الخريطة
- حروف کی تعداد کے اعتبار سے
- ۱ ۔ فعل ثلاثی
- ۲ ۔ فعل رباعی
- تمرینات
1 فعل ثلاثی کی تعریف
فعل ثلاثی : وہ فعل ہے جس کے مادے میں تین بنیادی حروف ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افعال زیادہ عام اور سادہ ہوتے ہیں اور عام طور پر بنیادی معانی رکھتے ہیں۔
فعل ثلاثی کے اقسام:
1. فعل ثلاثی مجرد
2. فعل ثلاثی مزید فیہ
فعل ثلاثی کے اقسام
2 ۱۔ فعل ثلاثی مجرد
ثلاثی مجرد جیسے خَرَجَ (وہ نکلا)
یہ وہ فعل ہے جس میں صرف تین حروف ہوتے ہیں اور اس میں کوئی اضافی حرف شامل نہیں ہوتا۔
-مثالیں: نَصَرَ (اس نے مدد کی) ،کَتَبَ (اس نے لکھا) ،ضَرَبَ (اس نے مارا)
3 فعل ثلاثی مجرد کے ابواب (تمرین الصرف : سبق۲۶)
یہ گزشتہ اسباق میں بیان کیا جاچکاہے کہ ثلاثی مجرد کے ماضی اور مضارع کےتین وزن ہیں فَعَلَ،فَعِلَ،فَعُلَ(ماضی)یَفْعَلُ،یَفْعِلُ،یَفْعُلُ(مضارع)۔
کبھی تو ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکات یکساں ہوتی ہیں جیسے فَتَحَ،یَفْتَحُ۔کَرُمَ،یَکْرُمُ۔حَسِبَ،یَحْسِبُ۔
کبھی ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکات مختلف ہوتی ہیں جیسے ضَرَبَ یَضْرِبُ۔نَصَرَ،یَنْصُرُ۔سَمِعَ،یَسْمَعُ۔
اسلئے ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکات کے لحاظ سے افعال ثلاثی مجرد کے چھ باب قرار دئے گئے ہیں
ہر ایک ثلاثی مجرد کے متعلق یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس باب سے آتاہے تاکہ گردان کرنے میں غلطی نہ ہو،اسلئے لغت کی کتابوں میں معنٰی بیان کرتےہوئے باب کی طرف اشارہ کردیاجاتاہے،اس طرح سے کہ اگر باب ضَرَبَ یَضْرِبُ سے ہوتو (ض)اسکے سامنے لکھ دیتےہیں۔باب نَصَرَ سے ہوتو(ن)باب سمع سے ہوتو (س)باب فتح سے ہوتو (ف)باب کرم سے ہوتو(ک)باب حسب سے ہوتو(ح)لکھ دیتےہیں۔
مندرجہ ذیل مصادر سے ان کے ابواب کے مطابق ماضی،مضارع،امر وغیرہ کی گردانیں مشق کرو۔
۱۔ضَرَبَ،یَضْرِبُ الغَسْلُ(دھونا) الغَلْبُ(غالب ہونا) الظُّلمُ(ظلم کرنا)
۲۔نَصَرَ،یَنْصُرُ الطَّلَبُ(ڈھونڈنا) القَتْلُ(مارڈالنا) الدُّخُولُ(داخل ہونا)
۳۔سَمِعَ،یَسْمَعُ العِلْمُ(جاننا) الجَھْلُ(نہ جاننا) الفَھْمُ(سمجھنا)
۴۔فَتَحَ،یَفْتَحُ الجَرْحُ(زخمی ہونا) المَنْعُ(روکنا) الذَّبْحُ(ذبح کرنا)
۵۔کَرُمَ،یَکْرُمُ القُرْبُ(نزدیک ہونا) البُعْدُ(دور ہونا) الکَثْرَۃُ(بہت ہونا)
۶۔حَسِبَ،یَحْسِبُ النِّعْمَۃُ (آرام سے زندگی گزارنا)
4 ابواب ثلاثی مجرد سے صرف صغیر
5 فعل ثلاثی مجرد کی مزید تفصیل ( کتاب الصرف سبق : ۲۲)
اوزان فعل: فعل ثلاثی (سہ حرفی) کے تین وزن ہیں۔فَعَلَ، فَعِلَ،فَعُلَ تینوں فعل ماضی ہیں، اور ان میں سے ہر ایک کے مضارع کے بھی تین وزن ہیں یَفْعَلُ، یَفْعِلُ، یَفْعُلُ، مگر کسی جگہ ماضی اور مضارع کے عین کلمہ کی حرکات متفق ہوتی ہیں اور کسی جگہ مختلف صرفیوں نے ہر ماضی کیلئے مضارع کے چند اوزان دریافت کئے ہیں چنانچہ:
جب ماضی اور مضارع کا صیغہ واحد مذکر غائب(حسب تفصیل بالا) ملاکر بولا جائے تو اس مجموعہ کو باب کہتے ہیں،ان دونوں کے اختلاف حرکت ع کے باعث نو باب آنے چاہئے تھے مگر مستعمل صرف چھ ہیں۔
امثلہ مشقیہ : مفصلہ ذیل مصدروں سے ہر باب کی صرف صغیر کرو۔
۱۔مصادر باب
فَعَلَ یَفْعِلُ الضَّربُ(مارنا)الغُسْلُ(دھونا)الغلبُ(غلبہ کرنا) الظلمُ(ستم کرنا)الکذبُ(جھوٹ بولنا)
۲۔مصادر باب
فَعَلَ یَفْعُلُ النَّصرُ(مددکرناْ)الطلبُ(ڈھونڈنا)القتلُ(مارڈالنا) الدُّخُولُ(اندرآنا) الفَسادُ(تباہ کرنا)
۳۔مصادر باب
فَعِلَ یَفْعَلُ السمعُ(سننا)العِلْمُ(جاننا) الفھمُ(سمجھنا) الجھلُ (نہ جاننا) الشھادۃُ(گواہی دینا)
اس باب کا اسم فاعل اکثر تو فاعل کے وزن پر آتاہے جیسے سامعٌ، عالمٌ مگر جب فاعل میں معنی ثبوت کے ملحوظ ہوں تو فاعل کا وزن نہیں آتا بلکہ صفت مشبہ کا وزن فعیلٌ آتاہے جیسے سمیع۔ علیم۔
۴۔مصادر باب
فَعَلَ یَفْعَلُ الفتح(کھولنا)الجرحُ(زخمی کرنا) الرَّھنُ (گروی رکھنا) المنعُ(روکنا) الصَّبغُ(رنگ کرنا)
۵۔مصادر باب
فَعُلَ یَفۡعُلُ الکرم والکرَامَۃُ(بزرگ ہونا) الَّطفُ واللطافۃُ (پاکیزہ ہونا) القُربُ(نزدیک ہونا) البعدُ(دور ہونا) الکثرۃُ(بہت ہونا)
اس باب سے اسم فاعل کی جگہ صفت مشبہ کا صیغہ فعیل کے وزن پر آتاہے جیسے کریم اور یہ ہمیشہ لازم ہوتاہے۔
۶۔مصادرباب
فَعِلَ یَفْعِلُ الحسبُ والحسبانُ(گمان کرنا) النعمۃ(خوش ہونا)
اس باب کے چند مصادر آئے ہیں جن میں سے صحیح کے صرف دوہیں
فائدہ : ابواب مندرجہ بالا کےسوادو باب ثلاثی سے اور آئےہیں۔۱۔فَعِلَ یَفْعُلُ ماضی مکسور العین مضارع مضموم العین جیسے فَضِلَ یَفْضُلُ (الفَضْلُ) زیادہ ہونا
۲۔فَعُلَ یَفْعَلَ ماضی مضموم العین مضارع مفتوح العین جیسے کَادَ یَکَادُ (اَلکَودُ والکَیدُودَۃُ) (نزدیک تر ہونا)
مگر اکثر صرفیوں کی رائے ہے کہ یہ دونوں کوئی مستقل باب نہیں بلکہ پہلا باب تداخل لغات سے ہے اور دوسرا سَمِعَ یَسْمَعُ سے۔
خود کا جائزہ لیں
6 ۲۔ثلاثی مزیدفیہ (تمرین الصرف سبق ۲۷)
یہ وہ فعل ہے جس میں تین بنیادی حروف کے ساتھ ایک یا زیادہ اضافی حروف شامل کیے جاتے ہیں تاکہ معنی میں وسعت یا تبدیلی آئے۔
مثالیں: دَحْرَجَ (اس نے لڑھکایا) ، قَاتَلَ (اس نے لڑائی کی) ،أَسْلَمَ (اس نے اسلام قبول کیا)
ثلاثی مجرد کے افعال اور اسمائے مشتقہ بیان کیے جاچکے ہیں ثلاثی مزیدفیہ کے بارہ ابواب ہیں۔اکثر ان میں کے کثیرالاستعمال ہیں بعض ایسے ہیں جو کم استعمال ہوتےہیں۔یہاں ان ابواب کوجوکثیرالاستعمال ہیں تفصیل سے بیان کیاجاتاہے
۱۔اِفۡعَالٌ ۲۔تَفۡعِیۡلٌ ۳۔مُفَاعَلَۃٌ ۴۔تَفَعُّلٌ ۵۔تَفَاعُلٌ ۶۔اِفۡتِعَالٌ ۷ ۔اِنۡفِعَالٌ ۸۔اِسۡتِفۡعَالٌ ۹۔اِفۡعِلَالٌ
ان ابواب سے فعل مجہول بنانےکےلئے حسب ذیل قاعدوں کو مد نظر رکھو۔
ماضی مجہول: ماضی معروف کے پہلے حرف کو "ضمہ" دو آخری حرف سے پہلے جو حرف ہو اس کو کسرہ دو،اگر ان دونوں حرفوں کے درمیان کوئی متحرک حرف ہوتو اسے بھی مضموم کردو جیسے اَکْرَمَ سے اُکْرِمَ إِجْتَنَبَ سے اُجْتُنِبَ وغیرہ،اگر درمیان میں کوئی الف ہو تو ماضی مجہول میں واؤ سے بدل دو جیسے قَاتَلَ سے قُوتِلَ
مضارع مجہول:مضارع مجہول کےلئے علامت مضارع کو" ضمہ" اور آخری حرف سے پہلے جو حرف ہو اسکو فتحہ دینا چاہئے مثلًا یُکْرِمُ سے یُکْرَمُ۔یُقَاتِلُ سے یُقَاتَلُ
اسم فاعل:ان ابواب میں اسم فاعل مضارع معروف سے بنایاجاتاہے اس طرح کہ علامت کی جگہ" میم مضموم" لگائیں اور آخر میں تنوین مثلًا یُکْرِمُ سے مُکْرِمٌ وغیرہ
اسم مفعول:اسم مفعول مضارع مجہول سے اس طرح کہ علامت مضارع کی میم مضموم آخر میں تنوین مثلًا یُکْرَمُ سے مُکْرَمٌ اسم مفعول ہوگیا۔
ان سب ابواب کو مذکورہ قواعد کا خیال رکھتے ہوئے حفظ کرلو۔
ان ابواب سے اسم ظرف : ثلاثی مجرد کے علاوہ تمام ابواب میں اسم مفعول ہی اسم ظرف کے معنی دیتا ہے ۔ ان ابواب سے اسم آلہ اسم تفضیل نہیں آتے ۔
صیغے اور معانی بتاؤ:
صَرَّفۡنَا۔اَکۡرَمۡنَ۔مُکۡرِمُونَ۔قَاتَلُوا۔قَاتَلَا۔مُصَرِّفَانِ۔تُصَرَّفۡنَ۔تُکۡرَمُوۡنَ۔تَتَقَبَّلُ۔تُتَقَابَلُ۔مُتَقَبَّلٌ۔ تَقَابَلٌ۔تَقَابَلُوا۔ تَتَقَبَّلُونَ۔یُتَقَابَلُوۡنَ۔تُتَقَبَّلَانِ۔اِجۡتَنِبَا۔اِجۡتَنِبُوۡا۔مُجۡتَنِبَانِ۔مُجۡتَنِبُوۡنَ۔اِنۡکَسَرُوۡا۔اِنۡکَسِرۡنَ۔اِسۡتَنۡصَرۡتُ۔
اِسۡتَنۡصِرَا۔اِحۡمَرَّتۡ۔یُسۡتَنۡصَرُوۡنَ۔مُحۡمَرُّوۡنَ۔اِحۡمَرُّوۡا۔مُسۡتَنۡصِرٌ۔اِسۡتَنۡصَرُوۡا۔
ذیل میں ہر ایک باب کے چند مصادر لکھے جاتے ہیں،ان سے گردانیں کرو۔
(۱)اِفۡعَالٌ اَلۡاِسۡلَامُ(اسلام لانا،مطیع ہونا)،اَلاِعۡلانُ(ظاہر کرنا)اَلۡاِصۡلَاحُ(کسی چیز کو درست کرنا)
(۲)تَفۡعِیۡلٌ اَلۡتَّکۡذِیۡبُ(جھٹلانا)اَلتَّعۡلِیۡمُ(سکھانا)اَلتَّبۡلِیۡغُ(پہنچادینا،تبلیغ کرنا)
(۳)مُفَاعَلَۃٌ اَلۡمُکَاتَبَۃُ(آپس میں خط و کتابت کرنا)اَلۡمُخَاصَمَۃُ(آپس میں لڑنا) اَلۡمُشَارَکَۃُ(باہم شریک ہونا)
(۴)تَفَعُّلٌ اَلتَّبَسُّمۡ(مسکرانا)اَلتَّعَلُّمُ(سیکھنا)اَلتَّقَدُّمُ(آگے بڑھنا)
(۵) تَفَاعُلٌ اَلتَّعَارُفُ(ایک دوسرے کوپہچاننا) اَلتَّخَاصُمُ(آپس میں جھگڑنا)اَلتَّفَاخُرُ(ایک دوسرے پر فخر کرنا)
(۶)اِفۡتِعَالٌ اَلۡاِرۡتِحَالُ(کوچ کرنا)اَلاِجۡتِھَادُ(کوشش کرنا)اَلۡاِجۡتِمَاعُ(جمع ہونا)
(۷)اِنۡفِعَالٌ اَلۡاِنقِلَابُ(پلٹنا)اَلۡاِنۡصِرَافُ(پھرنا)اَلۡاِنۡفِطَارُ(پھٹنا)
(۸)اِسۡتِفۡعَالٌ اَلۡاِسۡتِغۡفَارُ(مغفرت طلب کرنا)اَلۡاِسۡتِفۡسَارُ(پوچھنا)اَلۡاِسۡتِحۡسَانُ(کسی چیزکو اچھا سمجھنا)
(۹)اِفۡعِلَالُ اَلۡاِخۡضِرَارُ(سبز ہونا)اَلۡاِصۡفِرَارُ(زرد ہونا)اَلۡاِسۡوِدَادُ(سیاہ ہونا)
7 افعال ثلاثی مزیدفیہ (کتاب الصرف : سبق۲۳، ۲۴)
فعل ثلاثی مزیدفیہ کے بارہ باب ہیں جو ثلاثی مجرد کی ماضی کے ابتدا یا وسط میں ایک یا دو تین حرف مقررہ بڑھانے سے بنتےہیں اور تین حصوں میں منقسم ہیں۔
۱۔وہ ابواب جو ایک حرف زائد کے بڑھانے سے بنتے ہیں اور یہ تین ہیں
۱۔ اَفْعَلَ۔ ف کلمہ کے پہلے ہمزہ زیادہ کرنے سے جیسے کرُمَ سے اَکْرَمَ
۲ ۔فَعَّلَ۔ ع کلمہ کومشدد کرنے سے جیسے صَرَفَ سے صَرَّفَ
۳ ۔فَاعَلَ۔ ف کلمہ کے بعد الف زیادہ کرنے سے جیسے قَتَلَ سے قَاتَلَ
۲۔وہ ابواب جو دو حرف زائد کے بڑھانے سے بنتےہیں اور یہ پانچ ہیں
۱۔تَفَعَّلَ۔ اول میں ت لانے سے اور عین کلمہ کو مشدد کرنے سے جیسے قَبِلَ سے تَقَبَّلَ۔
۲۔تَفَاعَلَ۔ اول میں ت اور ف کلمے کے بعد الف لانے سے جیسے قبل سے تَقَابَلَ۔
۳۔إِفْتَعَلَ۔ اول میں ہمزہ اور ف کلمے کے بعد ت لانےسے جیسے جَنَبَ سے إِجْتَنَبَ
۴۔إِنْفَعَلَ۔ اول میں ہمزہ اور نون لانے سے جیسے فَطَرَ سے إِنْفَطَرَ
۵۔إِفْعَلَّ اول میں ہمزہ لانے سے اورلام کلمہ کو مشدد کرنے جیسے حَمِرَ سے إِحْمَرَّ
۳۔وہ ابواب جن میں تین حروف بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ چار ہیں۔
۱۔افعالَّ۔ اول میں ہمزہ اور عین کلمے کے بعد الف بڑھانے اور لام مشدد کرنے سے جیسے وَھَمَ سے إِدْھَامَّ
۲۔إِسْتَفْعَلَ۔ اول میں ہمزہ و س و ت کے لانے سے جیسے نَصَرَ سے إِستَنصَرَ
۳۔ اِفْعَوعَلَ ۔ اول میں ہمزہ اور عین کے بعد واؤ اور عین لانے سے جیسے خَشُنَ سے إِخشَوشَنَ
۴۔ إِفْعَوَّلَ اول میں ہمزہ لانے سے عین کےبعد واؤ مشدد بڑھانے سے جیسے جَلَذَ سے إِجْلَوَّذَ
ان بارہ بابوں سے پہلے پانچ باب بے ہمزہ وصل کہلاتے ہیں۔اور پچھلے سات باہمزہ وصل،
باب افعال کے پہلے جو ہمزہ ہے وہ قطعی کہلاتاہے۔
حرکات مضارع معروف:إِفْعَال، تفعیل،مفاعلۃ، فعللۃ،چار بابوں میں کہ ان کی ماضی چار حرفی ہے۔ مضارع معروف میں علامت مضموم ہوگی اور بابوں میں مفتوح تفعل تفاعل تفعلل۔تین بابوں میں کہ ان کے ماضی کےپہلے ت زائد آتی ہے مضارع کے آخر حرف کا ماقبل مفتوح ہوگا اور باقی بابوں میں مکسور۔
ہمزہ کا حذف:إِفتعال، انفعال،افعلال،افعیلال، استفعال، افعیعال افعوال،افعنلال،افعلَّال۔نوبابوں کی ماضی ک پہلے جو ہمزہ وصل آتاہے بروقت لاحق ہونے علامت مضارع کے حذف ہوجاتاہے جیسے یَجْتَنِبُ یَنْفَطِرُ وغیرہ باب إفعال کا ہمزہ ماضی اگرچہ قطعی ہے مگر مضارع میں وہ بھی حذف ہوجاتاہے جیسے یُکرَمُ کہ اصل میں یاکرِمُ تھا۔
تائے تفعل اور تفاعل کا حذف:جب تائے تفعل اور تفاعل پر ت مضارع واحد مؤنث غائب کی داخل ہوتو مضارع معروف میں سے ایک ت کا تخفیفا حذف کرنا درست ہے جیسے تَنَزَّلُ الْمَلَائکۃُ کہ اصل میں تَتَنَزَّلُ تھا۔
حرکات ماضی مجہول:جملہ ابواب کے ماضی مجہول میں ماقبل آخر مکسوراور باقی متحرک حروف مضموم ہوتے ہیں جیسے اُجْتُنِبَ اور ضمہ کے بعد الف واقع ہوتو واؤ سے بدل جاتاہے جیسے قَابَلَ سے قُوبِلَ۔
حرکات مضارع مجہول: تمام بابوں کے مضارع مجہول میں ماقبل آخر مفتوح اور علامات مضارع مضموم ہوگی اور باقی حرکات بدستور قائم رہیں گے جیسے یُجْتَنَبُ،یُقَابَلُ۔
حرکات اسم فاعل واسم مفعول: اسم فاعل اور اسم مفعول دونوں میں علامت مضارع کی جگہ مضموم اورآخر میں تنوین آتی ہے مگر ماقبل آخر اسم فاعل کا مکسور اور ماقبل آخر اسم مفعول کا مفتوح ہے جیسے مُجْتَنِبٌ(اسم فاعل)اور مُجْتَنَبٌ(اسم مفعول)
اسم ظرف واسم آلہ واسم تفضیل:اسم ظرف اسم مفعول کے اوزان پر آتاہے مگر اسم آلہ اور اسم تفضیل ان ابواب سے نہیں آتے اگر اسم آلہ کے معنی اداکرنے منظور ہوں تو لفط مابہ کو مصدر پر بڑھائیں جیسے مابہ الاجتناب(پرہیز کرنے کا ذریعہ) اگر اسم تفضیل کے معنی اداکرنے ہوں تو لفظ اشدُّ یا اکبرُ یا ان کی مثل مصدر پر زیادہ کریں جیسے اشدُّ تَنکِیلاً (بہت ہی بڑا عذاب دینے والا)اسرعُ التھابا(بہت ہی جلد بھڑک اٹھنے والا)
ثلاثی مجرد کے جن بابوں سے لون اور عیب کے معنی کے باعث اسم تفضیل نہیں آتاہے ان سے بھی اسی طرح اداکرتےہیں جیسے اشدحُمْرَۃً (بہت ہی سرخ رنگ)اشدصمما (بہت ہی بہرا )
خود کا جائزہ لیں
8 ابواب ثلاثی مزید فیہ (کتاب الصرف : سبق۲۵، ۲۶)
بے ہمزہ وصل
با ہمزہ وصل
خود کا جائزہ لیں
9 شناخت ابواب
ابواب مزید فیہ میں سے جب کسی فعل یا اسم مشتق کا پتہ دینا منظور ہو تو اس باب کے مصدر کا نام لے لینا چاہئے۔ مثلاً یُکرم باب افعال سے اور یُضارب باب مفاعلۃ سے ہے
۲۔باب افتعال اور انفعال کے پہچاننے میں کبھی خفیف سا مغالطہ ہوجاتاہے پس یاد رکھنا چاہئے کہ اگر تیسرا حرف ت ہوتو باب افتعال ہے اور اگر دوسرا حرف ن ساکن ہوتو انفعال
۳۔افعیلال۔افعیعال۔افعلَّال۔افعنلال۔یہ چاروں مصدر ایک وزن کےہیں۔اگر اصلی تین حروف اور لام مکرر ہے تو افعیلال ہے جیسے ادھیمام اور اگر عین کلمہ مکرر ہے تو افعیعال کیسے اخشیشان اگر چار حرف اصلی اور ع کلمہ کے بعدن زائد ہے تو افعنلال جیسے احرنجام اگر چار حرف اصلی سوا لام کلمہ مکرر ہے تو افعلال جیسے اقشعرار
مصادر غیر ثلاثی:ثلاثی مزیدفیہ اور ابواب رباعی کے بعض مصادر ان اوزان پر بھی آتے ہیں
۱۔باب تفعیل کا مصدر اکثر تفعلۃ کے وزن پربھی آجاتاہے جیسے تَخۡرِجَۃٌ(نکالنا) اور یہ وزن ابواب ناقص سے خصوصیت کےساتھ آتاہے۔کبھی کبھی فَعَالٌ فِعَّالٌ،تَفَاعُلٌ کے وزن پر بھی آجاتاہے جیسے کَلَامٌ بولنا کِذَابٌ کِذَّابٌ (جھٹلانا) تکرار(دہرانا)
۲۔جب مُفَاعَلَۃٌ کا مصدر بیشتر فِعَالٌ کے وزن پر آتاہے جیسے قِتَال(لڑنا)) کبھی فِیعَالٌ کے وزن پر بھی آجاتاہے جیسے قِیتَالٌ(بمعنی(قتال)
۳۔باب فعللۃ کا مصدرفِعلَالٌ کے وزن پر آتاہے جیسےزِلزَالٌ بمعنی زَلزَلۃٌکبھی فَعلَلٰی کے وزن پر بھی آجاتاہے جیسے قھقری(پیشھے پاؤں چلنا)
۴۔باب افعلّال کا مصدر فُعَلِّیلۃ کے وزن پر آتاہے جیسے قشعریرۃ بمعنی اقشعرار۔
10 (کتاب الصرف : سبق۲۵)ملحق برباعی
ملحق برباعی کے معنی یہ ہیں کہ ثلاثی مجرد میں کوئ حرف اس غرض سے زیادہ کیاجائے کہ وہ لفظ رباعی کا ہم وزن بن جائے اس کو ثلاثی مزیدفیہ ملحق برباعی کہتے ہیں الحاق دو کلموں کے باہم مثال کرنے کا نام ہے مگر شرط یہ ہے کہ ملحق اور ملحق بہ کا مصدر باہم مطابق ہو پس اکرم یُکْرِمُ اگرچہ بظاہر دَحْرَجَ یُدَحْرِجُ کے وزن پر آتاہے مگر چوںکہ مصدر دونوں کا مختلف ہے اس واسطے اکرم یکرم اگرچہ بظاہر دحرج یدَحْرِجُ کے وزن پر آتاہے مگر چوںکہ مصدر دونوں کا مختلف ہے اس واسطے اکرم کو ملحق برباعی نہیں کہیں گے۔
11 ابواب ملحق برباعی (کتاب الصرف : سبق۲۵ )
ملحق برباعی کے سولہ باب ہیں ۷۔ملحق بہ دَحْرَجَ اور ۷ ملحق بہ تَدَحْرَجَ اور دو ملحق بہ احرنجم مصدر ان ابواب کے یہ ہیں۔
ملحق بہ دحرج
فَعْلَلَۃٌ جیسے جَلْبَبَۃٌ (چادر اوڑھنا)
فَیْعَلَۃٌ جیسے خَیْعَلَۃٌ (بے آستین کرتا پہننا)
فَوْعَلَۃٌ جیسے جَوْرَبَۃٌ (جراب پہنانا)
فَعْنَلَۃٌ جیسے قَلْنَسَۃٌ (ٹوپی پہنانا)
فَیْعَلَۃٌ جیسے شَرِیْفَۃٌ (کھیتی کے بڑھے ہوئے پتوں کا کاٹنا)
فَعۡوَلَۃٌ جیسے سَرۡوَلَۃ (آزار پہننا)
فَعۡلَاۃٌ جیسے قَلۡسَاۃٌ (ٹوپی پہننا)
ملحق بہ تَدَحْرَجَ
تَفَعْلُلٌ جیسے تَجَلْبُبٌ (چادر اوڑھنا)
تَفَیْعُلٌ جیسے تَخَیْعُلٌ (بے آستین کرتا پہننا)
تَفَوْعَلَ جیسے تَجَورَبَ (جراب پہننا)
تَفَعْنُلٌ جیسے تَقَلْنُسٌ (ٹوپی پہننا)
تَفَیْعُلٌ جیسے تَشَرْیُفٌ (کھیتی کے بڑھے ہوئے پتوں کا کٹنا)
تَفَعُوْلٌ جیسے تَسَرْوُلٌ (ازار پہننا)
تَفَعْل تَقَلْس (ٹوپی پہننا)
ملحق بہ احرنجم
افعِنْلال جیسے اقعِنْساسٌ (بہت کبڑاہونا)
افعنلاءٌ جیسے إِسْلِنْقَاءٌ (چت ہونا)
خود کا جائزہ لیں