All topics

منصوب اسماء

مستثنی دیگر کتب میں

4 passages

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد:۳) سبق:۷

المستثنى

(۱) المُسْتَغْنَى بالا: اِلا کے ذریعہ استثناء

يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَقَعُ بَعْدَ "إِلَّا" مُسْتَثْنًى. وَ يُسَمَّى الاسمُ الَّذِي يَجِيءُ قَبْلَهَا وَيَشْتَمِلُ فِي المَعْنَى عَلَى مَا بَعْدَهَا مُسْتَثْنًى مِنْهُ.

المُسْتَثْنَى بـ"إِلَّا": اسمٌ يُذْكَرُ بَعْدَهَا مُخَالِفًا فِي الحُكْمِ لِمَا قَبْلَهَا.

جو اسم الا کے بعد واقع ہو وہ مستثنی کہلاتا ہے اور جو اسم الا سے پہلے آ جائے اور معنی کے لحاظ سے الا کے بعد والے اسم پر مشتمل ہو مستثنی منہ کہلاتا ہے۔

مستثنیٰ بالا وہ اسم ہے جو الا کے بعد ذکر ہو اور حکم میں ماقبل الا سے مخالف ہو۔

الامثلة

Read the rest (54)

(۱) حضرَ الأصدقاءُ إلا عليًّا

(۲) حَلَلْتُ مَسَائلِ الحسابِ إلا مسألةً

(۳) قَرَأْتُ الكِتابَ إِلا صَفْحتينِ

( ٤ ) انْقَضَى الصيفُ إِلا يَوْمَينِ .

حكم المستثنى بإلا: اِلا کے ذریعہ استثناء کا حکم

إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مُثْبَتًا وَجَبَ نَصْبُ المُسْتَثْنَى بِإِلَّا.

إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَذْكُورًا وَكَانَ الكَلَامُ مَنْفِيًّا جَازَ فِي المُسْتَثْنَى بِإِلَّا أَنْ يُنْصَبَ عَلَى الاِسْتِثْنَاءِ، وَأَنْ يَتْبَعَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ فِي إِعْرَابِهِ.

إِذَا كَانَ المُسْتَثْنَى مِنْهُ مَحْذُوفًا، يُعْرَبُ المُسْتَثْنَى عَلَى حَسَبِ مَا يَقْتَضِيهِ مَوْضِعُهُ فِي التَّرْكِيبِ كَمَا لَوْ كَانَتْ إِلَّا غَيْرَ مَوْجُودَةٍ.

جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام مثبت ہو تو مستثنی بالا کو منصوب پڑھنا واجب ہے۔

جب مستثنی منہ مذکور ہو اور کلام منفی ہو تو مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا بھی جائز ہے اور مستثنیٰ منہ جیسا اعراب لگانا بھی جائز ہے۔

جب مستثنی منہ محذوف ہو تو مستثنیٰ پر وہی اعراب آئے گا جو اس جگہ (موقع) پر الا کی غیر موجودگی میں آنا چاہئے تھا۔

الامثلة

(۱) أثمرتِ الأَشجَارُ إلا شجرةً

(۲) طار الحمام إلا واحدةً .

(۳) فر الجنود إلا القائدَ .

( ٤ ) لم تتفتح الأزهار إلا البنفسجَ ( أو البنفسجُ )

(۵ ) لم ينج المستحمون إلا أحمدَ ( أو أحمدُ )

(۶) ما سَلمت : على القادمين إلا الأولَ ( أو الأولُ )

(۷) لا یسدى النصيحةَ إلا المخلصون

(۸)ما صاحبْتُ إِلا الأخيارَ

(۹) لا تَسُودُ الشعوبُ إلا بالأخلاق .

(۲) المستثنى بغير وسوى: مستثنی سوی اور غیر کے ذریعہ

يُسْتَثْنَى بِـ"غَيْرِ" وَ"سِوَى"، فَيُجَرُّ الِاسْمُ الَّذِي بَعْدَهُمَا بِالإِضَافَةِ، وَيَثْبُتُ لَهُمَا مِنْ أَنْوَاعِ الإِعْرَابِ مَا ثَبَتَ لِلِاسْمِ الَّذِي بَعْدَ "إِلَّا".

غیر اور سوی کے ذریعے جو اسم مستثنی واقع ہو وہ اضافت کی وجہ سے مجرور ہوتا ہے اور خود غیر اور سوی پر اسی طرح کا اعراب آتا ہے جیسا کہ الا کے بعد واقع ہونے والے اسم پر آیا کرتا ہے۔

الامثلة

(۱) اتَّقَدَتِ المصابيحُ غير واحدٍ .

(٢) سَلَّمْتُ عَلَى القادمينَ غير سعيدٍ

(۳) ما عاد المريضَ عائدٌ غيرَ الطبيبِ ( أو غيرُُ الطبيبِ )

(۴) ما قَبلْتُ يَدَ أحدٍ غيرَ والدى .( أو غيرُ والدى )

(۵) لا يَنَالُ الْمَجْدَ غيرُ العاملينَ

(٦) لم يفترس الذئب غيرَ شاةٍ

(۷) لا تَعْتَمِد عَلَى غَيْرِ الله .

(۳) المستثنى بِخَلاً وَعَدَا وَحَاشَا: مستثنی خلا ، عدا اور حاشا کے ساتھ

يُسْتَثْنَى بِـ"خَلَا"، وَ"عَدَا"، وَ"حَاشَا"، فَيُنْصَبُ الِاسْمُ بَعْدَهَا مَفْعُولًا بِهِ عَلَى أَنَّهَا أَفْعَالٌ، أَوْ يُجَرُّ عَلَى أَنَّهَا أَحْرُفُ جَرٍّ، فَإِنْ سبَقَتْھا"مَا"، وَجَبَ النَّصْبُ.

خلا ، عدا اور حاشا کے ذریعے بھی مستثنی ہوتا ہے ان کے بعد آنے والے اسم کو مفعول به قرار دے کر منصوب بھی کر سکتے ہیں اور ان کو حروف جر مان کر ان اسماء کو مجرور بھی پڑھ سکتے ہیں البتہ خلا اور عدا سے پہلے ما آجائے تو پھر مستثنیٰ کو منصوب پڑھنا واجب ہو جاتا ہے۔ (حاشا سے پہلے ما نہیں آسکتا۔)

الامثلة

(۱) قَطَفْتُ الأزهار خَلَا الوَرْدَ .( أو الوردِ )

(۲) دخلتُ غُرف البيتِ خَلَا غُرْفَةَ النوم .( أو غرفةِ النومِ )

(۳) زُرْتُ مَسَاجِدَ المدينة خَلاً واحداً( أو واحدٍ )

( ٤ ) ذَبح الجزار الفنم خلا شاة ( أو شاةٍ )

(٥) فَطَفْتُ الأَزْهَارَ ما خلا الوردَ .

(۶) دخلتُ غُرَفَ البيت ما خلا غُرْفَةَ النوم .

(۷) زُرْتُ مساجد المدينة ما خلا واحداً .

( ۸ ) ذَبح الجزار الفنم ما خلا شاةً .

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق:۳۲

ا - نَجَحَ الطُّلابُ كُلُّهُمْ إِلَّا خَالِدًا. خالد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔

یہ استثناء ( الگ کرنا) کی ایک مثال ہے، استثناء کے تین ارکان ہیں :

(۱) مستثنی ، وہ چیز جس کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ خالدا ہے۔

(۲) مستثنی منہ، وہ چیز جس سے کسی چیز کو الگ کیا جائے، گذشتہ مثال میں وہ الطلاب ہے۔

(۳) أداة الاستثناء ، گذشتہ مثال میں وہ إِلَّا ہے، مزید ادوات یہ ہیں : غَيْرَ اور سوی، یہ دونوں اسم ہیں، مَا عَدَا وَ مَا خَلا، یہ دونوں فعل ہیں۔

استثناء کی قسمیں:

۱) اگر مستثنی اور مستثنی منہ دونوں ایک ہی جنس کے ہوں تو استثناء متصل ہوگا ، جیسے گذشتہ مثال۔ ایک اور مثال یہ ہے: ُزرْتُ البَلادَ الْأَرُوْبيَّة كُلَّهَا إِلَّا الْيُوْنَانَ. میں نے یونان کے علاوہ سارے یورپی ممالک دیکھ لئے۔ یونان بھی ایک یورپی ملک ہے۔

(۲) اگر مستثنی مستثنی منہ کی جنس سے نہ ہو تو استثناء منقطع کہلائے گا، جیسے:

Read the rest (55)

وَصَلَ الضُّيُوْف إِلَّا أَمْتِعَتَهُمْ. سارے مہمان پہنچ گئے سوائے ان کے سامان کے۔ یہاں استثناء منقطع ہے اس لئے کہ سامان اور مہمان دونوں کے اجناس مختلف ہیں اور جملہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ مہمان پہنچ گئے لیکن ان کا سامان نہیں پہنچ پایا، قرآن مجید میں ہے کہ حضرت ابرہیم علیہ السلام نے بتوں کے متعلق فرمایا:

فَإِنَّهُمْ عَدُوٌّ لّي إِلَّا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ﴾ [الشعراء: ۷۷] تو وہ سب (بت) میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے۔

یہاں استثناء منقطع ہے، اس لئے کہ رَبَّ الْعَالَمِيْنَ بتوں کے جنس سے نہیں ہے۔

ایک اور لحاظ سے استثناء مفرغ یا کام ہوگا۔ اگر مستثنی منہ مذکور ہوتو تام ہوگا جیسا کہ گذشتہ مثالوں میں ہے اور اگر مذکور نہ ہو تو مفرغ، جیسے:

مَاجَاءَ إِلَّا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہیں آیا۔

مَا رَأَيْتُ إِلَّا حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔

استثناء مفرغ میں جملہ ہمیشہ نفی، یا نہی، یا استفہام پرمشتمل ہوگا۔ استثناء پر مشتمل جملوں کی دو قسمیں ہیں:

(۱) مثبت جملہ جس کو مُوجَب کہتے ہیں ، جیسے:

افْتَحِ النَّوَافِذَ إِلَّا الْأَخِيْرَةَ. آخری کے علاوہ باقی ساری کھڑکیاں کھول دو۔

(۲) نہی نفی یا استفہام پر مشتمل جملہ، جسے غیر موجب کہتے ہیں، جیسے:

مَا غَابَ الطُّلابُ إِلَّا إِبْرَاهِيمَ إبْرَاهِيم. ابراہیم کے علاوہ باقی طلبہ غیر حاضر نہیں ہوئے۔(منفی)

لا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا الْجُدُدَ الْجُدُدُ نئے طلبہ کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔(نهي)

هَلْ يَرْسُبُ أَحَدٌ إِلَّا الْكَسْلَانَ الْكَسْلَانُ؟ کاہل کے علاوہ بھی کوئی نا کام ہوتا ہے؟(استفهام)

مستثنی کا اعراب : مستثنی إلا کے بعد

استثناء منقطع میں:

مستثنی ہمیشہ منصوب ہوگا، جیسے:

لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ إِلَّا الْمَوْتَ. موت کے علاوہ ہر بیماری کی دوا ہے۔

یہ منقطع ہے، کیوں کہ موت بیماری کی جنس سے نہیں ہے۔

استثناء متصل میں :

(۱) اگر موجب جملہ ہوتو مستثنی منصوب ہوگا ، جیسے:

يَغْفِرُ اللهُ الذُّنُوْبَ كُلَّهَا إِلَّا الشَّرْكَ. اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ سارے گناہ معاف فرما دیتے ہیں۔

(۲) اگر غیر موجب جملہ ہو تو مستثنی کے دو اعراب ہو سکتے ہیں، یا تو وہ منصوب ہوگا یا اس کا اعراب بھی مستثنی منہ کے اعراب کی طرح ہوگا، جیسے:

(نفی) مَا حَضَرَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی طالب علم نہیں آیا۔

مَا سَأَلْتُ الطُّلابَ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدًا. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے نہیں پوچھا۔ مَا اتَّصَلْتُ بالطُّلابِ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٍ. میں نے حامد کے علاوہ دیگر طلبہ سے رابطہ نہیں کیا۔

(نہی) لَا يَخْرُجْ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ. حامد کے علاوہ کوئی نہ نکلے۔

لا تَسْأَلْ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا. حامد کے علاوہ کسی سے نہ پوچھو۔

لَا تَتَّصِلْ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ. حامد کے علاوہ کسی سے رابطہ نہ کرو۔

(استفهام) هَلْ غَابَ أَحَدٌ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٌ؟ کیا حامد کے علاوہ بھی کوئی غائب ہے؟

هَلْ رَأَيْتَ أَحَدًا إِلَّا حَامِدًا حَامِدًا؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی کو دیکھا؟

هل اتَّصَلْتَ بِأَحَدٍ إِلَّا حَامِدًا حَامِدٍ ؟ کیا تم نے حامد کے علاوہ بھی کسی سے رابطہ کیا ؟

استثناء مفرغ میں :

استثناء مفرغ میں مستثنی کا کوئی مستقل اعراب نہیں ہوتا ہے بلکہ جملہ میں اس کے مقام کے لحاظ سے اس کا اعراب ہوگا ، جیسے: مَا رَسَبَ إِلَّا بَلَالٌ بلال کے علاوہ کوئی نا کام نہیں ہوا۔

یہاں مستثنی بلال فاعل ہے، اس کا اعراب جاننے کے لئے الا حذف کردیں تو اعراب سمجھ میں آجائے گا، جیسے گذشتہ مثال میں الا حذف کردیں تو مَا رَسَبَ بلال باقی رہے گا اور یہاں بلال فاعل ہے، یہ مستثنی کا اعراب جانے کا ایک طریقہ ہے جب کہ معنی اس سے مختلف ہوگا۔

اسی طرح مَا رَأَيْتُ إِلَّا بَلالا میں نے بلال کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھا۔ میں بلالا مفعول بہ ہےجیسا کہ مَا رَأَيْتُ بِلالا سے واضح ہے۔

اگر مستثنی کے بعد حرف جر کی وجہ سے مجرور ہو تو اس کا اعراب بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے، جیسے:

مَا بَحَثتُ إِلَّا عَنْ خَالِدٍ. میں نے خالد کے علاوہ کسی کو تلاش نہیں کیا۔

مَا كَرَمْنَا إِلَّا بِالْجَامِعَةِ الْإِسْلامِيَّة. ہم نے جامعہ اسلامیہ کے علاوہ کہیں نہیں پڑھا۔

نوٹ :۔ إِلَّا کے بعد صرف ضمیر منفصل آئے گی ، اس کی چند مثالیں یہ ہیں: لا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ . ہم اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتے ۔

سَألَ الْمُدَرِّسُ الطلابَ كُلُّهُمْ إِلَّا إِيَّاكَ استاذ نے تمہارے علاوہ سب سے سوال کیا۔

مستثنی غیر اور سوی کے بعد

ان الفاظ کے بعد مستثنی مجرور ہو گا اس لئے کہ یہ اس کی طرف مضاف ہو کر استعمال ہوتے ہیں، مستثنی کا اصل اعراب ان دونوں کلمات پر ظاہر ہو گا، جیسے: نَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِد حامد کے علاوہ سارے طلبہ کامیاب ہو گئے۔ یہاں غَيْرَ منصوب ہے

جیسا کہ نَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا میں منصوب ہے۔

مَانَجَحَ الطُّلابُ غَيْرَ حَامِدٍ حامد کے علاوہ کوئی طالب علم کا میاب نہیں ہوا۔ یہاں غیر منصوب یا مرفوع دونوں ہو سکتا ہے جیسا کہ مَانَجَحَ الطُّلابُ إِلَّا حَامِدًا \حَامِدٌ دونوں صحیح ہیں۔

مَانَجَحَ غَيْرُ حَامِدٍ یہاں غَيْرُ مرفوع ہےجیسا کہ مَانَجَحَ إِلَّا حَامِدٌ میں حَامِدٌ مرفوع ہے۔

مَا سَأَلْتُ غَيْرَ حَامِدٍ یہاں غیر منصوب ہےجیسا کہ مَا سَأَلْتُ إِلَّا حَامِدًا میں حَامِدًا منصوب ہے۔ سوی کا اعراب بھی بالکل غیر ہی کی طرح ہو گا سوائے اس کے کہ سوی کی ساری حرکتیں اس کے مقصور ہونے کی وجہ سے مقدر ہوں گی ۔

مستثنى مَا عَدَا اور مَا خَلا کے بعد

ان دو ادوات استثناء کے بعد مستثنی منصوب ہوگا جیسے :

اختَبَرْتُ الطُلاب مَا عَدَا ثَلاثَةٌ. میں نے تین کے علاوہ سارے طلبہ کا امتحان لیا۔

ایک شاعر کہتا ہے:

أَلا كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلَا اللَّهَ بَاطِلُ اللہ تعالی کے علاوہ ہر چیز باطل ہے۔

یہاں بَاطِلُ پر اصل میں تنوین ہے جو شعر کے وزن کی رعایت کرتے ہوئے حذف کر دی گئی ہے،

۲ - الا کسی چیز پر تنبیہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے:

ألا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَ لكِنْ لَّا يَشْعُرُوْنَ ﴾ [البقرة: ١٢] خبر دار یہی لوگ اصل مفسدین ہیں اگر چہ کہ انہیں احساس نہیں ہے۔ اس کو حرف استفتاح اور تنبیہ کہتے ہیں۔

Link

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۹

فصل المستثنى

المستثني: هو اسم منصوب يقع بعد أداة من أدوات الاستثناء، ليخالف ما قبلها في الحكم إثباتا ونفيا نحو: حضر الرجال إلا زيدا، وما حضر الطلاب إلا زيدا.

والكلام على الاستثناء ينحصر فيما يأتي: ۱۔ المستثنى منه ۲۔ والمستثنى ٣- وأدوات الاستثناء

فالمستثنى منه : هو الاسم الذي يقع قبل أداة الاستثناء ويثبت له الحكم إثباتا أو نفيا مثل: "الرجال"، و"الطلاب في المثالين المذكورين، وتارة يكون مذكورا وتارة يكون ملحوظا.

والمستثني: هو الاسم الذي يقع بعد أداة الاستثناء ويخالف المستثنى منه في الحكم الذي يثبت له إثباتا ونفيا، مثل "زيدا" في المثالين المذكورين.

وأدوات الاستثناء هي إلا وغير، وسوى، وعدا وخلا، وحاشاء وقد ألحقوا بها ليس" و "لا يكون" و "بيد".

Read the rest (79)

والمستثنى: ثلاثة أقسام :

متصل ومنقطع ومفرغ.

فالمتصل ماكان من جنس المستثنى منه، وأخرج عنه بأداة الاستثناء نحو: تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة.

والمنقطع: ما ليس من جنس المستثنى منه ، فلا حاجة إلى إخراجه عنه بأداة الاستثناء، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم

والمفرغ ما حذف فيه المستثنى منه، وفرغ العامل الذي قبل إلا" للعمل فيما بعدها(أي: المستثنى) وتكون إلا " كأنها لم تكن، ولا يكون ذلك إلا في كلام غير موجب نحو: ما جاء ني إلا زيد، وما رأيت إلا زيدا وما مررت إلا بزيد.

ولا يستعمل في المستثنى المفرغ أفعال الاستثناء

ثلاث حالات المستثنى بـ"إلا"

المستثنى بـ "إلا له ثلاث حالات:

ا۔ وجوب النصب

۲۔ جواز النصب والبدلية

۳۔ وجوب أن يكون حسب ما يقتضيه العامل الذي قبل "إلا"

الحالة الأولى: وجوب النصب

يجب نصب المستثنى بـ "إلا في ثلاثة مواضع:

أولا: إذا كان المستثنى متصلا واقعا بعد إلا في كلام تام موجب نحو: جاء القوم إلا زيدا

ثانيا: إذا تقدم المستثنى المتصل على المستثنى منه في كلام تام موجب أو غير موجب، مثال الموجب جاء إلا زيدا القوم ومثال غير الموجب ما جاء إلا سليما أحد

ثالثا: إذا كان المستثنى منقطعا، نحو: جاء التلاميذ إلا كتبهم، ويستعمل في المستثنیٰ المنقطع "إلا" و "غير فقط

الحالة الثانية: جواز النصب والبدلية

يجوز في المستثنى المتصل الواقع بعد "إلا" نصبه على الاستثناء وجعله بدلا من المستثنى منه إذا وقع بعد المستثنى منه في كلام تام غير موجب، نحو: ما جاء القوم الا زيدا، على الاستثناء، أو إلا زيد على البدلية من القوم.

الحالة الثالثة تختص بالمستثنى المفرغ كما سبق في أمثلته .

وناصب المستثنى بـ "إلا هو العامل الذي قبلها

حكم المستثنى بـ "غير" و"سوى:

حكم المستثنى بـ"غير" و سوى أن يجر المستثنى بإضافتهما إليه وأما حكم "غير " و سوى " فمثل حكم المستثنى الواقع بعد "إلا" في جميع أحواله الثلاثة السابقة. نحو : جاء القوم غير سليم، ما جاء غير سليم أحد، جاء التلاميذ غير كتبهم، وما جاء القوم غير سليم بالنصب على الاستثناء، أو غير سليم بالرفع على البدلية وما جاء غير سليم، وما رأيت غير سليم، وما مررت بغير سليم ( برفع سليم ونصبه وجره، وذلك حسب العوامل في المستثنى المفرغ)

حكم المستثنى بـ"عدا" و"خلا" و"حاشا":

المستثنى بـ"عدا" و "خلا" و"حاشا" يجوز فيه النصب والجر فالنصب: على أنها أفعال ماضية، وفاعلها ضمير واحدمستتر فيها وجوبا على خلاف الأصل، يعود على المستثنى منه على سبيل الانفراد، وما بعدها مفعول به، والجر: على أنها أحرف جر شبيهة بالزائدة لا متعلق لها، نحو: جاء القوم خلا، أو عدا، أو حاشا سليما، وخلاء أو عدا أو حاشا سليم.

وإذا اقترنت بـ"خلا" و"عدا" (ما) المصدرية تعين كونهما فعلين، ووجب نصب ما بعدهما. وأما "حاشا" فلا تسبقها (ما) إلا نادرا.

حكم المستثنى بـ "ليس" و"لا يكون"

المستثنى بـ "ليس" و "لا يكون" يكون منصوبا على أنه خبر لها، واسمها ضمير مستتر وجوبا نحو الدروس تفيد التلاميذ ليس أو لا يكون المهمل.

حكم المستثنى بـ "بيد

المستثنى بـ"بيد لا يكون إلا مصدرا مسبوقا من "أن" واسمها وخبرها ويكون ذلك المصدر المسبوق في محل جر بإضافة بيد إليه وأما حكم "بيد" فهو ملازما النصب على الاستثناء، نحو: سليم غني بيد أنه بخيل.

فصل مستثنى

مستثنی: یہ ایک منصوب اسم ہے جو استثناء کی کسی ادات (جیسے "إلا") کے بعد آتا ہے تاکہ اس کا حکم اپنے سے پہلے کی چیز سے مختلف ہو۔ مثال کے طور پر: "حضر الرجال إلا زیدا" (مرد آئے سوا زید کے) یا "ما حضر الطلاب إلا زیدا" (طلبہ نہیں آئے سوا زید کے)۔

استثناء پر گفتگو درج ذیل نکات پر مرکوز ہوتی ہے:

1. مستثنی منه: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات سے پہلے ہوتا ہے اور اس کے لئے حکم ثابت یا نافذ ہوتا ہے۔ مثلاً: "الرجال" اور "الطلاب" مذکورہ مثالوں میں۔ کبھی یہ ذکر کیا جاتا ہے اور کبھی یہ محض ذہن میں ہوتا ہے۔

2. مستثنی: یہ وہ اسم ہے جو استثنا کی ادات کے بعد آتا ہے اور یہ مستثنی منه کے حکم سے مختلف ہوتا ہے، جیسا کہ "زیدا" دونوں مثالوں میں۔

3. أدوات الاستثناء: یہ "إلا" ، "غير" ، "سوى" ، "عدا" ، "خلا" ، "حاشا" وغیرہ ہیں، اور ان میں "ليس" ، "لا يكون" ، اور "بيد" کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

مستثنی کے اقسام

مستثنی کو تین اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

1. متصل: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں ہوتا ہے اور استثنا کی ادات کے ذریعے نکالا جاتا ہے، مثلاً: "تصدأ كل المعادن إلا الذهب والفضة" (ہر دھات زنگ آلود ہوتی ہے سوائے سونے اور چاندی کے)۔

2. منقطع: یہ وہ مستثنی ہے جو مستثنی منه کی جنس میں نہیں ہوتا، اور اس کے نکالنے کی ضرورت نہیں ہوتی، مثلاً: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔

3. مفرغ: یہ وہ مستثنی ہے جس میں مستثنی منه حذف کر دیا جاتا ہے، اور "إلا" کی وجہ سے جو کام پہلے آیا ہے وہ اس کے بعد والے مستثنی پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسے: "ما جاءني إلا زيد" (کوئی نہیں آیا سوا زید کے)۔

مستثنی کے حالات

مستثنی کے ساتھ "إلا" کی تین حالتیں ہوتی ہیں:

1. وجوب النصب:

مستثنی کو "إلا" کے ساتھ نصب کرنا واجب ہے تین جگہوں پر:

- اگر مستثنی متصل ہو اور "إلا" کے بعد ایک مکمل مثبت جملے میں آئے، جیسے: "جاء القوم إلا زيدا" (قوم آئی سوائے زید کے)۔

- اگر متصل مستثنی مستثنی منه سے پہلے آ جائے، جیسے: "جاء إلا زيدا القوم" (قوم آئی سوائے زید کے)۔

- اگر مستثنی منقطع ہو، جیسے: "جاء التلاميذ إلا كتبهم" (طلبہ آئے سوا ان کی کتابوں کے)۔

2. جواز النصب والبدلية:

متصل مستثنی جو "إلا" کے بعد آتا ہے، اسے نصب کرنا یا مستثنی منه کے بدل کے طور پر لانا جائز ہے اگر یہ مستثنی منه سے پہلے آ رہا ہو، جیسے: "ما جاء القوم إلا زيدا" (قوم نہیں آیا سوا زید کے) یا "إلا زید" (زید مستثنی منه کے طور پر)۔

3. مستثنی المفرغ: یہ پہلے بیان کردہ مثالوں کی طرح ہوتا ہے۔

اور مستثنی کونصب دینا الاّ کے ذریعہ

" 'إلا' کے ذریعے مستثنیٰ کو نصب دینے والا وہی عامل ہوتا ہے جو اس سے پہلے آتا ہے۔"

مستثنی ب "غير" اور "سوى" کے احکام

غير اور سوى کے ساتھ مستثنی کی حالت یہی ہوتی ہے کہ مستثنی کو ان کے ساتھ اضافت دےکر جردیا جاتا ہے۔ "غير" اور "سوى" کا حکم مستثنی کی حالتوں کی طرح ہوتا ہے جو "إلا" کے بعد آتا ہے، مثلاً: "جاء القوم غير سليم" (قوم آئے سوا سلیم کے)۔

مستثنی ب"عدا" اور "خلا" اور "حاشا" کے احکام

"عدا"، "خلا" اور "حاشا" کے ذریعے مستثنیٰ کا اعراب نصب اور جر دونوں طرح جائز ہے۔

نصب:اگر انہیں ماضی کے افعال مانا جائے تو یہ لازمًا مستتر ضمیر کو فاعل رکھتے ہیں، جو مستثنیٰ منه کی طرف لوٹتی ہے۔اس صورت میں، جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مفعول بہ کے طور پر منصوب ہوگا۔

مثال:جاء القومُ عدا زيدًا (یہاں "عدا" فعل ماضی ہے اور "زيدًا" مفعول بہ ہے) ، جاء الطلابُ خلا محمدًا ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدًا۔

جر:اگر انہیں حروفِ جر مانا جائے تو ان کا کوئی تعلق (متعلق) نہیں ہوتا اور جو اسم ان کے بعد آتا ہے، وہ مجرور ہوتا ہے۔

مثال:جاء القومُ عدا زيدٍ ،جاء الطلابُ خلا محمدٍ ، مررتُ بالناسِ حاشا سعيدٍ۔

"ما" کے ساتھ: اگر "عدا" اور "خلا" کے ساتھ "ما" المصدرية آجائے تو یہ لازمی طور پر افعال ہوں گے، اور ان کے بعد والا اسم منصوب ہوگا۔

"حاشا" کے ساتھ "ما" کا استعمال نادر ہوتا ہے۔

مستثنی ب "ليس" اور "لا يكون" کے احکام

ليس اور لا يكون کے ساتھ مستثنی کو نصب کیا جاتا ہے، جیسا کہ یہ ان کا خبر ہوتا ہے، اور ان کا اسم ضمیر مستتر ہوتا ہے، مثلاً: "الدروس تفيد التلاميذ ليس" (سبق طلبہ کے لئے مفید نہیں ہے)۔

مستثنی ب "بيد" کے احکام

"بيد" کے ذریعے مستثنیٰ ہمیشہ مصدر ہوتا ہے جو "أن" اور اس کے اسم و خبر کے بعد آتا ہے۔ یہ مصدر "بيد" کے اضافے کے باعث مجرور ہوتا ہے، جبکہ "بيد" خود ہمیشہ نصب میں رہتا ہے، جیسے: سليم غني بيد أنه بخيل (سلیم مالدار ہے، مگر وہ کنجوس ہے۔)

Link

المفصل

المفصل۔ سبق:۲۳

الإستثناء

أنواع المستثنى:

المستثنى في إعرابه على خمسة أضرب أحدها منصوب أبداً وهو على ثلاثة أوجه: ما استثني بإلا من كلام موجب وذلك جاءني القوم إلا زيدا، وبعدا وخلا بعد كل كلام. وبعضهم يجر بخلا وقيل بهما، ولم يورد هذا القول سيبويه ولا المبرد. فأما ما عدا وما خلا فالنصب ليس إلا. وكذلك ليس ولا يكون. وذلك جاءني القوم أو ما جاءني عدا زيداً وخلا زيداً ومن عدا زيداً وما خلا زيداً. قال لبيد:

ألا كل شيء ما خلا الله باطل وكل نعيم لا محالة زائل

وليس زيداً ولا يكون زيداً. وهذه أفعال مضمر فاعلوها. وما قدم من المستثنى كقولك ما جاءني إلا أخاك أحد قال الكميت

وما لي إلا آل أحمد شيعة ومالي إلا مذهب الحق مذهب

وما كان استثناؤه منقطعاً كقولك ما جاءني إلا حماراً وهي اللغة الحجازية. ومنه قوله عز وجل: "لا عاصم اليوم من أمر الله إلا من رحم، وقولهم ما زاد إلا ما نقص وما نفع إلا ما ضر.

والثاني جائز فيه النصب والبدل وهو المستثنى من كلام تام غير موجب كقولك ما جاءني أحد إلا زيداً وإلا زيد.

Read the rest (29)

وكذلك إذا كان المستثنى منه منصوباً أو مجروراً. والاختيار البدل قال الله تعالى ما فعلوه إلا قليل منهم". وأما قوله عز وجل: "إلا أمرأتك" فيمن قرأ بالنصب فمستثنى من قوله تعالى: "فأسر بأهلك".

والثالث مجرور أبداً وهو ما استثنى بغير وحاشاً وسوى وسواه. والمبرد يجيز النصب بحاشا.

والرابع جائز فيه الجر والرفع وهو ما استثني بلا سيما وقول امرئ القيس:

ولا سيما يوم بدارة جلجل

يروى مجروراً ومرفوعاً وقد روي فيه النصب.

والخامس جار على إعرابه قبل دخول كلمة الإستثناء وذلك ما جاءني إلا زيد، وما رأيت إلا زيداً وما مررت إلا بزيد. والمشبه بالمفعول منها هو الأول والثاني في أحد وجهيه وشبهه به المجيئه فضلة وله شبه خاص بالمفعول معه لأن العامل فيه بتوسط حرف.

حكم غير:

وحكم غير في الإعراب حكم الاسم الواقع بعد إلا تنصبه في الموجب والمنقطع وعند التقديم وتجيز فيه البدل والنصب في غير الموجب. وقالوا إنما عمل فيه المتعدي لشبهه بالظرف لإبهامه.

الشبه في المعنى بين إلا وغير

واعلم أن إلا وغيراً يتقارضان ما لكل واحد منهما. فالذي لغير في أصله أن يكون وصفاً يمسه إعراب ما قبله، ومعناه المغايرة وخلاف المماثلة. ودلالته عليها من جهتين من جهة الذات ومن جهة الصفة. تقول مررت برجل غير زيد، قاصداً إلى أن مرورك كان بإنسان آخر أو بمن ليست صفته صفته، وفي قوله عز وجل" لا يستوي القاعدون من المؤمنين غير أولي الضرر والمجاهدون في سبيل الله، الرفع صفة للقاعدون والجر صفة للمؤمنين والنصب على الإستثناء. ثم دخل على إلا في الإستثناء وقد دخل عليه إلا في الوصفية. وفي التنزيل: "لو كان فيهما آلهة إلا الله لفسدتا".

أي غير الله. ومنه قوله:

وكل اخ مفارقة أخوه لعمر أبيك إلا الفرقدان

ولا يجوز اجراؤه مجرى غير إلا تابعاً، لو قلت: لو كان فيهما إلا الله كما تقول لو كان فيهما غير الله لم يجز. وشبهه سيبويه بأجمعون.

وتقول ما جاءني من أحد إلا عبد الله وما رأيت من أحد إلا زيداً ولا أحد فيها إلا عمرو فتحمل البدل على محل الجار والمجرور لا على اللفظ، وتقول ليس زيد بشيء إلا شيئا شيئاً لا يعبأ به.

قال طرفة:

أبني لبيني لستم بيد إلا يداً ليست لها عضد

وما زيد بشيء لا يعباً به بالرفع لا غير.

حكم تقديم المستثنى على صفة المستثنى منه وإن قدمت المستثنى على صفة المستثنى منه ففيه طريقان: أحدهما وهو اختيار سيبويه أن لا تكترث للصفة وتحمله على البدل. والثاني أن تنزل تقديمه على الصفة منزلة تقديمه على الموصوف، وذلك قولك ما أتاني أحد إلا أبوك خير من زيد، وما مررت بأحد إلا عمرو خير من زيد، أو تقول إلا أباك وإلا عمراً.

حکم تثنية المستثنى: وتقول في تثنية المستثنى ما أتاني إلا زيداً إلا عمراً أو إلا زيداً إلا عمرو ترفع الذي أسندت إليه

الفعل وتنصب الآخر. وليس لك أن ترفعه لأنك لا تقول تركوني إلا عمرو. وتقول ما أتاني إلا عمراً إلا بشراً أحد، منصوبين لأن التقدير ما أتاني إلا عمراً أحد إلا بشر، على إبدال بشر من أحد فلما قدمته نصبته.

الفعل المستثنى:

وإذا قلت ما مررت بأحد إلا زيد خير منه كان ما بعد إلا جملة ابتدائية واقعة صفة لأحد، وإلا لغو في اللفظ معطية في المعنى فائدتها جاعلة زيداً خيراً من جميع من مررت بهم.

وقد أوقع الفعل موقع الأسم المستثنى في قولهم نشدتك بالله إلا فعلت، والمعنى ما أطلب منك إلا فعلك؛ وكذلك أقسمت عليك الّا فعلت. وعن ابن عباس بالإيواء والنصر إلا جلستم. وفي حديث عمر : عزمت عليك لما ضربت كاتبك سوطاً بمعنى إلا ضربت.

حذف المستثنى:

والمستثنى يحذف تخفيفاً وذلك قولهم ليس إلا وليس غير.

Link