Sarf (morphology) اسم کی تعریف اور اس کی قسمیں /
A type of the noun
۲ ۔ مشتق
The lessons are written in Urdu.
The map
- اسم کی تعریف اور اس کی قسمیں
- ۱۔ مصدر
- ۲ ۔ مشتق
- ۳ ۔ جامد
1 مشتق کا بیان (اسماء مشتقہ)
مشتق:وہ اسم ہے جومصدر سے بناہوجیسے نصرٌ سے نَاصِرٌ(مددکرنے والا)مَنصُورٌ(مددکیاہوا)یہ مصدرنصرٌ سے نکلےہیں۔
تعریف ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
اسماءِ مشتقہ : عربی زبان میں ایسے اسماء کو کہا جاتا ہے جو کسی فعل یا مصدر سے اخذ کیے گئے ہوں۔ یہ اسماء اپنے ماخذ (فعل یا مصدر) سے معنوی تعلق رکھتے ہیں اور عموماً کسی فعل کے کرنے والے، اس کے مفعول یا کسی حالت کی وضاحت کرتے ہیں۔
وضاحت : یہ ایسے اسماء ہیں جو کسی فعل سے بنائے گئے ہوں۔ یعنی وہ الفاظ جو کسی کام کو کرنے والے، جس پر کام کیا جائے، یا کسی کیفیت کو ظاہر کریں۔
2 اسماء مشتقہ ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
اسماء مشتقہ سات(۷) ہیں
(۱)اسم فاعل (۲)اسم مفعول (۳)اسم ظرف (۴)اسم آلہ (۵)اسم تفضیل (۶)صفت مشبہ (۷)اسم مبالغہ
3 اسم فاعل ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
۱ ۔ اسم فاعل: اسم فاعل وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس سے فعل صادر ہو جیسے نَاصِرٌ(مدد کرنے والا)
جب ماضی تین حرف کا ہوتواسم فاعل فَاعِلٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا)فَتَحَ سے فَاتِحٌ (کھولنے والا،فتح کرنے والا)
اسم فاعل مادہ کے پہلے حرف کے بعد الف زیادہ کرنے سے اور دوسرے حرف کو کسرہ دینے سے بنتاہے جیسے فَعَلَ سے فَاعِلٌ،نَصَرَ سے نَاصِرٌ
اسم فاعل کے چھ صیغے آتےہیں۔تین مذکر کےلئے اور تین مؤنث کے لئے گردان سے اسکو اچھی طرح سمجھ لیاجائے۔
4 گردان اسم فاعل ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
5 اسم مفعول ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
اسم مفعول : وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس پر فعل واقع ہو جیسے مَنْصُورٌ وہ شخص جس کی مدد کی گئی
تین حرفی ماضی سے اسم مفعول مَفْعُولٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے مَنْصُورٌ (مدد کیا ہوا) فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھولاہوا)عَلِمَ سے مَعْلُومٌ(جاناہوا)
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو افعال لازم ہیں ان سے مفعول نہیں آتا، اسم مفعول کے بھی چھ صیغے آتے ہیں۔گردان پوری یوں ہوگی۔
6 گردان اسم مفعول ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
خود کا جائزہ لیں
7 اسم ظرف ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
اسم ظرف وہ اسم ہے جو کسی کام کی جگہ یا وقت بتائے جیسے مَنْصَرٌ(مدد کرنےکی جگہ یا وقت)مَضْرِبٌ(مارنے کی جگہ یا وقت)اس کے دو وزن ہیں:
مَفْعَلٌ(اس مضارع سے جس کے عین کلمہ پر ضمہ یا فتحہ ہو)
مَفْعِلٌ(اس مضارع سے جس کے عین کلمہ پر کسرہ ہو)
8 اسم ظرف بنانے کا قاعدہ ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
سہ حرفی ماضی کے مضارع واحد مذکر غائب کے صیغے سے علامت مضارع دور کرکے میم مفتوح شروع میں بڑھاؤ۔عین کلمہ مضموم ہوتومفتوح کردو،ورنہ اپنی حالت پر رہنے دو،آخر میں تنوین لگاؤ جیسے یَنْصُرُ سے مَنْصَرٌ۔یَضْرِبُ سے مَضْرِبٌ یَسْمَعُ سے مَسْمَعٌ (سننے کی جگہ یا وقت)
9 گردان اسم ظرف ( تمرین الصرف : سبق ۲۳ )
نوٹ : اسم ظرف بنانے کے قاعدہ سے تم نے سمجھ لیا ہوگا کہ اسم ظرف مضارع مفتوح العین اور مضموم العین سے بہ فتح عین آتاہے اور مضارع مکسور العین سے بہ کسرہ عین آتاہے لیکن بعض مضارع مضموم العین سے خلاف قیاس مکسورالعین آئے ہیں۔ان کی تفصیل یہ ہے:
۱۔مَسْجِدٌ ۲۔مَشْرِقٌ(آفتاب نکلنے کی جگہ) (۳)مَغْرِبٌ(آفتاب غروب ہونے کی جگہ) (۴)مَسْقِطٌ(گرنےکی جگہ (۵)مَنْبِتٌ(اگنے کی جگہ (۶)مَسْکِنٌ(رہنے کی جگہ )۷۔مَطْلِعٌ(آفتاب طلوع ہونے کی جگہ) ۸۔مَفْرِقٌ(مانگ) ۹۔مَنْسِکٌ قربان گاہ ۱۰۔مَجزِرٌ(مذبح شتر) ۱۱۔مَنخِرٌ (نتھنا) ۱۲۔مَرْفِقٌ(کہنی کی جگہ)
10 اسم آلہ ( تمرین الصرف :سبق ۲۳ )
اسم آلہ وہ اسم ہے جو اس چیز کوبتائے جو کام کرنے کاذریعہ ہو(یعنی جس اوزار کے ذریعہ کام کیاجائے)اسکے تین وزن ہیں۔
۱۔مِفعلٌ جیسے مِخْیَطٌ(سوئی)
۲۔مِفْعَلَۃٌ جیسے مِرْوَحَۃٌ(پنکھا)
۳۔مِفْعَالٌ جیسے مِفْتَاحٌ (کنجی)
11 گردان اسم آلہ ( تمرین الصرف :سبق ۲۳ )
12 اسم آلہ بنانے کا قاعدہ ( تمرین الصرف :سبق ۲۳ )
۱۔علامت مضارع کودور کرکے میم مکسور لگادو،عین کلمہ اگر مفتوح نہ ہو تو اسکو مفتوح کردو،آخری حرف پر تنوین بڑھادو جیسے یَضْرِبُ سے مِضْرَبٌ (مِفْعَلٌ)
۲۔اگر اس پر ت بڑھادی جائے تو مِفْعَلَۃٌ ہوجائےگا جیسے مِضْرَبٌ سے مِضْرَبَۃٌ
۳۔علامت مضارع کو دور کرکے میم مکسور بڑھادو،عین کلمہ کے بعدالف زیادہ کرو آخر میں تنوین یَضْرِبُ سے مِضْرَاب ٌ
اگر ماضی تین حرفی نہ ہو تو اسم آلہ کا صیغہ نہیں آئےگا
خود کا جائزہ لیں
13 اسم تفضیل ( تمرین الصرف :سبق ۲۴ )
وہ اسم ہے جس سے کسی شی میں کسی صفت کی زیادتی بہ مقابلہ دوسری شے کے معلوم ہو جیسے اعلمُ (زیادہ جاننےوالا)اَکْبَرُ(زیادہ بڑا)
اسم تفضیل کا صیغہ واحد مذکر افعل کے وزن پر اور واحد مؤنث کا فُعْلٰی کے وزن پر آتاہے، اسکے آخر میں تنوین نہیں آتی گردان یوں ہوگی۔
اگر ماضی سہ حرفی نہ ہو تو اس سے اسم تفضیل نہیں آئے گا۔
14 اسم مبالغہ ( تمرین الصرف : سبق ۲۴ )
جس صیغہ سے مصدری معنٰی کی زیادتی سمجھی جائے وہ اسم مبالغہ ہے جیسے عَلَّامٌ (بہت جاننے والا)جَھُولٌ(بہت جاہل)
اگرچہ اسم تفضیل میں بھی مصدری معنٰی کی زیادتی پائی جاتی ہے لیکن وہ زیادتی کسی کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔اور مبالغہ میں مقابلہ نہیں ہوتا جیسے عَلَّامٌ(بہت جاننے والا)اور اسم تفضیل میں جیسے (اَعْلَمُ مِنْ زَیْدِ)بہ نسبت زید کے زیادہ جاننے والا)
مبالغہ کے تمام اوزان سماعی ہیں جن میں کثیرالاستعمال یہ ہیں
اوزان مبالغہ میں تذکیر وتانیث کا فرق نہیں ہوتا،اسکی تفصیلات انشاء اللہ تم آئندہ پڑھوگے۔
15 صفت مشبہ ( تمرین الصرف : سبق ۲۴ )
صفت مشبہ وہ اسم ہے جو فعل لازم سے بنایاجائے،اور اس ذات کوبتائے جس میں کوئی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے جیسے صَادِقٌ (سچا)اس شخص کو کہیں گے جس میں سچائی کی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے۔
اس کے کئی وزن ہیں،بعض کثیر الاستعمال ہیں ان کو بیان کیاجاتاہے۔
۱۔فَعِیْلٌ جیسے سَعِیْدٌ(نیک بخت)
۲۔فَعُولٌ جیسے وَقُورٌ(صاحب وقار)
۳ْ۔فَعْلَانُ جیسے تَعْبَانُ(تھکاہوا)غَضْبَانُ(غصہ میں بھراہوا)فَرْحَانُ(خوش)
۴۔فَاعِلٌ جیسے عَادِلٌ۔عَالِمٌ۔جَاھِلٌ۔صَادِقٌ
جو افعال رنگ یا عیب ظاہری یا حلیے کے معنٰی رکھتے ہوں ان کے اوزان اس طورپرہوتے ہیں
16 اسم فاعل اور صفت مشبہ کافرق ( تمرین الصرف : سبق ۲۴ )
ان دونوں میں بڑا فرق ہے، اسم فاعل میں صفت عارضی ہوتی ہے اور صفت مشبہ میں مستقل وپائدار،مثلًا ضَارِبٌ(مارنے والا)کوئی شخص اس وقت کہاجائے گاجب یہ فعل اس سے سرزد ہو،اور مثلًا جَمِیْلٌ(خوب صورت)وہ جس میں خوب صورتی ہروقت پائی جائے
تمرینات
ذَھَبَ۔عَبَدَ۔عَلِمَ۔جَلَسَ۔سَئَلَ سے اسم فاعل کی گردان کرو،اورمعنی اور صیغوں کے ساتھ ۔
صیغے اور معنٰی بتاؤ:
ذَاھِبُوۡنَ ذَاھِبَۃٌ عَابِدَاتٌ عَابِدُونَ جَالِسَتَانِ جَالِسَانِ
عَالِمَانِ عَالِمَتَانِ سَائِلُوۡنَ سَائِلَاتٌ ذَاھِبَانِ ذَاھِبَتَانِ
عربی بناؤ:
سب کرنے والے مرد۔ سب کرنے والی عورتیں۔ عبادت کرنے والی دوعورتیں۔بیٹھنے والا۔پوچھنے والی دو عورتیں۔ پوچھنے والے دو مرد۔جاننے والی ایک عورت۔ جاننے والے سب مرد
سَئَلَ۔ضَرَبَ۔قَتَلَ۔رَزَقَ۔عَرَفَ سے اسم مفعول گردانوں مع معنٰی اور صیغوں کے:
صیغے اور معانی بتاؤ:
مَسْئُوۡلَتَانِ مَسْئُوۡلُوۡنَ مَضْرُوۡبَاتٌ مَقْتُوۡلُوۡنَ مَقْتُوۡلَۃٌ مَرْزُوۡقَاتٌ مَرْزُوۡقَانِ مَعْرُوۡفَتَانِ مَعْرُوۡفُوۡنَ مَسْئُوۡلَاتٌ مَعْرُوۡفُوۡنَ مَسْئُوۡلَاتٌ مَعْلُوۡمَۃٌ مَعْلُوۡمَاتٌ مَفْتُوۡحَانِ مَفْتُوۡحَاتٌ
عربی بناؤ:
دومظلوم مرد۔سب مظلوم عورتیں،دو مظلوم عورتیں،پوچھی ہوئی سب عورتیں،پوچھے ہوئےسب مرد،سب مقتول عورتیں۔دو مقتول مرد۔ دو مقتول عورتیں۔رزق دی ہوئی سب عورتیں۔رزق دئے ہوئے سب مرد۔
فَتَحَ ۔ضَرَبَ ۔سَمِعَ۔قَرَضَ۔ یَقْرِضُ(کاٹنا)سے اسم آلہ گردانو
ضَرَبَ۔نَصَرَ۔عَلِمَ۔سَمِعَ۔کَرُمَ سے اسم تفضیل گردانو،مع معنٰی و صیغے:
صیغے اور معنٰی بتاؤ:
ضُرَبٌ۔اَضَارِبُ۔نُصْرٰی۔اَنْصَرَانِ۔اَنَاصِرُ۔عُلْمَیَانِ۔سُمْعَیَاتٌ۔اَکۡرَمَانِ۔اَکۡرَمُوۡنَ۔نُصْرَیَاتٌ۔اَنْصَرُ۔کُرمٰی۔
عربی بناؤ:
حامد محمود سے بڑاہے۔یہ قلم پنسل سے چھوٹاہے۔یہ عورتیں مردوں سے زیادہ عبادت کرنے والی ہیں۔زینب فاطمہ سے زیادہ علم والی ہے۔وہ دو عورتیں تم سے زیادہ سننے والی ہیں۔میری کتاب کاپی سے زیادہ قیمتی ہے۔گھوڑا سب جانوروں سے تیز ہے۔قرآن مجید سب کتابوں سے زیادہ فضیلت والاہے۔
عربی بناؤ:
سید سلیمانؒ بہت بڑے عالم تھے۔یہ چیز بہت عجیب ہے۔اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والاہے۔ہلاکو بہت خوں ریز آدمی تھا۔بیل بہت کھانے والا جانورہے۔اللہ تعالٰی پاک ہےاور وہ آسمانوں اور زمینوں کو قائم رکھنے والا ہے۔حامد بہت بات کرنے والا لڑکاہے۔
بعض الفاظ لکھے جاتے ہیں اسی طرح ان سے تینوں صیغے بناؤ:
اَزْرَقُ(نیلا)اَخْضَرُ(سبز)اَصْفَرُ(زرد)اَخْرَسُ،اَبْکَمُ(گونگا)اَعْرَجُ(لنگڑا)اَحْوَرُ(سیاہ چشم)اَعیَنُ(فراخ چشم)
عربی بناؤ:
آسمان نیلاہے۔یہ پہاڑسیاہ ہیں۔میں نے ایک کالی بکری دیکھی۔سرخ گائے ذبح کردی گئی۔یہ کپڑے سفید ہیں۔ایک اندھا سڑک پر گرگیا۔تھکے آدمی کی مدد کرو۔احمد کل خوش تھا۔اورنگ زیب انصاف پسند بادشاہ تھے۔یہ درخت سبزہیں۔یہ قلم سرخ ہیں۔میرا جوتا سفید تھا۔مسلمان سچ بولنے والاہے۔
خود کا جائزہ لیں