كل المواضيع

زمانہ کے اعتبار سے

زمانہ کی تعریف دیگر کتب میں

3 نصًا

تمرین الصرف

تمرین الصرف۔ سبق:۱

ماضی:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا زمانہ گزشتہ میں ہونا سمجھا جائے

مثال: فَعَلَ (اس نے کیا) ، نَصَرَ (اس نے مدد کی )

مضارع:  وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا کبھی زمانہ حال اور کبھی زمانہ آئندہ (مستقبل) میں ہونا سجھا جائے (یعنی اس میں دونوں زمانے پائے جاتے ہیں)

مثال: یَذْھَبُ (وہ جاتا ہے یا جائےگا) ، یَفعَلُ (وہ کرتا ہے یا کرے گا)

امر: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کے کرنے کا حکم معلوم ہو ۔

مثال: اِذھَبْ (تو جا) ، اِفْعَلْ (تو کر)

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۸،۹،۱۱،۱۲

سبق ۸

۱۔ فعل ماضی اس فعل کو کہتے ہیں جو گزرے ہوئے زمانہ میں کسی کام کے ہونے" یا "کرنے پر دلالت کرے

مثال: کَتَبَ حَامِدٌ کِتَابًا (حامد نے ایک خط لکها)

۲۔ فعل مضارع اس فعل کو کہتے ہیں جو زمانہ حال یا زمانہ مستقبل میں کسی کام کے واقع ہونے پر دلالت کرے

مثال: يَكْتُبُ حَامِدٌ (حامد لکھتا ہے یا لکھے گا)

۳۔ فعل امر اس فعل کا نام ہے جس میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جائے : مثال : اِقْرَاْ (پڑھ)

فعل نہی اس فعل کو کہتے ہیں جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جائے۔ جیسےا: لَا تَقْرَاْ

نوٹ: فعل نہی بھی فعل امرکی ایک قسم ہے کیونکہ اس میں بھی درحقیقت حکم ہی پایا جاتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ امر میں کسی کام کے کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اور نہی میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم ہوتا ہے۔

اقرأ البقية (148)

سبق ۱۱

(ماضی بعید و ماضی استمراری)

فعل ماضی کی دو قسمیں: ماضی بعید ماضی استمراری

(۱) فعل ماضی کے شروع میں لفظ کَانَ بڑھا دینے سے فعل ماضی بعید بن جاتا ہے جیسے ذهَبَ سے كَانَ ذَهَبَ (وہ گیا تھا)، اور ذَهَبُوا سے كَانُوا ذَهَبُوۡا (وہ لوگ گئے تھے)

(۲) اسی طرح فعل مضارع کے شروع میں اگر کَانَ بڑھا دیا جائے تو ماضی استمراری بن جاتا ہے جیسے یَذۡھَبُ سے کَانَ يَذْهَبُ (وہ جاتا تھا) اور يَذْهَبُوۡنَ سے كَانُوۡا يَذْهَبُونَ (وہ لوگ جاتے تھے ) ۔ ان کی پوری گردان حسب ذیل طریقے پر آئے گی :-

(۱) فعل ماضی بعید کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ ذَهَبَ ،

كَانَا ذَهَبَا ،

كَانُوۡا ذَهَبُوۡا

مونث غائب :

كَانَتۡ ذَهَبَتۡ ،

كَانَتَا ذَهَبَتَا ،

كُنَّ ذَهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنتَ ذَهَبۡتَ،

کُنۡتُمَا ذَهَبْتُمَا

كُنْتُمْ ذَهَبْتُمۡ

مونث حاضر :

كُنۡتِ ذَهَبۡتِ

کُنۡتُمَا ذَهَبۡتُمَا

كُنۡتُنَّ ذَهَبۡتُنّ َ

واحد متكلم :

كُنۡتُ ذَهَبْتُ

جمع متکلم :

كُنَّا ذَهَبْنَا

(۲) فعل ماضی استمراری کی گردان

مذکر غائب :

كَانَ يَذْهَبُ

كَانَا يذۡهَبَانِ

کَانُوۡا یَذۡهَبُوۡنَ

مونث غائب :

كَانَتْ تَذهَبُ

كَانَتَا تَذهَبَانِ

كُنّ يَذْهَبْنَ

مذکر حاضر :

كُنۡتَ تَذۡهَبُ

كُنۡتُمَا تَذْهَبَانِ

كُنتُمۡ تَذْهَبُوۡنَ

مونث حاضر :

كُنۡتِ تَذْهَبِيۡنَ

كُنْتُما تَذْهَبَانِ

كُنتُنَّ تَذْهَبۡنَ

واحد متکلم :

كُنۡتُ اَذۡهَبُ

جمع متكلم :

كُنَّا نَذۡهَبُ

نوٹ :۔ ماضی بعید اور ماضی استمراری دونوں میں کان کا فعل ماضی ہی رہے گا جیسا کہ اوپر کے نقشہ سے ظاہر ہے۔

اسی طرح ماضی بعید اور ماضی استمراری اگر مجہول ہوں جب بھی کان اوپر کے نقشہ کے مطابق ہی رہے گا اور تبدیلی صرف بعد والے فعل میں ہوگی جیسے کَانَ کُتِبَ لکھا گیا تھا، اور كَانَ يُكۡتَبُ لکھا جاتا تھا،

(ماضی استمراری منفی)

ماضی بعید میں چونکہ دونوں فعل ماضی ہی ہوتے ہیں اس لئے شروع میں ما نافیہ بڑھا کر حسب قاعدہ اسے مثبت سے منفی بنا لیتے ہیں جیسے

(کُنۡتُ ذَهَبۡتُ سے مَا كُنۡتُ ذَهَبۡتُ ) (میں نہیں گیا تھا)

مگر ماضی استمراری میں چونکہ کان فعل ماضی اور بعد کا فعل، فعل مضارع ہوتا ہے اس لئے اس کے منفی صیغے بنانے کے دو طریقے ہیں:۔

(۱) یہ کہ کان کے شروع میں ما نافیہ بڑھا دیا جائے جیسے مَا كَانَ يَلْعَبُ (وہ نہیں کھیلتا تھا)

(۲) دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کان کے بعد دوسرے فعل کے شروع میں لائے نفی لگا دیا جائے جیسے : كَانَ لَا يَلۡعَبُ(وہ نہیں کھیلتا تھا)

سبق ۹

فعل مضارع (۱)

ماضی کی طرح مضارع کے بھی چودہ صیغے آتے ہیں اس کے اندر زمانہ حال و استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ یہ فعل ماضی سے بنایا جاتا ہے۔ اس کے شروع میں (ا، ت، ی، ن) میں سے کسی حرف کا ہونا ضروری ہے۔ یہ چاروں حروف علامت مضارع کہلاتے ہیں۔ اس کے بنانے کا قاعدہ صرف کی کسی کتاب میں دیکھو۔ ذیل میں صرف گردانیں دی جاتی ہیں۔

غائب مذکر

واحد تثنیہ جمع

يَكْتُبُ يَكْتُبَانِ يَكْتُبُوۡنَ

غائب مونث

واحد تثنیہ جمع

تَكْتُبُ تَكتُبَانِ يَكْتُبۡنَ

مذکر حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتبُ تَكْتُبانِ تَكْتُبُوۡنَ

مونث حاضر

واحد تثنیہ جمع

تَكتُبِيۡنَ تَكْتُبَانِ تَكْتُبۡنَ

متکلم

واحد تثنیہ وجمع

أ كَتُبُ نكَتُبُ

( فعل مستقبل)

تم نے درس ۹ میں ابھی پڑھا ہے کہ فعل مضارع میں زمانہ حال اور استقبال دونوں پائے جاتے ہیں۔ ذیل میں فعل مستقبل کے جملے لکھے جاتے ہیں۔ ان کا ترجمہ فعل مضارع ہی سے کیا جائے گا۔

کبھی فعل مضارع جو استقبال کے لئے آتا ہے۔ اس پر ”س“ اور ”سوف“ داخل کر دیتے ہیں "س " کے داخل کئے جانےکے بعد فعل مضارع مستقبل کے معنی میں خاص ہو جاتا ہے "س" مستقبل قریب اور "سوف" مستقبل بعید کے لئے لاتے ہیں۔

(۱) سَاُهْدِي إِلَيْكَ كِتَابًا مُمَتِّعًا (عنقریب میں تم کو ایک مفید کتاب ہدیہ کروں گا )

(۲) سَتَلْعَبُ فِرْقَتُنَا غَدًا ( کل ہماری پارٹی کھیلے گی)

فعل استمرار

اردو میں کچھ افعال ایسے آتے ہیں جن میں استمرار کے معنی پائے جاتے ہیں۔ جیسے میں آرہا ہوں۔ محمود بازار جا رہا ہے، حامد سو رہا ہے وغیرہ۔ مگر عربی زبان میں اس کے لئے کوئی مستقل فعل نہیں آتا۔ اس لئے کبھی ان کا ترجمہ فعل مضارع سے کرتے ہیں اور کبھی اسم فاعل سے، ذیل کے جملوں کی عربی دیکھو۔

(۱)محمود بازار جا رہا ہے۔ يَذْهَبُ مَحْمُودٌ إِلَى السُّوقِ يا مَحْمُودٌ ذَاهِب إِلَى السُّوقِ

(۲) بادل برس رہا ہے۔ تُمطِرُ السَّمَاءُ یا السَّمَاءُ مُمطِرَةٌ

(۳) بچہ سو رہا ہے۔ اَلطِّفۡلُ نَائِمٌ

(۴) فاطمہ سبق یاد کر رہی ہے۔ تَحْفَظُ فَاطِمَةُ الدَّرْسَ

سبق ۱۲

(فعل امر)

فعل امر کی تعریف درس ۸ میں تم نے پڑھی ہے، ذیل میں اس کے بنانے کا قاعدہ لکھا جاتا ہے۔

۱۔ فعل امر حاضر معروف مضارع حاضر معروف سے بنایا جاتا ہے اور وہ اس طرح کہ :

(۱) سب سے پہلے علامت مضارع حذف کر دی جائے۔

(۲) علامت مضارع حذف کرنے کے بعد پہلا حرف اگر ساکن رہ جائے تو شروع میں ہمزۂ وصل بڑھا دو، جیسے تَکۡتُبُ سے اُكۡتُبۡ وغیرہ ۔

(۳) مضارع کے عین کلمہ کو اگر ضمہ ہو تو ہمزۂ وصل کو بھی ضمہ دے دو اور اگر مضارع کےعین کلمہ کو فتحه ہو یا کسرہ ہو تو دونوں صورتوں میں ہمزۂ وصل مکسور لاؤ جیسے تَكۡتُبُ -سے أُكۡتُبۡ اور تَفۡتَحُ وتَضْرِبُ سے اِفتَحۡ و اِضْرِبْ ۔

(۴) حرف آخر کو ساکن کردو اور اگر کوئی حرف علت ہو تو بالکل ہی حذف کر دو جیسے تَدْعُوۡ سے اُدۡعُ اور تَخۡشٰى سے اِخْشَ اور تَرۡمِیۡ سے اِرۡمِ

(۵) دونوں تثنیه اور جمع مذکر اور واحد مونث حاضر سے نون اعرابی گرادو۔

۲۔ امر معروف اور امر متکلم کے صیغے بھی آئے ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ امر حاضر کے قاعدہ سے کچھ مختلف ہے اور وہ یہ ہے کہ :

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لام امر بڑھاؤ اور آخری حرف کو ساکن کردو۔

(۲) امر حاضر کی طرح امر غائب سے بھی نون اعرابی (تثنیه و جمع مذکر کانون) گرادو.

(۳) اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے حذف کر دو۔

ذیل میں امر کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر یہ یاد رکھو کہ امر حقیقی امر حاضر ہی کو کہتے ہیں)

لِيَكۡتُبۡ ،

لِيَكۡتُبَا ،

ليَكۡتُبُوۡا ،

لِتَكۡتُبۡ ،

لِتَكۡتُبَا،

لِتَکۡتُبۡنَ

أُكْتُبۡ ،

أُكتُبَا،

اُكْتُبُوا،

اُكۡتُبِيۡ ،

اُكۡتُبَا،

أُكۡتُبۡنَ

لِاَكۡتُبۡ،

لِنَكْتُبْ۔

نوٹ : علامت مضارع حذف کرنے کے بعد اگر پہلا حرف ساکن نہ رہے تو ہمزہ ٔوصل بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے جیسے یَدَعُ سے دَعْ، يُعَلِّمُ سے عَلِّمۡ ، يَتَعَلَّمُ سے تَعَلَّمۡ ، يَتَقَبَّلُ سے تَقَبَّلۡ

(۲) باب افعال میں همزه قطعی(اصلی) ہوتا ہے اس لئے اس کے امر میں تم ھمزہ کو مفتوح دیکھو گے جیسے أحسِن، أکرِم وغیرہ۔

(فعل نهی)

فعل نہی جو امر ہی کی ایک قسم ہے اور جس میں کسی کام سے باز رہنے کا حکم دیا جاتا ہے یہ بھی فعل مضارع سے بنایا جاتا ہے۔

اس کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے:

(۱) علامت مضارع کو باقی رکھتے ہوئے شروع میں لائے نہی بڑھا دو اور حرف آخر کو ساکن کر دو۔

(۲) امر کی طرح نہی میں بھی تثنیہ و جمع مذکر اور واحد مؤنث حاضر سے نون اعرابی حذف کر دیا جاتا ہے۔

(۳) اور اسی طرح آخر میں اگر کوئی حرف علت ہو تو اسے بھی گرادیا جاتا ہے۔ جیسے لا تَدْعُ, لَا تَخۡشَ

ذیل میں فعل نہی کی پوری گردان لکھی جاتی ہے مگر امر ہی کی طرح نہیں حقیقی کے بھی حاضر کے چھ صیغے اصلی ہیں۔

لَا يَكتُبۡ

لَا يَكتُبَا

لَا يَكتُبُوا

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا يَكتُبۡنَ

لَا تَكتُبۡ

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبُوا

لَا تَكتُبِي

لَا تَكتُبَا

لَا تَكتُبۡنَ

لَا اَکۡتُبۡ

لَانَکتُبۡ

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح(جلد:۱) سبق:۳

الْفِعْلُ الْمَاضِي هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْمَاضِي.

فعل ماضی: ہر وہ فعل جو بتائے کہ کام گزرے ہوئے زمانہ میں ہو چکا ہے وہ فعل ماضی ہے۔

الامثلة :

جَرَى الكلبُ

وَقَفَ الرجلُ

ضَاعَ الكتابُ

دَقَّتِ الساعةُ

جَاءَتِ البنتُ

اقرأ البقية (10)

بَاضَتِ الدَّجَاجَةُ

الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يَدُلُّ عَلَى حُصُولِ عَمَلٍ فِي الزَّمَنِ الْحَاضِرِ أَوِ الْمُسْتَقْبَلِ وَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ مَبْدُوءًا بِحَرْفٍ مِنْ أَحْرُفِ الْمُضَارَعَةِ وَهِيَ الْهَمْزَةُ وَالنُّونُ وَالْيَاءُ وَالتَّاءُ.

فعل مضارع : وہ فعل ہے جو ہمیں بتائے کہ کام زمانہ حال میں ہو رہا ہے یا آنے والے وقت میں ہوگا اور یہ ضروری ہے کہ اس کے شروع میں حروف مضارع میں سے کوئی ایک حرف آیا ہو ، یہ حروف ہمزہ ،نون، یاء اور تاء ہیں۔

الامثلة:

  1. أَغْسِلُ يَدَيَّ.
  2. أَلْبَسُ ثِيَابِي.
  3. نَمْشِي فِي الْحُقُولِ.
  4. نَلْعَبُ بِالْكُرَةِ.
  5. يَنْبَحُ الْكَلْبُ.
  6. يَنْتَبِهُ الْحَارِسُ.
  7. تَأْكُلُ الْبِنْتُ.
  8. تَذْبُلُ الْوَرْدَةُ.

فِعْلُ الْأَمْرِ هُوَ كُلُّ فِعْلٍ يُطْلَبُ بِهِ حُصُولُ شَيْءٍ فِي الزَّمَنِ الْمُسْتَقْبَلِ.

فعل امر : وہ فعل ہے جس کے ذریعے آئندہ زمانے میں کسی کام کو انجام دینے کا مطالبہ کیا گیا ہو۔

الامثلة :

  1. الْعَبْ بِالْكُرَةِ.
  2. أَطْعِمْ قِطَّكَ.
  3. نَظِّفْ ثِيَابَكَ.
  4. نَمْ مُبَكِّرًا.
  5. تَمَهَّلْ فِي السَّيْرِ.
  6. أَجِدْ مَضْغَ الطَّعَامِ.