القواعد

الصرف حروف اصلیہ کے اعتبار سے /

لفیف کا بیان

الدروس مكتوبة باللغة الأردية.

الخريطة

  • حروف اصلیہ کے اعتبار سے
    • مثال (معتلل الفاء)
    • اجوف (معتلل العین)
    • ناقص (معتلل الام)
    • لفیف کابیان
    • مضاعف کا بیان
    • مھموز کا بیان

1 القاعدة

تعریف

لفیف :اگر کلمے میں دو حرف علت ہوں تو اسکو معتل بدو حرف اور لفیف کہتے ہیں اور اسکی دو قسمیں ہیں

۱۔ لفیف مفروق جس میں دو حرف علت منفصل ہوں جیسے وَلیٌ،وَحیٌ۔

۲۔لفیف مقرون جس میں دو حرف علت متصل ہوں جیسے عَلَوِیٌّ،یَومٌ

2 لفیف کا بیان

لفیف مفروق تین بابوں سے آیا ہے اور لفیف مقرون دو سے تفصیل ان کی یہ ہے

باب ضرب یضربُ سے الوقایۃ(نگاہ رکھنا)باب سمع یسمع سے الوجی (سم کا گھسنا)باب حسب یحسب سے الولی (نزدیک ہونا)
وَقٰیوَجِیَوَلِیَ
یَقِییَوجٰییَلِی
وِقَایَۃًوَجیًاوَلیًا
وَاقٍوَاجٍوَالِیٌ
وُقِیَ۔۔۔وُلِیَ
یُوقٰی۔۔۔یُولٰی
وِقَایَۃً۔۔۔وَلیًا
مُوقَِیٌ۔۔۔مُولِیٌ
قِاِیجِلِ
لَاتَقِلَاتَوجَلَاتَلِ
مَوقًیمَوجیًمَولَیً
باب ضربیضرب سےالطی (لپیٹنا)باب سمع یسمع سےالقوۃ (مضبوط ہونا)
طَوٰیقَوِیَ
یَطوِییَقوٰی
طَیًّاقُوَّۃً
طَاوٍقُوِیَ
طُوِیَ۔۔۔
یُطوٰی۔۔۔
طَیًّا---
مَطوِیٌّ---
اِطوِاِقوَ
لَاتَطوِلَاتَقوَ
مَطوًیمَقوًی

گردان ماضی وَقِیَ وَقیا وَقَو وَقَت وَقَتَا وَقَینَ ۔۔۔۔الخ

گردان مضارع یَقِی یَقِیَانِ یَقَونَ تَقِی تَقِیَانِ یَقِینَ۔۔۔۔ الخ

گردان امر قِ قِیَا قُو قِی قِیَا قِینَ۔

تنبیہ : لفیف مفروق میں ف کلمے کی تعلیل مثل وَعَدَ یَعِدُ کے لام کلمے کی مثال رَمیٰ ، یَرْمِیْ اور رَضِیَ یَرْضیٰ کے ہے ، لفیف مفروق کے عین کلمے میں تعلیل بالکل نہیں اس لیے اس کی تعلیل اور گردان بعینہ مثل رَمیٰ ، یَرْمِیْ اور رَضِیَ یَرْضیٰ کے ہے

متفرق تعلیلیں:ق ۲۲۔فُعلیٰ اسمی کےلام کلمے کی جگہ ی ہوتو و ہوجاتی ہے جیسے فتوٰی و تقوٰی کہ اصل میں فتیا اور تقیا تھا مگر فعلی وصفی میں ی قائم رہتی ہے جیسے صدیا مؤنث صَدیان۔

ق ۲۳:فُعلٰی اسمی کے لام کلمہ کی جگہ و ہوتو ی ہوجاتی ہے جیسے دنیا و علیاکہ اصل میں دُنوَا و عُلَوَا تھا، مگر فَعلٰی وصفی میں قائم رہتی ہے جیسے غزویٰ مؤنث اغزی۔

ق ۲۴:جو و،ی اسم کے آخر میں بعد الف زائد کے ہوہمزہ ہوجاتی ہے بشرطیکہ اس کے آخر میں تائے تانیث لازم نہ ہو جیسے دُعَاءٌ وبناءٌ کہ اصل میں دعاوٌ و بنایٌ تھا بر خلاف عَدَاوَۃ و ھِدَایَۃٌ کے

ق۲۵:ی اسم کے آخر میں بعد ضمہ اصلی کے ہو اور ہمزہ سے بدلا ہوا نہ ہو ضمہ ماقبل کسرہ سے بدل ہوتا ہے اور و برعایت کسرہ ماقبل ی ہوجاتی ہے جیسے اولٍ و تقلنسٍ کہ اصل میں اولُوٌ و تَقَلسُیٌ تھے۔

ابواب مزیدفیہ کی تعلیلیں:اِعلَاءٌ و اِغنَاءٌ کہ اصل میں اعلاوٌ و اغنایٌ تھا و،ی طرف کلمہ میں بعد الف زائد کے واقع ہوکر ہمزہ ہوگیا۔

۲۔تَسمِیَۃٌ و تَقوِیَہٌ اصل میں تَسمیوٌ و تقوِیوٌ تھے بحکم قاعدہ مرمِیٌّ کے اسے تسمِیٌ و تَقوِیٌ ہونا چاہئے تھا مگر ایک ی کو تخفیفا حذف کیا اور دوسری کو فتحہ دے کر ت بعوض یائے محذوفہ آخر میں بڑھادی،تسمِیۃٌ و تَقوِیۃٌ ہوا۔

۳۔مُعَادَاۃٌ،ومُلَاقَاۃٌ اصل میں مُعَادَوَۃٌ و مُلَاقَیَۃٌ تھے، و،ی بقاعدہ قال الف سے بدل ہوا۔

۴۔تَعَدِّیًا و تَمَنِّیًااصل میں تَعَدُّوًا و تَمُنُّیًا تھے و ی متحرک ضمہ کے بعد آخر اسم میں واقع ہوئے،ضمہ کو کسرہ سے اور و کو بسبب کسرہ ماقبل ی سے بدلا تَعَدِّیًا وَتَمَنِّیًا ہوا ۔

۵۔تَلاَقِیاً ، و تَوَالِیًا، اصل میں تَلاقُواً و تَوَالُیاً تھے ان کی تعلیل بعینہ تَعَدِّیًا و تَمَنِّیًا کے ہے۔

سوالات

۱۔ناقص کسے کہتے ہیں؟اس میں اور لفیف میں کیا تمیز ہے؟

۲۔ناقص اور لفیف میں کون کونسا قاعدہ تصرفات لفظی کا عمل میں آتاہے؟

۳۔قوی اور رمیٰ دونوں میں و ی متحرک ہیں اور عمل مختلف اسکی وجہ کیا ہے؟

۴۔مَرْمِیٌّ اور مَوقِیٌّ کی اصل کیا ہے ان کی تعلیل کرو؟

۵،یَرْضٰی اور یَقوٰی میں و کس قاعدے سے ی ہوئی؟

۶۔نون تاکید کے آنے سے اسکے ماقبل میں کیا تغیر ہوتاہے،بیان کرو؟

ب:۱۔ تَدْعُونَ کیاکیا صیغہ ہوسکتاہے اور اسکی اصل کیاہے؟

۲۔تَرمِینَ اور تَقِینَ کیا کیا صیغے ہوسکتےہیں اور ان میں کیاکیا تعلیل ہوئی ہے؟

ج:۱۔دعٰی اور وقٰی سے باب افتعال کی ماضی معروف گردانو؟

۲۔مشی سے باب تفعل اور علی سے باب تفاعل کا مصدر کیا آئےگا؟مع تعلیل بیان کرو۔

د:فقرات ذیل میں ناقص اور لفیف کے جو الفاط واقع ہوئے ہیں انکو بیان کرو؟

۱۔وَعِبَادُالرَّحْمٰنِ الَّذِینَ یَمْشُونَ علٰی الاَرْضِ ھَونًا۔خدا کے بندے زمین پر نرمی سے چلتےہیں

۲۔إِنْ مِّنْ اُمَّۃِ إِلَّا خَلَا فیھا نذِیرٌ۔کوئی فرقہ نہیں کہ اس میں ڈرانےوالا نہ آیاہو۔

۳۔وَقِنَا رَبَّنَا عَذَابَ النَّارِ۔اے خداوند ا ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا۔

۴۔رِجَالٌ لَّاتُلْھِیھِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللہِ۔ وہ لوگ کہ ان کو سوداگری اور بیچنا خدا کی یاد سے غافل نہیں کرتا۔

۵۔ وَلِکُلِّ وِّجْھَۃٌ ھُوَ مُوَلِّیْھَا۔ اور ہر کسی کو ایک طرف ہے کہ ادھر منہ کرتاہے۔

۶۔نَادٰنَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ المُجِیْبُونَ۔نوح نے ہم کو پکارا اور ہم بہت اچھے پکارپر پہنچنے والےہیں۔

۷۔إِذَا تَدَایَنْتُمْ بِدَیْنِ إِلٰی اَجَلِ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوْہُ۔جب تم ادھار پر ایک ووقت معاملہ کرو تو اسکو لکھ لو۔

۸۔إنْ اَسْلَمُوا فَقَدِ اھتَدَوا۔ اگر وہ اطاعت کریں پس تحقیق انہوں نے راہ پائی۔

۹۔إِنْ تَوَلَّوْ فَإِنَّمَا عَلَیْکَ البَلَاغُ۔اگر پھر جائیں پس تجھ پرپہنچادینا ہے۔

۱۰۔لَایَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیرُ۔اندھا اور آنکھوں والابرابر نہیں ہوتا۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

3 أسئلة تدريبية

عشرة أسئلة تُسحب عشوائيًا من هذا الدرس. أجب وسترى النتيجة فورًا، ثم أعد المحاولة لمجموعة جديدة.

240 سؤالًا في هذا الدرس