الخريطة
- فعل
- زمانہ کے اعتبار سے
- مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے
- فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- اعراب و بناء کے اعتبار سے
1 القاعدة
تعریف
حروف اصلیہ کے اعتبار سے فعل کی دو قسمیں ہیں:
۱۔صحیح :صحیح وہ فعل ہے جس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرف علت (و، ا، ی) نہ ہو۔
صحیح کی اقسام:
۱۔ سالم: ایسا فعل جس میں حروفِ اصلیہ (بنیادی حروف) میں کوئی تبدیلی نہ ہو اور کوئی ہمزہ یا تضعیف نہ ہو۔
مثال: نَصَرَ (اس نے مدد کی)، کَتَبَ (اس نے لکھا)
۲۔ مہموز: ایسا فعل جس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی ایک حرف ہمزہ ہو۔
مثال: سَأَلَ (اس نے پوچھا)، قَرَأَ (اس نے پڑھا)
۳۔ مضاعف: ایسا فعل جس میں حروفِ اصلیہ میں دو ایک جیسے حروف ایک ساتھ ہوں۔
مثال: مَدَّ (اس نے کھینچا)، فَرَّ (وہ بھاگا)
۲۔ معتل: معتل وہ فعل ہے جس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی حرف علت (و، ا، ی) شامل ہو۔
معتل کی اقسام:
۱۔ مثال: ایسا فعل جس کا پہلا حرف علت ہو۔
مثال: وَعَدَ (اس نے وعدہ کیا)، یَسَرَ (آسان کیا)
۲۔ أجوف: ایسا فعل جس کا دوسرا حرف علت ہو۔
مثال: قَالَ (اس نے کہا)، بَاعَ (اس نے بیچا)
۳۔ ناقص: ایسا فعل جس کا آخری حرف علت ہو۔
مثال: دَعَا (اس نے پکارا)، سَعَی (اس نے کوشش کی)
صحیح و معتل کی تعریف دیگر کتب میں2
کتاب الصرفکتاب الصرف (سبق ۲۸)
عربی کے بعض کلمات میں کبھی حرف علت ہوتا ہے اور کبھی ہمزہ اور کبھی ایک جنس کے دوحرف اور کبھی ان تینوں میں سے ایک بھی نہیں ہوتا۔
پس اس اعتبار سے اسماء وافعال کی ایک اورتقسیم ہے مثلًا جس کلمے میں حرف علت ہو اسکو معتل اورجس میں ہمزہ ہو اسکو مہموز اور جس میں دو حرف ہم جنس ہوں اسکو مضاعف کہتے ہیں اور جس میں اس میں سے کوئی حرف نہ ہو اس کو صحیح کہتے ہیں۔
صحیح : وہ کلمہ ہے جس حرف اصلی میں ہمزہ حرف علت اور حرف ہم جنس نہ ہوں جیسے ضَرَبَ وَ بَعْثَرَ،رَجُلٌ وَ جَعْفَرَ۔
مہموز : وہ کلمہ ہے جس کے حرف اصلی میں ہمزہ ہو ف کلمہ کی جگہ ہمزہ ہو تو مہموز الفاء کہلائے گا جیسے اَمَرَ،إِبِلٌ ع کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز العین جیسے سَاَلَ رأسٌ ل کلمہ کی جگہ ہوتو مہموز اللام جیسے قرأ،جزء۔
مضاعف: وہ کلمہ ہے جس میں دو حرف ایک جنس کےہوں اور اگر عین اور لام ایک جنس کے ہوں تو مضاعف ثلاثی کہلائے گا جیسے مَدَّ سَبَّ اگر ف ولام اول اور ع ولام ثانی ایک جنس کے ہوں تو مضارع رباعی جیسے زلزلۃ
معتل: وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلی میں حرف علت ہو اسکی تین قسمیں ہیں
۱۔معتل الفاء:جس کا ف کلمہ حرف علت ہو جیسے وَعَدَ،وَرَدٌ اسکو مثال کہتے ہیں۔
۲۔معتل العین:جس کا ع کلمہ حرف علت ہو جیسے قال،لیلٌ اسکو اجوف کہتے ہیں۔
اقرأ البقية (4)
۳۔معتل اللام: جس کا لام کلمہ حرف علت ہو جیسے (رأیٰ،ظبیٌ)اسکو ناقص کہتے ہیں
اگر کلمے میں دو حرف علت ہوں تو اسکو معتل بدو حرف اور لفیف کہتے ہیں اور اسکی دو قسمیں ہیں
۱۔ لفیف مفروق جس میں دو حرف علت منفصل ہوں جیسے ولی، وحی۔
۲۔لفیف مقرون جس میں دو حرف علت متصل ہوں جیسے طوی، یوم
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱، ۹
تقسیم الفعل الی صحیح الآخر و معتل الآخر: فعل کی تقسیم صحیح الآخر اور معتل الآخر کے اعتبار سے
الفِعْلُ المُعْتَلُّ الآخِرِ هو ما كان آخِرُهُ أَلِفًا أو واوًا أو ياءً، وتُسَمَّى هَذِهِ الأَحْرُفُ الثَّلَاثَةُ بِاَحرُفِ العِلَّةِ.
الفِعْلُ الصَّحِيحُ الآخِرِ هو ما لَمْ يَكُنْ آخِرُهُ حَرْفًا مِنْ أَحْرُفِ العِلَّةِ الثَّلَاثَةِ.
معتل الاآخر وہ فعل ہے جس کے آخر میں الف یا واو یا یاء موجود ہو ، ان تینوں حروف کو حروف علت کہا جاتا ہے۔
صحیح الاخر وہ فعل ہے جس کے آخر میں حروف علت میں سے کوئی بھی حرف نہ آیا ہو۔
الامثلۃ
1. أَلْقَى الصَّيَّادُ شَبَكَتَهُ.
اقرأ البقية (39)
2۔دَعَا المَرِيضُ الطَّبِيبَ.
3۔يَلْقَى المُسِيءُ جَزَاءَهُ.
4۔سَرُوَالرَّجُلُ.
5۔تَصْفُو السَّمَاءُ.
6۔يَدْنُو فَصْلُ الشِّتَاءِ.
7۔خَشِیَ محمدٌ رَبَّہُ
8۔اَبغِی رِضا الوالِدَینِ
9۔یَبنِی البَنَّاءُ مسجداً
10۔ اظلَمَ المَکانُ
11۔اِتَّقَدَ المِصبَاحُ
12۔یَستَحِمُّ الغِلمَانُ
الفعل المضارع المعتل الآخر وأحوال اعرابہ: فعل مضارع معتل الآخر اور اس کا اعراب
الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ الْمُعْتَلُّ الْآخِرِ يُرْفَعُ بِضَمَّۃٍ مُقَدَّرَة عَلَى الْأَلِفِ وَالْوَاءِ وَالْيَاءِ. وَيُنْصَبُ بِفَتْحَۃ مُقَدَّرَةِ عَلَى الْأَلِفِ ، وَظَاهِرَةٍ عَلَى الْوَاوِ وَالْيَاءِ ويُجْزَمُ بِحَذْفِ الْآخِرِ .
فعل مضارع معتل الاخر کا اعراب حالت رفع میں الف واؤ اور یاء تینوں پرضمہ مقدر رہتا ہے اور حالت نصب میں الف پر فتحہ مقدر ہوتا ہے اور واؤ اور یاء پر ظاہر ہو کر آتا ہے اور حالت جزم میں فعل مضارع کا آخر محذوف ہوجاتا ہے۔
الامثلۃ
1.يَتَغَذَّى الْغُلامُ . ، .أَوَدُّ أَنْ یَتَغَذَّیٰ الْغُلَامُ .
2.أَخْشَى الْبَرْدَ ، .يَجِبُ أَنْ أَحْشَى الْبَرْدَ.
3.لِمَاذَا تَنْسَى وَعْدَكَ .، .لَنْ تَنْسَى وَعْدَكَ .
4.أَنْتَ تَدْنُو مِنَ الْكَبْشِ.، أَخَافُ أَنْ تَدْنُو مِنَ الْكَبْشِ
5.يَصْفُو الْجَو .، يَسُرُّ نِي أَنْ يَصْفُوَ الْجَو
6.يَعْدُو الْحِصَانُ، لَنْ يَعْدُوَ الْحِصَانُ .
7.أَشْتَهِي الطَّعَامَ، لَنْ أَشْتَهِيَ الطَّعَامَ .
8.يَجْرِى الْمَاءُ ، أَحِبُّ أَنْ يَجْرِيَ المَاءُ.
9.يَعْوِي الذِّئبُ ، لَنْ يَعْوِيَ الذِّئبُ
1.لَمْ يَتَغَدَّ الْغُلَامُ ،
2.لَمْ أَخْشَ الْبَرْدَ ،
3.لا تَنْسَ، وَعَدَكَ ،
4. لا تَدْنُ مِنَ الكَبْشِ .
5.لَمْ يَصْفُ الْجَو
6.لَمْ يَعْدُ الْحِصَانُ
7.لَمْ أَشْتَهِ الطَّعَامَ
8.لَمْ يَجْرِ الْمَاءُ
9.لَمْ يَعْوِ الذئبُ
2 کتاب الصرف (سبق ۲۸)
عربی کے بعض کلمات میں کبھی حرف علت ہوتا ہے اور کبھی ہمزہ اور کبھی ایک جنس کے دوحرف اور کبھی ان تینوں میں سے ایک بھی نہیں ہوتا۔
پس اس اعتبار سے اسماء وافعال کی ایک اورتقسیم ہے مثلًا جس کلمے میں حرف علت ہو اسکو معتل اورجس میں ہمزہ ہو اسکو مہموز اور جس میں دو حرف ہم جنس ہوں اسکو مضاعف کہتے ہیں اور جس میں اس میں سے کوئی حرف نہ ہو اس کو صحیح کہتے ہیں۔
صحیح : وہ کلمہ ہے جس حرف اصلی میں ہمزہ حرف علت اور حرف ہم جنس نہ ہوں جیسے ضَرَبَ وَ بَعْثَرَ،رَجُلٌ وَ جَعْفَرَ۔
مہموز : وہ کلمہ ہے جس کے حرف اصلی میں ہمزہ ہو ف کلمہ کی جگہ ہمزہ ہو تو مہموز الفاء کہلائے گا جیسے اَمَرَ،إِبِلٌ ع کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز العین جیسے سَاَلَ رأسٌ ل کلمہ کی جگہ ہوتو مہموز اللام جیسے قرأ،جزء۔
مضاعف: وہ کلمہ ہے جس میں دو حرف ایک جنس کےہوں اور اگر عین اور لام ایک جنس کے ہوں تو مضاعف ثلاثی کہلائے گا جیسے مَدَّ سَبَّ اگر ف ولام اول اور ع ولام ثانی ایک جنس کے ہوں تو مضارع رباعی جیسے زلزلۃ
معتل: وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلی میں حرف علت ہو اسکی تین قسمیں ہیں
۱۔معتل الفاء:جس کا ف کلمہ حرف علت ہو جیسے وَعَدَ،وَرَدٌ اسکو مثال کہتے ہیں۔
۲۔معتل العین:جس کا ع کلمہ حرف علت ہو جیسے قال،لیلٌ اسکو اجوف کہتے ہیں۔
۳۔معتل اللام: جس کا لام کلمہ حرف علت ہو جیسے (رأیٰ،ظبیٌ)اسکو ناقص کہتے ہیں
اگر کلمے میں دو حرف علت ہوں تو اسکو معتل بدو حرف اور لفیف کہتے ہیں اور اسکی دو قسمیں ہیں
۱۔ لفیف مفروق جس میں دو حرف علت منفصل ہوں جیسے ولی، وحی۔
۲۔لفیف مقرون جس میں دو حرف علت متصل ہوں جیسے طوی، یوم
3 النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱، ۹
تقسیم الفعل الی صحیح الآخر و معتل الآخر: فعل کی تقسیم صحیح الآخر اور معتل الآخر کے اعتبار سے
الفِعْلُ المُعْتَلُّ الآخِرِ هو ما كان آخِرُهُ أَلِفًا أو واوًا أو ياءً، وتُسَمَّى هَذِهِ الأَحْرُفُ الثَّلَاثَةُ بِاَحرُفِ العِلَّةِ.
الفِعْلُ الصَّحِيحُ الآخِرِ هو ما لَمْ يَكُنْ آخِرُهُ حَرْفًا مِنْ أَحْرُفِ العِلَّةِ الثَّلَاثَةِ.
معتل الاآخر وہ فعل ہے جس کے آخر میں الف یا واو یا یاء موجود ہو ، ان تینوں حروف کو حروف علت کہا جاتا ہے۔
صحیح الاخر وہ فعل ہے جس کے آخر میں حروف علت میں سے کوئی بھی حرف نہ آیا ہو۔
الامثلۃ
1. أَلْقَى الصَّيَّادُ شَبَكَتَهُ.
2۔دَعَا المَرِيضُ الطَّبِيبَ.
3۔يَلْقَى المُسِيءُ جَزَاءَهُ.
4۔سَرُوَالرَّجُلُ.
5۔تَصْفُو السَّمَاءُ.
6۔يَدْنُو فَصْلُ الشِّتَاءِ.
7۔خَشِیَ محمدٌ رَبَّہُ
8۔اَبغِی رِضا الوالِدَینِ
9۔یَبنِی البَنَّاءُ مسجداً
10۔ اظلَمَ المَکانُ
11۔اِتَّقَدَ المِصبَاحُ
12۔یَستَحِمُّ الغِلمَانُ
الفعل المضارع المعتل الآخر وأحوال اعرابہ: فعل مضارع معتل الآخر اور اس کا اعراب
الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ الْمُعْتَلُّ الْآخِرِ يُرْفَعُ بِضَمَّۃٍ مُقَدَّرَة عَلَى الْأَلِفِ وَالْوَاءِ وَالْيَاءِ. وَيُنْصَبُ بِفَتْحَۃ مُقَدَّرَةِ عَلَى الْأَلِفِ ، وَظَاهِرَةٍ عَلَى الْوَاوِ وَالْيَاءِ ويُجْزَمُ بِحَذْفِ الْآخِرِ .
فعل مضارع معتل الاخر کا اعراب حالت رفع میں الف واؤ اور یاء تینوں پرضمہ مقدر رہتا ہے اور حالت نصب میں الف پر فتحہ مقدر ہوتا ہے اور واؤ اور یاء پر ظاہر ہو کر آتا ہے اور حالت جزم میں فعل مضارع کا آخر محذوف ہوجاتا ہے۔
الامثلۃ
1.يَتَغَذَّى الْغُلامُ . ، .أَوَدُّ أَنْ یَتَغَذَّیٰ الْغُلَامُ .
2.أَخْشَى الْبَرْدَ ، .يَجِبُ أَنْ أَحْشَى الْبَرْدَ.
3.لِمَاذَا تَنْسَى وَعْدَكَ .، .لَنْ تَنْسَى وَعْدَكَ .
4.أَنْتَ تَدْنُو مِنَ الْكَبْشِ.، أَخَافُ أَنْ تَدْنُو مِنَ الْكَبْشِ
5.يَصْفُو الْجَو .، يَسُرُّ نِي أَنْ يَصْفُوَ الْجَو
6.يَعْدُو الْحِصَانُ، لَنْ يَعْدُوَ الْحِصَانُ .
7.أَشْتَهِي الطَّعَامَ، لَنْ أَشْتَهِيَ الطَّعَامَ .
8.يَجْرِى الْمَاءُ ، أَحِبُّ أَنْ يَجْرِيَ المَاءُ.
9.يَعْوِي الذِّئبُ ، لَنْ يَعْوِيَ الذِّئبُ
1.لَمْ يَتَغَدَّ الْغُلَامُ ،
2.لَمْ أَخْشَ الْبَرْدَ ،
3.لا تَنْسَ، وَعَدَكَ ،
4. لا تَدْنُ مِنَ الكَبْشِ .
5.لَمْ يَصْفُ الْجَو
6.لَمْ يَعْدُ الْحِصَانُ
7.لَمْ أَشْتَهِ الطَّعَامَ
8.لَمْ يَجْرِ الْمَاءُ
9.لَمْ يَعْوِ الذئبُ
4 تمارین
5 النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱، ۹
تقسیم الفعل الی صحیح الآخر و معتل الآخر
التمرين (١)
عيِّن الافعال الصحيحة الاخر والمعتلة الآخر في العبارة الآتية:
خرج فريد يتنزه ويُمتِّع نظره بمحاسن الطبيعة ، فصادف جدْوَلا يجري ماؤه فيُروى الزرع ويُلطِّف الهواء، ولَقِي أغنامًا تروح وتغدو آمنة تَرعى الكلأ وتشرب الماء، ورأى أشجارًا تدنو أثمارها وتميل بأغصانها ، فوقف عندها ساعة حتى إذا مالت الشمس إلى الغروب قفل راجعاً .
التمرين (۲)
(الف) اجعل كل اسم من الاسماء الاتية فاعلاً لفعل معتل الآخر
الماء ، الذئب ، الحصان ، الرجل ، الطفل ، الغنم
(ب) اجعل كل اسم من الاسماء الاتية مفعولاً به لفعل صحيح الاخر
الطعام ، الكرة ، الابريق ، الباب ، الثوب ، الحذاء
التمرين (۳)
(۱) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل ماض معتل الآخر بالالف
(۲) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل ماض معتل الآخر بالياء
(۳) ايت بثلاث جمل يتوسط كل منها فعل ماض معتل الآخر بالالف
(۴) ایت بثلاث يتوسط كل منها فعل ماض معتل الآخر بالياء
التمرين (۴)
(۱) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل مضارع معتل الآخر بالالف
(۲) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل مضارع معتل الآخر بالواو
(۳) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل مضارع معتل الآخر بالياء
التمرين (۵)
(۱) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل ماض صحيح الاخر۔
(۲) ایت بثلاث جمل يبتدى في كل منها فعل امر صحيح الاخر۔
(۳) ایت بثلاث جمل يبتدى في كل منها فعل مضارع مرفوع صحيح الاخر۔
(۴) ایت بثلاث جمل يبتدى في كل منها فعل مضارع منصوب صحيح الاخر۔
(۵) ایت بثلاث جمل يبتدى في كل منها فعل مضارع مجزوم صحيح الاخر۔
التمرين (٦)
ضَع مضارع كل فعل من الافعال الاتية فى جملة مفيدة، وبين اهو معتل الاخر بالالف ام بالواو ام بالياء؟
دعا ، صفا ، رَضِی ، سَعَی ، هدى ، سَقى ، عَمِى
التمرين (۷)
ضَع ماضى كل فعل من الافعال الاتية في جملة مفيدة و بَيِّن اھو معتل الآخر بالالف ام بالياء؟
يَقضى ، يَبقى ، يَسهو ، يُنادي ، يَرتقى ، يَفني
الفعل المضارع المعتل الآخر وأحوال اعرابہ
التمرين ( ۱ )
بين الافعال المضارعة المعتلة الآخر في العبارات الآتية وعين علامة الاعراب في كل فعل:
۱۔ العاقل يهتدى بنصح المجربين و يبغى رضا الله والناس
۲۔ يهوى الشجاع ميادين القتال ولا يخشى ان يلقى المعاطب فيها
۳۔ اذا لم تصف خلائق الانسان فلن يبتغى صداقته احد
۴۔ ان تدع الطبيب في الليل او النهاريات اليك
التمرين (۲)
ضع كل فعل من الافعال المضارعة الاتية في جمل مفيدة بحيث يكون مرة مرفوعا ومرة منصوبا ومرة مجزوما واضبط آخر كل فعل تظهر عليه الحركة.
يحيا ، يدنو ، يهتدى ، يعلو ، يستوى ، يخلو
التمرين (۳)
(۱) ایت بثلاث جمل في كل منها مضارع مرفوع معتل الآخر بالالف في الأولى وبالواو في الثانية وبالياء في الثالثة.
(۲) كون ثلاث جمل تشتمل كل منها على فعل مضارع منصوب معتل الآخر بالالف في الأولى وبالواو في الثانية وبالياء في الثالثة.
(۳) ایت بثلاث جمل تشتمل كل منها على فعل مضارع مجزوم معتل الآخر بالالف في الأولى وبالواو في الثانية وبالياء في الثالثة.
التمرين (۴)
هات مضارع كل فعل من الافعال الاتية وضعه في جمل ثلاث، بحيث يكون مرة مرفوعا ومرة منصوبا ومرة مجزوما ثم اضبط آخر المضارع الذي تظهر عليه الحركة
علا ، هدى ، شکا، رضی ، عمى ، خفی
التمرين (۵)
ا - نموذج :
(۱) يختفى الخفاش بالنهار .
يختفى: فعل مضارع مرفوع بضمة مقدرة على الياء
الخفاش: فاعل مرفوع بالضمة .
بالنهار: الباء حرف جر مبنى على الكسر ، والنهار مجرور بالباء وعلامة جره الكسرة .
(۲) لم ینمُ الزَّرعُ
لم: حرف نفي وجزم مبني على السكون .
ينم: فعل مضارع مجزم بلم وعلامة جزمه حذف الواو .
الزرع: فاعل مرفوع بالضمة
(ب) اعرب الجمل الاتية
۱۔ ينهى الله عن الكذب
۲۔ يصفو الجو
۳۔ لن يرتقى الحسود
۴۔ لم تغل القدر
6 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں