كل المواضيع

منصوب اسماء

مفعول معہ دیگر کتب میں

3 نصًا

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۴

مفعول معہ اس کا استعمال بہت کم ہوتا ہے اس مفعول سے پہلے واؤ معیت لکھا جاتا ہے جیسے اِذْهَبُ وَالشَّارِعَ الْجَدِيدَ (نئی سڑک کے ساتھ ساتھ چلتے جاؤ ) یعنی دائیں بائیں نہ مڑنا اور جیسے جاء زيد والكتب ( زید کتابوں کے ساتھ یا کتابیں لے کر آیا )

تیسیر النحو

تیسیر النحو ۔ سبق:۱۶

فصل المفعول معه

المفعول معه : اسم منصوب يذكر بعد "واو" بمعنى " مع " وهي تدل على مصاحبة ذلك الاسم المنصوب لمعمول ما تقدمه من فعل وشبهه، نحو سرت والنيل (الواو واو المعدية، النيل: مفعول معه المنصوب بالفتحة، وواو المعية تدل على مصاحبة النيل لمعمول الفعل "سار" وهو الضمير المرفوع المتصل ت ) والرجل سائر النيل ( واو المعية تدل على مصاحبة النيل المعمول شبه الفعل "سائر" وهو الضمير المرفوع المستتر في سائر" تقديره هو )

شروط نصب المفعول معه :

يشترط في نصب ما بعد الواو على أنه مفعول معه ثلاثة شروط

۱۔ أن يكون الاسم الواقع بعد الواو فضلة، حيث يصح انعقاد الجملة بدونه.

۲۔ أن يكون ما قبله جملة فيها فعل، أو اسم فيه معنى الفعل وحروفه.

۳۔ أن تكون الواو التي تسبقه نصا في المعية.

اقرأ البقية (43)

حالات الاسم الواقع بعد الواو

۱۔ يتعين نصب الاسم الواقع بعد الواو على المعية في موضعين:

(ا) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة المعنى نحو مشى التلميذ والطريق.

(ب) إذا وجد ما يمنع العطف من جهة اللفظ ، نحو: سلمت عليك وأباك، وجئت وسليما

۲۔ يرجح النصب إذا كان العطف ضعيفا من جهة المعنى، نحو: لا تفرح بالبيع والخسارة .

۳۔ يرجح العطف متى أمكن بغير ضعف، نحو: سار الأمير والجيش.

۴۔ يتعين العطف إذا كان الفعل لا يقع إلا من متعدد، نحو: اختصم سعد وسعيد.

ناصب المفعول معه

يكون ناصب المفعول معه ما تقدمه

۱۔ من فعل

۲۔ أو شبه فعل ( وقد سبق مثالهما )

۳۔ وقد يكون منصوبا بفعل مضمر وجوبا من مادة (الكون) إذا وقع بعد ما، وكيف الاستفهاميتين، نحو: ما أنت وصديقك، وكيف أنت والامتحان والتقدير ما تكون و صديقك، وكيف تكون والامتحان

تقدم المفعول معه على العامل والمصاحب:

لا يجوز أن يتقدم المفعول معه على عامله، فلا يقال: والطريق مشى التلميذ، ولا على مصاحبه، فلا يقال: مشى والطريق التلميذ

فصل المفعول معه

مفعول معه: یہ ایک منصوب اسم ہے جو "واو" کے بعد آتا ہے جس کا معنی "مع" ہے۔ یہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ مذکورہ اسم (جو منصوب ہے) فعل یا فعل کے مشابہ کے ساتھ موجود ہے۔ مثلاً: سرت والنيل (میں نيل کے ساتھ چلتا ہوں) یہاں "النيل" (نيل) مفعول معه ہے جو "سار" (چلنا) فعل کے ساتھ موجود ہے۔

مفعول معه کی نصب کی شرائط:

مفعول معه کو نصب کرنے کے لئے تین شرائط ضروری ہیں:

1. فضلہ( زائد): الواو کے بعد آنے والا اسم فضلہ ہونا چاہئے، یعنی جملہ اس کے بغیر بھی مکمل ہو سکتا ہے۔

2. فعل کی موجودگی: اس سے پہلے ایک جملہ ہونا چاہئے جس میں فعل موجود ہو یا کوئی اسم جو فعل کے معنی میں ہو۔

3. واو کی معیت: ’’واو‘‘ جو اس سے پہلے آتا ہے،اس کو معیت کے لئے خاص ہونا چاہئے۔

الواو کے بعد آنے والے اسم کی حالتیں:

1. نصب کی تعیین: اسم جو ’’واو‘‘ کے بعد آتا ہے، دو صورتوں میں منصوب ہوگا:

- (الف) اگر کسی معنی کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "مشى التلميذ والطريق" (طالب علم نے چلتے ہوئے راستے پر چل دیا)۔

- (ب) اگر لفظ کی وجہ سے عطف کی ممانعت ہو، جیسے: "سلمت عليك وأباك" (میں نے تمہیں اور تمہارے والد کو سلام کیا)۔

2. اگر عطف معنی کے لحاظ سے کمزور ہو تو نصب کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "لا تفرح بالبيع والخسارة" (فروخت اور نقصان پر خوش مت ہو)۔

3. جب عطف ممکن ہو اور کمزور نہ ہو تو عطف کو ترجیح دی جائے گی، جیسے: "سار الأمير والجيش" (شہزادہ اور فوج چلیں)۔

4. عطف کی تعین: جب فعل صرف متعدد کے لئے ہو تو عطف لازم ہے، جیسے: "اختصم سعد وسعيد" (سعد اور سعيد کے درمیان جھگڑا ہوا)۔

ناصب مفعول معه:

مفعول معه کا ناصب وہی چیز ہوتی ہے جو اس سے پہلے آتی ہے:

1. فعل

2. شبه فعل (اس کی مثالیں پہلے ذکر کی جا چکی ہیں)

3. فعل مضمر: یہ ہمیشہ "الكون" کے مادے سے آتا ہے جب "ما" یا "كيف" الاستفهامیتین کے بعد ہو، جیسے: "ما أنت وصديقك" (تم اور تمہارا دوست کیا ہو؟) اور "كيف أنت والامتحان" (تم امتحان کے ساتھ کیسے ہو؟)۔

مفعول معه کا عامل اور مصاحب پر مقدم:

مفعول معه کو عامل پر تقدم کرنا جائز نہیں ہے، یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا: "والطريق مشى التلميذ" (راستہ طالب علم کے ساتھ چلا) اور نہ ہی یہ کہ: "مشى والطريق التلميذ" (طالب علم راستے کے ساتھ چلا)۔

المفصل

المفصل۔ سبق:۱۹

المفعول معه

وهو المنصوب بعد الواو الكائنة بمعنى مع. وإنما ينصب إذا تضمن الكلام فعلاً كقولك ما صنعت وأباك، وما زلت أسير والنيل ومن أبيات الكتاب:

فكونوا أنتم وبني أبيكم مكان الكليتين من الطحال

ومنه قوله عزوجل: "فأجمعوا أمركم وشركاءكم"، أو ما هو بمعناه نحو قولك مالك وزيداً، وما شأنك وعمراً، لأن المعنى ما تصنع وما تلابس وكذلك حسبك وزيداً درهم، وقطك وكفيك مثله لأنها بمعنى كفاك. قال:

فما لك والتلدد حول نجد وقد غصت تهامة بالرجال

وقال:

إذا كانت الهيجاء انشقت العصا فحسبك والضحاك سيف مهند

وليس لك أن تجره حملاً على المكنى. فإذا جئت بالظاهر كان الجر الإختيار كقولك ما شأن عبد الله وأخيه يشستمه، وما شأن قيس والبر تسرقه، والنصب جائز .

اقرأ البقية (9)

وأما في قولك ما أنت وعبد الله وكيف أنت وقصعة من ثريد، فالرفع قال:

وقال:

یا زبرقان أخا بني خلف ما أنت ويب أبيك والفخر

وقال:

وكنت هناك أنت كريم قيس فما القيسيب بعدك والفخار

إلا عند ناس من العرب ينصبونه على تأويل ما كنت أنت وعبد الله، وكيف تكون أنت وقصعة من ثريد. قال سيبويه لأن كنت وتكون تقعان ههنا كثيراً وقال:

فما أنا والسير في متلف يبرح بالذكر الضابط

وهذا الباب قياس عند بعضهم وعند آخرين مقصور على السماع.