Grammar

Sarf (morphology) اسم کی تعریف اور اس کی قسمیں /

A type of the noun

۱۔ مصدر

The lessons are written in Urdu.

The map

  • اسم کی تعریف اور اس کی قسمیں
    • ۱۔ مصدر
    • ۲ ۔ مشتق
    • ۳ ۔ جامد

1 مصدر کا بیان

مصدر:وہ اسم ہے جس سے افعال اور اسماءِ مشتقہ نکلیں(اردو میں مصدر کے ترجمہ کے آخر میں نا آتاہے جیسے نصرٌ(مددکرنا)ضربٌ(مارنا)

(کتاب الصرف : سبق ۶۷)

اوزان سماعی:ثلاثی مجرد کے مصدر کثیر التعداد ہیں اور اکثر اوازن ذیل پر آتے ہیں یہ تمام اوزان دراصل سہ حرفی ہیں اور عین کلمے کی سکون اور حرکت کے لحاظ سے دو حصوں میں منقسم ہیں۔

۱۔وہ جن کا عین کلمہ ساکن ہے اور،ان مصادر کے صرف اخیر میں زیادتی کی جاتی ہے۔

۲۔جن کا عین کلمہ متحرک ہے ان مصادر کے اول اور وسط اور آخر میں تینوں جگہ زیادتی کی جاتی ہے۔

وزنفَعۡلٌمثالقَتۡلٌوزنفَعۡلُولَۃٌمثالقَیۡلُولَۃٌمعنیمار ڈالنامعنیدوپہر کو سونا
وزنفِعۡلٌمثالفِسۡقٌوزنفَیۡعُوۡلَۃٌمثالکَیۡنُوۡنَۃٌمعنیحکم سے باہر آنامعنیہونا
وزنفُعۡلٌمثالشُکۡرٌوزنفُعُولَۃٌمثالصُعُوبَۃٌمعنیشکر بجا لانامعنیسخت ہونا
وزنفَعۡلَۃٌمثالرَحۡمَۃٌوزنفَعُّولَۃٌمثالجَبُّوۡرَۃٌمعنیمہربانی کرنامعنیغرور کرنا
وزنفِعۡلَۃٌمثالنِشۡدَۃٌوزنمَفۡعَلٌمثالمَدۡخَلٌمعنیگمشدہ چیز کو ڈھونڈنامعنیداخل ہونا
وزنفُعۡلَۃٌمثالکُدۡرَۃٌوزنمَفۡعَلَۃٌمثالمَسۡعَاۃٌمعنیتاریک ہونامعنیکوشش کرنا
وزنفَعَلٌمثالطَلَبٌوزنمَفۡعُولَۃٌمثالمَکۡذُوبَۃٌمعنیڈھونڈنامعنیجھوٹ بولنا
وزنفَعِلٌمثالخَنِقٌوزنفَعَالَۃٌمثالزَھَادَۃٌمعنیگلا گھونٹنامعنیپرہیزگار ہونا
وزنفَعَلَۃٌمثالغَلَبَۃٌوزنفِعَالَۃٌمثالدِرَایَۃٌمعنیغالب ہونامعنیمعلوم کرنا
وزنفَعِلَۃٌمثالسَرِقَۃٌوزنفُعَالَۃٌمثالبُغَایَۃٌمعنیچرانامعنیظلم کرنا
وزنفِعَلٌمثالصِغَرٌوزنفَعِیۡلٌمثالوَمِیۡضٌمعنیچھوٹا ہونامعنیبجلی چمکنا
وزنفُعَلٌمثالھُدًیوزنفَعِیۡلَۃٌمثالقَطِیۡعَۃٌمعنیراہ دکھانامعنیرشتہ توڑنا
وزنفَعَالٌمثالذَھَابٌوزنفَعۡلَاءُمثالرَغۡبَاءُمعنیجانامعنیخواہش کرنا
وزنفِعَالٌمثالقِیَامٌوزنفَعَلُولٌمثالرَغَبُوۃٌمعنیکھڑا ہونامعنیبہت خواہش کرنا
وزنفُعَالٌمثالسُؤَالٌوزنمَفۡعِلٌمثالمَیۡسِرٌمعنیدریافت کرنامعنیجوا کھیلنا
وزنفَعۡلَانُمثاللَیَّانٌوزنمَفۡعِلَۃٌمثالمَحۡمِدَۃٌمعنیمڑنامعنیتعریف کرنا
وزنفِعۡلَانٌمثالحِرۡمَانٌوزنمَفۡعُلَۃٌمثالمَمۡلُکَۃٌمعنیبد نصیب ہونامعنیمالک ہونا
وزنفُعۡلَانٌمثالغُفۡرَانٌوزنتَفۡعَالٌمثالتَجۡوَالٌمعنیبخشنامعنیبہت گھومنا
وزنفَعَلَانُمثالغَلَیَانُوزنتِفِعَّالٌمثالتِقِطَّاعٌمعنیابلنامعنیبہت کاٹنا
وزنفَعُولٌمثالقَبُولٌوزنفَعۡلٰیمثالدَعۡوٰیمعنیقبول کرنامعنیبلانا
وزنفُعُولٌمثالدُخُولٌوزنفِعۡلٰیمثالذِکۡرٰیمعنیآجانامعنییاد کرنا
وزنمَفۡعُولٌمثالمَکۡذُوبٌوزنفُعۡلٰیمثالبُشۡرٰیمعنیجھوٹ بولنامعنیخوشخبری دینا
وزنمَفعُولَۃٌمثالمَکۡذُوبَۃٌوزنفَعَلُوَّۃٌمثالجَبَرُوَّۃٌمعنیجھوٹ بولنامعنیبہت رغبت کرنا
وزنفَاعِلَۃٌمثالکَاذِبَۃٌوزنفَعَلُوتٰیمثالرَغَبُوتٰیمعنیجھوٹ بولنامعنیبہت رغبت کرنا
وزنفَعَالِیَۃٌمثالکَرَاھِیَۃٌمعنیناپسند کرنا

فائدہ:فَعُولٌ(بفتح فا)کے وزن پرپانچ مصدروں کے سوا کوئی مصدر نہیں آیا۔

اور وہ پانچ یہ ہیں:

وَضُوءٌ(وضو کرنا)طَھُورٌّ(پاک ہونا)وَلُوعٌ(حریص ہونا)وَقُودٌ(ایندھن ڈالنا) قَبُولٌ(قبول کرنا)

چند مصدر اسم فاعل اور اسم مفعول کے وزن پرآتے ہیں

اسم فاعل کی مثال:جیسے کَاذِبَۃٌ(بمعنٰی کذب)بَاقِیَۃٌ(بمعنٰی بقاء)خدائے تعالٰی فرماتا ہے فَھَلْ تَرٰی لَھُمْ مِنْ بَاقِیَۃِ۔کیا تو ان میں سے کسی کےلئے بقاء دیکھتاہے

اسم مفعول کی مثال:جیسے مَیْسُورٌ(بمعنی میسَرٌ)مَفْتُونٌ(بمعنٰی فتنۃ)خدائے تعالیٰ فرماتاہے بِأَیِّکُمُ المَفْتُونَ۔(تم میں سے کسی کو فتنہ یعنی دیوانگی ہے)مگر اسم فاعل کا وزن بہت کم مستعمل ہے کبھی مصدرمزیدفیہ کے ساتھ ایک اسم مجرد آتاہے اور اس سے مصدر کے معنٰی حاصل ہوتے ہیں جیسے مُصَادَقَۃ مصدر مزیدفیہ اور صَدَقَۃٌ (اسم مجرد ایسا ہی اعطاء، وعطاء إمھال و مُھلۃٌ ،اِبیاض وبیاض بعض لوگ ان اسماء کو حاصل مصدر قراردیتےہیں۔

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

2 اوزان قیاسی (کتاب الصرف : سبق ۶۸)

اگر ماضی کا عین کلمہ مفتوح ہو تو مصدر لازم اکثر فعول (بضم ف)کے وزن پر آتاہے جیسے دَخَلَ دُخُولًا اور اگر عین کلمہ مکسور ہو تو اکثر فَعَلَ بفح عین کے وزن پر آتاہے جیسے فَرِحَ فَرْحًا اور مصدر متعدی دونوں سے فَعْلٌ (بسکونِ عین) کے وزن پر آتاہے جیسے ضَرَبَ ضَرْبًا جَھِلَ جَھْلًا اگر ماضی کا عین کلمہ مضموم ہوتو اکثر فَعَالَۃٌ فِعلٌ،فَعَلٌ ، فَعلٌ کے وزن پر آتاہے جیسے کَرَامَۃٌ،عِظْمًا کَرَمًا حُسْنًا۔

۲۔ثلاثی مجرد کے ہر فعل سے مصدر میمی مَفْعَلٌ(بفتحِ عین)کے وزن پر آتاہے خواہ مضارع کا عین کلمہ مفتوح ہو یا مضموم ی مکسور جیسے مَفْتَحٌ(کھولنا)مَقْتَلٌ(مارڈالنا)مَضْرَبٌ(مارنا)اور مَرْجَعٌ(بکسرعین)شاذ ہے،کبھی اسکے آخر میں ۃ بھبی لاحق ہوتی ہے،مَسْئَلَۃٌ(پوچھنا)

۳۔جب ثلاثی مجرد سے کوئی مصدر واسطے معنی وحدت کے بنا کیا جائے تو فَعۡلَۃٌ کے وزن پر اور جب واسطے معنٰی نوع کے بناکیاجائے تو فِعْلَۃٌ کے وزن پر آتاہے بشرطیکہ مصدر کے آخر میں تائے تانیث نہ ہو جسیے جلس سے جَلْسَۃًایک دفعہ بیٹھنا مرۃ کے واسطے اور جلسۃً بیٹھنے کا طریق نوع کے واسطے اگر مصدر کے آخر میں ۃ ہو تو پھر صفت کے لگانے سے فرق کیا جائے گا جیسے ھَدَایَۃٌ واحِدَۃ ھَدَایَۃٌ حَسَنَۃٌ،۔

فائدہ:فُعْلَۃٌ واسطے مقدار کے آتاہے جیسے اُکْلَۃٌ (نوالہ)اور فُعَالَۃٌ اس چیز کے واسطے آتاہے جو فعل سے ساقط ہو جسیے قُلَامَۃٌ (تراشہ ناخن)

۴۔افعال حرف یا اضطراب یا آواز یا مرض یا رنگ کے معنٰی میں ہوں ان کے مصادر اوزانِ ذیل پر آتےہیں۔

فِعَالَۃٌ حرفوں اور پیشوں کےواسطے جیسے خِیَاطَۃٌ(سینا)تِجَارَۃٌ(سوداگری)بعض الفاظ اس وزن پر بالفتح بھی آتےہیں جیسے وَکَالَۃٌ(وکیل ہونا)وَلَایَۃٌ(حکومت کرنا)

فَعْلَانٌ(حرکت اور اضطراب کے واسطے جیسے جَولَانٌ(دوڑنا)حَفۡقَانٌ(دل کا دھڑکنا)

فُعَالٌ اور فَعِیْلٌ اصوات کے واسطے نَبَاحٌ(کتے کا بھونکناٌ) صُرَاخٌ(چیخنا)ھَدِیرٌ(کبوتر کا آواز دینا)زَئِیْرٌ(شیر کا آوازکرنا)

اور نیز فُعَالٌ دردوں اور مرضوں کے واسطے جیسے صُداعٌ(درد سرہونا)سُعَالٌ(کھانسنا)

فُعْلَۃٌ(رنگوں کے واسطے جیسے حُمْرَۃٌسرخ ہوناکُدْرَۃ(گدلا ہونا)

۵۔جب مصدر سے مبالغہ مقصود ہوتو اکثر تَفْعَالٌ اور فِعْلِیْلٰی کے وزن پر آتاہے جیسے

تَجْوَالٌ(زیادہ دوڑنا)مبالغہ جولانٌ

ترداد(زیادہ رد کرنا)مبالغہ رَدٌّ

حِثِّیثیٰ (زیادہ بر انگیختہ کرنا)مبالغہ حَثٌّ

دِلِّیلٰی(زیادہ رہنمائی کرنا)مبالغہ دَلَالۃٌ

کلک کریں

خود کا جائزہ لیں

3 Practice questions

Ten questions drawn at random from this lesson. Answer, see the result at once, and try again for a new set.

225 questions in this lesson