گرامر

1 خاصیات ابواب

(کتاب الصرف : سبق۵۷ )

صرفیوں کی اصطلاحات میں خاصیات ابواب معانی ابواب کوکہتے ہیں یہ معنی کبھی بہ سبب خصوصیت وضع باب کے حاصل ہوتےہیں جیسے اوصاف خلقی باب کرم یکرم اور عوارض نفسانی باب سمع یسمع کا خاصہ ہے مگر کبھی مادہ مجرد کو مزیدفیہ میں لے جانے سے علاوہ معنی مادہ کے ایک دوسرے معنی اس سے حاصل ہوتے ہیں جیسے خُرُوْجٌ (نکلنا)لازم ہے،جب اسکو باب افعال میں لائے تو إِخْرَاجٌ(نکالنا) ہوا جس میں زائد معنی تعدیت کے پیداہوگئے ہیں۔

اسی طرح بعض اوقات اسم جامد کو ماخذ قراردے کراس سے فعل بناتےہیں جس سے علاوہ معنی ماخذ کے اور معنی بھی پیداہوتے ہیں جیسے ذَھَبٌ (سونا)اسم جامد ہے اور ذَھَّبَ (سونے کا گلٹ کیا)فعل مشتق ہے اس اشتقاق سے گلٹ کرنے کے جدید معنی پیدا ہوئے اور یہ اشتقاق زیادہ تر ابواب مزیدفیہ میں ہوتاہے۔

ثلاثی اور رباعی کے جو ابواب پہلے بیان ہوچکے ہیں ان میں سے ہر ایک میں کچھ کچھ خاصیتیں پائی جاتی ہیں مگر ثلاثی مجرد کے پہلے تین باب ضَرَبَ،نَصَرَ،سَمِعَ کثیر الخواص ہیں ان تینوں کو کثرت استمعال اوراختلاف حرکت عین ماضی ومضارع کے باعث اصول اور ام الابواب بھی کہتے ہیں۔اب ہر ایک کی خاصیتیں مع مثالوں کے بیان کی جاتی ہیں۔

2 ثلاثی مجرد کے ابواب کی خاصیتیں

باب ۱: نَصَرَ یَنْصُرُ

بیان خاصیت :

اس باب کا مشہور خاصہ مغالبہ ہے مغالبہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص کے فعل میں غلبے کو ظاہر کیا جائے۔اظہار غلبہ کا طریقہ یہ ہے کہ باب مفاعلہ کے بعد اس فعل کو باب نصر۔ینصر سے لائیں۔ جیسے یُخَاصِمُنِی زَیْدٌ فَاَخْصُمُہُ( میں اور زید باہم جھگڑتے ہیں مگر میں جھگڑنے میں اس پر غالب آتاہوں۔

باب ۲ : ضَرَبَ یَضْرِبُ

بیان خاصیت :

اس باب کا خاصہ بھی مغالبہ ہے، بشرطیکہ وہ فعل مثال واوی واجوف یائی وناقص یائی ہو جیسے یُبَایُعنِیْ زَیْدٌ فَاَبِیْعُہُ (زید مجھ سے خرید وفروخت کرتاہے مگر میں اس خریدوفروخت میں اس سے بڑھ جاتاہوں۔

تنبیہ:اظہار غلبہ کی صورت میں باب مفاعلۃ کے بعد جب کوئی فعل لایا جائے تو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ اگر فعل صحیح یا اجوف یا ناقص واوی ہوتو بہر کیف باب نصر سے ذکرکیاجائےگا۔خواہ اصل وضع میں اس سے مستعمل نہ ہوجیسے یُضَارِبنی زیدٌفَاَضْرِبُہ (میری اور زید کی آپس میں لڑائی ہوتی ہے تو میں لڑائی جھگڑے میں اس پر غالب آجاتا ہوں )اگر فعل مذکور مثال واوی یا یائی یا اجوف یا ناقص یائی ہوتو اظہار غلبہ عمومًا ضَرَبَ سے ہوگا۔جیسے یُنَاھِینِی زید فَاَنھِیہِ(زید کا مجھ سے زیر کی مقابلہ ہوتاہے مگر میں زیرکی میں اس پر غالب آتاہوں)

ان دونوں مثالوں میں اضرِبُ بضمِّ الرا اور انھو کو انھی بکسرالھا پڑھیں گے اگرچہ دراصل پہلامکسورالرااور دوسرامضموم الھا ہے۔

(کتاب الصرف : سبق۵۸ )

باب ۳ : سَمِعَ یَسْمَعُ

بیان خاصیت :

یہ باب زیادہ ترلازم ہواکرتاہے اور رنج وخوشی،بیماری،رنگ،عیوب اور حلیہ جسمانی کے الفاظ اکثر اسی سے آتے ہیں جیسے حزن(غم ناک ہونا)فَرِحَ(خوش ہونا)سَقِمَ (بیمار ہوا)کَدِرَ(گدلاہونا)عَوِرَ(کاناہونا)بَلِجَ(کشادہ ابروہونا)۔

باب ۴ : فَتَحَ یَفْتَحُ

بیان خاصیت :

اس باب کی خاصیت لفظی ہے،اس سے صرف وہ افعال آتےہیں جن کے عین یا لام کلمے کی جگہ حرف حلقی ہو جیسے ذَھَبَ (وہ گیا)وَضَعَ(اس نے رکھا)مگر رَکَنَ یَرْکَنُ وَاَبٰی یَأبٰی چند الفاظ خلاف قاعدہ اس باب سے آئے ہیں۔

تنبیہ: عین یا لام کلمے کا حرف حلقی ہونااسکی دلیل نہیں ہے کہ وہ لفظ باب فتح سے ہے جیسے وَعَدَ یَعِدُ بَلَغَ یَبْلُغُ اگر عین کلمہ اور لام کلمہ دو ہم جنس ہوں تو وہ لفظ اس باب سے نہیں ہوتا۔

باب ۵: کَرُمَ یَکْرُمُ

بیان خاصیت :

یہ باب ہمیشہ لازم مستعمل ہوتاہے اور اس کے معنی اوصاف خلقی پائے جاتے ہیں جیسے حَسُنَ (خوبصورت ہوا)شَجَعَ(دلیرہونا)اور جو اوصاف باربار کے تجربہ اورمشق سے مثل اوصاف طبعی کےہوگئے ہوں وہ بھی اس میں داخل ہیں جیسے فَقُہَ(سمجھ دار ہوا)اَدُبَ(صاحب ادب ہوا)

نکتہ لطیفہ:اوصاف خلقی وعوارض نفسانی باب سمع سے بھی آتےہیں مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ ماضی مضموم العین سے جو اوصاف آتےہیں وہ عمومًا دوام پردلالت کرتےہیں جیسے حَسِیْنٌ اور ماضی مکسور العین سے جو اوصاف آتےہیں وہ اکثرزمانہ قلیل کے واسطے ہوتے ہیں جیسے فَرْحَانٌ۔

باب ۶ : حَسِبَ یَحْسَبُ

بیان خاصیت :

اس باب کی خاصیت لفظی ہے صرف دو لفظ صحیح کے (حسب و نعم )اور چند الفاظ مثال واوی کے آئے ہیں جو تعداد میں تھوڑے ہیں جسیے وَرِمَ (سوج گیا)وَرِثَ (وارث ہوا) وغیرہ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

3 خاصیات ابواب ثلاثی مزیدفیہ (کتاب الصرف : سبق۵۹ ، ۶۰ )

4 خاصیات باب افعال

خاصیاتتعدیہمثالیںخَرج زَیدٌ (زید نکلا) سے اَخرَجَ زَیدٌ (اس نے زید کو نکالا)حَفَرَ زَیدٌ نھرًا (زید نے نہر کھودی) سے اَحفَرَ زَیدًا (اس نے زید سے نہر کھدوائی)مأخذخُرُوجٌ، حَفرٌبیانمجرد میں لازم ہوتو مزیدفیہ میں متعدی ہوجائے۔ اگر مجرد میں متعدی ہوتو مزیدفیہ میں ایک مفعول کا اضافہ ہوجائے۔
خاصیاتتصییرمثالیںاَشرَکتُ النَّعلَ (میں نے جوتی شراک (تسمہ) دار بنائی)مأخذشِرَاکٌبیانکسی چیز کو صاحب مأخذ بنانا
خاصیاتسلبمثالیںاَعجَمتُ الکتابَ (میں نے کتاب کے نقطے لگا کر اس کا ابہام دور کیا)مأخذعجمۃبیانکسی چیز سے مأخذ کو دور کرنا
خاصیاتبلوغمثالیںاَعرَقَ الرجلُ (آدمی عراق میں داخل ہوا)اَصبَحَ الرجل (آدمی نے صبح کی)مأخذعراق، صباحبیانماخذ میں آنا یا ماخذ میں داخل ہونا
خاصیاتصیرورتمثالیںاَتمَرَ الرجلُ (آدمی کا کھجور کا مالک ہونا)مأخذتَمَرٌبیانکسی چیز کا صاحب ماخذ ہونا
خاصیاتنسبت ماخذمثالیں(قَد اَفلَحَ المؤمنون) (مؤمنین کامیاب ہوگئے)مأخذفَلَاحٌبیانکسی چیز کی ماخذ کی طرف نسبت کرنا
خاصیاتتعریضمثالیںاَبَاعَ المتَاعَ وہ سامان کو فرخت کی جگہ لے گیامأخذبیعبیانفاعل کا مفعول کو ماخذ کی جگہ لے جانا
خاصیاتحینونتمثالیںاَحصَدَ الزرعُ کھیتی کے کٹنے کا وقت آپہنچامأخذحَصَادٌبیانکسی چیز کا ماخذ کے وقت کو پہنچنا
خاصیاتمطاوعت فَعَّلَمثالیںبَشَّرتُ خالِدًا فَاَبشَرَ (میں نے خالد کو خوشخبری دی تو وہ خوش ہوا)مأخذبَشَارۃٌبیانباب تفعیل کے بعد أفعال کو اس لئے لانا کہ اس نے اس کا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتوجدانمثالیںاَبخَلتُ حامِدًا (میں نے حامد کو بخیل پایا)مأخذبُخلٌبیانکسی چیز کو مأخذ کے ساتھ متصف پانا
خاصیاتابتداءمثالیںاَشفَقَ زَیدٌ (زید ڈرگیا)مأخذشَفقٌبیانکسی باب کا ابتداءً اس باب سے آنا، اس طرح کہ اس کا مجرد اس سے نہ آیا ہو۔

5 خاصیات باب تفعیل

خاصیاتتعدیہمثالیںفَرِح زَیدٌ(زید خوش ہوا)فَرَّح زَیدًا (زید کو خو ش کیا)ماخذفَرحٌبیانمجرد میں لازم ہوتو مزیدفیہ میں متعدی ہوجائے۔اگر مجرد میں متعدی ہوتو مزیدفیہ میں ایک مفعول کا اضافہ ہوجائے
خاصیاتتصییرمثالیںوَتَّرتُ القَوسَ(میں نے کمان زرہ دار بنائی)ماخذوَترٌبیانکسی چیز کو صاحب مأخذ بنانا
خاصیاتسلبمثالیںقَرَّدتُ الاِبِلَ(میں نے اونٹ سے چیچڑی دور کی)ماخذقِرادٌبیانکسی چیز سے مأخذ کو دور کرنا
خاصیاتبلوغمثالیںعَمَّقَ زیدٌ(زید عمق تک پہنچا) خَیَّمَ عمرو(عمرو خیمہ میں آیا)ماخذعمق، خیمۃبیانماخذ میں آنا یا ماخذ میں داخل ہونا
خاصیاتمبالغہمثالیںصَرَّح الاَمرُ(بات اچھی طرح کھل گئی)ماخذصرحبیانکسی شیئ کی کیفیت یا مقدار میں زیادتی بیان کرنا
خاصیاتصیرورتمثالیںنَوَّرَ الشَجرُ(درخت شگوفہ دار ہوگیا)ماخذنوربیانکسی چیز کا صاحب ماخذ ہونا
خاصیاتنسبت ماخذمثالیںفَسَّقتُہُ (میں نے اسکی نسبت فسق کی طرف کی)ماخذفِسقبیانکسی چیز کی ماخذ کی طرف نسبت کرنا
خاصیاتابتداءمثالیںکَلَّمتُہُ (میں نے اس سے کلام کی) مجرد کلمٌ(زخمی کرنا)ماخذکَلِمٌبیانکسی باب کا ابتداءً اس باب سے آنا،اس طرح کہ اس کا مجرد اس نے نہ آیا ہو۔
خاصیاتالباس ماخذمثالیںجَلَّلتُ الفرَسَ(میں نے گھوڑےکو جھول پہنائی)ماخذجلٌّبیانکسی چیز کو ماخذ پہنانا
خاصیاتتخلیط ماخذمثالیںذَھَّبتُ الاِنَاءَ(میں نے برتن کو سنہری کیا)ماخذذَھَبٌبیانکسی چیز کو ماخذ سے ملمع کرنا
خاصیاتتحویلمثالیںنَصَّرَ(اس نے اس کو نصرانی بنادیا)خَیَّمتُ رِدَاءً(میں نے چادر کو مثل خیمہ بنادیا)ماخذنَصرَانِیٌّ، خَیمَۃٌبیانکسی چیز کو عین ماخذ یا مثل ماخذ بنانا
خاصیاتقصرمثالیںھَلَّلَ(اس نے لاالہ الا اللہ کہا)ماخذھللبیاناختصار کےلئے مرکب سے ایک کلمہ اشتقاق کرنا

6 خاصیات باب تَفَعُّلۡ

خاصیاتتکلفمثالیںتَشَجَّعَ عَمرُو (عمرو نے بہادر بننے کی کوشش کی)تصبَّرَ سَعِیدٌ (سعید نے صبر کی کوشش کی)ماخذشجاعۃصبربیانمأخذ کے حصول میں تکلف و بناوٹ اختیار کرنا
خاصیاتتجنبمثالیںتَحَوَّبَ عَمرُوٌ (عمرو گناہ سے بچا)ماخذحوببیانماخذ سے پرہیز کرنا
خاصیاتتعملمثالیںتَتَرَّسَ عمرو (عمرو نے ڈھال کو کام میں لایا) ، تَخَتَّم زیدٌ (زید نے انگوٹھی پہنی)ماخذترس ، خاتمبیانمأخذ کو عمل میں لانا
خاصیاتاتخاذمثالیںتَأَبَّطَ عَمرٌو صَبِیًّا (عمرو نے بچہ بغل میں لیا)، تَوسّدالحجرَ زَیدٌ(زید نے بتھر کو تکیہ بنا یا)ماخذاِبطٌ , وسادۃبیانکسی چیز کو ماخذ میں لینا یا ماخذ بنانا
خاصیاتتدریجمثالیںتَحَفَّظَ عَمرٌو (عمرو نے تھوڑا تھوڑا حفظ کیا)تَجَرَّعَ زَیدٌ (زید نے گھونٹ گھونٹ پیا)ماخذجرعۃ ، حفظبیانکسی کام کو آہستہ آہستہ کرنا
خاصیاتتحولمثالیںتَبَحَّرَ عَمرٌو (عمرو سمندر کے مانند ہوگیا)تَنَصَّرَ (وہ نصرانی ہوگیا)ماخذبحرنصرانیٌّبیانکسی چیز کا ماخذ کی طرح یا عین ماخذ ہونا
خاصیاتصیرورتمثالیںتَمَوَّل زَیدٌ (زید مالدار ہوگیا)ماخذمالٌبیانکسی چیز کا صاحب ماخذ ہونا
خاصیاتابتدامثالیںتَکَلَّمَ زَیدٌ (زید نے کلام کیا)کَلمَ (زخمی کیا)ماخذکلمبیانابتداءً اس باب سے آئے کہ مجرد اس سے نہ آیا ہو
خاصیاتمطاوعت فعلمثالیںعَلَّمتُہُ فَتَعَلَّمَ (میں نے اس کو سکھلایا تو وہ سیکھ گیا)ماخذعِلمٌبیانباب تفعیل کے بعد تفعل لانا کہ اس نے اس کا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتموافقت مجردمثالیںتَقَبَّلَ بمعنٰی قَبِلَ (قبول کیا)ماخذقُبُولٌبیانمجرد کا ہم معنٰی ہونا

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

7 خاصیات باب مفاعلۃ

خاصیاتاشتراکمثالیںقاتَلَ زَیدٌ عَمروا (زید اور عمرو نے باہم قتال /لڑائی کی)ماخذقتلبیاندو شخصوں کا مل کر اس طرح کام کرنا کہ ایک کا فعل دوسرے پر واقع ہو
خاصیاتموافقت مجردمثالیںسَافَرَ بمعنٰی سَفَرَ (اس نے سفر کیا)ماخذسَفَرٌبیانمجرد کا ہم معنٰی ہونا
خاصیاتموافقت افعلمثالیںبَاعَدَ بمعنٰی اَبَعَدَ (دور کیا)ماخذبُعدٌبیانباب أفعال کے ہم معنٰی ہونا
خاصیاتموافقت فعَّلَمثالیںضاعَفَ بمعنٰی ضَعَّفَ (دوگنا کیا)ماخذضِعفٌبیانباب تفعیل کے ہم معنٰی ہونا
خاصیاتتصییرمثالیںعَافَاکَ اللہُ (اللہ تجھے عافیت والا بنائے)ماخذعَفوٌبیانکسی چیز کو صاحب ماخذ بنانا

8 خاصیات باب تفاعل

خاصیاتاشتراکمثالیںتَلَاطَمَ زَیدٌ وعَمرو (زید اور عمرو نے باہم گھونسے بازی کی)ماخذلَطَمَبیاندو شخصوں کا مل کر اس طرح کام کرنا کہ ایک کا فعل دوسرے پر واقع ہو
خاصیاتتخییلمثالیںتَمَارَضَ زَیدٌ (زید دکھلاوے کا مریض بنا)ماخذمرضبیانماخذ کا حصول ظاہر کرنا جبکہ حقیقت میں حصول ثابت نہ ہو
خاصیاتابتداءمثالیںتَبَارَکَ (بابرکت ہوا)ماخذبرکبیانابتداءً اس باب سے آئے کہ مجرد اس سے نہ آیا ہو
خاصیاتموافقت مجرد و افعلمثالیںتَعَالٰی بمعنٰی عَلَا، تَیَامنَ بمعنٰی اَیمَنَماخذعلو/یمنبیانمجرد اور أفعال کا ہم معنٰی ہونا
خاصیاتمطاوعت فاعلمثالیںنَاولتہ فتناوَلَ (میں نے اسکو چیز دی تو اس نے لے لی)ماخذنَولٌبیانمفاعلۃ کے بعد تفاعل لانا کہ اس نے اسکا اثر قبول کرلیا ہے

9 خاصیات باب افتعال

خاصیاتاتخاذمثالیںاِجتَحَرَ الفأرُ (چوہے نے بل بنایا)ماخذجُحرٌبیانکسی چیز کو ماخذ بنانا
خاصیاتاجتھادِ طلبمثالیںاِکتَسَبَ العِلمَ (اسنے کوشش سے علم حاصل کیا)ماخذکسببیانماخذ کے حصول کی کوشش کرنا
خاصیاتتخییرمثالیںاِکتَال الشعیرَ (اس نے اپنے لئے جو ماپے)ماخذکیلبیانفاعل کا فعل اپنے لئے کرنا
خاصیاتمشارکتمثالیںاِختَصَمَ سعیدٌ وزیدٌ (زید اور سعید نے آپس میں جھگڑا کیا)ماخذخصومۃبیاندو شخصوں کا مل کر اس طرح کام کرنا کہ ایک کا فعل دوسرے پر واقع ہو
خاصیاتمطاوعت فَعَّلَمثالیںحَمَّلتُہُ فَا حتَمَلَ (میں نے اس پر بوجھ لادا تو اسنے اٹھالیا)ماخذحملبیانتفعیل کے بعد افتعال کا لانا کہ اس نے اس کا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتموافقت مجردمثالیںاِبتَلَجَ بمعنٰی بلج (روشن ہوا)ماخذبلجبیانمجرد کا ہم معنٰی ہونا

10 خاصیات باب استفعال

خاصیاتطلبماخذغفربیانماخذ طلب کرنامثالیںاِستَغفرَ زیدٌ (زید نے مغفرت طلب کی)
خاصیاتاتخاذماخذوطنبیانکسی چیز کو ماخذ بنانامثالیںاستوطن باکستان (اس نے پاکستان کو وطن بنالیا)
خاصیاتلیاقتماخذرفعبیانکسی چیز کا ماخذ کے لائق ہونامثالیںاستر قع الثوب (کپڑا پیوند کے لائق ہوگیا)
خاصیاتوجدانماخذکرمبیانکسی چیز کو ماخذ کے ساتھ متصف پانامثالیںاستکرمتہ (میں نے اسے کریم پایا)
خاصیاتحسبانماخذحسنبیانکسی چیز کو ماخذ کے ساتھ موصوف سمجھنامثالیںاستحسنتہ (میں نے اسے اچھا سمجھا)
خاصیاتتحولماخذحجربیانماہیت یا صفت تبدیل ہوکر ماخذ بن جانامثالیںاستحجر الطینُ (مٹی پتھر ہوگئی)
خاصیاتقصرماخذرجعبیاناختصار کے لئے مرکب سے ایک کلمہ مشتق کرنامثالیںاسترجع (اس نے انا للہ وانا الیہ رٰجعون پڑھا)
خاصیاتموافقت مجردماخذقربیانمجرد کا ہم معنٰی ہونامثالیںاستَقَرَّ بمعنٰی قرَّ (ٹہر گیا)

11 خاصیات باب انفعال

خاصیاتلزوم وعلاجمثالیںکَسرٌ(توڑنا)سے اِنکِسَارٌ(ٹوٹنا)ماخذکسربیانیہ باب ہمیشہ لازم آتا ہے اور أفعال کا تعلق حواس ظاہرہ سے ہوتاہے
خاصیاتمطاوعت فعّلمثالیںکَسَّرتُہُ فَانکَسَرَ(میں نے توڑا تو وہ ٹوٹ گیا)ماخذکسربیانتفعیل کے بعد انفعال کا آنا کہ اس نے اس کا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتمطاوعت افعلمثالیںاَغلَقتُ الباب فَانغَلَقَ(میں نے دروازہ بند کیا تو وہ بند ہوگیا)ماخذغلقبیانباب أفعال کے بعد انفعال کا آنا کہ اس نے اسکا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتابتداءمثالیںاِنطَلَقَ(وہ چلا گیا) طَلَقَ (خندہ پیشانی سے پیش آنا)ماخذطلقبیانابتداءً اس باب سے آئے کہ مجرد اس سے نہ آیا ہو

نوٹ:باب انفعال کے فاء کلمےمیں ل،م،ن،ر اور حروف علت بوجہ ثقل کے نہیں آتے۔ان حروف میں باب انفعال کے بجائے افتعال سے آتاہے مثلاً :رَفَعَ سے انفعال کے بجائے باب افتعال سے ارتفعَ آئے گا۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

12 خاصیات باب افعلال و افعیلال

خاصیاتلزوممثالیںاِحمَرَّ،احمارّ(بہت سرخ ہوا)ماخذحَمِرَبیانیہ دونون باب لازم آتے ہیں
خاصیاتمبالغہمثالیںاِحمَرَّ،احمارّ(بہت سرخ ہوا)ماخذحَمِرَبیانکسی چیز میں کثرت بیان کرنا
خاصیاتلونمثالیںاِحمَرَّ،احمارّ(بہت سرخ ہوا)ماخذحَمِرَبیانرنگ پر دلالت کرنا
خاصیاتعیبمثالیںاِحوَلَّ،اِحوَالَّ(بہت بھینگا ہوا)ماخذحَوَلَبیانعیب پر دلالت کرنا

13 خاصیات باب افعیعال

خاصیاتلزوممثالیںاِحدَودَبَ(کبڑا ہونا)ماخذحدببیانیہ باب اکثر لازم آتاہے
خاصیاتمبالغہمثالیںاِحدَودَبَ(بہت کبڑا ہونا)ماخذحدببیانکسی چیز میں کثرت بیان کرنا
خاصیاتموافقت مجردمثالیںاِحلولٰی التمرُ(کھجور میٹھی ہوگئی)ماخذحُلوٌبیانمجرد کے معنٰی میں آنا

14 خاصیات باب افعوال

خاصیاتاقتضابمثالیںاجلَوَّذَ(تیز رفتاری سے چلا)ماخذجَلَذَبیاناس معنٰی سے مناسبت رکھنے والا مجردنہ آیا ہو
خاصیاتلزوممثالیںاجلَوَّذَ(تیز رفتاری سے چلا)ماخذجَلَذَبیانیہ باب اکثر لازم آتاہے
خاصیاتمبالغہمثالیںاجلَوَّذَ(بہت تیز چلا)ماخذجَلَذَبیانمعنٰی میں زیادتی پیدا کرنا

نوٹ:اقتضاب اور ابتداء میں فرق یہ ہے کہ اقتضاب کا مادہ ثلاثی مجرد سے بالکل نہیں آتا جبکہ ابتداء کا مادہ تو استعمال ہوتاہے لیکن جو معنیٰ مجرد میں ہوتے ہیں وہ مزید فیہ میں نہیں ہوتے مثَلًا :شَفَقَ(مجرد) کےمعنٰی شفقت کرنے اور اَشفَقَ(مزید فیہ ) کے معنٰی ڈرانے کے ہیں۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

15 خاصیات ابواب رباعی

16 خاصیات باب فعللۃٌ

خاصیاتقَصرمثالیںحَمدَلَ (اس نے الحمد للہ کہا)ماخذحمدَبیاناختصار کےلئے مرکب سے ایک کلمہ مشتق کرنا
خاصیاتالباس ماخذمثالیںبَرقَعتُہُ(میں نے اسے برقع پہنادیا)ماخذبرقعبیانکسی چیز کو ماخذ پہنادینا
خاصیاتتعملمثالیںزَعفَرَ الثَّوبَ(اس نے کپڑے کو زعفران رنگ دیا)ماخذزعفربیانماخذ کو کام میں لانا
خاصیاتاتخاذمثالیںقَنطَرَ(اس نے پل بنایا)ماخذقنطربیانکسی چیزکو ماخذ بنانا

نوٹ: نوٹ: یہ باب صحیح یا مضاعف سے آتاہے اورمہموز سے بہت کم آتاہے

17 خاصیات باب تفعلل

خاصیاتتعملمثالیںتَبَرقَعتُ زَینَبَ(زینب نے برقع پہنا)ماخذبرقعبیانماخذ کو کام میں لانا
خاصیاتتحولمثالیںتَزَندَقَ(وہ بےدین ہوگیا)ماخذزندقبیانماہیت یا صفت کا تبدیل ہوکر ماخذ بن جانا
خاصیاتمطاوعت فعللمثالیںدَحرَجتُہُ فَتَدَحرَجَ(میں نےلڑھکایا تو وہ لڑھک گیا)ماخذدحرجبیانباب فعللۃ کے بعد تفعلل کا لانا کہ اس نے اسکا اثر قبول کرلیا ہے

18 خاصیات باب افعنلال

خاصیاتلزوممثالیںاِحرَنجَمَ القومُ(قوم جمع ہوئٰی)ماخذحرجمبیانیہ باب لازم آتاہے
خاصیاتمطاوعت فعللمثالیںثَعرَجتُہُ فاثعَنجَرَ(میں نے اس کا خون گرایا تو وہ خون ریختہ ہوگیا)ماخذثعجربیانفَعللۃ کے بعد افعنلال کا لانا کہ اس نے اسکا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتاقتضابمثالیںاعرَنقطَ(منقبض ہونا)ماخذعرقطبیاناس معنٰی سے مناسبت سے رکھنے والا مجرد مستعمل نہ ہو
خاصیاتمبالغہمثالیںاِسحَنفَرَ(نہایت جلدی کرنا)ماخذسَحفَرَبیانکسی چیز میں کثرت بیان کرنا

19 خاصیات باب افعِلَّال

خاصیاتلزوممثالیںاِقشَعَرَّ(اس کے رونگٹے کھڑے ہوگئے)ماخذقشعَرَبیانیہ باب لازم آتاہے
خاصیاتمطاوعت فعللمثالیںاِطمَاَنتُہٰ فَاطمَئَنَّ(میں نےاسے اطمینان دلایا تو وہ مطمئن ہوگیا)ماخذطَمَاَبیانفعللۃ کے بعد افعنلال کا لانا کہ اس نے اسکا اثر قبول کرلیا ہے
خاصیاتاقتضابمثالیںاِشرَاَبَّ(نہایت چوکنا ہونا)ماخذشَرِبَبیاناس معنٰی سے مناسبت رکھنے والا مجرد باب مستعمل نہ ہو

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

20 مشقی سوالات

اس سبق سے بے ترتیب دس سوالات۔ جواب دیں، فوراً نتیجہ دیکھیں اور نئے سوالات کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔

444 سوالات اس سبق میں