تمام موضوعات

مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے

لازم و متعدی کی تعریف دیگر کتب میں

3 عبارات

تمرین الصرف

تمرین الصرف ۔ سبق:۱

لازم : جو فعل صرف فاعل کے ملنے سے پوری بات ظاہر کردے، اسے لازم کہتے ہیں

مثال: ذَھَبَ حَامِدٌ (حامد گیا) ، جَلَسَ وَلَدٌ ( لڑکا بیٹھا)

متعدی: جس فعل کو فاعل کے علاوہ مفعول کی بھی ضرورت ہو اسے متعدی کہتے ہیں

مثال: نَصَرَ حَامِدٌ مَحْمُودًا (حامد نے محمود کی مدد کی )

لنک

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۷

فعل لازم و متعدی:

جملہ فعلیہ میں فعل کبھی صرف اپنے فاعل سے مل کہ پورا مطلب ظاہر کر دیتا ہے اور کبھی فاعل کے علاوہ مفعول کو بھی چاہتا ہے۔ یعنی مفعول کے بغیر اس کا پورا مطلب ظاہر نہیں ہوتا

(۱) پس ایسے تمام افعال جو فاعل سے مل کر اپنا مطلب ظاہر کر دیں فعل لازم کہلاتے ہیں جیسے جاءَ الْوَلَدُ، جَرَى الْحِصَانُ، تَضْحَكُ البنتُ

(۲) اور جو افعال فاعل کے علاوہ مفعول کو بھی چاہیں وہ متعدی کہلاتے ہیں جیسے اكل الولد الخبز ، فَتَحُ الْخادِمُ الْبَابَ، قَتَلَ مَحْمُودٌ الْأَسَدَ .

لنک

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید جلد :۳) سبق ۱۸

ا۔ فعل لازم اور فعل متعدی۔

فعل متعدی ایک فاعل چاہتا ہے جس سے فعل صادر ہو اور ایک مفعول بھی ، جس پر فاعل سے صادر ہوا فعل واقع ہو، جیسے قتل الجندِيُّ الْجَاسُوسَ فوجی نے جاسوس کو قتل کر ڈالا یہاں فوجی قتل کرنے والا ہے اس لئے وہ فاعل ہے، اور جاسوس وہ ذات ہے جس کا قتل ہوا ہے اس لئے وہ مفعول بہ ہے، اس کی ایک اور مثال یہ ہے:

بَنَى إِبْرَاهِيْمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ الْكَعْبَةَ. ابراہیم علیہ السلام نے کعبہ کی تعمیر فرمائی۔

فعل لازم صرف فاعل چاہتا ہے جس سے فعل صادر ہو اس کا فعل فاعل کی ذات تک محدود رہتا ہے اور کسی دوسرے پر اثر انداز واقع نہیں ہوتا، جیسے: فَرِحَ الْمُدَرِّسُ : استاذ خوش ہوئے ، خَرَجَ الطُّلابُ : طلبہ نکلے۔

بعض افعال متعدی تو ہوتے ہیں لیکن بذات خود نہیں بلکہ کسی حرف جر کے واسطہ سے، جیسے:

غَضِبَ الْمُدَرِّسُ عَلَى الطَّالِبِ الْكَسْلَانِ

استاذ کاہل طالب علم پر غصہ ہوئے۔

ذَهَبْتُ بِالْمَرِيضِ إِلَى الْمُسْتَشْفَى.

باقی عبارت پڑھیں (13)

میں بیمار کو دواخانہ لے گیا۔

نَظَرْتُ إِلَى الْجَبَلِ.

میں نے پہاڑ کی طرف دیکھا۔

فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي.

جو میرے طریقہ سے بیزار ہو اس کا تعلق مجھ سے نہیں۔

أُريد أَنْ أَطْلِعَ عَلَى مَنْهَجِ مَدْرَسَتِكَ.

میں تمہارے مدرسہ کے نصاب سے واقفیت چاہتا ہوں۔

لَا أَرْغَبُ فِي السَّفَرِ هَذَا الْأَسْبُوْع.

میں اس ہفتہ سفر نہیں کرنا چاہتا ہوں۔

نوٹ : - رَغِبَ فِي الشَّيْء کا مطلب ہے چاہنا، دلچسپی لینا، اور رَغِبَ عَنِ الشَّی کا مطلب ہے نہ چاہنا، بے زار ہونا۔ اس طرح کے مفعول کو مفعول غیر صریح کہتے ہیں وہ بظاہر حرف جر کی وجہ سے مجرور ہوتا ہے لیکن فی محل نصب ہوتا ہے۔

۲- فعل لازم کو متعدی بنانا : ہم اردو میں کہتے ہیں: پکنا، پکانا، سوکھنا، سکھانا، جاگنا، جگانا، ان لازم افعال پکنا،سوکھنا جاگنا، کو الف کی زیادتی سے متعدی بنالیا گیا ہے، اسی طرح عربی میں بھی فعل لازم کو متعدی بنانے کے یہ طریقے ہیں :

(۱) فعل کو باب فَعْل میں منتقل کرنا، جیسے نَزَلَ وہ اترا سے نَزَّلَ اس نے اتارا، جیسے: : نَزَلْتُ مِنَ السَّيَّارَةِ ثُمَّ نَزَّلْتُ الطِّفْلَ. میں کار سے اترا پھر میں نے بچے کو اتارا۔

اس باب میں لازم کو دوسرے حرف کی تکرار کے ذریعہ متعدی کرنے کو التضعیف کہتے ہیں،

لنک