كل المواضيع

منصوب اسماء

حال دیگر کتب میں

4 نصًا

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۸

الحال: حال

الحال: اسمٌ مَنْصوبٌ يُبَيِّنُ هيئةَ الفاعلِ أو المفعولِ به حينَ وقوعِ الفعلِ، ويُسَمَّى كُلٌّ مِنَ الفاعلِ أو المفعولِ به صاحِبَ الحالِ.

حال وہ اسم منصوب ہے جو فعل کے واقع ہوتے وقت فاعل یا مفعول بہ کی ھیئت کو بیان کرتا ہے۔ اس وقت اس فاعل یا مفعول بہ کو صاحب الحال کہتے ہیں۔

الامثلة

(۱) عَادَ الجَيشُ ظافراً .

(٢) أقبل المظلوم باكياً

(۳) جَرَى الماء صافياً .

اقرأ البقية (29)

(٤) بِعْتُ الْقُطْنَ محلوجًا.

(٥) لاَ تَشْرَب الماء كَدِراً .

(٦) لا تَلْبَسِ الثّوْبَ ممزقاً .

أنواع الحال:

تَجِيءُ الحالُ اسْمًا مُفْرَدًا وَجُمْلَةً اسْمِيَّةً وَجُمْلَةً فِعْلِيَّةً وَظَرْفًا وَجَارًّا وَمَجْرُورًا.

إِذَا وَقَعَتِ الحالُ جُمْلَةً فَلَا بُدَّ لَهَا مِنْ رَابِطٍ يَرْبِطُهَا بِصَاحِبِ الحالِ، وَهُوَ إِمَّا الواوُ فَقَطْ، وَإِمَّا الضَّمِيرُ فَقَطْ، وَإِمَّا هُمَا مَعًا.

حال کبھی اسم مفرد ہوتا ہے کبھی جملہ اسمیه، کبھی جمله فعلیه، کبھی ظرف اور کبھی جار مجرور ہو کر بھی آتا ہے۔

حال جب جملہ ہو تو اس میں ایک ملانے والا (رابط) ہونا چاہئے جو اسے ذوالحال کے ساتھ ملائے رکھے (مربوط) رکھے۔ یہ رابطہ بھی صرف واؤ ہو گا ، کبھی صرف ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوں گے۔

الامثلة

(۱) رَجَعَ القائدُ مَنْصُوراً .

(۲) رَكبنَا البحر هائجاً .

(۳) لا تأْكُلُوا الطعام حارًا .

(٤) حَضَرَ الضُّيُوفُ والمُضِيفُ غَائِبُ

(۵) اصطفت الجنود سيوفهُمْ مَشْهورة .

(۶) لَا تَأْكُلُوا الفاكهة وَهِيَ فِجَّةٌ .

(۷) غاب أخوك وقد حَضَرَ جميع الأصدقاء .

(۸) ذَهَبَ الجَانِي تَحْرُسُهُ الجُنُودُ

(۹) قَطَفَ الأَوْلَادُ الأَزْهَارَ ولما تَتَفَتَّحْ

(۱۰) رَاقَنِي الوَرْدُ وَسْطَ البُسْتَانِ

(۱۱) أَبْصَرْتُ الخطيب فوقَ المِنْبَرِ

(۱۲) طَلَعَ البَدْرُ بَيْنَ السَّحَابِ

(۱۳) تألم الطائرُ في القفصِ

(١٤) اشتريْتُ السَّلَّةَ من التِّينِ بِثَمن قليلٍ .

(١٥) بعت الثمرَ عَلَى شَجَرِهِ

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۷

حال

حال ایک ایسا اسم منصوب ہے جو (فعل کے وقوع کے وقت) فاعل اور مفعول بہ کی ہیئت کو واضح کرتا ہے۔ جیسے جَاءَ خَالِدٌ رَاكِبًا ( خالد سوار ہو کر آیا) اور لاتاكل الطَعَامَ حَارا (کھانا اس حال میں نہ کھا کہ وہ گرم ہو ) ان مثالوں میں را کبا اور حارا حال ہیں۔ فاعل یا مفعول بہ جس کا بھی حال بیان کیا جائے نحویین کی اصطلاح میں صاحب حال یا ذو الحال کہلاتا ہے اوپر کی مثال میں فاعل (خَالِدٌ) ذوالحال ہے۔ اور دوسری مثال میں مفعول به (الطعام) ذوالحال ہے۔

(۱) حال کوئی اسم مشتق اور نکرہ ہوا کرتا ہے اور ذوالحال معرفہ ہوتا ہے ۔ (۱)

(۲) حال بھی ( خبر کی طرح) کبھی مفرد کبھی جملہ اور کبھی شبہ جملہ ہوا کرتا ہے، جیسے جَاءَ فَرِيدٌ يَرْكَبُ فَرَسَهُ، رَأَيْتُ الْخَطِيبَ فَوْقَ الْمِنْبَرِ، بِعْتُ الثَّمَرَ عَلَى الشَّجَرَةِ

(۳) حال جب جملہ ہو تو حال ذو الحال کے درمیان کسی رابطہ کا ہونا ضروری ہے۔ یہ رابطہ کبھی واؤ ہوتا ہے اور کبھی ضمیر اور کبھی واؤ اور ضمیر دونوں ہوتے ہیں۔ مثالیں علی الترتیب یہ ہیں۔

(1) رَكِبتُ السَّفِينَةَ وَالْهَوَاءُ عَلِيلٌ ( یہاں رابطہ صرف واؤ ہے)

(۲) جَاءَ الْمُذْنِبُ يَعْتَذِرُ عَنْ ذَنْبِهِ ( یہاں رابطہ صرف ضمیر ہے)

(۳) خَرَجَ الْأَوْلَادُ وَهُمْ فَرِحُونَ ( یہاں رابطہ واؤ اور ضمیر دونوں ہیں)

اقرأ البقية (19)

(۴) حال جب جملہ فعلیہ ہو اور فعل اس میں مضارع مثبت ہو تو رابطہ صرف ضمیر ہوتی ہے۔ جیسے مثال نمبر ۲ میں ہے۔ اور اگر فعل ماضی مثبت ہو تو واؤ کے ساتھ قد بڑھا دیتے ہیں جیسے سَلَّمْتُ عَلَی أبِي وَقَدْ عَادَ مِنْ سَفَرِہٰ اور کبھی صرف قد ہی کافی سمجھا جاتا ہے مگر ماضی منفی میں قد بڑھانا صحیح نہیں ہے۔ اس میں رابطہ صرف واؤ ہوتا ہے۔ استيقظتُ مِنَ النَّوْمِ وَمَا طَلَعَت الشَّمسُ

فائده: جملہ خواہ اسمیہ ہو یا فعلیہ حال اس وقت بن سکتا ہے جب کہ وہ کسی اسم معرفہ کے ساتھ آئے نکرہ کے بعد جملہ حال نہیں ہوتا بلکہ صفت بن جاتا ہے ۔ الجُمَل بَعْدَ النَكَراتِ صِفَاتِ وَبَعْدَ الْمُعَارَفِ احوالٌ

(۵) حال جب کوئی اسم مفرد ہو ( یعنی جملہ یا شبہ جملہ نہ ہو ) تو واحد، تثنیہ جمع اور تذکیر و تانیث میں وہ اپنے ذوالحال کے مطابق رہتا ہے اور ایسے ہی جبکہ حال کوئی جملہ ہو اور رابط اس میں ضمیر ہو تو مطابقت ضروری ہے، جیسے مثال نمبر 2 اور 3 میں ، لیکن اگر رابط ضمیر نہ ہو بلکہ صرف واؤ ہو تو مطابقت و عدم مطابقت کا سرے سے کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا جیسے مثال نمبر (ا) اور حَضَرَ الصُّيُوفُ وَالْمُضِيْفُ غَائِبٌ وغيره -

حاشیہ : (۱) اصل قاعدے کی رو سے ذوالحال کو معرفہ اور حال کو اسم مشتق و نکرہ ہونا چاہئے مگر کبھی اس میں تخلف بھی ہوتا ہے تفصیلات یہ ہیں۔

(الف) اصل کے برعکس حسب ذیل صورتوں میں ذو الحال نکرہ لایا جا سکتا ہے

(۱) جب کہ ذوالحال کو حال سے مؤخر کر دیا جائے جیسے جَاءَ را کبا رجل

(۲) جب کہ ذوالحال سے پہلے کوئی حرف نفی آجائے اور معنی میں اس کا ایک عموم پیدا ہو جائے جیسے وَمَا أَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا وَلَهَا مُنذِرُونَ

(۳) جب کہ ذوالحال کے اندر تخصیص کے معنی پیدا ہو جا ئیں جیسے وَلَمَّا جَاءَ هُمُ كِتَابٌ مِنْ عِندِ الله مُصَدِّقًا ( واضح رہے کہ مصدقاً بعض سلف سے منصوب ہی مروی ہے۔ اس صورت میں کتاب ذوالحال ہوگا اور یہ نکرہ ہے)

(ب) اصل قاعدہ کے برعکس حال حسب ذیل صورتوں میں معرفہ آسکتا ہے، مگر کلام عرب میں بہت ہی قلیل ہے۔

(۱) "ال" کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو اُدْخُلُوا الأَوَّلَ فَالاَوَّلَ ۔

(۲) اضافت کے ذریعے معرفہ بنایا گیا ہو جیسے اِجتَهَدُ وَحۡدَكَ وغيره،

(ج) اس طرح اسم مشتق کے بجائے حسب ذیل صورتوں میں حال اسم جامد بھی ہو سکتا ہے۔

(۱) جب کہ وہ تشبیہ پر دلالت کرے جیسے کر عَلَىَّ اسدا ۔

(۲) جبکہ وہ ترتیب پر دلالت کرے جیسے اقرا الكتاب بابا بابا و ادْخُلُوا الْبَابَ رَجُلًا رَجُلاً

(۳) جب کہ وہ مفاعلہ (یعنی جانبین کی مشارکت بتائے جیسے بعته بدا بید ۔

(۴) جبکہ وہ نرخ (قیمت )بتائے ۔جیسے : اِشْتَرَيْتُ الثَوبَ ذِرَاعًا بِدرهَم

(۵) جبکہ وہ موصوف ہو جیسے إِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۷

فصل الحال

الحال: وصف فضلة منصوب يبين هيئة الفاعل، أو المفعول به أو كليهما عند وقوع الفعل

(أى: أنه يقع في جواب كيف حدث الفعل ؟) نحو: جاءني زيد راكبا وضربت زيدا مشدودا ولقيت زيدا راكبين راكبا حال منصوبة بالفتحة يبين هيئة الفاعل، مشدودا حال منصوبة يبين هيئة المفعول، وراكبين حال منصوبة بياء مفتوح ما قبلها يبين هيئة الفاعل والمفعول كليهما )

صاحب الحال:

يسمى الفاعل أو المفعول الذي تبين الحال هيئته "صاحب الحال" والأصل فيه (كما في المبتدأ) أن يكون معرفة، لأنه محكوم عليه، والمحكوم عليه لا بد أن يكون معلوما، ولكنه كالمبتدأ أيضا يأتي نكرة حينما يصير معلوما بمسوغات ترجع إلى ثلاثة أمور:

۱۔ أن تكون النكرة عامة بتقدم نفي، أو استفهام، أو نحوهما عليها، نحو: ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً ، وهل جاءك أحد راكباً.

٢۔ أن تتخصص النكرة بوصف، أو إضافة أو نحوهما، نحو: جاء ني رجل فن زائراً ، زارني صديق حميم مسلما

اقرأ البقية (76)

۳۔أن تتقدم الحال على صاحبها وهو نكرة محضة ، نحو: جاء ني مسرعا رجل.

عامل الحال:

عامل الحال: هو العامل في صاحبها من فعل، أو شبه أو ما في معناه نحو: طلعت الشمس مشرقة، فالعامل في الحال مشرقة هو الفعل "طلعت" وهو العامل في صاحبها الشمس )

أحوال الحال المفردة:

الأصل في الحال أن تكون صفة منتقلة، نكرة، مشتقة ، نحو: جاء زيد راكبا.

وقد تأتي الحال صفة ثابتة، نحو قوله تعالى: (خلق الانسان ضعيفا)

وقد تأتي الحال معرفة، لا نكرة، وذلك إذا صح تأويلها بنكرة، نحو: جاء أخوك وحده، أي: منفردا . قد تأتي الحال جامدة، لا مشتقة، وذلك على تأويلها غالبا بالمشتق، ويقع ذلك في خمس حالات.

أولا: في ما دل على تشبيه ، نحو: جرى سليم غزالا، أي مسرعاً كالغزال.

ثانيا: في ما دل على مفاعلة، نحو: بايعته يدا بيد، أي: متقابضين.

ثالثا : في ما دل على ترتيب، نحو : ادخلوا رجلا رجلا، أي: مرتبين.

رابعا: في ما دل على تفصيل، نحو: قرأت الكتاب باباً باباً، أي: مفصلا

خامسا: في ما دل على تسعير ، نحو: اشتريت الثوب ذراعا بدرهم، أي: مسعرا

أنواع الحال:

الحال تكون

ا. اسما ظاهرا مفردا كما سبقت أمثلته وتفاصيله.

أو جملة خبرية، اسمية كانت أو فعلية، نحو استيقظت والشمس طالعة (والشمس طالعة: جملة اسمية حال في محل نصبها) وسار الطفل يبكي (يبكي جملة فعلية حال في محل نصبها)

ويشترط في الجملة التي تقع حالا أن تشتمل على رابط يربطها بصاحب الحال وهذا الرابط قد يكون "الواو " فقط ( وتسمى واو الحال ) كما في المثال الأول ، أو الضمير فقط كما في المثال الثاني، أو الواو والضمير معا نحو: جاء زيد وهو راكب - وهذه الأحوال الثلاث من الرابط توجد في جملة الحال سواء أكانت اسمية أو فعلية، إلا في حالة واحدة، وهي أن تكون جملة الحال فعلية فعلها مضارع مثبت غير مقترن بـ قله فيكون الرابط فيها الضمير فقط، ولا يصح فيها استعمال الرابط "الواو" كما في المثال السابق: سار الطفل يبكي.

حذف عامل الحال:

يجوز حذف عامل الحال إذا دل عليه دليل، كقولك: "ماشياً لمن سألك: كيف جئت ؟ . ويجب حذف عامل الحال قياسا في مواضع، منها:

ا. في ما يتبين فيه زيادة أو نقص في المقدار بالتدريج، نحو: تصدق بدرهم فصاعدا واشتر الثوب بثلاثة دراهم فنازلا ، والتقدير: فاذهب بالعدد صاعدا أو نازلا.

۲۔ أن تكون مسوقة للتوبيخ نحو أقاعدا وقد قام الناس، أي: أتوجد قاعدا.

ويحذف عامل الحال سماعا في غير ذلك، نحو: هنيئا لك أي: ثبت لك الخير هنيئا.

تعدد الحال:

يجوز تعدد الحال وصاحبها مفرد، أو متعدد فمثال الأول، جاء زيد راكيا ضاحكا، (ف راكبا وضاحكة حالان من زيد وحده، والعامل فيهما جاء ) ومثال الثاني: لقيت هندا مصعدا منحدرة، (فـ مصعدا حال من الضمير المرفوع المتصل "ت"، ومنحدرة حال من "هند - والعامل فيهما لقي )

فصل الحال

حال: حال ایک وصف فضلہ منصوب ہوتا ہے جو فعل، فاعل، یا مفعول کی حالت کو بیان کرتا ہے جب فعل واقع ہوتا ہے۔ یہ سوال "فعل کس حالت میں ہوا؟" کا جواب دیتا ہے۔ مثال کے طور پر:

- جاءني زيد راكبا (زيد میرے پاس سوار ہو کر آیا) یہاں "راكبا" حال ہے جو بتا رہا ہے کہ زيد کیسے آیا۔

- وضربت زيدا مشدودا (میں نے زيد کو باندھ کر مارا) ہاں "مشدودا" حال ہے جو بتاتا ہے کہ زيد کی حالت کیا تھی جب اسے مارا گیا۔

- ولقيت زيدا راكبين (میں نے زيد کو سواروں کے ساتھ پایا) یہاں "راكبين" حال ہے جو دونوں (فاعل اور مفعول) کی حالت کو بیان کرتا ہے۔

صاحب الحال:

صاحب الحال وہ فاعل یا مفعول ہے جس کی حالت حال بیان کرتا ہے۔ اصل میں، جیسا کہ مبتدا میں ہوتا ہے، صاحب الحال کامعرفہ ضروری ہے، کیونکہ محکو م علیہ معلوم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ نکرہ بھی ہو سکتا ہے جب یہ کچھ مخصوص حالات کی بنا پر معلوم ہو جائے۔ ان حالات میں شامل ہیں:

1. نکرہ کا عمومی ہونا، جب اس سے پہلے نفی یا استفھام ہو یا ان دونوں جیسے ۔جیسے: "ما في المدرسة من تلميذ متكاسلاً" (مدرسے میں کوئی سست طالب علم نہیں ہے) ،ھل جاءک احد راکبا۔

2. نکرہ کا کسی وصف، اضافت یا دوسری صورت میں خاص ہونا، جیسے: "جاءني رجلٌ فن زائراً" (میرے پاس ایک آدمی آیا جو زائر تھا)۔

3. حال کا صاحب پر مقدم ہونا، اور وہ نکرہ محضہ ہو جیسے: "جاءني مسرعاً رجل" (میرے پاس تیز چلتا ہوا آدمی آیا)۔

عامل الحال:

’’عامل الحال‘‘ وہ فعل یا شبیہ فعل ہوتا ہے جو صاحب الحال پر اثر انداز ہوتا ہے۔ مثلاً: -’’طلعت الشمس مشرقة‘‘ (سورج چمک رہا تھا) یہاں "مشرقة" حال ہے جو سورج کی حالت کو بیان کرتا ہے اور عامل "طلعت" ہے۔

احوال الحال المفردة:

اصل میں حال ایک نکرہ، مشتق اور منتقلی صفت ہوتی ہے، جیسے: "جاء زيد راكبا" (زيد سوار ہو کر آیا)۔

حال صفت ثابت بھی ہو سکتی ہے، جیسے: "خلق الانسان ضعيفا" (انسان کمزور پیدا ہوا)۔

حال کبھی کبھی معرفہ بھی ہوتی ہے، جیسے: "جاء أخوك وحده" (تمہارا بھائی اکیلا آیا)۔

حال کبھی کبھی جامد ہوتی ہے، اور وہ پانچ حالتوں میں ہو تی ہے جیسے:

1. تشبیہ میں، جیسے: "جرى سليم غزالا" (سلیم نے غزال کی طرح دوڑ لگائی)۔

2. مفاعلہ میں، جیسے: "بايعته يدا بيد" (میں نے اس سے ہاتھ ملایا)۔

3. ترتیب میں، جیسے: "ادخلوا رجلا رجلا" (آئیں، ایک ایک کر کے داخل ہوں)۔

4. تفصیل میں، جیسے: "قرأت الكتاب باباً باباً" (میں نے کتاب کو دروازے دروازے پڑھا)۔

5. تسعیر میں، جیسے: "اشتريت الثوب ذراعا بدرهم" (میں نے کپڑا ایک درہم میں خریدا)۔

انواع الحال:

حال مختلف شکلوں میں ہو سکتی ہے:

1. اسم ظاهر: جیسے: "جاء زيد ضاحكاً" (زيد ہنستے ہوئے آیا)۔

2. جملہ خبریہ: چاہے وہ اسمّیہ ہو یا فعلیہ، جیسے:

- "استيقظت والشمس طالعة" (میں بیدار ہوا اور سورج چمک رہا تھا)

- "وسار الطفل يبكي" (اور بچہ روتا ہوا چلا گیا)

جملے میں حال کو صاحب حال کے ساتھ ایک رابطے کی ضرورت ہوتی ہے، جو "واو" یا ضمیر کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

حذف عامل الحال:

اگر کوئی شواہد ہوں تو عامل الحال کو حذف کیا جا سکتا ہے، جیسے: - ماشياً(میں چلتا ہوا)

جب پوچھا جائے: کیف جئت ؟"(تم کیسے آئے)؟"

حذف عامل الحال بعض صورتوں میں لازمی ہو سکتا ہے، جیسے:

1. جب مقدار میں اضافہ یا کمی واضح ہو، جیسے: "تصدق بدرهم فصاعداً" (ایک درہم سے بڑھ کر صدقہ دو)۔

2. اگر یہ توبيخ کے لئے ہو، جیسے: "أقاعداً وقد قام الناس؟" ای توجد قائما (کیا تم بیٹھے ہو جبکہ لوگ کھڑے ہیں؟)۔

اور عامل حال کو سماعی طور پر بھی حذف کیا جاسکتا ہے ، جیسے: ھنیئا لک : ای ثبت لک الخیر ھنیئا

تعدد الحال:

صاحب الحال اگر مفرد ہو تو حال کا تعدد جائز ہے، جیسے: - جاء زيد راكبا ضاحكا (زيد ہنستے ہوئے سوار ہوا)

یہاں "راكبا" اور "ضاحكا" دونوں حال ہیں جو زيد کی حالت کو بیان کر رہے ہیں۔

اگر صاحب حال متعدد ہو تو بھی حال کا تعدد ہو سکتا ہے، جیسے: - لقيت هندا مصعدا منحدرة (میں نے ہند کو اوپر آتے ہوئے پایا)

یہاں "مصعدا" حال ہے جو ضمیر "ت" کی حالت کو بیان کر رہا ہے، اور "منحدرة" حال ہے جو "ہند" کی حالت کو بیان کر رہا ہے۔

المفصل

المفصل۔ سبق:۲۱

الحال

شبه المفعول والظرف

شبه الحال بالمفعول من حيث أنها فضلة مثله جاءت بعد مضي الجملة. ولها بالظرف شبه خاص من حيث أنها مفعول فيها ومجيئها لبيان هيأة الفاعل أو المفعول وذلك قولك ضربت زيداً قائماً تجعله حالاً من أيهما شئت وقد تكون منهما ضربة على الجمع والتفريق كقولك لقيته راكبين. قال عنترة:

متى ما تلقني فردين ترجف روانف أليتيك وتستطارا

ولقيته مصعداً ومنحدراً. عوامل الحال والعامل فيها إما فعل وشبهه من الصفات أو معنى فعل كقولك فيهاب زيد مقيماً، وهذا عمرو منطلقاً، وما شأنك قائماً، وما لك واقفاً، وفي التنزيل: " وهذا بعلي شيخاً" ، و "فما لهم عن التذكرة معرضين"؛ وليت ولعل وكأن ينصبها أيضاً لما فيها من معنى الفعل، فالأول يعمل فيها متقدما ومتأخراً ولا يعمل فيها الثاني إلا متقدماً. وقد منعوا في مررت راكباً بزيد أن يجعل الراكب حالاً من المجرور.

وقد يقع المصدر حالاً كما تقع الصفة مصدراً في قولهم قم قائماً، وقوله: ولا خارجاً من فيّ زور كلام وذلك قتلته صبراً، ولقيته فجاءۃ وعياناً وكفاحاً، وكلمته مشافهة، وأتيته ركضاً وعدواً ومشياً، وأخذت عنه سمعاً، أي مصبوراً ومفاجئاً ومعايناً.

وكذلك البواقي وليس عند سيبويه بقياس وأنكر اتانا رجلة وسرعة، وأجازه المبرد في كل ما دل عليه الفعل. والأسم غير الصفة والمصدر بمنزلتها في هذا الباب، تقول هذا بسراً أطيب منه رطباً، وجاء البر قفيزين وصاعين، وكلمته فاه إلى في، وبايعته يداً بيد وبعت الشاء شاة ودرهما، وبينت له حسابه بابا بابا .

تنكير الحال ومن حقها أن تكون نكرة، وذو الحال معرفة. وأما ارسلها العراك ومررت به وحده، وجاوا قضهم بقضيضهم، وفعلته جهدك وطاقتك، فمصادر قد تكلم بها على نية وضعها في موضع مالا تعريف فيه، كما وضع فاه إلى فيّ موضع شفاهاً، وعنى معتركة منفرداً وقاطبة وجاهداً. ومن الأسماء المحذوّ بها حذو هذه المصادر قولهم مررت بهم الجماء الغفير.

اقرأ البقية (9)

وتنكير ذي الحال قبيح إلا إذا قدمت عليه كقوله: لعزة موحشاً طلل قديم

الحال المؤكدة والحال المؤكدة هي التي تجيء على إثر جملة عقدها من اسمين لا عمل لهما لتوكيد خبرها وتقرير مؤداه ونفي الشك عنه، وذلك قولك زيد أبوك عطوفاً، وهو زيد معروفاً، وهو الحق بيناً، ألا تراك حققت بالعطوف الأبوة، وبالمعروف والبين أن الرجل زيد وأن الأمر حق، وفي التنزيل: " وهو الحق مصدقاً لما بين يديه" وكذلك أنا عبد الله آكلا كما يأكل العبيد فيه تقرير للعبودية وتحقيق لها. وتقول أنا فلان بطلاً شجاعاً وكريما جواداً فتحقق ما أنت متسم به وما هو ثابت لك في نفسك، ولو قلت زيد أبوك منطلقاً أو أخوك أحلت إلا إذا أردت التبني والصداقة. والعامل فيها أحق أو أثبت مضمراً.

الجملة الحالية:

والجملة تقع حالاً. ولا تخلو من أن تكون اسمية فعلية فإن كانت اسمية فالواو إلا ما شذّ من قولهم كلمته فوه إلى في، وما عسى ان يعثر عليه في الندرة. وأما لقيته عليه جبة وشي، فمعناه مستقرة عليه جبة وشي. وإن كانت فعلية لم تخل من أن يكون فعلها مضارعاً أو ماضياً. فإن كان مضارعاً لم يخل من أن يكون مثبتاً أو منفياً. فالمثبت بغير واو: وقد جاء في المنفي الأمران. وكذلك في الماضي. ولا بد معه من قد ظاهرة أو مقدرة.

ويجوز إخلاء هذه الجملة عن الراجع إلى ذي الحال إجراء لها مجرى الظرف لانعقاد الشبه بين الحال وبينه، تقول أتيتك وزيد قائم، ولقيتك الجيش قادم، وقال:

وقد أغتدي والطير وكناتها بمنجرد قيد الأوابد هيكل

إضمار عامل الحال:

ومن انتصاب الحال بعامل مضرم قولهم للمرتحل راشداً مهدياً ومصاحباً معاناً بإضمار إذهب وللقادم مأجوراً مبروراً أي رجعت. وإن أنشدت شعراً أو حدثت حديثاً قلت صادقاً، بإبضمار قال. وإذا رأيت من يتعرض لأمر قلت متعرضاً لعنن لم يعنه، أي دنا منه متعرضاً. ومنه أخذته بدرهم فصاعداً أو بدرهم فزائداً ، أي فذهب الثمن صاعداً أو زائداً. ومنه أتميميا مرة وقيسياً أخرى، كأنك قلت أتحول. ومنه قوله تعالى : " بلى قادرين " أي نجمعها قادرين.