الصرف
۱۔حروف کی تعداد کی اعتبار سے
الدروس مكتوبة باللغة الأردية.
الخريطة
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- ۱ ۔ فعل ثلاثی
- ۲ ۔ فعل رباعی
- تمرینات
1 حروف کی تعداد کے اعتبار سے فعل کی تقسیم:
فعلِ ثلاثی: وہ فعل جس کے مادّے میں تین حروف اصلی ہوں، جیسے: كَتَبَ (لکھا)، ضَرَبَ (مارا)۔
۱ ۔ ثلاثی مجرد جیسے خَرَجَ (وہ نکلا)
۲۔ثلاثی مزیدفیہ جیسے اَخْرَجَ(اس نے نکالا)الف زائد ہے
فعلِ رباعی: وہ فعل جس کے مادّے میں چار حروف اصلی ہوں، جیسے: دَحْرَجَ (لُڑھکایا)، زَلْزَلَ (ہلایا)۔
۱۔رباعی مجرد جیسے دَحْرَجَ (اس نے لڑھکایا)
۲۔رباعی مزیدفیہ جیسے تَدَحْرَجَ (وہ لڑھکا)اس میں ت زائد ہے
کلمات کا وزن کرنے کےلئے اور حروف اصلیہ اور حروف زائد معلوم کرنے کےلئے ف،ع،ل، کو میزان قرار دیاگیا،جس طرح چیزوں کی کمی پیشی اور برابری کا حال میزان سے معلوم ہوتاہے، اسی طرح کلمات کے حرفوں کو ف،ع،ل کے ساتھ مقابل کرنے سے ان کے اصلی حروف اور زائد حروف معلوم ہو جاتے ہیں۔کلمہ موزون (یعنی جس کلمہ کا وزن نکالا جائے)کا جو حرف«« ف»» کے مقابل ہووہ فا کلمہ کہلاتا ہے جیسے قَلَمٌ میں ق جو ع کے مقابل ہو وہ عین کلمہ جیسے قَلَمٌ میں ل اور ل کے مقابل ہووہ لام کلمہ جیسے قَلَمٌ میں م کہلاتاہے
وزن کی تین صورتیں ہیں:
۱۔فَعَلٌ جیسے زَمَنٌ یہ وزن ثلاثی مجرد کاہے
۲۔فَعْلَلٌ جیسے ثَعْلَبٌ یہ وزن رباعی مجرد کا ہے
۳۔فَعَلْلَلٌ جیسے سَفَرْجَلٌ یہ وزن خماسی مجرد کاہے
ان اوزان کے ذریعہ کسی کلمہ کو ثلاثی،رباعی،خماسی،اور مجرد مزیدفیہ ہونا اس طرح معلوم ہوسکتاہے کہ کلمہ موزون (جس کا وزن نکالاجائے)کے حرفوں کا مقابلہ وزن کے حرفوں سے ترتیب کے ساتھ کریں،اور حرکات وسکنات کے موافق ہونے کا لحاظ رکھیں جو زیادتی ہو اسکو وزن میں اسی طرح لائیں۔اب جو حروف ف،ع،ل،کے مقابل ہوں وہ اصلی ہوں گے اور جو اسکےعلاوہ ہوں وہ حروف زائد ہوں گے۔ذیل کی مثالوں سے اس اسکو ذہن نشین کرلو۔
زَمَنٌ (فَعَلٌ کے وزن پر)جَعْفَرٌ(فَعْلَلٌ کے وزن پر)
سَفَرْجَلٌ(فَعَلْلَلٌ کے وزن پر)یہ سب مجرد کہلائیں گے۔
زَمَانٌ(فَعَالٌ)قِنْدِیْلٌ(فِعْلِیْلٌ)غَضْرَفُوطٌ(فَعْلَلُولٌ)
چوں کہ ان میں حروف زوائد بھی ہیں اسلئے مزیدفیہ کہلائیں گے۔
الفاظ کاوزن معلوم ہوجانے سے یہ فائدہ ہے کہ کسی ایک کلمہ کے حروف اصلیہ کے معنٰی معلوم ہوجانے کے بعد اس کے تمام مشتقات وغیرہ کے معنٰی جاننا آسان ہوجاتاہے۔
خود کا جائزہ لیں