گرامر

علم صرف

تانیث کا بیان

1 تانیث (مؤنث) کا بیان

(کتاب الصرف : سبق ۶۹)

مؤنث وہ اسم ہے جس میں تانیث کی علامت ہو علامتیں تین ہیں۔

۱۔ۃ : یہ علامت تانیث کی ہے،اسمائے جامد اور صفات دونوں کے ساتھ آتی ہے اور قیاسًا ہر صفت کے آخر میں تانیث کےلئے لگائی جاتی ہے جیسے إِمْرَءٌ سے امرآۃٌ،قَاتِلٌ سے قَاتِلَۃٌ۔

۲۔الف مقصورہ:افعل التفضیل کا مؤنث فُعْلٰی اس کے لگانے سے بنتا ہے جیسے اَحْسَنُ (نیک مرد)حُسنٰی(نیک عورت)

۳۔الف ممدودہ:افعل کا مؤنث فَعلَاءُ بنانے کے واسطے یہ علامت ہمیشہ لگائی جاتی ہے جیسے ابیضُ (گورے رنگ کا آدمی)سے بَیْضَاءُ (گورے رنگ کی علامت)

مؤنث کی دوقسمیں ہیں۔ایک حقیقی دوسری لفظی۔

حقیقی:وہ ہے جس کے مقابلے میں نر جاندار جیسے إِمْرَأَۃٌ (عورت)کہ اس کے مقابلے میں إِمْرَءٌ(مرد ہے)

لفظی:وہ ہے جو حقیقی کے خلاف ہو کبھی اس میں علامت تانیث لفظوں میں ظاہر ہوتی ہے جیسے ظُلْمَۃٌ(اندھیرا)بُشْرٰی(خوشخبری)صَحْرَاءُجنگل اور کبھی لفظوں میں ظاہر نہیں ہوتی بلکہ مقدر ہوتی ہے جیسے اَرْضٌ(زمین)دارٌ(گھر)پہلی قسم کو مؤنث قیاسی اور دوسری کو مؤنث سماعی کہتے ہیں۔

مؤنث سماعی شناخت کے واسطے کوئی قاعدہ کلیہ نہیں۔صرف سماع و تتبع محاورات پر منحصر ہے،اس جگہ صرف چند الفاظ جو قاعدہ کلیہ کے تحت میں آسکتے ہیں درج کئے جاتے ہیں۔

اول:وہ الفاظ جو عمومًا مؤنث مستعمل ہوتے ہیں۔

الف:بدن کے تمام جفت اعضاء جیسے اذنٌ (کان)عَیْنٌ(آنکھ)وغیرہ صرف حاجب(ابرو)خَدٌّ(رخسار)اس قاعدے سے مستثنٰی ہیں۔

ب۔شراب کے تمام نام جیسے خمْرٌ،خرطُومٌ طِلاءٌ وغیرہ۔

ج۔ہواکے تمام نام جیسے رِیْحٌ صَرصَرٌ وغیرہ

د۔دوزخ کے کل نام جیسے جھنم،سقروغیرہ

ہ۔تمام جمعیں سوائے جمع مذکر سالم کے

دوم۔وہ الفاظ جن میں تذکیر و تانیث دونوں جائز ہیں۔

الف ۔شہروں کے تمام نام بتاویل موضع کے مذکر اوربتاویل بقعۃ کے مؤنث ہوتے ہیں۔

ب۔حرف تہجی مثلًا الف،ب،ت، وغیرہ اور حرف عامل مثلًا مِنْ وإِلٰی وغیرہ۔

ج،اسم جمع مثلًا رَکْبٌ(اسم جمع راکبٌ)عُبَیْدٌ(اسم جمع عَبْدٌ لیکن إِبِلٌ خَیْلٌ، غَنَمٌ )خلاف قاعدہ واجب التانیث ہیں

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

2 مشقی سوالات

اس سبق سے بے ترتیب دس سوالات۔ جواب دیں، فوراً نتیجہ دیکھیں اور نئے سوالات کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔

87 سوالات اس سبق میں