گرامر

نقشہ

  • فعل کی تعریف اور اس کی قسمیں
    • ۱ ۔ فعل ماضی
    • ۲ ۔ فعل مضارع
    • ۳ ۔ فعل امر و فعل نہی

1 فعل کی تعریف اور اس کی قسمیں

2 تعریف

فعل:وہ کلمہ ہے جس سے کسی کام کا کرنا یا ہونا سمجھا جائے اور تینوں زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس میں پایا جائے، جیسے فَعَلَ (اس نے کیا)ذَھَبَ (وہ گیا)

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

3 تصرف اور عدم تصرف کے اعتبار سے

تعریف

تصرف اور عدم تصرف کے اعتبار سے عربی زبان کے الفاظ کو دو اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے

1.متصرف (تصرف پذیر):

وہ الفاظ جو مختلف حالتوں اور صیغوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں، یعنی ان میں تصرف کی گنجائش ہوتی ہے۔ یہ الفاظ فعل کی مختلف حالتوں (ماضی، مضارع، امر، نہی) اور اسم کی حالتوں (رفع، نصب، جر) میں آ سکتے ہیں۔

مثال:

- فعل: "ضَرَبَ" (ماضی)، "یَضرِبُ" (مضارع)

- اسم: "رَجُلٌ" (حالت رفع میں)، "رَجُلًا" ( حالتِ نصب میں)، "رَجُلٍ" (حالتِ جر میں)

2. غیر متصرف (عدم تصرف):

وہ الفاظ جن میں تصرف نہیں ہوتا، یعنی یہ الفاظ اپنی ایک ہی حالت میں ںبرقرار رہتے ہیں اور مختلف حالتوں میں تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ اکثر ایسے افعال یااسماء ہوتے ہیں جو کسی خاص معنی یا حالت میں محدود ہوتے ہیں۔

مثال:

- بعض حروف جر جیسے "فی"، "علی"

- فعل ماضی ناقص جیسے "کانَ"

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

4 فعل کی قسمیں تصرف کے اعتبار سے

5 ۱۔زمانہ کے اعتبار سے

اسکی تین قسمیں ہیں۔

ماضی ، مضارع ، اور امر

ماضی:وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا زمانہ گزشتہ میں ہونا سمجھا جائے جیسے ذَھَبَ (وہ گیا) فَعَلَ(اس نے کیا) نَصَرَ(اس نے مدد کی)

مضارع: وہ فعل ہے جس سے کسی کام کا کبھی زمانہ حال اور کبھی زمانہ مستقبل میں ہونا سمجھا جائے (یعنی اس میں دونوں زمانے پائے جاتے ہیں)جیسے یَفْعَلُ(وہ کرتاہے یاکرے گا)یَذْھَبُ(وہ جاتاہے یا جائے گا)

امر:وہ فعل ہے جس سے کسی کام کے کرنے کا حکم معلوم ہو،جیسے إِذْھَبْ (تو جا)إِفْعَلْ(تو کر)

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

6 ۲۔نسبت کے اعتبار سے (فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے)

معروف:وہ فعل جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو اور اسکا فاعل معلوم ہو جیسے شَرِبَ حَامِدٌ مَاءًا(حامد نے پانی پیا) اس مثال میں فاعل حَامِدٌ معلوم ہے اسلئے شَرِبَ فعل معروف ہے۔

مجہول:وہ فعل ہے جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو،اور اس کے فاعل کا ذکر نہ ہو، ۔ جیسے شُرِبَ مَاءٌ(پانی پیاگیا)، نُصِرَ محمودٌ(محمود کی مدد کی گئی) ان جملوں میں فاعل مذکور نہیں اورفعل کی نسبت اپنے مفعول کی طرف ہےاسلئے شُرِبَ،نُصِرَ فعل مجہول ہوئے۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

7 ۳۔مفعول کے اعتبار سے (مفعول ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے)

لازم: جو فعل صرف فاعل کے ملنے سے پوری بات ظاہر کردے اسے لازم کہتے ہیں جیسے ذَھَبَ حَامِدٌ(حامد گیا)جَلَسَ وَلَدٌ(لڑکا بیٹھا)

متعدی:جس فعل کو فاعل کے علاوہ مفعول کی بھی ضرورت ہوا سے متعدی کہتے ہیں جیسے نَصَرَ حَامِدٌ مَحْمُوْدًا (حامد نے محمود کی مددکی)

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

8 ۴۔اثبات و نفی کے اعتبار سے

مثبت: جس فعل سے کس کام کا ہونا معلوم ہو جیسےنَصَرَ (اس نے مدد کی) یَذھَبُ(وہ جاتاہے)

منفی: جس فعل سے کس کام کا نہ ہونا معلوم ہو جیسےماَ فَعَلَ(اس نے نہیں کیا) لاَیَذھَبُ(وہ نہیں جاتاہے)

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

9 ۵۔ فاعل کے اعتبار سے

فاعل کے اعتبار سے غائب، حاضر، اور متکلم کی تعریف اور مثالیں

1. غائب (تیسرا شخص):

تعریف: غائب وہ فاعل ہوتا ہے جو بات چیت میں موجود نہیں ہوتا، یعنی اس کا ذکر تو کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن وہ خود گفتگو میں موجود نہیں ہوتا۔

مثالیں (بغیر ضمیر کے):

مذکر: ضَرَبَ (اس نے مارا)

یہاں فعل "ضَرَبَ" غائب مذکر کے لیے استعمال ہوا ہے، اور ضمیر کی ضرورت نہیں کیونکہ فعل خود بتا رہا ہے کہ فاعل مذکر ہے۔

مؤنث: ضَرَبَتْ (اس عورت نے مارا)

یہاں "ضَرَبَتْ" فعل ہے جو غائب مؤنث کی نشاندہی کرتا ہے۔

2.حاضر

تعریف: حاضر وہ فاعل ہوتا ہے جس سے براہ راست بات کی جا رہی ہو، یعنی مخاطب شخص۔

مثالیں :

مذکر: ضَرَبْتَ (تم نے مارا)

یہاں "ضَرَبْتَ" فعل مخاطب مذکر کے لیے استعمال ہوا ہے، اور ضمیر کے بغیر بھی فعل کی شکل سے فاعل کا پتہ چل رہا ہے۔

مؤنث: ضَرَبْتِ (تم (عورت) نے مارا)

یہاں "ضَرَبْتِ" فعل کی مؤنث شکل بتا رہی ہے کہ فاعل مخاطب مؤنث ہے۔

3. متکلم

تعریف: متکلم وہ فاعل ہوتا ہے جو خود بات کر رہا ہوتا ہے، یعنی "میں" یا "ہم"۔

مثالیں:

واحد: ضَرَبْتُ(میں نے مارا)

یہاں "ضَرَبْتُ" فعل متکلم واحد کی نشاندہی کر رہا ہے۔

جمع: ضَرَبْنَا (ہم نے مارا)

یہاں "ضَرَبْنَا" فعل متکلم جمع کے لیے استعمال ہوا ہے۔

خلاصہ:

غائب، حاضر، اور متکلم کی شناخت فعل کی شکل سے ہوتی ہے، ضمیر کے بغیر بھی فعل میں موجود علامات (مثلاً آخر میں "ت" یا "نا") فاعل کی جنس اور تعداد کو ظاہر کر دیتی ہیں۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

10 حروف کے اعتبار سے

11 ۱۔حروف کی تعداد کے اعتبار سے (ثلاثی و رباعی)

۱۔ ثلاثی ۲۔ رباعی

فعل ثلاثی کی تعریف:

فعل ثلاثی :  وہ فعل ہے جس کے مادے میں تین بنیادی حروف ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افعال زیادہ عام اور سادہ ہوتے ہیں اور عام طور پر بنیادی معانی رکھتے ہیں۔ فعل ثلاثی مجرد اور مزید فیہ میں تقسیم ہوتا ہے:

1. فعل ثلاثی مجرد

2. فعل ثلاثی مزید فیہ

فعل رباعی کی تعریف:

فعل رباعی : وہ فعل ہے جس کے مادے میں چار بنیادی حروف ہوتے ہیں۔ فعل رباعی بھی **مجرد** اور **مزید فیہ** کی اقسام میں تقسیم ہوتے ہیں:

1. فعل رباعی مجرد

2. فعل رباعی مزید فیہ

خلاصہ:

فعل ثلاثی: جس کے مادے میں تین حروف ہوں، جیسے "کَتَبَ"۔

فعل رباعی: جس کے مادے میں چار حروف ہوں، جیسے "دَحْرَجَ"۔

مجردافعال میں صرف بنیادی حروف ہوتے ہیں، جبکہ مزید فیہ افعال میں اضافی حروف شامل ہوتے ہیں جو فعل کے معنی میں تبدیلی یا وسعت پیدا کرتے ہیں۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

12 ۲ ۔حرف اصلی اور حرف علت کے اعتبار سے (ھفت اقسام)( سبق نمبر ۲۸)

عربی کے بعض کلمات میں کبھی حرف علت ہوتا ہے اور کبھی ہمزہ اور کبھی ایک جنس کے دوحرف اور کبھی ان تینوں میں سے ایک بھی نہیں ہوتا۔

۱۔صحیح : وہ کلمہ ہے جس کے حرف اصلی میں ہمزہ حرف علت اور دو حروف ہم جنس نہ ہوں جیسے ضَرَبَ وَ بَعْثَرَ،رَجُلٌ وَ جَعْفَرَ۔

۲۔مہموز وہ کلمہ ہے جس کے حرف اصلی میں ہمزہ ہو، ف کلمہ کی جگہ ہمزہ ہو تو مہموز الفاء کہلائے گا جیسے اَمَرَ،ابِلٌ ع کلمہ کی جگہ ہو تو مہموز العین جیسے سَاَلَ ،رأسٌ ل کلمہ کی جگہ ہوتو مہموز اللام جیسے قرأ،جزء۔

۳۔معتل وہ کلمہ ہے جس کے حروف اصلی میں حرف علت ہو اسکی تین قسمیں ہیں

۱۔معتل الفاء: مثال وَعَدَ ، وَرۡدٌ

۲۔معتل العین : مثال قَالَ ، لَیلٌ

۳۔معتل اللام: مثال رَ میٰ ، ظَبیٌ

اگر کلمے میں دو حرف علت ہوں تو اسکو معتل بدو حرف اور لفیف بھی کہتے ہیں اور اسکی دو قسمیں ہیں

۱۔ لفیف مفروق :مثال وَلِیَ ، وَحیٌ

۲۔لفیف مقرون : مثال طَویٰ ، یَومٌ

۳۔ مضاعف۔ وہ کلمہ ہے جس میں دو حرف ایک جنس کے ہوں اور اگر عین اور لام ایک جنس کے ہوں تو مضاعف ثلاثی کہلائے گا جیسے مدَّ سبَّ، اگر ف ولام اول اور ع ولام ثانی ایک جنس کے ہوں تو مضاع رباعی جیسے زلزلۃ

اس تفصیل کے موافق تو گیارہ قسمیں ہوتی ہیں مگر صرفیوں نے ان سب کو سات قسموں میں منحصر کیا ہے جنہیں ہفت اقسام کہتے ہیں۔

صحیح است ومثال است و مضاعف لفیف و ناقص و مہموز اجوف

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

13 مشقی سوالات

اس سبق سے بے ترتیب دس سوالات۔ جواب دیں، فوراً نتیجہ دیکھیں اور نئے سوالات کے لیے دوبارہ کوشش کریں۔

562 سوالات اس سبق میں

اس حصے میں