القواعد

الخريطة

  • حروف اصلیہ کے اعتبار سے
    • مثال (معتلل الفاء)
    • اجوف (معتلل العین)
    • ناقص (معتلل الام)
    • لفیف کابیان
    • مضاعف کا بیان
    • مھموز کا بیان

1 القاعدة

تعریف

مضاعف:وہ فعل جس کے دو حروفِ اصلیہ ایک جیسے ہوں۔

مثال: مَدَّ (اس نے کھینچا)، شَدَّ (اس نے باندھا)

2 مضاعف کا بیان (کتاب الصرف : سبق۴۹ ، ۵۰ )

مضاعف تین بابوں سے آتاہے۔

۱۔نَصر یَنصُرُ سے جیسے مَدَّ یَمُدُّ (المَدُّ کھینچنا)

۲۔ضرب یضربُ سے جیسے فَرَّ یَفِرُّ (الفرارُ بھاگنا)

۳۔ سَمِعَ یسمعُ سے جیسے (المسُّ چھونا)

مضاعف میں تکرار حروف سے جو تغیرات واقع ہوتے ہیں اسکی تین صورتیں ہیں۔

۱۔ادغام قیاسی جیسے مَدَّ کہ اصل میں مَدَدَ تھا(دال کو دال میں ادغام کیا)

۲۔حذف سماعی: جیسے ظَلْتُمْ کہ اصل میں ظَلَلْتُمْ تھا(پہلے لام کو حذف کیا)

۳۔ابدال سماعی:جیسے اَمْلَیْتُ کہ اصل میں اَملَلتُ تھا (دوسرے لام کو ی سے بدلا)

ان میں تغیر کا موجب اکثر ادغام ہوتاہے جس حرف کو ادغام کرتےہیں اسکو مدغم اور جس میں ادغام کرتےہیں اسکو مدغم فیہ کہتے ہیں جیسے مَدَّ میں پہلی دال مدغم اور دوسری مدغم فیہ ہے مضاعف کی گردان اور اسکے تغیرات کے ضوابط آئندہ درج ہیں۔

فائدہ:اگر مدغم اور مدغم فیہ دونوں حرف ایک جنس کے ہوں تو تلفظ میں دونوں آئیں گے اور کتابت میں صرف ایک جیسے مَدَّ میں اور اگردونوں قریب المخرج ہوں تو کتابت میں دونوں قائم رہیں گے اور تلفظ میں ایک جیسے صَعَدْتُ اور پڑھیں گے صَعَتُّ ۔

3 گردان ماضی معروف و مجھول ، مضارع معروف و مجھول (کتاب الصرف : سبق۴۹ ، ۵۰ )

غائب
ماضی معروفمَدَّماضی مجہولمُدَّمضارع معروفیَمُدُّمضارع مجہولیُمَدُّ
ماضی معروفمَدَّاماضی مجہولمُدَّامضارع معروفیَمُدَّانِمضارع مجہولیُمَدَّانِ
ماضی معروفمَدُّواماضی مجہولمُدُّوْامضارع معروفیَمُدُّوْنَمضارع مجہولیُمَدُّونَ
ماضی معروفمَدَّتْماضی مجہولمُدَّتْمضارع معروفتَمُدُّمضارع مجہولتُمَدُّ
ماضی معروفمَدَّتَاماضی مجہولمُدَّتَامضارع معروفتَمُدَّانِمضارع مجہولتُمَدَّانِ
ماضی معروفمَدَدْنَماضی مجہولمُدِدْنَمضارع معروفیَمْدُدْنَمضارع مجہولیُمْدَدْنَ
حاضر
ماضی معروفمَدَدْتَماضی مجہولمُدِدْتَمضارع معروفتَمُدُّمضارع مجہولتُمَدُّ
ماضی معروفمَدَدْتُمَاماضی مجہولمُدِدْتُمَامضارع معروفتَمُدَّانِمضارع مجہولتُمَدَّانِ
ماضی معروفمَدَدْتُمْماضی مجہولمُدِدْتُمْمضارع معروفتَمُدُّونَمضارع مجہولتُمَدُّونَ
ماضی معروفمَدَدْتِماضی مجہولمُدِدْتِمضارع معروفتَمُدِّیْںَمضارع مجہولتُمَدِّیْنَ
ماضی معروفمَدَدْتُمَاماضی مجہولمُدِدْتُمَامضارع معروفتَمُدَّانِمضارع مجہولتُمَدَّانِ
ماضی معروفمَدَدْتُنَّماضی مجہولمُدِدْتُنَّمضارع معروفتَمْدُدْنَمضارع مجہولتُمْدَدْنَ
متکلم
ماضی معروفمَدَدْتُماضی مجہولمُدِدْتُمضارع معروفاَمُدُّمضارع مجہولاُمَدُّ
ماضی معروفمَدَدْنَاماضی مجہولمُدِدْنَامضارع معروفنَمُدُّمضارع مجہولنُمَدُّ

4 تغیر و قاعدۃ (کتاب الصرف : سبق۴۹ ، ۵۰ )

مد اصل میں مَدَدَ تھا دو حرف ہم جنس ایک جگہ جمع اور دونوں متحرک ہو تو پہلے کو دوسرے میں ادغام کردیں گے ۔جیسے مدد سے مدَّ (قاعدہ ۱)یَمُدُّ اصل میں یَمْدُدُ تھا دو حرف ہم جنس ایک جگہ جمع ہو اور دونوں متحرک ہو تو پہلے کی حرکت نقل کرکے ماقبل کو دیکر اس کو دوسرے میں ادغام کردیں گے۔یمْدُدُ سے یمدُّ (قاعدہ ۲ ) مَدَدْنَ اور یَمْدُدْنَ میں ادغام ممتنع ہے کیوں کہ دوسرا حرف ساکن بسکون لازم ہے (قاعدہ۳)

 قاعدہ ۱: جو دو حرف متحد المخرج یا قریب المخرج جمع ہوں اور دونوں متحرک ہوں تو پہلے کو ساکن کرکے ادغام کرنا چاہئے

قاعدہ ۲ : جو دو حرف ایک جنس کے ایک کلمہ میں جمع ہوں اور دونوں متحرک ہوں اور ما قبل ان کا حرف صحیح ساکن ہوتو پہلے حرف کی حرکت نقل کرکے ماقبل کو دیں اور دوسرے میں ادغام کریں اور اگر ان کا ماقبل حرف متحرک ہو یا لین زاید تو پہلے حرف کی حرکت کو حذف کردیتے ہیں۔

5 شرائط ادغام (کتاب الصرف : سبق۴۹ ، ۵۰ )

۱۔اعلال مزاحم نہ ہو جیسے إِدۡعَوٰی

۲۔اسم متحرک العین جس میں ادغام کرنے سے التباس لازم آئے نہ ہوجیسے سَبَبٌ وَ سُرُرٌ

۳۔پہلا حرف ہمزہ اور الف سے بدل نہ ہو جیسے اُوْوِیَ (إِیْوَاءٌ) سے وَقُوِلَ(مُقَاوَلَۃٌ)

۴۔حرف اول مشدد نہ ہو جیسے حَبَّبَ (تَحَبَّبَ سے)

۵۔پہلا حرف متحرک اور دوسرا الحاق کے واسطے نہ ہو؟جیسے (جَلْبَبَ)

(کتاب الصرف : سبق ۵۱ )

غائب
نفی تاکید بلنلَنْ یَمُدَّنفی جحد بلملَمْ یَمُدَُِّ لَمْ یَمْدُدْلام تاکید نون ثقیلہلَیَمُدَّنَّلام تاکید نون خفیفہلَیَمُدَّنْامرمُدَُِّ اُمدُدۡنہیلَا تَمُدَُِّ لا تَمدُدۡ
نفی تاکید بلنلَنْ یَمُدَّانفی جحد بلملَمْ یَمُدُدَالام تاکید نون ثقیلہلَیَمُدَّانِّلام تاکید نون خفیفہ—امرمُدَّانہیلَاتَمُدَّا
نفی تاکید بلنلَنْ یَمُدُّوانفی جحد بلملَمْ یَمْدُدُوالام تاکید نون ثقیلہلَیَمُدُّنَّلام تاکید نون خفیفہلَیَمُدُّنْامرمُدُّوانہیلَا تَمُدُّوا
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدَّنفی جحد بلملَمْ تَمُدُّ لَمْ تَمُدُدْلام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدَّنَّلام تاکید نون خفیفہلَتَمُدَّنْامرمُدِّیْنہیلَا تمُدِّیْ
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدَّانفی جحد بلملَمْ تَمُدُّا لَمْ تَمْدُدَالام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدَّانِّلام تاکید نون خفیفہ—امرمُدَّانہیلَاتَمُدَّا
نفی تاکید بلنلَنْ یَمْدُدْنَنفی جحد بلملَمْ یَمْدُدْنَلام تاکید نون ثقیلہلَیَمُدُدْنَانِّلام تاکید نون خفیفہ—امراُمْدُدْنَنہیلَا تَمُدُدْنَ
حاضر
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدَّنفی جحد بلملَمْ تَمُدُّ لَمْ تَمُدُدْلام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدَّنَّلام تاکید نون خفیفہلَتَمُدَّنْامرلِیَمُدَُِّ لِیَمدُدۡنہیلَایَمُدَُِّ لا یَمدُدۡ
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدَّانفی جحد بلملَمْ تَمُدُّا لَمْ تَمْدُدَالام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدَّانِّلام تاکید نون خفیفہ—امرلِیَمُدَّانہیلَایَمُدَّا
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدُّوانفی جحد بلملَمْ تَمُدُّوا لَمْ تَمْدُدُوالام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدُّنُّلام تاکید نون خفیفہلَتَمُدُّنۡامرلِیَمُدُّوانہیلَایَمُدُّوا
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدِّیْنفی جحد بلملَمْ تَمْدِّی لَمْ تَمْدُدِیْلام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدِّنَّلام تاکید نون خفیفہلَتَمُدِّنْامرلِتَمُدَِّ لِتَمدُدۡنہیلَاتَمُدَُِّ لَا تَمُدْدْ
نفی تاکید بلنلَنْ تَمُدَّانفی جحد بلملَمْ تَمُدُّا لَمْ تَمْدُدَالام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدَّانِّلام تاکید نون خفیفہ—امرلِتَمُدَّانہیلَاتَمُدَّا
نفی تاکید بلنلَنْ تَمْدُدْنَنفی جحد بلملَمْ تَمْدُدْنَلام تاکید نون ثقیلہلَتَمُدُّنَّلام تاکید نون خفیفہ—امرلِتَمُدُّوانہیلَا یَمُدُدْنَ
متکلم
نفی تاکید بلنلَنْ اَمُدَّنفی جحد بلملَمْ اَمُدَّ لَمْ اَمُدُدْلام تاکید نون ثقیلہلَاَمُدَّنَّلام تاکید نون خفیفہلَاَامُدَّنْامرلِاَمُدَُِّ لِاَمدُدۡنہیلَا اَمُدََُِّ لا اَمدُدۡ
نفی تاکید بلنلَنْ نَمُدَّنفی جحد بلملَمْ نَمُدَّ لَمْ نَمْدُدْلام تاکید نون ثقیلہلَنَمُدَّنَّلام تاکید نون خفیفہلَنَمُدَّنْامرلِنَمُدَُِّ لِنَمۡدُدۡنہیلَا نَمُدَُِّ لاَ نَمدُدۡ

تغیر:

لَمْ یَمْدُّ اصل میں لَیَمْدُدْتھاف کلمہ ادغام کی حالت میں لم یمدد پڑھیں گے اور ادغام کی حالت میں بعد نقل حرکت کے لَمْ یمد ہوا سببب اجتماع ساکنین کے حرف دوم کو فتحہ یا کسرہ یا ضمہ دیا،لم یمد بنا۔

قاعدہ۲۔علی ھذاالامر میں کہیں گے مد (بحرکات ثلثۃ)امداد فر (بالفتح والکسر)افرر مس بالفتح والکسر امسس(اورہمزہ وصل بحالت ادغام ساقط ہوجائگا)

قاعدہ ۳: جس جگہ دوحرف ایک جنس کے اکٹھے ہوں اور ان میں سے پہلا متحرک اور دوسرا ساکن ہو اور دوسرے کا سکون اگر لازم ہو تو ادغام ممتنع جیسے مَدَدْنَ اور اگر سکون جزمی یا وقفی ہو تو ادغام بہ نقل حرکت اور ف کلمہ ادغام دونوں جائز ہیں بحالت ادغام دوسرے حرف کو فتحہ یا کسرہ دیتے ہیں اگر ماقبل مضموم ہوتو اسکی موافقت کےلئے ضمہ بھی جائز ہے۔

اسم فاعلمَادٌّاسم مفعولمَمْدودٌ
اسم فاعلمَادَّانِاسم مفعولمَمْدودانِ
اسم فاعلمَادُّونَاسم مفعولمَمْدودُونَ
اسم فاعلمَادَّۃٌاسم مفعولمَمْدودَۃٌ
اسم فاعلمَادَّتَانِاسم مفعولمَمْدودَتَانِ
اسم فاعلمَادَّاتٌاسم مفعولمَمْدودَاتٌ

تغیر:

مَادٌّ اصل میں مَادِدٌ تھا دو حرف ایک جنس کے اکٹھے ہوئے پہلے کو ساکن کرکے دوسرے میں ادغام کیا مادٌّ ہوا ق۲

فائدہ :

مَادٌّ میں دو ساکن جمع ہوئے ہیں۔اول مدہ دوسرامدغم اور جب اجتماع ساکنین ایک کلمے میں ہوتو وہ جائز ہوتاہے اور اسکو اجتماع ساکنین علی حدہِّ کہتےہیں مگر جب اول مدہ یا دوسرا مدغم نہ ہو یا اجتماع دو کلموں میں ہوتو وہ ناجائز ہوتاہے اور اسکو اجتماع ساکنین علٰی غیرحدِّہ کہتے ہیں جیسے خِفْنَ اور قُلِ الحَقَّ۔

قاعدہ :

قاعدہ ۴۔جس جگہ دو حرف ہم جنس اکٹھے ہوں،پہلا ساکن اور دوسرامتحرک تو پہلے کو دوسرے میں ادغام کرتےہیں جیے مَدٌّ و صَرَّفَ کہ اصل میں مَدَدٌ و صَرَرَفَ تھا

ایساہی اگر دو حرف قریب المخرج اکٹھے ہوں،پہلا ساکن اور دوسرا متحرک تو پہلے کو دوسرے سے بدل کر ادغام کرتےہیں جیسے إِدّٰی کہ اصل میں إدْتَمٰی تھا ت کو دال سے بدلا اور دال میں ادغام کیا۔

ت افتعال کے احکام:اگر ف کلمہ افتعال کا د،ذز،ہوتو تائے افتعال دال سے بدل جاتی ہے،جیسے اِدِیَاءٌ،إِدِّخَارٌ اِزْدِھَامٌ کہ اصل میں إِدْتِعَاءٌ إِذْتِخَاذٌ إِذْتِحامٌ تھا اگر ف افتعال کی ص،ض، ط،ظ، ہوتو ت،ط،ہوجاتی ہے جیسے اصطِلاح، اضطرابٌ،اطلاعٌ،اظطلامٌ کہ اصل میں اصطلاح اضطرابٌ،اطلاع اظطلامٌ تھا۔

ت تفعل اور تفاعل کے احکام:جب تفعل اور تفاعل کا ف کلمہ منجملہ گیارہ حرف ت،ث،د،ذ،ز،س،ش،ص،ض،ط،ظ، کے ہوتو جائز ہے کہ ت تفعل اور تفاعل کو ف کلمہ سے بدل کر اس میں ادغام کریں،اس صورت میں مصدر اور ماضی اور امر کے پہلے ہمزہ وصل آئے گا جیسے إِطَّھَرَ،یَطَّھِرُ إِطِّھَارًا و إثَّاقَلَ یَثَّاقَلُ إِثَّاقُلًا

6 ابواب مزیدفیہ کی مشق (کتاب الصرف : سبق ۵۲ )

إِفْعَالٌاستفعالافتعالانفعالمفاعلۃتفاعلتفعیلتفعل
اَلْإِمْدَادُالاستمدادُالامتدادُالانسدادالمماسۃُالتماسالتَّقْرِیرُالتقرر
مدد دینامدد چاہنادراز ہونابند ہوناباہم ملناملناثابت کرناثابت ہونا
اَمَدَّإِسْتَمَدَّإِمْتَدَّإِنْسَدَّمَاسَّتَمَاسَّقَرّرَتَقَرَّرَ
یُمِدُّیَسْتَمِدُّیَمْتَدُّیَنْسَدُّیُمَاسُّیَتَمَاسُّیُقَرِّرُیَتَقَرَّرُ
إِمْدَادًاإِسْتِمْدَادًاإِمْتِدَادًاإِنْسِدَادًامُمَاسَّۃتَمَاسًّاتَقْرِیْرًاتَقَرُّرًا
مُمِدٌّمُسْتَمِدٌّمُمْتَدٌّمُنْسَدٌّمُمَاسٌّمُتَمَاسٌّمُقَرِّرٌمُتَقَرِّرٌ
اُمِدَّاُسْتُمِدَّاُمْتُدَّ-مُوْسَّتُمُوسَّقُرِّرَ-
یُمَدُّیُسْتَمَدَّیُمْتَدُّ-یُمَاسُّیُتَمَاسُّیُقَرَّرُ-
إِمْدَادًاإِسْتِمْدَادًاإِمْتِدَادًا-مُمَاسَّۃٌتَمَاسًّاتَقْرِیْرًا-
مُمَدٌّمُسْتَمَدٌّمُمْتَدٌّ-مُمَاسٌّمُتَمَاسًّامُقَرَّرٌ-
اَمِدَّاِسْتَمِدَّإِمْتَدَّإِنْسَدَّمَاسِّتَمَاسَّقَرِّرْتَقَرَّرْ
اَمِدَّاِسْتَمِدَّإِمْتَدَّإِنْسَدَّمَاسِّتَمَاسَّقَرِّرْتَقَرَّرْ
اَمْدِدْإِسْتَمْدِدْإِمْتَدِدْإِنْسَدِدْمَاسِسْتَمَاسَسْ--
لَا تُمِدَّلَا تَسْتَمِدَّلَاتَمْتَدَّلَا تَنْسَدَّلَا تُمَاسِّلَاتَمَاسَّلَا تُقَرِّرْلَا تَتَقَرَّرْ
لَا تُمْدِدْلَا تَسْتَمْدِدْلَا تَمْتَدِدْلَا تَنْسَدِدْلَا تُمَاسِسْلَا تَمَاسَسْ--
مُمَدٌّمُسْتَمَدٌّمُمْتَدٌّمُنْسَدٌّمُمَاسٌّمُتَمَاسٌّمُقَرَّرٌمُتَقَرَّرٌ

فائدہ :

فائدہ:۱۔باب افعل اور استفعال میں قاعدہ یمد(قاعدہ۲ جاری ہوگا۔اور باب افتعال سے تفاعل تک قاعدہ مد(قاعدہ۱)تفعیل اور تفعل وغیرہ ابواب مثل صحیح کے آئیں گے۔

فائدہ:۲۔باب افعال و استفعال تفعیل کے باقی ابواب کے اسم فاعل واسم مفعول اسم ظرف صورت میں ہیں لیکن در اصل اسم فاعل عین کسرہ سے ہے اور اسم مفعول وظرف عین فتحہ ہے

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

سوالات

۱۔مضاعف کسے کہتے ہیں اور اور اسکو صحیح میں شمار نہ کرنے کی کیا وجہ ہے؟

۲۔مضاعف میں کیا تغیرات واقع ہوتے ہیں ان کے نام مع تعریف بیان کرو؟

۳۔جہاں ادغام ناجائز ہوتاہے وہاں رفع ثقالت کی کیا تجویز ہوسکتی ہے؟

۴۔لَمْ یَمُدُّ کی اصل کیاہے اور دوسری دال کو کیا حرکت آسکتی ہے؟

۵۔کیا ہر ایک قسم کے دو ہم جنس حرفوں میں ادغام ہوسکتاہے یا نہیں؟

۶۔یَمَدُّونَمیں ادغام ممتنع ہے اور لَمْ یَمْدُدْنَ میں جائز ہونے کی کیا وجہ ہے؟

ب۱۔مَادٌّ کیا صیغہ ہے اور اس اجتماع ساکنین کے جائز ہونے کی کیا وجہ ہے؟

۲۔سَبُبٌ اور قُول میں ادغام کرنے کی کیا خرابی پیدا ہوتی ہے؟

ج۱۔مَدّ سے باب تفعیل کا مضارع معروف اور باب افعال کی ماضی مجہول گردان؟

۲۔حَبَّ سے باب استفعال کا امر حاضرمعروف گردانو؟

د:فقرات مندرجہ ذیل میں جو افعال اور اسماء کہ مضاعف ہوں ان کو بیان کرو۔

۱۔إِنْ تَعُدُّوا نِعْمَۃَ اللہِ لَا تُحْصُوھا۔اگر تم خدا کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو نہ کرسکو۔

۲۔وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ وَاغْضُضْ مِنْ صَوتِکَ۔ رفتار میں میانہ روی اور آواز میں آہستگی کر۔

۳۔اَلْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ القَتْلِ۔فتنہ قتل سے بہت سخت ہے۔

۴۔مَا مِنْ دَابَّۃِ فِی الاَرْضِ إِلَّا عَلٰی اللہِ رِزْقُھَا۔زمین پر ہر ایک چلنے والے کا رزق خدائے تعالی کے ذمہ ہے۔

۵۔إِنَّکَ لَا تَھْدِی مَنْ اَحْبَبْتَ۔ جس کو تو چاہے ہدایت نہیں کرسکتا۔

۶۔قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا، جس شخص نے اپنے آپکو گناہوں میں چھپالیا نامراد ہوگیا۔

۷۔مَنْ یُّشَاقِقِ اللہَ وَرَسُولَہُ۔جوخدائے تعالی اور رسول ﷺ کی مخالفت کرے گا

۸۔لَا تَجَسَّسُوا وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا۔نہ جاسوسی کرو اور نہ ایک دوسرے کی غیبت

۹۔اَلْآنَ حَصْحَصْ الحقُّ۔اب حق کھل گیا۔

7 أسئلة تدريبية

عشرة أسئلة تُسحب عشوائيًا من هذا الدرس. أجب وسترى النتيجة فورًا، ثم أعد المحاولة لمجموعة جديدة.

87 سؤالًا في هذا الدرس