كل المواضيع

مبنی اسماء

اعداد مرکبہ اور اسم جو "ویہ" پر ختم ہو دیگر کتب میں

3 نصًا

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۹

الاسم المركب المبني: هو ما ركب من كلمتين تركيبا مزجيا (أي: صارتا بمثابة كلمة واحدة) وتضمنت الثانية منهما حرفاء مثل الأعداد المركبة من ۱۱ الى ۱۹، أو كانت ا الثانية كلمة "ويه " مثل: سيبويه، خالويه نفطويه، درستويه، فالأعداد المركبة يجب فيها بناء الجزئين على الفتح، مثل: قرأت أحد عشر كتابا أحد عشر: بني الجزءان على الفتح، وهو في محل نصب مفعول به)

والاسم المركب من كلمتين الثانية منهما "ويه " يبنى الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر ، مثل: لقيت سيبويه سيبويه : بني الجزء الأول على الفتح والثاني على الكسر وهو في محل نصب مفعول به)

المحل الإعرابي للأسماء المركبة المبنية:

الأسماء المركبة المبنية المذكورة تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، مثل: جاء أربعة عشر طالبا، ورأيت أربعة عشر طالبا، وسلمت على أربعة عشر طالباء (أربعة عشر في الجمل الثلاث مبني على الفتح، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور) ومثل: جاء سيبويه، ورأيت سيبويه، ومررت بسيبويه ( سيبوية في الجمل الثلاث مبني على الكسر، وفي الأولى في محل رفع فاعل، وفي الثانية في محل نصب مفعول به، وفي الثالثة في محل جر مجرور )

الاسم المركب المبني وہ اسم ہے جو دو الفاظ سے مل کر بنا ہو اور یہ دونوں مل کر ایک واحد لفظ کا کام کرتے ہیں۔ اس کی دوسری جزو میں ایک یا دو حروف شامل ہوتے ہیں جیسے اعداد مرکبہ (11 سے 19 تک کے اعداد) یا پھر اس کی دوسری جزو "ویہ" (ويه) ہو، جیسے: سیبویہ، خالویہ، نفطویہ، درستویہ وغیرہ۔

اقرأ البقية (26)

اعداد مرکبہ کی مثال:

اعداد مرکبہ میں دونوں اجزاء پر فتحہ ہوتا ہے:

مثال: قرأتُ أحد عشرَ كتاباً (میں نے گیارہ کتابیں پڑھیں)

یہاں "احد عشر" کا پہلا اور دوسرا جزو فتحہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

ویہ (ويه) کے ساتھ مرکب اسماء:

اگر مرکب اسم میں دوسری جزو "ویہ" ہو، تو پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے جزو پر کسرہ ہوتا ہے:

مثال: لقيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ سے ملاقات کی)

یہاں "سيبويه" کا پہلا جزو فتحہ کے ساتھ اور دوسرا جزو کسرہ کے ساتھ ہے اور یہ مفعول به (مذکور) کے محل میں ہے۔

الاسم المركب المبني کا محل اعرابی:

مرکب اسماء اپنی اعرابی حالت (رفع، نصب، جر) کے مطابق استعمال ہوتے ہیں:

رفع: جاء أربعة عشر طالباً (چودہ طلبہ آئے)

"أربعة عشر" فاعل کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

نصب: رأيتُ أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ کو دیکھا)

"أربعة عشر" مفعول به کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

جر: سلمتُ على أربعة عشر طالباً (میں نے چودہ طلبہ پر سلام کیا)

"أربعة عشر" مجرور کے محل میں ہے اور دونوں اجزاء فتحہ کے ساتھ ہیں۔

اسی طرح ویہ (ويه) والے مرکب اسماء:

رفع:جاء سيبويه (سیبویہ آیا)

"سيبويه" فاعل کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

نصب: رأيتُ سيبويه (میں نے سیبویہ کو دیکھا)

"سيبويه" مفعول به کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

جر: مررتُ بسيبويه (میں سیبویہ کے پاس سے گزرا)

"سيبويه" مجرور کے محل میں ہے، پہلے جزو پر فتحہ اور دوسرے پر کسرہ ہے۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق: ۱۹، ۲۰

عربی میں گنتی کو ”عدد اور جو چیز گنی جائے اس کو ” معدود“ کہتے ہیں۔ جیسے : تین کتابیں۔اس میں تین عدد کہلاتا ہے اور کتابیں معدود

ا۔ ایک کے لئے لفظ واحد استعمال ہوتا ہے یہ اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ:ایک کتاب

۲۔ دو کے لئے لفظ اثنان ہے یہ بھی اسم کے بعد صفت بن کر آئے گا جیسے :

كِتَابَانِ اثْنَانِ:دو کتابیں

نوٹ : چونکہ تثنیہ کے صیغہ میں خود ہی دو کا معنی پایا جاتا ہے اسے لئے اثنان کا استعمال بطور تاکید ہو گا۔

ب۔ یادر ہے کہ صفت، اعراب، تعریف و تنکیر اور تذکیر و تانیث میں موصوف کے مطابق ہوتی ہے۔

۳۔ تین سے دس تک کے اعداد اپنے معدود کی طرف مضاف ہوں گے ان کا معدود ہمیشہ جمع ہو گا اور مضاف الیہ ہونے کی

اقرأ البقية (33)

وجہ سے مجرور ۔ جیسے:

ثَلاثَةُ كُتب:تین کتابیں

خَمْسَةُ أَقْلَامٍ: پانچ قلم

أَربعة بُيُوتٍ :چار گھر

عَشَرَةُ رِجَالٍ:دس آدمی

۴۔ عدد کا اعراب جملہ میں اس کے موقع کے اعتبار سے ہو گا۔ اصلا مرفوع ہو گا۔ اور اس سے پہلے حرف جر ہو تو مجرور اور

مفعول بہ ہو تو منصوب ہو گا جیسے : فِي الْفَصْلِ سِتَّةُ طُلابٍ. کلاس میں چھ طلبہ ہیں۔

هَذِهِ الْغُرْفَةُ لِثَلَاثَةِ رِجَالٍ. یہ کمرہ تین آدمیوں کے لئے ہے۔

رَأَيْتُ ثَمَانِيَةَ أطفال. میں نے آٹھ بچے دیکھے۔

(سبق ۲۰)

یہاں ہم عدد کے ساتھ مونث معدود کا استعمال سیکھیں گے۔

ا۔واحد اور اثنان معدود کے ساتھ صفت بن کر آتے ہیں واحد کا مونث واحدہ ہے اور اثنان کا اثنتان جیسے :

لِي أُخت وَاحِدَةٌ. :میری ایک بہن ہے۔

لَهُ خَالَتَانِ اثْنَتَانِ .: اس کی دو خالائیں ہیں۔

۲۔ ہم پڑھ چکے ہیں کہ تین سے دس تک کا معدود ہمیشہ مضاف الیہ اور جمع ہو گا اگر معدود مونث ہو تو عدد کے آخر سے ۃ حذف کر دی جائے گی جیسے :

ثَلَاثَةُ أَبْنَاء:تین لڑکے

ثَلاثُ بَنَاتٍ:تین لڑکیاں

أَرْبَعَةُ رِجَال:چار آدمی

أرْبَعُ نِسَاء:چار عورتیں

خَمْسَةُ نُجُومٍ :پانچ ستارے

خَمْسُ مَجَلاتٍ: پانچ پر چے

ستَّةُ آبَاء :چھ باپ

ستُ أُمَّهَاتِ:چھ مائیں

سَبْعَةُ طلاب:سات طلبہ

سَبْعُ طَالِبَاتٍ:سات طالبات

ثَمَانِيَةُ بُيُوتِ:آٹھ گھر

ثَمَانِي غُرَفٍ:آٹھ کمرے

نوٹ : ثَمَانِي کی ی پرسکون (جزم) رہے گا۔

تسْعَةُ أقلام :نو قلم

تِسعُ حَافِلات: نوبیس

عَشَرَةُ قُرُوش دس قروش

عَشْرُ رُوبِيَّات دس روپے

نوٹ : عَشَرَةُ میں ش پر فتحہ ہو گا اور عشر میں ش پر سکون ہو گا۔

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق: ۳، ۶، ۱۰، ۲۴

(سبق ۳)

۱۱ سے ۲۰ تک کے اعداد مذکر معدود کے ساتھ.

اس صورت میں عدد مرکب ( دو لفظوں سے مل کر بنا ہوا ) ہوگا اور دونوں پر فتحہ ہوگا اور معدود واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے

أحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا گیارہ ستارے

تِسْعَةَ عَشَرَ كِتابًا:انیس کتا ہیں

آسانی کے لئے ہم اسے چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں.

(الف) ۱۱ اور ۱۲

یہ دونوں اپنے معدود کے مطابق ہوں گے یعنی اگر معدود مذکر ہو تو یہ بھی مذکر اور معدود مؤنثہو تو یہ بھی مؤنث ہوں گے۔ جیسے

اقرأ البقية (141)

أحد عشر طالبا گیارہ طالب علم

إحدى عشرة طالبة گیارہ طالبات

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا بارہ طالب علم

اِثْنَتَا عَشْرَةَ طَالِبَةٌ باره طالبات

(ب) ۱۳ تا ۱۹

ان میں عدد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا ( تذکیر و تانیث میں ) جبکہ دوسرا جزء مطابق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

مؤنث مذکر

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

مذکر مؤنث

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبا میں معدود ( طالبا ) چونکہ مذکر ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَةَ مؤنث ہے اور دوسرا عشر مذکر جبکہ ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ میں چونکہ معدود ( طالِبَةٌ ) مؤنث ہے اس لئے عدد کا پہلا جزء ثَلَاثَ مذکر ہے اور دوسرا عشرة مؤنث.

اس سبق میں ہم صرف معدود مذکر کو پڑھیں گے، مؤنث معدود کے ساتھ عدد کا استعمال ہم ان شاء اللہ چھٹے سبق میں پڑھیں گے.

(ج) یہ عدد مبنی ہیں یعنی جملہ میں ان کی حیثیت کے اعتبار سے ان کے آخری حرف کی حرکت طرح سمجھی جاسکتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثَهُ رِيَالات

عِنْدِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

أُريدُ ثَلَاثَةَ رِيَالَاتِ

أَرِيْدُ ثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالًا

هذا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةِ رِيَالَاتِ

هذَا الْقَلَمُ بِثَلَاثَةَ عَشَرَ رِيَالا

اِثْنَا عَشر اور اِثْنَتَا عَشر میں واقع اثنا اور اثنتا معرب ہیں، حالتِ نصب اور جر میں وہ اثْنَي اور اثْنَتَيْ ہو جائینگے۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا:میرے پاس بارہ ریال ہیں

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالًا:مجھے بارہ ریال چاہیئے

هَذَا الْكِتَابُ بِاثْنَيْ عَشْرَ رِيَالًا: یہ کتاب بارہ ریال کی ہے

نوٹ :- اثْنَا اور اثْنَتَا میں جو ہمزہ ہے وہ ہمزہ ءِ وصل ہے اگر ان سے پہلے کوئی لفظ آجائے تو انہیں لکھا تو جائے گا لیکن پڑھا نہیں جائے گا.

(۱) ۲۰ کے لئے لفظ عِشرُونَ استعمال ہوتا ہے یہ مذکر اور مؤنث دونوں معدود کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے اور اسکا محدود بھی واحد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : عِشْرُونَ طَالِبًا عِشْرُونَ طَالِبَةٌ

۳۰ سے ۹۰ تک کے اعداد انشاء اللہ ہم تیسویں سبق میں پڑھیں گے اور ان اعداد کے بقیہ حالات بھی.

(۵) عدد ترتیبی

پہلے کے لئے لفظ أول استعمال ہوتا ہے جب کہ دوسرے سے دسویں تک کے لئے جو الفاظ ہیں وہ فاعل کے وزن پر ہیں ۔ جیسے ثالث تیسرا ، رابع چوتھا ، خامس پانچواں ، سَادِس چھٹا. ثاني (دوسرا) اصل میں ثان ہے، غال کی طرح، اگر اس پر ال داخل ہو تو وہ الثانی ہو جائے گا.

(سبق ۶ )

اعداد ۱۱ سے ۲۰ تک معدود مؤنث کے ساتھ

اس سے پہلے سبق نمبر ۳ میں ہم معدود مذکر کے ساتھ معدود مؤنث کا استعمال سیکھ چکے

ہیں، وہاں معدود مؤنث کے ساتھ عدد کے استعمال کا طریقہ بھی بتایا گیا ہے، جو اس طرح ہے : (الف) ۱۱ اور ۱۲ اپنے معدود کے مطابق ہوں گے ( تذکیر اور تانیث میں ) جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

إِثْنَا عَشَرَ طَالِبًا

اثْنَتَا عَشرة طالبة

نوٹ : عَشر میں ش پر فتحہ اور عشرہ میں ش پر سکون ہوگا.

(ب)۱۳ سے ۱۹ تک کے اعداد کا پہلا جزء معدود کے مخالف ہوگا دوسرا موافق۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِيَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَمَانِي عَشْرَةَ طَالِبَةٌ

ثَمَانِي عَشرة میں

ثَمَانِي کی ي پر سکون ہوگا.

(سبق ۱۰)

عدد ۲۱ تا ۳۰

ان میں عدد کے دو اجزاء کو و کے ذریعہ جوڑ دیا جاتا ہے۔ جیسے :

وَاحِدٌ وَعِشْرُوْنَ طَالِبًا

نوٹ :-

( الف ): ان میں پہلے جزء پر تنوین ہوگی۔ جیسے: وَاحِدٌ وَ عِشْرُوْنَ ثَلَاثَةٌ وَعِشْرُوْنَ، أَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ سوائے لفظ إِثْنَان، کہ اس پر تنوین نہیں آتی.

(ب): مذکر معدود کے ساتھ واحد اور اِثْنَان ،مذکر، جب کہ بقیه اعداد مؤنث استعمال ہوں گے۔

جیسے :

وَاحِدٌ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا ، اِثْنَانِ وَ عِشْرُونَ رَجُلًا، ثَلَاثَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلًا، أَرْبَعَةٌ وَ عِشْرُوْنَ رَجُلا خَمْسَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا، تِسْعَةٌ وَعِشْرُوْنَ رَجُلًا.

ج : معدود مفرد اور منصوب ہوگا.

التَّاسِعَةُ إِلاَّ رُبعًا ( نو مگر پاؤ ) پونے نو

إِلاَّ کے لفظی معنی سوا اور مگر ہیں

اس کے بعد آنے والا اسم منصوب ہوتا ہے۔ جیسے :

السَّاعَةُ الْوَاحِدَةُ إِلَّا عَشْرَ دَقَائِقَ :دس منٹ کم ایک بجے (بارہ بج کر پچاس منٹ )

السَّاعَةُ الثَّانِيَةُ إِلَّا خَمْسَ دَقَائِقَ: پانچ منٹ کم دو بجے ( ایک بج کر پچپن منٹ )

السَّاعَةُ الْخَامِسَةُ إِلَّا دَقِيقَةٌ وَاحِدَةً :ایک منٹ کم پانچ بجے ( چار بج کر انسٹھ منٹ )

(سبق ۲۴)

ا۔ اعداد کے متعلق قواعد

(الف) وَاحِدٌ / اثنان : یہ دونوں معدود کے مطابق ہوں گے اور معدود کی صفت ہو کر اس کے بعد

آئیں گے۔ جیسے :

كِتَابٌ وَاحِدٌ

كِتَابَانِ اثْنَانِ

سَيَّارَةٌ وَاحِدَةٌ

سَيَّارَتَانِ اثْنَتَانِ

(ب) ثَلاثَةٌ . عشرة : يه اعداد معدود کے مخالف ہوں گے، اگر معدود مذکر ہو تو یہ مؤنث اور معدود مؤنث ہو تو یہ مذکر ہوں گے۔ جیسے : ثَلَاثَهُ رِجَالٍ وَ ثَلَاثُ نِسَاءٍ

(ج) أَحَدَ عَشَرَ / إِثْنَا عَشَر : ان کے دونوں اجزاء معدود کے مطابق ہوں گے۔ جیسے :

أحَدَ عَشَرَ طَالِبًا

إحْدَى عَشرَةً طَالِبَةٌ

إثنا عشر طالبًا

اِثْنَتَا عَشمْرَةً طَالِبَةٌ

(و) ثَلَاثَةٌ عَشَرَ . تِسْعَةَ عَشَرَ : ان اعداد کا دوسرا جزء معدود کے مطابق اور پہلا معدود کے

مخالف ہوگا۔ جیسے :

ثَلَاثَةَ عَشَرَ طَالِبًا

ثَلَاثَ عَشَرَةً طَالِبَةٌ

( ه ) عِشْرُوْنَ .... تِسْعُوْنَ، مِائَةٌ، أَلْف : یہ اعداد مذکر اور مؤنث دونوں میں یکساں اسی طرح استعمال ہوتے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے :

خَمْسُونَ مُسْلِمًا / مُسْلِمَةٌ

مِائَةُ طَالِب / طَالِبة

(و) مِائَتان / ألفان : جب انکا معدود ذکر کیا جائیگا تو ان کا نون حذف ہو جائیگا۔ جیسے : مِائَتَا رِيَالٍ ، أَلْفًا دُوْلَار دو سو ریال، دو ہزار ڈالر

معدود سے متعلق قواعد :

(الف) ۳-۱۰ کا معدود جمع اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ثَلَاثَةُ كُتب

(ب) ۱۱-۹۹ کا معدود مفرد اور منصوب ہوگا۔ جیسے : أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا (ج) ۱۰۰ اور ۱۰۰۰ کا معدود مفرد اور مجرور ہوگا۔ جیسے : ألف ريال

:- اعداد کا اعراب :

(الف) وَاحِدٌ ، اِثْنَان : یہ صفت بن کر استعمال ہوتے ہیں اور صفت اعراب میں موصوف کے تابع ہوتی ہے۔ جیسے :

عِنْدِي رِيَالٌ وَاحِدٌ

عِنْدِي ريالان اثنان

أَرِيْدُ رِيَالًا وَاحِدًا

أُريدُ رِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالِ وَاحِدٍ

هَذَا الْقَلَمُ بِرِيَالَيْنِ اثْنَيْنِ

(ب) ثَلاثَةٌ ...... عشرة : یہ اعداد معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي خَمْسَةُ رِيَالَاتِ:میرے پاس پانچ ریال ہیں

أريد خَمْسَةَ ريَالات:مجھے پانچ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةِ رِيَالَاتِ:قلم پانچ ریال کا ہے

(ج) أَحَدَ عَشَرَ ...... تِسْعَةَ عَشَرَ : یہ اعداد مبنی ہوتے ہیں سوائے اثنا اور اثْنَتَا کے، کہ ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے۔ جیسے:

عِنْدِي خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالا :میرے پاس پندرہ ریال ہیں

أَرِيْدُ خَمْسَةَ عَشَرَ رِيَالًا :مجھے پندرہ ریال چاہئے

هَذَا الْقَلَمُ بِخَمْسَةَ عَشَرَ :رِيَالا یہ قلم پندرہ ریال کا ہے

إِثْنَا عَشَرَ اور اِثْنَتَا عَشْرَةَ میں صرف لفظ اِثْنَا اور اِثْنَتَا معرب ہیں مثنی کی طرح، رہے الفاظ عشر اور عشرةَ تو وہ مبنی ہیں۔ جیسے :

عِنْدِي اثْنَا عَشَرَ رِيَالًا

عِنْدِي اثْنَتَا عَشَرَةَ رُوْبِيَةٌ

أُرِيْدُ اثْنَيْ عَشَرَ رِيَالٌا

أُرِيْدُ اثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَيْ عَشَرَ رِیالًا

هَذَا الْقَلَمُ بِاثْنَتَيْ عَشْرَة رُوْبِيَةٌ

(و) الْعُقُوْدُ ( عِشْرُوْنَ تِسْعُونَ ) : ان کا اعراب جمع مذکر سالم کی طرح ہوتا ہے۔

أَعِنْدَكَ سِتُّوْنَ رِيَالًا ؟ کیا تیرے پاس ساٹھ ریال ہیں؟

أريدُ سِتِّينَ ريَالا:مجھے ساتھ ریال چاہئے

هذا الْكِتَابُ بِسِتِّينَ ريَالا :یہ کتاب ساٹھ ریال کی ہے

(ه) مِائَةٌ / ألف : يه معرب ہوتے ہیں۔ جیسے :

مُرَتَّبُهُ أَلْفُ دُولار:اس کی تنخواہ ایک ہزار ڈالر ہے

أَخَذْتُ أَلْفَ دُولار مِنْهُ: میں نے اس سے ایک ہزار ڈالر لئے

اشتَرَيْتُهُ بِأَلْفِ دُولار:میں نے یہ ایک ہزار ڈالر میں خریدا

(و) مائتا / ألفا : یہ دونوں مثنی ہیں اور انکا اعراب مثنی کی طرح ہے۔ جیسے :

أَجْرَتُهُ أَلْفَا ريال. اس کی مزدوری دو ہزار ریال ہے

مَا يُرِيدُ أَلْفَيْ رِيَال. وہ دو ہزار ریال نہیں چاہتا ہے

يَعْمَلُ بِأَلْفَيْ رِيَال وہ دو ہزار ریال ( کی اجرت ) پر کام کرتا ہے

(ز) ثَلَاتُمِائَةٍ .۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تِسعُمِائَةٍ : ان اعداد میں لفظ مِائَةُ مضاف الیہ ہونے کی وجہ سے مجرور ہے، ان اعداد میں مضاف مضاف الیہ کے ساتھ ملا کر لکھا جاتا ہے، مضاف کا اعراب جملہ میں اس کے موقع اور عمل کے مطابق ہوگا۔ جیسے :

عِنْدِي ثَلَاثُمِائَةِ ريال : میرے پاس تین سو ریال ہیں

أريدُ ثَلَاثَمِائَةِ ريال:میں تین سو ریال چاہتا ہوں

اسْتَرَيْتُهُ بِثَلَاثِمِائَةِ رِيَال: میں نے یہ تین سو ریال میں خریدا

نوٹ : ثَمَانِمِائَةٍ اصل میں ثَمَانِيْمِائَةٍ ہے، ي حذف کردی گئی ہے اس لئے نون پر ہمیشہ کسرہ رہیگا۔

-۴- ألف بیک وقت عدد اور معدود دونوں ہو سکتا ہے۔ جیسے :

ثَلَاثَةُ آلَافِ ريال : تین ہزار ریال

ستة عشر ألف ريال سِتَّةَ :سولہ ہزار ریال

ثَلَاثُوْنَ أَلْفَ رِيَالٍ:تیس ہزار ریال

مائة ألف ريال :ایک لاکھ ریال

ان مثالوں میں لفظ ألف یا آلاف پچھلے کے لئے معدود اور اگلے اسم کے لئے عدد ہے.

۵۔ اگر عدد مضاف ہو اور اس کا معدود مذکور ہو تو عدد پر تنوین نہیں آئے گی اور اگر معدود محذوف

ہو تو تنوین آئے گی۔ جیسے :

كم ريالًا عِندَكَ؟

عِنْدِي عَشَرَةٌ يَا عِنْدِي عَشَرَةُ رِيَالَاتِ

بكم اسْتَرَيْت هَذِهِ السَّاعَةَ ؟

۶۔ اعداد کو پڑھنا :

اعداد پڑھتے وقت بہتر یہ ہے کہ اکائی سے شروع کریں پھر دہائی پھر سیکڑہ پھر ہزار۔ جیسے ۶۵۴۳ کو اگر معدود مذکر ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلَاثَةٌ وَأَرْبَعُوْنَ وخَمْسُمِائَةٍ و سِتَّةُ آلاف ريال اور اگر معدود مؤنث ہو تو اسطرح پڑھیں گے : ثَلاث و أَرْبَعُوْنَ و خَمْسُمِائَةٍ وَ سِتَّةُ آلَافِ رُوْبِيَةٍ