کتاب الصرف
کتاب الصرف (سبق ۲۸)
عربی کے بعض کلمات میں کبھی حرف علت ہوتا ہے اور کبھی ہمزہ اور کبھی ایک جنس کے دوحرف اور کبھی ان تینوں میں سے ایک بھی نہیں ہوتا۔
پس اس اعتبار سے اسماء وافعال کی ایک اورتقسیم ہے مثلًا جس کلمے میں حرف علت ہو اسکو معتل اورجس میں ہمزہ ہو اسکو مہموز اور جس میں دو حرف ہم جنس ہوں اسکو مضاعف کہتے ہیں اور جس میں اس میں سے کوئی حرف نہ ہو اس کو صحیح کہتے ہیں۔
صحیح : وہ کلمہ ہے جس حرف اصلی میں ہمزہ حرف علت اور حرف ہم جنس نہ ہوں جیسے ضَرَبَ وَ بَعْثَرَ،رَجُلٌ وَ جَعْفَرَ۔
مہموز : وہ کلمہ ہے جس کے حرف اصلی میں ہمزہ ہو ف کلمہ کی جگہ ہمزہ ہو تو مہموز الفاء کہلائے گا جیسے اَمَرَ،إِبِلٌ ع کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز العین جیسے سَاَلَ رأسٌ ل کلمہ کی جگہ ہوتو مہموز اللام جیسے قرأ،جزء۔
مضاعف: وہ کلمہ ہے جس میں دو حرف ایک جنس کےہوں اور اگر عین اور لام ایک جنس کے ہوں تو مضاعف ثلاثی کہلائے گا جیسے مَدَّ سَبَّ اگر ف ولام اول اور ع ولام ثانی ایک جنس کے ہوں تو مضارع رباعی جیسے زلزلۃ
معتل: وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلی میں حرف علت ہو اسکی تین قسمیں ہیں
۱۔معتل الفاء:جس کا ف کلمہ حرف علت ہو جیسے وَعَدَ،وَرَدٌ اسکو مثال کہتے ہیں۔
۲۔معتل العین:جس کا ع کلمہ حرف علت ہو جیسے قال،لیلٌ اسکو اجوف کہتے ہیں۔
باقی عبارت پڑھیں (4)
۳۔معتل اللام: جس کا لام کلمہ حرف علت ہو جیسے (رأیٰ،ظبیٌ)اسکو ناقص کہتے ہیں
اگر کلمے میں دو حرف علت ہوں تو اسکو معتل بدو حرف اور لفیف کہتے ہیں اور اسکی دو قسمیں ہیں
۱۔ لفیف مفروق جس میں دو حرف علت منفصل ہوں جیسے ولی، وحی۔
۲۔لفیف مقرون جس میں دو حرف علت متصل ہوں جیسے طوی، یوم