نقشہ
- معرب و مبنی کے اعتبار سے
- معرب اسماء
- مرفوع اسماء
- منصوب اسماء
- مجرور اسماء
- معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں
- مبنی اسماء
1 قاعدہ
معرب اسماء
وہ اسماء ہیں جو حالت کے اعتبار سے اپنے آخر میں تبدیلی لاتے ہیں یعنی وہ حالت رفع، نصب یا جر کے مطابق مختلف اعراب قبول کرتے ہیں۔ ان کی تین بنیادی حالتیں ہیں:
۱۔ اسماء مرفوعہ:
وہ اسماء جو حالت رفع میں ہوں اور ان کے آخر میں "ضمہ" (پیش) ہوتا ہے۔
۱۔ فاعل:
مثال: "كتبَ الطالبُ الدرسَ" (طالب علم نے سبق لکھا)۔
۲۔ نائب فاعل:
مثال: "كُتبَ الدرسُ" (سبق لکھا گیا)۔
۳۔ مبتدا:
مثال: "الولدُ مجتهدٌ" (لڑکا محنتی ہے)۔
۴۔ خبر:
مثال: "السماءُ صافيةٌ" (آسمان صاف ہے)۔
۵۔ حروف مشبہ بالفعل کی خبر (إنَّ اور اس کے اخوات):
مثال: "إنَّ اللهَ غفورٌ" (بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے)۔
۶۔ افعال ناقصہ کا اسم (كان اور اس کے اخوات):
مثال: "كان الرجلُ واقفًا" (آدمی کھڑا تھا)۔
۷۔ حروف مشابہ بلیس (اِنۡ، ما، لا، لات):
مثال: "ما هذا بشرا" (یہ انسان نہیں ہے)۔
۸۔ لائے نفی للجنس کی خبر:
مثال: "لا رجلَ في البيتِ" (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)۔
۲۔ اسماء منصوبہ:
وہ اسماء جو حالت نصب میں ہوں اور ان کے آخر میں "فتحہ" (زبر) ہوتا ہے۔
۱۔ مفعول بہ:
مثال: "أكلتُ التفاحةَ" (میں نے سیب کھایا)۔
۲۔ مفعول مطلق:
مثال: "ضربتُ ضربًا شديدًا" (میں نے سخت مارا)۔
۳۔ مفعول فیہ:
مثال: "سافرتُ يومَ الجمعةِ" (میں جمعہ کے دن سفر کیا)۔
۴۔ مفعول لہ:
مثال: "أدرسُ رغبةً في النجاحِ" (میں کامیابی کی خواہش میں پڑھتا ہوں)۔
۵۔ مفعول معہ:
مثال: "سرتُ والنهرَ" (میں اور نہر ساتھ چلتے رہے)۔
۶۔ حال:
مثال: "جاء الرجلُ ضاحكًا" (آدمی ہنستے ہوئے آیا)۔
۷۔ تمیز:
مثال: "اشتريتُ عشرين كتابًا" (میں نے بیس کتابیں خریدیں)۔
۸۔ مستثنی:
مثال: "حضر الطلابُ إلا محمدًا" (طلباء حاضر ہوئے سوائے محمد کے)۔
۹۔ حروف مشبہ بالفعل کا اسم:
مثال: "إنَّ اللهَ غفورٌ" (بے شک اللہ معاف کرنے والا ہے)۔
۱۰۔ افعال ناقصہ کی خبر:
مثال: "كان الرجلُ واقفًا" (آدمی کھڑا تھا)۔
۱۱۔ ما و لا المشبھتان بلیس کی خبر:
مثال: "ما محمدٌ كاذبًا" (محمد جھوٹا نہیں ہے)۔
۱۲۔ لائے نفی للجنس کا اسم:
مثال: "لا رجلَ في البيتِ" (گھر میں کوئی آدمی نہیں ہے)۔
۱۳۔ منادی:
مثال: یَا صلاحَ الدّینِ ( اے صلاح الدین)
۳۔ اسماء مجرورہ:
وہ اسماء جو حالت جر میں ہوں اور ان کے آخر میں "کسرہ" (زیر) ہوتا ہے۔
۱۔ حرف جر:
مثال: "ذهبتُ إلى المدرسةِ" (میں اسکول گیا)۔
۲۔ اضافت:
مثال: "كتابُ الطالبِ" (طالب علم کی کتاب)۔
- معرب اسماء کی چند اور فروعی قسمیں درج ذیل ہیں۔
اسماء خمسۃ:
وہ پانچ اسماء جو مخصوص حالت میں آتے ہیں اور ان کے اعراب رفع میں "واو"، نصب میں "الف" اور جر میں "یا" کے ساتھ ہوتا ہے۔
(أبٌ ، أخٌ ، حمٌ ، فمٌ ، ذُو)
مثال:
۱۔ "جاء أبوكَ" (تمہارا والد آیا)۔
۲۔ "رأيتُ أخاكَ" (میں نے تمہارے بھائی کو دیکھا)۔
۳۔ "مررتُ بحماكِ" (میں تمہارے سسر کے پاس سے گزرا)۔
ممنوع من الصرف:
وہ اسماء جو دو اعراب (رفع اور نصب) تک محدود ہوتے ہیں اور حالت جر میں "کسرہ" نہیں بلکہ "فتحہ" لیتے ہیں۔
۱۔ علم جو ممنوع من الصرف ہو:
مثال: "مررتُ بعمرَ" (میں عمر کے پاس سے گزرا)۔
۲۔ صفت جو ممنوع من الصرف ہو:
مثال: "هذا رجلٌ أحسنُ" (یہ ایک بہترین آدمی ہے)۔
۳۔ منتھی الجموع اور الف تانیث کے صیغہ سے ممنوع من الصرف:
مثال: "زرتُ مساجدَ كثيرةً" (میں نے بہت سی مساجد کی زیارت کی)۔
صیغے جو فعل کی طرح عمل کرتے ہیں:
وہ اسماء جو اسم ہوتے ہوئے فعل کی طرح عمل کرتے ہیں، جیسے "اسم فاعل"، "اسم مفعول" وغیرہ۔ یہ اپنے مفعول پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
۱۔ اسم فاعل:
مثال: "الكاتبُ الرسالةَ" (لکھنے والا خط لکھتا ہے)۔
۲۔ اسم مفعول:
مثال: "المكتوبُ الرسالةَ" (لکھا گیا خط)۔
۳۔ صفت مشبہ:
مثال: "الرجلُ حَسَنُ الوجهِ" (آدمی خوش شکل ہے)۔
۴۔ اسم تفضیل:
مثال: "محمدٌ أكبرُ من علي" (محمد علی سے بڑا ہے)۔
۵۔ اسم مبالغہ:
مثال: "الرجلُ غَفَّارٌ" (آدمی بہت معاف کرنے والا ہے)۔
۶۔ مصدر:
مثال: "مَعاذَ اللّہ" (اللہ کی پناہ)۔
توابع:
وہ اسماء جو دوسرے اسماء کے تابع ہوتے ہیں اور ان کے اعراب کی پیروی کرتے ہیں۔ ان میں نعت( صفت)، عطف بیان، بدل اور توکید شامل ہیں۔
۱۔ نعت ( صفت):
مثال: "الولدُ الصالحُ" (نیک لڑکا)۔
۲۔ توکید:
مثال: "جاءَ الرجلُ نفسُهُ" (آدمی خود آیا)۔
۳۔ بدل:
مثال: "رأيتُ القائدَ زيدًا" (میں نے قائد زید کو دیکھا)۔
۴۔ عطف:
مثال: "جاءَ محمدٌ وعليٌ" (محمد اور علی آئے)۔
یہ معرب اسماء مختلف مقامات پر مختلف حالتوں میں آتے ہیں اور ہر حالت کے مطابق ان کے آخر میں تبدیلی ہوتی ہے۔
معرب اسماء دیگر کتب میں1
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱
معرب اسماء کو ہم مرفوع، منصوب یا مجرور کہتے ہیں، مبنی اسماء کو فِي مَحَلِّ رَفْعِ“ ، فِي مَحَل نَصَبٍ“، فِي مَحَل جَرِّ » کہیں گے، اس لئے کہ اسم مبنی مرفوع منصوب یا مجرور نہیں ہو سکتا، ہاں وہ رفع ، یا نصب، یاجر کے مقام پرضرور واقع ہوتا ہے، اگر اسم مبنی کی جگہ اسم معرب رکھ دیا جائے تو وہ مرفوع منصوب یا مجرور ہوگا، جیسے: رَأَيْتُ بِلالا میں بلالا منصوب ہے اس لئے کہ وہ مفعول بہ ہے، لیکن رَأَيْتُ هذا میں اسم هذا نصب کے مقام پر (فــي مـحـل نصب) ہے، اس لئے کہ وہ اسم منصوب بلالا کی جگہ واقع ہے۔
مرفوع اسماء
مندرجہ ذیل حالتوں میں اسم مرفوع ہوگا:
۱۔۲۔ مبتدا اور خبر ہو، جیسے: الله اكبر. اللہ سب سے بڑا ہے۔
۳- کان کا اسم ہو ، جیسے: كَانَ الْبَابُ مَفْتُوْحًا. دروازہ کھلا تھا۔
۴- إنَّ کی خبر ہو، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ یقینا اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔
۵- فاعل ہو، جیسے: خلقنا الله ہمیں اللہ تعالی نے پیدا کیا۔
باقی عبارت پڑھیں (49)
۶- نائب فاعل ہو، جیسے: خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ طِيْنِ. انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔
منصوب اسماء
ا۔ إِنَّ کا اسم ہو، جیسے:إِنَّ الْعِلْمَ نَافِعٌ. بے شک علم فائدہ مند ہے۔
۲-گان کی خبر ہو، جیسے:كَانَ الطَّعَامُ لَذِيْدًا. کھانا ذائقہ دار تھا۔
۳۔ مفعول بہ ہو، جیسے:فَهِمْتُ الدَّرْسَ. میں سبق سمجھ گیا۔
۴ مفعول فیہ ہو، جیسے: سَافَرَ أَبِي لَيْلا. میرے والد نے رات کو سفر کیا۔
۵ - مفعول له ہو، جیسے: مَاخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ خَوْفًا مِّنَ الْحَرِّ گرمی کے اندیشہ سے میں گھر سے باہر نہیں نکلا۔
۶۔ مفعول معه ہو، جیسے: سِرْتُ وَالْجَبَلَ. میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چلا۔ ،ذَهَبْتُ وَخَالِدًا إِلَى السُّوْقِ. میں خالد کے ساتھ بازار گیا۔
۷۔ مفعول مطلق ہو، جیسے: اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا۔ اللہ تعالی کا خوب کثرت سے ذکر کیا کرو۔
۸- حال ہو، جیسے: جَدِّيْ يُصَلِّي قَاعِدًا. میرے دادا بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔
۹- تمیز ہو، جیسے: أَنَا أَحْسَنُ مِنْكَ خَطًا. میں خوش نویسی کے پہلو سے تم سے بہتر ہوں۔
۱۰۔ مستثنی ہو، جیسے: حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا مُحَمَّدًا. محمد کے علاوہ سارے طلبہ حاضر ہوئے۔
۱۱:-منادی ہو، جیسے: يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اے عبد الله
توابع
عربی قواعد میں چار عناصر ایسے ہیں جن کا اپنا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں پر منحصر اور ان کے تابع ہوتے ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔ نعت (صفت) یہ اعراب میں اپنے منعوت (موصوف) کے تابع ہوتی ہے، منعوت ( موصوف ) اس اسم کو کہتے ہیں جس میں وہ صفت پائی جائے، جیسے:
أَحَضَرَ الطَّالِبُ الْجَدِيدُ؟ کیا نیا طالب علم حاضر ہوا؟
يَطْلُبُ الْمَدِيرُ الطَّالِبَ الْجَدِيدَ. ہیڈ ماسٹر نئے طالب علم کو طلب کر رہے ہیں۔
هذَا دَفَتَرُ الطَّالِب الْجَدِيد. یہ نئے طالب علم کی کاپی ہے۔
ان مثالوں میں نعت الجدید اپنے منعوت الطالب کے اعراب کے تابع ہے، چنانچہ اگر وہ مرفوع ہے تو نعت بھی مرفوع ہے اور اگر وہ منصوب ہے تو نعت بھی منصوب ہے اور اگر وہ مجرور ہے تو نعت بھی مجرور ہے۔
۲ - توكيد، وہ اسم جو کلام میں تاکید یا زور پیدا کر دیتا ہے، جیسے: كُلُّهُمْ (وہ سب کے سب)،
نَفْسُه (وہی، وہ خود ) ، مثال کے طور پر:
حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ. سارے طلبہ حاضر ہوئے۔
سَأَلْتُ الطُّلابَ كُلُّهُمْ. میں نے سارے طلبہ سے دریافت کیا۔
سَلّمْتُ عَلَى الطَُلابِ كُلِّهِمْ. میں نے سارے طلبہ کو سلام کیا۔
قَالَ لِي الْمَدِيْرُ نَفْسُهُ. مجھ سے خود ہیڈ ماسٹر نے کہا۔
سَأَلْتُ الْمَدِيرَ نَفْسَهُ میں نے ہیڈ ماسٹر ہی سے دریافت کیا۔
سلَمْتُ عَلَى الْمَدِير نَفْسِهِ. میں نے ہیڈ ماسٹر ہی کو سلام کیا۔
یہاں تو کید (كُلّ ، نَفس)مؤکد (المدير ، الطلاب) کے تابع ہے، مؤکد اس اسم کو کہتے ہیں جس کی تاکید کی جائے، جیسے: سابقہ مثالوں پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اگر الطلاب مرفوع ہے تو کل بھی مرفوع ہے اور اگر الطلاب منصوب ہے تو کُل بھی منصوب ہے اور اگر الطلاب مجرور ہے تو کل بھی مجرور ہے، یہی حال نـفـس (تو کید) اور المدير (مؤکد) کا ہے۔
۳۔ معطوف، وہ اسم جو کسی حرف عطف جیسے : واو وغیرہ کے ذریعہ دوسرے پر عطف کیا جائے، جیسے:
خَرَجَ حَامِدٌ وَصَدِيقُهُ. حامد اور اس کا دوست نکلے ۔
طَلَبَ الْمُدِيرُ حَامِدًا وَصَدِيقَهُ. ہیڈ ماسٹر نے حامد اور اس کے دوست کو طلب کیا۔
أَيْنَ كُتُبُ حَامِدٍ وَصَدِيقِهِ؟ حامد اور اس کے دوست کی کتابیں کہاں ہیں؟
ان مثالوں میں صدیقه معطوف ہے، یعنی حامد پر عطف ہے، اسی لئے جو اعراب حامد کا ہے وہی صدیقہ کا بھی ہے، اگر حامد مرفوع ہے تو صدیقہ بھی مرفوع ہے، اگر حامد منصوب ہے تو صدیقہ بھی منصوب ہے اور اگر حامد مجرور ہے تو صدیقہ بھی مجرور ہے۔
۴۔ بدل، وہ اسم جو کسی دوسرے اسم کے بدلے آئے ، جیسے:
أَنَجَحَ أَخُوْكَ هَاشِمٌ؟ کیا تمہارا بھائی ہاشم کامیاب ہو گیا ؟
أَعْرِفُ أَخَاكَ هَاشِمًا. میں تمہارے بھائی ہاشم سے واقف ہوں۔
أَيْنَ غُرْفَةُ أَخِيْكَ هَاشِمٍ؟ تمہارے بھائی ہاشم کا کمرہ کہاں ہے؟
أَنَجَحَ هذَا الطَّالِبُ؟ کیا یہ طالب علم کامیاب ہو گیا ؟
أَعْرِفُ هَذَا الطَّالِبَ. میں اس طالب علم کو جانتا ہوں۔
أَيْنَ غُرْفَة هَذَا الطَّالِب؟ اس طالب علم کا کمرہ کہاں ہے؟
یہاں اخوک (تمہارا بھائی) اور هاشم (ہاشم) دونوں ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب اخوک کا ہے
وہی هاشم کا ہے، اسی طرح هذا (یہ) اور الطالب ( ایک طالب علم) ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب هذا کا ہے وہی الطالب کا ہے۔
2 دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد: ۳) سبق:۱
معرب اسماء کو ہم مرفوع، منصوب یا مجرور کہتے ہیں، مبنی اسماء کو فِي مَحَلِّ رَفْعِ“ ، فِي مَحَل نَصَبٍ“، فِي مَحَل جَرِّ » کہیں گے، اس لئے کہ اسم مبنی مرفوع منصوب یا مجرور نہیں ہو سکتا، ہاں وہ رفع ، یا نصب، یاجر کے مقام پرضرور واقع ہوتا ہے، اگر اسم مبنی کی جگہ اسم معرب رکھ دیا جائے تو وہ مرفوع منصوب یا مجرور ہوگا، جیسے: رَأَيْتُ بِلالا میں بلالا منصوب ہے اس لئے کہ وہ مفعول بہ ہے، لیکن رَأَيْتُ هذا میں اسم هذا نصب کے مقام پر (فــي مـحـل نصب) ہے، اس لئے کہ وہ اسم منصوب بلالا کی جگہ واقع ہے۔
مرفوع اسماء
مندرجہ ذیل حالتوں میں اسم مرفوع ہوگا:
۱۔۲۔ مبتدا اور خبر ہو، جیسے: الله اكبر. اللہ سب سے بڑا ہے۔
۳- کان کا اسم ہو ، جیسے: كَانَ الْبَابُ مَفْتُوْحًا. دروازہ کھلا تھا۔
۴- إنَّ کی خبر ہو، جیسے: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ یقینا اللہ تعالی بہت بخشنے والا ہے۔
۵- فاعل ہو، جیسے: خلقنا الله ہمیں اللہ تعالی نے پیدا کیا۔
۶- نائب فاعل ہو، جیسے: خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ طِيْنِ. انسان مٹی سے پیدا کیا گیا۔
منصوب اسماء
ا۔ إِنَّ کا اسم ہو، جیسے:إِنَّ الْعِلْمَ نَافِعٌ. بے شک علم فائدہ مند ہے۔
۲-گان کی خبر ہو، جیسے:كَانَ الطَّعَامُ لَذِيْدًا. کھانا ذائقہ دار تھا۔
۳۔ مفعول بہ ہو، جیسے:فَهِمْتُ الدَّرْسَ. میں سبق سمجھ گیا۔
۴ مفعول فیہ ہو، جیسے: سَافَرَ أَبِي لَيْلا. میرے والد نے رات کو سفر کیا۔
۵ - مفعول له ہو، جیسے: مَاخَرَجْتُ مِنَ الْبَيْتِ خَوْفًا مِّنَ الْحَرِّ گرمی کے اندیشہ سے میں گھر سے باہر نہیں نکلا۔
۶۔ مفعول معه ہو، جیسے: سِرْتُ وَالْجَبَلَ. میں پہاڑ کے ساتھ ساتھ چلا۔ ،ذَهَبْتُ وَخَالِدًا إِلَى السُّوْقِ. میں خالد کے ساتھ بازار گیا۔
۷۔ مفعول مطلق ہو، جیسے: اذْكُرُوا اللهَ ذِكْرًا كَثِيرًا۔ اللہ تعالی کا خوب کثرت سے ذکر کیا کرو۔
۸- حال ہو، جیسے: جَدِّيْ يُصَلِّي قَاعِدًا. میرے دادا بیٹھ کر نماز ادا کرتے ہیں۔
۹- تمیز ہو، جیسے: أَنَا أَحْسَنُ مِنْكَ خَطًا. میں خوش نویسی کے پہلو سے تم سے بہتر ہوں۔
۱۰۔ مستثنی ہو، جیسے: حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا مُحَمَّدًا. محمد کے علاوہ سارے طلبہ حاضر ہوئے۔
۱۱:-منادی ہو، جیسے: يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اے عبد الله
توابع
عربی قواعد میں چار عناصر ایسے ہیں جن کا اپنا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ دوسروں پر منحصر اور ان کے تابع ہوتے ہیں، وہ یہ ہیں:
۱۔ نعت (صفت) یہ اعراب میں اپنے منعوت (موصوف) کے تابع ہوتی ہے، منعوت ( موصوف ) اس اسم کو کہتے ہیں جس میں وہ صفت پائی جائے، جیسے:
أَحَضَرَ الطَّالِبُ الْجَدِيدُ؟ کیا نیا طالب علم حاضر ہوا؟
يَطْلُبُ الْمَدِيرُ الطَّالِبَ الْجَدِيدَ. ہیڈ ماسٹر نئے طالب علم کو طلب کر رہے ہیں۔
هذَا دَفَتَرُ الطَّالِب الْجَدِيد. یہ نئے طالب علم کی کاپی ہے۔
ان مثالوں میں نعت الجدید اپنے منعوت الطالب کے اعراب کے تابع ہے، چنانچہ اگر وہ مرفوع ہے تو نعت بھی مرفوع ہے اور اگر وہ منصوب ہے تو نعت بھی منصوب ہے اور اگر وہ مجرور ہے تو نعت بھی مجرور ہے۔
۲ - توكيد، وہ اسم جو کلام میں تاکید یا زور پیدا کر دیتا ہے، جیسے: كُلُّهُمْ (وہ سب کے سب)،
نَفْسُه (وہی، وہ خود ) ، مثال کے طور پر:
حَضَرَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ. سارے طلبہ حاضر ہوئے۔
سَأَلْتُ الطُّلابَ كُلُّهُمْ. میں نے سارے طلبہ سے دریافت کیا۔
سَلّمْتُ عَلَى الطَُلابِ كُلِّهِمْ. میں نے سارے طلبہ کو سلام کیا۔
قَالَ لِي الْمَدِيْرُ نَفْسُهُ. مجھ سے خود ہیڈ ماسٹر نے کہا۔
سَأَلْتُ الْمَدِيرَ نَفْسَهُ میں نے ہیڈ ماسٹر ہی سے دریافت کیا۔
سلَمْتُ عَلَى الْمَدِير نَفْسِهِ. میں نے ہیڈ ماسٹر ہی کو سلام کیا۔
یہاں تو کید (كُلّ ، نَفس)مؤکد (المدير ، الطلاب) کے تابع ہے، مؤکد اس اسم کو کہتے ہیں جس کی تاکید کی جائے، جیسے: سابقہ مثالوں پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اگر الطلاب مرفوع ہے تو کل بھی مرفوع ہے اور اگر الطلاب منصوب ہے تو کُل بھی منصوب ہے اور اگر الطلاب مجرور ہے تو کل بھی مجرور ہے، یہی حال نـفـس (تو کید) اور المدير (مؤکد) کا ہے۔
۳۔ معطوف، وہ اسم جو کسی حرف عطف جیسے : واو وغیرہ کے ذریعہ دوسرے پر عطف کیا جائے، جیسے:
خَرَجَ حَامِدٌ وَصَدِيقُهُ. حامد اور اس کا دوست نکلے ۔
طَلَبَ الْمُدِيرُ حَامِدًا وَصَدِيقَهُ. ہیڈ ماسٹر نے حامد اور اس کے دوست کو طلب کیا۔
أَيْنَ كُتُبُ حَامِدٍ وَصَدِيقِهِ؟ حامد اور اس کے دوست کی کتابیں کہاں ہیں؟
ان مثالوں میں صدیقه معطوف ہے، یعنی حامد پر عطف ہے، اسی لئے جو اعراب حامد کا ہے وہی صدیقہ کا بھی ہے، اگر حامد مرفوع ہے تو صدیقہ بھی مرفوع ہے، اگر حامد منصوب ہے تو صدیقہ بھی منصوب ہے اور اگر حامد مجرور ہے تو صدیقہ بھی مجرور ہے۔
۴۔ بدل، وہ اسم جو کسی دوسرے اسم کے بدلے آئے ، جیسے:
أَنَجَحَ أَخُوْكَ هَاشِمٌ؟ کیا تمہارا بھائی ہاشم کامیاب ہو گیا ؟
أَعْرِفُ أَخَاكَ هَاشِمًا. میں تمہارے بھائی ہاشم سے واقف ہوں۔
أَيْنَ غُرْفَةُ أَخِيْكَ هَاشِمٍ؟ تمہارے بھائی ہاشم کا کمرہ کہاں ہے؟
أَنَجَحَ هذَا الطَّالِبُ؟ کیا یہ طالب علم کامیاب ہو گیا ؟
أَعْرِفُ هَذَا الطَّالِبَ. میں اس طالب علم کو جانتا ہوں۔
أَيْنَ غُرْفَة هَذَا الطَّالِب؟ اس طالب علم کا کمرہ کہاں ہے؟
یہاں اخوک (تمہارا بھائی) اور هاشم (ہاشم) دونوں ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب اخوک کا ہے
وہی هاشم کا ہے، اسی طرح هذا (یہ) اور الطالب ( ایک طالب علم) ایک ہیں، اسی لئے جو اعراب هذا کا ہے وہی الطالب کا ہے۔