علم صرف حروف اصلیہ کے اعتبار سے /
مثال (معتل الفاء)
نقشہ
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- مثال (معتلل الفاء)
- اجوف (معتلل العین)
- ناقص (معتلل الام)
- لفیف کابیان
- مضاعف کا بیان
- مھموز کا بیان
1 قاعدہ
تعریف
مثال : وہ فعل جس کے ف کلمہ میں حرفِ علت (و ،ا ،ی) ہو۔ مثال: وَعَدَ (اس نے وعدہ کیا)، يَسَرَ (اس نے آسانی کی)۔
2 مثال کا بیان (کتاب الصرف : سبق ۳۰)
مثال کی گردان میں صرف چند جگہ تغیر واقع ہوتا ہے جس کے قاعدے ذیل میں درج ہیں۔
۱۔جو واؤ علامت مضارع مفتوح اور مکسور العین کے درمیان واقع ہو حذف ہوجاتا ہے جیسے یَعِدُ کہ اصل میں یَوْعِدُ تھا
فائدہ:یَھَبُ اور یَضَعُ سے واؤ اس واسطے گرا کہ عین کلمہ ان کا بھی اصل مکسور تھا، مگر عین اور لام کلمہ کے حرف حلقی ہونے کے باعث ان کو باب فتح یفتح میں لائے اور کسرہ عین کو فتحہ سے بدلا۔
۲۔جو مصدر مثال واوی سے فِعْلٌ کے وزن پر ہو اور اسکے مضارع سے واؤ حذف ہوچکا ہو اس واؤ کو مصدر سے حذف کرتے ہیں اور اسکے عوض آخر میں ۃ بڑھاتے ہیں ۔جیسے عِدَۃٌاصل میں وِعْدٌ تھا۔
۳۔جو واؤ ساکن غیر مدغم ہو اور اسکا ماقبل مکسور ہو ی سے بدل جاتاہے جیسے مِیزَانٌ (صیغہ اسم آلہ)(ایجل صیغہ امر)کہ اصل میں مِوزان و اَوجِل تھا
۴۔جو ی ساکن غیر مدغم اور اسکا ماقبل مضموم ہو وہ واؤ سے بدل جاتی ہے جیسے مُوْقِنٌ (صیغہ اسم فاعل)یُوسِرُ (صیغہ مضارع) کہ اصل میں مُیْقِنٌ و یُیْسِرٌ) تھا۔
تنبیہ:جو صفت مشبہ فُعْلٰی کے وزن پر یا اَفْعَلُ اور فَعْلاءُ کی جمع فُعْلٌ کے وزن پر ہو اور عین کلمہ ی ہو تو ضمہ ماقبل ی کو کسرہ سے بدلیں گے جیسے حُیکٰی سے حِیکٰی بُیضٌ(جمع) اَبْیَضٌ و بَیضاءُ سے بِیضٌ۔
۵۔جو واؤ یا ی کہ باب افتعال کے ف کلمہ میں واقع ہو اورہمزہ کے عوض میں نہ ہوتو اسکو «ت »سے وجوبا بدلتے ہیں اور پھر ت کو ت میں ادغام کرتے ہیں جیسے إِتَّقَدَو إِتَّسَرَ کہ اصل میں إِوْتَقَدَ و إیتَسَرَ تھا۔
مجرد کے ابواب:مثال واوی ثلاثی مجرد کے پانچ بابوں سے اور مثال یائی چار بابوں سے آتی ہے مندرجہ ذیل صرف صغیروں کو بپابندی قواعد صفحہ ۴۸ کے گردان کر جاؤ۔
3 مجرد کے ابواب(کتاب الصرف : سبق ۳۰)
مثال واوی
مثال یائی
خود کا جائزہ لیں
4 مزید فیہ کے ابواب(کتاب الصرف : سبق ۳۱)
مزیدفیہ کے ابواب:باب افعال اور استفعال کے مصدر کا فا کلمہ اگر واؤ ہو تو ی ہوجاتاہےجیسے اَوْقَدَ إِیْقَاداً ،استوقدَ استِیقاداً
قاعدہ نمبر (۳،۵) کو مد نظر رکھ کر ابواب ذیل کی گردان کرو۔
باب افعال:اَوْقَدَ، یُو قِدُ، اِیقاداً، مُوقِدٌ، اَوقِدْ، لَا تَوْقِدْ۔
باب استفعال:اِستَوقَدَ، یَسْتَوقِدُ اِسْتِیقَاداً مُسْتَوقِدٌ، اِسْتَوقِدْ، لا تَسْتَوقِدْ
باب افتعال: إِتَّقَدَ ، یَتَّقِدُ، إتِّقَاداً، مُتَّقِدٌ، إِتَّقِدْ، لَا تَتَّقِدْ
مثال یائی میں کہاجائیگا: اَیْسَرَ، یُوسِرُ، اِیْسَاراً، إِسْتَیْقَظَ یَسْتَیْقِظُ إِسْتِیْقَا ظاً
تکمیل:قواعد مندرجہ سابقہ کے علاوہ یہ دو قاعدے اور بھی یادرکھنے کے لائق ہیں
۲۔ جو واؤ ف کلمہ یا عین کلمہ میں مضموم ہو اسکا ہمزہ سے بدلنا جائز ہے جیسے اُجُوہٌ، اَدْوَرٌ کی اصل میں وُجُوہٌ اُدْوُرٌ تھا۔
بعض صرفی واؤ مکسور کو بھی جو ف کلمہ میں واقع ہو۔ ہمزہ سے بدل لیتے ہیں جیسے اِشَاحٌ اِسَادَۃٌ کہ اصل میں وِشَاحٌ، وِسَادَۃٌ تھا۔
اور واؤ مفتوحہ کا ہمزہ سے بدلنا شاذ ہے جیسے اَحَدٌ اَنَاۃٌ کہ اصل میں وَحَدٌ وَنَاۃٌ تھا
۷۔اگر دو واؤ اول کلمہ میں واقع ہوں اور دونوں متحرک ہوں تو پہلا واؤ وجو با ہمزہ ہوجاتاہے جیسے اَوَاصِلُ۔اُوَیْصِلُ کہ اصل میں وَوَاصِلُ وُوَیْصِلُ تھا۔ پہلا جمع واصلۃ اور دوسرا تصغیر واصل کی ہے۔
اگر دوسرا واؤ ساکن ہو تو پہلے کو ہمزہ بدلنا جائز ہے جیسے اُورِیَ کہ اصل میں وُوْرِیَ تھا اور اولٰی کہ اصل میں وُولٰی تھا۔ اُوَلٌ (مذکر) کی موفقت کے لحاظ سے واؤ وکو ہمزہ سے بدل دیا گیا۔
سوالات
الف۔ ۱ یَھَبُ کا عین کلمہ مفتوح ہے، واؤ کس طرح حذف ہوا؟
۲۔مِیزَانٌ کیا کلمہ ہے ی اس میں کہاں سے آئی ہے؟
۳۔عِدَۃٌکیا کلمہ ہے اور اسکی ت کیسی ہے؟
۴۔یُوعِدُ کا عین کلمہ مکسور ہے و کیوں نہیں گرا؟
۵۔ ی ساکن ماقبل مضموم کا ضمہ کہاں قائم رہتاہے اور کہاں کسرہ سے بدل جاتاہے؟
۶۔جب اسم ظرف ابواب صحیح اور مثال سے مشتق ہوتو اسکے عین کلمہ کی حرکت میں کیا اختلاف ہوتاہے؟
ب:۱۔ اولٰی اصل میں کیا تھا اور تبدیلی کس اصول پر ہوئی؟
۲۔إِتَّخَذَ اور إِتَّسَرَ کی اصل کیا ہے اور موجود صورت حال کیوں کر بنی؟
ج:وَعَدَ سے افعال کا اسم فاعل اور امر کیا ہوگا؟
۲۔وَصَلَ سے باب افتعال کی نفی جحد بلم اور جب سے باب استفعال کی نہی غائب کیا آئے گی؟
۲: فقرات مندرجہ ذیل میں جو افعال اور اسماء کہ معتل الفاء ہوں ان کو بیان کرو
۱۔وَلَا تَزِرُوَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی۔کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
۲۔اللہ الصَّمَدُ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ۔خدا بے نیاز ہے نہ کوئی اس سے پیدا ہواہے اور نہ وہ کسی سے پیدا ہواہے۔
۳۔فَھَبْ لِی مِن لَّدُنْکَ وَلِیًّا یَّرِثُنِیِ۔ پس مجھے اپنے پاس سے ولی عطا کر جومیرا واارث ہو۔
۴۔ إِنَّ الاَرضَ للہِ یُورِثُھَا مَنْ یَّشَاْءُ۔ زمین تو اللہ تعالی کی ہے جسے چاہتاہے اس کا وارث بنادیتاہے۔
۵۔وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَھُوَ حَسبُہُ۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھتا ہے خدا اس کےلئے کافی ہے۔
۶۔وَوٰعَدْنَا مُوسٰی ثَلَاثِینَ لَیْلَۃً۔ اور ہم نے موسی سے تیس راتوں کا وعدہ کیا
۷۔مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی استَوقَدَ ناراً( ان کی کہاوت آگ جلانے والے کی کہاوت ہے)۔
خود کا جائزہ لیں