كل المواضيع

عدد کے اعتبار سے

واحد ، تثنیہ ،و جمع کی تعریفات دیگر کتب میں

2 نصًا

معلم الانشاء

معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴

واحد، تثنیه اور جمع:

اسم کی عدد کے اعتبارسے تین قسمیں ہیں واحد ، تثنیہ، جمع۔

واحد ایک کو، تثنیہ دو کو اور جمع دوسے زیادہ کو کہتے ہیں ۔ جیسے: کِتَابٌ (واحد) ، کِتَابَانِ (تثنیہ) ، کُتُبٌ (جمع)

تثنیه بنانے کا قاعدہ: اسم مفرد ( واحد ) کے آخر میں الف و نون بڑھانے سے تثنیہ بن جاتا ہے، مگر یہ صرف اس وقت جب کہ تثنیہ مرفوع ہو جیسے کتاب سے کتابان اور کراسۃ سے کراستان وغیره اگر تثنیه مرفوع (حالت رفع میں) ہونے کی بجائے منصوب یا مجرور ( حالت نصب یا جر میں ) ہو تو الف و نون کے بجائے ی ماقبل مفتوح اور نون مکسورہ ( ینِ) بڑھاتے ہیں۔ جیسے کتابین اور كراستين وغيره

جمع: جمع جو دو سے زیادہ چیزوں پر دلالت کرتی ہے۔ جیسے: مُسْلِمُونَ ، مُسْلِمَاتٌ وغیرہ

اور اس کی قسمیں: جمع مذکر سالم، جمع مؤنث سالم، جمع تکسیر

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح (ابتدائیہ جلد ۲ ) سبق:۱۴

اَلاِسْمُ يَنْقَسِمُ ثَلَاثَةَ أَقْسَامٍ: مُفْرَدٌ وَمُثَنًّى وَجَمْعٌ.

المُفْرَدُ: مَا دَلَّ عَلَى شَيْءٍ وَاحِدٍ.

المُثَنَّى: مَا دَلَّ عَلَى شَيْئَيْنِ اثْنَيْنِ بِزِيَادَةِ أَلِفٍ وَنُونٍ أَوْ يَاءٍ وَنُونٍ فِي آخِرِهِ.

الجَمْعُ: مَا دَلَّ عَلَى أَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْنِ.

اسم کی تین قسمیں ہیں: مفرد ، متثنیہ اور جمع۔

مفرد ایک پر دلالت کرتا ہے۔

تثنیه دو پر دلالت کرتا ہے اس کے آخر میں الف نون اور کبھی یا نون بڑھائے جاتے ہیں۔

اقرأ البقية (26)

جمع وہ ہے جو دو سے زائد پر دلالت کرے۔

الأمثلة :

مفرد

(۱) تَعِبَ الْعَامِلُ

(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُ

(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَ

(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَةِ .

مثنی

(۱)تَعِبَ الْعَامِلَانِ

(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسَانِ

(٣) نَادَيْتُ الْبَائِعَيْن.

(٤)أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَتَيْنِ

جمع

(۱) تَعِبَ الْعُمَّالُ

(٢) حَضَرَ الْمُهَنْدِسُونَ

(٣) نَادِيْتُ الْبَائِعِينَ

(٤) أَثْنَيْتُ عَلَى الْمُهَذِّبَاتِ

تثنیہ و جمع کی قسمیں

تعریف

۱ ۔جمع مذکر سالم: مفرد مذکر میں واو اور نون کا اضافہ کرکے حالت رفع میں مثال: المومنون موحدون ، یدخل المسلمون الجنۃ

یا پھر مفرد مذکر پر یاء اور نون کا اضافہ کرکے حالت نصب اور جر میں اُحب المومنین و أومنُ بکل المرسلین

۲ ۔جمع مونث سالم:مفرد مونث پر الف اور تاء کا اضافہ کرکے اور اس کے رفع کی علامت ضمہ اور نصب اور جر کی علامت کسرہ ہے مثال: حضرتۡ الفتیاتُ

۳ ۔جمع تکسیر: یہ سماعی ہے اس کا کوئی قاعدہ نہیں۔ مثال: رجالٌ ، طلابٌ ، سعاۃٌ ، انبیاءٌ۔ْ