( فعل مجہول نائب فاعل )
صرف و نحو کی کتابوں میں فعل معروف اور فعل مجہول کی تعریف تم نے پڑھی ہوگی کہ" جس فعل کا فاعل معلوم ہو اس کو فعل معروف کہتے ہیں"، اور "جس فعل کا فاعل - معلوم نہ ہو اس کو فعل مجہول کہتے ہیں"۔ اب تک جملہ فعلیہ کی جتنی مشقیں گزری ہیں وہ سب فعل معروف کی مشقیں تھیں ۔ اب چند مشقیں فعل مجہول کی لکھی جاتی ہیں اس سلسلہ میں حسب ذیل باتیں یاد رکھو۔
(۱) فعل مجہول میں فاعل نہیں ہوتا۔ مگر اس کی جگہ مفعول بہ اس کا قائم مقام ہوتا ہے جو نائب فاعل کہلاتا ہے۔
(۲) نائب فاعل بھی ہمیشہ اسم ہی ہوتا ہے اور مرفوع ہوتا ہے۔
(۳) فعل مجہول کی تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیه کے لئے نائب فاعل کا لحاظ کیا جائیگا جس طرح فعل معروف میں فاعل حقیقی کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
ذیل میں ماضی مجہول اور مضارع مجہول کی گردانیں لکھی جاتی ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ :۔
(۱) ماضی معروف کے پہلے حرف کو ضمه اور آخری حرف سے پہلے حرف کو کسرہ دےکر ماضی مجہول بنا لیتے ہیں۔ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ حَامِدًا سے ضُرِبَ حَامِدٌ وغيرہ یہ ثلاثی مجرد کا قاعدہ ہے۔ ثلاثی مزید اور رباعی مزید کے ماضی میں آخر سے پہلے حرف کو کسرہ اور باقی متحرک حروف کو ضمہ دیا جاتا ہے البتہ ماضی کا آخری حرف ہر حال میں مفتوح رہتا ہے۔
(۲) اور مضارع معروف کے پہلے حرف کو ضمہ اور آخر سے پہلے حرف کو فتحہ دینے سے مضارع مجہول بن جاتا ہے جیسے يَضْرِبُ زَيْدٌ حَامِدًا سے یُضۡرَبُ حَامِدٌوغیرہ۔
Read the rest (5)
ماضی مجهول مذکر : ضُرِبَ، ضُرِبَا ،ضُرِبُوا، ضُرِبۡتَ، ضُرِبْتُمَا، ضُرِبْتُمْ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
ماضی مجهول مونث : ضُرِبَتْ ،ضُرِبَتَا، ضُرِبۡنَ، ضُرِبتِ، ضُرِبْتُمَا ،ضُرِبْتُنَّ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
مضارع مجهول مذكر : يُضْرَبُ، يُضْرَبَانِ، يُضْرَبُونَ تُضْرَبُ، تُضْرَبَانِ، تُضْرَبُونَ أُضْرَبُ نُضْرَبُ
مضارع مجهول مؤنث : تُضْرَبُ ،تُضْرَبَانِ، يُضْرَبْنَ تُضْرَبِيْنَ، تُضْرَبَانِ ،تُضْرَبْنَ ،أُضْرَبُ ،نُضْرَبُ
نوٹ : فعل لازم سے فعل مجہول نہیں بنتا کیونکہ فعل لازم کا مفعول بہ نہیں ہوتا۔ جو فاعل کا قائم مقام بن سکے۔ ہاں البتہ ایسے افعال جوب داخل کر کے متعدی بنالئے جاتے ہیں ان کا فعل مجہول بھی اسی طرح آئے گا جیسے ذَهَبَ بِهِ زیدٌ (زید اس کو لے گیا) سے. ذُھِبَ بِہ وہ لے جایا گیا۔