A type of the verb
فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
The lessons are written in Urdu.
The map
- فعل
- زمانہ کے اعتبار سے
- مفعول بہ ہونے اور نہ ہونے کے اعتبار سے
- فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبار سے
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- اعراب و بناء کے اعتبار سے
1 The rule
تعریف
فاعل یا مفعول کی طرف نسبت کے اعتبارسے فعل کی دو قسمیں ہیں :
۱۔ معروف : ایسا جملہ جس میں فاعل کا ذکر ہو اور وہ کام کو خود انجام دے رہا ہو۔
۲۔ مجھول : ایسا جملہ جس میں کام کرنے والے (فاعل) کا ذکر نہ ہو اور زور اس بات پر ہو کہ کام کس چیز پر یا کس کے ساتھ ہوا ہے۔
معروف و مجھول کی تعریف دیگر کتب میں2
تمرین الصرفتمرین الصرف۔ سبق:۱
معروف : وہ فعل جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو اور اسکا فاعل معلوم ہو جیسے شَرِبَ حَامِدٌ مَاءًا(حامد نے پانی پیا) اس مثال میں فاعل حَاْمِدٌ معلوم ہے اسلئے شَرِبَ فعل معروف ہو۔
مجہول : وہ فعل ہے جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو،اور اس کے فاعل کا ذکر نہ ہو نُصِرَ محمودٌ ( محمود کی مدد کی گئی )ان جملوں میں فاعل مذکور نہیں، اور فعل کی نسبت اس اپنے مفعول کی طرف ہے اسلئے شُرِبَ،نُصِرَ فعل مجہول ہوئے۔
معلم الانشاءمعلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۰
( فعل مجہول نائب فاعل )
صرف و نحو کی کتابوں میں فعل معروف اور فعل مجہول کی تعریف تم نے پڑھی ہوگی کہ" جس فعل کا فاعل معلوم ہو اس کو فعل معروف کہتے ہیں"، اور "جس فعل کا فاعل - معلوم نہ ہو اس کو فعل مجہول کہتے ہیں"۔ اب تک جملہ فعلیہ کی جتنی مشقیں گزری ہیں وہ سب فعل معروف کی مشقیں تھیں ۔ اب چند مشقیں فعل مجہول کی لکھی جاتی ہیں اس سلسلہ میں حسب ذیل باتیں یاد رکھو۔
(۱) فعل مجہول میں فاعل نہیں ہوتا۔ مگر اس کی جگہ مفعول بہ اس کا قائم مقام ہوتا ہے جو نائب فاعل کہلاتا ہے۔
(۲) نائب فاعل بھی ہمیشہ اسم ہی ہوتا ہے اور مرفوع ہوتا ہے۔
(۳) فعل مجہول کی تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیه کے لئے نائب فاعل کا لحاظ کیا جائیگا جس طرح فعل معروف میں فاعل حقیقی کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
ذیل میں ماضی مجہول اور مضارع مجہول کی گردانیں لکھی جاتی ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ :۔
(۱) ماضی معروف کے پہلے حرف کو ضمه اور آخری حرف سے پہلے حرف کو کسرہ دےکر ماضی مجہول بنا لیتے ہیں۔ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ حَامِدًا سے ضُرِبَ حَامِدٌ وغيرہ یہ ثلاثی مجرد کا قاعدہ ہے۔ ثلاثی مزید اور رباعی مزید کے ماضی میں آخر سے پہلے حرف کو کسرہ اور باقی متحرک حروف کو ضمہ دیا جاتا ہے البتہ ماضی کا آخری حرف ہر حال میں مفتوح رہتا ہے۔
(۲) اور مضارع معروف کے پہلے حرف کو ضمہ اور آخر سے پہلے حرف کو فتحہ دینے سے مضارع مجہول بن جاتا ہے جیسے يَضْرِبُ زَيْدٌ حَامِدًا سے یُضۡرَبُ حَامِدٌوغیرہ۔
Read the rest (5)
ماضی مجهول مذکر : ضُرِبَ، ضُرِبَا ،ضُرِبُوا، ضُرِبۡتَ، ضُرِبْتُمَا، ضُرِبْتُمْ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
ماضی مجهول مونث : ضُرِبَتْ ،ضُرِبَتَا، ضُرِبۡنَ، ضُرِبتِ، ضُرِبْتُمَا ،ضُرِبْتُنَّ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
مضارع مجهول مذكر : يُضْرَبُ، يُضْرَبَانِ، يُضْرَبُونَ تُضْرَبُ، تُضْرَبَانِ، تُضْرَبُونَ أُضْرَبُ نُضْرَبُ
مضارع مجهول مؤنث : تُضْرَبُ ،تُضْرَبَانِ، يُضْرَبْنَ تُضْرَبِيْنَ، تُضْرَبَانِ ،تُضْرَبْنَ ،أُضْرَبُ ،نُضْرَبُ
نوٹ : فعل لازم سے فعل مجہول نہیں بنتا کیونکہ فعل لازم کا مفعول بہ نہیں ہوتا۔ جو فاعل کا قائم مقام بن سکے۔ ہاں البتہ ایسے افعال جوب داخل کر کے متعدی بنالئے جاتے ہیں ان کا فعل مجہول بھی اسی طرح آئے گا جیسے ذَهَبَ بِهِ زیدٌ (زید اس کو لے گیا) سے. ذُھِبَ بِہ وہ لے جایا گیا۔
2 تمرین الصرف۔ سبق:۱
معروف : وہ فعل جس کی نسبت فاعل کی طرف ہو اور اسکا فاعل معلوم ہو جیسے شَرِبَ حَامِدٌ مَاءًا(حامد نے پانی پیا) اس مثال میں فاعل حَاْمِدٌ معلوم ہے اسلئے شَرِبَ فعل معروف ہو۔
مجہول : وہ فعل ہے جس کی نسبت مفعول کی طرف ہو،اور اس کے فاعل کا ذکر نہ ہو نُصِرَ محمودٌ ( محمود کی مدد کی گئی )ان جملوں میں فاعل مذکور نہیں، اور فعل کی نسبت اس اپنے مفعول کی طرف ہے اسلئے شُرِبَ،نُصِرَ فعل مجہول ہوئے۔
3 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۰
( فعل مجہول نائب فاعل )
صرف و نحو کی کتابوں میں فعل معروف اور فعل مجہول کی تعریف تم نے پڑھی ہوگی کہ" جس فعل کا فاعل معلوم ہو اس کو فعل معروف کہتے ہیں"، اور "جس فعل کا فاعل - معلوم نہ ہو اس کو فعل مجہول کہتے ہیں"۔ اب تک جملہ فعلیہ کی جتنی مشقیں گزری ہیں وہ سب فعل معروف کی مشقیں تھیں ۔ اب چند مشقیں فعل مجہول کی لکھی جاتی ہیں اس سلسلہ میں حسب ذیل باتیں یاد رکھو۔
(۱) فعل مجہول میں فاعل نہیں ہوتا۔ مگر اس کی جگہ مفعول بہ اس کا قائم مقام ہوتا ہے جو نائب فاعل کہلاتا ہے۔
(۲) نائب فاعل بھی ہمیشہ اسم ہی ہوتا ہے اور مرفوع ہوتا ہے۔
(۳) فعل مجہول کی تذکیر و تانیث اور جمع و تثنیه کے لئے نائب فاعل کا لحاظ کیا جائیگا جس طرح فعل معروف میں فاعل حقیقی کا لحاظ کیا جاتا ہے۔
ذیل میں ماضی مجہول اور مضارع مجہول کی گردانیں لکھی جاتی ہیں ان کے بنانے کا قاعدہ یہ ہے کہ :۔
(۱) ماضی معروف کے پہلے حرف کو ضمه اور آخری حرف سے پہلے حرف کو کسرہ دےکر ماضی مجہول بنا لیتے ہیں۔ جیسے ضَرَبَ زَيْدٌ حَامِدًا سے ضُرِبَ حَامِدٌ وغيرہ یہ ثلاثی مجرد کا قاعدہ ہے۔ ثلاثی مزید اور رباعی مزید کے ماضی میں آخر سے پہلے حرف کو کسرہ اور باقی متحرک حروف کو ضمہ دیا جاتا ہے البتہ ماضی کا آخری حرف ہر حال میں مفتوح رہتا ہے۔
(۲) اور مضارع معروف کے پہلے حرف کو ضمہ اور آخر سے پہلے حرف کو فتحہ دینے سے مضارع مجہول بن جاتا ہے جیسے يَضْرِبُ زَيْدٌ حَامِدًا سے یُضۡرَبُ حَامِدٌوغیرہ۔
ماضی مجهول مذکر : ضُرِبَ، ضُرِبَا ،ضُرِبُوا، ضُرِبۡتَ، ضُرِبْتُمَا، ضُرِبْتُمْ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
ماضی مجهول مونث : ضُرِبَتْ ،ضُرِبَتَا، ضُرِبۡنَ، ضُرِبتِ، ضُرِبْتُمَا ،ضُرِبْتُنَّ ،ضُرِبْتُ ، ضُرِبْنَا
مضارع مجهول مذكر : يُضْرَبُ، يُضْرَبَانِ، يُضْرَبُونَ تُضْرَبُ، تُضْرَبَانِ، تُضْرَبُونَ أُضْرَبُ نُضْرَبُ
مضارع مجهول مؤنث : تُضْرَبُ ،تُضْرَبَانِ، يُضْرَبْنَ تُضْرَبِيْنَ، تُضْرَبَانِ ،تُضْرَبْنَ ،أُضْرَبُ ،نُضْرَبُ
نوٹ : فعل لازم سے فعل مجہول نہیں بنتا کیونکہ فعل لازم کا مفعول بہ نہیں ہوتا۔ جو فاعل کا قائم مقام بن سکے۔ ہاں البتہ ایسے افعال جوب داخل کر کے متعدی بنالئے جاتے ہیں ان کا فعل مجہول بھی اسی طرح آئے گا جیسے ذَهَبَ بِهِ زیدٌ (زید اس کو لے گیا) سے. ذُھِبَ بِہ وہ لے جایا گیا۔
4 تمارین
5 معلم الانشاء (جلد:۱) سبق: ۱۰
اَلتَّمْرِيْنُ (55)
(ماضی مجہول)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) سُرِرْتُ بِنَجَاحِكَ فِي الْاِمْتِحَانِ.
(2) حُصِدَ الزَّرْعُ فِي اَوَائِلِ الرَّبِيْعِ.
(3) جُرِحَ ابْنَا مَحْمُوْدٍ وَحُمِلاَ اِلىَ الْمُسْتَشْفَى.
(4) حُرِّمَ عَلىَ الْمُسْلِمِيْنَ اَكْلُ الرِّبَا وَمُنِعُوْا عَنِ الْاِرْتِشَاءِ.
(5) اُمِرَتْ نِسَاءُ الْمُسْلِمِيْنَ بِالْحِجَابِ وَحُظِرْنَ مِنَ السُّفُوْرِ.
(6) قُطِعَتْ يَدُ السَّارِقِ جَزَاءً بِمَا سَرَقَ.
(7) بُعِثَ مُوْسىَ اِلىَ فِرْعَوْنَ وَمَلَئِهِ.
(8) زُيِّنَ لِفِرْعَوْنَ سُوْءُ عَمَلِهِ وَصُدَّ عَنِ السَّبِيْلِ.
(9) وَمَا اُمِرُوْآ اِلاَّ لِيَعْبُدُوْا اللهَ.
(10) وَمَا اُوْتِيْتُمْ مِنَ الْعِلْمِ اِلاَّ قَلِيْلًا.
(11) قُبِضَ عَلىَ اللِّصَّيْنِ وَسِيْقَ بِهِمَا اِلىَ مَحَلِّ الشُّرْطَةِ.
(12) بُهِتَ الْكَاذِبُوْنَ حِيْنَ سُئِلُوْا.
اَلتَّمْرِيْنُ (56)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایک مجوسی غلام کے ہاتھ شہید کیے گئے۔
(۲) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر کیے گئے۔
(۳) غزوۂ بدر میں قریش کے بڑے بڑے سردار مارے گئے۔
(۴) ہجرت سے پہلے مسلمانوں پر بہت ظلم کیا گیا اور وہ اپنے گھروں سے نکالے گئے۔
(۵) فتح مکہ کے دن تمام قریش معاف کردیے گئے۔
(۶) خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیاگیا۔
(۷) ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں قرآن ایک صحیفہ میں جمع کیا گیا۔
(۸) سنہ ۳ھ میں شراب حرام کی گئی۔
(۹) غزوۂ احد میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید کیے گئے۔
(۱۰) مسلمان عورتیں نوحہ کرنے سے روک دی گئیں۔
(۱۱) کل رات میری سائیکل چوری کی گئی اور چور نہ پکڑا گیا۔
(۱۲) ان لڑکیوں کو پردہ کا حکم دیا گیا اور بازار جانے سے روک دی گئیں۔
(۱۳) دونوں قاتلوں کو پھانسی کا حکم دیا گیا اور ان کو پھانسی دی گئی۔
(۱۴) درجہ دوم کے طلبہ بلائے گئے اور سوال پوچھے گئے۔
اَلتَّمْرِيْنُ (57)
(مضارع جمہول)
اردو میں ترجمہ کرو:
(1) لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ حُجْرٍ مَرَّتَيْنِ.
(2) لَا يُدْرَكُ الْمَجْدُ اِلاَّ بِتَضْحِيَةٍ.
(3) يُخْتَبَرُ الصَّدِيْقُ عِنْدَ بَلِيَّةٍ.
(4) تُعْرَفُ مَوَاهِبُ الرَّجُلِ بِحُسْنِ اخْتِیَارِهِ.
(5) تُفْتَحُ الدَّكَاكِيْنُ فِي السَّاعَةِ الْعَاشِرَةِ.
(6) تُغْلَقُ الْمَدَارِسُ لِعُطْلَةِ الصَّيْفِ فِي مَايُوْ.
(7) يُزْرَعُ الْقَمْحُ فِي الْخَرِيْفِ وَيُحْصَدُ فِي الرَّبِيْعِ.
(8) تُصْنَعُ الْاَحْذِيَةُ مِنَ الْجِلْدِ.
(9) يُطْحَنُ الْقَمْحُ فِي الرَّحَي اَوِ الطَّاحُوْنِ.
(10) سَتُرْسَلُ الْكُتُبُ بِالطَّيَّارَةِ.
(11) يُكْرَمُ اَبُوْكَ اَيْنَ حَلَّ وَسَارَ.
(12) يُقَاتِلُ الْمُجَاهِدُوْنَ فَيَقْتُلُوْنَ وَيُقْتَلُوْنَ.
اَلتَّمْرِيْنُ (58)
عربی میں ترجمہ کرو:
(۱) درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔
(۲) انسان اپنی سیرت (کردار) سے جانا جاتا ہے۔
(۳) مصر میں روئی کی کاشت کی جاتی ہے۔
(۴) اس کھیت میں سرسوں بوئی جاتی ہے۔
(۵) میرا باغ نہر کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔
(۶) ہندوستان کے اکثر صوبوں میں روٹی کھائی جاتی ہے۔
(۷) عربی زبان بہت سے ملکوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
(۸) بنارس میں ریشمی کپڑے بنے جاتے ہیں۔
(۹) الماریاں شیشم اور ساکھوکی بنائی جاتی ہیں۔
(۱۰) قیامت کے دن ہر شخص کا محاسبہ کیا جائے گا۔
(۱۱) نیکوں کو نیکی کا اور بروں کو ان کی برائی کا بدلہ دیا جائے گا۔
(۱۲) مجرمین کو ان کے جرم کی وجہ سے سزا دی جائے گی۔
(۱۳) ہمارے مدرسہ میں عنقریب ایک جلسہ منعقد کیاجائے گا۔
(۱۴) پاس ہونے والے طلبہ کے درمیان انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔
6 خودکار جانچ
خود کا جائزہ لیں