All topics

معین وغیر معین کے اعتبار سے

معرفہ کی قسمیں دیگر کتب میں

2 passages

معلم الانشاء

معلم الانشاء(جلد ۱ ) سبق:۲

(۱) علم: افراد و اشخاص اور شہر وغیرہ کے خصوصی نام مخصوص طریقہ پر رکھے جاتے ہیں:

خَالِدٌ، مَحْمُودٌ، دھلیٌ، مَكَةُ، الْمَدِينَةُ، مِصْرُ، الْعِرَاقُ وغيره

(۲) معرف باللام: یعنی ہر وہ اسم جو’’ ال“ کے ذریعے معرفہ بنایا لیا گیا ہو جیسے: البیتُ، الْكِتَابُ الْوَلَدُ، الرَّسُولُ وغيره۔

’’ال‘‘ کو حرف تعریف کہا جاتا ہے ( یعنی معرفہ بنانے والا حرف ) جب کسی نکرہ کو معرفہ بنانا مقصود ہو تو اس پر ’’ال‘‘ داخل کر کے معرفہ بنا لیتے ہیں۔ رَجُلٌ سے الرَّجُلُ اور ولدسے الولد وغیرہ۔

جس لفظ پر ال داخل ہو تو اس پر تنوین نہیں آتی "علم" یعنی ناموں پر "ال" داخل نہیں ہوتا ہاں البتہ جن ناموں پر شروع ہی سے الف لام ہو وہ باقی رہے گا جیسے المدينة اور العراق، اور البصرۃ پر شروع سے داخل ہے۔

(۳) اسم ضمیر؛ جیسے هُوَ هُمَا هُمْ، أَنْتَ، أنا، نَحْنُ،وغيره

(۴) اسم اشاره : هذا، ھذہ(يہ)، ذلِكَ، تِلكَ (وه)، هؤلاء (يہ سب)، أولئك (وه سب)

(۵) اسم موصول : جیسے الَّذِى الَّتی جو الَّذِينَ الَّاتِي ( جو جمع) ہے۔

(۶) منادی: جیسے يَارَجُلُ، يَا ولد غيره

(۷) مضاف الى المعرفہ: یعنی ہر وہ اسم جو معرفہ کی پچھلی پانچ قسموں میں کسی ایک قسم کی طرف مضاف ہو جیسے کتابُ محمودٍ (محمود کی کتاب)، فَرَسُ الرَّجُلِ ( معلوم و مخصوص آدمی کا گھوڑا)، قلمہُ( اس کا قلم)، کتابُ الَّذِي جَاءَ (اس کی کتاب جو آیا )

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ (کلید جلد ۳ ) سبق:۸

عربی میں مندرجہ ذیل سات قسم کے اسماء معرفہ ہوتے ہیں:

ا۔ ضمائر، جیسے: أَنَا، أَنْتَ ، هُوَ.

۲۔ اسماء اعلام: جیسے: أَحْمَدُ ، مَكَّة

۳۔ اسماء اشارہ: جیسے: هَذَا، ذَلِكَ أُولئِكَ

۴۔ اسماء موصولہ: جیسے: الَّذِي، الَّذِيْنَ، الَّتِي، مَا، مَنْ.

۵۔ ایسے اسماء جن کے شروع میں ال ہو: جیسے: الْكِتَابُ، اَلرَّجُلُ.

۶۔ وہ اسم جو کسی معرفہ کی طرف مضاف ہو: جیسے: کتاب حَامِدٍ، كَتَابُهُ، كِتَابُ الْمُدَرِّسِ، كِتَابُ

الَّذِي خَرَجَ .... كِتَابُ هَذَا.

Read the rest (5)

نوٹ: ۔ جو اسم کسی اسم نکرہ کی طرف مضاف ہو وہ بھی نکرہ ہوگا، جیسے: کتاب طالب ایک طالب علم کی کتاب بَيْتُ مُدَرِّسِ ایک استاذ کا گھر ۔

۷۔ اسم منادی: جیسے: يَا رَجُلُ، يَا وَلَدُ.

نوٹ: رَجُلٌ اور ولدٌ نکرہ ہیں، لیکن وہ اس وجہ سے معرفہ ہو گئے کہ بلانے والے کے نزدیک متعین تھے، اگر مُنادی (جس کو بلایا جا رہا ہے ) بلانے والے کے نزدیک متعین نہ ہو تو وہ نکرہ ہی رہے گا، جیسے کوئی نابینا کسی کو بلائے گا تو یہ کہے گا: يَا رَجُلاً خُذْ بِيدي (بندہ خدا، ذرا ہاتھ پکڑنا ) اس لئے کہ وہ کسی متعین شخص سے مخاطب نہیں ہے۔

نوٹ : ۔ يَارَجُلُ منادی مضموم ہے جب کہ يَا رَجُلا منصوب ہے۔

جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ اسم نکرہ منادی ہونے کے بعد معرفہ ہو جاتا ہے۔

Link