نقشہ
- فعل
- زمانہ کے اعتبار سے
- مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے
- فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- اعراب و بناء کے اعتبار سے
1 قاعدہ
تعریف
معرب و مبنی کے اعتبار سے:
معرب: وہ اسم یا فعل جو اپنی حالت (رفع، نصب یا جزم) کے لحاظ سے تبدیل ہوتا ہے۔
۱۔ فعل مضارع: فعل مضارع وہ فعل ہے جو حال یا مستقبل کے زمانے کو ظاہر کرتا ہے اور یہ معرب ہوتا ہے، یعنی اس کے آخر میں حالت کے لحاظ سے تبدیلی آتی ہے۔ ۱۔ فعل مضارع کا مرفوع یا حالت رفع میں ہونا:
فعل مضارع جب کسی جازم یا ناصب حرف کے بغیر ہو تو وہ حالت رفع میں ہوتا ہے۔
مثال: "یَکتُبُ" (وہ لکھتا ہے) — یہاں فعل مضارع مرفوع ہے۔
۲۔فعل مضارع کا منصوب یا حالت نصب میں ہونا:
فعل مضارع جب ناصب حروف کے ساتھ آئے تو وہ حالت نصب میں ہوتا ہے۔
حروف نصب:
أن: "کہ" جیسے "أریدُ أن أکتُبَ" (میں چاہتا ہوں کہ لکھوں)
لن: "ہرگز نہیں" جیسے "لن أکتُبَ" (میں ہرگز نہیں لکھوں گا)
کی: "تاکہ" جیسے "یعملُ کی ینجَحَ" (وہ کام کرتا ہے تاکہ کامیاب ہو)
إذن: "تب" جیسے "إذن أکتُبَ" (تب میں لکھوں گا)
لام تعلیل: " تاکہ" — جیسے "جئتُ لأتعلمَ" (میں آیا تاکہ سیکھوں)
لام جحود: "نہیں" — جیسے "ما کان زید لیفعلَ ذلک" (زید ہرگز یہ نہیں کرے گا)
فاء سببیۃ: "اس لئے کہ" — جیسے "اعمل فینجحَ" (کام کرو تاکہ کامیاب ہو)
۳۔ فعل مضارع کا مجزوم یا حالت جزم میں ہونا:
فعل مضارع جب جازم حروف کے ساتھ آئے تو وہ حالت جزم میں ہوتا ہے۔
۱۔ ایک فعل کو جزم دینے والے حروف:
یہ حروف فعل مضارع کو جزم دیتے ہیں:
لم: "نہیں کیا" — جیسے "لم یکتبْ" (اس نے نہیں لکھا)
لما: "ابھی تک نہیں" — جیسے "لما یکتبْ" (اس نے ابھی تک نہیں لکھا)
لام امر: "کرو" — جیسے "لیکتبْ" (وہ لکھے)
لا نہی: "مت کرو" — جیسے "لا تکتبْ" (مت لکھو)
۲۔ دو فعل کو جزم دینے والے حروف:
یہ حروف شرطیہ ہیں اور دو افعال کو جزم دیتے ہیں:
من (جو کوئی)، ما (جو کچھ)، مھما (جو کچھ بھی)، متی (جب بھی)، أین (کہاں بھی)، أینما (جہاں بھی)، أنی (جہاں بھی)، حیثما (جہاں بھی)، کیفما (جیسے بھی)، أیّ (کوئی بھی)
مثال: "من یجتھد ینجح" (جو محنت کرے گا، وہ کامیاب ہوگا) — یہاں دونوں افعال کو جزم دیا گیا۔
۳۔ فعل مضارع کو جزم دینا طلب کے جواب میں:
جب فعل مضارع طلب (حکم، سوال) کے جواب میں آتا ہے تو وہ جزم میں ہوتا ہے۔
مثال: "اکتب ینجحْ" (لکھو، کامیاب ہو جاؤ گے)
۲۔ افعال خمسہ: افعال خمسہ وہ پانچ افعال ہیں جو فعل مضارع کے صیغے پر ہوتے ہیں اور ان کے آخر میں "واو"، "یاء" یا "نون" شامل ہوتا ہے۔ ان کا اعرابی نون حذف کرنے سے ظاہر ہوتا ہے۔
مثال: "یکتبان" (وہ دونوں لکھتے ہیں)، "تکتبون" (تم سب لکھتے ہو)۔
مبنی: مبنی افعال وہ افعال ہیں جن کی حالت (رفع، نصب، یا جزم) تبدیل نہیں ہوتی، اور وہ ہمیشہ ایک ہی شکل میں رہتے ہیں۔
۱۔ فعل ماضی: فعل ماضی ہمیشہ مبنی ہوتا ہے اور اس کی حالت تبدیل نہیں ہوتی۔
مثال: "کَتَبَ" (اس نے لکھا) — یہ ہمیشہ اپنی ایک ہی حالت میں رہتا ہے۔
۲۔ فعل امر: فعل امر بھی مبنی ہوتا ہے اور اس کی حالت تبدیل نہیں ہوتی۔
مثال: "اُکتُبْ" (لکھو) — یہ فعل امر مبنی ہوتا ہے۔
۳۔ فعل مضارع جب اس کے ساتھ نون تاکید یا نون نسوہ ہو: فعل مضارع جب نون تاکید یا نون نسوہ کے ساتھ ہو تو وہ مبنی بن جاتا ہے۔
مثال: "لَیَکتبَنَّ" (ضرور لکھے گا) — نون تاکید کی وجہ سے یہ فعل مبنی ہو گیا۔
"یَکتبنَ" (وہ عورتیں لکھتی ہیں) — نون نسوہ کی وجہ سے یہ مبنی ہے۔
معرب و مبنی کی تعریف دیگر کتب میں3
النحو الواضح (ثانویہ)النحو الواضح (ثانویۃ) (جلد:۲) سبق:۱،۲
المبنی مِنَ الْأَفعال: افعال جو مبنی ہوتے ہیں
الْمَبْنِيُّ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمَاضِي وَالْآمُرُ وَالْمُضَارِعُ الْمُتَّصِلُ بِنُونِ التَّوْكِيدِ أَوْ نُونِ الْإِنَاثِ.
الْمَاضِي يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَ بِضَمِيْرِ رَفَعٍ مُتَحَرِّک وَعَلَى الضَّمُ إِذَا اتَّصَلَ بِوَاوِ الْجَمَاعَةِ وَعَلَى الْفَتْحِ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ .
اَلْأمْرُ يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الْآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ أَوِ اتصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ ، وَعَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيلَةً أَوْ خَفِيفَةً وَعَلَى حَذْفِ حَرْفِ الْعِلَّةٍ إِنْ كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ، وَعَلَى حَذَفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ أَلِفَ اثنيْنِ أَو وَاوُ جَمَاعَةٍ أَوْ يَاء مُخَاطَبَةٍ.
الْمُضَارِعُ يُبنى عَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيْلَةً أَوْ خَفِيفَةٌ وَعَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ.
افعال میں سے مبنی ماضی ، امر حاضر اور مضارع ہے جبکہ نون تاکید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو۔
ماضی مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ ضمیر مرفوع متحرک اس کے ساتھ متصل ہو اور مبنی علی الضم ہوتا ہے جبکہ واو جمع متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ ان دو صورتوں کے علاوہ ہو۔
باقی عبارت پڑھیں (37)
امر مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ وہ صحیح الآخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز متصل نہ ہو یا اس کے ساتھ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور حرف علت کو حذف کر دیا جاتا ہے اگر اس کا آخر معتل ہو۔ اور نون کو حذف کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ الف تثنیہ متصل ہو یا واؤ جمع ہو یا یائے مخاطب ہو۔
مضارع مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو ۔
الأمثلة
(۱)
ركبتُ الْفَرَسَ
التُّجَارُرَبِحُوْا
حَضَرَ الغَائِبُ
(۲)
أطِعْ أبَاکَ
طَرِّزْنَ الثِّيَابَ
أُترُ كَنَّ الْجِدَالَ
أفْشِ السَّلَام
أوْفُوْا بِالعَهْدِ
(۳)
لأَنْصُرَنَّ الْمَظْلُوم
لَأجِیْدَنَّ عَمَلِىْ
اَلْبَنَاتُ یَأكُلْنَ
الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ: افعال جو معرب ہوتے ہیں
الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمُضَارِعُ الَّذِي لَمْ تَتَّصِلۡ بِآخِرِهِ نُونُ التوكيدِ او نُونُ الْإِنَاثِ.
يُرْفَعُ الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ بِالضّمَّةِ وَ تَنُوُبُ عَنْهَا النُّوْنُ فِي الْأَفْعَالِ الخَمْسَةِ ، وَيُنصَبُ بِالْفَتحَةِ وَيَنوُبُ عَنْهَا حَذَفَ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الخمسَةِ وَيُجزمُ بالسكون وَ یَنُوۡبُ عَنْهُ حَذۡفُ حَرْفِ الْعِلْةِ فِي الأفعَالِ المُعتَلَةِ الآخِرِ، وَحَذۡفِ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الْخَمْسَةِ.
افعال میں سے معرب وہ مضارع ہے کہ جس کے آخر میں نون تا کید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل نہ ہو۔
فعل مضارع کو رفع دیا جاتا ہے ضمہ کے ذریعہ اور نون کو افعال خمسة میں اس کا قائم مقام بنایا جاتا ہے اور نصب دیا جاتا ہے فتحہ کے ساتھ اورافعال خمسه میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے ، اور جزم سکون کے ساتھ دیا جاتا ہے اور حرف علت کو افعال معتل کے آخر میں اس کے قائم مقام حذف کر دیا جاتا ہے اور افعال خمسہ میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
الأمثلة
(۱)تُشْرِقُ الشَّمْسُ
الْقُضَاةُ يَعْدِلُونَ
(۲)لَنْ يُفْلِحَ الكَسلانُ
الْحُسَادُ لَنْ يَسُودُوا
(۳)لا تنهر سائلاً
لَا تَسۡمَعۡ إِلَّا فِي الْخَيْرِ
لا تُقصِّرُوا في أعۡمَالِكُم
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۵،۶،۷
أحوال بناء الفعل الماضى: فعل ماضی کے مبنی ہونے کی حالتیں
الفِعْلُ المَاضِي يُبْنَى عَلَى الفَتْحِ، إِلَّا إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" فَيُبْنَى عَلَى الضَّمِّ، أَوِ اتَّصَلَتْ بِهِ "التَّاءُ المُتَحَرِّكَةُ" أَوْ "نُونُ النِّسْوَةِ" أَوْ "نَا الدَّالَّةُ عَلَى الفَاعِلِ"، فَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ.
فعل ماضی فتحہ پر مبنی ہوتا ہے مگر جب اس کے ساتھ واؤ جمع (مذکر) آ جائے تو پھر ضمہ پر مبنی ہوتا ہے اور جب اس کے آخر میں تاء متحرکہ یا نون نسوۃ (جمع مؤنث) یا ’نا‘ علامت فاعل آ جائے تو سکون پر مبنی ہو جاتا ہے۔
الأمثلة :
اشْتَدَّ الْبَرْدُ
ثَارَ الْغُبَارُ
نَزَلَ الْمَطَرُ
باقی عبارت پڑھیں (77)
الْأَوْلَادُ لَعِبُوا
الرِّجَالُ سَافَرُوا .
الْعُمَّالُ تَعِبُوا
فَتَحْتُ الْبَابَ
تَلَقَّفْتُ الْكُرَةَ
أَخَذْتُ جَائِزَةً .
صَدَقْتَ فِي قَوْلِكَ
عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ .
أَحْسَنْتَ إِلَى النَّاسِ.
الْبَنَاتُ تَعَلَّمْنَ الْحِيَاكَةَ
الْأُمَّهَاتِ أَطْعَمْنَ أَوْلَادَهُنَّ -
الْفَتَيَاتُ رَتَّبْنَ الْمَائِدَةَ
خَرَجْنَا إِلَى الْحُقُولِ .
اِسْتَنْشَقْنَا الْهَوَاءَ النَّقِيَ.
قَطَفْنَا الْأَرْهَارَ .
أحوال بناء الأمر: فعل امر کے مبنی ہونے کی حالتیں
يُبْنَى فِعْلُ الأَمْرِ عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ، وَكَذَلِكَ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ".
وَيُبْنَى عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ".
وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ حَرْفِ العِلَّةِ إِذَا كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ.
وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "أَلِفُ الِاثْنَيْنِ" أَوْ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" أَوْ "يَاءُ المُخَاطَبَةِ".
فعل امر اگر صحیح الاخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز (زائد حرف) متصل نہ ہو تو مبنی علی السکون ہوتا ہے اور اسی طرح جب اس کے ساتھ نون جمع مؤنث ملا ہوا ہو تو بھی مبنی علی السکون ہوتا ہے
اور جب فعل امر کے آخر میں نون تاکید ثقیلہ یا خفیفہ آیا ہو تو مبنی علی الفتح ہوتا ہے۔
اور اگر امر معتل الاخر ہو تو حرف علت حذف ہو جائے گا اور یہی حذف ہونا اس کے مبنی ہونے کی علامت ہے۔ اور اگر فعل امر کے ساتھ الف تثنیه یا واو جمع یا یاء مخاطب (واحد مؤنث) متصل ہو تو اس صورت میں نون کا حذف ہونا ہی امر کے مبنی ہونے کی علامت سمجھی جائے گی۔
الأمثلة :
نَظِفّۡ أَسْنَانَكَ بَعْدَ الأكل
تَمَهَّلْ فِي سَيْرِكَ
اسْتَمِعْ نُصْحَ الطَّبيبِ
اسْتَيْقِظْنَ مُبَكِّرَاتِ
أَجِدْنَ طَبْخَ الطَّعَامِ .
هَذَّبْنَ أَوْلَادَكُن .
تَجَنَّبَنَّ الْمِزَاحَ الكَثِيرَ.
عَاشِرَنَّ إِخْوَانَكَ بِالْمَعْرُوف
أُخْرُ جَنَّ إِلَى الْحُقُول
احْفَظَنْ عَهْدَ الصَّدِيقِ
أَحْسِنَنْ إِلَى النَّاسِ.
أَوْقِدَنْ مَصْبَاحَكِ .
أَلقِ الشَّبَكَةِ يَا صَيَاهُ .
ادْعُ الطَّبيبَ
تَحَرَّ الصَّدْقَ فِيمَا تَقُولُ
افْتَحَا نَوَافِذَ الْحُجْرَةِ
أَكْرِ مَا ضُيُوفَكُمَا
اهْزُزًا شَجَرَةَ النَّبْقِ .
أَخْرُجُوا إِلَى الْحُقُولِ .
رَتِّبِي أَثَاثَ الحُجْرَةِ
أَغْلِقِي بَابَ الدَّارِ .
اجْمَعُوا ثَمَرَ الْبُسْتَانِ
اِسْتَحِمُوا فِي النَّهْرِ .
احْفَظِي دَرْسَكِ :
أحوال بناء المضارع: فعل مضارع کے مبنی ہونے کی حالتیں
يُبْنَى الفِعْلُ المُضَارِعُ عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ"، وَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ"، وَيُعْرَبُ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ.
فعل مضارع کے ساتھ نون تاکید مل کر آئے (متصل ہو جائے) تو وہ مبنی علی الفتح ہو گا اور اگر اس کے ساتھ نون مل کر آئے (نون جمع مؤنث کا اتصال ہو جائے) تو مبنی علی السکون ہو گا۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ مضارع معرب رہتا ہے۔
الأمثلة :
لأَسْتَمِعَنَّ النَّصِيحَةَ
لَيَذْهَبَنَّ الْغِلْمَانُ .
أَلَا تَسْتَرِيحَنْ يَا سَعِيدُ .
أَلَا تَرْحَمَنْ هَذَا الْمِسْكِينَ
الطَّالِبَاتُ يَسْتَمِعْنَ النَّصِيحَةَ
النِّسَاءُ يَذْهَبْنَ
أَلا تَسْتَرِحْنَ يَا فَتَيَاتُ .
أَلَا تَرْحَمْنَ هَذَا الْمِسْكِينَ
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد:۳) سبق :۱
عربی میں فعل کی تین صورتیں ہوتی ہیں، ماضی، مضارع اور امر۔ ماضی اور امر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ مبنی ہیں لیکن مضارع معرب ہے اس لئے جملہ میں اس کی حیثیتوں کے لحاظ سے اس کے آخر میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جس طرح اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں اسی طرح مضارع کی بھی تین حالتیں ہوتی ہیں، جو یہ ہیں: مرفوع، منصوب اور مجزوم.
جب مضارع کے ساتھ جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث مخاطب پر دلالت کرنے والی ضمیر ( نون نسوة ) ہو تو وہ مبنی ہوگا، اس کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جیسے:
الْأَخَوَاتُ يَكْتُبْنَ.: بہنیں لکھ رہی ہیں ۔
مَاذَا تَكْتُبْنَ يَا أَخَوَاتُ؟ بہنو، آپ کیا لکھ رہی ہیں؟
دیگر چار صیغے مرفوع ہونے کی صورت میں ”مضموم“، منصوب ہونے کی صورت میں ”مفتوح“ اور مجزوم ہونے کی صورت میں ساکن ہوں گے۔
مرفوع کی مثالیں: نَكْتُبُ،أکتبُ،تكتبُ،يَكْتُبُ
منصوب کی مثالیں : لَنْ نَكْتُبَ ،لَنْ أَكْتُبَ ، لَنْ تَكْتُبَ ، لَنْ يَكْتُبَ
مجزوم کی مثالیں : لَمْ نَكْتُبْ ، لَمْ أَكْتُبْ، لَمْ تَكْتُبْ، لَمْ يَكْتُبْ
باقی عبارت پڑھیں (24)
یہ تینوں ( ضمہ، فتحہ اور سکون) اصلی علامتیں ہیں، کچھ ثانوی (فرعی) علامتیں بھی ہیں جو مندرجہ ذیل صورتوں میں استعمال ہوتی ہیں:
۱۔ فعل کے ان پانچ صیغوں میں جنہیں" افعال خمسہ" کہا جاتا ہے، مرفوع ہونے کی صورت میں نون باقی رہے گا جب کہ منصوب اور مجزوم ہونے کی صورت میں حذف ہو جائے گا۔
مرفوع کی مثالیں : تَكْتُبيْنَ، تَكْتُبُونَ،تَكْتَبَان، يَكْتُبُوْنَ ، يكتبان
منصوب کی مثالیں: لَنْ تَكْتبى،لَنْ تَكْتُبُوا، لَنْ تَكْتُبَا ، لَن يَكْتُبُوا، لَنْ يَكْتُبَا
مجزوم مثالیں: لَمْ تَكْتُبیۡ، لَمْ تَكْتُبُوا ، لَمْ تَکُتبَا، لَمْ يَكْتُبُوْا، لَمْ يَكْتُبَا
۔۲ فعل ناقص سے مجزوم ہونے کی صورت میں تیسرا حرف اصلی جو کہ حرف علت ہے گر جاتا ہے صوتی لحاظ سے یہ تبدیلی ہوتی ہے کہ مد کی صورت میں جو آواز لمبی ہو جاتی ہے وہ مختصر ہو جائے گی، جیسے:
يَتْلُوسے لَمْ يَتْلُ.
يَبْكِي سے لَمْ يَبْكِ.
يَنْسَى سے لَمْ يَنْسَ.
اعراب تقدیری
فعل ناقص میں مندرجہ ذیل علامتیں مقدر ( پوشیدہ ) ہوتی ہیں، جیسے:
(۱) مرفوع ہونے کی علامت ضمہ ان تمام افعال میں جن کے آخر میں ”الف“، ”ياء“ یا ”واو" ہو:
أَمْشِي میں چل رہا ہوں، اتلو میں تلاوت کر رہا ہوں، انسی میں بھول رہا ہوں
ان کی اصلی صورت یہ ہے: أَمْشِيُ أَتْلُوُ أَنْسَيُ.
(۲) نصب کی علامت فتحہ ان افعال میں جو الف پرختم ہوتے ہیں، جیسے:
أُريد أن أنسى: میں بھولنا چاہتا ہوں
لیکن جو افعال ی یا و پرختم ہوتے ہیں ان میں فتحہ ظاہر ہوگا، جیسے:
أرِيْدُ أَنْ أَمْشِيَ. : میں چلنا چاہتا ہوں۔
أُرِيدُ أَنْ أَتْلُوَ.: میں تلاوت کرنا چاہتا ہوں۔
۳) جزم کی علامت سکون مضعف افعال میں محذوف ہوتی ہیں، جیسے:
لَم أَحُجَّ.: میں نے حج نہیں کیا۔
یہاں پر لَم داخل ہونے کی وجہ سے ضمہ حذف ہو گیا تو لم احج باقی رہا، التقاء الساكنین سے بچنے کے لئے ایک فتحہ بڑھا دیا گیا تو لم أحجَّ ہو گیا
افعال خمسہ دیگر کتب میں2
النحو الواضح (ابتدائیہ)النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۳
الأَفْعَالُ الخَمْسَةُ هِيَ كُلُّ فِعْلٍ مُضَارِعٍ اتَّصَلَتْ بِهِ: أَلِفُ الِاثْنَيْنِ أو وَاوُ الجَمَاعَةِ أو يَاءُ المُخَاطَبَةِ
تُرْفَعُ الأَفْعَالُ الخَمْسَةُ بِثُبُوتِ النُّونِ، وَتُنْصَبُ وَتُجْزَمُ بِحَذْفِھا
افعال خمسہ وہ فعل مضارع ہیں جن کے ساتھ تثنیہ کا الف یا جمع کا واؤ یا مؤنث مخاطب کی یاء ملی ہو۔
حالت رفع میں افعال خمسہ کا نون باقی رہتا ہے اور حالت نصب و جزم میں حذف ہوجاتا ہے۔
الأمثلة :
(۱) الْعَامِلَانِ يَشْتَغِلَانِ .
باقی عبارت پڑھیں (16)
(٢) أَنْتُمَا تَشْتَغِلان
(۳) الْعُمَّالُ يَشْتَغِلُونَ .
(٤) أَنْتُمْ تَشْتَغِلُونَ .
(۵) أَنْتِ تَشْتَغِلِينَ
(۱) الْعَامِلَانَ لَنْ يَشۡتَغِلاَ
(٢) أَنْتُمَا لَنْ تَشۡتَغِلاَ
(٣) اَلْعُمَالُ لَنْ يَشۡتَغِلُوا .
(٤) أَنْتُمْ لَنْ تَشْتَغلُوا .
(۵)أَنْتِ لَنْ تَشْتَغِلى
(۱) الْعَامِلَان لَمْ يَشْتَغِلا
(٢) أَنْتُمَا لَمْ تَشْتَغِلاَ
(٣) الْعُمَّالُ لَمْ يَشْتَغِلُوا
(٤) أَنْتُمْ لَمْ تَشْتَغِلُوا
(۵) أَنْتِ لَمْ تَشْتَغِلي
دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلدــ:۲)
يَذْهَبُوْنَ، تَذْهَبُونَ اور تَذهَبِيْنَ کا نون مضارع منصوب اور مجزوم میں حذف ہو جاتا ہے ۔ يَذْهَبَانِ اور تَذْهَبان بھی ایسے ہی ہیں، مضارع کے ان پانچ صیغوں کو اَلْأَفْعَالُ الْخَمْسَةُ کہتے ہیں، ان کا نون مرفوع میں باقی رہتا ہے اور منصوب اور مجزوم میں حذف ہو جاتا ہے
2 النحو الواضح (ثانویۃ) (جلد:۲) سبق:۱،۲
المبنی مِنَ الْأَفعال: افعال جو مبنی ہوتے ہیں
الْمَبْنِيُّ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمَاضِي وَالْآمُرُ وَالْمُضَارِعُ الْمُتَّصِلُ بِنُونِ التَّوْكِيدِ أَوْ نُونِ الْإِنَاثِ.
الْمَاضِي يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَ بِضَمِيْرِ رَفَعٍ مُتَحَرِّک وَعَلَى الضَّمُ إِذَا اتَّصَلَ بِوَاوِ الْجَمَاعَةِ وَعَلَى الْفَتْحِ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ .
اَلْأمْرُ يُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الْآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ أَوِ اتصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ ، وَعَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيلَةً أَوْ خَفِيفَةً وَعَلَى حَذْفِ حَرْفِ الْعِلَّةٍ إِنْ كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ، وَعَلَى حَذَفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ أَلِفَ اثنيْنِ أَو وَاوُ جَمَاعَةٍ أَوْ يَاء مُخَاطَبَةٍ.
الْمُضَارِعُ يُبنى عَلَى الْفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ التَّوْكِيدِ ثَقِيْلَةً أَوْ خَفِيفَةٌ وَعَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ نُونُ النِّسْوَةِ.
افعال میں سے مبنی ماضی ، امر حاضر اور مضارع ہے جبکہ نون تاکید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو۔
ماضی مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ ضمیر مرفوع متحرک اس کے ساتھ متصل ہو اور مبنی علی الضم ہوتا ہے جبکہ واو جمع متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ ان دو صورتوں کے علاوہ ہو۔
امر مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ وہ صحیح الآخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز متصل نہ ہو یا اس کے ساتھ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو، اور مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور حرف علت کو حذف کر دیا جاتا ہے اگر اس کا آخر معتل ہو۔ اور نون کو حذف کر دیا جاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ الف تثنیہ متصل ہو یا واؤ جمع ہو یا یائے مخاطب ہو۔
مضارع مبنی علی الفتح ہوتا ہے جبکہ اس کے ساتھ نون تاکید ثقیله یا خفیفہ متصل ہو اور مبنی علی السکون ہوتا ہے جبکہ نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل ہو ۔
الأمثلة
(۱)
ركبتُ الْفَرَسَ
التُّجَارُرَبِحُوْا
حَضَرَ الغَائِبُ
(۲)
أطِعْ أبَاکَ
طَرِّزْنَ الثِّيَابَ
أُترُ كَنَّ الْجِدَالَ
أفْشِ السَّلَام
أوْفُوْا بِالعَهْدِ
(۳)
لأَنْصُرَنَّ الْمَظْلُوم
لَأجِیْدَنَّ عَمَلِىْ
اَلْبَنَاتُ یَأكُلْنَ
الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ: افعال جو معرب ہوتے ہیں
الْمُعْرَبُ مِنَ الْأَفْعَالِ هُوَ الْمُضَارِعُ الَّذِي لَمْ تَتَّصِلۡ بِآخِرِهِ نُونُ التوكيدِ او نُونُ الْإِنَاثِ.
يُرْفَعُ الْفِعْلُ الْمُضَارِعُ بِالضّمَّةِ وَ تَنُوُبُ عَنْهَا النُّوْنُ فِي الْأَفْعَالِ الخَمْسَةِ ، وَيُنصَبُ بِالْفَتحَةِ وَيَنوُبُ عَنْهَا حَذَفَ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الخمسَةِ وَيُجزمُ بالسكون وَ یَنُوۡبُ عَنْهُ حَذۡفُ حَرْفِ الْعِلْةِ فِي الأفعَالِ المُعتَلَةِ الآخِرِ، وَحَذۡفِ النُّونِ فِي الْأَفْعَالِ الْخَمْسَةِ.
افعال میں سے معرب وہ مضارع ہے کہ جس کے آخر میں نون تا کید اور نون نسوۃ (جمع مؤنث) متصل نہ ہو۔
فعل مضارع کو رفع دیا جاتا ہے ضمہ کے ذریعہ اور نون کو افعال خمسة میں اس کا قائم مقام بنایا جاتا ہے اور نصب دیا جاتا ہے فتحہ کے ساتھ اورافعال خمسه میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے ، اور جزم سکون کے ساتھ دیا جاتا ہے اور حرف علت کو افعال معتل کے آخر میں اس کے قائم مقام حذف کر دیا جاتا ہے اور افعال خمسہ میں نون کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
الأمثلة
(۱)تُشْرِقُ الشَّمْسُ
الْقُضَاةُ يَعْدِلُونَ
(۲)لَنْ يُفْلِحَ الكَسلانُ
الْحُسَادُ لَنْ يَسُودُوا
(۳)لا تنهر سائلاً
لَا تَسۡمَعۡ إِلَّا فِي الْخَيْرِ
لا تُقصِّرُوا في أعۡمَالِكُم
3 النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۵،۶،۷
أحوال بناء الفعل الماضى: فعل ماضی کے مبنی ہونے کی حالتیں
الفِعْلُ المَاضِي يُبْنَى عَلَى الفَتْحِ، إِلَّا إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" فَيُبْنَى عَلَى الضَّمِّ، أَوِ اتَّصَلَتْ بِهِ "التَّاءُ المُتَحَرِّكَةُ" أَوْ "نُونُ النِّسْوَةِ" أَوْ "نَا الدَّالَّةُ عَلَى الفَاعِلِ"، فَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ.
فعل ماضی فتحہ پر مبنی ہوتا ہے مگر جب اس کے ساتھ واؤ جمع (مذکر) آ جائے تو پھر ضمہ پر مبنی ہوتا ہے اور جب اس کے آخر میں تاء متحرکہ یا نون نسوۃ (جمع مؤنث) یا ’نا‘ علامت فاعل آ جائے تو سکون پر مبنی ہو جاتا ہے۔
الأمثلة :
اشْتَدَّ الْبَرْدُ
ثَارَ الْغُبَارُ
نَزَلَ الْمَطَرُ
الْأَوْلَادُ لَعِبُوا
الرِّجَالُ سَافَرُوا .
الْعُمَّالُ تَعِبُوا
فَتَحْتُ الْبَابَ
تَلَقَّفْتُ الْكُرَةَ
أَخَذْتُ جَائِزَةً .
صَدَقْتَ فِي قَوْلِكَ
عَدَلْتَ فِي حُكْمِكَ .
أَحْسَنْتَ إِلَى النَّاسِ.
الْبَنَاتُ تَعَلَّمْنَ الْحِيَاكَةَ
الْأُمَّهَاتِ أَطْعَمْنَ أَوْلَادَهُنَّ -
الْفَتَيَاتُ رَتَّبْنَ الْمَائِدَةَ
خَرَجْنَا إِلَى الْحُقُولِ .
اِسْتَنْشَقْنَا الْهَوَاءَ النَّقِيَ.
قَطَفْنَا الْأَرْهَارَ .
أحوال بناء الأمر: فعل امر کے مبنی ہونے کی حالتیں
يُبْنَى فِعْلُ الأَمْرِ عَلَى السُّكُونِ إِذَا كَانَ صَحِيحَ الآخِرِ وَلَمْ يَتَّصِلْ بِهِ شَيْءٌ، وَكَذَلِكَ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ".
وَيُبْنَى عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ".
وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ حَرْفِ العِلَّةِ إِذَا كَانَ مُعْتَلَّ الآخِرِ.
وَيُبْنَى عَلَى حَذْفِ النُّونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "أَلِفُ الِاثْنَيْنِ" أَوْ "وَاوُ الجَمَاعَةِ" أَوْ "يَاءُ المُخَاطَبَةِ".
فعل امر اگر صحیح الاخر ہو اور اس کے ساتھ کوئی چیز (زائد حرف) متصل نہ ہو تو مبنی علی السکون ہوتا ہے اور اسی طرح جب اس کے ساتھ نون جمع مؤنث ملا ہوا ہو تو بھی مبنی علی السکون ہوتا ہے
اور جب فعل امر کے آخر میں نون تاکید ثقیلہ یا خفیفہ آیا ہو تو مبنی علی الفتح ہوتا ہے۔
اور اگر امر معتل الاخر ہو تو حرف علت حذف ہو جائے گا اور یہی حذف ہونا اس کے مبنی ہونے کی علامت ہے۔ اور اگر فعل امر کے ساتھ الف تثنیه یا واو جمع یا یاء مخاطب (واحد مؤنث) متصل ہو تو اس صورت میں نون کا حذف ہونا ہی امر کے مبنی ہونے کی علامت سمجھی جائے گی۔
الأمثلة :
نَظِفّۡ أَسْنَانَكَ بَعْدَ الأكل
تَمَهَّلْ فِي سَيْرِكَ
اسْتَمِعْ نُصْحَ الطَّبيبِ
اسْتَيْقِظْنَ مُبَكِّرَاتِ
أَجِدْنَ طَبْخَ الطَّعَامِ .
هَذَّبْنَ أَوْلَادَكُن .
تَجَنَّبَنَّ الْمِزَاحَ الكَثِيرَ.
عَاشِرَنَّ إِخْوَانَكَ بِالْمَعْرُوف
أُخْرُ جَنَّ إِلَى الْحُقُول
احْفَظَنْ عَهْدَ الصَّدِيقِ
أَحْسِنَنْ إِلَى النَّاسِ.
أَوْقِدَنْ مَصْبَاحَكِ .
أَلقِ الشَّبَكَةِ يَا صَيَاهُ .
ادْعُ الطَّبيبَ
تَحَرَّ الصَّدْقَ فِيمَا تَقُولُ
افْتَحَا نَوَافِذَ الْحُجْرَةِ
أَكْرِ مَا ضُيُوفَكُمَا
اهْزُزًا شَجَرَةَ النَّبْقِ .
أَخْرُجُوا إِلَى الْحُقُولِ .
رَتِّبِي أَثَاثَ الحُجْرَةِ
أَغْلِقِي بَابَ الدَّارِ .
اجْمَعُوا ثَمَرَ الْبُسْتَانِ
اِسْتَحِمُوا فِي النَّهْرِ .
احْفَظِي دَرْسَكِ :
أحوال بناء المضارع: فعل مضارع کے مبنی ہونے کی حالتیں
يُبْنَى الفِعْلُ المُضَارِعُ عَلَى الفَتْحِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ التَّوْكِيدِ"، وَيُبْنَى عَلَى السُّكُونِ إِذَا اتَّصَلَتْ بِهِ "نُونُ النِّسْوَةِ"، وَيُعْرَبُ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ.
فعل مضارع کے ساتھ نون تاکید مل کر آئے (متصل ہو جائے) تو وہ مبنی علی الفتح ہو گا اور اگر اس کے ساتھ نون مل کر آئے (نون جمع مؤنث کا اتصال ہو جائے) تو مبنی علی السکون ہو گا۔ ان دونوں صورتوں کے علاوہ مضارع معرب رہتا ہے۔
الأمثلة :
لأَسْتَمِعَنَّ النَّصِيحَةَ
لَيَذْهَبَنَّ الْغِلْمَانُ .
أَلَا تَسْتَرِيحَنْ يَا سَعِيدُ .
أَلَا تَرْحَمَنْ هَذَا الْمِسْكِينَ
الطَّالِبَاتُ يَسْتَمِعْنَ النَّصِيحَةَ
النِّسَاءُ يَذْهَبْنَ
أَلا تَسْتَرِحْنَ يَا فَتَيَاتُ .
أَلَا تَرْحَمْنَ هَذَا الْمِسْكِينَ
4 دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد:۳) سبق :۱
عربی میں فعل کی تین صورتیں ہوتی ہیں، ماضی، مضارع اور امر۔ ماضی اور امر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی اس لئے کہ یہ مبنی ہیں لیکن مضارع معرب ہے اس لئے جملہ میں اس کی حیثیتوں کے لحاظ سے اس کے آخر میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے، جس طرح اسم کی تین حالتیں ہوتی ہیں اسی طرح مضارع کی بھی تین حالتیں ہوتی ہیں، جو یہ ہیں: مرفوع، منصوب اور مجزوم.
جب مضارع کے ساتھ جمع مؤنث غائب اور جمع مؤنث مخاطب پر دلالت کرنے والی ضمیر ( نون نسوة ) ہو تو وہ مبنی ہوگا، اس کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی، جیسے:
الْأَخَوَاتُ يَكْتُبْنَ.: بہنیں لکھ رہی ہیں ۔
مَاذَا تَكْتُبْنَ يَا أَخَوَاتُ؟ بہنو، آپ کیا لکھ رہی ہیں؟
دیگر چار صیغے مرفوع ہونے کی صورت میں ”مضموم“، منصوب ہونے کی صورت میں ”مفتوح“ اور مجزوم ہونے کی صورت میں ساکن ہوں گے۔
مرفوع کی مثالیں: نَكْتُبُ،أکتبُ،تكتبُ،يَكْتُبُ
منصوب کی مثالیں : لَنْ نَكْتُبَ ،لَنْ أَكْتُبَ ، لَنْ تَكْتُبَ ، لَنْ يَكْتُبَ
مجزوم کی مثالیں : لَمْ نَكْتُبْ ، لَمْ أَكْتُبْ، لَمْ تَكْتُبْ، لَمْ يَكْتُبْ
یہ تینوں ( ضمہ، فتحہ اور سکون) اصلی علامتیں ہیں، کچھ ثانوی (فرعی) علامتیں بھی ہیں جو مندرجہ ذیل صورتوں میں استعمال ہوتی ہیں:
۱۔ فعل کے ان پانچ صیغوں میں جنہیں" افعال خمسہ" کہا جاتا ہے، مرفوع ہونے کی صورت میں نون باقی رہے گا جب کہ منصوب اور مجزوم ہونے کی صورت میں حذف ہو جائے گا۔
مرفوع کی مثالیں : تَكْتُبيْنَ، تَكْتُبُونَ،تَكْتَبَان، يَكْتُبُوْنَ ، يكتبان
منصوب کی مثالیں: لَنْ تَكْتبى،لَنْ تَكْتُبُوا، لَنْ تَكْتُبَا ، لَن يَكْتُبُوا، لَنْ يَكْتُبَا
مجزوم مثالیں: لَمْ تَكْتُبیۡ، لَمْ تَكْتُبُوا ، لَمْ تَکُتبَا، لَمْ يَكْتُبُوْا، لَمْ يَكْتُبَا
۔۲ فعل ناقص سے مجزوم ہونے کی صورت میں تیسرا حرف اصلی جو کہ حرف علت ہے گر جاتا ہے صوتی لحاظ سے یہ تبدیلی ہوتی ہے کہ مد کی صورت میں جو آواز لمبی ہو جاتی ہے وہ مختصر ہو جائے گی، جیسے:
يَتْلُوسے لَمْ يَتْلُ.
يَبْكِي سے لَمْ يَبْكِ.
يَنْسَى سے لَمْ يَنْسَ.
اعراب تقدیری
فعل ناقص میں مندرجہ ذیل علامتیں مقدر ( پوشیدہ ) ہوتی ہیں، جیسے:
(۱) مرفوع ہونے کی علامت ضمہ ان تمام افعال میں جن کے آخر میں ”الف“، ”ياء“ یا ”واو" ہو:
أَمْشِي میں چل رہا ہوں، اتلو میں تلاوت کر رہا ہوں، انسی میں بھول رہا ہوں
ان کی اصلی صورت یہ ہے: أَمْشِيُ أَتْلُوُ أَنْسَيُ.
(۲) نصب کی علامت فتحہ ان افعال میں جو الف پرختم ہوتے ہیں، جیسے:
أُريد أن أنسى: میں بھولنا چاہتا ہوں
لیکن جو افعال ی یا و پرختم ہوتے ہیں ان میں فتحہ ظاہر ہوگا، جیسے:
أرِيْدُ أَنْ أَمْشِيَ. : میں چلنا چاہتا ہوں۔
أُرِيدُ أَنْ أَتْلُوَ.: میں تلاوت کرنا چاہتا ہوں۔
۳) جزم کی علامت سکون مضعف افعال میں محذوف ہوتی ہیں، جیسے:
لَم أَحُجَّ.: میں نے حج نہیں کیا۔
یہاں پر لَم داخل ہونے کی وجہ سے ضمہ حذف ہو گیا تو لم احج باقی رہا، التقاء الساكنین سے بچنے کے لئے ایک فتحہ بڑھا دیا گیا تو لم أحجَّ ہو گیا
5 تمارین
6 النحو الواضح (ثانویۃ) (جلد:۲) سبق:۱،۲
المبنی من الأفعال
التمرين (۱)
مَيِّزِ الْأَفْعَالَ الْمَبْنِيَةَ فِيمَا يَأْتِي، وَبَيّنْ حَالَ بِنَاءِ كُلّ مِّنْهَا:
قَالَ الإِمَامُ عَلِيٌّ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ مِنْ وَصِيَّةٍ بَعَثَ بِهَا إِلَى ابْنِهِ الْحَسَنِ رَضِىَ اللّٰهُ عنهُ.
امْحَضْ أَخَاكَ النَّصِيحَةَ وَتَجَرَّعِ الْغَيْظَ فَإِنِّي لَمْ أَرَ جُرْعَةً أَحْلَى مِنْهَا عَاقِبَةً وَلا ألَذَّ مَغَبَّةً وَلِنْ لِمَنْ غَالَظَكَ فَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَلِيْنَ لَكَ وَإِنْ أَرَدْتَ قَطِيْعَةَ أَخِيْكَ فَاسْتَبْقِ لَهُ مِنْ نَفْسِكَ بَقِيَّةً تَرْجِعُ إِلَيْهَا إِنْ بَدَا لَهُ ذلِكَ يَوْمًا مَّا وَمَنْ ظَنَّ بِكَ خَيْرًا فَصَدِّقَ ظَنَّهُ، وَلَا تَرْغَبَنَّ فِيْمَنْ زَهِدَ عَنْكَ وَلا يَكُونَنَّ أَخُوكَ عَلَى مُقَاطِعَتِكَ أَقْوى مِنْكَ عَلَى صِلَتِهِ، وَلَا تَكُونَنَّ عَلَى الْإِسَاءَةِ أَقْوَى مِنْكَ عَلَى الْإِحْسَانِ.
التَّمْرِينُ (۲)
ضَعۡ كُلَّ فِعْلٍ مِنَ الْأَفْعَالِ الآتِيَةِ فِي ثَلَاثِ جُمَلٍ، بِحَيْثُ يَكُونُ فِي الْأُوْلَى مَبْنِيًّا عَلَى الْفَتْحِ ، وَفِي الثَّانِيَةِ مَبْنِيًّا عَلَى الضَّمِّ، وَفِي الثَّالِثَةِ مَبْنِيًّا عَلَى السُّكُوْنِ.
اَكْرَمَ ، نَصَرَ ، اِسْتَفَادَ ، عَاوَنَ
التمرين(۳)
ضَعْ كُلَّ فِعْلٍ مِنَ الْأَفْعَالِ الآتِيَةِ فِي جُمْلَتَيْنِ، بِحَيْثُ يَكُونُ فِي الْأُوْلَى مَبنِيًّا عَلَى الْفَتْحِ، وَفِي الثَّانِيَةِ مَبْنِيًّا عَلَى السَّكُونِ.
(۱) يَنْسَى
(۲) يَرْجُو
(۳) يُحْسِنُ
(۴) يُسَاعِدُ
التَّمْرِينُ (۴)
اسُندِ الْفِعْلَ " فَرِحَ “ إِلَى جَمِيعِ ضَمَائِرِ الرَّفْعِ الْبَارِزَةِ الْمُتَّصِلَةِ، ثُمَّ بَيِّنۡ نَوْعَ بِنَائِهِ فِي كُلِّ حَالٍ .
التَّمُرِينُ (۵)
هَاتِ فِعْلَ الْأَمْرِ مِنْ " يَسْعَى " بِحَيْثُ يَكُونُ مَرَّةً مَبْنِيًّا عَلَى الْفَتْحِ ، وَمَرَّةً مَبْنِيًّا عَلَى السَّكُونِ وَمَرَّةً مَبْنِيًّا عَلَى حَذْفِ حَرْفِ الْعِلَّةِ وَمَرَّةً عَلَى حَذْفِ النونِ.
التَّمْرِينُ(۶)
حَوِّلِ الْجُملَةَ الْآتِيَةَ إِلَى خِطَابِ الْمُفْرَدَةِ الْمُؤنَّثَةِ، ثُمَّ إِلَى الْمُثَنَّى وَالْجَمْعِ بِنَوْعَيْهِ، وَبَيِّنْ نَوْعَ بِنَاءِ فِعَلَيْهَا فِي كُلِّ حَالٍ:
إِذَا وَعَدْتَ عِدَةً فَأَنْجِزۡ.
التَّمْرِينُ(۷)
عَيِّنۡ فِي الْأَمْثِلَةِ الْآتِيَةِ الْأَفْعَالَ الْمَبْنِيَّةَ وَالْمُعْرَبَةَ وَبَيِّنْ سَبَبَ الْبِنَاءِ وَالْإِعْرَابِ.
(۱) الْبَنَاتُ يَنْهَضْنَ إِلَى الْعَمَلِ مُبَكِّرَاتٍ
(۲) لا تَعْتَمِدُنَّ عَلَى غَيْرِ انْفُسِكُمْ
(۳) لا تَغْدِرَانِّ بِذِمَّتِكُمَا
(۴) لا يُزَهِّدَنَّكَ فِي الْمَعْرُوفِ مَنْ لا يَشْكُرُ لَكَ
(۵) إِذَا مَدَحْتِ فَلَا تُبَالِغِنَّ فِي الْمَدْحِ
(۶) كُنَّ مُقَدِّرَاتٍ وَلَا تَكُنَّ مُقَتِّرَاتٍ
تَمْرِينٌ فِي الْإِعْراب(۸)
(۱) نموذج
لَتَرْفَعُنَّ شَانَ الْوَطْنِ
لَتَرْفَعُنَّ ---اللام لام القسم ، وَتَرْفَعُنَّ فعل مضارع مرفوع بالنون المحذوفة. لتوالى الامثال والواو المحذوفة لالتقاء الساكنين فاعل.والنون المشددَّة للتوكيد.
شأن-- مفعول به منصوب وهو مضاف،
الوَطَنِ-- مضاف اليه مجرور .
(ب) أَعْرِبِ الْجُمَلَ الْآتِيَةَ:
(۱) لَتَصْبِرَانِّ عَلَى الْمَكْرُوهِ
(۲) لَتُعَاقَبُنَّ إِذَا أَسَأْتُمْ
(۳) لَتَفُوزِنَّ إِذَا اجْتَهَدَتِ
(۴) لا تَصْنَعُنَّ مَعْرُوفًا فِي غَيْرِ أَهْلِهِ
التَّمُرِين:(۹)
اشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَهُمَا فِي الْمَدِيحِ وَبَيِّنْ فِيهِمَا الْأَفْعَالَ الْمَبْنِيَّةَ وَأَحْوَالَ بِنَائِهَا .
وَقَيَّدۡتُ نَفْسِي فِي ذَرَاكَ مَحَبَّةً
وَمَنْ وَجَدَ الْإِحْسَانَ قَيْدًا تَقَيَّدا
إِذَا سَأَلَ الْإِنْسَانُ أَيَّامَهُ الْغِنَى
وَكُنْتَ عَلَى بُعْدٍ جَعَلْنَكَ مَوْعِدًا
التمرين : ۱۰
اشْرَحْ بَيْتَى زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلمي وَأَعْرِبِ الْأَوَّلَ مِنْهُمَا:
فَلا تَكْتُمُنَّ اللَّهَ مَا فِي نُفُوسِكُمْ
لِيَخْفَي وَمَهۡمَا يُكْتَم اللَّهُ يَعْلَمِ
يُؤَخِّر فَيُوْضَعُ فِي كِتَابٍ فَيُدَّخَر
لِيَوْمِ الْحِسَابِ أَوْ يُعَجَّلْ فَيُنْقَم
المعرب من الأفعال
التمرين: (۱)
ميِّزِ الْأَفْعَالَ الْمَبْنِيَةَ مِنَ الْأَفْعَالِ الْمُعْرَبَةِ فِيمَا يَأْتِي ، وَبَيِّنۡ نَوْعَ الْبِنَاءِ أَوِ الْإِعْرَابِ فِي كُلِّ فِعْلٍ مَعَ ذِكْرِ سَبَبِ نَوعِ الْإِعْرَابِ:
أوصى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاس رَجُلاً فَقَالَ : لَا تَتَكَلَّمْ بِمَا لَا يَعْنِيكَ، وَدَعِ الْكَلَامَ في كَثِيرٍ مِمَّا يَعْنِيكَ حَتَّى تَجِدَ لَهُ مَوْضِعًا، وَلَا تُمَارِيَنَّ حَلِيمًا وَلَا سَفِيهًا فَإِنَّ الْحَلِيمَ يُطْغِيْكَ، وَالسَّفِيهَ يُؤْذِيكَ ، وَاذْكُرۡ أَخَاكَ إِذَا تَوَارَى عَنْكَ بِمَا تُحِبُّ أَنْ يَذْكُرَكَ بِهِ إِذَا تَوَارَيْتَ عَنْهُ، وَاعْمَلْ عَمَلَ امْرِئٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ مَجْزِیٌّ بِالْإِحْسَانِ مَأْخُوذُ بِالْإِجْرَامِ.
التَّمْرِينُ: (۲)
اَسْنِدِ الْأَفْعَالَ الْآتِيَةَ إِلَى اَلِفِ الإِثْنَيْنِ، وَوَاوِ الْجَمَاعَةِ، وَيَاءِ الْمُخَاطَبَةِ، عَلَى التَّرْتِيبِ وَاجْعَلْهَا مَرَّةً مَرْفُوعَةً، وَ مَرَّةً مَنصُوبَةً وَمَرَّةً مَجْزُومَةً:
يَسْتَفِيدُ ، يَخْشَى، يَدْنُو.
التمرين(۳)
اجْعَلْ اسْمَ الإِشَارَةِ فِي الْجُمْلَةِ الْآتِيَةِ لِلْمُثَنَّى بِنَوْعَيْهِ ثُمَّ لِجَمَاعَةِ الذُّكُورِ، وَرَاعِ مَا يَقْتَضِيهِ ذَلِكَ مِنَ التَّغْيِيرِ فِي الْجُمُلَةِ ، ثُمَّ أَعْرِبِ الْفِعْلَيْنِ فِي الْحَالِ الْأُولَى:
"هَذَا الرَّجُلُ يَهْوَى الْفَضِيلَةَ وَيَهْدِي النَّاسَ إِلَيْهَا"
التمرين (۴)
حَوّلِ الْخِطَابَ فِي الْعِبَارَةِ الْآتِيَةِ إِلَى الْمُفْرَدَةِ الْمُؤنَّثةِ، ثُمَّ إِلَى الْمُثَنَّى وَالْجَمْعِ بِنَوْعَيْهِ:
" اِرْضَ مِنَ النَّاسِ مَا تَرْضَاهُ لَهُمْ مِنْ نَفْسِكَ وَلَا تَقُلْ مَا لا تُحِبُّ أَنْ يُقَالَ لَكَ "
التَّمْرِين(۵)
اشْرَحِ الْبَيْتَيْنِ الْآتِيَيْنِ وَأَعْرِبِ الْأَوَّلَ مِنْهُمَا:
قَسَا فَالْاسَدُ تُفْزَعُ مِنْ قُوَاهُ
وَرَقَّ فَنَحْنُ نفْزَعُ أَنْ يَذُوبَا
أَشَدُّ مِنَ الرِّيَاحِ الْهُوْجِ بَطْشَاً
وَأَسْرَعُ فِي النَّدَى مِنْهَا هَبُوبًا
7 النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۵، ۶،۷
أحوال بناء الفعل الماضى
التمرين ( ا )
عين فى العبارة الاتية الافعال الماضية المبنية على الفتح والمبنية على الضم والمبنية على السكون، وبين السبب في ذلك۔
خرجت من المنزل عصرًا فصاد فني في الطريق ثلاثة غلمان عرفتهم وعرفونى فاقترحت عليهم ان نزور حديقة الحيوان فقبلوا الفكرة وفرحوابها ثم سرنا جميعًا اليها فدخلناها وشاهدنا مافيها من أنواع الطير وصنوف الحيوان وبعد ساعتين قضيناهما هنالك عاد كل منا الى اهله مملوءًا بالنشاط والسرور۔
التمرين (۲)
ضع كل فعل من الافعال الاتية فى جملة مفيدة بحيث يكون مرة مبنيا على الفتح ومرة مبنيا على الضم ومرة مبنيا على السكون۔
سَبَح
غَرِق
اِستفهم
اجتمعَ
انخَدَع
التمرين (۳)
(ا) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض مبنى على الفتح۔
(r) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض مبنى على الضم۔
(۳) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض مبنى على السكون ۔
التمرين (۴)
(١) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض متصل بواو الجماعة۔
(۲) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض متصل بالتاء المتحركة۔
(۳) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض متصل بنون النسوة۔
(۴) كون ثلاث جمل في كل منها فعل ماض متصل بنا الدالة على الفاعل۔
تمرين في الإعراب (۵)
(ا) نموذج :
قرأنا الكتاب
قرأنا - قرأنا فعل ماض منى على السكون و « نا » فاعل مبنى على السكون
الكتاب - مفعول به منصوب بالفتحة
( ب ) أعرب ما يأتي :
(۱) شَممتُ الورد
(۲) سَبَحنَا فی النھر
احوال بناء فعل الأمر
التمرين ( ا )
عين في العبارة الاتية افعال الامر المبنية على السكون والمبنية على الفتح والمبنية على حذف الاخر واذكر السبب في كل حال۔
اذا زارک صديق فالقه بالبشر و بالغ في اكرامه واصغ الى حديثه واجعلنه يشعر كانه في منزله وبين اهله واذا اراد الانصراف فشيعنه الى الباب واشكرنه على زيارته وارج ان يعود الى زیارتك فى الفرص القريبة۔
التمرين (۲)
هات امر كل فعل من الافعال الماضية الاتية بحيث يكون مرة مبنيا على السكون، ومرة على الفتح، ومرة على حذف النون
كتب
فهم
اجتهد
استفهم
التمرين (۳)
هات افعال الامر من الافعال المضارعة الاتية مع المحافظة على ما اتصل بها ان كانت متصلة بشئي وبين على اى شي یبنی کل فعل امر تاتی به:
يهدي
يجلسان
يشربون
تنامين
يلعبن
يكتب
التمرين (۴)
حول الجملة الاتية الى خطاب الاثنين ثم جماعة الذكور ثم الى المفردة المونثۃ وبين نوع بناء فعليها في كل حال.
اِسمع نصح الطبیب واعمل بہ
التمرين (۵)
(۱) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على السكون۔
(۲) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على الفتح۔
(۳) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على حذف الألف۔
(٤) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على الواو۔
(٥) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على الياء۔
(٦) ایت بثلاث جمل يبتدى كل منها بفعل امر مبنى على النون۔
تمرين فی الإنشاء (٦)
(١) هات ثلاث جمل تامر فيها خادمة بثلاثة اعمال تختص بحجرة الطعام۔
(۲) هات ثلاث جمل تامر فيها اخویک بثلاثة اعمال تكسب الجسم صحة۔
(٣) هات ثلاث جمل تامر فيها اصدقاء ک بثلاثة اعمال تكسبهم رضا آبائهم۔
تمرين في الإعراب (۷)
(۱) نموذج :
(۱) ارج الخير .
ارج : فعل أمر مبنی علی حذف الواو
الخير : مفعول به منصوب بالفتحة
(۲) انتبهوا للدرس .
انتبهوا: فعل أمر مبني على حذف النون ، والواو فاعل مبنى على السكون
للدرس: اللام حرف جر مبنى على الكسر ، والدرس مجرور باللام وعلامة جره الكسرة
( ب ) أعرب الجمل الآتية :
امتط الجواد .
اغسلن الملابس
أطعما الفقراء
اقطفن الأزهار .
احوال بناء فعل المضارع
التمرين ( ا )
عين في العبارات الاتية الافعال المضارعة المعربة ثم المبنية على الفتح وعلى السكون واذكر السبب في كل
١- كنت اودان ازور اليوم دار الكتب ودار الاثار ولكن لم اجد وقتا كافيا فزرت دار الكتب وساذهب الى دار الاثار غدا۔
۲- لا تكثرن معاتبة الصديق ولا يزهدنك فيه ذنب صغير يحيط به حمید فعاله۔
٣- البنات ينافس الغلمان فى كثير من الاعمال وقد يفقنهم۔
التمرين (۲)
ضع الافعال المضارعة الاتية في جمل مفيدة بحيث تكون مرة معربة ومرة مبنية على الفتح ومرة مبنية على السكون۔
يطبخ
يهذب
ينظف
يداعب
يتلطف
يسال
التمرين (۳)
(١) كون ثلاث جمل في كل جملة منها فعل مضارع معرب.
(۲) كون ثلاث جمل في كل جملة منها فعل مضارع مبنى على الفتح
(۳) كون ثلاث جمل في كل جملة منها فعل مضارع مبنى على السكون
8 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں
9 افعال خمسہ
افعال خمسہ کی تعریف:
افعال خمسہ وہ افعال ہیں جو مضارع فعل کے پانچ صیغوں میں آتے ہیں اور ان کے آخر میں ہمیشہ "ن" (نون) ہوتا ہے۔ یہ صیغے مذکر و مؤنث، واحد، تثنیہ اور جمع کے مطابق مختلف ہوتے ہیں۔
افعال خمسہ کی تفصیلات:
افعال خمسہ کے پانچ صیغے درج ذیل ہیں:
تفعلان (تم دونوں کرتے ہو/تم دونوں کرتی ہو)
يفعلان (وہ دونوں کرتے ہیں/وہ دونوں کرتی ہیں)
تفعلون (تم سب کرتے ہو)
يفعلون (وہ سب کرتے ہیں)
تفعلين (تم (واحد مؤنث) کرتی ہو)
افعال خمسہ کی اعرابی حالتیں:
افعال خمسہ مضارع فعل کی مخصوص صورتیں ہیں، اس لیے ان کی اعرابی حالتیں حسبِ ذیل ہیں:
رفع کی حالت:
جب فعل مضارع اپنی اصل حالت میں ہوتا ہے اور کسی جازم یا ناصب حرف سے متاثر نہ ہو۔ اس حالت میں افعال خمسہ کے آخر میں "ن" (نون) برقرار رہتا ہے۔
مثال:
أنتما تفعلان (تم دونوں کرتے ہو)
هم يفعلون (وہ سب کرتے ہیں)
نصب کی حالت:
جب فعل مضارع پر ناصب حرف (جیسے: أن، لن، كي، لام التعليل وغیرہ) داخل ہو۔ اس حالت میں افعال خمسہ کے آخر میں موجود "ن" (نون) کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
مثال:
لن تفعلوا (تم سب نہیں کرو گے)
لن يفعلا (وہ دونوں نہیں کریں گے)
جزم کی حالت:
جب فعل مضارع پر جازم حرف (جیسے: لم، لا الناهية، لما وغیرہ) داخل ہو۔ اس حالت میں بھی افعال خمسہ کے آخر میں موجود "ن" (نون) کو حذف کر دیا جاتا ہے۔
مثال:
لم تفعلوا (تم سب نے نہیں کیا)
لم تفعلي (تم (مؤنث) نے نہیں کیا)
افعال خمسہ کا خلاصہ:
افعال خمسہ پانچ مخصوص صورتیں ہیں جو مضارع فعل کے ساتھ آتی ہیں اور ان کے آخر میں "ن" ہوتا ہے۔ رفع کی حالت میں "ن" برقرار رہتا ہے، جبکہ نصب اور جزم کی حالت میں "ن" کو حذف کر دیا جاتا ہے۔ ان افعال کا استعمال مخصوص ضمائر (تم دونوں، وہ دونوں، تم سب، وہ سب) کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
افعال خمسہ کا استعمال فعل مضارع میں جمع اور تثنیہ کی شکل میں بہت عام ہے اور یہ اعرابی تبدیلیوں کے ساتھ جملوں میں مختلف معانی پیدا کرتے ہیں۔
10 النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۳
الأَفْعَالُ الخَمْسَةُ هِيَ كُلُّ فِعْلٍ مُضَارِعٍ اتَّصَلَتْ بِهِ: أَلِفُ الِاثْنَيْنِ أو وَاوُ الجَمَاعَةِ أو يَاءُ المُخَاطَبَةِ
تُرْفَعُ الأَفْعَالُ الخَمْسَةُ بِثُبُوتِ النُّونِ، وَتُنْصَبُ وَتُجْزَمُ بِحَذْفِھا
افعال خمسہ وہ فعل مضارع ہیں جن کے ساتھ تثنیہ کا الف یا جمع کا واؤ یا مؤنث مخاطب کی یاء ملی ہو۔
حالت رفع میں افعال خمسہ کا نون باقی رہتا ہے اور حالت نصب و جزم میں حذف ہوجاتا ہے۔
الأمثلة :
(۱) الْعَامِلَانِ يَشْتَغِلَانِ .
(٢) أَنْتُمَا تَشْتَغِلان
(۳) الْعُمَّالُ يَشْتَغِلُونَ .
(٤) أَنْتُمْ تَشْتَغِلُونَ .
(۵) أَنْتِ تَشْتَغِلِينَ
(۱) الْعَامِلَانَ لَنْ يَشۡتَغِلاَ
(٢) أَنْتُمَا لَنْ تَشۡتَغِلاَ
(٣) اَلْعُمَالُ لَنْ يَشۡتَغِلُوا .
(٤) أَنْتُمْ لَنْ تَشْتَغلُوا .
(۵)أَنْتِ لَنْ تَشْتَغِلى
(۱) الْعَامِلَان لَمْ يَشْتَغِلا
(٢) أَنْتُمَا لَمْ تَشْتَغِلاَ
(٣) الْعُمَّالُ لَمْ يَشْتَغِلُوا
(٤) أَنْتُمْ لَمْ تَشْتَغِلُوا
(۵) أَنْتِ لَمْ تَشْتَغِلي
11 دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلدــ:۲)
يَذْهَبُوْنَ، تَذْهَبُونَ اور تَذهَبِيْنَ کا نون مضارع منصوب اور مجزوم میں حذف ہو جاتا ہے ۔ يَذْهَبَانِ اور تَذْهَبان بھی ایسے ہی ہیں، مضارع کے ان پانچ صیغوں کو اَلْأَفْعَالُ الْخَمْسَةُ کہتے ہیں، ان کا نون مرفوع میں باقی رہتا ہے اور منصوب اور مجزوم میں حذف ہو جاتا ہے
12 تمارین
13 النحوا الواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۱۳
التمرين (۱)
عين علامات الاعراب في الافعال المضارعة التي في الامثلة الآتية:
۱۔ انتم تقولون مالا تفعلون۔
۲۔ اختلف الشريكان ولم يتفقا۔
۳۔ لم نر اللصوص وهم يسرقون۔
۴۔ ای عمل تعالجيه تحسنيه۔
۵۔ لم يشتغل العاملان حتى يستريحا۔
۶۔ انت تلبسين ما تخيطين۔
۷۔ ان تعملوا توجروا۔
۸۔ لم يسق الفلاحون الأرض ولم يحرثوها۔
التمرين (۲)
حول الافعال المضارعة التي في الجمل الاتية من حالة الرفع الى حالة النصب ثم الى حالة الجزم
۱۔ الرجلان يتحادثان
۲ تنمو الشجرتان وتورقان
۳۔ يقراء الغلمان ويكتبون
۴۔ يجنى الفلاحون القطن و يبيعونه
۵۔ انت يا زينب تلعبين
۶۔ انت يا فاطمة تكتبين
التمرين (۳)
(۱) كون ثلاث جمل اسمية في كل منها فعل مضارع مرفوع متصل بالف الاثنين۔
(۲) كون ثلاث جمل اسمية في كل منها فعل مضارع مرفوع متصل بالف الاثنتين۔
(۳) كون ثلاث جمل اسمية في كل منها فعل مضارع منصوب متصل بواو الجماعة۔
(۴) كون ثلاث جمل اسمية في كل منها فعل مضارع مجزوم متصل بـیاء المخاطبة۔
التمرين (۴)
ضع الافعال . الاتية في جمل: تامة مع اتصالها بالف الاثنين مرة والف الأثنين مرة اخرى۔
ياكل ، يفتح ، يستظل ، يطفى ، يستهل
التمرين (۵)
ضع الافعال الآتية في جمل تامة مع اتصالها بواو الجماعة مرة وبياء المخاطبة اخرى۔
يقرا ، يركب ، يخاف ، يستصعب، ينظف ، يستعين
التمرين (٦)
ضع جملة فعلية فعلها مضارع فى كل مان خال وبين علامة اعراب الفعل:
۱۔ الولدان ..... النهر
۲۔ الملوك ..... العلماء
۳۔ انت يا زينب ..... على البائسين
۴- السفينتان ..... في البحر
۵۔ لم لم ..... الثيات يا فاطمة
۶۔ التجار لم ...... هذا العام
۷۔ ما كان الا صدقاءل…………
۸۔ جاء الزائرون ولم ......
۹۔ الاطباء لم ..... علة المريض
۱۰۔ الفقراء ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔من الغلاء
التمرين (۷)
ضع مكان كلمة الطبيب في العبارة الآتية كلمة الطبيبين مرة وكلمة الاطباء اخرى مع مراعاة ما يحدث من التغيير في الافعال:
يجب على الطبيب ان يلاطف المرضى ويخفف عنهم الا لام ببشره ويصف لهم الدواء النافع ولا يطمع في مالهم ويساعد الفقراء بعلمه وماله۔
التمرين (۸)
(۱) اكتب عبارة لا تقل عن ثلاثة اسطر فيما يعمله اخواك صباح كل يوم من وقت استيقاظهما من النوم الى ان يذهبا الى المدرسة.
(۲) اكتب العبارة مرة ثانية وابتدأها بكلمة اخوتى مع مراعاة ما يحدث في كلمتها من التغيير
تمرین فی الأعراب
ا - نموذج :
الأولاد يلعبون .
الأولاد - مبتدأ مرفوع بالضمة .
يلعبون: فعل مضارع مرفوع بثبوت النون لأنه من الأفعال الخمسة و ( الواو ، فاعل مبني على السكون في محل رفع .
ب - أعرب الجملتين الآتيتين :
(۱)التجار يربحون
(۲)أنت تُھذّبن الأطفال
14 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں