علم صرف حروف اصلیہ کے اعتبار سے /
ناقص (معتلل الام)
نقشہ
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- مثال (معتلل الفاء)
- اجوف (معتلل العین)
- ناقص (معتلل الام)
- لفیف کابیان
- مضاعف کا بیان
- مھموز کا بیان
1 قاعدہ
تعریف
ناقص : وہ فعل جس کے لام کلمہ میں حرفِ علت ہو۔
مثال: دَعَا (اس نے پکارا)، رَمٰی (اس نے پھینکا)
2 ناقص کا بیان (کتاب الصرف : سبق۴۰ ، ۴۱ )
ناقص واوی ابواب ذیل سے آتاہے
۱۔نَصَرَ یَنْصُرُ سےجیسے دَعَا یَدْعُو الدُّعَاءُ وَالدَّعْوۃُ بلانا
۲۔ سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے رَضِیَ یَرْضٰی (الرِّضْوَانُ خوشنود ہونا)
۳۔کَرُمَ یَکْرُمُ سے جیسے رَخُوَ یَرْخُوُ (الرِخوَۃُ سست ہونا)
۴۔فَتَحَ یَفْتَحُ سے جیسے مَحَا یَمحٰی (المَحوُ مٹانا)
ناقص یائی ابواب ذیل سے آتاہے۔
۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ سے جیسے رَمٰی یَرْمٰی (الرمیُ تیر اندازی کرنا)
۲۔فَتَحَ یَفْتَحُ سے جیسے سَعٰی یَسْعٰی (السعیُ کوشش کرنا)
۳۔ سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے خَشِیَ یَخْشٰی (الخَشْیَۃُ ڈرنا)
ناقص میں جو تعلیلیں ہوتی ہیں ہر صیغے کےمحاذات میں لکھی گئیں ہیں اور ان کے قواعد بھی موقع بموقع پر تحریرہوئے ہیں جیسا کہ گردانوں سے ظاہر ہوگا۔
۱۔قلیل طور پر ناقص واوی ضَرَبَ یَضْرِبُ سے اور ناقص یائی کَرُمَ یَکْرُمُ اور نَصَرَ یَنْصُرُ سے بھی آتاہے جیسے جَثٰی یَجۡثٰی ناقص واوی اور ضَرَبَ یَضْرِبُ سے (الجثوُ گھٹنوں پر بیٹھنا)نَھُوَ یَنْھُوُ ناقص یائی باب کَرُمَ یَکْرُمُ سے (النھایۃ کمال عقل کو پہنچنا)
کَنَیٰ یَکْنُوْ ناقص یائی باب نَصَرَ یَنْصُرُ سے (الکِنَایۃُ پوشیدہ بات کرنا)
3 گردان ماضی معروف (کتاب الصرف : سبق۴۰ ، ۴۱ )
فائدہ:جو الف اصل میں و ہو اسکو بصورت الف اور جو الف اصل میں یا ہو اسکو بصورت ی لکھتے ہیں جیسے دَعَا (دَعَوَ) اور (رَمٰی) رَمَیَ
قاعدہ نمبر ۱۴: جو واو کلمہ کے آخر میں کسرہ کے بعد واقع ہو اس کو ی سے بدل دیتے ہیں۔
قاعدہ ۱۵: جب لام کلمہ میں حرف علت مضموم اور اسکا ماقبل مکسور ہوا اور اسکے بعد و ہوتو اسکی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں۔رضِوُوا سے رضوا اگر واؤ نہ ہوتو حرکت حذف کردیتے ہیں۔یَرْمیُ سے یرمیْ
4 گردان ماضی مجہول (کتاب الصرف : سبق۴۲ )
خود کا جائزہ لیں
5 گردان مضارع معروف (کتاب الصرف : سبق ۴۳ )
قاعدہ۱۶۔جو حرف علت لام کلمے میں مضموم اور اسکا ماقبل مضموم ہو اسکی حرکت کو حذف کرتے ہیں پھر اجتماع ساکنین کا ہوتو گرادیتے ہیں
قاعدہ ۱۷۔جو حرف علت لام کلمے میں مکسور ہواور اسکا ماقبل مکسور نہ ہو اسکی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں بشرطیکہ اسکے بعد ہو ورنہ یہ حذف کرتے ہیں۔
قاعدہ ۱۸: جو حرف علت لام کلمے میں مکسور اور اسکا ماقبل بھی مکسور ہو اس کی حرکت کو حذف کرتے ہیں پھر اجتماع ساکنین کا ہو تو گرادیتے ہیں۔
6 بحث ناص (کتاب الصرف : سبق ۴۳ )
7 مضارع مجھول بحث ناقص (کتاب الصرف : سبق ۴۴ )
8 بحث نفی تاکید بلن و نفی جحد بلم در فعل مستقبل معروف (کتاب الصرف : سبق ۴۵ )
تنبیہ: مضارع مجہول پر لن لگانے سے نفی تاکید بلن مجہول کے صیغے بنتے ہیں جیسے یُدعٰی۔لَنْ یُرْمٰی، لَنْ یُرْضٰی تا آخر
اور لم لگانے سے نفی جحد بلم کے صیغے۔ جیسے لَمْ یُدْعَ۔ لَمْ یُرْمَ، لَمْ یُرضَ تا آخر
تنبیہ:مضارع مجہول پر لن لگانے سے نفی تاکید بلن مجہول کے صیغے بنتے ہیں جیسے لَن یُدعٰی۔لَنْ یُرْمٰی،لَنْ یُرْضٰی تا آخر
اور لم لگانے سے نفی جحد بلم کے صیغے۔ جیسے لَمْ یُدْعَ۔لَمْ یُرْمَ،لَمْ یُرضَ تا آخر
(کتاب الصرف : سبق ۴۶ )
فائدہ: مضارع مجہول کے پہلےلام مکسور لگانے سے امر غائب وحاضر ومتکلم مجہول کے صیغے بن جاتےہیں۔
فائدہ:نون ثقیلہ و خفیفہ جیسا مضارع بالام تاکید پر آتاہے ویسا ہی امر ونہی پر بھی جیسے اُدْعُوَنَّ،اُدْعُوَنۡ۔لِیَدْعُوَنَّ، لِیَدْعُوَنۡ ۔لَا تَدْعُوَنَّ، لَا تَدْعُوَنْ وغیرہ۔
خود کا جائزہ لیں
9 اسم فاعل
تعلیل :اصل میں دَاعِوٌ،رَامِیٌ،رَاضِوٌ تھا دَاعِوٌ،رَاضِوٌ میں "و" بعد کسرہ کے طرف میں واقع ہوکر دَاعِیٌ رَاضِیٌ ہوا(ق۱۴)ضمہ ی پر دشوار تھا تینوں جگہ ساکن کیا۔اب ی اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے ی اجتماع ساکنین سے گرگئی داعٍ،رَامٍ،رَاضٍ رہا۔
10 اسم مفعول
تعلیل : اصل میں مدعووٌ،مرمویٌ،مرضووٌ،تھا مدعووٌ میں دو جمع ہوئے ایک کو دوسرے میں ادغام کیا(ق۲۰)مدعُوٌّ،مَرضُووٌ میں ماضی و مضارع واسم فاعل کی موافقت سے و کو ی کیا۔اب مرموی ومرضوی میں و،ی ایک جگہ ہوئے اول ساکن تھا و کو ی سے بدلا اور ی کو ی میں ادغام کیا اور ماقبل کے ضمہ کو واسطے مناسبت ی کے کسرہ سے بدلا(ق۲۱)مرمِیٌّ،مَرضِیٌّ ہوا۔
قاعدہ۲۰۔ جو دو "و"ایک کلمہ میں جمع ہوں اور اول ساکن ہوتو اسے دوسرے میں ادغام کردیتے ہیں۔
قاعدہ ۲۱۔جب و،ی ایک کلمہ میں جمع ہوں اول ان میں سے ساکن ہوتو و کو ی سے بدل کر ادغام کرتے ہیں اور اگر ماقبل مضموم ہوتو ضمہ کو کسرہ سے بدلتے ہیں۔
خود کا جائزہ لیں