The map
- حروف اصلیہ کے اعتبار سے
- مثال (معتلل الفاء)
- اجوف (معتلل العین)
- ناقص (معتلل الام)
- لفیف کابیان
- مضاعف کا بیان
- مھموز کا بیان
1 The rule
تعریف
مھموز : وہ فعل جس کے حروفِ اصلیہ میں کوئی ہمزہ ہو، خواہ شروع، درمیان یا آخر میں۔
مثال: أَخَذَ (اس نے لیا)، سَأَلَ (اس نے پوچھا)
2 مھموز کا بیان (کتاب الصرف : سبق۵۳ )
ہمزہ کبھی اکیلا آتاہے اورکبھی دوسرے ہمزہ سے مل کر پہلی صورت میں تخفیف جوازی ہوتی ہے اور دوسری صورت میں وجوبی،سہولت کی غرض سے ہر ایک کے قاعدے الگ الگ بیان کئے جاتےہیں۔
ایک ہمزہ کی تخفیف: ایک ہمزہ کی تخفیف کے چار قاعدے ہیں۔
۱۔اگر ہمزہ ساکن اور ماقبل اسکا متحرک ہوتو ہمزہ کو حرف علت کے ساتھ موافق حرکت ماقبل ہمزہ کے بدل دینا جائز ہے(یعنی بعد فتحہ کے الف سے اور بعد ضمہ کے واو سے اور مابعد کسرہ کے ی سے جیسے راسٌ،بوسٌ،ذِئْبٌ کہ اصل میں رَأْسٌ بُؤْسٌ ذِئْبٌ تھا۔
۲۔اگر ہمزہ مفتوح اور اسکا ماقبل مضموم یامکسور ہوتو ہمزہ بعد ضمہ واوسے اور بعد کسرہ ی سے جوازا بدل جاتا ہے،جیسے جُوْنٌ مِیْرٌ کہ اصل میں جُؤْنٌ،مِئرٌ تھا
۳۔اگر ہمزہ متحرک اور ماقبل اسکا و یا ی ساکن زاید غیر الحاقی اسی کلمہ میں ہو تو ہمزہ کو جنس ماقبل سے بدلنا جائز ہے،اور بعد ابدال کے ادغام واجب ہے۔ جیسے مَقْرُوٌّ خَطِیَّۃٌ اُفَیَّسٌ کہ اصل میں مَقْرُوءٌ خَطِیْئَۃٌ اُفَیْئِسٌ تھا
۴۔اگر ہمزہ متحرک اور ماقبل اسکا ساکن سوائے مدہ زائدہ اور نون انفعال اور یائے تصغیر کے ہوتو جائز ہے کہ ہمزہ کی حرکت ماقبل کو دے کر ہمزہ کو حذف کریں جیس یَسَلُ،شَیٌ،ضَوٌ،قَدَافْلَحَ تھا۔
دو ہمزوں کی تخفیف:دو ہمزے جو ایک کلمے میں ہوں انکی تخفیف کے تین قاعدے ہیں
۵۔اگر دو ہمزوں میں سے پہلا متحرک اور دوسراساکن ہوتو دوسرے ہمزہ کو موافق حرکت اول کے بدلنا واجب ہے جیسے اٰمَنَ،أُؤْمِنَ،إِیْمَانًا اصل میں اَأۡمَنَ أأمِنُ إِئمَانًا تھا۔
فائدہ:کُلْ،خُذْ،مُرْ اصل میں أُأکُلْ،اُؤخُذْ،اُؤْمُرْ تھے اور قاعدہ بالا کے مطابق اُؤکُلْ اؤُخُذْ اؤُمُر آنا چاہئے تھا،دونوں ہمزے خلاف قیاس حذف کئے جاتے ہیں کُلْ اور خُذْ میں تو حذف واجب ہے مگر مُرْ کی دو حالتیں ہیں شروع کلام میں ہمزہ حذف ہوگا مُرُوْ اولادکم بالصلاۃ ۔۔۔ درمیان کلام میں باقی رہے گا۔وامر اھلک بالصلاۃ۔۔۔
۶۔اگر دو ہمزے متحرک ہوں اور ایک ان میں سے مکسور تو دوسرے ہمزہ کو ی سے بدلنا واجب ہے جیسے جَآءَ کہ اصل میں جَاءِءٌ تھا مگر ایِمَّۃٌ میں کہ اصل میں اَئِمَّۃٌ تھا یہ قاعدہ جوازی ہے۔
۷۔اگر دونوں متحرک ہوں اور کوئی مکسور نہ تو دوسرے ہمزہ کو واؤ سے بدلنا واجب ہے جیسے اَوَادِمُ،اُوَمِّلُ کہ اصل میں أَآدِمُ أُأَمِّلُ تھا۔
مستثنٰی:ہمزہ اُکْرِمُ کہ اصل میں اُئَکْرِمُ تھا خلاف قیاس حذف ہوا ہے اور باقی گردان سے اُکْرِمُ کی موافقت کےلئے گو ان میں اجتماع ہمزتین نہیں ہے۔
3 مجرد کے ابواب (کتاب الصرف : سبق۵۴ )
مہموز الفاء ثلاثی مجرد کے چاربابوں سے اور مہموز العین اور مہموزاللام تین بابوں سے آتاہے مہموز کی گردان عموما مثل صحیح کے ہوتی ہے ابواب ذیل صرف صغیر کو صحیح کے قیاس پر گردانوں عموما مثل صحیح کے ہوتی ہے ابواب ذیل صرف صغیر کو صحیح کے قیاس پر گردان کر جاؤ۔
تنبیہ : ان افعال اور اسماء میں قواعد مہموز بطریق ذیل جاری ہوں گے۔
۱۔مہموز الفاء کے مضارع معروف اور اسم ظرف میں راسٌ کا قاعدہ مضارع مجہول میں بُؤسٌ کا قاعدہ اسم آلہ مین ذئبٌ کا قاعدہ جوازی طور پر جاری ہوگا،مگر مضارع معروف و مجہول کے واحد متکلم اور افعل التفضیل میں آمَنَ کا قاعدہ وجوبی طور پر جاری ہوگا۔
امر حاضر: معروف کا صیغہ واحد مذکرحاضر قاعدہ اُوْمنَ و اِیْمَانًا کے ماتحت ہے جیسے اَدَبَ یَأْدِبُ سے اِیْدِبْ،اَدُبَ یَأْدُبُ سے اُوْدُبْ۔مگر ااَمَرَ یَامُرُ سے خلاف قیاس مُرْ آیا ہے گردان یوں ہوگی۔
امر حاضر: مُرْ،مُرَا،مُرُوا،مُرِی،مُرَا،مُرْنَ
بانون ثقیلہ:مُرَنَّ،مُرَانِّ،مُرُنَّ، مُرِنَّ،مُرَانِّ،مُرْنَانِّ
بانون خفیفہ: مُرْنَ،مُرُنْ مُرِنْ
فائدہ: مُرْ شروع کلام میں بغیر ہمزہ کے آتاہے جیسے مُرُواصِبْیَانَکُمْ بِالصَّلٰاۃِ اِذَا بَلَغُوا سَبْعًا اور درج کلام میں ہمزہ کے ساتھ جیسے وَامُرْ اَھْلَکَ بِالصَّلَاۃِ۔
۲۔مہموزالعین کے مضارع اور اسم مفعول اور امر میں یَسْأَلُ کا قاعدہ جوازی طور پر جاری ہوگا اور امرمیں اس قاعدہ کے بعد ہمزہ وصل بوجہ عدم ضرورت ساقط ہوجائیگا جیسے سَاَلَ، یَسْئَلُ سے سَلْ آئےگا اور گردان یوں ہوگی۔
سَلْ،سَلَا، سَلُوا، سَلِیْ، سَلَا، سَلنَ
نون ثقیلہ:سَلَنَّ،سَلَانِّ
فائدہ:سَلْ شروع میں بغیر ہمزہ کے اور درج کلام میں ہمزہ کے ساتھ آتاہے جیسے سلَ بنی اسرائیل، فسئلوا اھل الذکر۔
۳۔ مہموز اللام میں جہاں شرائط پائی جائیں پہلا قاعدہ جاری ہوگا اور اسم مفعول میں تیسرا قاعدہ اور یہ دونوں جوازی ہوںگے۔
4 مزید فیہ کے ابواب (کتاب الصرف : سبق۵۵ )
سبق نمبر ۳۱ میں بیان ہوچکا ہے کہ مادہ مجردہ مزیدفیہ کے اکثر ابواب میں پھر سکتاہے۔ اب دیکھو اگر اَمِنَ کو باب افعال میں اَمَرَ کو باب افتعال میں اور اَذِنَ کو باب استفعال میں لے جائیں تو ابواب مزیدفیہ کی یہ صورت ہوگی۔
باب افعال : آمَنَ یُومِنُ اِیْمَانًا مُؤمِنٌ الامر منہ آمِنْ والنھی عنہ لَا تُؤمِنْ
باب افتعال: إِیْتَمَرَ یَأتَمِرُ إِیْتِمَارًا مُؤتَمِرٌ الامر منہ إِیْتَمَرْ والنھی عنہ لَاتَأتَمِرْ
باب استفعال: اِسْتَأذَنَ ، یَستَأذِنُ إسْتِیْذَاناً مُسْتَأذِنٌ الامر منہ استَاذِنْ والنھی عنہ لَا تَسْتَاذِنْ۔
یہی حال باقی ابواب کا ہےمگر تخفیف کے احکام صرف انہیں تینوں بابوں کے متعلق ہیں اور وہ بھی اس حال میں جب کہ مہموز الفاء ہوں تفعل، تفاعل ، تفعیل ، مفاعلۃ وغیرہ میں کوئی تغیر وغیرہ نہیں ہوتا، جیسے
تَاَثَّرَ ، یَتَاَثَّرُ ، تَاَثُّرًا (باب تفعل مادہ اثر سے)
تَفَاألَ ، یَتَفَاألُ ، تَفَاْؤُلًا (باب تفاعل مادہ فَألٌ سے)
بَرَّءَ ، یُبَرِّئ ، تَبْرِئَۃً (باب تفعیل مادہ برأ سے)
اٰخَذَ ، یُؤَاخِذُ ،مُؤَاخَذَۃً (باب مفاعلۃ مادہ اخذسے )
ہرسہ باب مذکورہ بالا میں ہمزہ کی تخفیف کاحال مثل ابواب مجرد کےہے کسی جگہ وجوبی کسی جگہ جوازی مثلًا باب افعال اوار افتعال کی ماضی اور مصدر میں تخفیف وجوبی ہے مضارع اسم فاعل اسم مفعول اور اسم ظرف اور باب استفعال کے جملہ مشتقات میں تخفیف جوازی۔
خود کا جائزہ لیں
سوالات
الف۔۱: یَامُرُ اور یُامَرُ میں مہموز کا کون کون سے قاعدہ جاری ہوا ہے؟
۲۔مئْمَرٌ(اسم آلہ)اور آمَرُ(اسم تفضیل)میں ہمزہ کی تبدیلی جوازی ہے یا وجوبی؟
۳۔مہموزالعین کے امرحاضر میں ہمزہ کے اثبات اور حذف کا کیا طریق ہے۔
۴۔مُرْکیا صیغہ ہے اسکے ہمزہ کا حذف جوازی کس حالت میں ہوگا اور وجوبی کس حالت میں؟
۵۔مزیدفیہ کے کون کونسے ابواب ہیں جن میں ہمزہ کے آنےسے کچھ تغیر نہیں ہوتا؟
۶۔باب انفعال اور افتعال کے کس کس کلمے میں ہمزہ کی تخفیف وجوبی ہے اورکس کس میں جوازی؟
ب:۱۔یُکْرِمُ کی اصل کیا ہے اور ہمزہ کس قاعدے سے حذف ہوا؟
۲۔بُؤسٌ کی اصل کیا ہے اور میں راسٌ کا قاعدہ کیوں جاری نہیں ہوا؟
ج:۱۔اَدَبَ سے باب تفعل کا مضارع جمع مؤنث غائب اور امر واحد مؤنث حاضر بیان کرو؟
۲۔قَرَاَ سے باب استفعال کی نفی جحد بلم واحد مؤنث حاضر اور نہی حاضر واحد غائب بانون ثقیلہ کیا آئے گی؟
ف:فقرات مندرجہ ذیل میں جو فعل اور اسم مہموز کے واقع ہوئے ہیں ان کو بیان کرو۔
۱۔کُلُواوَاشْرَبُوا وَلَاتُسْرِفُوا۔کھاؤ پیواور حد سے زیادہ نہ بڑھو۔
۲۔فَاقْرَءُوا مَا تَیَسَّرَ مِنَ القُرْآنِ۔جتنا ہوسکے قرآن پرھو۔
۳۔ھُوَ الَّذِیْ اَنْشَاَکُمْ مِنْ نَفْسِ وَّاحِدَۃِ۔وہ خدا جس نے تم کو جان واحد سے پیداکیا۔
۴۔نَبِّئُونِیْ بِعِلْمِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ۔مجھے یقینی خبردواگر تم سچے ہو۔
۵۔رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِیْنَا۔اے ہمارے خدا ہمیں بھول چوک پرمواخذہ نہ کر۔
۶۔لَاتَسْئَلْنِ مَالَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ۔ اس چیز کی نسبت مجھ سے مت پوچھ جس کا تجھے علم نہیں۔
۷۔لَاتَدْخُلُوا بُیُوتًا غَیْرَ بُیُوتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَانِسُوا۔بیگانے گھروں میں بے اجازت مت جاؤ۔