الصرف
خاصیات ابواب
الدروس مكتوبة باللغة الأردية.
1 خاصیات ابواب
(کتاب الصرف : سبق۵۷ )
صرفیوں کی اصطلاحات میں خاصیات ابواب معانی ابواب کوکہتے ہیں یہ معنی کبھی بہ سبب خصوصیت وضع باب کے حاصل ہوتےہیں جیسے اوصاف خلقی باب کرم یکرم اور عوارض نفسانی باب سمع یسمع کا خاصہ ہے مگر کبھی مادہ مجرد کو مزیدفیہ میں لے جانے سے علاوہ معنی مادہ کے ایک دوسرے معنی اس سے حاصل ہوتے ہیں جیسے خُرُوْجٌ (نکلنا)لازم ہے،جب اسکو باب افعال میں لائے تو إِخْرَاجٌ(نکالنا) ہوا جس میں زائد معنی تعدیت کے پیداہوگئے ہیں۔
اسی طرح بعض اوقات اسم جامد کو ماخذ قراردے کراس سے فعل بناتےہیں جس سے علاوہ معنی ماخذ کے اور معنی بھی پیداہوتے ہیں جیسے ذَھَبٌ (سونا)اسم جامد ہے اور ذَھَّبَ (سونے کا گلٹ کیا)فعل مشتق ہے اس اشتقاق سے گلٹ کرنے کے جدید معنی پیدا ہوئے اور یہ اشتقاق زیادہ تر ابواب مزیدفیہ میں ہوتاہے۔
ثلاثی اور رباعی کے جو ابواب پہلے بیان ہوچکے ہیں ان میں سے ہر ایک میں کچھ کچھ خاصیتیں پائی جاتی ہیں مگر ثلاثی مجرد کے پہلے تین باب ضَرَبَ،نَصَرَ،سَمِعَ کثیر الخواص ہیں ان تینوں کو کثرت استمعال اوراختلاف حرکت عین ماضی ومضارع کے باعث اصول اور ام الابواب بھی کہتے ہیں۔اب ہر ایک کی خاصیتیں مع مثالوں کے بیان کی جاتی ہیں۔
2 ثلاثی مجرد کے ابواب کی خاصیتیں
باب ۱: نَصَرَ یَنْصُرُ
بیان خاصیت :
اس باب کا مشہور خاصہ مغالبہ ہے مغالبہ کے معنی یہ ہیں کہ ایک شخص کے فعل میں غلبے کو ظاہر کیا جائے۔اظہار غلبہ کا طریقہ یہ ہے کہ باب مفاعلہ کے بعد اس فعل کو باب نصر۔ینصر سے لائیں۔ جیسے یُخَاصِمُنِی زَیْدٌ فَاَخْصُمُہُ( میں اور زید باہم جھگڑتے ہیں مگر میں جھگڑنے میں اس پر غالب آتاہوں۔
باب ۲ : ضَرَبَ یَضْرِبُ
بیان خاصیت :
اس باب کا خاصہ بھی مغالبہ ہے، بشرطیکہ وہ فعل مثال واوی واجوف یائی وناقص یائی ہو جیسے یُبَایُعنِیْ زَیْدٌ فَاَبِیْعُہُ (زید مجھ سے خرید وفروخت کرتاہے مگر میں اس خریدوفروخت میں اس سے بڑھ جاتاہوں۔
تنبیہ:اظہار غلبہ کی صورت میں باب مفاعلۃ کے بعد جب کوئی فعل لایا جائے تو اس امر کا لحاظ رکھنا چاہئے کہ اگر فعل صحیح یا اجوف یا ناقص واوی ہوتو بہر کیف باب نصر سے ذکرکیاجائےگا۔خواہ اصل وضع میں اس سے مستعمل نہ ہوجیسے یُضَارِبنی زیدٌفَاَضْرِبُہ (میری اور زید کی آپس میں لڑائی ہوتی ہے تو میں لڑائی جھگڑے میں اس پر غالب آجاتا ہوں )اگر فعل مذکور مثال واوی یا یائی یا اجوف یا ناقص یائی ہوتو اظہار غلبہ عمومًا ضَرَبَ سے ہوگا۔جیسے یُنَاھِینِی زید فَاَنھِیہِ(زید کا مجھ سے زیر کی مقابلہ ہوتاہے مگر میں زیرکی میں اس پر غالب آتاہوں)
ان دونوں مثالوں میں اضرِبُ بضمِّ الرا اور انھو کو انھی بکسرالھا پڑھیں گے اگرچہ دراصل پہلامکسورالرااور دوسرامضموم الھا ہے۔
(کتاب الصرف : سبق۵۸ )
باب ۳ : سَمِعَ یَسْمَعُ
بیان خاصیت :
یہ باب زیادہ ترلازم ہواکرتاہے اور رنج وخوشی،بیماری،رنگ،عیوب اور حلیہ جسمانی کے الفاظ اکثر اسی سے آتے ہیں جیسے حزن(غم ناک ہونا)فَرِحَ(خوش ہونا)سَقِمَ (بیمار ہوا)کَدِرَ(گدلاہونا)عَوِرَ(کاناہونا)بَلِجَ(کشادہ ابروہونا)۔
باب ۴ : فَتَحَ یَفْتَحُ
بیان خاصیت :
اس باب کی خاصیت لفظی ہے،اس سے صرف وہ افعال آتےہیں جن کے عین یا لام کلمے کی جگہ حرف حلقی ہو جیسے ذَھَبَ (وہ گیا)وَضَعَ(اس نے رکھا)مگر رَکَنَ یَرْکَنُ وَاَبٰی یَأبٰی چند الفاظ خلاف قاعدہ اس باب سے آئے ہیں۔
تنبیہ: عین یا لام کلمے کا حرف حلقی ہونااسکی دلیل نہیں ہے کہ وہ لفظ باب فتح سے ہے جیسے وَعَدَ یَعِدُ بَلَغَ یَبْلُغُ اگر عین کلمہ اور لام کلمہ دو ہم جنس ہوں تو وہ لفظ اس باب سے نہیں ہوتا۔
باب ۵: کَرُمَ یَکْرُمُ
بیان خاصیت :
یہ باب ہمیشہ لازم مستعمل ہوتاہے اور اس کے معنی اوصاف خلقی پائے جاتے ہیں جیسے حَسُنَ (خوبصورت ہوا)شَجَعَ(دلیرہونا)اور جو اوصاف باربار کے تجربہ اورمشق سے مثل اوصاف طبعی کےہوگئے ہوں وہ بھی اس میں داخل ہیں جیسے فَقُہَ(سمجھ دار ہوا)اَدُبَ(صاحب ادب ہوا)
نکتہ لطیفہ:اوصاف خلقی وعوارض نفسانی باب سمع سے بھی آتےہیں مگر فرق صرف اس قدر ہے کہ ماضی مضموم العین سے جو اوصاف آتےہیں وہ عمومًا دوام پردلالت کرتےہیں جیسے حَسِیْنٌ اور ماضی مکسور العین سے جو اوصاف آتےہیں وہ اکثرزمانہ قلیل کے واسطے ہوتے ہیں جیسے فَرْحَانٌ۔
باب ۶ : حَسِبَ یَحْسَبُ
بیان خاصیت :
اس باب کی خاصیت لفظی ہے صرف دو لفظ صحیح کے (حسب و نعم )اور چند الفاظ مثال واوی کے آئے ہیں جو تعداد میں تھوڑے ہیں جسیے وَرِمَ (سوج گیا)وَرِثَ (وارث ہوا) وغیرہ
خود کا جائزہ لیں
3 خاصیات ابواب ثلاثی مزیدفیہ (کتاب الصرف : سبق۵۹ ، ۶۰ )
4 خاصیات باب افعال
5 خاصیات باب تفعیل
6 خاصیات باب تَفَعُّلۡ
خود کا جائزہ لیں
7 خاصیات باب مفاعلۃ
8 خاصیات باب تفاعل
9 خاصیات باب افتعال
10 خاصیات باب استفعال
11 خاصیات باب انفعال
نوٹ:باب انفعال کے فاء کلمےمیں ل،م،ن،ر اور حروف علت بوجہ ثقل کے نہیں آتے۔ان حروف میں باب انفعال کے بجائے افتعال سے آتاہے مثلاً :رَفَعَ سے انفعال کے بجائے باب افتعال سے ارتفعَ آئے گا۔
خود کا جائزہ لیں
12 خاصیات باب افعلال و افعیلال
13 خاصیات باب افعیعال
14 خاصیات باب افعوال
نوٹ:اقتضاب اور ابتداء میں فرق یہ ہے کہ اقتضاب کا مادہ ثلاثی مجرد سے بالکل نہیں آتا جبکہ ابتداء کا مادہ تو استعمال ہوتاہے لیکن جو معنیٰ مجرد میں ہوتے ہیں وہ مزید فیہ میں نہیں ہوتے مثَلًا :شَفَقَ(مجرد) کےمعنٰی شفقت کرنے اور اَشفَقَ(مزید فیہ ) کے معنٰی ڈرانے کے ہیں۔
خود کا جائزہ لیں
15 خاصیات ابواب رباعی
16 خاصیات باب فعللۃٌ
نوٹ: نوٹ: یہ باب صحیح یا مضاعف سے آتاہے اورمہموز سے بہت کم آتاہے
17 خاصیات باب تفعلل
18 خاصیات باب افعنلال
19 خاصیات باب افعِلَّال
خود کا جائزہ لیں