تمرین الصرف
تمرین الصرف (سبق ۲۵ )
مجرد: وہ کلمہ جس کے تمام حروف اصلی ہوں ۔ مثال: فَتَحَ ، فَرَسٌ
مزید فیہ: وہ کلمہ جس میں حروف زائد بھی ہوں۔ مثال: تَفَتَّحَ ( کھل گیا)
۱۔ثلاثی مجرد جیسے خَرَجَ (وہ نکلا)
۲۔ثلاثی مزیدفیہ جیسے اَخْرَجَ(اس نے نکالا)الف زائد ہے
۳۔رباعی مجرد جیسے دَحْرَجَ (اس نے لڑھکایا)
۴۔رباعی مزیدفیہ جیسے تَدَحْرَجَ (وہ لڑھکا)اس میں ت زائد ہے
کلمات کا وزن کرنے کےلئے اور حروف اصلیہ اور حروف زائد معلوم کرنے کےلئے ف،ع،ل، کو میزان قرار دیاگیا،جس طرح چیزوں کی کمی بیشی اور برابری کا حال میزان سے معلوم ہوتاہے، اسی طرح کلمات کے حرفوں کو ف،ع،ل کے ساتھ مقابل کرنے سے ان کے اصلی حروف اور زوائد حروف معلوم ہو جاتے ہیں۔کلمہ موزون (یعنی جس کلمہ کا وزن نکالا جائے) کا جو حرف ف کے مقابل ہووہ فا کلمہ کہلاتا ہے جیسے قَلَمٌ میں ق، جو ع کے مقابل ہو وہ عین کلمہ جیسے قَلَمٌ میں ل اور جو ل کے مقابل ہو وہ لام کلمہ جیسے قَلَمٌ میں م کہلاتاہے
وزن کی تین صورتیں ہیں:
Read the rest (7)
۱۔فَعَلٌ جیسے زَمَنٌ یہ وزن ثلاثی مجرد کاہے
۲۔فَعْلَلٌ جیسے ثَعْلَبٌ یہ وزن رباعی مجرد کا ہے
۳۔فَعَلْلَلٌ جیسے سَفَرْجَلٌ یہ وزن خماسی مجرد کاہے
ان اوزان کے ذریعہ کسی کلمہ کو ثلاثی،رباعی،خماسی،اور مجرد مزیدفیہ ہونا اس طرح معلوم ہوسکتاہے کہ کہ موزون (جس کا وزن نکالاجائے)کے حرفوں کا مقابلہ وزن کے حرفوں سے ترتیب کے ساتھ کریں،اور حرکات وسکنات کے موافق ہونے کا لحاظ رکھیں جو زیادتی ہو اسکو وزن میں اسی طرح لائیں۔اب جو حروف ف،ع،ل،کے مقابل ہوں وہ اصلی ہوں گے اور جو اسکےعلاوہ ہوں وہ حروف زائد ہوں گے۔ذیل کی مثالوں سے اس اسکو ذہن نشین کرلو۔
زَمَنٌ (فَعَلٌ کے وزن پر)، جَعْفَرٌ(فَعْلَلٌ کے وزن پر)، سَفَرْجَلٌ(فَعَلْلَلٌ کے وزن پر)یہ سب مجرد کہلائیں گے۔
زَمَانٌ(فَعَالٌ)قِنْدِیْلٌ(فِعْلِیْلٌ)غَضْرَفُوطٌ(فَعْلَلُولٌ) چوں کہ ان میں حروف زائد بھی ہیں اسلئے مزیدفیہ کہلائیں گے۔
الفاظ کاوزن معلوم ہوجانے سے یہ فائدہ ہے کہ کسی ایک کلمہ کے حروف اصلیہ کے معنٰی معلوم ہوجانے کے بعد اس کے تمام مشتقات وغیرہ کے معنٰی جاننا آسان ہوجاتاہے۔