گرامر

نقشہ

  • حروف اصلیہ کے اعتبار سے
    • مثال (معتلل الفاء)
    • اجوف (معتلل العین)
    • ناقص (معتلل الام)
    • لفیف کابیان
    • مضاعف کا بیان
    • مھموز کا بیان

1 قاعدہ

تعریف

ناقص : وہ فعل جس کے لام کلمہ میں حرفِ علت ہو۔

مثال: دَعَا (اس نے پکارا)، رَمٰی (اس نے پھینکا)

2 ناقص کا بیان (کتاب الصرف : سبق۴۰ ، ۴۱ )

ناقص واوی ابواب ذیل سے آتاہے

۱۔نَصَرَ یَنْصُرُ سےجیسے دَعَا یَدْعُو الدُّعَاءُ وَالدَّعْوۃُ بلانا

۲۔ سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے رَضِیَ یَرْضٰی (الرِّضْوَانُ خوشنود ہونا)

۳۔کَرُمَ یَکْرُمُ سے جیسے رَخُوَ یَرْخُوُ (الرِخوَۃُ سست ہونا)

۴۔فَتَحَ یَفْتَحُ سے جیسے مَحَا یَمحٰی (المَحوُ مٹانا)

ناقص یائی ابواب ذیل سے آتاہے۔

۱۔ضَرَبَ یَضْرِبُ سے جیسے رَمٰی یَرْمٰی (الرمیُ تیر اندازی کرنا)

۲۔فَتَحَ یَفْتَحُ سے جیسے سَعٰی یَسْعٰی (السعیُ کوشش کرنا)

۳۔ سَمِعَ یَسْمَعُ سے جیسے خَشِیَ یَخْشٰی (الخَشْیَۃُ ڈرنا)

ناقص میں جو تعلیلیں ہوتی ہیں ہر صیغے کےمحاذات میں لکھی گئیں ہیں اور ان کے قواعد بھی موقع بموقع پر تحریرہوئے ہیں جیسا کہ گردانوں سے ظاہر ہوگا۔

۱۔قلیل طور پر ناقص واوی ضَرَبَ یَضْرِبُ سے اور ناقص یائی کَرُمَ یَکْرُمُ اور نَصَرَ یَنْصُرُ سے بھی آتاہے جیسے جَثٰی یَجۡثٰی ناقص واوی اور ضَرَبَ یَضْرِبُ سے (الجثوُ گھٹنوں پر بیٹھنا)نَھُوَ یَنْھُوُ ناقص یائی باب کَرُمَ یَکْرُمُ سے (النھایۃ کمال عقل کو پہنچنا)

کَنَیٰ یَکْنُوْ ناقص یائی باب نَصَرَ یَنْصُرُ سے (الکِنَایۃُ پوشیدہ بات کرنا)

3 گردان ماضی معروف (کتاب الصرف : سبق۴۰ ، ۴۱ )

واویدَعَایائیرَمٰیتعلیلاصل میں دَعَوَ اور رَمَیَ تھے (و،ی) متحرک بعد فتحہ کے الف ہوگیا قاعدہ ۸
واویدَعَوَایائیرَمَیَاتعلیلتعلیل نہیں ہوئی کیوںکہ قاعدہ نمبر ۸ کی تیسری شرط کا نہ ہونا مانع تعلیل ہے
واویدَعَوْایائیرَمَوْاتعلیلاصل میں دَعَوَوْا اور رَمَیَوْا تھے (و،ی) متحرک بعد فتحہ کے الف ہوا، الف اجتماع ساکنین سے گرگیا
واویدَعَتْیائیرَمَتْتعلیلاصل میں دَعَوَتْ اور رَمَیَتْ تھے
واویدَعَتَایائیرَمَتَاتعلیلاصل میں دَعَوَتَا اور رَمَیَتَا تھے (و،ی) الف ہوا چوں کہ تائے تانیث ساکن کے حکم میں ہے،اس لئے الف اجتماع ساکنین سے گر گیا۔
واویدَعَونَیائیرَمَیْنَتعلیلبروزن نَصَرْنَ وَ ضَرَبْنَ پر ہیں
واویدَعَوْتَیائیرَمَیْتَتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْتُمَایائیرَمَیْتُمَاتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْتُمْیائیرَمَیْتُمْتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْتِیائیرَمَیْتِتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْتُنَّیائیرَمَیْتُنَّتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْتُیائیرَمَیْتُتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے
واویدَعَوْنَایائیرَمَیْنَاتعلیلیہ اپنے اصل پر ہے

فائدہ:جو الف اصل میں و ہو اسکو بصورت الف اور جو الف اصل میں یا ہو اسکو بصورت ی لکھتے ہیں جیسے دَعَا (دَعَوَ) اور (رَمٰی) رَمَیَ

غائب
واویرَضِیَتعلیلاصل میں رَضِوَ تھا و طرف میں بعد کسرہ کے واقع ہو کر ی ہوگیا(ق ۱۴)
واویرَضِیَاتعلیلاصل میں رَضِوَا تھا تعلیل مثل رضی کے
واویرَضُواتعلیلاصل میں رَضِوُو تھا و،ی؟ سے بدل کر رَضِیُوا ہوا۔ ضمہ ی پر دشوار تھا ما قبل کو دیا ی بسبب اجتماع ساکنین کے گر گئی(ق ۱۵)
واویرَضِیَتْتعلیلاصل میں رَضِوَتْ رَضِوَتَا ہے تعلیل مثل رَضِیَ کے
واویرَضِیَتَاتعلیلاصل میں رَضِوَتْ رَضِوَتَا ہے تعلیل مثل رَضِیَ کے
واویرَضِیْنَتعلیلان سب صیغوں میں و،یا سے بدلا ہے
حاضر
واویرَضِیْتَتعلیل،، ،،
واویرَضِیْتُمَاتعلیل،، ،،
واویرَضِیْتُمْتعلیل،، ،،
واویرَضِیْتِتعلیل،، ،،
واویرَضِیْتُماتعلیل،، ،،
واویرَضِیْتُنَّتعلیل،، ،،
متکلم
واویرَضِیْتُتعلیل،، ،،
واویرَضِیْنَاتعلیل،، ،،

قاعدہ نمبر ۱۴: جو واو کلمہ کے آخر میں کسرہ کے بعد واقع ہو اس کو ی سے بدل دیتے ہیں۔

قاعدہ ۱۵: جب لام کلمہ میں حرف علت مضموم اور اسکا ماقبل مکسور ہوا اور اسکے بعد و ہوتو اسکی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں۔رضِوُوا سے رضوا اگر واؤ نہ ہوتو حرکت حذف کردیتے ہیں۔یَرْمیُ سے یرمیْ

4 گردان ماضی مجہول (کتاب الصرف : سبق۴۲ )

غائب
واویدُعِیَیائیرُمِیَواویرُضِیَتعلیلاصل میں دُعِوَ تھا و طرف میں بعد کسرہ کے واقع ہوکر ی ہوگیا (قاعدہ ۱۱)تعلیلاپنے اصل پر ہےتعلیلاصل میں رُضِوَ تھا تعلیل مثل رَضِیَ معروف (ق ۱۴)
واویدُعِیَایائیرُمِیَاواویرُضِیَاتعلیلاصل میں دُعِوَا تھاتعلیلاپنے اصل پر ہےتعلیلاصل میں رُضِوَا تھا
واویدُعُوایائیرُمُواواویرُضُواتعلیلاصل میں دُعِوُوا تھاتعلیلاصل میں رُمِیُواتھا ضمہ ی پر دشوار تھا ماقبل کو دیا ی بسبب اجتماع ساکنین گرگئی (ق ۱۵)تعلیلاصل میں رُضُووا تھا تعلیل مثل رَضُوا معروف کے (ق ۱۵)
واویدُعِیَتْیائیرُمِیَتْواویرُضِیَتْتعلیلان سب صیغوں میں واو ی سے بدلا ہوا ہےتعلیلیہ سب صیغے اپنے اصل پر ہیںتعلیلان سب صیغوں میں و ی سے بدلا ہوا ہے
واویدُعِیَتَایائیرُمِیَتَاواویرُضِیَتَاتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْنَیائیرُمِیْنَواویرُضِیْنَتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
حاضر
واویدُعِیْتَیائیرُمِیتَواویرُضِیْتَتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْتُمَایائیرُمِیتُمَاواویرُضِیْتُمَاتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْتُمْیائیرُمِیتُمواویرُضِیْتُمْتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْتِیائیرُمِیتِواویرُضِیْتِتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْتُمَایائیرُمِیتُمَاواویرُضِیْتُمَاتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْتُنَّیائیرُمِیتُنَّواویرُضِیْتُنَّتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
متکلم
واویدُعِیْتُیائیرُمِیتُواویرُضِیْتُتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،
واویدُعِیْنَایائیرُمِینَاواویرُضِیْنَاتعلیل،، ،،تعلیل،، ،،تعلیل،، ،،

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

5 گردان مضارع معروف (کتاب الصرف : سبق ۴۳ )

غائب
واوییَدْعُویائییَرْمِیتعلیلاصل میں یَدْعُوُ یَرْمِیُ تھے، ضمہ و پر دشوار تھا، اس کو حذف کیا گیا
واوییَدْعُوَانِیائییَرْمِیَانِتعلیلاپنی اصل پر ہیں
واوییَدْعُونَیائییَرْمُونَتعلیلو کو ساکن کیا (قاعدہ ۱۶)، یَرْمُونَ میں حرکت ماقبل کو دیا، اجتماع ساکنین سے و ی گر گئے
واویتَدْعُویائیتَرْمِیتعلیلمثل یَدْعُو و یَرْمِی کے
واویتَدْعُوَانِیائیتَرْمِیَانِتعلیلاپنی اصل پر ہیں
واوییَدْعُونَیائییَرْمِینَتعلیلبروزن ینصر اور یضرب، اپنی اصل پر ہیں
حاضر
واویتَدْعُویائیتَرْمِیتعلیلمثل صیغہ ہائے تثنیہ واحد غائب
واویتَدْعُوَانِیائیتَرْمِیَانِتعلیلمثل صیغہ ہائے تثنیہ مذکر غائب
واویتَدْعُونَیائیتَرْمُونَتعلیلمثل صیغہ ہائے جمع مذکر غائب
واویتَدْعِیْنَیائیتَرْمِینَتعلیلاصل میں تدعون اور ترمین تھے، کسرہ و،ی پر دشوار تھا، تدعون میں حرکت ماقبل کو دی (قاعدہ ۱۷)، ترمین میں حرکت کو حذف کیا (قاعدہ ۱۸)، و،ی اجتماع ساکنین سے گر گئے
واویتَدْعُوانِیائیتَرْمِیَانِ
واویتَدْعُونَیائیتَرْمِینَتعلیلمثل صیغہ ہائے تثنیہ مذکر غائب
متکلم
واویادْعُیائیاِرْمِتعلیلبروزن تنصرن و تضربن
واوینَدْعُویائینَرْمِیتعلیلمثل یَدْعُو و یَرْمِی

قاعدہ۱۶۔جو حرف علت لام کلمے میں مضموم اور اسکا ماقبل مضموم ہو اسکی حرکت کو حذف کرتے ہیں پھر اجتماع ساکنین کا ہوتو گرادیتے ہیں

قاعدہ ۱۷۔جو حرف علت لام کلمے میں مکسور ہواور اسکا ماقبل مکسور نہ ہو اسکی حرکت ماقبل کو دیتے ہیں بشرطیکہ اسکے بعد ہو ورنہ یہ حذف کرتے ہیں۔

قاعدہ ۱۸: جو حرف علت لام کلمے میں مکسور اور اسکا ماقبل بھی مکسور ہو اس کی حرکت کو حذف کرتے ہیں پھر اجتماع ساکنین کا ہو تو گرادیتے ہیں۔

6 بحث ناص (کتاب الصرف : سبق ۴۳ )

واوییَرْضٰیتعلیلاصل میں یَرْضَوُ تھا و تیسری جگہ تھا اب چوتھی جگہ ہوگیا اور حرکت ماقبل اسکے مخالف تھی ی سے بدلا(ق ۱۹) اور ی بعد فتحہ کے الف ہوگیا۔قاعدہقاعدہ ۱۹:۔جو و کلمے میں تیسری جگہ ہو یا اس سے زیادہ ہوجائے اور حرکت ماقبل اسکے مخالف ہو وہ و او "ی "ہوجاتاہے۔
واوییَرضَیَانِتعلیلاصل میں یَرْضَوَان تھا و کو ی سے بدلا (ق ۱۹)
واوییَرْضَوْنَتعلیلاصل میں یَرْضَوُونَ تھا، و کو ی سے بدلا (ق ۱۹)، یرضیون ہوا، ی متحرک بعد فتحہ کے الف ہوکر اجتماع ساکنین سے گرگئی۔
واویتَرْضٰیتعلیلاصل میں ترضو تھا، مثل یَرْضٰی ۔
واویتَرْضَیَانِتعلیلاصل میں ترضوان تھا، مثل یَرْضَیَان کے۔
واوییَرْضَینَتعلیلاصل میں یَرْضَوْنَ تھا، بر وزن یسمعن کے، واو بحکم ق ۱۹ ی سے بدل گیا۔
واویتَرْضٰیتعلیلمثل یَرْضٰی
واویتَرْضَیَانِتعلیلمثل یَرْضَیَانِ
واویتَرْضَونَتعلیلاصل میں ترضون تھا، مثل یَرْضَوْن کے عمل کیا۔
واویتَرْضِیْنَتعلیلاصل میں تَرْضَوِینَ تھا، و ی سے بدلا ترضیین ہوا، ی متحرک بعد فتحہ کے الف ہو کر اجتماع ساکنین سے گر گئی۔
واویتَرْضَیَانِتعلیلمثل یَرْضَیانِ کے۔
واویتَرْضَیَنِتعلیلمثل یَرْضَینَ کے۔
واویاَرضٰیتعلیلمثل یَرْضٰی
واوینَرْضٰیتعلیلمثل یَرْضٰی

7 مضارع مجھول بحث ناقص (کتاب الصرف : سبق ۴۴ )

واوییائیواوی
یُدعٰی اصل میں یُدعَوُ تھایُرمٰی اصل میں یُرمَیُ تھایُرْضٰی اصل میں یُرضَوُ تھا
یُدْعَیَانِ مثل یُرضَیَانِ کےیُرْمَیَانِیُرْضَیَانِ
یُدْعَونَ اصل میں یُدعَوُونَ تھایُرْمَونَ اصل میں یُرْمَیُونَ تھایُرْضَونَ اصل میں یُرضَوُونَ تھا
تُدعٰیتُرْمٰیتُرْضٰی
تُدْعَیَانِتُرمَیَانِتُرضَیَانِ
یُدْعَینَیُرمَینَیُرضَینَ
تُدعٰیتُرْمٰیتُرْضٰی
تُدْعَیَانِتُرمَیَانِتُرضَیَانِ
تُدْعَونَتُرْمَونَتُرْضَونَ
تُدْعَینِتُرْمَیْنَتُرضَینَ
تُدْعَیَانِتُرمَیَانِتُرضَیَانِ
تُدْعَینِتُرْمَیْنَتُرضَینَ
اُدعٰیاُرْمٰیاُرْضٰی
نُدعٰینُرْمٰینُرْضٰی

8 بحث نفی تاکید بلن و نفی جحد بلم در فعل مستقبل معروف (کتاب الصرف : سبق ۴۵ )

غائب
واویلَن یَدْعُوَیائیلَن یَرمٰیواویلَنْ یَرْضٰییائیلَمْ یَدعُواویلَمْ یَرمِیائیلَمْ یَرْضَ
واویلَن یَدْعُوَایائیلَنْ یَرْمِیَاواویلَنْ یَرْضَیایائیلَمْ یَدعُوَاواویلَمْ یَرْمِیَایائیلَمْ یَرْضَیَا
واویلَن یَدْعُوایائیلَن یَرْمُواواویلَنْ یَرْضَوایائیلَمْ یَدعُواواویلَمْ یَرْمُوایائیلَمْ یَرْضَوا
واویلَن تَدْعُوَیائیلَن تَرْمِیواویلَنْ تَرضٰییائیلَمْ تَدعُواویلَمْ تَرْمِیائیلَمْ تَرضَ
واویلَن تَدْعُوَایائیلَن تَرمِیَاواویلَن تَرْضَیَایائیلَمْ تَدعُوَاواویلَمْ تَرْمِیَایائیلَمْ تَرْضَیَا
واویلَن یَدْعُونَیائیلَن یَرمَینَواویلَن یَرضَینَیائیلَمْ یَدعُونَواویلَمْ یَرْمِینَیائیلَمْ یَرْضَینَ
حاضر
واویلَن تَدْعُوَیائیلَن تَرْمِیواویلَنْ تَرضٰییائیلَمْ تَدْعُواویلَمْ تَرمِیائیلَمْ تَرْضَ
واویلَن تَدْعُوَایائیلَن تَرمِیَاواویلَن تَرْضَیَایائیلَمْ تَدعُوَاواویلَمْ تَرْمِیَایائیلَمْ تَرْضَیَا
واویلَن تَدْعُویائیلَن تَرْمُواواویلَنْ تَرضَوایائیلَمْ تَدعُواواویلَمْ تَرْمُوایائیلَمْ تَرْضَوا
واویلَن تَدْعِیْیائیلَن تَرْمِیْواویلَنْ تَرضِییائیلَم تَدعِیواویلَمْ تَرمِییائیلَم تَرْضِیْ
واویلَںں تَدْعُوَایائیلَن تَرمِیَاواویلَن تَرضَیَایائیلم تَدعُواواویلَمْ تَرمِیَایائیلَمْ تَرْضَیَا
واویلَن تَدْعُونَیائیلَن تَرْمَیْنَواویلَنْ تَرْضَینَیائیلَم تَدعُونَواویلَمْ تَرمِیْنَیائیلَمْ تَرْضَیْنَ
متکلم
واویلَنْ ادعوَیائیلَن اَرْمِیواویلَنْ اَرضٰییائیلَم ادعُواویلَمْ اَرْمِیائیلَمْ اَرضَ
واویلَنْ ندعوَیائیلَن نَرْمِیواویلَن نَرْضٰییائیلم نَدعُواویلَمْ نَرْمِیائیلَمْ نَرْضَ

تنبیہ: مضارع مجہول پر لن لگانے سے نفی تاکید بلن مجہول کے صیغے بنتے ہیں جیسے یُدعٰی۔لَنْ یُرْمٰی، لَنْ یُرْضٰی تا آخر

اور لم لگانے سے نفی جحد بلم کے صیغے۔ جیسے لَمْ یُدْعَ۔ لَمْ یُرْمَ، لَمْ یُرضَ تا آخر

تنبیہ:مضارع مجہول پر لن لگانے سے نفی تاکید بلن مجہول کے صیغے بنتے ہیں جیسے لَن یُدعٰی۔لَنْ یُرْمٰی،لَنْ یُرْضٰی تا آخر

اور لم لگانے سے نفی جحد بلم کے صیغے۔ جیسے لَمْ یُدْعَ۔لَمْ یُرْمَ،لَمْ یُرضَ تا آخر

(کتاب الصرف : سبق ۴۶ )

اُدْعُإِرْمِإِرْضَلَا تَدعُلَا تَرْمِلَا تَرضَ
اُدْعُوَاإِرْمِیَاإِرْضَیَالَا تَدعُوَالَا تَرْمِیَالَا تَرضَیَا
اُدْعُوُاإِرْمُواإِرْضُوالَا تَدعُوالَا تَرْمُوالَا تَرضَوا
اُدْعِیإِرْمِیإِرْضِیلَا تَدعِیلَا تَرْمِیلَا تَرضَی
اُدْعُوَاإِرْمِیَاإِرْضَیَالَا تَدعُوَالَا تَرْمِیَالَا تَرضَیَا
اُدْعُونَإِرْمِیْنَإِرْضَیْنَلَا تَدعُونَلَا تَرْمِیْنَلَا تَرضَیْنَ
بحث امر غائب و متکلم معروفبحث نہی غائب و متکلم معروف
لِیَدْعُلِیَرْمِلِیَرْضَلَایَدعُلَا یَرْمِلَا یَرْضَ
لِیَدْعُوَالِیَرْمِیَالِیَرْضَیَالَایَدعُوَالَا یَرْمِیَالَا یَرْضَیَا
لِیَدْعُوالِیَرْمُوالِیَرْضَوالَایَدعُوْالَا یَرمُوالَا یَرْضَوا
لِتَدعُلِتَرْمِلِتَرْضَلَا تَدعُلَا تَرْمِلَا تَرْضَ
لِتَدعُوَالِتَرْمِیَالِتَرضَیَالَاتَدْعُوَالَا تَرْمِیَالَا تَرْضَیَا
لِیَدعَونَلِیَرْمَینَلِیَرْضَینَلَا یَدْعُونَلَا یَرْمِینَلَا یَرْضَیْنَ
لِاَدْعُلِاَرْمِلِاَرْضَلَا اَدْعُلَا اَرْمِلَا اَرضَ
لِنَدْعُلِنَرْمِلِنَرْضَلَا نَدْعُلَا نَرْمِلَا نَرضَ

فائدہ: مضارع مجہول کے پہلےلام مکسور لگانے سے امر غائب وحاضر ومتکلم مجہول کے صیغے بن جاتےہیں۔

فائدہ:نون ثقیلہ و خفیفہ جیسا مضارع بالام تاکید پر آتاہے ویسا ہی امر ونہی پر بھی جیسے اُدْعُوَنَّ،اُدْعُوَنۡ۔لِیَدْعُوَنَّ، لِیَدْعُوَنۡ ۔لَا تَدْعُوَنَّ، لَا تَدْعُوَنْ وغیرہ۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

9 اسم فاعل

واحد مذکردَاعٍتثنیہ مذکردَاعِيَانِجمع مذکردَاعُونَواحد مؤنثدَاعِيَةٌتثنیہ مؤنثدَاعِيَتَانِجمع مؤنثدَاعِيَاتٌ
واحد مذکررَامٍتثنیہ مذکررَامِيَانِجمع مذکررَامُونَواحد مؤنثرَامِيَةٌتثنیہ مؤنثرَامِيَتَانِجمع مؤنثرَامِيَاتٌ
واحد مذکررَاضٍتثنیہ مذکررَاضِيَانِجمع مذکررَاضُونَواحد مؤنثرَاضِيَةٌتثنیہ مؤنثرَاضِيَتَانِجمع مؤنثرَاضِيَاتٌ

 تعلیل :اصل میں دَاعِوٌ،رَامِیٌ،رَاضِوٌ تھا دَاعِوٌ،رَاضِوٌ میں "و" بعد کسرہ کے طرف میں واقع ہوکر دَاعِیٌ رَاضِیٌ ہوا(ق۱۴)ضمہ ی پر دشوار تھا تینوں جگہ ساکن کیا۔اب ی اور تنوین دو ساکن اکٹھے ہوئے ی اجتماع ساکنین سے گرگئی داعٍ،رَامٍ،رَاضٍ رہا۔

10 اسم مفعول

واحد مذکرمَدعُوٌّتثنیہ مذکرمَدعُوَّانِجمع مذکرمَدعُوُّونَواحد مؤنثمَدعُوَّۃٌتثنیہ مؤنثمَدعُوَّتَانِجمع مؤنثمَدعُوَّاتٌ
واحد مذکرمَرمِیٌّتثنیہ مذکرمَرمِیَّانِجمع مذکرمَرمِیُّونَواحد مؤنثمَرمِیَّۃٌتثنیہ مؤنثمَرمِیَّتَانِجمع مؤنثمَرمِیَّاتٌ
واحد مذکرمَرضِیٌّتثنیہ مذکرمَرضِیَّانِجمع مذکرمَرضِیُّونَواحد مؤنثمَرضِیَّۃٌتثنیہ مؤنثمَرضِیَّتَانِجمع مؤنثمَرضِیَّاتٌ

تعلیل : اصل میں مدعووٌ،مرمویٌ،مرضووٌ،تھا مدعووٌ میں دو جمع ہوئے ایک کو دوسرے میں ادغام کیا(ق۲۰)مدعُوٌّ،مَرضُووٌ میں ماضی و مضارع واسم فاعل کی موافقت سے و کو ی کیا۔اب مرموی ومرضوی میں و،ی ایک جگہ ہوئے اول ساکن تھا و کو ی سے بدلا اور ی کو ی میں ادغام کیا اور ماقبل کے ضمہ کو واسطے مناسبت ی کے کسرہ سے بدلا(ق۲۱)مرمِیٌّ،مَرضِیٌّ ہوا۔

قاعدہ۲۰۔ جو دو "و"ایک کلمہ میں جمع ہوں اور اول ساکن ہوتو اسے دوسرے میں ادغام کردیتے ہیں۔

قاعدہ ۲۱۔جب و،ی ایک کلمہ میں جمع ہوں اول ان میں سے ساکن ہوتو و کو ی سے بدل کر ادغام کرتے ہیں اور اگر ماقبل مضموم ہوتو ضمہ کو کسرہ سے بدلتے ہیں۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

11 مشقی سوالات

اس سبق سے بے ترتیب دس سوالات۔ جواب دیں، فوراً نتیجہ دیکھیں اور نئے سوالات کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔

156 سوالات اس سبق میں