All topics

منصوب اسماء

تمیز دیگر کتب میں

5 passages

النحو الواضح (ابتدائیہ)

النحو الواضح ابتدائیۃ (جلد: ۳) سبق:۹

التمييز: تمیز

التَّمْيِيزُ: اِسْمٌ يُذْكَرُ لِبَيَانِ الْمُرَادِ مِنِ اسْمٍ سَابِقٍ يَصْلُحُ لأَنْ تُرَادَ بِهِ أَشْيَاءُ كَثِيرَةٌ.

الْمُمَيَّزُ قِسْمَانِ مَلْفُوظٌ وَمَلْحُوظٌ، فَالْأَوَّلُ مَا يُلْفَظُ بِهِ فِي الْجُمْلَةِ كَأَسْمَاءِ الْوَزْنِ، وَالْكَيْلِ، وَالْمِسَاحَةِ، وَالْعَدَدِ، وَالثَّانِي مَا يُفْهَمُ مِنَ الْجُمْلَةِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُذْكَرَ فِيهَا.

تمیز وہ اسم ہے جو اسم سابق سے مطلوبہ معنی کی تعیین کیا کرتا ہے۔

ممیز کی دو قسمیں ہیں: ملفوظ اور ملحوظ ۔ ملفوظ وہ ہے جو جملہ میں مذکور ہو جیسے وزن ، پیمانہ ، پیمائش اور عدد کے اسماء اور ملحوظ وہ ہے جو ذکر ہوئے بغیر جملہ کے سیاق سے سمجھا جا سکے۔

الامثلة

Read the rest (60)

(۱) اِشْتَرَيْتُ رِطلاً بَلَحًا .

(۲) غَلتِ الأَرْضُ إِرْدَبًا قَمْحًا .

(۳) باعنِي التاجرُ ذراعًا حَرِيراً .

( ٤ ) في الحقْلِ عِشْرُونَ بَقَرَةٌ .

(۵ ) طَابَ المكانُ هواءً

(٦) فَاضَ القَلْبُ سُرُوراً

(۷) الْعِنَبُ من الذِّ أَنْوَاعِ الْفَاكِهَةِ طَعۡمًا .

(۸) القاهرة أكثرُ مِنَ الْإِسْكَنْدَريَّةِ سُكاناً .

؎

حكم التمييز

(۱) حُكْمُ تَمْیيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمَسَاحَةِ: وزن پیمانه اور پیمائش کی تمیز کا حکم

يَجُوزُ فِي تَمْيِيزِ الْوَزْنِ وَالْكَيْلِ وَالْمِسَاحَةِ أَنْ يُنْصَبَ، وَأَنْ يُجَرَّ بِالإِضَافَةِ أَوْ بِمِنْ.

وزن ، پیمانہ اور مساحت کی تمیز منصوب ہوسکتی ہے اور اضافت یا من کی وجہ سے مجرور بھی آسکتی ہے۔

الامثلة

(۱) شَرِبْتُ رِطْلًا لَبَنَا (أَو) رِطْلَ لَبَنِ (أَو) رِطلًا مِنْ لَبَنِ

(٢) أَوْ قَدْتُ قِنْطَارًا فَحْمًا (أَو) قِنْطَارَ فَحمٍ (أَو) قِنْطَارًا مِنْ فَعْمِ

(۳) عِنْدِي مِثْقَالَ ذَهبًا (أَو) مِثْقَالُ ذهبٍ(أَو) مِثْقَالُ مِنْ ذَهَبٍ

(۴) أكل الحِصَانُ حفنَة شَعِيرًا.(أَو) حَفْنَةَ شَعيرٍ(أَو) حَفْنَةٌ مِنْ شَعيرٍ

(٥) شَرِبْتُ كُوباً ماءً .(أَو) كوبَ ماءٍ(أَو) كوبًا مِنْ مَاءٍ

(۶) اشْتَرَيْتُ قَدَحًا سِمْسِمًا. (أَو) قدحَ سِمْسِمٍ(أَو) قدحًا من سِمْسِمٍ

(۷) بعتُهُ ذِرَاعًا حريراً (أَو) ذراعَ حريرٍ(أَو) ذراعًا من حريرٍ

(۸) لا أَمْلِكُ شِبرًا أَرْضًا(أَو) شِبرَ أَرْضٍ (أَو) شِبْرًا مِنْ أَرْضٍ

(۹) زَرَعتُ فَدَّانَا أَرزا (أَو) فَدَّانَ أَرُزٍ(أَو) فَدَّانًا مِنْ أَرُزٍ

(۲) حُكْمُ تَيزِ الْعَدَدِ: عدد کی تمیز کا حکم

تَميِيزُ العَدَدِ يَجِبُ جَرُّهُ جَمْعًا مَعَ الثَّلَاثَةِ وَالعَشْرَةِ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَنَصْبُهُ مُفْرَدًا مَعَ أَحَدَ عَشَرَ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ وَمَا بَيْنَهُمَا، وَجَرُّهُ مُفْرَدًا مَعَ الْمِائَةِ وَالأَلْفِ.

تمیز العدد کو تین سے دس تک کے عدد میں جمع مجرور ، گیارہ سے ننانوے تک کے ساتھ مفرد منصوب اور سو اور ہزار کے ساتھ مفرد مجرور لانا واجب ہے۔

الامثلة

(۱) غَرَسْتُ ثَلَاثَ شَجَرَاتٍ

(٢) أكَلْتُ أَرْبَعَ تُفاحاتٍ .

(۳) اِشْتَرَيْتُ خَمْسَةَ أَقْلَامٍ .

(٤) في الأسبوع سَبْعَةُ أَيَّامٍ .

(٥) فِي الْمَسْجِدِ عَشْرَةُ أَعْمِدَةٍ

(۱) رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ فَارَسًا .

(۲) فِي الشَّجَرَةِ تسعةَ عَشَرَ غُصْنًا.

(۳) فى الشهرِ ثلاثونَ يَوْمًا

( ٤ ) في الشجرة إِحْدَى وَأَرْبَعُون برتقالةً..

( ۵ ) فِي البُسْتَانِ تِسْعُ وتسمون نخلةً.

(۱) في القنطارِ مائةُ رطلٍ . .

(۲)رکب السفینۃُ مائتَا مسافرٍ

(۳) قطع القطارُ خمسمائةِ ميلٍ

( ٤ ) في الحديقةِ ألفُ شجرةٍ .

( ۵ ) مِساحةُ الدَّارِ الْفَا ذِرَاعٍ .

(۶) في ساحةِ القِتالِ ثلاثةُ آلافِ جُنْدِيٍّ.

(۳) حُكْمُ التَّمِیۡزِ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظاً: تمیز کا حکم جب ممیز ملحوظ ہو(غیر مذکور)

يُنْصَبُ التَّمْيِيزُ إِذَا كَانَ الْمُمَيَّزُ مَلْحُوظًا.

اگر ممیز ملحوظ ہو (مذکور نہ ہو) تو تمیز ہمیشہ منصوب ہو گی۔

الامثلة

(۱) حَسُنَ الغلامُ كلاماً .

(۲) اعْتَدَلَ الرَّجُلُ قامةً .

(۳) الْفِيلُ اكبرُ من الجملِ جسماً .

(٤) الحَرِيرُ أغلى من القطنِ قيمةً

Link

معلم الانشاء

معلم الانشاء (جلد:۲) سبق:۸،۹

تمیز

تمیز ایک ایسا اسم ہے جو اپنے ماقبل کے اسم سے ابہام دور کرکے اس کے معنی مراد کو متعین کرتا ہے جیسے اشتریتُ رِطُلا زيتا اور عِنْدِي عَشَرَۃَ أَقلَامٍ

اسماء کیل، وزن، مساحت اور عدد سب کے سب اپنے اندر ابہام رکھتے ہیں مثلا رطل ایک وزن کا نام ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کہ ایک رطل کیا چیز ہے تیل، گھی، شہد یا کچھ اور ؟ اسی طرح عشرہ ایک عدد کا نام ہے اس سے مراد دس قلم بھی ہو سکتے ہیں۔ اور دس کوئی دیگر چیز بھی، پس جو اسم بعد میں آکر ان کے معنی کی مراد کو متعین کرتا ہے نحویین کی اصطلاح میں اسے تمیز کہتے ہیں۔ جیسے زیتا اور اقلام او پر کی دونوں مثالوں میں ۔

تمیز کے مقابلہ میں جس اسم کے اندر ابہام پایا جاتا ہے اسے ”ممیز“ کہتے ہیں ممیز دو طرح کے ہوتے ہیں ایک ممیز ملفوظ اور دوسرا ممیز ملحوظ ۔

(۱) ممیز ملفوظ وہی ہے جس کا ذکر جملہ کے اندر الفاظ میں موجود ہو جیسے اوپر کی مثالوں میں رطل اور عشرہ ۔

(۲) ممیز ملحوظ سے مراد یہ ہے کہ جملہ کے اندر ممیز الفاظ میں مذکور تو نہ ہومگر خود جملہ کا ابہام اس امر کا متقاضی ہو کہ اس کی تمیز لائی جائے۔ جیسے فُلانٌ أَكْثَرَ مِنی مالاً یہاں اگر مال نہ کہا جائے تو یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ فلاں شخص آپ سے کس چیز میں یا کس لحاظ سے زیادہ ہے۔

ممیز ملحوظ کی تمیز :

Read the rest (69)

ممیز جب ملحوظ ہوتا ہے تو تمیز ہمیشہ منصوب ہوتی ہے جیسے "مَحْمُودٌ اكْبَرُ مِنِّي سِنَّا، طَابَ الْمَكَانُ هَوَاءً، اِمْتَلا الِْاناءُ مَاءً، تَهَلَّلَ وَجُهُهُ بشْرًا

وزن کیل اور مساحت کی تمیز :

وزن کیل اور مساحت کی تمیز میں حسب ذیل صورتیں جائز ہیں:

(الف) یہ کہ منصوب ہو جیسے اشتریت ذراعا ثوبا

(ب) یه که مجرور باضافت ہو جیسے اشتریت ذراعَ ثوبٍ

(ج) یہ کہ مجرور بحرف جار "من" ہو جیسے اشتریت ذراعا من ثوب۔

عدد کی تمیز :

عدد کی تمیز حسب ذیل طریقے پر لائی جاتی ہے۔

(1) ثلثۃ سے عشر تک کی تمیز جمع اور مجرور لائی جاتی ہے۔ جیسے: ثلاثۃَ أقلامٍ ، و عشرۃَ رِجالٍ

(۲) اَحَدَ عَشَر سے تسعة و تسعون تک کی تمیز واحد اور منصوب ہوتی ہے۔ جیسے اَحَدَ عَشَرَ كوكبا وتسعة وتسعون رَجُلاً

(۳) مائة اور الف کی تمیز واحد اور مجرور آتی ہے جیسے مائة رجلٍ والف رَجُلٍ

عدد کا حکم:

عدد کی تمیز سب سے مشکل ہے اور اس سے زیادہ مشکل عدد کی تذکیر و تا نیث کاحکم ہے اس لئے اسے اچھی طرح یاد کر رکھنا چاہئے۔

(1) عدد کے الفاظ ثلٰثۃ سے تسعة تک تذکیر و تانیث میں معدود کے برعکس ہوتے ہیں ۔ خواہ عدد مفرد ہو خواہ مرکب ہو ۔ خواہ معطوف و معطوف علیہ ہو۔

(الف) مفرد کی مثال جیسے ثلاثۃ اقلامٍ اور ثلاث غرفاتٍ اسی طرح تسعۃ تک

(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثۃ عشر قلما اور ثلث عشر ۃغرفةً

(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ثلثۃ و عشرون قلما اور ثلث و عشرون غرفة

(۲) عشرۃ ( کی تذکیر و تانیث ) کا قاعدہ یہ ہے کہ مفرد ہو تو معدود کے برعکس ہوتا ہے اور مرکب ہو تو معدود کے موافق ہوتا ہے۔

(الف) مفرد کی مثال جیسے عشرۃ رجال اور عشر غرفات (معدود کے برعکس)۔

(ب) مرکب کی مثال جیسے ثلثة عشر قلما اور ثلث عشرة غرفة (معدود کے مطابق )۔

(۳) واحد اور اثنان تینوں صورتوں میں معدود کے مطابق رہتے ہیں۔

(الف) مفرد کی مثال ہے [ رجل واحد اور غرفة واحدة، رجلان اثنان اور غرفتان اثنتان] واضح رہے کہ واحد اور اثنان کی تمیز نہیں آتی۔

(ب) مرکب کی مثال جیسے [ احد عشر قلما اور احدى عشرة غرفة، اثنا عشر قلما اور اثنتا عشرة غرفة ]

(ج) معطوف و معطوف علیه کی مثال ہے، [ احد و عشرون قلما اور احدى و عشرون غرفة ، اثنان وعشرون قلما و اثنتان و عشرون غرفة]

(۴) عشرہ کے سوا باقی تمام عقود ( دہائیاں) عشرون و ثلثون وغیرہ تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔

(۵) اسی طرح مائہ اور ألف بھی تذکیر و تانیث میں یکساں رہتے ہیں۔

عدد کا اعراب:

احد عشر سے تسعة عشر تك باستثناء اثنا عشر فتحہ پر مبنی ہوتے ہیں۔ باقی تمام اعداد بہ شمول اثنا عشر معرب ہیں۔ عامل کے مطابق ان کا اعراب پڑھا جاتا ہے۔

كنايات العدد:

کم، کائن اور کذا کے ذریعہ بھی عدد کا کنایہ کرتے ہیں۔ اس کے احکام حسب ذیل ہیں۔

(1) کم استفہامیہ کی تمیز مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے کہ کم تلميذا في صفك؟ تمہارے درجے میں کتنے طلباء ہیں؟۔ لیکن کم پر جب کوئی حرف جار داخل ہو جائے تو تمیز مجرور ہو جاتی ہے۔ بکم روبية ( کتنے روپے میں)؟ منذ كم يوم؟ ( کتنے دن سے)؟ اگر چہ اصل قاعدہ کی رو سے بکم روبيةً اور منذکم یوما منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں۔

(۲) کم خبریہ کی تمیز مفرد اور جمع دونوں لکھ سکتے ہیں۔ مگر ہر حال میں مجرور رہے گی جیسے کم کتبٍ قرأت یا کم کتابٍ قرأت

( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں) کبھی کم خبریہ کی تمیز پر من حرف جار بھی داخل کر دیتے ہیں۔ جیسے کم من كتاب قرأته

( میں نے کتنی ہی کتابیں پڑھی ہیں)

(۳) کاین کی تمیز من حرف جار کے ساتھ ہمیشہ مجرور آتی ہے۔ جیسے کاین من طالب لا يجتهد في القرأة ( کتنے طالب علم پڑھنے میں محنت نہیں کرتے )

(۴) كذا کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوتی ہے جیسے اَعْطَيْتُهُ كَذَا درھما ( میں نے اسے اتنے درہم دیئے)

فائدہ:

کم خبریہ اور کأین سے صرف کثیر اشیاء کی طرف کنایہ کیا جاتا ہے اور کذا سے قلیل و کثیر دونوں کی طرف۔

عدد وصفی و سنین (عدد صفی اور سال)

عدد وصفی جس سے اعداد کی ترکیب معلوم ہوتی ہے۔ اسم فاعل کے وزن پر حسب ذیل طریقے سے لکھتے ہیں ۔

الدرس الأول الدرس العاشر ،القصة الأولى القصۃ العاشرة

الدرس الحادي عشر الدرس التاسع عشر ،القصة الحادية عشرة القصة التاسعة عشرة

الدرس العشرون والثلاثون والتسعون الخ ، القصة العشرون والثلاثون والتسعون الخ

الدرس الحادي والعشرون والتاسع والتسعون ،القصة الحادية والعشرون والتاسعة والتسعون

الدرس المائة والدرس الألف ، القصة المائة والقصة الألف

بیچ کے اعداد اختصار کی غرض سے حذف کر دیئے گئے ہیں ان مثالوں پر غور کرنے سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں۔

(1) تذکیر و تانیٹ اور تعریف و تنکیر میں عدد اپنے موصوف کے مطابق ہے۔

(۲) عدد مرکب ( یعنی ا سے ۱۹ تک ) اور عدد معطوف و معطوف علیه ( یعنی ۲۱، ۲۲، ۲۳ وغیرہ) میں صرف پہلاہی جز اسم فاعل کے وزن پر ہے دوسرا جزا اپنے حال پر باقی ہے۔

(۳) عدد مرکب میں ال صرف پہلے ہی جز پر ہے، مگر عدد معطوف و معطوف علیہ دونوں جز پر۔

(۴) العاشر کے سوا باقی دہائیوں پر صرف ”ال‘ ہی داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ انہیں اسم فاعل کے وزن پر نہیں ڈھالا جاسکتا اسی طرح تذکیر و تانیث میں بھی وہ یکساں رہتے ہیں۔

فائدہ:

اوپر کے نقشہ میں اسم فاعل کے وزن پر جو اعداد لکھے گئے ہیں ان کا ترجمہ پہلا، دوسرا، پانچواں وغیرہ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن اگر آپ تینوں، چاروں پانچوں وغیرہ سے معانی کو ادا کرنا چاہیں تو اس کے لئے عدد اسم فاعل کے وزن پر نہیں لکھا جاتا۔ بلکہ اصلی صورت میں باقی رکھتے ہوئے صرف ”ال" داخل کر دینا کافی ہوتا ہے۔ جیسے تینوں بھائیوں نے اپنے باپ سے کہا قال الاخوان الثلاثہ لابیھم۔

سنین:

تاریخ و سنین حسب ذیل طریقہ پر لکھتے پڑھتے ہیں۔

(1) ولد فلان في التاسع عشر من شهر شوال سنة سبع و خمسين و.سبع مائة من الهجرة

(۲) توفي فلان في الخامس والعشرين من شهر ربيع الأول سنة احدى و ستين و ثلث مائة والف من الهجرة

(۳) استقلت الهند من ايدى الانكليز سنة سبع و اربعین و تسع مائة بعد الألف من الميلاد

نوٹ

عربی میں سنۃ چونکہ مونث ہے اس لئے اس کے بعد واحد اور اثنان مؤنث لکھے جاتے ہیں۔ جیسے اوپر کی دوسری مثال میں اور ثلث سے تسع تک مذکر

(۲) عرب مورخین حسب ذیل طریقہ پر تاریخیں لکھتے ہیں۔ پہلی تاریخ کے لئے للیلة خلت من شهر کهذا ۔ اسی طرح چودہ تاریخ تک جیسے لاربع عشرة خلون من شهر كذا ۔ پندرہویں تاریخ کولنصف شهر كذا اور سولہویں کو لاربع عشرة ليلة بقين من شهر كذا اى طرح اٹھائیسویں تک انتیسویں تاریخ کو لليلة بقيت من شهر كذا اور تیسویں کو لآخر يوم من شهر كذا لکھتے ہیں۔

(۳) اعداد دونوں طرف سے پڑھے جاتے ہیں مگر زیادہ فصیح یہ ہے کہ دائیں طرف سے پڑھا جائے جیسے ” ۱۵۹۷‘ سال کو سبع و تسعون و خمس مائة و الف سنۃ۔ اگرچہ الف و خمس مائة وسبع و تسعون سنة بھی لکھ پڑھ سکتے ہیں۔

Link

تیسیر النحو

تیسیر النحو۔ سبق:۱۸

فصل التمييز

التمييز هو اسم نكرة منصوب غالبا متضمن معنى "من" يذكر لرفع الإبهام الموجود في المميز، نحو: عندي عشرون قلما (فلو قلت: عندي عشرون، وسكت لم يتضح المراد، لأن كلمة عشرون يوجد فيها الإبهام، تصلح لأن يراد بها أشياء كثيرة، وعند ما جيء بالتمييز قلما رفع تلك الإبهام، وحدد المراد بها)وتسمى كلمة "عشرون" مميزا، وتسمى كلمة "قلما" تمييزا.

المميز نوعان:

(۱) مميز ملفوظ أي مذكور في الكلام، ويكون المميز الملفوظ:

اسم عدد، نحو: عندي عشرون كتابا

مادل على مقدار :

من وزن، نحو: عندي جرام ذهبا

Read the rest (192)

أوكيل، نحو: عندي صاح قمحا

أو مساحة، نحو: لي فرسخ أرضا

أو مقياس، نحو: عندي مترخزا

أو ما دل على ما يشبه المقدار من وزن، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا، ومن كيل، نحو: عندي حفنة قمحا، أو مساحة، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا أو مقياس، نحو: عندي مديدك خزا.

أو ما دل على مماثلة، نحو: لي مثلك صاحبا، أو على مغايرة نحو : ليس لي غير الله معينا.

وتمييز هذا المميز يسمى تمييز الذات" أو "تمييز المفرد"

(ب) مميز ملحوظ، أي لا يكون المميز ذاتا ملفوظا مذكورا في الكلام كما في النوع السابق، بل يكون أمرا معنويا ملحوظا غير مذكور في اللفظ، وذلك الأمر المعنوى الملحوظ هو "النسبة الموجودة في الجملة، فأحيانا يوجد الإبهام في هذه النسبة. ويؤتي بالتمييز لرفعه نحو ازداد المتعلم أدبا في هذه الجملة لا يوجد الإبهام والغموض في الذات، بل في نسبة الازدياد إلى المتعلم، وذلك الإبهام أنه لا يتضح المراد بالازدياد، أهو في علمه أم في أدبه أم في ماله، أم في جسمه، فإذا قلبك أدبا ارتفع الإبهام والغموض عن النسبة، واتضح المراد بأنه ازداد في الأدب)

وتمييز هذا المميز يسمى "تمييز النسبة" أو تمييز الجملة" وغالبا يكون هذا التمييز محولا

(۱) عن المبتدأ، نحو: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة، تمييز النسبة منصوب، يرفع الإبهام الموجود في نسبة الكثرة إلى المدرس، وأصل الجملة خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب)

(ب) عن الفاعل، نحو: طاب محمد نفسا (نفسا تمييز النسبة منصوب يرفع الإبهام الموجود في نسبة "طاب إلى"محمد" وأصل الجملة: طابت نفس محمد )

(ج) عن المفعول، نحو: غرست الأرض شجرا (شجراء تمييز النسبة منصوب، يرفع الإيهام الموجود في نسبة "غرست" إلى "الأرض" وأصل الجملة غرست شجر الأرض)

ناصب التمييز

الناصب لتمييز المفرد هو ذلك الاسم المبهم ( المميز) وإن كان جامدا، لأنه شبيه باسم الفاعل، ووجه الشبه أن الاسم المبهم ( المميز) يطلب التمييز حتى يكتمل المعنى ويتضح كما أن اسم الفاعل يطلب فاعله حتى يكتمل المعنى ويتضح، أي: كل منهما وان محتاج إلى شئ آخر لاكتمال المعنى.

والناصب لتمييز الجملة هو ما في الجملة من (فعل) كالامثلة السابقة، أو (شبهه) نحو: سعد كريم عنصرا.

التمييز وحكم إعرابه:

(ا) تمييز الملحوظ (أي تمييز النسبة ) يكون دائما منصوبا كما في الأمثلة السابقة.

(ب) تمييز الملفوظ: (أي تمييز الذات) يكون منصوبا، كما في الأمثلة السابقة، ويجوز جره بالإضافة، أو بـ "من" فيما عدا تمييز العدد، نحو: عندي جرام ذهبا و عندى جرام ذهب وعندي جرام من ذهب.

(ج) أما تمييز العدد فيكون منصوبا، أو مجرورا بالإضافة على الوجه التالي:

تمييز العدد من 3 إلى ١٠ يكون جمعا مجرورا بالإضافة، نحو: جاء أربعة رجال الرجال تمييز مجرور بإضافة "أربعة إليه، وعلامة الجر الكسرة )

تمييز العدد من ۱۱ إلى ۹۹ يكون مفردا منصوبا نحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا طالبا تمييز منصوب وعلامة نصبه الفتحة )

تمييز المائة والألف ومضاعفات كل منهما يكون مفردا مجرورا بالإضافة نحو: حضر الحفل مائة رجل، أو ألف رجل رجل تمييز مجرور بإضافة "مائة" أو "ألف إليه)

صور العدد :

يأتي العدد على صور مختلفة، فيكون مفردا من ١ إلى ١٠ أو مركبا مع العشرة من ١١ إلى ١٩، أو معطوفا عليه ومعطوفا من ٢١ إلى ٩٩ . وتسمى الأعداد ۲۰ ، ۳۰ ، ۴۰ ، ۶۰۰۵۰، ۷۰، ۹۰،۸۰ ألفاظ العقود.

العدد (المميز ) من حيث الإعراب والبناء

جميع الأعداد معربة، أي: ترفع أو تنصب أو تجر حسب موقعها في الجملة سوى الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون دائما مبنية على فتح الجزأين باستثناء العدد ١٢ (اثنا عشر، اثنتا عشرة) فيعرب الجزء الأول منه إعراب المثنى، ويبنى الجزء الثاني على الفتح نحو جاء أربعة رجال (أربعة : فاعل مرفوع بالضمة ورأيت أربعة رجال، (أربعة: مفعول به منصوب المفتحة) ونظرت إلى أربعة رجال (أربعة مجرور بحرف الجر، وعلامة جره الكسرة) ونحو: جاء أربعة وعشرون رجلا (أربعة: فاعل مرفوع بالضمة، وعشرون معطوف عليه مرفوع وعلامة رفعه الواو) ونحو: جاء عشرون رجلا (عشرون : فاعل مرفوع وعلامة رفعه الوار) ورأيت عشرين رجلا (عشرین مفعول به منصوب وعلامة نصبه الياء) ونظرت إلى عشرين رجلا (عشرين مجرور بحرف الجر وعلامة جره الياء) ونحو في الفصل ثلاثة عشر طالبا، وفي الفصل ثلاث عشرة طالبة . ( ثلاثة عشر أو ثلاث عشرة كلاهما مبنیان على فتح الجزئين في محل رفع مبتدأ)

العدد من حيث التذكير والتأنيث

(۱) العددان ٢،١ يوافقان المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانا مفردين، أم مركبين، أم معطوفا عليهما.

وللعدد " ۱ " لفظان وهما: واحد ومؤنثه واحدة، وأحد ومؤنثه إحدى.

أما العدد " ۲" فألفاظه : اثنان واثنتان في حالة الرفع، واثنين واثنتين في حالتي النصب والجر، وتحذف النون إذا كان العدد ٢" مركبا مع العشرة.

أمثلة ما سبق بالقرية مدرسة واحدة بعض الشهور واحد وثلاثون يوما، رأي يوسف أحد عشر كوكبا، في الفصل إحدى عشرة بنتا، لي أخوان اثنان وأختان اثنتان، عمر أختي اثنتا عشرة سنة وعمري اثنتان وعشرون سنة، رأيت اثنين وثلاثين طالبا، واثنتين وثلاثين طالبة.

(ب) الأعداد من ۳ إلى ۹ تخالف المعدود في التذكير والتأنيث دائما سواء أكانت مفردة أو مركبة أو معطوفا عليها وعند تحديد تذكير المعدود وتأنيثه ينظر دائما إلى مفرده، فمثلا ۳ مرفوعات تكتب: ثلاثة مرفوعات: لأن مفرد المعدود مذكر وهو مرفوع)

أمثلة ماسبق في الفصل أربعة طلاب، وفي الحافلة أربع طالبات ونجح ثلاثة عشر طالبا كما نجحت ثلاث عشرة طالبة، وفي المدرسة سبعة وثلاثون طالبا وسبع وثلاثون طالبة.

(ج) العدد ١٠ يخالف المعدود في التذكير والتأنيث إذا كان مفردا ويوافقه إذا كان مركبا. والأصل أن تكون "الشين" في

( عشر) مفتوحة، ويجوز تسكينها إذا اتصلت به التاء (عشرة)

العدد ١٠ يكون معربا إذا كان مفردا، ويكون دائما مبنيا على الفتح إذا كان مركبا.

أمثلة ما سبق: حضر عشرة طلاب ،حضرت عشر طالبات، مكثنا في دلهي أربعة عشر يوما وخمس عشرة ليلة.

(د) ألفاظ العقود ( من (۲۰) إلى (۹۰) ولفظ مائة وألف ومضاعفاتهما لا تختلف صيغها مع المعدود تذكيرا وتأنيثا سواء أكانت . مفردة أو معطوفة.

أمثلة ما سبق في الفصل عشرون طالبا وعشرون طالبة، وفي المدرسة مائتان وعشرون طالبا، ومائتان وعشرون طالبة.

تعريف العدد بـ "ال":

إذا أريد تعريف العدد بـ "ال"

فإن كان مفردا أدخلت "ال" على الاسم الذي يلي العدد (أي المضاف إليه) مثل جاء ستة الطلاب. وإن كان مركبا أدخلت "ال" على صدره (أي على جزئه الأول) مثل: قضينا الخمسة عشر يوما بدلهي.

وإن كان معطوفا عليه ومعطوفا أدخلت "ال" على الجزأين مثل: قرأت الخمسة والعشرين كتابا.

( وعند تعريف العدد بـ "ال" أيضا تطبق قواعد تذكير العدد وتأنيثه وإعرابه وبنائه السابقة)

صوغ العدد على وزن "فاعل" للدلالة على الترتيب:

إذا صيغ العدد على وزن فاعل، للدلالة على الترتيب فانه يطابق المعدود الموصوف في التذكير والتأنيث في جميع حالاته ويكون معربا فيما عدا الأعداد من ۱۱ إلى ۱۹ فتكون مبنية على فتح الجزأين.

أمثلة ما سبق: أذهب إلى الكلية في الساعة الثامنة والنصف وقرأت المقالة الرابعة في الباب الثالث من الكتاب ترتيب هذا الطالب الثالث والعشرون، و قرأت الصفحة الثالثة والعشرين، القرن التاسع عشر قرن الاختراعات، مضت الليلة الرابعة عشرة من الشهر التاسع عشر ميني على فتح الجزئين لفظا وفي محل رفع الصفة المرفوعة للقرن، وهكذا الرابعة عشرة

كنايات العدد:

هناك كلمات ليست أعدادا، ولكنها تدل : على معنى العدد، ولذا فهي تسمى كنايات للعدد، وأهمها: كم الاستفهامية، كم الخبرية، كذاء ،كأين ،بضع ، نيف (سنتاني امداد بنائها وإعرابها في مبحث الكنايات في باب المبني)

أما أحكام تمييزها فهي كما يلي:

(ا) كم الاستفهامية: يسأل بها عن عدد، وتحتاج إلى جواب، وتمييزها مفرد منصوب بـ كم" (وهو الاسم الي وقد سبق سبب عمله قبل قليل في "ناصب التمييز ) مثل : كم كتابا في المكتبة.

ويجوز جر تمييزها إذا دخلت عليه "من" وحينئذ تمتاز عن الخبرية بقرينة المقام نحو: كم من رجل لقيته ؟ . يجوز حذف تمييزها، نحو: كم مالك، أي: كم درهما مالك.

(ب) كم الخبرية: كم الخبرية تفيد الإخبار بكثرة العدد، ولا تحتاج إلى جواب وتمييزها يكون مفردا نكرة مجرورا، أو جمعا نكرة مجرورا بإضافة "كم" إليه، أو بحرف الجر من مثل : كم كتاب في المكتبة، أو كم من كتاب في المكتبة، أي كتب كثيرة في المكتبة.

(ج) كذا: تستعمل كذا" للدلالة على التكثير، وتأتي مفردة، أو مكررة أو معطوفة، ويكون تمييزها منصوبا مفردا أو جمعا مثل: حضر المبارأة كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا كذا متفرجا أو متفرجين. أو كذا وكذا متفرجا أو متفرجين.

(د) كأين: اسم مركب من كاف التشبيه و "أي " المنونة، يجوز الوقف عليها بالنون وتستعمل مثل كم الخبرية للدلالة على التكثير، ويكون تمييزها مفردا مجرورا بـمن لفظا منصوب محلا مثل: كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم.

(ه) بضع:تستعمل كلمة "بضع للدلالة على العدد من۳ إلى ۹، وهي تأخذ أحكام هذه الأعداد في التذكير والتأنيث والتمييز مثل: قرأت بضع قصص وبضعة كتب (بضع في بضع لمحل بدون الثاء لأن المعدود "قصة" مؤنث، وعكسها في بضعة كتب، وتمييزه جمع مجرور بالإضافة)

(و) نيف:تستعمل للدلالة على العدد بين عقدين، أي بين العشرين والثلاثين مثلا، أو بين الثلاثين والأربعين الخ . وتستعمل بصيغة واحدة للمذكر والمؤنث، مثل: قرأت نيفا وثلاثين قصة، أو كتابا (تمييزه مفرد منصوب: قصة كتابا )

تنبيه مهم :

التمييز يوافق الحال في كونه اسما نكرة منصوبا رافعا للإبهام، ويخالفها في كونه جامدا مميزا للذات أو النسبة ، لا يتعدد ولا يتقدم على عامله ولا يكون جملة.

فصل التمييز

تمييز ایک اسم نکرہ ہے جو غالباً منصوب ہوتا ہے اور اس میں "من" کا معنی شامل ہوتا ہے۔ یہ اس بات کو واضح کرنے کے لئے ذکر کیا جاتا ہے کہ مُمیز (جو چیز بیان کی جارہی ہے) کیا ہے، جیسے: عندِي عِشرُونَ قَلَمًا (میرے پاس بیس قلم ہیں)

اگر میں کہوں: ’’عندِي عِشرُونَ‘‘ اور خاموش رہوں تو یہ واضح نہیں ہوگا کہ اس سے کیا مراد ہے کیونکہ "عشرون" میں ابہام موجود ہے۔ جب "قلمًا" ذکر کیا گیا تو اس نے اس ابہام کو ختم کیا اور وضاحت کی کہ مراد بیس قلم ہیں۔ "عشرون" کو ممیّز اور "قلمًا" کو تمییز کہا جاتا ہے۔

تمییز کی اقسام

ممیّز کی دو قسمیں ہیں:

1. ممیّز ملفوظ: - یہ وہ ہے جو گفتگو میں ذکر کیا گیا ہو، جیسے:

- عندِي عِشرُونَ كِتابًا (میرے پاس بیس کتابیں ہیں)

- ممیّز ملفوظ عموماً عدد، مقدار، وزن، یا کسی قسم کی وضاحت کے لئے ہوتا ہے۔

وزن، نحو: عندي جرام ذهبا

كيل، نحو: عندي صاح قمحا

مساحت، نحو: لي فرسخ أرضا

مقياس، نحو: عندي مترخزا

یا جو وزن کے مشابہ پر دلالت کرے، نحو: إن الله لا يضيع وزن ذرة خيرا،

یا كيل کے، نحو: عندي حفنة قمحا،

یا مساحت کے، نحو ما في السماء قدر راحة سحابا

یا مقياس کے ، نحو: عندي مديدك خزا.

یا جو ان کے مماثل پر دلالت کرے، نحو: لي مثلك صاحبا،

یامغایرت کے نحو : ليس لي غير الله معينا.

اس ممیز کی تمیز کو تمیز ذات یا تمیز مفرد کہا جاتا ہے

2. ممیّز ملحوظ:- یہ وہ ہے جو الفاظ میں ذکر نہیں ہوتا، بلکہ معنوی طور پر موجود ہوتا ہے، جیسے:

- ازدادَ المُتعلمُ أَدَبًا (طالب علم میں ادب بڑھ گیا ہے)

یہاں ابہام "ازداد" میں ہے۔ جب ہم کہتے ہیں "أَدَبًا" تو یہ وضاحت کرتا ہے کہ ادب میں اضافہ ہوا ہے۔

اور اس ممیز کی تمیز کو تمیز نسبت یا جملہ کہا جاتا ہے ۔

یہ تمییز منقول ہوتا ہے:

(1) مبتدا سے جیسے: المدرس أكثر من الطالب خبرة (خبرة تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "المدرس" کی کثرت کی نسبت میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: خبرة المدرس أكثر من خبرة الطالب تھا۔)

(2) فاعل سے جیسے: طاب محمد نفسا (نفسا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "طاب" کی نسبت "محمد" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: طابت نفس محمد تھا۔)

(3) مفعول سے جیسے: غرست الأرض شجرا (شجرا تمییز النسبة ہے، جو نصب میں ہے، اور یہ "غرست" کی نسبت "الأرض" کی طرف میں موجود ابہام کو دور کرتا ہے۔ اصل جملہ: غرست شجر الأرض تھا۔)

ناصب تمییز

ناصب تمییز المفرد: وہ اسم مبہم (جس کی وضاحت کی جائے) ہوتا ہے، چاہے وہ جامد ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ اسم فاعل سے مشابہت رکھتا ہے۔ ان دونوں میں مشابہت یہ ہے کہ اسم مبہم (الممیز) کو تفسیر و وضاحت کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو اور واضح ہو جائے، جیسے کہ اسم فاعل کو اپنے فاعل کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو۔ یعنی، دونوں کو اپنے معنی کی تکمیل کے لیے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔

جملہ کے تمیز کا ناصب : جملے میں موجود فعل یا اس کے مشابہ الفاظ ہوتے ہیں، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔ مثال کے طور پر: سعد کریم عنصراً۔

تمییز اور اس کے اعراب کا حکم

تمییز الملحوظ ( تمییز نسبت): یہ ہمیشہ منصوب ہوتا ہے، جیسا کہ پچھلی مثالوں میں دیکھا گیا۔

تمییز الملفوظ (تمییز ذات): یہ بھی منصوب ہوتا ہے، جیسے مذکورہ مثالوں میں۔

اسے اضافت کے ذریعے یا "من" کے ساتھ بھی مجرور کیا جا سکتا ہے، سوائے عدد کے تمییز کے۔

مثالیں:

عندي جرام ذهبا (یہ منصوب ہے)

عندي جرام ذهبٍ (یہ مجرور ہے اضافت کی وجہ سے)

عندي جرام من ذهبٍ (یہ "من" کے ذریعے مجرور ہے)

عدد کی تمییز: یہ منصوب ہو تی ہے یا مجرور ہو تی ہے اضافت کی وجہ سے

3 سے 10 تک: تمییز جمع اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: جاء أربعة رجالٍ (رجالٍ: تمییز مجرور)

11 سے 99 تک: تمییز مفرد اور منصوب ہوتی ہے، جیسے: في الفصل ثلاثة عشر طالباً (طالباً: تمییز منصوب)

100، 1000 اور ان کے مضاعفات: تمییز مفرد اور مجرور ہوتی ہے، جیسے: حضر الحفل مائةُ رجلٍ (رجلٍ: تمییز مجرور)

عدد کی مختلف صورتیں

مفرد (1 سے 10)

مُرکّب (11 سے 19)

معطوف (21 سے 99)

الفاظِ عقود (20، 30، 40... 90)

عدد کا اعراب اور بناء

تمام اعداد معرب ہوتے ہیں، یعنی جملے میں ان کے مقام کے مطابق ان کے اعراب تبدیل ہوتے ہیں۔

11 سے 19 کے اعداد ہمیشہ مبنی ہوتے ہیں اور دونوں اجزاء فتح پر ہوتے ہیں، سوائے 12 کے، جس کا پہلا جزو مثنیٰ کے مطابق معرب ہوتا ہے اور دوسرا جزو فتح پر مبنی ہوتا ہے۔

مثالیں:

جاء أربعةُ رجالٍ (أربعةُ: فاعل مرفوع)

رأيتُ أربعةَ رجالٍ (أربعةَ: مفعول منصوب)

نظرتُ إلى أربعةِ رجالٍ (أربعةِ: مجرور)

جاء أربعةٌ وعشرون رجلاً (أربعةٌ: فاعل، وعشرون: معطوف مرفوع)

جاء عشرون رجلاً (عشرون: فاعل مرفوع)

عدد کی تذکیر و تانیث

الف: عدد 1 اور 2 ہمیشہ معدود کے مطابق ہوتا ہے، جیسے:

مدرسةٌ واحدةٌ (واحد مؤنث ہے، اس لیے "واحدةٌ" آیا) رأيتُ أحدَ عشرَ كوكباً ، في الفصلِ إحدى عشرةَ بنتاً

ب: 3 سے 9 ہمیشہ معدود کی مخالف جنس میں آتا ہے:

في الفصلِ أربعةُ طلابٍ (أربعةُ: مؤنث عدد ہے، لیکن "طلاب" مذکر ہے)

في الحافلةِ أربعُ طالباتٍ (أربعُ: مذکر عدد، لیکن "طالبات" مؤنث ہے)

ج: عدد 10: اگر مفرد ہو تو معدود کے مخالف آتا ہے: حضر عشرةُ طلابٍ

اگر مرکب ہو تو معدود کے مطابق آتا ہے: مكثنا في دلهي أربعةَ عشرَ يوماً

د: عقود (20، 30...)، 100 اور 1000 معدود کے مطابق نہیں بدلتے، جیسے:

في الفصلِ عشرونَ طالباً، في المدرسةِ مائتان وعشرونَ طالبةً

عدد کی تعریف بـ "ال"

مفرد عدد ہو تو "ال" مضاف الیہ پر داخل ہوتا ہے: جاء ستةُ الطلابِ

مرکب عدد ہو تو "ال" پہلے جزو پر داخل ہوتا ہے: قضينا الخمسةَ عشرَ يوماً

معطوف عدد ہو تو "ال" دونوں اجزاء پر داخل ہوتا ہے: قرأتُ الخمسةَ والعشرينَ كتاباً

عدد کو "فاعل" کے وزن پر بنانے کا اصول

جب کسی عدد کو "فاعل" کے وزن پر ترتیب کے اظہار کے لیے بنایا جائے تو وہ معدود کے مطابق ہوتا ہے۔

11 سے 19 کے درمیان کے اعداد فتح پر مبنی ہوتے ہیں۔

مثالیں:اذهب إلى الكلية في الساعة الثامنةِ والنصفِ، قرأتُ المقالةَ الرابعةَ ، القرن التاسعَ عشرَ

کنایاتِ عدد

(الف) کمِ استفہامیہ: یہ تعداد کے بارے میں سوال کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا تمییز مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: کم کتابا في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں؟)۔

اگر اس کے تمییز پر "من" داخل ہو جائے تو اسے مجرور کرنا جائز ہوتا ہے، اور اس وقت یہ "کمِ خبریہ" سے سیاق و سباق کی مدد سے ممتاز ہوتی ہے، جیسے: كم من رجل لقيته؟ (تم نے کتنے آدمیوں سے ملاقات کی؟)۔

اس کا تمییز حذف کرنا بھی جائز ہوتا ہے، جیسے: كم مالك؟ یعنی كم درهما مالك؟ (تمہارے پاس کتنے درہم ہیں؟)۔

(ب) کمِ خبریہ: یہ تعداد کی کثرت پر خبر دینے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور اسے جواب کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کا تمییز مفرد نکرہ مجرور، یا جمع نکرہ مجرور بالاضافہ، یا "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے، جیسے:

كم كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں)۔

كم من كتاب في المكتبة؟ (لائبریری میں بہت سی کتابیں ہیں)۔

(ج) كذا: یہ کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ مفرد، مکرر یا معطوف ہو سکتا ہے۔ اس کا تمییز مفرد یا جمع منصرف ہوتا ہے، جیسے:

حضر المباراة كذا متفرجا أو متفرجين۔ (میچ دیکھنے اتنے ناظرین آئے)۔

كذا كذا متفرجا أو متفرجين۔

كذا وكذا متفرجا أو متفرجين۔

(د) كأين: یہ "كافِ تشبیہ" اور "أي" پر مشتمل مرکب لفظ ہے، اور اس پر نون کے ساتھ وقف کیا جا سکتا ہے۔ یہ "كمِ خبریہ" کی طرح کسی چیز کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا تمییز "من" کے ساتھ مجرور ہوتا ہے مگر محلًّا منصوب ہوتا ہے، جیسے:

كأين من عالم بذل حياته في سبيل العلم۔ (کتنے ہی علماء ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں علم کی راہ میں قربان کیں)۔

(هـ) بضع: یہ 3 سے 9 تک کی تعداد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور یہ ان اعداد کے تذکیر و تانیث کے احکام اختیار کرتا ہے، جیسے:

قرأت بضع قصصٍ۔ (میں نے چند کہانیاں پڑھیں)۔

قرأت بضعة كتبٍ۔ (میں نے چند کتابیں پڑھیں)۔

یہاں "بضع" بغیر تائے تانیث کے آیا کیونکہ "قصص" مؤنث ہے، جبکہ "بضعة" میں تائے تانیث آئی کیونکہ "كتب" مذکر ہے۔

(و) نيف: یہ عشرون - ثلاثون (20-30، 30-40 وغیرہ) دو کے درمیان کے عدد کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا استعمال مذکر و مؤنث دونوں کے لیے ایک ہی طرح ہوتا ہے، جیسے:

قرأت نيفا وثلاثين قصة۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کہانیاں پڑھیں)۔

قرأت نيفا وثلاثين كتابا۔ (میں نے تیس سے کچھ زیادہ کتابیں پڑھیں)۔

اس کا تمییز ہمیشہ مفرد منصرف ہوتا ہے، جیسے: قصة، كتابا۔

اہم نوٹ: تمییز اور حال دونوں نکرہ اور منصوب ہوتے ہیں، لیکن فرق یہ ہے کہ:

تمییز کسی ذات یا نسبت کی وضاحت کرتا ہے۔

حال کسی فاعل یا مفعول کی کیفیت بیان کرتا ہے۔

تمییز نہ تو متعدد ہوتا ہے اور نہ ہی عامل سے پہلے آ سکتا ہے اور نہ ہی جملہ ہوتا ہے۔

Link

دروس اللغۃ العربیۃ (کلید)

دروس اللغۃ العربیۃ کلید (جلد:۳) سبق: ۳۰

تمیز اس اسم کو کہتے ہیں جو کسی مبہم شئ کی وضاحت کرے ، عدد کی تمیز مجرور یا منصوب ہوگی، جیسے ثَلَاثَةُ كُتُبِ، عِشْرُونَ كِتَابًا

تمیز وہ اسم ہے جو کسی مبہم لفظ کی وضاحت کرے، مثلاً ایک شخص کسی دوسرے سے مختلف پہلوؤں سے بہتر ہوسکتا ہے، اخلاق کے لحاظ سے، یہ لفظ اس بہتری کے پہلو کی وضاحت کرتا ہے

ا۔ تمییز یعنی وہ اسم جو سابقہ لفظ یا جملہ میں پائے جانے والے ابہام کی وضاحت کرے، جیسے :

(ا) شَرِبْتُ لِتْرًا حَلِيْبًا. میں نے ایک لیٹر دودھ پیا۔ لفظ لٹر ایک مقدار کو بتارہا ہے لیکن بات اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک یہ نہ بتا دیا جائے کہ وہ مشروب کیا ہے، جیسے پانی ، دودھ، شربت وغیرہ۔

(۲) إِبْرَاهِيمُ أَحْسَنُ مِني خَطا ابراہیم خوش خطی میں مجھ سے بہتر ہے۔ بہت سی چیزیں ہیں جن میں کوئی کسی دوسرے سے بہتر ہو سکتا ہے، اس مثال میں لفظ خطا اس بہتری کے پہلو کو واضح کر رہا ہے تمیز منصوب ہوتی ہے۔

تمیز کی دو قسمیں ہیں:

ا: تمييز الذات، یہ ایسے الفاظ کے بعد آتی ہے، جو مقدار پر دلالت کریں۔ مقدار پر دلالت کرنے والے الفاظ چار قسم کے ہیں:

(۱) عدد، جیسے: ﴿يَا أَبَتِ إِنِّي رَأَيْتُ أَحَدَ عَشَرَ كَوْكَبًا ﴾ [يوسف: ۴] ابا جان، میں نے گیارہ ستارے دیکھے۔ گیارہ سے ننانوے تک کے اعداد کی تمیز منصوب ہوگی، تین سے دس تک کی جمع اور مجرور، اور سو اور ہزار کی واحد مجرور

Read the rest (20)

۲) پیمائش (مساحت) جیسے اِشْتَرَيْتُ مِترًا حَرِیرا میں نے ایک میٹر ریشم خریدا۔

۳) ناپ، جیسے: أَعْطِنِي لِترَيْنِ حَلِيْبًا. مجھے دو لیٹر دودھ دو۔

۴) وزن، جیسے: عِنْدِي كيْلُوْ غِرَامٌ بُرتُقَالاً . میرے پاس ایک کیلو مالٹے ہیں۔

جو الفاظ مقدار پر دلالت کرنے والے اصل الفاظ کی جگہ استعمال ہوئے ہیں ، ان کی بھی تمیز آتی ہے، جیسے:

(۱) لفظ کم کتنا جو عدد کی جگہ استعمال ہوتا ہے جیسے : کم بنتا لَكَ؟ تمہاری کتنی بیٹیاں ہیں؟

(٢) مَا فِي السَّمَاءِ قَدْرُ رَاحَةٍ سَحَابًا آسمان میں ہتھیلی برابر بھی بادل نہیں۔ یہاں لفظ قَدْرُ رَاحَة ہتھیلی برابر پیمائش پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔

۳) هَلْ عِندَكَ کیس دقیقا کیا تیرے پاس ایک تھیلی آٹا ہے؟ یہاں لفظ کیس تھیلی ناپ پردلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔

۴) فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴾ [الزلزال : تو جس نے ایک ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔

یہاں لفظ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ایک ذرہ برابر وزن پر دلالت کرنے والے لفظ کے قائم مقام ہے۔

ا: تمييز الذات حرف جر من کی وجہ سے مضاف الیہ ہو کر مجرور بھی ہوسکتی ہے، جیسے اشْتَرَيْتُ مِتْرًا مِنْ حَرِيْرٍ یا اشْتَرَيتُ مِثْرَ حَریر لیکن عدد کی تمیز اس سے مستثنی ہے۔

ب: تمييز النسبة. یہ اس ابہام کی وضاحت کرتی ہے جو گذشتہ پورے جملے سے متعلق ہو، جیسے: حَسُنَ هذَا الطَّالِبُ خُلُقًا يه طالب علم اخلاق کے لحاظ سے اچھا ہے۔

تمییز فاعل یا مفعول بہ میں تبدیل بھی ہو سکتی ہے، جیسے: حَسُنَ بِلالٌ خُلُقًا بلال اخلاق کے لحاظ سے بہتر ہے کے بجائے حَسُنَ خُلُقُ بِلالٍ بلال کے اخلاق اچھے ہیں (فاعل)۔

اسی طرح: ﴿وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا ﴾ [القمر: ۱۲] اور ہم نے زمین کو چشمے بنا کر پھاڑ دیا۔ کو یوں بھی کہا جا سکتا ہے وَفَجَّرْنَا عُيُونَ الْأَرْضِ اور ہم نے زمین کے چشمے پھاڑ نکالے (مفعول به)۔ یہ تمیز ہمیشہ منصوب ہوگی، مجرور نہیں ہوسکتی ۔

كم الاستفهامية کی تمیز ہمیشہ مفرد اور منصوب ہوگی۔

كم الخبرية کی خبر مفرد یا جمع ہوگی، مجرور ہوگی اور اس سے پہلے من بھی ہو سکتا ہے، جیسے: كَمْ مِنْ كتاب عِنْدَكَ ! كمْ كِتَابٍ عِنْدَكَ، كَمْ كُتُبٍ عِندَكَ ! بہتر اسلوب یہ ہے: کَمْ كُتُبِ عِندَكَ ! گفتگو میں دونوں کَمْ کی ادائیگی کے وقت الگ الگ انداز ہوگا ، اور تحریر میں دونوں کی الگ الگ علامتیں (؟ !) ہوں گی۔

کم الخبرية کی مزید مثالیں یہ ہیں:

كُمْ نُجُوْمٍ فِي السَّمَاءِ! آسمان میں کتنے زیادہ ستارے ہیں !

كُمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيْلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةٌ كَثِيرَةً بِإِذْنِ اللهِ ﴾ [البقرة: ۲۴۹] کتنی چھوٹی جماعتیں اللہ کےحکم سے بڑی جماعتوں پر چھا گئیں۔

Link

المفصل

المفصل۔ سبق:۲۲

التمييز

ويقال له التبين والتفسير هو رفع الإبهام في جملة أو مفرد بالنص على أحد محتملاته فمثاله في الجملة طاب زيد نفساً، وتصبب الفرس عرقاً، وتفقاً شحماً وأبرحت جاراً، وامتلأ الإناء ماء، وفي التنزيل: " واشتعل الرأس شيباً" " و فجرنا الأرض عيونا"، " ومن أحسن قولا"، " ومن أصدق من الله حديثاً. ومثاله في المفرد عندي راقود خلا، ورطل زيتاً، ومنوان عسلاً، وقفيزان براً، وعشرون درهماً، وثلاثون ثوباً، وملأ الإناء عسلاً، وعلى التمرة مثلها زبداً وما في السماء. وضع كف سحاباً. وشبه المميز بالمفعول أن موقعه في هذه الأمثلة كموقعه في ضرب زيد عمراً وفي ضارب زيداً وضاربان زيداً وضاربون زيداً وضرب زيد عمراً.

عوامل التمييز ولا ينتصب المميز عن مفرد إلا عن نام. والذي يتم به أربعة أشياء التنوين ونون التثنية ونون الجمع والإضافة. وذلك على ضربين زائل ولازم

فالزائل التمام بالتنوين ونون التثنية لأنك تقول عندي رطل زيت، ومنوا سمن واللازم التمام بنون الجمع والإضافة لأنك لا تقول كلا عسل ولا مثل زبد ولا عشرو درهم.

وتمييز المفرد أكثره فيما كان مقداراً كيلاً كقفيزان أو وزناً كمنوان أن مساحة كموضع كف او عدد كعشرون أو مقياساً كملؤه ومثلها. وقد يقع فيما ليس إياها نحو قولهم ويحه رجلاً، والله دره فارسا وحسبك به ناصراً.

تقديم المميز وتأخيره عن عامله ولقد أبي سيبويه تقدم المميز على عامله وفرق أبو العباس بين النوعين فأجاز نفساً طاب زيد، ولم يجز لي سمنا منوان. وزعم أنه رأي المازني. وأنشد قول الشاعر :

أتهجر ليلي بالفراق حبيبها وما كان نفساً بالفراق تطيب

أصل التمييز:

واعلم أن هذه المميزات عن آخرها أشياء مزالة عن أصلها. ألا تراها إذا رجعت إلى المعنى متصفة بما هي منتصبة عنه ومنادية على أن الأصل عندي زيت رطل وسمن منوان، ودراهم عشرون عسل ملء الإناء، وزيد مثل التمرة، وسحاب موضع كف. وكذلك الأصل وصف النفس بالطيب والعرق بالتصبب والشيب بالإشتغال، وأن يقال طابت نفسه، وتصبب عرقه، واشتعل شيب رأسي. لأن الفعل في الحقيقة وصف في الفاعل السبب في هذه الإزالة قصدهم إلى ضرب من المبالغة والتأكيد.

Link