تمام موضوعات

مبنی اسماء

اسم اشارہ دیگر کتب میں

3 عبارات

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحوالواضح ابتدائیۃ (جلد:۲) سبق:۲۸

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ : أَسْمَاءُ تَدُلُّ عَلَى مُعَيْنِ مُشَارٍ إِلَيْهِ.

أَسْمَاءُ الْإِشَارَةِ هي :

ذا : لِلْمُفْرَدِ الْمُذَكَّر

ذه : لِلْمُفْرَدَةِ الْمُؤَنَّثَةِ

ذَانِ : لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّر

تان : لِلْمُثَنَّى الْمُؤنَّثِ

أولاء : لِجَمْعِ الْعُقَلَاءِ مِنْ ذُكُورٍ أَوْ إِنَاث.

اسْمُ الإِشَارَةِ لِلْمُثَنَّى الْمُذَكَّرِ أَوِ الْمُؤَنَّثِ يُعَامَلْ مُعَامَلَة الْمُثَنَّى فَيَكُونُ بِالْأَلِفِ فِي حَالَةِ الرفع ، وبِاليَاءِ فِي حَالَتَى النَّصْبِ وَالْجَرْ

باقی عبارت پڑھیں (23)

اسماء اشارہ وہ اسماء ہیں جو ایک معین مشار الیہ پر دلالت کرتے ہیں۔

اسماء اشارہ یہ ہیں:

ذا :... مفرد مذکر کے لئے

ذه: مفرد مونث کے لئے

ذان: ... تثنیه مذکر کے لئے

تان: تثنیہ مؤنث کے لئے

اولاء: ..... مذکر و مونث عقلاء کی جمع کے لئے

تثنیہ مذکر اور مؤنث کے لئے اسماء اشارہ، تثنیه کی طرح حالت رفع میں الف اور حالت نصب و جر میں یاء کے ساتھ آتے ہیں۔

الأمثلة

(۱) ذَا رَجُلٌ شَرِيفٌ

(۲) هَذَا كِتَابٌ نَافِع

(۳) ذِهِ امْرَأَةٌ تَعْتَنِي بِأَوْلَادِهَا

(٤) هَذِهِ حُجْرَةٌ وَاسِعَة

(۵ ) ذَانِ وَلدَانِ مُهَذِّبَانِ

(٦ ) إِنَّ هَذَيْنِ فَائِزَان

(۷) تَان وَرْدَتَانِ مُفَتَّحَتَانِ .

(۸) إِنَّ هَاتَيْنِ بِنْتَانِ مُطِيعَتَانِ

(۹ ) أُولَاءِ تُجَّارٌ صَادِقُونَ

(۱۰) هَؤُلَاءِ صُنَّاعٌ مَا هِرُونَ

(۱۱ ) أُولَاء بَنَاتُ نَظيفات

(۱۲ ) هَؤُلاء تِلْمِيذَاتُ لَطِيفَاتٌ

لنک

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۱) سبق:۶

عربی میں اسم اشارہ کے دس صیغے آتے ہیں پانچ اشارہ قریب کے لئے اور پانچ اشارہ بعید کے لئے ذیل کے نقشے میں دیکھو۔

اشاره قریب

واحد مذکر هذا

تثنیہ مذکر هذان

جمع مذکر هؤلاء

واحد مؤنث ھذہ

تثنیہ مؤنث هاتان

جمع مؤنث هؤلاء

باقی عبارت پڑھیں (17)

اشاره بعید

واحد مذکر ذلك

تثنیہ مذکر ذانك

جمع مذکر اوليك

واحد مؤنث تلک

تثنیہ مؤنث تانک

جمع مؤنث اوليك

اسمائے اشارہ معرفہ ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کا استعمال بطور مبتداء کے بھی ہوتا ہے جس طرح یہ فاعل اور مفعول کے طور پر لائے جاتے ہیں۔ کبھی اسم اشارہ تنہا مبتداء ہوتا ہے اور کبھی اپنے مشار الیہ کے ساتھ مل کر مبتداء بنتا ہے اس صورت میں اسم اشارہ موصوف اور مشار الیہ صفت واقع ہوگا پھر یہ دونوں ملکر مرکب توصیفی کی صورت میں مبتداء ہو نگے۔ درج ذیل جملوں کے فرق پر غور کریں۔

(۱) هذا قلم ( یہ ایک قلم ہے)

(۲) هذَا قلَم جَمِيلٌ (یہ ایک خوبصورت قلم ہے )

(۳) هذَا الْقَلَمُ جَمِيلٌ (یہ قلم خوبصورت ہے)

(۴) هذَا الْقَلَمُ، قَلَمٌ جميلٌ (یہ قلم) ایک خوبصورت قلم ہے

پہلے اور دوسرے جملہ میں ھذا اسم اشارہ تنہا مبتداء ہے اوردوسرے اور تیسرے جملے میں ھذا القلم اشارہ اور مشار الیہ مل کر مبتداء ہیں۔

اسی طرح خبر بھی پہلے اور تیسرے جملے میں خبر مفرد ہے اور دوسرے اور چوتھے میں مرکب توصیفی ہے۔ قلم جمیل خبر ہے اس قسم کے جملے عربی میں بہت آئیں گے اگر قلم کو مثلا تم مبتداء بنانا چاہتے ہو تو اس کو معرفہ بنا لو اور اگر خبر بنانا چاہتے ہو تو نکرہ کی صورت میں لکھو۔

غیر ذوی العقول کی جمع کیلئے اسم اشاره واحد مونث استعمال کیا جاتا ہے اس لئے کہ غیر ذوی العقول کی جمع واحد مؤنث کے حکم میں ہوتی ہے۔

لنک

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۲۵

اسماء الإشارة

اسم الإشارة: اسم مبني يدل على معين بالإشارة إليه، نحو: هذا قلم، وذلك كتاب. سبب بنائها كونها محتاجه في الدلالة على معناها (أي: على شي معين) إلى قرينة الإشارة كاحتياج الحرف إلى كلمة أخرى ففي المثال الأول "هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ، وفي الثاني" ذلك" مبني على الفتح في محل رفع مبتدأ)

(۱) أسماء الإشارة هي:

ذا اللمفرد المذكر - ذي و ذه، و تا و ته للمفردة المؤنثة.

ذان رفعا، وذين نصبا وجرا للمثنى المذكر.

تان رفعا وتين نصبا وجرا للمثنى المؤنث.

أولاء للجمع المذكر والمؤنث العاقل - هنا للمكان

باقی عبارت پڑھیں (83)

(ب) أسماء الإشارة المذكورة تكون للإشارة إلى القريب، وفي هذه الحالة تدخل عليها ها التنبيه، وبعد دخولها تكون هكذا هذا، هذه هذان، هذين هاتان هاتین، هؤلاء هاهنا

(ج) إذا أريد بالأسماء المذكورة الإشارة إلى البعيد أتي بالكاف، أو بالكاف واللام في آخرها، وتسمى الكاف حرف خطاب ولا موضع لها من الإعراب، فأسماء الإشارة إلى البعيد هي: ذلك وذلك للمفرد المذكر تاك وتلك للمفردة المؤنثة.

ذانك للمثنى المذكر - تانك للمثنى المؤنث ( وهما قليلا الاستعمال )

أولئك لجمع المذكر والمؤنث العاقل - هناك وهنالك للمكان البعيد.

المحل الإعرابي لأسماء الإشارة:

أسماء الإشارة مبنية (ما عدا هذان" و"هاتان" فهما معربان إعراب المثنى) لا يتغير آخرها، لكن تكون في محل رفع أو نصب أو جر حسب موقعها في الجملة، لأنها ليست مبنية الأصل التي لا يكون لها محل من الإعرب، وهي

(۱) الفعل الماضي، (۲) فعل الأمر المعروف حال كونه مسندا إلى ضمائر الخطاب (۳) جميع الحروف مثل: هذا كتاب (ھذا اسم إشارة مبني على السكون في محل رفع مبتدأ۔)

- يشار إلى جمع غير عاقل سواء أكان مذكرااً ومؤنثا باسم الإشارة للمفردة المؤت نحو: هذه أقلام وتلك سيارات، قلما يشار اليه بـ "هؤلاء، أو أولئك " مثل قوله تعالى: (ان السمع والبصر والفواد كل أولئك كان عنه مسئولا)

إذا وقع بعد إسم الاشارة اسم مقترن بـ"ال " أعرب على أنه بدل من اسم الإشارة فيأخذ حكمه الإعرابي، مثل: هذا الطالب مجتهد ( هذا مبني على السكون في محل رفع مبتدأ "الطالب" بدل من اسم الإشارة "هذا مرفوع وعلامة رفعه الضمة "مجتهد" خبر مرفوع وعلامة رفعه الضمة )

اسم الإشارة يطابق المشار إليه في تذكيره وتأنيثه، وافراده وتثنيته وجمعه مثل: هذا كتاب، تلك سيارة هذان طالبان، هاتان طالبتان، هؤلاء طلاب

إذا اتصلت باسم الاشارة الكاف وهي حرف الخطاب لا محل لها من الإعراب) وذكر بعده المخاطب فإن الكاف تطابق المخاطب في الافراد والتثنية والجمع والتذكير والتأنيث مثل : ذلك كتاب مفيد يا محمد ، ذلك الكتاب مفيد يا أختي ، ذلكما الكتاب مفيد يا صديقي ، ذلكم الكتاب مفيد يا أصدقائي ، ذلكن الكتاب مفيد يا أخواتي.

تدخل كاف التشبيه على اسم الإشارة "ذا" مثل : أكذا كتابك ؟ (أي: أمثل ذاكتابك )

وقد تدخل هاء التنبيه على "كذا" مثل: أهكذا كتابك (أي: أمثل ذا كتابك )

اسماء اشارہ:

اسماء اشارہ وہ اسم مبنی ہیں جو کسی معین چیز یا شخص کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں، جیسے: "هذا قلم، وذلك كتاب "۔ یہ اسماء مخصوص طور پر کسی چیز کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور عام طور پر ان کے ساتھ ایک جسمانی یا ذہنی اشارہ کیا جاتا ہے۔

(1) اسماء اشارہ کی اقسام:

مفرد مذکر کے لیے: ذا (یہ)۔

مفرد مؤنث کے لیے: ذي، ذه، تا، تِه (یہ)۔

مثنی مذکر کے لیے (رفع): ذان (یہ دونوں)۔

مثنی مذکر کے لیے (نصب و جر): ذين (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (رفع): تان (یہ دونوں)۔

مثنی مؤنث کے لیے (نصب و جر): تين (یہ دونوں)۔

جمع مذکر اور مؤنث عاقل کے لیے: اولاء (یہ سب)۔

مکان کے لیے: هنا (یہاں)۔

(ب) قریب کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے قریب کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں ہاء التنبیہ کا اضافہ کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذَا (یہ مذکر)۔

هَذِهِ (یہ مؤنث)۔

هَذَانِ (یہ دونوں مذکر)۔

هَاتَانِ (یہ دونوں مؤنث)۔

هؤلاء (یہ سب)۔

هاهنا (یہاں)۔

(ج) دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے:

جب ان اسماء کے ذریعے دور کی طرف اشارہ کرنا ہو، تو ان میں کاف یا کاف اور لام کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ یہ اسماء اشارہ دور کی طرف اشارہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں:

ذَلِكَ (وہ مذکر)۔

تِلْكَ (وہ مؤنث)۔

ذَانِكَ (وہ دونوں مذکر)۔

تَانِكَ (وہ دونوں مؤنث)۔

أُولَئِكَ (وہ سب)۔

هُنَاكَ اور هُنَالِكَ (وہاں)۔

اسماء اشارہ کا محل اعراب:

اسماء اشارہ مبنی ہوتے ہیں، یعنی ان کے آخر میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، سوائے ہذان اور هاتان کے، جو مثنی ہونے کی وجہ سے معرب ہوتے ہیں۔ اسماء اشارہ جملے میں مختلف مواقع پر رفع، نصب یا جر کی حالت میں استعمال ہو سکتے ہیں۔

مثالیں:هَذَا كِتَابٌ (یہ ایک کتاب ہے) — هَذَا: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

ذَلِكَ كِتَابٌ (وہ کتاب ہے) — ذَلِكَ: اسم اشارہ مبنی ہے اور رفع کی حالت میں ہے۔

جمع غیر عاقل کے لیے:

غیر عاقل اشیاء کی طرف اشارہ کرنے کے لیے عموماً مؤنث مفرد کا اسم اشارہ استعمال کیا جاتا ہے، جیسے:

هَذِهِ أَقْلَامٌ (یہ قلم ہیں)۔

تِلْكَ سَيَّارَاتٌ (وہ گاڑیاں ہیں)۔

بعض اوقات غیر عاقل جمع کے لیے هؤلاء یا أُولَئِكَ بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے:

"إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا" (ترجمہ: بے شک، کان، آنکھ اور دل سب کے سب ذمہ دار ہوں گے)۔

اسم اشارہ اور "ال" کا استعمال:

اگر اسم اشارہ کے بعد کوئی اسم "ال" کے ساتھ آئے تو اسے بدل قرار دیا جاتا ہے اور اس کا اعراب وہی ہوتا ہے جو اسم اشارہ کا ہوتا ہے۔

مثال: هَذَا الطَّالِبُ مُجْتَهِدٌ ۔ هَذَا: اسم اشارہ مبتدا ہے۔ الطَّالِبُ: بدل ہے اور مبتدا کی طرح مرفوع ہے۔ مُجْتَهِدٌ: خبر ہے۔

اسم اشارہ اور کاف خطاب:

اسم اشارہ میں اگر کاف خطاب کا اضافہ ہو تو یہ مخاطب کے ساتھ مطابقت رکھتی ہے، یعنی واحد، تثنیہ، جمع اور تذکیر و تانیث کے اعتبار سے تبدیل ہوتی ہے۔

مثالیں:

ذَلِكَ كِتَابٌ مُفِيدٌ يَا مُحَمَّدُ (وہ کتاب مفید ہے اے محمد)۔

ذَلِكَ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أُخْتِي (وہ کتاب مفید ہے اے میری بہن)۔

ذَلِكُمُ الكِتَابُ مُفِيدٌ يَا أَصْدِقَائِي (وہ کتاب مفید ہے اے میرے دوستو)۔

عمومی نکات:

اسم اشارہ مفرد، مثنی اور جمع میں مشار الیہ کے مطابق ہوتے ہیں، جیسے:

هَذَا كِتَابٌ (یہ کتاب ہے)۔

تِلْكَ سَيَّارَةٌ (وہ گاڑی ہے)۔

هَاتَانِ طَالِبَتَانِ (یہ دونوں طالبات ہیں)۔

کاف تشبیہ کا استعمال بھی بعض اوقات اسم اشارہ کے ساتھ کیا جاتا ہے، جیسے: أَكَذَا كِتَابُكَ؟ (کیا تمہاری کتاب بھی ایسی ہے؟)

اور کبھی ھاء تنبیہ بھی داخل ہو تا ہے جیسے : أَھكَذَا كِتَابُكَ

لنک