الخريطة
- فعل
- زمانہ کے اعتبار سے
- مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے
- فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- اعراب و بناء کے اعتبار سے
1 القاعدة
تعریف
مجرداور مزید فیہ فعل کی دو بنیادی اقسام ہیں۔ یہ افعال کی ساخت اور اس میں شامل حروف کی تعداد کی بنیاد پر تقسیم کیے جاتے ہیں۔
فعل مجرد: فعل مجرد وہ فعل ہے جو اپنے اصل حروف پر مشتمل ہوتا ہے، اور اس میں کسی اضافی حرف کی ضرورت نہیں ہوتی۔ فعل مجرد کو "ثلاثی" یا "رباعی" کہا جاتا ہے، اس بات پر منحصر کہ اس میں کتنے حروف ہیں۔
فعل مجرد کی قسمیں:
۱۔ ثلاثی مجرد: یہ وہ فعل ہے جس کے بنیادی تین حروف ہوں اور اس میں کوئی اضافی حرف نہ ہو۔
مثال: "ضَرَبَ" (مارا)، "کَتَبَ" (لکھا)، "خَرَجَ" (نکلا)
ان تمام افعال کے صرف تین بنیادی حروف ہیں۔
۲۔ رباعی مجرد: یہ وہ فعل ہے جس کے چار بنیادی حروف ہوں اور اس میں کوئی اضافی حرف شامل نہ ہو۔
مثال: "دَحرَجَ" (لڑھکایا)، "زَلقَلَ" (پھسلایا)
یہ افعال چار بنیادی حروف پر مشتمل ہیں اور کسی اضافی حرف کی ضرورت نہیں۔
فعل مزید فیہ: فعل مزید فیہ وہ فعل ہے جس میں اصل حروف (بنیادی حروف) کے ساتھ کچھ اضافی حروف شامل کیے جاتے ہیں تاکہ فعل کے معنی میں وسعت یا تبدیلی پیدا کی جا سکے۔ یہ اضافی حروف فعل کی مختلف شکلیں بناتے ہیں اور معنی میں تبدیلی یا اضافہ کرتے ہیں۔
فعل مزید فیہ کی قسمیں:
۱۔ ثلاثی مزیدفیہ: ثلاثی مزیدفیہ وہ فعل ہے جس میں تین بنیادی حروف ہوں، لیکن ان میں ایک، دو یا تین اضافی حروف شامل کیے گئے ہوں۔ اس کی تین قسمیں ہیں:
ایک حرف کا اضافہ: مثال: "أَکرَمَ" (عزت دی) یہ "کَرُمَ" (عزت کرنا) سے بنا ہے، جس میں ایک اضافی حرف "أ" شامل کیا گیا ہے۔
دو حروف کا اضافہ: مثال: "تَعلَّمَ" (سیکھا) یہ "عَلِمَ" (جاننا) سے بنا ہے، جس میں دو اضافی حروف "ت" اور "ل" شامل کیے گئے ہیں۔
تین حروف کا اضافہ: مثال: "استَغفَرَ" (معافی مانگی) — یہ "غَفَرَ" (معاف کرنا) سے بنا ہے، جس میں تین اضافی حروف "ا", "س", "ت" شامل کیے گئے ہیں۔
۲۔ رباعی مزیدفیہ: رباعی مزیدفیہ وہ فعل ہے جس کے چار بنیادی حروف ہوں، اور ان میں ایک یا دو اضافی حروف شامل کیے گئے ہوں۔
مثال: " تَدحْرَجَ" (لڑھکا) — یہ "دَحرَجَ" سے بنا ہے، جس میں ایک اضافی حرف "ت" شامل کیا گیا ہے۔
مجرد و مزیدفیہ کی تعریف دیگر کتب میں1
تمرین الصرفتمرین الصرف (سبق ۲۵ )
مجرد: وہ کلمہ جس کے تمام حروف اصلی ہوں ۔ مثال: فَتَحَ ، فَرَسٌ
مزید فیہ: وہ کلمہ جس میں حروف زائد بھی ہوں۔ مثال: تَفَتَّحَ ( کھل گیا)
۱۔ثلاثی مجرد جیسے خَرَجَ (وہ نکلا)
۲۔ثلاثی مزیدفیہ جیسے اَخْرَجَ(اس نے نکالا)الف زائد ہے
۳۔رباعی مجرد جیسے دَحْرَجَ (اس نے لڑھکایا)
۴۔رباعی مزیدفیہ جیسے تَدَحْرَجَ (وہ لڑھکا)اس میں ت زائد ہے
کلمات کا وزن کرنے کےلئے اور حروف اصلیہ اور حروف زائد معلوم کرنے کےلئے ف،ع،ل، کو میزان قرار دیاگیا،جس طرح چیزوں کی کمی بیشی اور برابری کا حال میزان سے معلوم ہوتاہے، اسی طرح کلمات کے حرفوں کو ف،ع،ل کے ساتھ مقابل کرنے سے ان کے اصلی حروف اور زوائد حروف معلوم ہو جاتے ہیں۔کلمہ موزون (یعنی جس کلمہ کا وزن نکالا جائے) کا جو حرف ف کے مقابل ہووہ فا کلمہ کہلاتا ہے جیسے قَلَمٌ میں ق، جو ع کے مقابل ہو وہ عین کلمہ جیسے قَلَمٌ میں ل اور جو ل کے مقابل ہو وہ لام کلمہ جیسے قَلَمٌ میں م کہلاتاہے
وزن کی تین صورتیں ہیں:
اقرأ البقية (7)
۱۔فَعَلٌ جیسے زَمَنٌ یہ وزن ثلاثی مجرد کاہے
۲۔فَعْلَلٌ جیسے ثَعْلَبٌ یہ وزن رباعی مجرد کا ہے
۳۔فَعَلْلَلٌ جیسے سَفَرْجَلٌ یہ وزن خماسی مجرد کاہے
ان اوزان کے ذریعہ کسی کلمہ کو ثلاثی،رباعی،خماسی،اور مجرد مزیدفیہ ہونا اس طرح معلوم ہوسکتاہے کہ کہ موزون (جس کا وزن نکالاجائے)کے حرفوں کا مقابلہ وزن کے حرفوں سے ترتیب کے ساتھ کریں،اور حرکات وسکنات کے موافق ہونے کا لحاظ رکھیں جو زیادتی ہو اسکو وزن میں اسی طرح لائیں۔اب جو حروف ف،ع،ل،کے مقابل ہوں وہ اصلی ہوں گے اور جو اسکےعلاوہ ہوں وہ حروف زائد ہوں گے۔ذیل کی مثالوں سے اس اسکو ذہن نشین کرلو۔
زَمَنٌ (فَعَلٌ کے وزن پر)، جَعْفَرٌ(فَعْلَلٌ کے وزن پر)، سَفَرْجَلٌ(فَعَلْلَلٌ کے وزن پر)یہ سب مجرد کہلائیں گے۔
زَمَانٌ(فَعَالٌ)قِنْدِیْلٌ(فِعْلِیْلٌ)غَضْرَفُوطٌ(فَعْلَلُولٌ) چوں کہ ان میں حروف زائد بھی ہیں اسلئے مزیدفیہ کہلائیں گے۔
الفاظ کاوزن معلوم ہوجانے سے یہ فائدہ ہے کہ کسی ایک کلمہ کے حروف اصلیہ کے معنٰی معلوم ہوجانے کے بعد اس کے تمام مشتقات وغیرہ کے معنٰی جاننا آسان ہوجاتاہے۔
2 تمرین الصرف (سبق ۲۵ )
مجرد: وہ کلمہ جس کے تمام حروف اصلی ہوں ۔ مثال: فَتَحَ ، فَرَسٌ
مزید فیہ: وہ کلمہ جس میں حروف زائد بھی ہوں۔ مثال: تَفَتَّحَ ( کھل گیا)
۱۔ثلاثی مجرد جیسے خَرَجَ (وہ نکلا)
۲۔ثلاثی مزیدفیہ جیسے اَخْرَجَ(اس نے نکالا)الف زائد ہے
۳۔رباعی مجرد جیسے دَحْرَجَ (اس نے لڑھکایا)
۴۔رباعی مزیدفیہ جیسے تَدَحْرَجَ (وہ لڑھکا)اس میں ت زائد ہے
کلمات کا وزن کرنے کےلئے اور حروف اصلیہ اور حروف زائد معلوم کرنے کےلئے ف،ع،ل، کو میزان قرار دیاگیا،جس طرح چیزوں کی کمی بیشی اور برابری کا حال میزان سے معلوم ہوتاہے، اسی طرح کلمات کے حرفوں کو ف،ع،ل کے ساتھ مقابل کرنے سے ان کے اصلی حروف اور زوائد حروف معلوم ہو جاتے ہیں۔کلمہ موزون (یعنی جس کلمہ کا وزن نکالا جائے) کا جو حرف ف کے مقابل ہووہ فا کلمہ کہلاتا ہے جیسے قَلَمٌ میں ق، جو ع کے مقابل ہو وہ عین کلمہ جیسے قَلَمٌ میں ل اور جو ل کے مقابل ہو وہ لام کلمہ جیسے قَلَمٌ میں م کہلاتاہے
وزن کی تین صورتیں ہیں:
۱۔فَعَلٌ جیسے زَمَنٌ یہ وزن ثلاثی مجرد کاہے
۲۔فَعْلَلٌ جیسے ثَعْلَبٌ یہ وزن رباعی مجرد کا ہے
۳۔فَعَلْلَلٌ جیسے سَفَرْجَلٌ یہ وزن خماسی مجرد کاہے
ان اوزان کے ذریعہ کسی کلمہ کو ثلاثی،رباعی،خماسی،اور مجرد مزیدفیہ ہونا اس طرح معلوم ہوسکتاہے کہ کہ موزون (جس کا وزن نکالاجائے)کے حرفوں کا مقابلہ وزن کے حرفوں سے ترتیب کے ساتھ کریں،اور حرکات وسکنات کے موافق ہونے کا لحاظ رکھیں جو زیادتی ہو اسکو وزن میں اسی طرح لائیں۔اب جو حروف ف،ع،ل،کے مقابل ہوں وہ اصلی ہوں گے اور جو اسکےعلاوہ ہوں وہ حروف زائد ہوں گے۔ذیل کی مثالوں سے اس اسکو ذہن نشین کرلو۔
زَمَنٌ (فَعَلٌ کے وزن پر)، جَعْفَرٌ(فَعْلَلٌ کے وزن پر)، سَفَرْجَلٌ(فَعَلْلَلٌ کے وزن پر)یہ سب مجرد کہلائیں گے۔
زَمَانٌ(فَعَالٌ)قِنْدِیْلٌ(فِعْلِیْلٌ)غَضْرَفُوطٌ(فَعْلَلُولٌ) چوں کہ ان میں حروف زائد بھی ہیں اسلئے مزیدفیہ کہلائیں گے۔
الفاظ کاوزن معلوم ہوجانے سے یہ فائدہ ہے کہ کسی ایک کلمہ کے حروف اصلیہ کے معنٰی معلوم ہوجانے کے بعد اس کے تمام مشتقات وغیرہ کے معنٰی جاننا آسان ہوجاتاہے۔
3 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں