال.

٢- فيماذا يوافق عطف البيان متبوعه ؟

۳۔ اذكر مواضع عطف البيان مع الأمثلة.

۴۔ اذكر أحكاما متفرقة لعطف البيان.

تمرينات

۱۔ حدد عطف البيان ومتبوعه فيما يأتي مع بيان إعرابهما

كان بهاء الدين زهير رئيسا لديوان الإنشاء للملك نجم الدين أيوب، كرم المعهد الطالب خالدا. كان للخليفة المنصور عناية بتدوين العلوم وترجمتها. حكمت المحكمة على مجرمين قتلة بالسجن، تولى الفاروق عمر الخلافة بعد الصديق أبي بكر وبعده ذو النورين عثمان، وبعده أسد الله علي بن أبي طالب رضي الله عنهم.

۲۔ كون ثلاث جمل في كل منها عطف بيان موضح المتبوعه.

۳۔ كون ثلاث جمل في كل منها عطف بيان مخصص المتبوعه.

أسئلة

۱۔ عرف عطف النسق مع الأمثلة.

٢ - فيماذا يوافق عطف النسق متبوعه (أي: المعطوف المعطوف عليه ) وفيماذا يخالف ؟ وضحه بالأمثلة.

۳۔ اذكر صورا مختلفة لعطف الضمير مع الأمثلة.

56 خودکار جانچ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

57 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

668 questions in this lesson