الخريطة
- اسم
- معین وغیر معین کے اعتبار سے
- جنس کے اعتبار سے
- عدد کے اعتبار سے
- عاقل اور غیرعاقل کے اعتبار سے
- معرب و مبنی کے اعتبار سے
1 القاعدة
تعریف
واحد: جو ایک پر دلالت کرے مثال: واحد ، واحدۃ
تثنیہ: دو پر دلالت کرے مثال: طالبان ، طالبتان
جمع: جو تین یا اس سے زائد پر دلالت کرے مثال: طلاب ، طالبات
واحد ، تثنیہ ،و جمع کی تعریفات دیگر کتب میں2
معلم الانشاءمعلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
واحد، تثنیه اور جمع:
اسم کی عدد کے اعتبارسے تین قسمیں ہیں واحد ، تثنیہ، جمع۔
واحد ایک کو، تثنیہ دو کو اور جمع دوسے زیادہ کو کہتے ہیں ۔ جیسے: کِتَابٌ (واحد) ، کِتَابَانِ (تثنیہ) ، کُتُبٌ (جمع)
تثنیه بنانے کا قاعدہ: اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں الف و نون بڑھانے سے تثنیہ بن جاتا ہے، مگر یہ صرف اس وقت جب کہ تثنیہ مرفوع ہو جیسے کتاب سے کتابان اور کراسۃ سے کراستان وغیره اگر تثنیه مرفوع (حالت رفع میں) ہونے کی بجائے منصوب یا مجرور ( حالت نصب یا جر میں ) ہو تو الف و نون کے بجائے ی ماقبل مفتوح اور نون مکسورہ ( ینِ) بڑھاتے ہیں۔ جیسے کتابین اور كراستين وغيره
جمع: جمع جو دو سے زیادہ چیزوں پر دلالت کرتی ہے۔ جیسے: مُسْلِمُونَ ، مُسْلِمَاتٌ وغیرہ
اور اس کی قسمیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم، جمع تکسیر
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۴
اَلاِسْمُ يَنْقَسِمُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: مُفْرَدٌ وَمُثَنًّى وَجَمْعٌ.
المُفْرَدُ: مَا دَلَّ عَلَى شَيْءٍ وَاحِدٍ.
المُثَنَّى: مَا دَلَّ عَلَى شَيْئَيْنِ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.
الجَمْعُ: مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْنِ.
اسم کی تین قسمیں ہیں: مفرد ، متثنیہ اور جمع۔
مفرد ایک پر دلالت کرتا ہے۔
تثنیه دو پر دلالت کرتا ہے اس کے آخر میں الف نون اور کبھی یا نون بڑھائے جاتے ہیں۔
اقرأ البقية (26)
جمع وہ ہے جو دو سے زائد پر دلالت کرے۔
الأمثلة :
مفرد
(۱) تَعِبَ الْعَامِلُ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُ
(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَ
(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَةِ .
مثنی
(۱)تَعِبَ الْعَامِلَانِ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسَانِ
(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَيْن.
(٤)أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَتَيْنِ
جمع
(۱) تَعِبَ الْعُمَّالُ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُونَ
(٣) نَادِيْتُ الْبَائِعِينَ
(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَاتِ
تثنیہ و جمع کی قسمیں
تعریف
۱ ۔جمع مذکر سالم: مفرد مذکر میں واو اور نون کا اضافہ کرکے حالت رفع میں مثال: المومنون موحدون ، یدخل المسلمون الجنۃ
یا پھر مفرد مذکر پر یاء اور نون کا اضافہ کرکے حالت نصب اور جر میں اُحب المومنین و أومنُ بکل المرسلین
۲ ۔جمع مونث سالم:مفرد مونث پر الف اور تاء کا اضافہ کرکے اور اس کے رفع کی علامت ضمہ اور نصب اور جر کی علامت کسرہ ہے مثال: حضرتۡ الفتیاتُ
۳ ۔جمع تکسیر: یہ سماعی ہے اس کا کوئی قاعدہ نہیں۔ مثال: رجالٌ ، طلابٌ ، سعاۃٌ ، انبیاءٌ۔ْ
جمع کی قسمیں دیگر کتب میں2
معلم الانشاءمعلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم اور جمع مکسر
(۱) جمع مذکر سالم اس جمع کو کہتے ہیں جس میں واحد کا وزن باقی اور سالم رہے۔ یہ اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں واؤ اور نون مفتوح (ون) بڑھانے سے بنتی ہے۔ یہ قاعدہ صرف اس کی حالت رفعی کے لئے ہے۔ حالت نصبی میں "ی" ماقبل مکسور اور نون مفتوح (ینَ) بڑھا کر جمع بناتے ہیں جیسے: محمدٌ سے محمدِيۡنَ اور صالح سے صالحِیۡنَ میں (حالت نصب اور جر میں) مُحَمَّدُوۡنَ اور صَالِحُونَ ( حالت رفعی میں)
نوٹ: جمع مذکر سالم صرف رجال (مرد) کے نام اور ان کی صفات کے لئے آتی ہے۔
(۲) تثنیه اور جمع مذکر سالم کا اعراب (حالت نصب و جر میں ) ی سے آتا ہے اور لکھنے میں دونوں کی صورت ایک ہی ہوتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ تثنیہ میں جو ی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے فتحہ اور بعد کے نون کو کسرہ دیا ہوا ہوتا ہے اور جمع مذکر سالم کی ی سے پہلے کسرہ اور بعد کے نون کو فتحہ دیا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی تثنیہ میں "ی" ماقبل مفتوح ما بعد مکسور اور جمع میں ی ماقبل مکسور اور مابعد مفتوح ہوتا ہے۔
(۲) جمع مؤنث سالم ہر وہ جمع جو کسی واحد مونث کے آخر میں الف اور تائے مبسوط (ت) بڑھا کر بنائی جائے اور واحد کا وزن باقی رہے جسے مسلمۃ سے مُسلِمَاتٌ، صَالِحَةٌ سے صَالِحَاتِ، فَاطِمَةٌ سے فَاطِمَاتٌ، بَقَرَة سے بَقَرَاتٌ، شَجَرَة سے شَجَرَاتٌ، كَلِمَةٌ سے كَلِمَات و غیره
نوٹ: یہ عاقل اور غیر عاقل سب کے لئے آتی ہے۔ بخلاف جمع مذکر سالم کے صرف رجال کا نام اور ان کی صفات ہی کیلئے آتی ہے۔
(۲) جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفعہ میں ضمہ کے ساتھ اور حالت نصب و جر دونوں میں کسرہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
(۳) جمع مکسر : اس جمع کو کہتے ہیں جس میں مفرد ( واحد ) کا وزن باقی نہ رہے بلکہ جمع میں آکر ٹوٹ جائے اسی وجہ سے اس کو مکسر ( ٹوٹا ہوا) کہتے ہیں جیسے رَجُل سے رِجَالٌ، شاۃٌ سے شیاہٌ اور حَدِيقَةٌ سے حدائق وغیرہ۔
جمع مکسر بنانے کا کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے کبھی محض حرکات (ضمه فتحه کسرہ) کے تغییر و تبدیل سے جیسے: أسدٌ سے اُسدٌ اور کبھی کسی حرف کو حذف کر کے جیسے رسولٌ سے رسلٌ اور کبھی بعض حروف کے اضافہ سے جمع بنا لیتے ہیں جیسے رَجُلٌ سے رجالٌ وغیرہ
ذیل میں جمع مکسر کے کچھ اوزان لکھے جاتے ہیں ان کو یاد کر لو۔ افعالٌ ، مفاعلُ، مَفاعِيلُ، فعلٌ، فعولٌ، فِعالٌ، افعلُ، فُعلاء، افعِلاء، فواعِلُ، فعالِل، فعاليلُ، فعاللةٌ ( چند الفاظ غیر منصرف ہیں ان پر تنوین نہیں آئے گی )
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸
المثنیٰ: تثنیہ
يُرْفَعُ الْمُثَنَّى بِالأَلِفِ ويُنْصَبُ وَيَجَرُ بِالْيَاء .
مثنی کو الف کے ذریعہ رفع دیا جاتاہے اور ی کے ذریعہ نصب اور جر دیاجاتاہے
الأمثلة :
(۱) لَعِبَ الْوَلَدَانِ .
(٢) اتَّفَق الشريكان.
(٣) أَوْرَقَتِ الشَّجَرَتَانِ.
اقرأ البقية (76)
(٤) حَضَرَ الْمُسَافِرَانِ.
(۱) كَافَأْتُ الْوَلَدَيْن
(٢) حَادَثْتُ الشَّرِيكين.
(٣) تَسَلَّقْتُ الشَّجَرَتَيْنِ.
(٤) وَدَعْتُ الْمُسَافِرَيْن.
(١) أَعْطَيْتُ الْكُرَةَ لِلْوَلَدَيْنِ .
(۲) اشْتَرَيْتُ مِنَ الشَّرِيكين .
(٣) دَنَوْتُ مِنَ الشَّجَرَتَيْنِ.
(٤) سَلَّمْتُ عَلَى الْمُسَافِرَيْنِ .
الجمع: جمع
يَنْقَسِمُ الجَمْعُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: جَمْعُ تَكْسِيرٌ، وَجَمْعُ مُذَكَّرٍ سَالِمٌ، وَجَمْعُ مُؤَنَّثٍ سَالِمٌ
(أ) فَجَمْعُ التَّكْسِيرِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِتَغْيُّرِ صُورَةِ المُفْرَدِ.
(ب) وَجَمْعُ المُذَكَّرِ السَّالِمِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ وَاوٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.
(ج) وَجَمْعُ المُؤَنَّثِ السَّالِمُ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَتَاءٍ فِي آخِرِهِ.
جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع تکسیر ، جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم ۔
(الف) جمع تکسیر ایسےجمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرنے پر مفرد کی صورت تبدیل کر کے جمع پر دلالت کرے۔
(ب) جمع مذکر سالم ایسے جمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور واؤ، نون " یا " یاء نون مفرد کے آخر پر اضافہ کرنے سے بنے۔
(ج) جمع مؤنث سالم اسے کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور مفرد کے آخر میں الف اور تاء کے اضافہ سے بنے۔
الأمثلة :
جمع تکسیر
(۱) حَضَرَ الرِّجَالُ
(٢) قَرَأْتُ الكُتب
(٣) مَشَيْتُ فِي الطُّرُقِ .
جمع مذکر سالم
(۱) فَازَ الْمُجِدُّونَ
(٢) أَكْرَمْتُ الْقَادِمِينَ.
(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبِينَ .
جمع مؤنث سالم
(۱) فَازَتِ الْمُجدَّاتُ .
(۲) أَكْرَمْتُ الْقَادِمَاتِ
(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبَاتِ .
إعراب جمع المذكر السالم: جمع مذکر سالم کا اعراب
جَمْعُ المُذَكَّر السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالْوَاوِ وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْيَاءِ
جمع مذکر سالم کو واو کے ذریعہ رفع اور ی کے ذریعہ نصب و جر دیا جاتا ہے ۔
الأمثلة :
(۱)رَبِحَ الْفَلاحُونَ.
(٢) نَجَحَ الْمُجْتَهِدُونَ .
(٣) حَضَرَ الْمُسَافِرُونَ .
(٤) تَعِبَ اللَّاعِبُونَ
(۱) نُكْرِمُ الْفَلَاحِينَ
(٢) نُحِبُّ الْمُجْتَهِدِين.
(٣) نُودِّعُ الْمُسَافِرِينَ
(٤) نُشَجِّعُ اللَّاعَبِينَ .
(۱) نَرْجُو الْخَيْرَ لِلْفَلَاحِينَ
(٢) نُثْنِي عَلَى الْمُجْتَهِدِينَ .
(٣) نُسَلِّمُ عَلَى الْمُسَافِرِينَ .
(٤) نَنظُرُ إِلَى اللَّاعِبِينَ
إعراب جمع المؤنث السالم: جمع مونث سالم کا اعراب
جَمْعُ الْمُؤنَّثِ السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالضَّمَّةِ ، وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْكَسْرَةِ .
جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفع میں ضمہ ہے اور حالت نصب و جر میں کسرہ ہے
الأمثلة :
(۱) بَاضَتِ الدَّجَاجَاتُ .
(٢) حَضَرَتِ الْفَاطِمَاتُ
(٣) أَكلَتِ الْبَقَرَاتُ .
(٤) نَمَتِ الشَّجَرَاتُ
(۱) ذبَحتُ الدَّجَاجَاتِ.
(۲) مَدَحْتُ الْفَاطِمَاتِ.
(٣) حَلَبْتُ الْبَقَرَاتِ .
(٤) سَقَيْتُ الشَّجَرَاتِ .
(۱) هَجَمَ الثَّعْلَبُ عَلَى الدَّجَاجَاتِ
(٢) شَكَرْتُ لِلْفَاطِمَاتِ
(۳) جَلَسْتُ بَعِيدًا عَنِ الْبَقَرَاتِ
(٤) ذَهَبْتُ إِلى الشَّجَرَاتِ
2 معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
واحد، تثنیه اور جمع:
اسم کی عدد کے اعتبارسے تین قسمیں ہیں واحد ، تثنیہ، جمع۔
واحد ایک کو، تثنیہ دو کو اور جمع دوسے زیادہ کو کہتے ہیں ۔ جیسے: کِتَابٌ (واحد) ، کِتَابَانِ (تثنیہ) ، کُتُبٌ (جمع)
تثنیه بنانے کا قاعدہ: اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں الف و نون بڑھانے سے تثنیہ بن جاتا ہے، مگر یہ صرف اس وقت جب کہ تثنیہ مرفوع ہو جیسے کتاب سے کتابان اور کراسۃ سے کراستان وغیره اگر تثنیه مرفوع (حالت رفع میں) ہونے کی بجائے منصوب یا مجرور ( حالت نصب یا جر میں ) ہو تو الف و نون کے بجائے ی ماقبل مفتوح اور نون مکسورہ ( ینِ) بڑھاتے ہیں۔ جیسے کتابین اور كراستين وغيره
جمع: جمع جو دو سے زیادہ چیزوں پر دلالت کرتی ہے۔ جیسے: مُسْلِمُونَ ، مُسْلِمَاتٌ وغیرہ
اور اس کی قسمیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم، جمع تکسیر
3 النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۴
اَلاِسْمُ يَنْقَسِمُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: مُفْرَدٌ وَمُثَنًّى وَجَمْعٌ.
المُفْرَدُ: مَا دَلَّ عَلَى شَيْءٍ وَاحِدٍ.
المُثَنَّى: مَا دَلَّ عَلَى شَيْئَيْنِ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.
الجَمْعُ: مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْنِ.
اسم کی تین قسمیں ہیں: مفرد ، متثنیہ اور جمع۔
مفرد ایک پر دلالت کرتا ہے۔
تثنیه دو پر دلالت کرتا ہے اس کے آخر میں الف نون اور کبھی یا نون بڑھائے جاتے ہیں۔
جمع وہ ہے جو دو سے زائد پر دلالت کرے۔
الأمثلة :
مفرد
(۱) تَعِبَ الْعَامِلُ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُ
(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَ
(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَةِ .
مثنی
(۱)تَعِبَ الْعَامِلَانِ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسَانِ
(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَيْن.
(٤)أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَتَيْنِ
جمع
(۱) تَعِبَ الْعُمَّالُ
(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُونَ
(٣) نَادِيْتُ الْبَائِعِينَ
(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَاتِ
تثنیہ و جمع کی قسمیں
تعریف
۱ ۔جمع مذکر سالم: مفرد مذکر میں واو اور نون کا اضافہ کرکے حالت رفع میں مثال: المومنون موحدون ، یدخل المسلمون الجنۃ
یا پھر مفرد مذکر پر یاء اور نون کا اضافہ کرکے حالت نصب اور جر میں اُحب المومنین و أومنُ بکل المرسلین
۲ ۔جمع مونث سالم:مفرد مونث پر الف اور تاء کا اضافہ کرکے اور اس کے رفع کی علامت ضمہ اور نصب اور جر کی علامت کسرہ ہے مثال: حضرتۡ الفتیاتُ
۳ ۔جمع تکسیر: یہ سماعی ہے اس کا کوئی قاعدہ نہیں۔ مثال: رجالٌ ، طلابٌ ، سعاۃٌ ، انبیاءٌ۔ْ
4 معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم اور جمع مکسر
(۱) جمع مذکر سالم اس جمع کو کہتے ہیں جس میں واحد کا وزن باقی اور سالم رہے۔ یہ اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں واؤ اور نون مفتوح (ون) بڑھانے سے بنتی ہے۔ یہ قاعدہ صرف اس کی حالت رفعی کے لئے ہے۔ حالت نصبی میں "ی" ماقبل مکسور اور نون مفتوح (ینَ) بڑھا کر جمع بناتے ہیں جیسے: محمدٌ سے محمدِيۡنَ اور صالح سے صالحِیۡنَ میں (حالت نصب اور جر میں) مُحَمَّدُوۡنَ اور صَالِحُونَ ( حالت رفعی میں)
نوٹ: جمع مذکر سالم صرف رجال (مرد) کے نام اور ان کی صفات کے لئے آتی ہے۔
(۲) تثنیه اور جمع مذکر سالم کا اعراب (حالت نصب و جر میں ) ی سے آتا ہے اور لکھنے میں دونوں کی صورت ایک ہی ہوتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ تثنیہ میں جو ی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے فتحہ اور بعد کے نون کو کسرہ دیا ہوا ہوتا ہے اور جمع مذکر سالم کی ی سے پہلے کسرہ اور بعد کے نون کو فتحہ دیا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی تثنیہ میں "ی" ماقبل مفتوح ما بعد مکسور اور جمع میں ی ماقبل مکسور اور مابعد مفتوح ہوتا ہے۔
(۲) جمع مؤنث سالم ہر وہ جمع جو کسی واحد مونث کے آخر میں الف اور تائے مبسوط (ت) بڑھا کر بنائی جائے اور واحد کا وزن باقی رہے جسے مسلمۃ سے مُسلِمَاتٌ، صَالِحَةٌ سے صَالِحَاتِ، فَاطِمَةٌ سے فَاطِمَاتٌ، بَقَرَة سے بَقَرَاتٌ، شَجَرَة سے شَجَرَاتٌ، كَلِمَةٌ سے كَلِمَات و غیره
نوٹ: یہ عاقل اور غیر عاقل سب کے لئے آتی ہے۔ بخلاف جمع مذکر سالم کے صرف رجال کا نام اور ان کی صفات ہی کیلئے آتی ہے۔
(۲) جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفعہ میں ضمہ کے ساتھ اور حالت نصب و جر دونوں میں کسرہ کے ساتھ ہوتا ہے۔
(۳) جمع مکسر : اس جمع کو کہتے ہیں جس میں مفرد ( واحد ) کا وزن باقی نہ رہے بلکہ جمع میں آکر ٹوٹ جائے اسی وجہ سے اس کو مکسر ( ٹوٹا ہوا) کہتے ہیں جیسے رَجُل سے رِجَالٌ، شاۃٌ سے شیاہٌ اور حَدِيقَةٌ سے حدائق وغیرہ۔
جمع مکسر بنانے کا کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے کبھی محض حرکات (ضمه فتحه کسرہ) کے تغییر و تبدیل سے جیسے: أسدٌ سے اُسدٌ اور کبھی کسی حرف کو حذف کر کے جیسے رسولٌ سے رسلٌ اور کبھی بعض حروف کے اضافہ سے جمع بنا لیتے ہیں جیسے رَجُلٌ سے رجالٌ وغیرہ
ذیل میں جمع مکسر کے کچھ اوزان لکھے جاتے ہیں ان کو یاد کر لو۔ افعالٌ ، مفاعلُ، مَفاعِيلُ، فعلٌ، فعولٌ، فِعالٌ، افعلُ، فُعلاء، افعِلاء، فواعِلُ، فعالِل، فعاليلُ، فعاللةٌ ( چند الفاظ غیر منصرف ہیں ان پر تنوین نہیں آئے گی )
5 النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸
المثنیٰ: تثنیہ
يُرْفَعُ الْمُثَنَّى بِالأَلِفِ ويُنْصَبُ وَيَجَرُ بِالْيَاء .
مثنی کو الف کے ذریعہ رفع دیا جاتاہے اور ی کے ذریعہ نصب اور جر دیاجاتاہے
الأمثلة :
(۱) لَعِبَ الْوَلَدَانِ .
(٢) اتَّفَق الشريكان.
(٣) أَوْرَقَتِ الشَّجَرَتَانِ.
(٤) حَضَرَ الْمُسَافِرَانِ.
(۱) كَافَأْتُ الْوَلَدَيْن
(٢) حَادَثْتُ الشَّرِيكين.
(٣) تَسَلَّقْتُ الشَّجَرَتَيْنِ.
(٤) وَدَعْتُ الْمُسَافِرَيْن.
(١) أَعْطَيْتُ الْكُرَةَ لِلْوَلَدَيْنِ .
(۲) اشْتَرَيْتُ مِنَ الشَّرِيكين .
(٣) دَنَوْتُ مِنَ الشَّجَرَتَيْنِ.
(٤) سَلَّمْتُ عَلَى الْمُسَافِرَيْنِ .
الجمع: جمع
يَنْقَسِمُ الجَمْعُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: جَمْعُ تَكْسِيرٌ، وَجَمْعُ مُذَكَّرٍ سَالِمٌ، وَجَمْعُ مُؤَنَّثٍ سَالِمٌ
(أ) فَجَمْعُ التَّكْسِيرِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِتَغْيُّرِ صُورَةِ المُفْرَدِ.
(ب) وَجَمْعُ المُذَكَّرِ السَّالِمِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ وَاوٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.
(ج) وَجَمْعُ المُؤَنَّثِ السَّالِمُ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَتَاءٍ فِي آخِرِهِ.
جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع تکسیر ، جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم ۔
(الف) جمع تکسیر ایسےجمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرنے پر مفرد کی صورت تبدیل کر کے جمع پر دلالت کرے۔
(ب) جمع مذکر سالم ایسے جمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور واؤ، نون " یا " یاء نون مفرد کے آخر پر اضافہ کرنے سے بنے۔
(ج) جمع مؤنث سالم اسے کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور مفرد کے آخر میں الف اور تاء کے اضافہ سے بنے۔
الأمثلة :
جمع تکسیر
(۱) حَضَرَ الرِّجَالُ
(٢) قَرَأْتُ الكُتب
(٣) مَشَيْتُ فِي الطُّرُقِ .
جمع مذکر سالم
(۱) فَازَ الْمُجِدُّونَ
(٢) أَكْرَمْتُ الْقَادِمِينَ.
(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبِينَ .
جمع مؤنث سالم
(۱) فَازَتِ الْمُجدَّاتُ .
(۲) أَكْرَمْتُ الْقَادِمَاتِ
(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبَاتِ .
إعراب جمع المذكر السالم: جمع مذکر سالم کا اعراب
جَمْعُ المُذَكَّر السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالْوَاوِ وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْيَاءِ
جمع مذکر سالم کو واو کے ذریعہ رفع اور ی کے ذریعہ نصب و جر دیا جاتا ہے ۔
الأمثلة :
(۱)رَبِحَ الْفَلاحُونَ.
(٢) نَجَحَ الْمُجْتَهِدُونَ .
(٣) حَضَرَ الْمُسَافِرُونَ .
(٤) تَعِبَ اللَّاعِبُونَ
(۱) نُكْرِمُ الْفَلَاحِينَ
(٢) نُحِبُّ الْمُجْتَهِدِين.
(٣) نُودِّعُ الْمُسَافِرِينَ
(٤) نُشَجِّعُ اللَّاعَبِينَ .
(۱) نَرْجُو الْخَيْرَ لِلْفَلَاحِينَ
(٢) نُثْنِي عَلَى الْمُجْتَهِدِينَ .
(٣) نُسَلِّمُ عَلَى الْمُسَافِرِينَ .
(٤) نَنظُرُ إِلَى اللَّاعِبِينَ
إعراب جمع المؤنث السالم: جمع مونث سالم کا اعراب
جَمْعُ الْمُؤنَّثِ السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالضَّمَّةِ ، وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْكَسْرَةِ .
جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفع میں ضمہ ہے اور حالت نصب و جر میں کسرہ ہے
الأمثلة :
(۱) بَاضَتِ الدَّجَاجَاتُ .
(٢) حَضَرَتِ الْفَاطِمَاتُ
(٣) أَكلَتِ الْبَقَرَاتُ .
(٤) نَمَتِ الشَّجَرَاتُ
(۱) ذبَحتُ الدَّجَاجَاتِ.
(۲) مَدَحْتُ الْفَاطِمَاتِ.
(٣) حَلَبْتُ الْبَقَرَاتِ .
(٤) سَقَيْتُ الشَّجَرَاتِ .
(۱) هَجَمَ الثَّعْلَبُ عَلَى الدَّجَاجَاتِ
(٢) شَكَرْتُ لِلْفَاطِمَاتِ
(۳) جَلَسْتُ بَعِيدًا عَنِ الْبَقَرَاتِ
(٤) ذَهَبْتُ إِلى الشَّجَرَاتِ
6 تمارین
7 معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
اَلتَّمْرِيْنُ (۱۲)
(تثنیہ وجمع میں موصوف و صفت کی مطابقت)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) اَلْمَاءُ الرَّائِقُ
(2) اَلْهَوَاءُ النَّقِيُّ
(3) اَلْاَنْهَارُ الْجَارِيَةُ (اَلْجَارِيَاتُ)
(4) نَجْمَانِ لاَمِعَانِ
(5) اَلْجِبَالُ الشَّامِخَةُ (اَلشَّامِخَاتُ)
(6) اَلْمُسْلِمُونَ الصَّادِقُوْنَ
(7) رِجَالٌ صَالِحُونَ
(8) وَرْدَةٌ مُفَتَّحَةٌ
(9) تِلْمِيْذَانِ مُجْتَهِدَانِ
(10) اَلْبَنَاتُ الصَّالِحَاتُ
(11) اَقْلاَمٌ ثَمِيْنَةٌ (اَوْ ثَمِيْنَاتٌ)
(12) اَلْمَنَارَتَانِ الطَّوِيْلَتَانِ
(13) اَلدَّوَاةُ الْمَمْلُوْءَةُ
(14) اَلْاُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنَاتُ
اَلتَّمْرِيْنُ (۱۳)
خالی جگہیں مناسب صفات سے پر کرو:
(1) اَلْاَنْهَارُ ________
(2) اَلْمَلاَبِسُ _________
(3) عَمُوْدَانِ ________
(4) اَلْمَنْظَرُ ___________
(5) اَللَّيَالِي __________
(6) اَلْبَقَرَاتُ __________
(7) اَلْحَدَائِقُ __________
(8) كُرْسِيَّانِ __________
(9) اَلْفَلاَّحُونَ _________
(10) اَلتِّلْمِيْذَاتُ __________
(11) تُفَّاحَتَانِ _________
(12) سَلْمَانُ __________
اَلتَّمْرِيْنُ (۱۴)
خالی جگہیں پر کرو:
(1) _________ اَلْمُمْطِرَةُ
(2) ________ اَلضَّئِيْلُ
(3) _________ اَللَّعُوْبَانِ
(4) _________ اَلْبَارُّوْنَ
(5) _________ مُتَلَأْلِئٌ
(6) _________ اَلْفَائِزَتَانِ
(7) _________ اَلْمُوْرِقَةُ
(8) _________ اَلْقَوِيَّانِ
(9) ________ اَلنَّاجِحُوْنَ
(10) _________ عَفِيْفَتَانِ
(11) _________ اَلْعَابِدَاتُ
(12) _________ مُجْتَهِدَاتٌ
اَلتَّمْرِيْنُ (۱۵)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) عربی مدرسے
(۲) تعلیم یافتہ لڑکیاں
(۳) مومن عورتیں
(۴) نیک مائیں
(۵) ایک خوبصورت آئینہ
(۶) گلاب کا سرخ پھول
(۷) خوش گوار موسم
(۸) دو خوبصورت پارک
(۹) بہتی نہریں
(۱۰) دو چمکدار ستارے
(۱۱) چاندنی راتیں
(۱۲) دلفریب منظر
(۱۳) کچھ پھلدار درخت
(۱۴) ہری ٹہنیاں
(۱۵) خائن وزراء
(۱۶) مغربی تہذیب و تمدن
(۱۷) عدل و انصاف کرنے والے قاضی
(۱۸) بے پردہ عورتیں
(۱۹) قومی ترانہ
(۲۰) میٹھے گیت
اَلتَّمْرِيْنُ (۱۶) (فی الانشاء)
(۱) اپنی درس گاہ سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ اور جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔
(۲) اپنی تعلیم سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ و جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔
(۳) اپنے دارالاقامہ سے متعلق چیزوں پر موصوف و صفت کے چھ ایسے جملے لکھو کہ واحد، تثنیہ و جمع اور تذکیر و تانیث آجائے۔
8 النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۴
التمرين (۱)
عين في العبارة الآتية المفرد والمثنى والجمع:
ذهبت مرة لزيارة صديق، فادخلني في حجرة لها ثلاثة شبابيك و بابان، جدرانها مزينة بالصور والرسوم وارضها مفروشة بالبسط الفارسية و فيها ارائك مصفوفة وفي احد جوانبها خزانة كتب عجيبة ورايت هناک رجلين جالسين يذكران اخبار المخترعين و يقصان ما يشوق المستمعين من الحكايات اللطيفة و النوادر الطریفۃ۔
التمرين (۲)
ثن الاسماء الآتية:
باب ، شجرۃ،طريق ، عصفور، كريم
ذکی،حديقة،نهر ،کتاب ، ورقة
التمرين (۳)
رد الجموع الاتية الى مفرداتها واستعمل كل مفرد في جملة مفيدة
نجوم ، بساتین، مومنات، بحار،سفن
حجرات ، فنادق ، جنود ، اطباء ، مخترعون
9 النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸
تقسیم الجمع
التمرين (ا)
(۱) عين في القطعة الآتية جمع المذكر السالم وجمع المونث السالم وجمع التكسير :
كان ملوك المصريين القدماء يبنون المعابد ويزينونها بالصور والرسوم ويدونون عليها تواريخ وقائعهم الحربية واذا تاملت معبد الاقصر رايت على جدرانه صورة الملك رمسيس جالسا علی عرشه وحوله القواد والامراء يتشاورون ورايت صورة المعسكر وفيه جنوده المدربون وقدها جمهم الحيثيون ورايت رمسيس في صورة اخرى وهو يهجم على اعدائه فينفرون من وجهه جماعات ويهرولون طالبين النجاة في الحصون.
(۲) رد كل جمع فى القطعة الماضية الى مفردۃ
التمرين (۲)
اجمع المفردات الآتية جموعا تناسبها :
فاطمة ، معارة ، عمود ، مصری
تاجر ، فلاح ، مصباح ، طريق
صفحة ، مسجد ، كرة ، بستان
بقرۃ ، ثور ، اسد ، غابة
أعراب المثنی
التمرين (۱)
عين المثنى المرفوع والمنصوب والمجرور في العبارات الاتية وبين السبب وعلامة الاعراب في كل:
۱۔ البابان مفتوحان
۲۔ يجر المحراث ثوران
۳۔ تمشى الدجاجة على رجلين
۴۔ كانت الحجرتان ضيقتين
۵۔ اكلت تفاحتين
۶۔ قرات من الكتاب صفحتين
۷۔ اشتريت الكتاب بقرشين
۸۔ ان الكبشين سمينان
التمرين (۲)
ضع مثنى كل كلمة من الكلمات الآتية في جملة مفيدة:
عمود ، غرفة ، کرسی ، نخلة ، غزال
صورة ، عالم ، بائع ، قلم ، حجر
التمرين (۳)
ثن الكلمات الآتية وضعها بعد الثتنية في جمل مفيدة بحيث يقع كل منھا مرة فاعلا ومرة مفعولا به ومرة اسما لان ومرة اسما لكان:
النخلة ، الشارع ، السفينة ، الجبل ، الجندى
التمرين (۴)
(۱) ایت بجملتين فعليتين الفاعل في كل منهما مثنى
(۲) ایت بجملتين فعليتين المفعول به في كل منها مثنى
(۳) ایت بجملتين اسمين المبتدا والخير في كل منها مثنيان
(۴) ایت بجملتين اسم ان في كل منهما مثنى.
التمرين (۵)
ثن كل عضو له مثيل في وجه الانسان وضعه بعد التثنيۃ في عبارة تشرح فوائده:
التمرين في الاعراب (۶)
(الف) نموذج:
(۱) يجر العجلة جوادان
يجر : فعل مضارع مرفوع بالضمة
العجلة: مفعول به مقدم منصوب بالفتحة
جوادان:فاعل مرفوع بالألف لأنه مثنى
(۲) استعار على كتابين
استعار :. فعل ماض مبنى على الفتح
على: فاعل مرفوع بالضمة
کتابین : مفعول به منصوب بالياء لانه مثنى
(ب) اعرب الجمل الاتية
(۱) الهرتان نظيفتان
(۲) ان الغائبين مريضان
(۳) وقف التلاميذ في صفين
أعراب جمع المذکر السالم
التمرين (۱)
عين جمع المذكر السالم المرفوع والمنصوب والمجرور في العبارات الآتية وبين السبب وعلامة الاعراب في كل:
۱۔ يبتهج المصريون لارتفاع اثمان القطن
۲۔ لم يعف الاستاذ عن التلاميذ المقصرين
۳۔ حكم القاضي بالسجن على المجرمين
۴۔ يفوز الرجال العاملون
۵۔ لا تصغ الى الكاذبين
۶۔ كان التلاميذ منتبهين
التمرين (۲)
اجمع الكلمات الآتية جمع مذكر سالما وضعها بعد الجمع في جمل مفيدة
البائع ، المجتهد ، النجار ، الصياد ، السارق ، الحارس
التمرين (۳)
اجمع الكلمات الآتية جمع مذكر سالما وضعها بعد الجمع في جمل مفيدة بحيث يكون كل منها مرة مبتدا ومرة اسما لان ومرة خبرا للعل ومرة مفعولا به۔
السابق ، محمد ، المعلم ، الزائر ، المصور ، الخباز
التمرين (۴)
(۱) ایت بجملتين فعليتين الفاعل في كل منهما جمع مذكر سالم
(۲) ایت بجملتين فعليتين المفعول به في كل منهما جمع مذكر سالم
(۳) ایت بجملتين اسميتين المبتدا والخير في كل منهما جمعا مذكر سالمان
(۴) ایت بجملتين اسميتين اسم ليت في كل منهما جمع مذكر سالم
التمرين (۵)
فکر فى طوائف الصناع المختلفين الذين يشتركون فى اقامة بيت واتمامه ثم اجمع افراد كل طائفة جمع مذكر سالما وضعه في عبارة تشرح العمل الذي تقوم به هذه الطائفة في هذا البيت
التمرين في الاعراب (۶)
(الف) نموذج:
(۱) السائحون كثيرون
السائحون ..... مبتداء مرفوع بالواو لا نه جمع مذكر سالم
كثيرون ..... خبر مرفوع بالواو لا نه جمع مذکر سالم
(۲) يرضى الله عن المحسنين
يرضى ... فعل مضارع مرفوع بضمة مقدرة على الالف
الله ..... فاعل مرفوع بالضمة
عن ..... حرف جر مبني على السكون
المحسنين ..... مجرور بعن وعلامة جره الياء لا نه جمع مذكر سالم
(ب) اعرب الجمل الاتية:
۱۔ تحب مصر الابناء العاملين
۲۔ امسى الفائزون مسرورين
۳۔ يحتاج الوطن الى المخلصين
أعراب جمع المؤنث السالم
التمرين (۱)
عين جمع المونث السالم المرفوع والمنصوب والمجرور في العبارات الاتيةو بين السبب وعلامة الاعراب في كل:
ا - اينعت الثمرات
۲۔ لعل الفتيات مجدات
۳۔ البطات سابحات
۴۔ البنات يعطفن على البائسات
۵۔ نعتمد على الامهات
۶۔ نحترم النساء الفضليات
۷۔ يلعب الغلمان بالكرات
۸- الحيل تجر العجلات
التمرين (۲)
اجمع الكلمات الآتية جمع مونث سالما وضعها بعد الجمع في جمل مفيدة:
الآنسة ، زينب ، الوردة ، العاقلة
الكلمة ، الراية ، السمكة ، الساعة
التمرين (۳)
اجمع الكلمات الآتية جمع مونث سالما وضعها بعد الجمع في جمل مفيدة بحيث يكون كل منها مرة فاعلا ومرة مبتدا ومرة مجرورا بحرف جر ومرة مفعولا به:
السيارة ، الحجرة ، النافذة، المكنسة ، التفاحة
التمرين (۴)
(۱) ایت بجملتين فعليتين المفعول به في كل منها جمع مونث سالم
(۲) ایت بجملتين فعليتين الفاعل في كل منها جمع مونث سالم
(۳) ایت بجملتين اسميتين المبتدا في كل منها جمع مونث سالم
(۴) ایت بجملتين اسمیتین اسم ان في كل منها جمع مونث سالم
التمرين (۵)
فكر في اسماء كل ما تراه في حديقة من اشجار وازهار واثمار ، واجمع كل اسم ما تراه مختوما بالتاء منها جمع مونث سالما وضعه في جملة تامة۔
التمرين في الإعراب (٦)
(الف) نموذج
كافأت الفائزات
كافأت ....... كأفا فعل ماضى مبنى على السكون .
والتاء..... فاعل مبنى على الضم في محل رفع
الفائزات........ مفعول به منصوب بالكسرة لأنه جمع مؤنث سالم
(ب) اعرب الجملة الآتية:
(۱) تمتلئ الحزانات
(۲) تحلب المراة البقرات
(۳) شكرنا للمحسنات
10 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں