تمام موضوعات

معرب اسماء کی چند فروعی قسمیں

ممنوع من الصرف دیگر کتب میں

5 عبارات

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۱۱

(۱) العَلَمُ الْمَمْنُوعُ مِنَ الصَّرْفِ: علم جو ممنوع من الصرف ہے

يُمْنَعُ العَلَمُ مِنَ الصَّرْفِ (أَيْ التَّنْوِينِ) وَيُجَرُّ بِالفَتْحَةِ نِيَابَةً عَنِ الكَسْرَةِ:

(أ) إِذَا كَانَ مُؤَنَّثًا.

(ب) إِذَا كَانَ أَعْجَمِيًّا.

(ج) إِذَا كَانَ مُرَكَّبًا تَرْكِيبًا مَزْجِيًّا.

(د) إِذَا كَانَ مَزِيدًا فِيهِ أَلِفٌ وَنُونٌ.

(ه) إِذَا كَانَ عَلَى وَزْنِ الفِعْلِ.

(و) إِذَا كَانَ مُذَكَّرًا ثُلَاثِيًّا مَضْمُومَ الأَوَّلِ مَفْتُوحَ الثَّانِي.

باقی عبارت پڑھیں (101)

علم اس وقت صرف یعنی تنوین سے منع ہوتا ہے اور حالت جر میں اس پر کسرہ کے بدلے فتحہ آتا ہے جبکہ:

(الف) وہ مؤنث ہو۔

(ب) وہ عجمی لفظ ہو۔

(ج) وہ مرکب امتزاجی ہو۔

(د) اس کے آخر میں الف نون زائدہ آئے ہوں۔

(ھ) وہ فعل کے وزن پر آیا ہو۔

(و) وہ مذکر ثلاثی ہو جس کا پہلا حرف مضموم اور دوسرا حرف مفتوح ہو۔

الامثلة

قَرَأَتْ سُعَادُ.

أَثْنَيْتُ عَلَى سُعَادَ.

زُرْتُ لَنْدَنَ.

جَاءَ الطَّالِبُ مِنْ لَنْدَنَ.

شَاهَدْنَا نْيُويُورْك.

ذَهَبَ السَّائِحُ إِلَى نْيُويُورْك.

رَأَيْتُ عُثْمَانَ.

شَكَرْتُ العُثْمَانَ.

جَاءَ أَحْمَدُ.

أَعْطَيْتُ المُكَافَأَةَ لأَحْمَدَ.

اشْتَهَرَ بِعَدْلِهِ عُمَرُ.

اقْتَدَيْتُ بِعُمَرَ.

(۲) الصِّفَةُ الْمَمْنُوعَةُ مِنَ الصَّرْفِ: صفت جو ممنوع من الصرف ہے

تُمنَعُ الصِّفَةُ مِنَ الصَّرْفِ وَتُجَرُّ بِالْفَتْحَةِ نِيَابَةً عَنِ الْكَسْرَةِ:

(أ) إِذَا كَانَتْ عَلَى وَزْنِ "فَعْلَان".

(ب) إِذَا كَانَتْ عَلَى وَزْنِ "أَفْعَل".

(ج) فِي كَلِمَاتٍ مِنْ "أَحَادٍ"، "مَوَحَّدٍ" إِلَى "عِشَارٍ" وَ"مَعْشَرٍ"، وَفِي كَلِمَةِ "أُخَر".

صفت بھی صرف سے ممنوع ہوتی ہے اور حالت جر میں اس پر کسرہ کے بدلے فتحہ آتا ہے بشرطیکہ :

(الف) وہ فعلان کے وزن پر ہو۔

(ب) وہ افعل کے وزن پر آیا ہو۔

(ج) وہ احاد اور موحد سے لے کر عشار اور معشر کا عدد ہو یا کلمہ اُخر ہو۔

الامثلة

الوَلَدُ عَطْشَانُ.

سَقَيْتُ وَلَدًا عَطْشَانَ.

لَا تَبْخَلْ عَلَى عَطْشَانَ

أَنْتَ أَسْبَقُ مِنِّي.

لَمْ يَكُنْ غَيْرُكَ أَسْبَقَ مِنِّي.

لَسْتَ بِأَسْبَقَ مِنْ عَلِيٍّ.

وَقَفَ جُنُودٌ مَثْنَى.

تَقَابَلْتُ مَعَ جُنُودٍ مَثْنَى.

جَاءَ الأَوْلَادُ ثُلَاثَ.

نَظَرْتُ إِلَى أَوْلَادٍ ثُلَاثَ.

دَخَلَ المَدْرَسَةَ بَنَاتٌ أُخَر.

مَرَرْتُ بِبَنَاتٍ أُخَر.

(۳) الممنوع من الصرف لصيغة منتهى الجموع أو ألف التأنيث: منتھی الجموع یا الف تانیث کی وجہ سے ممنوع من الصرف

يُمنَعُ الاسمُ من الصَّرْفِ ويُجَرُّ بالفَتْحَةِ نيابَةً عن الكَسْرَةِ:

(أ) إذا كان على صِيغَةِ مُنْتَهَى الجُمُوعِ.

(ب) إذا كان مُخْتَوماً بأَلِفِ التَّأْنِيثِ المَمْدودَةِ.

(ج) إذا كان مُخْتَوماً بأَلِفِ التَّأْنِيثِ المَقْصُورَةِ.

کبھی کبھی ایک اسم صرف سے ممنوع ہو جاتا ہے اور اس پر حالت جر میں بجائے کسرہ کے فتحہ آتا ہے بشرطیکہ:

(الف) وہ منتہی المجموع کا صیغہ ہو۔

(ب) اس کے آخر میں الف تانیث ممدودہ آیا ہو۔

(ج) اس کے آخر میں الف تانیث مقصوره آیا ہو۔

الامثلة

(۱) أُنشِئَتْ مَدارِسُ.

(۲) شاهَدْتُ مَدارِسَ.

(۳) تَعَلَّمْتُ في مَدارِسَ.

(٤) هَذِهِ عَصافيرُ.

(۵) أَطْلَقْتُ عَصافيرَ.

(۶) لا تَلْعَبْ بِمَصافيرَ.

(۷) هَذِهِ صَحْراءُ.

(۸) اخْتَرَقْتُ صَحْراءَ.

(۹) يَمُرُّ الجَمَلُ في صَحْراءَ.

(١٠) الوَلَدُ النَّجيبُ نُعْمى.

(۱۱) ما رَأَيْتُ نُعْمى كالصِّحَّةِ.

(۱۲) قابِلِ النِّعْمَةَ بِنُعْمى.

(٤) جر الممنوع من الصرف بالكسرة: ممنوع من الصرف کو کسرہ کے ذریعہ جر دینا

يُجَرُّ الممنوعُ من الصَّرْفِ بالكَسْرَةِ إذا كان مُضافاً أوْ بَہِ اَلْ

اسم ممنوع من الصرف پر حالت جر میں اس وقت کسرہ آتا ہے جب وہ مضاف ہو یا اس پر ال داخل ہوا ہو۔

الامثلة

۱۔ أَثْنَيْتُ عَلَى أَسْبَقِ اللَّاعِبِينَ.

۲۔ سَلَّمْتُ عَلَى التِّلْمِيذِ الأَسْبَقِ.

۳۔ يَجِبُ الإِكْثَارُ مِنْ مَدَارِسِ الصِّناعَةِ.

۴۔ بِالْمَدَارِسِ تَرْقَى الأُمَمُ.

۵۔ سُرِرْتُ مِنْ عَصَافِيرِ الحَدِيقَةِ.

۶۔ طَرِبْتُ مِنَ العَصَافِيرِ.

۷۔ تَسِيرُ القَوافِلُ بِصَحْرَاءِ العَرَبِ.

۸۔ يَقِلُّ المَاءُ بِالصَّحْرَاءِ.

لنک

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۱) سبق:۲۲

ا۔ اسم کی اصلی حالت یہ ہے کہ اس کے آخر میں تنوین ہو۔ اسم سے تنوین صرف مندرجہ ذیل حالات میں جدا ہو گی۔

ا۔ اسم پر ”ال داخل ہو ۔ جیسے : كتاب سے الكتاب

۲۔ اسم مضاف ہو جیسے : کتاب سے كِتَابُ حَامِدٍ

۔ اسم سے پہلے حرف نداء ہو جیسےأستاذ سے يَا أُسْتَاذُ

بعض اسماء ایسے ہیں جن پر تنوین کبھی نہیں آتی ہے ان کو ممنوع من الصرف (جن پر صرف (تنوین) کا داخل ہونا منع ہے) کہتے ہیں۔

حسب ذیل اسماء ممنوع من الصرف ہیں۔

ا۔ عورتوں کے نام جیسے :زينَبُ ، مَريَمُ، سُعَادُ ، فَاطِمَةُ

۲۔ مردوں کے وہ نام جن کے آخر میں تائے تانیث(ۃ) ہو جیسے : حَمزةُ أَسَامَةُ، طَلْحَةُ

باقی عبارت پڑھیں (24)

۳۔ جن ناموں کے آخر میں ”ان “ ہو جیسے :عُثْمَانُ، مَرْوَانُ، رَمَضَانُ

۴۔ جو صفت فَعْلانُ کے وزن پر ہو جیسے :جوْعَانُ، كَسَلَانُ، عَطَشَانُ

۵۔ جو نام افعل کے وزن پر ہو جیسے :أَحْمَدُ ، أَنْوَرُ، أَكْبَرُ، أَحْسَنُ

۲۔ جو صفت افعل کے وزن پر ہو جیسے : أحْمَرُ (لال) أبيض(سفيد)، أسوَدُ ، (کالا)

۷۔ علم عجمی (غیر عربی نام) جیسے : وليَمُ، كَشْمِيْرُ ، مَدْرَاسُ، لَنْدَنُ

نوٹ : اگر علم عجمی مذکر سہ حرفی ہو اور اس کا درمیانی حرف ساکن ہو تو اس پر تنوین داخل ہو گی جیسے :نُوْحٌ، لَوْطُ، رَامٌ ، حَانَ ، جُرْج

۔ جمع تکسیر کے بعض اوزان جیسے :

فعَلاء جیسے : زُمَلاء، سُفَرَاءُ، فُقَرَاءُ

- افْعِلاءُ جیسے: أصدقاء أَغْنِيَاءُ

مفاعیلُ اور اس کے مشابہ اور ان جیسے فَنَاجِيْنُ ، فَنَادِيلُ، مَفَاتِيْحُ، أَسَابِيْعُ. ۔

مَفَاعِلُ اور اس کے مشابہ اوزان جیسے : فَنَادِقُ، دَفَاتِرُ، مَكَاتِبُ.

نوٹ : أطباء اصل میں اطبباء تھا۔ ب کو ب میں ادغام کرنے سے اطباء ہو گیا۔

أَقْوِيَاءُ

ممنوع من الصرف اسماء پر جر کے احکام :

ا۔ اس سے پہلے ہم پڑھ چکے ہیں جو اسم حرف جر کے بعد آئے یا مضاف الیہ ہو وہ مجرور ہوتا ہے اور جر کی علامت کسرہ (زیر) ہے

اسمائے ممنوع من الصرف پر کسرہ داخل نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ وہ حالت جر میں بھی کسرہ (زیر) کی بجائے فتحہ (زبر) لیتے ہیں۔

حَامِدٌ مِنْ حَامِدٍ كِتَابٌ حَامِدٍ

آمنة مِنْ آمِنَةَ كِتَابُ آمِنَةَ

۲۔ اگر اسمائے ممنوع من الصرف پر ”ال داخل ہو یاوہ مضاف ہوں تو ان پر کسرہ (زیر ) داخل ہو گا۔ جیسے :

صَلَّيْتُ فِي الْمَسَاجِدِ میں نے مسجدوں میں نماز پڑھی

صلَّيْتُ فِي مَسَاجِدِ الْمَدِينَةِ میں نے مدینہ کی مسجدوں میں نماز پڑھی

كَتَبْتُ بِالْقَلَمِ الْأَحْمَرِ میں نے لال قلم سے لکھا

هَذِهِ الدَّفاتِرُ لِز مَلائِكَ یہ کا پیاں تیرے ساتھیوں کی ہے

الْمُهَنْدِسُوْنَ فِي الْفَنَادِقِ انجینئر ہو ٹلوں میں ہیں

لنک

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۲) سبق:۱۵

فعل کے وزن پر آنے والا اسم علم(نام )ممنوع من الصرف ( غیر منصرف ) ہوتا ہے۔

هبل، رُحَلُ، زُفَرُ

هبل : جاہلیت میں ایک بت کا نام تھا۔

رحل : ایک مشہور سیارہ کا نام ہے۔

رفر : ایک معروف نام ہے۔

اس طرح کے ناموں کو معدول کہا جاتا ہے۔ ایسے اسماء کا اعراب یوں ہوگا :

خَرَجَ عُمَرُ عمر نکلا

سَأَلْتُ عُمَرَ میں نے عمر سے پوچھا۔

باقی عبارت پڑھیں (15)

كَتَبْتُ إِلَى عُمر میں نے عمر کو لکھا۔

رنگوں پر دلالت کرنے والے چند الفاظ جیسے : أَسْوَدُ، أَحْمَرُ، أَصْفَرُ اور أَبْيَضُ

پڑھ چکے ہیں، یہ واحد مذکر ہیں، ان سے واحد مؤنث کا صیغہ فَعْلَاءُ کے وزن پر آتا ہے جیسے :

أبْيَضُ بَيْضَاءُ :سفید

أسوَدُ سَوْدَاءُ : سیاه

أحْمَرُ حمراء :سرخ

ان میں مذکر اور مؤنث دونوں غیر منصرف ( ممنوع من الصرف ) ہوتے ہیں۔ مؤنث کی مزید چندمثالیں یہ ہیں :

شَعْرُ رَأْسِي أَسْوَدُ وَلِحْيَتِي بَيْضَاءُ میرے سر کے بال سیاہ ہیں اور داڑھی سفید ہے

هَذِهِ الشَّجَرَةُ خَضْرَاءُالسَّمَاءُ زَرْقَاءُ یہ درخت سبز ہےآسمان نیلا ہے

مذکر اور مؤنث دونوں کی جمع فعل کے وزن پر آئی ہے۔ جیسے :

الْهُنُوْدُ الْحُمْرُ سرخ ہندوستانی ( Red Indians )

مَنْ هَؤُلَاءِ الرِّجَالُ السُّودُ وَ أُولئِكَ النِّسَاءُ السُّمْرُ ؟ یہ کالے مرد اور وہ گندمی عورتیں کون ہیں ؟

لفظ عمرو میں لکھا جانے والا واو پڑھا نہیں جاتا ہے، یہ عَمْرُو اور عُمَرُ کے درمیان فرق کرنے کے لئے لکھا جاتا ہے، حالتِ نصب میں یہ واو نہیں لکھا جائے گا، اس لئے کہ یہ سألت عمرا لکھا جاتا ہے اور وہ سألتُ عُمَرَ لکھا جاتا ہے، اس لئے کہ عُمَرُ ممنوع من الصرف ہے اور ممنوع من الصرف پر تنوین نہیں آتی. عَمْرًا

لنک

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۱، ۳۴

غیر منصرف اسماء پر حالت جر میں کسرہ کے بجائے فتحہ داخل ہوتا ہے، جیسے:یہاں هذَا كِتَابُ زَيْنَبَ یہ زینب کی کتاب ہے اس مثال میں زینب مجرور ہونے کے باوجود مفتوح ہے، اس لئے کہ یہ ممنوع من الصرف ہے، یہاں یہ پیش نظر رہے کہ ممنوع من الصرف مجرور اور منصوب دونوں حالتوں میں مفتوح ہوتا ہے، جیسا کہ مندرجہ ذیل مثالوں سے واضح ہوتا ہے:

سَأَلْتُ زَيْنَبَ میں نے زینب سے دریافت کیا۔ یہاں زینب منصوب ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔ ذَهَبْتُ إِلَى زَيْنَبَ میں زینب کے پاس گیا۔ یہاں زینب مجرور ہونے کی وجہ سے مفتوح ہے۔

الممنوع من الصرف (غیر منصرف)

أ - ممنوع من الصرف (غیر منصرف) یہ وہ اسم معرب ہے جس پر نوین نہیں آتاہے اس کی دو قسمیں ہیں:

(۱) وہ اسماء جو صرف ایک سبب (علت) کی وجہ سے ممنوع من الصرف ہیں۔

(۲) وہ اسماء جو دوسیبوں ( علتوں) کی وجہ سے غیر منصرف ہیں۔

ایک علت کی وجہ سے غیر منصرف اسماء

وہ علتیں جو تنہا تنوین روکنے کے لئے کافی ہیں وہ یہ ہیں:

باقی عبارت پڑھیں (60)

(۱) الف تانیث خواہ وہ مقصور ہو جو "ی" لکھا جاتا ہے یا ممدود جو "الف" لکھا جاتا ہے اور اس کے بعد ہمزہ ہوتا ہے، یہ دونوں تیسرے حرف اصلی کے بعد زیادہ کئے جاتے ہیں، جیسے:

الف مقصوره : مَرْضَى دُنْيَا ، حُبْلَى، هَدَايَا ، فَتَاوَی

یادر ہے کہ فتی : نوجوان ، رحی: چکی، عصا: لاٹھی وغیرہ کلمات منصرف ہیں اس لئے کہ ان میں الف مقصورہ تیسرا حرف اصلی ہے زائد نہیں۔

الف ممدوده: صَحْرَاءُ، حَمْرَاء، أصْدِقَاء فَقَرَاءُ

یادر ہے کہ أَسْمَاء ، آباء، آلاء، أنحاء منصرف ہیں اور أَقْلامٌ، أَولادٌ اور أَحْكام کے طرح افعال کے وزن پر ہیں اور ہمزہ ان کا تیسرا اصلی حرف ہے، زائد نہیں۔

(۲) الجمع المتناهي

(۳) یعنی وہ جمع جو مَفَاعِلُ يا مَفَاعِيْلُ جیسے اوزان پر آئے جیسے: مَسَاجِدُ، مَدَارِسُ ، أَسَاوِرُ، حَدَائِقُ، سَلاسِلُ، أَنامِلُ ، فَنَادِقُ .

مَفَاتِيْحُ، أَسَابِيْعُ، فَنَاجِيْنُ، تَعَابِيْنُ ، مَنَادِيْلُ.

مَفَاعِلُ کے آخر میں ۃ لگ جائے تو وہ غیر منصرف نہیں رہتا، جیسے: أَسَائِدَةٌ، دَكَاتِرَةٌ، تَلَامِذةٌ وغيره منصرف ہیں لیکن ان دونوں وزنوں پر آنے والے مفرد اسماء غیر منصرف ہوتے ہیں، جیسے: طَماطِمُ : ٹماٹر، بَطَاطِسُ : آلو، طَبَاشِيرُ : چاک (chalk) سَرَاوِيْلُ شلوار

دوعلتوں کی وجہ سے غیر منصرف اسماء

اس طرح کے اسماء یا تو علم ہوں گے یا صفت :

علم:

اسم علم میں جب مندرجہ ذیل میں سے کوئی سبب (علت) پایا جائے گا تو وہ غیر منصرف ہو جائے گا: تانیث، جیسے آمِنَةُ، زَيْنَبُ ، حَمْزَةُ ، ملاحظہ ہو کہ حمزہ گرچہ مرد کا نام ہوتا ہے لیکن چونکہ اس کے آخر میں ہے اس لئے یہ لفظ مونث ہے۔

اگر علم مؤنث تین حرفوں پر مشتمل ہو اور ان کا دوسرا حرف ساکن ہو تو وہ منصرف اور غیر منصرف دونوں طریقے سے استعمال ہو سکتے ہیں لیکن ان کو منصرف استعمال کرنا زیادہ بہتر ہے، جیسے ھند، دَعْد، ریم.

(۲) عجمی ہونا، جیسے: پاکستان، ولیم، ابراهیم، لیکن اگر علم عجمی ثلاثی مساكن الوسط اور مذکر ہوتو وہ منصرف ہو جائے گا، جیسے: نُوحٌ، لفظ، شیث جُرج، خان جب کہ علم بھی ثلاثی مساكن الوسط اگر مونث ہو تو وہ غیر منصرف ہی رہے گا، جیسے : بَلْخُ، حِمْصُ ، نِيْسُ، مُوْشُ، بَاتٌ، بَرْثُ

اگر کوئی عجمی لفظ عربی میں داخل ہونے کے بعد پھر علم بنے تو وہ منصرف ہوگا، جیسے: جوهر جو اصلاً فارسی لفظ ہے اور عربی میں بطور علم استعمال ہوتا ہے۔

) اگر وہ معدول (مبدل ) ہو یعنی فُعلُ کے وزن پر ہو، جیسے: عُمَرُ، زُفَرُ ، رُحَلُ، هُبَلُ

(۴) اگر اس کے آخر میں ایسے الف نون ہوں جو اصلی نہ ہوں ، جیسے: رَمَضَانُ، مَرْوَانُ، شَعْبَانَ، عُثْمَانَ وغيره، حَسَّان چونکہ حُسن سے فَعَّال کے وزن پر ہے اور ن اس کا تیسرا اصلی حرف ہے، زائد نہیں ہے اس لئے اس پر تنوین آتی ہے۔

(۵) اگر علم کسی فعل کے وزن پر ہو، جیسے: أَحْمَدُ، جو أَذْهَبُ کے وزن پر ہے، يَزِيدُ جو يَبيعُ کا ہم وزن ہے۔

(۶) اگر وہ دو اسموں سے مل کر بنا ہو، جس کو مرکب مزجی کہتے ہیں، جیسے: مَعْدِيْكُرِبُ، حَضْرَمَوتُ.

صفت:

ذیل کی صورتوں میں صفت غیر منصرف ہوگی:

(۱) اگر وہ أَفْعَلُ کے وزن پر ہو اور اس کا مؤنث ۃ بڑھا کر نہ بنایا جائے ، جیسے: أَحْمَرُ، أَكْبَرُ جن کا مونث حَمْرَاءُ اور كُبُری ہے جب کہ أَرْمَل (وہ مرد جس کی بیوی مر چکی ہو ) کا مؤنث أَرْمَلَةُ (بیوہ) ہے اس لئے وہ منصرف ہے۔

(۲) وه فَعلان کے وزن پر ہو ، جیسے: جَوْعَانُ ، شَبْعَانُ، عَطْشَانُ، مَلآن.

(۳) اگر وہ معدول ہو، صفت دوصورتوں میں معدول ہو سکتی ہے:

ا۔ وہ عدد جو فعال اور مَفْعَل کے وزن پر ہو، جیسے ثلاث : بیک وقت تین ، رُبَاعُ : بیک وقت چار،مثنی: بیک وقت دو ( دودو) مثلث : بیک وقت تین ( تین تین ) ارشاد الہی ہے:

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلا تَعْدِلُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاث وَرُبَاعَ [النساء : ۳] اور اگر تمہیں یتیموں کے معاملہ میں بے انصافی کا ڈر ہو تو تمہیں جو عورتیں پسند ہیں ان میں سے بیک وقت دو یا تین یا چار سے شادی کرلو۔

۲۔ لفظ أخر جو أُخْرَى کا جمع ہے، ارشادِ ربانی ہے:

وَ مَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [البقرة: ۱۸۵] اور جو بیمار یا سفر میں ہو وہ اتنے دن بعد میں روزے رکھ لے۔

ممنوع من الصرف کا اعراب

ممنوع من الصرف کا اعراب ہم پڑھ چکے ہیں، حالت جر میں ایسے اسماء پر فتحہ ہوتا ہے جیسے:

دَرَسْتُ فِي مَدَارِسَ كَثِيرَةِ.:میں نے بہت سے اسکولوں میں پڑھا ہے۔

سَافَرْتُ مِنْ لَنْدَنَ إِلَى بَرْلِيْنَ.: میں لندن سے برلین تک سفر کر چکا ہوں۔

هذِهِ كُتُبُ زَيْنَبَ: یہ زینب کی کتابیں ہیں۔

لیکن ذیل کی دوصورتوں میں اس پر بھی کسرہ آئے گا:

(۱) جب وہ معرف بال ہو، جیسے:

نَزَلْتُ فِي هَذِهِ الْفَنَادِقِ: میں ان ہوٹلوں میں ٹھہر چکا ہوں۔

اكْتُبْ بِالْقَلَمِ الْأَحْمَرِ:سرخ قلم سے لکھو۔

سَلَّمْتُ الرَّغِيْفَ لِلْوَلَدِ الْجَوْعَانِ:میں نے بھو کے لڑکے کو روٹی دے دی۔

قرآن مجید میں ارشاد الہی ہے:

فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَ الْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُوْنَ [المعارج: ۴۰]

تو نہیں، میں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی قسم کھاتا ہوں کہ بے شک ہم قدرت والے ہیں۔

۲۔ جب وہ مضاف ہو ، جیسے:

دَرَّسْتُ فِي مَدَارِسِ الْمَدِينَةِ:میں نے مدینہ منورہ کے اسکولوں میں پڑھایا ہے۔

اتَّصَلْتُ بِأصْدِقَاءِ بَلَالٍ: میں نے بلال کے دوستوں سے رابطہ کیا۔

هُوَ مِنْ أَحْسَنِ الطُّلابِ:وہ بہترین طلبہ میں سے ہے۔

ارشاد الہی ہے:

﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ﴾ [التين: ۴] يقينا ہم نے انسان کو بہترین سانچہ (شکل) پر پیدا کیا ہے۔

نوٹ :۔ الفاظ مَعَانِ، جَوَارٍ، نَوادٍ جو معنی معنی، جَارِيَةٌ : بچی اور نَادِ: کلب کی جمع ہیں مَفَاعِل کے وزن پر ہیں اور ساتھ میں منقوص بھی ہیں، ان کے آخر میں "ی" ہے جو اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب ان پر ال داخل ہو، جیسے: الْمَعَانِي الْجَوَارِي، اَلنَّوَادِي ، یہ جمع متناهی منقوص کہلاتے ہیں، ان پر حالتِ رفع وجر میں تنوین آئے گی ، اس لئے کہ ان کی "ی :حذف ہو جائے گی اور حالت نصب میں ہی لوٹ آئے گی ، اس لئے تنوین حذف ہو جائے گی ، جیسے:

مرفوع : هَذِهِ الْكَلِمَةُ لَهَا مَعَانٍ كَثِيرَةٌ. اس لفظ کے کئی معنی ہیں ۔

یہاں مَعَانِ مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور اس کی ي محذوف ہے، اس لئے اس پر اسي کے بدلے تنوین ہے۔

منصوب : أعْرِفُ مَعَانِي كَثِيرَةٌ لِهَذِهِ الْكَلِمَةِ. میں اس لفظ کے بہت سے معنی جانتا ہوں۔

یہاں مَعَانِي مفعول بہ ہو کر منصوب ہے اور اس پر تنوین نہیں ہے اس لئے کہ ي موجود ہے۔

مجرور : تُسْتَعْمَلُ هَذِهِ الْكَلِمَةُ بِمَعَانِ كَثِيرَةٍ. یہ لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

یہاں لفظ معان حرف جر کی وجہ سے مجرور ہے اور اس پر تنوین اس لئے ہے کہ ي محذوف ہے، ایک اور مثال دیکھئے:

مرفوع : تُوجَدُ هُنَا نَوَادٍ مُّخْتَلِفَةٌ. یہاں مختلف کلب (انجمنیں ) موجود ہیں۔

منصوب : أَمَّسَ النَّاسُ نَوَادِيَ مُخْتَلِفَةٌ. لوگوں نے بہت سی انجمنیں بنائی ہیں۔

مجرور : هُوَ عُضْوٌ فِي نَوَادٍ مُّخْتَلِفَةٍ. وہ بہت سی انجمنوں کا رکن ہے۔

لنک

المفصل

المفصل۔ سبق:۳

المنصرف وغير المنصرف

والأسم المعرب على نوعين نوع يستوفي حركات الأعراب والتنوين كزيد ورجل ويسمى المنصرف. ونوع يختزل عنه الجر والتنوين لشبه الفعل.

ويحرك بالفتح في موضع الجر كأحمد ومروان إلا إذا أضيف أو دخله لام التعريف ويسمى غير المنصرف، واسم المتمكن يجمعهما. وقد يقال للمنصرف الأمكن.

والأسم يمتنع من الصرف متى اجتمع فيه اثنان من أسباب تسعة أو تكرر واحد منها. وهي العلمية؛ والتأنيث اللازم لفظاً أو معنى في نحو سعاد وطلحة ووزن الفعل الذي يغلبه في نحو أفعل فإنه فيه أكثر منه في الأسم أو يخصه في نحو ضرب إن سمي به والوصفية في نحو أحمر والعدل من صيغة إلى أخرى في نحو عمر وثلاث لأن فيه عدلاً ووصفية، وأن يكون جمعاً في نحو منازل ومصابيح، إلا ما اعتل آخره نحو جوار فإنه في الرفع والجر كقاض وفي النصب كضوارب، وحضاجر وسراويل في التقدير جمع حضجر وسروالة والتركيب في نحو معد يكرب وبعلبك والعجمة في الأعلام خاصة والألف والنون المضارعتان لألفي التأنيث في نحو سكران وعثمان.

إلا إذا اضطر الشاعر يصرف وأما السبب الواحد فغير مانع أبداً. وما تعلق به الكوفيون في إجازة منعه في الشعر ليس بثبت. وما أحد سببيه أو أسبابه العلمية فحكمه الصرف عند التنكير كقولك رب سعاد وقطام لبقائه بلا سبب أو على سبب واحد، إلا نحو أحمر فإن فيه خلافاً بين الأخفش وصاحب الكتاب وما فيه سببان من الثلاثي الساكن الحشو كنوح ولوط منصرف في اللغة الفصيحة التي عليها التنزيل المقاومة السكون أحد السببين. وقوم يجرونه على القياس فلا يصرفونه وقد جمعهما الشاعر في قوله:

لم تتلفع بفضل مئزرها دعد ولم تسق دعد في العلب

وأما ما فيه سبب زائد كماه وجور فإن فيهما ما في نوح ولوط مع زيادة التأنيث فلا مقال في امتناع صرفه، والتكرر في نحو بشرى وصحراء ومساجد ومصابيح نزل البناء على حرف تأنيث لا يقع منفصلاً بحال، والزنة التي لا واحد عليها منزلة تأنيث ثان وجمع ثان.

لنک