كل المواضيع

منصوب اسماء

مفعول لہ دیگر کتب میں

4 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۳۲

المفعول لأجله: مفعول لاجلہ

المفعولُ لِأَجْلِهِ: هُوَ اسْمٌ مَنصُوبٌ يُبَيِّنُ سَبَبَ الفِعْلِ وَعِلَّةَ حُصُولِهِ.

مفعولہ لہ وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے سبب اور اس کے حصول کی علت بیان کرے۔

الأمثلة :

1) يُسَافِرُ الطَّلَبَةُ إِلَى أوربا طَلَبَاً لِلْعِلم .

(٢) عَاقَبَ الْقَاضِي الْمُجْرِمَ تَأْدِيباً لَهُ .

(٣) قُمۡ احْتِرَاماً لِأُسْتَاذِكَ .

(٤) تَصَدَّقْتُ عَلَى الْفَقِيرِ أَمَلاً فِي الثَّوَابِ

(۵) صَفَحْتُ عَنِ السَّفِيهِ حِلْماً .

(٦) تَجَاوَزْتُ عَنْ هَفوةِ الصَّدِيقِ إِبْقَاء عَلى مَوَدَّتِهِ .

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۵

مفعول له.

مفعول لہ ایک ایسا اسم منصوب ہے جو فعل کے وقوع کا سبب وعلت بتاتا ہے۔ جیسے سَافَرَ مَحْمُودٌ طَلَبَا لِلْعِم ( محمود نے طلب علم کے لئے سفر کیا) تَصَدَّقُتُ على الْفُقَرَاءِ اَملا فِي الثّوَابِ ( میں نے محتاجوں میں ثواب کی امید میں صدقہ کیا )۔

علت بیان کرنے کے لئے عربی میں دو طریقے ہیں۔

ایک مفعول لہ جیسے اوپر کی مثال میں، دوسرے یہ کہ لام سبیہ کے ذریعے فعل کے وقوع کی علت بیان کی جائے جیسے سَافَرَتْ لِطَلَبِ الْعِلْمِ یا لِاَنْ اَطْلُبَ الْعِلْمَ یا لأَطْلُبَ الْعِلْمَ - جہاں مفعول لہ کا موقع نہ ہو وہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ اسی لام سببیہ کے ذریعے علت بیان کی جائے۔

مفعول لہ اسم مصدر ہوتا ہے اور منصوب ہوتا ہے۔ کسی اسم کو مفعول لہ بنانے کے لئے حسب ذیل امور کا لحاظ کیا جانا ضروری ہے۔

(1) سب سے پہلے یہ کہ وہ مصدر ہو۔

(۲) دوسرے یہ کہ وہ علت ہی بیان کرنے کے لئے لایا گیا ہو۔

(۳) تیسرے یہ کہ فعل اور اس مصدر کے حدث ( وقوع) کا زمانہ ایک ہو۔

اقرأ البقية (6)

(۴) چوتھے یہ کہ فعل اور اس مصدر کا فاعل ایک ہو۔

یہ چاروں شرطیں بیک وقت پائی جانی چاہئیں ورنہ ان شرطوں میں سے ایک بھی اگر مفقود ہو جائے تو وہ اسم مفعول لہ نہیں بن سکتا ایسی صورت میں لام سببیہ ہی علت بیان کرنے کے لئے لایا جاتا ہے جیسا کہ ہم ابھی اوپر بتا چکے ہیں حسب ذیل مثالوں پر غور کیجئے :

(۱) جئتك للكتب: یہاں پہلی شرط یعنی مصدریت مفقود ہے۔

(۲) جِئْتُكَ ركُوبًا : یہاں دوسری شرط ( یعنی تعلیل) مفقود ہے اگر چہ رکوبا مصدر ہے۔

(۳) جئْتُكَ لِلسَفَرِ غدًا: یہاں تیسری شرط یعنی اتحاد زمانہ مفقود ہے۔ اگر چہ مصدریت و تعلیل پائی جاتی ہے۔

(۴) جِئْتُكَ لأمركَ إِيَّایَ: یہاں چوتھی شرط ( یعنی اتحاد فاعل ) مفقود ہے کیونکہ جئتك كا فاعل (ت ) ضمیر متکلم ہے۔ اور مصدر کا فاعل (ک) ضمیر مخاطب ہے۔

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۵

فصل المفعول له

المفعول له : مصدر منصوب يذكر بعد الفعل لبيان سببه (أي يقع في جواب لم حدث الفعل؟ ) مثل : حضر علي إكراما لمحمد ( إكراما مفعول له منصوب بالفتحة )

شروط المفعول له :

يشترط لجواز نصب المفعول له ثلاثة شروط

۱۔ أن يكون مصدرا

۲۔ أن يكون علة

۳۔ أن يتحد مع عامله في الزمان والفاعل مع اختلافه عنه في اللفظ

اقرأ البقية (27)

حالات المفعول له :

للمصدر المستوفي لشروط نصب المفعول له ثلاث حالات:

۱۔ أن يكون مجردا من "أل" والإضافة

۱۔ أن يكون مقرونا بـ"أل"

۲۔ أن يكون مضافا

۔ في الحالة الأولى يكثر نصبه، ويقل جره بحرف تعليل، نحو: نصحتك رغبة في مصلحتك، أو لرغبة في مصلحتك.

في الحالة الثانية يكثر جره بحرف تعليل، ويقل نصبه، نحو: نصحتك للرغبة في مصلحتك، ونصحتك الرغبة في مصلحتك.

في الحالة الثالثة يجوز النصب والجر على السواء، نحو: هربت خوف القتل، أو لخوف القتل.

فصل المفعول له

مفعول له: یہ ایک منصوب مصدر ہے جو فعل کے بعد آتا ہے تاکہ اس کے سبب کو بیان کرے (یعنی یہ جواب دیتا ہے کہ فعل کیوں ہوا؟)۔ مثال: حضر علي إكراما لمحمد (علی محمد کی خاطر حاضر ہوا)

یہاں "إكراما" (احترام کے لئے) مفعول له ہے جو فعل "حضر" (حاضر ہوا) کے سبب کو بیان کرتا ہے۔

مفعول له کی نصب کی شرائط:

مفعول له کو منصو ب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:

1. مصدر ہو: مفعول له ہمیشہ مصدر ہونا چاہئے۔

2. علت ہو: یہ فعل کی علت یا سبب کو بیان کرے۔

3. اپنے عامل کے ساتھ زمانہ اور فاعل میں ایک ہی ہونا چاہئے، اگر چہ لفظ میں مختلف ہو۔

مفعول له کی حالتیں:

مفعول له کی تین حالتیں ہیں جب یہ نصب کی شرائط کو پورا کرتا ہے:

1. مجرد: یہ "أل" یا اضافت سے خالی ہو۔

- اس حالت میں نصبی کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے: ’’نصحتك رغبة في مصلحتك‘‘ (میں نے تمہیں تمہاری بھلائی کی خاطر نصیحت کی) یا ’’لرغبة في مصلحتك‘‘ (تمہاری بھلائی کی خاطر)۔

2. مقرون بـ "أل": - اس حالت میں حرف تعلیل سے جُھکنے کی تعداد زیادہ ہوتی ہے اور نصبی کی تعداد کم ہوتی ہے، جیسے:’’نصحتك للرغبة في مصلحتك‘‘ یا نصحتك الرغبة في مصلحتك

3. مضاف ہو: اس حالت میں نصب اور جر دونوں جائز ہے، جیسے: ھربت خوف القتلِ یا لخوف القتل (قتل کا خوف)۔

المفصل

المفصل۔ سبق:۲۰

المفعول له

هو علة الإقدام على الفعل. وهو جواب لمه. وذلك قولك فعلت كذا مخافة الشر وإدخار فلان، وضربته تأديباً له، وقعدت عن الحرب جبنا، وفعلت ذلك أجل كذا؛ وفي التنزيل حذر الموت.

وفيه ثلاث شرائط أن يكون مصدراً، وفعلاً لفاعل الفعل المعلل، ومقارناً له في الوجود. فإن فقد شيء منها فاللام كقولك جنتك للسمن واللبن ولإكرامك الزائر، وخرجت اليوم لمخاصمتك زيداً أمس. ويكون معرفة ونكرة وقد جمعهما العجاج في قوله:

يركب كل عاقر جمهور مخافة وزعل المحبور

والهول من تھول الهبور