كل المواضيع

عدد کے اعتبار سے

جمع کی قسمیں دیگر کتب میں

2 نصًا

معلم الانشاء

معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴

جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم اور جمع مکسر

(۱) جمع مذکر سالم اس جمع کو کہتے ہیں جس میں واحد کا وزن باقی اور سالم رہے۔ یہ اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں واؤ اور نون مفتوح (ون) بڑھانے سے بنتی ہے۔ یہ قاعدہ صرف اس کی حالت رفعی کے لئے ہے۔ حالت نصبی میں "ی" ماقبل مکسور اور نون مفتوح (ینَ) بڑھا کر جمع بناتے ہیں جیسے: محمدٌ سے محمدِيۡنَ اور صالح سے صالحِیۡنَ میں (حالت نصب اور جر میں) مُحَمَّدُوۡنَ اور صَالِحُونَ ( حالت رفعی میں)

نوٹ: جمع مذکر سالم صرف رجال (مرد) کے نام اور ان کی صفات کے لئے آتی ہے۔

(۲) تثنیه اور جمع مذکر سالم کا اعراب (حالت نصب و جر میں ) ی سے آتا ہے اور لکھنے میں دونوں کی صورت ایک ہی ہوتی ہے مگر فرق یہ ہے کہ تثنیہ میں جو ی ہوتی ہے۔ اس سے پہلے فتحہ اور بعد کے نون کو کسرہ دیا ہوا ہوتا ہے اور جمع مذکر سالم کی ی سے پہلے کسرہ اور بعد کے نون کو فتحہ دیا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی تثنیہ میں "ی" ماقبل مفتوح ما بعد مکسور اور جمع میں ی ماقبل مکسور اور مابعد مفتوح ہوتا ہے۔

(۲) جمع مؤنث سالم ہر وہ جمع جو کسی واحد مونث کے آخر میں الف اور تائے مبسوط (ت) بڑھا کر بنائی جائے اور واحد کا وزن باقی رہے جسے مسلمۃ سے مُسلِمَاتٌ، صَالِحَةٌ سے صَالِحَاتِ، فَاطِمَةٌ سے فَاطِمَاتٌ، بَقَرَة سے بَقَرَاتٌ، شَجَرَة سے شَجَرَاتٌ، كَلِمَةٌ سے كَلِمَات و غیره

نوٹ: یہ عاقل اور غیر عاقل سب کے لئے آتی ہے۔ بخلاف جمع مذکر سالم کے صرف رجال کا نام اور ان کی صفات ہی کیلئے آتی ہے۔

(۲) جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفعہ میں ضمہ کے ساتھ اور حالت نصب و جر دونوں میں کسرہ کے ساتھ ہوتا ہے۔

(۳) جمع مکسر : اس جمع کو کہتے ہیں جس میں مفرد ( واحد ) کا وزن باقی نہ رہے بلکہ جمع میں آکر ٹوٹ جائے اسی وجہ سے اس کو مکسر ( ٹوٹا ہوا) کہتے ہیں جیسے رَجُل سے رِجَالٌ، شاۃٌ سے شیاہٌ اور حَدِيقَةٌ سے حدائق وغیرہ۔

جمع مکسر بنانے کا کوئی خاص قاعدہ نہیں ہے کبھی محض حرکات (ضمه فتحه کسرہ) کے تغییر و تبدیل سے جیسے: أسدٌ سے اُسدٌ اور کبھی کسی حرف کو حذف کر کے جیسے رسولٌ سے رسلٌ اور کبھی بعض حروف کے اضافہ سے جمع بنا لیتے ہیں جیسے رَجُلٌ سے رجالٌ وغیرہ

ذیل میں جمع مکسر کے کچھ اوزان لکھے جاتے ہیں ان کو یاد کر لو۔ افعالٌ ، مفاعلُ، مَفاعِيلُ، فعلٌ، فعولٌ، فِعالٌ، افعلُ، فُعلاء، افعِلاء، فواعِلُ، فعالِل، فعاليلُ، فعاللةٌ ( چند الفاظ غیر منصرف ہیں ان پر تنوین نہیں آئے گی )

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۵، ۱۶، ۱۷، ۱۸

المثنیٰ: تثنیہ

يُرْفَعُ الْمُثَنَّى بِالأَلِفِ ويُنْصَبُ وَيَجَرُ بِالْيَاء .

مثنی کو الف کے ذریعہ رفع دیا جاتاہے اور ی کے ذریعہ نصب اور جر دیاجاتاہے

الأمثلة :

(۱) لَعِبَ الْوَلَدَانِ .

(٢) اتَّفَق الشريكان.

(٣) أَوْرَقَتِ الشَّجَرَتَانِ.

اقرأ البقية (76)

(٤) حَضَرَ الْمُسَافِرَانِ.

(۱) كَافَأْتُ الْوَلَدَيْن

(٢) حَادَثْتُ الشَّرِيكين.

(٣) تَسَلَّقْتُ الشَّجَرَتَيْنِ.

(٤) وَدَعْتُ الْمُسَافِرَيْن.

(١) أَعْطَيْتُ الْكُرَةَ لِلْوَلَدَيْنِ .

(۲) اشْتَرَيْتُ مِنَ الشَّرِيكين .

(٣) دَنَوْتُ مِنَ الشَّجَرَتَيْنِ.

(٤) سَلَّمْتُ عَلَى الْمُسَافِرَيْنِ .

الجمع: جمع

يَنْقَسِمُ الجَمْعُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: جَمْعُ تَكْسِيرٌ، وَجَمْعُ مُذَكَّرٍ سَالِمٌ، وَجَمْعُ مُؤَنَّثٍ سَالِمٌ

(أ) فَجَمْعُ التَّكْسِيرِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِتَغْيُّرِ صُورَةِ المُفْرَدِ.

(ب) وَجَمْعُ المُذَكَّرِ السَّالِمِ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنَ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ وَاوٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.

(ج) وَجَمْعُ المُؤَنَّثِ السَّالِمُ مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَتَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَتَاءٍ فِي آخِرِهِ.

جمع کی تین قسمیں ہیں: جمع تکسیر ، جمع مذکر سالم اور جمع مؤنث سالم ۔

(الف) جمع تکسیر ایسےجمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرنے پر مفرد کی صورت تبدیل کر کے جمع پر دلالت کرے۔

(ب) جمع مذکر سالم ایسے جمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور واؤ، نون " یا " یاء نون مفرد کے آخر پر اضافہ کرنے سے بنے۔

(ج) جمع مؤنث سالم اسے کہتے ہیں جو دو سے زیادہ پر دلالت کرے اور مفرد کے آخر میں الف اور تاء کے اضافہ سے بنے۔

الأمثلة :

جمع تکسیر

(۱) حَضَرَ الرِّجَالُ

(٢) قَرَأْتُ الكُتب

(٣) مَشَيْتُ فِي الطُّرُقِ .

جمع مذکر سالم

(۱) فَازَ الْمُجِدُّونَ

(٢) أَكْرَمْتُ الْقَادِمِينَ.

(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبِينَ .

جمع مؤنث سالم

(۱) فَازَتِ الْمُجدَّاتُ .

(۲) أَكْرَمْتُ الْقَادِمَاتِ

(٣) رَضِيتُ عَنِ الْكَاتِبَاتِ .

إعراب جمع المذكر السالم: جمع مذکر سالم کا اعراب

جَمْعُ المُذَكَّر السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالْوَاوِ وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْيَاءِ

جمع مذکر سالم کو واو کے ذریعہ رفع اور ی کے ذریعہ نصب و جر دیا جاتا ہے ۔

الأمثلة :

(۱)رَبِحَ الْفَلاحُونَ.

(٢) نَجَحَ الْمُجْتَهِدُونَ .

(٣) حَضَرَ الْمُسَافِرُونَ .

(٤) تَعِبَ اللَّاعِبُونَ

(۱) نُكْرِمُ الْفَلَاحِينَ

(٢) نُحِبُّ الْمُجْتَهِدِين.

(٣) نُودِّعُ الْمُسَافِرِينَ

(٤) نُشَجِّعُ اللَّاعَبِينَ .

(۱) نَرْجُو الْخَيْرَ لِلْفَلَاحِينَ

(٢) نُثْنِي عَلَى الْمُجْتَهِدِينَ .

(٣) نُسَلِّمُ عَلَى الْمُسَافِرِينَ .

(٤) نَنظُرُ إِلَى اللَّاعِبِينَ

إعراب جمع المؤنث السالم: جمع مونث سالم کا اعراب

جَمْعُ الْمُؤنَّثِ السَّالِمُ يُرْفَعُ بِالضَّمَّةِ ، وَيُنْصَبُ وَيُجَرُّ بِالْكَسْرَةِ .

جمع مؤنث سالم کا اعراب حالت رفع میں ضمہ ہے اور حالت نصب و جر میں کسرہ ہے

الأمثلة :

(۱) بَاضَتِ الدَّجَاجَاتُ .

(٢) حَضَرَتِ الْفَاطِمَاتُ

(٣) أَكلَتِ الْبَقَرَاتُ .

(٤) نَمَتِ الشَّجَرَاتُ

(۱) ذبَحتُ الدَّجَاجَاتِ.

(۲) مَدَحْتُ الْفَاطِمَاتِ.

(٣) حَلَبْتُ الْبَقَرَاتِ .

(٤) سَقَيْتُ الشَّجَرَاتِ .

(۱) هَجَمَ الثَّعْلَبُ عَلَى الدَّجَاجَاتِ

(٢) شَكَرْتُ لِلْفَاطِمَاتِ

(۳) جَلَسْتُ بَعِيدًا عَنِ الْبَقَرَاتِ

(٤) ذَهَبْتُ إِلى الشَّجَرَاتِ