كل المواضيع

فعل

فعل کی تعریف دیگر کتب میں

4 نصًا

تمرین الصرف

تمرین الصرف ۔ سبق:۱

فعل: وہ کلمہ ہے جو خود اپنے معنی بتائے اور اپنے معنی بتانے میں کسی دوسرے کلمہ کا محتاج نہ ہو اور تینوں زمانوں (ماضی ، حال اور مستقبل) میں سے کوئی زمانہ اس میں پایا جائے۔

مثال: ذَھَبَ ، یَذْھَبُ ، اِذْھَبْ

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱)سبق :۱

فعل ۔ اُس کلمہ کو کہتے ہیں جس سے کسی کام کا ہونا " یا "کرنا سمجھا جائے اور ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہو کہ وہ کام ماضی، حال، مستقبل ،تینوں زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں ہوا یا ہو گا ۔

مثال: قَرَأ (اس نے پڑھا) ، يَقْرَاُ (وہ پڑھتا ہے، یا وہ پڑھے گا) قَرَاَ میں زمانہ ماضی اور یَقْرَاُ میں زمانہ حال اور استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح (ابتدائیۃ) (جلد:۱) سبق:۲

والفعلُ: كلُّ لفظٍ يدلُّ على حصولِ عملٍ في زمنٍ خاصٍّ.

نحو: سمعتُ النصيحةَ ، يحصدُ الفلاحُ القَمحَ۔

ترجمہ: فعل وہ لفظ ہے جو کسی کام کا ایک خاص زمانے میں واقع ہونے کو بتائے۔

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱

الفعل هو كل كلمة تدل بنفسها على معنى (أي: على حدوث شيء، وتقترن وضعا بزمن من الأزمنة الثلاثة)

نحو: ذَهَبَ يَذْهَبُ اذْهَبُ.

ترجمہ: "فعل ہر وہ لفظ ہے جو اپنے آپ میں ایک معنی ظاہر کرتا ہے (یعنی: کسی چیز کے وقوع پذیر ہونے پر اور وضعاً تینوں زمانوں میں سے کسی ایک وقت کے ساتھ مربوط ہوتا ہے) ۔"

مثال: ذَهَبَ ، يَذْهَبُ ، اِذْهَبُ.

فعل کی قسمیں

۱۔ زمانہ کے اعتبار سے

  1. ماضی
  2. مضارع
  3. امر

۲۔ مفعول ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے

اقرأ البقية (9)
  1. لازم
  2. متعدی

۳۔ نسبت کے اعتبار سے

  1. معروف
  2. مجھول

۴۔حروف کی تعداد کے اعتبار سے

  1. مجرد
  2. مزیدفیہ

۵۔ حروف اصلیہ کے اعتبار سے

  1. صحیح
  2. معتل

۶۔ اعراب و بناء کے اعتبار سے

  1. معرب
  2. مبنی