Grammar

Sarf (morphology)

نسبت کا بیان

The lessons are written in Urdu.

1 نسبت کا بیان

(کتاب الصرف : سبق ۷۳)

اسم کے آخر میں یائے مشدد ما قبل مکسور بڑھانے کو نسبت کہتے ہیں اور اس طرح سے جو اسم بتاہے اسکو منسوب یہ ظاہر کرتاہے کہ جس اسم کے آخر میں یائے نسبت لگائی گئی ہے اس کے ساتھ کس چیز کا تعلق ہے جیسے ھِندِیٌّ (جس کو ہند سے کچھ تعلق )مَسِیحِیٌّ(جو مسیح کے مذہب کا معتقد ہو)

نسبت کے قاعدے حسب ذیل ہیں۔

۱۔جس لفظ کے آخر میں ۃ ہو نسبت کے وقت اس کا حذف کرنا واجب ہے جیسے کُوفَۃٌ، کُوفِیٌّ، مَکِّیٌ اور نسبت کے بعد مؤنث کے ۃ زیادہ کردی جاتی ہے جیسے کُوفِیَّۃٌ ومَکِّیۃٌ

۲۔فَعِیلٌ فَعِیلَۃٌ فُعَیلَۃٌ جب ناقص ہو تو پہلی ی کو دور کریں اور دوسری کو "و"سے بدل کر ماقبل کو فتح دیں جیسے علی،عَلَوِیٌّ،غَنِیَّۃٌ،غَنَوِیَّۃٌ،اُمَیَّۃٌ،اُمَیوِیٌّ۔

۳۔جو اسم غیر اجوف و غیرہ مضاعف فَعِیلَۃٌ یا فَعُولَۃٌ کے وزن پر غیر مضاعف فُعَیلَۃٌ کے وزن پر ہو تو حرف علت اور "ۃ" کا حذف اور عین کا مفتوح کرنا واجب ہے جیسے مَدِینَۃٌ،مَدِنِیٌّ،کَھُولَۃٌ،کَھلتِیٌّ ،جُھَیجنَۃٌ،جُھَنِیٌّ، مگر طَبِیعَۃٌ اور سَیقَۃٌسے طَبعِیٌّ اور سَلیقِیٌّ خلاف قیاس آیاہے

۴۔فَعِیلٌ اور فُعَیلٌ صحیح سے ی نہیں گرتی جیسے رَبِیعٌ،رَبَعِیٌّ،عُبَیدٌ،عُبَیدِیٌّ مگر ثقیف سے ثَقَفِیٌّ اور قُرَیشٌ سے قُرشِیٌّ خلاف قیاس آیاہے

۵۔الف مقصورہ اگر تیسری یا چوتھی جگہ ہو تو "و"سے بدل جاتاہے جیسے رَضٰی رَضَوِیٌّ مَولٰی سے مَولَوِیٌّ اور پانچویں جگہ ہوتو گرجاتاہے جیسے مُصطَفٰی سے مُصطَفِیٌّ مگر مُصطَفَوِیٌّ بھی آیاہے

۶۔الف ممدودہ کا ہمزہ اگر اصلی ہوتو بحال رہتاہے جیسے قُرَّاءٌ قُرَّائِیٌّ اور علامت تانیث ہوتو و سے بدل ہوتاہے جیسے بَیضَاءُ سے بَیضَاوِیٌّ اور اگر اصلی حرف کا بدل ہوتو دونوں صورتیں جائز ہیں جیسے سَمَاءٌ سَمَاوٌ سے سَمَائِیٌّ و سَمَاوِیٌّ

۷۔جو یائے مشدد دو سے زیادہ حرفوں کے بعد واقع ہوتو وہ قائم مقام یائے نسبت کے ہوجاتی ہے جیسے شافعی،(امام شافعی)سے شافعی(امام شافعی کا پیرو)

۸۔اگر تیسری جگہ بعد کسرہ ی یا ہو تو "و" سے بدل جاتی ہے ماقبل کو فتحہ دیاجاتاہے جیسے عمٌّ (عَمِیٌّ سےعَمَوِیٌّ)حَیٌّ سے حَیَوِیٌّ اور اگر چوتھی جگہ ہوتو اس کا حذف اور و سے ابدال دونوں جائز ہیں جیسے دہلی سے ودھلوی اور اگر پانچویں جگہ ہوتو گرجاتی ہےجیسے مشتری سے مشتری۔

۹۔اگر کسی اسم کے آخر سے حرف اصلی حذف ہوکر دو حرفی رہ گیا ہوتو نسبت کے وقت حرف اصلی واپس آجاتاہے جیسے اَخٌ سے اَخَوِیٌّ،اَبٌ سے اَبَوِیٌّ،دَمٌ سے دَمَوِیٌّ

۱۰۔بعض الفاظ کی نسبت خلاف قیاس بھی مسموع ہوئی جیسے نُورٌ نُورانِیٌّ ، حَقٌّ سے حَقَّانِیٌّ، ھِندٌ سے ھِندوَانِیٌّ (سیف ھندی)مَروزٌ سے مروزِیٌّ(مرد کا آدمی) رَیٌّ سے رَازِیٌّ(ری کا رہنے والا)یَمَنٌ سے یَمَانِیٌّ، بَادِیَۃٌ سے بَدَوِیٌ جنگلی۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

2 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

79 questions in this lesson