تمرین الصرف
تمرین الصرف۔ سبق:۲۳، ۲۴
اسم فاعل
اسم فاعل وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس سے فعل صادر ہو جیسے نَاصِرٌ(مدد کرنے والا)
جب ماضی تین حرف کا ہوتواسم فاعل فَاعِلٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے نَاصِرٌ (مدد کرنے والا)فَتَحَ سے فَاتِحٌ (کھولنے والا،فتح کرنے والا)
اسم فاعل مادہ کے پہلے حرف کے بعد الف زیادہ کرنے سے اور دوسرے حرف کو کسرہ دینے سے بنتاہے جیسے فَعَلَ سے فَاعِلٌ،نَصَرَ سے نَاصِرٌ
اسم فاعل کے چھ صیغے آتےہیں۔تین مذکر کےلئے اور تین مؤنث کے لئے
گردان سے اسکو اچھی طرح سمجھ لیاجائے۔
صیغے:
واحد- مذکر: فَاعِلٌ(کرنے والا ایک مرد)
Read the rest (62)
مؤنث: فَاعِلَۃٌ(کرنے والی ایک عورت)
تثنیہ- مذکر: فَاعِلَانِ(کرنے والے دو مرد)
مؤنث: فَاعِلَتَانِ(کرنے والی دو عورتیں)
جمع - مذکر: فَاعِلُونَ(کرنے والے سب مرد)
مؤنث: فَاعِلَاتٌ(کرنے والی سب عورتیں)
اسم مفعول
اسم مفعول وہ اسم مشتق ہے جو اس ذات کو بتائے جس پر فعل واقع ہو جیسے مَنْصُورٌ وہ شخص جس کی مدد کی گئی
تین حرفی ماضی سے اسم مفعول مَفْعُولٌ کے وزن پر آتاہے جیسے نَصَرَ سے مَنْصُورٌ (مدد کیا ہوا) فَتَحَ سے مَفْتُوحٌ (کھولاہوا)عَلِمَ سے مَعْلُومٌ(جاناہوا)
یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو افعال لازم ہیں ان سے مفعول نہیں آتا، اسم مفعول کے بھی چھ صیغے آتے ہیں۔گردان پوری یوں ہوگی۔
صیغے
واحد- مذکر: مَنْصُورٌ(مدد کیاہواایک مرد)
مؤنث: مَنْصُورَۃٌ(مدد کی ہوئی ایک عورت)
تثنیہ- مذکر: مَنْصُورَانِ(مدد کئے ہوئے دومرد)
مؤنث:مَنْصُورَتَانِ(مدد کی ہوئی دو عورتیں)
جمع- مذکر: مَنْصُورُونَ(مدد کئے ہوئے سب مرد)
مؤنث: مَنْصُورَاتٌ(مدد کی ہوئی سب عورتیں)
اسم تفضیل
وہ اسم ہے جس سے کسی شی میں کسی صفت کی زیادتی بہ مقابلہ دوسری شے کے معلوم ہو جیسے اعلمُ (زیادہ جاننےوالا)اَکْبَرُ(زیادہ بڑا)
اسم تفضیل کا صیغہ واحد مذکر افعل کے وزن پر اور واحد مؤنث کا فُعْلٰی کے وزن پر آتاہے، اسکے آخر میں تنوین نہیں آتی گردان یوں ہوگی۔
مذکر
واحد: اَفْعَلُ زیادہ کرنے والاایک مرد
تثنیہ: اَفْعَلَانِ زیادہ کرنے والے دو مرد
جمع: اَفْعَلُونَ زیادہ کرنے والے سب مرد
جمع: اَفَاعِلُ زیادہ کرنے والے سب مرد
مؤنث
واحد: فُعْلٰی زیادہ کرنے والی ایک عورت
تثنیہ: فُعْلَیَانِ زیاد کرنے والی دو عورتیں
جمع: فُعْلَیَاتٌ زیادہ کرنے والی سب عورتیں
جمع: فُعَلٌ زیادہ کرنے والی سب عورتیں
اگر ماضی سہ حرفی نہ ہو تو اس سے اسم تفضیل نہیں آئے گا۔
اسم مبالغہ
جس صیغہ سے مصدری معنٰی کی زیادتی سمجھی جائے وہ اسم مبالغہ ہے جیسے عَلَّامٌ (بہت جاننے والا)جَھُولٌ(بہت جاہل)
اگرچہ اسم تفضیل میں بھی مصدری معنٰی کی زیادتی پائی جاتی ہے لیکن وہ زیادتی کسی کے مقابلہ میں ہوتی ہے۔اور مبالغہ میں مقابلہ نہیں ہوتا جیسے عَلَّامٌ(بہت جاننے والا)اور اسم تفضیل میں جیسے (اَعْلَمُ مِنْ زَیْدِ)بہ نسبت زید کے زیادہ جاننے والا)
مبالغہ کے تمام اوزان سماعی ہیں جن میں کثیرالاستعمال یہ ہیں
اوزان مثالیں
فَعَّالٌ۔فَعَّالَۃٌ : سَفَّاکٌ(بڑاخوں ریز) عَلَّامَۃٌ(بہت جاننے والا)
فَعَّالٌ۔فِعِّیْلٌ : کَبَّارٌ(بہت بڑا) صِدِّیْقٌ(بہت سچا)
فَعُّولٌ : قَیُّومٌ(خوب قائم رہنے والا)اور(قائم رکھنے والا)
فُعُّولٌ۔فُعَالٌ: قُدُّوسٌ(بڑاپاک) عُجَابٌ(بہت عجیب)
فَاعُولٌ۔فُعَلَۃٌ: فَارُوقٌ(بہت فرق کرنے والا) ھُمَزَۃٌ(بڑاعیب نکالنے والا)
فَعِلٌ۔فَعِیْلٌ: حَذِرٌ(بہت بچنے والا)عَلِیْمٌ(بہت جاننے والا)
فَعُولٌ۔مِفْعَلٌ: اَکُولٌ(بہت کھانے والا) مِجْزَرٌ(بہت کاٹنے والا)
مِفْعَالٌ۔مِفْعِیْلٌ: مِنْعَامٌ(بہت انعام دینے والا) مِنْطِیْقٌ(بہت بولنے والا)
اوزان مبالغہ میں تذکیر وتانیث کا فرق نہیں ہوتا۔
صفت مشبہ
صفت مشبہ وہ اسم ہے جو فعل لازم سے بنایاجائے،اور اس ذات کوبتائے جس میں کوئی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے جیسے صَادِقٌ (سچا)اس شخص کو کہیں گے جس میں سچائی کی صفت پائداری کے ساتھ پائی جائے۔
اس کے کئی وزن ہیں،بعض کثیر الاستعمال ہیں ان کو بیان کیاجاتاہے۔
۱۔فَعِیْلٌ جیسے سَعِیْدٌ(نیک بخت)
۲۔فَعُولٌ جیسے وَقُورٌ(صاحب وقار)
۳ْ۔فَعْلَانُ جیسے تَعْبَانُ(تھکاہوا)غَضْبَانُ(غصہ میں بھراہوا)فَرْحَانُ(خوش)
۴۔فَاعِلٌ جیسے عَادِلٌ،عَالِمٌ،جَاھِلٌ،صَادِقٌ
جو افعال رنگ یا عیب ظاہری یا حلیے کے معنٰی رکھتے ہوں ان کے اوزان اس طورپرہوتے ہیں۔
واحد مذکر: اَفْعَلُ: اَحْمَرُ(سرخ) اَسْوَدُ(سیاہ) اَبْیَضُ(سفید) اَصَمُّ(بہرا) اَعْمٰی(اندھا)
واحد مؤنث: فَعْلَاءُ: حَمْرَاءُ سَوداءُ بَیْضَاءُ صَمَّاءُ عَمْیَاءُ
جمع مذکرومؤنث: فُعْلٌ: حُمْرٌ سُودٌ بِیْضٌ صُمٌّ عُمْیٌ
مصدر
وہ اسم ہے جس سے افعال اور اسماءِ مشتقہ نکلیں(اردو میں مصدر کے ترجمہ کے آخر میں نا آتاہے جیسے نصرٌ(مددکرنا)ضربٌ(مارنا)