Nahw نحو
قسم من أقسام الاسم
اسم کی جنس: مذکر اور مؤنث
في سطر: كل اسم إما مذكر أو مؤنث، والمؤنث يُعرف بعلامة في آخره أو بمعناه أو بالسماع عن العرب.
نص الدرس بالأردية.
1 القاعدة
تعریف
مذکر
ایسا اسم جو مذکر (مرد) ہونے پر دلالت کرے، یا مذکر کے حکم میں ہو۔
مُحَمَّدٌ ، رَجُلٌ ، كِتَابٌ ، طَلْحَةُ
مؤنث
ایسا اسم جو حقیقی مؤنث (عورت) پر دلالت کرے، یا مؤنث کے معنی میں ہو۔
فَاطِمَةُ ، امْرَأَةٌ ، هَوَاءٌ ، أُمٌّ
مذکر و مونث کی تعریفات دیگر کتب میں1
معلم الانشاءمعلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۴
(۱) تذکیر و تانیث: جنس کے اعتبار سے اسم کی دو قسمیں ہیں۔ مذکر اور مؤنث۔
اسم مؤنث دو طرح کے ہیں۔ قیاسی اور سماعی
پھر قیاسی کی دو قسمیں ہیں لفظی اور معنوی
(۱) مؤنث لفظی کی تین علامتیں ہیں جو اسم کے آخر میں ہوتی ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں۔
(۱) تائے تانیث جیسے: امرَأَةٌ، بَقَرَةً، عَالِمَةٌ، مَفْتُوحَة، الفِضَّۃُ وغيره
(۲) الف مقصورہ جیسے: جبلی، سلمى, صغریٰ، حسنى وغيره
(۳) الف ممدودہ جیسے: اسماء ( عورت کا نام)، حسناء ( خوبصورت عورت ) وغیرہ
صفت مشبہ جو افعل کے وزن پر آئے اس کا اسم مؤنث اسی فعلاء کے وزن پر آتا ہے جیسے احمر حمراء، اسْوَدُ سَوْداءُ، اَصْفَرُ صَفْرَاءُ، ارزق سے زرقاءُ، اَحْسَنُ سےحسناء وغيره
اقرأ البقية (8)
(۲) مؤنث معنوی یعنی جس میں علامت تانیث ظاہر نہ ہو مگر وہ مونث پر دلالت کرتے ہوں اور یہ چار طرح کے ہیں
(۱) عورتوں کے نام جیسے:مريم ، زينب، هند و غیره
(۲) وہ اسماء جو عورتوں(اناث)ہی کےلئے مخصوص ہوں جیسے اَلاُمُّ ، اَلاُختُ، اَلبنتُ وغیرہ
(۳) ملکوں ،شہروں قبیلوں اور جماعتوں کے نام جیسے: مصر، پاکستان، الهند ، دہلی لکھنو ، قریش وغیرہ۔
(۴) جسم کے وہ اعضاء جو جفت (جوڑے جوڑے) ہوں جیسے یدٌ، رجُلٌ، عینٌ وغیرہ مگر یہ قاعدہ
کلیه نہیں ہے کیونکہ مرفقٌ ، خدٌّ، الْحَاجِبُ، صُدغ اور اللحی جیسے الفاظ مذکر ہی مستعمل ہیں۔
یہ سب مؤنٹ قیاسی کی مثالیں ہیں۔ اب ان کے علاوہ کچھ اسماء ایسے ہیں کہ جن میں نہ تو علامت تانیث ہوتی ہے اور نہ ہی مؤنث معنوی کے قاعدے میں آتے ہیں۔ مگر اہل زبان (عرب) ان کو مؤنث استعمال کرتے آئے ہیں چونکہ ان کا مؤنث ہونا محض سماع ( سننے ) پر موقوف ہے۔ اس لئے ان کو مونث سماعی کہتے ہیں۔ ذیل میں مونث سماعی کے کچھ الفاظ درج کئے جاتے ہیں۔ اذنٌ، ارضٌ، ارنبٌ، إِصْبَعٌِ، أفعي، بئر، جَحیمٌ، جَهَنَّمُ، حَرْبٌ، دَارٌ، ذِرَاعٌ، رِجْلٌ، رَحِمٌ، رُحَى ریحٌ ، سقر، (جھنم) سَاقَ، شَمُسٌ شِمَالٌ، ضَبع، عَورُضٌ عَصَا، عَقِبٌ، عَيْنٌ، فاسٌ، فخذٌ، فلكٌ، قَدَمٌ، كَاسٌ، كَتفٌَ، كَرِشٌ، كَفٌّ، نَارٌ، نَقُلٌ، نَابٌ، وَرِكٌ، يَدٌ، يَمِينٌ
ہواؤں کے نام،جیسے صَبَا،قَبُولٌ،دَبُورٌ،جَنُوبٌ،شَمَالٌ،ھَیفٌ،حَرُورٌ،سَمُومٌ وغیرہ
2 الخريطة
- اسم، جنس کے اعتبار سے
- مذکر
- مؤنث
- قیاسی
- لفظیتائے تانیث، الف مقصورہ، الف ممدودہ (آخر میں علامت)
- معنویعورتوں کے نام، عورتوں کے لیے مخصوص اسماء، ملکوں شہروں اور قبیلوں کے نام، جوڑے والے اعضاء
- سماعینہ علامت، نہ معنوی قاعدہ؛ صرف اہلِ عرب کے استعمال سے معلوم
- قیاسی
3 أمثلة
4 تذكّر
- جوڑے والے اعضاء کا قاعدہ کلیہ نہیں ہے: مِرْفَقٌ، خَدٌّ، الْحَاجِبُ، صُدْغٌ اور اللِّحْيُ مذکر ہی استعمال ہوتے ہیں۔
- مؤنث سماعی کا مؤنث ہونا صرف سننے پر موقوف ہے، جیسے: أَرْضٌ، دَارٌ، نَارٌ، شَمْسٌ، يَدٌ، عَيْنٌ۔
- ہواؤں کے نام بھی مؤنث سماعی ہیں: صَبَا، قَبُولٌ، دَبُورٌ، جَنُوبٌ، شَمَالٌ۔